اکتوبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

بلدیاتی اداروں کی اہمیت

ڈاکٹر فریداحمد پراچہ | اکتوبر ۲۰۱۵ | پاکستانیات

بلدیاتی ادارے،عوامی مسائل کے حل کاذریعہ ہوتے ہیں۔لوگوں کو اپنے روزمرہ کے مسائل کا حل،اپنی دہلیز پر ملتا ہے۔ان کے لیے سڑکیں بنتی ہیںاوران کی گلیاں پختہ ہوتی ہیں۔ان کے لیے پینے کے صاف پانی کا بندوبست ہوتا ہے اور محلے سے گندے پانی کے نکاس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان کے معمولی معمولی باہمی تنازعات ،کچہری تھانے کے بجاے محلے کی مصالحتی عدالت میں طے ہوتے ہیں۔پھر یہی ادارے عوامی قیادت کے لیے نرسریوں کا کام دیتے ہیںاور جمہوریت کی تجربہ گاہیں بھی ثابت ہوتے ہیں۔

یہ بھی امر واقعہ ہے کہ بلدیاتی ادارے اور ضلعی حکومتیں محض گلیوں،سڑکوں، شاہراہوں کی تعمیر ومرمت اورفراہمی ونکاسی ِ آب کی اسکیموں کا نام نہیں بلکہ یہ ریاست کی اہم ترین اور مضبوط ترین بنیاد ہیں۔یہ فرد اور ریاست کے درمیان سب سے قریبی اور سب سے مضبوط رابطے کا ذریعہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی بلدیاتی ادارے مضبوط ہیں وہاں ریاست اور جمہوریت بھی مضبوط ہے۔لہٰذا جو سیاسی جماعتیں بلدیات میں کامیابی ملنے کے بعد عوام کی توقعات پر پورا اترتی ہیں، وہی جماعتیں ملکی انتخابات میں بھی واضح اور شان دار کامیابی حاصل کرتی ہیں ۔

ترکی میں طیب اردوگان کی مسلسل کامیابی کی اصل بنیاد،ان کی بطور میئر استنبول کامیابی ہے۔وہ استنبول کے مئیر بنے تو انھوں نے عوام کی بے مثال خدمت کی ۔استنبول کا دنیا کے گندے ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیرپڑے نظر آتے تھے۔انسانی اسمگلنگ ،   جعلی کرنسی، منشیات ،قبضہ گروپوں اور جوا خانوں سمیت ہر طرح کے مافیا کا شہر پر غلبہ تھا ۔مہنگائی اپنے عروج پر تھی ۔بنیادی خوراک، یعنی روٹی تک،غریب آدمی کی دسترس سے باہر تھی ۔پھر اردوگان اور نجم الدین اربکان کی جماعت کے لوگوں کی انتھک محنت کے نتیجے میں شہر بدلنے لگا۔ صفائی کا نظام درست ہوا۔ ٹریفک پر کنٹرول پایا گیا۔ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بڑھیں۔مافیا کو لگام ڈالی گئی۔سرکاری انتظام میں سستی روٹی کا بندوبست ہوا۔تب طیب اردگان عوام کے دلوں میں گھر کر گئے۔ سیکولر ترکی کے تمام طبقوں نے بھی ان کا ساتھ دیا اوروہ تین مرتبہ ترکی کے وزیرِ اعظم بنے۔

بلدیاتی اداروں کی اس اہمیت اور افادیت کے باوجود،پاکستان میںکسی بھی جمہوری اور عوامی حکومت نے اپنے دورمیں ان مقامی حکومتوں کے انتخابات کی سنجیدہ کوشش نہیں کی، بلکہ جتنے بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیںوہ آمرانہ فوجی حکومتوں کے دور میںہی ہوئے ہیں ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فوجی آمر بھی اپنے اپنے دور میں بلدیاتی اداروں کا قیام نہ تو عوام سے خیرخواہی کے جذبے کے تحت عمل میں لائے اور نہ انھوں نے ایساجمہوریت کی محبت میں کیا بلکہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے استعمال کیا۔

۲۰۰۸ء میں وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی۔ ۲۰۰۹ء آیا تو بلدیاتی اداروں کی نئی قیادت کے انتخابات کروانے کے بجاے،ان میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے گئے۔اس پر بلدیاتی اداروں کی سابقہ قیادت سپریم کورٹ میں چلی گئی۔اسی دوران ا ٹھارھویںآئینی ترمیم کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو صوبوں کے اختیار میں دے دیاگیا۔صوبائی اسمبلیوںنے سپریم کورٹ کے دباؤ میں ۲۰۱۳ء میںاپنی اپنی مرضی کے ’’لوکل باڈیز ایکٹ‘‘پاس کرلیے۔جس کے خلاف صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی اپوزیشن پارٹیوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ پنجاب اوربلوچستان اسمبلی نے  جنرل ضیاء الحق کے رائج کردہ لوکل باڈیز ایکٹ کو کچھ بنیادی ترامیم کے ساتھ اختیار کرلیا ۔اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی نے جنرل پرویز مشرف کے متعارف کروائے ہوئے لوکل باڈیزایکٹ میں کچھ بنیادی ترامیم کیں اور نچلی سطح تک اختیارات کی حقیقی منتقلی کا نظام متعارف کرایا۔صوبہ سندھ نے مذکورہ دونوں فوجی آمروں کے بلدیاتی نظاموں کو یک جا کرکے،ایک ملغوبہ تیار کرلیا۔

صوبہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے انتظامی اختیارات اور مالی وسائل، صوبائی انتظامیہ کی نگرانی میں رکھے ہیں تاکہ بہرصورت اگریہ بلدیاتی ادارے تشکیل پا ہی جائیں تو’اپاہج‘ رہیںاور سارے اختیارات صوبائی انتظامیہ کے پاس ہوں۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کے جماعتی؍غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے کو بھی انھوں نے متنازع بنا ئے رکھااورحلقہ بندیاں بھی اپنی اپنی پسند کی کر رکھی ہیں۔پھر مخصوص سیٹوں پر بالواسطہ انتخابات کا معاملہ بھی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ ان سول حکومتوں کے یہ سارے اقدامات ،بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان کے تاخیری حربوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے دباؤ اور صوبائی حکومتوں کی نیم دلی کے درمیان ،الیکشن کمیشن آف پاکستان’سینڈ وچ‘ بنا رہاہے، جب کہ آئینی طور پر انتخابات کا انعقاد اس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ سپریم کورٹ کے سامنے جواب دہ ہے۔ دوسری طرف انتظامی اور مالی معاملات میں یہ حکومتوں کا مرہونِ منت ہے۔ان معاملات میں یہ ابھی خودمختار نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے سپریم کورٹ میں ’سرخروئی‘ کی غرض سے ،۲۰۱۳ء میںبلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا ڈول ڈالا۔جو مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے ۲۰۱۵ء میں مکمل ہوئے ہیں۔اب دو سال بعد، وہاں بلدیاتی اداروں کے برسرِکار ہونے کا مرحلہ آیا ہے تو بلدیاتی اداروں کی نئی قیادت نے،بر ملا اپنی بے اختیاری پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان اداروں کو اختیار نہیں دینا تو ان کو ختم ہی کر دیا جائے۔یہاں جماعت اسلامی کے جیتنے والے ہر کیٹیگری کے کونسلرز کی تعداد۲۵ ہے۔ایک یوسی چیئرمین بھی اس میں شامل ہے۔

اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میںبھی ۲۰۱۳ء کے لوکل باڈیز ایکٹ نے۲۰۱۵ء میں آخرِکار حتمی شکل اختیار کرلی اور ۳۰۔مئی کو یہاں بھی بلدیاتی انتخابات کاپہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ جس میں    ’ویلج کونسلز‘ اور’ نیبر ہڈکونسلز‘کے کامل، جب کہ ضلع ،تحصیل اور ٹاؤن کونسلز کے صرف کونسلرزکے انتخابات ہوئے۔ ضلع کی سطح پر جماعت کے ۸۷ کونسلرز اور تحصیل سطح پر ۱۳۴کونسلرز منتخب ہوئے ہیں۔ویلیج کونسلز اور نیبر ہڈ کونسلز کے انتخابات کے نتائج،صوبائی نظم ابھی مرتب کر رہا ہے۔ اس کے بعد والے مرحلے میں ضلع ،تحصیل اور ٹاؤن کی سطح پر ناظمین اور نائب ناظمین کے الیکشن ہوئے ہیںتو ان میں جماعت اسلامی کے چار ضلعی ناظم ، تین نائب ضلعی ناظم،۱۳تحصیل ناظم اور ۱۷ نائب تحصیل ناظم منتخب ہوئے ہیں۔نیزاپردیر،لوئردیر،چترال اور بونیرکی مکمل ضلعی اور تحصیل کونسلز میںتو جماعت اسلامی کے پورے پورے پینل کامیاب ہوئے ہیں۔یوں ان چاروں اضلاع اور ان کی تحصیلوںکے بلدیاتی اداروں میں جماعت اسلامی کو واضح برتری حاصل ہے۔

اس سے پہلے جنرل ضیاء الحق کے دور میںجو بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے ،ان میںبھی کراچی بلدیہ میں جماعت اسلامی کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔ جماعت اسلامی کی طرف سے عبدالستار افغانی مرحوم دو بار میئر کراچی منتخب ہوئے ۔ان کا یہ انتخاب کراچی کے شہریوں کی طرف سے، ان کی دیانت دار قیادت میں جماعت اسلامی کی کراچی کے لیے خدمات کا اعتراف تھا۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے پہلے بلدیاتی دور ۲۰۰۱ء تا ۲۰۰۴ء میں ،جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ ،کراچی کی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ناظم منتخب ہوئے۔ان کے دور میں کراچی میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے۔ انھوں نے کراچی کی ترقی کے لیے بین الاقوامی سطح پر معاہدے کیے جو عالمی اداروں کا ان کی قابلیت واہلیت اور امانت ودیانت پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اب صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب میں یہ بلدیاتی انتخابات تین مراحل میں ہورہے ہیں۔ دونوں صوبوں میں پہلے مرحلے کے انتخابات۳۱؍اکتوبر کومنعقد ہوں گے۔دوسرے مرحلے کے انتخابات۱۹ ۔نومبر کو ہونے قرار پائے ہیں، جب کہ تیسرے مرحلے کے انتخابات ۳۔دسمبر کو ہوں گے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ۱۰ستمبر کو اسلام آباد میں ،ان انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمایندوں سے،ایک مشاورتی اجلاس منعقد کر کے تفصیلات طے کی ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان ہمیشہ کی طرح اب بھی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لے رہی ہے۔ہرضلعی نظم اپنے اپنے ضلع کے معروضی حالات کے مطابق کسی بھی جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا بناسکتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کی رابطہ عوام مہم ،اگلے عام انتخابات کے لیے ’ انتخابی مہم‘ کی بنیاد بنے گی۔ اس طرح ان بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی،آیندہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کو ایک ’مؤثر پارلیمانی قوت‘ بنانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی اور جماعت کی دعوت اور پیغام کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کا ذریعہ بنے گی، ان شاء اللہ !