ستمبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

’مقبوضہ‘ بنگلہ دیش میں انسانیت کی تذلیل

سلیم منصورخالد | ستمبر ۲۰۱۶ | مقالہ خصوصی

’’کیا بنگلہ دیش ایک آزاد مسلم ریاست ہے؟‘‘ اس اہم سوال کا جواب قدم قدم پر نفی میںملتا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کے انسانیت سوز اقدامات سے ہر آن یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ بنگلہ دیش، بھارت کی ایک مقبوضہ ریاست کی سی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر پر حکمران محبوبہ مفتی ہے تو بنگلہ دیش کی حاکم حسینہ واجد ہے۔ دونوں جگہوں پر مسلمانوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والی ان حکومتوں کی سرپرست نئی دہلی سرکار ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو لوگوں کو براہِ راست بھارتی کنٹرول نظر آتا ہے، تاہم ہر آنے والا دن اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی و خودمختاری بھی ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی کہ جہاں ہروہ معاہدہ اور ہر وہ حکم مانا اور نافذ کیا جا رہا ہے، جو نئی دہلی حکومت کے نزدیک ’بھارتی سلامتی‘ کا ضامن ہے۔ اس تناظر میں کون کہتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک آزاد، جمہوری، مسلم ریاست ہے؟

اس مضمون میں بنگلہ دیش کی افسوس ناک اور ناقابلِ بیان صورت حال مختلف حوالوں سے پیش کی جارہی ہے، جس سے کسی حد تک معروضی حالات کا اندازہ لگانا ممکن ہو سکے گا۔

دینی امور میں مداخلت

حسینہ واجد حکومت نے بنگلہ دیش کی مساجد سے لائوڈ اسپیکر سے اذان دینے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’صرف مسجد کے اندر ہی اذان دی جائے، کیونکہ اس سے معاشرتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے‘‘۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی نے اس حکم کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’اس جاہلانہ قدم کا تعلق لوگوں کی نہیں بلکہ حسینہ کی سلامتی سے ہے۔ ملک میں نہ صرف یہ کہ مسلمان، حکومتی وحشت کا شکار ہیں بلکہ خود ہندو بھی اس کی یک جماعتی آمریت سے عاجز ہیں، جس میں اسٹوڈنٹس لیگ کی غنڈا گردی عروج پر ہے‘‘۔ (۲۹جون کے بنگلہ دیشی اخبارات)

پھر ۱۳ روز بعدحسینہ واجد حکومت نے طے کیا کہ: ’’۱۵جولائی۲۰۱۶ء سے تمام مساجد میں خطباتِ جمعہ اور دروس قرآن کی محفلوں کے وعظوں کو مانیٹر کیا جائے گا۔ اسلامک فائونڈیشن بنگلہ دیش کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کی ۲ لاکھ ۵۰ہزار مساجد میں نمازِ جمعہ کے خطبات دیے جاتے ہیں۔ اسلامک فائونڈیشن کے ڈائریکٹر صمیم افضل نے کہا کہ ہمارے ۷۰ہزار کارکن ان خطبوں کا ریکارڈ رکھا کریں گے،جب کہ حکومتی وزیر امیر حسین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں خطبوں کی نگرانی اور رپورٹنگ کے لیے ہم جن لوگوں کی مدد لیں گے، ان میں سماجی کارکن اور سیاسی پارٹیوں کے کارندے شامل ہوں گے‘‘۔ (ڈیلی اتفاق، ۱۳جولائی۲۰۱۶ئ)

جماعت اسلامی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمن نے عوامی لیگی کابینہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ: ’’حکومت عام لوگوں کے مذہبی حقوق پر ڈاکا زنی پر اتر آئی ہے، اور نام نہاد سماجی و سیاسی کارکنوں کی مدد سے ایک بدترین آمریت قائم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جسے قوم کا کوئی بھی باشعور فرد برداشت نہیں کرے گا‘‘۔ (بی ڈی جماعت ویب، ۱۳جولائی)

رائٹر نیوز ایجنسی کے مطابق: ۱۰ نقاب پوشوں کے گروپ نے ضلع چواڈانگا میں عبادت گزار آٹھ مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کے سر اور داڑھی کے بال کاٹ دیے۔ غالباً ان نقاب پوشوں کا تعلق آزاد خیال اور لبرل عناصر سے ہے‘‘۔ (رائٹر، ۳۱جولائی۲۰۱۶ئ)، جب کہ جماعت اسلامی اور  بی این پی کے ذرائع کو یقین ہے کہ ان دہشت گردوں میں اسٹوڈنٹس لیگ کے کارکن شامل تھے۔

حکومتی پارٹی عوامی لیگ کی حمایت یافتہ اسٹوڈنٹس لیگ کے ظلم و تشدد کی داستانیں تو ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں، تاہم انھوںنے ایک قدم آگے بڑھ کر ڈھاکا یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عارفین صدیقی کو ان کے گھر میں قید کرکے مرکزی دروازے پر تالہ ڈال دیا اور گھیراائو کرکے زبردستی استعفا لکھنے کے لیے دبائو ڈالا اور ہاتھوں میں جوتے اٹھا کر وائس چانسلر کے خلاف نعرے بلند کیے۔ ان کا جرم یہ بتایا گیا کہ یونی ورسٹی کے سووینیر میں صدر ضیاء الرحمن کو بنگلہ دیش کا پہلا صدر لکھ دیا گیا تھا۔ یہ گھیرائو پانچ گھنٹے تک جاری رہا (بی ڈی نیوز۲۴، ۲جولائی۲۰۱۶ئ)۔ یہ لوگ جب کسی استاد کا احترام کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، تو ان کے نزدیک کسی مخالف کے لیے کیا جذبۂ ہمدردی ہوسکتا ہے!

جماعت اسلامی کو نظر انداز کرنے کی مھم

جماعت اسلامی کو گھیرنے کے لیے بھارتی لابی کس کس انداز سے کام کر رہی ہے، اس کا اندازہ ان مختلف کوششوں سے لگایا جا سکتا ہے، جن کے زور سے بی این پی کو دھکیلا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر خالدہ ضیا کی پارٹی کے لیڈر ظفراللہ چودھری نے ایک کانفرنس کے دوران میں اپنی سربراہ سے کہا کہ: ’’جماعت اسلامی کو وہ سیاسی پارٹیوں کے اتحاد سے نکال دیں‘‘ مگر خالدہ ضیا نے جوابی تقریر میں اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ملک کو محفوظ بنانے اور قانون کی حکمرانی لانے کے لیے ہم اور جماعت اسلامی مل کر جدوجہد کریں گے‘‘۔ (بی ڈی نیوز،۲۴  کام، ۲جولائی۲۰۱۶ئ)

