نومبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

امام غزالیؒ، ہم اور اسلامائزیشن

ڈاکٹر خان یاسر | نومبر ۲۰۲۶ | تاریخ و سوانح

Responsive image Responsive image

بیسویں صدی کے اواخر میں ’اسلامائزیشن آف نالج‘ کی علمی تحریک عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنی۔ آسان الفاظ میں اس تحریک کا مطمح نظر یہ تھا کہ مروجہ علوم کی اسلامی نہج پر تدوینِ نو کی جائے۔ اس علمی تحریک کے علَم برداروں میں اسماعیل راجی الفاروقی، سید نقیب العطاس، اور ضیاء الدین سردار جیسے اسلامی دانش ور شامل تھے۔ استدلالی بنیادوں پر رائج افکار و تصورات کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنے کا کام ان سے پہلے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے انجام دیا تھا،جن کی اصولی رہنمائی سے اس علمی تحریک نے غذا حاصل کی۔ آج اکیسویں صدی میں اس کام کو پختہ تر بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس ضمن میں جہاں پچھلی صدی کے علمی و فکری تجربات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، وہیں گیارھویں صدی میں حجۃ الاسلام ابو حامد محمد الغزالی (م: ۱۹دسمبر ۱۱۱۱ء) کا ذہنی سفر اور فکری مجاہدہ بھی روشنی کا مینار ہے۔ 

امام غزالی، طوس(خراسان) کے معاشی اعتبار سے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد پڑھے لکھے نہ تھے، مگر علم کی اہمیت جانتے تھے۔ انتقال کے وقت انھوں نے ننھے غزالی کو اپنے دوست کے سپرد کیا اور وصیت کی کہ ان کے ’’پڑھنے کا انتظام کیا جائے‘‘۔ مگر ان کے صوفی دوست اپنی تنگ دستی کی وجہ سے یہ بوجھ زیادہ دنوں تک نہ اُٹھا سکے اور غزالی ان کی ہدایت پر مقامی سطح کی خانگی درس گاہوں سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں جرجان اور نیشاپور کے علما سے استفادہ کیا۔ حصولِ علم کے لیے دُوردراز مقامات کے سفر کیے اور مختلف علوم و فنون میں درک پیدا کیا۔ 

ایسے ہی ایک سفر کے دوران ان کے قافلے پر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا اور سارا سامان لٹ گیا۔ غزالی کو اپنے مال و اسباب کے لٹنے سے زیادہ غم اس بات کا تھا کہ غصب شدہ سامان میں ان کے وہ کاغذات بھی تھے، جو انھوں نے اساتذہ کے درس سن کر اور سوالات پوچھ کر اکٹھا کیے تھے۔ اس انمول خزانے کے لٹنے کا غم ایسا شدید تھا کہ نوعمر غزالی کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ڈاکوؤں کے سردار کےپاس چلے گئے اور اپنے کاغذات واپس مانگے، جو بہرحال ان قزاقوں کے کسی کام نہیں آنے والے تھے۔ ڈاکوؤں کے سردار نے ان کے کاغذات واپس کردیے، لیکن ساتھ ہی یہ طنز بھی جڑ دیا کہ ’’لڑکے،اگر آڑی ترچھی لکیروں والے چند کاغذوں کی محرومی سے تمھارا ذہن کورا ہوجائے تو تم نے خوب ہی علم حاصل کیا ہے!عقل مند انسان کے لیے زندگی کا ہر لمحہ درس اور ہر جا درس گاہ ہے‘‘۔

غزالی کے دل میں  ڈاکو کی بات چبھ گئی۔ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ میرا سرمایۂ علم تو وہی ہے جو میرے اپنے ذہن اور شعور کا حصہ بن جائے ۔ فکری محاذ پر غزالی نے پٹی ہوئی پگڈنڈیوں پر چہل قدمی کے بجائے مجتہدانہ عزائم کے ساتھ جو نئی شاہراہیں بنائیں، وہ علم کو اپنے شعور کا حصہ بنائے بغیر محض معلومات کی جگالی کے ذریعے ممکن نہ تھا۔ 

امام غزالی علم و تعلم کے مراحل سے کامیاب گزرے اور علم کی بنا پر جاہ و منصب، مال و دولت، عزّت و شہرت، قدر و منزلت کی جن عظیم ترین دنیاوی کامیابیوں کا تصور کیا جاسکتا ہے، ان سب پر  فرماں روائی کی۔ ۳۴ برس کی عمر میں وقت کی سب سے بڑی جامعہ کے سب سے بڑے علمی منصب پر فائز ہوگئے۔ مگر یہ سب امام غزالی کو مطمئن نہ کرسکا۔ سماجی، سیاسی، تعلیمی خلفشار، فکری گمراہیاں، فرقہ وارانہ اختلافات، عوام کی اخلاقی زبوں حالی، خواص کی بے راہروی، الغرض زندگی کی کوئی کَل انھیں سیدھی نظر نہیں آئی۔ 

