اپریل ۲۰۱۶

فہرست مضامین

عدلِ اجتماعی اور اسلام

ڈاکٹر حمید اللہ عبدا لقادرo | اپریل ۲۰۱۶ | نظامِ حیات

عدل کا ہماری عملی زندگی سے گہرا تعلق ہے لیکن انفرادی دائرے سے آگے بڑھ کر اسلام ہمیں عدل ِ اجتماعی کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یوں عدل انفرادی زندگی کو متاثر کرنے کے بعد دینی اجتماعی شکل میں معاشرتی ، معاشی ، قانونی اور سیاسی پہلوئوں کو متاثر کرتا ہے ۔ اسلام پہلی صدی کے آخر تک تین براعظموں کو مسخر کر چکا تھا۔ اسلام نے دنیا کی دوسری اقوام کو جس تیزی اور سُرعت کے ساتھ اپنے اندر سمو لیا ہے، یہ تاریخ ساز پہلو اسلام کے عدلِ اجتماعی کے باعث ہے ۔ اسلام اور دینِ شریعت کی عادلانہ روش نے اس نظام زندگی کے تما م تر روشن امکانات کو اہل دنیا کے سامنے واضح کیا اور انھوں نے جو ق در جوق اسے تسلیم کر لیا۔ اسلام کے اس عادلانہ پہلو کی تعریف میں سیکڑوں مستشرقین اور یورپی اہل علم رطب ُ اللسان دکھائی دیتے ہیں۔ آئیے ہم عدل کے انفرادی، اجتماعی ، معاشرتی، سیاسی، معاشی اور قانونی پہلوئوں کا تفصیل سے جائزہ لیں۔

جہاں تک انفرادی عدل کا تعلق ہے ، اسلام نے ایک فرد کے لیے حقوق و فرائض کا ایک دائرہ کھینچ دیا ہے۔ اسے حلال و حرام کی واضح تمیز عطا کر دی گئی ہے۔ اسے ظلم ، شرک ، بد دیانتی، بدعہدی، بد کرداری ، دھوکے بازی اور اخلاقِ فاسدہ کے تمام پہلوئوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پیدایش سے موت تک ایک مسلمان کو معاشرے کے مختلف اداروں اور معاملات سے تعلق استوار کرنا ہوتا ہے۔ شریعت نے ایک فرد کی حیثیت سے ہر جگہ اسے عدل اختیار کرنے کی تلقین کی ہے:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(المائدہ ۵:۸)

ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے۔(اعراف ۷:۲۹)

دین و شریعت کا علم رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اسلام انفرادی تربیت کے نتیجے میں ایک اجتماعی ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ تمام عبادات کا مزاج اجتماعیت پسندانہ ہے۔ مسجد، مکتب اور معاشرہ بھی اجتماعی ادارے ہیں۔ عدل اجتماعی کا تقاضا ہے کہ یہ عدل کے عالم گیر پہلو کو سامنے لائے۔ عدل کا عمل فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ متعلق ہے۔ حقوقِ اولاد، حقوق والدین، حقوق الزوجین، ہمسایے کے حقوق ، وراثت کے حقوق، بنیادی حقوق، حتیٰ کہ نفس کے حقوق سے لے کر عالمی حقوق تک کے ہر مرحلے کے لیے شریعت کی ترجمانی ہمارے سامنے ہے ۔ جنگ و جہاد میں اسلام نے مفتوحین کے حقوق کو کس شان کے ساتھ مرتب کیا ہے، وہ فقید المثال ہے۔ میثاق مدینہ میں ایک اسلامی ریاست کی حدود میں بسنے والے مختلف مذاہب اور ملتوں کے افراد کے حقوق کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔ (سیرت ابن ہشام، اول، ص ۵۰۴، ۵۹۳)

اسلام نے عدلِ اجتماعی میں معاشرتی حقوق کو بہت نمایاں مقام دیا ہے ۔ نام و نسب کے حوالے سے دنیا میں بہت سے فتنے موجود ہیں۔ انسانی معاشرت میں رنگ و نسل کے امتیازات کے باعث بے انصافی کو فروغ ملتا ہے ۔ قرآن مجید نے سورۃ الحجرات میں افراد کے امتیازات کو رنگ و نسل کے بجاے عبادت و تقویٰ سے جوڑ دیا ہے ۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :

لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ (الحجرات ۴۹:۱۳)

