نومبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

امریکی عورت کی فکری تبدیلی اور پاکستانی عورت

نیر سلطانہ | نومبر ۲۰۲۶ | مغربی تہذیب

Responsive image Responsive image

'کیا کسی معاشرے میں کسی خاص نظریے کی مقبولیت، محض فیشن یا پروپیگنڈے کا نتیجہ ہوتی ہے؟‘ یا ’پھر کہیں کچھ حقیقی مسائل ہوتے ہیں، جو لوگوں کو کسی متبادل نظریے یا نئے فکری راستے کی جانب مائل کرتے ہیں؟‘ آج امریکا میں ’فیمی نزم‘ (Feminism: نسائیت)کی چوتھی لہر سے بڑی حد تک مایوسی، بعض فیمینسٹ رجحانات پر نظرثانی، اور روایتی طرزِ زندگی کی طرف جزوی واپسی کی بحثیں زورشور سے جاری ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا یہ تبدیلی اپنے اثرات پاکستان تک بھی پہنچائے گی؟ اگر پہنچائے گی تو اسے کس تناظر میں دیکھنا چاہیے؟‘

امریکا میں ’فیمینسٹ‘ رجحانات کے خلاف اٹھتی لہر پر مختلف فورموں پر دردمندی سے بات کا آغاز ہو چکا ہے۔ PEW Research Center کے مطابق تقریباً ۳۹ فی صد امریکی خواتین خود کو فیمینسٹ شناخت کے ساتھ منسلک نہیں کرتیں۔۱

’پبلک ریلجن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (PRRI) کی رپورٹ کے مطابق ملینیل (Millennials)، یعنی ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۶ء کے دوران پیدا ہونے والی امریکی خواتین میں ۵۳ فی صد نے خود کو فیمینسٹ شناخت کے ساتھ منسلک نہیں کیا۔۲  امریکی مردم شماری کے عمر اور جنس سے متعلق تخمینوں کی بنیاد پر یہ تناسب تقریباً دو کروڑ امریکی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے۔

اسی طرح کنگز کالج لندن سے شائع شدہ رپورٹ IPSOS کے مطابق: ’’امریکا میں جین زی (Gen Z) کی ۴۶ فی صد خواتین خود کو فیمینسٹ نہیں مانتیں‘‘۳ اور یہ تعداد بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے۔

’فیڈرل بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس‘ (FBLS) کی شائع شدہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ’’حالیہ برسوں میں خواتین لیبر فورس میں سے تین لاکھ خواتین نے کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے کو ترجیح دی ہے، ان میں بڑی تعداد نوجوان ماؤں کی ہے‘‘۔۴ The Catalyst Survey Data on Exit کے مطابق: ’’ان خواتین کی بڑی تعداد نے استعفا اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال خود کر سکیں‘‘۔۵ ایک دلچسپ اور اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ۲۰۲۳ء میں امریکی اداروں، دفتروں اور کمپنیوں میں کام کرنے والی خواتین میں سے ۹۰ فی صد سے زائد اپنے شعبے میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی خواہاں تھیں اور میک کنز سے ( McKinsey) کی رپورٹ کے مطابق: ’’یہ تعداد بڑھنے کے بجائے حیرت انگیز طور پر گھٹ کر ۸۰  فی صد رہ گئی ہے‘‘۔۶

امریکا کی نامور سماجی تجزیہ کار اور دی نیویارک ٹائمز کی سابق کالم نگار لیسا بیلکن (Lisa Belkin) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جدید فیمی نزم نے عورت پر دباؤ ڈال کر اسے ’سپر وومن‘ بنانے کی کوشش کی، جو بیک وقت ایک بہترین ملازم، بہترین ماں اور بہترین بیوی بن کر دکھائے۔ لیکن خواتین اس مسلسل مادی دوڑ اور ۱۲،۱۲گھنٹے کی ملازمتوں سے تھک گئی ہیں‘‘۔۷ امریکا کی مشہور ہنٹرکالج اور سٹی یونی ورسٹی آف نیویارک کی ماہرِ عمرانیات (Sociologist) پروفیسر پامیلا اسٹون (Pamela Stone) نے اس موضوع پر باقاعدہ تحقیقی کتاب لکھی ہے، اور اپنے عمرانیاتی سروے میں دریافت کیا کہ ’’کامیاب اور اعلیٰ عہدوں پر فائز امریکی خواتین کا ملازمتیں چھوڑنا کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا‘‘۔ پامیلا کے مطابق: ’’فیمی نزم نے عورت کو افرادی قوت کا حصہ تو بنادیا، لیکن معاشرے اور ریاست نے اس کے بچوں کی پرورش کے نظام کو آسان نہیں بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں خواتین نے اپنے خاندان اور بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے شعوری طور پر فیمی نزم کے ’سب کچھ پالینے‘ (Having it all) کے بیانیے سے بیک آؤٹ کیا اور گھر کو ترجیح دی‘‘۔۸

