ستمبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

قانون تحفظ ناموسِ رسالتؐ: چند غورطلب پہلو

اسداللہ بھٹو | ستمبر ۲۰۱۶ | فقہ و اجتہاد

ناموس رسالتؐ کا قانون قرآن پاک میں اللہ نے بیان فرمایا ہے:ـ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًاo (احزاب ۳۳:۵۷) ’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔ اور ان کے لیے رُسواکن عذاب مہیا کردیا ہے‘‘۔

نبی پاکؐ کو ایذا پہنچانے والے ملعونوں کی سزا بھی قرآن میں بیان کی گئی ہے: مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَ قُـتِّلُوْا تَقْتِیْلًاo(احزاب۳۳:۶۱) ’’ ان پر ہرطرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے‘‘۔

ان دونوں آیات کو پڑھا جائے تو آسانی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا صرف سزاے موت ہے۔

واضح رہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کو نہ ماننے کی کوئی سزا نہیں ہے بلکہ جنھوں نے نبی پاک ؐ کو ذاتی طور پر اذیت دی تھی، مثلاً راستے میں کانٹے بچھائے یا سجدہ کی حالت میں اوجھڑی ڈال دی یا دیگر قسم کی حرکتیں کیں ان کو معاف کردیا گیا۔ لیکن جو مقامِ رسالت کی کسی انداز میں توہین کرکے اللہ اور اس کے رسول ؐ کو اذیت پہنچائے گا تو امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کو سزاے موت دی جائے گی ۔ یہ وہ سزا ہے جو رسولؐ اللہ کے دورِ مبارک میں نافذ کی گئی۔ احادیث و سیرت النبی ؐ اور تاریخ و مغازی کی کتابوں میں ایسے بے شمار واقعات بیان کیے گئے ہیں، جن میں سے کچھ واقعات اختصارکے ساتھ یہاں پیش ہیں:

  • قاضی عیاض ؒ نے اپنی مشہور کتاب الشفاء میں توہین رسالت کے مجرمین کعب بن اشرف، ابو رافع ،نضربن حارث ، عقبہ بن ابن معیط ، ابن خطل ، لونڈی قرتنیٰ ، لونڈی قریبہ وغیرہ کے نام لکھے ہیں جن کو رسولؐ اللہ نے قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا ۔توہین رسالت ؐ کے مجرمین کو قتل کرنے والوں میں کبار صحابہ علی بن ابی طالب ، خالد بن ولید، زبیر و دیگر رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں ۔
  • کعب بن اشرف کے قتل کا جو حکم رسولؐ اللہ نے دیا تھا اس کے متعلق بخاری کی شرح قسطلانی میں لکھا ہے کہ:’’وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتا تھا اس طرح کہ ہجو کرتا تھا اور قریش کو ان کے خلاف بھڑکاتا تھا‘‘۔ابن سعد ؒ نے لکھا ہے کہ ’’قتل کی وجہ یہ تھی کہ وہ شاعر تھا، نبی ؐ اور اصحاب ؓ کی ہجو کرتا تھا اور ان کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکاتا تھا‘‘۔ بخاری میں آتا ہے کہ فَاِنَّہٗ قَدْ اٰذی اللّٰہ و رسولہٗ (ص ۵۷۶)’’ اس نے اللہ اور رسولؐ کو اذیت دی‘‘۔
  • توہین رسالت ؐ کے جرم کی سنگینی کا اندازہ ابن خطل کے قتل کے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ابن خطل پہلے مسلمان ہوا تھا پھرمرتدہوکر مکہ چلا گیا تھا ۔وہ رسولؐ اللہ کی ہجو میں نہ صرف اشعار کہا کرتا تھا بلکہ ان اشعار کو مکہ کی دعوتوںاور تقریبات میں سازو سرود کے ساتھ گلوکار لونڈیوں کے ذریعے گانے کا اہتمام کیا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے دن رسولؐ اللہ نے عام معافی کا اعلان فرمایا لیکن ابن خطل کے قتل کا حکم جاری فرمایا ۔ ابن خطل نے بیت اللہ میں جاکر غلاف کعبہ کو اپنے اوپر لپیٹ لیا۔ صحابہ کرامؓ نے رسولؐ اللہ کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ ابن خطل کو وہاں پر اور اسی حالت میں قتل کیا جائے۔ سعد بن حارث ؓنے بیت اللہ میں جاکر اسی حالت میں ابن خطل کو قتل کیا۔ (الصارم المسلول،ص ۱۳۲، زرقانی،ص ۳۱۴، جلد دوم،کتاب المغازی، ص ۲۵۹،جلد دوم)
  • اسی طرح لونڈیاں قرتنیٰ اور قریبہ رسولؐ اللہ کی ہجو کے اشعار گایا کرتی تھیں ۔فتح مکہ کے دن عام معافی کے باوجود ان دونوں لونڈیوں کو قتل کا حکم رسول ؐ نے جاری فرمایا۔ ان واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسولؐ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے توہین رسالت کے مجرمین پر موت کی سزا نافذ فرمائی۔