معاشرتی عدل کی اہمیت کا اندازہ ہمیں خطبہ حجۃ الوداع کے اس حصے سے بھی ہوتا ہے  جس میں حضور سرور کائناتؐ نے فرمایا: اے لوگو، تم سب آدم ؑسے ہو اور آدمؑ کو مٹی سے بنایا گیا۔ نسب قابل فخر بات نہیں ۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں۔ تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔

معاشرتی عدل کے نمونے تاریخ اسلام کا انمول سرمایہ ہیں۔ عدل کا یہی وہ پہلو ہے جس نے غلاموں کو آقائوں کے برابر ہی نہیں ، ان کی قیادت میں کام کرنے کا عظیم درس دیا ہے۔ خصوصاً عورتوں کو اسلام نے جو حقوق دیے ، وہ معاشرتی عدل کا سب سے عظیم پہلو ہے۔ اسلام ، دنیا کا واحد دین ہے جس نے عورت کے شرف کا تحفظ کیا اور بلند ترین مقام سے نوازا ہے ۔ اسی طرح معاشرتی عدل میں بیوہ اور یتیموں کے حقوق کی پاس داری کا جو درس دیا گیا ہے، وہ بھی قابل توجہ ہے۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک اجتماعی نظام میں پرو کران کا ایک معاشرہ اور ان کی ایک ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔ مدینہ کی ریاست عدلِ اجتماعی کا پہلا گہوارہ ہے۔ اسلامی ریاست میں اگر سیاسی عدل کو قائم کیا جائے تو اس کے نتیجے میں افراد کو اور اداروں کو ہر نوعیت کے ظلم سے چھٹکارا نصیب ہوتا ہے ۔ ریاست ایک قوت کا نام ہے جس کے زیر سایہ مختلف افراد اور ادارے عدل سے کام لیتے ہیں اور ریاست ہر قسم کے ظلم اور جبر کا دفاع کرتی ہے ۔ سیاسی عدل کے حوالے سے ریاست افراد کو انتظامی اداروں کے ظلم سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اگر سیاسی عدل کو برقرار نہ رکھا جائے تو معاشرے اور ریاست کا وجود معرضِ خطر میں آجاتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذرؓ کو انتظام کی اہمیت سے باخبر کرتے ہوئے فرمایا:

اے ابو ذر ؓ ! تم کمزور آدمی ہو اور حکومت کا منصب ایک امانت ہے۔ یہ منصب قیامت کے دن رُسوائی اور ندامت کا باعث ہو گا، بجز اس شخص یا عہد ہ دار کے جس نے اپنے عہدے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہو گی اور خود پر عائد شدہ ذمہ داری کا حق ادا کیا ہوگا۔

اسلام غیر مسلموں کے ساتھ بھی عدل وا نصاف کا حکم دیتا ہے ۔ فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں‘‘ (الشوریٰ ۴۲:۱۵)۔اس آیت کے مخاطب یہود ہیں۔ گویا کہ آںحضوؐر کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہود جو نہ صرف غیر مسلم بلکہ آپؐ کے جانی دشمن تھے، کے درمیان بھی عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔ چنانچہ یہودِ مدینہ اکثر اپنے مقدمات آپؐ کے پاس لایا کرتے تھے اورآپؐ ان کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ فرما دیا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ: ’’کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے بارے میں عدل   نہ کرو‘‘(المائدہ ۵:۹)۔ سورئہ ممتحنہ میں فرمایا کہ: ’’اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔(الممتحنہ  ۶۰:۸)

نبی کریم ؐ نے خیبر کی فتح کے بعد مفتوحہ زمینوں کے معاملات طے کرنے کے لیے جب عبداللہ ابن رواحہؓ کو بھیجا تو یہود نے انھیں رشوت دے کر نرمی حاصل کرنا چاہی تو انھوں نے فرمایا: تمھاری ان زمینوں کے مقابلے میں نبی کریم ؐ کی محبت اور حکم مجھے زیادہ عزیز ہے۔ یہود نے کہا کہ اسی عدل کی وجہ سے زمین و آسمان کا نظام قائم ہے۔ (صفی الرحمن، تجلیاتِ نبوتؐ، ص ۳۷۵-۳۷۶)

