ستمبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

اسلام میں حلال و حرام کی حکمت

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی | ستمبر ۲۰۱۶ | درس قرآن

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo(المائدہ ۵:۳) تم پر حرام کیا گیا ہے مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گھٹ کر ، یا چوٹ کھاکر، یا بلندی سے  گر کر، یا ٹکرکھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو___ سواے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا___اوروہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمھارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمھارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے، لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کردی گئی ہیں ان کی پابندی کرو)۔ البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہوکر ان میں سے کوئی چیز کھالے، بغیر اس کے گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

آج کے درس کے لیے میں نے ان آیات کو اس لیے منتخب کیا ہے کہ قریب کے زمانے میں ایک نیا فتنہ ہمارے ملک میں اُٹھا ہے۔ ہمارے دیے ہوئے ٹیکسوں سے خزانۂ سرکار میں جو رقم جمع ہوتی ہے اُس سے وہ ادارہ قائم کیا گیا ہے جس کی غرض یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ملک کی مجالس قانون ساز کو اور ملک کی حکومتوں کو، اور حکومتوں سے مراد صوبائی اور مرکزی حکومتیں ہیں، دینی معاملات میں قانون سازی کے حوالے سے مشورہ دے گا کہ ان میں کوئی چیز خلافِ اسلام اور خلافِ قرآن و سنت تو نہیں ہے۔ اس کا نام مشاورتی کونسل رکھا گیا ہے، یعنی مسلمانوں کو اسلامی معاملات میں مشورہ دینے والی کونسل۔ اس کے ساتھ ایک اور ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے نام سے قائم کیا گیا ہے، یعنی اسلامی مسائل پر وہ تحقیقات کرکے اس کونسل اور حکومت کو یہ بتائے گا کہ شریعت اسلامی کے واقعی احکام کیا ہیں۔

اس تحقیقاتی ادارے میں جو نرالی تحقیقات ہورہی ہیں، وقتاً فوقتاً اس کے کچھ مسائل ہمارے سامنے بھی آتے رہتے ہیں۔ مثلاً اس کے اندر یہ تحقیقات کی گئی ہیں کہ قرآنِ مجید کی عبارت اور  اس کے الفاظ اصل میں حجت نہیں ہیں، اور علمِ ہدایت نہیں ہیں، بلکہ قرآن کے مقاصد کو سمجھ کر ان کو  عملی جامہ پہنانے کا حکم ہے نہ کہ بجاے خود قرآن کے الفاظ میں جو حکم دیا گیاہے اس کی پابندی کی جائے۔

اس میں حدیث کے متعلق بھی نرالی نرالی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اس میں سنت کا بھی ایک عجیب مفہوم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں زکوٰۃ سے متعلق ہمیں یہ خبر سنائی جاتی ہے کہ جب چاہے ایک مجلس قانون ساز اس کی نئی شرح مقرر کردے۔ اس کے نصاب میں تبدیلی کرے، اس کی شرح تبدیل کرے، اس کے اختیارات اسے حاصل ہیں۔ اس میں زکوٰۃ کا تصور یہ پیش کیا گیا ہے کہ جس طرح حکومت کے اور ٹیکس ہیں ویسا ہی یہ ایک ٹیکس ہے۔

اسی سلسلے میں نئی تحقیقات ہمارے سامنے آئی ہیں کہ ایک ایسا جانور جس کو خواہ مسلمان ذبح کرے یا غیرمسلم، اور اس کو خواہ باقاعدہ اس طریقے سے ذبح کیا جائے جو اسلام میں مقرر ہے، یا کسی مشین، یا کسی آلے سے دفعتاً اس کی گردن اُڑا دی جائے، اور اس کے اُوپر اللہ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، بہرحال وہ حلال ہے۔

مسئلہ محض گوشت کی حلت و حُرمت کا نہیں ہے۔ معاملہ اس سے بہت آگے جارہا ہے۔  رفتہ رفتہ مسلمانوں کو دینی معاملات میں بے حس بنانے کی ایک اسکیم ہے کہ آہستہ آہستہ ایک ایک چیزلائی جائے اور ایک ایک چیز کے متعلق جو مسلمانوں کے صدیوں کے عقائد اور تصورات اور مسلّمات ہیں، ان کو ایک مرتبہ ہلا ڈالا جائے۔ جب ان کو ہلا ڈالا جائے گا تو اس کے بعد حرام و حلال کی قیود ختم ہوجائیں گی۔ پھر حلال وہ ہوگا جسے ہم حلال کہیں اور حرام وہ ہوگا جسے ہم حرام کہیں۔

اس وجہ سے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس سارے مسئلے کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اگرچہ میں اپنے مضامین میں بھی ان کی وضاحت کرتا رہا ہوں مگر بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک مضمون لکھتے وقت آدمی کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔ اس وجہ سے ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ بار بار اس کی توضیح کی جائے تاکہ ایک ایک پہلو سامنے آجائے۔

یہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہیں ان میں ابتدائی بنیادی حکم صرف یہ ہے کہ مُردار، خون، لحم، خنزیر اور جو کچھ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو وہ حرام ہے۔ اس چیز کو قرآنِ مجید میں اس سورہ کے نزول سے پہلے سورۂ انعام میں بھی ان چاروں چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔ سورئہ نحل میں بھی ان کی حُرمت بیان کی گئی ہے اور سورئہ بقرہ میں بھی ان کی حُرمت بیان کی گئی ہے لیکن یہاں سورئہ مائدہ میں اس حکم کی زیادہ واضح تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور زیادہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے میں نے اُن آیات کے بجاے اِن آیات کو لیا ہے کیونکہ ان میں زیادہ تفصیل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس سلسلۂ بیان میں جو آیات آگے آرہی ہیں ان میں اس پورے مسئلے کو جو چھیڑا گیا ہے اس کا پورا پورا اور مکمل بیان ہے۔فرمایا گیا:

حلال و حرام کی بنیاد

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ (المائدہ ۵:۳) حرام کیا گیا تمھارے اُوپر مُردار، خون اور سُور کا گوشت اور جو کچھ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔

اس سلسلے میں اس بات کو بھی سمجھ لیجیے کہ قرآنِ مجید میں حرام کی کوئی مخصوص اصطلاح نہیں ہے۔ یہ اصطلاحیں بعد میں فقہا نے استنباط کر کے وضع کی ہیں۔ قرآنِ مجید کے متعلق یہ بات نہیں ہے کہ جس چیز کو وہ قطعی ممنوع ٹھیرائے اس کے لیے لازماً حرام کا لفظ استعمال کرے، اور اگر وہ حرام کا لفظ استعمال نہ کرے تو قطعی ممنوع ہونے کا حکم نہیں ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔

اس کی وضاحت میں نے اس لیے کر دی کہ آج کل کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ بتائو شراب کے لیے حرام کا لفظ قرآن میں کہاں ہے؟ حالانکہ ترکہ کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا۔ جھوٹ کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا، حتیٰ کہ عملِ قومِ لوطؑ کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا، تو پھر اس کی حُرمت کا بھی انکار کرو۔ کہو کہ جس جس کے لیے حرام کا لفظ استعمال نہ ہوا ہو وہ سب حرام نہیں ہیں۔ حرام وہ ہے جس کے لیے لفظ حرام استعمال کیا گیا ہے۔ اس زمانے میں یہ نرالے انداز ہیں لوگوں کے اجتہاد کرنے کے!

اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے حُرمت و حلّت کے جو احکام کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں دیے ہیں ان کی بنیاد طبی نہیں ہے۔ اگر طبی بنیاد ہو تو اُس صورت میں جتنی چیزیں انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، ان سب کی حُرمت کے احکام قرآنِ مجید میں آتے یا حدیث میں آتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو جاننے کے ذرائع اس نے انسان کو عطا کردیے ہیں، جن چیزوں کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے، ان کے بارے میں وہ براہِ راست ہدایت نہیں دیتا۔ ان کے بارے میں انسان کا کام ہے کہ خود تحقیقات کرے اور خود معلومات حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ اُن چیزوں کے متعلق ہدایت دیتا ہے جن کے جاننے کے ذرائع ہمارے پاس نہیں ہیں۔ انسان جن چیزوں کو نہیں جان سکتا ان کے بارے میں وہ ہدایت دیتا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں اگر ہدایت نہ دی جائے تو انسان غلطی کربیٹھتا ہے۔ اگر حُرمت و حلّت کی بنیاد صحت کے لیے نقصان دن ہونا ہوتا تو میرے خیال میں ان چار چیزوں سے پہلے سنکھیا کا ذکر کیا جاتا کیونکہ وہ تو مہلک ہے۔ان چار چیزوں سے پہلے ان زہروں کی تفصیل بھی دی جاتی جو آدمی کو ہلاک کردینے والے ہیں۔

اس چیز پر آپ غور کریںگے تو آپ کی سمجھ میں خود یہ بات آجائے گی کہ ان چار چیزوں کی حُرمت کو واضح الفاظ میں قرآن میں چار چار مقامات پر بیان کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کی حُرمت کا سبب آدمی کی سمجھ میں پوری طرح نہیں آسکتا۔ وہ ان کے بارے میں خود تحقیقات نہیں کرسکتا ہے۔ حُرمت کا اصل سبب وہ نقصانات ہیں جو آدمی کے اخلاق اور اس کی روح کو پہنچتے ہیں۔ وہ نقصانات نہیں ہیں جو آدمی کے جسم کو پہنچتے ہیں، اگرچہ یہ آدمی کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ لیکن حُرمت کی اصل بنیاد جسم کے لیے نقصان دہ ہونا نہیں ہے بلکہ حُرمت کی اصل بنیاد اخلاق کے لیے نقصان دہ ہونا ہے۔ آدمی کی روح کے لیے ان کا نقصان دہ ہونا ہے۔ ان کے اندر کچھ ایسے اسباب ہیں کہ ان سے وہ بُری صفات انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں جو انسان کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ قرآنِ مجید کا یہ حکم آنے کے بعد اگرچہ ہم اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کریں، ہم ٹٹولیں تو کچھ چیزیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں لیکن ہم قطعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ حلت ِحُرمت وہی ہے۔

مثال کے طور پر میں عرض کرتا ہوں کہ مُردار ہے۔ مُردار کے متعلق یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ سلیم الطبع انسان، پاکیزہ انسان کی فطرت اس سے نفرت کرتی ہے، ایبا کرتی ہے، انکار کرتی ہے۔ اس کے استعمال کرنے کے لیے انسان کی طبیعت نفرت کرتی ہے۔

مثال کے طور پر خون ہے۔ خون کا استعمال کرنا لازماً انسان کے اندر خون خواری پیدا کرے گا۔ ایسی وحشی قومیں جو خون کو استعمال کرتی ہیں، جانور کو ذبح کرتی ہیں یا ہلاک کرتے ہی جس جگہ سے اس کا خون بہہ رہا ہو اس کو فوراً منہ لگا لیتی ہیں اور خون پی لیتی ہیں۔ یہ بہت طاقت بخشنے والی چیز ہے۔ کیونکہ انسان ہو یا جانور ، جو بھی ہو اس کے اندر جو قوت آتی ہے وہ خون ہی کے ذریعے سے آتی ہے۔ غذا کی تمام خصوصیات اور اس کی جو قوت بخش چیزیں ہیں وہ خون کے ذریعے سے آتی ہیں۔ اس لیے آدمی یہ سمجھے گا کہ خون بڑی مقوی چیز ہے۔ حالانکہ خون میں جو چیزیں قوت بخشنے والی ہیں اور اس کے اندر سے غذا دینے والی ہیں وہ ساری وہ ہیں جو آگے جاکر گوشت میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ خون کا مواد گوشت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ خون کا جو حصہ گوشت میں تبدیل ہوجائے وہ اصل میں مقوی چیز ہے۔ وہ اصل میں انسان کی تقویت کا سبب ہے۔ بہت سے دوسرے اجزا جو خون میں شامل ہوتے ہیں، انھی میں سے گروہ ان کو چھان کر پیشاب کی صورت میں باہر نکال دیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خون میں کچھ ایسے اجزا تھے جب خون انسانی جسم کی ساخت تیار کرنے سے فارغ ہوگیا تو گردے نے انھیں چھانٹ کر پیشاب کی شکل میں باہر نکال دیا۔ نامعلوم اور کون کون سی چیزیں ایسی ہیں جو کسی اور شکل میں نکل آتی ہیں، مثلاً: انسانی پسینے میں سے میل نکلتا ہے۔ وہ بھی خون ہی کے اندر وہ اجزا ہوتے ہیں جنھیں پسینے کی صورت میں جسم سے نکالا جاتا ہے اور وہ میل باہر نکلتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہماری سمجھ میں آتی ہیں لیکن جو بنیادی وجہ ہے وہ انسان کی روح اور اس کے اخلاق پر بُرے اثرات ڈالنے والی ہے۔

غذا کے انسانی تھذیب پر اثرات

مثال کے طور پر لحم خنزیر ہے۔ لحم خنزیر کے متعلق آج کل کی طبی تحقیقات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر بُرائیاں ہیں۔ اس کے اندر کچھ ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن جیساکہ ابھی مَیں نے عرض کیا کہ اگر بیماری پیدا کرنا ہی حُرمت کا اصل سبب ہوتا تو پہلے سنکھیا کی حُرمت بیان کی جاتی۔ ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ سور کے گوشت کا انسان کے اخلاق اور روح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آج تک انسان کی علمی تحقیقات اس طرف مائل نہیں ہوئی ہیں کہ یہ معلوم کریں کہ غذائوں کے استعمال کا انسان کے اخلاق، اس کی روحانیات اور اس کی نفسیات پر کیا اثر پڑتا ہے۔ جسم پر اثرات پڑنے پر تو بہت سی تحقیقات ہوگئی ہیں لیکن اخلاق پر غذائوں کا کیا اثر پڑتا ہے، اس کی تحقیقات آج تک بالکل ابتدائی مراحل میں ہیں۔ انسان ان کے بارے میں نہیں جانتا۔

تاہم ایک بات ایسی ہے جو واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ سور ایک ایسا جانور ہے جو انتہائی  بے حیا واقع ہوا ہے۔وہ انتہائی بے غیرت اور بے شرم واقع ہوا ہے۔ وہ ایک ایسا جانور ہے کہ اس کے سامنے اس کی مادہ کے پاس اگر کوئی دوسرا نر جائے تو اس کے اندر غیرت کے نام پر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی کہ وہ اس سے لڑ جائے۔

