ستمبر ۲۰۱۹

فہرست مضامین

پاکستان, جنگ ستمبر اور مسلم دنیا

سیّدابو الاعلیٰ مودودی | ستمبر ۲۰۱۹ | اخبار اُمت

ستمبر کے شمارے کے لیے مدیرعالمی ترجمان القرآن ، مسئلہ کشمیر پر ’اشارات‘ لکھ رہے تھے، لیکن طبیعت کی ناسازی کے باعث سردست مکمل نہیں کرسکے، ان شاء اللہ آیندہ اشاعت میں پیش کیے جائیں گے۔(ادارہ)

***

ریاست جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ پوری ریاست کو ایک قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ساری حُریت اور سیاسی قیادت اسیر یا نظربند ہے۔ شہروں اور دیہات سے تشویش ناک اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ اس قیدخانے میں اشیاے خوردونوش کی قلّت کے باعث فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔ ادویات اور علاج معالجے کے تعطل سے اموات واقع ہورہی ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت نے اس ظلم،درندگی اور وحشت ناکی سے باہر کی دنیا کو بے خبر رکھنے کا پورا پورا انتظام کیا ہے۔ ریاست کے مواصلاتی نظام کو بند کرکے، یہاں ہونے والے ظلم وجبر کو چھپانے کے قاہرانہ حربوں کے ساتھ ہمارے مقامی میڈیا پر بھی غیر علانیہ سینسر عائد کی گئی ہے۔ ریاست میں کہاں کیا ہورہا ہے؟ بھارتی فوج کے ظلم وستم، ہزاروں جوانوں کی گرفتاری اور ہلاکتوں کے بارے میں کوئی بھی خبر شائع نہیں ہورہی۔بھارتی حکمران روزِ اوّل سے جھوٹ اور فریب کے ذریعے عالمی راے عامہ کو گمراہ کرنے کی بزدلانہ کوشش کرتے چلے آرہے ہیں۔ 
اقوام متحدہ نے بھارت کو ان بدنام ملکوں میں شامل کیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی پاس داری اور تحفظ کی خاطر کام کرنے والوں کو قتل، تشدد، دھمکی اور خواتین کارکنوں کو جنسی زیادتیوں کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ان اہل کاروں کو قدم قدم پر قانونی اور انتظامی مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے۔
بھارتی حکمرانوں کی تمام پابندیوں کے باوجود، اس وقت مسئلہ کشمیر کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ جس کا ایک بڑا ثبوت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے اجلاس میں کشمیر پر بحث اور عالمی ذرائع ابلاغ پر خبروں کی اشاعت ہے۔ اسی سلسلے میں چندباتیں پیش خدمت ہیں:

O

جموں وکشمیر کے میرے عزیز ہم وطنو!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

۵؍اگست [۲۰۱۹ء]سے شروع کیے جانے والےحالیہ اقدامات سے بھارت کا مکروہ اور پُرفریب چہرہ، پہلے سے کہیں زیادہ بھیانک صورت میں دنیا کے سامنے آچکا ہے۔ جس کے تحت وہ اشاروں کنایوں کے بجاے کھل کر یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے پر اُتر آیا ہے۔ طاقت کے نشے کی بدمستی اور اکثریتی ووٹ کے غرور نے دہلی کے حکمرانوں سے انسانیت، اخلاقیات اور جمہوریت کی ساری قدریں چھین لی ہیں۔ اور وہ اپنے فوجیوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ کرکے یہاں کی محکوم آبادی کو یرغمال بناتے ہوئے من مانے فیصلے کرنے چڑھ دوڑے ہیں۔ 
ریاست جموں و کشمیر کے حصے بخرے کرنے اور اسے دہلی کے زیرِ انتظام لانے کے اقدام سے، بھارتی دہشت گرد اور توسیع پسند حاکموں نے جموں و کشمیر کو نوآبادیاتی کالونی بنانے کے لیے اپنی نام نہاد جمہوریت کا جنازہ بھی نکال دیا ہے۔ حددرجہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ اس گھناؤنے اقدام پر ماتم کرنے کے بجاے خوشیاں منا رہے ہیں۔ اس مذموم اقدام سے پہلے پوری ریاست جموں و کشمیر کو ایک پریشان کن اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا کرتے ہوئے، پکڑدھکڑ اور غیرانسانی، غیرقانونی اور غیراخلاقی پابندیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا گیا۔ پھر ایک جنگی صورت حال پیدا کرکے، یہاں کے عوام کو اپنی مسلح افواج کے حوالے کیا۔ پھر تمام انسانی اور سماجی رابطے منقطع کردینے جیسے بزدلانہ عمل سے اپنی ’بہادری‘ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ 
بھارتی جارحیت پسندوں نے، آزادی پسند قیادت اور حُریت پسند کارکنوں کو ہی نہیں، بلکہ برسوں سے اپنے پالے ہوئے ایجنٹوں اور قومی غیرت کے سوداگروں کو بھی ان کی حیثیت یاد دلا کر  ’حفاظتی حراست‘ میں لے رکھا ہے۔ اس سے بڑھ کر حق وصداقت کی کامیابی اور کیا ہوگی کہ اب اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے علاوہ ان فریب خوردہ عناصر کے پاس بھی کوئی اور موقف نہیں رہا۔ ’بھارتی سسٹم پر بھروسا‘ کرنے کا مسلسل سبق پڑھانے والوں اور ہندستان کو اپنا ملک کہتے ہوئے کبھی نہ تھکنے والوں کو بھی اس بات کا احساس ہوجانا چاہیے کہ بھارت کو یہاں کے عوام کے جینے مرنے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ انھیں صرف اور صرف یہاں کی زمین چاہیے۔ اسی کو ہتھیانے کے لیے  انھوں نے اپنے ہی حاشیہ برداروں کو ٹشوپیپر کی طرح استعمال کرکے، کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج ان سب بھارت نواز ہم وطنوں کے لیے یہ ایک آخری اور سنہری موقع ہے کہ وہ اغیار کی خاطر اپنے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کے بجاے، قوم کے شانہ بشانہ اس جدوجہد میں شامل ہوجائیں۔ ایسی جدوجہد کہ جس کا مقصد صرف اپنے بنیادی حقوق کی بازیابی اور غاصب طاقتوں سے مکمل آزادی ہے۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے اور بحیثیت قوم یکسو اور یک جان ہوکر دشمن کا مقابلہ کریں گے، تو ان کے ماضی کی تمام غداریاں معاف ہوسکتی ہیں۔ 