احادیث اور مغازی کی کتب میں کچھ ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ بعض صحابہ کرام ؓنے توہین رسالت کرنے والوں کو ازخود قتل کردیا اور پھر یہ مقدمہ نبی پاک ؐ کی خدمت میں پیش ہوا لیکن رسولؐ اللہ نے توہین رسالتؐ کے مجرمین کو قتل کرنے والے صحابہ کرام ؓ کو بری کردیا ۔ چند واقعات یہاں نقل کیے جارہے ہیں:

  • سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسولؐ اللہ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپؐ کے بارے میں نا زیبا الفاظ بولتی تھی تو ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا، حتیٰ کہ وہ مرگئی تو رسولؐ اللہ نے اس کا خون ضائع قرار دے دیا۔ ( سنن ابوداؤد،ص ۲۵۲، جلد ۲،حدیث۴۳۶۱، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبیؐ)
  • ایک لونڈی کو قتل کیا گیا ۔ مقدمہ رسولؐ اللہ کی خدمت میں پیش ہوا ۔ نبی پاک ؐ نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جس نے قتل کیا ہے وہ خود حاضر ہوجائے۔ ایک نابینا صحابی محفل کے آخر سے اُٹھے اور لوگوں کو پھلانگتے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اس کو میں نے قتل کیا ہے۔ یہ میری لونڈی تھی اورمیرے دو ہیروں جیسے ) مثل اللؤلئین) بیٹوں کی ماں تھی۔ اس نے آپ ؐ کی شان میں گستاخی کی اور میں نے اس کو قتل کردیا ۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: الا اشھدوا ان دمھا ھدر ’’ گواہ رہو اس کا خون رائیگاں گیا‘‘۔ (سنن ابوداؤد،ص۲۵، جلد دوم، حدیث ۴۳۶۲، النسائی،ص۱۶۳، جلد دوم، حدیث ۳۷۹۴)
  • واقدی نے لکھا ہے کہ بنو عمرو بن عوف میں ایک شخص ابوعفک ۱۲۰سال کا تھا۔ اس نے رسولؐ اللہ اور صحابہ کرام ؓ کی ہجومیں ایک قصیدہ کہا۔ صحابی سالم بن عمیرؓ نے نذر مانی کہ’’ابو عفک کو  قتل کروں گا یا قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا‘‘۔ موسم گرما میں ابو عفک قبیلہ بنو عمر وبن عوف کے صحن میں باہر سو رہاتھا کہ حضرت سالم بن عمیرؓ نے تلوار اس کے جگر پر رکھ دی۔ وہ چیخنے لگا۔ لوگ بھاگے بھاگے آئے، گھر لے گئے لیکن وہ مر گیا اور اس کو دفن کردیا گیا ۔

