اکتوبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

قراردادِ مقاصد: دستوری مراحل اور اعتراضات کا جائزہ

پروفیسر خورشید احمد | اکتوبر ۲۰۱۵ | اشارت

قراردادِ مقاصد کے پس منظر، مفہوم اور مقصود، اس کے متعین کردہ اصولِ حکمرانی اور اس کی تاریخی، سیاسی اور قانونی حیثیت کے چند اہم پہلوئوں کی وضاحت کے بعد ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چند گزارشات اس حوالے سے بھی کریں کہ قراردادِ مقاصد ایک ایسا دستوری فرمان (constitutional declaration) ہے، جس کے پیچھے پوری پاکستانی قوم ہے اور جو ۱۹۴۹ء کے بعد سے ہر دستوری دستاویز یا دستور کا حصہ رہی ہے۔ سیکولر طبقوں نے جب بھی ’قراردادِ مقاصد‘ کو ہدف بنانے کی کوئی کوشش کی، ان کو منہ کی کھانا پڑی۔ اس کے پیچھے جو قومی اجتماع کی قوت ہے، وہ اسے ہر دوسری دستاویز پر فوقیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف دستور کا دیباچہ ہے بلکہ دستور کے قابلِ نفاذ (operational) حصے میں شامل ہے اور اس میں یہ واضح ہدایت موجود ہے کہ اس قرارداد کا عملاً اطلاق ہر معاملے پر ہوگا۔

دستور کی دفعہ ۲-اے کے یہ الفاظ بڑے اہم اور فیصلہ کن ہیں کہ:

اسے یہاں دستور کا لازمی حصہ (substantive part) بنایا جاتا ہے اور اس کے مطابق فوری مؤثر ہوگا۔

یعنی قراردادِ مقاصد میں بیان کردہ اور طے شدہ اصول اور احکام کو دستور کا مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے اور وہ اپنی ہیئت اور روح کے مطابق مؤثر ہوں گے۔

یہ تصریح قراردادِ مقاصد کے اصول و احکام کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور سے اس طرح متعلق کر رہی ہے کہ اب دستور کو ان کی روشنی میں سمجھا اور نافذ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں اگر کہیں کوئی اشکال ہو، تو اس کو مناسب دستوری طریقے سے رفع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

سیاسی جماعتوں کا قانون اور قراردادِ مقاصد

قراردادِ مقاصد اور دستور، قانون اور اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات پر قومی اسمبلی میں جولائی ۱۹۶۲ء میں تفصیل سے بحث ہوئی اور پھر پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا قانون زیربحث آیا۔ اس میں متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے سیاسی جماعتوں کے لیے اسلامی نظریے کو بحیثیت ’نظریۂ پاکستان‘ شامل کیا اور ضروری قرار دیا کہ ’’ وہ اسلامی نظریے یا پاکستان کی وحدت یا سلامتی کے خلاف نہ ہو‘‘۔ اس بحث میں صدر جنرل محمد ایوب کی کابینہ کے وزیر جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلی کے ایوان میں جو بیان دیا تھا، اسے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے:

جناب عالی! دستور میں پہلے ہی یہ واضح طور پر لکھا جاچکا ہے کہ اسلام ہماری ریاست کی اساس ہے۔ یہ حقیقی صورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دیباچہ (preamble ) قابلِ نفاذ ہے یا نہیں۔ ایک دیباچہ دستور کی کلید ہوتا ہے۔ یہ دستور کا منشور ہے۔ دستور کے اس مثالی چارٹر (ضابطے) میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک علاقائی ریاست سے ممتاز ایک نظریاتی ریاست ہوگا۔اگر ہمارے نظریۂ حیات کو چیلنج کیا گیا تو ہم اپنے نظریۂ حیات کی برتری ثابت کریں گے۔ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ہم اپنے مذہب کے لیے جان دے دیں گے اور اپنے نظریۂ حیات کے لیے بھی جان دے دیں گے.... اگر سیاسی جماعتوں کا اہم ترین … مقصد کسی ایک ملک کی حکومت کو سنبھالنا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستور کی روح اور مینڈیٹ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں۔ اگر پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، تو سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ دستور کے بنیادی احکامات (dictates) کے عین مطابق کام کریں۔ (National Assembly of Pakistan Proceedings، ۱۱جولائی ۱۹۶۲ئ، ص ۱۳۵۵-۱۳۵۶)

دیکھیے قراردادِ مقاصد اس وقت صرف دستور کا دیباچہ تھی۔ اس دیباچے کے پورے دستور اور سیاسی نظام کے لیے کیا تقاضے تھے یہ شروع ہی سے واضح تھے۔

سابق چیف جسٹس کارنیلیس کا اعتراف

آیئے، دیکھیں کہ اس سلسلے میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب اے آر کارنیلیس (جو خود رومن کیتھولک تھے مگر پاکستان کے مزاج شناس تھے) کیا کہتے ہیں۔۱۱مارچ ۱۹۶۵ء کو   ایس ایم لا کالج ،کراچی میں دوسری کُل پاکستان لا کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا ارشاد تھا:

عظیم قرارداد مقاصد بھی ہمارے دستور کا حصہ ہے، جو آزادی عطا ہونے کے فوراً بعد کے زمانے میں، دستورسازی کے دوران بہترین ذہنوں کے اتفاق راے کی نمایندگی کرتی ہے۔ قراردادِ مقاصد میں پاکستان کے دنیوی معاملات کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ ان کو جمہوری انداز میں طے (conduct) کیا جائے تاکہ اسلام کے احکام کے مطابق مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔ بنیادی حقوق بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے ہیں، جو جمہوری انداز میں معاشرتی عدل، رواداری اور انصاف کے لیے رہنمائی کرسکتے ہیں۔ ایک جج جو دستور کے دیے ہوئے بنیادی حقوق کی تفصیلی وضاحت (expound) کرتا ہے، اس سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ان اعلیٰ ذرائع سے تحریک پائے گا، جو ہمیشہ کے لیے قرآنِ مجید کے الفاظ میں ثبت (inscribe) کردیے گئے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں میں بنیادی حقوق کے اطلاق سے متعلق مقدمات میں مسائل و معاملات کی ایک بڑی تعداد بھی زیربحث آتی رہتی ہے، تاہم عدالت کبھی کبھار ہی اس سوال پر اس لحاظ سے غور (adress)کرتی ہے کہ اس قانون کو     اسلام کے اصولوں کے حوالے سے کس طرح سمجھا جائے۔ میں مستقبل میں وہ دن دیکھتا ہوں جب ایک وکیل اپنے مقدمے کے حقائق بیان کرنے کے بعد، ان بنیادی حقوق کا جوہر بیان کرنے کے بعد جو قابلِ اطلاق ہے، وہ عدالت کے سامنے اپنا نقطۂ نظر  رکھے گا کہ متعلقہ آیاتِ قرآنی پر کس طرح اس کا اطلاق کیا جائے۔

