سوال : میں ایک امیر شخص کی بیوی ہوں۔ میرے شوہر کا بینک بیلنس بھی کافی مضبوط ہے۔ لیکن بد قسمتی سے وہ انتہائی بخیل ہے۔ میرے اور میرے بچوں کے نفقہ میں انتہائی بخیلی سے کام لیتا ہے۔ خرچ کے لیے بہت تھوڑی رقم دیتا ہے جو کہ ایک دولت مند شخص کی بیوی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے کم تر دولت والوں کی حالت بھی ہم سے بہت اچھی ہے۔ ایسی حالت میں کیا میرے لیے جائز ہوگا کہ میں اپنی ضرورتوں کے لیے اپنے شوہر کے پیسے بغیر انھیں بتائے لے لیا کروں اور اپنی ضرورتوں پر انھیں خرچ کروں؟
جواب : نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک طرف کچھ شوہر تو ایسے ہیں جو اپنی بیوی پر انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرتے ہیں، اور ان پر اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں، اور دوسری طرف کچھ ایسے شوہر بھی ہیں جو انتہائی بخیل ہیں۔ اپنی بیوی اور بال بچوں کے نان نفقہ میں حد درجہ بخل سے کام لینا، یہ دونوں صورتیں غلط ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر بات میں میانہ روی اور اعتدال کا حکم دیا ہے۔ پیسہ خرچ کرنے کے معاملے میں بھی اللہ نے اسی اعتدال کا حکم دیا ہے:
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۲۹ (بنی اسرائیل۱۷: ۲۹) نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے (یعنی نہ فضول خرچی کرو اور نہ کنجوسی کرو) کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔
اور اپنے نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۶۷
(الفرقان ۲۵: ۶۷)اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ بخل کرتے ہیں، بلکہ ان کا خرچ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔
بیوی اور بال بچوں کے نفقے میں میانہ روی کی کیا صورت ہوگی؟ شریعت نے اس کی کوئی حد تو مقرر نہیں کی ہے البتہ قرآن و حدیث کی رو سے میانہ روی یہ ہے کہ ان کی ضرورتوں کو معروف طریقے سے پورا کیا جائے۔ معروف طریقے سے مراد یہ ہے کہ بیوی اور بچوں کی جائز ضروریات اور مناسب خواہشوں کو مدنظر رکھا جائے۔ بیوی نے جن حالات میں شوہر کو پایا ہے، ان کا خیال کیا جائے۔ شوہر خود کس قدر صاحبِ حیثیت ہے، اس کو نظر میں رکھا جائے، شوہر اگر مال دار ہے تو اسے اپنی اچھی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا چاہیے اور اگر تنگ دست ہے تو اپنی بساط بھر اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔ قرآن نے اس طرف اشارہ کیا ہے:
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ۰ۭ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْہِ رِزْقُہٗ فَلْيُنْفِقْ مِـمَّآ اٰتٰىہُ اللہُ۰ۭ (الطلاق۶۵: ۷) خوش حال آدمی اپنی خوش حالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہے وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔
دوسری آیت ہے:
وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۰ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۰ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ۰ۚ (البقرہ ۲: ۲۳۶) اس صورت میں انھیں کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔ خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔
امام غزالی نے اپنی کتاب الاحیاء میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی پر نہ کنجوسی کرے اور نہ فضول خرچی کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (اعراف ۷:۳۱)، یعنی کھاؤ پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِهِ(ترمذی)یعنی تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک پیسہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو غلام آزاد کرنے کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ ایک وہ ہے جو غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے نان نفقے پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ باعث اجر وثواب وہ پیسہ ہے جو اپنے گھر والوں کے نان نفقے پر خرچ کیا جائے۔