نبی پاکؐ کے زمانے کے مذکورہ واقعات سے یہ بات آسانی سے واضح ہوتی ہے کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا صرف سزاے موت ہے۔ اس کی روشنی میں قرون اولیٰ کے مشہور فقہا و محدثین کی آرا پیش کرنا بھی ضروری ہیں:

  •  امام ابوبکر الجصاص ؒ لکھتے ہیں کہ’’ کسی مسلمان کو اس سے اختلاف نہیں کہ جس شخص نے رسولؐ اللہ کی اہانت اور ایذا رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہو تو وہ مرتد اور واجب القتل ہوگیا‘‘۔ ( احکام القرآن، جلد۳،ص ۸۶)
  • امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: جو شخص رسولؐ اللہ کو گالی دے یا آپ کی توہین کرے خواہ  وہ مسلم ہو یا کافر تو وہ واجب القتل ہے۔ میری راے یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے‘‘۔ ( الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول، ص ۵)

ناموسِ رسالت ؐ پر قربان ہونے والے پروانوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سرکار مدینہ ؐ کے بابرکت دور سے لے کر عاشق رسول ؐ ممتاز قادری شہید تک ایک طویل قطار نظر آئے گی۔ جب تک دنیا قائم ہے نبی پاک ؐ کا کوئی ادنیٰ امتی بھی ناموسِ رسالت ؐ پر جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

قانونِ توھین رسالت: ارتقائی مراحل

آج کی دنیا میں انسان کی عزت کے تحفظ کیلئے فوجداری قوانین موجود ہیں ۔ برصغیر ہند پر انگریز کے دورِ حکومت میں تعزیراتِ ہند ۱۸۶۰کا قانون نافذ تھا ۔ پاکستان میں تعزیراتِ پاکستان ۱۸۶۰ کے نام سے ہی فوجداری قانون نافذالعمل ہے جس میںدرج ذیل ابواب اور دفعات موجود ہیں:

  •  باب ۲۱ ہتک عزت کی نسبت کے عنوان سے ہے اس میں دفعات ۵۰۰ تا ۵۰۲ شامل ہیں۔ l باب ۲۲، تخویف مجرمانہ ، توہین مجرمانہ اور ایذارسانی مجرمانہ کی نسبت کے عنوان سے ہے اس میں دفعات ۵۰۳ تا ۵۱۰ شامل ہیں ۔ l باب ۱۷ کی دفعہ ۴۱۵ میں ’دھوکا‘کی تعریف کی گئی ہے اس میں جسم، دماغ ، مال کے ساتھ’نیک نامی‘ کو نقصان پہنچانا بھی شامل ہے۔l باب ۱۱ دفعہ۲۰۵ میں ’مقدمہ یا قانونی کارروائی میں نقلی شخصیت بن کر غلط بیانی کرنا‘ کی سزا بیان کی گئی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہتک عزت کرنے والے سے ہرجانہ بھروانے یا وصول کرنے کے لیے سول (دیوانی) قوانین موجود ہیں۔

جب عام آدمی کی توہین کرنے والے کے لیے سزا کا قانون موجود ہے تو محمد رسولؐ اللہ کی توہین کرنے والے کے خلاف قانون کاہونا زیادہ ضروری ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے ارتقائی مراحل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تعزیراتِ ہند میں پہلے مذہبی منافرت کے جرم کے لیے دفعہ ۲۹۵ موجود تھی ۔ عاشق رسول ؐ غازی علم الدین کی شہادت (۱۹۲۹ئ) کے بعد تعزیراتِ ہند میں اے-۲۹۵ کا اضافہ کیا گیا، جس کے مطابق کسی کے معتقدات مذہبی کی توہین پردو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی تھیں۔