تاریخ گواہ ہے کہ حق وصداقت اور یکسوئی و یک جہتی کے سامنے تیروتفنگ، اسلحے، گولے بارود اور فوجوں کے ٹڈی دَل نے ہمیشہ مات کھائی ہے۔ حوصلہ، صبر، نظم ونسق ایک نہتی قوم کے وہ ہتھیار ہیں، جن سے وہ بڑی بڑی فوجی طاقتوں کو زیر کرسکتی ہے۔
آپ خواتین و حضرات کو یہ دردمندانہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بھارتی عہد شکن حاکموں کے اس شب خون کے دوران ہمیں ہاتھوں پہ ہاتھ دھرکر دشمن کے لیے ترنوالہ نہیں بننا۔ اس عریاں جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہوکر کھڑے ہونا، قوم کے ہرفرد کی ذمہ داری ہے، کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق قدمے، درمے، سخنے مزاحمت اور آزادی کے اس کاررواں میں شامل رہے۔ اس جارحیت کے خلاف ایمانی قوت، جواں مردی اور ہمت سے مزاحمت کرے کہ آزادی کے حصول کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں باقی بچا۔ پُرامن احتجاج، جلسے اور جلوس معمول ہونا چاہیے۔ تخریب اور تشدد کے نتیجے میں، دشمن کو ہمیں جانی اور مالی نقصان پہنچانے کا بہانہ مل جاتا ہے اور اسے ایسا کوئی موقع فراہم کرنے کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔
سرکاری ملازمین، خاص کر پولیس کے اہلکاروں سے اپیل ہے کہ وہ غیرت اور حمیت کا مظاہرہ کریں۔ انھیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اپنے ہی لوگوں کو تہہ تیغ کرتے رہنے کے باوجود بھارت ان پر بھروسا نہیں کرتا۔ اسی لیے انھیں غیر مسلح کرکے پوری کمانڈ اپنے فوجیوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اگر اس ذلت سے بھی آپ کی رگِ غیرت نہیں پھڑکتی، تو اپنے ضمیر اور ایمان کا ماتم کرتے ہوئے، ہندنواز سیاست دانوں کی طرح اپنے انجام کا انتظار کرنا چاہیے۔

ریاست جموں و کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ دیارِغیر میں رہ کر اپنے وطن کی صورتِ حال سے خود کو باخبر رکھیں۔ آپ میں سے ہرفرد یہاں کی ستم رسیدہ قوم کے لیے سفیر بن کر اپنے لوگوں کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہاں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کُشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کو آگاہ کرنا، آپ کی دینی، قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ آپ اپنے بھائیوں کے دُکھ درد کو محسوس کریں اور بھارتی جارحیت کے نشۂ طاقت میں کیے جانے والے ظلم اوردرندگی کے تمام حربوں کو ایک ایک دروازے پر دستک دے کر بے نقاب کریں۔ اس مقصد کے لیے تحریر، تقریر، مکالمے اور دُعا سے کام لیں۔
اسی طرح میں ہندستان کے ایک ارب تیس کروڑ بھائیوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری یہ جدوجہد ہندستان یا اُس کے عوام کے خلاف نہیں ہے۔ ہم تو صرف اور صرف اپنے جائز، قانونی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حق کہ جسے برہمن حاکمیت کے پرستار بھارتی حکمرانوں نے غصب کررکھا ہے۔ ہم بھارت میں بسنے والی مظلوم اقلیتوں، دلتوں اور جبر سے دبائی گئی قوموں کے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارت کا ہرانصاف پسند شہری ہماری مبنی برا نصاف جدوجہد کی حمایت اور تائید کرتا ہے۔
خاص طور پر پاکستان کے عوام، ان کے حکمرانوں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنے نجی اور فروعی معاملات میں الجھنے کے بجاے مصیبت میں گھری اس محکوم، مظلوم اور نہتی قوم کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ آپ اس مسئلے کے اہم اور بنیادی فریق ہیں۔ اگر آج آپ غیر سنجیدگی کا شکار ہوکر ذاتی مصلحتوں کے گرداب میں پھنس گئے، تو نہ تاریخ آپ کو معاف کرے گی اور نہ آپ کی آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی۔ اس لیے پورے عزم اور ہمت کے ساتھ دشمن کی فریب کاریوں اور مکاریوں کا آپ نے ہرسطح پر منہ توڑ جواب دینا ہے کہ اسی میں پوری ملت کی بقا اور کامرانی ہے۔
ریاست جموں وکشمیر کے غیور عوام سے مخلصانہ گزارش ہے کہ چاہے آپ ریاست کے کسی بھی کونے میں رہ رہے ہوں، جموں شہر یا وہاں کے پہاڑوں میں سکونت پذیر ہوں، وادی کے  سبزہ زاروں میں رہ رہے ہوں، لداخ اور کرگل کے کوہساروں یا برف زاروں میں بس رہے ہوں، چناب اور پیرپنچال کی چوٹیوں میں زندگی گزار رہے ہوں___ جان لیں کہ بھارت ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے، جسے صرف یہاں کی زمین ہڑپ کرنے سے دل چسپی ہے۔ وہ اسرائیلی غاصبوں کے نقش قدم پر چلتے اور اسی کی مدد سے راستہ بنانا چاہتا ہے۔ وہ اسرائیل کہ جس نے مقبوضہ فلسطین کے ہم وطنوں کو بے دخل کرنے جیسے گھنائونے طرزِ عمل کا ارتکاب کیا۔ اس ظالم ریاست کی مدد سے اب جموں و کشمیر کی شناخت، یہاں کی پہچان اور یہاں کے باہمی بھائی چارے کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ لیکن، ان شاء اللہ، ہم اس گھناؤنی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ بھارتی تسلط جتنا تکلیف دہ وادی کے مسلمانوں کے لیے ہے، اسی طرح جموں کی ڈوگرہ برادری اور لداخ کے بودھ بھائیوں کے لیے بھی کسی خوشی کا باعث نہیں ہے۔ اس لیے ہر ایک کو اپنی ڈیموگرافی،     اپنی آبادی، اور اپنا تشخص بچانے کے لیے اس تحریک مزاحمت کا ساتھ دینا ہوگا۔ 
ہمیں اپنی اپنی سطح پر اس تحریک ِ مزاحمت کا حصہ بن کر اس کی رفتار کو تیز کرنا اور اس کے ساتھ دوڑنا ہوگا۔ اگر دوڑنے کی سکت نہیں ہے، تو چلنا ہوگا، اور اگر چلنے کی بھی سکت نہیں تو رینگنا ہوگا، لیکن کاروا ِن مزاحمت میں شامل ہوکر اپنے حصے کی ذمہ داری ہرصورت میں نبھانی ہوگی۔یہی واحد راستہ ہے۔ 
جب قوم پورے عزم، ولولے اور نظم وضبط کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑی ہوتی ہے، تو کوئی طاقت اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بھارتی حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ اگر ۱۰ لاکھ کے بجاے اپنی پوری فوج کو بھی یہاں لاکر ڈال دیں گے،تب بھی یہاں کے عوام اپنے حقوق سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ اللہ ہمار حامی و ناصر ہو!

