اپریل ۲۰۱۶

فہرست مضامین

کتاب نما

| اپریل ۲۰۱۶ | کتاب نما

عفیفۂ کائنات: سیّدہ عائشہ صدیقہؓ، مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی۔ ناشر: مسلم پبلی کیشنز، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۰۴۴۰۱۳-۰۳۲۲۔ صفحات: ۲۳۵۔ قیمت: ۳۲۰ روپے۔

اُم المومنین سیّدہ عائشہؓ بنت ِ ابوبکر صدیقؓ کو اَزواج النبیؐکے درمیان کئی انفرادیتیں اور اُمت کے اندر کئی امتیازات حاصل ہیں۔ سیّدہ عائشہؓ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۲۲۱۰ ہے۔ صرف پانچ اصحاب کی روایات آپؓ سے زیادہ ہیں۔ قرآنِ مجید، سنت ِ نبویؐ ، فقہ و قیاس، کلام و عقائد، تاریخ و ادب، خطابت و شاعری اور اجتہاد و اِفتا میں علم و مہارت کی بناپر سیّدہ عائشہ ؓ تمام اَزواجِ مطہراتؓ اور صحابہ کرامؓ کے درمیان ممتاز مقام پر فائز تھیں۔

کتب ِ حدیث کی شروح، اسماء الرجال کے تذکروں، سیرتِ نبویؐ کے مصادر اور تاریخ و سیر کی کتب میں سیّدہ عائشہؓ کے علمی و فقہی کمالات اور ذاتی و شخصی اخلاق و عادات اور اوصاف و خصوصیات کے تذکرے موجود ہیں۔ ان بنیادی مآخذ سے مستفاد بعض بلندپایہ کتب سیّدہ عائشہؓ کے سیروسوانح پر اُردو میں بھی تصنیف ہوئی ہیں۔

فاروقی صاحب نے اس سلسلۂ تحقیق و تالیف کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ کتاب محققانہ اسلوب میں تالیف کی ہے۔ اختلافی بحثوں سے اِعراض کرتے ہوئے حقائق کو مرتب کیا ہے۔ سیّدہ عائشہؓ کی زندگی کے علمی و تاریخی پہلوئوں کے ساتھ ذاتی اور شخصی پہلوئوں کو بھی بیان کیا ہے۔ آخر میں روایاتِ سیّدہ عائشہؓ سے ۴۰؍ احادیث کا انتخاب مع مختصر تشریح شامل ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)


نگارشاتِ سیرت، سیّد عزیز الرحمن، مرتبین: ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری و حافظ محمد عارف گھانچی۔ ناشر: کتب خانہ سیرت، کھتری مسجد، لی مارکیٹ، صدرٹائون،کراچی۔ فون: ۲۸۳۴۲۴۹-۰۳۲۱۔ صفحات:۳۶۸۔ قیمت (اشاعت خاص): ۴۵۰ روپے۔

زیرنظر کتاب سیّد عزیز الرحمن (مدیر: مجلہ السیرہ عالمی)کے اداریوں، مختلف کتب سیرت پر تبصروں، تقاریظ، پیش گفتار، تقدیم اور بعض علمی شخصیتوں کی خدماتِ سیرت پر مضامین کا مجموعہ ہے۔

یہ تمام تحریری لوازمہ ۱۹۹۹ء سے لے کر ۲۰۱۵ء تک کے عرصے میں مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتا رہا ہے جسے چار عنوانات کے تحت زمانی ترتیب سے جمع کر دیا گیا ہے۔ ان نگارشات میں سیرت النبیؐ پر کام کرنے والی معتبر شخصیات کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو متعارف کرایا گیا ہے۔ زیرنظر کتاب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں رسائل و جرائد میں محبانِ رسولِ کریمؐ کے کتنے مضامینِ سیرت شائع ہوتے ہیں۔ (ظفرحجازی)