سماجی ماہرین کے مطابق اس واضح تبدیلی میں اگر ایک طرف مادہ پرستانہ کاروباری کلچر کی سختیاں کارفرما ہیں، تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر روز بروز ترقی پاتا ’ٹریڈ وائف‘ (روایتی بیوی)کا رجحان بھی بڑی حد تک اثر انداز ہو رہا ہے۔ جدید ٹریڈ وائف (روایتی بیوی) امریکی معاشرے میں (خاص طور پر جین زی اور ملینیلز کے درمیان) اس وقت ایک وائرل بیانیہ ہے، جسے ماہرین عمرانیات Tradwife Movement (روایتی بیوی تحریک)کہتے ہیں۔ اس کے تحت لاکھوں امریکی نوجوان لڑکیاں سوشل میڈیا پر کھل کر فیمی نزم کے اس بیانیے کو مسترد کر رہی ہیں کہ ’’عورت کی پہچان صرف اس کا ’کیریئر‘ ہے‘‘۔ وہ فخر سے کہتی ہیں:’’ وہ ۹ سے ۵ کی کارپوریٹ غلامی چھوڑ کر اپنے شوہر اور گھر کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا چاہتی ہیں، کیونکہ کیریئر کی دوڑ نے ان سے ان کا سکون چھین لیا ہے‘‘۔ آسان الفاظ میں ٹریڈ وائف لبرل فیمی نزم کی لائی ہوئی تھکن کا ردِ عمل ہے۔ عورتیں اس تھکن سے بچنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ درحقیقت یہ کلچر سرمایہ دارانہ نظام کی اندھی دوڑ کے خلاف احتجاج ہے، جہاں عورتیں پروڈکشن (مادی پیداوار) کے بجائے اپنے گھر کے سکون اور انسانی رشتوں کی پرورش کو ترجیح دے رہی ہیں۔

’سوشل میڈیا ٹریکنگ‘ اور ’ہیش ٹیگ اینالیٹکس‘ کی متعدد رپورٹس کے مطابق ٹریڈ وائف اور ہوم میکنگ سے متعلق سیکڑوں ہزار اکاؤنٹس مختلف پلیٹ فارموں پر فعال ہیں، اور ان میں سے ہزاروں اکاؤنٹس کے سب سے زیادہ ویوز امریکا سے حاصل ہوتے ہیں، کیونکہ اس رجحان کا آغاز بنیادی طور پر امریکی خواتین سے ہوا تھا۔۹  اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ اس رجحان (trend) کا معاشی، بصری (ویوز) اور نظریاتی مرکز بڑی حد تک امریکا ہی ہے۔ اگرچہ متعدد ٹریڈ وائف انفلوئنسرز خود سوشل میڈیا کے ذریعے آمدنی بھی حاصل کرتی ہیں، تاہم ان کے مواد سے بہت سے ناظرین تک یہ تاثر پہنچتا ہے کہ عورت کے لیے گھر اور خاندان کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا ایک زیادہ پُرسکون، بامعنی اور قابلِ ترجیح طرزِ زندگی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ پر اثرات

۱۸۴۸ء میں جنم لینے والی ’فیمی نزم کی تحریک‘ نے پاکستانی معاشرے میں اپنا اثر و نفوذ پیدا کرنے میں ایک طویل عرصہ لگایا۔ ۲۰۱۸ء میں اس تحریک میں تیزی پیدا ہوئی، جب سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا نے مشترکہ کوشش سے ان نظریات کو پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات تک پہنچایا۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ ’’عمرانیات کے اصولوں کے مطابق کسی نظریے کے مقبول ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سب اسے پسند کر رہے ہیں یا اپنا رہے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں تک کوئی نظریہ پہنچ چکا ہے اور سب اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں‘‘۔

اس حقیقت کو جاننا نہایت اہم ہے کہ غالب معاشرہ (Dominant Society) دیگر تمام معاشروں پر گہرے سماجی اثرات مرتب کرتا ہے۔ عمرانیات میں اسے ایک دلچسپ اصطلاح ’ثقافتی سامراجیت‘ (Cultural Imperialism) کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی کمزور یا ’مغلوب معاشرے‘، ’لیڈر معاشرے‘ کے طرزِ زندگی کو ’جدیدیت‘ سمجھنے لگتے ہیں (جیسے انگریزی زبان اور مغربی لباس کا عالمی معیار بن جانا)۔ بالخصوص معاشرتی اخلاقیات، خاندانی نظام اور حقوق کے تصورات ایک غالب معاشرے سے مغلوب معاشروں کی جانب ضرور سفر کرتے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ لٹریچر (چھاپہ خانوں) کے دور میں ان نظریات کو دوسرے معاشروں تک پہنچنے میں ۱۰۰ سے ۱۵۰سال لگ جاتے تھے۔ پرنٹ میڈیا کے دور میں یہ وقت ۱۰ سے ۲۰ برس ہو گیا۔ ریڈیو، ٹی وی اور سنیما کے دور نے اس مدت کو مزید کم کر کے ۵ سے ۱۰سال کر دیا، اور آج یعنی سوشل میڈیا کے دور میں ایک نظریے کو سفر کرنے میں چند ہفتے، چند دن یا چند گھنٹے ہی درکار ہیں۔