پاکستان میں مذہبی شعور کے تحت بنیادی حقوق کا اطلا ق ہونا چاہیے۔ بنیادی حقوق کی وضاحت اور اطلاق اسلام کی اخلاقی اقدار کے مطابق مساوات، برداشت اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے دنیا کے ملکوں میں رائج جمہوری انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں میں صرف پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں دستور کے تقاضوں کے تحت دنیوی معاملات کو مذہبی شعور کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ (Law and Judiciary in Pakistan  اے آر کارنیلیس، تدوین و ادارت: ڈاکٹر ایس ایچ حیدر، لاہور لا،  ٹائم پبلی کیشنز، لاہور، ص ۶۶-۶۷)

جسٹس اے آر کارنیلیس نے پاکستان کے دستور کے موضوع پر ڈھاکے میں کونسل آف نیشنل انٹگریشن کے اجلاس سے ، ۱۵ جون ۱۹۶۷ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

دستور کا دیباچہ [قراردادِ مقاصد] یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ اسلام کے وضاحت سے بیان کردہ جمہوریت، آزادی، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصول مکمل طور پر اختیار کیے جانے چاہییں۔ اگر تسلیم شدہ نظام (حکومت) اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی خواہش کو عمل میں نہ لایا جائے تو یہ دستور سے دھوکا ہوگا۔ اس مقصد کو مختصر طور پر     اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک انسانی معاشرے کی تنظیم جس میں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پورا موقع ملے، وہ جمہوریت جہاں مذہب اسلام کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق  ’انصاف سب کے لیے برابر‘ کا اصول رائج ہو۔

اس خطبے کا اختتام جسٹس کارنیلیس نے ان لفظوں میں کیا:

ہمارا دستور ہر چیز کو ایک واحد متحد (unifing) کرنے والے مرکزی اصول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ایک ایسا متحد کرنے والا اصول، جس کے تحت ہر معاملے میں ہمہ مقتدر طاقت ہے جس کے سامنے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے دار سے لے کر ایک عام شہری اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کے لیے پلٹے گا۔ ۱۲صدیوں میں  اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں روایت اور ثقافت میں جو ارتقا ہوا ہے، اس کے جواز کے لیے دستور اعتماد دیتا ہے۔ اس یقین پر مبنی انسانی نسل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ زمین پر امن کا ایک اخلاقی نظام تخلیق کیا جائے۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام، یعنی مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں کو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اسلام کا اخلاقی نظم و ضبط، انصاف اور سچائی کے بنیادی تصورات پر مبنی ہے۔ اس وجہ سے ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کے امکانات بہت روشن ہیں۔ یہ وہ روح ہے جسے میں دستور کے ضمیر کی حیثیت سے سمجھا ہوں۔ (کتاب مذکورہ، ص۱۷۲-۱۷۴)

جسٹس کارنیلیس نے اس سلسلے میں عدالت کے کردار کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کرتے ہوئے ارشاد کیا ہے:

جب کوئی مقننہ، ایسا قانون منظور کرتی ہے جو بنیادی حقوق کی براہِ راست خلاف ورزی کرتا ہے، وہ قانون دستور کی رُو سے غیرمؤثر (void) ہے، اور عدالتیں رٹ (writ) کی حدود پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔ (ایضاً، ص۹۴)

بات صرف بنیادی حقوق تک محدود نہیں۔ جسٹس کارنیلیس بڑی صراحت اور جرأت کے ساتھ کہتے ہیں کہ:

لیکن عوام یہ بھی خواہش کرسکتے ہیں کہ عدالتیں، ان تمام اُمور میں جو وہ سرانجام دیتی ہیں، قانون کا نفاذ قرآن و سنت کے مطابق کریں جیساکہ دستور میں چاہا گیا ہے۔ ہرشخص کو یہ سوال درپیش ہے کہ آیا وہ اپنے فرائض مناسب طور پر ادا کر رہا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال ہر وکیل کے ذہن میں بھی ہونا چاہیے، جب وہ کسی خاص معاملے پر دلائل دینے کے لیے کھڑا ہو کہ کیا میں یہ کام دستور کے تقاضوں کے مطابق کر رہا ہوں، یا بلاشبہہ اس مقصد کے مطابق کہ جس کے لیے ملک قائم کیا گیا تھا؟

اور وہ مقصد کیا ہے؟ ایک خدا ترس اور پاکستان کے وفادار غیرمسلم ماہر قانون کی زبان سے سن لیجیے:

یہ ایک حقیقت ہے کہ فقہا اور فلسفی دونوںفلسفے کے سیاسی یا ہیئت کے معاملات میں اعلیٰ ترین سطح پر ان کے نتائج سے کتنے ہی متنبہ کیوں نہ ہوں، شریعت کے حتمی احکامات و اقدامات جو کچھ وہ کہتے ہیں ، کی طرف بار بار پلٹتے ہیں۔ اس کا واضح ہدف یہ ہے کہ ہرشخص کو اپنی زندگی اس طرح گزارنی چاہیے، جس طرح اللہ نے اس کے لیے مقدس کتابوں میں درج کیا ہے۔ پوری قوم کو بھی اپنے تمام معاملات میں یہ ہدایت ملحوظ رکھنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں اس دنیا کے ساتھ بعد کی دنیا میں بھی تحفظ اور سلامتی فراہم ہوجائے گی۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ ایک مسلم ملک میں زندگی شریعت کے مطابق گزاری جانی چاہیے۔ (ایضاً، ص۳-۳۸۲)

