نومبر ۲۰۱۹

فہرست مضامین

خواتین پر گھریلو تشدد کا صوبائی بل

عبداللطیف خان گنڈا پور | نومبر ۲۰۱۹ | فقہ و اجتہاد

قرآن کریم اپنے بارے میں جونام استعمال کرتا ہے ان میں الکتاب کے ساتھ ، الہدیٰ، ذکریٰ ، الفرقان ،البرہان، البیان، سب ہی اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جو حق و باطل کے فرق کو بین اور واضح کر دیتی ہے ۔الفرقان ظن ، گمان اوروہم سے مکمل طور پر نجات دلاکر دل و دماغ کو ایمان اوریقین سے منور کر کے عین الیقین کی کیفیت پیدا کرتا ہے، تاکہ کلام عزیز کا ہر طالب علم اس عظیم ہدایت پر مکمل اعتماد کے ساتھ ذہن کو شک و شبہہ سے پاک کرکے عمل پیرا ہو سکے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو بار بار متوجہ کرتا ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۝۰ۭ (النساء۴:۱۳۶)اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسولؐ پر نازل کی ہے، اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔
یعنی ایک مرتبہ شہادت حق دے کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانا کافی نہیں، بلکہ خود ان کو بھی جو خود کو صاحب ِایمان کہتے ہیں بار بارایمان کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایمان کا براہِ راست تعلق اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی بندگی اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی سے ہے۔ اس لیے ہر لمحہ ایمان کو تازہ کرنے کے لیے قرآن و سنت کے بتائے ہوئے نسخے پر عمل ہی ہمیں صراط مستقیم اور ہدایت پر قائم رکھ سکتا ہے۔ ایک مرتبہ زبانی شہادت دینا کافی نہیں، بلکہ ہرلمحے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارا عمل کس بات کی شہادت دےرہا ہے اور ہماری ترجیحات میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ؐکی ترتیب کیا ہے؟ ہمارے گھریلو معاملات ہوں، تلاش معاش ہو یا اقامت دین کے لیے سیاسی سرگرمی میں شرکت ہو، ان سب معاملات میں کہاں تک ان کا حوالہ صرف اور صرف اللہ کی رضا، آخرت کی کامیابی اور کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی اطاعت اور وفاداری ہے۔
مسلمان اور مومن کے ایمان کو جانچنے کے لیے قرآن نے چار عملی صورتوں کا ذکر کیا ہے: اس کے ایمان کی شہادت اورایمان کے وجود کا ثبوت، اس کی صلوٰ ۃ ،قربانی اور مراسمِ عبودیت، نیز اس کی زندگی اور موت___ ان سب کا مقصد اگرصرف اللہ کی رضا کا حصول ہے تو ایمان محفوظ ہے۔ ایمان کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز ، اپنی قربانی ، اپنی زندگی اور اپنی موت کو صرف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے لیے خالص کر دے:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ (الانعام ۶:۱۶۲) کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربُّ العالمین کے لیے ہے۔
حق وباطل کو واضح کر دینے کے ساتھ قرآن کریم اہل ایمان اور کفار و مشرکین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو بھی وضاحت سے سمجھاتا ہے۔ شرک سے مکمل اجتناب کے ساتھ مشرکین کی کفر میں شدت کی بنا پر ان سے مایوس ہوکر انھیں ان کے حال پر نہ چھوڑا جائے، بلکہ مستقل طور پر دین کی دعوت حکمت کے ساتھ دے کر انھیں عذاب سے بچانے اوراللہ کی رحمت کے سایے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ یہ مسلسل دعوتی عمل زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہر حالت میں کیا جائے گا۔ دعوتِ دین دینے اور اگر حصول مقصد میں حضرت نوح علیہ السلام کی طرح نو سو سال مسلسل جدوجہد کے باوجود بھی منزل کا حصول نہ ہو سکا ہو ،جب بھی داعی کی اصل کامیابی اس کا خلوصِ نیت کے ساتھ نتائج سے بے پروا ہوکر اپنی تمام قوتِ کار کو اقامت دین کی جدوجہد میں لگا دینا ہے۔ اس کے بعد اگر اپنی خصوصی رحمت سے ارحم الراحمین دنیا میں کامیابی دے دے تو یہ صرف اس کا فضل ہے ورنہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی کا وعدہ ہے۔ سالہا سال کی جدوجہد، دعوتِ دین اور شہادتِ حق کے فریضے کی ادایگی میں کسی قسم کی مداہنت اور کفر و شرک کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا ۔ اصولوں پر کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ اسلام کا بنیادی دعوتی مزاج مطالبہ کرتا ہے کہ مخالف کے طرزِ عمل سے قطع نظر اہل ایمان اپنا دعوتی فریضہ ہر حالت میں ادا کرتے رہیں ۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ انھیں کب کامیابی سے نوازتا ہے؟ یہ اس کے طے کرنے کا معاملہ ہے۔ تمام انسانی اندازے قیاس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
اقامت دین کی جدوجہد میں مشکلات ،مصائب اور رکاوٹوں سے گھبرانے یا ان سب کے نتیجے میں مایوس ہونے اور مطلوبہ نتائج میں تاخیر کی بنا پر اپنی دعوت اور طریقۂ کار پر شک و شبہہ کا کوئی امکان اسلام میں نہیں پایا جاتا۔استقامت کا مطلب ہے کہ دعوت ہر صورت حال اور ہرمرحلے میں جاری رکھی جائے۔ مکی دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام تر مخالفت اور دعوت کو رد کرنے کے باوجود ابو جہل ، عتبہ اور دیگر سردارانِ قریش کو دعوتِ دینا معطل نہیں کیا تھا اور نہ اپنے طریقۂ دعوت پر شک وشبہہ محسوس کیا، بلکہ ہر ممکن موقعے کو اپنا فرض ادا کرنے کے لیے استعمال فرمایا۔

طاغوت اور کفر کا ایک ملت ہونا 

قرآن کریم حق وباطل کے معرکے میں طاغوت اور کفر کی قوتوں کو حزبِ شیطان اور ملت ِواحدہ سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے مقابل حق کی قوتوں کو بنیان مرصوص، یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے تعبیر کرتا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ منکر کو مٹانے کے لیے اہل ایمان کو بھی ایک منظم جماعت کی شکل اختیار کرنی ہوگی، یعنی شہادت ِحق کے لیے تعمیر کردار کے ساتھ تنظیمِ افراد بھی مطلوب ہے۔ طاغوتی جماعت کی کثرت کے باوجود حق پر مبنی جماعت اپنی قلت تعداد کے باوجود منکر کے ساتھ اصولوں پر کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔ 
تحریک اقامت ِدین ایک اصولی اور نظریاتی تحریک ہے۔ اس کی بنیاد قرآن و سنت سے اخذ کردہ عالم گیر اصول ہیں۔ اس بنا پر یہ وقت کے ساتھ اپنی بنیادی فکر میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔ تاہم، دعوتِ دین کے ابلاغ واشاعت کے لیے ان تمام اسالیب اور طریقوں کو استعمال کر سکتی ہے، جو ہردور میں حاصل ہوں، البتہ وہ اس کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں،مثلاً سوشل میڈیا کا استعمال، انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے پیغام کی اشاعت ، غیر اسلامی تنظیموں یا افرادسے مکالمہ اور مذاکرہ وغیرہ۔لیکن ابلاغ کے وہ ذرائع جو شخصیت پرستی کی طرف لے جائیں، یا جو دوسروں کی نقالی کرتے ہوئے اختیار کیے جائیں، جس میں اختلاف کے باب میں اخلاقی اصولوں اور آداب کا لحاظ نہ رکھا جائے، مثلاً اسٹیج پر گانے بجانے کا استعمال یا خطابات میں تضحیک آمیز انداز میں دوسروں کا تمسخر اڑانا، انھیں بُرے القاب سے یاد کرنا وغیرہ۔ ان سب طریقوں کی تحریک اسلامی میں کوئی گنجایش نہیں پائی جاتی۔ سورئہ حجرات نے واضح طور ان چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے۔قولِ لیّن (نرمی سے گفتگو) قرآن کریم کا وہ حکم ہے جسے انبیا ؑ اور ان کے ماننے والوں پر فرض کر دیا گیا ہے۔دعوتِ دین کا تقاضا ہے کہ اپنی بات دلوں میں اتارنے کے لیے نرم گفتاری اور بے لوثی کے ساتھ کام کیا جائے اور بھلائی کے کاموں میں نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم کے ساتھ بھی تعاون کا رویہ رکھا جائے۔اُدْعُ   اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ ط (اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔ النحل ۱۶:۱۲۵)  ہی تحریک اسلامی کا شعار اور اس کی پہچان ہے۔

نیکی کے کام میں تعاون

قرآن کریم حکمت ِدعوت کے پیش نظر حق و باطل میں امتیاز کی وضاحت کے ساتھ ایسے معاملات میں جہاں بر، نیکی ، تقویٰ اور بھلائی کو تقویت پہنچتی ہو صرف نیکی کی حد تک غیر مسلموں سے بھی تعاون کی اجازت دیتا ہے: 
وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۝۰۠ (المائدہ ۵:۲)جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو، اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ 
دعوت و اصلاح کے لیے اگر ایسا مرحلہ درپیش ہو کہ قوت نافذہ داعیان حق کے ہاتھ میں نہ ہو اور مستقبل قریب میں اتنی اکثریت حاصل کرنا کہ تحریک خود بعض اصلاحات نافذ کر سکے ممکن نظر نہیں آ رہا ہو، تو کیا جو نظام موجود ہو اس پر صرف گرفت کافی ہو گی یا خود اس نظام کے زبانی دعوؤں کو بنیاد بنا کر برسراقتدار جماعت کی نظریاتی امداد، اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم ، ابلاغ عامہ ، صحت، معیشت اور معاشرت میں اصلاح کا منصوبہ بنا کر فراہم کیا جانا مصلحت عامہ کا تقاضا ہو گا، تاکہ اتمامِ حجت کردیا جائے۔ گو، اس طرح کے تعاون میں دنیا میں اس کا کوئی اجر (credit) حاصل نہ ہو۔ 
تفصیلات میں جائے بغیر حضرت یوسف علیہ السلام کا اصلاحِ احوال میں اپنا کردار ادا کرنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ’حلف الفضول‘ کے حوالے سے مشرکین کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش کا اعلان فرماناظاہر کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود بعض متعین بھلائی کے کاموں میں اشتراکِ عمل کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کے تناظر میں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر مروجہ سیاسی نظام ایسا ہو کہ اس میں مستقبل قریب میں زمامِ کار تحریک کے ہاتھ میں آنا ممکن نظر نہ آتا ہو، تو کیا حزبِ اقتدار کے بھلے عناصر کے ساتھ تعاون کا راستہ تلاش کر کے برسرِ اقتدار گروہ کے ذریعے اصلاحات کے نفاذ کی کوشش وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى کی ایک شکل ہوگی؟ اوریہ جاننے کے باوجود کے ان اصلاحات کا تحریک کو کریڈٹ نہیں ملے گا  ، کیا ایسا کرنا دعوتی حکمت عملی ہوگی؟ اگر مکمل نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تحریک کے پاس انسانی ، معاشی اورسیاسی وسائل موجود نہ ہوں، تو کیا برسرِاقتدار جماعت کے ذریعے حالات میں تبدیلی لانے کا عمل مصلحتِ عامہ کے اصول پر عمل ہو گا؟کیا اس طرح کا تعاون تحریک کی اصلاحی اور دعوتی تصویر کو بہتر بنائے گا اور طویل دورانیے میں تحریک کو اس کا سیاسی فائدہ ہو گا ؟
تحریک کو ان سوالات پر غور ضرور کرنا چاہیے کیونکہ تحریک کا مقصد نظامِ زندگی کی اصلاح ہے۔ اگر مکمل نظام کی تبدیلی قریب المعیاد نگاہ میں مشکل نظر آرہی ہو، تو جزوی تبدیلی سیاست شرعیہ، مصلحتِ عامہ اورکم تر خرابی پر عمل کے اصول کے پیش نظر اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

نظام کی اصلاح کے لیے اسلوبِ دعوت

داعی کا دعوتی اسلوب خود حق وباطل ، ہدایت اور گمراہی ، شرک و توحید ، بندگیِ نفس اور بندگیِ رب میں فرق کو واضح کر دیتا ہے اور یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے ، جب اہل ایمان اپنے آپ کو دیگر انسانوں سے کاٹ کر الگ ہو کر نہ بیٹھ جائیں بلکہ انھیں خیر خواہی کے ساتھ ہدایت و فلاح کی طرف بلاتے رہیں (الدین نصیحہ، رواہ مسلم، دین تو نصیحت اور خیر خواہی ہے)۔ اس کام میں شارع علیہ السلام کی قائم کی ہوئی تدریجی حکمت عملی اہمیت رکھتی ہے ۔ یعنی کلمۂ حق، دعوت خیر و فلاح و سعادت صرف اور صرف اللہ کے لیے ہو ،اللہ کے رسولؐ کے لیے ہو، اور پھر جو صاحب ِامر ہوں ان کی اور عامۃالمسلمین کی اصلاح اور مصلحت عامہ کے لیے ہو۔
دعوت اسلامی کے علَم برداروں بلکہ عام کارکنوں کی بھی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ طاغوت اور کفر و شرک کے خلاف شدت کے ساتھ اپنی آواز بلند کریں۔ بلاشبہہ ایمان اور کفر میں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی ، لیکن اسلام کی دعوت کا مزاج مخالف کو اپنی قوت سے شکست دینے کی جگہ دلیل کی قوت اور نرمی ومحبت سے دل جیت کر دائرہ اسلام میں شامل کرنے کا ہے ۔اس لیے دعوت کی زبان میں شدت کی جگہ نرمی اسلام کا شعار ہے ۔ رب کریم نے حضرت موسٰی کو واضح ہدایت فرمائی:
اِذْہَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰى۝۴۳ۚۖ  فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّہٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۝۴۴ (طٰہٰ ۲۰:۴۳-۴۴) جائو تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔
فن خطابت اور سیاست کاری کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کس طرح مخالف کو دباؤ میں لاکر گفت و شنید پر آمادہ کیا جائے ۔ قرآن کریم غور و فکر اور آیاتِ کائنات اور اپنے وجود پر غور کی دعوت دے کر ہمدردی کے ساتھ نصیحت اور تذکیر کا اسلوب اختیار کرتا ہے ۔اس لیے اسلام کا داعی اور کارکن اپنے مخالف کو تضحیک واستہزا کا نشانہ نہیں بنا سکتا۔ وہ اسے چور اچکا کہہ کر مخاطب نہیں کرسکتا ،گو زبان کے ذریعے دعوت ایک معروف طریقہ ہے لیکن قرآن کریم اس سے بھی زیادہ مؤثر طریقے کی طرف متوجہ کرتا ہے، یعنی اپنے عمل کے ذریعے دعوتِ دینا۔ اسی لیے وہ کہتا ہے کہ:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝۲ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝۳ (الصف ۶۱:۲-۳)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔
 اس آیت کی روشنی میں دعوت کا بہترین اسلوب ایک داعی کا اپنا طرز عمل ہے کہ وہ اپنی سیرت وکردار سے کیا پیغام دے رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے داعی کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ جس بات کی دعوت دیتا ہے اس پر پہلے خود عمل کر کے اس کے قابلِ عمل ہونے کو اپنے طرزِ عمل سے ثابت کر تا ہے ۔
عملی شہادت ہی دعوت کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔ اپنے آخری خطاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر تمام حاضرین سے یہ شہادت لی تھی کہ آپؐ نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے کیا اس علمِ ہدایت اور پیغام کو پہنچا دیا جو بطور امانت آپ کے سپرد کیا گیا تھا؟

فریضۂ اقامت دین ہی تحریکات اسلامی کے وجود کا سبب ہے اور اس کی صحیح ادایگی ہی آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔دین کا مذاق اڑانے والوں اور کفر وشرک کے علم برداروں کو دعوت الیٰ اللہ دینا تحریک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم، مخالفین کو کس طرح مخاطب کیا جائے؟ اس سلسلے میں قرآنی اخلاق کی اعلیٰ ترین مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہے کہ کس طرح طاغوت کے نمایندہ کے ساتھ بھی قول لیّن اختیار کیا جائے ۔ شرک ظلم عظیم ہے۔اس کاردّ پوری قوت سے کیا جائے اور منکر کو مٹانے کے لیے اپنی تمام قوت لگا دی جائے، لیکن مشرکین کے خداؤں کو ایسے ناموں سے نہیں پکارا جائے جو انھیں مشتعل کرکے نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے پر اُبھار دیں۔ دین ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ ہم مخالفینِ دعوت کو بھی بُرے القاب سے نہ پکاریں۔ ان ہدایات پر عمل ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔
 قرآن کریم ہمارے لیے جو لائحہ عمل تجویز کرتا ہے ، اس میں دانشمندی ، حکمتِ دعوت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور دین مداہنت، موقع پرستی اور تجاہل عارفانہ کو ناپسند کرتا ہے کیوں کہ اس کا اصل ہدف کفر و شرک ، گمراہی اور ضلالت ہے،کسی کی ذات نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ فرد کو برائی سے نکال کر غم گساری اور نرمی کے ساتھ حقیقی کامیابی سے روشناس کرادے۔یہ کام فرد کوہدف اور نشانہ بنا کر نہیں ہو سکتا۔اس میں فرد کی جگہ نظام پر گرفت و تنقید اور متبادل نظام کا پیش کیا جانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔قرآن کریم اپنی دعوت کا آغازباطل نظام کی نفی سے کرتا ہے اور متبادل نظامِ عبودیت کو اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ پیش کر کے برہانِ قاطع کی حیثیت سے اپنی بات کو انجام تک پہنچاتا ہے۔
اسلام کا اصل کارنامہ کوئی فلسفیانہ نظام پیش کرنا نہیں تھا بلکہ ایسی قابلِ عمل اخلاقی، معاشرتی، سیاسی ، ثقافتی تعلیمات کا پیش کرنا ہے جن کی عملی تفسیر داعی کی ذاتی زندگی ، گھر میں اہل خانہ کے ساتھ تعلق ، پڑوسی کے حقوق کا ادا کرنا ،حتیٰ کہ راستے کے حقوق پر عمل کرنا کہ راستے تک میں کوئی غلاظت اور رکاوٹ نہ ہو، جس سے راہگیر پریشان ہوں۔ تجارت میں کس طرح حلال و حرام میں تمیز، صارف کے ساتھ رویہ، غرض تجارتی، معاشرتی ،سیاسی معاملات میں کس طرح کا رویہ اختیار کیا جانا ہے۔
گویا اسلامی نظام حیات ایک جانب کفر اور شرک پر مبنی نظام پر سخت فکری تنقید کرتا ہے اور دوسری جانب عملاً ایک متبادل نظام کو خاندان اور معاشرے میں نافذ کر کےمعروف اور نیکی کی برتری کو ایک قابل محسوس شکل دے دیتا ہے۔

فرد اور نظام میں فرق

قرآن و سنت کی تنقید و احتساب کا ہدف باطل نظام ہے ۔ لیکن باطل نظام میں بھی ایسے پاک نفوس پائے جاسکتے ہیں جن کو دعوتِ حق حکمت اور محبت سے دی جائے تو دائرۂ حق اور اسلام میں داخل ہو جائیں ۔ یہ کام طنز، طعن اور تضحیک یا تحقیر سے نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لیے اعلیٰ ظرف کے ساتھ دعوتِ حق دینے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور وہ تحریکِ اسلامی کے پرچم تلے آنے میں رکاوٹ محسوس نہ کریں ۔ اس کام میں شفقت ، رحمت، عفو و درگزر اور اللہ کے لیے مخالفین کے ہر ظلم کو بھلا دینا ہی دعوت کی حکمت عملی ہے۔ 
اسلام اور کفر و ظلم کے مقابلے میں دین کا مدعا کسی فریق کو شکست دے کر چت کر دینا نہیں ہے، بلکہ فریقِ مخالف کے دل کو جیتنا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی اَنا کی بنیاد پر بہت سے معاملات میں عقل کے خلاف کام کرنے میں بھی حرج نہیں محسوس کرتا ۔داعی کا کام یہی ہے کہ وہ مخالف کی مصنوعی اَنا کو مجروح کیے بغیر، اسے نشانۂ تضحیک و تذلیل بنائے بغیر اپنی وسعت قلب کے ساتھ دائرہ حق میں ظلمات سے نور کی طرف لے آئے۔ دین اپنی تعلیم و فہم کے ذریعے دین کی دعوت کی عظمت و حقانیت سے آگاہ کرتا ہے اور ایسے افراد بھی جو صدیوں سے اپنی برادری کی عظمت اور چودہراہٹ کے شکار رہے ہوں داعی کی ہمدردی ، غمگساری اور محبت کے اسیر ہو جاتے ہیں ۔ وہ اہل مکہ جو اپنی قبائلی عصبیت و برتری اور معاشی خوش حالی اور مذہبی قیادت کے سہ آتشہ نشے اوررعونت کےشکار تھے ۔ ایسے اَنا زدہ افراد بھی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، نرمی، عفوودرگزر کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکے ۔آج تحریکات اسلامی کو یہی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ قول لَیِّن ہی وہ برہان قاطع ہے ، جس سے دلوں کی دنیا فتح کی جاسکتی ہے اور جس کی تعلیم خود خالق کائنات نے اپنے انبیا ؑکو دی ۔
انبیاے کرامؑ کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ مشرکین کے بتوں کو اور مشرکین کو سخت الفاظ سے مخاطب کرتے اور انھیں چور، ڈاکو ، قاتل ، شیطان جو چاہتے کہتے اور ان کا یہ کہنا نامناسب بھی نہ ہوتا۔ –اس کے برخلاف انبیاے کرامؑ نے اور خصوصاً نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انسانیت کو بنیاد بنا کر بار بار انھیں دعوت کی طرف متوجہ کیا ۔ قرآن کریم کی یہ دعوتی نفسیات انبیاے کرامؑ کے طریق دعوت کاحصہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کل تک جو اپنے ظلم ، جہل اور گمراہی کی بنا پر طاغوتی تھا، دین کی دعوت اور نصیحت نے اسے اللہ کا مددگار بنا دیا اور جان کے دشمن، جاں نثاروں میں تبدیل ہوگئے۔
دعوتِ قرآن نے جس شدت کے ساتھ جاہلیت ، استحصا ل ،ظلم اور کفر کو رد کیا وہیں اس سے زیادہ دلیل کی قوت کے ساتھ اسلام کے نظامِ عدل اجتماعی ،انفرادی ، مالی اور سیاسی تزکیہ کے اصول پیش کر کے ایک مکمل متبادل نظامِ حیات سامنے لا کر رکھ دیا کہ اس نور و ہدایت کی وجہ سے ظلمتِ کفر و شرک سکڑنے پر مجبور ہو جائے ۔حق آجائے اور باطل کوقطعی شکست ہو جائےکیونکہ باطل تو شکست کھانے ہی کے لیے ہے۔ چنانچہ نور حق کفر و شرک پر غالب آگیا اور ایک قابل محسوس اسلامی معاشرہ ، اسلامی خاندان ، اسلامی تجارت و معیشت و کاشتکاری ، اسلامی نظامِ عدل، اسلامی بین الاقوامی قانون کے وجود نے باطل نظام کو ایک اعلیٰ اخلاقی نظام سے تبدیل کر دیا۔

غیرمتعصبانہ رویہ اور تعمیری کردار

تحریکات اسلامی کے لیے ایک قابل غور امر یہ بھی ہے کہ طویل عرصہ حزبِ اقتدار پر تنقید و احتساب کرتے کرتے اس کا اپنا طرزِ عمل کہاں تک غیر متعصبانہ رہا ہے کہ وہ پانی کے نصف بھرے گلاس کو ہمیشہ نصف خالی قرار دے یا نصف بھرا ہوا؟دعوت کی نفسیاتی حکمت یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی معمولی سی خیر پائی جائے ، اس خیر کو بنیاد بنا کر اس کی ہمت افزائی کر کے برائی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اسی کا نام مثبت تعمیری فکر ہے جو تحریک اسلامی کا امتیاز ہے اور جو قرآن بار بار یا ایھا الناس کہہ کر ہمیں یاد دہانی کراتا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ روایتی حزب اختلاف کے طرز عمل سے ہٹ کر ہم اپنی پہچان حق گو جماعت کی حیثیت سے تسلیم کرائیں۔ اس طرح ہماری بات میں مزید وزن اور اہمیت پیدا ہو گی۔
 اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ تعمیری طرز فکر کے ساتھ تحریک اپنا منشور صرف انتخابات کے زاویے سے نہیں، بلکہ اپنی تعمیری تجاویز کو عملی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی بنیاد پر مرتب کرے۔ نیز حزبِ اقتدار کو بھی ان امور کو نافذ کرنے کی دعوت دے کیوں کہ تحریک کا مقصد اور ہدف اپنی ذاتی کامیابی کا سرٹیفکیٹ لینا نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں اسلام اور اسلامی نظامِ عدل و انصاف کے نفاذ کی جدوجہد کرنا ہے۔ اگر یہ کام کسی اور کے ہاتھ سے ہو جائے تو یہ بھی تحریک کی کامیابی ہے۔ اگر اسلامی نظامِ معیشت ، معاشرت ، ابلاغ عامہ وغیرہ کا نفاذ حزبِ اقتدار کر دیتی ہے، تو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ تحریک اسلامی کی شکست ہو گی یا کامیابی ؟

عملی مثالیں قائم کرنے کی ضرورت

اپنے اہداف کے حصول کے لیے تحریک اسلامی کو کسی ایک لگے بندھے طریقے کا پابند نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نفاذِ شریعت اور اسلامی نظامِ عدل کے قیام کے لیے ہر ممکنہ ذریعے کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس عمل کے دوران جہاں کہیں اسے معمولی سا اختیار بھی حاصل ہو، اس چند میٹر رقبے پر خود اسلامی نظام کو قائم کر کے عملی مثالیں پیش کرنی چاہییں۔ مثلاً اگر کسی یونین کونسل میں تحریک کا اثر ہے اور تحریک وہاں سڑکوں کی صفائی ، صاف پانی کی فراہمی ، دکانوں پر ناپ تول کے نظام کی درستی کے لیے اقدامات ، فحاشی کے مراکز کاخاتمہ ، اسکولوں میں بچوں کی صحت اور تعلیم کے معیار کی بہتری کا اہتمام کر لیتی ہے، تو یہ نیکی کے چند قابل مشاہدہ جزیرے اسلامی نظام پر طویل اور مدلل تقاریر سے زیادہ مؤثر دعوتی پیغام پہنچا سکتے ہیں ۔دعوتی کام کا یہ طریقہ صرف ان مقامات تک محدود نہیں ہے جہاں تحریک کا کوئی اثر پایا جاتا ہو، بلکہ ان مقامات پر بھی جہاں اس کے متاثرین کی اکثریت نہ ہو۔ کراچی میں بلدیہ کے تحریکی میئر نے جس خلوص اور توجہ سے اصلاحات کیں، ان کا اعتراف تحریک کے مخالفین نے بھی کیا اور عوام کو اعتماد ملا کہ اگر وہ اپنا ووٹ صحیح افراد کو دیں تو ملک میں اصلاح ہو سکتی ہے۔
دعوت وہ نرم قوت (soft power) ہے جو سنگلاخ چٹانوں کو موم کی طرح نرم بنا سکتی ہے۔ قرآن کریم نے جہاں شقاوت قلب کا تذکرہ کیا ہے وہاں خشیت قلبی کو بھی بیان کیا ہے اور خاشعین ہی کو اپنا انسانِ مطلوب قرار دیا ہے ۔ تحریک کے کارکنوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ

وہ کس طرح ہر ممکنہ صورتِ حال (opportunity ) کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بھی جب صاحبِ اختیار اسلام کی تعلیمات کے نفاذ کا زبانی وعدہ کررہے ہوں۔کیا ان کی نیت پر شک کا اظہار کیا جانا ضروری ہے؟ جہاں احتساب ضروری ہے، وہیں یہ بھی مطلوب ہے کہ ایک ظاہر بات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے مقصد کے حصول کے لیے تحریک کی جانب سے ایسی تجاویز کو باقاعدہ منصوبۂ عمل کی شکل میں پیش کر دیا جائے    جس کے نفاذ سے ملک میں اسلامی نظام عدل کے قیام کا امکان بڑھ جائے۔ –تحریکات اسلامی نے اس حکمت عملی کو مصر ،سوڈان اورترکی میں جزوی طور پر اختیار کیا ۔اس پہلو سے تنقیدی جائزے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے تناظر میں مکمل تبدیلیِ نظام کی جدوجہد کرتے ہوئے تبدیلی کے لیے متعین دائروں میں کون سی اصطلاحات کی جاسکی ہیں ان کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ بالفرض     یہ پُرخلوص کوشش کسی بناپر مطلوبہ نتائج پیدا نہ بھی کرسکے، تو تحریک عند اللہ جواب طلبی سے اپنے  آپ کو بچا سکتی ہے کہ جو اس کے اختیار میں تھا اس نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔
معروف کے قیام ، بر اور تقویٰ کے حصول کے لیے جو کوشش بھی رضاے الٰہی کے لیے کی جائے گی وہ ربِ کریم کےعلم میں ہوگی۔ اس کا مقصد نہ کوئی کریڈٹ لے کر سیاسی کامیابی ہوگی، نہ یہ دعوتِ اسلامی کے طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوگی، بلکہ حکمت دعوت کے قرآنی اصول کی تطبیق اور اتمامِ حجت کی ایک شکل ہوگی۔ اس حکمت عملی کے ذریعے مصلحت عامہ کا حصول، دعوت کی کامیابی اور اس کی اصولی فتح ہوگی کہ اقتدار سے باہر رہتے ہوئے بھی اس نے پیشہ ور حزبِ اختلاف کی جگہ قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے، اپنی سیاسی تصویر (image )کی پروا کیے بغیر اللہ کے بندوں کی بھلائی اور دین کی اقامت کی غرض سے اقتدار کے وسائل کو صحیح راہ پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔

معروف میں تعاون کی حکمت عملی 

قرآن کریم کے اصولوں پر مبنی اس حکمت عملی کو نہ مداہنت کہا جاسکتا ہے اور نہ اپنے اصولوں سے انحراف۔ دعوت کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ جو کل تک اس دعوت کا مذاق اڑاتا رہا  ہو وہ خود اس دعوتی ابلاغ اور دعوتی اسلوب کو اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مولانا مودودیؒ کا کارنامہ محض اسلام کی اجتماعی دعوت کو مدلل انداز میں پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے لہجے اور اسلوب کا وہ اثر ہے کہ آج وہ لوگ بھی جو اپنی عملی زندگی میں اسلامی طرزِ حیات کی مکمل پیروی نہ کرتے ہوں، اسلامی نظریۂ حیات ،مدینہ کی اسلامی ریاست اور بلاسودی بینک کاری کے تصورات کو بار بار دُہرا کر نظریۂ پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔دعوت اور دعوتی فکر کا یہ وہ نفوذ ہے جو دعوت کے حق ہونے اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے کی ایک علامت ہے اور تحریک کے لیے اُخروی کامیابی کی ایک شکل ہے کہ ایوان اقتدار سے باہر رہتے ہوئے بھی وہ صاحب ِاقتدار افراد سے وہ کام کروانے میں کامیاب ہو گئی جو شاید ۵۰سال بعد اس کی مسلسل سیاسی جدوجہد کے بعد وہ خود اپنے ہاتھ سے کر سکتی۔
ایک چھوٹی سی مثال سے یہ بات زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ تحریک اسلامی خود ایک فکری ، تربیتی و دعوتی تحریک ہونے کی بنا پر تعلیم و تعمیر کردارکوتبدیلیِ نظام اور پورے ملک میں تبدیلی لانے کا بنیادی ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس بنا پر گذشتہ ۷۲ برسوں سے مسلسل مطالبہ کررہی ہے کہ حکومت وقت اسلامی نظام تعلیم کو سرکاری سکولوں میں نافذ کرنے کا اعلان کرے لیکن اس کی یہ خواہش اور تمنا پوری نہیں ہوسکی۔ اس کے سامنے تین واضح امکانات اور عمل در آمد کی شکلیں ہیں۔اوّل: وہ اس وقت تک اس نصاب تعلیم،نصابی کتب اور تربیت یافتہ اساتذہ کو اپنے دامن میں لیے رہے جب تک اقتدار میں نہ آ جائے، اور جیسے ہی اسے اقتدار ملے وہ اپنے کیے ہوئے ہوم ورک کو نافذ کر دے۔ یہ آئیڈیل شکل ہے۔ دوسری شکل یہ ہوسکتی ہے کہ وہ حکومت پرمستقلاً گرفت ، تنقید ، احتساب کرتی رہے۔ نظامِ تعلیم کی تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ جہاں جس حد تک اصلاح ممکن ہو اس کی راہیں تلاش کرے۔ 
ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ  کے اصول کی روشنی میں اپنے تیار کردہ تعلیمی منصوبے، نصابی کتب ،تربیت استاد کا نظام، طلبہ کی تعمیر سیرت کے لیے عملی پروگرام، غرض جو بنیادی کام (home work) اس نے کیا ہے وہ سب ایک ایسی حکومت کے سامنے رکھ دے جو بظاہر تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ اگر حکومت اصلاح کے پروگرام کو کُلی طور پر نہ سہی جزوی طور پر اختیار کرلیتی ہے ، تو کیا یہ تحریک کی کامیابی نہ ہوگی؟ 
ایک آخری شکل وہ بھی ہے جس پر ایک حد تک عمل ہورہا ہے، یعنی تحریک کی فکر سےمتاثر پورے ملک کے مختلف صوبوں میں جہاں جہاں بھی اسلامی فکر رکھنے والے تعلیمی ادارے ہیں، یا کم از کم وہ ادارے جن کے بانی حضرات کبھی تحریک کے کارکن یا ذمہ دار رہے ہوں وہ اپنے زیراثر تمام اداروں میں مخلوط تعلیم کو یکسر ختم کر دیں ۔ ان کے کالج اور یونی ورسٹی میں طالبات اور طلبہ کے لیے الگ الگ سرگرمیاں ہوں۔ کالج کے مباحثے مشترک نہ ہوں یا طلبہ و طالبات کے ریسرچ پراجیکٹ الگ الگ ہوں ۔ تمام طلبہ و طالبات کی اخلاقی تربیت کے لیے  ٹائم ٹیبل میں مستقل جگہ رکھی گئی ہو ۔ ان کے اساتذہ کے لیے سال میں مناسب تعداد میں تربیتی کورس رکھے جائیں ۔ان کے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں اسلامی نظریۂ حیات پر مبنی معاشرتی علوم ،تطبیقی علوم، ہرشعبۂ علم قرآن و سنت کی تعلیمات کو نفسِ مضمون کے ساتھ اس طرح یک جا کر دیا جائے کہ طلبہ و طالبات کیمسٹری ہو یا طبیعات اور علم سیاست، ہر مضمون کے حوالے سے اسلامی اصول اور فکر سے مکمل طورپر آگاہ ہو سکیں ۔یہ تمام ادارے باہمی مشورے سے اپنی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اور ایک نظریاتی نظام تعلیم کو ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ (HEC) اور دیگر بورڈوں کی عمومی ہدایات کے اندر رہتے ہوئے اپنی فکر اور دعوت کوجس حد تک ممکن ہو، نافذ کریں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ان تینوں طریقوں پر بیک وقت بھی عمل کیا جائے۔ اگر صرف یہ کام کر لیا جائے تو ایک عام پاکستانی اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے کہ تحریک کل ایوان اقتدار میں آکر نہ صرف تعلیم کو معیاری ، اخلاقی اور عالمی پیمانوں پر لے جا سکتی ہے، بلکہ معیشت اور قانون کا نفاذ بھی کر سکتی ہے ۔ 

