اکتوبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

نفلی روزے اور ان کے مسائل

محمد عاصم الحداد | اکتوبر ۲۰۱۵ | فقہ و اجتہاد

حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے، جس کا نام ریان (سیرابی) ہے۔ قیامت کے روز آواز دی جائے گی: ’’روزے دار کہاں ہیں؟ جب آخری روزہ دار داخل ہوجائے گا، تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا‘‘۔ (بخاری، مسلم)

حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں اللہ کے لیے روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے چہرے کو آگ سے ۷۰ خریف (۲۱۰میل) دُور کردیتا ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، احمد، ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لیے ہے، سواے روزے کے، اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔ (احمد، مسلم، نسائی)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے روز بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: ’’اے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانا کھانے اور اپنی خواہشات پوری کرنے سے روکے رکھا، اس لیے اس کے معاملے میں میری سفارش منظور فرما‘‘۔ اور قرآن کہے گا: ’’اے رب! میں نے رات کے وقت اس شخص کو نیند سے بیدار رکھا، اس لیے اس کے معاملے میں میری سفارش منظور فرما‘‘۔(مسند امام احمد)

روزے کی چار قسمیں ہیں: ۱- فرض یا واجب ۲- نفلی یا مستحب ۳- مکروہ ۴-حرام۔

فرض روزوں کے علاوہ مندرجہ ذیل نفلی روزوں کا رکھنا سنت ہے:

۱- شوال کے چہے روزے: حضرت ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال میں چھے دنوں کے روزے رکھے، گویا اس نے ہمیشہ (یعنی سال بھر) روزے رکھے‘‘۔ (مسلم، ابوداؤد)

ان روزوں کو عیدالفطر کے اگلے روز (یعنی دو شوال) سے لگاتار بھی رکھا جاسکتا ہے اور پورے ماہِ شوال میں الگ الگ کرکے بھی۔ اس بارے میں اختلاف صرف افضل ہونے میں ہے۔

۲- ذی الحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے: حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ چار چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ترک نہ فرماتے تھے: ’’ایک عاشورا (۱۰محرم) کے دن کا روزہ، دوسرے ذی الحجہ کے پہلے عشرے (یعنی پہلی تاریخ سے نو تاریخ تک) کے روزے، تیسرے ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور چوتھے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں‘‘۔ (احمد، نسائی)

حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عرفہ کے دن (یعنی ۹ذی الحجہ) کا روزہ دو سالوں کے گناہ کا کفارہ کردیتا ہے، ایک وہ سال جو گزرا اور دوسرا وہ سال جو آیندہ آرہا ہے‘‘ (مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، احمد)۔لیکن عرفہ کے دن کا یہ روزہ اور اس کی یہ تاکید حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ہے (اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے)۔ حاجیوں کے لیے اس روز عرفات کے میدان میں روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

۳- محرم خصوصاً عاشورا کا روزہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز کون سی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: رات کے درمیانی حصے کی نماز۔ پھر سوال کیا گیا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ فرمایا: اللہ کے اس مہینے کے روزے جسے تم محرم کہتے ہو‘‘۔ (احمد، مسلم، ابوداؤد)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے قریش عاشورا (۱۰محرم) کا روزہ رکھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے تو وہاں بھی آپؐ نے یہ روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیا‘‘۔ (بخاری، مسلم)

۱۰محرم کے ساتھ ۹ اور ۱۱؍ یا صرف ۹ محرم کا بھی روزہ رکھنا مسنون ہے۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عاشورا کے دن کا روزہ رکھو اور اس میں یہود (کے طریقے) کی مخالفت کرو اور (وہ اس طرح کہ) اس سے ایک دن پہلے (بھی) روزہ رکھو اور اس کے ایک دن بعد (بھی) روزہ رکھو‘‘۔ (احمد، بیہقی)

