اکتوبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

اُمت مسلمہ کا نصب العین: چند اہم مضمرات

ڈاکٹر انیس احمد | اکتوبر ۲۰۱۵ | دعوت و تحریک

اُمت مسلمہ کے حقیقی نصب العین کو قرآن کریم نے پانچ بڑی اہم اور واضح اصطلاحات میں بیان فرمایا ہے، یعنی شہادتِ حق، اقامت دین، دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ اگر ان تمام اصطلاحات اور ان پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی اظہار پر غور کیا جائے تو صاف نظرآتا ہے کہ یہ سب اللہ کے دین کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ اور قائم کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان سب کا مفہوم اور اقتضاء ایک ہی ہے، یعنی خود اپنے کو اور اللہ کے تمام بندوں کو نیکی کی طرف دعوت دینا، اس کے غلبے کی کوشش کرنا، اور نہ صرف خود برائی سے اجتناب کرنا اور اس کو مٹانا بلکہ اس کے شر سے انسانوں کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ یہی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

یہ نصب العین وقت اور زمان و مکان کی قید سے آزاد اور رنگ، نسل، لسان اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔ اس کا قیام اُمت پر انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں فرض ہے، یعنی  مسلم اکثریتی صورت حال میں بھی اور کم تعداد کی صورت میں بھی۔ احوال و ظروف اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس ذمہ داری کو ادا کیا جائے گا مگر ہردوصورتوں میں یہ یکساں طور پر فرض ہے۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے عالمی تناظر میں اس ذمہ داری کی ادایگی صرف مسلم معاشرے تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق پوری انسانیت سے ہے۔ حق و صداقت، قیام عدل و انصاف، تحفظ جان و مال، تحفظ عزت اور دینی و مذہبی آزادی کے لیے یہ پابندی نہیں ہے کہ اس پر صرف مسلم اکثریتی تناظر میں عمل ہوگا۔ یہ وہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جو اسلام نے ہر انسان کو بلا تفریق عطا کیے ہیں۔

قرآن کی دعوت کا مرکزی نکتہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی (طاغوت، ظلم، عدوان) سے نجات دلانا اور انسانوں اور کائنات کے رب کی اطاعت پر آمادہ کرنا ہے۔ اطاعت میں یہ پہلو مضمر ہے کہ یہ شعوری اور ارادی ہے، جبر اور لاچاری کی بنا پر نہیں۔ اس اطاعت اور زندگی میں مرکزیت پیدا کرنے کا دوسرا نام معروف، بھلائی، نیکی، حسنِ عمل، اچھائی اور حق کی دعوت اور قیام ہے۔ اس اخلاقی فریضے کی اہمیت اور مرکزیت کے پیش نظر قرآن کریم بار بار معروف کے قیام کے حوالے سے تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ ان کا بولنا معروف پر مبنی ہے (قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ، البقرہ ۲: ۲۶۳)۔ ان کی معاشرت معروف طریقے پر ہو (عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ، النساء ۴:۱۹) ، حتیٰ کہ ان کی مفارقت بھی معروف کے ساتھ ہو (سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ، البقرہ ۲:۲۳۱)۔ چنانچہ ریاست کے فرائض میں بھی معروف کو مرکزی مقام دیا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی جماعت کو اقتدار دے تو وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے تمام ریاستی اختیارات کو استعمال کرے۔ (الحج ۲۲:۴۱)

اسلام جس معاشرے اور ریاست کے قیام میں تمام انسانوں کی فلاح و کامیابی کی خوش خبری دیتا ہے، اس کی بنیاد معروف کے اخلاقی اور قانونی اصول پر ہے۔ اس اصول پر جب بھی اور جہاں بھی عمل کیا جائے گا ظلم و استحصال، بے روزگاری، ناخواندگی، بیماری، بدامنی اور خوف کا خاتمہ ہوگا اور معاشرے میں عدل، اخوت، بھائی چارہ، حقوق انسانی کا احترام، نسلی، گروہی، لسانی، علاقائی نفرتوں کا خاتمہ اور انسانوں کے احترام کا باعث ہوگا۔

اس اخلاقی جدوجہد اور معروف کو غالب کرنے کا دوسرا نام اقامتِ دین ہے جو تمام انبیاے کرام ؑکا مشن اور مقصدِحیات رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاے کرام نے تمام انسانوں کو جو دعوت دی وہ صرف ایک قرآنی آیت میں بطور خلاصہ بیان کردی گئی ہے، یعنی اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ    وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ج (النحل ۱۶:۳۶) ’’اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘‘۔ انسانی معاشرہ مسلم اکثریتی ہو یا نہ ہو، طاغوت کی حکمرانی میں زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ایسے معاشرے اور ریاست کا قیام جس میں طاغوت کی جگہ انسانوں کے خالق و مالک کی بالاتری اور بالادستی ہو، یہی انسانی عقل و تجربے کا مطالبہ ہے۔ معروف کا قیام اور طاغوت کے خاتمے کی جدوجہد ہی اقامت دین کی جدوجہد ہے۔