یہاں یہ حقیقت بھی نا قابلِ تردید ہے کہ جغرافیائی قربت، مشترکہ تاریخ اور کم و بیش ایک جیسے میڈیا تک رسائی کے باوجودجس طرح انڈین معاشرے میں فیمینسٹ نظریات نے خاندانی نظام، صنفی کرداروں اور سماجی توقعات کے بارے میں نمایاں فکری اور سماجی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، پاکستان میں ویسی کامیابی حاصل نہ کی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ریاستوں کی بنیادی نظریاتی اساس رہی۔ البتہ اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ پاکستانی معاشرہ جزوی طور پر فیمی نزم سے متاثر بھی ہوا اور اس کے اثرات بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔

اگر ہم ’پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس‘ (PBS)  ۱۰؎  اور ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے مقداری (Quantitative) ڈیٹا کا جائزہ لیں    ۱۱؎    تو یہ اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ PBS سے جاری ہونے والے ’لیبر فورس سروے‘ (LFS) کے مطابق گذشتہ دو عشروں میں متوسط طبقے کی خواتین میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ’لیبر فورس سروے‘ کی رپورٹ کے مطابق خواتین کی افرادی قوت کی شرح میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ بظاہر چند فی صد، لیکن درحقیقت لاکھوں پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی بڑی حد تک دیہی علاقوں میں بھی پائی گئی ہے۔ سول اور کارپوریٹ سیکٹر میں گذشتہ عشرے میں خواتین کی تعداد میں ۱۵ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ پاکستانی فری لانسنگ میں خواتین کا حصہ ۱۵ سے ۲۰ فی صد بڑھ چکا ہے۔؎ ۱۲ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے مطابق، پاکستانی یونی ورسٹیوں میں اب طالبات کی شرح ۴۶ فی صد سے تجاوز کر چکی ہے اور وہ بزنس، لا اور سوشل سائنسز جیسے غیر روایتی شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔؎ ۱۳   یہی وہ شعبے ہیں جہاں سے فیمینسٹ بیانیے کو فکری جِلا ملتی ہے۔

ہماری عائلی عدالتوں میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین کی طرف سے خلع، نان و نفقہ اور گھریلو تشدد کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمات میں ۱۵ سے ۲۵ فی صد سالانہ کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خلع کے ۷۰فی صد سے زائد دعووں میں خواتین اپنے مالی اور قانونی حقوق کا جارحانہ مطالبہ کر رہی ہیں۔ سماجی ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ گھریلو تشدد اچانک بڑھ گیا ہے، بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ رپورٹنگ کا شعور بتدریج بڑھ رہا ہے۔ عورتوں پر گھریلو تشدد، ہراسانی اور غیر منصفانہ رویے پاکستانی معاشرے کے تلخ حقائق ہیں، جن سے نظریں چرانا مجرمانہ غفلت کہلائے گی۔ فیمینسٹ نظریے کی جانب پاکستانی خواتین کے مائل ہونے کی وجہ صرف اس نظریے کی مادی کشش نہیں ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں موجود خامیوں اور ناانصافیوں نے فیمی نزم کو پاکستانی عورت کے لیے پُرکشش بنا دیا ہے۔ یہ ایک ایسی افسوس ناک حقیقت ہے، جسے جتنی جلدی قبول کر لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔

اس تلخ حقیقت کے تناظر میں، اب سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب میں اُٹھنے والی یہ نئی تبدیلی، یعنی فیمی نزم سے بیزاری اور ’ٹریڈ وائف‘ کا رجحان، جب سوشل میڈیا کی ہائپر کنیکٹیوٹی کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، تو ہماری عورت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