حضرت ابن عباسؓ ہی سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کے دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیاتو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! اس دن کی تو یہود و نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ فرمایا: اگر اگلا سال آیا اور ہم زندہ ہوئے تو ہم ۹تاریخ کا (بھی) روزہ رکھیں گے۔ لیکن اگلے سال کے آنے سے پہلے ہی نبیؐ کا انتقال ہوگیا۔(مسلم)

۴- شعبان کے اکثر دنوں کے روزے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں کی نسبت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رمضان کے علاوہ نبی اکرمؐ کو کسی مہینے کے پورے دن روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے شعبان کے علاوہ نبی اکرمؐ کو کسی مہینے کے اکثر دن روزے رکھتے نہیں دیکھا‘‘۔(بخاری)

حضرت اُمِ سلمہؓ سے روایت ہے کہ شعبان کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے کے پورے روزے نہ رکھتے تھے۔ آپؐ شعبان کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے (یعنی اس کے آخر تک روزے رکھتے رہتے تھے)‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی، احمد، نسائی، ابن ماجہ)

حضرت اسامہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’اے اللہ کے رسولؐ! (کیا بات ہے کہ) میں آپ کو جتنے دن شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا۔ فرمایا: ’’رجب اور رمضان کے درمیان یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کی فضیلت سے لوگ غافل ہیں۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ رب العالمین کی طرف اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں اُٹھایا جائے کہ میں روزہ سے ہوں‘‘۔ (ابوداؤد)

۵- رجب، ذی القعدہ ، ذی الحجہ اور محرم کے روزے: قبیلہ باھلہ کے ایک صحابیؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس سے اگلے سال پھر حاضر ہوئے اور اس وقت ان کی حالت اور شکل و صورت بدلی ہوئی تھی۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! آپؐ مجھے نہیں پہچانتے؟فرمایا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں وہی باھلی (یعنی قبیلہ باھلہ کا آدمی) ہوں جو گذشتہ سال آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: تو تم بدلے ہوئے کیوں ہو؟ حالانکہ پچھلے سال تمھاری شکل و صورت بہت اچھی تھی۔ انھوں نے کہا: جب سے میں آپؐ کے پاس سے گیا ہوں، میں نے دن کے وقت کبھی کھانا نہیں کھایا۔ صرف رات کو کھانا کھاتا رہا ہوں، یعنی برابر روزے رکھتا رہا ہوں۔ حضوؐر نے فرمایا: تم نے اپنی جان کو یہ عذاب آخر کیوں دیا؟ پھر آپؐ نے فرمایا: صبر کے مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینے میں ایک روزہ رکھو۔ انھوں نے کہا: زیادہ کر دیجیے اس لیے کہ مجھ میں طاقت ہے۔ فرمایا: دو روزے رکھ لو۔ انھوں نے کہا: زیادہ کردیجیے۔ فرمایا: تین روزے رکھ لو۔ انھوں نے کہا: زیادہ کر دیجیے۔ فرمایا: حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھ لو اور چھوڑ دو۔ حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھ لو اور چھوڑ دو۔ حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھ لو اور چھوڑ دو۔ اور آپؐ نے اپنی تین انگلیوں کو ملایا اور پھر انھیں چھوڑ دیا (یعنی حُرمت والے مہینوں میں بھی لگاتار روزے نہ رکھو، بلکہ تین دن روزہ رکھو اور تین دن میں نہ رکھو)۔(ابوداؤد)

اشہرالحرم میں نفلی روزوں کے صحیح ہونے پر اجماع ہے۔ بعض احادیث میں رجب میں خصوصیت کے ساتھ نفلی روزے رکھنے کی فضیلت آئی ہے، لیکن یہ تمام کی تمام احادیث انتہائی ضعیف ہیں اور اسی لیے امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ میں سے کسی نے ان کو اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا۔(الفتح الربانی، ج۱۰،ص ۱۹۶)