یہی چیز سور کھانے والی قوموں میں پیدا ہوجاتی ہے۔ سور کھانے والی قومیں جہاں بھی پائی جاتی ہیں، ان کی تہذیب کے اندر یہ بے غیرتی شامل ہوگئی ہے۔ ہم جس چیز کو غیرت کہتے ہیں وہ اس کو حسد (jeliousy) کہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک غیرت ایک بہترین جذبہ ہے۔ ہم اس کے لیے غیرت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس کے لیے حسد اور jeliousy کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ جو آدمی کے اندر ایک عیب ہے۔ ہماری تہذیب تو یہ ہے کہ آدمی کی بیوی اس کے پاس بیٹھے اور دوسرے آدمی کی بیوی اس کے پاس بیٹھے۔ ان کی تہذیب یہ ہے کہ جب مل کر بیٹھیں گے تو ایک کی بیوی دوسرے کے پاس بیٹھے گی اور دوسرے کی بیوی پہلے کے پاس بیٹھے گی۔ اگر آدمی ایسا نہیں کرتا تو ان کی نظر میں وہ حاسد اور jelious واقع ہوا ہے۔ وہ کیو ں نہیں اپنی بیوی کے پاس دوسرے آدمی کو بیٹھنے دیتا؟ ان کے اندر اس بات کی کوئی شرم نہیں ہے کہ مجموعی ناچ میں ایک آدمی کی بیوی کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ناچے۔ ان کے اندر اس کے بارے میں کوئی شرم نہیں ہے بلکہ وہ اس کو براخوفتگی اور وسیع القلبی سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدک جو عین بے غیرتی ہے وہ ان کے ہاں وسیع القلبی ہے۔ یہ کس چیز کا نتیجہ ہے؟ اسی غذا کا کہ وہ ایک ایسا جانور استعمال کرتے ہیں، اور نہایت کثرت سے استعمال کرتے ہیں، جو نہایت بے غیرت واقع ہوا ہے۔

یہ چند چیزیں ہیں جو مَیں اس غرض سے بیان کر رہا ہوں کہ آپ کو یہ بات سمجھ میں آجائے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام ہیں ان کی بعض حکمتیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں، بعض سمجھ میں نہیں آتیں، اور بعض حکمتیں ایسی ہیں جو ہماری سمجھ میں آہی نہیں سکتیں۔ اگر انھیں بیان کیا جائے توو ہ ہمارے لیے اس وجہ سے بے کار ہیں کہ حکمت وہ بیان کرنی چاہیے جس کو دوسرا مخاطب جانچ کر دیکھ سکے کہ ہاں، واقعی یہ حکمت اس میں پائی جاتی ہے۔ اگر اس کے پاس جانچنے کے ذرائع نہیں ہیں تو اس کا بیان کرنا یا نہ کرنا برابر ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جاتا کہ میاں! یہ تمھاری روح کو خراب کرنے والی چیز ہے۔ اگر آپ کے پاس وہ ذرائع نہیں ہیں کہ آپ یہ ناپ سکیں کہ اس سے روح کے اندر کیا خرابی اور کتنی خرابی پیدا ہوگی ، تو آپ کا اس سے یہ کہنا کہ آپ کی روح میں اس سے خرابی پیدا ہوگی اور یہ نہ کہنا کہ تمھاری روح کے اندر خرابی پیدا ہوگی، یکساں ہے۔ کیونکہ آپ کے پاس اس کے جانچنے کے ذرائع نہیں ہیں۔ آپ تحقیق نہیں کرسکتے کہ جو بات آپ کو کہی گئی ہے وہ واقعی ٹھیک ہے، کس حد تک ٹھیک ہے، اور کس طرح اس کے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے احکامات ہیں جن کی حکمتیں اور مصلحتیں نہیں بتائی ہیں بلکہ صاف صاف کہا ہے کہ فلاں چیز تمھارے لیے ممنوع ہے۔

ایمان کی آزمایش کی بنیاد

اس کے ساتھ اس میں انسان کے ایمان کی آزمایش ہے۔ اگر ایک آدمی ایمان رکھتا ہے تو اس کے رب نے جس چیز سے منع کردیا وہ رُک جائے گا قطع نظر اس کے کہ ممانعت کی وجہ اسے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اگر وہ ممانعت کے جواب میں پلٹ کر یہ کہتا ہے کہ جناب اس کی حکمت مجھے بتایئے اگر اس کی حکمت مجھے سمجھ میں آئے گی تو میں آپ کا حکم مانوں گا اور نہ آئے گی تو نہ مانوں گا۔ وہ دراصل اپنی سمجھ کی اطاعت کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کر رہا۔ مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ حکم کی دلیل مانگے۔ مومن کا کام یہ ہے کہ اس کا رب جب اسے حکم دے تو سر جھکا دے قطع نظر اس کے کہ اس کی وجہ اسے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اس کا پورا اعتماد اپنے رب پر ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے کہ وہی علیم ہے۔ ہر چیز کی حقیقت کو وہ جانتا ہے۔ وہی حکیم ہے جو حکم بھی دے رہا ہے دانائی کی بنا پر دے رہا ہے، اور وہ رب ہے اس کو حق پہنچتا ہے کہ جس چیز سے چاہے آپ کو منع کردے۔ کیونکہ دنیا کی تمام چیزیں اس کی ملکیت ہیں، آپ کی ملکیت نہیں ۔

مثال کے طور پر آپ اپنے گھر کے مالک ہوں اور کوئی دوسرا شخص باہر سے آئے۔ آپ کو حق پہنچتا ہے کہ آپ اس کو یہ کہیں کہ میری فلاں فلاں چیزیں تو آپ استعمال کرسکتے ہیں اور فلاں فلاں چیزیں آپ استعمال نہیں کرسکتے۔ آپ کو اس کا حق پہنچتا ہے۔ اس کو یہ مطالبہ کرنے کا حق نہیں پہنچتا کہ آپ مجھے فلاں فلاں چیزوں کے استعمال کی بھی اجازت دیجیے اور آپ مجھے اجازت کیوں نہیں دیتے؟ اس لیے کہ مال آپ کا ہے، اس کا نہیں۔ آپ کو پورا حق پہنچتا ہے کہ اپنی چیزوں میں سے جس چیز کے استعمال کی چاہیں اجازت دیں اور جس چیز کی چاہیں اجازت نہ دیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جناب میرے گھر کے ہر حصے میں آپ جاسکتے ہیں لیکن فلاں کمرے میں آپ نہ جایئے گا۔  اس میں آپ قفل لگا دیں اور کہیں کہ اس میں جانے کا آپ حق نہیں رکھتے۔

وہ چونکہ رب ہے، تمام چیزیں اس کی ملکیت ہیں، آپ اس کے بندے ہیں۔ لہٰذا مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے نوکر سے، اپنے غلام سے یہ کہے کہ میری فلاں فلاں چیزیں وہ استعمال کرسکتا ہے اور فلاں فلاں چیزیں استعمال کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا۔ میں تم کو منع کردیتا ہوں کہ میری ان چیزوں کو تم استعمال نہ کرو۔

اگر آپ اللہ کو رب مانتے ہیں تو رب کہتا ہے کہ سور کو تم نہ کھانا تو آپ کو رُ ک جانا چاہیے۔ وہ کہتا ہے کہ جس جانور کو مَیں خود ماروں اسے نہ کھانا، تو آپ کو رُک جانا چاہیے۔ مُردار کے متعلق اس نے یہ حکم دے دیا کہ یہ میرا مارا ہوا ہے، لہٰذا جسے مَیں خود ماروں اس کو تم نہ کھائو۔ جس کو آپ خود ماریں اُس طریقے کے مطابق جیسے اس نے بتایا ہے، تو اسے آپ کھاسکتے ہیں۔

مُردار کی وضاحت

ان چار چیزوں کی حُرمت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے مُردار کی وضاحت فرمائی ہے۔ دوسری چیزیں تو واضح ہیں لیکن مُردار کی وضاحت فرمائی ہے۔

وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ(المائدہ۵:۳) وہ جو گلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گرکر، یا ٹکر کھاکر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو___ سواے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا۔