اس کے چند روز بعد بی این پی کے حامی انجینیروں اور ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے خالدہ ضیا سے مطالبہ کیا کہ: ’’۱۹۷۱ء کے حوالے سے جماعت اسلامی قوم سے معافی مانگے تو اس کے ساتھ چلا جائے‘‘ (ڈیلی اسٹار، ۱۶؍جولائی)۔ دوسری جانب بی این پی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن حنان شاہ نے کہا: ’’بی این پی شدید دبائو میں ہے کہ وہ جماعت اسلامی کو اتحاد سے الگ کرے، مگر ہماری سربراہ کا موقف ہے کہ ہم قوم کو متحد رکھنا چاہتے ہیں، منتشر نہیں کرنا چاہتے‘‘ (ڈیلی اسٹار، ۱۶جولائی)۔ انھی حنان شاہ نے کہا: ’’جماعت اسلامی کی بطور سیاسی انتخابی پارٹی رجسٹریشن منسوخ ہو چکی ہے۔ عوامی لیگ نے گذشتہ بجٹ سیشن (جون) میںکہا تھا کہ وہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دیں گے، مگر ابھی تک کیوں پابندی نہیں لگائی گئی؟ حکومت ہم سے جماعت کی علیحدگی کی خواہش رکھنے کے بجاے، خود ہی اس پر پابندی عائد کرے‘‘۔ (یونائیٹڈ نیوز آف بنگلہ دیش UNB، ۳۱جولائی۲۰۱۶ئ)

بی ڈی نیوز کی خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’’خالدہ ضیا کو جماعت اسلامی سے الگ کرنے کے لیے بی این پی کے مؤثر افراد کا گروپ مسلسل کوشش کر رہا ہے، اور اب یوں لگتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی اور اس سے منسلک گروپوں کے تعاون کو حاصل کرنے کے لیے خالدہ ضیا مجبور ہوجائیں گی کہ جماعت کو ۲۰پارٹی اتحاد سے الگ کر دیا جائے‘‘ (بی ڈی نیوز۲۴، ۲۶جولائی)۔  بی این پی کے مرکزی دفتر میں امریکی، برطانوی، سعودی، ہسپانوی، ناروین، آسٹریلوی، جاپانی، انڈونیشی، جرمن اور اقوام متحدہ کے سفارت کاروںنے خالدہ ضیا سے ملاقات میں بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کے حوالے سے بریفنگ کے دوران سوال اٹھایا کہ: ’’آپ جماعت اسلامی سے اپنے  ربط و تعلق کہ وضاحت کریں؟‘‘ بیگم خالدہ ضیا نے جواب میں کہا کہ: ’’جماعت ایک اسلامی پارٹی ہے اور ہمارا ان سے اتحاد انتخابی تعاون، ملک میں جمہوری عمل اور عدل کی حکمرانی کی بحالی کے لیے ہے‘‘۔ (ڈیلی اسٹار،۲۸جولائی ۲۰۱۶ئ)

داخلی اور خارجی سطح پر بی این پی پر اس نوعیت دبائو کے باوجود: ’’بیگم خالدہ ضیا، جماعت اسلامی سے علیحدہ راستے اختیار کرنے میں مزاحمت کر رہی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ پارلیمنٹ کی ۱۰۰ سے زیادہ نشستوں پر وہ جماعت اسلامی ہی کے ووٹ بنک سے کامیاب ہو سکتی ہیں‘‘ (ڈیلی سٹار، ۱۷جولائی۲۰۱۶ئ)۔ مگر حکومتی ذرائع اور بھارتی اثرات کے تابع ایک لابی اس مقصد کے لیے بی این پی میںمسلسل متحرک ہے، جس کی ایک مثال درج ذیل واقعہ ہے:

بی این پی کے ایک لیڈر اور ڈھاکا یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر عمادالدین احمد نے یکم اگست کو بطور پارٹی ترجمان بیان دیا تھا: ’’ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ جماعت کو اتحاد سے الگ کر دیا جائے گا، کیونکہ ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے‘‘۔ اس سے اگلے روز جماعتِ اسلامی کے   مرکز نے بی این پی سے وضاحت طلب کی، جس پر، پارٹی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالم گیر نے کہا: ’’یہ ان کے ذاتی خیالات تھے۔ نہ وہ پارٹی کے ترجمان ہیں اور نہ یہ پارٹی کا موقف ہے۔    ہم قوم کو متحد کرنا چاہتے ہیں، تقسیم کرنا نہیں چاہتے، جماعت اسلامی اتحاد کا ایک اہم حصہ ہے اور رہے گا‘‘۔ (روزنامہ اتفاق، ڈھاکا، ۴؍اگست۲۰۱۶ئ)

یاد رہے کہ جماعت اسلامی اور بی این پی کا اتحاد حکومت کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس نے مشترکہ طور پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ: ’’حسینہ واجد حکومت، بھارت کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کو سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر اس سطح تک دھکیلنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے کہ جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش ’سکم‘ جیسے بے مایہ اور بے حیثیت ملک کی سطح پر آگرے گا۔    دنیا بھر کے ممالک بنگلہ دیش میں جمہوریت بحال کرنے کے لیے کسی نہ کسی درجے میں بات کررہے ہیں، مگر دنیا کے صرف دو ممالک بھارت اور روس نے آج تک یہاں جمہوریت کے تحفظ اور بحالی کا رسمی تذکرہ تک نہیں کیا‘‘۔ (روزنامہ نیا دگنتا ، ڈھاکا، ۱۲جولائی۲۰۱۶ئ)

ایک ماہ بعد بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ: ’’ہم نے بھارتی ریاستوں آسام، میگھالایا اور تری پورہ وغیرہ کو بھارت سے براہِ راست تیل اور مال برداری کی خاطر بنگلہ دیش کی سرزمین سے راہداری کی سہولت دے دی ہے‘‘ (انڈی پنڈنٹ، ۹؍اگست۲۰۱۶ئ)۔ اس پر بنگلہ دیش کے صحافتی، سیاسی اور دانش ور حلقوں نے احتجاج کیا کہ:’’ دوستی یک طرفہ مفادات کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اس معاہدے میں بنگلہ دیش کے مفادات کا خون کیا گیا ہے‘‘۔ مگر حکومت نے تمام سیاسی اور اخباری حلقوں کے احتجاج کو مسترد کردیا۔ (دی نیوایج، ۲۱؍اگست ۲۰۱۶ئ)

بیکری کا خونیں واقعہ

یکم جولائی کی رات ڈھاکا کی ایک بیکری میںکچھ مسلح حملہ آوروں نے گھس کر ۲۴؍افراد کو قتل کردیا، جوابی کارروائی میں چھے حملہ آور مارے گئے۔ مگر حکومت کی پراپیگنڈا مشینری نے فوراً اس واقعے میں جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر کو ملوث قرار دے دیا۔ بعدازاں بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے پاکستان کو بھی اس بہیمانہ واقعے کا ذمہ دار قرار دے ڈالا، لیکن ایک ہی روز بعد جب مارے جانے والے حملہ آوروں کی لاشوں کی شناخت کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایک حملہ آور رومین امتیاز، خود ڈھاکا عوامی لیگی لیڈر امتیاز خان بابل کا بیٹا ہے، جو داعش سے وابستہ تھا۔ (بی ڈی نیوز، ۴؍جولائی)۔ اس سب کے باوجود عوامی لیگی حکومت نے جماعت اسلامی کو مسلسل الزامی حملوں کا نشانہ بنائے رکھا، حالانکہ اس نوعیت کا کوئی اشارہ تک موجود نہیں پایا گیا۔ البتہ اس حکومتی آواز میں کشور گنج کے سرکاری مولوی فریدالدین مسعود نے آواز ملائی اور جماعت کو موردِ الزام قرار دیا۔  جس کی جماعت اسلامی کی قیادت نے سخت الفاظ میں مذمت کی (بی ڈی جماعت، ۱۱؍جولائی)۔ ازاں بعد ایک مہینہ گزرا تو اسلام آباد میں بنگلہ دیشی ہائی کمشنر طارق احسن نے کہا: ’’بیکری حملے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں پایا گیا‘‘۔ (روزنامہ ڈیلی ٹائمز، ۳۱جولائی۲۰۱۶ئ)

