اکتوبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

حج سے کیا لے کر آئے؟

نعیم صدیقیؒ | اکتوبر ۲۰۱۵ | تزکیہ و تربیت

حج کے مبارک سفرسے سعادتوں کے ساتھ واپس آنے والے خوش قسمت برادران کے لیے دیدہ و دل فرش راہ! محترم بزرگوار اور عزیز بھائیو! کیا آپ نے حج کو اچھی طرح جانا اور سمجھا بھی؟ اُس سے جو کچھ لینا تھا لیا؟ آپ اپنے ساتھ، اپنے اور دوسروں کے لیے کیا لے کر آئے؟ حج نے آپ سے کچھ باتیں کیں؟ اُس نے کوئی پیغام آپ کو ودیعت کیا؟ یا آپ صرف آبِ زم زم، کھجوریں، جانمازیں اور تسبیحیں لے کر آگئے؟

بہت سے حاجی ہیں جو اگرچہ ہمیشہ حاجی کہلائیں گے، مگر وہ اپنے حج سے دُور ہوتے جاتے ہیں۔ جس دنیا کے مفاد سے وہ کچھ دیر کے لیے الگ ہوئے تھے، وہ پہلے سے زیادہ زور اور پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ دبوچ لیتے ہیں۔

اصل میں بات بڑی نازک سی ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ: ’’شیطان کو اذان کی آواز سخت ناپسند ہے اور وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر اس سے بھاگتا ہے‘‘۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’وہ جب کسی شخص کو خدا کے سامنے سربسجود دیکھتاہے تو اسے بہت ناگوار ہوتا ہے‘‘۔ خصوصاً حج جیسی عظیم عبادت سے جو شخص گزر کر آرہا ہے، اُس کا نام تو درخواست دینے کے دن سے ہی ابلیسی نظام کی لال کتاب میں درج ہوگیا۔ شیاطین جن سے زیادہ ذمہ داریاں انسانی شیاطین کے سر ہوتی ہیں اور یہ اپنا کام دن رات جاری رکھتے ہیں۔ کچھ محبوب اور عزیز لوگ، کچھ کاروبار کے ساتھی، کچھ دفتروں کے ہم نشین، کچھ گائوں اور محلے کے خیرخواہ، کچھ دنیوی معاملات میں مشورے دینے والے، کچھ دین میں نئے نئے شگوفے نکالنے والے، کچھ قصیدہ خوان، کچھ خوشامدی، کچھ خدمت کیش!

حج کے ثمرات

حج فی الواقع بہت بڑی عبادت ہے اور بہت سی عبادات کی جامع!

حج میں ہجرت کا رنگ بھی شامل ہے، اور جہاد کا اسلوب بھی۔ اس میں ذکر و دعا بھی ہے اور رکوع و سجود بھی۔ مزدلفہ کی رات کی خاموش عبادت بھی اور لاکھوں کے مجمع میں یومِ عرفہ کا خطبہ بھی۔ احرام کی کفن نما پوشش بھی ہے اور عید کا خوش آیند لباس بھی۔ وہاں آنسوئوں کی جھڑیاں بھی ہیں اور مسکراہٹوں کی کلیوں کی لڑیاں بھی۔ آدمی بیک وقت وہاں بے ہمہ بھی ہوتا ہے اور باہمہ بھی۔ تھوڑی دیر کے لیے تارکِ دنیا بھی ہوتا ہے اور پھر نئی شخصیت کے ساتھ فاتحانہ شان سے دنیا کے دروازے پر دستک بھی دیتا ہے۔بے شمار قبیلے اس کے اپنے بن جاتے ہیں، کتنے ممالک اسے اپنے ملک لگنے لگتے ہیں، مختلف بولیوں میں وہ ایک ہی جیسے معانی جھلملاتے دیکھتا ہے۔ تنگ عصبیتوں اور تالاب جیسی محدود قومیت سے آگے بڑھ کر وحدت کے ایک سمندر میں شامل ہوجاتا ہے۔