ایسے میں اپنے عظیم منصب، سیاسی اثر و رسوخ،علمی مصروفیت اور مادی خوش حالی کے محور میں داد و تحسین سے لطف اندوز ہونے کے بجائے وہ دنیا سے کنارہ کش ہوکر آزادانہ غور و فکر کے لیے مرتکز ہوگئے۔ انھوں نے کائنات پر، انسانی زندگی پر، مقصد زندگی پر، قرآن و سنت پر، تاریخ و فلسفہ پر، مسلمانوں کے مسلکی اختلافات پر، اور انسانی نفس اور قلبی کیفیات پر غور و فکر کیا اور دوبارہ منظرعام پر آئے تو اپنی اجتہادی بصیرت سے علمی و فکری میدان میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ یہ انقلاب ایسا مؤثر اور سحر انگیز تھا کہ آنے والی کئی صدیاں ان کی خوشہ چیں رہیں۔ 

اجتہادی کام کی جہتیں

امام غزالی کے اجتہادی کام کی مختلف جہتیں ہیں، جن میں سے صرف تعلیم کی اسلامی تشکیل (اسلامائزیشن) کے رہنما خطوط کے طور پر چند نکات کا مطالعہ مقصود ہے۔

 امام غزالی کا زمانہ علمی دنیا میں فلسفے کے قہرواستبداد کا زمانہ تھا۔ بالفاظِ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یونانی فلسفہ عقل کا نام لے کر اسلامی عقائد پر حملہ آور تھا۔ علوم عقلیہ و یونانی فلسفہ کے ماہرین مسائل کو انتہائی پیچیدگی کے ساتھ کچھ یوں بیان کرتے تھے کہ ان کی علمیت اور عقلیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا، جب کہ علما و فقہا بھی عموماً عقلیت کے جادو سے باہر نہ تھے۔

 اپنی کتاب تہافت الفلاسفہ کے مقدمے میں امام غزالی لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو عقل کے زعم میں مبتلا ہیں، مذہبی احکام و تعلیمات کو حقیر سمجھتے ہیں،   فلسفۂ یونان سے مرعوب ہیں اور اسلامی عقائد کے سلسلے میں احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ان حالات کے پیش نظرامام غزالی نے ارادہ کیا کہ فلاسفۂ یونان کا علمی محاکمہ کریں تاکہ عقل پر مرعوبیت کا جو پردہ پڑ گیا ہے اسے چاک کیا جاسکے۔ 

یونانی فلسفیوں نے اپنے نظریات کو انتہائی پیچیدہ شکل میں پیش کیا تھا۔ ان کی تقلید میں فلسفۂ یونان کے عربی شارحین نے بھی اسی پیچ در پیچ زبان کو اختیار کیا تھا، جس کی وجہ سے فلسفے کے مسائل گنجلک اور عوامی دسترس سے باہر تھے۔ مختصراً یہ کہ مشاعرے میں پڑھے گئے مشکل شعر کی طرح فلسفہ مرعوب و متاثر تو کرتا تھا، مگر سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اپنی کتاب مقاصد الفلاسفہکے ذریعے امام غزالی نے فلسفہ کو عام فہم بنایا۔ فلسفے کے دقیق و پیچیدہ مسائل کو اور فلسفے کے طلسم کو توڑنے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ذریعے فلسفے کی خوبی اور خامی نکھر کر سامنے آگئی۔ 

اس زمانے کے عام علما و فقہا کی طرح امام غزالی نے فلسفہ (جو آج کے عرف میں فلسفہ، سائنس اور ریاضی کا مجموعہ تھا) کو بالکلیہ رد نہیں کیا، بلکہ تحقیق و تنقیح کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے فلسفیانہ مسائل کی تین اقسام بیان کیں:

 اوّل: وہ فلسفیانہ مسائل جو پیچیدہ فلسفیانہ اصطلاحوں کے استعمال کی وجہ سے اسلام مخالف نظر آتے ہیں، مثلاً خدا کے بجائے جوہرِ اصلی یا غایتِ اولیٰ وغیرہ اصطلاحات۔ 

دوم: وہ فلسفیانہ مسائل جو اسلام کے اصول و عقائد سے نہیں ٹکراتے، مثلاً چاند گہن وغیرہ کی مبنی بر مشاہدہ سائنسی توجیہات۔

سوم: وہ فلسفیانہ مسائل جو اسلام کے اصولوں سے ٹکراتے ہیں، مثلاً عالم کا ازلی(قدیم) ہونا یا ’حشر اجساد‘ کا انکار وغیرہ۔ 