 پاکستان میں تحفظ ناموسِ رسالت کی تحریک کے نتیجے میں تعزیراتِ پاکستان میں ایک دفعہ ۲۹۵-سی کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے لیے پارلیمنٹ سے فوجداری قانون (ترمیمات ) ایکٹ نمبر ۳، سال ۱۹۸۶ منظور ہوا ۔ اس وقت دفعہ ۲۹۵-سی میں توہین رسالت کے جرم کی سزا عمر قید یا سزاے موت تھی لیکن ملک کے نامور وکیل اور عاشق رسول محمد اسماعیل قریشی نے وفاقی شرعی عدالت میں اس کے خلاف ایک شرعی پٹیشن داخل کی کہ توہین رسالت کی سزا ،یعنی دفعہ ۲۹۵-سی مجموعہ تعزیرات پاکستان میں صرف سزاے موت کو درج کیا جائے، جو کہ شرعی سزا ہے اور’عمر قید‘کی سزا کو حذف کیا جائے ۔وفاقی شرعی عدالت نے مکمل اورکھلی سماعت کے بعد شریعت پٹیشن Fsc-6-L سال ۱۹۸۷ء محمد اسماعیل بنام حکومت پاکستان کا فیصلہ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو دیا  جس کے مطابق حکومت پاکستان کو ہدایت دی گئی کہ ۳۰؍اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اصلاح کرکے الفاظ ’یا عمر قید‘ حذف کردیے جائیں ۔ نیز حکومت کی طرف سے اصلاح نہ کرنے کی صورت میں مذکورہ الفاظ خود بخود دفعہ ۲۹۵-سی مجموعہ تعزیرات پاکستان سے حذف ہوجائیں گے۔

وفاقی شرعی عدالت کے اس واضح فیصلے کے بعد حکومت نے قانون میں مذکورہ اصلاح نہ کی، لہٰذا وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق ۳۰؍اپریل ۱۹۹۱ء کے بعد الفاظ ’یا عمر قید‘      دفعہ ۲۹۵-سی مجموعہ تعزیرات پاکستان خود بخود حذف ہوگئے اور اس کے بعد توہین رسالت کی   واحد سزا دفعہ ۲۹۵-سی مجموعہ تعزیرات پاکستان کے مطابق صرف’سزاے موت‘ ہے۔ قومی اسمبلی میں ۲جون ۱۹۹۲ء کو ایک قرارداد کی منظوری کے بعد فوجداری قانون میں تیسری ترمیم کا قانون منظور ہوا جس کے مطابق توہین رسالت کی سزا دفعہ ۲۹۵-سی مجموعہ تعزیرات پاکستان میں سزاے موت کی واحد سزا کو بیان کیا گیا ہے۔

پاکستان کے بعض نام نہاد دانش ور، بے دین عناصر اور مغرب زدہ ذہنیت رکھنے والے لوگ توہین رسالت کے اس قانون کے خلاف طرح طرح کے بودے دلائل اور بے وقعت باتیں کرتے رہے ہیں اور توہین رسالت کے قانون کو کُلی یا جزوی ختم کروانے یا غیر مؤثر کرنے کی لاحاصل کوششیں کرتے رہے ہیں ۔ لیکن بے مثال ملک گیر ہڑتالوں اور شدید عوامی رد عمل نے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا ۔

توہین رسالت ؐ یا توہین مقدس ہستیوں یا توہین مقدسات کا قانون پوری دنیا میں موجود ہے۔ برطانیہ میں قدیم دور سے حضرت عیسیٰ ؑکی توہین پر سزاے موت کا قانون موجود ہے۔ قدیم قانون کو برطانیہ میں Common Law  کہا جاتا ہے اور توہین رسالت کا قانون اس کا حصہ ہے۔ برطانیہ میں سزاے موت کی منسوخی کے بعد دیگر برطانوی قوانین کی طرح توہین رسالت کی سزا کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے لیکن توہین رسالت (حضرت عیسیٰ ؑکی توہین ) کا قانون اب بھی موجود ہے۔ اسی طرح یورپ سمیت دنیا کے بعض ممالک میں یہودیوں پر ہٹلر کے مظالم کے حوالے سے المعروف ’ہولوکاسٹ‘ کا قانون موجود ہے۔ جس کی رُو سے ہٹلر کے یہودیوں پر مظالم کا انکارکرنے یا غلط کہنے پر سزا مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں’ تاج‘ (Crown) اور بھارت میں گئو ماتا وغیرہ کے خلاف بات نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ یہ ان قوموں کے مقدسات یا مقدس ہستیاں ہیں۔ جب وہ قوانین موجود ہیں اور ان پر عمل ہوتا ہے تو پاکستان میں سرکار مدینہ ؐکے ناموس کے تحفظ کے لیے توہین رسالت ؐ کا قانون بھی برقرار رہے گا اور کوئی اس کو تبدیل یا ختم یا غیر مؤثر نہیں بنا سکے گا۔