ایک تو مُردار وہ ہے جو طبعی موت لیٹ کر مر گیا۔ اس کے علاوہ مزید مُردار وہ ہیں، مثلاً جو گلاگھٹ کر مرا، یا چوٹ کھا کر مرا، یا کسی بلندی پر سے گر کر مرا، یا دو جانوروں میں ٹکر ہوئی اور ٹکر کھا کے ایک جانور مر گیا، یا جس کو درندے نے پھاڑا۔ ان سب کی ممانعت فرمائی۔بنیاد کیا ہے؟ وہی مُردار، یعنی یہ سارے کے سارے مُردار ہیں اگر ان میں سے کسی شکل میں مرجائیں۔ کیوں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ خون جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، وہ خون ان شکلوں میں سے کسی شکل میں بھی نہیں نکلتا۔ چوٹ لگ گئی تو چوٹ کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جس جگہ چوٹ لگتی ہے اس کے آس پاس کا خون نکل جاتا ہے لیکن اس سے پورے جسم کا خون خارج نہیں ہوتا۔ ایسے ہی گر کر مرنے سے ہوتا ہے۔ اگر خون نکلے گا بھی، مثلاً سر پھٹ گیا ہے تو جس مقام پر چوٹ لگی ہے اس کے آس پاس کا نکل جائے گا۔ موت کسی صدمے سے واقع ہوگی یا کسی اور وجہ سے واقع ہوگی۔ اس وجہ سے واقع نہیں ہوگی کہ چونکہ جسم کا پورا خاندان نکل گیا ہے، اس لیے جان دار مر گیا ہے۔ یہ کسی صدمے سے واقع ہوگی۔ ایسے ہی دوسری شکلیں ہیں۔ ان ساری شکلوں میں چونکہ خون پوری طرح سے نہیں نکلتا ہے۔ موت کی وجہ کوئی اور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتا ہے۔ خون آس پاس کا  نکل کر رہ جاتا ہے یا بالکل نہیں نکلتا۔ اس وجہ سے یہ سب بھی مُردار کی تعریف میں آتے ہیں قطع نظر اس کے کہ خون بہا ہو یا نہ بہا ہو۔ خون بہا بھی ہو تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پورے کا پورا خون اس کے اندر سے نکل گیا ہے۔

ان چیزوں کو حرام قرار دینے کے بعد پھر فرمایا:

اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ(المائدہ۵:۳) بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کر لیا۔

تزکیہ کا لفظ زکاۃ سے نکلا ہے۔ زکاۃ کہتے ہیں اس بات کو، مثلاً اگر آگ راکھ میں دبی ہوئی ہے تو آپ کرید کر انگارے اُوپر نکال لائیں۔ اس کو کہیں گے کہ آگ کا تزکیہ ہوگیا، یعنی آگ کی حرارت کو آپ اُبھار کر اُوپر لے آئے۔ اس کو آگ کا تزکیہ کہیں گے۔

عربی زبان میں جانور کو ذبح کرنے کے لیے تزکیہ کا لفظ اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کا خون، اس کی روح، اس کے جسم کی حرارت، آپ ذبح کر کے اس کو اُبھار لاتے ہیں تاکہ وہ بالکل خارج ہوجائے۔ اس کے اندر کچھ باقی نہ رہے۔

یہاں اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات نکل آئی کہ جس کا تزکیہ نہیں کیا گیا وہ مُردار کی تعریف میں ہے۔ کسی مجموعے کے اندر سے جب استثنیٰ ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر یہ استثنیٰ موجود نہیں ہے تو وہ اس مجموعے میں شامل ہے۔ جب یہ کہا گیا کہ فلاں فلاں چیزیں حرام ہیں سواے ان کے جن کا تم نے تزکیہ کرلیا۔ مطلب یہ ہے کہ صرف یہی حلال ہے۔ اگر تزکیہ نہیں کیا گیا تو یہ حرام ہے۔

تزکیہ کا مفھوم

آیئے دیکھیں کہ تزکیہ کے کیا معنی ہیں؟

تزکیہ کی وضاحت چونکہ قرآنِ مجید میں نہیں کی گئی ہے، اس لیے اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کی وضاحت کرنے کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد تھا۔ یہ بات واضح ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہے اور بار بار اس کی فرضیت کا حکم دیتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ کتنی رکعتیں پڑھو؟ اس کی کیا شکل ہو؟ کیا شرائط ہیں؟ کیا اس کے ارکان ہیں؟ کیا اس میں فرائض ہیں؟ یہ ساری چیزیں قرآنِ مجید میں بیان نہیں کی گئیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس کو لوگوں کی رہنمائی کے لیے قرآن دے کر بھیجا گیا تھا اس کا یہ کام تھا کہ وہ لوگوں کو یہ بتائے کہ اس حکم پر عمل کیسے کیا جائے؟ ایسا ہی معاملہ تزکیہ کا ہے۔

جب یہ فرما دیا گیا اور اتنا اہم حکم ہے کہ آپ جو غذا استعمال کر رہے ہیں اس کی حُرمت اور حلّت کے درمیان فرق اس تزکیے سے واقع ہوگا۔ یہ بڑا اہم حکم ہے جس کا روزمرہ زندگی میں سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اس لیے احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ تزکیے کی جگہ ٹھوڑی اور لبلبے کے درمیان والی جگہ ہے جسے لبّہ کہتے ہیں۔ یہ تزکیے کا مقام ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حضوؐر نے اس بات کو اور زیادہ واضح کر دیا کہ جانور کو گردن کے پیچھے سے ذبح نہ کیا جائے۔ اس وجہ سے کہ اگر گردن کی پشت کی طرف سے ذبح کیا جائے گا تو سب سے پہلے حرام مغز جو دماغ سے جسم کا تعلق جوڑتا ہے، یہ پہلے کٹ جائے گا۔ جب یہ پہلے کٹ گیا تو اس صورت میں چونکہ جسم کے اندر جان ہی باقی نہیں رہے گی، موت فوراً واقع ہوجائے گی۔ اس لیے خون کھچ کر باہر نہیں آئے گا۔ یعنی مُنْخَنِقَۃُ (گلاگھٹ کر)، موقوذہ (چوٹ کھاکر)، متردیۃ (بلندی سے گرکر)اور نطیعۃ (ٹکر کھاکر) وغیرہ کی مُردار ہونے کی جو حلت بیان کی گئی ہے کہ تزکیے کے بغیر وہ سارے کے سارے حرام ہوجائیں گے کیونکہ وہ مُردار کے حکم میں ہیں۔

اس شکل میں بھی تزکیہ نہیں ہوتا جب پیچھے سے جانور کو ذبح کر دیا جائے۔ لکات جس کو حرام مغز کہتے ہیں جو جسم سے دماغ کا تعلق جوڑتا ہے۔ جب تک اس کے ذریعے سے جسم اور دماغ کا تعلق جڑا رہے تو اس صورت میں موت فوراً واقع نہیں ہوسکتی۔

دوسرا یہ کہ اس صورت میں جانور دیر تک تڑپے گا، حرکت کرے گا اور پھڑپھڑائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سامنے سے ذبح کرنے کی صورت میں جو دروازہ کھل گیا ہے، اس سے خون تیزی سے نکلے گا اور اس کے باربارحرکت کرنے یا پھڑپھڑانے سے ایک ایک قطرہ نکل کر باہر آجائے گا اور گوشت پوری طرح سے خون سے صاف ہوجائے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ بتایا، احادیث میں تصریحات ہیں اور جن کی بنا پر فقہاے کرام نے نتائج اخذ کیے ہیں۔ ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حلقوم (حلق) اور مری جس میں سے جانور اور انسان کی غذا گزرتی ہے، اور وہ دو رگیں جو حلقوم اور مری کو درمیان میں لیے ہوئے ہیں، جسے شہ رگ (jubler vain) کہتے ہیں، یہ چاروں کی چاروں کٹنی چاہییں۔ حرام مغز جڑا رہے اور یہ چاروں کی چار جب کٹ جائیں گی، تب پوری طرح سے خون کھچ کر باہر آئے گا۔ اگر یہ چاروں نہ کٹیں تو مری اور حلقوم کٹنے کے بعد ایک شہ رگ کٹ جائے، اگر دونوں نہ بھی کٹیں تو کم از کم ایک شہ رگ کٹ جائے۔ اس کے بغیر خون چونکہ باہر نہیں آسکتا اس لیے تزکیہ مکمل نہیں ہوسکتا۔

