تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر اس وقت اپنے تاریخی سفر کے ایک ایسے سنگ میل پر کھڑی ہے جہاں روایتی اسلوبِ سیاست اور معاصر عالمی حرکیات کے درمیان ایک گہرا تصادم دکھائی دیتا ہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵-اے کے یکطرفہ خاتمے، کشمیری مقتدرہ کے تاریخی جغرافیائی بکھراؤ، اور بعد ازاں ستمبر ۲۰۲۱ء میں قائد ِ تحریک سید علی شاہ گیلانیؒ کی رحلت نے وادی کے سیاسی اُفق پر بظاہر ایک بڑا خلا پیدا کیا۔ اس خلا کو بنیاد بنا کر اور نوآبادیاتی حصار کے بل بوتے پر انڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوچکا ہے۔ مگر تاریخِ انسانی کا یہ مسلمہ قانون ہے کہ جب جبر کا دباؤ حد سے بڑھ جائے، تو حق کی تحریکیں فنا نہیں ہوتیں بلکہ معاصر تقاضوں کے تحت اپنا رنگ، زبان اور حکمتِ عمل تبدیل کر لیتی ہیں۔ یہ دراصل اس قرآنی اصول کا مظہر ہے کہ حق کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، لیکن اسے مٹایا نہیں جاسکتا۔
کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو امید اور مایوسی کی داخلی کش مکش سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو وادی کے اندر ایک گہرا جمود اور فکری گھٹن موجود ہے۔ ’آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ (APHC) کی بنیادی قیادت، برسوں سے تہاڑ جیل جیسی عقوبت گاہوں میں اسیر ہے اور ان کا روایتی تنظیمی ڈھانچا مفلوج ہو چکا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کی سرگرمیاں بھی شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔ عوامی سطح پر سخت ترین مواصلاتی نگرانی اور جدید ترین ٹکنالوجی کے باعث روایتی سرگرمیاں کم ترین سطح پر آ چکی ہیں۔ مسلسل جانی و مالی نقصان اور طویل مواصلاتی بندشوں نے عام کشمیری میں ایک عارضی تھکن ضرور پیدا کی ہے، جسے بعض مبصرین مایوسی کا نام دیتے ہیں۔
لیکن اس تزویراتی خاموشی کے بطن سے ایک گہری امید جنم لے رہی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے سیاسی منظرنامے نے ثابت کیا کہ کشمیری عوام نے بائیکاٹ کی روایتی لکیر سے ہٹ کر انتخابی اور آئینی محاذ کو غاصبانہ ایجنڈے کے خلاف ایک ’دفاعی ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ روایتی جماعتوں کو دیا جانے والا عوامی مینڈیٹ یا جیلوں سے اُبھرنے والے متبادل چہروں پر اعتماد کا اظہار، دراصل اس بیانیے پر کاری ضرب ہے کہ کشمیریوں نے یک طرفہ اقدامات کو دل سے قبول کر لیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی اپنے روایتی دور کو پیچھے چھوڑ کر ایک جدید، علمی اور ٹکنالوجیکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ شخصیات کی وفات یا گرفتاری سے پیدا ہونے والا خلاعارضی ہے، کیونکہ کشمیریوں کا جذبۂ خودارادیت اب ان کی اپنی بقا کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ معرکہ اب صرف روایتی مزاحمت کا نہیں، بلکہ مستند ڈیٹا، عالمی قانون کی کتاب، اور اسٹرے ٹیجک ابلاغی مہم کا ہے۔ مقبوضہ وادی کی خاموش مزاحمت، آزاد کشمیر کی بیداری، پاکستان کے نوجوانوں کی تکنیکی پشت پناہی، اور بین الاقوامی سطح پر لابنگ مل کر ایک ایسا تزویراتی تال میل بناسکتے ہیں، جو مایوسی کے اندھیروں کو چیر کر مستقبل کی تاریخ کا رخ موڑنے کا اہل ٹھیرے گا۔
_______________
'کیا کسی معاشرے میں کسی خاص نظریے کی مقبولیت، محض فیشن یا پروپیگنڈے کا نتیجہ ہوتی ہے؟‘ یا ’پھر کہیں کچھ حقیقی مسائل ہوتے ہیں، جو لوگوں کو کسی متبادل نظریے یا نئے فکری راستے کی جانب مائل کرتے ہیں؟‘ آج امریکا میں ’فیمی نزم‘ (Feminism: نسائیت)کی چوتھی لہر سے بڑی حد تک مایوسی، بعض فیمینسٹ رجحانات پر نظرثانی، اور روایتی طرزِ زندگی کی طرف جزوی واپسی کی بحثیں زورشور سے جاری ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا یہ تبدیلی اپنے اثرات پاکستان تک بھی پہنچائے گی؟ اگر پہنچائے گی تو اسے کس تناظر میں دیکھنا چاہیے؟‘
امریکا میں ’فیمینسٹ‘ رجحانات کے خلاف اٹھتی لہر پر مختلف فورموں پر دردمندی سے بات کا آغاز ہو چکا ہے۔ PEW Research Center کے مطابق تقریباً ۳۹ فی صد امریکی خواتین خود کو فیمینسٹ شناخت کے ساتھ منسلک نہیں کرتیں۔۱
’پبلک ریلجن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (PRRI) کی رپورٹ کے مطابق ملینیل (Millennials)، یعنی ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۶ء کے دوران پیدا ہونے والی امریکی خواتین میں ۵۳ فی صد نے خود کو فیمینسٹ شناخت کے ساتھ منسلک نہیں کیا۔۲ امریکی مردم شماری کے عمر اور جنس سے متعلق تخمینوں کی بنیاد پر یہ تناسب تقریباً دو کروڑ امریکی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے۔
اسی طرح کنگز کالج لندن سے شائع شدہ رپورٹ IPSOS کے مطابق: ’’امریکا میں جین زی (Gen Z) کی ۴۶ فی صد خواتین خود کو فیمینسٹ نہیں مانتیں‘‘۳ اور یہ تعداد بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے۔
