نومبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

دل وہیں رہ گیا!

زوجہ عمّار | نومبر ۲۰۱۶ | تزکیہ و تربیت

ترجمہ: مسلم سجاد

مجھے نوجوانی کی عمر ہی سے ہفتے وار درسِ قرآن میں شریک خواتین کا اللہ سے پورے انہماک سے دعا کرنا کہ ہمیں کعبے کی زیارت، حجراسود کے بوسے اور مدینے میں سلام پیش کرنے کی توفیق دے، اچھا لگتا تھا۔ گو کہ میں ایک مسلمان ملک میں، ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوئی، اور ایک طرح کے دینی ماحول میں پرورش پائی، لیکن افسوس کہ میں نے اتنی شدت سے مکے اور مدینے کی زیارت کے لیے اپنے اندر جذبہ محسوس نہیں کیا تھا اور نہ کبھی میری آنکھوں سے  ان مقامات پر جانے کی شدید خواہش سے آنسو اُمڈ آئے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ میں اس جذبے سے محروم ہوں اور وہ جذبہ ہے: ایک پیاس، ایک تمنّا مکہ کے پہاڑوں کی، اللہ کے گھر کی، مدینے کے راستوں کی اور مسجد نبویؐ کی زیارت کی تمنّا!

۱۸برس کی عمر میں مَیں ایک آئن لائن مدرسے سے وابستہ ہوگئی۔ میں اس کے طلبہ و طالبات کے لیے دل میں بڑی محبت اور احترام محسوس کرتی تھی۔ اس مدرسے کا ایک جز بننے سے میں ایمان بڑھتا ہوا محسوس کرتی۔ میں اپنے فرائض کی ادایگی میں اور تلاوتِ قرآن میں باقاعدہ ہوگئی۔ گویا میں نے ایمان اور پُرخلوص عبادت کی حلاوت کا ذائقہ چکھ لیا لیکن اب بھی جب ان مقدس مقامات کی زیارت کا ذکر ہوتا تو میرے دل میں کوئی خواہش بیدار نہ ہوتی تھی۔

میں اپنے ہم جماعت طلبہ و طالبات کی جذبات سے بھری ہوئی تحریریں نیٹ پر دیکھتی تھی کہ کس طرح وہ ہمارے مولانا جی اور ان کی اہلیہ کے ساتھ عمرے اور حج کے لیے بے چین ہیں اور کس طرح ان کے دل وہاں بار بار جانے کی تمنّا کرتے ہیں، مگر میرا دل ان مقدس مقامات کے امن و سکون اور برکات کے خیال سے بے نیاز ہی رہا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا، جب کہ میں ان مقامات پر کبھی گئی ہی نہیں۔ میں نے اپنے آپ سے سیکڑوں دفعہ سوال کیا اور اپنے کو درست جانا۔

شادی کے بعد ۲۲سال کی عمر میں مجھے وہ بابرکت موقع میسر آیا جس کے لیے ہزاروں ساری ساری عمر دُعا کرتے ہیں۔ ہم عمرہ کرنے جارہے تھے۔ میرے شوہرکا شادی کے بعد پہلا اور میرا اپنی کُل ۲۲سال کی عمر میں پہلا۔ میں اس کے بارے میں کچھ عرصے سے واقف تھی۔ ہم اس کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ درحقیقت ضمیر ’ہم‘ کا استعمال غلط ہے۔ میرے شوہر کچھ عرصے سے اس کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ میں ان کے منصوبوں کے ساتھ تھی۔ اس لیے نہیں کہ میں جانا چاہتی تھی بلکہ اس خلا کی وجہ سے جو میرے قلب میں ہمیشہ سے تھا۔

جانے کے دن جوں ہی قریب آئے میرے ذہن میں شکوک و شبہات سر اُٹھانے لگے۔ میں کچھ محسوس کیوں نہیں کر رہی؟ یہ بہت مایوس کن تھا کہ میں جوش، جذبے اور اس کے لیے بے چینی کی منصوبہ بندی کی کوشش کروں۔ مجھے وہ سب مواقع یاد آئے جب میں نے سعودی مکہ چینل کو اپنے پسندیدہ چینل کی طرف منتقل کیا۔ چینل سے مجھے درس میں سنی ایک مثال یاد آئی جس میں کسی فرد نے حج کیا لیکن وہ سارے وقت بس کعبہ نہ دیکھ سکا کیوں کہ اس نے کوئی سنگین گناہ کیا تھا۔  میں نے اپنے ان سب گناہوں کو یاد کیا جن کا میں نے ارتکاب کیا تھا اور ہردفعہ دل میں ایک خوف در آیا کہ میرے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے مجھے مکہ کی طلب سے محروم کر دیا ہے۔

کہتے ہیں کہ جو دعا آپ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی کرتے ہیں، اس کی قبولیت کی ضمانت دی گئی ہے۔ ایک ایسی دُعا سوچنے کی تلاش (خاندان والوں اور دوستوں کی طرف سے دعائوں کا ایک ڈھیر لگ گیا۔ بے شک میری اپنی دُعائیں بھی تھیں مگر مَیں اب بھی اس خاص دُعا کے بارے میں سوچ رہی تھی جو میں کعبے پر پہلی نظر پڑتے ہی کروں) الٰہ دین کی ان تین خواہشوں کو سوچنے کے مانند تھی جن کو جِنّ بلاشک و شبہہ پورا کردیتے۔ دراصل اسی کوشش میں میرے دل میں جوش کا ایک شعلہ بھڑکا۔ یہ وہ مرحلہ تھی جب میں نے حقیقی طور پر محسوس کیا کہ انسان کتنا خودغرض ہے۔ اپنی خصوصی خواہش پوری کرنے کی خواہش نے ایک ایسی خواہش کو جنم دیا جو مجھے پہلے کبھی نہیں رہی۔ کعبے کی زیارت کی خواہش!

