نومبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

منظم زندگی: چند عادات

محمد بشیر جمعہo | نومبر ۲۰۱۶ | تزکیہ و تربیت

وقت بچانا اور اس سے صحیح معنوں میں فائدہ اُٹھانا ہی کامیاب اور منظم زندگی کی طرف پہلاقدم ہے۔ یہی تنظیمِ وقت ہے۔یا د رکھیے، وقت کو بچایا نہیں جاسکتا بلکہ اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کو ہی وقت بچانا سمجھا جاتا ہے۔ وقت کی بچت کے سلسلے میں سب سے زیادہ ممدومعاون وہ شعور ہوتا ہے جو انسان وقت کی نسبت سے اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔   اسی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر پہلو ایسے ہیں جن پر ہماری نظر رہنی چاہیے۔ ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

یہاں وقت بچانے کے حوالے سے مختلف ماہرین کی آرا اور مشوروں کو جمع کیا گیا ہے۔ چند دن ان مشوروں پر عمل کریں۔ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ نتائج غیر متوقع طور پر کتنے حوصلہ افزا ہیں۔ ہم نے ان مشوروں اور اشارات کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ ان اشارات میں اکثر کو پہلے گروپ میں ڈال کر آسانی پید ا کرنے کی کوشش کی ہے۔کہیں کہیں ان کی نوعیت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے:  o ذاتی یا انفرادی زندگی o تعلیمی زندگی oمعاشی زندگی (دفتر اور کاروبار) oخاندانی یا گھریلو زندگی oمعاشرتی یا قومی زندگی۔