’فیڈرل بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس‘ (FBLS) کی شائع شدہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ’’حالیہ برسوں میں خواتین لیبر فورس میں سے تین لاکھ خواتین نے کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے کو ترجیح دی ہے، ان میں بڑی تعداد نوجوان ماؤں کی ہے‘‘۔۴ The Catalyst Survey Data on Exit کے مطابق: ’’ان خواتین کی بڑی تعداد نے استعفا اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال خود کر سکیں‘‘۔۵ ایک دلچسپ اور اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ۲۰۲۳ء میں امریکی اداروں، دفتروں اور کمپنیوں میں کام کرنے والی خواتین میں سے ۹۰ فی صد سے زائد اپنے شعبے میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی خواہاں تھیں اور میک کنز سے ( McKinsey) کی رپورٹ کے مطابق: ’’یہ تعداد بڑھنے کے بجائے حیرت انگیز طور پر گھٹ کر ۸۰ فی صد رہ گئی ہے‘‘۔۶
امریکا کی نامور سماجی تجزیہ کار اور دی نیویارک ٹائمز کی سابق کالم نگار لیسا بیلکن (Lisa Belkin) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جدید فیمی نزم نے عورت پر دباؤ ڈال کر اسے ’سپر وومن‘ بنانے کی کوشش کی، جو بیک وقت ایک بہترین ملازم، بہترین ماں اور بہترین بیوی بن کر دکھائے۔ لیکن خواتین اس مسلسل مادی دوڑ اور ۱۲،۱۲گھنٹے کی ملازمتوں سے تھک گئی ہیں‘‘۔۷ امریکا کی مشہور ہنٹرکالج اور سٹی یونی ورسٹی آف نیویارک کی ماہرِ عمرانیات (Sociologist) پروفیسر پامیلا اسٹون (Pamela Stone) نے اس موضوع پر باقاعدہ تحقیقی کتاب لکھی ہے، اور اپنے عمرانیاتی سروے میں دریافت کیا کہ ’’کامیاب اور اعلیٰ عہدوں پر فائز امریکی خواتین کا ملازمتیں چھوڑنا کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا‘‘۔ پامیلا کے مطابق: ’’فیمی نزم نے عورت کو افرادی قوت کا حصہ تو بنادیا، لیکن معاشرے اور ریاست نے اس کے بچوں کی پرورش کے نظام کو آسان نہیں بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں خواتین نے اپنے خاندان اور بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے شعوری طور پر فیمی نزم کے ’سب کچھ پالینے‘ (Having it all) کے بیانیے سے بیک آؤٹ کیا اور گھر کو ترجیح دی‘‘۔۸
سماجی ماہرین کے مطابق اس واضح تبدیلی میں اگر ایک طرف مادہ پرستانہ کاروباری کلچر کی سختیاں کارفرما ہیں، تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر روز بروز ترقی پاتا ’ٹریڈ وائف‘ (روایتی بیوی)کا رجحان بھی بڑی حد تک اثر انداز ہو رہا ہے۔ جدید ٹریڈ وائف (روایتی بیوی) امریکی معاشرے میں (خاص طور پر جین زی اور ملینیلز کے درمیان) اس وقت ایک وائرل بیانیہ ہے، جسے ماہرین عمرانیات Tradwife Movement (روایتی بیوی تحریک)کہتے ہیں۔ اس کے تحت لاکھوں امریکی نوجوان لڑکیاں سوشل میڈیا پر کھل کر فیمی نزم کے اس بیانیے کو مسترد کر رہی ہیں کہ ’’عورت کی پہچان صرف اس کا ’کیریئر‘ ہے‘‘۔ وہ فخر سے کہتی ہیں:’’ وہ ۹ سے ۵ کی کارپوریٹ غلامی چھوڑ کر اپنے شوہر اور گھر کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا چاہتی ہیں، کیونکہ کیریئر کی دوڑ نے ان سے ان کا سکون چھین لیا ہے‘‘۔ آسان الفاظ میں ٹریڈ وائف لبرل فیمی نزم کی لائی ہوئی تھکن کا ردِ عمل ہے۔ عورتیں اس تھکن سے بچنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ درحقیقت یہ کلچر سرمایہ دارانہ نظام کی اندھی دوڑ کے خلاف احتجاج ہے، جہاں عورتیں پروڈکشن (مادی پیداوار) کے بجائے اپنے گھر کے سکون اور انسانی رشتوں کی پرورش کو ترجیح دے رہی ہیں۔
’سوشل میڈیا ٹریکنگ‘ اور ’ہیش ٹیگ اینالیٹکس‘ کی متعدد رپورٹس کے مطابق ٹریڈ وائف اور ہوم میکنگ سے متعلق سیکڑوں ہزار اکاؤنٹس مختلف پلیٹ فارموں پر فعال ہیں، اور ان میں سے ہزاروں اکاؤنٹس کے سب سے زیادہ ویوز امریکا سے حاصل ہوتے ہیں، کیونکہ اس رجحان کا آغاز بنیادی طور پر امریکی خواتین سے ہوا تھا۔۹ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ اس رجحان (trend) کا معاشی، بصری (ویوز) اور نظریاتی مرکز بڑی حد تک امریکا ہی ہے۔ اگرچہ متعدد ٹریڈ وائف انفلوئنسرز خود سوشل میڈیا کے ذریعے آمدنی بھی حاصل کرتی ہیں، تاہم ان کے مواد سے بہت سے ناظرین تک یہ تاثر پہنچتا ہے کہ عورت کے لیے گھر اور خاندان کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا ایک زیادہ پُرسکون، بامعنی اور قابلِ ترجیح طرزِ زندگی ہو سکتا ہے۔