سترہ روزہ پاک بھارت جنگ ستمبر۱۹۶۵ء کے بعد اسی سال ۱۶؍اکتوبر کو انجمن شہریانِ لاہور کے جلسے منعقدہ  وائی ایم سی اے ہال سے خطاب۔ مرتبہ: رفیع الدین ھاشمی

***

ایک دانش مند قوم کو ایسے موقعے پر، جو اس وقت ہمیں درپیش ہے، حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے،کہ حریف کے مقابلے میں ہمارے کمزور پہلو کیا ہیں اور قوت و طاقت کے ذرائع کیا ہیں؟ کیوں کہ عقل مندی کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کے ذرائع کو مضبوط کیا جائے، اور کمزور پہلوئوں کی تلافی کی تدابیر سوچی جائیں۔

آپ جانتے ہیں کہ ہندستان تعداد کے لحاظ سے ہم سے کئی گنا زیادہ آبادی رکھتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے بھی کئی گنا بڑا ہے اور ذرائع، وسائل اور اسلحے کی مقدار کے لحاظ سے بھی۔ ان حیثیتوں سے ہم ان اُمور کی تلافی کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ رقبہ بڑھانا چاہیں تو نہیں بڑھا سکتے اور اگر ہم خاندانی منصوبہ بندی سے توبہ کرلیں تب بھی، تعداد کے لحاظ سے اس کے برابر نہیںہوسکتے۔ اسی طرح اس کے اسلحے کی فراہمی کے ذرائع اور وسائل بھی ہم سے زیادہ ہیں۔ ان پہلوئوں سے یہ ممکن نہیں کہ ہم اس سے بڑھ جائیں یا اس کے برابر ہی پہنچ جائیں۔
اب یہ دیکھیے کہ ہماری طاقت کے ذرائع کیا ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر اندازہ ہوسکے کہ اگر ہم ان ذرائع کو بڑھائیں تو ہم دشمن سے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ ذرائع اگر ہمیں مضبوط بناتے ہیں، تو پھر یقینا انھیں بڑھانا ہی عقل مندی کا تقاضا ہوگا۔

ہماری طاقت کے اتھاہ ذخیرے: اسلام اور ایمان

ہمارے لیے سب سے اوّلین شعبہ طاقت کا وہ اتھاہ ذخیرہ ہے، جس میں ہندستان بلکہ پوری کافر دنیا ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اور یہ ایمان اور اسلام کی دولت ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اس چند روزہ جنگ میں ہمیں کامیابی اس لیے ہوئی کہ ہماری فوج دشمن کی فوج کے مقابلے میں زیادہ تربیت یافتہ تھی تو میں اسے غلط نہیں کہتا، مگر واقعہ یہ ہے کہ محض فوجی تربیت اور اسلحے کے استعمال کی مہارت ہی وہ چیز نہ تھی، جس نے ہمیں فتح یاب بنایا۔ہماری فوجی تربیت بھی تو وہی تھی، جو انگریزی نظامِ عسکریت کے تحت ہم نے پائی۔ ادھر دشمن نے بھی یہی تربیت حاصل کی تھی۔اگر محض اسی پر ہمارا انحصار ہوتا تو ہم بازی نہیں جیت سکتے تھے۔ تب وہ چیز کیا تھی، جس نے ایک اور دس کے مقابلے میں ہمیں کامیاب کرایا؟  دراصل وہ چیز اللہ پر ایمان، آخرت کا یقین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی محبت، اور یہ یقین تھا کہ اگر ہم شہید ہوگئے تو ہماری بخشش ہوگی اور ہم جنّت میں جائیں گے۔ اس چیز نے ہمارے سپاہی کو طاقت ور بنایا۔خالص دینی جذبہ ، اللہ و رسولؐ اور آخرت پر یقین اور شہادت کا شوق ہمارے سپاہی کی اصل روح ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نصرت عطا فرمائی ہے۔
آپ دیکھیں کہ ان علاقوں سے جو دشمن کی زد میں تھے، ہماری آبادی اس طرح نہیں بھاگی جس طرح دوسری جنگ ِعظیم کے دوران فرانس کی آبادی ان علاقوں سے بھاگی، جن پر جرمن فوجوں نے حملہ کیا تھا۔ ہمارے تاجر نے اس اخلاق کا ثبوت دیا جو زندہ قوموں کے شایانِ شان ہے۔ اس کی نظیر نہیں ملتی کہ جنگ چھڑ جائے اور ضرورت کی عام چیزیں بازار سے غائب نہ ہوں اور چیزیں نہ صرف ملتی رہیں بلکہ پہلے سے بھی سستی ہوجائیں۔ یہ آخر کس چیز کا فیض ہے۔ بجز ایمان کے اور ان اخلاقیات کے، جو ہمیں اسلام کی بدولت حاصل رہے ہیں۔
غور کیجیے کہ اگر اس موقعے پر خدانخواستہ سارا انحصار فوجی مہارت کے استعمال پر ہوتا اور ایمان کی طاقت نہ ہوتی، یا اسلام کی دی ہوئی بچی کھچی اخلاقی حس بیدار نہ ہوتی اور تاجر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیتے، عوام بدحواس ہوکر بھاگنا شروع کر دیتے، بستیوں کو خالی دیکھ کر یا افراتفری کے عالم میں دیکھ کر مجرم اپنے جرائم کی رفتار تیز کردیتے، تو آج ہم کہاں ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے دین، اسلام کے سوا اور کوئی چیز ہمیں بچانے والی نہیں ہے۔