حاجی جب اللہ اکبر کہتا ہے تو وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے دل سے مان لیا کہ خدا ساری قوتوں سے بڑی قوت ہے، اور اُس کا دین برتر ہے، اور اُس کا قانون سب سے فائق ہے، اُس کا اقتدار سب پر غالب ہے، اور اُس کا حکم ہر طرف جاری و ساری ہے۔ وہ جب لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتا ہے تو دراصل اپنے آپ کو بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتا ہے کہ میں آپ کی پکار پر حاضر ہوں اور عمل سے اقرار کرتا ہے کہ جدھر آپ بلائیں گے، اُدھر مجھے حاضر پائیں گے، جدھر سے آپ ہٹائیں گے میں اُدھر سے ہٹ جائوںگا۔ پھر اپنے احرام سے وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو موت کے اُس خط پر کھڑا کر دیا ہے جس سے مجھے ایک نہ ایک دن آگے جانا ہے اور زندگی کا حساب پیش کر کے جزاو سزا سے حصہ پانا ہے۔ وہ جب بیت اللہ نامی مکان کا طواف کر رہا ہوتا ہے تو دراصل اُس کی روح خداوند لامکانی کا طواف کر کے یہ ظاہر کرتی ہے کہ میرا مرکز و محور صرف ذاتِ الٰہی ہے، اُس کی طرف لپکنا، اُسی سے محبت، اُسی کے لیے فدائیت اور اُسی کی اطاعت! وہ جب حجر اسود کا استلام کرتا ہے تو دراصل اپنے رب و الٰہ کے سنگ ِ آستاں کو اُس کے جذبات چوم رہے ہوتے ہیں۔ وہ جب مقامِ ملتزم پر کھڑے ہوکر ایمان و بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور اپنے والدین کی مغفرت کی درخواست کرتا ہے تو گویا وہ ایوانِ جاناں کی چوکھٹ کو تھامے ہوئے ہوتا ہے اور بے اختیار روتا ہے۔ وہ صفا و مروہ میں سعی کرتا ہے اور پھر لمبی پیاس کے ماروں کی طرح پیٹ بھر کر آبِ زم زم پیتا ہے۔ اگر جذبہ صحیح ہو تو یہ آبِ زم زم وجہ شفاء القلوب ہے اور قلوب اگر صحت مند ہوں تو بدن آسانی سے امراض کا شکار نہیں ہوتے۔

حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیل ؑ کے احوال و جذبات سے حصہ پانے کے لیے صدیوں پہلے کی تاریخ کو کھینچ لاتا ہے۔ وہ جب عرفات کے بے پایاں ہجوم میں موجود ہوتا ہے تو اُس کے سامنے میدانِ حشر کا سا نقشہ آجاتا ہے۔ وہ قربانی کرتا ہے تو دراصل اس کا استعارہ یہ ہوتا ہے کہ میں اپنے آپ کو اسی طرح احکامِ الٰہی کے تحت قربانی کے لیے پیش کردوں گا جس طرح حضرت اسماعیل ؑنے برضا و رغبت پوری شانِ صبر کے ساتھ پیش کر دیا تھا۔ یہاں اسے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ  حضرت اسماعیل ؑمیں جو آدابِ فرزندی ابراہیمی تعلیم و تربیت نے پیدا کیے تھے، وہی اسے اپنی اولاد میں پیدا کرنے ہیں۔ تب اُس کے دل میں حضرت ابراہیم ؑ کے اس ارشاد کا صحیح مفہوم نقش ہوجاتا ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ رب العالمین کے لیے ہے۔

حج کی دعاؤں کا حاصل

حاجی جب مقامِ ابراہیم پر نوافل ادا کرتا ہے تو اس کے کانوں میں باپ بیٹے کی دعائیں گونجنے لگتی ہیں۔ قرآن میں ہے:

اور یاد کرو، ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ جب اس گھر کی دیواریں اُٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے: اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے رب! ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان) بنا۔ ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اُٹھا جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور اے رب! ان لوگوں میں سے خود انھی کی قوم سے ایک رسول اُٹھائیو جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے، تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔(البقرہ ۲:۱۳۷-۱۳۹)