۱۸۴۸ء میں جنم لینے والی ’فیمی نزم کی تحریک‘ نے پاکستانی معاشرے میں اپنا اثر و نفوذ پیدا کرنے میں ایک طویل عرصہ لگایا۔ ۲۰۱۸ء میں اس تحریک میں تیزی پیدا ہوئی، جب سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا نے مشترکہ کوشش سے ان نظریات کو پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات تک پہنچایا۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ ’’عمرانیات کے اصولوں کے مطابق کسی نظریے کے مقبول ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سب اسے پسند کر رہے ہیں یا اپنا رہے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں تک کوئی نظریہ پہنچ چکا ہے اور سب اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں‘‘۔
اس حقیقت کو جاننا نہایت اہم ہے کہ غالب معاشرہ (Dominant Society) دیگر تمام معاشروں پر گہرے سماجی اثرات مرتب کرتا ہے۔ عمرانیات میں اسے ایک دلچسپ اصطلاح ’ثقافتی سامراجیت‘ (Cultural Imperialism) کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی کمزور یا ’مغلوب معاشرے‘، ’لیڈر معاشرے‘ کے طرزِ زندگی کو ’جدیدیت‘ سمجھنے لگتے ہیں (جیسے انگریزی زبان اور مغربی لباس کا عالمی معیار بن جانا)۔ بالخصوص معاشرتی اخلاقیات، خاندانی نظام اور حقوق کے تصورات ایک غالب معاشرے سے مغلوب معاشروں کی جانب ضرور سفر کرتے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ لٹریچر (چھاپہ خانوں) کے دور میں ان نظریات کو دوسرے معاشروں تک پہنچنے میں ۱۰۰ سے ۱۵۰سال لگ جاتے تھے۔ پرنٹ میڈیا کے دور میں یہ وقت ۱۰ سے ۲۰ برس ہو گیا۔ ریڈیو، ٹی وی اور سنیما کے دور نے اس مدت کو مزید کم کر کے ۵ سے ۱۰سال کر دیا، اور آج یعنی سوشل میڈیا کے دور میں ایک نظریے کو سفر کرنے میں چند ہفتے، چند دن یا چند گھنٹے ہی درکار ہیں۔
یہاں یہ حقیقت بھی نا قابلِ تردید ہے کہ جغرافیائی قربت، مشترکہ تاریخ اور کم و بیش ایک جیسے میڈیا تک رسائی کے باوجودجس طرح انڈین معاشرے میں فیمینسٹ نظریات نے خاندانی نظام، صنفی کرداروں اور سماجی توقعات کے بارے میں نمایاں فکری اور سماجی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، پاکستان میں ویسی کامیابی حاصل نہ کی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ریاستوں کی بنیادی نظریاتی اساس رہی۔ البتہ اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ پاکستانی معاشرہ جزوی طور پر فیمی نزم سے متاثر بھی ہوا اور اس کے اثرات بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔
اگر ہم ’پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس‘ (PBS) ۱۰؎ اور ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے مقداری (Quantitative) ڈیٹا کا جائزہ لیں ۱۱؎ تو یہ اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ PBS سے جاری ہونے والے ’لیبر فورس سروے‘ (LFS) کے مطابق گذشتہ دو عشروں میں متوسط طبقے کی خواتین میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ’لیبر فورس سروے‘ کی رپورٹ کے مطابق خواتین کی افرادی قوت کی شرح میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ بظاہر چند فی صد، لیکن درحقیقت لاکھوں پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی بڑی حد تک دیہی علاقوں میں بھی پائی گئی ہے۔ سول اور کارپوریٹ سیکٹر میں گذشتہ عشرے میں خواتین کی تعداد میں ۱۵ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ پاکستانی فری لانسنگ میں خواتین کا حصہ ۱۵ سے ۲۰ فی صد بڑھ چکا ہے۔؎ ۱۲ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے مطابق، پاکستانی یونی ورسٹیوں میں اب طالبات کی شرح ۴۶ فی صد سے تجاوز کر چکی ہے اور وہ بزنس، لا اور سوشل سائنسز جیسے غیر روایتی شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔؎ ۱۳ یہی وہ شعبے ہیں جہاں سے فیمینسٹ بیانیے کو فکری جِلا ملتی ہے۔
ہماری عائلی عدالتوں میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین کی طرف سے خلع، نان و نفقہ اور گھریلو تشدد کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمات میں ۱۵ سے ۲۵ فی صد سالانہ کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خلع کے ۷۰فی صد سے زائد دعووں میں خواتین اپنے مالی اور قانونی حقوق کا جارحانہ مطالبہ کر رہی ہیں۔ سماجی ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ گھریلو تشدد اچانک بڑھ گیا ہے، بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ رپورٹنگ کا شعور بتدریج بڑھ رہا ہے۔ عورتوں پر گھریلو تشدد، ہراسانی اور غیر منصفانہ رویے پاکستانی معاشرے کے تلخ حقائق ہیں، جن سے نظریں چرانا مجرمانہ غفلت کہلائے گی۔ فیمینسٹ نظریے کی جانب پاکستانی خواتین کے مائل ہونے کی وجہ صرف اس نظریے کی مادی کشش نہیں ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں موجود خامیوں اور ناانصافیوں نے فیمی نزم کو پاکستانی عورت کے لیے پُرکشش بنا دیا ہے۔ یہ ایک ایسی افسوس ناک حقیقت ہے، جسے جتنی جلدی قبول کر لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔
اس تلخ حقیقت کے تناظر میں، اب سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب میں اُٹھنے والی یہ نئی تبدیلی، یعنی فیمی نزم سے بیزاری اور ’ٹریڈ وائف‘ کا رجحان، جب سوشل میڈیا کی ہائپر کنیکٹیوٹی کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، تو ہماری عورت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
عمرانیات کا ایک اصول ہمیں اس الجھن سے نکلنے کا راستہ دکھاتا ہے، جسے ’لیپ فراگنگ‘ (Leapfrogging) کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت مغلوب معاشروں کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ ترقی کی اس تمام تکلیف دہ اور طویل تاریخ سے گزریں، جس سے گزر کر مرکز (غالب معاشرہ) وہاں تک پہنچا ہے، بلکہ وہ براہِ راست مرکز کے تجربات اور نتائج سے فائدہ اٹھا کر اپنا وقت اور سماجی نقصان بچا سکتے ہیں۔ مغرب کی عورت نے معاشی آزادی اور ’سپر وومن‘ بننے کی مادی دوڑ میں ڈیڑھ صدی گزاری، جس کی قیمت انھوں نے اپنے خاندانی نظام کی تباہی اور شدید ذہنی تھکن کی صورت میں چکائی، اور آج وہ واپس گھر کے سکون کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ پاکستانی معاشرے کے لیے سوشل میڈیا کی ہائپر کنیکٹیوٹی ایک خطرہ نہیں بلکہ ایک نعمت اور بہترین موقع بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اس کا ادراک کریں۔ ہمیں اپنی عورت کو مغرب کی لائی ہوئی اس تھکن اور بحرانوں سے گزارنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں مرکز کے اس حاصلِ مطالعہ سے سبق سیکھنا چاہیے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فیمی نزم کی مغربی اصطلاحات پر اندھی جنگیں لڑنے کے بجائے، پاکستانی عورت کے حقیقی مسائل کو تسلیم کریں اور انھیں حل کریں۔ ہماری عورت کا اصل مسئلہ کیریئر کی اندھی دوڑ یا خاندانی نظام سے بغاوت نہیں، بلکہ سستی تعلیم، صحت کی سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ میں تحفظ، وراثت میں شرعی حصہ اور کام کی جگہ پر عزتِ نفس ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر انقلابی اقدامات اٹھائیں۔ ریاست اور معاشرے کو مل کر ایسے قوانین کا مؤثر نفاذ ممکن بنانا ہوگا جو عورت کو تحفظ فراہم کریں۔ نصاب اور میڈیا کے ذریعے مردوں کی فکری تربیت کرنی ہوگی، تاکہ وہ عورت کو کسی کمتر مخلوق کے بجائے ایک معزز شہری اور برابر کا انسان سمجھیں، اور ایک ایسا متوازن سماجی ڈھانچا بنانا ہوگا، جہاں عورت کو اپنے حقوق کے لیے اپنے گھر اور اقدار کو قربان نہ کرنا پڑے۔ اس کے لیے اگر مرد و زن کو اسلام کے اخلاقی اصولوں سے ہی آراستہ کر دیا جائے تو کافی ہوگا۔ اگر ہم نے آج اپنی فکری سمت درست نہ کی، اور معاشرتی ناانصافیاں برقرار رہیں، تو خواتین متبادل نظریاتی بیانیوں کی طرف مزید مائل ہو سکتی ہیں، جس سے معاشرے میں نئی فکری اور سماجی کش مکش جنم لے سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے عقل و دانش سے کام لیا، تو ہم اپنے مضبوط خاندانی تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنی عورت کو وہ تمام حقوق اور حقیقی باوقار مقام دے سکتے ہیں، جس کی وہ حق دار ہے۔
حوالہ جات
1. PEW Research Center (2020). Feminism and Women's Identity in the United States. Pew Research Data Index on Social Trends.
2. PRRI (Public Religion Research Institute)(2022). Millennial Generations and Changing Dynamics of Social Movements in America. PRRI Annual Report.
3. Ipsos King’s College London (2023). Global Trends and Gen Z Attitudes Toward Feminism and Gender Equality. International Social Research Series.
4. Federal Bureau of Labor Statistics (BLS) (2026). Women in the Labor Force: Employment Status and Trends. U.S. Department of Labor Annual Report.
5. The Catalyst (2024). The Corporate Exit: Why Women and Young Mothers Leave the Workplace? Catalyst Global Survey Data.
6. McKinsey Company (2026). Women in the Workplace 2026 Report. McKinsey Co. Global Management Insights in partnership with LeanIn.Org.
7. Lisa Belkin (2003)."The Opt-Out Revolution". The New York Times Magazine (Updated Perspectives 2023).
8. Pamela Stone, 2007. Opting Out Why Women Really Quit Careers and Head Home. University of California Press (Hunter College / CUNY Case Studies).
9. Social Media Analytics (TikTok Instagram Data) (2024-2025). The Rise of Visual Consumerism and Global Footprint of Tradwife Movement.
10. Pakistan Bureau of Statistics (PBS((2021-2022). Labour Force Survey (LFS) 2020-21. Government of Pakistan, Islamabad.
11. Aurat Foundation (2023). Annual Monitoring Report on Gender-Based Violence and Access to Family Courts in Pakistan. Aurat Publication and Information Service Foundation.