تجربے سے سبق حاصل کریں

ایک عقل مند کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب حریف کے مقابلے میں اسے اپنی طاقت و قوت کے ذرائع کا علم ہوجائے تو انھیں بڑھانے کی کوشش کرے، نہ کہ انھیں ختم کرنے میں لگ جائے۔ یہ تجربہ جو ہمیں اس جنگ میں ہوا ہے، ہم اسے بار بار نہیں دُہرا سکتے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو وہ تعلیم نہیں دے سکتے جو انھیں ذہنی شکوک و شبہات میں مبتلا کرے۔ ہم قوم کو عیاشی کی شراب نہیں پلاسکتے۔ ہم قوم کی اخلاقیات کا ستیاناس نہیں کرسکتے۔ ایک مرتبہ ہم نے تجربہ کرلیا ہے کہ ہماری مسلسل غلطی کے باوجود صرف ایمان اور اخلاق ہی ہمارے کام آئے ہیں۔ اب اگر ہم بار بار اپنی اسی طاقت کو کمزور کرنے والے طریقے اور راستے اختیار کرتے چلے جائیں گے، تو نہ معلوم ہم میں سے کتنے آیندہ بھی مضبوط ثابت ہوں؟ ہرنئی آزمایش کے موقعے پر پہلے سے کمزور ہوتے چلے جانا ایک فطری چیز ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیںہماری کسی غلطی کی سزا نہیں دی۔ اس لیے اب ہمیں اپنی ایمانی قوت کو مضبوط کرنے اور اخلاقی طاقت کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ذرائع کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ہمیں خوب سوچ سمجھ کر اپنے نظامِ تعلیم کا جائزہ لینا چاہیے اور دیکھنا چاہیےکہ یہ نظام نوجوانوں میں کس حد تک ایمان کے بیج بوتا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں کمزوری ہو، اسے رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح ہمیں اپنے اخلاق کو سنبھالنے کی فکر کرنی چاہیے۔ نشرواشاعت کے دیگر ذرائع سب کو اس کی فکر کرنی چاہیے اور وہ کام نہ کیے جائیں جو اخلاق کو کمزور کرنے والے ہوں، بلکہ ایک سچّے مسلمان کی سیرت کو نشوونما دینے کی نیت اور جذبے سے کام کیا جانا چاہیے۔

ہمارا فطری اتحادی __ عالمِ اسلام

ہندو قوم چاہے کتنی ہی کثیر تعداد میں کیوں نہ ہو، وہ بھارت تک محدود ہے۔ اس کے برعکس یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم اس دین حق سے تعلق رکھتے ہیں جو دنیا کے ہرگوشے میں پھیلا ہوا ہے۔ مسلمان جہاں بھی ہیں وہ فطری طور پر ہمارے دوست اور فطری اتحادی ہیں اور یہ بھی اسلام کی بدولت ہے۔ پھر مسلمان ملکوں میں سے جو اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں، ۱۳مسلمان ملکوں کی زبان عربی ہے۔ یہ سب ملک ہمارے فطری اور پیدایشی حامی ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں اگر کسی موقعے پر ہماری حمایت نہ بھی کرتی ہوں، تب بھی ان ملکوں کے عوام ہمیشہ ہماری حمایت کرتے ہیں۔ 
جہادِ پاکستان نے عالمِ اسلام پر جو اثر ڈالا ہے، اس مناسبت سے عرب دنیا کے ایک نامور لیڈر ایک عربی اخبار میں لکھتے ہیں کہ: ’’اسرائیل کی آبادی صرف ۲۲لاکھ ہے اور  سات آٹھ کروڑ عرب اس سے ڈرتے ہیں، جب کہ پاکستان نے صرف دس کروڑ کی آبادی کے ساتھ ۴۸کروڑ آبادی کے بھارت کے دانت کھٹے کر دیے ہیں‘‘۔ پھر انھوں نے یہ سوال عربوں کے سامنے رکھا ہے کہ غور کیجیے کہ آخر وہ کون سی بنیادی وجہ ہے جو آپ کو اسرائیل کے مقابلے میں کمزور بنائے ہوئے ہے؟
ان نکات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہادِ پاکستان نے خود عالمِ اسلام پر کیسا عظیم الشان اثر ڈالا ہے۔ فی الحقیقت یہ جو کچھ ہوا ہے، بالکل فطری طور پر ہوا ہے۔ یہ ہماری کوششوں سے نہیں ہوا،لیکن اسے اب نشوونما دینا ہمارا فرض ضرور ہے۔
گذشتہ برسوں میں ہم نے مسلمان ملکوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی۔ پاکستان سے پہلے ہم اس بھروسے پر تھے کہ ہندوئوں کے مقابلے میں دنیا کے مسلمان ہمارے ساتھ ہیں اورتقسیمِ ہند کے بعد بھی ہم اسی بھروسے پر رہے، لیکن بھارت نے مسلم ممالک کو ہم سے توڑنے کی زبردست مہم شروع کر دی۔ اس نے مسلمانوں کو ہم سے توڑنے کے لیے اپنے  عربی دان مسلمانوں کو پروپیگنڈے کے لیے عرب ملکوں میں بھیجا، جنھوں نے وہاں کے دانش وروں اور لیڈروں کو یقین دلایا کہ پاکستان تو انگریزی استعمار کی پیداوار ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف اس قدر زہر پھیلایا کہ ۱۹۵۶ء میں، جب میں عرب ملکوں میں گیا تو مجھ سے وہاں مقیم پاکستانیوں نے کہا کہ ان ملکوں میں ہمیں خود کو پاکستانی کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ یہاں ہمیں مغربی استعمار کا آلہ کار سمجھا جاتا ہے۔ بھارت نے لاکھوں روپے خرچ کر کے جو زبردست پروپیگنڈا کیا، یہ سب کچھ اس کا نتیجہ تھا۔ لیکن یہ سراسر اللہ کا فضل ہے کہ اس جنگ کے دوران اس کی کوشش ناکام ہوگئی۔ 