حاجی اس دعا کی صداے بازگشت سنتے ہوئے یہ نکتہ پا لیتا ہے کہ جس گھر کی تعمیر کا ذکر ہے، وہ حرم ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہ توحید پر استوار ہوا ہے۔ یہ سچے خدا پرستوں کا ایک مرکز دل و نظر ہے، یہ امن کا ایک سرچشمہ ہے، انسانیت کی پناہ گاہ ہے اور اس کی یہ شان برقرار رکھنا اصلاً اللہ تعالیٰ کے اپنے اہتمام سے ہے، لیکن ظاہری طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری اُمت محمدیؐ کا فریضہ ہے کہ وہ خدا کے اس گھر کو طواف،اعتکاف اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے ہرقسم کے شرک کی آلایش اور ہرقسم کے فساد کی رکاوٹ سے پاک رکھیں۔

پھر اس دعا میں یہ آرزو کی گئی ہے کہ دعا کرنے والوں کو مسلم بنا۔ ایک حاجی کو بھی یہ  جذبہ ان فضائوں سے نچوڑ کر لانا چاہیے کہ وہ مسلم بن کر رہے، وہ خدا کا مطیع فرمان ہو، وہ نہ  بغاوت و سرکشی اختیار کرے، نہ شرک و نفاق کی راہیں نکالے۔ مسلم ہو تو حنیف ہو، یک سُو ہو، ایک ہی رب سے لو لگا لے اور ایک ہی الٰہ کے جلوئوں سے دل کے پنہاں خانے کو روشن کرلے۔

دعا کرنے والوں نے صرف اپنے لیے ہی نعمت ِ اسلام نہیں مانگی، بلکہ اپنی نسل سے بننے والی قوم کے لیے یہ درخواست بھی کی کہ اس کو اپنا مسلم و مطیع بنایئے گا اور اُس کے اندر سے اپنا رسول مبعوث فرما کر ان کو بھی صحیح راہِ عبادت اورطریقۂ اسلام بتایئے گا۔ معلوم ہوا کہ خدا کے رسولؐ کا دامن تھامے بغیر اور اُس کی لائی ہوئی الہامی تعلیم کو قبول کیے بغیر زندگی میں نہ عبادت کا رنگ پیدا کیا جاسکتا ہے، نہ مسلم بن کے جینا ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ رسولؐ آئے اور خدا کی آیات بندوں تک پہنچائے، ہدایت اُن کو پڑھ کر سنائے، خدا کی کتاب اور حکمت ِ دین کی اُن کو وسیع تر تعلیم دے۔ پھر اُن کی زندگیوں کو فکری و اعتقادی لحاظ سے اور اخلاقی، معاشی اور سیاسی لحاظ سے بھی سنوارے۔

اب تو سوال صرف یہ ہے کہ ہم سب مسلمان اس تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیۂ حیات سے سبق لے کر اپنی اور معاشرے کی زندگی کو کیسے اسلامی زندگی بناتے ہیں؟

میرے محترم حجاج بھائیو! یہ فریضہ آپ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ توجہ چاہتا ہے۔ کیا آپ اس فریضے کی ادایگی کے لیے تیار ہیں؟

شیطانوں کو سنگ باری کا سبق

شعائر حج کا ایک اہم موقع وہ ہے جو آپ شیطانوں کو کنکریاں مار رہے تھے۔ کیا اُس وقت آپ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ شیطان بس یہ تین ہیں، جو بُرجیوں کی شکل میں آپ کے سامنے ہیں؟ آپ کو یہ مغالطہ تو نہیں ہوا کہ شیطان صرف خارج ہی خارج میں ہوسکتا ہے؟ کچھ آپ کو احساس ہوا کہ آپ کے گرد اور آپ کے اندر گھس کر شیاطین ساری عمر شرپسندانہ حرکات کرتے رہے ہیں؟ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی کچھ خواہشیں اور جذبے ہیں، جنھیں ضرورت سے زیادہ اُکسا کر وہ آپ کو ایسی کش مکش میں مبتلا کرتے رہے ہیں جو کبھی دانستہ اور کبھی نادانستہ طور پر آدمی کو غلط سمت میں لے جاتی ہے؟ کیا آپ کے تصور میں یہ بات بھی آئی کہ یہاں سے پلٹ کر آپ کا سابقہ پھر انھی شیاطین سے پڑے گا اور آپ کی پھینکی ہوئی کنکریاں اُس وقت تک ان کو سنگسار نہیں کرسکتیں جب تک کہ آپ کچھ کنکریاں اپنے دل و دماغ کے غلط رجحانات پر اور اپنے اعزہ و احباب کی غلط خواہشوں اور نظریات کو بھی نہ ماریں؟