تحریکات اسلامی کا تصور ان افراد کے ذہن میں جو اپنے آپ کو روشن خیال یا بعض اوقات سیکولر مسلمان کہتے ہیں یہی ہے کہ یہ نماز پڑھا سکتے ہیں اور عام طور پر جھوٹ نہیں بولتے، مالی معاملات میں اکثر شفاف ہیں لیکن حکومت ان کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس کا ایک سبب تحریک کا بعض مسلکی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنا بھی ہے۔ سیکولر یانام نہاد روشن خیال طبقہ ان جماعتوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔تحریک کا ان سے تعاون تحریک کے تصور کو ان کی نگاہ میں مجروح کرتا ہے  لیکن اگر تحریک سے وابستہ افراد کے ادارے ایک کامیاب مثال پیش کریں تو تحریک کی صلاحیت، خلوص اور معاشرتی اہمیت، ہرشہری کی نگاہ میں مستحکم ہوسکتی ہے۔
اس کے ساتھ اگر تحریک آگے بڑھ کر ایک تفصیلی دستاویز معاشی ، ابلاغی ، صحت عامہ، معاشرتی ، دفاعی پالیسی یا ملکی اور بین الاقوامی حکمت عملی مرتب کرکے پیش کرے جو عملی مسائل پر اسلامی راہنمائی فراہم کرتی ہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ تحریک کے بارے میں موجود منفی تاثر مثبت رویے میں تبدیل نہ ہو جائے ۔ یہ کام نہ صرف محنت طلب ہے ، بلکہ اس میں صبر و استقامت بنیادی شرط ہے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر اس کام کو مسلسل کرنا ہی تحریک کی اصل کامیابی ہے ۔
تعلیم کے علاوہ معیشت کے میدان میں بھی تحریک سے وابستہ یا ہم خیال افراد کے صرف چند تجارتی ادارے اگر سود میں ملوث ہوئے بغیر کام کرکے ایک کامیاب تجارتی ماڈل پیش کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل تحریک اپنی مطلوبہ تبدیلی کی مثال پیش کر کے عوام کو اپنی دعوت کے قابلِ عمل ہونے پر قائل نہ کرسکے۔ اگر ۱۰؍اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آیندہ ۵۰ برسوں میں صرف دو اعلیٰ تعلیمی نجی ادارے وہ ہوں جو اسلامی ماحول اور اسلامی اصولوں کو اپنے نصابات میں سموکر طلبہ وطالبات کو علمی صلاحیت اور سیرت وکردار سے مزّین کر دیں اور یہ طلبہ و طالبات اپنے تعلیمی معیار اور اخلاقی طرزِ عمل میں مثالی ہوں اور ان دو جامعات میں مخلوط تعلیم نہ ہو، تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
 تحریک اسلامی کے لیے قرآنی منہج بڑا واضح ہے کہ وہ پہلے وہ کام کر دکھائے جس کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ آغاز ان ا داروں سے ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو تحریکی فکر سے قریب سمجھتے ہیں ۔ پاکستان آج بھی انسانی دولت سے مالا مال ہے ۔ یہاں وہ پاک نفوس کثرت سے ہیں جنھیں ہم نے آج تک تلاش نہیں کیا۔ ہمیں اپنے محدود حلقے سے نکل کر محض ووٹ کے لیے نہیں، بلکہ  دعوتِ دین اور اقامت دین کے لیے ان پاک نفوس تک پہنچنا ہے جن تک دعوتِ حق پہنچانے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، اور جو ہمارے لیے آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔
تحریک ِ اسلامی کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلامی نظام معیشت ، نظام سیاست ، نظام معاشرت، نظام ابلاغ عامہ،نظام صحت و تحفظ حیات ، نظام ماحولیات، غرض ہرہر شعبے میں نظام عمل کا تفصیلی خاکہ تیار کر کے عوام اور حزب اقتدار کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ آج جہاں بھی کسی ادارے میں تحریکی فکر سے ہم آہنگی پائی جائے، اس ادارے کو مثالی ادارہ بنا کر اپنی دعوت کی عملی شکلی پیش کرنا آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سیرتِ نبویہؐ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ داری کا کام اکثر نوجوانوں ہی کے سپرد کیا جاتا تھا۔ اس کی متعدد نظیریں تاریخ نے صراحت سے مہیا کی ہیں۔ چنانچہ جب کسی قبیلے نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذہین و فطین نوجوان کو اس کا سردار مقرر کیا۔ 
اصل میں معیار یہ تھا کہ اسلامی اصول و شریعت سے کون زیادہ واقف ہے؟ نماز پڑھانے کے لیے قرآن کی سورتیں کس کو زیادہ یاد ہیں؟ کون اپنے نئے دین سے زیادہ جوش اور دل چسپی کا اظہار کرتا ہے؟ اور یہ صفتیں عموماً نوجوانوں میں پائی جاتی ہیں۔ عموماً نوجوان مدینہ آکر زیادہ تیزی سے قرآنی سورتیں حفظ کرلیتے تھے۔ دیگر اُمور، مثلاً مال و دولت، وجاہت و تجربہ زیادہ پیش نظر نہیں رہتا تھا۔ 
ایک صحابی عمرو بن سلمہ الجرمی کا بیان ہے کہ ان کے والد سلمہ الجرمی اور ان کے قبیلے کے کچھ لوگ نبی پاکؐ کے پاس آئے، اسلام قبول کیا اور قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کی۔ تب انھوں نے کہا: ’’یارسولؐ اللہ! ہمیں نماز کون پڑھائے گا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے سب سے زیادہ قرآن یاد کیا ہو، وہ نماز پڑھائے‘‘۔ جب سارے لوگ واپس آئے تو انھیں مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا نہیں ملا، چنانچہ مَیں نے نماز پڑھانی شروع کر دی‘‘۔ (ابوداؤد، نسائی، ترمذی)
 ایک بہت چھوٹی (ناف سے گھٹنوں تک جانے والی) تہمد کے سوا میرے پاس کپڑے بھی کچھ نہ تھے۔ آخر ایک دن قبیلے کی ایک عورت نے ہمارے مجمع سے مخاطب ہوکر کہا: ’’اَجی اس لڑکے کو کچھ کپڑے بنا کر دو، خواہ مخواہ ہماری نماز خراب ہوتی ہے۔ اس پر قبیلے والوں نے چندہ جمع کرکے مجھے ایک جوڑا بنا دیا، اور مجھے اس سے اُس وقت اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے‘‘۔ 

باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی 

مدینہ ہجرت کرکے آتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے سامنے ایک چبوترہ بنا دیا، جس پر سائبان بھی تھا، اُسے صفہ کہتے تھے۔ دن کو یہ مدرسہ (بلکہ جامعہ) بن جاتا تھا اور رات کو دارالاقامہ اور بورڈنگ۔ یہاں اعلیٰ تعلیم تو خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیا کرتے تھے، لیکن ابتدائی تعلیم اور لکھنا پڑھنا، سکھانا، یہ کام نوجوان رضاکاروں کے سپرد تھا۔ ہجرت کے ڈیڑھ ہی سال بعد بدر کی جنگ پیش آئی اور مکہ کے قیدیوں کا فدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مقرر فرمایا کہ ہرشخص مدینے کے دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا سکھائے۔ 
حضرت زید بن ثابتؓ نے اسی طرح لکھنا سیکھا، اور ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ فارسی، حبشی، یونانی اور عبرانی زبانیں بھی اپنے شوق سے مدینے آنے والے مسافروں سے چند روز میں سیکھ لیں۔ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عبرانی سیکھنے کا حکم دیا تو ۱۵ دن میں اس میں مہارت پیدا کرلی، تاکہ یہودیوں سے خط کتابت میں اسلامی محکمۂ خارجہ کسی غیرمسلم یہودی کا محتاج نہ رہے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کے علاوہ دیگر کاتب بھی اکثر نوعمر تھے۔ حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ، حضرت ابن مسعودؓ وغیرہ سب نوجوان لوگ تھے۔
اس سے بڑھ کر، اہم اور ذمہ داری کے کام بھی کثرت سے نوجوانوں کے سپرد کیے جاتے تھے۔ حضرت اسامہؓ بن زید کو بارہا فوج کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ جنگ ِ خیبر میں حضرت علیؓ کی عمر مشکل سے ۲۵ سال کی ہوگی۔ انھیں ایک بہت بڑے معرکے کا افسر بنایا گیا۔ اس کے بعد کے سالوں میں انھیں گورنر اور قاضی جیسے عہدے بھی دیے گئے۔ 
حضرت عمروؓ بن حزم اور حضرت معاذؓ بن جبل بھی بہت نوعمر صحابہؓ تھے۔ انھیں تین کے اہم صوبے کا علی الترتیب گورنر اور انسپکٹر جنرل تعلیم بنایا گیا۔ حضرت معاذؓ کے متعلق مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ ’’ان کا یہ کام تھا کہ گائوں گائوں اور ضلع ضلع دورہ کریں اور وہاں تعلیم کی نگرانی اور بندوبست کریں‘‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتی صلاحیتیں دیکھ کر مختلف نوجوانوں کو ایک فنی تخصیص کا موقع دیا۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابتؓ حساب کے بھی ماہر تھے۔ اس لیے انھیں تقسیم ترکہ کے ریاضیاتی فن کا امام قرار دیا۔ کسی کو فنِ تجوید اور قرأت کا ماہر، کسی کو عام مسائل اور فقہ کا مستند عالم قرار دیا اور حکم دیا کہ جس کسی کو ان فنون کے متعلق کچھ پوچھنا ہو تو ان ماہرین سے پوچھ لے۔

مشیروں کا تقرر اور مشاورت 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشیرانِ خاص بھی اکثر نوجوان تھے۔ ایک حضرت ابوبکرؓ کو چھوڑ کر، جو آنحضرتؐ کے تقریباً ہم عمر تھے، باقی تمام اکابر صحابہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابن الجراحؓ سب ہجرت کے وقت نوعمر تھے۔ حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابن عباسؓ ، حضرت زید بن ثابتؓ وغیرہ تو محض بچّے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسب ِ احکامِ قرآن ہر امر میں مشورہ فرمایا کرتے تھے، جس کا منشا نوجوانوں کی تربیت تھا۔ وہ واقعات اور گتھیوں سے واقف ہوتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو آخر میں سنتے اور اس طرح آیندہ اہم کاموں کے لیے تیار ہوتے جاتے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی شخص کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے نہ پایا‘‘۔ (امام شافعیؒ نے حسن بصریؒ کا قول نقل کیا ہے) اور یہ بھی کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشورے سے مستغنی تھے لیکن حضوؐر کا منشا یہ تھا کہ اپنے بعد آنے والے حاکموں کے لیے ایک سنت چھوڑ جائیں۔
انتظامِ مملکت اور سیاست ِ مدن کے لیے جہاں بہت سے عام ادارے (گورنری، عدالت، تحصیل مال گزاری وغیرہ) قائم ہوئے، وہیں شہروں اور قبیلوں کا اندرونی نظام بھی درست کیا گیا۔ ہرگائوںیا بڑے شہر کے محلے میں ہر دس دس آدمیوں پر ایک ’عریف‘ مقرر ہوا تھا اور جملہ مقامی ’عریفوں‘ کا ایک نقیب ہوتا جو براہِ راست عامل (گورنر) کے پاس جواب دہ ہوتا۔ عریف کا کام عموماً نوجوانوں کو دیا جاتا اور وہ بڑی مستعدی اور پھرتی سے اپنے فرائض بجالاتے۔ ہوازن کے قیدیوں کی رہائی کے متعلق ہزاروں ہی آدمیوں سے راے لینی تھی۔ یہ کام عریفوں نے دیکھتے ہی دیکھتے انجام دے دیا۔ اور نتیجہ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا دیا۔ 

قیادت کی تیاری 

حوصلہ افزائی کے لیے نوجوانوں کو شاباشی اور انعام و اِکرام کی بھی کمی نہ تھی۔ اور نوجوانوں کی تربیت پر توجہ کرنا ہی وہ راز معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم جس نے ابتداے آفرینش سے کبھی حکومت کا نام نہ سنا تھا، وہ ۱۵، ۲۰ سال ہی میں جب تین براعظموں کی مالک بن جاتی ہے تو ایسے اچھے مدبر اور سپہ سالار اور منتظم افسر بھی مہیا کرنے کے قابل ہوجاتی ہے جن پر تاریخِ انسانیت فخر کرسکتی ہے۔ 
آج تہذیب و تمدن کے دعویداروں اور کمالاتِ انسانی کے مالکوں میں سے کون سی گوری سے گوری قوم ہے جو اس اسلامی نظریے کا جواب پیش کرسکتی ہو کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب ایک شہر پر قبضہ ہوا اور حسب ِ معمول شہریوں سے حفاظتی ٹیکس وصول کیا گیا لیکن جلد ہی جنگی ضرورت سے شہر کا تخلیہ کرکے اسلامی فوج کو وہاں سے ہٹ کر آنا پڑا، تو جملہ حفاظتی ٹیکس شہریوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ اب ہم تمھاری حفاظت کے قابل نہیں ہیں اور ہمیں یہ رقم رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ 
آج مہذب سے مہذب قوموں میں سے کون اس نظیر کا جواب پیش کرسکتی ہے کہ  حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک محصور شہر کے لوگوں نے بعض سابقہ تعلقات کی بناپر محاضر کنندہ فوج کے ایک غلام سے امن نامہ حاصل کرلیا اورفوج کا سپہ سالار مجبور ہوگیا کہ اس مسلمان کی بات کا پاس کرے جو چاہے کتنا ہی کم حیثیت اور ادنیٰ مرتبے کا غلام ہی کیوں نہ ہو۔
اصل میں اعلیٰ تعلیم اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی اعلیٰ تعمیل۔ اسلام نے کبھی دکھاوے کی خوش نما مگر ناقابلِ عمل تعلیم نہ دی کہ کوئی ایک طمانچہ لگائے تو دوسرا گال بھی ضرور ہی پیش کردو۔ کوئی کورٹ چھین لے تو قمیص بھی ضرور ہی اُتار کر دے دو۔ اسلام نے اوسط انسانوں کی قابلیت کا لحاظ کرکے قواعد بنائے اور ان کی انتہائی تعمیل ادنیٰ اور اعلیٰ سب سے کرائی۔ ان احکام کا بادشاہِ وقت بھی اتنا ہی پابند ہے جتنا کوئی غلام۔ ایثار اور فرشتہ سیرتِ اعمال کی تعریف تو کی، مگر ویسا کرنا کسی پر واجب نہیں کر دیا۔ یہ اصول اسلامی تعلیم کے ہرجز میں نظر آئے گا۔

جسمانی کھیلوں کی حوصلہ افزائی 

مردانگی اور چُستی پیدا کرنے کے لیے جہاں ذہنی تربیت کی ضرورت پڑتی ہے، وہیں جسمانی ریاضت بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ سوال دل چسپ ہے کہ عہد نبویؐ میں اسپورٹ کی کس حد تک سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔
عالم کی آقائی چاہنے والوں کے لیے نشانہ اندازی اور شہ سواری کی جتنی ضرورت ہے وہ ظاہر ہے ۔ اس لیے ہمیں کوئی تعجب نہ ہونا چاہیے۔ جب ایک حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ ہرکھیل کود بُرا ہے سوائے شہ سواری، نشانہ اندازی اور اہل و عیال کو خوش کرنے والی باتوں کے۔ یہ بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ جب تک موٹر، ریل اور ہوائی جہاز نہ تھے تو شہ سواری سے مراد صرف گھوڑے کی سواری ہوتی تھی۔ اور اسی طرح جب تک توپ اور بندوق اور سرنگیں اور تارپیڈو نہ بنے، نشانہ اندازی سے مراد صرف تیراندازی ہوتی رہی۔
عرب میں خاص کر حجاز میں تیرنے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس کے باوجود خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمری میں اپنی ننھیال کے کنویں میں تیرنا سیکھا تھا اور اس کی آیندہ اوروں کو ترغیب بھی دیتے رہے۔
کشتی کا فن بھی اس ضمن میں بیان ہوسکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکانہ پہلوان کو مسلسل تین بار کشتی میں پٹخنا تاریخ کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ مدینہ میں بھی آپؐ اس کی اکثر سرپرستی فرماتے تھے۔ جنگ ِ اُحد کے موقعے پر چند نوعمر رضاکاروں کو کشتی لڑنے میں ماہر ہونے کے باعث، باوجود کم عمر کے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔
دوڑ کے سلسلے میں آدمیوں کی، گھوڑوں، گدھوں اور اُونٹوں کی دوڑ سب سے زیادہ مقبول تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خود انعام دیا کرتے تھے۔ تربیت یافتہ اور غیرتربیت یافتہ گھوڑوں کے لیے الگ الگ مسافتیں مقرر تھیں۔ وہ مقام اب تک مدینہ منورہ میں محفوظ ہیں جہاں سے شرط کے گھوڑے وغیرہ روانہ ہوتے تھے، اور وہ مقام بھی جہاں کھڑے ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیتنے والے کا تعین کرتے تھے۔ اس آخر الذکر مقام پر اب ایک مسجد ہے جو مسجدالسبق (دوڑ کی مسجد) کے نام سے موسوم ہے۔ دوڑ میں انعام اوّل، دوم، سوم، چہارم متعدد افراد کو ملتے تھے۔ کبھی یہ انعام کچھ کھانے کی چیزیں، مثلاً کھجور اور کبھی کوئی چیز جن کی تفصیل سیرتِ شامی میں ملتی ہے۔
نشانہ اندازی کے انعامات اور اس کی ترغیب و تحریص کا ذکر کثرت سے احادیث میں آیا ہے۔ ابن القیم نے اپنی کتاب الفروسیہ میں ذکر کیا ہے کہ علاوہ اور چیزوں میں مسابقت کے، عہدِنبویؐ میں وزنی پتھر اُٹھانے کے بھی مقابلے ہوا کرتے تھے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے روا رکھتے تھے۔ نیزہ بازی (وِرکُلہ) کے علاوہ عہد ِ نبویؐ میں کجّہ اور کُرک کھیلوں کا بھی نوعمروں میں رواج نظر آتا تھا۔
بچوں کے ساتھ عورتوں کا بھی اس سلسلے میں ذکر کیا جاسکتا ہے۔ بی بی عائشہؓ کے ساتھ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دو مرتبہ دوڑ میں مقابلہ کرنا مشہور واقعہ ہے۔ جنگ ہاے بدر و اُحد وغیرہ میں زنانہ رضاکار زخمیوں کی مرہم پٹی، پانی پلانے، تیر چُن کر اپنے ساتھیوں کو دینے، بلکہ خود تلوار کھینچ کر  لڑنے کا کام انجام دیتی رہی ہیں۔ بی بی عائشہؓ، بی بی صفیہؓ وغیرہ خاندانِ نبویؐ کی افراد بھی ان میں برابر کا حصہ لیتی رہی ہیں۔ بعد کے زمانے میں حضرت خالدؓ بن ولید کی لڑکیوں کی شہ سواری مشہور ہے اور فنونِ مدافعت عورتوں کو بھی سکھائے جاتے رہے ہیں۔

نظامِ تعلیم و تربیت

یہ تو آپؐ کے عمل کا سرسری تذکرہ تھا۔ آخر میں آپؐ کی تعلیم پر بھی کچھ نظر ڈالنی ضروری ہے۔ ایمان لانے کے بعد کسی شخص کو نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا پابند کیا جاتا ہے۔ نماز میں صف آرائی، اجتماعی ہم کاری، فوج کا گھروں اور بارکوں سے اذان کی آواز پر اجتماع گاہ میں پہنچ جانا، اثناے نماز میں امام مرض یا حدث وغیرہ کی وجہ سے نماز سے الگ ہوجائے تو فوراً سینیر مقتدی کا اس کی جگہ  لے کر بقیہ نماز کی تکمیل کرانا، نمازِ خوف کا انتظام، پنج وقتہ محلہ داری، ہرہفتہ شہرداری اور ہرسال دومرتبہ شہرو مضافات کے عام اجتماع، رکوع و سجود کے ذریعے سے جسم میں لچک اور قوت پیدا کرنا___ غرض روحانی کے ساتھ بیسیوں عسکری مصالح نظر آتے ہیں۔
فوجوں کو کھانے پینے کی چیزیں ہروقت کہاں مل سکتی ہیں؟ روزے اور تراویح کے ذریعے سے ہرموسم میں دن بھر اور رات کے خاصے حصے میں بھوکے پیاسے کام کو جاری رکھنے کی جو تربیت ملتی ہے، اس کے نتائج کا اعتراف گھر والوں سے نہیں حریفوں سے پوچھیے۔
فوج کو کوچ اور پڑائو کی جتنی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے حج اور میدانِ عرفات سے بہتر کیا مقام مل سکتے ہیں۔ تمام دنیا سے لوگ آئیں اور اس بے آب و گیاہ مقام پر کوچ اور کیمپ کی تربیت حاصل کریں۔ دن کو آئیں، مغرب تک ٹھیریں، آگے جاکر رات گزاریں، علی الصبح پھر آگے بڑھیں۔ راستے میں کوئی بازار نہیں، کوئی ہوٹل اور کوئی مکان نہیں۔ ہرچیز خیمہ، توشہ سب ساتھ لینا پڑتا ہے اور عالم گیر اخوت و تنظیم کا مکمل مظاہرہ ہوتا ہے۔ ہم خیالی سے بہتر اتحاد کا کوئی ذریعہ نہیں۔ زبان، رنگ، ملک اور اسی طرح کے ذرائع اتحاد کچھ اتنے سطحی ہیں کہ اولادِ آدم ؑ و حواؑ کو ان خودساختہ تفریحات کے ذریعے سے اپنی یک جہتی کو نقصان پہنچانا جتنا مضر اور خونریز ثابت ہوا ہے، تاریخ اس کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
معاشیات کو سیاسی رفتارو حالات میں جتنا دخل ہے، اس سے اب کسی کو انکار نہیں۔ سرمایہ داری اور سودخواری کی انسانیت سوز بے رحمی اور بالشویکزم و کمیونزم کی لعنت اور بربادیاں___ ان دونوں انتہاپسندیوں کا علاج اسلام نے زکوٰۃ و متعلقات کے ذریعے سے تجویز کیا۔ اس میں اخلاقی عناصر بھی ہیں، فطرتِ انسانی کا بھی لحاظ ہے، انفرادی ملکیت کو مکمل طور سے باقی رکھ کر اجتماعی ضروریات کی تکمیل کا پورا انتظام کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل ممکن نہیں۔ صرف اس امر کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے کہ خانگی انتظامات ہوں کہ حکومتی، سب کے لیے روپے کی ضرورت ہے۔ اور کوئی سخت اور ناقابلِ برداشت بار ڈالے بغیر ضرورت سے زیادہ رقم والوں سے اُن کی بچت کا ایک خفیف جز اس غرض کے لیے حاصل کرلیا جاتا ہے، اور محتاجوں اور ضرورت مندوں کے کام کے لیے اس کو متعین کیا جاتا ہے۔
جب نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے ارکان چہارگانہ کی پوری تعمیل ہوتی ہے تو پھر نوجوانوں کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ اپنے فرضِ کفایہ، یعنی جہاد کو انجام دے سکیں، جس کا مقصد دنیا میں رب العالمین کی حکومت قائم کرنا اور روزِ اوّل میں اپنے سر لی ہوئی امانت ِ الٰہی کی تکمیل کرنا ہے۔

کسی بھی معاشرے کو ظلم و زیادتی سے پاک کرنے، باہمی اعتماد و اعتبار اور عدل و انصاف کی فضا قائم کرنے کے لیے ایک اہم قدر امانت داری بھی ہے۔ یہ ایک ایسی بنیادی قدر ہے جسے کسی معاشرے کے ہر ایک فرد کے اندر پیدا کیے بغیر، اس معاشرے کو خوف، عدم اعتمادی، خیانت، دھوکا اور ظلم جیسی برائیوں سے پاک نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ہر دور اور ہر معاشرے میں خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور تہذیب سے ہو ، امانت داری کو پسند کیا گیا ہے۔ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے اور دنیا کو زندگی گزارنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنانا، اس کے مقاصد میں سے ہے۔ اس لیے انسانیت کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے امانت داری کو ایک اہم مقام عطا کیا گیا ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ آپؐ نے اکثر فرمایا : لَا إِیْمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہُ وَ لَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہُ (مسند احمد، حدیث: ۱۲۳۲۴، بروایت انسؓ بن مالک) ’’ اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پابند نہیں ‘‘۔ 
 قرآن کریم میں بھی امانت کی ادایگی پر سخت تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۝ (النساء۴:۵۸) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کرو، یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمھیں اللہ کررہا ہے، بے شک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے‘‘۔
 نیز فرمایا:  اِنَّ  اللّٰہَ   لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ (الانفال ۸:۵۸)  ’’بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی امانت داروں کے لیے قرآن میں جنت کی بشارت دی گئی ہے جو بڑی کامیابی کی ضمانت ہے۔ 
ارشاد ہے: وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ۝۳۲۠ۙ وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ۝۳۳۠ۙ وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ۝۳۴ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ۝۳۵ۭۧ (المعارج۷۰:۳۲-۳۵) ’’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں، اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، یہی لوگ ( بہشت کے) باغات میں مکرم و معزز ہوں گے‘‘۔ 

ان ارشادات سے یہ پتا چلتا ہے کہ صفت امانت داری اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنی اہم اور پسندیدہ چیز ہے۔ لیکن دوسری اقوام کا تو کیا گلہ کیا جائے، خودمسلمانوں کے اندر اب یہ صفت عنقا ہوتی جارہی ہے۔ عوام تو عوام ، تعلیم یافتہ اور خواص کے طبقے میں بھی یہ صفت ناپید ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے پورا معاشرہ فسادات کی نذر ہو تا جارہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے حوالے سے ہماری عدم وفاداری اور اسلامی اقدار سے مجرمانہ رُوگردانی ہے، وہیں اس کی دوسری وجہ اسلامی تعلیمات سے دُوری کی وجہ سے امانت داری کا ناقص فہم و تصور بھی ہے۔ 

  •  امانت کا جامع تصور:عام طور پر امانت اس چیز کو کہتے ہیں جس کا کسی کو ذمہ دار اور امین بنایا جائے یاجس کے سلسلے میں کسی پر اعتبار کیا جائے۔ اس لیے امانت داری کے سلسلے میں لوگوں کا ذہن صرف اس طرف جاتا ہے کہ اگر کسی نے کچھ روپیہ یا مال و اسباب یا دیگر کوئی اور چیزہمارے پاس رکھ چھوڑا ہے، توہم اس کے امین ہیں اور جب وہ اسے طلب کرے تو بلاکسی کمی کے ہم اسے واپس کردیں۔ بلاشبہہ یہ بھی امانت داری ہے، لیکن اسلام میں امانت داری کا تصور یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔

 ’امانت‘ دراصل ایک وسیع مفہوم کا حامل لفظ ہے، جس کے دائرے میںاللہ کے وہ تمام حقوق بھی آتے ہیں، جو بندوں پر عائد ہیں، جیسے: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، کفارہ، صدقات وغیرہ اور بندوں کے آپس کے وہ تمام حقوق بھی شامل ہیں، جو ایک دوسرے پر عائد ہیںجنھیں حقوق العباد کہاجاتا ہے۔ اس فکر پر سورۃ الانفال کی یہ آیت دلالت کرتی ہے: يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ (الانفال۸:۲۷)’’اے ایمان والو! خیانت نہ کرواللہ کی اور رسولؐ کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانتوں میں، جب کہ تم جانتے ہو‘‘۔ 
یہاں اللہ اور رسولؐ کی خیانت کرنے سے باز رہنے سے مراد ان کے حقوق کو تلف کرنے سے باز رہنا ہے۔ درحقیقت انسان کامال واسباب ، اس کی صحت و تندرستی بلکہ پوری زندگی ہی اللہ کی امانت ہے کیوں کہ اللہ کا ارشاد ہے:  اِنَّ اللہَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ ط (التوبۃ ۹:۱۱۱) ’’بلاشبہہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی‘‘۔ جب جان اور مال دونوںبک گئے، تواب جو یہ چیزیںہمارے پاس موجود ہیں، وہ اللہ کی امانت ہی ہوئیں اور اللہ نے اپنی عنایت سے ان میں تصرف کا اختیار دیا ہوا ہے، تو ان میں اللہ کی منشا کا خیال رکھنا واجب ہے۔

اسی طرح امانت داری کا اطلاق سیاسی اور انتظامی امور میں بھی ہے؛ ہر چھوٹا بڑا عہدہ امانت ہے اور ایک کلرک سے لے کر صدر مملکت تک ہر چھوٹے بڑے حکام، ملوک، رؤسا، وزرا، سب امانت دار ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ جو عہدے انھوں نے اپنے ذمے لیے ہیں، ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے دیے گئے اصولوں کی روشنی میں پوری کریں۔ ان سے عوام کے جو حقوق وابستہ ہیں، ان کا خیال رکھیں اور ان میں کسی قسم کی خیانت نہ کریں۔ ان میں جو کوئی بھی خیانت کا مرتکب ہوگا،گنہگارٹھیرے گا اور بوقت حساب پکڑا جائے گا۔ 
اسی طرح مسجدوں کے متولی، امام و مؤذن، مدرسوں کے مدرسین و مہتمم، عصری تعلیمی اداروں کے اساتذہ و سربراہان، دار القضاء کے قاضی، بیت المال کے نگران، اوقاف کے ذمہ داران، فلاحی اداروں کے سکریٹری و منتظمین، دینی و مذہبی جماعتوں کے چھوٹے بڑے عہدے دار اور شعبہ جات کے انچارج، یہ سب امانت دار ہیں۔ ان سب پر یہ لازم ہے کہ اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والی ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ ادا کریں بصورت دیگر اللہ کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار رہیں۔

  • عہدوں کا امانت ہونا: یہ بات صرف منطقی طور پر ہی نہیں بلکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً بھی ثابت ہے۔ مشہور صحابی ابوذرؓ نے ایک بار آپؐ سے امارت (سرکاری عہدہ) کی خواہش ظاہر کی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: یَا أَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَ اِنّھَا أَمَانَۃٌ وَ  اِنّھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّا مَنْ أَخَذَھَا بِحَقِّھَا وَ أَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ فِیْھَا (مسلم،کتاب الامارۃ، باب کَرَاھَۃِ الْاِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ، بروایت ابوذرؓ) ’’اے ابوذرؓ! تو کمزور ہے اوربلاشبہہ یہ (امارت) امانت ہے اور یہ قیامت کے دن کی رسوائی اور شرمندگی ہے سوائے اس شخص کے جس نے اس کے حقوق پورے کیے اور اس سلسلہ میں جو ذمہ داریاں اس پر عائد تھیںاس کو ادا کیا‘‘۔ 

اس حدیث میںرسول اللہﷺ نے نہ صرف عہدوں کو امانت بتایا بلکہ اس بات کی طرف اشارہ بھی دیا کہ جو شخص کسی منصب کی متعلقہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اسے اس منصب سے باز رہنا چاہیے کیوں کہ آخرت میں وہ اس کی رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ بروز جزا اللہ رب العزت ایک ایک عہدہ دار اور ذمہ دار سے اس کی ذمہ داریوں کے سلسلے میںحساب لینے والا ہے۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، فَالْاَمِیْرُ الَّذِی عَلَی النَّاسِ رَاعٍ عَلَیْھِمْ وَ ھُوَ مَسْؤُوْلٌ  عَنْھُمْ، وَ الرَّجُلُ رَاعِی اَھْلَ بَیْتِہٖ وَھُوَ مَسْؤُوْلٌ  عَنْھُمْ، وَالْمَرْاَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَ وَلَدِہِ وَ ھِیَ مَسْؤُولَۃٌ عَنْھُمْ، وَ عَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلٰی مَالِ سَیِّدِہِ وَ ھُوَ مَسْؤُوْلٌ  عَنْہُ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ  یعنی  ’’تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میںسوال کیا جائے گا۔ لوگوں کا حکمران ان کا نگران ہے اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اورعورت اپنے شوہر کے گھر کی اور اس کی اولادکی نگران ہے اس سے ان کے بارے میںسوال کیا جائے گا، اور آدمی کا غلام( خادم) اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا، پس تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اوراس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میںسوال کیا جائے گا‘‘۔ (صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب ذِکْرُ الْبَیَانِ بِاَنَّ الْاِمَامَ مَسْؤُوْلٌ  عَنْ رَعِیَّتِہِ الَّتِیْ ھُوَ عَلَیْھِمْ رَاعِی، بروایت عبداللہ بن عمرؓ)
دوسری حدیث میں ان سوالات کی نوعیت کو بھی واضح کردیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ سَائِلٌ کُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاہُ اَحَفَظَ اَمْ ضَیَّعَ (صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب ذِکْرُ الْاِخْبَارِ بِسُؤَالِِ اللہِ جَلَّ وَ عَلَاَ کُلَّ مَنِ اسْتَرْعَی رَعِیَّۃً عَنْ رَعِیَّتِہِ ، بروایت انسؓ) ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس کی نگرانی کے بارے میں سوال کرے گا کہ کیا اس نے اس کی حفاظت کی ہے یا اسے ضائع کردیا ہے؟‘‘۔ 

  • اسلامی اور غیراسلامی نظامِ حکومت میں امتیاز:معاشرتی، سیاسی اور انتظامی اُمور میں امانت داری کا یہی وہ تصور ہے، جو اسلامی اور غیر اسلامی معاشرت و نظام حکومت میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔ اسلامی نظام میں جہاں عہدے اور ذمہ داریاں امانت تصور کیے جاتے ہیں، وہیں غیر اسلامی نظام میں انھیں مراعات (Privilege) سمجھا جاتا ہے، جو خدا کے سامنے جواب دہی کا تصور نہ ہونے کی وجہ سے لازماً خیانت کی طرف لے جاتا ہے۔ حکومتی عہدوں میں رہ کر جو لوگ عدل و انصاف کا معاملہ نہیں کرتے، عوام کے جو حقوق ان سے وابستہ ہیں انھیں ادا نہیں کرتے اور ان کے ساتھ احسان و خیرخواہی کا معاملہ نہیں کرتے ان کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بہت سخت ہیں۔ 