۶- ھفتہ اور اتوار کا روزہ: حضرت اُمِ سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ دوسرے دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کو زیادہ روزے رکھا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے: ’’یہ دونوں دن مشرکین (یعنی یہود و نصاریٰ) کی عید ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف عمل کروں‘‘۔(احمد)

۷- پیر اور جمعرات کا روزہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ پیر اور جمعرات کا روزہ انتظار کر کے رکھا کرتے تھے۔(احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابوداؤد)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں روزے سے ہوں‘‘۔ (احمد، ترمذی)

حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدایش ہوئی اور مجھ پر وحی آنا شروع ہوئی‘‘۔(احمد، مسلم، ابوداؤد)

۸-  ھر ماہ میں تین دن کے روزے: حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’اگر تم مہینے میں تین روزے رکھو تو ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کے روزے رکھو‘‘۔(احمد)

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ میں ہفتہ، اتوار اور پیر کے روزے رکھتے تھے اور اس سے اگلے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے‘‘۔(ترمذی)

ان احادیث کی بنا پر ہر ماہ تین دن روزے کے مستحب ہونے پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، البتہ ان کے تعیین میں اختلاف ہے۔ (الفتح الربانی، ج۱۰،ص ۲۱۲)

۹- ھر دو دنوں میں سے ایک دن کا روزہ: حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھو۔ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ اسی طرح آپؐ مجھے زیادہ سے زیادہ دنوں کے روزے کی اجازت دیتے رہے، یہاں تک کہ آپؐ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن نہ رکھو، اس لیے کہ یہ سب سے افضل روزہ ہے اور یہ میرے بھائی دائود ؑ کا روزہ ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم)

نفلی روزے کی نیت

نفلی روزے کے لیے نیت کے ضروری ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ جمہور ائمہ (جن میں امام ابوحنیفہؒ، شافعیؒ اور احمد بن حنبلؒ شامل ہیں) کے نزدیک نفلی روزے کی نیت کا رات سے ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ دن میں بھی اس کی نیت کی جاسکتی ہے۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ’’کیا تمھارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ ہم نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تب میں روزے سے ہوں‘‘۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

اس چیز کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں نہیں ہے کہ دن میں نفلی روزے کی نیت کس وقت تک کی جاسکتی ہے۔ صحابہ اور ائمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے۔  حضرت علیؓ کے نزدیک نفلی روزے کی نیت زوال کے بعد بھی کی جاسکتی ہے۔ امام احمدؒ اور دوسرے ائمہ کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعیؒ سے دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں۔ امام مالکؒ کے نزدیک نفلی روزے کی نیت دن میں کی ہی نہیں جاسکتی، جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔(الفتح الربانی)

نفلی روزہ دن میں افطار کرنا

اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ جس شخص کا نفلی روزہ ہو، اس کے لیے جائز ہے کہ دن ہی میں اسے افطار کرلے۔ اگرچہ افضل یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ’’کیا تمھارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’نہیں‘‘۔ فرمایا: ’’تب میں روزہ سے ہوں‘‘۔ پھر ایک دوسرے ر وز آپؐ تشریف لائے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! ہمیں کچھ حیس (ایک کھانے کی چیز جو کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کی جاتی تھی) تحفے میں ملی ہے۔ فرمایا: مجھے دکھائو۔ میں نے تو روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔ اس کے بعد آپ نے وہ حیس کھائی‘‘ (مسلم)۔ امام نسائی کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ’’نفلی روزہ رکھنے والے شخص کی مثال اس شخص کی ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے۔ وہ چاہے تو یہ صدقہ دے دے اور چاہے تو اسے روک لے‘‘۔

وہ دن جن کا روزہ رکہنا حرام ھے

۱- عیدالفطر اور عیدالاضحٰی: اس پر اجماع ہے کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، خواہ یہ روزہ نذر کا ہو یا نفلی یا کفّارہ کا یا کوئی اور (نووی بحوالہ الفتح الربانی، ج۱۰، ص ۱۴۱)۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر تو تمھارا (رمضان کے) روزوں سے افطار ہے اور عیدالاضحی کے دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھائو‘‘۔ (بخاری)