اگر زندگی کی فاسد و مفسد قوتوں کے خلاف خواہ وہ قلبی و ذہنی ہوں یا خارجی، انفرادی ہوں یا اجتماعی، افکار کے میدان میں کام کریں یا اعمال کے دائرے میں___ آپ سنگ باری کا سبق وادیِ محشر سے سیکھ آئے ہیں تو آپ نے حج کی رُوح پالی۔

اصلاحِ معاشرہ کی فکر کیجیے

آپ جس معاشرے کو چھوڑ کر گئے تھے اور جس میں واپس لوٹے ہیں، اس کے احوال پر ذرا غور سے نگاہ ڈالیے۔

یہاں دین سے عملی وابستگی رکھنے والوں اور سچے خدا پرستوں کی بہت کم تعداد پائی جاتی ہے۔ یہاں عظیم معلّمِ توحید حضرت ابراہیم ؑ کے واضح کردہ مسلک کے مطابق ہر طرف سے منہ موڑ کر اور صرف خداے واحد کی عبادت و اطاعت میں لگ جانے والوں اور شرک اور نفاق اور تضاد اور دوعملی و دو رنگی سے پاک افراد آٹے میں نمک کی طرح ہیں۔ اسلامی تقریروں، اسلامی کتابوں، اسلامی تقریبوں، اسلامی میلوں، اسلامی عرسوں، اسلامی جلوسوں، اسلامی مشاعروں، اسلامی یوموں اور اسلامی نعروں کے خوش نما غلافوں کو دیکھ کر ہم سب کی طبیعتیں بہلتی ہیں، مگر غلافوں کو ہٹائیں تو نیچے تو کھلی لادینیت ملتی ہے۔ کہیں بے قید سیکولر زندگی، کہیں مختلف آلایشوں کے ساتھ پائی جانے والی مذہبیت، کہیں تعصب و تخریب کے مارے ہوئے فرقوں کے مناظرانہ محاذ!

مسئلہ صرف وطن عزیز ہی کا نہیں، سارے عالمِ اسلام کی حالت یکساں ہے۔ فرد افراد سے، خاندان خاندانوں سے، سیاسی گروہ سیاسی گروہوں سے، قائدین قائدین سے، مذہبی جتھے دوسرے مذہبی جتھوں سے، جمہور حکمرانوں سے اور حکمران جمہور سے برسرِ کش مکش ہیں۔ ہر کوئی اپنے آپ کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتا ہے۔ کوئی روحانیت کے زور سے، کوئی علم کے زور سے، کوئی دولت کے زور سے، کوئی جتھا بندی کے زور سے اور کوئی قانون اور عہدے کے زور سے! نتیجہ ہر سطح پر، ہر دائرے میں معاشرے کی شکست و ریخت ہے۔

آپ کا یہ معاشرہ دولت پرستی اور آسایش پسندی اور معیار پرستی میں اتنی دُور نکل گیا ہے کہ معاشرت کی اکثر و بیش تر پگڈنڈیاں اب حرام کی وادی سے گزرتی ہیں۔ آج رزقِ حلال کا حصول انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

امتحانات میں، تعلیم گاہوں کے داخلوں میں، ہسپتالوں میں جگہ کے حصول اور پھر عملے کی توجہ اور دوائوں کے حصول میں، مختلف بھرتیوں میں، بھرتیوں کے انٹرویو میں ، تبادلوں اور ترقیوں میں، مواقع مفاد تک رسائی میں، ہر جگہ خیانت کی چوکیاں قائم ہیں۔