ٹھوس اقدامات کی ضرورت

میں کہتا ہوں کہ اسلام کی بدولت یہ سب کچھ اگر ہمیں اپنی کسی خاص کوشش کے بغیر حاصل ہوا ہے تو عقل مندی یہ ہے کہ اب ہم اپنی خاص کوشش سے اسے بڑھائیں۔ 
اس ضمن میں ہمارے سفارت خانوں نے جو کردار ادا کیاہے، اس کے متعلق نرم سے نرم الفاظ میں مَیں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے کوئی خاص خدمت انجام نہیں دی۔ حج کے لیے جانے والے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ حج کے زمانے میں ہندستان صاف ستھری عربی زبان میں اپنے پروپیگنڈے پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرتا ہے کہ ’’بھارت کے مسلمان خیریت سے ہیں اور انھیں ہرطرح کا آرام اور سہولتیں حاصل ہیں‘‘۔ اس کے مقابلے میں حقائق کو سامنے لانے کے لیے ہمیں اوّل تو کوئی چیز  شائع کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔ اگر ہو بھی تو نہایت گھٹیا انداز میں کہ اسے کوئی پڑھتا بھی نہیں۔ یہ ایک نہایت ضروری چیز ہے کہ عرب ملکوں میں ہمارے سفارت خانوں میں عربی جاننے والے لوگ موجود ہوں اور دوسرے ملکوں کے سفارت خانوں میں بھی اس ملک کی زبان جاننے والے لوگ ہوں۔ فارن سروس میں لیے جانے والے لوگوں کے لیے یہ چیز لازمی کرنی چاہیے تاکہ وہ اس ملک میں اپنا موقف اور نقطۂ نظر کامیابی کے ساتھ پیش کرنے کا عمل جاری رکھیں۔
ایک اور ضروری چیز یہ ہے کہ خود ہمارے نظامِ تعلیم میں عربی زبان کو ایک لازمی زبان کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ عربی زبان جسے مُلّا کی زبان سمجھا جاتا رہاہے، آج دنیا کے ۱۳ایسے ممالک کی زبان ہے، جو خلیج فارس سے لے کر اٹلانٹک تک پھیلے ہوئے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں۔ ان ملکوں میں ڈاکٹروں، انجینیروں، پروفیسروں اور دیگر ٹیکنیکل عملے کی ضرورت ہے۔ ہم یقینا ایسا عملہ ان ملکوں کو دے سکتے ہیں، لیکن زبان کی اجنبیت مانع ہے۔ وہ لوگ اپنی ضرورت کے تحت ڈاکٹر اور انجینیر وغیرہ منگواتے ہیں، مگر جب وہاں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان، انجینیراور اس کے ماتحت عملے کے درمیان زبان کی مشکل حائل ہوتی ہے تو پھر انگریزی مترجمین کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ہمارے ہاں کالجوں میں وظیفے دے کر طلبہ کو عربی پڑھنے پر آمادہ کیا جاسکے، تو یہ ماہرین ہمارے قدرتی سفیر ثابت ہوں گے اور مفید خدمات انجام دیں گے۔ اس طرح کوئی وجہ نہیں کہ وہ ملک ہماری حمایت نہ کریں۔ اگر ہم ایسا کرسکیں تو ان شاء اللہ سارا عالمِ اسلام ہمارے ساتھ ہوگا۔ 
میں نے یہ چند عملی تجاویز مختصر الفاظ میں بیان کردی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ انھیں بروے کار لانے کی توفیق دے۔ (ہفت روزہ آئین، لاہور، ۲۳؍اکتوبر ۱۹۶۵ء، ص ۸-۹)

صاحب ِطرز انشاء پرداز اشفاق احمد کے ایک افسانے کی مرکزی کردار مظلوم کشمیری لڑکی شازیہ اُردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے پاس یکے بعد دیگرے جاتی ہے اور ان میں سے ہرایک کی خدمت میں کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتی ہے، لیکن یہ سارے ادیب کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف صداے احتجاج بلند کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ’’میری لائن انسان دوستی ہے سیاست نہیں‘‘۔ کوئی کہتا ہے کہ ’’یہ میری فیلڈ نہیں ہے میں گرامر، عروض اور ساختیات کا سٹوڈنٹ ہوں‘‘۔ یہ لڑکی مشہور فلم سازوں کے پاس بھی کشمیریوں کی مظلومیت کی فریاد لے کر جاتی ہے، مگر وہ لوگ بھی اس کی بات سنی اَن سنی کر دیتے ہیں۔ بالآخر یہ لڑکی افسانے کے واحد متکلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہے: ’’آپ کو اس بات کا خوف تو نہیں انکل کہ اگر آپ نے مظلوم کشمیریوں یا ستم رسیدہ افغانیوں کے حق میں کچھ لکھا، تو لوگ آپ کو مذہب پسند سمجھنے لگیں گے؟ آپ کو تنگ نظر، کوتاہ بین، قدامت پسند اور بنیاد پرست کہہ کر روشن خیال دائروں میں آپ کا داخلہ بند کر دیں گے؟‘‘

