ستمبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

’اوکسفرڈ اِنسائی کلو پیڈیا آف اسلام اینڈ پالیٹکس‘

ڈاکٹر انیس احمد | ستمبر ۲۰۱۶ | مطالعہ کتاب

 ترجمہ: احمد حاطب صدیقی

 مغرب میںاسلام اور مسلمانوں سے علمی دل چسپی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مستشرقین، مؤرخین، ماہرین علوم انسانی اور ماہرین عمرانیات ڈیڑھ سو سال سے زائدمدت سے دنیا کے مختلف خطوں کے اسلامی معاشروں کے اندرونی محرکات کا فہم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔البتہ کچھ حالیہ بلکہ نا خوش گوار واقعات نے اہل مغرب کومسلم ذہن پر ایک تازہ نظر ڈالنے   اور مسلم دُنیا میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے عمل سے اسلامی روایات کا تعلق دریافت کرنے کی ضرورت اور طلب میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔

برطانیہ اور یورپ میں ’اسلامو فوبیا‘ کے ظہور کے بعد سے اور امریکا میں ’دہشت گردی کا خبط‘ پیدا ہوجانے کے نتیجے میں ریڈیکل اسلام (انقلابی اسلام)، خانہ ساز دہشت گرد،مسلم بنیاد پرست، قدامت پسند سلفی اورجہادیوں جیسے موضوعات پر تصنیفات کا ایک سیلاب اُمڈ آیاہے۔ اس امر کی حقیقی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ نہ صرف مسلم دنیاکی تازہ ترین تبدیلیوں پر، بلکہ اسلام اور سیاست، اسلام اور خواتین اور اسلام اور سماجی تغیرات وغیرہ کے باہمی تعلق پر بھی علمی، معروضی اور مستند مآخذ سے استفادہ کرتے ہوئے کام کیا جائے۔

 دو جلدوں پر مشتمل زیر نظر تحقیقی کام’اسلام اور سیاست‘ جس میں ۴۱۲ مقالات ہیں، اس ضرورت کی تکمیل کی طرف ایک سنجیدہ کوشش ہے۔اس میں ۲۰۰ سے زائدمقالات نئے ہیں،جب کہ بقیہ تمام مقالات اوکسفرڈ انسائی کلو پیڈیا آف دی اسلامک ورلڈ ۲۰۰۹ء (مدیر:جان ایل ایسپوزیٹو) سے ماخوذ ہیں، جن پر مزید تنقیح کرکے انکی ترتیب نو کی گئی ہے۔مدیر اعلیٰ عماد الدین شاہین نے تمام معلومات کو جس پُرمعنی انداز سے باہم مربوط کرنے کابھاری بھرکم اور کٹھن کام کیا ہے اس پر  وہ داد وتحسین کے مستحق ہیں۔

مضمون نگاروں میں مغربی اور مسلم دُنیا کے معروف محققین شامل ہیں۔اس قسم کے منصوبوں میں جس بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی ایسے صاحبِ علم کو تلاش کیا جائے جو مطلوبہ معلومات تک راست رسائی رکھتا ہو۔ مستشرقین کا ایک بڑا کمال یہ رہاہے کہ وہ اپنے زیرتحقیق افراد کی زبان و تہذیب کا علم رکھتے تھے۔ آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں پر کیے جانے والے جدید علمی کاموں میں بالعموم اس بنیادی شرط کا فقدان پایا جاتاہے۔حتیٰ کہ اِس قابل توجہ کاوش میں بھی بیش تر انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں ہی کے مآخذ پرانحصار کیا گیا ہے۔ صرف چند مصنّفین نے اُردو، عربی، فارسی،ملائی، انڈونیشی، ترکی، سواحلی اور مسلم دنیا کی دیگر زبانوں میں پائے جانے والے اصل مآخذ پر نظر ڈالی ہے۔ یہ پہلوخاص توجہ کا مستحق ہے۔ اِس مفید کام کی آیندہ طباعتوں کی تیاری کے وقت،اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