 ذاتی   تربیت  اور   تنظیمِ   وقت

  •  وقت کو کنٹرول کرنا یا اس کا نظم و نسق قائم کرنا بہتر زندگی کی طرف پہلا قدم ہے۔ سب کو روزانہ وقت کی مساوی مقدار ملتی ہے۔ یہ سب انسان کے اختیار اور کنٹرول کی بات ہے کہ وہ کس طرح وقت کے کوٹے کو استعمال کرتا ہے اور کس طرح اس کی مدد سے اپنی زندگی میں بہتری لاتا ہے۔
  •  وقت کو قابو میں کرنا دراصل اپنے آپ کو قابو میں کرنا ہے۔
  •  جو لوگ وقت کو قابو میں کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ بات یا د رکھیں کہ وقت کو کسی بھی حالت میں کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنے آپ کو کنٹرول کر کے ہی وہ نتائج حاصل کر سکتا ہے جو وقت کو کنٹرول کرنے کے تصور سے وابستہ ہیں۔ کہنے کو ہم وقت گزار رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمیں گزار رہا ہوتا ہے۔
  • اپنی مصروفیات کے لیے ہفتہ وار اور ماہانہ بنیاد پر منصوبہ بندی کیجیے۔
  •    ممکن ہو تو اپنے کاموں کے لیے مناسب کیلنڈر، ڈائیری یا سوفٹ ویئر استعمال کیجیے اور   اس کے ذریعے اپنے اوقات کی منصوبہ بندی کیجیے۔ اپنے کاموں کا معمول بنایئے۔
  •  اپنے آپ کو منظم کرنے اور اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے کچھ خرچ کرکے کتابیں، کیلنڈر، ڈائری ، نوٹ بک،اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ خریدنے کی کوشش کیجیے۔ یہ پلاٹ کی مانند ہے ، کچھ عرصے کے بعد آپ کواس سے فائدہ حاصل ہوگا۔
  • اپنے کیلنڈر کو مربوط رکھیے۔ ایک سے زائد کیلنڈر آپ کو اُلجھا دیں گے۔
  • اپنے شب و روز کا جائزہ لیجیے اور ٹی وی، یا انٹر نیٹ یا ٹیلی فون کو دیا جانے والا وقت کم کیجیے تاکہ مستقبل کی تیاری کے لیےوقت میسر ہو۔
  • وقت کو بہتر طور پر اسی وقت گزارا جا سکتا ہے جب اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی گئی ہو۔ صرف کام دھندے کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ گھر والوں کے ساتھ گزارے جانے والے وقت، خریداری، تفریح، ورزش، کھانے پینے، روز مرہ کے کاموں اور دیگر امور کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کیجیے۔ فون اور ای میل کا جواب دینے کے لیے آپ کو وقت مختص کرنا چاہیے، تاکہ اس سلسلے میں وقت نہ ضائع ہو اور نہ بہت کم مختص کیا ہوا محسوس ہو۔
  • منصوبہ بندی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اس پر پوری طرح عمل کیا جائے۔ آپ نے جو وقت جس کام کے لیے مختص کیا ہے اس وقت وہی کام ہونا چاہیے اور کسی دوسرے کام کے بارے میں سوچنا بھی فضول ہے۔اپنی ساری توانائی اس کام پر خرچ کردیں تاکہ وہ کام اسی وقت کے اندر ہوجائے۔ یہ منصوبہ بندی کا حاصل ہے۔
  • جب آپ کام کرنے لگتے ہیں تو بہت ساری چیزیں خود آپ کو یاد آتی ہیں، جو کہ آپ کی توجہ کو منتشر کرتی ہیں اور انہماک میں خلل ڈال کر آپ کو دوسرے راستے پر لے جاتی ہیں ۔ جب آپ منصوبہ بندی کے تحت کوئی کام کرنے بیٹھیں تو انہماک میں خلل ڈالنے والی ہر چیز کو آنے سے روکنے کی صلاحیت بیدار کرلیں۔ کمرے کا دروازہ بند رکھیں، ٹیلی فون کی گھنٹی کو خاموش کر دیں اور اہلِ خانہ سے کہیں کہ انتہائی ضرورت کے سوا آپ کو زحمت نہ دیں۔
  •  کام کے دوران ہر ۴۰ منٹ کے بعد تین منٹ کا وقفہ ضرور کریں۔ چند لمحات فراغت کے نکال کر سیر کیجیے یا اپنی تھکن دور کرنے کی کوشش کیجیے،تاکہ آپ کا ذہنی بوجھ کم ہوجائے۔
  • ہر روز صبح اپنا دن بھر کا منصوبہ بنالیں اور جو کام کرنے ہیں انھیں کسی ڈائری یا کاغذ پر لکھ لیجیے۔ جو کام مکمل ہو جائیں انھیں کاٹ دیں یا ’کرنے کے کام‘ فہرست پر نشان لگادیں۔
  •   خیال بھی ایک نعمت ہے۔ کاغذ یا چھوٹی نوٹ بک ہمیشہ اپنی جیب میں رکھیں، تاکہ فارغ اوقات میں جب کوئی منصوبہ یا نیا خیال آپ کے ذہن میں آئے تو اسے فوراً لکھ لیں۔
  •     آرام کے اوقات مقرر کر کے انھیں نماز کے اوقات سے ہم آہنگ کر لیں۔
  •     فارغ اوقات کو لکھنے پڑھنے ، کوئی چیز یاد کرنے، یا کوئی تعمیری کام کرنے میں استعمال کریں۔
  •     اگر آپ کا گزر اپنے پسندیدہ فلنگ اسٹیشن (پٹرول پمپپ یا گیس اسٹیشن) کے پاس سے ہو تو اپنی کار کی پوری ٹنکی بھروالیں، تاکہ صرف ایندھن لینے کے لیے آپ کو وہاں کا سفر نہ کرنا پڑے۔ تاہم یہ خیال رکھیں کہ ایندھن راستے ہی میں نہ ختم ہو جائے۔
  •     کار پارکنگ یا پبلک ٹیلی فون کی اجرت ادا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کھلے پیسے اپنی جیب میں ضرور رکھیں، بصورت دیگر آپ کو مشکل صورت حال پیش آ سکتی ہے۔
  •   تمام کاموں کے لیے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کام کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کام کے لیے کتنی محنت کرنی اور کتنا وقت دینا ہے۔
  •       ہر کام کے لیے صحیح اورمناسب طریقۂ کار اختیار کرکے وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  •    ہر کام کے لیے وقت کا تعین کرکے وقت کو بچایا جاسکتاہے۔
  •    کا م کا آغاز صبح سویرے کیا جائے۔اس میں برکت ہے۔ جس طرح اور چیزوں میں برکت ہوتی ہے اسی طرح وقت میں بھی برکت ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے تقویٰ کی روش ضروری ہے۔ صبح اٹھنا اور اللہ سے برکت کی دعا کرنا ضروری ہے۔ رزق حلال اور صلہ رحمی ضروری ہے۔
  •   بعض معاملات میں انکار کردینا یا منفی جواب دینا، مثلاً یہ کہہ دینا کہ یہ نہیں ہو سکتا، معذرت خواہ ہوں، ممکن نہیں، اصول کے خلاف ہے، میرے پاس وقت نہیں، کسی اور وقت رجوع کریں وغیرہ ضروری ہوتا ہے۔کچھ لوگ اس رویے کو رواداری کے خلاف سمجھتے ہیں۔