اب آپ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ کے الفاظ بیان فرما کر ان تمام جانوروں کو حرام قرار دے دیا جن کا باقاعدہ تزکیہ نہ کیا گیا ہو۔ اس لیے اگر کوئی ایسی چیز یا ایسا ذریعہ جانور کو ذبح کرنے کا اختیار کیا جائے جس سے تزکیہ نہیں ہوتا تو وہ مُردار کے حکم میں آئے گا۔ یک لخت اگر جانور کو ذبح کیا جائے گا، یعنی ایک ہی وار میں اس کی گردن کٹ کر الگ ہوجائے گی، تو وہ تزکیے کے بغیر چونکہ مرے گا اس وجہ سے وہ حرام ہے۔

ذبح کرتے ھوئے اللّٰہ کا نام لینے کی حکمت

اس کے بعد فرمایا:

وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ(المائدہ ۵:۳) اور جو ذبح کیا استھانوں پر۔

نُصب کسی ایسے پتھر، لکڑی یا کسی ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کسی جگہ اس غرض کے لیے نصب کر دی گئی ہو کہ غیراللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ بتوں کے استھان، یعنی مشرکین اپنی مشرکانہ قربانیوں کے لیے جو قربان گاہیں بنا لیا کرتے تھے وہ سب نُصب تھیں، قطع نظر اس کے کہ وہاں کوئی قبر ہو، یا وہاں کوئی لکڑی یا پتھر گاڑ دیا جائے،یا وہاں کوئی بت ہو یا کوئی اور چیز ہو۔

یہ گویا تشریح ہے۔ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ  کی۔ اس سے آدمی یہ بات سمجھے گا کہ ذبح کرتے ہوئے اللہ کے نام کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے، تب وہ حرام ہوگا۔ گویا غیراللہ کا نام نہ لیا جائے۔ یہاں واضح کردیا گیا ہے کہ اگر استھان پر لے جاکر ذبح کیا گیا ہے تو خواہ کسی دوسرے کا نام نہ بھی لیا گیا ہو، تب بھی یہ حرام ہوگا۔ یعنی ذبح کرنے کی ایک شکل یہ ہے کہ اللہ کا نام لیا اور   اس کے ساتھ کسی اور کا نام لیا۔ ایک شکل اس کی یہ ہے کہ اللہ کا نام بھی نہیں لیا اور کسی اور کا بھی نہیں لیا۔ ایک شکل یہ ہے کہ صرف غیراللہ کانام لیا۔ شریعت اس شکل کو بھی حرام کرتی ہے جس میں    اللہ کے ساتھ کسی اور کا نام لے لیا جائے جو کہ صریح شرک ہے۔ شریعت اس کو بھی حرام کرتی ہے جس میں اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔ شریعت اس کو بھی حرام کرتی ہے جس میں اللہ کا نام نہیں لیا گیا، غیراللہ کا نام بھی نہیں لیا گیا مگر اسے ایک آستانے پر لے جاکر ذبح کیا جائے۔آستانے پر لے جاکر ذبح کرنا خود اس بات کو واضح کردیتا ہے کہ نیت غیراللہ کے نام پر ذبح کرنے کی ہے چاہے غیراللہ کا نام نہیں لیا گیا۔

اس چیز پر اللہ تعالیٰ نے اتنا زور کیوں دیا ہے؟ یہاں میں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو کیوں اہمیت دیتا ہے کہ جانور کو ذبح کرتے ہوئے اسی کا نام لیا جائے، کسی اور کا نام نہ لیا جائے اور اس کا نام ضرور لیا جائے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ جب ایک غلام اپنے مالک کے مال میں تصرف کرنے لگے اور کوئی اس سے پوچھے کہ میاں یہ تم کس اختیار کی بنا پر تصرف کر رہے ہو تو وہ کیا کہے گا؟ میرے مالک نے مجھے اس کی اجازت دی ہے۔ اس کے نام پر مَیں تصرف کر رہا ہوں اور اس کی طرف سے کر رہا ہوں۔ اس نے چونکہ اجازت دی ہے اس لیے کر رہا ہوں۔ گویا ملکیت ِ حق کو تسلیم کرنا ہے یہ کہنا کہ مَیں مالک کی اجازت سے یہ کر رہا ہوں۔ ورنہ اس کے بغیر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ خود مالک بنے ہوئے ہیں۔ آپ مالک کے حقِ مالکانہ کا اعتراف نہیں کرتے۔

جانوروں کے بارے میں خاص طور پر کیوں کہا گیا ہے کہ ان کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لو؟ اسی وجہ سے کہ اگر آپ تزکیہ کریں تو آپ کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ آپ جیسی دوسری جان دار مخلوق کے اُوپر اس نے آپ کو تصرف کے اختیارات دیے ہیں۔ باقی جتنی چیزوں پر آپ تصرف کر رہے ہیں وہ بے جان ہیں لیکن آپ ہی کی طرح دوسری جان دار مخلوق موجود ہے جس کے اندر آپ ہی جیسی جان ہے، اس کے اُوپر تصرف کا اختیار اس نے دیا ہے۔   یہ اس کا احسانِ عظیم ہے۔

دنیا میں جو تہذیب پھیلی ہے اس میں اس کا کتنا بڑا عمل دخل ہے۔ وہ آپ کے لیے سواری کا ذریعہ بنے۔ وہ آپ کے لیے پوشش کا ذریعہ بنے۔ وہ آپ کے لیے غذا کا ذریعہ بنے۔ ان کا گوشت اور دودھ غذا کا ذریعہ ہے اور ان سے نامعلوم کتنی چیزیں آپ بناتے ہیں۔ وہ ساری کی ساری آپ کے لیے غذا کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے بال آپ کی ضروریات کا ذریعہ ہیں۔ ان کی ایک ایک چیز آپ کی غذا اور ضروریات کا ذریعہ بنائی گئی اور آپ کی ضروریات اس سے پوری کی گئیں، آپ کی پوشش کا ذریعہ اسے بنایا گیا۔ حالانکہ یہ وہ جانور ہیں جن کی ایک ٹکر آپ نہیں   سہہ سکتے۔ بیل، گائے، ہاتھی اور اُونٹ کو آپ دیکھیے، ان کی ایک ٹکر آپ نہیں سہہ سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیارات دیے اور طاقتیں عطا فرمائیں کہ آپ ان پر تصرف کر رہے ہیں۔ وہ آپ کے سامنے بے بس ہیں۔ جب چاہتے ہیں آپ ان کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے ہیں اور وہ ہل نہیں سکتے۔ جس طرح سے چاہیں ان کو پکڑ کر ان کا دودھ نکال لیتے ہیں۔ ذرا بھینس کو دیکھیے، اس کی طاقت کو ملاحظہ کیجیے، اور آپ کے آگے اس کے اس طرح سے بے بس ہوجانے کو دیکھیے کہ آپ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچے کو محروم کر کے اس کا دودھ نچوڑتے ہیں اور وہ نچوڑواتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان جو کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ جب آپ اسے ذبح کرنے لگیں تو اللہ کا نام لے کر، اس کی اجازت سے ذبح کریں کہ اس مالک کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ عطا کی ہے اور اس کی اجازت سے ہم اسے ذبح کر رہے ہیں۔