اگر کسی معاشرے میں ’حقوقِ انسانی‘ کے نام پر غیرفطری جنسی تعلق کو اخلاقاً اور قانوناً درست کہا جا رہا ہو تو ایسے معاشرے کو طاغوتی معاشرہ ہی کہا جائے گا، کیوں کہ جو عمل فطرتِ انسانی اور ہدایت ربانی دونوں کو پامال کرتا ہو اس کو قرآن کریم نے حد سے نکل جانا، اخلاق و قانون کے کناروں کوتوڑ کر معاشرے کو برائی کی لپیٹ میں لے لینے سے تعبیر کیا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں رشوت لینے کو ’حقِ خدمت‘ تصور کرلیا جائے تو یہ معاشرہ بھی طاغوتی معاشرہ ہے کہ اس میں ایک عام انسان اپنا جائز حق بھی بغیر حرام اور ناجائز کام کے حاصل نہیں کرسکتا۔ اگر کسی معاشرے میں فرد یا کسی جماعت کی آمریت عوام الناس کی پسند کے منافی اور اخلاق و قانون کے خلاف قانون سازی کرتی ہے تو یہ بھی اس نظام کے طاغوتی ہونے کی دلیل ہے۔

اس طاغوتی، منکر، برائی اور اخلاق و قانون کے منافی معاشرے کی اصلاح اور معاشرہ و ریاست میں قانون کی بالادستی، حقوق انسانی کے قیام اور امن، بھائی چارہ، فروغِ علم، اور جان و مال اور عزت کے تحفظ کی جدوجہد ہی کا دوسرا نام اقامت دین کی جدوجہد ہے۔ گویا انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں الہامی اخلاقی اقدار کا نفاذ اور محدود عقل وتجربہ رکھنے والے انسان یا انسانوں کے بنائے ہوئے خودغرضی پر مبنی طریقوں کی جگہ عالم گیر اخلاقی ضابطوں کا نفاذ۔

یہی وہ نصب العین کا شعور اور مقصدِحیات کا صحیح ادراک تھا جس کی بنا پر انبیاے کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت کو چند نصائح اور تبلیغی کلمات تک محدود نہ رکھا بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ انھیں ایسی سلطنت عطا ہو جس کی مثال نہ ہو۔ قرآن کریم میں حضرت سلیمان ؑ کی یہ دعا بیان کرنے کا مقصد واضح ہے کہ اسلام امر بالمعروف کے قیام کے لیے جہاں فرد، خاندان اورمعاشرے کو    ذمہ دارقرار دیتا ہے، وہاں یکساں طور پر ریاستی قوت و اختیار کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کو ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری تصور کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ حضرت یوسف ؑنے مصر کی حکومت کو معاشرتی عدل، امن اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنے، اور خالقِ کائنات کی اطاعت میں لانے کے لیے استعمال کیا، اور اسی بنا پر قرآن کریم حضرت دائود ؑکے حوالے سے ہمیں بتلاتا ہے کہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ مقرر کیے گئے تھے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی طرف ہجرت سے پہلے اور طائف کے سفر کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس دعا کی شکل میں اظہار کردیا گیا کہ وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًاo (بنی اسرائیل ۱۷: ۸۰) ’’اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے‘‘۔

یہ خلافت، نیابت یا امارت صرف اور صرف اللہ کی زمین پر اس کی ہدایات و احکامات کا اجرا کرنے والی قوتِ نافذہ ہے۔ اس کا کوئی تعلق نہ شخصی آمریت سے ہے نہ موروثی بادشاہت سے، نہ امارتِ استیلاء [جبری حکومت] سے۔ ایک حدیث صحیح نے اس خلافت و امارت کو مسئولیت کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ یہ امارت صفاتی ہے نہ کہ موروثی۔ چنانچہ ایک امیر کو ریاست کے امور میں جواب دہ اور ذمہ دار بنایا گیا اور ایسے ہی ایک صاحب ِ خاندان کو خاندان کے اُمور پر جواب دہ، ذمہ دار اور قابلِ گرفت قرار دیا گیا ۔ گویا جو فرد بھی کسی فرضِ منصبی پر مامور ہوگا، وہ ریاست ہو یا گھر یا کوئی اور ادارہ، اس کی گرفت جواب دہی اور ذمہ داری اس ادارے میں معروف کے قیام اور منکر کے مٹانے کی ہوگی۔ اس میں جنس، رنگ، قد اور حیثیت کی قید نہیں ہے۔ شرط صرف کسی منصب پر فائز ہونے کی ہے۔