مکہ کے پہاڑوں میں کوئی ایسی بات تھی جو ان کو اپنے ’ٹھوس پن‘ اور عظمت میں دوسرے پہاڑوں سے ممتاز کرتی تھی۔ شاید یہی امرِواقعہ تھا کہ میں ایک ایسے پہاڑ سے اتنا زیادہ قریب ہوگئی تھی، جتنا میں اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ جب ہم مکہ کی طرف ڈرائیو کر رہے تھے تو یہ پہاڑ ہمارے دونوں اطراف میں پھیلے ہوئے تھے۔ منظم، بے حس و حرکت، بڑے بڑے اہرام کی طرح ۔ میں نے سوچا کہ اللہ کس طرح قرآن میں پہاڑوں کا ذکر بار بار کرتا ہے۔ میں نے اس کی دانش پر غوروفکر کیا۔ عرب اپنی زندگی کے ہر دن پہاڑوں کی شان و شوکت کا مشاہدہ کرتے، وہ انھیں اس ہستی کی عظمت سے کیوں نہ جوڑتے جس نے ان کو پیدا کیا اور کسی دن ان کو ریزہ ریزہ کردے گا، روئی کے گالوں کی طرح۔

آس پاس کی عمارتیں آہستہ آہستہ نظر آنا بند ہوگئیں اور ان کی جگہ ایک وسیع ریگستان نے لے لی۔ میں نے تصور کی آنکھ سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی پہاڑی پر چڑھ رہے ہیں، سورج کی شدید تمازت میں۔ میں نے پہاڑوں کے ڈھلوان پر صحابہ رضوان اللہ علیہم کے مکانات دیکھے۔ جب میں نے طائف جانے کا سائن بورڈ دیکھا تو رسولؐ اللہ کے زخم آلود چہرے اور خون آلود ایڑیوں کو نظر میں لائی۔ وہ جذبات جن کی میں طویل عرصے سے تمنّا کر رہی تھی میرے دل میں اُبھرنے اورآگے بڑھنے لگے۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں، اور خاموشی سے تلبیہ کے الفاظ ادا کرنے لگی۔

حرم کے فرش کے چمکتے ہوئے ٹائیل خنک اور آرام دہ محسوس ہوئے۔ تمازت بھرے سورج میں طویل مسافت کے بعد میں گھبرائی ہوئی تھی کہ عوام کے جم غفیر میں کس طرح چلوں گی جو اللہ کے گھر میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ لیکن جب میں نے تجربے کا آغاز کیا تو مَیں خوشی و مسرت کی ایک لہر سے گزری۔ میں نے اپنے شوہر کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑلیا اور کعبے کی طرف ہجوم کے اندر راستہ بنانا شروع کیا۔ ذہن میں یہی بات تھی کہ میں اللہ سے کیا مانگوں گی جب میں آخر میں پہلی دفعہ اس کا سامنا کروں گی۔ ’تم تیار ہو؟‘ میرے شوہر نے میرا ہاتھ پکڑ کر تیسری دفعہ مجھ سے پوچھا۔ میں نے سرجھکا دیا، میرا دل سینے میں اُچھل رہا تھا اور میرے ہاتھ خوف اور گھبراہٹ سے سرد ہو رہے تھے۔

اگر میں اسے نہ دیکھ سکی اور اگر میں اس شخص کی طرح اپنے گناہوں کی وجہ سے اس خوب صورت شے سے محروم کردی گئی تو! ’’نگاہیں نیچی رکھو، میں تمھیں بتائوں گا کہ اب تم نظر اُٹھالو، میرے شوہر نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ میں کئی منٹ تک نیچے ان قدموں کو دیکھتی رہی جو تیزی سے رواں تھے یہاں تک کہ مزید نہ دیکھ سکی۔میں نے نظر اُٹھائی اور میری چیخ نکل گئی اور مَیں روپڑی۔