اس تقسیم نے بہت سی پیچیدگیوں کو آسان کردیا۔ امام غزالی نے ہر قسم کے مسائل سے تعرض کا صحیح طریقہ سمجھایا اور راستہ دکھایا۔ انھوں نے بتایا کہ پہلی قسم کے مسائل کا حل فلسفیانہ اصطلاحات میں توسع اور تشریح جدید (reinterpretation) ہے۔ دوسری قسم کے مسائل کا حل دین کے اصولوں کو متعین کرنا، نیز دین اور احکام دین کے اثبات کے لیے غیرمعقول دلائل پر انحصار کی روش ترک کرنا ہے۔ تیسری قسم کے مسائل کا حل عقلی تجزیہ اور دلائل کی روشنی میں تنقید و ابطال ہے۔ 

اسلامی فکر کا احیاء

امام غزالی نے اسلام کے بنیادی اصولوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ ان سے پہلے خوارج، جبریہ، قدریہ،معتزلہ، مرجیہ اور نہ جانے کن کن فرقوں نے اسلام کی یک رُخی تعبیرات پیش کرکے اسلام کو ایک چیستاں بنادیا تھا اور امت کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا تھا۔ امام غزالی نے اسلام کو ایک کُل کی حیثیت سے پیش کیا اور مختلف انتہاپسندانہ تعبیرات کے درمیان اس نقطۂ اعتدال کی طرف آواز دی جو اسلام کی اصل پکار تھی۔ یوں یک رُخی تعبیرات اور فروعی مسائل کی بنیاد پر اُمت کی مذہبی زندگی کا شیرازہ منتشر ہورہا تھا، اس پر لگام لگائی،فرقہ وارانہ کشاکش اور فتنۂ تکفیر کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی۔علاوہ ازیں امام غزالی نے اسلامی عقائد کی معقول تشریح کی۔ شرعی احکام و عبادات کے اسرار و مصالح پر ایسے دلائل فراہم کیے، کہ مروجہ علوم عقلیہ کا سہارا لے کر اسلامی عقائد، احکام و عبادات پر اعتراض ممکن نہ رہا۔ 

فکرِ غزالی کی روشن کرنیں جدید یورپ پر بھی پڑیں۔ یہ صحیح ہے کہ چرچ نے امام غزالی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور سائنسی جدت کے خلاف پوری مذہبی شدت کا مظاہرہ کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا معاشرہ بالفعل الحادی فکر کا علَم بردار بن گیا۔ البتہ عقل کو حدود آشنا بنانے کے علمی و عقلی طرزِ استدلال کی جو بنا امام غزالی نے ڈالی، اس کی بازگشت روجر بیکن (۱۲۲۰ء-۱۲۹۲ء) اور عمانویل کانٹ (۱۷۲۴ء- ۱۸۰۴ء) جیسے مفکرین میں سنائی دی۔ یہ یورپ سے فلسفۂ یونان کے رُعب و دبدبے کا خاتمہ اور نشاتِ ثانیہ کے آغاز کا پیغام ثابت ہوا۔ اس طرح یورپ میں نرے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے مشاہدات سے نتائج اخذ کرنے کی روایت پروان چڑھی۔ 

عصری تقاضے

ٹکنالوجی کے فرق سے قطع نظر علمی و نظری طور پر حالات آج اکیسویں صدی میں بھی اصولاً ویسے ہی ہیں، جیسے گیارھویں صدی میں تھے۔ دنیا آج بھی ان کی منتظر ہے جو فلسفہ، سائنس، سیاسیات، معاشیات، عمرانیات و دیگر علوم میں امام غزالی جیسا قائدانہ کردار ادا کریں۔ کاش! ہم وقت کے اقبال کو ’’فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی‘‘کا شکوہ نہ کرنے دیں۔کاش! آج میدانِ علم کے شاہینوں میں یہ شعور پیدا ہوجائے کہ ان کا بسیرا پی ایچ ڈی کی ڈگری،پیشۂ پروفیسری یا منصب وائس چانسلری کے گنبد میں نہیں بلکہ اسلامائزیشن آف نالج کی چٹانوں پر ہونا چاہیے۔

کاش! ہم اپنے اختصاصی مضمون میں مجتہدانہ درک حاصل کرکے امام غزالی کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ اس اختصاصی مضمون کے اصول و کلیات کو اسلامی بنیادوں پر پرکھیں،حق کو بہ دلائل قبول کریں اور ناحق کو بہ دلائل رد کریں اور ایسا کرتے وقت کسی مرعوبیت، کسی لومۃ و لائم کی پروا کیے بغیر صرف قرآن و سنت کی پیروی کو پیش نظر رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی نہج پر علمی کاوشوں کے ذریعے علوم کی مختلف شاخوں پر کچھ ایسے پھل پھول کھلائے جائیں کہ دنیا اسلام کے علمی منہج کی افادیت کی قائل ہوجائے۔ اسلامی بنیادوں پرCreation of Knowledgeکے بغیر اسلامائزیشن آف نالج کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ 

 _______________