اگر آپ ذبح کرتے ہوئے اس کا نام نہیں لیں گے تو آپ کو یہ غفلت لاحق ہوگی اور رفتہ رفتہ آپ اس غلط فہمی میں پڑجائیں گے کہ آپ ہی مالک ہیں اور آپ ہی کو یہ اختیار ہے کہ جس کو چاہیں زندہ رکھیں اور جس کو چاہیں کاٹ دیں۔ جس کو چاہیں آپ قتل کریں اور جس کو چاہیں زندہ رہنے دیں۔ جیساکہ نمرود نے کہا تھا کہ انا ابی وامی۔اس کا خدشہ ہے کہ آپ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ اس وجہ سے آپ کے عقیدے کو بچانے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ذبح کرتے وقت آپ اللہ کا نام لیں۔ غیراللہ کا اگر آپ نام لیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے مالک کو بھول کر جو مالک نہیں ہے اس کا نام لے رہے ہیں۔ اگر آپ اس کا نام نہیں لے رہے تو آپ اپنے مالک سے غافل ہیں اور خود اپنے آپ کو مالک سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس کا نام آپ لیں گے تو آپ کا عقیدہ صحیح ہوگا اور صحیح طور پر ایک موحد انسان اور اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان اور مطیع انسان بن کر رہیں گے۔

اس کے ساتھ فرمایا: وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ (۵:۳) ’’تمھارے لیے یہ بات حرام کی گئی کہ تم پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو‘‘۔

پانسوں کے ذریعے قسمت معلوم کرنے کی مختلف شکلیں ہیں۔ عرب میں اس کی مختلف شکلیں رائج تھیں۔ ایک شکل یہ تھی کہ بت سے معلوم کیا جائے کہ ہم میں سے کس کا کیا حصہ ہونا چاہیے؟ ہماری قسمت کیا ہے؟ اور ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ کعبہ میں ہبل کے پاس تیر رکھے ہوئے تھے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ یہ کام کرو اور یہ نہ کرو۔ اس طرح کی مختلف عبادتیں ان پر لکھی ہوئی تھیں۔ جو تیر نکل آتا تھا اس کے معنی یہ تھے کہ ہبل کا یہ فیصلہ ہے کہ آپ یہ کام کریں۔ہبل نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے کہ آپ یہ کام کریں یا اس کی اجازت نہیں دی ہے کہ آپ یہ کام   نہ کریں۔

یہ تمام احکام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ(۵:۳) آج کفار تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ہیں، لہٰذا اب تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔

پہلے لفظ الیوم کا مفہوم سمجھ لیجیے۔

کبھیالیوم کے معنی واقعی یہ ہوتے ہیں کہ آج کے دن یہ بات ہوئی اور کبھی اس کے معنی ’اب‘ کے ہوتے ہیں، یعنی جس زمانے میں، یا یہ وہ وقت ہے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ آپ کہتے ہیں کہ آج حالات یہ ہیں۔ آج دنیا کا رنگ بگڑا ہوا ہے۔ آج لوگوں کی اخلاقی حالت خراب ہو رہی ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آج کے روز یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ زمانۂ ماضی کا ذکر نہیں ہے بلکہ زمانۂ حال کا ذکر ہے۔ اب وہ حالات ہیں کہ جن میں یہ واقعات پیش آئے ہیں۔

اس کے بعد یہ فرمایا گیا کہ آج کفار تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد کوئی خاص دن نہیں ہے کہ جب کفار مسلمانوں کے دین سے مایوس ہوگئے۔ دراصل یہ تاریخ کا ایک خاص اور مرحلہ اور stage تھا جس میں کفّار مسلمانوں سے مایوس ہوئے۔

کفّار کی طرف سے مایوس ہونے کا مطلب کیا ہے؟

ایک وہ وقت تھا کہ کفّار یہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ ہم لالچ سے، یا دھوکا دے کر، یا دبائو ڈال کر، یا دھمکیاں دے کر کسی نہ کسی طرح سے مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیر لیں گے۔ اس اُمید کے اُوپر وہ لڑ رہے تھے۔اپنی چالیں چل رہے تھے اور اپنی ساری تدبیریں کر رہے تھے اس اُمید پر وہ ظلم و ستم بھی ڈھا رہے تھے۔ اس اُمید پر وہ مسلمانوں کو طرح طرح کے لالچ بھی دے رہے تھے، فریب بھی دے رہے تھے۔ یہ سارے کام وہ کر رہے تھے۔

ایک مرحلہ وہ آیا جب کفار کو معلوم ہوگیا کہ یہ اب ہلائے ہلنے والے نہیں۔ یہ دین جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، یہ اب ٹلنے والا نہیں ہے۔ یہ اب قائم ہوگیا ہے اور یہ ہمارے مٹائے مٹ نہیں سکتا۔ مسلمان بھی اسلام پر ثابت قدم ہیں۔ اب ان کو ہٹایا نہیں جاسکتا، اور دین اسلام کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہماری طاقت سے اب باہر ہوگیا ہے۔

 یہ بات کس وقت پیش آئی؟

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورئہ مائدہ کا بڑا حصہ صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوا ہے۔  صلح حدیبیہ وہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورئہ فتح میں صاف الفاظ میں فتح مبین کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ فتح مبین تھی جس سے یہ فیصلہ ہوگیا، پورے عرب کو یہ معلوم ہوگیا، کفار کو بھی معلوم ہوگیا اور مسلمانوں کو بھی معلوم ہوگیا کہ اب کفار کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ اب مسلمانوں کی چڑھ بن آئی ہے۔ اب مسلمانوں کے چڑھائو کا وقت ہے اور کفار کے اُتار کا وقت ہے۔ اس موقع کے اُوپر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو اب وہ وقت آگیا ہے کہ کفّار تمھارے دین سے متعلق اس بات سے مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ اس کو مٹا سکیں۔ تمھارے دین کو اب یہ طاقت حاصل ہوچکی ہے کہ اب یہ کفار کے مٹائے نہیں مٹے گا۔ اب کوئی وجہ نہیں ہے کہ تم ان سے خوف کھائو۔ پہلے توایک آدمی کے لیے اس بات کا خطرہ تھا کہ وہ صاف صاف اور کھلم کھلا اگر احکامِ الٰہی کی پابندی کرے گا تو اس کی پٹائی ہوگی۔ اس کو گھر سے نکال باہر کیا جائے گا۔اس کا مال چھین لیا جائے گا۔ اس کے اُوپر ظلم وستم ڈھائے جائیں گے۔ اس وجہ سے آدمی کے لیے یہ بھی مشکل تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے اور  کھلم کھلانماز پڑھ سکے۔ ایک وقت ہمارے ملک میں ایسا آچکا ہے کہ ایک مسلمان کو پارکوں میں نماز پڑھتے ہوئے شرم آتی تھی کہ مذاق اُڑایا جائے گا کہ لیجیے مُلّاجی نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس سے زیادہ وہاں حالات خراب تھے۔

جب اسلام کی طاقت اتنی زبردست ہوگئی کہ کفار کو معلوم ہوگیا کہ اب یہ ہلاے نہیں ہلتے۔ اب ان کی ایک مضبوط آیات قائم ہوگئی ہے۔ اب ان کے پاس وہ طاقت ہے کہ اگر ہم لڑیں گے تو ہمیں یہ شکست دے ڈالیں گے۔ جنگ ِ اَحزاب میں جس وقت کفار اپنا پورا زور لگاکر ناکام ہوکر چلے گئے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اب وہ وقت آگیا کہ یہ تم پر چڑھ چڑھ کر آرہے تھے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے۔ پہلے ہم defenceive تھے، اب یہ defencive پوزیشن میں ہیں۔ اب ان کو دفاع کرنا پڑے گا۔ ان کے چڑھائو کا وقت گزر گیا۔