آپ کے معاشرے میں بے پردگی کا رجحان بڑھ رہا ہے، فحاشی کے سرچشمے جاری ہیں۔ آپ کے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نہایت وحشیانہ تشدد اور سیاسی قتل کے حوادث بار بار ہونے لگے ہیں۔ محافظ امن اداروں کی طرف سے جو تحفظ عوام کو حاصل تھا، روز بروز کم ہو رہا ہے۔ ہر آدمی کو خوف اپنے پنجوں میں دبوچ رہا ہے۔ان حالات میں زندگی کی اُلجھنیں بڑھ گئی ہیں، انسانی رابطوں میں کمی آرہی ہے اور ہر فرد تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ اس تنہائی کے عالم میں اس کے اعصاب ذہنی اور معاشی بوجھ میں مسلسل اضافے سے چٹخنے لگے ہیں۔ ہرشخص پریشانیوں اور اضطرابات میں گھرا ہوا ہے۔

اب آپ اپنے اس مصیبت زدہ معاشرے پر رحم کھا کر کوشش کیجیے کہ یہاں خداپرستی، رزقِ حلال اور اطمینان قلب کا دور دورہ ہو۔ اس مقصد کے لیے آپ کام کرنے کی راہیں تلاش کریں۔ کچھ نور اگر آپ نے دورانِ حج حرم سے حاصل کیا ہے تو اب قوم کی تاریکیوں میں اسے پھیلانے کی فکر کیجیے۔ کچھ دوڑ دھوپ کیجیے، کچھ تگ و تاز کیجیے، دروازے کھٹکھٹایئے، نیک روحوں کو پکاریئے۔ الحاد اور لادینیت، حرام خوری اور تنگیِ معیشت، بے حجابی اور بدقمارگی کے خلاف ایک محاذ آراستہ کیجیے۔ پاکستان کی وحدت و سالمیت کے مخالفوں اور غایت ِ پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ پکڑ لیجیے۔

کیا حج سے حاصل کردہ اسپرٹ آپ کو اس جہادِ عظیم کے لیے نہیں پکارتی؟

انقلابِ آفریں حج کیوں نھیں؟

کتنی عجیب بات ہے کہ کسی قوم کے کئی ہزار افراد ہر سال حج کرکے آتے ہوں اور پھر بھی اس کے اعتقادی اور اخلاقی احوال خراب رہیں۔ اگر ایک ہزار بیدار دل حاجی بھی ہرسال ہمارے معاشرے میں پوری روح کے ساتھ جلوہ گر ہوتے اور ہرسال ایک حاجی ۱۰؍افراد کے سینوں میں ایمانِ باعمل کی شمعیں فروزاں کردیتا تو خداپرست، محبت کیش، وفاشعار لوگوں کی ایسی صفیں کی صفیں تیار ہو جاتیں، جو اسلام کو ایک زندہ قوت میں بدل سکتی تھیں۔

اگر آپ ہمارے ذہنی احوال کو دیکھیں تو ہم میں بے حسی بھی ملے گی، جمود بھی ملے گا،   بے روح اعتقادات ملیں گے، ان پر مناظرانہ بحثیں ملیں گی، رسمیات کی ایک مستقل شریعت ملے گی، شرک و بدعت کے مظاہر ملیں گے۔ اسی طرح معاشی زندگی میں ایک طرفہ فاقہ مستیاں اور دوسری طرف چیرہ دستیاں، ایک طرف بے روزگاری اور دوسری طرف اسراف و تبذیر، ایک طرف مجبوری و بے بسی اور دوسری طرف ظلم و تشدد، دفتری زندگی میں کام چوری اور رشوت، کاروبار میں چو ر بازاری اور ملاوٹ اور گراں فروشی، سماجی طور سے غلاظت و جہالت اور بیماری و بدکاری، امن کے پہلو سے جرائم اور لُوٹ مار۔ آخر اس فضا کو بدلنے کے لیے ہمارے لاکھوں حاجیوں کا حج انقلاب آفریں کیوں نہیں بنتا؟

کلمہ ایک انقلابی نور ہے، اذان انقلابی پکار ہے، نماز روزہ انتہائی انقلاب انگیز عبادتیں ہیں، صدقہ خدائی انقلاب کے علَم برداروں کی توانائی ہے___ اور حج جو بہت سی عبادات کا جامع ہے، وہ تو تاریخ میں بہت عظیم مدوجزر پیدا کرنے والی طاقت ہے۔ تبدیلی نہ کلمے میں آئی ہے، نہ اذان اور نماز میں، نہ روزہ و صدقے میں، اور نہ حج و قربانی میں، البتہ جمود آفریں تبدیلی خود ہمارے اندر آئی ہے۔ زندگی کے تمام خدوخال متحجر ہوگئے ہیں۔ تحریکیت کا سیلابی دریا یخ بستہ ہوگیا ہے۔

مگر یہاں اُجالا کیوں نہیں ہوتا اور ذرّے آفتاب کیوں نہیں بنتے!