آپؐ نے فرمایا: مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاہُ اللّٰہُ رَعِیَّۃً فَلَمْ یَحُطْھَا بِنَصِیْحَۃٍ اِلَّا لَمْ یَجِدْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ   (بخاری، کتاب الاحکام، باب مَنِ اسْتُرْعِیَ رَعِیَّۃً فَلَمْ یَنْصَحْ، بروایت معقل بن یسارؓ) ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیرخواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتاتو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا‘‘۔
ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: مَا مِنْ وَالٍ یَلِی رَعِیَّۃً مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَمُوتُ وَھُوَ غَاشٌّ لَھُمْ اِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ (بخاری، کتاب الاحکام، باب مَنِ اسْتُرْعِیَ رَعِیَّۃً فَلَمْ یَنْصَحْ، بروایت معقل بن یسارؓ)’’ اگر کوئی شخص مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا والی (حاکم) بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملے میں خیانت کی اور اسی حالت میں مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردیتا ہے‘‘۔ 
یہاں خیانت سے مراد عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا ہے جس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں؛ مثلاًان کے حقوق پورے طور پر نہیں دیے، یارعایا کا جو کام ان کے ذمے تھا، اسے نہیں کیا، یا جتنا وقت حکومت کی طرف سے رعایا کے لیے متعین تھا اس میں کمی کی، یا دوسرے کاموں میں ضائع کردیا اور کام کا حق ادا نہیں کیا، یا متعلقہ شعبے کے اشیا و اموال کا جو درحقیقت عوام کا سرمایہ ہیں، بے جا یا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا، یا بیت المال سے اپنی مقرر شدہ تنخواہ اور مراعات (Allowances) سے زیادہ لے لیا وغیرہ۔ 
آخرالذکر صورت کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے کہ آپ ؐنے فرمایا: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلٰی عَمَلٍ فَرَزَقْنَاہُ رِزْقًا فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ غُلُولٌ (سنن ابی داؤد، کتاب الخراج و الفيء و الامارۃ، باب فِي أَرْزَاقِ الْعُمَّالِ،بروایت بریدہؓ ) ’’ہم جس کو کسی کام کا عامل بنائیںاور ہم اس کی کچھ روزی (تنخواہ) مقرر کردیں پھر وہ اپنے مقرر ہ حصے سے جو زیادہ لے گا، وہ خیانت ہے‘‘۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ حکومت کے وہ عہدے جو وعدوں کی بنیاد پر لیے جاتے ہیںجیسا کہ ہمارے جمہوری نظام میں رواج ہے، ان کی ذمہ داریوں سے رُوگردانی کرنادوہرے وبال کا باعث ہے۔ ایک تو یہ خیانت ہے اور دوسرے وعدہ خلافی بھی۔

  • رشوت ستانی کا انسداد: اسی طرح رشوت ستانی کے ذریعے متعلقہ ادارے اور عوام کے مفاد کو نقصان پہنچانا بھی خیانت کی ایک شکل ہے۔ نیز کسی سرکاری محکمے کا ملازم اگر رشوت لے کر کوئی ایسا کام کرے، جو حکومت کے طے شدہ اصول و ضوابط کے خلاف ہو، تو یہ بھی خیانت ہے کیوں کہ جس کام کے لیے حکومت نے اسے متعین کیا اور جس کام کی اسے تنخواہ دی جاتی ہے، وہ کام اس نے نہیں کیا۔ اور اگر رشوت کسی جائز کام کے لیے لی، تو یہ اس فرد پر ظلم بھی ہے جس سے رشوت لی۔ 

ایک روایت میں ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ الرَّاشِي والْمُرْتَشِي (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فِي کَرَاھِیَۃِ الرِّشْوَۃِ، بروایت عبداللہ بن عمروؓ) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے اور رشوت لینے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے‘‘۔ آپؐ سے یہ بھی روایت ہے: الرَّاشِي والْمُرْتَشِي فِي النَّارِ (کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال، حدیث: ۱۵۰۷۷، بروایت ابن عمروؓ)’’رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنم میںہیں‘‘۔ 

  • تحائف رشوت کی ایک صورت: اس لیے ہراس شخص کو جو آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور کسی دنیوی عہدے پر فائز ہو، اسے نہ صرف رشوت بلکہ تحفے تحائف کو قبول کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیوں کہ عموماً وہ کسی مقصد کے تحت ہی دیے جاتے ہیں اور انسان ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سرکاری ملازم کا اپنے فرض منصبی کی ادایگی کے دوران کسی صاحب ِمعاملہ سے تحفہ قبول کرنے کوسخت ناپسند کیاہے۔ 

آپؐ نے ایک شخص کو زکوٰۃ، جزیہ اور ٹیکس وغیرہ وصول کرنے کے لیے عامل مقرر کیا۔ اپنے کام پورے کرکے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹے تو عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ ! یہ مال آپؐ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ اس پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سخت نالاں ہوئے اور فرمایا: أَفَلَا قَعَدْتَّ فِي بَیْتِ أَبِیْکَ وَ أُمِّکَ، فَنَظَرْتَ أَیُھْدٰی لَکَ أَم لَا  ’’پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیںبیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمھیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں؟‘‘۔ آپؐ نے اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مسجد میںخطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد ان ہی باتوں کا مجلس عام میں اعادہ کیا اور لوگوں کو خیانت کے وبال سے خوف دلایا۔ (بخاری، کتاب الایمان و النذور، باب کَیْفَ کَانَتْ یَمِیْنُ النَّبِيِّ ، بروایت ابوحمید ساعدیؓ)

  • غلط مشورہ دینے کی ممانعت: خیانت کی ایک اور شکل ہے ادارہ یا محکمے کے سربراہ کو غلط مشورے دینا۔ ایک موقعے پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَلْمُسْتَشَارُ مُؤتَمَنٌ  (سنن ابن ماجہ، ابواب الادب، باب اَلْمُسْتَشَارُ مُؤتَمَنٌ، بروایت ابوہریرہؓ) ’’جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے ‘‘۔ گویا اسے امانت داری کالحاظ کرتے ہوئے صحیح اور مفید مشورہ دینا چاہیے۔ جس طرح امانت میں خیانت جائز نہیں، اسی طرح کسی کو غلط مشورہ دینا بھی جائز نہیں۔ 

اس حدیث پاک کا سیدھا اطلاق سرکاری محکموں اور غیر سرکاری تنظیموں کے مشاورتی بورڈوں (Advisory Boards) پر بھی ہوگا،یعنی وہ سب بھی امانت دار قرار پائیں گے۔ مثال کے طور پر کابینہ، پارلیمنٹ، پارلیمانی کمیٹی ، اسمبلی، دستور ساز کونسل، مجلس شوریٰ، یونی ورسٹیوں کی اکیڈمک کونسل ، سینیٹ اورسنڈیکیٹ کے ممبران اور اسی طرح مساجد، مدارس، اوقاف کی کمیٹیوں وغیرہ کے ارکان، یہ سب امانت دار ہیں اور ان سے ان کی امانتوں کے سلسلے میں پوچھا جائے گا۔ ان سب کو چاہیے کہ ذاتی مفاد سے اُوپر اُٹھ کر اپنے اپنے اداروں اور قوم و ملت کی فلاح کو پیش نظر رکھ کر اپنے سربراہان کو مشورے دیا کریں۔

  • نااہل افراد کی تعیناتی: خیانت کی ایک اور بھی شکل ہے؛ وہ ہے کام، منصب یا ذمہ داری کسی ایسے شخص کو سپرد کرنا جو اس کا اہل نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ پوچھا: یارسول ؐاللہ ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی ؟ (آپؐ نے ) فرمایا : ’’جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کردیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب رفع الامانۃ)

اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ ذمہ داری نااہلوں کے سپرد کرنا بھی خیانت ہے اور دورِ حاضر میں تو یہ ایک بڑا فتنہ ہے کہ حکومت کے اہم مناصب، یا تو تعلقات کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں، یا سیاسی ہم فکری کی بنیاد پر، یا کبھی اس میں اقربا پروری کو دخل ہوتا ہے تو کبھی رشوت ستانی کو۔ اس سلسلے میں ان افراد کے ساتھ ظلم ہوجاتا ہے جو حقیقتاً اس منصب کے اہل ہوتے ہیں اور نااہلوں کو منصب دیے جانے کے نتائج بد کو ایک عرصے تک پوری قوم بھگتتی ہے۔ 
اس لیے حاکم اعلیٰ کو چاہیے کہ اپنے دائرۂ اختیار میں لائق ترین افراد کو تلاش کرکے انتظامی اختیارات ان کے سپرد کرے اور ایسے افراد کو تو بالکل نہ سونپے جو عہدے کے حریص ہوں۔  رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں یہی تعلیم ملتی ہے۔ آپؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: لَنْ (أَوْ ) لَا  نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہُ  (بخاری، کتاب اسْتِتَابَۃِ الْمُرتَدِّیْنَ وَالْمُعَانِدِیْنَ وَقِتَالِھِمْ، باب حُکْمِ الْمُرْتَدِّ وَالْمُرْتَدَّۃِ ، بروایتِ ابوموسیٰ اشعریؓ )’’ہم ہرگز کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کریں گے جو عامل بننا چاہے‘‘۔ 
 صحیح ابن حبان کے الفاظ اس طرح ہیں: اِنَّا وَ اللّٰہِ لَا نُوَلِّي عَلٰی ھٰذَا الْعَمَلِ اَحَدًا سَاَلَہٗ، وَ لَا اَحَدًا حَرَصَ عَلَیْہِ  ’’اللہ کی قسم ! ہم اس کام کا نگراں کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کریں گے جو اسے مانگتا ہو، اور نہ کسی ایسے شخص ہی کو مقرر کریں گے جو اس کا لالچ کرتا ہو‘‘۔ (صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب فی الخلافۃ والامارۃ ، بروایت ابوموسیٰ اشعریؓ)۔

  • عہدہ و منصب طلب کرنے کا جواز: یہاں ایک مسئلے کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ بالا احادیث اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِعمل (یعنی عہدہ طلب کرنے والوں یا اس کی خواہش رکھنے والوں کو عہدہ نہ دینا ) سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا کوئی عہدہ خود طلب کرنا جائز ہی نہیں لیکن جمہوری نظام میں توبہت سے سرکاری مناصب (مختلف شعبوں کی ملازمت وغیرہ ) بغیر درخواست کے مل ہی نہیں سکتے، تو کیا ان سب سے دست بردار ہوجانا چاہیے ؟ ظاہر ہے کہ دست برداری کا موقف اختیار کرنا پوری قوم وملت کو سختی میں ڈالنے سے تعبیر کیا جائے گا۔ ہمیں اس سلسلے میں فقہا کے ان اصولوں کومدنظر رکھنا چاہیے، جو ان لوگوں نے سرکاری عہدے اور منصب کو طلب کرنے کے جواز کے سلسلے میں اختیار کیے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی سرکاری عہدے اور منصب کو طلب کرنا اس صورت میں جائزہے جب انسان یہ محسوس کرے کہ اس کے فرائض اور ذمہ داریوں کو صحیح طور سے انجام دینے والا کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہے، اور خود اپنے بارے میں اسے اندازہ ہو کہ وہ اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دے سکے گا اور اس کی نیت (جسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے) جاہ و مال کی نہ ہو بلکہ خلق اللہ کی صحیح خدمت اور انصاف کے ساتھ ان کے حقوق کی حفاظت کی ہو ۔ نیز اسے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی نہ ہو۔ فقہا نے اپنے اس موقف پر سورئہ یوسف کی آیت ۵۵ سے استدلال کیا ہے جس میں حضرت یوسفؑ کا بادشاۂ مصر سے امور خزانہ پر مامور کرنے کی درخواست کرنے کا ذکر ہے اور یہ راے قائم کی ہے کہ یوسفؑ کا عہدے کا طلب کرنا انھی بنیادوں پر تھا۔ (معارف القرآن از مفتی محمد شفیع ؒ، مکتبہ معارف القرآن، ج۵، ص۹۰-۹۱)

  • منصبِ قضا کا تقاضا:اسی طرح جو لوگ نظام قضا (Judiciary) یامنصب قضا (Post of Adjudicator) سے وابستہ ہوں، وہ بھی بدرجۂ اولیٰ امانت دار ہیں۔ ان پر یہ ذمہ داری عائد ہے کہ قوانین و شواہد کی روشنی میںسیاسی دباؤ اور ذاتی مفادات سے بلند ہوکر عدل و انصاف کو قائم کریں۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، جس پر ملک میں امن و سکون کے قیام کاانحصار ہے۔ اس میں خیانت کی وجہ سے انصاف سے محروم افراد قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوسکتے ہیں اورمختلف قسم کے فساد پھیلا کر ملک کا امن و سکون غارت کرسکتے ہیں جیساکہ موجودہ عالمی منظرنامہ عکاسی کررہا ہے۔ 

ظاہر ہے یہ اسلام کے ایک بنیادی مقصد، یعنی ’’دنیا کو زندگی گزارنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنانا‘‘ کے خلاف ہے۔ اس لیے اس میں خیانت اللہ اور اس کے رسول کو کیسے پسند ہوسکتی ہے؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دور میں اس ذمہ داری کو پورا کرنا ایک مشکل امر رہا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا بَیْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغیْرِ سِکِّیْنٍ  (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ، بروایت ابوہریرہؓ)’’جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا‘‘۔ بغیر چھری کے ذبح کرنے میں جانور کو تکلیف اورمشقت چھری سے ذبح کرنے کے مقابلے میں یقیناً زیادہ ہوگی۔ 
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جسے قاضی بنایا گیا اسے انتہائی مشقت اور آزمایش میں ڈال دیا گیا۔ آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی۔ رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہوگا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا وہ جہنمی ہے۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فِي الْقَاضِي یُخْطِیُٔ، بروایت ابوہریرہؓ)۔ 
اس کے بالمقابل حکمت اور حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والے قاضی کی آپؐ نے تعریف بھی کی۔ 
ارشاد فرمایا: لَا حَسَدَ اِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ: رَجَلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہِ فِي الْحَقِّ وَآخَرُ آتَاہُ اللّٰہُ حِکْمَۃً فَھُوَ یَقْضِي بِھَا وَ یُعَلِّمُھَا (بخاری، کتاب الاحکام ، باب أَجْرِ مَنْ قَضَی بِالْحِکْمَۃِ ، بروایت عبد اللہ بن مسعودؓ)’’رشک بس دو آدمیوں پر ہی کیا جانا چاہیے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا پھر اس نے اسے حق کے راستے میں خرچ کیا، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت (قرآن ، حدیث و فقہ کا علم) عطا کی اور وہ اس کے موافق فیصلے کرتا ہے اور اس کی لوگوں کو تعلیم دیتا ہے‘‘۔ 
ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے ان کے تعلق سے فرمایا: الْمُقْسِطُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی مَنَابِرٍ مِّنْ نُورٍ عَنْ یَّمِیْنِ الرَّحْمٰنِ، وَ کِلْتَا یَدَیْہِ یَمِیْنٌ، الْمُقْسِطُونَ عَلٰی اَہْلِیْھِمْ وَاَوْلَادَھُمْ وَ مَا وَلُّوا (صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب فِی الخلافۃ والامارۃ، ذِکْرُ وَصْفِ الْاَئِمَّۃِ  فِي  الْقِیَامَۃِ   اِذَا کَانُوا عُدُولًا فِی الدُّنْیَا، بروایت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ) ’’(دنیا میں ) انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن رحمان کے دائیں طرف نور کے ممبروں پر ہوں گے حالانکہ اس (رحمٰن) کے دونوں طرف دائیں ہیں، وہ لوگ جو اپنی بیویوں کے ساتھ اور اپنی اولاد کے ساتھ اور جس معاملے کے وہ نگراں بنتے ہیں اس کے ساتھ انصاف سے کام لیتے ہیں‘‘۔ 
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ جن سات قسم کے لوگوں کو اللہ پاک قیامت کے دن عرش کے سایے میں جگہ دیں گے ان میں ایک عادل حکمران بھی ہوگا۔ (صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب ذِکْرُ اِظْلَالِ اللّٰہِ جَلَّ وَ عَلَا الْاِمَامَ الْعَادِلَ فِیْ ظِلِّہِ یَومَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ، بروایت ابوہریرہؓ)

  • خلاصۂ کلام: آخرت میںصرف وہ لوگ سرخرو ہوں گے، جنھوں نے دنیا میں اپنے منصب اور عہدوں کو امانت سمجھ کر اس کی ذمہ داریوں کوعدل و احسان کے ساتھ انجام دیا ہوگا جو کہ آسان کام نہیں ہے، اور جس نے اپنی ذمہ داریوں میں خیانت کی ہوگی وہ وہاں رسوا اور ذلیل کیا جائے گا اور جہنم اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ اس لیے اوّل تو ہمیں جاہ طلبی کے مرض سے ہی چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے کہ اکثر اوقات یہ دنیا میں بھی آزمایش اور رسوائی کا سبب ہوجاتا ہے جیساکہ آج کل عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے اور آخرت کا معاملہ تو فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی صورت میں اور بھی سنگین ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے صحابی عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کو ان الفاظ میں نصیحت فرمائی: یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَۃَ، لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ، فَاِنَّکَ اِنْ أُعْطِیتَھَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وَ اِنْ أُعْطِیتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْھَا (بخاری، کتاب الاحکام، باب  مَنْ سَأَلَ الْاِمَارَۃَ    وُکِلِ    اِلَیْھَا، بروایت عبد الرحمٰن بن سمرہؓ) ’’اے عبد الرحمٰن بن سمرہ! کبھی امارت (حکومت کے کسی عہدے) کی درخواست نہ کرنا، کیوں کہ اگر تمھیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو تم اسی کے حوالے کردیے جاؤگے (اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھالے گا کہ تو جانے تیرا کام جانے)۔ اور اگر وہ عہدہ تمھیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں (اللہ کی طرف سے ) تمھاری اعانت کی جائے گی‘‘۔ 
اس حدیث میں ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ عہدہ طلب کرنے پر اللہ کی طرف سے مدد بھی اُٹھ جاتی ہے اورا نسان آزمایش میں ڈال دیا جاتا ہے اور اگر عہدہ بغیر طلب کیے ملتا ہے تو اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو خود عہدہ طلب کرنے سے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے اور جب حکومتی یا ملی سطح سے کسی منصب کی پیش کش کی جائے تو اپنی صلاحیت اور حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ اس کی ذمہ داریوں کو ہم کماحقہٗ ا دا کرسکیں گے یا نہیں۔ اگر نہیںتو ہمیں وہ منصب قبول ہی نہیںکرنا چاہیے، تاکہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہ سکیں، اور اگر قبول کریں تو عہدے کو امانت سمجھ کر اس کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ بروزِ حساب کہیں ہم ان لوگوں میں نہ شامل ہوں، جن کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں پیش گوئی کی ہے: 
وَیْلٌ لِلْاُمَرَائِ، لَیَتَمَنَّیَنَّ اَقْوَامٌ اَنَّھُمْ کَانُوا مُعَلَّقِیْنَ بِذَوَائِبِھِمْ بِالثُّرَیَّا، وَ اَنَّھُمْ لَمْ یَکُوْنُوا وُلُّوْا شَیْئًا قَــطُّ(صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب  فی الخلافۃ  دارالامارۃ، ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَتَمَنَّی ائُ الْأُمْرَاءُ  اَنَّھُمْ مَا وَلَّوْا مِمَّا وُلُّوْا شَیْئًا  ، بروایت ابوہریرہؓ) ’’ سرکاری   اہل کاروں کے لیے خرابی ہے۔ عنقریب کچھ لوگ اس بات کی آرزو کریں گے کہ انھیں ان کے بالوں کے ساتھ اوج ثریا پر لٹکا دیا جاتا، لیکن انھیں کسی چیز (حکومتی عہدے) کا اہل کار مقرر نہ کیا جاتا‘‘۔ 
اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس سیہ کار کی لغزشوں کو بھی معاف فرمائے اور اپنی منشا کے مطابق بقیہ زندگی گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ نیز امت کے اندر امانت داری کے مٹتے ہوئے احساس کو بیدار فرمائے۔ آمین! 

میں فروری ۱۹۴۶ءمیں قاہرہ کے دورے پر تھا۔ مجھے خیال آیا کہ اس شخص سے ملاقات کی جائے جس کے چاہنے والوں کی تعداد ۵لاکھ سے زیادہ ہے۔ میں نے اس ملاقات کے تعلق سے نیویارک کرونیکل میں لکھا تھا : ’’اس ہفتے میں نے ایک ایسے شخص سے ملاقات کی، جو شاید موجودہ تاریخ کے نمایاں ترین افراد میں شمار کیا جائے گا، یا پھر اگر حالات و حوادث اس کے مقابلے میں خود کو بڑا ثابت کر دیتے ہیں تو شاید وہ پردۂ خفا میں چلا جائے گا۔ یہ شخص اخوان کا لیڈر وقائد  حسن البنا ہے‘‘۔
یہ بات میں نے پانچ سال قبل لکھی تھی اور واقعات نے میری اس راے کو درست بھی ثابت کر دیا، جو میں نے اس شخص کے بارے میں اختیار کی تھی۔ وہ شخص جلد ہی دنیا سے چلا گیا۔  اس وقت مشرق، مغرب کے سامراجی آقائوں سے نجات کے موڈ میں تھا۔میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ مشرق کو ایک ایسے مصلح کی ضرورت ہے، جو اس کی صفوں میں اتحاد پیدا کردے، اوراسے اس کا وجود لوٹا دے۔البتہ جس وقت مشرق اس خواہش میں جی رہا تھا، جس کے پورے ہونے میں چند قدم یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا، تو بالکل غیر متوقع طور پر اور عجیب انداز میں اس شخص کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔ مشرق کے اندر یہ قدرت نہیں ہے کہ کوئی ہیرا اس کے ہاتھ لگ جائے تو اس کو زیادہ مدت تک سنبھال کر رکھ سکے۔ قاہرہ کے سفر کے دوران بعض مصری لیڈروں اور جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اس شخص کی منفرد اور بے مثال صورت نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔

ایک مسحور کُن شخصیت

اس کی شخصیت جاذبِ نظر تھی۔ وہ جامع گفتگو کرتا تھا، حالانکہ اس کو عربی کے علاوہ کوئی غیرملکی زبان نہیں آتی تھی۔ اس سے محبت کرنے اور وابستگی رکھنے والے جو افراد میرے اور اس کے درمیان ترجمانی کا کام کر رہے تھے، مجھے اخوان المسلمون کے دعوتی مقاصد و اہداف سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ بہت دیر تک مجھ سے بات کر تے رہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ مجھے مطمئن نہیں کر پائے۔یہ شخص خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ اس کو میرے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس ہوئے۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’اس سے ایک بات پوچھو ۔ کیا تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ پڑھ رکھا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہاں‘‘۔ اس نے پوچھا: ’’کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ انھوں نے کس چیز کی طرف دعوت دی تھی اور انھوں نے کیا کام کیا ؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہاں‘‘۔ اس نے کہا: ’’بس وہی ہم بھی چاہتے ہیں‘‘۔یہ چند ایسے جادوئی الفاظ تھے کہ انھوں نےاس کے ساتھیوں کی طویل گفتگو سے مجھے بےنیاز کر دیا۔
اس شخص کے سادہ طرزِ زندگی ، معمول کے پہناوے، انتہادرجے کی خود اعتمادی اور اپنے فکر و نظریے پر عجیب قسم کے ایمان و یقین نے میری نظروں کو اس کی جانب ملتفت (attentive) کر دیا تھا۔مجھے یہ امید تھی کہ وہ دن ضرور آئے گا، جب عوامی لیڈرشپ پر یہ شخص غالب آ جائے گا، مصر کی حد تک ہی نہیں، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں۔

اس شخص کی حیات و تاریخ اور اہداف و مقاصد سے متعلق کافی حد تک رپورٹیں حاصل کرنے کے بعد میں مصر سے چلا آیا۔ میں نے ان تمام رپورٹوں کو پڑھا اور پڑھ کر اس کے اور محمدبن عبدالوہاب [م:۱۷۹۲ء]، محمد ابن علی السنوسی [م:۱۸۵۹ء] ، محمد احمد المہدی[م:۱۸۸۵ء]، جمال الدین افغانی [م:۱۸۹۷ء] اور محمد عبدہٗ [م:۱۹۰۵ء] کے درمیان موازنہ کیا۔اس تحقیق سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ حسن البنا نے ان تمام بزرگوں کے تجربات سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی اچھی باتوں کو اخذ کر لیا ہے، اور وہ اس لائق ہو گیا ہے کہ جو غلطیاں ان بزرگوں سے ہوئی ہیں، ان کا ازالہ کرسکے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس نے دو طریقۂ کار کو یک جا کر دیا ہے۔ ایک طریقۂ کار وہ ہے جس کو جمال الدین افغانیؒ نے اختیار کیا تھا، اور دوسرا وہ جسے محمد عبدہٗ نے اختیار کیا تھا۔
جمال الدین افغانی، حکومت کے ذریعے اصلاح کا نظریہ رکھتے تھے اور محمد عبدہٗ یہی کام تربیت کے راستے سے کرنا چاہتے تھے۔حسن البنا نے ان دونوں وسائل کوبآسانی ایک ساتھ جمع کردیا تھا۔اسی طرح اس نے وہ نتائج حاصل کر لیے تھے، جن تک یہ دونوں بزرگ نہیں پہنچ پائے تھے۔ حسن البنا نے مختلف طبقات اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے چنیدہ تعلیم یافتہ افراد کو ایک پلیٹ فارم اور ایک متعینہ ہدف پر جمع کر لیا تھا۔
 امریکا سے واپس آنے کے بعد میں نے اس شخص کے اقدامات کا گہری نظر سے مطالعہ اور مشاہدہ شروع کردیا۔ پھر میں اس سلسلے میں بھی دل چسپی لے رہا تھا کہ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً کس طرح شکوک و شبہات پیدا کیے جانے لگے ہیں۔ جس کا نتیجہ اس کے رفقا کی گرفتاریوں کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جس سے اس کے ساتھیوں کو گزرنا ہی تھا۔ پھر اپنے مشن کو پورا کرنے سے پہلے ہی اسے شہید بھی کر دیا گیا۔ 
باوجود اس کے کہ میں ابھی تک یہی سن رہا تھا کہ ’’یہ شخص قاہرہ میں کوئی بڑا کام نہیں کر پایا ہے‘‘ اور ’’ابھی اس کا کام اس سے آگے نہیں بڑھا ہے کہ اس نے نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنے گرد جمع کر لی ہے‘‘۔ تاہم، جنگ فلسطین، جنگ آزادی اور آخر میں جنگ نہر سوئز نے یہ واضح طور پر ثابت کردیا تھا کہ اس شخص نے ایسے غیر معمولی کارنامے انجام دے دیے ہیں، جن کی مثال اسلامی دعوت کی تاریخ کے دورِ اوّل کے علاوہ کہیں اور کم ہی ملے گی۔یہاں میرے لیے جو کچھ کہنا ممکن ہے وہ یہ کہ اس شخص نے خود کو مال ، زن اور جاہ و حشمت کے فتنے سے بچا کر رکھا تھا۔ یہ تینوںپُرکشش چیزیں وہ ہیں، جنھیں استعماری طاقتوں نے جہاد کی راہ میں جان دینے والوں پر کمال ہوشیاری سے مسلط کر دیا تھا۔ لیکن اس شخص کو گمراہ کرنے کے لیے کی جانے والی ایسی تمام کوششیں رائیگاں رہیں۔
اس سلسلے میں اس کا سچا خلوص اور فطری زہد اس کے کام آیا۔ اس نے کم عمری میں شادی کر لی۔ فقر کی زندگی گزاری اور اپنی جاہ و حشمت کو اس اعتماد میں تلاش کیا، جو اسے اپنے گرد جمع ہونے والے لوگوں سے ملا تھا۔ اس طرح اس نے اپنی مختصر،لیکن کھلی زندگی جھوٹی شہرت اور سستے عیش و آرام کے میدانوں سے دور رہ کر گزار دی۔وہ بڑے صبر کے ساتھ نادیدہ حادثوں کا منتظر رہتا تھا۔ سکون کے ساتھ ان حادثات اور آزمایشوں کا بہادری اور حکمت سے سامنا کرتا تھا۔ ان کے سلسلے سے جو بھی وابستہ ہوتا تھا، وہ ہمت اور جرأت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا تھا۔
قدرت کو یہ منظور ہوا کہ اس کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات مشرق وسطیٰ کے دو عظیم حادثوں سے مربوط ہو جائے۔ چنانچہ اس کی پیدایش ۱۹۰۶ء میں ہوئی۔ یہ وہ سال ہے جس میں ’حادثۂ دنشوائی‘{ FR 709 }پیش آیاتھا۔اور وفات ۱۹۴۹ ء میں ہوئی۔ یہ وہ سال تھا جس سال اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ۱۹۴۸ء میں اس ریاست کا نقشہ تیار ہوا تھا، لیکن واقعاتی دنیا میں اس کا ظہور ۱۹۴۹ء میں ہوا تھا۔
اپنے دشمنوں اور ساتھیوں، دونوں ہی کے معاملے میں یہ شخص عجیب تھا۔ وہ اپنے دشمنوںسے اتنا اُلجھتا اور جھگڑتا نہیں تھا، جتنا انھیں مطمئن کرنے اور اپنی صف میں شامل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔اس کا خیال یہ تھا کہ دو گروہوں کے درمیان کش مکش، کبھی اُمید افزا نتائج کی حامل نہیں ہوا کرتی۔ نظریاتی مخاصمت پر اس کا یقین تھا ، لیکن اس میں ذاتی مخاصمت کو وہ داخل نہیں کرتا تھا۔    اس احتیاط پسندی اور دریا دلی کے باوجود وہ اپنے معاصرین اور دشمنوں کی ایذا سے محفوظ نہیں رہا۔ مخالف سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف شدید جنگ کا اعلان کر رکھا تھا۔یہ شخص عمر اور علی(؆)  کے نقش قدم کا پیرو تھا۔وہ اسی قسم کے ماحول میں کش مکش سے دوچار تھا، جیسے ماحول میں حضرت حسینؓ کو کش مکش کا سامنا تھا۔اسی لیے وہ بھی ان تینوں کی طرح شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہوا۔
میں نے اس کے بہت سے دشمنوں کو سن رکھا تھا۔ یہ ایک فطری بات ہے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ ایک ایسے شخص کے سلسلے میں لوگوں کی رائیں مختلف ہوں، جو اپنی جادوبیانی اور شیریں گفتاری سے لوگوں کے جم غفیر کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جو جماعتوں، پارٹیوں ، صوفیوں کے ٹولوں، قہوہ خانوں اور لہو و لعب کی محفلوں سے نکل کر اس کے پاس آئے تھے۔ ایسا تو ضرور ہونا تھا کہ یہ شخص ان لوگوں کے لیے وجۂ نفرت بن جائے، جنھیں اس چیز نے حیرت میں مبتلا کر دیا تھا کہ معمولی سماجی و معاشی پس منظر کا حامل ایک شخص اپنے پاس ایسے نیکوکار اور جاں باز نوجوانوں کو اکٹھا کرنے میں کس طرح کامیاب ہو گیا ہے؟
جن چیزوں نے مجھے اس کی جانب متوجہ کیا، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس نے (حضرت) عمرؓ کی ایک نمایاں ترین خصوصیت اپنا رکھی تھی۔ وہ یہ کہ اہل خانہ کو کارِدعوت کے مادی فائدوںسے دور رکھا جائے۔ چنانچہ عبدالرحمان، محمد اور عبدالباسط ، جو کہ اس کے بھائی تھے،   پارٹی کے بڑے بڑے مناصب سے دور ہی رہے۔ بلکہ اکثر وہ ان کا محاسبہ اسی طرح کیا کرتا تھا، جس طرح عمر[؄] اپنے اہل خانہ کا محاسبہ کیا کرتے تھے اور اگر ان سے کوتاہی ہوجاتی تو ان کی سزا دوسروں سے زیادہ ہی رکھتے تھے۔
مجھے اس کے والد محترم شیخ عبدالرحمن البنا [م:۱۹۵۷ء] سے ملاقات کا موقع بھی ملا تھا اور انھیں بعض اخوانیوں سے باتیں کرتے بھی سنا تھا۔ ان کی خواہش اور آرزو یہ تھی کہ ’’میرا بیٹا، اسلام کے سلسلے میں صرف کتابیں تصنیف کرنے پر اکتفا کرتا‘‘۔ لیکن حسن البنا یہ جواب دیا کرتے کہ ’’مجھے اس بات پر شرح صدر حاصل ہے کہ اسلام کا کام افراد کی تصنیف سے ہی ہو سکتا ہے‘‘۔