یہ وہی چیز ہے جب مسلمانوں کو یہ مقام حاصل ہوگیا تو اللہ نے کہا کہ اب تمھارے لیے میرے احکام کی پوری پوری اور کھلم کھلا تعمیل کرنے کا کوئی عذر باقی نہیں ہے۔ پہلے وقت تھا خطرے کا اور خوف کا، لیکن اب یہ حالت نہیں ہے۔ اب اگر تم پیچھے ہٹے، اب اگر تم نے میرے احکام کی پوری پوری تعمیل کرنے میں تامّل کیا، تو اس کے بعد تم پکڑے جائو گے۔ اب ان سے ڈرنے کی تمھاری کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔

اس سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اگر مسلمان کسی مقام پر ، کسی علاقے میں، دنیاکے کسی ملک میں محکوم ہوں، غلام ہوں، ان کے پاس طاقت نہ ہو۔ دوسرے کے احکام ان پر جاری ہو رہے ہوں، ان کے احکام دوسروں پر جاری نہ ہو رہے ہوں۔ ان کے پاس خود اپنے احکام جاری کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے لیے اس بات کا عذر ہے اگر وہ کسی حکم کی تعمیل نہ کرسکیں کہ ہم بے بس ہیں۔ ہمیں کفّار کا خطرہ تھا۔ اب بھی ہندستان میں مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ ایک مقام پر اگر وہ اذان دیں تو اس بات کا خطرہ ہے کہ ان پر حملہ کردیا جائے گا۔ رانچی میں یہ واقعہ پیش آچکا ہے۔ چنانچہ جن حالات میں مسلمان دبے ہوئے ہوں، مغلوب ہوں، کفار چیرہ دست ہوں اور اسلام کی دشمنی پر تلے ہوئے ہوں، ان حالات میں اگر کچھ احکام پر مسلمان عمل نہ کرسکیں، اپنی پوری کوشش کے باوجود کچھ احکام پر عمل کرنے میں ناکام رہ جائیں تو ان کے لیے عذر ہے۔

لیکن ایک وہ حالت ہوتی ہے کہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کوئی بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ آپ کے پاس وہ طاقتیں موجود ہیں جن سے آپ اپنے معاشرے میں پورے پورے اسلامی احکام نافذ کرسکیں۔ کفّارِ ہند یا کفّار انگریز جن سے آپ کل مغلوب تھے، وہ اب اس بات سے مایوس ہوچکے ہیں کہ پاکستان ختم ہوجائے گا۔ بیرونی دنیا بھی یہ سمجھتی ہے کہ یہ ریاست قائم رہنے کے لیے بنی ہے، اب یہ ختم نہیں ہوسکتی۔ اب مسلمانوں کے پاس اپنی طات ہے۔ یہ وہ حالت ہے جس کے بارے میں یہاں یہ بات فرمائی گئی ہے۔

فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ(۵:۳) اب تمھارے لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ تم کسی سے ڈرو، اب مجھ سے ڈرو۔

’مجھ سے ڈرو‘ کا مطلب یہ ہے کہ میرے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تمھیں    مجھ سے ڈرنا چاہیے۔ اب تمھارے لیے عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے پاس وہ طاقت آجائے کہ کسی سے خدا کے سوا ڈرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ اس صورت میں اگر وہ دنیا کو دیکھ دیکھ کر یا ان سے متاثر ہوکر احکامِ الٰہی میں ترمیمات کرنے لگیں اور احکامِ الٰہی کی پابندی نہ کریں، تو اس کے بعد دنیا میں بھی خدا کے عذاب کا خوف ہے اور آخرت میں بھی۔

اب کون سی معقول وجہ ہے کہ آپ یہ روش اپنائیں۔ میں آپ کو مثال دے کر بتاتا ہوں کہ یہیودی تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی وہ رہتے ہیں، اپنی بستیاں الگ بساتے ہیں، اپنے محلے الگ بساتے ہیں، ان کی آبادیاں الگ ہوتی ہیں۔ وہ جہاں رہتے ہیں، اپنے لیے ذبیحہ کا پورا انتظام کرتے ہیں جس طرح کہ آپ اس ملک میں کرتے ہیں۔ یورپ کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے، امریکا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے کہ جس جگہ انھوں نے اپنے ذبیحہ کے خود انتظامات نہ کیے ہوں۔

butcher meat مشہور ہے، جسے چاہیے وہ حاصل کرسکتا ہے۔ یعنی جس ذبیحہ کو وہ حلال نہیں سمجھتے اسے وہ استعمال نہیں کرتے۔ جس ذبیحہ کو وہ حلال سمجھتے ہیں، ذبیحہ کے جو احکام ہیں اس کے مطابق دنیا کے ہر حصے میں انھوں نے ذبیحہ کا انتظام کیا ہوا ہے۔

مسلمانوں کا حال کیا ہے؟ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اس وقت انگلستان میں تین لاکھ مسلمان ہیں۔ صرف پیرس میں پانچ لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ بحیثیت مجموعی اس وقت فرانس میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔صرف پیرس شہر میں پانچ لاکھ مسلمان ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یورپین ممالک میں تو ہمارے حلال کھانے کا حصول بڑا مشکل ہے۔ ہم کیسے کھانا کھائیں؟ ہمارے لیے اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ ہم مشینوں کے کٹے ہوئے ذبیحہ کو کھائیں۔ حلال ذبیحہ ہمیں کہاں میسر ہے۔ نتیجہ کیا ہوا کہ علماے کرام بالخصوص مصر اور شام کے علماے کرام نے بے تکلف فتویٰ دے دیا کہ خدا کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، مشینوں سے ذبح ہو یا ہاتھ سے ذبح ہو، مسلمان ذبح کرے یا غیرمسلم ذبح کرے، کھائو۔

یہ وہ صورتِ حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے وارننگ دی تھی کہ اب تمھارے لیے خوف کا کوئی مقام نہیں ہے۔ اب اگر تم نے میرے احکام کی تعمیل کرنے مین کوئی تعامل کیا تو پھر ڈرو مجھ سے۔ دوسرے الفاظ میں دنیا میں بھی میرے عذاب سے ڈرو اور آخر ت میں بھی میرے عذاب سے ڈرو۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(۵:۳) آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمھارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا۔

یہ ’آج‘ بھی اسی معنی میں ہے جو میں نے پہلے کیا تھا۔ اس سے مراد کوئی خاص دن نہیں ہے بلکہ تاریخ کا خاص مرحلہ اور ایک خاص دور ہے۔

یہ بھی سمجھ لیجیے کہ یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی ہے۔ ایک مرتبہ اس سورہ کے نزول کے وقت نازل ہوئی اور دوسرا اس موقع پر جب ۱۰ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کام مکمل ہوگیا۔ تو اس موقع  پر یہ نازل ہوئی تھی۔ یہ وقت تھا جب آپؐ آخری حج کر کے مکہ معظمہ سے واپس جارہے تھے۔ صلح حدیبیہ کے بعد لوگوں کی سمجھ میں بات پوری طرح سے نہیں آئی تھی کہ کیا کہا جا ہا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن پوری طرح سے اپنی تکمیل کو پہنچ گیا اور اندھوں کو بھی نظر آنے لگا کہ اب آپؐ کا مشن تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ اس وقت اس آیت کو پھر دہرایا گیا کہ یہ وہ دور ہے جب اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا۔

دین کو مکمل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تم کو دنیا میں جس جس چیز کی ہدایت کی ضرورت تھی وہ پوری کی پوری ہدایت دے دی گئی ہے۔ جہاں مفصل قوانین بتانے کی ضرورت تھی وہاں مفصل قوانین بتادیے گئے ہیں، جہاں اصول دینے کی ضرورت تھی وہاں اصول دے دیے گئے۔ بہرحال اب تمھارا دین مکمل ہوگیا ہے۔

وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ(۵:۳) اور میں اپنی نعمت تم پر تمام کردی۔

اتمامِ نعمت کے دونوں معنی ہیں: ہدایت کی نعمت بھی تمام کردی، اور تم کو وہ اقتدار بھی بخش دیا جس سے تم میرے احکام کی تعمیل خود کرسکو اور دنیا میں میرے احکام کو نافذ کرسکو۔ اس میں دونوں نعمتیں ہیں، یعنی نعمت ِ ہدایت کی تکمیل بھی، اور اس نعمت کی تکمیل بھی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مغلوب نہیں رہنے دیا۔ مسلمانوں کو وہ طاقت عطا فرما دی کہ جس سے ان کو اس حالت سے نکال دیا کہ جس سے وہ اس کے احکام کی تعمیل کرنا چاہتے بھی تو نہیں کرسکتے تھے، اور اس حالت کو پہنچا دیا جس میں وہ اس کے احکام کی تعمیل پوری طرح سے کرسکتے تھے اور دنیا میں اس کے احکام کو نافذ کرنے اور اس کے احکام کو غالب کرنے کے لیے جہاد کرسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ طاقت عطا کر دی تب فرمایا کہ میں نے تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا۔

فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (۵:۳) پھر اگر کوئی شخص مضطر ہو، مخصمے کی حالت میں ہو، بغیر اس کے کہ وہ گناہ کی طرف مائل ہو، تو اللہ غفور و رحیم ہے۔

معلوم ہوا کہ جو چار چیزیں اُوپر بیان کی گئی ہیں، یعنی مُردار، خون، لحم، خنزیر اور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، یا جو اللہ کے نام کے بغیر کسی استھان پر ذبح کیا گیا ہو۔ ان چاروں چیزوں کو جو چیز حلال کرنے والی ہے تو وہ وہ حالت ہے جس میں اضطرار لاحق ہو، مخمصے کی حالت ہو، اور آدمی گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔ اس صورت میں ان میں سے کوئی ایک چیز اگر آدمی استعمال کرے تو پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو قطعی طور پر حرام ہیں، کسی حالت میں ان میں اباحت کی گنجایش نہیں نکلتی، جیسے زنا۔ کسی حالت میں اس کے جواز کی کوئی گنجایش نہیں نکلتی۔ کسی حالت میں وہ مباح نہیں ہے۔

بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اضطرار کی حالت لاحق ہوجائے تو اس صورت میں ان کی حُرمت میں اباحت ہے۔ حُرمت کا حکم باقی رہے گا لیکن اضطرار کی وجہ سے عارضی طور پر وہ حُرمت ختم ہوجائے گی اور وہ مباح ہوجائے گی جب تک کہ وہ حالت باقی ہے۔ اضطرار اگر لاحق نہ ہو تو حرام چیز کی طرف جانے والا سخت گناہ گار ہے کیوں کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہوا ہے۔

اضطرار کی حالت میں اگر وہ کوئی حرام چیز کھائے تو اس کے ساتھ شرط کیا ہے؟ فِیْ مَخْمَصَۃٍ ،یعنی ایسا سخت اضطرار ہے کہ جس میں آدمی کے لیے صبر کرنا اور برداشت کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کی جان کو خطرہ ہو۔ کوئی ایسی شدید تکلیف ہو کہ وہ برداشت سے باہر ہے۔ اور اس تکلیف کو رفع کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ حرام شے کو استعمال کیا جائے۔ اس صورت میں آدمی جس قدر ضرورت ہو اس کو استعمال کرسکتا ہے۔

یہاں غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ کی شرط لگائی گئی، یعنی یہ کہ اس وقت بھی آدمی کا دل گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔ آدمی یہ خیال نہ کرے کہ چلو اچھا ہوا پانی نہیں مل رہا ہے، سخت پیاس کی حالت ہے، اب اس وقت موقع تو ملا ہے ذرا شراب چکھنے کا۔ اگریہ جذبہ پیدا ہوگیا تو وہ چیز حرام ہوگئی کیونکہ آدمی گناہ کی طرف مائل ہوگیا۔ اس سے نفرت باقی رہے، آدمی اس کو گناہ سمجھتا رہے کہ یہ حرام ہے، اور یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اجازت دی ہے مجبوراً اس اجازت سے فائدہ اُٹھا رہا ہوں ورنہ ہے تو حرام۔ لیکن گناہ کی طرف اگر مائل ہے تو پھر اجازت نہیں۔ مثلاً ایک آدمی کو شدید بھوک لاحق ہوگئی اور اس کو کوئی چیز کھانے کے لیے نہیں مل رہی سواے سور کے گوشت کے۔ اب اس صورت میں وہ اتنا کھائے گا جتنا اس کی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ نہیں کرے گا کہ ……… سور کا گوشت اچھی طرح سے حاصل کیا۔ اس کے کچھ کباب بنائے، کچھ شامی کباب بنائے، اس کے ساتھ کچھ پراٹھے تیار کرنے کی فکر کرے اور یہ سوچے کہ ان کے ساتھ کھائوں۔    یہ جائز نہیں ہے۔ گناہ کی طرف اس کی ذرہ برابر رغبت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ یہ سمجھے کہ یہ حرام چیز ہے اور مجبوراً اسے کھا رہا ہوں۔

اب اگر ان میں سے کوئی چیز آدمی بغیر کسی اضطرار کے استعمال کرتا ہے، خود انتخاب کرتا ہے کہ میں اب ایسے طریقے سے ذبیحہ کروں گا جس میں تزکیہ نہ ہو، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی اضطرار لاحق نہیں ہے، کوئی مخمصہ لاحق نہیں ہے، صرف گناہ کی طرف جانے کا جذبہ باقی رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور جذبہ نہیں ہے۔ ورنہ ایک آدمی ہزار مرتبہ سوچے گا کہ میں اگر کوئی ایسا کام کررہا ہوں جس کے اندر حرام ہونے کا امکان ہو کجا کہ حرام ہونے کا یقین ہو، تو وہ کبھی نہ کرے گا۔

اگر کوئی شخص یا حکمران حلال و حرام کے اتنے واضح احکامات کے بعد بھی حرام کے ارتکاب کی کوشش کرتا ہے۔ اب تو ہم انگریز یا ہندو سے مغلوب نہیں ہیں۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں غلبہ  عطا کردیا ہے۔ اب تو ہمیں وہ طاقت اور وسائل دے دیے ہیں کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ اب تو ہمیں دنیا میں اللہ کے احکامات کے نفاذ اور اللہ کے دین کے غلبے کے لیے جہاد کرنا چاہیے نہ کہ ہم حرام کو حلال کرنے کے لیے بہانے تلاش کرتے پھریں۔مضبوط دلائل تو موجود ہیں۔

ایسی صورت میں کسی آدمی کا یہ تلاش کرتے پھرنا کہ فلاں چیز کو کسی نہ کسی طرح حلال کرلیا جائے۔ یہ اس آدمی کا کام ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندشوں سے نکل بھاگنے کی سوچ رہا ہو۔ اس شخص کا کام نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ہو۔

اب اگر وہ دنیا کو دیکھ دیکھ کر اور ان سے متاثر ہوکر احکام الٰہی میں ترمیم کرنے لگیں اور احکامِ الٰہی کی پابندی نہ کریں تو پھر اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا ہے کہ اس کے بعد وہ دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے اور آخرت میں بھی خدا کے عذاب کا سامنا کریں گے۔ لہٰذا اب تمھارے پاس کوئی عذر باقی نہیں ہے۔ دانش مندی اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ دنیاوالوں سے ڈرنے کے بجاے اللہ سے ڈرو۔ مسلمانوں کی عظمت و سربلندی اور غلبہ دین کی راہ بھی یہی ہے۔