کعبہ میری نگاہوں کے سامنے اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں نے چند سیکنڈ دیکھا ، پھر ایک سیکنڈ نیچے دیکھا، پھر اپنے شوہر کو ایک سیکنڈ کے لیے دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ میری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھیں۔ میں شکرگزار تھی وہ میرے پیچھے کھڑے رہے۔ میں خانہ کعبہ سے  کچھ فاصلے پر کھڑی تھی اور اپنی دُعا کا آغاز کرنے والی تھی، اس ’خصوصی دُعا‘ کا جس کی قبولیت کی ضمانت دی گئی ہے مگر میرے منہ سے الفاظ نکل نہیں رہے تھے۔میں وہاں ہاتھ اُٹھائے کھڑی تھی۔ میری آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں اللہ کی اس طرح شکرگزار تھی جس طرح پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ اس خوب صورت قیمتی منظر کو عطا کرکے، مجھ کو اس جیسے قیمتی خزانے سے مالامال کرکے، جب کہ میں نے اس کے لیے کبھی دل سے دُعا نہ کی تھی۔ میں یہاں کھڑی اپنے آپ کو  اللہ کی خاص بندی سمجھ رہی تھی۔ ذہن کے پردے پر سارے مناظر ایک کے بعد ایک فلم کی طرح گزر گئے۔ جب اللہ نے تجھے وہ کچھ عطا کیا جو تو نے طلب نہ کیا۔ محسوس ہوا کہ جیسے اللہ اس وقت خود مجھے ان کی یاد دلا رہا ہے!

خوف، مسرت، تشکر اور جوش کا آمیزہ میری آنکھوں سے رواں ہوگیا۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ آیت سامنے آگئی: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ط (البقرہ ۲:۱۶۵) ۔’’ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ میں نے اپنے دل میں جان لیا کہ یہی میری خصوصی دعا تھی۔ میں نے اللہ سے دعا کی میرا دل اس کی اور اس کے رسولؐ کی محبت سے لبالب بھر جائے۔ اس لیے کہ محبت ہی خواہش کی طرف لے جاتی ہے۔

  •  چند دن بعد: شان و شوکت والا کعبہ اور مکے کی سرزمین اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کا اظہار تھی، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر نے مجھے سکون، محبت اور حرارت سے گھیر لیا۔

یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مسجد نبویؐ میں خواتین کا راستہ اس ہوٹل سے چند قدم کے فاصلے پر تھا جس میں ہم ٹھیرے ہوئے تھے۔ مسجد نبویؐ کی مقناطیسی کشش کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اسے ایک ریگستان میں نخلستان کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے جہاں پیاسے کو ٹھنڈک اور سکون ملے۔

جب میری نگاہیں موتیوں جیسی سفید چھتریوں پر پڑیں تو میرے لیے خواب کا سا منظر تھا۔ وہ بے حد حسین تھیں۔ مجھے پہلے دن مسجد کے اندر جاکر نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔ میرا خیال ہے کہ میں نے شاید کافی کوشش نہیں کی تھی، اندر جانے کی۔ باہر کھلے آسمان کے نیچے اور کبھی چھتریوں تلے، مسجد نبویؐ میں نماز پڑھنے کا تجربہ خاصا سحرزدہ تھا۔ میں نے سوچا کہ مسجد نبویؐ ۱۴۳۷ھ سے پہلے کیسی نظر آتی ہوگی۔ نہ چھتریاں، نہ ریگستان کی گرمی سرد کرنے کے لیے پنکھے، نہ چمک دار پھسلنے والے ٹائل، بس صرف ایک چھوٹی سی عمارت۔ کیا میں یہاں باربار آکر نماز پڑھنا پسند کروں گی؟ یہ اس شخص کی مسجد تھی جس کے آخری الفاظ اپنے اُمتی کے لیے، میرے لیے دُعا تھے۔ کیا میں اپنے نبیؐ سے اس کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے کافی محبت کرتی تھی، کم از کم اس سے قریب تر جو وہ مجھ سے کرتا تھا___ وہاں کھڑا ہونا میرے اس دعوے پر سیکڑوں سوال اُٹھا رہا تھا کہ میں   محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتی تھی!

مسجد کا اندرونی حصہ بیرونی کے مقابلے میں زیادہ ششدر کرنے والا تھا___ چمک دار سنہرے فانوس، منقش ستون، صفیں اور لال قالین۔ یہاں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا جو دلوں کو چھوتا تھا جو بس محسوس کیا جاسکتا تھا، دل کو مسرت سے بھر دیتا تھا۔ مہربانی کے چھوٹے چھوٹے عمل جو ایک اجنبی دوسرے اجنبی کے ساتھ کر رہا تھا۔ مصلّے میں حصہ داری، دوسرے بہن یا بھائی کے لیے جگہ بنانے کی خاطر، بچے کی مدد کہ وہ اپنا گلاس زم زم سے بھرے، دوسروں کے مصلّے اپنی جگہ پر پہنچانا۔ سلام اور مسکراہٹیں بغیر یہ جانے کہ آپ کون ہیں، کون سی زبان بولتے ہیں۔ در حقیقت مہربان ترین ہستی کے بہت بڑے خاندان کا حصہ ہونے کا احساس!

میں کوئی یادگار گھر واپس نہیں لائی لیکن کوئی چیز چھوڑ ضرور دی۔ اپنا دل ایسی جگہ چھوڑ دیا جو میرے گھر سے بہت دُور گھر جیسا لگا۔ (بہ شکریہ دوماہی Intellect، کراچی، جلد۷، شمارہ۵،۲۰۱۶ء)