اپریل ۲۰۱۶

فہرست مضامین

چار شہیدوں کے والدین

الطاف حسین ندوی کاشمیریo | اپریل ۲۰۱۶ | پاکستانیات

   سننے اور دیکھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔بعض چیزیں کتابوں میں پڑھنے کو ضرور ملتی ہیں، مگر ان کی عملی نظیردستیاب ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر قاری اپنے ذہن و دماغ کے مطابق ایک خیالی تصویرذہن میں بنا لیتا ہے اور ان خیالی تصاویر کے مصورین کی مصوری کا ایک جیسا ہونا بھی ناممکن ہوتا ہے ۔

چار شہید بیٹوں کی صابرہ و شاکر ہ ماں حضرت خنسائؓ کی بہادری اور شجاعت کی داستانِ بے بدل تاریخ کی کتابوں میں پڑھنے کو تو ملتی ہے مگر دورِ حاضر میں بھی روے زمین کی مظلوم ترین سر زمین کشمیرمیں ایک ایسا گھرانہ اپنی غربت ،مفلسی مگر خودداری اور حمیت ِ دینی کا نمونہ نظر آتا ہے، جہاں بوڑھے والدین کے کندھوں نے چارمجاہد لخت ِ جگروں کے جنازے اٹھائے ہیں۔

یہ ہے مرحوم لسّہ خان ساکن سونا براری ککر ناگ (اسلام آباد)کا گھر انا۔جن کی وفات ۵مارچ۲۰۱۶ء کو ہوئی۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔شہید شیخ داؤد(کیموہ ،اسلام آباد) کے بھائیوں سے تعزیت کے بعدمیں اپنے چند دوستوں کے ساتھ لسّہ خانؒ کے گھر تعزیت کے لیے روانہ ہوا۔ماگام سونا براری وسیع ترین پہاڑی علاقہ ہے ۔لسّہ خانؒ کا گھر ایک پہاڑ کے بالکل  دامن میں واقع ہے ۔اس گھر میں اب نہ لسّہ خان ہے نہ اس کے بیٹوں میں سے کوئی ایک ۔یہاں صرف چار شہیدوں کو اپنی گود میں پروان چڑھانے اور جنازے دیکھنے والی صابرہ و شاکرہ ایک بوڑھی ماں، ان کی چھوٹی بیٹی، اس کا شوہر (منظور احمدکچھے)،ان کے تین معصوم بچے اور ایک شہید کے تین معصوم پھول۔ یہ ہے کُل کائنات لسّہ خان کے گھر کی ۔

میرا خیال تھا کہ لسّہ خان ؒ کشمیر کی کسی دینی تنظیم کے رکن ضرور ہوں گے۔ اس لیے انھیں اپنے دینی کارناموں پر ناز ہونا چاہیے۔ مگر میری حیرت اپنی انتہا کو اس وقت پہنچی جب لسّہ خان کی بیوہ نے کہا کہ ان کا تعلق کسی بھی دینی یا سیاسی تنظیم سے کبھی بھی نہیں رہا ہے ۔میں نے استفساراً عرض کیا کہ کشمیر کی کسی دینی تنظیم کا یہاں کوئی یونٹ موجود ہے تو انھوں نے نفی میں جواب دیا ۔مجھے اس بات سے یقین ہوا کہ بے نیاز رب اپنے دین کی خدمت کے لیے جب چاہتا ہے سنگلاخ چٹانوں سے چشمۂ شیریں جاری کردیتا ہے ۔