ایک طرف یہ منظر ہے تو دوسری جانب امریکا کی اسسٹنٹ سیکرٹری براے جنوبی و مرکزی ایشیا نشاڈیسائی نے ڈھاکا پہنچ کر کہا کہ: ’’امریکا، بنگلہ دیش کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بچانے کے لیے مدد فراہم کرنے پر تیار ہے‘‘(بی ڈی نیوز۲۴،۱۰جولائی۲۰۱۶ئ)۔ اور اس سے اگلے ہی روز ڈھاکا میں امریکا، بھارت اور بنگلہ دیش نے اس مسئلے پر باہم تعاون کے لیے سیرحاصل گفتگو کی (ایضاً، ۱۱جولائی۲۰۱۶ئ)۔ ہمارا خیال ہے کہ بنگلہ دیش میں تشدد کے مختلف واقعات کے ایک سلسلے کو پھیلا کر بھارت یہ چاہتا ہے کہ عوامی لیگ کے ذریعے بنگلہ دیش کو مختلف نوعیت کے ایسے دو طرفہ معاہدوں میں جکڑ دے، جن کی بنیاد پر وقت بے وقت بنگلہ دیش میں دراندازی کا بڑا دروازہ کھل جائے۔یکم جولائی کے اندوہ ناک واقعے کے کرداروں کو جاننے کے باوجود عوامی لیگی مشینری اور وزارتی ٹیم نے جماعت اسلامی کو اس میںملوث کرنے کی روش برقرار رکھی، جس کے خلاف ۲۶جولائی کو جماعت نے تفصیلی جواب دیا۔ اسی عرصے میں روزنامہ اتفاق (بنگلہ) اور ڈیلی انڈی پنڈنٹ نے اپنی اشاعتوں میں جماعت اسلامی کے خلاف زہر اگلا، جسے جماعت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ: ’’اگر اس حوالے سے حکومت اور ان اخبارات کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ عدالت میں پیش کرے‘‘۔ (بی ڈی جماعت، ۲۶جولائی ۲۰۱۶ئ)

مثال کے طور پر بیکری کے واقعے کے فوراً بعد نئی دہلی سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ: ’’بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کا معاہدہ ہونا چاہیے‘‘۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے خالدہ ضیا حکومت پر بھی دبائو ڈالا تھا، مگر ان کی حکومت نے داخلی خود مختاری کے تحفظ کی خاطر اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم اب دوبارہ نئی دہلی سرکار اس معاہدے کے لیے سرگرم ہے کہ بھارت اور بھارت کی دوست حکومت کے لیے ایسا کرنے کی غرض سے حالات سازگار ہیں۔ (روزنامہ دکن ہیرالڈ، ۱۰جولائی۲۰۱۶ئ)۔ آخر کار بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ عوامی لیگی حکومت ہی کے ۲۸ جنوری ۲۰۱۳ء کے معاہدے میں ترمیم کرکے اس شق کا اضافہ کرا لیا کہ: ’’اگر ایک جج، مجسٹریٹ یا کوئی ٹربیونل یا کوئی اتھارٹی کسی فرد کے بارے میں وارنٹ جاری کرے، اور  ان دونوں ملکوں کا کوئی فرد، ان میں سے کسی ملک میں موجود ہو، تو اس فرد کو اس کے ملک کے سپرد کیا جائے گا، تاکہ اس پر مقدمہ چلایا جا سکے‘‘۔(ڈیلی اسٹار، ۱۹جولائی۲۰۱۶ئ)

جماعت اسلامی، ھدف!

ایک بھارتی مضمون نگار، چرانمے کارلیکر نے بنگلہ دیش کے حوالے سے جہاں بہت سی  بے ربط اور بے جواز باتیںلکھی ہیں، وہیں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو بدترین تنقید کا نشانہ بنایا ہے (دیکھیے: دی پانیر، نئی دہلی، ۶؍اگست ۲۰۱۶ئ)۔ بھارت سے اس نوعیت کی پراپیگنڈا مہم کا صاف مطلب یہی ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت ایک ہی نوعیت کے ہدف پر اور ایک ہی لب و لہجے میں کام کررہے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا نے جماعت اسلامی کے خلاف ایک تفصیلی مضمون میں امریکی ماہرین سماجیات و سیاسیات کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے نظریے کو جاننے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ جماعت ایک متوازن اور ماڈریٹ سیاسی پارٹی ہے،   یہ ایسی سیاسی تحریک نہیں جو خلافت نافذ کرنے کی داعی ہو‘‘۔ (۱۲جولائی۲۰۱۶ئ)

۶؍اگست ۲۰۱۶ء بنگلہ روزنامہ امادرشوموئی  نے وزیر داخلہ اسدالزماں کے حوالے سے بیکری سانحے میں جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غلام اعظم مرحوم، میر قاسم علی اور مولانا دلاور حسین سعیدی کے بیٹوں کو ملوث قرار دینے کی خبر شائع کی۔ جماعت کے مرکزی سیکرٹری نشرو اشاعت تسنیم عالم نے اس بیان کو گمراہ کن اور بدترین جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا، کہ اگر حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو وہ میڈیا اور عدالت میں پیش کرے۔ (بی ڈی جماعت:۷؍اگست ۲۰۱۶ئ)

۱۵؍اگست، جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل غلام پروار میاںنے حکومتی وزیر مزمل الحق کے اس بیان پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا، جس میں موصوف نے ۱۴؍اگست کو پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’جماعت اسلامی پر عنقریب پابندی عائد کر کے اس کے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات ضبط کر لیے جائیں گے۔ وزیر کا یہ بیان مکمل طور پر غیر قانونی، غیرمنطقی اور غیر اخلاقی ہے۔ جماعت اسلامی ایک ذمہ دار پارٹی کی حیثیت سے ملک کے قوانین کا احترام اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، تو اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنے کا کوئی جمہوری اور قانونی جواز نہیں‘‘۔ (بی ڈی جماعت:۱۶؍اگست ۲۰۱۶ئ)

اسلامی بنک بنگلہ دیش جسے عوامی لیگ صرف اس لیے تباہ کرنے اور اس کے اثاثے لوٹنے میںمصروف ہے کہ اس کا آغاز کرنے والے لوگوں میں سے کچھ کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ اس کے بارے میں ویکلی ہالی ڈے نے رپورٹ کیا ہے: ’’اسلامی بنک بنگلہ دیش کی سرمایہ کاری اور محفوظ رقم (ڈپازٹ) ۶لاکھ ۵۰ ہزار ملین ٹکا ہے، جو ۳۰جون تک ۵لاکھ۷۰ ہزار ملین ٹکا تھی۔  بنک نے زرمبادلہ میںکاروبار ۴لاکھ ۵۰ہزار ملین ٹکا میں کیا۔ جس کے برآمدات میں ایک لاکھ ۷۰ہزار ملین ٹکا اور درآمدات میں ایک لاکھ ۲۵ہزار ملین ٹکا تھے۔ بیرون ملک سے ایک لاکھ ۵۵ہزار ملین ٹکا کی ترسیلات بطور زرمبادلہ وصول کرکے قومی معیشت کا حصہ بنانے میںمعاونت کی۔ بنک کے کھاتہ داروں کی تعداد ۵ئ۱۱ ملین ہے، یہ تعداد ملک کے مجموعی کھاتہ داروں کا ۱۴فی صد ہے، اور دنیا میں اسلامی بنکوں کے کھاتہ داروں میں یہ تعداد ۲۵فی صد ہے۔ یہ معلومات صرف گذشتہ چھے ماہ کی ہیں‘‘۔ (Weekly Holiday، ۲۹جولائی ۲۰۱۶ئ)۔ اسی بنک کو برباد کرنے میں عوامی لیگ کے مقامی لیڈر، صحافی اور وزیر پیش پیش ہیں۔