حضرت ابو سفیانؓ کی بیوی ہند کو بھی یہ شکایت تھی کہ ان کے شوہر ان کے نان نفقے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ ہند نے اپنا معاملہ نبیؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا:
خُذِیْ مَا یَکْفِیْکِ وَ وَلَدَکِ بِالْمَعْرُوْفِ(بخاری ، مسلم)تم اتنا لے لیا کرو جو تمھارے اور تمھارے بچوں کے لیے معروف طریقے سے کافی ہو۔
اس حدیث کی رُو سے آپ بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر اتنا کچھ لے سکتی ہیں جو معروف طریقے سے آپ کی اور آپ کے بال بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو، اور کافی سے زیادہ لینا کسی طرح درست نہیں ہے۔(محمد یوسف القرضاوی)
سوال : بعض لوگوں کے لیے ’مرحوم و مغفور‘ لکھا جاتا ہے۔ مرحوم کے معنی ہیں جس پر رحم کیا گیا ہو اور مغفور کے معنی ہیں بخشا ہوا یعنی جس کو بخش دیا گیا ہو۔ یہ لکھنا کس طرح صحیح ہے، جب کہ کسی کے پاس اس کا علم نہیں کہ کون بخشا گیا اور کون نہیں بخشا گیا؟
جواب : یہ دونوں لفظ بطور دُعا لکھے جاتے ہیں جیسے رحمہ اللہ اور غفرلہ، لکھا جاتا ہے۔ پہلے جملے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ ان پر رحم فرمائے اور دوسرے جملے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ ’مرحوم‘ رحمہ اللہ کی جگہ اور’ مغفور‘ غفرلہٗ کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ (سیّد احمد عروج قادری)
سوال : میرے ایک دوست جماعت کے ہمدرد تھے، اب کچھ سُست پڑتے جارہے ہیں۔ ان کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ جماعت میں ’صاحب ِ قال‘ بہت ہیں لیکن ’صاحب ِ حال‘ کی بہت کمی ہے۔ صاحب ِ تقویٰ قسم کے لوگ تو شاید ہی ہوں۔ جب میں نے ’صاحب ِ حال‘ لوگوں کی تعریف اور معیار تقویٰ کے متعلق دریافت کیا، تو وہ اس کے سوا کچھ نہ بتاسکے کہ یہ چیز بیان نہیں کی جاسکتی بلکہ صرف محسوس کی جاسکتی ہے۔
جواب :جب آپ کے دوست یہ نہیں بتاتے کہ ’صاحب ِ حال‘ لوگ کیسے ہوتے ہیں اور تقویٰ کا معیار کیا ہے، تو پھر ہمارے پاس انھیں مطمئن کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ بات بالکل صاف ہے کہ ’تقویٰ‘ اور ’حال‘ کے بارے میں ان کے ذہن میں کوئی تصور ضرور موجود ہے جس کی روشنی میں وہ جماعت کے اندر اس کی بہت کمی پاتے ہیں۔ انھیں اس تصور کو سامنے لانا چاہیے۔ تقویٰ اور متقین کے ذکر سے قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔ اس میں ان کی صفات واضح طور پر بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تقویٰ کے مدارج بھی متفاوت ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں متقین کی وہی صفات موجود ہیں جو قرآن میں پائی جاتی ہیں تو وہ آسانی سے نشان دہی کرسکتا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں افراد میں وہ صفات موجود نہیں ہیں یا کم ہیں، اور اگر قرآنی صفات کے علاوہ کچھ دوسری صفات اس نے ذہن میں رکھ لی ہیں جب بھی بتا سکتا ہے کہ فلاں باتیں جماعت کے افراد میں نہیں ہیں یا کم ہیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ یہ چیز محسوس کی جاسکتی ہے، بتائی نہیں جاسکتی، عجیب رویہ ہے۔ فی الواقع اس چیز کو اُلجھن یا اعتراض سے تعبیر کرنا ہی صحیح نہیں۔ آپ اپنے دوست سے پھر پوچھئے۔ اگر وہ نہ بتائیں تو دُعا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ دُعا اس بات کی کہ ہمارے اندروہ تقویٰ پیدا ہو، جو اللہ کو مطلوب ہے، اور دُعا اس بات کی بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دوست کی سُستی کو چُستی سے بدل دے۔(سیّد احمد عروج قادری)
_______________