مارچ ۲۰۲۱

فہرست مضامین

اسرائیلی تعصب کی بدترین مثال

یارا حواری | مارچ ۲۰۲۱ | اخبار اُمت

اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کی پالیسی سازی، عمل درآمد اور اثرات سے نسلی تعصب صاف جھلکتا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا (Covid-19)کی وبا نے ممالک اور اقوام میں یک جہتی کے مظاہرے دکھائے ہیں۔اس وبا کے سدِباب کے لیے دولت مند ممالک نے کورونا ویکسین کے اپنے ہاں ڈھیر لگا دیئے ہیں اور عوام کو وبا سے بچائو کے لیے و یکسی نیشن پروگرامات بھی شروع کیے ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیل کو اپنی قوم کو ویکسی نیشن کے عمل سے گزارنے والا پہلا ملک قرار دیا گیا ہے۔

۱۹؍دسمبر کو اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یا ہو نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں فائزر بائیو ٹیک کوویڈ-۱۹  ویکسین وصول کی۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل میں قومی ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز ہو گیا۔ اس پروگرام کے ذریعے دو ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ اسرائیلیوں کو یہ ویکسی نیشن لگا دی گئی۔ یوں آبادی اور رقبے کے اعتبار سے ایک چھوٹے سے ملک کی کم و بیش ۱۲فی صد آبادی کو کوویڈ -19کی ویکسی نیشن دینے والا سب سے پہلا ملک اسرائیل بن گیا۔ لیکن یہ سب کیسے ہوا ، یہ بھی نسلی منافرت کی انوکھی مثال ہے۔

دنیا بھر میں سب ممالک پر سبقت لے جانے میں اسرائیل کئی وجوہ کی بنا پر پہلا ملک کس طرح بنا؟ اس کے لیے مختصر سا جائزہ بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسرائیل ڈیجیٹل دنیا میں قومی صحت کے پروگرام کے تحت اپنے شہریوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ خود کو اس پروگرام میں رجسٹر بھی کرائیں اور اس کے حصہ دار بھی بنیں۔ دوسرے ممالک کے برعکس اسرائیلی فوج پابندہے کہ وہ ایسے ہر پروگرام میں شرکت سے کسی بھی نوعیت کی تاخیر کے بغیر کام کرے، بلکہ کسی بھی ویکسین کی رجسٹریشن اور تقسیم کے عمل میں وہ انتظامی طور پر متحرک کردار ادا کرتی رہے۔

 ان دنوں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ویکسین کی دوڑ میں کامیابی ممکنہ طور پر ان کے حق میں بہتر نتائج سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے اور انتخابات میں قدرے سیاسی توازن ان کی پارٹی کے حق میں پیدا کرسکتی ہے۔

بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں چرچے ہیں کہ اپنے عوام کو ویکسی نیشن فراہم کرنے میں اسرائیل دیگر ممالک پر بازی لے گیا ہے۔ اس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ ایک طرف دھوم ہے کہ اسرائیل نے بڑی تیزی سے اپنے عوام کو اس عالمی وبا کے خلاف مزاحمت حاصل کرنے کے لیے ویکسی نیشن پروگرام مکمل کر لیا ہے، دوسری طرف اسی حکومت نے ان لاکھوںفلسطینیوں کو باقاعدہ منصوبے کے تحت اس پروگرام سے قطعی محروم رکھا ہے۔ یہ وہ فلسطینی ہیں ،جو سال ہا سال سے اس کے قبضے میں کسم پرسی کی زندگی گزا رنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ اس ویکسین کی بہت بڑی مقدار مبینہ طور پرمحض اس لیے ضائع کر دی گئی ہے کہ یہ فلسطینی عوام کی رسائی میں نہ چلی جائے۔ اس مقدار کو مبینہ طور پر اس طرح سے ضائع کیا گیا ہے کہ استعمال کی مدت گزر جانے دی گئی تھی۔ کسی ایک فلسطینی کو بھی یہ ویکسین لگائی نہیں گئی۔ اسرائیل کے طبی مراکز پر جانے والے فلسطینیوں کو یہ ویکسین فراہم کرنے یا لگانے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔اسے صریحاً ظلم اور نسل پرستی نہ کہا جائے تو اور کیا نام دیا جائے۔

غزہ اور مغربی کنارے کی دو بستیاں ۱۹۶۷ء سے ہی ایسے تعصب کا نشانہ بن رہی ہیں۔ غزہ کی پٹی ۲۰۰۷ء سے مسلسل اسرائیلی ناکہ بندی سے دوچار ہے۔بہت سی بنیادی سہولتو ں سے مسلسل محرومی کے ساتھ ساتھ صحت کی نہایت اہم ضرورت سے تسلسل سے انکار نے ایسی کیفیات پیدا کر دی ہیں، جو مستقل خطرے کا الارم بجا رہی ہیں۔

اسرائیل کے قبضے نے فلسطینیوں کے اپنے صحت کے نظام کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ بنیادی ضروریات کی شدید کمی، طبی سازوسامان اور ادویات کی قلت ہے۔ اس قلت نے ان کو اس حال سے دوچار کر دیا ہے کہ مغربی کنارے میں رہنے والی فلسطینی آبادی کئی برسوں سے اِردگرد سے مانگ تانگ کر ان ضروریات کو پورا کرتی ہے۔

کورونا نے ساری دنیا پر اچانک گذشتہ سال یلغار کی تو فلسطینی اتھارٹی کے پاس کسی نوعیت کے انتظامات نہیں تھے کہ وہ اس عالمی وبا (Pandemic)کا مقابلہ کر سکے۔