۹؍اگست، ضلع بھاگر گھاٹ کے مقام مورول گنج میں، گورنمنٹ اسکول کے سابق پرنسپل ظہیرالحق کو جماعت اسلامی سے وابستگی کے جرم میں بری طرح مجروح کیا گیا اور اب وہ ہسپتال میں بہت خراب حالت میں داخل ہیں۔ جماعت اسلامی کے ذرائع کے مطابق انھیں عوامی لیگی غنڈوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے، جو بلا روک ٹوک ظلم و تشدد کیے جا رہے ہیں اور کوئی انھیں روکنے والا نہیں‘‘۔ (بی ڈی جماعت:۱۰؍اگست ۲۰۱۶ئ)

جماعت کے گرفتار شدہ حامیوں میں کئی افراد کے بارے میں حکومت اس امرکا اعتراف ہی نہیں کرتی کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ حامد الرحمان نے بیان دیا ہے کہ: ’کشور گنج سے جماعت کی شوریٰ کے رکن پروفیسر مصدق علی کو ایک عرصے سے پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، مگر وہ ان کی تحویل سے مسلسل انکار کیے جارہی ہے، جس پر ہمیں خدشہ ہے کہ انھیں ماوراے عدالت شہید کر دیا جائے گا۔ اسی طرح بیناپل (جیسور) سے اسلامی چھاتروشبر کے رہنما رضوان احمد کی گرفتاری کا ریکارڈ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، جس پر ان کے والدین اور ہم سب محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی المیہ ہوجائے گا۔ ‘‘ (بی ڈی جماعت، ۹؍اگست ۲۰۱۶ئ)

یہ کیسی سفاک حکمران عورت ہے کہ جو انسانوں کا خون پینے کے بعد بھی انھیں بخشنے کو تیار نہیں۔ اس چیز کا ایک ثبوت وہ تہمت ہے، جو ۲۱؍اگست کو تقریر کرتے ہوئے لگائی: ’’۲۱؍اگست ۲۰۰۴ء کو عوامی لیگ کے جلسے میں پھٹنے والا گرنیڈ حملہ علی احسن مجاہد نے کرایا تھا‘‘۔ (بنگلہ دیش ٹربیون، ۲۲؍اگست)۔ جماعت کے ترجمان حامد الرحمان نے اس افسوس ناک الزام کی سختی سے تردید کی ، اور کہاکہ جھوٹے مقدمات میں علی احسن مجاہد کی جان لینے کے بعد تو انھیں جھوٹی الزام تراشیوں سے معاف کر دو۔

عالمی سطح پر ردِ عمل

وائس آف امریکا (VOA) نے بنگلہ دیش میں حکومتی درندگی پر ۲۸جون۲۰۱۶ء کو ایک طویل رپورٹ نشر کی، جس کے چند حصے حسب ذیل ہیں:

انسانی حقوق کے گروپ اس امر پر متفق ہیں کہ بنگلہ دیشی حفاظتی مشینری، خاص طور پر ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ (RAB)ظالمانہ طریقے سے لوگوں کو اٹھاتی، تشدد کرتی اور آخر کار اپنی تحویل میں قتل کر دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے یومِ یکجہتی مظلوماں کے موقعے پر ڈھاکا میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ادھیکار‘ نے بتایا کہ: گذشتہ چند برسوں کے دوران میں ۱۱۶۹؍افراد کو بنگلہ دیش کی سرکاری ایجنسیوں نے ماوراے عدالت قتل کیا ہے، جب کہ اس سال صرف جون کے مہینے میں ۲۴؍افراد کو اس بہیمانہ طریقے سے مارا گیا ہے۔ ’ادھیکار‘ کے سیکرٹری عدیل الرحمان خاں کے بقول: قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی رنگ میں رنگنے کے عمل نے عدل و انصاف کا خون کرکے رکھ دیا ہے اور مزید   یہ کہ قانون نافذ کرنے والے سرکاری افسران بالفعل مجرمانہ ذہنیت اور اقدامات کے مہرے بن چکے ہیں۔ ماوراے عدالتی قتل و غارت گری حکومت کی پہچان بن چکی ہے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش، مہذب دنیا کے سامنے ایک بدنما داغ سے زیادہ کچھ پہچان نہیں رکھتا‘‘۔ انسانی حقوق کے علَم بردار اشرف الزماں کے بقول: ’’قانون کی حکمرانی کی جگہ بندوق کی حکمرانی کا دوسرا نام بنگلہ دیش ہے، جہاں نظر بندوں اور قیدیوں کو حکومت ماوراے عدالت قتل کرتی اور اسے پولیس مقابلے کا نام دیتی ہے‘‘۔ ایشیا ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے اپنامشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’سیاسی مخالفین کو دہشت زدہ اور گرفتار کرنے کے علاوہ غائب کرنے اور عدالتی کارروائی کے بغیر مار دینے کی بہت سی مثالیں بنگلہ دیش میں پائی جاتی ہیں۔  عوامی لیگ حکومت ’ریب‘ کو اپنے سیاسی مخالفین کچلنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق ’ریب‘ کی صورت میں عوامی لیگی حکومت نے ایک منظم ’ڈیتھ اسکواڈ‘ بنا رکھا ہے، جسے عدل و انسانیت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس لیے ’ریب‘ کو لگام دینے کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کے اس پورے کھیل کو ختم کرنا ہوگا‘‘۔ (VOA، ۲۸جون۲۰۱۶ئ)

اسی موضوع پر جارج ٹائون یونی ورسٹی کے اسکول آف فارن سروس کی پروفیسر کرسٹین فیر (Chritine Fair) نے ایک نشریے میں کہا ہے: ’’حسینہ حکومت: بی این پی اور جماعت اسلامی کی  کمر توڑنے میں زیادہ دل چسپی رکھتی ہے اور اپنی اس یلغار پر کسی بھی تنقید و تبصرے کو سننے کی ہرگز روادار نہیں۔ اس حکومت کو حزب اختلاف کے ۱۲ہزار سے زیادہ کارکنوں کو پکڑنے اور جیلوںمیں  بند کرنے میں زیادہ دل چسپی ہے، مگر حقیقی معنوں میں انتہا پسندوں کو گرفت میں لانے کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں۔ میں سوال کرتی ہوں کہ کیا واقعی حسینہ واجد، دہشت گردی کے اژدہے سے نمٹنا چاہتی ہے یا اپنا پورا زور اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے میں لگا دینا چاہتی ہے؟ یہ امر ذہن نشین رہے کہ بنگلہ دیش میں بہرحال جماعت اسلامی کے لیے حمایت بلند سطح پر ہے۔ (Support for Jamaat e Islami is actually realy high in Bangladesh)۔ مگر [حسینہ واجد] اس سوچ کی اسیر ہے کہ اس عوامی حمایت یافتہ پارٹی [یعنی جماعت اسلامی] کی ملک سے آنتیں تک نکال کے (eviscelate) رکھ دے۔ جماعت اسلامی کو کسی دہشت گردی میں شامل سمجھنا، یا اسے جنگی جرائم میں قصور وار قرار دینا، ایک بے ہودہ (absurd) مفروضے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا‘‘۔ (پروگرام، ایشیا ویکلی‘ وائس آف امریکا، ۹جولائی۲۰۱۶ئ)