استاد الاساتذہ مولوی محمد شفیع کی علمی و تحقیقی خدمات، مرتب: محمد اکرام چغتائی۔ ناشر: نشریات، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات: ۱۸۷۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

کیمبرج کے تعلیم یافتہ ڈاکٹر مولوی محمد شفیع عربی و انگریزی میں ایم اے اور عربی زبان و ادب کے جیّد عالم اور محقق تھے۔ شعبۂ عربی اورینٹل کالج لاہور (پنجاب یونی ورسٹی) کے صدر، کالج پرنسپل اور بعدازاں اُردو دائرہ معارفِ اسلامیہ کے اوّلین صدر نشین رہے اور یہ پورا منصوبہ انھی کا تیار کردہ ہے۔

مرتب ’پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں: ’’تحقیقی اُمور میں کاملیت پسندی ، اصل تاریخی حقائق تک رسائی کے لیے معتبر مصادر کی چھان پھٹک، محکم روایات کی پیروی، زیرتحقیق مطالعات سے گہری وابستگی، خلوت گزینی، تضیع اوقات سے شدید اجتناب اور عام معمولاتِ زندگی سے ممکن حد تک الگ تھلگ رہنے کا چلن ایسے عوامل ہیں، جن پر مولوی محمد شفیع زندگی بھر سختی سے گامزن رہے‘‘۔

۱۹۵۵ء میں مولوی صاحب کے شاگرد ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنے استاد کی خدمت میں ارمغانِ علمی کا ہدیہ پیش کیا تھا۔ پھر مولوی صاحب کی وفات پر اورینٹل کالج میگزین نے (جس کے وہ بانی مدیر تھے) ان کے لیے ایک گوشہ مرتب کیا۔اب چغتائی صاحب نے مولوی صاحب کی ۵۰ویں برسی کی مناسبت سے زیرنظر مجموعہ تیار کیا ہے، جس میں مذکورہ گوشے کے بعض مضامین کے ساتھ دیگر رسائل میں ان پر شائع ہونے والے مقالات کو یک جا کیا گیا ہے۔

عربی زبان و ادب کے محقق ڈاکٹر مختارالدین احمد (۱۹۲۴ئ-۲۰۱۰ئ) نے ایک بار لکھا تھا: ’’شفیع صاحب جیسا اسکالر متحدہ ہندستان نے پھر کبھی پیدا نہیں کیا۔ افسوس ہے کہ ایسا اسکالرجو علم و ادب کی آبرو تھا، ہم لوگوں نے جلد بھلا دیا۔ پاکستان کی بھی نئی نسل انھیں کیا جانتی ہوگی‘‘۔

یہ مجموعہ مختارالدین احمد کے تاسف کی، ایک حد تک تلافی کرتا ہے۔ مجموعے میں خود  مولوی صاحب کی خودنوشت قسم کی تین تحریریں بھی شامل ہیں۔ مولوی صاحب کے شاگردوں، اُن کے رفقاے کار اور اُن کی معاصر علمی اور ادبی شخصیات میں سے ڈاکٹر وحید مرزا، مولانا فیوض الرحمن،   ڈاکٹر شیخ محمد اقبال، پیر حسام الدین راشدی، عبدالمجید سالک، جسٹس ایس اے رحمن، ڈاکٹر غلام مصطفی خاں، موہن سنگھ دیوانہ، فیض احمد فیض، سعید نفیسی، دائود رہبر اور غلام حسین ذوالفقار نے انھیں    خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


سیرتِ محمدؐ اور عصرِحاضر، میربابرمشتاق۔ ناشر: عثمان پبلی کیشنز، ۱۷-بی، فیض آباد، ماڈل کالونی، کراچی۔ فون: ۲۶۵۹۶۲۵-۰۳۰۵۔صفحات: ۲۷۲۔قیمت: ۳۰۰روپے۔

