مارچ ۲۰۲۲

فہرست مضامین

بھارتی مسلمان، ہمہ پہلو نشانے پر!

افتخار گیلانی | مارچ ۲۰۲۲ | اخبار اُمت

یہ ۲۰۱۸ء کی بات ہے، جب بھارت کے جنوبی صوبہ کرناٹک، میں اسمبلی انتخابات کی مہم جاری تھی، تو یہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مقتدر لیڈر، اننت کمار (مرکزی وزیر) پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کی حکمت عملی پر گفتگو کر رہے تھے۔ جب اننت کمار سے پوچھا گیا کہ ’’بی جے پی کیا ایجنڈا لے کر میدان میں اتر رہی ہے؟‘‘ تو انھوں نے صاف اعتراف کیا کہ ’’پولرائزشن ہی ہمارا ہتھیار ہے۔ تعمیر و ترقی کے نام پر کہاں عوام ہمیں ووٹ دیتے ہیں‘‘۔ اُن دنوں شیر میسور ٹیپو سلطان، ہندو نسل پرستوں کی زد میں تھے۔ تب کانگریس کے ایک لیڈر کے۔ رحمان خان ٹیپو سلطان یونی ورسٹی بنانا چاہتے تھے اور کانگریسی وزیر اعلیٰ سدھا رمیا نے ٹیپو سلطان کی برسی منانے کا اعلان کیاہوا تھا۔ اننت کما ر کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایشوہماری انتخابی مہم کے لیے غذا ہے اور اس کا بھرپور استعمال کیا جائے گا‘‘۔ پولرائزیشن کے اس ہتھیار نے اسمبلی میں بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد ۴۰ سے بڑھا کر ۱۰۴کردی۔

۲۰۰۴ء میں جب کانگریس کے زیر قیادت اتحاد نے انتخابات میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کو شکست دی، اس وقت بی جے پی کے سربرا ہ اور ملک کے موجودہ نائب صدر وینکیا نائیڈو نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’یہ انتخاب ان کی پارٹی نے تعمیری ایشوز یعنی ’شائینگ انڈیا‘ کے نعرے پر لڑا تھا ۔ مگر اس شکست نے ان میں احساس پیدا کر دیا ہے کہ عوام کو جذباتی ایشوز پر ہی لبھایا جاسکتا ہے‘‘۔ تب سے بی جے پی نے اقتدار کی کرسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کے لیے تین آزمودہ ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے ، اور وہ ہیں:’’ گائے، مسلمان اور پاکستان‘‘۔

۲۰۱۴ء سے ابھی تک ’گائے کی حفاظت‘ کے نام پر ہجومی تشدد کے ۸۰ واقعات میں ۵۰؍افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ لیکن اب گائے کا ایشو کچھ ٹھنڈا پڑچکا ہے۔ ’پاکستان‘ کے ایشو کو آیندہ کے لیے اُٹھا رکھا گیا ہے، جس طرح پلوامہ کے المیے کے بعد ۲۰۱۹ء میں اس کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، آج اس وقت ہندو شدت پسند اور ان کی سیاسی تنظیم بی جے پی ، مسلمان کارڈ کا بھرپور استعمال کر رہی ہے۔خود وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے انتخابی حلقہ ورانسی میں تاریخی شخصیات اورنگ زیب عالم گیر اور صوفی بزرگ سید سالار مسعود غازی کو مطعون کرکے الیکشن کو ہندو بنام مسلمان بناکر مخالفین کو شکست دی۔

  لکھنؤ شہر کے ایک معروف صحافی حسام صدیقی کے مطابق: ’’ہندو شدت پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) مسلمانوں کے خلاف اکثر طرح طرح کے تجربے کرتی رہتی ہے، تاکہ عام ہندوؤں کو بھڑکا کر بی جے پی کی حمایت میں پولرائز کیا جاسکے‘‘۔ اس وقت حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کا آغاز کرناٹک کے اڈپی قصبے سے ہوا، جہاں گورنمنٹ پری یونی ورسٹی کالج فار گرلز میں نصف درجن مسلم لڑکیوں کودسمبر میں کلاس میں جانے سے روکا گیا، کیونکہ انھوں نے حجاب پہن رکھا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے صوبہ کی بی جے پی حکومت نے ۵فروری کو حکم نامہ جاری کرکے تمام اسکول اور کالجوں میں حجاب پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