انٹر نیشنل کرائسز گروپ (ICG) نے اس الزامی مہم پر برملا کہا: ’’بنگلہ دیش کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے لازم ہے کہ عوامی لیگ کی حکومت ملک سے بی این پی اور جماعت اسلامی کو بے جواز الزام تراشی، پولیس کے سیاسی استعمال، ماوراے عدالتی قتل، غنڈا گردی کا نشانہ بنانے اور ختم کردینے کے خبط سے نکلے۔ اگر حکومت اس راستے پر نہیں چلے گی تو ملک یقینی طور پر بدامنی بلکہ تباہی کی جانب لڑھکتا جائے گا‘‘۔ (انٹرنیشنل کرائسز گروپ،۱۰جولائی۲۰۱۶ئ)

۱۰؍اگست، ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے بنگلہ دیش میں سیاسی کارکنوں کے اغوا، گرفتاریوں، قتل اور ان کے لواحقین کو معلومات نہ دینے کے ظالمانہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (پروگریس بنگلہ دیش، ۱۱؍اگست)

۱۷؍اگست،دی بار کونسل اور بار ہیومن رائٹس کمیٹی آف انگلینڈ (BHRC) نے بیرسٹر احمد  بن قاسم کی گرفتاری کے خلاف بنگلہ دیشی حکومت کو مشترکہ احتجاجی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے لکھاہے:’’بیرسٹر احمد اپنے والد میر قاسم علی کے وکیل بھی ہیں، جنھیں ایک متنازع عدالت سے عدل و انصاف کے منافی کارروائی کرکے سزاے موت سنائی گئی ہے۔ بیرسٹر احمد کی گرفتاری  انصاف و عدالت کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش ہے، اس لیے ان کو فوراً رہا کیا جائے۔ (پالی ٹیکس ہوم، ۱۸؍اگست۲۰۱۶ئ)

اقوامِ متحدہ انسانی حقوق (UNHR) کے ماہرین نے بنگلہ دیش میں سزاے موت پر  عمل درآمد کے منتظر قیدی میرقاسم علی کے مقدمے کو دوبارہ انصاف کے عالمی معیار کے مطابق چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ (UNHR) کا خط، ۲۳؍اگست ۲۰۱۶ئ)

’جنگی جرائم‘ کے مقدمات کا ڈراما

آئی سی ٹی ٹربیونل نمبر۱ نے ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی کے ’جرم‘ میں ۱۷جولائی کو ضلع میمن سنگھ کے ناظم محمد اشرف حسین (۶۴سال) محمد عبدالمنان (۶۶سال) محمدعبدالباری(۶۲ سال) کو عدالت میں عدم موجودگی کے دوران سزاے موت سنائی ہے، جب کہ محمدشمس الحق(۷۵ سال)، ایس ایم یوسف علی (۸۳سال)، شریف احمد(۷۱سال)، ہارون (۵۸سال) اور محمد عبدالہاشم(۶۵ سال) کو موت واقع ہونے تک جیل ہی میں قید رکھنے کا حکم سنایا گیا ہے۔ (ڈیلی نیوایج، ڈیلی اسٹار، ۱۸جولائی۲۰۱۶ئ)

۹؍اگست سابق رکن پارلیمنٹ شوکت حسین (جوماضی میں جماعت اسلامی اور پھر بی این پی سے وابستہ رہے) کو جنگی جرائم کی عدالت نے موت تک جیل میں رکھنے کی سزا سنا دی۔ (ڈیلی اسٹار، ۱۰؍اگست ۲۰۱۶ئ)

سات مزید لوگوں پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا آغاز کیا گیا ہے، جن میں حسب ذیل حضرات شامل ہیں: ممبر پارلیمنٹ ایم اے حنان(۸۰سال)، رفیق سجاد(۶۲سال)، غلام شبیر احمد (۶۹سال) میزان الرحمان(۶۳سال)، ہرمز علی(۷۳ سال)، عبدالستار(۶۴ سال)، فخرالزمان (۶۱ سال)، غلام ربّانی(۶۳ سال) ۔ان میں سے آخری دونوں افراد گرفتار نہیں ہو سکے، جب کہ باقی جیل میں قید ہیں۔ (ڈیلی سٹار، ۱۲جولائی۲۰۱۶ئ)

بنگلہ دیش کی نام نہاد خصوصی عدالت نے سندر گنج سے جماعت اسلامی کے جن لیڈروں پر جنگی جرائم کے مقدمے چلانے کا اعلان کیا، ان میں یہ حضرات شامل ہیں: ابو صالح محمد عبدالعزیز (۶۵سال)، روح الامین الیاس(۶۱سال)، عبداللطیف(۶۱ سال)، ابومسلم محمد علی (۶۱سال) نجم الہدیٰ(۶۰سال)، عبدالرحیم میاں(۶۲سال) ۔(ڈھاکا ٹریبیون، ۲۹جون۲۰۱۶ئ)

۲؍اگست کو یہ پہلی بار ہوا کہ پاکستانی فوج سے وابستہ ایک سابق بنگالی آفیسر محمد شاہد اللہ (عمر۷۲سال) کو ’جنگی جرائم‘ کے نام پر گرفتار کر کے خصوصی ٹربیونل (ICT) میںمقدمہ چلا جا رہا ہے۔ شاہد اللہ ۱۹۷۱ء میں کومیلا چھائونی میں بطور پاکستانی فوجی خدمات انجام دے رہے تھے۔ (ڈیلی اسٹار، ۳؍اگست۲۰۱۶ئ)

نواکھالی سے تعلق رکھنے والے قیدیوں: امیر علی(۷۰سال)، محمد زین العابدین (۷۳سال)، ابوالکلام منصور(۶۷سال) اور محمد عبدالقدوس(۸۴سال) پر ۱۹۷۱ء میں پاکستان کا ساتھ دینے کے الزام میں جنگی جرائم کے مقدمے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ (ڈیلی اسٹار، ۸؍اگست ۲۰۱۶ئ)

میمن سنگھ سے عبدالرحیم(۸۰سال)، جمال الدین(۷۵سال)، عبدالسلام منشی (۷۱سال)، راج علی فقیر(۶۵سال) کو ۱۹۷۱ء میں پاکستان کا ساتھ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۹؍اگست ۲۰۱۶ئ)