معروف کے قیام کا نصب العین کماحقہٗ اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب اس کے قیام کی جدوجہد ان تمام پہلوئوں سے کی جائے جن میں فرد، خاندان، معاشی اور ریاستی ادارہ شامل ہیں۔ ریاست کی قوتِ نافذہ اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ کسی مقام پر ملکی معیشت، تعلیم، ثقافت، معاشرت، حتیٰ کہ بین الاقوامی مسائل و معاملات کا فیصلہ اگر معروف کی بنا پر ہوگا تو متوازن ترقی اور قیامِ عدل عمل میں آئے گا، اور اگر مسائل و معاملات کو ذاتی پسندو ناپسند، پارٹی کے مفاد کا پابند کیا جائے گا تو معاشرے اور ریاست میں انتشار اور نفسا نفسی کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہوگا۔ اسی بنا پر معروف کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست اور معاشرے میں جو خصوصیات پائی جاتی ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان پر مبنی نظام کا قیام انسانیت کی بقا کے لیے ناگزیر تقاضا ہے۔

معروف پر مبنی ریاست و معاشرے کی پہلی خصوصیت زندگی کے تضادات اور نفاق و شرک کا خاتمہ ہے۔ اسلامی ریاست کی اصل بنیاد توحید ہے، یعنی ذاتی، خاندانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور بین الاقوامی معاملات کا فیصلہ کرتے وقت یہ دیکھنا کہ کیا اس کام سے خالقِ کائنات خوش ہوگا یا ناراض۔

قرآن و سنت انسانی جان کی حرمت پر بار بار زور دیتے ہیں، یعنی نہ صرف جان کا تحفظ بلکہ ان ذرائع کا دُور کرنا جو انسان کی زندگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں فیکٹریوں کا فضلہ دریائوں میں یا ان سے نکلنے والے غبار شہروں پر ایک دبیز تہہ کی شکل اختیار کرجائیں، اگر گاڑیاں زہریلا دھواں پھیلاتی رہیں تو ایک عام شہری کی زندگی پر اس کا اثر پڑنا ایک یقینی بات ہے۔ توحید کے اطلاق کا مطلب یہ ہوگا کہ معاشرہ اور ریاست اللہ تعالیٰ کے حکم کہ خود کو اپنے ہاتھ سے ہلاک نہ کرو (البقرہ ۲:۱۹۵) کی روشنی میں ایسے قوانین کا وضع کرنا اور نافذ کرنا مسلم معاشرے اور ریاست کا فریضہ ہوگا جو انسانوں کو پاکیزہ فضا فراہم کریں اور وہ دھوئیں اور پانی کی کثافت کی بناپر انجانی بیماریوں کا شکار نہ ہوں، اور نہ اس بنا پر ان کی قوت مدافعت کمزور ہونے کے نتیجے میں  ان کی زندگی مسائل کی آماجگاہ بنے۔ توحید کے اس اطلاق کا اثر ایک مسلمان اور غیرمسلم دونوں پر یکساں ہوگا۔ دونوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اُمت مسلمہ کے نصب العین کا حصہ ہے۔

اسلامی ریاست اور معاشرے کے توحید (Allah's sovereignty) پر قائم ہونے کا واضح مفہوم یہ ہے کہ گو، اسلامی معاشرہ اور ریاست اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت کے قیام کے لیے مامور ہے لیکن اللہ کی شریعت میں دی گئی ضمانتیں صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ ریاست یکساں طور پر مسلم و غیرمسلم کی جان، مال، عزت، شہرت، نسبی پہچان اور معقول رویے کے لیے ذمہ دار ہوگی۔ اللہ کے تمام بندے اس معاشرے کے عدل، امن اور متوازن و بابرکت نظام سے مستفید ہوں گے۔ اسلامی ریاست اور معاشرے کی اصل پہچان معروف کی حکمرانی ہے۔