اسلام میں عدل کی یہ اہمیت ہے کہ اسے صرف قانون کے رحم و کرم پر ہی نہیں چھوڑا گیا بلکہ اسے دین کے فرائض میں شامل کیا گیا ہے اور ظلم کرنے والے کو آخرت کی سخت وعید سنائی گئی ہے ۔ معاشرتی، معاشی اور سیاسی عدل کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون بھی سزا دیتا ہے اور اللہ کے ہاں بھی عدل نہ کرنے والا قابلِ مواخذہ ہے۔ قرآن میں ہے کہ ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے(انعام۶ : ۲۱) ’’اور یہ کہ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔(اٰل عمرٰن۳ : ۱۴۰)

عدلِ اجتماعی کی بنیادیں

اسلامی عدل اجتماعی کی بنیاد کسی قیاسی سوشل کنٹریکٹ پر نہیں ہے جس کی تعبیر ہر دور میں صاحبِ اختیار افراد اپنے مفاد کے پیش نظر کرتے رہیں۔ اسلامی اخلاق و قانون کا ماخذ کسی فرد یا کسی گروہ کی پسند یا ناپسند نہیں، بلکہ خالق انسان کی جانب سے نازل کردہ قوانین و اصول ہیں جو انسانوں کو دہرے اخلاقی معیار سے نجات دلا کر زندگی کے تمام معاملات کو ایک وحدانیت میں لے آتے ہیں۔ جس انسانی معاشرے میں دہرے اخلاقی معیار پائے جاتے ہوں وہ عدلِ اجتماعی سے محروم ہوتا ہے۔

  •  عدلِ اجتماعی کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی زمین پر جہاں کہیں بھی انسان کا اختیار پایا جاتا ہے ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب زندگی سے بنیادی تضادات کو خارج کرتے ہوئے اپنے معاشی ، سیاسی ، معاشرتی ، تعلیمی ، قانونی اور ثقافتی مسائل کو صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ہدایت و فرمان کا تابع کر دیا جائے ۔ گویا اسلامی عدل اجتماعی کی پہلی بنیاد توحید خالص ہے۔ توحید کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ خالق کائنات کے ساتھ کسی کو شریک  نہ کیا جائے اور جہاں کہیںبھی انسان کا اختیار ہو وہ جادۂ عدل کو اختیار کرے ، یعنی حقوق و فرائض کی بجا آوری میں کسی ســستی اور غیر ذمہ داری کا شکار نہ ہو۔
  •  عدلِ اجتماعی کی دوسری اہم بنیاد آزادی ہے ، یعنی ایک شخص اپنے آپ کو ان تعصبات سے آزاد کرے جو بعض اوقات خاندانی روایات، توہمات، رسوم و رواج اور قبیلہ یا برادری کے صدیوں پرانے طرزِ عمل کو قانون کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ  ؑ اور حضرت ہارون ؑ نے جب اپنی قوم کو توحید اور عدل پر قائم ہونے کی دعوت دی تو ان کا رد عمل یہی تھا کہ:

 کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہو جائے۔  (یونس ۱۰: ۷۸)

یہ جاہلی عصبیت، یہ باپ دادا کی روایت پر فخر و نازاسلام کے تصور حق و باطل سے ٹکراتا ہے۔ اسلام جس عالمی اخلاقی نظام کو قائم کرنا چاہتا ہے اس میں عظمت اور قطعیت صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کو اور انبیا و رسل کے فیصلوں کو حاصل ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ایک انسان اپنے خالق کا ناشکرا اور انبیاے کرام ؑ کی ہدایات کا منکر قرار پاتا ہے۔ اسی کا نام ظلم ہے۔