ماوراے عدالت قتل کے واقعات

یکم جولائی کو پولیس نے اسلامی چھاتروشبر کے دو رہنمائوں کو اپنی تحویل کے دوران گولی مار کر شہید کر دیا۔ یاد رہے ضلع جیندسے اسلامی چھاترو شبر کے صدر شاہد المحمود اور اسی ضلع میں پولی ٹکنیک کالج یونٹ کے نظام انیس الرحمان کو بالترتیب ۱۳ اور ۱۶جون کو بلاجواز گرفتار کیا گیا تھا۔ مگر پولیس اور انتظامیہ مسلسل انکار کرتی رہی کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ۳۰جون اور یکم جولائی کی درمیانی شب اچانک تھانہ تل باڑیاں میں ان طالب علموں کی میتوں کو رکھ کر یہ کہانی مشہور کردی کہ: ’’یہ پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں‘‘۔ (بی ڈی جماعت، ۲جولائی۲۰۱۶ئ)

اسلامی چھاتروشبر جیندہ کے رہنما اور اسلامک یونی ورسٹی کشتیا میں عربی لٹریچر کے طالب علم ۲۲ سالہ سیف الاسلام کو پولیس نے ۱۰روز قبل گرفتار کیا اور پھر ۱۸جولائی کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں گولی مارکر شہید کر دیا۔ (بی ڈی جماعت، ۱۹جولائی۲۰۱۶ئ)

۱۲؍اگست کو ’’جماعت اسلامی ہاریناکنڈا (ضلع جنیدہ) کے امیر مولانا ادریس علی کو   آٹھ روز قبل پولیس گرفتار کرکے لے گئی تھی، لیکن بار بار پوچھنے پر ان کے بارے میں کوئی جواب نہ دیا گیا اور آج مضافات میں گولیوں سے چھلنی ان کی لاش ملی۔ قائم مقام امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مقبول احمد نے اس سفاکانہ قتل کی شدید لفظوں میںمذمت کی‘‘۔ (بی ڈی جماعت، ۱۳؍اگست)

جماعت اور جمعیت کے کارکنوں کی گرفتاریاں

مندرجہ بالا تاریخ وار چند خبروں کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ پورے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے وابستگان کے لیے دہشت اور ریاستی فسطائیت کی ہولناک فضا قائم ہے۔ جس کا شکار بزرگ، نوجوان، خواتین اور طالبات ہیں۔ یہ ایسی فضا ہے، جس میں ہرکارکن اس دبائو میں ہے کہ شاید اگلے لمحے مجھے بھی گرفتار نہ کرلیا جائے، یا اس کارکن کے وابستگان یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا عزیز شاید آج گھر آہی نہ سکے۔

اسی ضمن میں مزید چند خبریں ملاحظہ کیجیے:

۲۸جون، بینی پور گائوں سے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر کے ۱۵کارکنوں کو  خفیہ پولیس اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئی، تاحال ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

۳۰جون، چپائی نواب گنج سے جماعت، شبر کے ۱۵کارکنوں کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی۔

راجشاہی شہر سے جماعت اسلامی کے ۱۱کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا (۱۲جولائی۲۰۱۶ئ) 

 ۲۵جولائی کو راج شاہی یونی ورسٹی سے اسلامی چھاترو شبر کے لیڈر جسیم الدین کو پولیس نے اٹھایا، لیکن دو دن گزر جانے کے باوجود کسی جگہ اعتراف نہیں کیا کہ وہ پولیس کی قید میں ہیں۔ اس پر جماعت نے سخت تشویش کا اظہار کیا، مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ (روزنامہ پروتھم آلو، ۲۷جولائی)

جماعت اسلامی لکشم پور سے وابستہ ۱۱خواتین کو گھروں سے گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا گیا ۔(ڈیلی سن، ۲۳جولائی۲۰۱۶ئ)

۲۶جولائی کو سلہٹ کے مختلف مقامات سے اسلامی جمعیت طالبات (اسلامی چھاتری شنگھستا) سے منسلک طالبات کو گھروں سے گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا، اور ان کے اہل خانہ کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر شہریوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا (بی ڈی جماعت، ۲۷جولائی)

۲۷جولائی کو وکٹوریہ گورنمنٹ کالج کومیلا سے اسلامی جمعیت طالبات سے وابستہ تین طالبات کو گرفتار کر لیا۔ (روزنامہ فنانشل ایکسپریس، ۲۸جولائی ۲۰۱۶ئ)

۱۴ جولائی کو تنگائل سے جماعت اسلامی کی بزرگ خاتون حمیرا بیگم اور ان کے بیٹے امان اللہ سرکار (صدر اسلامی چھاتر و شبر شمالی دیناج پور) کو گرفتار کر لیا گیا۔

کبیر ہاٹ، نواکھالی کے امام حافظ بلال حسین کو جمعے کے خطبے کے دوران اس وقت گرفتار کر لیاگیا جب انھوںنے حکومت کی تعلیمی پالیسی پر تنقید کی۔ (ڈھاکا ٹریبیون، ۲۴جولائی۲۰۱۶ئ)

۲۹جولائی کو ماگورا ضلعی جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت علی اور اسلامی چھاتروشبر کے مقامی صدر الامین کو گرفتار کر لیا گیا۔ (بی ڈی جماعت، ۳۰جولائی)

یکم اگست کو ضلع چاپیا نواب گنج سے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر کے ۲۱لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۲؍اگست)

۲؍اگست کو ڈھاکا کے مدھو باغ علاقے سے اسلامی چھاتروشبر کے ۱۴کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ (روزنامہ پروتھم آلو، ۳؍اگست)

۳؍اگست کو جماعت اسلامی راج شاہی کے امیر عبدالہاشم سمیت جماعت اسلامی کے آٹھ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۴؍اگست)

۵؍اگست کو ست کانیا (ضلع چٹاگانگ) سے جماعت کے امیر محمد واجد علی اور جماعت کے آٹھ بزرگ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اسی روز ضلع جیسور اسلامی چھاتروشبر کے سیکرٹری اسرائیل حسین اور روح الامین کے ہمراہ چھے کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اسرائیل حسین اور روح الامین کو گولی مار کر زخمی کر دیا، جنھیں زخمی حالت میں ہسپتال داخل کرایا گیا۔ (بی ڈی جماعت، ۶؍اگست)

۵؍اگست کو جماعت اسلامی اور چھاتروشبر کے مزید ۱۸کارکنوں کو ٹھاکر گائوں، چاندی پور، نعمت پور سے گرفتار کیا گیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۶؍اگست)

۶؍اگست کو جماعت اسلامی جے پور ہاٹ کے امیر عطاء الرحمان (۶۸سال)،آفس سیکرٹری فرید حسین اور گانجا چھارا سے جماعت کی شوریٰ کے رکن محمد مصلح الدین (۵۲سال) کو بھی گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۷؍اگست)

۷؍اگست کو جماعت اسلامی کے چھے کارکن گرفتار کر لیے گئے۔ (ڈیلی سن، ۸؍اگست)

۹؍اگست کو پولیس نے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما، اسلامی چھاتروشبر کے تاسیسی ناظم اعلیٰ اور موت کی سزا سنائے جانے والے میر قاسم علی کے بیٹے بیرسٹر میر احمد بن قاسم کو گرفتار کرلیا۔ اس حوالے سے ان کی اہلیہ تہمینہ اخترنے بتایا کہ: ’’پانچ افراد نے رات کے پچھلے پہر دروازہ کھٹکھٹایا اور دروازہ کھولتے ہی انھیں دبوچ کر سفید رنگ کی گاڑی میں دھکیلا او رلے گئے‘‘۔ (بی ڈی نیوز۲۴، ۱۰؍اگست)