معروف کی حکمرانی اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب نظم مملکت تنہا کسی فرد کی خواہش، راے، اور فیصلہ کا پابند نہ ہو۔ گویا نہ فوجی آمریت میں نہ بادشاہت اور نہ جمہوری آمریت جس میں کسی  نام نہاد جمہوری ملک کا صدر اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں ۹۷۰ مرتبہ ویٹو کے حق کا استعمال کرسکے۔ ایسے ہی ریاست کسی خاندان کا اجارہ نہ ہو کہ برسہا برس تک باپ کے بعد بیٹی اور پوتا یا بہو یا داماد، اپنے تعلق کی بنیاد پر حکومت کرنے کو اپنا آبائی حق سمجھ بیٹھے۔ ایسے ہی اسلامی ریاست میں کسی ’مذہبی‘ گروہ کی اجارہ داری کہ اسے الہامی طور پر اس منصب پر مامور کیا گیا ہے اور وہ منزہ عن الخطاء ہے، ناممکن ہے، جب کہ عام غلط فہمی برپا کی جاتی ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت ایک theocracy ہے۔ اچھے خاصے تعلیم یافتہ افراد بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام کا مطلب طالبانائزیشن ہے۔ گو، لغوی طور پر اگر غور کیا جائے تو کسی طالب علم کا بربناے علم و صلاحیت و تجربہ کسی منصب پر فائز ہونا نہ اخلاقی طور پر نہ قانونی طور پر کوئی غلطی کہا جاسکتا ہے، لیکن جو پیغام اس اصطلاح کے استعمال سے دیا جاتا ہے وہ انتہائی منفی اور اسلام کی روح کے منافی ہے، یعنی  حقوقِ نسواں کی پامالی، کوڑوں کا کثرت سے استعمال، ڈاڑھیوں کی پیمایش، تعلیم نسواں کا خاتمہ وغیرہ۔

حقیقت ِ واقعہ یہ ہے ان تمام اتہامات میں سے کسی میں بھی ذرّہ برابر صداقت نہیں ہے۔ اسلامی نظام ریاست و معاشرے کی بنیاد ہی لازمی تعلیم و تربیت پر ہے۔ چنانچہ اسلام نے جس معاشرے کو قائم کیا اور جس ریاست کی بنیاد رکھی اس کے سربراہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زوجہ محترمہؓ مدینہ منورہ کے مشہور سات فقہا کی معلّمہ تھیں اور اُمت مسلمہ کی اس ماںؓ کی شاگرد خاتون حدیث اور علمِ حدیث میں محدثین کی معلّمہ تھی۔ اسلامی معاشرے اور ریاست کی بنیاد اصولِ عدل پر ہے۔ یہاں کوئی فرماں بردار معصوم نہیں ہے۔ ایک خلیفۂ وقت اور ایک عام شہری قانون کی نگاہ میں مساوی ہیں۔

اگر اختصار کے ساتھ اس معاشرے اور ریاست کے خدوخال یا خصوصیات پر نظر ڈالی جائے تو اس کی اصل توحید اور عدل ہے۔ ان دو آفاقی اصولوں کی بنا پر یہ تمام انسانوں کی بھلائی، معروف کے قیام اور منکر کے خاتمے کے لیے جو نظام تجویز کرتی ہے اس میں حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے اور نظامِ مملکت کی بنیاد مشاورت یا شوریٰ پر ہے۔ گویا اسلامی نظام نہ صرف اہلِ دانش بلکہ عوام الناس بشمول خواتین کو اپنی راے آزادی کے ساتھ دینے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ دورِخلافت راشدہ میں جب حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد خلیفہ کا انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا تو ان کے مقرر کردہ ’الیکشن کمیشن‘ کے ممبران نے مدینہ منورہ کی خواتین سے گھروں پر جاکر ان کی راے دریافت کی اور آخرکار اکثریتی راے کی بنیاد پر نئے خلیفہ کا انتخاب عمل میں آیا۔

اس معاشرے اور ریاست کی بنیاد امانت پر ہے، یعنی ذمہ داریاں ایسے افراد کے حوالے کی جائیں جو امانت اُٹھانے کے مستحق ہوں:

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ(النساء ۴:۵۸) ،مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں   اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔

اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں تین نکات واضح طور پر اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اوّلاً کسی منصب کے لیے انتخاب کرتے وقت ایسے فرد کو منتخب کیا جائے جو اپنے کردار اور صلاحیت و تجربے کی بنیاد پر امین شمار کیا جاتا ہو، یعنی اس میں اس منصب کی صلاحیت بھی ہو اور تجربہ بھی رکھتا ہو۔ ایک شخص اگر تمام عمر بندوق، توپ، ٹینک، لڑاکا جہاز چلاتا رہا ہو اور اسے اس کے قد، شکل و صورت یا عسکری کامیابی کی بنا پر کسی ملک کی عدلیہ کا یا پارلیمنٹ کا یا صدارت کا منصب دے دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیت اور تجربے کا اس منصب پر فائز ہوکر جو استعمال کرے گا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہوگا۔ ایسے ہی اگر ایک یونی ورسٹی کے پروفیسر کو جو جدید و قدیم ادب، فلسفہ یا معاشیات و سیاسیات سے گہری واقفیت رکھتا ہو اور تمام عمر تدریس کے اعلیٰ فرائض ادا کرتا رہا ہو، اس کی اپنے شعبے میں علمی برتری کی بنا پر اسے فوج کا سربراہ بنا دیا جائے تو فوج، جنگی حکمت عملی اور ملک کے تحفظ و امن کا جو حال ہوگا وہ کسی پیشین گوئی کا محتاج نہیں ہوسکتا۔