لسّہ خانؒ کی کہانی ایک دو سال کی نہیں بلکہ پورے ۲۸ برس کی ایسی داستان ہے، جس میں ہمیں ایمان،تقویٰ،پہاڑ جیسی استقامت،مروت،ایثار،محبت اور فنا فی اللہ کی سچی تصویر نظر آتی ہے۔    ان کے تینوں بیٹے شہید غلام حسن،شہید مختار احمد اور شہید اعجاز احمد سب مجاہد تھے، جب کہ ایک ۱۳سالہ آخری بیٹا بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں نزدیکی جنگل میں شہید ہوا ہے ۔جس پر لسّہ خانؒ کبھی بھی غمگین نہیں ہوا ۔چار شہیدوں کی ماں سے جب میں نے یہ پوچھا کہ کیا آپ کا ۱۳سالہ بیٹا بھی مجاہد تھا تو میرا سوال سنتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے اور ہچکی لیتے ہو ئے کہا: ’’نہیں، وہ مجاہد نہیں تھا بلکہ جنگل میں بھائیوں کا کھانا لے کر گیا کہ اچانک گولیاں چلنے کی آواز دیر تک سنائی دی۔ گاؤں میں خوف و دہشت کا ماحول طاری تھا۔ فوج نے لسّہ خانؒ کو بلایا تاکہ لاشوں کی شناخت کرسکے۔    ہم نے اُڑتی اُڑتی خبر سنی تھی:’’ آٹھ مجاہد شہید ہوئے ہیں‘‘ ۔ہمیں یقین سا ہوا کہ آج میرا بیٹا اعجاز احمد شہید ہوا ہوگا مگر ہمارے اُوپر بجلی گری جب اعجاز کے برعکس میرے ۱۳سالہ محمد عباس کی لاش تھما دی گئی‘‘۔

بوڑھی اماں کا کہنا تھا کہ: ’’اس روز لسّہ خان بے قابو سا ہوگیا، اس لیے کہ چھوٹو کے سینے کو  بہت ساری گولیوں نے چھلنی کر دیا تھا۔ لسّہ خان اور فوجی افسر کے درمیان اس کی شہادت پر سخت تکرار شروع ہوئی کہ آخر ایک معصوم بچے کو مارنے کی ضرورت کیا تھی؟ فوجی افسر نے ہاتھ میں بندوق لہراتے ہوئے کہا کہ یہ ہے تیرے معصو م کی بندوق جس سے اس نے فوج پر فائرنگ کی ہے، حالانکہ یہ صریحاً جھوٹی کہانی تھی جس میں رتی بھر صداقت نہیں تھی ۔یہ کہہ کر بوڑھی ماں خاموش ہوگئی۔

    لسّہ خان نے تحریک کے لیے اپنے چار لخت جگروں کی قربانی ہی نہیں دی بلکہ دوبھانجوں کو بھی تحریک کشمیرکے لیے قربان کردیاہے۔ اس کا بھانجا۲۶سالہ حبیب اللہ خان  ولدسبحان خان حزب المجاہدین ہی کے ساتھ وابستہ تھا۔ وہ بھی ایک جھڑپ کے دوران شہید ہو اہے۔

لمبے وقفے کے بعد اعجازاحمد گھر لوٹ آیا، تاہم اسے معلوم نہ تھا کہ فوج نے کئی ماہ سے   ان کے گھر کو ہی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے۔تصور سے بالاتر صورتِ حال نے اعجاز کو خاصا پریشان کردیا۔ وہ کسی جگہ آڑ لینے کے لیے الٹے پاؤں پیچھے ہٹاتو فوج نے فوراًعلاقے کو گھیر لیا۔ فوج نے اعجاز احمدکو سرنڈر کرکے جان بچانے کی پیش کش کی مگر اس نے کسی پس و پیش کے بغیر رد کردی، جھڑپ کا آغاز ہوا جس میں بالآخر اعجاز احمد شہید ہوگیا۔

اس کے کچھ عرصے بعد ایک طویل جھڑپ میں حبیب اللہ بھی شہید ہوا۔اس جھڑپ کے دوران لسّہ خان کا دوسرا گھر اور گاؤ خانہ بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا۔پانچ برس کی قلیل مدت میں تین بیٹے اوردو بھانجے کھونے کے بعد لسّہ خان اور ان کی اہلیہ اب چوتھے بیٹے ۲۸سالہ غلام حسن کی سلامتی کی دعائیں کررہے تھے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