۱۰؍اگست کو ست خیرا سے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر کے تین کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ (ڈیلی سن، ۱۱؍اگست)

۱۴؍اگست کو ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بیرسٹر میرقاسم علی اور بی این پی کے لیڈر ہمام قادر چودھری کی غیر قانونی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا ہے۔ (نیا دگنتا، ۱۵؍اگست)

۱۲؍اگست کو سراج گنج سے جماعت کے پانچ کارکنوں اور جماعت اسلامی ہی کی ایک بزرگ خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ (بی ڈی جماعت، ۱۳؍اگست)

۱۴؍اگست کو شاہ جہان پور کے امیر جماعت مولانا عبدالسلام اور چاندپور کے امیر جماعت عبدالرشید کو گرفتار کیا گیا۔ (بی ڈی جماعت:۱۵؍اگست)

۱۵؍اگست کو ست خیرا سے جماعت اور چھاترو شبر کے تین کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ (ڈیلی سن، ۱۶؍اگست)

خوف اور دہشت کی اس فضا کے باوجود ۱۶؍اگست، بیرسٹر میر احمد بن قاسم اور جماعت وشبر کے دیگر معلوم اور نا معلوم قیدیوں کے بارے میں بنگلہ دیش میں پُرامن احتجاج کیا گیا۔ جس میں ڈھاکا، چٹاگانگ، کھلنا، سلہٹ، راج شاہی، رنگ پور، باری سال، غازپور، اور کومیلا میں بڑی بڑی ریلیاں نکلیں۔ (بی ڈی جماعت،۱۷؍اگست)

۲۰؍اگستکو ڈھاکا میں جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کے ۱۸ کارکنوں پر سپیشل پاور ایکٹ، کے تحت مقدمے قائم کرکے انھیں حوالات میں بند کر دیا گیا۔ (دی اسٹار، ۲۱؍اگست)

۲۰؍اگست کو راج شاہی یونی ورسٹی سے اسلامی چھاتروشبر کے ۱۳کارکنوں: عبدالحق مانک، شریف الاسلام، مہدی حسن، انصار الحق، مشتاق احمد، عبدالصبور، فہد عالم، ابوالخیر، یوسف علی، سراج الاسلام، لقمان حسین، ریحان حسین اور ساجد کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت قید کر لیا گیا۔ ان کے ساتھ ہاسٹل کے امام مسجد ثناء اللہ بھی قیدکر لیے گئے۔ (دی اسٹار، ۲۱؍اگست)

۲۰؍اگست کو جنیدہ ضلع کے مختلف مقامات سے اسلامی چھاتروشبر اور جماعت اسلامی کے ۲۱کارکن گرفتار ہوئے۔ (ڈیلی سن، ۲۱؍اگست)

۲۲؍اگست کی رات پونے بارہ بجے پروفیسر غلام اعظم مرحوم کے بیٹے (ریٹائرڈ) بریگیڈیر جنرل عبداللہ الامان اعظمی کو خفیہ پولیس نے گرفتار کر لیا۔ (روزنامہ نیادگنتا، ۲۳؍اگست)

آزادی اظھار پہ پابندی

۵؍اگست کو حکومت نے جماعت اسلامی اور شبر کے کارکنوں کے ۳۵’نیوزپورٹل‘ بلاک کر دیے۔ یاد رہیکہ اس سے قبل عوامی لیگی حکومت ’چینل ون‘ دگنتا ٹیلی ویژن، اسلامک ٹیلی ویژن اور روزنامہ امارادیش پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نام نہاد آمرانہ حکومت، کوئی بھی اختلافی نقطۂ نظر سننے کی تاب نہیں لا سکتی۔ (بی ڈی جماعت، ۶؍اگست)

۸؍اگست کو پولیس نے بنگلہ میل۲۴ ڈاٹ کام، ویب سائٹ کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور موجود صحافیوں کو گرفتار کر کے نظر بند اور ویب سائٹ کو بند کرا دیا۔ (ڈیلی میل، لندن، ۹؍اگست)

۱۹؍اگست کو ۸۱ سالہ بزرگ برطانوی صحافی شفیق رحمان، جنھیں حسینہ واجد کے بیٹے کو قتل کرنے کی سازش کا کردار قرار دیتے ہوئے سزاے موت سنائی گئی ہے۔ جیل میں ان کی صحت نہایت خراب ہے۔ ان کے بیٹے نے کہا ہے کہ میرے والد ایک بے بنیاد مقدمے کے نتیجے میں پھانسی گھاٹ پر پہنچنے سے پہلے ہی موت سے دوچار ہونے کی سرحد پر ہیں‘‘۔ (دی انڈی پنڈنٹ، ۲۰؍اگست)

۱۶؍اگست کو چٹاگانگ یونی ورسٹی کے شعبہ اسلامیات اور شعبہ عربی کی لائبریریوں سے مولانا مودودی اور ذاکر نائیک کی تمام کتب اور پمفلٹ ضبط کر کے، ریکارڈ سے خارج کردیے گئے۔ (بی ڈی نیوز۲۴، ۱۷؍اگست)

۲؍اگست کو بنگلہ دیشی حکومت نے طے کیا ہے کہ پورے بنگلہ دیش میں ڈاکٹر ذاکر نائیک سے منسوب ’پیس انٹرنیشنل اسکول سسٹم‘ کو بند کر دیا جائے۔ (روزنامہ ڈھاکا ٹریبیون، ۳؍اگست)

۱۹؍اگست شہید مطیع الرحمان نظامی کی اہلیہ شمس النہار نظامی کے زیر انتظام چلنے والے اسلامک انٹرنیشنل اسکول سے جماعت اسلامی کے ۱۸ کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جو مذکورہ اسکول میں شعبہ تدریس اور انتظامات سے وابستہ تھے۔ (بی ڈی نیوز۲۴، ۲۰؍اگست)

بنگلہ دیش کی حکومت کس درجے اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کا گلا گھونٹنے پر تلی ہوئی ہے، اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اطلاعات حسن الحق کے بقول: ’’ہم ملک کی بڑی یونی ورسٹیوں میں جماعت اسلامی کے حامی استادوں اور طرف دار طالب علموں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔ [پاکستان کے خلاف بدترین پراپیگنڈا کرنے والے بدنام زمانہ کردار] شہریار کبیر نے کہا: ’’بی این پی اور جماعت اسلامی کے حامی اہل ثروت نے نارتھ سائوتھ یونی ورسٹی (NSU)قائم کی تھی، جس کا وجود ناقابلِ برداشت ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اس یونی ورسٹی میں پروفیسر غلام اعظم کے دو بیٹے کیوں پڑھا رہے ہیں؟ جب کہ مطیع الرحمن نظامی کی اہلیہ کی سربراہی میں مینار یونی ورسٹی کیسے چل رہی ہے‘‘؟ (ڈیلی سٹار، ۲۴جولائی۲۰۱۶ئ)