سوال یہ ہے کہ حجاب سے کس طرح نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہو رہی تھی؟جو لوگ حجاب کی مخالفت کر رہے ہیں، اب ان سے کوئی پوچھے کہ ہندو خواتین جو گھونگھٹ میں رہتی ہیں، تو ان کے گھونگھٹ بھی اتار کر پھینک دو۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ تو دُور کی کوڑی لاتے ہوئے سب سے آگے نکل گئے۔ انھوں نے کہا:’’حجاب کے ذریعے کچھ لوگ ملک میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش) کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ نفرت کی خلیج کو گہرا کرنے کے لیے بی جے پی کی زیر قیادت دیگر صوبائی حکومتیں بھی حجاب پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ہندو شدت پسند تنظیمیں بڑی تعداد میں حجاب کے خلاف بطورِ احتجاج طلبہ کو بھگوا مفلر تقسیم کر رہی ہیں۔ اسے چھوٹے چھوٹے بچوں تک میں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہندو نسل پرست ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ’ لوّ جہاد‘ سے شروع کی جانے والی لہر،  شہریت قانون، تبدیلیِ مذہب پر پابندی کا قانون، گائے کے نام پر ہجومی تشدد اور ایسے اَن گنت اقدامات کے تسلسل میں اب حجاب کے سوال پر جھگڑا کھڑا کیا گیاہے۔ اس طرح سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے اور اگر رہنا ہے تو دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے رہنا ہوگا۔۲۰۱۷ء میں خاتون رپورٹر شوئیٹا ڈیسائی نے اترپردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی مہنت آدتیہ ناتھ کے حلقہ انتخاب گورکھپور اور خوشی نگر کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’’اس علاقے میں مسلم لڑکیوں کے اغوا اور غائب کردیے جانے کی سیکڑوں وارداتیں پولیس اسٹیشنوں کی فائلوں میں بند ہیں۔ ان میں سے اکثر لڑکیوں کا ’شدھی کرن ‘کرکے ان کی شادیاں ہندو نوجوانوں کے ساتھ کرادی جاتی ہیں۔بنگالی پٹی بنجاریہ گائوں کی ۱۷سالہ عاصمہ نے بتایا، کہ اغوا کرنے کے بعد اس پر ایک ہندو لڑکے کے ساتھ شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مگر وہ کسی طرح ان کی گرفت سے بھاگ نکلی‘‘۔ خاتون رپورٹر نے  بتایا کہ ’’ صر ف اس ایک گاؤں میں نو ایسے خاندان ہیں، جن کی لڑکیوں کو اغوا کرنےکے بعد ان کی زبردستی کی شادیاں کردی گئی ہیں‘‘۔

چوپیہ رام پور گاؤں میں زبیدہ اب امیشا ٹھاکر کے نام سے ایک ہندو خاندان میں زندگی گزار رہی ہے۔ اس کا شوہر اروند گاؤں کے مکھیا ٹھاکر کا بیٹا ہے۔ ماتھے پر بندی سجائے اور ہندووانہ لباس میں ملبوس امیشا نے رپورٹر کو بتایا، کہ ’’جب وہ ۱۳سال کی تھی، تو ٹھاکروں نے اس کو گھر سے اٹھا کر اغوا کیا‘‘۔ مشرقی اتر پردیش کا یہ علاقہ کافی پسماندہ اور بدحالی کا شکار ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۶ء میں حبیب انصاری نے اپنی بیٹی نوری کے اغوا میں ملوث چار ہندو لڑکوں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی درخواست عدالت میں دائر کی۔ دو سا ل قبل نوری کو گوری سری رام گاؤں سے اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ نوری نے مجسٹریٹ کے سامنے ہندو واھنی سے وابستہ چارافراد کی شناخت بھی کی، جن میں ایک نابالغ لڑکا بھی تھا۔ بتایا جاتا ہے، کہ ادتیہ ناتھ کے کارکنوں نے انصاری پر مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے بعد ہی اس کو گاؤں میں دوبارہ رہنے اور کھیتی باڑی کرنے کی اجازت ملی‘‘۔

پانچ سا ل پہلے کی بات ہے کہ جب میں اتر پردیش کے انتخابات کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ کالج کے ایک پروفیسر، جو سماج وادی پارٹی کے سربراہ کے قریبی رشتہ دار تھے، انھوں نے بتایا کہ ’’میں مودی کے بدترین مخالفین میں سے ہوں، مگر ایک کام اس نے بہت اچھا کیا اور وہ یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کی عقل ٹھکانے لگائی ہے اور انھیں ٹھیک کنٹرول میں رکھا ہے‘‘۔ بھارت میں بے بنیاد طور پر یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ ’’مسلمانوں نے یا تو ملکی وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے یا ان کے ادا کیے گئے ٹیکسوں پر ہی وہ زندہ ہیں‘‘۔یہ مذہبی منافرت کا دوسرا مرحلہ ہے، جو فسطائیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح کا پراپیگنڈا یورپ میں دوسری عالمی جنگ سے قبل یہودیوں کے خلاف عام تھا۔