دوسرا نکتہ جو یہاں سمجھایا گیا ہے وہ یہ کہ اگر بالفرض عوام الناس اندھے بھی ہوجائیں اور وہ خود درخواست کریں کہ ایک فوجی ان کا صدر یا عدلیہ کا سربراہ بن جائے، تو وہ شخص کم از کم خود اندھا نہ بنے اور اس فرمایش کو قبول نہ کرے کیونکہ یہ بھی امانت کے اصول کے منافی ہے۔

تیسری بات یہاں یہ سمجھائی جارہی ہے کہ کسی ذمہ داری کو دینے یا نہ دینے کی بنیاد نہ  خونی رشتہ ہوگا نہ سسرالی بلکہ صرف اور صرف صلاحیت اور تقویٰ ہوگا۔

اسلامی معاشرہ اوریاست کی ایک اور بنیادی خصوصیت اس کا عصبیتوں سے پاک، قانون کی بالادستی اور روح جمہوریت پر عمل کرنا ہے۔ اسلام جس روح جمہوریت کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ  نہ لادینی اباحیت پسند جمہوریت ہے نہ آمرانہ جمہوریت بلکہ یہ ہرشہری کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرتی ہے۔ اس میں حاکمیت رب کریم کی اور قوتِ نافذہ اللہ کے اطاعت گزار بندوں کی ہے جو امانت، سچائی، عدل اور انصاف کے اصولوں کو تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے اپنی پالیسی کے ستون بناتے ہیں۔ یہ نظام وہ ہے جس کی بابت قرآن کہتا ہے کہ اگر اسے قائم کیا جائے تو زمین اپنی نعمتیں اُگل دیتی ہے اور آسمان اپنی برکتیں نازل کرتا ہے:

وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ o وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ طمِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ ط وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَo (المائدہ ۵: ۶۵-۶۶) اگر (اس سرکشی کے بجاے)یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور خداترسی کی رَوش اختیار کرتے تو ہم ان کی بُرائیاں اِن سے دُور کردیتے اور اِن کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے۔ کاش انھوں نے تورات اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو ان کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں، لیکن ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے۔

اُمت مسلمہ کے نصب العین، یعنی امربالمعروف کے لیے فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست بیک وقت اپنے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ یہ کوئی استثنائی عمل نہیں ہے کہ ہر ایک   اپنے دائرے میں کام کر رہا ہو بلکہ یہ ایک متوازی عمل ہے جس میں یہ سب بیک وقت اور باہمی مشاورت و تعاون سے نصب العین کے حصول کے لیے شعوری طور پر ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں۔ اگر منزل دُور بھی ہو جب بھی اضمحلال، مایوسی اور تھکن کا شکار نہیں ہوتے بلکہ صبروحکمت کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہ قلت تعداد سے اس لیے پریشان نہیں ہوتے کہ رب کریم نے خود یہ اعلان فرما دیا ہے کہ تم میں اگر ۲۰باہمت، باشعور، مستقیم اور صابر افراد ہوں گے تو ۲۰۰ مخالفین پر غالب آئیںگے۔(الانفال ۸:۶۷)۔ چنانچہ برسہا برس کی محنت کے بعد بھی اگر اقامتِ دین کی جدوجہد کرنے والوں کی تعداد بظاہر کم نظر آتی ہو تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ حق ہمیشہ باطل، طاغوت اور ظلم کی کثرت پر بالآخر غالب آتا ہے، البتہ غالب آنے کے لیے بنیادی شرط صبر، یعنی استقامت، عزم و یقین، منزل اور نصب العین کا مکمل شعور ہے۔ اگر اس میں کوئی کمی ہو تو پھر تعداد کی کثرت بھی مطلوبہ نتائج نہیں پیدا کرسکتی۔ سمندر کا جھاگ کتنا ہی عظیم    نظر آئے کمزور رہتا ہے، اور حق کتنا ہی محدود نظر آئے غالب آکر رہتا ہے۔