۴۰عنوانات کے تحت مقامِ مصطفیؐ اور سیرت النبیؐ کی اہمیت سے متعلق چند در چند موضوعات پر قرآن و سنت کی ہدایات کی روشنی میں مختلف تحریریں یک جا کی ہیں۔

کتابوں میں شامل قرآنی آیات اگر بغیر اعراب کے ہوں گی تو تلاوت میں غلطی کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ قرآنِ مجید کی آیات کا حوالہ دیتے وقت اعراب لگانے کا اہتمام کیا جائے۔ زیرنظر کتاب میں کسی بھی آیت پر اعراب نہیں لگائے گئے اور آیت کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔ پروف خوانی کی متعدد اغلاط (ص ۲۰۸، ۲۰۹) قاری کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ قرآن کی آیات غلط لکھی گئی ہیں (ص ۲۷، ۱۵۵، ۲۵۱، ۲۵۹)۔ یہ سخت تکلیف دہ لاپروائی ہے۔ (ظفرحجازی)


قائدکے نام بچوں کے خطوط (۱۹۳۹ئ-۱۹۴۸ئ)، مرتب: ڈاکٹر ندیم شفیق ملک۔ ناشر: ایمل پبلی کیشنز، ۱۲-سیکنڈفلور، مجاہد پلازا، بلیوایریا، اسلام آباد۔ صفحات:۱۰۴۔ قیمت: ۵۸۰ روپے۔

یہ کتاب ’معصومانہ وارداتِ قلبی‘ کے اظہار کا ایک خوب صورت نمونہ ہے، مثلاً: جماعت چہارم کا طالب علم لکھتا ہے: ’’جناب قائداعظم صاحب زندہ باد، ایک ماہ کا جیب خرچ تین پیسے ارسالِ خدمت ہے۔الیکشن فنڈ میں جمع کر کے مشکور فرمائیں۔ آپ کا تابع دار فضل الرحمن، طالب علم جماعت چہارم، مدرسہ شاخ نمبر۲، محلہ مفتی ریواڑی، ۱۲۱۸۱۴۵‘‘۔ ایک اور خط: ’’قائداعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ میں نے اپنے جمع کیے ہوئے سب پیسے جو مجھے میرے ابی جی دیا کرتے ہیں، [آپ کو بھیج دیے ہیں]میں نے سنا ہے کہ آپ ہم کو آزادی لے کر دیں گے۔ میں بڑا ہوکر آپ کے پاس آئوں گا‘‘۔ ضلع کانگڑا سے اورنگ زیب خان نے ۱۱؍اپریل ۱۹۴۶ء کو تقسیم سے متعلق قائداعظم کو کچھ تجاویز بھیجیں جن کے مطابق، اورنگ زیب کے خیال میں کشمیر اور ضلع فیروز پور کو پاکستان میں شامل کیا جاسکتا تھا۔ انھوں نے اپنے خط میں ضلع کانگڑا کے ساتھ ’پاکستان‘ لکھا ہے۔

سبھی خط اس طرح کے جذبات اور ولولوں سے بھرپور ہیں اور اس لیے بہت دل چسپ۔

اگر لیڈر دیانت دار اور مخلص ہو تو بڑے ہی نہیں، بچے بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان خطوں میں حکمرانوں کے لیے بہت کچھ سبق موجود ہیں۔ آج کل کے حکمران بھی اپنے آپ کو بااعتماد بناسکتے ہیں بشرطیکہ اُنھیں سبق حاصل کرنے کی توفیق مل جائے۔ ص۴۶ پر فارسی ضرب المثل غلط لکھی گئی ہے۔ صحیح صورت یہ ہے: ’صبر تلخ است و لیکن برِ شیریں دارد‘۔

کتاب کے ہر طاق صفحے پر قائداعظم کے ساتھ بچوں کے گرو پ فوٹو اور جفت صفحے پر بچیوں کے گروپ فوٹو دیے گئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ بچوں کا گروپ فوٹو اصلی ہے اور بچیوں کا نقلی۔ اگر یہ واقعی اصلی ہے تو تعجب ہے کیوں کہ اُس زمانے میں بچیاں اور لڑکیاں (باجماعت) سر سے دوپٹّا نہیں اُتارتی تھیں۔