حسن البنا __افکار کی نشو ونما

قاہرہ کے قلب میں واقع تنگ و تاریک گلیوں، محلہ حارۃ الروم، اسلحہ بازار، نافع لین اور محلہ شماشرجی کے اندر اس شخص نے کام کا آغاز کیااورکچھ لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے۔ حسن البنا پہلے داعی تھے، جنھوں نے مشرق میں ایک مکمل سوچا سمجھا پروگرام پیش کیا تھا، جو اس سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیا تھا، نہ جمال الدین افغانی نے ،نہ محمد عبدہٗ نے اور نہ اس وقت کی جماعتوں اور تنظیموں کے ان سربراہوں نے ہی یہ کام انجام دیا تھا،جن کا نام پہلی عالمی جنگ [۱۸-۱۹۱۴ء]کے بعد خوب روشن ہوا۔ اپنے وسیع مطالعے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس شخص کی زندگی اور جو کچھ اقدامات وہ کر رہا تھا، وہ ان اصول و مبادی کی سچی اور عملی تصویر تھی جن کی طرف وہ بلا رہا تھا: ’اسلام‘___  جیساکہ اس نے سمجھا تھا اور جس کی طرف وہ دعوت دے رہا تھا۔ اللہ نے اسے ایک ایسا روشن لباس عطا کر دیا تھا، جس کی خوب صورتی کا اثر لوگوں کے دلوں پر زبردست اثر ہوتا تھا۔ یہ لباس نہ تو اس زمانے کے سیاسی لیڈروں کو حاصل تھا اور نہ اس کی ہم عصر مذہبی شخصیات کو ہی عطا ہوا تھا۔
وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا، جو کامیابی کو معمولی قیمت کے بدلے بیچ کھاتے ہیں۔ اس نے مقصد تک پہنچنے کے لیے سیاست دانوں کی طرح سفارش اور ثالثی کو جائز نہیں قرار دیا۔ اسی لیے اس کا راستہ کانٹوں سے بھرا ہوا تھا۔اس کو جو دشواریاں پیش آئیں، ان کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک ایسی نہر سے گزر رہا تھا، جس کے راستے میں پتھر اور چٹانیں حائل تھیں۔اسی چیز نے اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے افراد کو اخلاقی بلندی کے لیے تیار کرے، زمانے کی ترغیبات پر غالب آنے اوران شہوات و خواہشات سے خود کو بلند کرلینے پر مجبور کرے، جو نجات کی کشتی کو اپنی دلدل میں پھنسا لیتی ہیں اور ساحل تک پہنچنے کا راستہ بند کر دیتی ہیں۔
وہ ایک مثالی اور بہترین حل تک پہنچنا چاہتا تھا، خواہ اس کے لیے کتنا ہی طویل راستہ اختیار کرنا پڑے۔اسی لیے اس نے سودے بازی کی ہر پیش کش کو مسترد کر دیا۔ اپنے پروگرام سے فوری حل (hurriedly) کے انتخاب (option)کو خارج کر دیا ۔ اس کا اصرار ہمیشہ اس بات پر رہا کہ اسلام کے اندر آزادی، وطنیت اور سیادت و رہنمائی کے معاملے میں جزکاری اور رفوگری کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ یہی وہ چیز تھی، جو اس کے لیے پریشانیوں اور اذیتوں کا سبب بنی۔اس کے گرد جو افراد جمع ہوئے تھے، ان میں سے بعض افراد کو اس راہ کے انجام نے ڈرا دیا تھا۔ ان کے اعصاب و قویٰ اس بلندلہر کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لاسکے اور بیچ راستے سے ہی جواب دے گئے۔
وہ واقعیت پر یقین رکھتا تھا اور چیزوں کو اوہام و خرافات سے مبرا کرکے، ان کی حقیقت کے مطابق ہی سمجھتا تھا۔ ملاقات کیجیے تو انتہائی درجے پرسکون نظر آتا تھا، حالانکہ اس کے دل میں ہانڈی کی طرح ابال او ردل میں ایک شعلہ دہک رہا ہوتا تھا۔اپنے وطن کے سلسلے میں یہ شخص بہت غیرت مند تھا۔جب وہ یہ سنتا کہ وطن کے کسی حصے کو نقصان یا چوٹ پہنچی ہے تو وہ غصے سے دہکنے لگتا تھا، لیکن اپنے غصے کو بعض لیڈروں کی طرح باتوں اور چیخ پکار کے ذریعے اڑا نہیں دیتا تھا اور نہ اپنی زبان سے فضول قسم کی باتیں نکالتا تھا، بلکہ غصے کی اس زبردست طاقت کا رخ، تعمیر و عمل اور اس دن کی تیاری کی طرف موڑ دیتا تھا، جس دن عوام کی آرزوئیں برآئیں گی۔
حسن البنا کی سوچ میں لچک تھی، فکر میں حریت تھی، اس کی روح روشن و تابناک تھی اور اس کی گہرائیوں میں ایمان کی غالب و مضبوط قوت اُتری ہوئی تھی۔ اس کے اندر انکسار تھا، ایسے شخص کا انکسار جسے اپنی حد معلوم ہو۔اس کی نظر پاکیزہ تھی، اس کی زبان پاکیزہ تھی اور اس کا قلم بھی پاکیزہ تھا۔ جذباتی، الزامی اور کاٹ دار زبان استعمال کرنے والوں کے طریقے سے وہ خود کو دُور رکھتا تھا، بہت دُور!
اس کا سیاسی مسلک یہ تھا کہ ’’سیاست کے اندر جس اخلاقی عنصر کو یہ کہہ کر نکال دیا گیا ہے کہ سیاست اور اخلاق ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، اسے سیاست میں واپس لایا جائے‘‘۔ وہ فرانسیسی مدبر چارلس ٹالیرانڈ [م:۱۸۳۸ء] کے اس قول کو غلط ثابت کرنا چاہتا تھا کہ ’’زبان کا استعمال صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی آرا کو مخفی رکھ سکیں‘‘۔ وہ اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ سیاست داں اپنے سامعین یا اپنے وابستگان یا اپنی قوم کو گمراہ کریں ۔ وہ عوام کو، اور ایک عام انسان کو سیاست کی دھوکے بازیوں اور پارٹیوں کی گمراہیوں سے ہٹاکر بلندی پر لے جانا چاہتا تھا۔
منگل کا دن دیکھنے کے لائق ہوا کرتا تھا۔ اس دن قاہرہ کے مختلف حصوں سے تقریباً سیکڑوں آدمی اس شخص کو سننے کے لیے اکٹھا ہوا کرتے تھے۔ سفید جلباب، سفید عبا اور خوب صورت عمامے کے ساتھ یہ شخص ڈائس پر جلوہ نما ہوتا اور ایک نظر حاضرین پر ڈالتا، جب کہ حاضرین منظم اور بلندآہنگ نعروں کی جھل تھل لیے اُس کے سامنے ہمہ تن گوش ہوجاتے۔
اس کی خطابت آپ کو اتنا حیرت میں نہیں ڈالے گی، جتنے حیران کن ان سوالوں کے جواب ہوا کرتے تھے، جو اس کی شخصیت، اس کی زندگی اور اس کے اہل خانہ سے متعلق کیے جاتے تھے۔جب اس نے سرکاری ملازمت ترک کردی اور ایک بھاری بھرکم اخبار کا عہدۂ ادارت قبول کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ اس کی تنخواہ سو (مصری) جنیہ{ FR 710 } تھی، تو اس سے کسی نے سوال کیا کہ ’’آپ کیا کھاتے ہیں؟‘‘ اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا : ’’محمدؐ ،خدیجہ کے مال میں سے کھاتے تھے اور میں ’خدیجہ[؅] کے بھائی‘ کے مال میں سے کھاتا ہوں‘‘۔ یعنی برادر نسبتی کے مال میں سے کھاتا ہوں۔
اس شخص کی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ صبر و ثبات کے ساتھ پورے مصر کاسفر کیا کرتا تھا۔ ان اسفار کا آغاز صرف گرمی کےایام میں ہی ہوا کرتا تھا،یعنی جس وقت بالائی مصر کے علاقے گرمی سے کھول رہے ہوتے تھے۔مصر کے اندرونی علاقوں میں یہ شخص ٹرین، بسوں، خچروں،اُونٹوں، کشتیوں کے ذریعے اورکبھی پیدل پہنچا کرتا تھا۔
اس وقت اس کے اندر انتہائی درجے کی مضبوطی اور مزاج کا اعتدال نظر آتا تھا۔ نہ تو چلچلاتی دھوپ اس پر اثرانداز ہوتی تھی ، نہ سفر کی تکان کا ہی اس پر کوئی اثر ہوتا تھا، اور نہ ان چیزوں سے اسے کوئی تنگی یا پریشانی ہوتی تھی۔چلتا تو تیر کی طرح سیدھانظر آتا تھا۔ جو لوگ اس کے ارد گرد ہوتے تھے، راستے میں ان سے باتیں بھی کرتا اور ان کی سنتا بھی تھا اور فیصلے بھی لیتا تھا۔ پندرہ برس کے عرصے میں ان اسفار نے اس کی مدد کی۔ اس عرصے میں اس نے دو ہزار سے زیادہ گائوں کا سفر کیا اور ہرگائوں میں ایک سے زائد مرتبہ گیا۔ہر گائوں سے متعلق ماضی قریب و بعید کی تاریخ ، گائوں کے خاندان ، گھرانوں، وہاں پیش آنے والے واقعات و حوادث کی معلومات کا ذخیرہ اس کی یادداشت میں محفوظ رہتا تھا۔وہاں کا سیاسی رنگ کیا ہے؟ اس کے اثرات گائوں اور ملک پر کس قسم کے ہیں؟ لوگ اس صورت حال سے خوش ہیں یا متنفر ہیں؟ ان سب کا علم اس کے پاس ہوتا تھا۔ ملکوں، افراد، جماعتوں، پارٹیوں، اداروں اور گروہوں کے درمیان جو اختلافات اور تکلیف دہ امور پائے جاتے ہیں، اسے ان کا بھی علم ہوتا تھا۔
اگر آپ مثال کے طور پر اس سے کہیں کہ فلاں’حسینی‘، یا فلاں ’حدیدی‘ یا فلاں ’حمصانی‘ تو وہ آپ سے کہے گا کہ اس نام کے افراد پانچ یا چار خاندانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ایک قاہرہ میں ہے، دوسرا: دمنہور (مصر کا ایک شہر) میں ہے، تیسرا:’ الزقازیق‘ میں ہے ، چوتھا :اِن میں سے تمھاری مُراد کس سے ہے؟
یکے بعد دیگرے اسفار کا یہ سلسلہ مسلسل کئی برسوں تک چلتا تھا۔ ان اسفار کی وجہ سے لوگوں کے بارے میں اس کی ایک راے بن چکی تھی۔ مصر کا کوئی ایسا گائوں مشکل سے ہی ہوگا، جس کے نوجوان، معززین، وزرا، پارٹی اور جماعتوں کے افراد، مذہبی شخصیات اور صوفیہ کو وہ نہ جانتا ہو۔ اور ایسا کم ہی ہوتا کہ وہ ان سے گفتگو نہ کر چکا ہو ، ان کی باتیں نہ سن چکا ہو، ان کی اُمیدوں اور خواہشات سے واقف نہ ہو چکا ہو۔ ان اسفار کے دوران یہ شخص آپ کو انتہائی درجے کی سادگی کے ساتھ نظر آئے گا۔ جھونپڑیوںمیں سو جائے گا، چبوترے پر ہی بیٹھ جائے گا اور جو بھی روکھا پھیکا پیش کیا جائے گا، خوشی سے کھا لے گا۔ایک چیز کے علاوہ اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی تھی اور وہ یہ کہ: لوگ اسے کوئی شیخ طریقت یا ان لوگوں میں سے نہ سمجھنے لگیں جو دنیاوی منفعت کے خواہاں رہتے ہیں۔
اس نے مجھے بتایا کہ وہ کبھی کسی ایسے شہر میں جاتا، جہاں وہ کسی کو نہ جانتا ہو، تو مسجد کا رخ کرتا۔ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتا اور پھر نماز کے بعد اسلام کے بارے میںبات کرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جب لوگ اس کے پاس سے چلے جاتے تو مسجد کی چٹائی پرلیٹ جاتا، اپنے تھیلے کو سر کے نیچے  رکھ لیتا اور خود کو اپنے گائون میں لپیٹ کر سو رہتا۔
بلاشبہہ اس سخت جدوجہد نے اسے دسیوں ہزار لوگوں سے ملاقات کا موقع فراہم کیا تھا، جن میں دشمن بھی تھے، دوست و مددگار بھی، بوڑھے بھی تھے اور جوان بھی، تعلیم یافتہ لوگ بھی تھے اور ان پڑھ عوام بھی۔وہ ان تمام لوگوں کی باتیں بڑے غور سے سنتا تھا اور انھیں اپنی بات مختصر سے مختصر الفاظ میں لیکن واضح مفہوم سے بتاتا تھا۔اس نے ان لوگوں سے وسیع و عریض تجربات حاصل کیے تھے، جنھیں اس نے اپنے عمل و تہذیب کا حصہ بنا لیا تھا۔ میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں: ’’حسن البنا وہ شخص تھا جس کی کوئی مثال اس زمانے میں نہیں ہے۔ وہ مصر کی تاریخ میں اس طرح ایک بار آگر گزر گیا جس طرح ایک عارضی قوس قزح افق پر آ کر گزر جاتی ہے‘‘۔ 

عبقری شخصیت

جس شخص نے تاریخ بنائی ہو اور راہ کا دھارا بدل ڈالا ہو، اس کے لیے تو لازم تھا کہ اسے شہادت کی موت نصیب ہو، بالکل اسی طرح جس طرح عمر، علی اور حسین(رضی اللہ عنہم) کو نصیب ہوئی تھی، کیوں کہ یہ شخص انھی کے نقش قدم پر چلتا تھا۔وہ عنفوان شباب میں ہی دنیا سے رخصت ہوگیا تھا۔ عمر کا یہ وہ مرحلہ ہے جس میں بڑے بڑے اکابر اور اصحاب فکر و فن نے وفات پائی ہے۔ اس نے اپنی زندگی اس طرح گزاری کہ اس کی زندگی روشن و تابناک بنی ہوئی تھی۔
وہ تمام وسائل جو اسے ورغلانے میں لگے ہوئے تھے، وہ اسے فکر کی شفافیت اور سلامتی کے ہدف سے ہٹانے میں ناکام رہ گئےتو وہ اپنی زندگی کا ہرلمحہ مومنانہ شان سے جیا۔ اس نے نہ اپنا سر جھکنے دیا، نہ پسپا ہوا اور نہ حوصلہ شکن اور پرخطر حالات کے سامنے پس و پیش میں مبتلا ہوا۔بعض لوگوں کی آنکھوں میں یہ شخص چبھتا تھا ، لیکن بہت سے لوگوں نے اس کی اس قوت سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی، جس پر اسے قدرت حاصل تھی۔اس نے لوگوں سے کہا کہ : ’’میرے رفقا و احباب میں سے کسی کے ہاتھ کی لاٹھی اور گولی نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف اللہ کے ہیں‘‘۔ بعض لوگوں نے اسے اپنی طرف ملانے کی کوشش کی یا اس کی بساط لپیٹ دینے کی کوشش کی۔ لیکن وہ شخص ایسی چیزوں کے مقابلے میں مضبوط چٹان تھا۔اس سے بات کرنے والے کے سامنے اس کی سادگی کا جوپہلو سامنے آتا تھا، اس سادگی کے باوجود وہ اس قدر زیرک تھا کہ اس سے ملنے یا بات کرنے کے بعد یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس کے گرویدہ اور معترف بننے سے بچ جائے اور اس فکر و نظریے پر ایمان نہ لے آئے، جس کی طرف وہ لوگوں کو بلا رہا تھا۔
وہ صرف اسی شخص کے بالمقابل آتا تھا جو اس کے راستے میں حائل ہو رہا ہو۔ جو اپنی دشمنی و مخالفت کو ظاہر نہیں کرتا تھا اس سے وہ بھی عفو درگذرسے کام لیتا تھا۔کسی معاہدے کے خلاف اس وقت تک نہیں کھڑا ہوتا تھا جب تک وہ اس کی دعوت کے فطری پھیلائو میں رکاوٹ نہ بن رہا ہو۔  وہ اپنی قوت کو وطن کی خاطر جمع کر کے رکھتا تھا۔اپنی ذات اور اپنی دعوت کو اس بات سے بلند رکھتا تھا کہ وہ داخلی کش مکش کا ذیعہ بنے۔بعض لوگوں نے اس بات کو اس شخص کی کمزوری، نرمی اور موقع شناسی سمجھ لیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ شخص اپنے مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے جانب داری پر مبنی کش مکش کو پسند نہیں کرتا ہے اور نہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو منقسم کرنا چاہتا ہے،بلکہ وہ توکمالیت (perfection) اور پختگی کی بنیاد پر ایک مرحلے سے ترقی کرکے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونا چاہتا تھا۔ یہ چیز اُن دشمنانِ وطن کے لیے پریشان کن ہوتی تھی، جو ذاتی خواہشات سے بلند ہوکر کی جانے والی اور ذاتی اغراض و مفادات سے پاک ہو۔معاملات کو دانش مندی کے ساتھ انگیز کرتے ہوئے اور خوش مزاجی کے ساتھ حادثات و مصائب کا سامنا کرتے ہوئے، اپنے اعصاب کو قابو میںرکھنے پر اسے بلا کی قدرت حاصل تھی۔
ان تمام چیزوں کے علاوہ اس کی زندگی انتہائی اعتدال پر قائم تھی۔ اس کی زندگی کی گزربسر اس محدود تنخواہ پر تھی، جو دورانِ تدریس ملنے والی تنخواہ سے زیادہ نہیں تھی، حالانکہ اس کے پرستاروں کی جانب سے پیش کی جانی والی دولت کا اس کے سامنے انبار لگا رہتا تھا، اور اس کے پاس ایسے لوگ جمع تھے جن کی آمدنی اس کی آمدنی سے دوگنا یا کئی گنا زیادہ تھی۔ [جاری]

علامہ اقبال ایک ہمہ گیر صاحب ِکمال اور غیرمعمولی ذہانت کے حامل جوہرِقابل تھے۔ ایک بڑے چمکتے دمکتے ہیرے کی مانند ان کی شخصیت کے بے شمار پہلو نظر کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی شاعری کے حُسن کمال اور ہنر کی خوب صورتی سے متاثر ہیں۔ کچھ ان کے علم کی وسعت اور خیالات کی گہرائی سے متاثرہیں، جب کہ کچھ ان کی فلسفیانہ سوچ اور سیاسی زکاوت و فراست سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔لیکن،جب عصری تاریخ کا ایک طالب علم اقبال پر نظر ڈالتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر، علاوہ ازیں ایک تیزفہم اور دُوراندیش سیاست دان اور ایک معززونام ورفلسفی بھی تھے،مگر ان سب سے بڑ ھ کر وہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے بانی تھے۔ درحقیقت اسی میں ان کی حقیقی عظمت پوشیدہ ہے۔
مسلم معاشرہ ایک طویل عرصے سے انحطاط کے دور سے گزر رہا تھا۔ جس انتشار نے ’تحریکِ خلافت‘ کے خاتمے پر جنم لیا تھا،اس نے بتدریج اسلامی تہذیب وثقافت کی بنیادوں کو  نگل لیا اور اس پر مصائب و پریشانیوں پر مشتمل مایوسی اور شعوری مدہوشی کی تاریک رات چھا گئی۔ تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ گئیں اور سیاسی قوت مضمحل ہوگئی۔اگرچہ مختلف اصلاحی تحریکوں نے جنم لیا اور بہت سے اصحاب فکر نے بھی مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے علاوہ مسلم معاشرے میں ایک نئی زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی مگر انھیں بہت کم کامیابی نصیب ہوئی۔ اس صورت حال کا انتہائی المیہ یہ تھا کہ اب اسلام ایک سیاسی وتہذیبی متحرک قوت نہیں رہا تھا۔اب اسلام،محض چند مذہبی رسوم ورواج کا ملغوبہ بن کر رہ گیا تھا، اور المیہ تو یہ تھا کہ اس کے پیروکار بھی اسے تہذیب وتمدن کی نشوونما کے عنصر کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال تھی۔ مزید خرابی یہ ہوئی کہ جب انگریزوں نے ہندستان پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے نہایت ہوشیاری سے اس خطے پر مغربی تہذیب وتمدن مسلط کر دیا اور یوں بے شمار مسائل پیدا ہوتے چلے گئے۔ مغرب کی سیاسی ومعاشی برتری اور نظام تعلیم نے ہندستان کے مسلمانوں میں غلامانہ ذہنیت پیدا کر دی۔     وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو گئے۔ان کے سیاسی اعتماد کی آخری نشانیاں بھی مٹ گئیں اوران کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
نئی بیداری کی علامات اس وقت افق پر نمودار ہوئیں جب کامریڈ،الہلال اورزمیندار نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت اور مدہوشی سے جگایا اوران میں حرکت کرنے اور اپنا فرض ادا کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔تحریکِ خلافت ایک عظیم نعمت ثابت ہوئی۔اس نے مسلمانانِ ہند کے جذبات کو مہمیز بخشی او ران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سیاسی جدوجہد اور تہذیبی انقلاب کے دور میں داخل ہوجائیں۔لیکن یہ نئی بیداری کسی بھی مناسب عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں سے محروم تھی۔یہ اقبال ہی تھے جنھوں نے یہ بنیادیں مہیا کیں۔وہ ہندستان میں اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے ہدی خواں تھے۔

اقبال کی تشخیص

اقبال واضح نظریے کے حامل اور تحقیقی ذہن کے مالک تھے۔انھوں نے مسلم معاشرے کے حالات کا مطالعہ کیا اور ان کمزوریوں وامراض کا ادراک کیا جو مسلم معاشرے میں سرایت کر چکے تھے۔ وہ انتہائی واضح طور پرمغربی تہذیب وثقافت کے دُور رس اثرات کوسمجھ چکے تھے اور انھوں نے نوشتۂ دیوار پڑھ لیا تھا۔انھیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کے نقطۂ نظر میں انقلابی تبدیلی،وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگرانھوں نے اپنے دور کے عظیم چیلنج کو نظرانداز کیا، تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے۔
اس ضمن میں اقبال کی تشخیص یہ تھی کہ تہذیبی وثقافتی انحطاط کے ایک طویل عرصے کے علاوہ جدید مغرب کے اثرونفوذنے مسلم معاشرے کی چولیں ہلا دی ہیں۔مسلمان اس لیے زوال پذیر ہوئے کیونکہ انھوں نے اسلام کو ترک کر دیا اور انھوں نے اتباع اور عدم فعالیت کی آسان زندگی اپنالی۔ مغرب کے زیرِ اثر رہتے ہوئے اپنی اقدار پر ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا اور وہ مغربی طرزِ زندگی اپنانے لگے۔مزیدبرآں ان میں احساسِ کمتری پیدا ہوگیا، جب کہ سماجی زندگی اور مذہبی اقدار کے درمیان کدورت پیدا ہو گئی۔غیراسلامی تصوف نے فعالیت کے پَر مزید کاٹ دیے اور مسلمانوں کی حالت مزید ابتر ہوگئی۔یہ حالات کا درست ادراک اور تشخیص تھی اور اقبال نے مسلمانوں کو انحطاط کی دلدل سے نکالنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاںصرف کر دیں۔

مغرب کے متعلق نیا انداز فکر

سب سے پہلے اقبال نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ مغرب کے متعلق اپنے اندازفکر پر نظرثانی کریں۔انھوں نے کہا کہ یورپ میں سب اچھا نہیں۔انھوں نے مغربی تہذیب وثقافت کے بنیادی اصولوں کا تنقیدی جائزہ لیا اور ان کی گمراہ کن نوعیت کو بے نقاب کیا۔انھوں نے ان لوگوں پر تنقید کی جو اندھادھندمغربی تہذیب وثقافت کی تقلید کررہے تھے۔ اقبال نے انھیں کہاکہ  وہ اس ضمن میں استدلال اور ادراک سے کام لیں۔اپنے انگریزی خطبات میں انھوں نے کہا: ’’ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ جدید علم کے متعلق قابل احترام لیکن آزادانہ طرزعمل اپنائیں‘‘۔
انھوںنے اس خوف کا اظہار کیا:’’ یورپی تہذیب وتمدن کا خیرہ کن ظاہر ہمارے وقت کو اپنے حصار میں لے سکتا ہے‘‘۔انھوں نے مغرب کے مادی تہذیب وتمدن کے تباہ کن اثرات اور الحادوبے دینی کے خطرات سے خبردار کیا۔وہ اپنی نظمـ’پس چہ بایدکرداے اقوامِ شرق‘ میں کہتے ہیں:

آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق؟
باز روشن می شود ایامِ شرق
در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید
یورپ از شمشیرِ خود بسمل فتاد
زیر گردوں رسم لادینی نہاد
گر گے اندر پوستینِ برئہ
ہرزماں اندر کمینِ برئہ
مشکلاتِ حضرتِ انساں ازو است
آدمیت را غمِ پنہاں ازوست
درنگاہش آدمی آب و گل است
کاروانِ زندگی بے منزل است

[نوعِ انسانی فرنگیوں کے ہاتھوں سخت فریاد کر رہی ہے۔ زندگی نے اہلِ فرنگ سے کئی ہنگامے پائے ہیں۔ تو اے اقوامِ شرق اب کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ مشرق کے ایام پھر سے روشن ہوجائیں۔ مشرق کے ضمیر میں انقلاب ظاہر ہورہا ہے۔ رات گزر گئی اور آفتاب طلوع ہوا۔ یورپ اپنی تلوار سے خود ہی گھائل ہوچکا ہے۔ اس نے دنیا میں رسمِ لادینی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس کی حالت اس بھیڑیے کی سی ہے جس نے بکری کے بچّے کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔ وہ ہرلمحہ ایک نئے برہ کی گھات میں ہے۔ نوعِ انسانی کی ساری مشکلات اس کی وجہ سے ہیں۔ اسی کی وجہ سے انسانیت غم پنہاں میں مبتلا ہے۔ اس کی نگاہ میں آدمی محض پانی و مٹی کا مجموعہ ہے اور زندگی بے مقصد ہے]۔
اقبال نے بہت ہی خوب صورتی سے یہ اعلان کیا کہ محض مذہب ہی انسانیت کو سماجی انتشار اور عقلی اُلجھن کے موجودہ ہنگامے سے نجات دلا سکتا ہے۔انھوں نے کہا:اور محض مذہب ہی اخلاقی طور پر دورِحاضر کے انسان کو اس عظیم ذمہ داری کے بوجھ کے لیے تیار کرسکتا ہے جو سائنس کی ترقی کے باعث لازمی طور پر اس کے سپرد کی گئی ہے۔ دین کے اصول و ضوابط اسے یہاںاپنی شخصیت کی تشکیل اور آخرت میں اسے برقرار رکھنے کی اہلیت عطا کرتے ہیں۔ یوں بالآخر وہ ایک ایسی تہذیب و ثقافت پر فتح حاصل کر لے گا،جو اپنی مذہبی اور سیاسی اقدار کے اندرونی اختلاف کے باعث اپنی روحانی یک جہتی کھو چکی ہے۔
مغرب کی روحانی کمزوریوں، مادیت اور سیکولرزم کے کھوکھلے پن کی نشان دہی کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا کہ مغرب کی ترقی کی بنیاد علم و ہنر ہے، نہ کہ بعض سطحی عناصر___ وہ کہتے ہیں:

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زر قصِ دخترانِ بے حجاب
نے ز سحرِ ساحرانِ لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے اَز قطعِ موست
محکمی اورانہ از لادینی است
نے فروغش از خطِ لاطینی است
قوتِ افرنگ از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع و بریدِ جامعہ نیست
مانعِ علم و ہنر عمّامہ نیست

[مغرب کی قوت چنگ و رباب سے نہیں۔نہ یہ بے پردہ لڑکیوں کے رقص کی وجہ سے ہے۔ نہ یہ سرخ چہرہ، محبوبوں کے جادو کی وجہ سے اور نہ یہ ان کی عورتوں کی ننگی پنڈلیوں اور بال کٹانے سے ہے۔ نہ اس کا استحکام لادینی کی وجہ سے ہے اور نہ اس کی ترقی رومن رسم الخط کے باعث ہے۔ افرنگ کی قوت ان کے علم اور فن کے سبب سے ہے۔ ان کا چراغ اسی آگ سے روشن ہے۔ ان کی حکمت لباس کی قطع و برید کے سبب سے نہیں۔ عمامہ علم و ہنر سے منع نہیں کرتا]۔
یوں اقبال نے عصری نظریاتی منظر نامے کا جائزہ لیا اور مغربی تہذیب وتمدن کی حقیقی کامیابیوں اور اصلی احساسات کو پیش کیا، تاکہ ان کی اندھادھندتقلید کی روک تھام کی جا سکے لیکن انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا۔بلکہ انھوں نے فیصلہ کن انداز میں ان امور میں مغرب کو اسلام کا مقروض دکھایا، جو اس کے عروج اور ترقی کا باعث ہوئے اور پھر انھوں نے مسلمانوں میں ان کی اپنی اقدار پرایک نیااعتماد پیدا کیا۔انھوں نے کہا:

حکمتِ اشیا فرنگی زاد نیست
اصلِ او جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گہرا ز دستِ ما افتادہ است
چوں عرب اندر اروپا پرکشاد
علم و حکمت را بنا دیگر نہاد
دانہ آں صحرا نشیناں کاشتند
حاصلش افرنگیاں برداشتند
ایں پری از شیشۂ اسلافِ ماست
بازصیدش کن کہ او از قافِ ماست

[اشیا کی ماہیت جاننے کا آغازفرنگیوں سے نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد صرف نئی دریافت کی لذت ہے۔ اگر تو غور سے دیکھے، تو یہ چیز مسلمانوں کی پید ا کردہ ہے۔ یہ وہ موتی ہے جو ہمارے ہاتھ سے گرا۔ جب عربوں نے یورپ کے اندر کشورکشائی کی، تو انھوں نے وہاں نئے انداز سے علم و حکمت کی بنیاد رکھی۔ دانہ ان صحرا نشینوں نے بویا، اور فصل کا حاصل افرنگیوں نے اکٹھا کیا۔ اس پری کا تعلق ہمارے آبا و اجداد کے شیشے سے ہے، تُو اسے دوبارہ شکار کر کیونکہ یہ ہمارے کوہِ قاف کی پری ہے]۔

اسلامی فکر کی تشکیلِ نو کا ادراک

اقبال نے اسلامی فکر کی ازسرنوتشکیل کی ضرورت کا ادراک کر لیا تھا۔انھیںعلم تھا کہ مذہب پر جدید حملے کا مقابلہ صرف اور صرف نئے ہتھیار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔مخالف کا مقابلہ اس کے اپنے میدان میں ہی کرنا ہو گا۔انھوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اسلام ایک متحرک اور انقلابی تحریک ہے لیکن صدیوں کے انجماد نے اس کے مذہبی افکار پر گرد کی کچھ تہیںچڑھا دی ہیں۔ انھوں نے  گرد کی اس تہہ کو صاف کرنے کے لیے پیش قدمی کی اور ہیرے کو صاف کیا تاکہ وہ ایک دفعہ پھر اس دنیا کو روشنی مہیا کرسکے جو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاںمار رہی تھی۔
’اسلام میں مذہبی فکر کی ازسرنوتشکیل‘ کے موضوع پر ان کے انگریزی خطبات اس ضرورت کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ان کی تشریح سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے انقلابی پیغام کے زبردست اثر کوتسلیم کرنا چاہیے جو انھوں نے ہندستان کے مسلمانوں پر مرتب کیا۔
    لیکن اقبال کے ذہن میںاس سے بھی کہیں ایک بڑا مشن موجزن تھا۔وہ محض فلسفی ہی نہیں تھے جو اسلا م کے نظریے کی سادہ عقلی وعلمی تشریح پر ہی اکتفا کر لیتے۔وہ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ قوم کے ہراس طبقے کو حرکت دیں اور بیدار کریں جو خوابِ غفلت میں مدہوش تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اُمت کے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر مسلم معاشرے کا ہر طبقہ اپنا کردار ادا کرے۔ اپنی دومثنویوں ’اسرارِخودی‘ اور ’رموزِ بے خودی‘ میں انھوں نے انفرادی اور سماجی ترقی کے عناصر کا ایک خاکہ پیش کیا۔اقبال نے ملت کے زوال کی وجوہ پر گفتگو کی اور ان بدیسی اثرات پر روشنی ڈالی جنھوں نے ملت کے سیاسی پیکر کومنتشر کر دیا۔اقبال نے مسلمانوں سے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی پیغام کی طرف واپس لوٹ آئیں۔
انھوں نے کہا کہ اسلام کے بنیادی عقائد،توحید،رسالت، آخرت اور جہاد ہیں۔توحید اسلامی معاشرے کے تمام ارکان کو فکری اتحاد اور عمل کرنے کی یک جہتی کی بنیاد مہیا کرتی ہے۔دنیا میں یہ انتہائی عظیم قوت ہے:

درجہانِ کیف و کم گردید عقل
پے بہ منزل بُرد از توحید عقل
ورنہ ایں بیچارہ را منزل کجاست
کشتیٔ ادراک را ساحل کجاست
اہلِ حق را رمزِ توحید ازبر است
در اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا مضمراست
تا ز اسرارِ تو بنماید ترا
امتحانش از عمل باید ترا
دیں ازو، حکمت  ازو، آئیں ازو
زور ازو، قوت ازو ، تمکیں ازو
عالماں را جلوہ اش حیرت دہد
عاشقاں را بر عمل قدرت دہد
پست اندر سایہ اش گردد بلند
خاک چوں اکسیر گردد ارجمند

[جذبات و پیمایش کی اس دنیا میں عقل آوارہ پھر رہی تھی۔ توحید سے اسے منزل کی طرف رہنمائی حاصل ہوئی، ورنہ عقل کو منزل کہاں نصیب تھی۔ فہم کی کشتی کے لیے کوئی ساحل نہیں تھا۔ اہلِ حق توحید کی رمز کو خوب جانتے ہیں۔ یہی راز سورئہ مریم کی آیت ۹۳ میں مضمر ہے۔ تیرے عقیدۂ توحید کا امتحان عمل سے ہونا چاہیے تاکہ وہ تجھ پر تیری مخفی صلاحیتیں ظاہر کرے۔ دین، حکمت، شریعت، سب توحید ہی سے ہیں۔ اسی سے (افراد و اقوام) میں زور، قوت اور ثبات و استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اس کا جلوہ عالموں کو حیرت میں مبتلا کردیتا ہے اور عاشقوں کو عمل کی قدرت عطا کرتا ہے۔ اس کے سایے میں پست بلند ہوجاتے ہیں اور خاک اکسیر کی مانند قیمتی بن جاتی ہے]۔
انھوںنے اسلام کے بنیادی تصورات کا مفصل ادراک کیا اور دین کی مخفی قوتوں کو واضح کردیا۔ان کی شاعری نے قوم کو زندگی کا ایک نیا پیغام دیا جو کافی عرصے سے نظرانداز کر دیا گیا تھا۔

مسلمانانِ ہند میں بیداری اور تصورِ پاکستان

اقبال کی شاعری اور افکار نے مسلمانانِ ہند کو بیدار کر دیا اور دنیا کی ازسرنوتشکیل کے لیے ان کے خاطرخواہ کردا رادا کرنے کے ضمن میں ان میں حوصلہ پیدا کیا۔قوم کو ایک نئے جذبے سے سرفراز کرنے کے بعد،انھوںنے [خطبہ الٰہ آباد کے ذریعے ہندستان کے شمال مغربی خطے میں ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا تاکہ مسلمان اپنی توانائیاں] اسلام کے لیے ایک وطن حاصل کرنے کی جدوجہد میں صرف کریں۔ یہ حصولِ پاکستان کاتصور تھا۔
اقبال نے مسلمانانِ ہند میں ملّی تشخص کو زیادہ مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے بہت محنت کی کہ مسلمان ایک قوم اور ایک نظریاتی برادری ہیں، اور یہ ان کے دین کی ہدایت ہے کہ وہ قرآن اور سنت کے فراہم کردہ اصولوں کی روشنی میں ایک ریاست،معاشرہ اور تہذیب و ثقافت قائم کریں۔ انھوں نے مسلمانانِ ہند کے سیاسی مسائل کے لیے متین فکر مہیا کی اور برسوں کے غوروفکر کے بعد ۱۹۳۰ء میں آل انڈیامسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں نظریۂ پاکستان پیش کیا جس میں انھوں نے کہا:’’اس ملک میں ایک تہذیبی وثقافتی قوت کی حیثیت سے اسلام کی زندگی کا زیادہ تر انحصار ایک مخصوص علاقے کی مرکزیت پر ہے۔مسلم ہندستان کے اکثریتی مسلم علاقے کی مرکزیت بالآخر ہندستان کے علاوہ ایشیاکے مسائل بھی حل کر دے گی۔یہ ضروری تھا کیونکہ مسلم ہندستان اپنی تہذیب وثقافت اور روایت کے مطابق ایک بھرپور اور آزاد ترقی کا حق دار ہو سکے‘‘۔ 
اپنی وفات سے ایک سال پہلے۱۹۳۷ء میں قائداعظم کے نام ایک خط میں انھوں نے لکھا:
مسلم صوبوں کا ایک الگ وفاق ہی، واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم پُرامن ہندستان کو محفوظ رکھ سکتے اور مسلمانوں کو غیرمسلموں کے غلبے سے بچا سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ شمال مغربی ہندستان اور بنگال کے مسلمانوں کو ایک ایسی قوم نہ تصور کیا جائے جو عین اسی طرح حقِ خوداختیاری کی حق دار ہو جس طرح ہندستان اور بیرون ہندستان کی دیگر اقوام حقِ خوداختیاری کی حق دار ہیں۔
    یہ مستقبل کا پیش خیمہ تھا۔قوم نے اقبال کی فراہم کردہ رہنمائی پر عمل کیا اور ایک عظیم کوشش اور قربانی کے بعد پاکستان ایک حقیقت بن گیا اور مسلم نشاتِ ثانیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
اقبال کا پیغام،عمل کا پیغام ہے۔وہ برعظیم پاک وہند میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے بانی تھے اور یہی ان کی حقیقی اہمیت ہے۔ہم نے انتہائی مختصر طور پر اس عظیم الشان کارنامے کا احاطہ کیا جو انھوں نے انجام دیا،یہاں ہم ان کے کام کی چند جھلکیاںہی پیش کرسکے ہیں۔ ان کے کام کو تو مفصل طریقے سے بیان کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ اس مقالے کا اختتام اس عظیم انقلابی کے ان غیرفانی الفاظ پر کرتے ہیں جس نے قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار اور ایک بلندوبالا مقصد کے حصول کے لیے راہِ عمل پر گامزن کیا:’’قوت کے بغیر فکراور سوچ اخلاقی رفعت تو مہیا کر سکتی ہے لیکن ایک پائیدار کلچر فراہم نہیں کر سکتی۔سوچ وفکرکے بغیر قوت ایک تباہ کن اور غیرانسانی نوعیت اختیار کرلیتی ہے، لیکن انسانیت کی روحانی وسعت کی خاطر ان دونوں کو لازماً اکٹھا کر لینا چاہیے‘‘۔
سچائی کے معیارات کے علَم بردار اپنی بقا مضبوطی ہی کے ذریعے برقرار رکھ سکتے ہیں:

اہلِ حق را زندگی از قوت است
قوتِ ہر ملّت از جمعیت است
راے بے قوت ہمہ مکر و فسوں
قوتِ بے رائے جہل است و جنوں

[اہلِ حق کی زندگی کا دارومدار قوت پر ہے اور ہر ملّت کی قوت اس کی جمعیت پر موقوف ہے۔ ایسی راے جسے منوانے کی قوت نہ ہو، محض مکروفسوں ہے]۔
(انگریزی سے اُردو ترجمہ: ریاض محمود انجم)

فکرِاقبال میں جدید دنیاے اسلام کے تقریباً تمام مسائل، افکار اور تحریکات کی بازگشت پائی جاتی ہے۔ اقبال نے ایک تو جدید دنیاے اسلام کو پیش آنے والے مسائل پر اپنا نقطۂ نظر بیان کیا ہے، یا جو تحریکیں جدید دنیاے اسلام میں اصلاحی و تعمیری مقاصد کے تحت رُونما ہوئیں، ان کی تائید و تحسین کی ہے،یا ایسی شخصیات جن کے افکار دنیاے اسلام کو متاثر کرنے کا سبب بنے، اقبال کی فکر کو بھی کسی نہ کسی طور متاثر کرتی نظر آتی ہیں۔
بہت بڑے بڑے مسائل، افکار اور تحریکات کے علاوہ خود اقبال کے عہد میں بعض ایسی شخصیات، ان کے افکار اور ان کی تحریکیں پیدا ہوئیں، جن کی اقبال نے یا تو تائید و حمایت کی، یا  ان میں دل چسپی لی۔ ایسی شخصیات اور تحریکات کا مقصد چونکہ مجموعی طور پر احیاے اسلام رہا ہے، اس لیے اقبال نے احیاے اسلام، مسلمانوں کی فلاح و بہبود، ترقی اور بیداری کا ذکر کرتے ہوئے اور اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان شخصیات و تحریکات کی تعریف و تحسین کی، یا بطورِ مثال ان کا حوالہ دیا ہے۔ اس ضمن میں ایسی شخصیات، جنھوں نے اپنی راسخ فکر اور اپنی مفید کاوشوں سے دنیاے اسلام کو متاثر کیا، متعدد ہیں اور اقبال نے ان میں سے بیش تر کا ذکر کیا ہے۔ لیکن بعض شخصیات اور ان کے کارنامے اقبال کی نظروں میں زیادہ پسندیدہ اور زیادہ قابلِ توجہ رہے:

  •  ٹیپوسلطان: (۱۷۵۰ء-۱۷۹۹ء) ٹیپو سلطان کی شخصیت اور ان کی جدوجہد اقبال کے لیے بڑی پسندیدہ اور مثالی تھی۔ ٹیپو کی شہادت کو وہ دنیاے اسلام کی تاریخ میں بے حد اہم سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں ٹیپو کی شہادت کے بعد مسلمانوں کو ہندستان میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کی جو اُمید تھی، اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔۱  اور پھر تقریباً ربع صدی بعد ۲۰؍اکتوبر ۱۸۲۷ء ’جنگ نوارنیو‘ لڑی گئی، جس میں برطانوی اتحاد نے سلطنت عثمانیہ ترکی کا بحری بیڑا تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اقبال کے خیال میں ایشیا میں مسلمانوں کا انحطاط اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔۲ اور اسی کے زیراثر وہ سمجھتے تھے کہ جدید اسلام اور اس کے مسائل ظہور میں آئے۔۳

اقبال کو ٹیپو سے جو عقیدت تھی، اس کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ جب وہ دسمبر ۱۹۲۸ء کے آخری ایام اور جنوری ۱۹۲۹ء کے اوائل میں جنوبی ہند کے سفر پر گئے، تو میسور میں بالخصوص ٹیپو کے مزار پر پہنچے۔۴
اسی عرصے میں اقبال ٹیپو پر ایک نظم لکھ کر اپنی کتاب جاوید نامہ میں شامل کرنا چاہتے تھے، جسے وہ اپنی زندگی کا ماحصل بنانا چاہتے تھے۔۵ چنانچہ جاوید نامہ    (اشاعت ۱۹۳۲ء)  میں اقبال نے زندگی کی حقیقت، موت اور شہادت کے موضوع پر جو خیالات بیان کیے ہیں،   وہ جاوید نامہ کے اہم مقامات میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ اقبال نے ضربِ کلیم (اشاعت ۱۹۳۵ء) میں بھی ایک نظم ’سلطان ٹیپو کی وصیت‘ کے عنوان سے لکھی۔ اس نظم میں انھوں نے ٹیپو کی سیرت کے حوالے سے ان اصولوں کی وضاحت کی ہے، جن پر ٹیپو ساری عمر کاربند رہے۔

  • مہدی سوڈانی (۱۲؍اگست ۱۸۴۴ء- ۲۲جون ۱۸۸۵ء)۶ :ان کی شخصیت اور جدوجہد کے حوالے سے اقبال کی یہ آرزو رہی کہ مسلمانوں کے انتشار اور زوال کے اس دور میں کاش! کوئی ایسا شخص پیدا ہوجائے، جو اپنے پیغام سے قوم کے دل میں جہاد کا ولولہ پیدا کردے  ؎

سارباں یاراں بہ یثرب ما بہ نجد
آں حدی کو ناقہ را آرد بوجد

[سارباں دوست، مدینہ منورہ پہنچے ہوئے ہیں، اور ہم اس شہر مقدس سے دور نجد میں ہیں۔ وہ حُدی خواں کہاں ہے، جو ہمارے ناقے کو وجد میں لاکر (جلد وہاں پہنچادے)۔]
جاوید نامہ میں اقبال نے مہدی سوڈانی کے حوالے سے مسلمانوں کو جہاد اور سخت کوشی کی تلقین کی ہے اور عالمِ عرب کے سرکردہ رہنمائوں کو مخاطب کرکے سوال کیا ہے کہ: تم کب تک اس طرح تفرقے کا شکار بنے رہو گے؟ کب تک اپنی ذاتی ترقی کے لیے کوشاں رہو گے؟ کب تک ملّت اسلامیہ کے عمومی مفاد سے غافل رہو گے؟ اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنے اندر سوز پیدا کرو اور اسلام کی سربلندی کے لیے متحد ہوجائو۔ اس مقام پر وہ سوڈان کے مسلمانوں سے بڑی اُمیدیں وابستہ کرتے ہوئے انھیں انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ اسی ذیل میں وہ فرعون کی روح کے حوالے سے انگریز جنرل ہربرٹ کچنر سے سوال کرتے ہیں کہ مہدی سوڈانی کی قبر کو کھود کر اور ایک مردِ مومن کی نعش کی بے حُرمتی کرکے تمھاری قوم کی حکمت میں کیا اضافہ ہوا؟۷

  •  سعید حلیم پاشا (۱۸۶۳ء-۱۹۲۱ء): ۸ علامہ اقبال ان سے، بالخصوص قومیت اور تہذیب و معاشرت میں ان کے خیالات سے بہت متاثر تھے۔ چنانچہ اپنے خطبے The Principle of Movement in the Structure of Islam [الاجتہاد فی الاسلام] میں ترک وطن پرستوں کے لادینی نظریۂ سیاست کی تردید کرتے ہوئے سعید حلیم پاشا کے خیالات کی تائید اور تعریف کی ہے۔ خصوصاً قومیت کے تعلق سے ان کے یہ خیالات کہ: ’’اسلام کا کوئی وطن نہیں ہے___ اور نہ کسی ترکی اسلام کا کوئی وجود ہے، نہ عربی، ایرانی اور ہندی اسلام کا‘‘۔۹ اقبال کے خیال میں وہ نہایت ہی بابصیرت صاحب ِ قلم تھے ۔۱۰ اور ان کا طرزِ فکر سراسر اسلامی تھا۔۱۱

جاوید نامہ میں بھی اقبال نے ایسے خیالات پیش کیے ہیں کہ جن میں مغربی تہذیب سے گریز کا پیغام ملتا ہے۔ حلیم پاشا کے حوالے سے اقبال کہتے ہیں کہ تقلید ِمغرب کی بجاے مسلمانوں کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن کے مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوجائے گا کہ: ’’اسلام ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے، جو دنیا میں کسی اور قوم کے پاس نہیں۔ اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو ساری دنیا ان کے قدموں پر جھک سکتی ہے‘‘۔ 
اسی موقعے پر انھوں نے ترکوں کی اس روش پر تنقید کی کہ: ’’وہ قرآن سے بیگانہ ہوکر مغرب کی تقلید کر رہے ہیں‘‘۔ آگے چل کر ایک اور مقام پر اقبال، حلیم پاشا کے توسط سے علما اور صوفیہ کو ان کی اہمیت جتاتے ہوئے انھیں مسلمانوں کو ماضی سے روشناس کرانے اور انھیں ان کے مقام اور مقاصد سے آگاہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔۱۲

  • مفتی عالم جان بارودی (۱۸۵۷ء-۱۹۲۱ء): ۱۳ اقبال ان کی مساعی کے بھی قدردان تھے۔ انھوں نے روس میں مسلمانانِ وسط ایشیا کی فکری رہنمائی کی اور مسلمانوں کی پستی کا علاج جدید تعلیم کو قرار دیا تھا۔۱۴  اقبال کا خیال تھا کہ وہ غالباً محمد بن عبدالوہاب سے متاثر تھے۔۱۵ چونکہ ان کے بارے میں اقبال کی معلومات محدود تھیں، اس لیے انھیں تفصیلات معلوم کرنے کا اشتیاق رہا۔ مولانا سیّد سلیمان ندوی سے انھوں نے اس ضمن میں استفسار کیا تھا کہ مفتی عالم جان کی تحریک کی اصل غایت کیا تھی؟ یہ محض ایک تعلیمی تحریک تھی یا اس کا مقصود مذہبی انقلاب بھی تھا؟۱۶ چنانچہ رسالہ معارف  (اعظم گڑھ، مئی ۱۹۲۲ء) میں مفتی عالم جان کے حالات پر مشتمل ایک مضمون ’علماے روس‘شائع ہوا تو اقبال نے سیّد سلیمان ندوی کو لکھا کہ وہ ’میری آرزو سے بڑھ کر ہے‘۔۱۷

اقبال کو اُس تحریک ِ انقلاب سے بھی دل چسپی رہی جو چینی ترکستان کے مسلمانوں میں نمودار ہورہی تھی۔ ۱۹۱۴ء میں وہاں چینی منصفوں کے تقرر اور حکومت کی طرف سے وہاں کی آبادی پر، جو تقریباً سب مسلمانوں پر مشتمل تھی، چینی زبان مسلط کرنے کی وجہ سے بڑی بے چینی پھیل گئی تھی۔ مسلمان یہاں عرصے سے چینیوں کے ظلم و ستم برداشت کرتے آئے تھے۔ اس کے نتیجے میں بعد میں جو بغاوت ۱۹۳۰ء میں شروع ہوئی، اس کی قیادت ماچونگ ینگ نامی ایک کم سن مسلمان نے کی۔ اقبال اس کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’چنگیز، تیمور اور بابر کا وطن اب بھی اعلیٰ درجے کا بہادر سپہ سالار پیدا کرسکتا ہے‘‘۔۱۸اقبال سمجھتے تھے کہ: ’’اس تحریک کی کامیابی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ چینی ترکستان میں، جہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۹۹ فی صد ہے، ایک خوش حال اور مستحکم اسلامی مملکت قائم ہوجائے گی اور اس طرح وہاں کے مسلمان ہمیشہ کے لیے چینیوں کے برسوں کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کرسکیں گے۔۱۹اور اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہندستان اور روس کے درمیان ایک اور اسلامی مملکت کے قیام سے اشتراکیت، مادہ پرستی، دہریت کے خطرات اگر وسط ایشیا سے بالکل نہ مٹے تو کم از کم ہندستان کی سرحدوں سے زیادہ دُور ہوجائیں گے۔۲۰

  • ابومحمد مصلح (۱۸۷۸ء- ۳۰ستمبر۱۹۶۸ء):۲۱  اقبال کو ہندستان کے بعض زعما کی اصلاحی، تبلیغی اور احیائی مساعی سے بھی دل چسپی رہی،مثلاً مولوی ابومحمد مصلح کی تحریک ِ قرآن جس کا مقصد قرآنِ حکیم کی تعلیم، معنی اور مطلب کے ساتھ عام اور لازمی کرنا تھا۔ انھوں نے اس کی تائید و تحسین کی تھی۔۲۲

ابومحمد مصلح کے نام اپنے ایک خط میں انھوں نے لکھا تھا کہ قرآنی تحریک کا مقصد مبارک ہے۔ اس زمانے میں قرآن کا علم ہندستان سے مفقود ہوتا جارہا ہے۔ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں نئی زندگی پیدا کی جائے۔ کیا عجب کہ آپ کی تحریک بارآور ہو اور مسلمانوں میں قوتِ عمل پھر عود کرآئے۔۲۳  اسی ضمن میں اقبال نے اُن کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جو وہ ترویجِ تعلیم قرآن کے سلسلے میں انجام دیتے رہے۔ انھیں تحریک قرآن کی رفتار سے بھی دل چسپی رہی۔۲۴
ان کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے فرزند جاوید اقبال کے لیے وہ ان کا مرتب کیا ہوا قاعدہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جس میں، ان کی تحریر کے مطابق، بچوں کو قرآن پڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کیا گیا تھا۔۲۵

  • سیّد ابوالاعلٰی مودودی (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء): اقبال نے مولانا مودودی کی تحریک کو بھی، جو گو کہ ابھی اپنے تشکیلی اور ابتدائی مراحل میں تھی۔ ان کی تصانیف بالخصوص الجہاد فی الاسلام اور تنقیحات اور ان کے مجلے ترجمان القرآن  میں ان کی تحریروں سے اس تحریک کا آغاز ہوچکا تھا،۲۶اپنی آخری عمر میں اپنی توقعات کا انھیں مرکز بنالیا تھا۔ اس عرصے میں ان کی یہ خواہش ہوگئی تھی کہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں اور کچھ ایسے افراد کو جو جدید علوم سے بہرہ ور ہوں چند ایسے لوگوں کے ساتھ یک جا کردیں، جنھیں دینی علوم میں مہارت حاصل ہو، تاکہ یہ لوگ اپنے علم اور اپنے قلم سے اسلامی تمدن کے احیا کے لیے کوشاں ہوسکیں۔۲۷

اقبال چاہتے تھے کہ کسی پُرسکون مقام پر ایک ایسی مختصر سی بستی کی بنیاد رکھی جائے، جہاں خالص اسلامی ماحول پیدا کیا جائے اور وہاں بہترین دل و دماغ کے نوجوانوں کو ایسی تربیت دی جائے، جس سے ان میں مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی اہلیت پیدا ہوجائے۔۲۸ چنانچہ ان کی ا س خواہش کے پیش نظر چودھری نیاز علی خان نے پٹھان کوٹ کی اپنی اراضی میں سے ایک قطعہ اس کے لیے وقف کر دیا اور اقبال سے باہمی صلاح و مشورہ کے بعد۲۹مولانا مودودی کو، جو اس وقت حیدرآباد دکن میں مقیم تھے، پٹھان کوٹ منتقل ہونے کی دعوت دی۔ چنانچہ مولانا مودودی مارچ ۱۹۳۸ء میں نقل مکانی کرکے پٹھان کوٹ پہنچ گئے۔
اقبال، مولانا مودودی کے خیالات سے بڑی حد تک متفق تھے اور ترجمان القرآن میں ان کے مضامین کی تحسین و تعریف کرتے تھے۔۳۰علمی کاموں میں اس وقت اقبال کے پیش نظر اسلامی قانون اور فقہ کی تدوین کا کام تھا، اور وہ خود بھی اس کام کے دوران گاہے گاہے دارالاسلام (پٹھان کوٹ) جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۳۱  لیکن اقبال کی زندگی میں وہ مقصد ابتدائی مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا، جسے کچھ عرصے بعد جماعت اسلامی کے قیام اور تحریک ِ اسلامی کے فروغ سے مولانا مودودی نے پورا کرنے کی جدوجہد کی۔
_______________
۱-    حرفِ اقبال، مرتبہ: لطیف احمد خان شیروانی (لاہور، ۱۹۵۵ء) ،ص ۱۴۲
۲-    ایضاً، ص ۱۴۷،    ۳-ایضاً،ص ۱۴۲
۴-    گفتارِ اقبال، مرتبہ: محمد رفیق افضل (لاہور، ۱۹۶۹ء)، ص ۲۲۹؛ انوارِ اقبال ، مرتبہ: بشیراحمد ڈار (کراچی، ۱۹۶۷ء)، ص ۲۲۷- ۲۲۸
۵-    اقبال بنام محمد جمیل (۴؍اگست ۱۹۲۹ء) مشمولہ اقبال نامہ، مرتبہ: شیخ عطاء اللہ ، حصہ دوم (لاہور، ۱۹۵۱ء) ، ص ۹۱-۹۳؛ اسی مکتوب میں اقبال نے مکتوب الیہ سے ٹیپو کے ایک روزنامچے کا علم ہونے پر اسے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
۶-    سیّد محمد احمد، سوڈان کے ایک مصلح، مجاہد اور درویشوں کی تحریک کے بانی تھے۔ سوڈان کو انگریزوں اور خدیو مصر سے آزاد کرایا اور ایک فلاحی مملکت قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی وفات کے بعد عبداللہ بن محمد نے ان کے خلیفہ کے طور پر ۱۸۸۵ء سے ۱۸۹۸ء تک حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، لیکن مصری حکومت نے برطانوی جنرل ہربرٹ کچنر کی قیادت میں ۱۸۹۸ء میں سوڈان پر حملہ کرکے اس اقتدار کو ختم کر دیا اور سوڈان پر پھر مصری اور برطانوی تسلط قائم ہوگیا۔
۷-    کلیاتِ اقبال (فارسی) اشاعت دوم (لاہور، ۱۹۷۵ء) ، ص ۶۸۴-۶۸۶
۸-    دولت عثمانیہ کے مصری نژاد وزیراعظم، ممتاز مدبر، سیاست دان اور احیاے اسلام کے موضوع پر متعدد کتابوں کے مصنف اور مغربی سیاست، تہذیب اور قومیت کے مخالف اور اسلامی تہذیب، اتحاد اور اخلاقیات کے مبلغ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ: ’’مسلمانوں کا صرف وہی وطن ہے جہاں شریعت نافذ ہو‘‘۔
۹-    The Reconstruction of Religious Thought in Islam ، (لاہور، ۱۹۵۱ء)، ص ۱۵۶
۱۰-    ایضاً        ۱۱- ایضاً، ص ۱۵۶-۱۵۷
۱۲-    کلیاتِ اقبال (فارسی)، ص ۶۵۳- ۶۵۴، ۶۶۴- ۶۶۵
۱۳-    قازان (وسط ایشیا) میں جدید طرز کی اسلامی یونی ورسٹی کے بانی۔ اس درس گاہ نے روسی مسلمانوں کے انقلاب و ترقی میں نمایاں اثر پیدا کیا۔ مسلمانوں کی بیداری کی سرگرمیوں کے نتیجے میں زار کی حکومت نے انھیں قیدوبند کی صعوبتیں دیں، لیکن ان کی تحریکات کو نقصان نہ پہنچا۔ سلطان عبدالمجید خاں نے ان کی رہائی کے لیے کوشش کی۔ چنانچہ زار نے انھیں ترکی بھیج دیا، وہاں سے وہ ۱۹۱۱ء میں روس لوٹے اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں All Russia Muslim Democratic Party قائم ہوئی۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلابِ روس کا انھوں نے خیرمقدم کیا۔ لیکن ان کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر اشتراکیوں نے ان کو قید کر دیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد رہائی ملی تو  مئی ۱۹۱۸ء میں روسی مسلمانوں کے ایک نمایندہ وفد میں شریک ہوکر ماسکو گئے اور اشتراکی اکابر کے سامنے مسلمانوں کا یہ مطالبہ پیش کیا کہ مسلمانوں کے اداروں کو مداخلت سے پاک رکھا جائے۔
۱۴-    حرفِ اقبال، ص ۱۴۸    ۱۵- ایضاً
۱۶-    مکتوب بنام ، سیّد سلیمان ندوی، مؤرخہ یکم مئی ۱۹۲۴ء ، مشمولہ اقبال نامہ، مرتبہ : شیخ عطاء اللہ،    حصہ اوّل (لاہور، ۱۹۵۱ء) ، ص ۱۲۸-۱۲۹
۱۷-    مکتوب مؤرخہ ۲۹ مئی ۱۹۲۲ء، مشمولہ ایضاً، ص ۱۱۸
۱۸-    Speeches, Writings and Statements of Iqbal مرتبہ: لطیف احمد شیروانی (لاہور، ۱۹۷۷ء)،  ص ۲۲۸
۱۹-    ایضاً، ص ۲۳۰    ۲۰- ایضاً
۲۱-    نام وزیر علی خاں، کنیت ابومحمد مصلح تھی۔ ۱۹۰۰ء میں دیوبند گئے۔ مولانا انورشاہ کشمیری سے تلمذ حاصل ہوا۔ تحریک ِ خلافت میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ سہسرام ہی سے اپنی اصلاحی تحریک کا آغاز کیا اور الاصلاح  کے نام سے رسالہ جاری کیا۔ حیدرآباد دکن منتقل ہوگئے، جہاں ’ادارئہ عالم گیر تحریک قرآنی‘ قائم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ رسالہ ترجمان القرآن  جاری کیا۔ ۱۹۳۶ء میں لاہور منتقل ہوئے اور علامہ اقبال کے انتقال (اپریل ۱۹۳۸ء)تک وہیں رہے اور پھر حیدرآباد دکن چلے گئے۔ وہاں سے قرآنی دنیا کے نام سے انگریزی اور اُردو میں مجلہ جاری کیا۔ قرآن کی تعلیم کو عام کرنے میں زندگی بھر مستعدی سے حصہ لیا۔ مستعد، حوصلہ مند، منتظم اور دین دار عالم تھے۔ (ماہنامہ ذکریٰ، رام پور، اپریل ۱۹۸۲ء، ص۵۲-۵۴)، ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی اقبال کی صحبت میں، (لاہور، ۱۹۷۷ء)،ص ۴۶۶-۴۶۷، ابومحمد مصلح اقبال اور قرآن ، (لاہور ، سنہ ندارد)
۲۲-    کچھ تفصیلات کے لیے : اقبال اور قرآن، ص ۱۳-۱۴
۲۳-    مکتوب، مشمولہ ایضاً، ص ۱۵    ۲۴- ایضاً، ص ۱۸
۲۵-    ’’مجھے اس کتاب کی ضرورت ہے، جس میں انھوں نے بچوں کو قرآن پڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ اس قاعدے کی جاوید کے لیے ضرورت ہے‘‘۔ مکتوب بنام ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی، مؤرخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۳۶ء، مشمولہ اقبال نامہ، حصہ دوم، ص ۳۳۶-۳۴۰۔غالباً یہ قاعدہ قرآنِ مجید معہ بچوں کی تفسیر کے نام سے شائع ہوا۔ اس کا ذکر ابومحمد مصلح نے کیا ہے۔ (ص ۱۷-۱۸)
۲۶-    سیّدابوالاعلیٰ مودودی، مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش، حصہ سوم (پٹھان کوٹ، بارسوم) ، ص۴
۲۷-    مکتوب، بنام مصطفیٰ المراغی، مؤرخہ ۵؍اگست ۱۹۳۶ء، مشمولہ خطوطِ اقبال،مرتبہ: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی (لاہور، ۱۹۷۶ء)، ص ۲۸۵؛ نیز مکتوب دیگر ، مشمولہ ، اقبال نامہ ، حصہ اوّل، ص ۲۵۱-۲۵۳
۲۸-    چودھری نیاز علی خان ، دارالاسلام کی حقیقت بحوالہ قاضی افضل حق قرشی، ’نادراتِ اقبال‘ مشمولہ صحیفہ (لاہور)، اقبال نمبر ، ۱۹۷۳ء، حصہ اوّل، ص ۲۲۹-۲۳۰۔
۲۹-    جس کی تفصیل ایضاً، ص ۲۳۰، سیّد نذیر نیازی ’علامہ اقبال کی دعوت پر مولانا مودودی پنجاب میں‘ مشمولہ ہفت روزہ ایشیا ، لاہور، ۱۷؍اپریل ۱۹۶۹ء، نیز ’’ کیا مولانا مودودی علامہ اقبال کی دعوت پر پنجاب آئے؟‘‘ (مشمولہ ایضاً، ۱۹؍اپریل ۱۹۷۰ء)۔
۳۰-    مکتوبِ مولانا مودودی، مشمولہ سیّد اسعد گیلانی، مولانا مودودی سے ملیے، (سرگودھا، ۱۹۶۲ء)، ص ۳۳۸     ۳۱-  ایضاً، ص ۲۵۳-۲۵۶
 

یہ ۱۹۳۶ء کی بات ہے کہ علامہ اقبال نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’’میری قوم کی ترقی کا راز سیاسی آزادی میں پنہاں ہے۔ برطانوی استعمار راستے کی بڑی رکاوٹ ہے اور ہندوئوں کا غلبہ ہمارے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں طرف کا دبائو ہمیں کچل رہا ہے‘‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا: ’’مسلمانوں کی فلاح و بہبود میری ساری زندگی کا مشن رہا ہے‘‘ (اوراقِ گم گشتہ، مرتبہ: رحیم بخش شاہین، ص۲۵۵، بحوالہ اقبال اور قائداعظم، مرتبہ: احمدسعید، ص ۷۷)۔   اس زمانے میں علامہ اقبال کی نظر محمدعلی جناح پر کیوں پڑی ؟ علامہ نے وضاحت سے فرمایا: ’’میری بصیرت کہتی ہے کہ مسٹر جناح ، ملّت اسلامی کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ یہ میری پیش گوئی ہے کہ مسٹرجناح ایسے کردار، اخلاق، فہم، تدبر اور عزمِ محکم کے مالک ہیں، جن کی بناپر بہت جلد ایک ایسے عوامی ہیرو بن جائیں گے کہ مسلم ہندستان میں ابھی تک اس قسم کا کوئی لیڈرپیدا ہی نہیں ہوا‘‘۔ (ایضاً، احمد سعید، ص ۷۷، ۷۸)

۱۹۳۶ء کے اواخر میں اپنے احباب سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال نے کہا:’’مسٹر جناح کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے، جو آج تک ہندستان کے کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آئی۔ [یعنی] He is incorruptible and umpurchasable۔ (آثارِ اقبال، غلام دست گیر رشید، ص ۴۱، ایضاً، ص ۸۲)۔پھر اس زمانے میں ہندستان میں مسلمانوں کی حالت ِ زار کی مناسبت سے فرمایا: ’’مسلمانوں کی طرف سے اگر کسی شخص کو بات کرنے کا حق ہے، تو وہ صرف مسٹر جناح ہیں‘‘۔ (اقبال کے آخری دو سال، عاشق حسین بٹالوی، ص ۳۸۶، ایضاً،ص ۸۰)
راجا حسن اختر نے پوچھا: ’’کیا ہندستان میں کوئی ایسا شخص ہے، جسے ہم آپ کی خودی کا مظہر کہہ سکیں؟‘‘ علامہ اقبال نے جواب دیا: ’’ہاں، بالکل ہے اور وہ محمدعلی جناح ہے۔ اپنی قوم کو مَیں جس خودی کا درس دے رہا ہوں وہ محمدعلی جناح کے وجود میں جلوہ فرما ہے۔حق بات کہنے میں اسے باک نہیں، نہایت اعتباری آدمی ہے۔ مسلم قوم کا نجات دہندہ ہونے کی ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں‘‘ (ایضاً، ص ۷۹)۔ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو قائداعظم نے پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں سے کہا: ’’آج کل مسلمانوں کا سب سے اہم فرض یہی ہے کہ وہ اپنی تنظیم کریں اور ہندستان کی واحد اسلامی سیاسی جماعت ’آل انڈیا مسلم لیگ‘ کے جھنڈے تلے ایک محاذ پر جمع ہوجائیں۔ ہماری اُمیدیں نوجوانوں سے وابستہ ہیں۔ مَیں آپ کی کامیابی کے لیے دست ِ بہ دُعا ہوں‘‘(روزنامہ انقلاب، لاہور، ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۷ء، ایضاً، ص ۷۹)۔علامہ اقبال نے قائداعظم کی تائید میں بیان جاری کیا اور فرمایا: ’’میں مسٹر جناح کے ایک ایک لفظ کی تائید کرتا ہوں۔ مسلمان نوجوانوں کو اس سے بہتر مشورہ نہیں دیا جاسکتا‘‘۔ (گفتار اقبال، مرتبہ: رفیق افضل، بحوالہ ایضاً، ص ۷۹)
قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے دہلی اجلاس میں کانگرسی وزارتوں کے طرزِعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’’بندے ماترم‘ مسلم دشمن ترانہ ہے، جسےمسلمان بچوں کو اسکولوں میں پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بندے ماترم سے شرک کی بُو آتی ہے اور یہ مسلمانوں کے خلاف نعرئہ جنگ ہے‘‘۔ علامہ اقبال کو جب اخبار میں قائداعظم کا بیان بڑھ کر سنایا گیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’مسلمانوں کو چاہیے کہ جناح کے ہاتھ مضبوط کریں۔ لیگ کامیاب ہوگی تو جناح کے سہارے۔ جناح کے سوا اب کوئی مسلمانوں کی قیادت کا اہل نہیں‘‘۔ (اقبال کے حضور، نذیر نیازی، ص ۱۳۵، ایضاً، ص ۸۳)

علامہ محمد اقبال نے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے سے پہلے قائداعظم کو ۳۷-۱۹۳۶ء میں نہایت پُرمغز خطوط لکھے، جن میں قائداعظم کی سیاسی و فکری رہنمائی کی۔ اُن کو مسلمانوں کے لیے آزاد مملکت کے مطالبے پر قائل کیا۔ اپنی وفات سے گیارہ ماہ قبل علامہ اقبال نے جناح کے نام خط مؤرخہ ۲۸مئی ۱۹۳۷ء میں لکھا:

’’مسلم لیگ کو آخرکار یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے محض اعلیٰ طبقے کی نمایندہ بنی رہے یا عام مسلمانوں کی نمایندگی کرے۔ جب تک کوئی سیاسی تنظیم، عام مسلمانوں کی حالت سدھارنے کا وعدہ نہ کرے، وہ اس وقت تک عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی۔ نئے دستور کے تحت اعلیٰ ملازمتیں بالائی طبقوں کے بچوں کے لیے مختص ہیں۔ روٹی کا مسئلہ روز بروز نازک ہوتا جارہا ہے۔ مسلمانوں میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ وہ گذشتہ دوسو سال سے برابر تنزل کی طرف جارہے ہیں۔ غربت کی وجہ ہندو سودخوری اور سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کا علاج کیا ہے؟ خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذ سے اس مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔ اسلامی قانون کے گہرے اور دقت ِنظر مطالعے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس قانون کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، تو کم از کم ہرشخص کے لیے   حقِ روزی تو محفوظ ہوجاتا ہے۔لیکن جب تک اس ملک میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں معرضِ وجود میں نہ آئیں، اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں.... مجھے اتنا ضرور  نظر آتا ہے کہ اگر ہندومت نے معاشرتی جمہوریت کو قبول کرلیا تو خود ہندو دھرم کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اسلام کے لیے معاشرتی جمہوریت کا کسی موزوں شکل میں اور شریعت کے مطابق قبول کرنا کوئی نئی بات یا انقلاب نہیں بلکہ ایسا کرنا اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف لوٹنا ہے۔ مسائل حاضرہ کا حل مسلمانوں کے لیے ہندوئوں سے کہیں زیادہ آسان ہے‘‘(مکتوب اقبال بنام جناح، ۲۸مئی ۱۹۳۷ء)۔[پھر علامہ اقبال نے ۲۱جون ۱۹۳۷ء کو قائداعظم کے نام لکھا:]’’اس وقت تمام ہندستان میں جو طوفان بڑھتا چلا آرہا ہے، ہندستانی مسلمان صرف آپ ہی سے رہنمائی کی اُمید رکھتے ہیں‘‘۔
کراچی میں ۱۱؍اکتوبر ۱۹۳۸ء کو مسلم طلبہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا: ’’آپ اپنی گم شدہ میراث کی بازیابی کے لیے حقیقی اور پُرخلوص کوششیں کریں۔ وقت آگیا ہے کہ آپ اسلام کے لیے اور اقتصادی ، تعلیمی و صنعتی ترقی کے لیے کام کریں۔ مسلمانوں کے پاس [اس وقت] نہ کوئی گھر ہے، نہ کوئی ایسی جگہ جسے وہ اپنی کہہ سکیں۔ مسلم لیگ نے ان کے لیے ایک گھر بنادیا ہے اور ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔ اس پرچم کے گرد جمع ہوجایئے‘‘۔(سول اینڈ ملٹری گزٹ، ۱۲؍اکتوبر ۱۹۳۸ء، قائداعظم کی تقاریر، ج۲،ص ۲۶۳)
علامہ اقبال نے انھی خطوط میں قائداعظم کو لاہور میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس بلانے کی تجویز دی۔ اسی جذبے کے تحت مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس مارچ ۱۹۴۰ء میں لاہور میں منعقد ہوا جس میں ’قرارداد لاہور‘ (۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء) منظور کی گئی، جو بہت جلد ’قرارداد پاکستان‘ کہلائی اور مسلمان عوام کے خواب کی تعبیر بن کر اُن کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد یومِ اقبال کی تقریب منعقدہ ۲۵مارچ ۱۹۴۰ء (پنجاب یونی ورسٹی ہال، لاہور) میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا: ’’اگرچہ میرے پاس سلطنت نہیں ہے، لیکن اگر سلطنت مل جائے اور اقبال اور سلطنت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی نوبت آئے تو مَیں اقبال کو منتخب کروں گا‘‘ (روزنامہ انقلاب، لاہور، ۲۹مارچ ۱۹۴۰ء، بحوالہ گفتار قائداعظم،ص ۲۴۲، ایضاً، ص ۸۹)۔ ۱۹۴۴ء کو ایک مرتبہ پھر یومِ اقبال پر قائداعظم نے اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’اقبال ایک عظیم شاعر اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عملی سیاست دان بھی تھے۔ جہاں انھیں ایک طرف اسلام کے مقاصد سے شیفتگی اور عقیدت تھی، وہاں وہ اُن چند لوگوں میں سے تھے، جنھوں نے پہلے پہل ایک اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا‘‘۔(محمدعلی جناح ،بزبانِ انگریزی، از مطلوب الحسن سیّد، ص۲۳۱، ایضاً، ص ۹۱)

یہی وہ فکری پس منظر تھا، جس میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ۲۲مارچ ۱۹۴۰ء کو یہ واضح کیا کہ: ’’ہندوؤں اور مسلمانوں کا دو مختلف مذہبی فلسفوں ، معاشرتی رسم و رو اج اور ادب سے تعلق ہے۔ نہ وہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں، نہ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ دراصل وہ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی اساس متصادم خیالات اور تصورات پر استوار ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان تاریخ کے مختلف ماخذوں سے وجدان حاصل کرتے ہیں۔ ان کی رزم مختلف ہے، ہیرو الگ ہیں اور داستانیں جدا جدا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے، اور اسی طرح ان کی کامرانیاں اور ناکامیاں ایک دوسرے پر منطبق ہوجاتی ہیں۔ ایسی دوقوموںکو ایک ریاست کے جوئے میں جوت دینے کا،  جن میں سے ایک عددی لحاظ سے اقلیت اور دوسری اکثریت ہو، نتیجہ بڑھتی ہوئی بے اطمینانی ہوگا، اور آخرکار وہ تانا بانا ہی تباہ ہوجائے گا‘‘۔ چنانچہ قائداعظم نے آزاد مسلمان مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جسے قرارداد کی صورت میں پیش کردیا گیا۔
طلبہ اور نوجوانوں کی مجلس نے جب قائداعظم سے مذہب اور مذہبی حکومت کے متعلق سوال کیا تو اُنھوں نے برملا کہا: ’’جب میں انگریزی زبان میں ’مذہب‘ کا لفظ سنتا ہوں تو اِس زبان اور قوم کے عام محاورے کے مطابق میرا ذہن خدا اور بندے کی باہمی نسبتوں اور روابط کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ مَیں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک مذہب کا یہ محدود اور مقید مفہوم یا تصوّر نہیں ہے۔ مَیں نہ کوئی مولوی ہوں، نہ مُلّا اور نہ مجھے دینیات میں مہارت کا دعویٰ ہے۔ البتہ مَیں نے قرآنِ مجید اور اسلامی قوانین کے مطالعے کی اپنے تئیں کوشش کی ہے۔ اِس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات میں اسلامی زندگی سے متعلق ہدایات کے باب میں زندگی کے روحانی پہلو، معاشرت، سیاست، معیشت، سب کے متعلق رہنمائی ہے۔ غرض انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں، جو قرآنِ مجید کی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو۔ قرآن کی اصولی ہدایات اور سیاسی طریق کار نہ صرف مسلمانوں کے لیے بہترین ہیں بلکہ اسلامی سلطنت میں غیرمسلموں کے لیے بھی سلوک اور آئینی حقوق کا اس سے بہتر تصور ممکن نہیں‘‘۔ (صدق، لکھنؤ، ۱۹ جنوری ۱۹۴۱ء)
اب آپ دیکھیے کہ اقبال اور قائداعظم نے کب، کہاں اور کس شکل میں مذہبی کارڈ استعمال کیا؟ یا دینِ اسلام کو ایک کارڈ کے طور پر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ نظام کے طور پر پیش کیا؟ ان دونوں اکابر ملّت کی ساری جدوجہد ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مختص تھی، جسے وہ مسلمانوں کی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس مذہبی، لسانی، علاقائی کارڈ استعمال کرنے کا مقصد اقتدار کا حصول یا مخالف حکومت کو گرانا یا انتشار پھیلانا یا نفرت کے بیج بو کر علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ اس سے برعکس اقبال اور قائداعظم کا یہ نصب العین مسلمانوں کا اتحاد اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ مسلمانوں میں تہذیبی احیا، قومی شعور اور بقا کے لیے اسلامی جذبہ پیدا کرنا کارڈ نہیں بلکہ ابدی خدمت ہے۔
ہماری صدیوں پر محیط تاریخ کے اس اہم مسئلے پر ذرا گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک سطحی نقطۂ نظر غلط نتائج اخذ کرسکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب مغل سلطنت کی کمزوری، انتشار اور بے بسی نے، مسلمانوں کی دشمن قوتوں کو انتقام پہ اُبھارا، تو مرہٹوں، جاٹوں، سکھوں اور ہندو نسل پرستوں نے اپنے آپ کو منظم کرکے مسلمان نوجوانوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تب حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے مسلمان سرداروں اور علاقائی حکمرانوں کو خطوط لکھے، جن کا متن یہ تھا کہ: ’’ہندستان میں مسلمان اور اسلام کی بقا کے لیے مسلمانوں کا کسی نہ کسی حصے میں حکمران رہنا ناگزیر ہے‘‘۔ پھر شاہ ولی اللہ کے جانشینوں سیّداحمد اور شاہ اسماعیل نے جہاد کی تحریک بھی مسلمانوں کے قومی وجود کی بقا کے لیے شروع کی اور غریب الوطنی میں شہادتوں کے مراتب پر فائز ہوئے۔
سرسیّد احمد خاں، اقبال اور قائداعظم تینوں رہنمائوں نے عملی زندگی کا آغاز ’مسلمان ہندو اتحاد سے کیا، لیکن ہندو لیڈروں کی تنگ نظری قریب سے دیکھنے اور ان کے باطنی عزائم کو بھانپنے کے بعد اس خواب کو ترک کردیا اور اپنی صلاحیتیں قومی وجود کی بقا کے لیے وقف کردیں۔ سیّداحمد نے کھل کر کہہ دیا تھا کہ اب ’’یہ دونوں قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں اورمسلمان الگ ہوئے تو فائدے میں رہیں گے‘‘۔
۱۹۴۴ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے مسلمانوں کے لاشعورمیں موجزن اسی آرزو کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’اس [مطالبۂ پاکستان] میں میرا کوئی کمال نہیں۔ میں نے فقط وہ بات کہہ دی، جو مسلمانوں کے دلوں میں پوشیدہ تھی‘‘۔ علی گڑھ میں ہی پاکستان کے خواب پر روشنی ڈالتے ہوئے ۸مارچ ۱۹۴۴ء کو کہا کہ :

That Pakistan started the moment the first non-Muslim was converted to Islam in India long before the Muslims established their rule. As soon as a Hindu embraced Islam, he was outcast not only religiously, but also socially, culterally are economically.