  •   دو یا دو سے زیادہ کام بیک وقت کرنا، مثلاً ناشتہ کرنا اور خبریں سننا، دفتر جاتے ہوئے سواری میں اخبار پڑھنا، چہل قدمی کرنا اور معمول کے وظائف کی تکمیل، جہاز کے سفر میں لکھنا پڑھنا وغیرہ۔یہ عادتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی نہیں ہیں بلکہ وقت کا بہتر استعمال ہیں۔ البتہ گاڑی چلاتے ہوئے ایس ایم ایس کرنا یا فون سننا وغیرہ آپ کے لیے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ باہم متصادم چیزوں کو ایک ساتھ کرنے کی کوشش نہ کریں۔
  •  آپ کے سفر کی تیاری کی بھی ایک فہرست ہونی چاہیے۔
  •  چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک ہی وقت میں نمٹانے کی کوشش کیجیے۔
  • غوروفکراور تدبر و تفکر کے لیے بھی روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور مختص کیجیے۔
  •  ان مسائل کے بارے میں جو کہ آپ کےاوقات کو کھا جاتے ہیں یا آپ ان کا نام تساہل یا بیماری دیتے ہیں، انھیں حل کرنے کے لیے ماہرین کی مدد لیں۔جو کام چند پیسے لے کر ایک کاریگر کرسکتا ہے، اس کام کو آپ خو د کرکے اپنے وقت کو مت ضائع کریں۔
  •   اپنے سفری اوقات یا سیر کے اوقات کے دوران ٹیپ ریکارڈر یا سمارٹ فون جیب میں رکھیں اور ائیرفون کان میں رکھ کر اپنی تربیت اور عبادت کی کوشش کیجیے۔
  •  انتظار کے لمحات کو بہتر طور پر استعمال کرنے لیے اپنے پاس کتاب یا ممکن ہو تو ریکارڈنگ سننے کے لیے چھوٹا ٹیپ ریکارڈر یا موبائل کی سہولت سے فائدہ اُٹھائیں۔
  •    یومیہ شیڈول بک استعمال کیجیے اور اپنے اوقات کے مصارف تحریر کیجیے اور ہفتہ وار جائزہ لیجیے۔
  •  یومیہ کاموں کی ترجیحات ان کی اہمیت کے مطابق ترتیب دیجیے۔
  • ہر کام اور منصوبے کے لیے ایک لائحہ عمل بنانے کی کوشش کیجیے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ایک ماہر فن تعمیر کی طرح پہلے نقشہ بنائیں گے اور پھر اس کے بعد تعمیر شروع کریں گے۔
  •  اہم ترین کاموں کو اوّل وقت میں کرنے کی کوشش کیجیے۔
  •  اپنے لیے قابل عمل مقاصد متعین کیجیے۔ان مقاصد کی منازل بھی متعین کیجیے۔
  • اہم اور مطلوبہ کاموں کو پہلے کریں۔ان کے لیے بہترین وقت آپ کا پرائم ٹائم ہے۔
  •   اپنے ٹیلی فون اور مو بائل فون کے وقت کو کنٹرول کریں ۔ خیر خیریت اور حال احوال کی دریافت میں زیادہ وقت نہ لگائیں۔ صر ف سلام میں ہی بہت بڑی سلامتی ہے۔
  • اگر آپ پری پیڈ فون استعمال کرتے ہیں تو ہمیشہ اضافی کارڈ اپنی جیب میں رکھا کریں۔
  •  اپنی صحت ، توانائی اور قوت کار کا خاص خیال رکھیں۔
  • اس بات کی کوشش کریں کہ آپ کے اوقات کی ۵۰ فی صد مقدار اہم کاموں میں لگنی چاہیے۔
  • ہرنماز کی ادایگی کے بعد اپنا محاسبہ اور وقت کے استعمال کا جائزہ لیں اور اسے معمول بنایئے۔
  • توازن اور اعتدال کی حدود میں رہیں۔اس سے باہر نکلے تو افراط و تفریط کا شکار ہو جائیں گے۔
  • تعلقات میں احتیاط کریں۔ فیس بک کی دوستیاں صرف وقت گزاری ہیں۔ ان میں دوست بہت کم ہوتے ہیں۔ ضرورت کے وقت محض فائدہ اٹھانے والے لوگوں کو دوست نہیں کہا جاتا۔
  • اپنی چیزوں کو احتیاط سے مقررہ جگہ پر رکھیں، اور اس جگہ کو اچانک تبدیل بھی نہ کریں۔
  •    اپنے معاملات کو تحریر کریں۔ اپنے خیالات کو تحریر کریں۔ اپنے کرنے کے کاموں کو تحریر کریں۔ اپنی وصیت تحریر کریں۔ جو چیزیں اور کاروباری معاملات اور اثاثہ جات گھر والوں کے علم میں نہ ہوں، انھیں لکھ لیں یا گھر والوں کو بتا دیں کہ کہا ں رکھے ہیں۔ موت بتا کر نہیں آتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ورثا کو آپ کی دولت اور اثاثے کا علم ہو۔
  •  ہفتہ وار اور دیگر چھٹیوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ان میں  گھر والوں کے ساتھ بطور تفریح وقت گزارنے کی شکل نکالیں ۔
  •  اپنے اور اپنے خاندان کے ذاتی ریکارڈ کو ترتیب اورمنظم طریقے سے رکھیں۔
  •  ہر فرد کے لیے ایک فولڈر بنائیں اور اس میں اہم کاغذات، جیسے برتھ سرٹیفکیٹ، بلڈ گروپ، میڈیکل ریکارڈ، تعلیمی ریکارڈ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دوسرے اہم کاغذات رکھے ہوں۔
  • ٹیلی فون، بجلی، گیس، موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر بلوں اور واجبات کے لیے ایک جگہ ضرور بنالیں۔
  •   اپنے آپ میں لچک پیدا کریں اور ضد اور ہٹ دھرمی سے بچیں۔
  •  افسوس کرنے، پچھتانے اور غم کرنے میں وقت نہ ضائع کریں۔
  •   ٹیلی ویژن پر خبروں اور اہم ٹا ک شوز تک اپنے آپ کو محدود رکھیں تاکہ آپ کو اخبار کم سے کم پڑھنا پڑے۔ منتخب پروگرام دیکھیں۔ لغویات اور بے مقصد کاموں سے بچیں۔ بار بار چینل مت گھمایئے۔ ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ بغیر لگام کا گھوڑا ہے۔ اسے اپنے اوپر حاوی مت ہونے دیں۔اسے کنٹرول میں رکھیں تاکہ وقت کے گھوڑے سے آپ گر نہ جائیں۔
  •   تعلیم اور مطالعے کے لیے ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔
  •  امتحان کے دنوں میں پریشان ہونے کے بجاے باقاعدگی سے مطالعہ کریں، اور نماز اور دُعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیجیے۔
  • مناسب آرام، اچھی صحت، متوازن غذا، باقاعدگی سے ورزش، منصوبہ بندی اور محنت کے ساتھ فرائض کی ادایگی، تفکرات کی اللہ کو سپردگی، اللہ کی نعمتوں کا شکر اور محنت کے ساتھ توکّل اور دعا___ یہ عناصر آپ کو ترقی دینے اور کامیاب بنانے میں اہم ہیں۔