شدید اور فوری اشتعال کا پھلو

جرم و سزا کے حوالے سے مقدمے میں Grave Sudden Provocation، یعنی شدیداور فوری اشتعال کی کیفیت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ نبی مہربان ؐ کے دور بابرکت میں جب کسی نے توہین رسالت ؐ کی بات سنی تو اس نے فوری اور شدید اشتعال کی کیفیت میں توہین رسالت ؐ کے مجرم مرد یا عورت کو قتل کردیا اور سرکار مدینہ ؐ نے اس کو بری کردیا۔ اس کی کچھ مثالیں مضمون کی ابتدا میں پیش کی گئی ہیں ۔ انگریز کے جوڈیشل سسٹم میں بھی Grave Sudden Provocation  کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد کے عدالتی فیصلوں میں اس کی نظیریں (Rulings)ملتی ہیں۔

٭سپریم کورٹ آف پاکستان میں حیدر شاہ بنام سرکار اپیل کی سماعت کرنے والے تین معزز ججوں پر مشتمل بینچ نے ملزم کی سزاے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا اور ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا کیونکہ تحصیل دار نے ثالث کے فیصلہ سنانے سے پہلے متنازع درختوں کو کاٹنا شروع کیا تھا۔جس پر ملزم نے مشتعل ہوکر اس کو قتل کردیا تھا ۔ معزز عدالت نے اپنے فیصلے کے آخری پیرا میں لکھا ہے کہ :

مذکورہ بالا بیان کردہ احوال کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے تب پورے ہوں گے جب درخواست گزار کی سزا، سزاے موت سے کم کر کے عمرقید کردی جائے، نیز دفعہ ۳۸۲-بی، سی پی سی کے تحت مقتول کے قانونی وارثوں کی تلافی کے لیے ایک لاکھ روپے بطورِ جرمانہ ادا کیے جائیں۔ اسی کے مطابق اور جزوی طور پر اپیل منظور کرنے کا حکم مذکورہ شرائط کے ساتھ جاری کیا جارہا ہے۔(حوالہ 1999 SCMR، ص۹۸۳ تا ۹۸۵)

٭سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز دو رکنی بینچ نے مقدمہ عظمت اللہ بنام سرکار میں قاتل کی سزا ۲۵ سال سے کم کرکے ۱۰ سال کردی کیونکہ قاتل نے جھگڑے کے بعد قتل کردیا تھا ۔ معزز عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ :

ایف آئی آرپر ایک نظراور فاضل ٹرائل کورٹ کے سامنے عینی شاہدوں کے بیانات اور فاضل ماتحت عدالتوں نے تفتیش سے جو نتائج مرتب کیے ہیں، واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اپیل کنندہ اور اس کے مرحوم بھائی کے درمیان بدنیتی یا کسی تلخی کا کوئی پس منظر نہیں ہے اور واقعہ بغیر کسی پیش بینی کے اچانک وقوع پذیر ہوا ہے۔

زیرسماعت مقدمہ یقینا بغیر کسی پیش بینی اقدام کا مقدمہ تھا۔ وقوعہ اچانک لڑائی کا نتیجہ تھا جوشدت جذبات سے اچانک لڑ پڑنے کی وجہ سے ہوئی تھی اوراپیل کنندہ نے کوئی نامناسب فائدہ نہیں اُٹھایا اور نہ کوئی ظالمانہ یا خلافِ معمول پر عمل پیرا ہوا۔