بھارت اور پاکستان کے اُردو ادیب واقعتاً اس خوف میں مبتلا ہیں۔ اُن کا یہ عارضہ اُتنا ہی پرانا ہے جتنا کشمیر کا تنازع۔ کشمیریوں کے مصائب سے ان کی غفلت اور ان کا فرار ایک پرانا عارضہ ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے جبرو استبداد کے آغاز ہی سے اُردو ادیب اس انسانی المیے سے لاتعلق ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری چونکہ مسلمان واقع ہوئے ہیں، اس لیے ان سے یگانگت کا دم بھرنے سے اُس کی ترقی پسندی اور آزاد خیالی پر حرف آجائے گا۔ 

ڈاکٹر آفتاب احمد نے اپنی کتاب بیاد صحبت نازک خیالاں میں لکھا ہے: [’’۳جنوری ۱۹۴۸ء کو ] پاکستان کے ادیبوں کی طرف سے کشمیر کے بارے میں ایک مشترکہ اعلان شائع کیا گیا، جس پر  سواے [فیض احمد]فیض صاحب کے، سب ترقی پسند ادیبوں نے دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ ترقی پسند حلقوں میں عام طور پر یہ مشہور ہوا کہ:’’یہ بیان [ڈاکٹر ایم ڈی]تاثیر صاحب کی ’سازش‘ کا نتیجہ تھا۔ چونکہ تاثیر صاحب کو معلوم تھا کہ ترقی پسند اس قسم کے بیان کی تائید نہیں کریں گے، اس لیے انھوں نے یہ گہری چال چل کر عوام اور حکومت کی نظرمیں زیادہ سے زیادہ انھیں مشتبہ کرنے کی کوشش کی تھی‘‘۔ اب اصل حقیقت سن لیجیے … ہندستان کے کچھ ادیبوں نے، جن میں دو ایک مسلمانوں کے نام بھی شامل تھے، کشمیر کے بارے میں ہندستانی نقطۂ نظر کی حمایت میں ایک بیان شائع کیا۔ محمد حسن عسکری، غلام عباس اور مَیں ایک جگہ جمع تھے۔ وہاں یہ ذکر آیا تو ہم نے سوچا کہ ’پاکستان کے ادیبوں کو اس معاملے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے‘۔ چنانچہ تجویز یہ ہوئی کہ ایک بیان یہاں سے بھی شائع کیا جائے، جس میں پاکستانی نقطۂ نظر کی حمایت ہو، تاکہ دنیا کو حقیقت حال معلوم ہو سکے۔ غلام عباس اور مَیں، تاثیر صاحب کے پاس پہنچے اور اس تجویز کا ذکر کرنے کے بعدان سے بیان کی عبارت لکھنے کی درخواست کی۔ تاثیر صاحب نے ارتجالاً ایک مختصر سا بیان لکھ کر ہمارے حوالے کیا اور ہم نے ادیبوں سے دستخط لینے کی مہم شروع کر دی۔اسی سلسلے میں [احمد شاہ پطرس] بخاری صاحب کے پاس گئے، جو ان دنوں گورنمنٹ کالج [لاہور] کے پرنسپل تھے۔ انھیں تاثیر صاحب کی لکھی ہوئی عبارت پسند نہ آئی اور ناکافی معلوم ہوئی۔ ان کی رائے تھی کہ: ’’اس بیان میں ذرا تفصیل سے کام لینا چاہیے‘‘۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ: ’’بیان فیض صاحب سے لکھوایا جائے اور انگریزی میں ہو تو اچھا ہے، تاکہ باہر کے ملکوں میں کام آ سکے‘‘۔ چنانچہ فیض صاحب سے وقت مقرر کیا گیا۔ دوسرے دن ہم ان کے ہاں پہنچے، فیض صاحب بولتے گئے اور مَیں لکھتا گیا۔ ٹائپ کرا کے ہم نے وہ بیان بخاری صاحب کو دکھایا، تو انھوں نے اسے بھی پسند نہ کیا‘‘۔ (ص ۸۲،۸۳)

’’آخر ہماری درخواست پر وہ اس بیان کو کاٹ چھانٹ کر درست کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ دوسرے دن جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ لاج کے برآمدے میں بیٹھے بیان کی صاف کاپی ٹائپ کر رہے تھے۔ مستردشدہ مسودوں کا ڈھیر ان کے پاس پڑا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ رات گئے تک اس کام میں لگے رہے تھے۔ اب سوال تھا اُردو ترجمے کا۔ چونکہ بیان اُردو کے ادیبوں کی طرف سے جاری ہونے والا تھا، اس لیے بخاری صاحب کا اصرار تھا کہ: ’’اس انگریزی متن کا ایک آزاد ترجمہ ہماری طرف سے ہی ہونا چاہیے ، اور عبارت ادیبوں کے شایان شان ہونی چاہیے۔ انگریزی بیان کا ترجمہ اگر اخباروں کے مترجموں پر چھوڑا گیا، تو وہ نہ جانے اس کا کیا حشر کریں گے‘‘۔ چنانچہ اُردو ترجمے کا کام صوفی [غلام مصطفیٰ]تبسم صاحب کے سپرد ہوا۔ شام کو جب صوفی صاحب،عباس صاحب اور مَیں اُردوبیان لے کر بخاری صاحب کے پاس پہنچے، تو انھوں نے اسے بھی پسند نہ کیا۔ مشکل یہ تھی کہ بخاری صاحب کا معیارِ حسنِ نگارش اتنا بلند تھا کہ اس معاملے میں ان کی خوش نودی حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ آخر انھوں نے اس متن کی نظرثانی شروع کی‘‘ (ص۶۷، ۶۸)۔ ’’رات گئے تک یہ کام مکمل ہوا، اور دوسرے دن انگریزی اوراُردو بیانات اخبارات میں دے دیے گئے۔ یہ ہے اس بیان کی اشاعت کی داستان۔ اگر یہ ’سازش‘ تھی تو اس میں بخاری صاحب بھی شریک تھے اور فیض صاحب بھی‘‘۔(ص ۸۳،۸۴)