ہند میں مسلمانوں کے اپنی حکومت قائم کرنے سے پہلے، جس دن، ہند میں پہلے غیرمسلم نے اسلام قبول کیا، اسی لمحے پاکستان کے قیام کا آغاز ہوگیا۔ جونہی ایک ہندو نے اسلام قبول کیا تو اسے نہ صرف مذہبی اعتبار سے بلکہ معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی لحاظ سے بھی مردود قرار دے دیا گیا۔

کیوں؟ اس لیے کہ مسلمان اپنے تہذیبی، سماجی، شخصی، فکری اور مذہبی حوالے سے اپنا الگ تشخص رکھتا تھا، جو ہندوئوں سے بالکل مختلف تھا۔ غور کرنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ مسلمان کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جب بھی مسلمانوں کے قومی وجود اور بقا کا سوال ہوگا، تو سب سے پہلے ذکر مذہب کا ہوگا۔ لیکن یہاں مذہب کسی قسم کا مذہبی کارڈ نہیں بلکہ قومی تشخص، تہذیبی پہچان اور انفرادیت کی علامت ہے اور یہ علامت قومی وجود کی بقا کی ضامن ہے۔ اگر آپ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد، اُن کی مختلف تحریریں اور خاص طور پر قائداعظم کے نام ان کے خطوط پڑھیں، تو احساس ہوگا کہ وہ علیحدہ وطن کا مطالبہ مسلمانوں کے معاشی مفادات، تہذیبی، علمی، سماجی اور مذہبی عوامل کے پیش نظر کر رہے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ ہندو مسلم فسادات کا حل تھا۔
قائداعظم کے تصورِ پاکستان کا بغور مطالعہ کریں تو وہ مسلمانوں کو ہندو غلبے اور اکثریتی جبر سے نکال کر ایک ایسے خطۂ زمین کا حصول چاہتے تھے، جہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے تحت آزادی سے زندگی گزار سکیں۔ اسی لیے انھوں نے بیسیوں بار کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانونی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ پھر پیر آف مانکی شریف کے سوال پر زور دے کر کہا کہ: ’’پاکستان میں کوئی قانون خلافِ مذہب نہیں بنے گا‘‘۔ کیا متحدہ ہندستان میں ایسا ممکن تھا؟ کیا آج ہندستان کی حکومت ایسی قانون سازی کرسکتی ہے، جس کے تحت مسلمان اپنی شریعت کے تحت زندگی گزار سکیں؟

اس لیے امرواقعہ یہی ہے کہ تحریک ِ پاکستان، اقبال اور قائداعظم کی جدوجہد مسلمانوں کے قومی وجود کی بقا کے لیے تھی۔ اس میں کارڈ نامی شے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اقبال اور قائداعظم دونوں کا تصورِ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست کا تھا۔ جس گاندھی کی آرایس ایس کے ہاتھوں موت کو ہمارے لبرل اور سطحیت کے مارے دانش ور مسلمانوں کی ہمدردی کا شاخسانہ کہتے ہیں اُنھیں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ گاندھی نے اپنے مقبولِ عام رسالے ینگ انڈیا میں اس طرح کے مضامین چھاپے جن سے آر ایس ایس اور ’ہندوتوا‘ کی بُو آتی تھی اور جن میں کہا گیا تھا کہ ہندستان میں مسلمانوں سے نبٹنے کے تین طریقے ہیں:

  • اوّل: چونکہ وہ ہندوئوں سے مسلمان ہوئے ہیں اس لیے اُنھیں زبردستی ہندودھرم میں شامل کرلیا جائے۔ اس کے لیے کئی تحریکیں بھی چلیں۔
  • دوم: اگر وہ یہ نہ مانیں تو انھیں ہندستان سے نکال دیا جائے۔
  • سوم: اگر یہ نسخہ بھی کارگر نہ ہو تو اُنھیں سمندر بُرد کر دیا جائے۔ (سیاست ملیہ، محمد امین زبیری، ص ۱۷۵-۱۷۶)

کیا ’ہندوتوا‘ کی فلاسفی یہی نہیں ہے؟آج آر ایس ایس یہی نہیں کر رہی؟ مودی نے اپنی وزارتِ اعلیٰ میں گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام کروا کر اسی خونیں ڈرامے کا ایکٹ پیش نہیں کیا تھا؟ اُسے اپنی مسلمان کُش پالیسیوں کی وجہ سے ہندو اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی؟ اور اسی ایجنڈے کے تحت آج کشمیر ظلم و ستم کی نگری بنا ہوا ہے۔ شیخ عبداللہ جیسے کٹر کانگرسی گھرانے کے جانشین ہوں یا دہلی نواز سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، آج کیوں دو قومی نظریے کی حقانیت کا اقرار کر کے ’جناح‘ سےعقیدت کا اظہار کر رہے ہیں؟ کیونکہ یہ اُن کی قومی بقا کا مسئلہ ہے۔ جب پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی نظریے پر ہے اور اسی نظریے کو ہندستانی مسلمانوں کی ۷۵ فی صد تعداد نے ۴۶-۱۹۴۵ء میں ووٹ دیے تھے، تو پھر اس نظریے کو حب الوطنی کا معیار کیوں نہ بنایا جائے؟
اب یہاں پرقائداعظم کے صرف تین بیانات کو مطالعے کے لیے پیش کر رہا ہوں، جو انھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد دیے۔ 

۱۴ دسمبر ۱۹۴۷ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے آخری خطاب میں کہا:
Let it be clear that Pakistan is going to be a Muslim State based on Islamic Ideals. It was not going to be an ecclesiastical state.
میں صاف طور پر واضح کر دوں کہ پاکستان، اسلامی نظریات پر مبنی ایک مسلم ریاست ہوگی، یہ پاپائی ریاست نہیں ہوگی۔

۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں قائداعظم نے کہا:
Islam and its idealism have taught democracy. Islam has taught, equality, justice and fairplay to everybody.... Islam is not only a set of rituals, traditions and spiritual doctrines. Islam is also a code for every Muslim, which regulates his life and his conduct in even politics and economics and the like. It is based on the highest principles of honours, integrity, fairplay and justice for all. One God and equality of manhood is one of the 
fundamental principles of Islam.
(سول اینڈ ملٹری گزٹ، ۲۷ جنوری ۱۹۴۸ء، تقاریر ( جلد۴) ، ص ۲۶۶۹، ۲۶۷۰)
  اسلام اور اس کے کمال مطلوب نے جمہوریت کا سبق سکھایا ہے۔ اسلام نے بتایا ہے کہ انصاف اور زیبائی ہر ایک کا حق ہے۔ اسلام محض چند عبادات ، رسوم اور روحانی کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ’’اسلام ہرمسلمان کے لیے ضابطۂ حیات بھی ہے، جس کے مطابق وہ اپنی روزمرہ زندگی، اپنے افعال و اعمال، حتیٰ کہ سیاست و معاشیات اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں عمل پیرا ہوتا ہے۔ اسلام سب کے لیے انصاف، رواداری، شرافت، دیانت اور عزت کے اصولوں پر مبنی ہے۔خداے واحد اور انسانی برابری، اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں۔

اسی طرح ۱۴فروری ۱۹۴۸ء کو سبی دربار (بلوچستان) میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us, by our great law-giver the Prophet of Islam. Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic Ideals. 
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات انھی شہری قوانین کی پابندی میں ہے، جو ہمارے شارع اعظم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے متعین کیے۔ آیئے ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پر استوار کریں۔

یہ اب سے چند ماہ قبل کا واقعہ ہے کہ ہندستانی ٹی وی کا ایک چینل میرے سامنے چل رہا تھا۔ ایک دانش وَر خاتون عیدالاضحی کے حوالے سے بڑی حقارت بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی کہ: ’’ہندستان سرکار کو قربانی پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ مسلمان جانوروں کا خون بہاتے اور گندگی پھیلاتے ہیں۔ اُنھیں چاہیے کہ وہ بکرے کی شکل کا کیک بنوا کر گھر لائیں اور اُس کو کاٹ لیں‘‘۔ 
یہ گفتگو سن کر جہاں مجھے قائداعظم کے متعدد انتباہ (وارننگ) یاد آئے، وہاں پاکستان کے ’سیکولر اور ابلاغی اجتہادی‘ بھی یاد آئے: ’’جن کا فرمانا ہے کہ: حج کرنے کے بجاے وہ رقم مستحق لوگوں کو دے دینی چاہیے‘‘۔ اُنھیں یہ علم ہی نہیں کہ صاحب ِ استطاعت پر حج فرض ہے۔ اُنھی کے دیکھا دیکھی کچھ از قسم مولوی حضرات نے سوشل میڈیا پر اشتہارات دینے شروع کر دیے ہیں کہ ’’اپنی قضا و خطا نمازیں ہم سے پڑھوا دیں‘‘، حتیٰ کہ ’’مرحوم والدین کے لیے بھی نمازیں پڑھوانے کا بندوبست ہے، جس کے لیے اتنی ادایگی کرنا ہوگی‘‘۔ خدا جانے ایسے جاہلوں کا ’اجتہاد‘ ہمیں کہاں لے جائے گا؟
یہاں پر ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ ڈاکٹر محمداقبال اور محمدعلی جناح کے حوالے سے ایک مخصوص لابی کی طرف سے یہ کہنا کہ اُنھوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ کا نعرہ لگاکر مذہبی کارڈ استعمال کیا‘‘۔ حقیقی معنوں میں اور تاریخی طور پر درست بات نہیں ہے۔ علامہ اقبال تو اپریل ۱۹۳۸ء میں وفات پاگئے تھے۔ دراصل مسلم لیگ نے باقاعدہ پارٹی کی سطح پر تو یہ نعرہ نہیں لگایا تھا۔ تاہم، مسلم لیگ کے جلسے اور جلوسوں میں کارکنوں کا یہ برق آسا نعرہ تھا۔  اس نعرے کا پس منظر یہ ہے کہ سیالکوٹ سے مسلم لیگ کے ایک پُرجوش کارکن اصغر سودائی [۲۸ستمبر ۱۹۲۶ء-۱۷مئی ۲۰۰۸ء] نے بحیثیت طالب علم ۱۹۴۴ء میں ایک نظم لکھی، جس کا یہ ایک مصرعہ لیگی کارکنوں کے دلوں کو چھو گیا، پورے ہند میں پھیل گیا اور تاریخ کا حصہ بن کراصغر سودائی کو امر کرگیا۔ 
اگرچہ تاریخ، مسلم لیگ کے ریکارڈ ،اور کسی قرارداد میں کہیں یہ حوالہ نہیں ملتا کہ یہ نعرہ مسلم لیگ نے بحیثیت پارٹی منظور کیا تھا، لیکن اس نعرے سے قطع نظر قائداعظم نے تحریک ِ پاکستان کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعد مجموعی طور پر کم از کم ۱۱۴بار، ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ، دلیل اور منطق کے ساتھ اسلام، اسلامی قانون، شریعت کا ذکر، قانون سازی کے حوالے سے کیا، مگر یہ بات نعرے کے طور پر نہیں کہی۔یہی وجہ ہے کہ قائداعظم کے رفقاے کار اور پہلی دستورساز اسمبلی نے نعرے کے طور پر نہیں، بلکہ نہایت سنجیدگی سے مارچ ۱۹۴۹ء میں ’قرارداد مقاصد‘ منظور کرکے، ایک باقاعدہ نظام کے خدوخال کو واضح کیا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام کا یہ حقیقی تصور ہے۔
قائداعظم کی ساری جدوجہد ایک اسلامی، جمہوری اور جدید پاکستان کے لیے تھی۔ انھوں نے پوری جدوجہد کو نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ دلیل ، قاعدے اور ضابطے کے بل پر اُٹھایا اور منظم کیا۔ اس طرح  پاکستان کا حصول ایک تہذیبی ، ملّی اور قومی مقصد تھا۔

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد جب سے بھارتی حکومت نے غیرقانونی اور غیراخلاقی طور پر، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور وہاں پورے ہند کو غیرمنقولہ جایداد خریدنے کا حق دیا ہے، تین ماہ ہونے کو آئے ہیں کہ وہاں بھارتی مسلح افواج کے زیرِ تسلّط خطّے میں کرفیو نافذ ہے۔

یہاں اس صورتِ حال سے دوچار اور حالات کی شاہد چند خواتین کے مشاہدات پیش ہیں:

 سری نگر کی رہایشی، عظمیٰ جاوید خوف و دہشت کے مارے گھر سے باہر نہیں نکلی۔ البتہ وہ ہرتھوڑی دیر بعد صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے دو منزلہ مکان کی کھڑکی سے باہر ضرور جھانکتی ہے۔یہ ۲۰سالہ طالبہ تعلیم کے سلسلے میں زیادہ تر کیرالہ ہی میں رہتی ہے ، مگر اس بار اپنے والدین اور دوسرے رشتے داروں کے ساتھ عیدالاضحی سے کچھ عرصہ قبل سری نگر آئی تھی۔ تاہم، یہاں پہنچ کر عید کی خوشیاں منانے کے بجاے ایک ایسے پنجرے میں قید کر دی گئی، جس کے باہر سنسان گلیوں میں مسلّح بھارتی فوجی گشت کر رہے ہیں۔ عید کے روز چند کشمیریوں نے اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے سڑک پار کرنے کی اجازت طلب کی، تو بھارتی فوجیوں نے سختی سے انکار کر دیا۔
عظمیٰ نے معروف خبر رساں عالمی ادارے، الجزیرہ کے نمایندے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ: ’’ یوں تو اس وقت کشمیر میں ہر فرد ہی مغلوب و معتوب ہے، لیکن کشمیری خواتین اس غیر انسانی محاصرے کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔مواصلاتی نظام ٹھپ ہونے کی وجہ سےمَیں نے پچھلے کئی روز سے قریب ہی رہنے والی اپنی سہیلی کی آواز تک نہیں سُنی اور نہ یہ جانتی ہوں کہ اس وقت منزیٰ کس حال میں ہے۔ ہمارے مَرد تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح کبھی کبھار نماز کے لیے گھروں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن ہم خواتین تو یہ بھی نہیں کر سکتیں‘‘۔ 
عظمیٰ کا مزید کہنا تھا: ’’ مسلّح بھارتی سپاہیوں کی وحشت ناک، ہوس ناک نظریں مجھ سمیت دوسری لڑکیوں اور خواتین کو خوف کے مارے بے جان و مفلوج کر دیتی ہیں۔ مَیں چاہتی ہوں کہ میرے والد اور بھائی بھی باہر نہ نکلیں کہ کہیں وہ بھارتی فوج کی سفّاکیت کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔ لیکن اُن کے

پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں، کیوں کہ اشیاے خورد و نوش اور روزمرّہ کی دوسری ضروریات پوری کرنے کے لیے انھیں چار دیواری چھوڑنی ہی پڑتی ہے‘‘۔ 
’’غیر کشمیریوں کی آبادکاری پر عاید پابندی ختم کرنے کے محرکات کا اندازہ آر ایس ایس کے ان اوباش عناصر کے اسکرین شاٹس سے لگایا جا سکتا ہے، جن میں ایسے انتہا پسند ہندوئوں کی عامیانہ پوسٹوں نے بھی کشمیری خواتین کو کرب کا شکار کردیا ہے۔پچھلے دنوں ہمارے گھر کے باہر ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا، جو آناً فاناً مظاہرین اور بھارتی افواج کے درمیان تصادم کی وجہ سے پُرتشدد ہو گیا۔ تب مَیں اور میری والدہ گھر میں اکیلی تھیں، جب کہ میرے والد اور بھائی مظاہرین میں شامل تھے۔ جب اس مظاہرے نے تصادم کی شکل اختیار کی، تو مجھے اُن کی فکر ستانے لگی۔   دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔ خوف و پریشانی سے حالت غیر ہو گئی۔ رات گئے جب میرے والد اور بھائی گھر لوٹے، تو میرا بلڈ پریشر اس قدر شُوٹ کر چکا تھا کہ اُنھیں مجھے دکھانے کے لیے ڈاکٹر تک رسائی کے لیے تدابیر سوچنا پڑیں‘‘۔
غیر کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے کی غرض سے بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۵-اے میں ترمیم کی راہ ہموار کرنے کے لیے بی جے پی کی حکومت نے یہ جواز گھڑا کہ: ’’اس فیصلے سے مسلم اکثریتی خطے میں نہ صرف صنفی مساوات قائم ہو گی، بلکہ مسلمان خواتین کو ’آزادی‘ بھی     مل جائے گی‘‘۔ حالانکہ اس اعلان کے چند روز بعد ہی بھارت کی ہندو قوم پرست حکمران جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاست دانوں نے کشمیری خواتین سے متعلق نازیبا بیانات دینا شروع کر دیے۔مثال کے طور پر کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے پانچ روز بعد ۱۰؍اگست کو بھارتی ریاست، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ، منوہر لال نے یہ بیان دیا کہ: ’’جونہی کشمیر کُھلے گا، تو وہ وہاں سے دُلہنیں لے کر آئیں گے‘‘۔ قبل ازیں، بی جے پی ہی سے تعلق رکھنے والے   ایک رُکن اسمبلی، وکرم سینی نے کہا تھا کہ: ’’اب کشمیر کی گوری خواتین سے بیاہ رچا سکتے ہیں‘‘۔
بی جے پی سے وابستہ سیاسی رہنمائوں کے اس چھچھورے پَن اور نازیبا بیانات پر نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونی ورسٹی سے وابستہ خاتون پروفیسر اور حقوقِ نسواں کی محافظ، نیو دتیہ مینن کا    یہ بیان سامنے آیا کہ: ’’اس قسم کے بیانات دراصل فتح اور لُوٹ مار کا علانیہ اظہار ہیں، جن سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے محرّکات بھی عیاں ہوتے ہیں‘‘۔

انتہا پسند ہندو رہنماؤں کے ان خیالات نے بھارتی سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کردیا اور مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر کشمیری خواتین سے شادی سے متعلق پوسٹوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس سلسلے میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ۵؍اگست کے بعد گوگل پر اس سوال کا جواب تلاش کرنے والے بھارتی صارفین کی تعداد میں حد درجہ اضافہ دیکھا گیا: ’’ کشمیری خواتین سے شادی کیسے کی جا سکتی ہے؟‘‘
انتہا پسند ہندوئوں کی جانب سے ایسے سفلی جذبات کے اظہار نے کشمیری خواتین کے احساسِ عدم تحفظ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سری نگر کی ۲۲سالہ ثمرین کہتی ہیں کہ: ’’ بھارت میں جس انداز سے کشمیری خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر محض ایک جنس کے طور پر اپنانے، کم زور مخلوق سمجھ کر اُن کی نمایش کرنے اور اُن میں خوف و دہشت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے، اُس کے سبب کشمیری خواتین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم خود کو مَردوں سے بھی زیادہ ستم رسیدہ محسوس کرتی ہیں۔ مواصلاتی نظام معطل ہونے کی وجہ سے ہمیں دُہری اذیّت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اب ہم دوسرے شہروں اور علاقوں میں مقیم اپنے عزیز و اقارب، حتیٰ کہ بہن، بھائیوں تک کی خیریت دریافت نہیں کرسکتے۔ گذشتہ کئی روز سے فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطّل ہونے کی وجہ سے مَیں نئی دہلی میں رہایش پذیر اپنی بہن سے رابطہ نہیں کر سکی۔ مَیں اُس سے ملنے کے لیے ٹکٹ بُک کروانا چاہتی تھی، لیکن یہ بھی ممکن نہ ہو سکا، کیوں کہ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی رہایش گاہ سے ۲۰کلو میٹر دُور واقع ایئر پورٹ جانا ہے، جو کرفیو نافذ ہونے کے سبب نا ممکن ہے۔مستقل پریشانی لاحق ہونے کی وجہ سے میری والدہ بیمار ہوگئی ہیں۔
دوسری جانب سری نگر کی رہایشی ۲۲سالہ مصباح رئیس کو بھارت میں کشمیری خواتین کے ساتھ بڑھتے صنفی تعصّب پر کوئی حیرانی نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی خود کو مسلمان کشمیری خواتین کا محافظ و نگہبان قرار دینے کی کوشش کا حقیقت سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں۔  تاہم، مَیں اس بات کی توقع رکھتی ہوں کہ بھارت کا ایک باشعور طبقہ مودی سرکار میں پائے جانے والے صنفی تعصب سے کماحقہٗ واقفیت رکھتا ہے۔ نیز، انھیں اس امر کا بھی ادراک ہے کہ کشمیری خواتین کو ’محفوظ بنانے کی کوششوں‘ کے پیچھے درحقیقت کون سے عزائم کار فرما ہیں‘‘۔ 
بدقسمتی سے دورانِ جنگ خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کی دیگر صورتوں کو عموماً ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رُکن، کویتا کرشنن ۵؍اگست کے بعد چند سماجی کارکنوں کے ساتھ خواتین کی حالتِ زار جاننے کے لیے مقبوضہ کشمیر پہنچیں۔

مقبوضہ وادی میں مختلف مسلمان خواتین سے ملاقاتوں کے بعد کویتا کرشنن کا کہنا تھا کہ: ’’انڈین ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے کشمیری خواتین اور لڑکیوں کی  بے چینی و اضطراب میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ اپنے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کویتا کا کہنا تھا کہ ’’کشمیری خواتین نے ہمارے وفد کو بتایا کہ کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے اُنھیں اپنے بچّوں کے لیے دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیا لانے میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ ۱۰برس سے کم عُمر بچّوں کی غیر قانونی قید پر بھی بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ نیز، بعض خواتین اور لڑکیوں نے بھارتی مسلّح افواج کے گھروں پر چھاپوں کے دوران اپنی آبروریزی کے خدشات کا بھی ذکر کیا‘‘۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے تسلیم کیا ہے کہ ’’بھارتی افواج ماضی میں بھی کشمیری خواتین کی عصمت دری کے واقعات میں ملوّث رہی ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق، ۲۳فروری ۱۹۹۱ء کو جب قابض بھارتی افواج نے وادی میں ایک بڑا ملٹری آپریشن کیا، تو اس دوران سیکورٹی فورسز نے ضلع کپواڑہ کے دو دیہات، کونان اور پوش پورہ میں درجنوں خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ اس قسم کے واقعات وقتاً فوقتاً مقبوضہ کشمیر میں رُونما ہوتے رہتے ہیں ، مگر بھارتی فوج انھیں ہمیشہ رد کر دیتی ہے‘‘۔
تاہم، جولائی ۲۰۱۹ء میں سامنے آنے والی اقوامِ متّحدہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ: ’’ فی الوقت ۱۹۹۱ء میں کونان اور پوش پورہ میں بڑے پیمانے پر رُونما ہونے والے خواتین کی آبرو ریزی کے واقعات کے مقدّمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بھارتی حکام، متاثرہ خواتین اور اُن کے اہلِ خانہ کی حصولِ انصاف کی کوششوں میں رُکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں‘‘۔ 
اسی رپورٹ میں بھارت پر یہ زور بھی دیا گیا ہے کہ: ’’مقبوضہ کشمیر میں جنسی تشدد پر مبنی جرائم کے مرتکب ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے خلاف تحقیقات کی جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ تاہم، اس کے برعکس بھارتی فوج کی جنونیت میں روز بہ روز اضافہ ہی ہو رہا ہے اور عفت مآب کشمیری خواتین خود کو پہلے سے زیادہ آفت رسیدہ تصوّر کر رہی ہیں‘‘۔
اس سلسلے میں سری نگر کی رہایشی ۲۲سالہ طالبہ، جانیس لنکر نے بتایا ہے ’’ بی جے پی رہنمائوں اور انتہا پسند ہندوئوں کے مسلمان کشمیری خواتین سے متعلق تضحیک آمیز بیانات اور نازیبا رویہ ہی مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافے اور مظاہروں، احتجاج اور لاک ڈائون کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اصل جڑ ہے‘‘۔ 

کشمیری طالبہ نے اس صورتِ حال کا ذمّے دار بھارت کے بعض سیاسی طبقات کی جانب سے سِفلی جذبات کی حوصلہ افزائی کے علاوہ بھارتی سنیما گھروں میں کشمیری خواتین کے کرداروں کی نمایش کو بھی ٹھیرایا۔ اس بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ: ’’بھارت میں کشمیری عورت کو انتہائی سادہ لوح، بے ضرر، نادان اور ایسی گڑیا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جس سے صرف دل بہلایا جا سکتا ہے۔ مَیں باقاعدگی سے سوشل میڈیا استعمال کرتی ہوں۔ مَیں نے مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسی متعدد توہین آمیز اور مضحکہ خیز پوسٹس دیکھی ہیں کہ جن میں باحجاب کشمیری خواتین سے متعلق انتہائی نازیبا تبصرے کیے گئے ہیں، جو ایک نفرت انگیز عمل ہے‘‘۔
کشمیری خواتین سے متعلق بی جے پی کے دریدہ دہن رہنماؤں کے ایسے انتہائی گھٹیا بیانات پر نئی دہلی سے معروف دانش ور عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ ’’یوں اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے   بعض رہنماؤں کے ایسے نازیبا کلمات قوم پرست ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کا حربہ ہے، لیکن اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ درحقیقت مسلمانوں سے صدیوں پر محیط دَور کا شدید انتقام لینے کی کوششوں کا ایک حصّہ ہے۔ حالاں کہ انتہا پسندہندوئوں کی جانب سے بیان کردہ تاریخ کا نصف سے بھی زائد حصّہ کذب بیانی، افسانہ سازی اور مبالغہ آ رائی پر مشتمل ہے‘‘۔

کشمیر ی قوم پر اس وقت جو آفت آن پڑی ہے اور جس طرح بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے ان کے تشخص اور انفرادیت پر کاری وار کیا ہے، ہونا تو چاہیے تھا کہ مذہبی عناد سے اوپر اٹھ کر اس کا مقابلہ کیا جاتا۔ افسوس کا مقام ہے کہ کشمیری پنڈتوں (ہندوئوں) کے بااثر طبقے اور اکثریت نے ایک بار پھر اپنے ہم وطنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر تاریخ کے مختلف اَدوار کو دہرایا، اور ظلم و جبر کے آلات (Instruments of Tyranny) بننے کا کام کیا۔ سابق انڈین ایئر وائس مارشل کپل کاک، مقتدر اسپورٹس صحافی سندیپ، اشوک بھان، نتاشا کول، فلم میکر سنجے کاک اور  ایم کے رینہ وغیرہ کے علاوہ پنڈت برادری، کشمیریو ں پر آئی اس آفت پر جھوم اٹھی ہے۔ قومی میڈیا میں موجود اسی کمیونٹی کے تین افراد، سیکورٹی کے ہمراہ کشمیر میں گھوم کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ: ’’کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے کشمیری خوش ہیں اور کسی بھی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کر رہے ہیں‘‘۔ یہ تو بھلا ہو بین الاقوامی میڈیا کا، جس نے ان کا پول کھول دیا۔ 

حیرت کا مقام ہے کہ جہاں بقیہ تمام میڈیا ، انٹرنیٹ، فون کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے دست و پا ہوگیا تھا، یہ تین افراد لمحہ بہ لمحہ تصویریں اور رپورٹیں سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کر رہے تھے۔ وہ کشمیر کو بھول کر نسل پرستی کے پیمانے سے معاملات کو جانچ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ: ’’۱۹۹۰ء میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، آج مودی حکومت نے اس کا بدلہ چکادیا ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ چند افراد کے مبینہ افعال کی سزا اجتماعی طور پر پوری کشمیری قوم کو کیسے دی جاسکتی ہے؟ ویسے ۱۹۹۰ء سے لے کر اب تک کشمیر میں تو بھارت ہی کی عمل داری ہے۔ جن لوگوں نے کشمیری پنڈتوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا، ان کے خلاف تادیبی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ بلکہ اس کو محض پروپیگنڈا کا ہتھیار بنایا گیا۔ یہ خود کشمیری پنڈتوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے۔ 
یہ سچ ہے کہ۱۹۸۹ء میں کشمیر میں عسکری تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی خوف کی فضا طاری ہوگئی تھی۔ عسکریت پسندی پر کسی کا کنٹرول نہ ہونے کے باعث، آوارہ اور غنڈا عناصر نے بھی اس میں پناہ لی۔ کئی افراد توبغیر کسی مقصد کے یا کسی سے بدلہ چکانے کی نیت سے بھی عسکریت میںشامل ہوگئے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) اور حزب المجاہدین کو چھوڑ کر، ایک وقت تو وادی میں ایک سو سے زائد عسکری تنظیمیں تھیں۔اس طوائف الملوکی کو مزید ہوا دینے میں بھارتی ایجنسیوں نے بھی بھر پور کردار ادا کیا۔ ۱۹۸۹ء میں گورنر بننے کے فوراً بعد نئی دہلی حکومت کے گورنر جگ موہن نے پوری سیاسی قیادت کو ، جو حالات کنٹرول کر سکتی تھی، گرفتار کرکے بھارت کے دُور دراز علاقوں کی جیلوں میں بند کردیا۔بھارت نواز سیاسی قیادت تو پہلے ہی فرار ہوکر جموںاور دہلی منتقل ہوچکی تھی۔ وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہوگئے تھے۔ اس انارکی کا خمیازہ کشمیری پنڈتوں کو ہی نہیں بلکہ مقامی اکثریتی آبادی مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق: ’’۳۰سالوں میں۲۵۰ پنڈت قتل ہوئے، جس کی وجہ سے [مبینہ طور پر] ڈھائی لاکھ کی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگئی‘‘۔اگر یہ نسل کشی ہے تو اس دوران کشمیر میں اندازاً جو ایک لاکھ مسلمان بھی شہید کیے گئے، وہ کس کھاتے میں ہیں؟ جموں خطے کے دُور دراز علاقوں میں مجموعی طور پر ۱۵۰۰ کے قریب غیر پنڈت ہندو ، جو زیادہ تر دلت، اور راجپوت تھے، قتل عام کی وارداتوں میں ہلاک ہوئے، مگر اس کے باوجود ان خطوں سے آبادی کا کوئی انخلا نہیں ہوا۔ 
چونکہ میں خود ان واقعات کا چشم دید گواہ ہوں، اس لیے مکمل ذمہ داری کے ساتھ یہ تحریر کرسکتا ہوں کہ گورنر جگ موہن، پنڈتوں کے انخلا میں براہ راست ملوث ہوں یا نہ ہوں، مگر انھوں نے حالات ہی ایسے پیدا کیے کہ ہر حساس شخص محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور تھا۔ اگر معاملہ صرف پنڈتوں کی سلامتی کا ہوتا، توسوپور اور بارہ مولا کے پنڈت خاندانوں کو پاس ہی بھارتی فوج کے ۱۹ویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر منتقل کیا جا سکتا تھا۔ایک تو اپنے گھروں کے ساتھ ان کا رابطہ بھی رہتا اور حالات ٹھیک ہوتے ہی واپس بھی آجاتے۔جگ موہن کے آتے ہی افواہوں کا بازار گرم تھا، کہ: ’’آبادیوں پر بمباری ہونے والی ہے‘‘۔ کوئی ان افواہوں کی تردید کرنے والا نہیں تھا۔
۱۹۹۰ء کے اوائل میں انارکی اور عسکریت کی وجہ سے، کئی بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ مرنے والوں میں پنڈت بھی شامل تھے اور کشمیری مسلمان بھی۔ تاہم، کشمیر ی پنڈتوں کی گھر واپسی کے موضوع پر جہاں بھارتی حکومت سے لے کر بھارتی میڈیا کے بااثر حلقے تک، اکثریتی طبقے کے جذبات کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ پنڈتوں کو مارنے والے وہ بندوق بردار جب تائب ہوئے تو انھیں بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ 
کشمیر کی آزاد حیثیت کو زیر کرکے جب مغل بادشاہ اکبر نے آخری تاج دار یوسف شاہ چک کو قید اور جلا وطن کیا، تو مغل اگرچہ مسلمان تھے، مگر اس خطے میں ان کی سیاسست کا انداز سامراجیوں جیسا تھا۔ چونکہ کشمیر میں مسلمان امرا نے ہی مغل فوج کشی کی مزاحمت کی تھی، اسی لیے انھوں نے کشمیری پنڈتوں کی سرپرستی کرکے اقلیت گری (minority complex) کو ابھارا اور مسلمان امرا کو نیچا دکھانے کے لیے کشمیری پنڈتوں کو اپنا حلیف بنایا۔ بقول شیخ محمد عبداللہ :’’پنڈتوں کے  جذبۂ امتیاز کو تقویت دینے کے لیے آدتیہ ناتھ بٹ کو ان کی مراعات کا نگہبان مقر ر کیا۔ جنوبی و شمالی کشمیر میں کشمیری پنڈت ہی گورنر بنائے گئے‘‘۔ 