موضوعات کا تنوع باعث دل چسپی ہے اورنظریات کے وسیع سلسلے کا احاطہ کرتاہے۔   چند روایتی موضوعات، مثلاً خلافت، فقہ، اُصولِ فقہ، اجتہاد اورمتعدد جدید مسائل، جیسے اقتدار اور قانونی جواز، آئین اور اُصولِ آئین،تعلیم، حکمرانی،علم کی اسلامی تشکیل اور القاعدہ جیسے موضوعات پر ان دونوں جلدوں میں پیش کیا جانے والا تحقیقی کام اہلِ مغرب کے لیے ایک حوالہ بن گیا ہے، اور اس کا مطالعہ اسلام اور موجودہ اسلامی دنیا کا علم حاصل کرنے والے ہر مغربی طالب علم کے لیے مفید ہے۔ گو، مضامین عموماً اسلام اور سیاست ہی کے گرد گھومتے ہیں۔

انسانی کوشش ہونے کے سبب ہرانسانی کام کی طرح اس تحقیقی کام میں بھی مزید بہتری اورتازہ ترین معلومات شامل کرنے کی گنجایش موجود ہے۔ بے شمار اعلیٰ درجے کی تصنیفات میں بھی تحقیقِ مزیدکا دریچہ کھلا رکھا جاتا رہا ہے۔ چناں چہ چند ایسے گوشے نشان دہی کے لایق ہیں، جن میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

پہلے خلیفۂ راشد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہٗ(م: ۶۳۴ئ) پر مضمون میں’رِدّہ‘(ارتداد) کو ’سیاسی بغاوت‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے (جلد:۱، ص:۱۶)۔ لفظ’رِدّہ‘ایک دینی اصطلاح ہے، سیاسی نہیں۔اس کا سادہ مطلب ہے مرتد ہو جانا،یعنی کچھ قبائل کی طرف سے اسلام کے پانچ  بنیادی عقاید میں سے ایک کا انکار کر دینا۔ زکوٰۃ دینے سے انکار کردینا جو فرض ہے، اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ستون اور عبادت ہے۔ عبادت کو مسئلہ کہنا نفس مضمون سے گمراہ کن حد تک ناواقفیت کا نتیجہ ہے ۔

احمدیت پر مضمون اگرچہ خوش اسلوبی سے لکھا گیا ہے، مگر نقائص اور سنگین اغلاط نے اس کا ناس مار دیا ہے۔مصنف کی یہ حجت کہ یہ معاملہ …’احمدیت اور سوادِ اعظم کے سنی اسلام کے مابین تنازع‘ … تھا، یا …’مذہبی مقتدرین سے تنازع‘… تھا(ص ۵۰-۵۱)۔ یا علماے دین سے تنازع تھا___ حقیقی صورتِ حال کی عکاسی نہیں کرتا۔

 یہ بھی درست نہیں کہ …’’تنازع میں اشتعال انگیزی اس حقیقت کا نتیجہ تھی کہ علما نے احمدیت کی مخالفت میں محمد[صلی اللہ علیہ وسلّم] کے ناموس کے جذباتی مسئلے پر ساری توجہ مرکوز کردی‘‘(ص۵۱)۔مزید برآں یہ تبصرہ بھی گمراہ کن اور بعید از حقیقت ہے کہ …’’احمدیت اُن علما سے تصادُم پر مجبور تھی، جو محسوس کرنے لگے تھے کہ اسلام کے متولی کی حیثیت سے اوراسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کے شارح و ترجمان کی حیثیت سے انھیں جو مقام اور منصب حاصل ہے اُس کی جڑیں کھودی جارہی ہیں‘‘-(ص۵۱)

حقیقت میںتنازع احمدیت اور ’سنی سوادِ اعظم کے اسلام‘ میں نہیں ہے، جیسا کہ خیال ظاہر کیا گیا ہے۔احمدیت کو اسلام کے تمام مکاتب فکر شیعہ، سنی ، سلفی، ہر ایک دائرۂ اسلام سے خارج تسلیم کرتا ہے۔ اس کی وجہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کی ختم نبوت کے معاملے میں احمدیوںکا ایسامؤقف ہے۔یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام مسلم علما اور پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے۔    دعواے نبوت کرنے والا ، خواہ اس کے دعوے کی کوئی بھی شکل ہواور ایسے کسی شخص کے دعوے کی تصدیق کرنے والا،خواہ وہ کوئی بھی ہو، خود بخود دائرئہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس مسئلے کا تعلق نہ کبھی علماکے کردار سے رہا ہے، نہ اس میں کسی ایک آیت یا کسی حکم کی تعبیر و تشریح کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہ موقف مسلم اُمہ کا غیر مبہم اجماعی مؤقف ہے اور متفق علیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی  ۱۰۰فی صد مسلم آبادی احمدیوں کو مسلمان تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔

اپنے طور پر وہ جو بھی تعبیر پیش کرتے ہوںاس سے سنیوں یا شیعوں کی قانونی تعبیر پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شاید اس پہلو کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے کہ خود احمدی اُس ۱۰۰فی صدمسلم آبادی کے متعلق، جو دنیا بھر میں ۶ئ۱؍ارب سے زائد ہے، کیا نقطۂ نگاہ رکھتے ہیں؟احمدیت کے حقیقی نمایندے، یعنی اُن کے خلیفہ سے پاکستان کی پارلیمان میں سوال کیا گیا کہ احمدیوں کے نزدیک غیر احمدی کیا ہیں؟ اُس کا جواب بڑا سادہ ساتھا: ’غیر مسلم‘۔ بہ الفاظ دیگر احمدیوں کو اسلام کا ایک ’فرقہ‘ کہنا  اس لیے مضحکہ خیز بات ہے کہ وہ دنیا کی پوری غیر احمدی آبادی کو جس میں دنیاکے تمام مسلمان شامل ہیں’غیر مسلم‘ گردانتے ہیں۔احمدیوں کے نزدیک پوری مسلم اُمہ ہی ’غیر مسلم‘ ہے۔انھیں امت مسلمہ کا ایک ’فرقہ‘ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟

یہ بات بھی صاف طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ علما کی بالادستی کبھی اصل مسئلہ نہیں رہی ۔ یہ بنیادی مسئلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی ختم نبوت پر ایمان کا مسئلہ ہے اور اصل تنازع مرزا غلام احمد کا یہ باطل دعویٰ ہے کہ وہ مسیح ہے، مصلح ہے اور غیر قانون ساز (غیر تشریعی) نبی ہے، جس کی بنا پر   مرزا نے جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان دو بنیادی مختلف فیہ عقاید کے سبب دنیا بھر کے تمام شیعہ اور سنی علما نے احمدیت کو ایک نیا مذہب قراردیا جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

دیوبند تحریک پر مضمون (جلد اوّل، ص:۲۶۱-۲۶۴) میں اس تعلیمی تحریک اور مسلک کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے …’’برصغیر کے علما کے مسالک میں سے ایک بڑا مسلک جو دیگر فرقہ وارانہ مسالک شیعہ، احمدی،جماعت اسلامی،علی گڑھ اوردوسرے معتدل حریف سنی گروہوں، مثلاً بریلوی (اہل سنت و الجماعت) اور اہل حدیث سمیت متعدد مسالک کی صف میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے‘‘ (ص:۲۶۲)۔یہاں ’مسلکی تقسیم‘ کی اصطلاح نے بات کو الجھا دیا ہے اور مسالک اور غیراسلام میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں وہ بھی شامل کر دیے گئے ہیںجو اپنے آپ کو’فرقہ‘ قرار دیتے ہیں نہ انھیں ’فرقہ‘ کہا جاسکتا ہے۔علی گڑھ سے مراد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ہے جو ایک تعلیمی ادارہ ہے، مسلک نہیں۔جماعت اسلامی ایک سماجی-سیاسی تحریکِ احیاے دین ہے۔ اس  میں شمولیت کے دروازے تمام مسالک پرکھلے ہوئے ہیں اوراس کے ارکان میں مختلف مسالک کے لوگ شامل ہیں۔یہ جماعت کسی خاص مسلک سے وابستہ ہے نہ اس کا اپنا کوئی فقہی مسلک ہے۔دوسری طرف احمدیت کوئی مسلک یا فرقہ نہیں ہے۔ یہ ایک مذہب ہے جس کا اپنا الگ پیغمبر ہے اور اس کے الگ پیروکار ہیںجو اسے ایک علاحدہ مذہب اور ایک جداگانہ اُمت بناتے ہیں۔یہ غلط مبحث مقالات کے علمی مقام کو بہت گرا دیتا ہے۔