آزادی کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایک شخص کو شعور کی آزادی اور فیصلے کی آزادی حاصل ہو۔ اس پر ایسے تصورات اور ایسی ثقافت کو زبردستی مسلط نہ کر دیا جائے جو اس کے بنیادی عقائد و تصورات سے ٹکراتی ہو۔ چنانچہ آج عالم گیریت کے سہارے یک قطبی سامراجیت اپنی ثقافت کو جس طرح دنیا بھر کی اقوام پر تعلیم ، معاشی حکمت عملی، سیاسی دبائو کے ذریعے مسلط کرنے میں مصروفِ عمل ہے ، یہ جارحیت کی ایک واضح شکل ہے ۔ یہ آزادیِ راے کو معطل یا مقید کردینا ہے۔ یہ انسانوں کے ذہنوں کو ابلاغِ عامہ کے ذریعے اپنا محکوم بنا کر غیر مؤثر کر دینا ہے ۔ اسلامی عدلِ اجتماعی ہر فرد کو آزادیِ راے، آزادی اجتماع اور آزادی عمل دے کر شعور و آگہی اور معروف ومنکر کی آفاقی بنیادوں کی روشنی میں کسی عمل کو اختیار کرنے یا رد کرنے کا پورا حق دیتا ہے۔ اس کے بالمقابل آمریت ہو یا بادشاہت، سرمایہ دارانہ نظام ہو یا اشتراکیت زدہ نظام ، اپنی معاشی اور سیاسی گرفت کی بنا پر عملاً انسانوں سے ان کی قوتِ فیصلہ چھین لیتا ہے اور انھیں اپنی سامراجیت کا غلام بنا لیتا ہے۔ اسلامی نظامِ عدل اس استحصال سے نجات کا نام ہے۔

  •  اسلامی عدلِ اجتماعی کی تیسری بنیاد تمام انسانوں کو بحیثیت انسان یکساں قرار دینا ہے کیوںکہ تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور رنگ و نسل یا زبان کی بنا پر ان میں کوئی تفریق کرنا ایک ظالمانہ رویہ ہے۔ چنانچہ تمام انسان قانون کی نگاہ میں مساوی ہیں۔ البتہ عقل کا مطالبہ ہے کہ اپنے وظیفۂ حیات اور تقسیم کار کے لحاظ سے ان کی ذمہ داری اور جواب دہی یکساں نہ ہو۔ اس لیے بحیثیت انسان ان کے حقوق وہی ہیں جو ایک مومن اور مسلمان کے ، لیکن اپنی ذمہ داری، صلاحیت اور کارکردگی کے لحاظ سے ان کا معاوضہ مختلف ہونا ایک فطری تقاضاے عدل ہے۔
  •  اسلام کے عدلِ اجتماعی میں تقسیم دولت کی بنیاد استطاعت، صلاحیت اور ضرورت کو قرار دیا گیا ہے۔ اگر استطاعت رکھتا ہو لیکن سعی نہ کرے، صلاحیت رکھتا ہو لیکن اپنے اختیار کو استعمال نہ کرے، تو وہ اُس کے برابر نہیں ہو سکتا جو اپنی صلاحیت اور ذمہ داری کو عدل کے ساتھ ادا کر رہا ہو۔ گویا یہاں بنیاد نہ طبقاتی نظام ہے نہ زیادہ مال اور وسائل رکھنے والوں کی حکمرانی و برتری۔ یہ صلاحیت پر مبنی ایک ایسا نظام امانت ہے جس میں امانتیں صرف ان کے اہل کو ہی دی جا سکتی ہیں۔
  •  اسلام تمام انسانوں کو جدو جہد اور اکتسابِ رزق کے مناسب مواقع کی فراہمی کو بھی معاشرے میں عدلِ اجتماعی کے قیام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، اور یہ ذمہ داری معاشرے اور حکومت کو سونپتا ہے کہ سب کے لیے مواقع کی فراہمی کو یقینی بنائیں، اور جو مجبور ہوں ان کو ایسا سہارا فراہم کیا جائے کہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دولت کی گردش کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلامی عدلِ اجتماعی زکوٰۃ، انفاق اور صدقات کے نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ دوسری جانب معاشرے کے کم زور عناصر کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے ان کی مالی اور تربیتی ضروریات کو بہتر بنا کر ان میں خود انحصاری پیدا کرتا ہے۔ نظامِ زکوٰۃ انفاق، بیع اور تجارت کے فروغ کے نتیجے میں معاشی طور پر پس ماندہ افراد کو سہارا دے کر خود انحصاری کی طرف لے جاتا ہے۔
  •  کسی بھی انسانی معاشرے میں حادثات کے نتیجے میں کل تک جو صاحبِ وسائل تھا وہ مفلوک الحال بن سکتا ہے۔ اسلامی عدلِ اجتماعی میں تکافل اجتماعی کا تصور اسلامی معاشرے کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا اور ایسے مواقع پر انسانی ہمدردی اور تعاون کی بنیاد پر تکافلِ اجتماعی کا ادارہ جس میں معاشرے کے افراد اپنا حصہ ڈالتے ہیں ، اس نقصان کو پورا کرتا ہے۔