 

معاشی زندگی:دفتر  اور کاروباری  اُمور

معاشی مصروفیات میں دفتری یا کاروباری معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں  درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا مفید ہوگا:

  •   جب آپ کوئی وقت مقرر کریں تو اس امر کا یقین کر لیں کہ دونوں فریق اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ صحیح وقت کیا ہے۔اسے دوبارہ دہرا کرتصدیق کرنا بہتر ہے۔
  •     مقررہ مقام پر پہنچنے کے لیے سفر میں آپ کو جو وقت لگے گا اسے اس فاصلے سے ہم آہنگ کرلیں جو دونوں مقامات کے درمیان ہو۔ تاہم، ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ گنجایش غیر متوقع حالات کے لیے بھی رکھ لی جائے تاکہ مقررہ مقام پر بر وقت پہنچنے میں آپ کو کوئی دشواری نہ ہو۔ٹریفک کا ہجوم اوروی وی آئی پی موومنٹ کو بھی پیش نظر رکھیں۔
  •    اگر آپ کوئی مقصد ایک خط لکھ کر یا ٹیلی فون کے ذریعے حاصل کرسکتے ہوں تو ذاتی طور پر متعلقہ لوگوں سے ملنے کی کوشش نہ کریں۔
  •   چھوٹے چھوٹے معاملات پر فیصلے جلد ہوجایا کریں تو اس سے وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  •  بے جا مداخلت سے پرہیز کیا جائےتاکہ وقت بچایا جائے۔
  •     دوسروں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔ دوسروں کو انتطار کی زحمت مت دیجیے۔
  •          تیزی سے کام کیجیے۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مار دھاڑ کے ساتھ کام کریں بلکہ سست روی اور سست رفتاری سے بچتے ہوئے اسے مقررہ وقت میں کرنے کی کوشش کیجیے۔ امتحان کے تین گھنٹوں میں جس کیفیت سے کام کیا جاتا ہے اسے ضرور ملحوظ رکھیں۔
  •         خطوط کو دیکھ کر فوراً فیصلہ کرلیں کہ اس پر کیا اقدام کرنا ہے۔
  •  ای میل کا جواب تحریر کرکے اس پر غور کیجیے۔ اگر کوئی جذباتی بات یا غیر مناسب جواب تحریر کرلیا گیا ہے تو اسے بھیجنے سے پہلے اہتما م کے ساتھ بار بار دیکھیے۔ کوشش کیجیے کہ ایک رات گزرنے کے بعد جواب بھیجا جائے۔
  • اپنی ای میل دن میں صر ف دو بار چیک کریں۔ اگر ادارے کی ضروریات کی وجہ سے  فوری جوابات ضروری ہوں تو اس میں لچک پیدا کرلیں اور ہر دو گھنٹے میں ایک بار دیکھ لیں۔
  •    شارٹ کٹ کے نظام کے ذریعے اپنے فون کرنے کےاوقات کو بچانے کی کوشش کریں۔
  •   کئی کالز کو جمع کرکے ایک وقت میں فون کرنے کی کوشش کریں۔
  •       عام معاملات میں فون پر کوشش کریں کہ تین منٹ میں بات ختم ہوجائے ورنہ پانچ منٹ سے زائد بات کرنا وقت کے ساتھ ظلم ہے۔
  •      میٹنگز کم از کم کرنےکی کوشش کریں اور وہ بھی ایجنڈے کے مطابق۔ میٹنگز کو ادارے کے مفاد کے لیے استعمال کیجیے۔ بحث و مباحثہ سے ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز کا نعم البدل مت بنائیے۔
  •        دوپہر کا کھانا سادہ رکھیں اور کھانے کے بعد چند لمحات آرام کرلیں۔یہ آپ کے لیے قوت عمل کا باعث ہوگا۔

   ہم ہر کام نہیں کرسکتے۔ ان مصروفیات پر توجہ دیجیے جو بہت اہم ہیں اور جن سے آپ کو  زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کم نفع مند کاموں کو مؤخر کرسکتے ہیں یا پھر کسی کو تفویض کرکے اس پر کچھ لاگت لگاکر بہتر طریقے سے کر اسکتے ہیں۔