زبان و ادب پر یلغار

ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے کے بعد اب کشمیری عوام کی غالب اکثریت کے تشخص، تہذیب و کلچر پر کاری ضرب لگانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جہاں ابھی حال ہی میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شا نے: ’’ہندی کو قومی زبان قرار دینے کا عندیہ دیا‘‘، وہیں دوسری طرف حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے چند عہدےداروں نے ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ: ’’علاقائی زبانوں کا اسکرپٹ، یعنی رسم الخط دیوناگری، یعنی ہندی میں تبدیل کرکے ملک کو جوڑا جائے‘‘۔ اس کی زد میں براہ راست کشمیری (کاشئر) اور اردو زبانیں آتی ہیں، جو فارسی، عربی، یعنی نستعلیق    رسم الخط کے ذریعے لکھی اور پڑھی جاتی ہیں۔ یہ مہم تو کئی برسوں سے جاری ہے، مگر حال ہی میں بی جے پی کے لیڈروں ، بشمول دہلی میں مقیم چند کشمیر پنڈت گروپوں نے اس کو مہمیز لگائی ہے۔ بھارت کے موجودہ قومی سلامتی مشیر اجیت دوبال نے عرصے سے کشمیر کو سیاسی کے بجاے ’تہذیبی جنگ کا مرکز‘ قرار دیا ہے۔

چند برس قبل حیدر آباد (تلنگانہ، بھارت) کی تقریب سے خطاب میں اجیت دوبال نے کہا تھا: ’’اس مسئلے کا حل تہذیبی جارحیت اور اس خطے میں ہندو ازم کے احیا میں مضمر ہے‘‘۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال کشمیر میں گورنر انتظامیہ نے کشمیری ثقافتی لباس پھیرن پر پابندی لگادی تھی۔ پہلے تو اسے سیکورٹی رسک قرار دیا گیا، جس کے بعدتعلیمی و سرکاری اداروں میں عام لوگوں اور صحافیوں کے پھیرن پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ کسی قوم کو ختم کرنے کے لیے صدیوں سے قابض طاقتوں کا طریقہ رہا ہے کہ اس کو اس کی تاریخ و ثقافت سے دور کردو۔ کشمیریوں کی نسل کشی (ethnic cleansing)کے ساتھ کشمیر کی ثقافت کو بھی ختم کرنا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ 
    ایک منصوبے کے تحت ’’کشمیر کی ۶۴۷سالہ مسلم تاریخ کو ایک تاریک دور‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ویسے ان چھے صدیوں میں کشمیری مسلم سلاطین کا دور تو صرف ۲۴۷برسوں تک ہی محیط تھا، باقی وقت تو بیرونی حکمرانوں نے ہی کشمیر پر گورنروں کے ذریعے حکومت کی ہے۔ کشمیری زبان کے رسم الخط کو قدیمی شاردا اور پھر دیوناگری میں تبدیل کرنے کی تجویز اس سے قبل دوبار۲۰۰۳ء اور پھر ۲۰۱۶ء میں بھارت کی وزارت انسانی وسائل نے دی تھی، مگر ریاستی حکومت نے اس پر سخت موقف اپنا کر اس کو رد کردیا تھا۔ بی جے پی کے لیڈر اور اس وقت کے مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی نے ۲۰۰۳ء میں تجویز دی تھی: ’’کشمیری زبان کے لیے دیوناگری کو ایک متبادل رسم الخط کے طور پر سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور اس رسم الخط میں لکھنے والوں کے لیے ایوارڈ وغیرہ تفویض کیے جائیں۔ یوں کشمیری زبان کا قدیمی شاردا اسکرپٹ بھی بحال ہو جائے گا‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر کشمیری زبان کا اسکرپٹ شاردا میں بحال کرنا ہے، تو سنسکرت اور دیگر زبانوں کا بھی قدیمی رسم الخط ہی بحال کرو، یہ کرم صرف کشمیری زبان پر ہی کیوں؟ 
وزیر موصوف نے یہ دلیل بھی دی تھی، چونکہ بیش تر کشمیری پنڈت پچھلے ۳۰ برسوں سے کشمیر سے باہر رہ رہے ہیں، ان کی نئی جنریشن اردو یا  فارسی رسم الخط سے نا آشنا ہے۔ اس لیے ان کی سہولت کی خاطر ہندی رسم الخط کو کشمیر ی زبان کی ترویج کا ذریعہ بنایا جائے‘‘۔ اس میٹنگ میں مرحوم وزیرا علیٰ مفتی محمد سعید نے پروفیسر مرلی منوہر جوشی کو قائل کرلیا کہ ان کے فیصلے سے پچھلے ۶۰۰برسوں سے وجود میں آیا کشمیری زبان و ادب بیک جنبش قلم نابود ہو جائے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ’’کشمیری زبان کے چند پنڈت اسکالروں نے بھی وزیر موصوف کو سمجھایا کہ کشمیری زبان میں ایسی چند آوازیں ہیں ، جن کو دیو ناگری رسم الخط میں ادا نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آوازوں کو فارسی رسم الخط کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں بھی خاصی تحقیق و مشقت کرنی پڑی ہے۔ ان کو اب قدیمی شاردا اسکرپٹ میں بھی ادا نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کشمیری زبان میں ۱۶حروف علت یا واولز اور۳۵حروف صحیح ہیں،نیز چھے ڈیگراف یا Aspirated Consonents ہیں۔ وزیرموصوف، جو خود بھی ایک اسکالر تھے، کسی حد تک قائل ہوگئے اور یہ تجویز داخل دفتر کی گئی۔ 
مودی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد جب شمال مشرقی صوبہ اڑیسہ میں بولی جانے والی اوڑیہ زبان کو کلاسک زبان کا درجہ دیا، تو کشمیر کی ادبی تنظیموں کی ایما پر ریاستی حکومت نے بھی کشمیر ی زبان کو یہ درجہ دینے کے لیے ایک یادداشت مرکزی حکومت کو بھیجی۔ فی الحال تامل، سنسکرت، کنڑ، تیلگو، ملیالم اور اوڑیہ کو بھارت میں کلاسک زبانوں کا درجہ ملا ہے۔ کلاسک زبان قرار دیے جانے کا پیمانہ یہ ہے کہ زبان کی مستند تاریخ ہو اور اس کا ادب وتحریریں ۱۵۰۰سے ۲۰۰۰سال قدیم ہوں۔ اس کے علاوہ اس کا ادب قیمتی ورثے کے زمرے میں آتا ہو۔ نیز اس کا ادب کسی اور زبان سے مستعار نہ لیا گیا ہو۔ چونکہ ان سبھی پیمانوں پر کشمیر ی یا کاشئر زبان بالکل فٹ بیٹھتی تھی، اس لیے خیال تھا کہ یہ عرض داشت کسی لیت و لعل کے بغیر ہی منظور کی جائے گی۔ عرض داشت میں بتایا گیا تھا کہ ’’کشمیر ی زبان سنسکرت کی ہم عصر رہی ہے نہ کہ اس سے ماخوذ ہے‘‘۔ 
بھارت میں جہاں آج کل تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے، وہیں مختلف زبانوں کے مآخذ بھی سنسکرت سے جوڑے جارہے ہیں۔ خیر اس عرض داشت پر مرکزی حکومت نے بتایا کہ ’’کشمیری واقعی کلاسک زبان قرار دیے جانے کی اہل ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس کے لیے اس کا رسم الخط سرکاری طور پر دیوناگری، یعنی ہندی تسلیم کرناہوگا‘‘۔ اس کے فائدے یہ بتائے کہ ہر سال دواہم ایوارڈ ان زبانوں کے فروغ کا کام کرنے والے اسکالروں کو دیے جاتے ہیں۔ نیز ان کی ترویج کے لیے ایک اعلیٰ ریسرچ سینٹر کا قیام اور یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے چند یونی ورسٹیوں میں چیئرز کی منظوری دینا شامل ہے۔ 

آخر بھارتی حکومت کو کشمیری زبان کے رسم الخط کی تبدیلی پہ اصرار کیوں ہے؟

کشمیر کے آخری تاجدار یوسف شاہ چک کی ملکہ حبہ خاتون (زون) ہو یا محمود گامی یا عبدالاحد آزاد ، غلام احمد مہجور یا مشتاق کشمیری چونکہ عام طور پر سبھی کشمیری شاعروں نے اس خطے پر ہوئے ظلم و ستم کو موضوع بنایا ہے اور تحریک آزادی کو ایک فکری مہمیز عطا کی ہے، اسی لیے شاید   ان کے کلام کو بیگانہ کرنے کے لیے زبان کے لیے تابوت بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے سات سو سالوں میں علمدار کشمیر شیخ نورالدین ولی ہو یا لل دید، رسو ل میر، وہا ب کھار یا موجودہ دو ر میں دینا ناتھ نادم ، سوم ناتھ زتشی رگھناتھ کستور، واسدیو ریہہ وغیرہ ، غرض سبھی نے نستعلیق کو ہی اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ 
۲۰۱۱ءکی مردم شماری کے مطابق وادیِ کشمیر اور وادیِ چناب میں۸۰ لاکھ ۶۰ہزار افراد کشمیری زبان بولنے والے رہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے نیلم اور لیپا کی وادیوں میں مزید ایک لاکھ ۳۰ہزار افراد کشمیری کو مادری زبان گردانتے ہیں۔ علاقوں کی مناسبت کے لحاظ سے کشمیری زبان کی پانچ بولیاں یا گفتار کے طریقے ہیں۔ کسی کشمیری کے گفتار سے ہی پتا چلتا ہے کہ وہ ریاست کے کس خطے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان میں: مرازی(جنوبی کشمیر)کمرازی (شمالی کشمیر) یمرازی (وسطی کشمیر)، کشتواڑی (چناب ویلی) اور پوگلی(رام بن ) ہیں۔ 
جرمنی کی لیپزیگ یونی ورسٹی کے ایک محقق جان کومر کے مطابق کشمیر ی زبان آرین زبانوں کی ایک مخصوص فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قواعد اور تاریخی جائزوںکے مطابق اس کا ایرانی یا انڈین زبانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ سنسکرت اور کشمیری زبانیں   ہم عصر رہی ہیں، اس لیے لفظوں کی ادلا بدلی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری کو انڈو۔داردک فیملی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ اس گروپ میں چترالی، شینا، سراجی، کوہستانی، گاوی اور توروالی زبانیں آتی ہیں۔ گو کہ کشمیر کی قدیم تاریخ راج ترنگنی سنسکرت میں لکھی گئی ہے، مگر اس میں کشمیری زبان بہ کثرت استعمال کی گئی ہے۔ 
کشمیری وازہ وان، یعنی انواع قسم کے پکوانوں کے ساتھ ساتھ کشمیر ی زبان اور اس کا ادب بھی کشمیر کے باسیوں کی ہنرمندی اور ان کے ذوق کی پہچان ہے۔مگر و ہ وقت دور نہیں، جب یہ بھارت کی ثقافتی یلغار اور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ بھارت کے اندر اور باہر انسانی حقوق کے عالمی اداروں، خاص طور پر حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لے کر اس امر کا ادراک کروانا چاہیے کہ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ، سیکولرزم کے دعووں کے پسِ پردہ ایک قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس صورتِ حال کو اُجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔

ضمانتی جبر کا شاخسانہ

 اب بھارت کی جانب سے، کشمیر کے صف اوّل کے رہنمائوں سمیت کشمیر میں سیاسی گرفتارشدگان کو اپنی رہائی کے لیے شرط کے طور پر ایک ضمانت نامے (bonds) پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ریاست میں ’حالیہ واقعات‘کے متعلق بات نہیں کریں گے۔
ڈیلی ٹیلی گراف ، انڈیا کے مطابق،دوگرفتارشدہ خواتین جنھیں حال ہی میں رہا کیا گیا ، انھیں ضابطہ فوجداری کی شق ۱۰۷ کے ایک ضمانت نامے پر چھپی دستاویز پر دستخط کرنے پڑے، جو عام طور پر ان مقدمات میں استعمال ہوتی ہے، جب ایک ضلعی مجسٹریٹ کسی کو حفاظتی حراست میں لینے کی خاطر اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اس ضمانت کی عمومی شرائط کے مطابق،قیدی کو یہ عہد کرنا ہوتا ہے کہ وہ’امن میں خلل نہیں ڈالے گا،یا کسی بھی ایسے فعل کا مرتکب نہیں ہوگا جس کے باعث امن میں خلل واقع ہونے کا امکان ہو‘۔ اس عہد کی کوئی بھی خلاف ورزی کرنے پر اس شخص کی ایک غیرمتعین کردہ رقم ریاست کے حق میں ضبط کر لی جاتی ہے۔ 

تاہم، زیربحث نئے ضمانت نامے میں دوپہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے:

پہلا یہ کہ دستخط کنندگان عہد کرتے ہیںکہ وہ ’’ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت پیش آئے واقعات کے متعلق ایک برس تک کوئی بات نہیں کہے گا، یا عوامی سطح پر کوئی تقریر نہیں کرے گا، یا کسی عوامی اجتماع میں شرکت نہیں کرے گا۔
دوسرے یہ کہ ’’انھیں ضمانت نامے کی خلاف ورزی کی صورت میں’ضمانت‘کے طور پر ۱۰ہزار روپے جمع کرانے ہوںگے اور مزید ۴۰ہزار روپے جمع کرانے کا اقرار کرنا ہو گا۔اس عہد کی خلاف ورزی کے باعث انھیںدوبارہ بھی حراست میںلیا جا سکتاہے‘‘۔
ذہن میں رہے کہ اس وقت ہزاروں بے گناہ بچے، جوان، بوڑھے، حتیٰ کہ خواتین بھارتی انتظامیہ کی قید میں ہیں۔ ان میں حقِ خود ارادیت کے علَم بردار لیڈر بھی شامل ہیں اور عشروں سے بھارت کے ساتھ وابستگی رکھنے اور سہولت کاری کرنے والے بھارت نواز سیاسی لیڈر بھی ہیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ نئی شرائط حددرجہ پریشان کن اور غیرآئینی ہیں۔ معروف ماہر قانون گوتم بھاٹیا کے مطابق آئین کی شق۱۹(۲)کے مطابق،  آزادیِ تقریر پر محض اس وقت پابندی عائد کی جاسکتی ہے، جب کہ متوقع تشدد کے لیے کسی کو اُکسایا جائے۔ سپریم کورٹ نے بارہا یہ فیصلہ دیا ہے کہ آزادیِ تقریر، حتیٰ کہ انقلابی نظریات کے اظہار کی اس وقت تک اجازت ہے، جب تک اس کے ذریعے کسی کو تشدد پر نہ اکسایا جائے۔اس لیے مجموعہ ضابطہ فوجداری کو ایک ایسے طریقے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کے ذریعے آزادیِ تقریر کے حق کو غیرآئینی پابندی کا شکار بنایا جائے‘‘۔

ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اجتجٰی مفتی نے اپنی والدہ کے ٹویٹر اکائونٹ سے پیغام بھیجا ہے: ’’حکام، قیدیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر ضمانت ناموں پر دستخط کروا رہے ہیں، والدہ نے اس ضمانت نامے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے‘‘۔
ان خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو اپنی رہائی کی شرط کے طور پر اس ضمانت نامے پرد ستخط کرنے ہوتے ہیں ۔ جب ڈیلی ٹیلی گرافنے ریاستی ایڈووکیٹ جنرل، ڈی سی رائناسے رابطہ کیا،تو انھوں نے ضمانت نامے کادفاع کیا اور کہا کہ’’: اس کی زبان ذرا مختلف ہے لیکن روح عام ضمانت نامے کے مطابق ہی ہے‘‘۔اسی طرح سینیر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بشیراحمد ڈار نے تو سرے سے انکار کر دیا ہے کہ ’’ایسا کوئی ضمانت نامہ جاری ہوا ہے‘‘۔
جموں وکشمیرہائی کورٹ کے وکیل الطاف خان،جو ایک ایسی خاتون کے وکیل تھے، جس نے اس ہفتے اس نئے ضمانت نامے پردستخط کیے،کہتے ہیں:’’یہ آئین کی خلاف ورزی ہے‘‘۔ یاد رہے خرم پرویز نے ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا: گذشتہ دوماہ کے لاک ڈائون کے دوران گرفتارکیے جانے والوں کو نئے ضمانت نامے کی شرائط پر رہا کیا گیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔

تیونس کے نومنتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر قیس سعید کی عمر ۶۱ برس ہے، لیکن چہرے کی جھریوں اور سر کے بچے کھچے مکمل سفید بالوں کے باعث اپنی عمر سے زیادہ بوڑھے لگتے ہیں۔ ساری زندگی قانون پڑھاتے گزاری، اب ریٹائرمنٹ کے بعد آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے صدارتی انتخاب لڑا۔ ان کے انتخابی معرکے اور ۷۷ فی صد ووٹ لے کر کامیابی نے ساری دنیا کو ششدر کردیا ہے۔ اس عالمی حیرت کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً یہ کہ قیس سعید ایک آزاد اُمیدوار تھے، کسی سیاسی جماعت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی پوری انتخابی مہم انتہائی سادگی سے چلائی۔ مخالف اُمیدواروں بالخصوص دوسرے نمبر پر آنے والے ارب پتی نبیل القروی نے ڈھیروں ڈھیر دولت انتخابی مہم میں جھونک دی، جب کہ قیس سعید کی ساری مہم پر صرف چند ہزار خرچ ہوئے۔ چوٹی کے اس ماہر قانون کا اس سے پہلے کہیں عوامی تعارف نہیں تھا، بس کبھی کبھار کسی ٹی وی پروگرام میں قانونی راے لینے کے لیے انھیں بلالیا جاتا تھا۔ قیس سعید ہمیشہ فصیح عربی میں، سپاٹ چہرے سے بات کرتے ہیں لیکن نوجوانوں نے ان کی ایسی مہم چلائی کہ صدارتی دوڑ میں شریک دیگر ۲۵ اُمیدواروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کے اخلاقی اصولوں اور قانون کی پاس داری نے ان کے مخالفین کو بھی ان کا احترام کرنے پر مجبور کردیا۔ان کے تعارف کی ایک اہم جھلک ان کے اور مخالف اُمیدوار کے براہِ راست ٹی وی مکالمے سے ملاحظہ فرمالیجیے، جو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے ۴۸گھنٹے قبل ہوا:

  • سوال:صہیونی ریاست (اسرائیل) کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بارے میں بتایئے؟
    • جواب:تعلقات بحال کرنے کا لفظ ہی غلط ہے۔ اس کے لیے صحیح لفظ ’غداری‘ (High Treason) ہے۔ جو کوئی بھی کسی ایسی ریاست کے ساتھ معاملات طے کرتا ہے، جس نے گذشتہ پوری صدی سے ایک پوری قوم کو دربدر کی خاک چھاننے پر مجبور کررکھا ہے، خائن اور غدار ہے اور لازمی ہے کہ اس پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ معمول کے تعلقات بھلا کیسے قائم ہوسکتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس غاصب اور ناجائز قابض ریاست کے ساتھ مسلسل حالت ِجنگ میں ہیں…
  • لیکن بہت سے یہودی تیونس کے شہر ’جربہ‘ میں واقع الغریبہ نامی اپنی عبادت گاہ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ان کے ساتھ آپ کی پالیسی کیا ہوگی؟
    • ہم یہودیوں کے ساتھ ان کے تمام حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے برتاؤ کریں گے، لیکن اسرائیلی شہریوں کے ساتھ ہرگز نہیں۔
  • یعنی وہ اسرائیلی پاسپورٹ پر تیونس نہیں آسکتے؟
    • ہرگز نہیں۔ اسرائیلی پاسپورٹ پر نہیں ... ہرگز نہیں ... البتہ ہم یہودیوں سے کوئی دشمنی نہیں رکھتے۔ ہم نے خود دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کی حفاظت کی تھی۔
  • (حیرت سے)اسرائیلی پاسپورٹ پر کوئی شخص تیونس میں داخل نہیں ہوسکے گا؟
    • بالکل نہیں… ہرگز نہیں… اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل نے ایک پوری قوم کو اس کے وطن سے نکال کر دنیا بھر میں ملک بدر کردیا ہے۔ وہ آج بھی خیمہ بستیوں اور پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ ہم ایسے دشمن کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں کرسکتے۔ وہ ایک یہودی کی حیثیت سے آئیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن اسرائیلی شہری کی حیثیت سے قابلِ قبول نہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ ہم نے تو خود ان کی حفاظت کی ہے۔ جزاء الحلیمی ایک مہاجر یہودی بچی تھی۔ میرے والد اسے نازیوں کے مظالم سے بچانے کے لیے اپنی سائیکل پر بٹھا کر دشمن کے علاقے سے نکال کر لائے تھے۔
  • قانون کی زبان میں بات کریں تو اسرائیل سے تعلقات…؟
    • قانون کی زبان میں یہ غداری اور خیانت عظمیٰ ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے پر غداری کا مقدمہ چلا کر سزا دی جائے گی۔
  • صرف پانچ سیکنڈ باقی رہ گئے ہیں، آپ کوئی خاص بات کہنا چاہیں گے۔
    • ان چند سیکنڈوں میں ایک بار پھر یہی دہراؤں گا: ’’اسرائیل سے تعلقات غداری ہے‘‘۔

ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کے لیے اس مکالمے میں کوئی غیر معمولی بات نہ ہو لیکن ایک ایسے وقت میں کہ جب اکثر مسلم ممالک بالخصوص، عرب لیگ کے رکن ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرلینے اور اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مضبوط تعلقات قائم کرنے کے لیے دوڑ لگی ہو، یہ مؤقف اختیار کرنا آسان اور معمولی بات نہیں۔

صدر قیس سعید نے نہ صرف اپنی انتخابی مہم کے اہم ترین انٹرویو کا اختتام اس دو ٹوک پیغام سے کیا، بلکہ ۲۳؍ اکتوبر کو نومنتخب قومی اسمبلی کے سامنے صدارتی حلف اٹھانے کے موقعے پر ۲۵منٹ کے صدارتی خطاب کا اختتام بھی اس جملے پر کیا کہ: ’’ہم دنیا کے ہر مبنی بر انصاف مسئلے کی بھرپور حمایت کریں گے۔ ان میں سرفہرست مسئلہ، مسئلہء فلسطین ہے۔ غیروں کے قبضے کی مدت کتنی بھی طویل کیوں نہ ہوجائے، فلسطین پر فلسطینیوں کا حق ساقط نہیں ہوسکتا۔ مسئلۂ فلسطین جایدادوں کے کھاتہ خانوں میں درج کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ اُمت کے سینوں میں نقش ایک حقیقت ہے۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت یا کسی بھی طرح کی سودے بازی دلوں پر نقش اس حقیقت کو مٹا نہیں سکتی‘‘۔
نومنتخب صدر نے حلف برداری کے اس افتتاحی خطاب میںاپنی باقی تمام توجہ تیونس میں مطلوبہ اندرونی اصلاحات پر مرکوز رکھی اور کہا: ’’کسی بھی قوم یا ریاست کے لیے سب سے خطرناک امر اس کا اندرونی طور پر کھوکھلا ہوجانا ہے۔ کوئی بھی ریاست اپنے فعال نظام اور ادارہ جاتی استحکام کی وجہ سے ہی باقی رہتی ہے۔ نظام پر اشخاص و افراد کو ترجیح نہیں دی جاسکتی‘‘۔ 

واضح رہے کہ ۱۹۵۷ء میں تیونس کی آزادی سے لے کر ۲۰۱۱ءتک ۵۴سال تیونس میں صرف دو ہی افراد ملک و قوم کی قسمت کے مالک بنے رہے۔ پہلے حبیب بورقیبہ اور پھر اس کا وزیراعظم زین العابدین بن علی ہر سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں ۱۴جنوری ۲۰۱۱ء کو بن علی سے نجات کے بعد شروع ہونے والے پارلیمانی عہد میں اب قیس سعید تیسرے منتخب صدر ہیں۔ مختلف عرب ممالک میں آمریت کے خلاف جاری عوامی تحریکوں کا آغاز بھی تیونس سے ہوا تھا۔ آج تیونس ہی پُرامن انتقالِ اقتدار کی تاریخ رقم کررہا ہے۔ بن علی کے خاتمے کے بعد پہلی منتخب حکومت تحریک نہضت کی تھی۔ خدشہ تھا کہ اس کے خلاف شروع ہونے والی سازشیں وہاں بھی مصر کا خونی تجربہ نہ دہرادیں۔ لیکن الحمدللہ تمام تر خطرات کے باوجود تیونس کی لڑکھڑاتی جمہوریت اب نسبتاً زیادہ مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ۲۶؍ اُمیدوار میدان میں تھے۔ پہلے ۹؍اُمیدواروں نے ۴فی صد یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ قیس سعید۱۸ء۴۰ فی صد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ بڑے ابلاغیاتی اداروں کا مالک اور سیکولر خیالات رکھنے والا نبیل القروی ۱۵ء۵۸  فی صد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، جب کہ تحریک نہضت کا اُمیدوار عبدالفتاح مورو ۱۲ء۸۸ فی صد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہا۔ سب سے بڑی سیاسی قوت ہونے کے باوجود نہضت کے اُمیدوار کا پہلے دو اُمیدواروں میں شامل نہ ہوسکنا سب کے لیے باعث حیرت بنا۔ اس ناکامی کا تجزیہ بھی اہم ہے لیکن بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ ملک اور خود تحریک نہضت کے لیے انھی نتائج میں خیروبھلائی تھی۔ مصر میں گذشتہ آٹھ برس سے جاری خوں ریز واقعات کے بعد تحریک نہضت انتہائی احتیاط سے قدم اٹھا رہی ہے۔ اتنی احتیاط کہ بسا اوقات کئی ہمدرد اور بہی خواہ بھی اس پر اعتراضات اُٹھانے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے لگے۔ قیس سعید جیسا ایک آزاد اُمیدوار جو ملک کی دینی اساس، قانون کی مکمل بالادستی اور اُمت کے مسائل کے بارے میں دو ٹوک راے رکھتا ہو اور اس کی پشت پر کوئی اور ذمہ داری یا تاریخی ورثے کو بچانے کا بوجھ بھی نہ ہو، حالیہ معروضی حالات میں ایک بہترین صورت ہے۔

تحریک نہضت نے صدارتی مرحلے کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی اپنی مجلس شوریٰ کا اجلاس بلاکر قیس سعیدی کی حمایت کا اعلان کردیا۔ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے سے پہلے پارلیمانی انتخاب ہوئے تو قیس غیر جانب دار رہے۔ ساری پارٹیوںنے اپنے اپنے منشور کے مطابق حصہ لیا اور ۲۱۷کے ایوان میں تحریک نہضت ۵۲ نشستیں لے کر ایک بار پھر پہلے نمبر پر رہی۔ نبیل القروی کی جماعت ’قلب تونس‘ ۳۸سیٹوں کے ساتھ دوسرے، جب کہ ۵ مزید جماعتیں ۱۰یا اس سے زیادہ نشستیں لے سکیں۔ بڑی تعداد میں جماعتوں کو ایک نشست ملی۔ حکومت سازی کے لیے ۱۰۹ ووٹ اکٹھے کرنا آسان کام نہیں، لیکن تحریک نہضت کے سربراہ راشد الغنوشی نے یہ ہدف جلد حاصل کرلینے کی اُمید ظاہر کی ہے۔
سب تجزیہ نگار اُمید کرتے ہیں کہ قیس سعید ایک انتہائی بااصول صدر ثابت ہوں گے۔ انھوںنے دوسرے مرحلے کے انتخاب میں اس لیے کوئی انتخابی مہم نہ چلانے کا اعلان کیا کہ مخالف اُمیدوار نبیل القروی کرپشن کے سنگین الزامات میں گرفتار تھا، اور خود کسی مہم میںنہیں شریک ہوسکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم میں یکساں مواقع فراہم نہ ہونے کے باعث میں بھی کوئی مہم نہیں چلاؤں گا۔ قیس سعید کی کامیابی کے بعد تمام اسلام مخالف اور مغربی طاقتوں کی ہمدردیاں اور پروپیگنڈا مہم نبیل کے حق میں ہوگئی، تو ووٹنگ سے چند روز قبل ضمانت پر اس کی رہائی ہوگئی، پھر دونوں اپنی اپنی مہم میں شریک ہوئے۔صدارتی حلف اٹھانے کے اگلے ہی روز اپنی اہلیہ، جو ایک جج ہیں کو اس لیے پانچ سال کی بلا تنخواہ چھٹی دے دی تاکہ عدلیہ کی خود مختاری پر حرف نہ آئے۔ پہلے مرحلے کے نتائج آنے پر تیونس میں فرانس کے سفیر نے قیس سعید کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا، تو انھوںنے دو ٹوک انداز میں ان تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیونس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں اور سفرا کے لیے طے شدہ عالمی ضابطوں کی پابندی کریں۔ اب اگر ایوان صدر میں قانون کا پاسدار صدر ہو اور عظیم قربانیاں دے کر اس مقام تک پہنچنے والی تحریک نہضت کی حکومت ہو، تو بجا طور پر اُمید کی جاسکتی ہے کہ تیونس میں پھر ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔
اللہ کا نظام بھی عجب انداز سے اپنی بالادستی ثابت کرتا ہے۔ حبیب بورقیبہ نے موسمِ گرما میں روزے ساقط کردینے کا اعلان کیا تھا۔ بورقیبہ پیوند ِ خاک ہوگیا اور ماہِ رمضان تاقیامت اپنی بہاریں دکھاتا رہے گا۔ بن علی نے حجاب اور داڑھی کے خلاف جنگ لڑی۔گذشتہ ماہ ستمبر میں وہ سعودی عرب میں جلاوطنی کے عالم میں دنیا سے چلا گیا۔ اتفاق ہے کہ اس کے جنازے میں شریک درجن بھر افراد میں سے آدھے شرکا لمبی داڑھی سے سجے چہروں والے تھے۔ سابق صدر الباجی السب سی نے قرآن کریم میں مذکور احکامِ وراثت کو منسوخ کرتے ہوئے مرد و عورت کا حصہ برابر کرنے کا اعلان کیا، وہ چلا گیا، اور آج نومنتخب صدر دوٹوک اعلان کررہا ہے کہ وراثت ہو یا کوئی اور معاملہ قرآن و سنت کے احکام حتمی ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی:
يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَيَاْبَى اللہُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَہٗ (التوبہ ۹:۳۲) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے۔

فروری ۲۰۱۹ء کو صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے ’گھریلو تشدد‘ سے عورتوں کے تحفظ کے لیے ایک قانون پیش کیا ہے۔ ہم اس پر کلام کرنے سے پہلے چند بنیادی باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں:
 مغربی تہذیب و تمدن اور معاشرت تین بنیادوں پر استوار ہوئی: lعورتوں اور مردوں کی مساوات lعورتوں کی معاشی خود مختاری  lمرد اور عورت دونوں کا آزادانہ اختلاط۔

ان تین بنیادوں پر معاشرت کی تعمیر سے بڑے ہولناک نتائج برآمد ہوئے۔

۱- مساوات کے معنی یہ سمجھ لیے گئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی مرتبہ اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں، بلکہ تمدنی زندگی میں عورت بھی وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں۔  مساوات کے اس غلط تخیل نے عورت کو اُس کے فطری وظائف سے غافل اور منحرف کر دیا ہے۔ اَزدواجی زندگی کی ذمہ داریاں، بچوں کی تربیت، خاندان کی خدمت، گھر کی تنظیم، ساری چیزیں نہ صرف عورت کے لائحہ عمل سے خارج ہو کر رہ گئیں، بلکہ ذہنی طور پر وہ اپنے اصلی فطری مشاغل سے متنفر ہو رہی ہے۔ خاندان کا نظام، جو تمدن کا سنگِ بنیاد ہے، بُری طرح منتشر ہو رہا ہے۔ گھرکی زندگی عملاً ختم ہو رہی ہے۔ 
۲- عورت کی معاشی خودمختاری نے اُس کو مرد کی رفاقت سے بے نیاز کر دیا ہے۔   اب نیا قاعدہ یہ ہوگیا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام کسی اور کے سپرد کردیں۔ اس تبدیلی کے بعد دونوں کی زندگی میں بجز ایک شہوانی تعلق کے اور کوئی ربط ایسا باقی نہ رہا، جو اُن کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور کرتا ہو۔ اس لیے ایک ادنیٰ سا اختلاف بسا اوقات ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ 
۳- مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط اور ایک دوسرے کے لیے پُرکشش بننے کی دوڑ نے عورتوں میں حسن کی نمایش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دی ہے۔ صنفِ مخالف کے لیے مقناطیس بننے کی یہ خواہش بڑھ کر برہنگی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔

صالح تمدن کے اصول

اس منظرنامے میں اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اس صنفی انتشار اور مغربی تمدن کے ان اخلاقی فساد پر مبنی تصورات و نظریات کا سدِباب کرکے اس مسئلے کا ایسا عملی حل پیش کرتا ہے کہ جو ایک صالح اور متمدن معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
اسلام اپنے معاشرتی نظام میں خاندانی نظام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اور اُسے خوش گوار گھریلو زندگی کے لیے لازم سمجھتا ہے۔ ایک صالح تمدن کےلیے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نظام معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلق کی صحیح نوعیت متعین کی جائے۔ اُن کے حقوق ٹھیک ٹھیک عدل کے ساتھ مقرر کیے جائیں۔ اُن کے درمیان ذمہ داریاں پوری مناسبت کے ساتھ تقسیم کی جائیں اور خاندان میں ان کے مراتب اور وظائف، اعتدال اور توازن میں فرق نہ آنے پائے۔
عورت جو کہ ایک مدتِ دراز تک بچے کی پرورش، نگہداشت اور تربیت پر اپنی تمام توجہ مرکوز کرتی ہے ،اس میں رات کی نیند اور دن کا سکون اور آسایش حرام ہوتی ہے، اور وہ اپنی راحت، اپنے لطف، اپنی خوشی، اپنی خواہشات، غرض ہر چیز کو آنے والی نسل پر قربان کر دیتی ہے، توکیا عدل یہی ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجاآوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے۔ یہ عدل نہیں ظلم ہے۔مساوات نہیں صریح نامساوات ہے۔ 
عورت کو مردانہ کاموں کے لیے تیار کرنا وضع فطرت کے خلاف ہے اور یہ چیز نہ انسانیت کے لیے مفید ہے، نہ خود عورت کے لیے۔ سورۂ نساء میں فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ط (۴:۱۱۹) کے الفاظ میں خدائی ساخت میں جس ردوبدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے، یہ اسی طرف اشارہ ہے۔ قدرتِ حق نے عورت کے سپرد بنیادی وظیفۂ حیات یہی کیا ہے کہ وہ بچے کی پیدایش اور پرورش کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروے کار لائے۔ اس لیے نفسیات کے دائرے میں بھی اُس کے اندر وہی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں جو اس کے فطری وظیفے کے لیے موزوں ہیں، یعنی محبت، ہمدردی، شفقت، رقتِ قلب اور زکاوتِ حِس۔ 
اسلام چاہتا ہے کہ عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اُسے معاشرے میں عزت کا مرتبہ دے۔ اُس کے جائز تمدنی اور معاشی حقوق کو تسلیم کرے۔ اُس پر صرف گھر کی ذمہ داریوں کا   بوجھ ڈالے اور بیرونِ خانہ کی ذمہ داریاں اور خاندان کی قوامیت (سربراہی) مرد کے سپرد کرے۔ اس لیے اسلام جہاں انسانی حقوق میں مردوزن کی مساوات کا قائل ہے اور اعمال صالحہ اور نیکی و بدی میں دونوں کی کمائی کو یکساں اہمیت دیتا ہے، وہاں جسمانی ساخت اور بناوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داریوں کے تعین اور خاندان جیسے اہم ادارے کے تحفظ اور بقاے نسل کی خاطر مرد کو خاندان کے سربراہ کی حیثیت دیتا ہے۔
دوسرے یہ کہ اسلام نے عورت کو معاشی بوجھ سے مکمل طور پر آزاد کیا ہے، تاکہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی طرف خصوصی توجہ دے سکے اور نان و نفقہ کا انتظام اور ذمہ داری مرد کے حوالے کر دی ہے۔ اور اس بنا پر اُس کا عورت کے برعکس دائرہ کار اور رول متعین کیا ہے۔  
تیسری بنیاد مردوزن کے آزادانہ اختلاط کے بجاے دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ دائرہ کار متعین کیا ہے۔ اور جہاں ان دونوں کا معاشرتی امور یا دیگر اُمور میں ایک دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے، ان پر ایسی قدغنیں لگائیں، جن کی موجودگی میں معاشرہ آوارگی اور صنفی انتشار کا شکار نہیں ہوتا۔ 
ان قدغنوں کے علاوہ معاشرے کو جنسی تشدد اور صنفی آوارگی جیسے امراض سے بچانے کے لیے نکاح کی ترغیب دی ہے۔ نکاح عورت کو محصنہ بنا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے اردگرد تحفظ کا حصار بنالیتی ہے۔ اور مرد کے ساتھ نکاح کے رشتے کے بعد وہ اس حفاظتی حصار میں آ جاتی ہے۔ { FR 644 }
اسلام اسی خاندانی ادارے کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اور اسی لیے میاں بیوی کے جھگڑوں اور باہمی اختلافات میں اصلاح اور صلح صفائی کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس کے لیے ایسی حکمت عملی اپناتا ہے کہ جس سے بتدریج دونوں کو احساس ذمہ داری اور احساس زیاں یاد رہتا ہے، جس میں برداشت و صبر، وعظ و نصیحت، خواب گاہوں میں وقتی جدائی اور پھر بھی اگرنافرمانی اور سرکشی کی روش برقرار ہو تو علامتی (symbolic) سرزنش شامل ہیں۔ 
اسلام کی رُو سے میاں بیوی کا رشتہ محبت، رحمت اور مودت کا ہے۔ یہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ ان کے درمیان باقاعدہ عہد و پیمان ہے۔ ایک دوسرے کا لباس ہیں، یعنی لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے کے عیب ڈھانکتے ہیں۔اور اُن کا رویہ یہ نہیں ہوتا کہ کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو تو اُس پر لعنت ملامت کریں اور اگر بس چلے تو اُسے سرِبازار رُسوا کر دیں۔ آج کل کی طرح نہیں کہ باقاعدہ "Me Too" کے ویب پیج پر خواتین مزےلے لے کر اپنے ساتھ جنسی ہراسانی کے قصے، شہرت کی خاطر بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہیں۔ 

مجوزہ بل: کچھ تجاویز و ترامیم

پیش نظر مجوزہ بل کا اردو مسودہ ہے، جو خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کے بارے میں مجموعی طور پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں لاکھڑا کیا گیا ہے۔ ایک ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے مرودں سے برائی کے سوا کسی بھی اچھے کام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ سب کچھ بیرونی امداد پر چلنے والی NGOs  کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔
اس بل میں عورت کی بطور ماں، بیوی، بہن اور بیٹی او ر مرد کے بطور باپ، بھائی اور بیٹے کی کسی حیثیت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ عورت کو خاندان کے بجاے این جی اوز کی سرپرستی میں دے دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنا خاندان کسی عورت کا زیادہ محافظ بن سکتا ہے، یا سول سوسائٹی کے مرد ، خواتین عورت کا تحفظ کریں گے؟ اگرچہ ہم اس بل کے مندرجات سے مطمئن نہیں ہیں لیکن چونکہ یہ بل اب پیش کیا جا چکا ہے، تو ہماری خواہش ہے کہ چند اہم ترامیم پیش کرکے اس کو بہتر بنایا جائے۔ ذیل میں مجوزہ ترامیم پیش کی جاتی ہیں:

  • ابتدائیہ: اس میں نہ تو آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی آرٹیکل کا خصوصی حوالہ دیا گیا ہے اور نہ قرآن و سنت پر مبنی کسی آیت یا حدیث کا۔ حالانکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری مملکت ہے اور چاہیے تھا کہ مجوزہ بل میں یہ رہنمائی درج ہوتی۔ ہماری تجویز ہے کہ بل کا آغاز اس طرح کیا جائے:
  •  آرٹیکل ۲ (الف): چونکہ اللہ تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق (sovereign) ہے، اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے۔
  • آرٹیکل ۳۱ (الف): پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور اُنھیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
  •  آرٹیکل ۱۴ (الف):شرفِ انسانی اور قانون کے تابع گھر کی خلوت قابلِ حرمت ہوگی۔
  •  آرٹیکل ۳۵: مملکت شادی،خاندان، ماں اور بچے کا تحفظ کرے گی۔
  •  آرٹیکل ۳۷ (ھ):بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے جو اُن کی عمر اور جنس کے لیے نا مناسب ہوں۔

بل میں دیے گئے ابتدایئے کی دفعہ ۳ کے دوسرے پیراگراف کےبجاے یہ الفاظ لکھے جائیں:’’ہر گاہ یہ ضروری ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد، یعنی جسمانی اور معاشی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے  اقدامات کیے جائیں‘‘۔
پورےبل میں’بچے‘ کی تشریح (definition  ) نہیں کی گئی۔ اسلام کی رُو سے جرم کے سزاوار اور نکاح وشادی کے لیے لڑکا/لڑکی کی بلوغت کی شرط رکھی گئی ہے۔لہٰذا، ضروری ہے کہ یہاں چونکہ معاملہ جسمانی تشدد کا ہے تو اس پر عمل کیا جائے۔ 
کئی امریکی ریاستوں میں ’سزا واریت جرم‘ (Criminal Liability) کے لیے عمر آٹھ سے ۱۵سال تک پائی جاتی ہے،مثلاً ایڈاہو میں ۱۴ سال، جارجیا میں ۱۲ سال، نیویڈا میں ۸ سال ہے۔
آج کل انٹرنیٹ اور لٹریچر نے بچوں کو بہت تھوڑی عمر میں ’بالغ‘ بنا دیا ہے۔ لہٰذا، کسی صورت بھی اس عمر کی حد کو نہ بڑھایا جائے، ورنہ بداخلاقی معاشرے میں اور زیادہ نفوذ کر جائے گی۔   فقہ حنفی کے مطابق یہ عمر زیادہ سے زیادہ ۱۵ سال ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی میں ڈاکٹری معائنے کے مطابق اس عمر سے کم میں بھی آثار نمودار ہو جائیں، تو وہ اس ایکٹ کے تحت بلوغت کی عمر تصور کی جائے گی۔

یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ’ابتدایئے‘ میں اتنی زیادہ تفصیل نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اعتراض اس لحاظ سے قابل توجہ نہیں کیونکہ ’ابتدائیہ‘ دراصل اس سارے ایکٹ کے بارے میں حکومت کا مؤقف، اُس کا وژن، اٹھائے جانے والے اقدامات کا خلاصہ اور اپنے اہداف کے حصول کے طریقۂ کار (strategy) کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر یہ مبہم رہنے دیا جائے تو حکومت کی سنجیدگی اور خلوص پر سوال پیدا ہوتا ہے۔
بل کا نام: سیکشن:۱، شق ۱: اس بل کا نام Domestic Violence against Women (Prevention & Protection)  رکھا گیا ہے۔ یہ نام بذاتِ خود تعصب (prejudice) پر مبنی ہے کیونکہ violence یا تشدد کے بارے میں پہلے سے ہی فرض کیا گیا ہے کہ ’’یہ ہمیشہ مرد کی جانب سے خاتون کے ساتھ کیا جاتا ہے‘‘۔ حالانکہ یہ دونوں جانب سے ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کا نام ’صنفی سطح پر تشدد‘ (Gender Based Violence) ہونا چاہیے۔
عالمی تنظیم صحت نے اپنی رپورٹ Violence Against Women   ۱۹۹۶ء میں گھریلو تشدد رپورٹ کوgender based violence (صنفی سطح کا تشدد) ہی قرار دیا ہے۔
بل کے نام میں خواتین کے ساتھ لفظ ’بچوں‘ (children)کا اندراج ہونا چاہیے، کیونکہ ابتدایئے میں بچوں کے تحفظ کا بھی ذکر ہے۔  

  • سیکشن ۲ شق i (ل): اس میں سہولت کار (service provider) کو بالکل ہی خذف کر دیا جائے۔ کیونکہ متاثرہ فرد کے لیے اُس کا خاندان ہی سب سے اہم ادارہ ہے، جو اُس کی دیکھ بھال کرے گا، اور متاثرہ (victim ) خاندان کے اندر اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے گا۔ لیکن اگر یہ ترمیم قبول نہیں کی جاتی تو پھر سہولت کاری صرف شفاف سرکاری انتظام میں ہونی چاہیے۔  کسی رضاکار فرم یااین جی او کو یہ ذمہ داری نہ دی جائے کیونکہ ایک تو اُن پر کوئی خاص کنٹرول نہیں ہوتا۔ دوسرے وہ یہ کام عطیہ دینے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اُن کے اعتبار (credentials  )کو عوام اور عوامی نمایندگان نہیں جانتے۔
  • سیکشن ۲  شق ۱ (م): ’’متاثرہ سے وہ خاتون جس پر گھریلو تشدد کیا گیا ہو مراد ہے ‘‘۔ ہماری ترمیم کے مطابق یہ متاثرہ شخصیت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔بچوں کو خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا اس متاثرہ کی تعریف میں شامل کر لیں۔ 
  • سیکشن ۲  شق ۱ (ن): تشدد کی تعریف یوں کی جائے: ’’تشدد جسمانی نقصان رسانی یا معاشی ہو سکتا ہے‘‘۔ اور باقی وضاحت حذف کر دی جائے، کیونکہ وہ مبہم اصطلاحات ہیں اور اُن کی کثیر وجوہ ہو سکتی ہیں۔
  • سیکشن ۴  شق  ۱: ضلعی تحفظ کمیٹی کو تقریباً مکمل طور پر بیوروکریٹس کے حوالے کر دیا گیا ہے حالانکہ اس کمیٹی کا چیرپرسن ڈپٹی کمشنر کے بجاے منتخب ضلع ناظم ہونا چاہیے تھا، لیکن اس حکومت نے اپنے ہی بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کرکے یہ اہم عہدہ ختم کر دیا ہے تاکہ ضلع میں بیوروکریسی مضبوط ہو ۔ہماری ترمیم درج ذیل ہے:

’ضلع تحفظ کمیٹی‘ کے تمام ممبران میں انتخاب سے سادہ اکثریت سے جیتنے والے ممبر کو چیئرپرسن بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر کی حیثیت عام ممبر کی ہو اور وہ گورنمنٹ کے نمایندے کی حیثیت سے چیئر پرسن کی پوری معاونت کرنے کا پابند ہو۔
موجودہ ممبران میں مزید اضافہ کرکے مندرجہ ذیل کو ممبر بنایا جائے:شہر کا ناظم/مئیر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر، مستند اور باکردار عالم ترجیحی طور پر ڈسٹرکٹ خطیب۔
سول سوسائٹی سے ممبران لینے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس شق (ف) کو حذف کیا جائے۔ اس کے بجاے متاثرہ فریقین کے خاندانوں سے ، جن کے مقدمات کے بارے میں ’ضلع تحفظ کمیٹی‘  میں جس دن بحث ہو، ایک ایک نمایندہ اور اُسی متعلقہ علاقے کا مقامی ناظم بطور غیر سرکاری ممبر صرف اسی اجلاس کے لیے مقرر کیا جائے۔
’ضلع کمیٹی براے تحفظ خواتین‘ کی چیئرپرسن سیکرٹری کے بجاے صرف عام ممبر ہوگی۔ اور ضلعی تحفظ کمیٹی کے سیکرٹری کا انتخاب کمیٹی کے پہلے اجلاس میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت سے ہوگا۔
اسی کی ذیلی دفعہ ۴ میں کسی ممبر کو ہٹانے کا اختیار حکومت کے بجاے عدالت کو دیا جائے۔

  • سیکشن ۵ شق ۴: ضلعی تحفظ کمیٹی کے اجلاس کا کورم ۶ کے بجاے ۹ ہو، تاکہ تمام ارکان میٹنگ کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ ہر اجلاس میں منتخب چیئرپرسن ، شہر کا ناظم /میئر اور عالم کی موجودگی لازمی ہوگی، ورنہ کورم پورا تصور نہیں کیا جائے گا۔
  • سیکشن ۵ میں شق ۶ کا اضافہ درج ذیل عبارت سے کیا جائے: ’’کسی ممبر کی تین بار مسلسل اجلاس سے غیر حاضری پر اُس سے وضاحت طلب کی جائے گی‘‘۔
  • سیکشن ۸ اور سیکشن ۹:ضلعی تحفظ کمیٹی کے سیکرٹری اور سہولیات فراہم کرنے والے ادارے کے بعض فرائض اور ذمہ داریاں مشترک اور ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہیں، یعنی ایک ہی کام دوادارے کر رہے ہیں، مثلاً: دونوں کا متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ، محفوظ رہایش گاہ کا بندوبست، مالی امداد کے لیے کوشش وغیرہ کرنا ۔

سیکشن ۸  کے تحت ایک اضافی شق کا اضافہ کیا جائے۔
’’ضلعی تحفظ کمیٹی متاثرہ فرد کو پناہ گاہ فراہم کرنے سے پہلے اپنے خاندان کے حوالے کرنے کی تجویز خاندان کے سرپرست/نمایندہ کی رضامندی سے دینے کی پابند ہوگی۔ اور متاثرہ کی رضامندی کی صورت میں خاندان کے حوالے کر دیا جائےگا‘‘۔

  • سیکشن ۱۰ شق (ر): حکومت اس سیکشن کے تحت مزید درج ذیل اقدامات کو یقینی بنائے:

۱- عام لوگوں کو مذہبی اور اخلاقی اقدار سے آگہی اور تعلیم دی جائے۔
۲- پرائمری سے یونی ورسٹی تک اخلاقیات اور عقائد کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔
۳- حکومت بچوں/بچیوں کی بلوغت کے بعد شادی و نکاح کے راستے کی رکاوٹیں دور کرے اور جہاں مالی اعانت کی ضرورت ہو، اس سے دریغ نہ کیا جائے۔
۴- عیاشانہ اور پُرتکلف طرزِ زندگی کی حوصلہ شکنی کرے۔ جہیز اور ایسی دوسری رسموں سے معاشرے کو چھٹکارا دلانے کے لیے ضروری قانون سازی کرے۔
۵- سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو فحاشی کے انسداد کے لیے ضابطہ سازی کرے اور ہیجان انگیز ، فحش جنسی مواد کو بلاک کرے۔ 
۶- فلموں اور ڈراموں میں فحش کرد ار ادا کرنے والے آرٹسٹوں کی حوصلہ شکنی کرے۔     آرٹ اور فن کے نام پر ان کو قومی ایوارڈز دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
۷- حکومت دستور کے آرٹیکل ۳۵ کے تحت پابند ہے کہ وہ خاندان کے ادارے کا تحفظ یقینی بنائے، لہٰذا دوسرے اقدامات کے علاوہ زوجین کے باہمی اختلافات کو فریقین کے خاندانوں کے سرپرستوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔
۸- نوجوانی کی عمر میں انسانی جذبات کا اگر مثبت رُخ اور direction متعین نہ کی گئی تو  یہ ہیجان انگیزی معاشرے کے لیے بہت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا، اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کے بجاے جداگانہ تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔  
افسوس کہ مغربی تہذیب کے زیر اثر طبقات نام نہاد ترقی کے حصول کے لیے شادیوں میں تاخیر کی راہ پر چلتے ہیں، لیکن اسلام نے بلوغت کے ساتھ ہی نکا ح کی ترغیب دی ہے۔اب یہ امر سب پر بالکل واضح ہے کہ بڑی عمر کی شادی کے نتائج، اولاد کا نہ ہونا یا اولاد کی ذہنی معذوری کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
۹- اُن تمام وجوہ کے سدباب کے لیے اقدامات کرنا: جو تشدد پر مبنی رویوں کا باعث بنتے ہیں، مثلاً بانجھ پن، ڈیپریشن اور نفسیاتی الجھنیں، بڑی عمر کی شادیاں، صنفی اور نسلی تفاخر اور ذات پات اور برادری کی بنا پر تحقیر آمیز رویے وغیرہ۔

  • سیکشن ۱۱ کے تحت عدالت معاملے کی چھان بین اور معاملے کی حساسیت کے پیش نظر  یہ تفتیش لازماً پولیس کے ایسے افسر سے کرائے جو رینک میں ڈی ایس پی سے کم نہ ہو۔
  • سیکشن۱۲:اس کی عبارت درج ذیل سے تبدیل کی جائے:

عدالت مقدمے کی نوعیت کے پیش نظر اس ایکٹ کے ابتدایئے کی رہنمائی کے تحت اہداف کے حصول کی خاطر آخری حکم یا فیصلہ کرنے سے پہلے فریقین (متاثرہ اور ملزم) کے بارے میں کوئی بھی ایسا عبوری حکم جاری کر سکتی ہے جو وہ مناسب سمجھے۔

  • سیکشن ۱۳، ۱۴ اور ۱۵: میں عبوری حکم کی آڑ میں بعض ایسے اُمور میں کمک (relief) لینے کی کوشش کی گئی ہے، جو سراسر میراث یا دوسرے سول معاملات ہیں۔ اور  جن کے لیے باقاعدہ قوانین موجود ہیں۔ لہٰذا، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت کو بااختیار بناکر یہ معاملات اُس کی صواب دید پر چھوڑ دیے جائیں، تاکہ وہ قانون کی روشنی میں مناسب فیصلہ دے سکے۔ یہ تمام شقیں حذف کی جائیں اور عدالت کو مکمل طور پر با اختیار بنایا جائے۔

ان تمام شقوں کے بجاے سیکشن ۱۳ میں یہ عبارات لکھ دی جائیں: سیکشن ۱۳۔ عدالت کو اگر تشدد کا وقوع پذیر ہونے کا یقین ہو جائے، تو وہ سیکشن ۱۲ کے تحت جاری کردہ احکامات کے علاوہ ملزم کو متاثرہ فریق کی رضامندی کے ساتھ اس بات کا پابند بنائے کہ وہ متاثرہ فریق کو انتہائی ناگہانی صورت حال کے بغیر جس کی وہ باقاعدہ اطلاع ضلعی حفاظتی کمیٹی یا متعلقہ عدالت کو پیشگی اطلاع دے گا، گھر سے بے دخل نہیں کرے گا،تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے سے دوبارہ مانوس ہونے کے مواقع پا سکیں۔فریقین یا اُن کے خاندانوں کے سرپرستوں سے اس سلسلے میں ضمانت کی اگر عدالت ضرورت سمجھتی ہوتو یہ عہد لیا جا سکتا ہے۔
اس بات کو بھی یقینی بنایا جائےکہ فریقین کے خاندانوں کے درمیان ثالثی کی کوشش متعلقہ علاقہ ناظم اور علما کی سرکردگی میں کی جائے۔’’متاثر فریق کو سرکاری پناہ گاہوں میں بھیجنا ان اقدامات کی ناکامی کی صورت میں آخری حل ہوگا۔‘‘

  • سیکشن ۱۸: جھوٹی درخواست جمع کرانے والے پر جرمانہ کی حد کم از کم ۲ لاکھ مع ۳ ماہ قید کی سزا لاگو ہو، تاکہ جھوٹی درخواست بازی ختم ہو۔
  • سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات، خلیق احمد نظامی۔ ناشر: مجلس ترقی ادب، ۲-کلب روڈ، لاہور۔فون: ۹۹۲۰۰۸۵۶-۰۴۲۔ صفحات:۴۸۶۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

خلفاے راشدین کے دور میں نظامِ حکومت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےبناکردہ اصولوں پر استوار رہا، مگر دورِ بنی اُمیہ میں حکومت و سیاست کی بنیادیںہل گئیں۔اگرچہ خلیفہ،  بادشاہ بن گیا (تاہم، وہ خود کو خلیفہ ہی سمجھتا تھا)۔ ان کے برعکس سلاطینِ ہند نے اس روش سے اجتناب برتنے کی کوشش کی۔ زیرنظر کتاب میں قطب الدین ایبک (سے لے کرالتمش، فیروز شاہ، ناصرالدین محمود، غیاث الدین، معزالدین کیقباد، جلال الدین خلجی، غیاث الدین تغلق، محمد تغلق، سکندر لودھی وغیرہ تک) کے مذہبی رجحانات کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔فاضل مصنف علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور مصر میں حکومت ِ ہند کے سفیر بھی۔ مگر اصلاً وہ ایک وسیع النظر عالم اور غیر جانب دار مؤرخ تھے۔اپنی وقیع اور بلندپایہ تصانیف کی تحریر و تدوین کے لیے انھوں نے عربی، فارسی اور انگریزی مصادر سے براہِ راست استفادہ کیا۔ ڈاکٹر نظامی بتاتے ہیں کہ: یہ سلاطین عدل و انصاف، عبادات میں انہماک، علما و صوفیا سے عقیدت، اشاعت ِ اسلام اور احترامِ شریعت جیسے قابلِ قدر اوصاف کے ساتھ مخالفین کے قتل، شراب نوشی، رقص و سرود میں دل چسپی میں بھی ملوث نظر آتے ہیں۔ اسی طرح بعض ذاتی زندگی میں بہت متقی، پرہیزگار اور تہجدگزار بھی تھے۔ ان میں غازی ملک غیاث الدین تغلق جیسا ’مناقب ِ جمہور‘ سے متصف شخص بھی تھا، جس کی مؤرخین نے جی بھر کر تعریف کی ہے۔ محمدشاہ تغلق جیسا نابغہ بھی تھا، مگر نہایت متضاد اوصاف کا مالک اور عجیب و غریب حکمران۔ 
مؤرخین نے ان میں سے بعض سلاطین پر طرح طرح کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ نظامی صاحب نے تجزیہ کرکے بہ دلائل ان کی تصدیق یا تردید کی ہے۔ مجموعی طور پر ان بادشاہوں کے ہاں مذہبیت غالب تھی اور ان کے مذہبی رجحانات قوی تھے۔ اس کی ایک وجہ اس دور کے نڈر اور بے باک علما و صوفیا اور باعمل مشائخ بھی تھے۔یہ کتاب بہت پہلے بھارت میں چھپی تھی، مجلس نے اس کا عکسی ایڈیشن شائع کرکے ایک علمی خدمت انجام دی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


  • تذکار بگویہ، جلد پنجم، مرتب و ناشر: ڈاکٹر انوار احمد بگوی۔ چیف ایگزیکٹو، منصورہ ٹیچنگ ہسپتال، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۶۰۸۔ قیمت:درج نہیں

۔بھیرہ کا خاندانِ بگویہ اپنی علمی، تبلیغی اور اصلاحی خدمات کی وجہ سے پورے برعظیم میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خاندان میں ایسے متعدد عالم، محدث، فقہی اور صاحب ِ قلم بزرگ گزرے ہیں، جن کی زندگیوں کا مقصد ِ وحید دینِ اسلام کی حفاظت اور فروغ تھا۔ دین کے یہ بے لوث خادم ہمیشہ سرکار، دربار سے گریزاں اور صاحبانِ اقتدار سے فاصلے پر رہے۔ دنیاوی مناصب اور عہدوں سے انھیں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ایک طرف انھوں نے تحریک ِ خلافت، تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ مدحِ صحابہؓ کی تائید کی اور حسب ِ استطاعت ان میں حصہ بھی لیا۔ دوسری طرف معاصر گمراہ کن تحریکوں اور شخصیات کی تردید میں اپنا بھرپور اثرورسوخ استعمال کیا۔ بگویہ علما نے بھیرہ میں  مجلس حزب الانصار، دارالعلوم عزیزیہ اور کتب خانہ عزیزیہ قائم کیے، اور شمس الاسلام  کے نام سے ایک دینی رسالہ بھی جاری کیا۔
مولانا ظہور احمد بگوی اس خانوادے کے علما میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ان کی ۲۵سال کی تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ جو مضامین، مقالوں، تجزیو ں اور اداریوں کی صورت میں ماہنامہ شمس الاسلام میں بکھرے ہوئے تھے۔
اس کتاب کے مؤلف ڈاکٹر انوار احمد بگوی ڈاکٹر ہیں اور ایک ہسپتال کے کُل وقتی سربراہ بھی۔ اس ہمہ پہلو مصروفیت کے ساتھ ایسی علمی کتاب کی تدوین، وقت کی تنظیم اور استعمال کے باب میں ان کی سلیقہ مندی کو ظاہر کرتی ہے۔ چار جلدیں وہ قبل ازیں مرتب اور شائع کرچکے ہیں۔ یہ علمی کارنامہ بظاہر تو اپنے ذوق و شوق اور اپنے بزرگوں کے کارناموں کو تاریخ کے اَوراق میں منضبط کرنے کے خیال سے انجام دیا گیا ہے، لیکن درحقیقت ایک قیمتی اثاثے کو آیندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


  • STRAIGHT TALK، [سیدھی بات]، ذوالفقار احمد چیمہ۔ ناشر: ماورا پبلشرز، ۶۰-شارع قائداعظم، لاہور۔ فون: ۳۶۳۰۳۳۹۰-۰۴۲۔صفحات: ۲۵۲۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

اچھا سوچنا ایک اعلیٰ قدر ہے اور اس سوچ کو تعمیری تحریر میں ڈھالنا باعث ِ سعادت۔  ذوالفقار احمد چیمہ معروف اور نیک نام سول افسر رہے ہیں۔ انھوں نے معاشرے کے جملہ تضادات کو باریکی سے دیکھا، پرکھا اور ہمدردانہ دانش سے ان کا علاج تجویز کیا ہے۔
ہم بنیادی طور پر ایک ظاہردار اور تہذیبی اعتبار سے بیمار معاشرہ ہیں۔ اس بیماری کا سب سے بڑا مظہر اپنی قومی زبان اُردو کو دھکے دے کر علمی اور قانون ساز اداروں، سرکاری دفتروں اور عدالتوں سے باہر نکال پھینکے کا جرمِ عظیم ہے۔ جرمِ عظیم کہنا اس لیے درست ہے کہ ہمارا کم و بیش تمام تر تہذیبی، دینی، ادبی اور علمی اثاثہ اُردو میں ہے۔ لیکن یہ زبان دفتر اور عدالت، اسکول اور مارکیٹ، تعلقات اور معاشرے کے دائرے سے باہر اور ایک قابلِ رحم بھکارن کے رُوپ میں دکھائی دیتی ہے۔
جناب ذوالفقار نے اس کتاب کی بیش تر تحریریں اُردو میں لکھیں، لیکن وہ یہ دیکھ کر سخت صدمے سے دوچار ہیں کہ نئی نسل کا ایک قابلِ لحاظ حصہ اپنے ملکِ عزیز میں بھی اُردو سے بیگانہ اور لاتعلق ہے۔ چنانچہ انھوں نے کتاب کے کچھ مباحث کو انگریزی میں ڈھالا، تاکہ آنے والی نسل کے دل و دماغ پر ہتھوڑا بن کر برسنے والے بدیسی، سیکولر، اسلام گریزی اور پاکستان دشمن بیانات و خیالات کے برعکس دوسرا پہلو بھی سامنے آسکے۔
کتاب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے لے کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے پُرنور گوشے، علامہ اقبال کے پیغامِ زندگی سے لے کر قائداعظم کے وژن اور ۱۱؍اگست کی تقریر کی بحث تک، تاریخ کے اسرار و رُموز سے لے کر انتظامیات کے پیچ و خم پر پھیلے ۴۰موضوعات کو سمیٹا گیا ہے۔ انگریزی زبان رواں، شُستہ اور عام فہم ہے اور تاثیر انگیز۔ (س م خ)
 

عاتکہ منیر ، پٹنہ (بھارت)

انٹرنیٹ پر ترجمان القرآن (اکتوبر۲۰۱۹ء) کا حرف حرف پڑھا، جو اچانک اور بلاارادہ میری رسائی میں آیا۔ اس شمارے نے مجھ پر جموں و کشمیر کے مسئلے کی حقیقت کے وہ گوشے روشن کیے ہیں کہ تحقیق کی دنیا سے تعلق کے باوجود آج سے پہلے وہاں تک رسائی حاصل نہ تھی۔ پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے ’اشارات‘ میں مسئلے کی تاریخ کو ایسے علمی، قانونی، مدلل ، منطقی اور غیرجذباتی انداز سے پیش کیا ہے کہ یہ مضمون ہندی میں خود بھارت کے طول و عرض میں فراہم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح شکیل رشید ، افتخار گیلانی اور ڈیویکا ایس کی تحریریں کشمیر کے المیے کو اُجاگر کرنے کی راہ میں بڑے بڑے مضمونوں پر بھاری ہیں۔


فاطمہ بدر ،کراچی

حیرت ہے کہ ڈاکٹر رشیداحمد (لاہور) نے (اکتوبر ۲۰۱۹ء، ص ۱۱۱) مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے مضمون کو کھلے دل سے پڑھنے اور سمجھنے کے بجاے اُلٹا اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے۔ مفتی صاحب نے کہیں پر بھی فہم قرآن کی نفی نہیں کی، لیکن حفظ و تلاوت کلامِ الٰہی کی قرار واقعی اہمیت ضرور اُجاگر کی ہے۔ اگر محض قرآنی زبان کا جاننا ہی ایک اعلیٰ قدر ہوتی ، تو ابولہب اور ابوجہل اُس زبان کا ٹھیک ٹھیک فہم رکھنے کے باوجود اس مقامِ عبرت پر نہ ہوتے۔ ثابت ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کے لیے زبان دانی کی اہمیت کے باوجود، اس سے برتر چیز ایمان اور تفقہ فی الدین ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک بے معنی پھبتی ہے کہ مدارسِ دینیہ میں قرآن نہیں پڑھایا جاتا۔


حبیب الرحمٰن چترالی ، اسلام آباد

محترم ایچ عبدالرقیب صاحب کا معلوماتی مضمون: ’زکوٰۃ اور اسلامی سرمایہ کاری کا عالمی کردار‘ (ستمبر۲۰۱۹ء) پڑھا۔ جس میں پاے دار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ۱۹۱ممبر ممالک کے متعین کردہ ’ترقی کے معیارات‘ اور ’ہزار سالہ ترقیاتی اہداف‘ کے حوالے سے، مجھے مضمون نگار کی راے سے سخت اختلاف ہے۔ فریضۂ زکوٰۃ کے عالمی کردار کو ہمیں اقوامِ متحدہ کے معیارات پر نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ مقاصد کے اعتبار سے ان مقامروں [جواریوں] کو اقبالؒ نے ’کفن چوروں‘ سے تشبیہہ دی ہے۔ مسلم دنیا کے معدنی وسائل اور اقتدارِ اعلیٰ پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد اب عالمِ اسلام کے دینی مناسبت سے معاشی وسائل کو بھی اپنے مقاصد اور عزائم کی تکمیل میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ مقاصد تو اسلام کے ہوں، اور مسلم دنیا کے وسائل اِن کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں۔ وہ وسائل جن کے لیے ’تم میں سے ہوں‘ کی شرط بیان کرکے اسلام، مسلم معاشروں کو ہدایت دیتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ، شریعت ِ محمدی کے نام سے یا مقاصد ِ شریعت کے نام سے یہ وسائل اپنے تصوراتِ ہیومن اَزم (Humanism) کے لیے استعمال کرے گی، تو اس طرح دینی اور شرعی مقاصد و اہداف کی تکمیل ہرگز نہ ہوسکے گی۔ 
اقوام متحدہ غالباً یہ چاہتی ہوگی کہ ۲۲ فی صد مسلمانوں کی توحیدی قوت بھی ۱۹۱ ممالک کی تکثیری قوت کے تابع ہوجائے، تاکہ مسلم دنیا کے اقتدار پر قابض سیکولر، دولت پرست اور مغرب نواز حاکموں کے ہاتھوں شریعت ِ محمدی کے اپنے متعین کردہ معاشی و معاشرتی اہداف کی تکمیل تو درکنار، زکوٰۃ کے آٹھ مصارفِ شرعی بھی انھی کے مقرر کردہ ملینیم گول کی نذر کر دیے جائیں ۔ اقوام متحدہ ’شارع‘ بن کر اپنے متعین کردہ اہداف کے لیے شریعت اور زکوٰۃ کو بطورِ وسیلہ استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ چیز شرکِ جلی کی خطرناک صورت ہے اور مسلم معاشروں کے معاشی وسائل کے استحصال کی ایک نئی صورت بھی۔اگرچہ مضمون نگار نے تو اس کارگزاری کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ اُن کےذریعے فی نفسہٖ ایک زہریلی چیز سے آگاہ ہوئے ہیں، جس پر مسلم دنیا کے متعلقہ اداروں کو اپنا ٹھیک ٹھیک کردار ادا کرنا چاہیے۔