تنازع کشمیر کے باب میں ہمارے ادیبوں نے آغاز کار ہی میں وابستگی کے بجاے لاتعلقی کا رویہ اپنایا، تو ڈاکٹر تاثیر نے انھیں غیر جانب داری کی گپھاوں سے باہرنکل کر حق کی تائید اور باطل کی تردید کی روش اپنانے کا مشورہ دیا، مگر اسے انھوں نے ’سازش‘ پر محمول کیا۔
ہمارے ادیب آج تک اسی روش پر قائم ہیں۔ ستمبر۱۹۶۵ء میں جب کشمیر سے توجہ ہٹانے کی خاطر بھارت نے لاہور پر حملہ کر دیا، تو ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے قلمی جہاد کی ایک نئی اور درخشندہ روایت کی بنیاد ڈالی، مگر اعلان تاشقند کے پس پردہ کارفرما عقل نے اس روایت کو کچھ دھندلا دیا۔ چنانچہ آج ہمارے ادبی اور تہذیبی محاذ پر پھر سے ۱۹۴۸ء کا سا عالم طاری ہے۔ ہمارے ادیب اور دانش وَر پھرسے اُسی گومگو کے عالم میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ کشمیر میں جبر و استبداد پر یوں ہی مہر بہ لب بیٹھے رہیں یا لب کشائی کی جرأت کریں؟ اس تذبذب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ستم زدگا نِ کشمیر مسلمان ہیں۔ پھر انھیں کسی سارتر یا ایڈورڈ سعید کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔ اوپر سے میڈیا میں کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کی جو تصویریں ابھرتی ہیں، اسے حریت پسندوں کی داڑھیوں نے’’خراب‘‘ کر رکھا ہے۔ ذرا سوچیں کہ داڑھی تو ان کے ہیرو چی گویرا کی بھی تھی، مگر اسے وہ اسلامی نہیں ’’انقلابی‘‘ داڑھی سمجھتے ہیں۔ الغرض اس نوعیت کے گونا گوں ’نظریاتی‘ سوالات ہیں، جن میں اُلجھے ہوئے اُردو ادیب خود کو تحریک آزادی کشمیر سے لا تعلق رکھنے پر ’مجبور‘ہیں۔ بھلا وہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کی جدو جہد میں شریک ہو کر خود کو’ رجعت پسند‘ بلکہ ’طالبان پسند‘ کیسے کہلائیں؟

کچھ باتوں کو نظرانداز کرنا بہتر ہوتا ہے، لیکن چند بنیادی باتوں کی وضاحت ملک سے محبت کی مجبوری بن جاتی ہے۔ مغالطہ انگیزی پر مشتمل تحریروں میں ایک دل چسپ تضاد بھی نظر آتا ہے۔ 
ایسے عالم و فاضل اور محقق حضرات، جو سچ لکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اُن میں سیکولر اور اسلام پر عالمانہ اور اجتہادی کالم لکھنے والے دونوں قسم کے حضرات شامل ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوتاہے کہ نظریاتی حوالے سے دونوں متضاد گروہ بھی ایک دوسرے کے مماثل نظر آتے ہیں۔ 
ان دونوں قسم کے فاضل حضرات سے میرا محض ایک سوال ہے: ’’آپ کو کیسے علم ہوا کہ قائداعظم پاکستان کو فلاحی و جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے؟‘‘ اگر تو آپ نے یہ بات محض پروپیگنڈا سن کر لکھ دی ہے تو آپ قارئین سے بے انصافی کر رہے ہیں، کیونکہ قارئین آپ سے تحقیقی اور عالمانہ سچ کی توقع کرتے ہیں۔ اگر آپ نے قائداعظم کی تقاریر پڑھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے، تو آپ ادھورے سچ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
 قائداعظم نے اپنی تقریروں اور خطبات میں چند بار فلاحی اور کئی بار جمہوری پاکستان کا تصور پیش کیا۔ لیکن انھوں نے قیام پاکستان سے قبل سو بار سے زیادہ اور قیامِ پاکستان کے بعد بحیثیت گورنر جنرل چودہ بار یہ اعلان کیا کہ وہ ’پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری ریاست‘ بنائیں گے۔ انھوں نے بار بار یہ وضاحت کی کہ: ’’پاکستان کے دستور کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی‘‘۔