  • اس کی وجہ تو یہ ہے کہ حج اور شعائر ِ حج کی حقیقت کا پوری طرح شعور نہیں ہوتا۔ چنانچہ کتنے ہی طائفین حرم ہیں جو واپس آکر پھر وہی کے وہی کام کرنے لگ جاتے ہیں۔
  • دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر حاجی مطمئن ہوکر لوٹتے ہیں کہ اگلے پچھلے گناہ معاف ہوگئے اور اب ان کی روح ٹھیک ٹھاک ہوگئی ہے، لہٰذا وہ دوبارہ اپنی دنیا کی دل فریبیوں میں مگن ہوجاتے ہیں۔
  • تیسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض حاجیوں میں اپنے متعلق ایک طرح کا احساسِ عظمت و افتخار پیدا ہوجاتا ہے۔ کچھ ان کے گردوپیش کے لوگ اور ان کا گھریلو اور سماجی ماحول بھی ان کے احساسِ افتخار کو پرورش دیتا ہے، حتیٰ کہ بعض لوگ تو مقامِ کبر تک پہنچ جاتے ہیں۔    یہ پندار بعد ِ حج کی برکات کے حصول میں حجاب بن جاتا ہے۔ پھر نہ ان کی ذات میں کوئی تبدیلی آتی ہے، نہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو سنوارنے کی فکر کرتے، نہ کاروبار کا نقشہ بدلتے ہیں، نہ عادات و اطوار کے بُرے پہلوئوں کو چھانٹ کر ان کو نئی ترتیب دیتے ہیں۔
  • چوتھی وجہ کچھ لوگوں کی حد تک یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ حج کے بعد مکمل طور پر دُنیوی مشاغل کو ترک کر کے جانماز اور تسبیح کو سنبھال لیتے ہیں۔ اُن کی تسبیح اور جانماز کے حلقے کے باہر کی دنیا ایمانی و اَخلاقی طور پر تباہ ہوتی رہے تو وہ بے نیاز رہ کر اپنی عاقبت سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ اِس طرح وہ قوت جو ہرسال حج سے پیدا ہونی چاہیے، وہ اصلاحِ زندگی کے کام کے لیے غیرمؤثر بن جاتی ہے۔

آپ پوری سوچ بچار سے یہ عہد کرکے اپنے ہاں نئی زندگی کا آغاز کریں کہ ایک طرف آپ کو اپنی ساری سرگرمیوں کا جائزہ لے کر ان تمام چیزوں کو چھانٹ دینا ہے جو خلافِ دین ہیں یا مشتبہ ہیں۔ اپنے نئے مشاغل کا پورا نقشہ ازسرِنو تیار کرنا ہے۔ دوسری طرف آپ کو اپنے گھر کے ماحول کو بدلنا ہے۔ ایک حاجی کے گھر میں نماز اور قرآن کا دور دورہ ہونا چاہیے۔ ایک حاجی کے گھر میں پردے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ایک حاجی کے گھر میں نہ حرام مال داخل ہونا چاہیے۔تیسری طرف آپ کو یہ فکر کرنی ہے کہ آپ اپنے محلے، اپنے علاقے یا شعبے، اپنے کاروباری یا دفتری حلقے میں خدا اور رسولؐ کے دین کی دعوت کس طرح پھیلائیں اور اس کام میں کس جماعت یا ادارے یا کن افراد کے ساتھ تعاون کریں۔

حج کے بعد آپ کو دعوتِ دین کا زبردست علَم بردار ہونا چاہیے۔ خدا آپ کو حج کے بعد کی زندگی میں مزید سعادتیں اور برکتیں عنایت فرمائے، آمین!