12. Ministry of Human Rights (MoHR) (2025). Progress on Anti-Harassment Laws and Women Economic Empowerment in Pakistan. Government of Pakistan.
13. Higher Education Commission (HEC) (2024-2025). Annual Progress Report on Female Enrollment and Gender Diversity in Pakistani Universities. Government of Pakistan.
_______________
بیسویں صدی کے اواخر میں ’اسلامائزیشن آف نالج‘ کی علمی تحریک عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنی۔ آسان الفاظ میں اس تحریک کا مطمح نظر یہ تھا کہ مروجہ علوم کی اسلامی نہج پر تدوینِ نو کی جائے۔ اس علمی تحریک کے علَم برداروں میں اسماعیل راجی الفاروقی، سید نقیب العطاس، اور ضیاء الدین سردار جیسے اسلامی دانش ور شامل تھے۔ استدلالی بنیادوں پر رائج افکار و تصورات کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنے کا کام ان سے پہلے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے انجام دیا تھا،جن کی اصولی رہنمائی سے اس علمی تحریک نے غذا حاصل کی۔ آج اکیسویں صدی میں اس کام کو پختہ تر بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس ضمن میں جہاں پچھلی صدی کے علمی و فکری تجربات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، وہیں گیارھویں صدی میں حجۃ الاسلام ابو حامد محمد الغزالی (م: ۱۹دسمبر ۱۱۱۱ء) کا ذہنی سفر اور فکری مجاہدہ بھی روشنی کا مینار ہے۔
امام غزالی، طوس(خراسان) کے معاشی اعتبار سے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد پڑھے لکھے نہ تھے، مگر علم کی اہمیت جانتے تھے۔ انتقال کے وقت انھوں نے ننھے غزالی کو اپنے دوست کے سپرد کیا اور وصیت کی کہ ان کے ’’پڑھنے کا انتظام کیا جائے‘‘۔ مگر ان کے صوفی دوست اپنی تنگ دستی کی وجہ سے یہ بوجھ زیادہ دنوں تک نہ اُٹھا سکے اور غزالی ان کی ہدایت پر مقامی سطح کی خانگی درس گاہوں سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں جرجان اور نیشاپور کے علما سے استفادہ کیا۔ حصولِ علم کے لیے دُوردراز مقامات کے سفر کیے اور مختلف علوم و فنون میں درک پیدا کیا۔
ایسے ہی ایک سفر کے دوران ان کے قافلے پر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا اور سارا سامان لٹ گیا۔ غزالی کو اپنے مال و اسباب کے لٹنے سے زیادہ غم اس بات کا تھا کہ غصب شدہ سامان میں ان کے وہ کاغذات بھی تھے، جو انھوں نے اساتذہ کے درس سن کر اور سوالات پوچھ کر اکٹھا کیے تھے۔ اس انمول خزانے کے لٹنے کا غم ایسا شدید تھا کہ نوعمر غزالی کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ڈاکوؤں کے سردار کےپاس چلے گئے اور اپنے کاغذات واپس مانگے، جو بہرحال ان قزاقوں کے کسی کام نہیں آنے والے تھے۔ ڈاکوؤں کے سردار نے ان کے کاغذات واپس کردیے، لیکن ساتھ ہی یہ طنز بھی جڑ دیا کہ ’’لڑکے،اگر آڑی ترچھی لکیروں والے چند کاغذوں کی محرومی سے تمھارا ذہن کورا ہوجائے تو تم نے خوب ہی علم حاصل کیا ہے!عقل مند انسان کے لیے زندگی کا ہر لمحہ درس اور ہر جا درس گاہ ہے‘‘۔
غزالی کے دل میں ڈاکو کی بات چبھ گئی۔ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ میرا سرمایۂ علم تو وہی ہے جو میرے اپنے ذہن اور شعور کا حصہ بن جائے ۔ فکری محاذ پر غزالی نے پٹی ہوئی پگڈنڈیوں پر چہل قدمی کے بجائے مجتہدانہ عزائم کے ساتھ جو نئی شاہراہیں بنائیں، وہ علم کو اپنے شعور کا حصہ بنائے بغیر محض معلومات کی جگالی کے ذریعے ممکن نہ تھا۔
امام غزالی علم و تعلم کے مراحل سے کامیاب گزرے اور علم کی بنا پر جاہ و منصب، مال و دولت، عزّت و شہرت، قدر و منزلت کی جن عظیم ترین دنیاوی کامیابیوں کا تصور کیا جاسکتا ہے، ان سب پر فرماں روائی کی۔ ۳۴ برس کی عمر میں وقت کی سب سے بڑی جامعہ کے سب سے بڑے علمی منصب پر فائز ہوگئے۔ مگر یہ سب امام غزالی کو مطمئن نہ کرسکا۔ سماجی، سیاسی، تعلیمی خلفشار، فکری گمراہیاں، فرقہ وارانہ اختلافات، عوام کی اخلاقی زبوں حالی، خواص کی بے راہروی، الغرض زندگی کی کوئی کَل انھیں سیدھی نظر نہیں آئی۔
ایسے میں اپنے عظیم منصب، سیاسی اثر و رسوخ،علمی مصروفیت اور مادی خوش حالی کے محور میں داد و تحسین سے لطف اندوز ہونے کے بجائے وہ دنیا سے کنارہ کش ہوکر آزادانہ غور و فکر کے لیے مرتکز ہوگئے۔ انھوں نے کائنات پر، انسانی زندگی پر، مقصد زندگی پر، قرآن و سنت پر، تاریخ و فلسفہ پر، مسلمانوں کے مسلکی اختلافات پر، اور انسانی نفس اور قلبی کیفیات پر غور و فکر کیا اور دوبارہ منظرعام پر آئے تو اپنی اجتہادی بصیرت سے علمی و فکری میدان میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ یہ انقلاب ایسا مؤثر اور سحر انگیز تھا کہ آنے والی کئی صدیاں ان کی خوشہ چیں رہیں۔