بھارت میں مذہبی منافرت اُبھارنے کا یہ کام نہایت منظم انداز میں ہو ا ہے۔ ہندو قوم پرستوں کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں سے وابستہ چھے ہزار سے زائد سکول سرکاری امداد پر چلتے ہیں۔ ان میں زیرتعلیم بچوں کے معصوم ذہنوں کو مذہبی نفرت سے مسموم کیا گیا ۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شیشو مندر ہیں‘ جہاں نوجوان نسل کی برین واشنگ کی گئی۔ یہاں سے فارغ ہونے والے تعلیم یافتہ افراد ہی آگے چل کر مختلف میدانوں میں مختلف حوالوں سے مذہبی تعصب پھیلاتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک صاف طور پر بھارتی میڈیا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ 

۲۰۱۴ء کے دوران کشمیر میں انتخابات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے میں نے دیکھا، کہ جموں کے مسلم اکثریتی علاقے ’چناب ویلی‘ میں دشوار گزار اور انتہائی دور دراز علاقوں میں آر ایس ایس کے پُرجوش کارکنوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کارپوریٹ اور دیگر سیکٹروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز یہ اراکین راجستھان، مدھیہ پردیش، کرناٹک حتیٰ کہ کیرالا سے عیش وآرام کی زندگی چھوڑ کر ایک سال کی چھٹی لے کر دیہات میں رات دن ’ہندوتوا‘ کا پاٹھ پڑھارہے تھے۔

شہید بابری مسجد کی جگہ پر عالی شان رام مندر کی تعمیر کے بعد مسلمانوں کو مزید کنارے لگانے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے آر ایس ایس کا نشانہ اب۱۹۹۱ء کا عبادت گاہوں کا قانون ہے، جس کی رُو سے بابری مسجد کو چھوڑ کر بقیہ تمام عبادت گاہوں کی۱۹۴۷ء والی حیثیت کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس قانون کو کالعدم کرانے کے مطالبے میں تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔ اسی لیے بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کے عید گاہ کے قضیے کو ہوا دی جار ہی ہے۔ بنارس کی گیان واپی مسجد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالم گیر نے سترھویں صدی میں تعمیر کرایا تھا، لیکن تاریخی طور پر یہ بات ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ بعض مخطوطوں کے مطابق مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے عہد حکومت میں بھی یہ مسجد موجود تھی ۔ یہ جامع مسجد شہر کے قلب میں دریائے گنگا کے کنارے للتا گھاٹ کے قریب واقع ہے۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ اور مسجد کے بارے میں اب بتایا جاتا ہے کہ یہ بھگوان کرشن کے جنم استھان کا حصہ ہے ۔ یہ دونوں ہی قدیم مساجد ہیں، جہاں مسلمان برسہا برس سے نمازیں پڑھتے آئے ہیں۔

بنارس کی اس مسجد کے بارے تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ آسام پر فوج کشی سے واپسی کے بعد جب اورنگ زیب کی فوجوں نے اس شہر میں پڑاو ڈالا، تو اس کے راجپوت کمانڈروں کی بیویاں مندر میں پوجا کرنے کے لیے گئیں۔ رات تک جب گجرات کے کچھ علاقہ کے مہارانا گیان سنگھ کی رانی اور اس کی دو داسیاں واپس نہیں لوٹیں ، تو اگلی صبح مندر کے تہہ خانے کی تلاشی کے دوران گیان سنگھ نے دیوار سے لگے بھگوان گنیش کے بت کو جھنجھوڑ ڈالا، تو اس کے نیچے تہہ خانے کو جاتی سیڑھیاں  نظر آئیں۔ نیچے جا کر پتاچلا کہ کچھ کی مہارانی ادھ موئی پڑی تھی اور اس کے کپڑے تار تار تھے۔ اورنگ زیب نے یہ مقدمہ کچھ کے راجا کے حوالے کر دیا، جس نے مندر کے برہمن پجاریوں کو احاطہ کے اندر ہی موجود کنوئیں میں پھینکوا کر، اوپر سے کنواں بند کرا دیا اور اس کے اوپر مندر کو اَزسر نو تعمیر کرادیا۔ مغل بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے اس مندر کی دیوار سے متصل ایک مسجد بھی تعمیر کرائی۔مگر کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس نے مسجد کی مرمت کروائی، کیونکہ یہ پہلے سے ہی موجود تھی۔ یہ بھارت میں واحد مسجد ہے جو اپنے سنسکرت نام یعنی گیان واپی( علم کا کنواں) کے نام سے موسوم ہے۔ 