دستوری جدوجھد کے مراحل

قراردادِ مقاصد کے کیا تقاضے ہیں اور دستور کس نظامِ زندگی کا مطالبہ کرتا ہے؟ اس میں کوئی ابہام نہیں۔ ایک مخصوص طبقے نے ذہنوں کو تذبذب، اور شکوک و شبہات سے آلودہ کرنے اور گاڑی کو پٹڑی سے اُتارنے کی  ہردور میں کوشش کی ہے لیکن بالآخر قوم کے دل کی آواز غالب آکر رہی ہے۔ اس سفر کے چند مراحل پر نگاہ ڈالنے سے اس کش مکش کے خدوخال اور پھر کش مکش سے نکلنے کا راستہ بچشم سر دیکھا جاسکتا ہے۔

قراردادِ مقاصد ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور کی گئی اور دستورسازی کی طرف پہلے قدم کے طور پر اس دن جو کمیٹی یعنی Basic Principles Committee (بنیادی اصولوں کی کمیٹی) قائم ہوئی،  اس کمیٹی نے قراردادِ مقاصد کی روشنی میں کام کرنے کے لیے پہلا کام یہ کیا کہ ’تعلیمات اسلامیہ بورڈ‘ قائم کیا جس کے سربراہ مولانا سیّد سلیمان ندوی تھے، اور یہ بورڈ جید علما پر مشتمل تھا۔ مولانا ظفراحمد انصاری اس کے سیکرٹری تھے۔ ’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ کی پہلی رپورٹ ستمبر ۱۹۵۰ء میں پیش ہوئی اور اس میں قراردادِ مقاصد کو ریاست کے رہنما اصول (Directive Principles of State Policy) کے طور پر تجویز کیا گیا۔

اس کے بعد دستور کا جو بھی خاکہ تھا اس میں سرفہرست قراردادِ مقاصد تھی۔ ۱۹۵۶ئ، ۱۹۶۲ء اور پھر ۱۹۷۳ء کے دساتیر میں قرارداد مقاصد دیباچے کے طور پر شامل تھی۔ ریاست کے رہنما اصولوں میں قراردادِ مقاصد کے اصول و احکام کی صراحت تھی اور یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ: ’’کوئی قانون سازی قرآن و سنت سے متصادم نہیں کی جاسکے گی اور موجود الوقت تمام قوانین کو بھی ایک معقول مدت میں قرآن و سنت کے مطابق کر دیا جائے گا‘‘۔

جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت میں پہلی اور آخری کوشش قراردادِ مقاصد کو مجروح اور غیرمؤثر کرنے اور دستور سے اسلامی دفعات کو نکالنے یا غیر مؤثر کرنے کی کی گئی۔ انھوں نے ۱۹۶۳ء میں جو دستور ایک آمر کی حیثیت سے ملک پر مسلط کیا، اس میں ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے نام سے ’اسلامی‘ نکال دیا گیا اور اسے صرف ’جمہوریہ پاکستان‘ بنادیا۔ تاہم قراردادِ مقاصد کو دستور کے دیباچے کے طور پر شامل ضرور کیا مگر اس کا سب سے اہم پہلو، یعنی تمام اُمورِ حکمرانی قرآن و سنت کی حدود میں [یعنی: within the limits prescribed by Him. ] انجام دیے جائیں گے‘‘، حذف کردیا گیا۔ اسی طرح یہ دفعہ کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی اور قانون سازی کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایک ’کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی‘ ہوگی، کو بھی دستور سے خارج کر دیا گیا۔ صدر موصوف کا خیال تھا کہ وہ ڈنڈے کے زور پر قراردادِ مقاصد اور دستور کی اسلامی دفعات کو غیرمؤثر کردیں گے، لیکن ۱۹۶۲ء کے دستور کے تحت ان کے اپنے طے کردہ نظام کے ذریعے جو اسمبلی وجود میں آئی، اس نے پہلا کام یہی کیا کہ قراردادِ مقاصد اور دستور پر ان چیرہ دستیوں کا نوٹس لیا۔ پہلے ہی سیشن میں ایک قرارداد اس موضوع پر آئی کہ ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کیا جائے اور طویل بحث کے بعد یہ قرارداد منظور ہوگئی۔

پھر حکومت، سیاسی جماعتوں کے بارے میں ایک قانون Political Parties Act کی شکل میں لائی۔ اس قانون کو اس وقت  کے وزیر قانون سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر نے پیش فرمایا۔ اس قانون میں سیاسی جماعتوں کے لیے شرط تھی کہ وہ پاکستان سے وفاداری کا عہد کریں گی، اور کوئی ایسی جماعت وجود میں نہیں آسکے گی، جو پاکستان کی سیکورٹی اور سلامتی کے باب میں معتبر نہ ہو۔ یہ قانون، کمیٹی کے سپرد ہوا، جس نے ترمیم کی کہ وفاداری صرف پاکستان کی سلامتی اور سیکورٹی ہی سے نہیں بلکہ پاکستان کے نظریے (Ideology of Pakistan) سے بھی ہونی چاہیے۔ ایوان میں یہ ترمیم کی گئی کہ آئیڈیالوجی کی وضاحت صاف لفظوں میں کی جائے اور اسے Islmamic Ideology کہا جائے۔ بڑی بحث کے بعد اور وزیرقانون کی بہت سی کہہ مکرنیوں کے بعد ایوان نے طے کیا کہ سیاسی جماعتوں کے قانون میں اسلامی آئیڈیالوجی سے وفاداری لازماً شامل کی جائے گی اور خود وزیرقانون جسٹس (ریٹائرڈ) محمدمنیرصاحب نے کئی راتوں کے غوروفکر کے بعد ایوان میں بیان دیا کہ خیال رہے کہ قانون میں اسلامی آئیڈیالوجی کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