ان حالات میں دفعہ ۳۰۰ پی پی سی کی استثنا ۴ زیربحث مقدمہ میں مکمل طورپر لاگو ہوتی ہے۔ لہٰذااپیل کنندہ کے خلاف مقدمے پر دفعہ ۳۰۲ (سی) پی پی سی کا اطلاق ہوتا ہے۔…لہٰذا نتیجتاً اس ۲۵سالہ قیدبامشقت کو کم کر کے ۱۰سالہ قیدبامشقت کیا جاتا ہے۔(حوالہ SCMR.2014،ص ۱۱۷۸ تا ۱۱۸۱)

٭سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز تین رکنی بینچ نے مقدمہ محمد جاوید و دیگر بنام سرکار و دیگر میں سزاے موت کو ’ عمر قید‘ میں تبدیل کیا ہے جس کی وجہ اچانک اشتعال کی کیفیت میں قتل کا جرم سرزدہونا ہے ۔ فیصلے میں قانونی کہاوت یا قانونی جملہ Phrase  بیان کیا گیا ہے (Extenuating and mitigating circumstances)’’جرم یا معصیت کی اہمیت کو کم یا ہلکا کرنے اورتخفیف کرنے والے حالات‘‘۔ عدالتی فیصلے کے مطابق:

ہمارے سامنے واحد سوال یہ ہے کہ آیا جرم کی تخفیف کرنے والے حالات اس طرح کے تھے کہ جس کے جواز کے پیش نظرمعزز عدالت عالیہ نے اپیل کنندہ ملزمان کی سزاے موت کوسزاے عمرقید میں تخفیف کی؟ قانونی کہاوت ’جرم کی تخفیف کرنے والے حالات کی تشریح ‘ محمد شریف بنام محمد جاوید الیاس جید اٹیڈی (پی ایل ڈی ۱۹۷۶ئ، ایس سی ۴۵۲) کے مقدمے میں کی گئی ہے، جہاں جناب والا (جج حضرات) نے نوعمری، اچانک اشتعال انگیزی، کسی بزرگ کا اثرورسوخ اور خاندان کی عزت کے سوال وغیرہ کو قانونی کہاوت ’جرم کی تخفیف والے حالات‘ کے تحت شمار کیا ہے۔     اگر ایک مقدمہ مذکورہ بالا حالات سے مطابقت رکھتا ہے تو ایک عدالت، قانون کے مطابق، سزاکو کم کرنے میں حق بجانب ہے۔

ہم یہ قرار دینے پر آمادہ ہوئے ہیں کہ گو کہ جرم میں تخفیف کرنے والے موجود حالات اور معزز عدالت ِ عالیہ نے اپنے زیر اعتراض فیصلے میں اپیل کنندہ ملزمان کی سزا میں تخفیف کے وجوہات کی توضیح نہیں کی ہے،تب بھی اپیل کنندہ ملزمان کی سزاے موت کو بجاطور پر تخفیف کرکے عمرقید میں تبدیل کردیا ۔ ( حوالہ SCMR 2011،ص۱۴۶۲ تا ۱۴۶۹)

یہ امرِواقعہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بھی اہل علم اور قانون دانوں اور وکلا کی بڑی تعداد ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دینے کے فیصلے سے اختلاف رکھتی ہے اور اسے قانونی طور پر درست فیصلہ نہیں سمجھتی ۔ اختلاف کے کئی نکات میں سے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ممتاز قادری شہید ایک سچا عاشق رسول ؐ اور مومن تھا۔ اس نے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے منہ سے ناموسِ رسالت ؐ کے تحفظ کے قانون کو ’کالا قانون‘ اور دیگر گستاخانہ کلمات سن کر فوری شدید اشتعال کی کیفیت میں آکر اس کو قتل کیا تھا ۔ اس پہلو کو بھی فیصلے میں پیش نظر رکھا جانا چاہیے تھا۔