اپریل ۲۰۱۶

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| اپریل ۲۰۱۶ | مدیر کے نام

ڈاکٹر فضل عظیم ، پشاور

’اشارات‘ (پروفیسرخورشیداحمد) میں ’کرپشن کے خلاف جہاد‘ اور اس سے پہلے نعیم صدیقی ؒ کا خیانت پر تبصرے نے مارچ کے شمارے کو اور زیادہ مؤثر بنادیا۔ فروری ۲۰۱۶ء کے شمارے ’معذور افراد کے حقوق‘ اور عدل کے حوالے سے رسولؐ اللہ کا طرزِعمل، جب کہ مارچ ۲۰۱۶ء کے شمارے میں ’راستے اور   راہی کے حقوق‘ احمد اویس مدنی ایک بہترین انتخاب ہے۔


ڈاکٹر طارق محمود ،ماتلی، بدین

مارچ کے ’اشارات‘ میں لیاقت علی خاں مرحوم کو ذاتی زندگی کے چند قابلِ تحسین واقعات کی بناپر  کلین چٹ دینا مناسب نہیں ہے۔ بطورِ حکمران ان کے متعدد فیصلوں اور رویوں نے مجموعی طور پر پاکستان کو پہلے روز سے مشکلات کے جنگل میں دھکیلا، جو تاریخ کا تلخ باب ہے۔ محترم سیّد منور حسن صاحب نے اپنے خط میں امریکی سامراج کے حوالے سے بجا طور پر اسلامی تحریکوں کے موقف کی نشان دہی کی ہے۔ آج لبرلزم اور  سرمایہ داری کی ظالمانہ یلغار کی مناسبت سے کھل کر اور بغیر لگی لپٹی کے لٹریچر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔


محمد شکیل ، ٹوبہ ٹیک سنگھ

جناب سعادت اللہ حسینی کا مضمون: ’تحریکی لٹریچر، درپیش علمی معرکہ‘ (مارچ ۲۰۱۶ئ) اس امر کا عکاس ہے کہ تحریکِ اسلامی علمی جمود کا شکار نہیں۔ تاہم، مضمون نگار کے یہ الفاظ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں: ’’مسئلہ یہ ہے کہ ایمان اور دعوت، انصاف اور تہذیب، شرفِ انسانی کو پروان چڑھانے اور قرآن و سنت سے دنیا کو جوڑنے کے لیے یہ اُمورمرکزیت رکھنے کے باوجود، غالباً ثانوی درجے ہی میں کہیں دُور دکھائی دیتے ہیں، یا پھر سرے سے نگاہوں سے اوجھل۔ کیا اس صورت میں غالب اور حاکم تہذیب و تمدن کا جواب دینا ممکن ہے؟‘‘ (ص۱۰۱)۔ جناب ڈاکٹر صفدر محمود نے سیکولرسٹ دانش وروں کو مُسکت جواب دیا ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب جیسے محقق نہ ہوتے تو یہ لوگ اب تک قائداعظم کو سیکولر مبلغ بناچکے ہوتے۔ تاہم، ایسے عناصر باز آنے والے نہیں۔


نمیر حسن مدنی ، اسلام آباد

سعادت اللہ حسینی (مارچ ۲۰۱۶ئ) نے نہ صرف انتہائی اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے، بلکہ اس کی  جزئیات تک سے آگاہ کیا ہے ۔ مگر اصل سوال تو یہ ہے کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کون ہے؟ غالباً ترجیحات میں کہیں اس کا مقام نہیں ہے۔ محترم سیّد منور حسن صاحب نے اپنے خط میں امریکی فیکٹر کی نشان دہی کرکے حالات کی سنگینی کو آشکار کر دیا ہے۔اس پہلو کو نظرانداز کرنا ملّی خودکشی کے مترادف ہوگا۔


بیناحسین خالدی ، صادق آباد

تخفیف ِ آبادی کے موضوع پر افشاں نوید صاحبہ کا مضمون قابلِ غور وفکر ہے۔ ’تحریکِ اسلامی اور فکری چیلنج: چند گزارشات‘ (فروری ۲۰۱۶ئ) میں عبدالرشید صدیقی صاحب نے بڑے اہم فکری چیلنج کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ دہریت کا بڑھتا ہوا فتنہ اُمت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اگلے شمارے میں سعادت اللہ حسینی کی پکار پر کون لبیک کہے گا؟


حافظ غلام رسول ، لورالائی

’آخرت میں جواب دہی کی حقیقت‘ (جنوری ۲۰۱۶ئ) میں مولانا مودودیؒ کے درسِ قرآن      سورئہ ذاریات کی آیت: فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاo (۵۱:۳)’’پھر سُبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں‘‘ کا ترجمہ  درج ہونے سے رہ گیا ہے۔ ’معذور افراد کے حقوق‘ (فروری ۲۰۱۶ئ) میں آخری صفحے پر درج حدیث کے اعراب میں غلطی ہے۔ نیز حوالے میں بھی اِملا کی غلطی بلکہ غلطیاں موجود ہیں، مثلاً کتاب البروالصلہ والادب کے بجاے کتاب البرواصلہ ولادب لکھا ہوا ہے، جو حساس قاری کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ امید ہے کہ توجہ دی جائے گی۔


ڈاکٹر سیّد ظاہر شاہ ،پشاور

’لبرل ازم کیا ہے اور کیا نہیں؟‘ (جنوری ۲۰۱۶ئ)کے بارے میں عرض ہے کہ ’لبرل مسلمان‘ ایک گمراہ کن اصطلاح ہے۔ حقیقت میں دنیا میں کوئی بھی انسان لبرل نہیں ہے۔ ایک سچا مسلمان، اللہ کا بندہ اور غلام ہوتا ہے، جب کہ لبرل بہت سارے معبودوں بشمول نفس کا بندہ اور غلام ہوتا ہے۔ قرآن نے بہت احسن طریقے سے ایک مثال سے اس حقیقت کو واضح کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:’’اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خُلق آقا شریک ہیں، جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟___ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔(الزمر ۳۹:۲۹)۔ اقبالؒ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے کہ وہ ایک سجدہ (اللہ کی بندگی) جس کو تو مشکل سمجھتا ہے، انسان کو ہزار سجدے (مختلف آقائوں کی بندگیوں) سے نجات دیتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان جب اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے تو وہ منافقت کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسان ایک وقت میں اللہ کا بندہ ہوگا یا خواہشاتِ نفس اور دوسرے آقائوں کا بندہ۔