جسٹس (ر) محمد منیرصاحب نے اور دوسرے وزرا نے پہلے بل کو اصل شکل میں منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن ایوان میں کی جانے والی تقاریر اور ارکان کے موڈ کو دیکھتے ہوئے پسپائی اختیار کی اور بالآخر ’اسلامی نظریے‘ سے وفاداری قانون کا حصہ بنی۔ جسٹس (ر) محمد منیرصاحب کی تقاریر سے دو اقتباس صورتِ حال کو سمجھنے میں بڑے معاون ہوں گے۔

۱۱ جولائی ۱۹۶۲ء کو بحث کا رُخ دیکھ کر انھوں نے فرمایا:

جناب عالی! اصل میں لفظ آئیڈیالوجی موجود نہیں ہے۔ جب میں بل کو ڈرافٹ کر رہا تھا میں نے اس سوال پر غوروخوض کیا کہ آیا لفظ آئیڈیالوجی آنا چاہیے یا نہیں؟ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ اس لفظ کو……… نہ کروں۔ کیونکہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ان الفاظ، یعنی نظریۂ پاکستان کی تعریف کرنا بہت مشکل ہوجائے گا لیکن سلیکٹ کمیٹی نے اس لفظ کو شامل کردیا ہے اور اب ایک ترمیم لائی گئی ہے کہ الفاظ آئیڈیالوجی آف پاکستان کی تعریف بطور اسلام کی جائے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس بارے میں بے تعلق ہوں کہ لفظ آئیڈیالوجی ہونا چاہیے، یا نکال دینا چاہیے، یا اس کی تعریف بطور اسلام کی جانی چاہیے۔ میں یہ بات ایوان پر چھوڑتا ہوں۔

ایوان نے پورے زور و شور سے ’اسلامی نظریہ‘ کو قانون میں شامل کیا اور پھر جسٹس (ر) محمدمنیرصاحب جنھوں نے پنجاب کے فسادات پر کورٹ آف انکوائری رپورٹ میں اسلام اور اسلامی ریاست کے تصور پر تیر چلائے تھے، ترمیم کے بارے میں ہاں کہنے پر مجبور ہوئے۔ یہ اور بات ہے کہ ۱۵ برس بعد اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں نہ صرف یہ کہ ایک بار پھر اپنی پرانی پوزیشن کا اعادہ کیا بلکہ قائداعظم کے الفاظ تبدیل کرکے انھیں سیکولرزم کا حامی بنا کر پیش کیا۔  ’نظریۂ پاکستان‘ کو جنرل ضیاء کی اختراع قرار دیا اور قراردادِ مقاصد کو قائداعظم کے تصورِ پاکستان کے منافی ارشاد فرمایا۔ لیکن دیکھیے یہاں کیا فرماتے ہیں:

میں نے اس معاملے پر گہرا غوروفکر کیا ہے اور میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ آئیڈیالوجی کے الفاظ کو شامل کرنا کسی بھی طرح اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو متاثر نہیں کرے گا اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ اقلیتوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی جماعتیں اس شرط کے ساتھ قائم کرسکیںکہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایسے پروپیگنڈا میں تبدیل نہ کردیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں۔ یہ سب ………… پر منحصر ہے کہ وہ لفظ اسلامی چاہتے ہیں یا نہیں۔

ایک رکن اسمبلی جناب محبو ب الحق نے سابق جج صاحب کو یاد دلایا کہ منیر رپورٹ کے ص۲۰۱ پر انھوں نے اس سے مختلف بات کی ہے لیکن اسپیکر نے اعتراض کو رد کر دیا اور کہا کہ وہ ذاتی ریفرنسوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن تاریخ نے اس منظر کو محفوظ کرلیا۔ بلاشبہہ عزت و ذلت کے باب میں اللہ تعالیٰ کا اپنا قانون ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ اس کے بعد جلد ہی جسٹس (ر) منیرصاحب نے وزارتِ قانون سے دستبرداری اختیار کرلی۔

قرآن و سنت کی روشنی میں تمام قوانین کی تبدیلی کی قرارداد اور سیاسی جماعتوں کے قانون میں ’اسلامی نظریہ‘ کا اضافہ دراصل قراردادِ مقاصد کی اصل روح کا اعادہ تھے اور یہ دونوںجنرل ایوب خان اور ان کے سیکولر حواریوں کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہ تھے۔ فوجی حکمرانی کے تمام تر کروفر کے باوجود انھیں یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ ان تبدیلیوں کے بعد اگلا مرحلہ خود دستور میں ترمیم کے ذریعے قراردادِ مقاصد سے انحراف کے باب میں جو اقدام کیے گئے تھے ان کی اصلاح کا تھا۔ یہ کام بھی قوم کے دبائو میں اسمبلی نے شروع کر دیا اور بالآخر ۱۹۶۲ء کے دستور میں ترامیم کرنے کے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ایوان نے قراردادِ مقاصد کے حدود اللہ کے دائرے میں اختیارات کے استعمال کی شق جسے خارج کردیا تھا، اسے بحال کرایا گیا۔ مملکت کا نام دوبارہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ قرار دیا گیا۔ قرآن و سنت سے متصادم قانون سازی پر پابندی کی دفعہ کو بھی بحال کیا گیا اور کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کو بھی ایک دستوری ادارے کے طور پر دوبارہ قائم کیا گیا۔   اس طرح قراردادِ مقاصد پر جو حملہ ہوا تھا اسی اسمبلی نے جو فوجی آمر کی منشا کے مطابق وجود میں آئی تھی اس کو غیر مؤثر کردیا اور سیکولر لابی ہاتھ مَلتی رہ گئی۔