  •     اپنے وقت کا ریکارڈ رکھیے اور جائزہ لیتے رہیے کہ کتنا کارآمد اور کتنا غیر کارآمد خرچ ہوا۔
  •   منا سب شیڈول بنایئے لیکن شیڈولنگ کے جال میں مت پھنسیئے۔
  •  کام میں حارج ہونے والی باتوں اور مداخلت کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کیجیے۔
  •   اپنے پرائم ٹائم کی شناخت کیجیے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیے۔
  •     اپنے اہم کاموں کو اس وقت کرنے کی کوشش کیجیے جب آپ کے جسم میں قوت زیادہ ہو اور یہ آپ خود اپنا جائزہ لے کر معلوم کرسکتے ہیں۔
  •    وہ کام جن کو کرنےکی طبیعت نہیں چاہ رہی ہے (جائز کام)، انھیں کرنے کے لیے اپنے آپ پر جبر کرکے جلد ازجلد کرنے کی کوشش کیجیے۔
  •    غیر متوقع کے لیے بھی تیار رہیے اور ان کاموں کو بھی اپنے شیڈول کا حصہ بنائیے جو غیر متوقع طور پر آجاتے ہیں۔
  •    اپنے سفری اوقات کو استعمال کرنے کا فن سیکھیے۔ اگر آپ ۲۰منٹ سے زیادہ کی ڈرائیو پر ہیں تو اس وقت کو بھی بہتر طورپر استعمال کرنے کی کوشش کیجیے اور دورِ حاضر کی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھائیے۔

   q          ۲۰؍ ۸۰ کے قاعدے کے مطابق کام کیجیے۔ یعنی وہ کام خود کریں جن میں محنت کم اور استفادہ یا نتائج زیادہ ہوں۔

  •    جب بہت زیادہ کام آجائیں تو اپنے کاموں کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کارڈز لیں اور اپنے کاموں کے دو گروپ بنالیں: آج کے کرنے کے کام اور وہ کام جو کل ہو سکتےہیں ۔دو گروپ بنا کر کام کرنے کی کوشش کریں۔
  • ترجیحات کا تعین ۲۰؍۸۰ اُصول کے مطابق کریں۔
  •    ہر ۴۵منٹ کے بعد آپ چند منٹوں کا وقفہ لینے کی کوشش کریں تاکہ آپ زیادہ توجہ اور توانائی کے ساتھ کام کرسکیں۔
  •    اپنے مسائل حل کرنے کےلیے اور اپنی سوچ کو منظم کرنے کے لیے آپ کاغذ اور قلم کے استعمال کی عادت ڈالیں۔ نوٹ بک ہو تو بہتر ہے۔اسمارٹ فون بھی معاون ہیں۔
  •  اکملیت پسند بننے کی کوشش نہ کریں بلکہ کام کو اپنی استعداد کے مطابق احسن طریقے سے کرنے کی کوشش کریں۔
  •    بعض اوقات غیرضروری سوچ اور بہت بڑی منصوبہ بندی بھی آپ کے کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایسے صورت میں فوری عمل بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔تساہل آپ کو کام شروع کرنے سے روکتا ہے اور اکملیت آپ کو کام ختم کرنے سے روکتی ہے۔
  •      اپنے رویّے کو معتدل رکھیے۔
  •     اپنے آپ میں اور اپنے رویے میں لچک رکھیے۔ اتنے سخت بھی نہ بن جائیے کہ ٹوٹنا پڑے۔اتنے نرم بھی نہ بنیں کہ لوگ آپ کو موڑ کر رکھ دیں۔
  •    ایک جیسے کام ایک جگہ جمع کرلیں۔