امام غزالی کے اجتہادی کام کی مختلف جہتیں ہیں، جن میں سے صرف تعلیم کی اسلامی تشکیل (اسلامائزیشن) کے رہنما خطوط کے طور پر چند نکات کا مطالعہ مقصود ہے۔
امام غزالی کا زمانہ علمی دنیا میں فلسفے کے قہرواستبداد کا زمانہ تھا۔ بالفاظِ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یونانی فلسفہ عقل کا نام لے کر اسلامی عقائد پر حملہ آور تھا۔ علوم عقلیہ و یونانی فلسفہ کے ماہرین مسائل کو انتہائی پیچیدگی کے ساتھ کچھ یوں بیان کرتے تھے کہ ان کی علمیت اور عقلیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا، جب کہ علما و فقہا بھی عموماً عقلیت کے جادو سے باہر نہ تھے۔
اپنی کتاب تہافت الفلاسفہ کے مقدمے میں امام غزالی لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو عقل کے زعم میں مبتلا ہیں، مذہبی احکام و تعلیمات کو حقیر سمجھتے ہیں، فلسفۂ یونان سے مرعوب ہیں اور اسلامی عقائد کے سلسلے میں احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ان حالات کے پیش نظرامام غزالی نے ارادہ کیا کہ فلاسفۂ یونان کا علمی محاکمہ کریں تاکہ عقل پر مرعوبیت کا جو پردہ پڑ گیا ہے اسے چاک کیا جاسکے۔
یونانی فلسفیوں نے اپنے نظریات کو انتہائی پیچیدہ شکل میں پیش کیا تھا۔ ان کی تقلید میں فلسفۂ یونان کے عربی شارحین نے بھی اسی پیچ در پیچ زبان کو اختیار کیا تھا، جس کی وجہ سے فلسفے کے مسائل گنجلک اور عوامی دسترس سے باہر تھے۔ مختصراً یہ کہ مشاعرے میں پڑھے گئے مشکل شعر کی طرح فلسفہ مرعوب و متاثر تو کرتا تھا، مگر سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اپنی کتاب مقاصد الفلاسفہکے ذریعے امام غزالی نے فلسفہ کو عام فہم بنایا۔ فلسفے کے دقیق و پیچیدہ مسائل کو اور فلسفے کے طلسم کو توڑنے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ذریعے فلسفے کی خوبی اور خامی نکھر کر سامنے آگئی۔
اس زمانے کے عام علما و فقہا کی طرح امام غزالی نے فلسفہ (جو آج کے عرف میں فلسفہ، سائنس اور ریاضی کا مجموعہ تھا) کو بالکلیہ رد نہیں کیا، بلکہ تحقیق و تنقیح کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے فلسفیانہ مسائل کی تین اقسام بیان کیں:
اوّل: وہ فلسفیانہ مسائل جو پیچیدہ فلسفیانہ اصطلاحوں کے استعمال کی وجہ سے اسلام مخالف نظر آتے ہیں، مثلاً خدا کے بجائے جوہرِ اصلی یا غایتِ اولیٰ وغیرہ اصطلاحات۔
دوم: وہ فلسفیانہ مسائل جو اسلام کے اصول و عقائد سے نہیں ٹکراتے، مثلاً چاند گہن وغیرہ کی مبنی بر مشاہدہ سائنسی توجیہات۔
سوم: وہ فلسفیانہ مسائل جو اسلام کے اصولوں سے ٹکراتے ہیں، مثلاً عالم کا ازلی(قدیم) ہونا یا ’حشر اجساد‘ کا انکار وغیرہ۔
اس تقسیم نے بہت سی پیچیدگیوں کو آسان کردیا۔ امام غزالی نے ہر قسم کے مسائل سے تعرض کا صحیح طریقہ سمجھایا اور راستہ دکھایا۔ انھوں نے بتایا کہ پہلی قسم کے مسائل کا حل فلسفیانہ اصطلاحات میں توسع اور تشریح جدید (reinterpretation) ہے۔ دوسری قسم کے مسائل کا حل دین کے اصولوں کو متعین کرنا، نیز دین اور احکام دین کے اثبات کے لیے غیرمعقول دلائل پر انحصار کی روش ترک کرنا ہے۔ تیسری قسم کے مسائل کا حل عقلی تجزیہ اور دلائل کی روشنی میں تنقید و ابطال ہے۔
امام غزالی نے اسلام کے بنیادی اصولوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ ان سے پہلے خوارج، جبریہ، قدریہ،معتزلہ، مرجیہ اور نہ جانے کن کن فرقوں نے اسلام کی یک رُخی تعبیرات پیش کرکے اسلام کو ایک چیستاں بنادیا تھا اور امت کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا تھا۔ امام غزالی نے اسلام کو ایک کُل کی حیثیت سے پیش کیا اور مختلف انتہاپسندانہ تعبیرات کے درمیان اس نقطۂ اعتدال کی طرف آواز دی جو اسلام کی اصل پکار تھی۔ یوں یک رُخی تعبیرات اور فروعی مسائل کی بنیاد پر اُمت کی مذہبی زندگی کا شیرازہ منتشر ہورہا تھا، اس پر لگام لگائی،فرقہ وارانہ کشاکش اور فتنۂ تکفیر کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔علاوہ ازیں امام غزالی نے اسلامی عقائد کی معقول تشریح کی۔ شرعی احکام و عبادات کے اسرار و مصالح پر ایسے دلائل فراہم کیے، کہ مروجہ علوم عقلیہ کا سہارا لے کر اسلامی عقائد، احکام و عبادات پر اعتراض ممکن نہ رہا۔
فکرِ غزالی کی روشن کرنیں جدید یورپ پر بھی پڑیں۔ یہ صحیح ہے کہ چرچ نے امام غزالی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور سائنسی جدت کے خلاف پوری مذہبی شدت کا مظاہرہ کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا معاشرہ بالفعل الحادی فکر کا علَم بردار بن گیا۔ البتہ عقل کو حدود آشنا بنانے کے علمی و عقلی طرزِ استدلال کی جو بنا امام غزالی نے ڈالی، اس کی بازگشت روجر بیکن (۱۲۲۰ء-۱۲۹۲ء) اور عمانویل کانٹ (۱۷۲۴ء- ۱۸۰۴ء) جیسے مفکرین میں سنائی دی۔ یہ یورپ سے فلسفۂ یونان کے رُعب و دبدبے کا خاتمہ اور نشاتِ ثانیہ کے آغاز کا پیغام ثابت ہوا۔ اس طرح یورپ میں نرے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے مشاہدات سے نتائج اخذ کرنے کی روایت پروان چڑھی۔