اُ م الشہدا کے بقول غلام حسن بھی حزب المجاہدین کے ساتھ ۹۰ کے عشرے میں وابستہ ہواتھا کہ اچانک گرفتار ہوا ۔کئی سال بعد رہائی نصیب ہوئی،پھراس نے شادی کی اور بچے بھی ہوئے تھے۔اپریل۲۰۰۳ء میں جب وہ کام کے بعد گھر لوٹ رہا تھا تو فوج نے اسے پکڑ لیا اور اپنے ساتھ ہلڑ نامی گاؤں لے گئے جہاں اس کا شدید ٹارچر کیاگیا اور بے ہوشی کی حالت میں ایک کھیت میں پھینک دیاگیا۔وہ تین ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہا اور بعد میں جب گھر میں رو بہ صحت ہورہا تھا تو اچانک اپریل۲۰۰۳ء کی ایک شب کے دوران میں فوجی اہلکار اس کے کمرے میں گھس گئے اور وہیں گولیاں مار کر ابدی نیند سُلادیا۔

اُم الشہدا کا کہنا ہے کہ: اس کے شوہر لسّہ خان کو فوج اور پولیس بار بارگرفتار کر کے ٹارچر کرتی تھی جس کے نتیجے میں وہ کئی بیماریوں کے شکار ہو گئے ۔دل،آنکھ اور پھیپھڑوں کی بیماری کی تکلیف وہ عرصۂ دراز سے جھیل رہے تھے مگر آخری تین سال میںوہ بستر تک محدود ہوگئے تھے ۔  ان ساری مشکلات کے باوجود میرے مرحوم شوہر کبھی بھی مایوس نہیں ہوئے، بلکہ انھیں اپنے بیٹوں کی شہادت پر فخر تھا اور ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا ۔ وہ علالت کے باوجود بھی عبادت کرتے رہے۔ وہ تہجد اور تلاوت قرآن کے سخت پابند تھے، حتیٰ کہ عین آخری وقت بھی وہ عبادت میں ہی محوتھے۔

    یہ مصیبتیں مرحوم لسّہ خان نے تنہا نہیں جھیلیں، بلکہ قدم قدم پر ان کی صابرہ و شاکرہ اہلیہ نفیسہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔چار بیٹوں کے شہید باپ کو تشدد کے ذریعے جسمانی عوارض میں مبتلا کردیا گیا۔ جب وہ انھی مصیبتوں اور اس کے نتیجے میں بیماریوں کا ذکر کر رہی تھیں، تو ان کے آنسو رُکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔اس واقعے کو یاد کرکے وہ تڑپ اٹھیں جب وہ جنگل گئیں۔ گھر میں شوہر کے سوا کوئی نہیں تھا۔ بھارتی فوج جنگل سے نفیسہ کو گرفتار کرکے اس حال میں لائی کہ نہ دوپٹہ سر پر رہا اور نہ پاؤں میں پھٹی چپل!کسی طرح لسّہ خان کو اطلاع ہوئی۔ وہ فوراً پہنچے تو ان کی بیوی کو رہا کردیا گیا،  مگر اس رہائی کے بعد وہ دوبارہ سنبھل نہیں پائے۔اس المیہ کا یہی اَلم ناک پہلو نہیں ہے کہ سیکورٹی ایجنسیاں بیٹوں کا انتقام والدین سے لیتی رہیں، بلکہ اپنوں کی بے اعتنائی نے اس درد میں بے پناہ اضافہ کردیا ۔مسلسل چھاپوں میں سرچھپانے کی جگہ کی عدم دستیابی ،اپنوں کے عدم تعاون ،مکان کی مسماری، معصوم اور یتیم بچوں کی دربدری اور تین بیٹوں اور دو بھانجوں کو اپنے ہاتھوں دفنانے اور پھر آخری بیٹے کو گولیوں سے چھلنی دیکھنے کا دل دوز منظر!