کتاب کی پیش کش بہت خوب صورت ہے اور متعدد خطوں کے عکس شامل ہیں اور ۱۰۳صفحات کی مجلّد کتاب کی قیمت (۵۸۰روپے) بھی ’معقول‘ سے زیادہ ’معقول‘ ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


From Jinnah's Pakistan to Naya Pakistan [جناح کے پاکستان سے نیا پاکستان تک]،ڈاکٹر اقبال ایس حسین۔ ناشر: ہومینیٹی انٹرنیشنل، لندن، لاہور۔ صفحات: ۳۴۴۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

اس کتاب کے سات حصوں میں اہم موضوعات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ ابتدا میں بتایا گیا ہے کہ تبدیلی کا آغاز نظامِ تعلیم سے ہوتا ہے، اس کے بعد ہی تعمیروترقی کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ مصنف قائداعظم کے الفاظ کا تذکرہ کرتے ہیں جو پاکستان کو ’عظیم انقلاب‘ قرار دیتے تھے۔ افسوس،موجودہ پاکستان کی صورت حال قابلِ رحم ہے۔ اسی طرح اُن اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے جو تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ ایسی کتابیں نوجوانوں کی بیداری میں کردارادا کرسکتی ہیں۔ مصنف کے نزدیک تباہی و بربادی کی وجہ قرآن سے دُوری ہے۔ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست ہی پاکستانی عوام کے لیے بہتر تحفہ ہوسکتی ہے۔ (محمد ایوب منیر)


اشاریہ ماہنامہ برہان دہلی، مرتب: محمد شاہد حنیف۔ ناشر: اوراقِ پارینہ پبلشرز۔ملنے کاپتا: کتاب سراے، اُردو بازار، لاہور فون:۴۱۴۸۵۷۰-۰۳۲۱۔ صفحات:۳۷۲، قیمت (مجلد، بڑا سائز):۸۰۰ روپے۔

علمی مجلات کے مقالات کی اشاریہ سازی ایک فن کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ اس اشاریے کے مرتب محمد شاہد حنیف ۵۰ سے زائد علمی، دینی اور تحقیقی مجلات کے اشاریے مرتب کرکے ایک بڑی خدمت انجام دے چکے ہیں۔

زیر نظر اشاریہ ایک ایسے علمی و تحقیقی مجلے کا ہے جس کی شہرت پاک وہند کے ہر صاحب ِ مطالعہ کے علاوہ بیرون ملک بھی دُور دُور پہنچی تھی۔ دہلی کے ادارہ ندوۃ المصنّفین کے تحت مولانا سعید احمد اکبرآبادیؒ اور مولانا عتیق الرحمن عثمانیؒ کے اس علمی، دینی اور تاریخی مجلے کا نام برہان تھا۔ اس میں ۶۳ سالوں میں شائع شدہ بے شمار مقالات سے استفادہ کرنے اور اس تاریخی لوازمے کو    دُنیاے تحقیق کے سامنے لانے کے لیے اشاریے کی ضرورت تھی، جسے مرتب نے احسن انداز سے انجام دیا ہے۔ بُرہان کے اس اشاریے کو بنیادی موضوعات میں تقسیم کرکے ان کے متعلقہ مقالات کی فہرست سازی اس انداز میں کی گئی ہے، کہ اشاریے کی خوبیاں نکھر کر سامنے آگئی ہیں۔ اُمید ہے کہ بُرہان سے استفادے اور تحقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ اشاریہ دینی اور تحقیقی اُمور میں دل چسپی رکھنے والوں کے معاون ثابت ہوگا۔ اس محنت کے لیے محمدشاہد حنیف دعائوں کے مستحق ہیں۔ (ارشاد الرحمٰن)