جماعت اسلامی پر مضمون (جلد اوّل، ص۶۲۷- ۶۲۹) میں اس جماعت کی تاریخ کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، مصنف نے کسی ایک بھی اصل اُردو ماخذ کا حوالہ نہیں دیا۔ مزیدبرآںمصنف کے کچھ بیانات متضاد ہیںاور کچھ بے بنیاد۔مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ: ’’پاکستانی حکام نے جماعت پر بھارت نواز جذبات رکھنے اور پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا‘‘(ص۶۲۷)۔ ایک نام نہاد اعلیٰ تعلیمی ادارے کے اشاعتی مرکز سے طبع ہونے والے دائرۃ المعارف میں یہ بے بنیاد الزام، اور ایک نیک نام تحریک کو بدنام کرنے والے غیر مصدقہ بیان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی ۱۹۴۱ء میں اپنی ابتدا ہی سے ایک نظریاتی تحریک کے طور پر کام کر رہی ہے اوراس نے برطانوی حکومت کے دور میں سیاست میں حصہ نہیں لیا۔پاکستان میں جب ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد منظور کر لی گئی تو جماعت نے ایک دینی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اپنی تنظیم نو کی، فرقہ وارانہ فکر سے اس کی وابستگی کبھی نہیں رہی۔ برعظیم پاک و ہند کے باقی حصوں میں جماعت اسلامی کے نام سے چار قطعاً آزاد جماعتیں بھارت، بنگلہ دیش،نیپال اور  سری لنکا میں کام کر رہی ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک کا اپنا الگ الگ دستور ہے، علاحدہ قیادت ہے، اور جداگانہ نظریاتی، سماجی اور معاشی لائحہ عمل ہے۔

لشکر جہاد پر مضمون(جلد دوم، ص ۱)ہمیں قیمتی معلومات فراہم کرتاہے، اگرچہ درست املا Laskar Jihad نہیں Lashkar-i-Jihad  ہے۔ مصنف اس کے بانی جعفر عمر طالب کے حوالے سے کہتا ہے:’’اس کی تعلیم سلفی/ وہابی فکر رکھنے والے تعلیمی ادارے میں ہوئی ۔پھراس نے سید مودودی انسٹیٹیوٹ لاہور، پاکستان جاکراپنی تعلیم جاری رکھی جہاں سلفی فکر سے اُس کی وابستگی برقرار رہی‘‘(جلد دوم، ص ۱)۔مضمون نگار نے ان دو متضاد باتوں کو خلط ملط کرکے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سنگین غلطی کی ہے۔ سلفی مکتبۂ فکرمحمد بن عبدالوہاب کے افکار پر مبنی ایک مذہبی اور عملی تشکیل ہے۔سید مودودی انسٹی ٹیوٹ، لاہور کا کسی طرح سے بھی اس مکتبۂ فکر سے کوئی تعلق نہیں۔دونوں کو ایک دوسرے سے نتھی کرنا بالکل گمراہ کن ہے۔

ایک اور سازشی قسم کا تضاد مولانا مودودی پر مضمون (جلد دوم، ص:۴۳-۴۷) میں پایا جاتا ہے۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ: ’’مودودی کا مجددانہ مؤقف جامد فرقہ واریت تھا۔ مسلمانوں کے حقوق پر زور دیتا تھا،ان کی سلامتی اور ترقی کے لیے لائحہ عمل تجویز کرتا تھا، اوراسلام کو خالص رکھنے کے مفاد میں ہندوؤں سے ہرقسم کے تہذیبی، سماجی اور سیاسی تعلقات کے مقاطعہ کا مطالبہ کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ہندستانی مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ تہذیبی وطن کی وکالت بھی وہ بہت بڑھ چڑھ کر کرتا رہا‘‘۔(جلد دوم،ص۴۵، خط کشیدگی از مبصر)