اسی طرح بنگلہ دیش حکومت نے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ جن جن لوگوں کے خلاف  جنگی جرائم کے مقدمات چل رہے ہیں، یا جن افراد پر مقدمات چلنے کے بعد سزائیں نافذ ہو چکی ہیں، ان کے نام فلیٹوں یا پلاٹوں کی ملکیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے کئی رہنمائوں کے پس ماندگان و لواحقین براہ راست متاثر اور بے گھر کیے جا رہے ہیں (روزنامہ ڈھاکا ٹریبیون، ۱۴جولائی)۔اس اعلان پر قمر الزمان شہید کے بیٹے حسن اقبال نے کہا: ’’میرے والدِ محترم نے پلاٹ ایک صحافی اور مناب زمین  کے ایڈیٹر مطیع الرحمان سے خریدا تھا، حالانکہ وہ خود ماہ نامہ   سنار بنگلہ کے ایڈیٹر اور نیشنل پریس کلب کے سنیئر ممبر تھے‘‘۔ (بی ڈی نیوز۲۴، ۱۸جولائی۲۰۱۶ئ)

یہ بہیمانہ اعلان تو ہے سرکاری سطح کا، مگر بنگلہ دیش میں اور خود ڈھاکا میں بھی جماعت اسلامی  کے کئی کارکنوں کے گھروں پر یہ پوسٹر لگائے گئے ہیں کہ: ’’یہ گھر اور ملک چھوڑ کر چلے جائو، ہم تمھاری زندگی کی ضمانت نہیں دیتے‘‘۔ اور جب جماعت کے ایسے متاثرین نے سول انتظامیہ اور پولیس کو رپورٹ درج کرنے کے لیے کہا تو جواب ملا: ’’ہم کیا کریں‘‘۔ یہ ہے وہ صورتِ حال جس میں جماعت کے فعال کارکنوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

۲۵جولائی کو حسینہ واجد نے عمومی دہشت پھیلانے اور نفرت پیدا کرنے کے لیے براہِ راست ایک بیان میںکہا کہ: ’’اگست میں جماعت اسلامی کے حامی افراد کچھ مشہور تعلیمی اداروں پر حملے کرکے میر قاسم علی کو رہا کرانے کی کوشش کریں گے‘‘(ڈیلی اسٹار، ۲۶جولائی۲۰۱۶ئ)۔ جماعت اسلامی نے اس احمقانہ بیان کو فوراً مسترد کردیا۔

۲۲؍اگست کو بنگلہ دیش کی کابینہ نے ایک قانون کی منظوری دی، جس کے تحت بنگلہ دیش کی ’جنگ ۱۹۷۱ئ‘ یا شیخ مجیب الرحمان کے بارے میں کوئی مخالفانہ یا تنقیدی بات لکھنے، چھاپنے یا بولنے کی سزا عمرقید اور ایک کروڑ ٹکا جرمانہ ہوگا (ڈیلی اسٹار، ۲۳؍اگست ۲۰۱۶ئ)۔ اس قانون کا واضح مقصد ۱۹۷۱ء میں مکتی باہنی کے مظالم، لُوٹ مار اور شیخ مجیب کے فیصلوں پر ہرقسم کے نقدوتبصرے کا باب بند کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا زمانہ ایسے فسطائی قانون کو قبول کرسکتا ہے؟

برطانوی رکن پارلیمنٹ سائمن ڈنکزک (Simon Danczuk) نے بڑی دردمندی سے کہا: ’’اس بات کے ناقابل تردید ثبوت قدم قدم پر پھیلے نظر آتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی کمر توڑ کے رکھ دی گئی ہے‘‘۔ ویسٹ منسٹر ہال، لندن میں خطاب کرتے ہوئے انھوںنے مزید کہا: ’’میں گذشتہ دنوں بنگلہ دیش میں تھا، جہاںمعلوم ہوا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں بیلٹ بکس پہلے ہی سے حکومتی پارٹی کے حق میں ووٹوں سے بھرے دیکھے گئے، اور اس سے زیادہ صدمہ انگیز بات یہ تھی کہ مخالف پارٹیوں کے امیدواروں کے نام ہی بہت سی جگہوں پر بیلٹ پہ طبع نہیں کیے گئے تھے، اور پھر انھیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی‘‘۔ (یو این بی، ۳۰جون۲۰۱۶ئ)

نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو قید کرنے، بلاجواز نظربند رکھنے، حتیٰ کہ انھیں دنیا سے غائب تک کردینے کا شرم ناک ریکارڈ رکھتی ہے۔ بیرسٹر میر احمد بن قاسم اور ہمام قادر چودھری کی گرفتاری اس کی تازہ ترین مثال ہے جن کے بارے میں حکومت کسی قسم کی اطلاع دینے سے انکاری ہے۔ اس چیز سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان قیدیوں کی جان کو خطرہ ہے، کیونکہ حسینہ واجد حکومت کا اس ضمن میں بہت بُرا ریکارڈ ہے‘‘۔(اداریہ، نیویارک ٹائمز، ۲۴؍اگست ۲۰۱۶ئ)

o

جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اہلِ پاکستان کے سامنے باربار یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت، بنگلہ دیش کو اپنے بہیمانہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کا مسلسل کام کرے گا۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے تھوڑے عرصے بعد پاکستانی فوج کے ۱۹۵؍ افسروں اور جوانوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے چلانے کا اعلان ، ہمارے خدشے کی تصدیق کرتا ہے۔ ابھی گذشتہ ماہ جولائی میں ایک بار پھر وزیرقانون انیس الحق نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ: ’’ہم نے ایک کمیٹی بنادی ہے، جو پاکستانی فوج کے ۱۹۵؍ افسروں کے خلاف جنگی جرائم کے ثبوت اکٹھے کرے گی۔ پھر ان کا جائزہ لے گی اور اس کے بعد ان پرمقدمہ چلائے گی‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ۲۸جولائی۲۰۱۶ئ)

یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ ’جرائم‘ ۱۹۷۱ء میں ہوئے اور ثبوت ۲۰۱۶ء میں اکٹھے کرنے کی مہم شروع ہورہی ہے۔ یہ بات بذات خود ایک دلیل ہے، کہ ان کے پاس ثبوت موجود نہیں بلکہ ثبوت گھڑنے ہوں گے۔ یہی کام جماعت اسلامی کے ان مظلومین کے مقدمات میںکیا جا رہا ہے، جنھیں ۴۲سال بعد ’مقدموں کے ثبوت جمع‘ کرکے پھانسیوں پر لٹکایا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے مسئلے پر پاکستانی حکومت اور مقتدر قوتوں کی بے حسی، لاتعلقی یا مجرمانہ غفلت کے سبب، اب آہستہ آہستہ خود انھی کو ایسے ’ڈراما مقدمات‘ کا کردار بنایا جا رہا ہے۔ پورا امکان ہے کہ اس بے ہودگی میں بنگلہ دیشی اور بھارتی کاذبین کا ساتھ دینے کے لیے پاکستان سے ’روشن خیال‘ اور ’انسانی حقوق‘ کے نام نہاد علَم بردار شعبدہ بازوں اور میڈیا پر تاریخ کا قتلِ عام کرنے والوں کا تعاون بھی حاصل ہوگا (اور وہ تائید کنندگان اسی طرح اے گریڈ درجات کا مزے لوٹیں گے، جس طرح ایم کیو ایم لطف اندوز ہوتی چلی آرہی ہے)۔