ٹکنالوجی کے فرق سے قطع نظر علمی و نظری طور پر حالات آج اکیسویں صدی میں بھی اصولاً ویسے ہی ہیں، جیسے گیارھویں صدی میں تھے۔ دنیا آج بھی ان کی منتظر ہے جو فلسفہ، سائنس، سیاسیات، معاشیات، عمرانیات و دیگر علوم میں امام غزالی جیسا قائدانہ کردار ادا کریں۔ کاش! ہم وقت کے اقبال کو ’’فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی‘‘کا شکوہ نہ کرنے دیں۔کاش! آج میدانِ علم کے شاہینوں میں یہ شعور پیدا ہوجائے کہ ان کا بسیرا پی ایچ ڈی کی ڈگری،پیشۂ پروفیسری یا منصب وائس چانسلری کے گنبد میں نہیں بلکہ اسلامائزیشن آف نالج کی چٹانوں پر ہونا چاہیے۔
کاش! ہم اپنے اختصاصی مضمون میں مجتہدانہ درک حاصل کرکے امام غزالی کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ اس اختصاصی مضمون کے اصول و کلیات کو اسلامی بنیادوں پر پرکھیں،حق کو بہ دلائل قبول کریں اور ناحق کو بہ دلائل رد کریں اور ایسا کرتے وقت کسی مرعوبیت، کسی لومۃ و لائم کی پروا کیے بغیر صرف قرآن و سنت کی پیروی کو پیش نظر رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی نہج پر علمی کاوشوں کے ذریعے علوم کی مختلف شاخوں پر کچھ ایسے پھل پھول کھلائے جائیں کہ دنیا اسلام کے علمی منہج کی افادیت کی قائل ہوجائے۔ اسلامی بنیادوں پرCreation of Knowledgeکے بغیر اسلامائزیشن آف نالج کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
_______________
سوال : میں ایک امیر شخص کی بیوی ہوں۔ میرے شوہر کا بینک بیلنس بھی کافی مضبوط ہے۔ لیکن بد قسمتی سے وہ انتہائی بخیل ہے۔ میرے اور میرے بچوں کے نفقہ میں انتہائی بخیلی سے کام لیتا ہے۔ خرچ کے لیے بہت تھوڑی رقم دیتا ہے جو کہ ایک دولت مند شخص کی بیوی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے کم تر دولت والوں کی حالت بھی ہم سے بہت اچھی ہے۔ ایسی حالت میں کیا میرے لیے جائز ہوگا کہ میں اپنی ضرورتوں کے لیے اپنے شوہر کے پیسے بغیر انھیں بتائے لے لیا کروں اور اپنی ضرورتوں پر انھیں خرچ کروں؟
جواب : نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک طرف کچھ شوہر تو ایسے ہیں جو اپنی بیوی پر انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرتے ہیں، اور ان پر اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں، اور دوسری طرف کچھ ایسے شوہر بھی ہیں جو انتہائی بخیل ہیں۔ اپنی بیوی اور بال بچوں کے نان نفقہ میں حد درجہ بخل سے کام لینا، یہ دونوں صورتیں غلط ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر بات میں میانہ روی اور اعتدال کا حکم دیا ہے۔ پیسہ خرچ کرنے کے معاملے میں بھی اللہ نے اسی اعتدال کا حکم دیا ہے:
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۲۹ (بنی اسرائیل۱۷: ۲۹) نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے (یعنی نہ فضول خرچی کرو اور نہ کنجوسی کرو) کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔
اور اپنے نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۶۷
(الفرقان ۲۵: ۶۷)اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ بخل کرتے ہیں، بلکہ ان کا خرچ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔
بیوی اور بال بچوں کے نفقے میں میانہ روی کی کیا صورت ہوگی؟ شریعت نے اس کی کوئی حد تو مقرر نہیں کی ہے البتہ قرآن و حدیث کی رو سے میانہ روی یہ ہے کہ ان کی ضرورتوں کو معروف طریقے سے پورا کیا جائے۔ معروف طریقے سے مراد یہ ہے کہ بیوی اور بچوں کی جائز ضروریات اور مناسب خواہشوں کو مدنظر رکھا جائے۔ بیوی نے جن حالات میں شوہر کو پایا ہے، ان کا خیال کیا جائے۔ شوہر خود کس قدر صاحبِ حیثیت ہے، اس کو نظر میں رکھا جائے، شوہر اگر مال دار ہے تو اسے اپنی اچھی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا چاہیے اور اگر تنگ دست ہے تو اپنی بساط بھر اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔ قرآن نے اس طرف اشارہ کیا ہے:
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ۰ۭ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْہِ رِزْقُہٗ فَلْيُنْفِقْ مِـمَّآ اٰتٰىہُ اللہُ۰ۭ (الطلاق۶۵: ۷) خوش حال آدمی اپنی خوش حالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہے وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔
دوسری آیت ہے:
وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۰ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۰ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ۰ۚ (البقرہ ۲: ۲۳۶) اس صورت میں انھیں کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔ خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔
امام غزالی نے اپنی کتاب الاحیاء میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی پر نہ کنجوسی کرے اور نہ فضول خرچی کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (اعراف ۷:۳۱)، یعنی کھاؤ پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِهِ(ترمذی)یعنی تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک پیسہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو غلام آزاد کرنے کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ ایک وہ ہے جو غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے نان نفقے پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ باعث اجر وثواب وہ پیسہ ہے جو اپنے گھر والوں کے نان نفقے پر خرچ کیا جائے۔
حضرت ابو سفیانؓ کی بیوی ہند کو بھی یہ شکایت تھی کہ ان کے شوہر ان کے نان نفقے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ ہند نے اپنا معاملہ نبیؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا:
خُذِیْ مَا یَکْفِیْکِ وَ وَلَدَکِ بِالْمَعْرُوْفِ(بخاری ، مسلم)تم اتنا لے لیا کرو جو تمھارے اور تمھارے بچوں کے لیے معروف طریقے سے کافی ہو۔
اس حدیث کی رُو سے آپ بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر اتنا کچھ لے سکتی ہیں جو معروف طریقے سے آپ کی اور آپ کے بال بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو، اور کافی سے زیادہ لینا کسی طرح درست نہیں ہے۔(محمد یوسف القرضاوی)
سوال : بعض لوگوں کے لیے ’مرحوم و مغفور‘ لکھا جاتا ہے۔ مرحوم کے معنی ہیں جس پر رحم کیا گیا ہو اور مغفور کے معنی ہیں بخشا ہوا یعنی جس کو بخش دیا گیا ہو۔ یہ لکھنا کس طرح صحیح ہے، جب کہ کسی کے پاس اس کا علم نہیں کہ کون بخشا گیا اور کون نہیں بخشا گیا؟
جواب : یہ دونوں لفظ بطور دُعا لکھے جاتے ہیں جیسے رحمہ اللہ اور غفرلہ، لکھا جاتا ہے۔ پہلے جملے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ ان پر رحم فرمائے اور دوسرے جملے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ ’مرحوم‘ رحمہ اللہ کی جگہ اور’ مغفور‘ غفرلہٗ کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ (سیّد احمد عروج قادری)
سوال : میرے ایک دوست جماعت کے ہمدرد تھے، اب کچھ سُست پڑتے جارہے ہیں۔ ان کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ جماعت میں ’صاحب ِ قال‘ بہت ہیں لیکن ’صاحب ِ حال‘ کی بہت کمی ہے۔ صاحب ِ تقویٰ قسم کے لوگ تو شاید ہی ہوں۔ جب میں نے ’صاحب ِ حال‘ لوگوں کی تعریف اور معیار تقویٰ کے متعلق دریافت کیا، تو وہ اس کے سوا کچھ نہ بتاسکے کہ یہ چیز بیان نہیں کی جاسکتی بلکہ صرف محسوس کی جاسکتی ہے۔
جواب :جب آپ کے دوست یہ نہیں بتاتے کہ ’صاحب ِ حال‘ لوگ کیسے ہوتے ہیں اور تقویٰ کا معیار کیا ہے، تو پھر ہمارے پاس انھیں مطمئن کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ بات بالکل صاف ہے کہ ’تقویٰ‘ اور ’حال‘ کے بارے میں ان کے ذہن میں کوئی تصور ضرور موجود ہے جس کی روشنی میں وہ جماعت کے اندر اس کی بہت کمی پاتے ہیں۔ انھیں اس تصور کو سامنے لانا چاہیے۔ تقویٰ اور متقین کے ذکر سے قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔ اس میں ان کی صفات واضح طور پر بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تقویٰ کے مدارج بھی متفاوت ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں متقین کی وہی صفات موجود ہیں جو قرآن میں پائی جاتی ہیں تو وہ آسانی سے نشان دہی کرسکتا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں افراد میں وہ صفات موجود نہیں ہیں یا کم ہیں، اور اگر قرآنی صفات کے علاوہ کچھ دوسری صفات اس نے ذہن میں رکھ لی ہیں جب بھی بتا سکتا ہے کہ فلاں باتیں جماعت کے افراد میں نہیں ہیں یا کم ہیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ یہ چیز محسوس کی جاسکتی ہے، بتائی نہیں جاسکتی، عجیب رویہ ہے۔ فی الواقع اس چیز کو اُلجھن یا اعتراض سے تعبیر کرنا ہی صحیح نہیں۔ آپ اپنے دوست سے پھر پوچھئے۔ اگر وہ نہ بتائیں تو دُعا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ دُعا اس بات کی کہ ہمارے اندروہ تقویٰ پیدا ہو، جو اللہ کو مطلوب ہے، اور دُعا اس بات کی بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دوست کی سُستی کو چُستی سے بدل دے۔(سیّد احمد عروج قادری)
_______________