اس بیان کے بعد اسی مضمون میںاس امر کی نشان دہی بھی کی گئی ہے کہ:’’جلد ہی اُسے ریاست کے دشمن کی حیثیت سے شناخت کر لیا گیا۔ اُس پر پاکستان کی مخالفت کرنے کا اوربھارت کا تخریبی آلۂ کار ہونے کا الزام لگایا گیا‘‘(جلد دوم، ص ۴۶)۔ یہاں مولانا مودودی کے نقطۂ نظر کو خطرناک حدتک الجھاکر اورسراسر غلط پیش کیا گیا ہے۔ مولانا مودودی نے اس نظریے کی تشریح کی تھی کہ مسلمان اپنے عقیدے، اپنے دین اور اپنی ثقافت کی بنیاد پرایک قوم کی تشکیل کرتے ہیں۔علاحدہ وطن کا سوال اسی دینی اور ثقافتی شناخت کے تناظر میں اُٹھا تھاتاکہ ہندستان کے اُن خطوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انھیں سیاسی اقتدار حاصل ہو سکے۔ہندوؤں کے ساتھ سماجی و سیاسی تعلقات کا سوال اصل مسئلہ ہی نہیں تھا،کیوں کہ یہ دونوں فریق بڑے دوستانہ اور  پُرامن طریقے سے ایک ہزار سال تک مسلم دورِ حکمرانی میں دو جداگانہ تہذیبی دھاروں کی حیثیت سے ساتھ رہ چکے تھے، اور توقع تھی کہ دو آزاد ریاستوں کی حیثیت سے بھی پُرامن بقاے باہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے ساتھ رہیں گے۔ بدقسمتی سے مصنف اصل صورتِ حال کو اس کے درست ، نظریاتی اور تاریخی پس منظرمیں پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس مضمون کے تضادات کو دیکھ کر اس کا قاری الجھ کر رہ جانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں جماعت اسلامی کی حیثیت کو بھی درست طریقے سے پیش نہیں کیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی ایک دینی تحریک ہونے کے سبب سیاسی جماعت ہے۔ملک کی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی نمایندگی ہے اوراس کے ارکان وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اہم وزارتی مناصب پر فائز رہے ہیں۔

پاکستان پر مضمون (جلد دوم، ص: ۲۲۵-۲۳۲) میں ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۹ء تک پاکستان میں ہونے والی سیاسی پیش رفت کا ایک جائزہ لیا گیا ہے۔تاہم، یہ موضوع مزید عمیق تجزیہ پیش کرنے کا متقاضی تھا۔اس میں اُن اسباب پر روشنی ڈالنے کی ضرورت تھی، جنھوں نے برعظیم کے مسلمانوں کو اقبال اور قائد اعظم کے تصورات سے تحریک حاصل کرکے قیام پاکستان کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا۔پاکستان کی انفرادیت اس دعوے میں مضمر ہے کہ یہ ملک ایک ایسے نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، جس نے قومیت کا ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ اس تصور قومیت کی بنیاد دین اور ملت اسلامیہ کے تصور پر ہے ،یہ محض کسی خطۂ ارضی پر نہیں بلکہ نظریے اور اجتماعیت پر،رنگ، نسل،اور زبان کا امتیاز کیے بغیر تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر ہے۔

پاکستان میں رہنے والے چھوٹے فرقوں کا حوالہ دیتے ہوئے مصنف نے اسماعیلیوں کا ذکر کیا ہے… ’جو اثناعشری فرقے کا ایک ذیلی فرقہ ہیں‘ (جلد دوم، ص:۲۲۵)۔ان معلومات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔اسماعیلی اپنا روحانی تعلق امام جعفر کے بعد امام اسماعیل سے جوڑتے ہیں،جب کہ ۱۲؍ اماموں کو ماننے والے یا اثناعشری یہ پختہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام موسیٰ الکاظم    بن جعفر الصادق امامت کے جائز حق دار ہیںاور اُن کی پیروی اُس وقت تک کی جاتی رہے گی جب تک کہ بارھویں امام محمد (قائم آلِ محمدؐ) کا انتظار باقی ہے۔ (دیکھیے: محمد بن عبدالکریم شہرستانی، کتاب الملل و النحل، ترجمہ:A.K.  Kazi and J.G. Flynn, London, Kegan Paul International, 1984, pp.144-145)۔ اسماعیلی اور اثناعشری دو علاحدہ وجود ہیں اور  اوّل الذکرکواثنا عشریوں کا ذیلی فرقہ نہیں کہا جاسکتا۔

دو جلدوں پر مشتمل یہ تحقیقی کام مسلم دنیا پر عصری محققین کے سیاسی جائزوں پر مبنی معلومات کا  ایک ذخیرہ ہے لیکن واضح طور پر مضامین مغربی زاویۂ نظر کی نمایندگی کرتے ہیں ۔مصنّفین نے بیش تر مغربی ذرائع علم پر بھروسا کیا ہے،جب کہ ان موضوعات پر عربی ،فارسی، ترکی،اُردو اور دیگر مسلم زبانوں میں اعلیٰ تصنیفات موجود ہیں۔

(اوکسفرڈ انسائی کلوپیڈیا آف اسلام اینڈ پالیٹکس، مدیر اعلیٰ: عماد الدین شاہین۔ ناشر: اوکسفرڈ، اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۲۰۱۴ئ۔ صفحات: جلد اوّل: ۷۱۴،جلد دوم:۶۹۵۔)