اُوپر کی گزارشات سے دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں : ایک یہ کہ قراردادِ مقاصد تحریکِ پاکستان کے مقاصد کی ترجمان اور پاکستانی قوم کے جذبات، احساسات، عزائم اور تصورات کا مظہر ہے۔  یہ قوم اور ریاست کے درمیان اللہ کو گواہ کر کے ایک معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، اور دستور، حکمران اور تمام ریاستی ادارے بشمول مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اس کے تابع ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تبدیلی یا اس سے انحراف قوم کے لیے کسی شکل میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ دستور کے لیے اس کی حیثیت ماں کی سی ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قرارداد دستور کی صورت گر ہے، دستور کے تابع نہیں۔ اس کے دیے ہوئے اصول و احکام ہی دستور کا اصل جوہر ہیں اور ان کی تنسیخ یا ترمیم اس قوم کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ اس سلسلے میں جو بھی کوشش ماضی میں ہوئی وہ ناکام رہی اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ گیلپ، پیو (PEW) اور NDI کے زیراہتمام کیے جانے والے تمام ہی عوامی جائزے اس ایک بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی آبادی کی عظیم اکثریت (۸۰ سے ۹۰ فی صد) اُس نظام کے حق میں ہے جس میں شریعت کی بالادستی ہو۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل اپنے دین کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اور شریعت ہی ان کے لیے زندگی کی اصل شاہ راہ ہے۔

قراردادِ مقاصد بہارتی قرارداد کا چربہ ؟

فاضل جج جناب ثاقب نثار صاحب نے اپنے اضافی نوٹ میں جہاں بھارت کی دستوری تاریخ اور وہاں کے دستوری ڈھانچے کے تصور کے ارتقا اور موجود دستوری پوزیشن کا بڑی محنت اور بالغ نظری سے جائزہ لیا ہے وہیں قراردادِ مقاصد اور پاکستان کے دستور کے بارے میں کئی ایسی باتیں کہی ہیں جن پر کلام کی ضرورت ہے۔ اختلاف راے زندگی کی بڑی مقدس روایت ہے اور     ہم اختلافی آرا کے احترام کے قائل ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جو باتیں حقائق کے منافی ہوں یا حالات کی غلط تعبیر کا ذریعہ بن رہی ہوں، ان پر گفتگو اور احتساب کا عمل روک دیا جائے۔ اصلاحِ احوال کے لیے ایسے اُمور پر بحث و تنقید فکری اور تہذیبی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ہم ان چند اہم اُمور کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے اُٹھائے ہیں اور خود ان کو اور   اہلِ علم کو دعوت دیتے ہیں کہ ان اُمور پر حقائق اور دلائل کی روشنی میں اپنی اپنی راے قائم کریں۔

ان کی یہ بات درست ہے کہ قراردادِ مقاصد اور اس میں بیان کردہ اصول و احکام اور ۱۹۷۳ء کے دستور میں، جیساکہ وہ اگست ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا تھا، بہت سے تضادا ت تھے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ دستور میں کئی ترامیم اس کا حلیہ بگاڑنے اور انسانی حقوق اور عدلیہ کے حقوق پر دست درازی کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بنیں۔ پھر ان کی یہ راے بھی درست ہے کہ حالیہ ترامیم جن میں ۱۸ویں ترمیم خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے، تضادات کو کم کرنے اور دستور کو بحیثیت مجموعی بہتر بنانے کا ذریعہ بنی ہیں۔

قراردادِ مقاصد کی تعبیر اور اس کے مقام کے تعین میں گو ہمیں کوئی ابہام نہیں لیکن ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ اس باب میں ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں اور دلیل کی بنیاد پر ان پر بحث اور مکالمہ ہونا چاہیے لیکن جن اُمور کے بارے میں ہم شدید اضطراب کا شکار ہیں ان میں سرفہرست ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قراردادِ مقاصد پاکستان کی اپنی سوچ اور تخلیق نہیں بلکہ اس کا سلسلۂ نسب بھارت کی جنوری ۱۹۴۸ء کی بھارتی قراردادِ مقاصد سے جاملتا ہے جو پنڈت نہرو نے پیش کی تھی ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی قرارداد اپنے عنوان اور مندرجات کے اعتبار سے بھارتی قرارداد کا چربہ ہے۔

بلاشبہہ وہ قراردادِ مقاصد کے پہلے پیراگراف کو جس میں حاکمیت الٰہیہ کا اقرار ہے، تعریف و توصیف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسے بانیانِ پاکستان کے تصور کا عکاس تسلیم کرتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی حاکمیت کے تصور کو مؤثرانداز میں پیش کرتا ہے، اور اس امر کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں عوام کے کلیدی کردار اور اقتدار کے ایک امانت ہونے کا تصور موجود ہے (پیراگراف ۱۲۳ اور ۱۲۴)۔ لیکن اس اعتراف کے معاً بعد وہ یہ سوال اُٹھا دیتے ہیں کہ اس ابتدائیے اور اس کے بعد کی دفعات کی حیثیت مساوی نہیں ہے۔ ان ہی کے الفاظ میں ان کے اشکال اور دعویٰ کو دیکھ لیجیے:

تاہم بقیہ قرارداد کو بھی یہی حیثیت دینا واضح طور پر تاریخی ریکارڈ سے بہت دُور تک بہک جانا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی تصوراتی بنیادیں اور مشتملات جو (۱۲ مارچ ۱۹۴۹ئ) کو منظور ہوا، جب کہ قائداعظم رحلت فرما چکے تھے، نہ پاکستان کے لیے منفرد ہیں اور  نہ بلاشبہہ قرارداد کی رسمیات ملک کے اندر…(ص ۱۲۴)

ان کا دعویٰ ہے کہ پنڈت نہرو نے بھارت کی دستور ساز اسمبلی میں جو قراردادِ مقاصد  پیش کی اور جو ۲۰جنوری ۱۹۴۸ء کو وہاں منظور کی گئی وہ پاکستان کی قرارداد کا منبع ہے اور پاکستانی قرارداد کی ہیئت (structure) حتیٰ کہ اس کے مندرجات (content)بھی بھارت کی قرارداد سے مستعار ہیں اور گویا اس کا ہی چربہ ہیں۔

عنوان کا اشتراک اور ہیئت کس طرح دو قراردوں، دو قوانین کو ایک جیسا یا ایک دوسرے کا چربہ بنا دیتے ہیں، ہمارے لیے اس کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔

پاکستانی اور بہارتی قرارداد کا موازنہ

دستور کا لفظ دنیا کے ۲۰۰ دساتیر میں مشترک ہے۔ سول لا، کریمنل لا، کمرشل لا، نہ معلوم کتنے قوانین ہیں جن کے عنوان، ہیئت اور الفاظ تک سیکڑوں ملکوں کے قوانین میں مشترک ہوتے ہیں لیکن محض اس ظاہری مماثلت سے وہ قانون نہ ایک دوسرے کا چربہ بن جاتے ہیں اور نہ ان کی انفرادیت اس سے متاثر ہوتی ہے بشرطے کہ ان کا اپنا مقصد واضح اور مؤثر ہو۔ دونوں کو ’قراردادِ مقاصد‘ کہنے سے بعد کی قرارداد پہلی قرارداد کا سایہ اور طفیلی کیسے بن گئی؟ ہمارے لیے یہ ایک معما ہے۔ ہاں، مندرجات، اصولوں اور احکام کی بات دوسری ہے اور ان میں مکمل مماثلت شبہات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے آیئے اپنی توجہ مندرجات پر مرکوز کریں اور دونوں کا موازنہ کر کے دیکھیں کہ ان میں مشترکات کیا ہیں اور کون سی چیزیں ان کو ایک دوسرے سے مختلف اور ممتاز کرتی ہیں:

                ۱-            ہندستانی قراردادِ مقاصد میں آٹھ دفعات ہیں اور پاکستانی قرارداد مقاصد میں ۱۲ دفعات ہیں۔

                ۲-            پاکستانی قرارداد کا آغاز تصورِ کائنات، تصورِ حیات اور حکمرانی کے اصول و آداب کے ایک واضح تصور سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، انسان کی خلافت، اقتدار کے امانت ہونے اور اسے عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے مگر اللہ کی دی ہوئی حدود کے دائرے میں استعمال کیے جانے کے محکم اصول کے اثبات سے ہوتا ہے۔ بھارت کی قرارداد میں کسی تصورِ حکمرانی کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ سیدھے سیدھے ہندستان کو ایک آزاد، خودمختار ریاست قرار دیتے ہوئے دستورسازی کے لیے ہدایت دیتی ہے۔ مستقبل کے وژن کا کوئی پرتو یا کسی خاص نظریاتی منزل کا کوئی اشارہ اس دیباچے میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اصل دستور میں شامل نہیں کیا گیا اور ایک دوسرا دیباچہ لکھا گیا جیساکہ ہم بعد میں عرض کریں گے۔

                ۳-            پاکستانی قرارداد میں اسلام کو حکمرانی ہی نہیں زندگی کے پورے نظام کے لیے رہنما اصول اور مسلمانوں کو اسلامی نظامِ حیات کی تعلیم اور ان کے مطابق زندگی کی صورت گری کے اہتمام اور اس کے لیے ریاستی وسائل کے استعمال کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی کوئی بات ہندستان کی قرارداد میں دُور دُور تک نہیں ہے۔

                ۴-            ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستانی قرارداد کی زبان اور انداز اللہ کی حاکمیت کے ساتھ ایک نئے نظام کے قیام کا اعلان کرتا ہے اور یہ نظام عوام کی مرضی اور عزائم کے اظہار کی شکل اختیار کرنے پر قانع نہیں ہوتا بلکہ تبدیلی کے ایک رُخ کو متعین کرتا ہے اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے حکمیہ انداز میں (command and direction) اختیار کرتا ہے۔ پوری قرارداد میں اندازِ حاکمانہ ہے کہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کو کیا کرنا ہے۔ ہندستان کی قرارداد روایتی انداز میں دستور میں کچھ چیزوں کو سمونے اور حاصل کرنے تک محدود ہے، جب کہ پاکستان کی قرارداد کا ہرجملہ ایک نئے نظام کے قیام کی دعوت کے ساتھ واضح ہدایت اور حکم کا انداز لیے ہوئے ہے اور تبدیلی کا پیغام دے رہا ہے۔

                ۵-            غیرمسلموں اور اقلیتوں کے سلسلے میں پاکستانی قرارداد میں دو دفعات ہیں، جب کہ ہندستانی قرارداد میں صرف ایک دفعہ ہے۔

                ۶-            پاکستانی قرارداد میں عدلیہ کی آزادی اور اس کے تحفظ کا واضح ذکر ہے، جو ہندستانی قرارداد میں موجود ہی نہیں ہے۔

                ۷-            عوام کے سرچشمۂ اختیار، حکمرانی کا ذریعہ اور نمایندگی کے اصول کا جتنا واضح بیان پاکستانی قرارداد میں ہے وہ ہندستان کی قرارداد میں نہیں۔ پاکستانی قرارداد میں ابتدائیہ ہی میں کہا گیا ہے کہ:’’یہ اختیار جو پاکستان کے عوام استعمال کر یں گے ‘‘۔

                                دوسری دفعہ میں اس پوری قرارداد کو عوام کی آواز قرار دیا گیا ہے، یعنی:’’یہ پاکستان کے عوام کی مرضی (will) ہے کہ ایک نظام…… قائم کیا جائے‘‘۔

پھر تیسری دفعہ میں اس اصول کو ایک محکم قدر (value) کی حیثیت سے طے کردیا گیا ہے کہ:’’جہاں ریاست اپنا اقتدار و اختیار عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے استعمال کرے گی‘‘۔

عوام کے کردار کے بارے میں یہ تین واضح احکام ہیں۔ ہندستانی قرارداد کا انداز ہی بالکل مختلف ہے۔ اس میں دوسری اور تیسری دفعہ علاقوں اور بائونڈریز کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں اور عوام کا ذکر صرف چوتھی دفعہ میں آیا ہے اور وہ بھی اس اعلان کی شکل میں کہ ساری قوت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ منتخب نمایندوں کے ذریعے نظامِ حکومت کے چلانے کا جو واضح اعلان پاکستانی قرارداد میں ہے وہ ہندستانی قرارداد میں نہیں ملتا۔