۲- ایامِ تشریق: ایامِ تشریق سے مراد عیدالاضحی کے بعد کے تین دن ہیں، یعنی ۱۱؍ ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ۔جمہور صحابہ ، تابعین اور ائمہ کے نزدیک ان تین دنوں میں بھی روزہ رکھنا حرام ہے، خواہ وہ نذر کا روزہ ہو یا نفلی یا کفّارہ کا یا کوئی اور۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہؓ کو بھیجا کہ منیٰ میں گھوم کر یہ اعلان کردیں کہ ’’ان دنوں میں (یعنی تشریق کے دنوں میں) روزہ نہ رکھو، اس لیے کہ یہ کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں‘‘ (احمد، دارقطنی)۔(حج میں ایسے شخص کے لیے جسے قربانی کا جانور نہ ملا ہو، تشریق کے دنوں میں روزہ رکھنے کے متعلق اختلاف ہے)۔

۳-شوھر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکہنا: جمہور (جن میں امام مالکؒ، شافعیؒ اور احمد بن حنبلؒ شامل ہیں) کے نزدیک عورت کا اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا حرام ہے۔(الفتح الربانی،ج ۱۰، ص۱۶۷)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر ایک دن بھی روزہ نہ رکھے، سواے رمضان کے۔ (بخاری)

۴-وصال کے روزے: وصال سے مراد یہ ہے کہ اس طرح دن رات مسلسل روزہ رکھا جائے کہ درمیان میں نہ سحری کھائی جائے اور نہ افطاری کی جائے۔ اکثر ائمہ (جن میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ شامل ہیں) کے نزدیک وصال کا روزہ حرام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ بعض اوقات روزے میں وصال فرمایا کرتے تھے، لیکن اپنی اُمت کو حضوؐر نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس بارے میں متعدد احادیث مروی ہیں جن میں سے اختصار کے خیال سے صرف ایک حدیث نقل کرتے ہیں: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’روزے میں وصال سے بچو‘‘۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! مگر آپؐ خود وصال فرماتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’اس بارے میں تم میری طرح نہیں ہو۔ میں اس طرح رات بسر کرتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔لہٰذا تم اتنا ہی کام کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔(بخاری، مسلم، احمد)

وہ دن جن کا روزہ رکہنا مکروہ ھے

۱-صرف جمعہ کا دن:جمہور (جن میں امام شافعیؒ اور امام احمدؒ اور عام محدثین شامل ہیں) کے نزدیک ہفتہ بھر میں صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے پہلے کا بھی یا اس کے بعد کا بھی روزہ رکھے، یا کوئی شخص اپنی عادت کے مطابق روزے رکھ رہا ہو اور ان میں جمعہ کا دن آجائے، یا جمعہ کے دن عرفہ یا عاشورا آجائے، تو روزہ مکروہ نہیںہے۔

حضرت ابوایوب حجریؓ سے روایت ہے کہ ایک جمعہ کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم   (ام المومنین) حضرت جویریہؓ کے ہاں تشریف لائے۔ اس دن ان کا روزہ تھا۔ آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا: ’’کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘۔ پھر دریافت فرمایا: ’’کیا تم کل بھی روزہ رکھو گی؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘۔ فرمایا: تو روزہ توڑ لو‘‘۔(بخاری)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ تم اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھو‘‘۔(بخاری، مسلم)

۲-صرف ھفتہ کا دن: جمہور کے نزدیک صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ عبداللہ بن بشرؒ اپنی بہن حضرت صمائؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ اس دن کوئی فرض روزہ آجائے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص کھانے کے لیے انگور کی بیل کی ٹہنی یا کسی درخت کی چھال کے سوا کچھ نہ پائے، تو اس کو چبا لے‘‘۔ (ابوداؤد)