بھارت کے مشہور دانش وَر سعید نقوی نے اپنی کتاب Being the Other  میں لکھا تھا کہ ’’میں اب اپنے آپ کو ’غیر‘ محسوس کرتا ہوں‘‘۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمان کا کیا حال ہوگا۔اتر پردیش میں صوبائی انتخابی مہم دیکھنے والے صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ ’’مسلمانوں میں اپنی تعلیم و ترقی کے بجائے اپنے تحفظ کا احساس زیادہ گھر کر گیا ہے‘‘۔

سعید نقوی کے مطابق: ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت کا مسلمان اپنے خول میں سمٹتا جا رہا ہے۔ غیر فرقہ پرست ہندو بھی بھونچکا رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں ممکن ہوتا ہے وہ ’’سیکولر ‘‘ کی اصطلاح سے اجتناب کرتے ہیں ، کیونکہ بھارت میں اس لفظ سے وابستہ حُرمت کو بہت زیادہ پامال کیا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گئی ہے، جس پر ہندو قوم پرستی کا عالی شان مندر تعمیر اور ترشول بلند کیا جارہا ہے۔یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں کہ ہزاروں مسلم نوجوانوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا جاتا رہا ہے اور اکثریتی قوم کو ان بے گناہوں سے ذرا بھی ہمدردی نہیں ہے۔ گویا فرض کرلیا گیا ہے کہ خواہ ان کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو تب بھی وہ مجرم ہیں۔ پس ماندہ مسلم بستیوں میں رہنے والوں کے اندر سلگتی ہوئی شکایتوں سے ذہنوں کے اندر خلیج تقویت پاتی ہے۔ نقوی صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ’’مجھ پر ایک اور حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ جہاں کوئی مسلمان اعلیٰ عہدہ تک پہنچتا ہے، وہ اپنی کمیونٹی کے افراد کی مدد کرنے سے منہ موڑتا ہے، مبادا اس پر ’فرقہ پرست‘ ہونے کا لیبل نہ لگا دیا جائے۔حال یہ ہے کہ پچھلے چاربرسوں میں دہلی میں اورنگ زیب روڑ کا نام تبدیل ہوگیا ہے۔ گورکھپور کا اردو بازار، ہندی بازار ہوگیاہے، ہمایوں نگراب ہنومان نگر ہوگیا، اتر پردیش اور بہار کی سرحد پر تاریخی مغل سرائے شہر دین دیال اپدھائے نگر ہوگیا اور مغل بادشاہ اکبر کا بسایا ہوا الٰہ آباد اب پریاگ راج ہوگیا ہے، فیض آباد ایودھیا ہو گیا ہے۔ ہریانہ کا مصطفےٰ آباد اب سرسوتی نگر ہوگیا ہے‘‘۔

 احمد آباد کو اب کرناوتی نگر اور فیروز آباد کو چندرا نگر بنانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ مٹائی نہیں جاسکتی، مگر یہاں تو تاریخ مسخ ہورہی ہے۔ یہ مٹتے ہوئے نام ، مسخ ہوتی تاریخ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں سے خود اعتمادی چھین کر احساس کمتری میں دھکیل دے گی۔ کیونکہ یہ صرف نام نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے شان دار ماضی کی جھلک تھی ، جو ثابت کرتی تھی کہ مسلمان اس ملک میں کرائے دار نہیں بلکہ حصہ دار اور اس کی تاریخ کا حصہ تھے۔ لیکن شاید غیرمحسوس طریقے سے ۱۵ویں صدی کے اواخر کے اسپین کے واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔

مسلمانوںکی سیاسی حالت حددرجہ ناگفتہ بہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پتا ہے کہ مسلمان ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا۔ اس لیے اسے ان کی کوئی پروا نہیں۔ اس کے لیڈروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلم ووٹ تقسیم اور ہندو ووٹ یکجا ہو۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وزیر اعظم مودی اوران کی پارٹی کے لیڈر اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ کیا ۲۰کروڑ مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا رکھ کر وہ بھارت کو ایک آسودہ حال ملک بنا سکیںگے؟