                ۸-            دو دفعات ایسی ہیں کہ جن میں کچھ لفظی مشابہت پائی جاتی ہے، یعنی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت کے بارے میں۔ لیکن یہ وہ مسائل ہیں جن کے بارے میں دنیا کے تمام دساتیر’یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘، ’یوروپین کنونشن آف ہیومن رائٹس‘،   ’بل آف رائٹر‘ سب ہی میں تھوڑے بہت تغیر و تبدل کے ساتھ ایک جیسی اصطلاحات اور الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس نوعیت کی مماثلت کو چوری اور نقالی قرار دینا حق و انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہندستانی قرارداد میں مختلف انسانی حقوق کا ذکر ہے لیکن انسانی حقوق بحیثیت ایک تصور اور مرکزی اور اوّلین concept کے اس میں موجود نہیں ،  جب کہ پاکستانی قرارداد کے الفاظ زیادہ مؤثر اور واضح ہیں اور الفاظ کی ترتیب اہمیت رکھتی ہے کہ آغاز ہی میں بنیادی حقوق کے جامع تصور کو بیان کیا گیا ہے اور مختلف حقوق کا ذکر بعد میں ہے۔  یہ الفاظ غورطلب ہیں:

جہاں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی بشمول…………

ہندستانی قرارداد میں fundamental rightکی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی اور پاکستانی قرارداد میں including کے لفظ نے بڑی وسعت دے دی ہے۔ جن حقوق کا فرداً فرداً ذکر کیا گیا ہے ان کی ضمانت تو بلاشبہہ دی جارہی ہے مگر حقوق ان کے علاوہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح عدلیہ اور مقننہ دونوں کو حقوقِ انسانی کے ایک وسیع تر تصور کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

کم از کم یہ آٹھ پہلو ایسے ہیں جن کی روشنی میں پاکستانی قرارداد کا ہندوستانی قرارداد سے مختلف ہونا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستانی قرارداد کی اپنی منفرد شخصیت ہے۔ حاکمیت الٰہیہ،   اللہ کی طے کردہ حدود کے اندر انسانی اقتدار کی کارفرمائی، اقتدار کا امانت ہونا، مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے لائق بنانے کی دستوری ذمہ داری وہ چیزیں ہیں جو پاکستانی قرارداد کو ایک نظریے کی علَم بردار اور تبدیلی کی واضح سمت کو متعین کرنے والی بنا دیتی ہے۔ ہندستانی قرارداد میں ایسی کوئی چیز نہیں۔

دوسری چیز ایک واضح نئے نظام کے قیام کا تصور اور اس کے لیے حکمی انداز (command and direction) کا رنگ غالب ہے جو ہندستانی قرارداد، اس کی زبان اور انداز میں نہیں پایا جاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں وہاں کی قراردادِ مقاصد کو دستورسازی کے لیے ایک ابتدائی ہدایت تو ضرور سمجھا گیا لیکن اسے بجاطور پر اس لائق نہیں سمجھا گیا کہ نئے ہندستانی دستور میں وہ دستور کے دیباچے کے طور پر شامل کی جائے ، جب کہ پاکستانی قراردادِ مقاصد کی ایک مستقل اہمیت ہے۔ وہ ایک وقتی ہدایت نہیں، ایک مستقل مشعلِ راہ ہے اور اسے دستور کا نہ صرف دیباچہ بنایا گیا ہے بلکہ اس کو بالآخر دستور کا ایک قابلِ نفاذ حصہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہندستانی قرارداد اس لیے بھی دستور کے مقدمے کے لیے ناموزوں تھی کہ اس میں فیڈریشن کا جو تصور دیا گیا ہے، دستور کے برعکس ہے۔ قرارداد کی دفعہ تین میں ملک کی مختلف ریاستوں اور یونٹس کے بارے میں یہ اصول بیان کیا گیا تھا کہ:

خودمختار یونٹوں کی حیثیت بشمول residency اختیارات پر قابض ہوگی اور برقرار رکھے گی۔(درگا داس باسو، ایس سی، جلد۱،ص ۳۴)

دستور میں اس اصول کو تبدیل کردیا گیا ہے اور فیڈریشنوں میں شامل ہونے والی یونٹس کے residency powers کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ residency power کو  صوبوں کی جگہ مرکز کو دے دیا گیا۔ اس واضح تضاد کی موجودگی میں اس قرارداد کو دستور کا دیباچہ کیسے بنایا جاسکتا تھا۔ (ملاحظہ ہو: کمنٹری آف دی کونسٹی ٹیوشن آف انڈیا،درگا داس باسو،……… کلکتہ ۱۹۵۵ئ، جلد۱، ص ۳-۴)

بہارتی قراردادِ مقاصد:بہارتی دانش ور کا تبصرہ

پاکستان کی قراردادِ مقاصد کی ’ولدیت‘ ہندستان کی قررداد کی طرف منسوب کرنا تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور دونوں قراردادوں کے مختلف مزاج اور کردار سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ ضمناً یہ بھی عرض کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بھارتی قرارداد تو کیا وہاں تو پورے دستور کے بارے میں ہندستان کے اپنے قانونی ماہرین جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ کوئی دوسری ہی داستان سناتے ہیں۔ ہندستانی دستور کا مشہور شارح درگا داس باسو اس سلسلے میں لکھتا ہے کہ:

جس نے دنیا بھر کے تمام معلوم دساتیر کو اچھی طرح کھنگالنے (drain)کے بعد یہ ڈرافٹ تیار کیا۔

باسو کی نگاہ میں ہندستانی دستور کا بڑا ماخذ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء ہے۔ وہ کہتا ہے:

اس لیے دستور کے ۷۵ فی صد کا آغاز تجربے کی روشنی میں کی گئی تبدیلیوں کے ساتھ اسی ایکٹ سے ہوا ہے۔

باسو مزید لکھتا ہے کہ:

نظریاتی حیثیت، یعنی بنیادی حقوق امریکا کے دستور سے اخذ (inspired) کیے گئے ہیں۔ بعد کے دستور میں اضافوں کی دفعات آئرلینڈ سے متاثر ہیں۔ وفاقی حیثیت سے متعلق اُمور کینیڈا کے دستور سے سادہ انداز میں لیے گئے ہیں۔