عمرانیات کا ایک اصول ہمیں اس الجھن سے نکلنے کا راستہ دکھاتا ہے، جسے ’لیپ فراگنگ‘ (Leapfrogging) کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت مغلوب معاشروں کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ ترقی کی اس تمام تکلیف دہ اور طویل تاریخ سے گزریں، جس سے گزر کر مرکز (غالب معاشرہ) وہاں تک پہنچا ہے، بلکہ وہ براہِ راست مرکز کے تجربات اور نتائج سے فائدہ اٹھا کر اپنا وقت اور سماجی نقصان بچا سکتے ہیں۔ مغرب کی عورت نے معاشی آزادی اور ’سپر وومن‘ بننے کی مادی دوڑ میں ڈیڑھ صدی گزاری، جس کی قیمت انھوں نے اپنے خاندانی نظام کی تباہی اور شدید ذہنی تھکن کی صورت میں چکائی، اور آج وہ واپس گھر کے سکون کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ پاکستانی معاشرے کے لیے سوشل میڈیا کی ہائپر کنیکٹیوٹی ایک خطرہ نہیں بلکہ ایک نعمت اور بہترین موقع بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اس کا ادراک کریں۔ ہمیں اپنی عورت کو مغرب کی لائی ہوئی اس تھکن اور بحرانوں سے گزارنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں مرکز کے اس حاصلِ مطالعہ سے سبق سیکھنا چاہیے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فیمی نزم کی مغربی اصطلاحات پر اندھی جنگیں لڑنے کے بجائے، پاکستانی عورت کے حقیقی مسائل کو تسلیم کریں اور انھیں حل کریں۔ ہماری عورت کا اصل مسئلہ کیریئر کی اندھی دوڑ یا خاندانی نظام سے بغاوت نہیں، بلکہ سستی تعلیم، صحت کی سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ میں تحفظ، وراثت میں شرعی حصہ اور کام کی جگہ پر عزتِ نفس ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر انقلابی اقدامات اٹھائیں۔ ریاست اور معاشرے کو مل کر ایسے قوانین کا مؤثر نفاذ ممکن بنانا ہوگا جو عورت کو تحفظ فراہم کریں۔ نصاب اور میڈیا کے ذریعے مردوں کی فکری تربیت کرنی ہوگی، تاکہ وہ عورت کو کسی کمتر مخلوق کے بجائے ایک معزز شہری اور برابر کا انسان سمجھیں، اور ایک ایسا متوازن سماجی ڈھانچا بنانا ہوگا، جہاں عورت کو اپنے حقوق کے لیے اپنے گھر اور اقدار کو قربان نہ کرنا پڑے۔ اس کے لیے اگر مرد و زن کو اسلام کے اخلاقی اصولوں سے ہی آراستہ کر دیا جائے تو کافی ہوگا۔ اگر ہم نے آج اپنی فکری سمت درست نہ کی، اور معاشرتی ناانصافیاں برقرار رہیں، تو خواتین متبادل نظریاتی بیانیوں کی طرف مزید مائل ہو سکتی ہیں، جس سے معاشرے میں نئی فکری اور سماجی کش مکش جنم لے سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے عقل و دانش سے کام لیا، تو ہم اپنے مضبوط خاندانی تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنی عورت کو وہ تمام حقوق اور حقیقی باوقار مقام دے سکتے ہیں، جس کی وہ حق دار ہے۔

حوالہ جات

1. PEW Research Center (2020). Feminism and Women's Identity in the United States. Pew Research Data Index on Social Trends.

2. PRRI (Public Religion Research Institute)(2022). Millennial Generations and Changing Dynamics of Social Movements in America. PRRI Annual Report.

3. Ipsos  King’s College London  (2023). Global Trends and Gen Z Attitudes Toward Feminism and Gender Equality. International Social Research Series.

4. Federal Bureau of Labor Statistics (BLS) (2026). Women in the Labor Force: Employment Status and Trends. U.S. Department of Labor Annual Report.

5. The Catalyst (2024). The Corporate Exit: Why Women and Young Mothers Leave the Workplace? Catalyst Global Survey Data.

6. McKinsey   Company (2026). Women in the Workplace 2026  Report. McKinsey Co. Global Management Insights  in partnership with LeanIn.Org.

7. Lisa Belkin (2003)."The Opt-Out Revolution". The New York Times Magazine (Updated Perspectives 2023).

8. Pamela Stone, 2007. Opting Out  Why Women Really Quit Careers and Head Home. University of California Press (Hunter College / CUNY Case Studies).

9. Social Media Analytics (TikTok  Instagram Data) (2024-2025). The Rise of Visual Consumerism and Global Footprint of  Tradwife Movement.

10. Pakistan Bureau of Statistics (PBS((2021-2022). Labour Force Survey (LFS) 2020-21. Government of Pakistan, Islamabad.

11. Aurat Foundation (2023). Annual Monitoring Report on Gender-Based Violence and Access to Family Courts in Pakistan. Aurat Publication and Information Service Foundation.

12. Ministry of Human Rights (MoHR) (2025). Progress on Anti-Harassment Laws and Women Economic Empowerment in Pakistan. Government of Pakistan.

13. Higher Education Commission (HEC)  (2024-2025). Annual Progress Report on Female Enrollment and Gender Diversity in Pakistani Universities. Government of Pakistan.

 _______________