   q          اپنے موجودہ طریقۂ کام کا جائزہ لیں اور اس میں حسب ضرورت تبدیلی کریں۔

  •    کام کرنے کے فنکار بنیے۔ محض محنت کافی نہیں بلکہ بہترین طریقے سے کام کیجیے۔
  •    اپنے کاموں اور معاملات کی چیک لسٹ بنائیے۔
  •  بیک ورڈ شیڈول بنائیے، یعنی کام ختم کرنے کی مطلوبہ تاریخ سے پیچھے کی جانب منصوبہ بندی کیجیے۔
  •  چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک وقت میں نمٹائیے۔
  •    ہمیشہ اپنی ترجیحات پر توجہ دیں اپنی مصروفیات پر نہیں۔
  •      دوسروں کے اوقات کی قدر کیجیے۔
  •    فیصلے کرنے میں تاخیر نہ کیجیے۔
  •   اپنے دفتر کے ساتھیوں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔
  •     اپنی ذاتی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے رہیے اور اپنی اصلاح کرتے رہیے۔
  •     اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا سیکھیں۔
  •    اپنی تحریر کو بہتر بنائیے۔اپنے لہجے میں شیرینی لانے کی کوشش کیجیے۔ تیکھے لہجے سے احتراز کیجیے۔
  • اپنے کاموں کو اپنے لیے رکاوٹ مت بنائیے بلکہ معاون بنائیے ۔
  •   جو چیزیں اور معاملات عموماً تنگ کرتے ہیں ان کا حل نکالنے کی کوشش کیجیے۔
  •   ہمیشہ اپنے پاس بیک اپ پلان رکھیں جیسے آپ لوڈ شیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر جنریٹر کا انتظام رکھتے ہیں۔
  •    اپنے اوقات کو پرائم اور نان پرائم ٹائم میں تقسیم کریں اور اس کا لحاظ رکھتے ہوئے کام کریں۔
  •    کاموں کے کرنے کے لیے وقت کے بلاگز بنالیں اور اس وقت میں تیزی کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں۔
  •      جوکام کریں صحیح کریں۔
  •     جب کام ختم کرلیں تو پھر اسے سائڈ پر رکھ دیں اور بار بار اس پر نظریں نہ دوڑائیں۔
  •    اپنی جیب میں ہمیشہ کھلے پیسےبھی رکھیں۔ بعض اوقات ریزگاری کی پڑتی ہے۔
  •    اپنے معاونین کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں۔ ان کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ انسانوں کے ساتھ غرور اور تکبر کا رویہ آپ کو بہت جلد بغیر سیڑھیوں کے زمین پر پہنچا دےگا۔
  •    میٹنگ سے پہلے ہمیشہ پچھلی میٹنگ کی روداد اور اگلی میٹنگ کا ایجنڈا بھیج دیں۔
  •      اپنے اسٹاف کی استعداد کار کا اندازہ بھی رکھیں اور ان کا خیال بھی رکھیں۔
  •  اپنے معاونین کو متحرک رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہیں۔
  •      میٹنگوں کی بجاے کانفرنس کال کرلیں یا اسکائپ کال کرلیں۔
  •     جہاں ضرورت ہو دیگر ساتھیوں سے مدد طلب کرلیں۔
  •    اپنے کام سے لطف اندوز ہوں۔ کام کو اپنی پسند بنالیں اور اسے اس حق کے مطابق کرنے کی کوشش کریں۔زندگی کی جائز تفریحات سے فائدہ اٹھائیں۔
  •        اپنے کام کرنے کی جگہوں پر کنٹرول حاصل کریں۔
  •  ترجیحات کا تعین کریں اور   ضبط تحریر میں لائیں۔
  •      ترجیحات کے تعین کے ساتھ متعلقہ تبدیلی لائیں۔
  •    ترجیحات کا تعین صلے کے مطابق کریں۔
  •     صحیح وقت پر کام کریں اور کام کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔
  •    مقا صد، یعنی گولز بنائیں اور کام مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کریں اور خدا کا شکر ادا کریں۔
  •     ایک جیسے کاموں کو مجتمع کرکے کرنے کی کوشش کریں اس صورت میں ہر کام کے لیے موڈ بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
  •    بہتر طریقے سے کام دوسروں کو تفویض کریں۔
  •   معذرت کرنے کا فن استعمال کریں۔ جو کام نہیں کرسکتے اور جو کام آپ کے مقاصد کے مطابق نہیں ہے اس سے معذرت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی دنیا اور اپنی آخرت تباہ نہ کریں۔ اپنی نوکری بچانے کے لیے دوسروں کے کرپشن کا حصہ بن گئے تو دوسرے اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو تو بچالیں گے اور جیلیں آپ کاٹیں گے اور مقدمات کی رقومات آپ کی نسلیں (وراثت سے) ادا کریں گی۔
  •     کاموں کا اور فاصلوں کا اندازہ لگائیں اور پلان بنائیں تاکہ صحیح وقت پر کام ختم کر سکیں۔
  •     سفرعقل مندی اور منصوبہ بند ی کے ساتھ کریں۔مقصدِ سفر واضح ہو۔ کاموں کی فہرست پہلے سے تیار ہو۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ کر لی گئی ہو۔ جن افراد سے ملنا ہے ان سے ملاقات کے اوقات طے ہوں۔ ان سے ملاقات کا ایجنڈا طے ہو۔ اس کےلیے آپ نے ہوم ورک کرلیا ہو۔
  •    بہتر کارکردگی کا مطالبہ کریں۔ اپنے ساتھیوں کو متحرک رکھیں۔ انھیں کام کے فوائد بتائیں۔ انھیں اس معاملے میں ان کے خوشگوار مستقبل کے بارے میں بتائیں۔
  •  ’خدا حافظ‘ کہنے کا فن سیکھیں۔ کچھ کاموں کو ترک کرنا سیکھیں ۔ کچھ قربانیاں دینا سیکھیں۔