پنڈت نہرو والی قراردادِ مقاصد اس لائق ہی نہ تھی کہ اسے دستور کا دیباچہ بنایا جائے، اس میں کوئی وژن موجود نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان کے دستور میں جو دیباچہ دیا گیا ہے، اس میں پہلی قراردادِ مقاصد سے ہٹ کر ایک وژن اور نظریہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی اوّلین شکل میں فرانس کے Justice, Liberty and Fraternity کے نعروں کو شامل کیا گیا تھا اور ملک کو sovereign democratic قرار دیا گیا تھا لیکن وژن بھی خام تھا۔ اس لیے نظریاتی حیثیت کو مزید اُجاگر کرنے کے لیے Republic کی ضرورت محسوس ہوئی اور دستور میں ۱۶برس بعد ۱۹۷۶ء میں ۴۲ویں ترمیم کے ذریعے socialist, secular کا اضافہ کیا گیا (جج صاحب نے پیراگراف ۱۲۷ میں جو دیباچہ دیا ہے وہ ترمیم سے پہلے کا ہے)، جب کہ پاکستان میں قراردادِ مقاصد نے ۱۹۴۹ء ہی میں ملک کی نظریاتی حیثیت کو بالکل واضح کردیا تھا اور پاکستان کے پہلے دستور (۱۹۵۶ئ) میں قراردادِ مقاصد دستور کے تاج کے طور پر بطور دیباچہ شامل ہوئی اور ملک نے بڑے اعتماد سے اپنے کو Islamic Republic of Pakistan قرار دیا ہے۔

اس نظریاتی اعلان سے ہندستان کو اپنے سیکولر اور سوشلسٹ ہونے کا خیال آیا اور دیباچے میں ترمیم کر کے sovereign democratic سے پہلے socialist secular کا اضافہ کیا اور قسطوں میں اپنی شناخت کا اظہار کیا۔

قراردادِ مقاصد اور نظریاتی تشخص

محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب ہندستان کے دستور کو اس اعتبار سے بھی زیادہ معتبر اور محترم قرار دیتے ہیں کہ اسے ہندستان کی تحریکِ آزادی کے قائدین نے مرتب کیا اور پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے دستور کے بارے میں ان کی تشویش ہے کہ اسے جس قیادت نے مرتب کیا وہ دوسری نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے ۱۹۷۳ء کے دستور کو وہ تقدس حاصل نہیں جو ہندستان کے دستور کو حال ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ قراردادِ مقاصد جسے پاکستان کے بانیان نے مرتب کیا اور قائداعظم کے اقوال اور تحریکِ پاکستان کے دوران جو وعدے انھوں نے مسلم عوام سے کیے تھے  ان کے مطابق مرتب کیا گیا اسے وہ معتبر ماننے میں تردّد محسوس فرماتے ہیں۔ لیاقت علی خان نے قراردادِ مقاصد پیش کرتے ہوئے پہلی بات یہی کہی تھی کہ قائداعظم کے تصور کے مطابق پیش کی جارہی ہے۔دوسرے قائدین نے بھی اس کا برملا اظہار کیا خصوصیت سے مولانا شبیراحمد عثمانی نے۔ وہ اس دستور سازاسمبلی میں کہتے ہیں………… سب تحریکِ پاکستان کی روحِ رواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قراردادِ مقاصد نے بعد کے دساتیر کو بھی معتبر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے دستور میں بھی قراردادِ مقاصد کے بعد دیباچے میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان کے نظریاتی اور تاریخی تشخص کا عکاس ہے اور پاکستان کو تاریخ تحریکِ پاکستان سے مربوط کرتا ہے:

لہٰذا ہم جمہور پاکستان قادرِ مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ، پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدلِ عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی،   اس جمہوریت کے تحفظ کے لیے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم و ستم کے خلاف عوام کی اَن تھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔

اس عزم بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعے مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کرکے اپنی قومی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں۔

بذریعہ ہذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمایندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کر کے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔

قراردادِ مقاصد اور اس کے بطورِ تتمہ اس اضافے کا موازنہ ہندستان کی ۱۹۴۸ء کی قراردادِ مقاصد اور ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۷ء کے دستوری دیباچوں سے کریں تو زندگی، سیاست اور حکمرانی کے دو مختلف تصورات (paradigms) کا منظر سامنے آتا ہے۔ ہمارا مسئلہ دستور اور قوم دونوں میں نظریہ اور وژن کے فقدان کا نہیں ہے، نظریہ اور وژن تو موجود ہیں، مسئلہ ان کے مطابق سعی و جہد میں شدید کوتاہی کا ہے۔ نیز ایسی قیادت سے محرومی کا ہے جو اس نظریے کے وفادار ہو، دیانت دار ہو اور باصلاحیت بھی۔

دستور ایک انسانی کاوش ہے اور قراردادِ مقاصد بھی آسمانی صحیفہ نہیں۔ لیکن یہ دونوں اپنی موجودہ شکل میں بڑی حد تک اس تصور اور نقشۂ کار پیش کر رہے ہیں جس پر خلوص اور محنت کے ساتھ عمل کر کے ہم اسلامی فلاحی مستقبل کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ اصلاح اور بہتری کی گنجایش بلاشبہہ موجود ہے اور جس طرح ماضی میں کی جانے والی کئی دستوری ترامیم نے دستور کو زیادہ بہتر دستاویز بنایا ہے، اسی طرح آیندہ بھی ترمیم کا دروازہ کھلا ہے لیکن ترمیم کا مقصد دستور کو قراردادِ مقاصد میں دیے ہوئے مقصد اور وژن سے قریب تر کرنا ہو ، اس کی ہیئت کو تبدیل کرنے اور حلیہ بگاڑنے کا معاملہ نہ ہو۔ قراردادِ مقاصد اور دستور کے اصل محافظ عوام اور تمام ہی دستوری ادارے ہیں۔ذمہ داری کے مناصب پر ہر فرد، صدرِ مملکت  سے لے کر مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان تک، اور ہر سطح کے عدلیہ کے جج صاحبان سے لے کر فوج اور انتظامیہ کے ذمہ داران تک، ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ اسلام اور دستور سے وفاداری کے عہد کوin letter and spirit   (الفاظ اور روح کے مطابق) پورا کرے۔ یہ عہد ہی ہماری منزل اورہماری ذمہ داری کو متعین کردیتا ہے لیکن کیا ہم اس عہد کے تقاضے پورے کر رہے ہیں؟