۳-شک کا دن:شک کے دن سے مراد ۳۰ شعبان ہے، اس صورت میں کہ ۲۹شعبان کو چاند نظر نہ آئے اور یہ بات قطعی طور پر معلوم نہ ہوسکے کہ کل ۳۰ شعبان ہے یا یکم رمضان؟

شک کے دن رمضان کے روزے کی نیت کرکے روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ جس شخص نے شک کے دن روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی‘‘ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)۔لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھ لے اور اگلے دن یہ واضح ہوجائے کہ آج واقعی رمضان ہے، تو جمہو ر (جن میں مالکیہ، شافعیہ اور حنبلیہ شامل ہیں) کے نزدیک اگرچہ اس شخص کے لیے ضروری ہے کہ کھانے پینے سے رُکا رہے، لیکن اس کا وہ روزہ رمضان کا روزہ شمار نہ ہوگا اور بعد میں اس کے ذمے اس کی قضا ضروری ہوگی۔(نیل الاوطار)

۴-ھمیشہ روزہ رکہنا:حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ’’جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا (اللہ کرے)، وہ کبھی روزہ نہ رکھے‘‘۔ (بخاری)

حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ!وہ شخص کیسا ہے (یعنی اس کا عمل کہاں تک درست ہے) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا؟‘‘ فرمایا: ’’وہ کبھی نہ روزہ رکھے اور نہ افطار کرے (یعنی آپؐ نے اس کے لیے یہ بددعا فرمائی) ، یا آپؐ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا‘‘۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، احمد)

حضرت ابوموسٰیؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس پر اس طرح جہنم تنگ کردی گئی اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی ہتھیلی کو بھینچا‘‘۔ (احمد)

ان احادیث کی بنا پر ہمیشہ روزہ رکھنے کی ممانعت پر سب کا اتفاق ہے۔ جمہور (جن میں ائمہ اربعہ شامل ہیں) کے نزدیک یہ ممانعت صرف اس شخص کے لیے ہے، جو اس طرح سال بھر روزہ رکھے کہ عیدین اور تشریق کے دنوں میں بھی روزے کے بغیر نہ رہے، یا یہ کہ وہ لگاتار روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو یا لگاتار روزہ رکھ کر دوسرے حقوق کی ادایگی میں کوتاہی کرتا ہو۔ جو شخص   ان چیزوں سے بچ کر ہمیشہ روزہ رکھے، اس کے لیے ایسا کرنا مستحب ہے، کیونکہ بعض صحابہ کو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے پے درپے روزہ رکھنے کی اجازت دی تھی۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمیؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! میں ایک ایسا آدمی ہوں، جو پے درپے روزے رکھتا ہوں۔ کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ فرمایا: اگر تم چاہو، تو رکھو اور اگر نہ چاہو تو نہ رکھو‘‘۔ (بخاری)۔ (بحوالہ فقہ السنہ ، انتخاب: ارشاد الرحمن)

 

خرم مراد: حیات و خدمات کا نیا ایڈیشن زیرترتیب ہے۔ جن افراد نے اُن کے ساتھ مختصر یا طویل عرصہ کے لیے کام کیا ہو، یا کسی وجہ سے رابطہ ہوا ہو یا رابطہ رہا ہو، اُن سے کوئی یادگار ملاقات ہوئی ہو، اس کی یاد یں اُن کے پاس امانت ہے۔ نئی نسل کو منتقل کرنے کے لیے اُن کی یادیں قلم بند فرما دیں۔ جزاھم اللّٰہ

نگارشات ہمیں ۲۰؍اکتوبر تک ذیل کے پتے پر پہنچ جائیں۔دسمبر ۲۰۱۵ء میں آپ کے ہاتھوں میں نیا ایڈیشن ہوگا،ان شاء اللہ !

مسلم سجاد

منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور- فون: 042-35252211

manshurat@gmail.com, manshurat@hotmail.com