  •  تنظیم وقت اور گھر کے کام کاج کے لیے ٹولز استعمال کریں۔ یہ کارآمد اور وقت بچانے کا اچھا ذریعہ ہیں۔جہاں ممکن ہو ٹولزکو اپنی ضرورت کے مطابق بنائیں۔
  •  اپنے آپ پر ذمہ داریوں کا بہت زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ انسان خود بے وقوفی کرکے اپنے اوپر بوجھ لادتا ہے۔
  •  ایک وقت میں ایک چیز یا ایک کام کریں۔ بیل گاڑی یا ٹرانسپورٹ کنٹینر بننے کی کوشش نہ کریں۔
  •   جو کام شروع کریں اسے ختم بھی کریں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے اور اس سےآپ کی کامیابی کے راز وابستہ ہیں۔ اس عادت سے آپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
  •  اپنی شخصیت اور رویے میں لچک پیدا کریں۔ ہٹ دھرمی انسانی تعلقات میں زیب نہیں دیتی۔
  •  کام کے بھوت نہ بنیں۔اچھے انداز میں کام کریں۔
  •  اچھی طرح سے اور غلطیوں سے پاک کام کرنے کی کوشش کریں۔احسن طریقے سے کام کریں کیونکہ یہ انسانوں سے مطلوب ہے۔
  •  ناممکن کاموں کو کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنے قد سے چھوٹے ہونا یا بونا بننا ناممکن ہے۔ لیکن ایک یا دو انچ قد بڑھ سکتا ہے۔
  •   کرنے کے کاموں کی فہرست کو اپنے ساتھ بلکہ اپنے سامنے بھی رکھیں۔
  •  افراد کی تربیت کریں اور انھیں زیادہ سے زیادہ اُمور تفویض کریں اور آگے بڑھنے کا موقع دیں۔
  •  مداخلتی چیزوں کا جائزہ لیں اور انھیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اوقات کو ضائع کرنے والی چیزوں کا جائزہ لیں، مداخلتوں کا جائزہ لیں اور پھر انھیں دُور کرنے کی کوشش کریں۔
  • اپنے ہر کام کے لیے ٹارگٹ دیں اور اس وقت میں اسے کرنے کی کوشش کریں۔
  •  اگر فون پر کام کیا جاسکتا ہے تو خط لکھنے اور ای میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  • غیر ضروری چیزوں کا مطالعہ نہ کریں اور اسی انداز سے روزانہ آنے والی ای میلز کو بھی فلٹر کرلیا کریں۔
  •  پہیہ دوبارہ ایجاد نہ کریں ، جو چیزیں میسر ہیں ان سے فائدہ اٹھائیے۔
  •  اپنے کام کے سلسلے میں کسی سے معاونت کی ضرورت ہے تو اسے ضرور حاصل کریں۔
  •  جب کسی کام میں کامیابی ہوجائے تو اس کی خوشی منایئے۔رب کا شکر ادا کیجیے اور اپنے معاونین کو ان کی محنت پر حوصلہ افزائی کیجیے۔ انھیں کریڈٹ دیجیے۔ یقین کیجیے آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے یہ بہت اہم ہے۔
  •  غیر متوقع چیزوں اور واقعات کا اندازہ لگایئے اور ان کے لیے بھی وقت نکالنے کی منصوبہ بندی کرلیجیے۔
  • اپنے تضیع اوقات کا عمومی طور سے جائزہ لیتے رہیے اور اس سلسلے میں اپنی اصلاح کرتے رہیے۔
  •  اپنے حافظے کے ساتھ مہربانی فرمایئے اور نوٹ بک کا استعمال کیجیے۔حافظے کو اہم چیزوں کے لیے رکھیے۔
  • مختلف کاموں کے لیے وقت مقرر کیجیےاور ان اوقات میں ان کاموں کو کرنے کی کوشش کیجیے۔
  •  جب گھر یا دفتر سے خریداری کے لیے نکلیں تو مکمل فہرست کے ساتھ نکلیں تاکہ ایک ہی چکر میں بہت سارے کام ہوجائیں۔ہمیشہ ماسٹر لسٹ اپنے پاس رکھیں۔
  •  دفتر کی عام گفتگو جسے چٹ چاٹ کہتے ہیں اور مزاحیہ چیزوں، کرکٹ اور واقعات پر تبصروں سے پرہیز کیجیے۔ اگر آپ کو اس کام میں مہارت ہے تو ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں شرکت کرکے آمدنی کا ذریعہ بن سکتاہے۔
  • اپنے پاس کاموں کی ’جائزہ فہرست‘ (چیک لسٹ) بنا کر رکھیں۔ سفر کی چیک لسٹ ، خریداری کی چیک لسٹ، پروگراموں میں شرکت کی چیک لسٹ وغیرہ۔
  • اپنے گھر اور معاشی مقام میں فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے وقت کی بچت ہو۔
  •  دفتری زندگی میں جوابات کی ٹیمپلیٹ بنالیں تاکہ بار بار آپ کو لکھنا نہ پڑے اور آپ ایک ہی ڈرافٹ کی ایڈیٹنگ کرکے اپنا وقت بچانے کی کوشش کریں۔
  • کام کی منصوبہ بندی کریں پھر کام کریں۔ گاڑی چلانے سے پہلے منزل متعین کرلیں۔
  • کام کرنے سے پہلے منطق کے سوالات اپنے آپ سے کریں۔ کیا؟، کیوں؟ کیسے؟ اور کب؟
  •  گھر پر کام مت لے جائیں اور گھر کو کام پر مت لائیں۔ جب کام پر آئیں تو گھر سے نشریاتی رابطہ کم از کم رکھیں اور جب گھر جائیں تو گھر والوں کے حقوق ادا کریں۔دفتر والوں سے نشریاتی رابطہ کم کردیں۔ شریک حیات اور بچے اور والدین آپ سے آپ کا وقت، آپ کی باتیں اور آپ کی مسکراہٹیں مانگتے ہیں۔ ان کےلیے اجنبی نہ بنیے۔
  •  خاص اور منتخب کام کریں، جن کے بغیر گزارہ ہوسکتا ہے اسے چھوڑدیں۔
  •  وہ کام جو دماغی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں انھیں ان اوقات میں کریں جب آپ کا دماغ اس کام کے لیے تیار ہو۔
  •    ایک وقت میں ایک کام کریں۔
  •  اپنے یومیہ کاموں کے لیے ٹائم ٹیبل بنائیں۔
  •  قابل عمل مقاصد کا تعین کریں۔
  •   ہر کا م کے لیے ایک وقت مقرر کریں اور اس وقت میں اسے ختم کریں۔