عالمی ادارہ صحت کےپروگرام سے بھی اتنی مدد نہ مل سکی جس سے کوویڈ- 19 کی ویکسین تمام غریب ممالک کو فراہم کی جا سکتی۔ ابھی تک عالمی ادارہ صحت نےکوویکس (COVAX) پروگرام کی ہنگامی فراہمی کی منظوری بھی نہیں دی ہے۔

گذشتہ دسمبر کے آغاز میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ اس نے روس سے ’سپوتنک فائیو‘ (Sputnik V) کی ۴۰لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے اور   یہ آیندہ چند ہفتوں میں مل جائیں گی۔ حال ہی میں روسی حکام نے اس طرح کے معاہدے کی توثیق ضرور کی ہے، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ ’’ابھی روس اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ غیر ممالک میں یہ ویکسین فراہم کر سکے‘‘۔

اسرائیل نے اپنی قانونی، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر ذمہ داریاں پوری کی ہوتیں تو فلسطینیوں کو یوں دربدر پھرنا ہی نہ پڑتا۔ اسرائیلی حکام اتنی بات کہہ کر خود کو ان تمام ذمہ داریوں سے مبّرا قرار دے لیتے ہیں کہ ’’فلسطینی اتھارٹی نے ہم سے مدد طلب کی ہوتی تو اور بات تھی‘‘۔ حالانکہ اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل اس ذمہ داری کی ادایگی کا پابند تھا۔ لیکن اوسلو معاہدہ کے نتیجے میں کسی نوعیت کی خیر فلسطینی اتھارٹی کے حق میں نہیں مل سکی۔ غزہ اور مغربی کنارے میں ہر طرح کی ویکسی نیشن فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے ہی سر انجام پانا تھی، جو نہ مل سکی۔

 چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل۵۶ کے تحت یہ لازمی ہے کہ ’’کسی بھی قابض (جیسے اسرائیل) پر لازم ہے کہ وہ ہر طرح کے اقدامات کرے، جن سے وبائی یا متعدی امراض کو مقبوضہ علاقے میں پھیلنے سے روکا جاسکے اور وبائی امراض کے خاتمے اور روک تھام کے لیے پورے اقدامات بھی ممکن بنائے‘‘۔ دوسرے الفاظ میں اسرائیلی انتظامیہ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قبضہ میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے کووڈ -۱۹ سے بچائو کی ویکسین مناسب مقدار میں فراہم کرے۔

اسرائیل نے پوری طرح سے فلسطینی اتھارٹی کے صحت کے نظام کو ہر طرح سے مفلوج کر رکھا ہے۔ اس نے کئی عشروں سے فوجی قوت کے بے دریغ استعمال سے قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس نے محض گنتی کی چند میڈیکل سہولیات غزہ جانے دی تھیں جو بین الاقوامی اداروں نے فراہم کی تھیں۔ یہ بھی اس لیے فراہم کرنے کی اجازت دی تھی کہ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ ان سہولیات کی فراہمی کا پابند تھا۔

اسرائیل نے باربار یہ تاثر پیدا کیے رکھا کہ وہ فلسطینیوں کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔  بین الاقوامی برادری اور میڈیا اس کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس نے شدید بیمار فلسطینی مریضوں کو تل ابیب کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی اجازت دی ہے۔ اس نوعیت کی کہانیوں کے عام کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ شدید نوعیت کے فوجی محاصرے اور ناکہ بندی سے مقامی ہسپتالوں میں ضروری طبی آلات اسرائیل نے غزہ کے ہسپتالوں اور طبی سہولیات کے مراکز پر عشروں پر محیط بم باری سے تباہ کر دیے تھے۔ ان حملوں نے فلسطینی مراکز اور نظام صحت ہر طرح سے مفلوج کر دیا تھا۔ اس کے باوجود اسرائیلی انتظامیہ چاہتی تھی کہ بین الاقوامی ڈونرز کے ایک گروہ کی جانب سے چند سہولیات غزہ لے جانے کی اجازت دینے پر اس کی تعریف کی جائے۔ حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ اس کی اپنی ذمہ داری تھی کہ قابض قوت ہونے کی وجہ سے اسرائیل خود یہ سہولیات غزہ پہنچاتا۔

ویکسین کے حصول کی دوڑ سے یقیناً فلسطینی اکیلے باہر نہیں ہیں۔ گلوبل سائوتھ کے بہت سے ممالک اور بھی ہیں جو اس دوڑ سے الگ کر دیے گئے ہیں۔ ویکسین کی بڑی مقدار ایسی بھی ہے جو امیر ممالک کو مختصر نوٹس پر فراہم کی جائے گی مگر مغربی کنارے اور غزہ میں چیلنج اور طرح کا ہے۔ اسرائیل کے پاس فوجی قوت ہے اور فلسطینی عوام پر بے پناہ کنٹرول حاصل ہے۔ یہ دونوں عوامل مقابلے کو فلسطینیوں کے لیے سنگین تر بناتے رہے ہیں۔

دنیا اسرائیل کے تیز رفتار ویکسی نیشن پروگرام کو تو دیکھ رہی ہے لیکن اسے اس بڑی تصویر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ اسرائیل ان لاکھوں فلسطینی عوام کو ویکسین حاصل کرنے سے بزورِ قوت روک رہا ہے۔[الجزیرہ، ۱۱جنوری۲۰۲۱ء]