تعارف کتب

o درسِ قرآن کی تیاری کیسے کریں؟ انجینیر مختار فاروقی۔ ناشر: مکتبہ قرآن اکیڈمی، لالہ زار کالونی نمبر۲،  ٹوبہ روڈ، جھنگ صدر۔ فون: ۷۶۳۰۸۶۱-۰۴۷۔ صفحات: ۷۲۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔[درسِ قرآن کی تیاری اور اس کے لوازمات کے لیے رہنمائی دی گئی ہے۔ قرآن کا موضوع، مرکزی مضامین، مدرس کا اسلوب، اندازِ بیان اور مؤثر درس کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ آخر میں قرآن فہمی کے تین منتخب نصاب بھی دیے گئے ہیں۔ ]

oنماز سے کردار سازی کیسے؟ یاسمین حمید۔ ملنے کا پتا: دفتر تحریک ِ اسلامی، اٹاوہ سوسائٹی، نزدگلشن معمار، کراچی۔ فون: ۳۶۳۵۰۱۰۰-۰۲۱۔ صفحات: ۱۰۰۔ قیمت: درج نہیں۔[زیرتبصرہ کتاب میں توجہ دلائی گئی ہے کہ نماز کے الفاظ ہمارے ضمیر کو بیدار کرتے ہیں، ہماری سیرت سازی کرتے ہیں، ایمان و یقین کی دولت سے مالامال کرتے ہیں۔ نماز کیسے بدی کے طوفانوں میں، حق کی راہوں پر ہمارے قدموں کو مضبوط جماتی ہے۔  شرط صرف یہ ہے کہ ہم نماز بے سوچے سمجھے نہ پڑھیں، نماز کے الفاظ کے مدّعا کو ٹھیک ٹھیک سمجھیں اور     اپنے قلب و روح میں انھیں جذب کرتے جائیں۔کتاب میں نماز کا حقیقی مدعا و مقصود ، نماز کا دین میں مقام، خشوع و خضوع، تزکیہ و تربیت، مسلمان کی طاقت کا اصل سرچشمہ، صبر اور صلوٰۃ سے مدد، سیرت و کردار سازی اور قائدانہ صلاحیتوں کا فروغ، نماز ایک بہترین تربیتی نظام جیسے موضوعات زیربحث آئے ہیں۔]

o رُوداد مجلس شوریٰ ، چہارم، مرتبہ: شیخ افتخار احمد۔ناشر: ادارہ معارفِ اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ ۴-۳۵۴۱۹۵۲۰-۰۴۲۔صفحات:۴۴۰، قیمت:۳۷۵ روپے۔[زیرنظر کتاب جماعت اسلامی پاکستان کی مجالس شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیوں پر مشتمل ہے، جنھیں تاریخ کے ریکارڈ اور قوم کی رہنمائی کے لیے جماعت اسلامی کے موقف کی وضاحت کے لیے بڑا اہم مقام حاصل ہے۔]

o سہ ماہی جہانِ اعصاب(جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ئ)، مدیراعلیٰ: پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر۔ پتا: ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن، آغا خان ہسپتال، اسٹیڈیم روڈ، کراچی۔صفحات:۲۴۔ قیمت:۴۰ روپے۔ [مغربی دنیا کے مقابلے میں مسلم دنیا میں نفسیاتی امراض کا تناسب آج بھی کم ہے۔ تاہم جیسے جیسے مادیت اور مذہب سے دُوری بڑھ رہی ہے ان امراض کا تناسب بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی نے نفسیاتی امراض کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی کے لیے مذکورہ مجلے کا اجرا کیا ہے۔ قارئین کو دماغی، اعصابی اور نفسیاتی امراض سے معلومات اور بچائو کی تدابیر سے جدید تحقیق کی روشنی میں آگاہی دی جائے گی۔ ]