خاندانی یا گھریلو زندگی

  •  آپ خواہ کھانا پکا رہے ہوں، کوئی مضمون لکھ رہے ہوں یا تقریر کر رہے ہوں، تمام متعلقہ چیزیں کام شروع کرنے سے پہلے اپنے پاس رکھ لیں تاکہ آپ کو بار بار اٹھنا نہ پڑے۔ اسے تیاری کہتے ہیں اور یہ بڑی اہم چیز ہے۔
  •  اگر آپ کو کوئی کام ہو یا کہیں سے خریداری کرنی ہو تو تمام چیزیں ایک نوٹ بک کی صورت میں لکھ لیں اور اپنی سرگرمیوں کا پورا نقشہ تیار کر لیں تاکہ آپ کو دوبارہ سفر نہ کرنا پڑے اور  کم سے کم فاصلہ طے کرکے آپ کا سارا کام مکمل ہو جائے۔
  • خریداری کے لیے پہلے سے فہرست بنا کر جائیں۔ کوشش کریں کہ مختلف معمول کی خریداری کی فہرستیں بنی ہوئی ہوں اور انھیں بوقت ضرورت استعمال کیا جائے۔
  • خریداری ایک مرتبہ کیجیے۔ ایک ہفتے میں ایک بار سے زائد خریداری دور حاضر میں تضیع اوقات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ خریداری کی فہرست بنالیں اور ایک ہی بار یہ سب کام کرلیں، پٹرول اور گیس بھی اسی دوران میں حاصل کرلیں۔
  •  سہولیات کے بل وقت پر ادا کردیجیے اور تاخیر کرکے آخری وقت میں مشکلات مت پیداکیجیے۔
  • اپنی سالانہ چھٹیوں کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر انداز سے گزارنے کی کو شش کریں۔ یہ شیشے کی گیند کی مانند ہیں اسے زمین سے ٹکرانے کا موقع نہ دیں ورنہ یہ گیند ٹوٹ جائےگی۔
  •  وہ چیزیں نہ خریدیں جن کے لیے آپ کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہو۔ نقش ونگار والی اشیا صفائی کاوقت مانگتی ہیں۔
  •  اگر چیزیں سستی مل رہی ہیں مگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو آپ انھیں نہ خریدیں۔
  •  وہ چیزیں بھی نہ خریدیں جن کے لیے آپ کے پاس جگہ نہیں ہے،یا خصوصی جگہ کے اہتمام کی ضرورت ہوگی۔
  •  ہفتہ وار خوراک کا مینو بنالیں۔ مرغن اور مہنگی غذاؤں کی جگہ سادہ اور کم خرچ غذاؤں پر گزارہ کریں۔
  •  ضروری نہیں ہے کہ آپ برانڈیڈ فوڈ کھائیں۔ اس میں آپ کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رائلٹی دینی پڑتی ہے۔ اس کے بجاے آپ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ ہفتہ وار یا ماہانہ یا چھٹیوں کے دوران ’ون ڈش‘ پارٹی کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے اجتماعی فوائد ہیں۔

 معاشرتی    یا    قومی   زندگی

  •  کسی دوست کو اطلاع دیے بغیر یا ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیے بغیر اس سے ہرگز نہ ملیے۔اسی انداز سے اپنے دوستوں میں اس کلچر اور عادت کوپروان چڑھانے کی کوشش کریں۔
  •  عام حالات میں بھی بغیر اطلاع کے کسی کے گھر اور دفتر نہ جائیں۔ یہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف ہے۔ ہمیشہ فون پر اطلاع دے کر جائیں۔ اگر آپ بغیر اطلاع کے جاتے ہیں تو اس شخص کوآپ آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔
  • ایسے لوگوں سے بچیں جو بے مروت اور اتنے خود غرض ہوں کہ آپ کا وقت خواہ مخواہ ضائع کرنے کی کوشش کریں۔
  •  اپنے مشکل حالت میں اپنوں میں سے غیر اور غیروں میں سے اپنے دیکھنے کی کوشش کیجیے۔
  •  ٹیلی فون کے استعمال میں احتیاط کریں۔ بسا اوقات بہت ہی غیر ضروری باتیں سامنے آ جاتی ہیں اور کبھی غیر متعلقہ باتیں اور تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر حکمت سے کام لیتے ہوئے بات چیت کو مختصر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ بلا وجہ بھی اسے استعمال کرنا مناسب نہیں۔
  •   فضول گوئی سے اجتناب کرکے بھی وقت بچایا جاسکتا ہے۔
  •  وقت کی پابندی کیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر، دفتر، معاشرے میں اور تقریبات کے حوالے سے لوگوں کو پابندی وقت کی ترغیب دیجیے۔
  • عام گفتگو اور لوگوں کے ساتھ بے تکلفانہ بات چیت کو پانچ منٹ تک محدور رکھیے۔
  •                 (مجموعی طور پر زندگی کے روزمرہ اُمور میں بہتری کے لیے ہماری کتاب شاہراہِ   زندگی   پر کامیابی   کا   سفر کا مطالعہ مفید رہے گا)۔