 عید میلاد النبیؐ کے موقعے پر ۲۵جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے ’پاکستان میں شریعت کے نفاذ‘ کا اعلان دُہرایا، اور فروری ۱۹۴۸ءمیں امریکی عوام کے نام براڈ کاسٹ پیغام میں پاکستان کو ’پریمئر اسلامک اسٹیٹ‘ قرار دیا۔ ایسے اَن گنت حوالوں کے پس منظر میں، ان حضرات سے میرا یہ سوال ہے کہ: ’’عزیزو! جہاں آپ کو قائداعظم کے تصورِ پاکستان میں جمہوری فلاحی پاکستان نظر آتا ہے، تو وہاں پر آپ کو اسلامی نظر کیوں نہیں آتا کہ جس پر قائداعظم نے بار بار زور دیا؟‘‘
تحقیق کا پہلا اصول سچ ہے اور جب تحقیق کے نام پر ادھورا سچ بولا یا لکھا جائے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ دھماچوکڑی کسی ایجنڈے یا وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔ اس میں دل چسپ بات یہ ہے کہ سیکولر اور دین سے بے زار حضرات تو قائداعظم کے پاکستان کو محض ’جمہوری اور فلاحی ریاست‘ تک محدود رکھتے ہی ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر میں نے بعض مذہبی شخصیات کو بھی اسی ایجنڈے کا ’سوداگر‘ پایا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ انھوں نے قائداعظم کی تقاریر پر نظر نہ ڈالی ہو، اور یہ بھی ممکن نہیں کہ انھیں ان تقاریر میں اسلام کا سنگ بنیاد نظر نہ آیا ہو۔ یہ محض ان کی مذہب سے بے زاری ہے، جو جمہوری فلاحی ریاست سے پہلے ’اسلامی‘ کا لفظ لکھنے نہیں دیتی۔ حالانکہ آج کا پاکستان بھی  کم سے کم آئین کی حد تک اسلامی و جمہوری ہے۔ جب اسلامی کہا جائے تو فلاحی کے اضافی لفظ کی اس لیے ضرورت نہیں رہتی کہ ’اسلامی‘ میں ’فلاحی کا تصور‘ جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی پس منظر میں سیکولر حضرات کی ’قرارداد مقاصد‘ سے بے زاری سمجھ میں آتی ہے۔ یاد رہے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے منظور کی تھی، اور اسے پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا۔ قائداعظم کے بعد قائدِ ملت لیاقت علی خان سب سے زیادہ مقبول اور مضبوط قومی لیڈر تھے۔ یہ بھی ایک قابلِ توجہ بات ہے کہ یہ حضرات ’قرارداد مقاصد‘ پر وہی اعتراضات کرتے ہیں، جو اس وقت کے ہندو اور کانگریسی اراکین اسمبلی نے کیے تھے۔ کانگریسی اراکین اسمبلی کو اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تحفظات تھے، حالانکہ قرارداد کے پیرا۹ اور ۱۰ میں تمام شہریوں کو برابری، بنیادی حقوق، آزادیِ اظہار، آزادیِ مذہب و عقیدہ اور سیاسی و سماجی عدل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق اور دانش ور جی ڈبلیو چودھری [غلام وحید: ۱۹۲۶ء- ۱۳دسمبر ۱۹۹۷ء] کے بقول: ’قرارداد مقاصد‘ کا قصور یہ ہے کہ اس قرارداد نے پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھنے کا اعلان کیا تھا، حالانکہ یہ وہی بات تھی، جو قائداعظمؒ اپنی زندگی میں بارہا کہہ چکے تھے‘‘۔ 

میرے مطالعے کے مطابق سیکولر حضرات اور ان کے حامیوں کے ہاں ’قرارداد مقاصد‘ کو مسترد کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ قرارداد نے اللہ تعالیٰ کا اقتدارِ اعلیٰ(Sovereignty) تسلیم کیا اور ریاست کو دین اسلام کی طے کردہ حدود میں رہ کر قانون سازی اور پالیسی سازی کرنے کا اختیار مانا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان میں اسلامی اصولوں کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی، اور یہ ہمارے آئین کا نمایاں ترین پہلو ہے۔ ان سیکولر حضرات کا کہنا ہے کہ: ’’مغربی جمہوریت کی مانند اقتدارِ اعلیٰ عوام کی ملکیت ہونا چاہیے اور اسلامی اصولوں سے قطع نظر انھیں ہر قسم کی قانون سازی کی اجازت ملنا چاہیے‘‘۔ ظاہر ہے کہ پاکستان میں ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا، اس لیے وہ لفظ’اسلامی‘ کو پسِ پشت ڈال کر ’فلاحی جمہوری ریاست‘ کا راگ الاپتے رہیں گے اور ’قرارداد مقاصد‘ پر نشانے باندھ باندھ کر تیر چلاتے رہیں گے۔

’قرارداد مقاصد‘ کے حوالے سے مجھے مزید حیرت اس وقت ہوئی، جب ایک معروف کالم نگار نے یہ لکھا کہ:’’ ’قرارداد مقاصد‘ کی منظوری لے پالک سیاسی قیادت کے جمہوری انحراف کا شاخسانہ تھی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے مقبول ترین وزیراعظم لیاقت علی خان ’لے پالک سیاست دان‘ تھے یا ان کے رفقا، جنھوں نے ’قرارداد مقاصد‘ کی حمایت کی وہ ’لے پالک تھے؟‘ کیا یہ حضرات ۴۶-۱۹۴۵ء کے انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے تھے؟ کیا انھیں کسی جرنیل نے اپنی گود میں پالا پوسا تھا؟ کیا پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا قرارداد منظور کرنا جمہوریت سے انحراف تھا؟ اسی طرح ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ’’قرارداد مقاصد کا مسودہ قائداعظم کی زندگی میں تیار کرلیا گیا تھا، لیکن جب قائداعظم کو دکھایا گیا تو انھوں نے نامنظور کر دیا‘‘۔ ’قرارداد مقاصد‘ کے مخالفین نے قرارداد پر ضرب کاری لگانے کے لیے یہ انوکھا افسانہ تراشا اور شوشہ چھوڑا ہے۔ جو سراسر بے بنیاد ہے اور سمجھ لینا چاہیے کہ یہ آخری وار ہرگز نہیں ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ لوگ اسلام سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہیں؟

کاروباری زندگی میں قدم قدم پر لالچ، حسرتیں اور اندیشے پیچھا کرتے ہیں،جن سے مجبور ہوکر کاروباری حضرات بعض مزید ناپسندیدہ افعال میں ملوث ہوجاتے ہیں۔

 کم نفع پر اکتفا کرنا

مسلمان تاجروں کو چاہیے کہ وہ کم نفع پر صبر کی روش اختیار کریں اور اپنی تجارت میں  جذبۂ احسان کو پیش نظر رکھیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے‘‘ (النحل۱۶: ۹۰)،اور فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے‘‘ (الاعراف۷: ۵۶)۔اس لیے ضرورت مند خریدار اگر اپنی ضرورت کے تحت زیادہ نفع دینے پر بھی تیار ہو، تو بھی جذبۂ احسان کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ نفع نہ لے۔ کم نفع لے کرزیادہ مال فروخت کرنا ایک ایسی پالیسی ہے جس سے تجارت کافی ترقی کرتی ہے۔ سلف صالحین کی عادت بھی یہی تھی کہ کم نفع پر زیادہ مال فروخت کرنے کو،زیادہ نفع حاصل کرنے پر ترجیح دیتے تھے۔ حضرت علیؓ کوفہ کے بازار میں چکر لگاتے تھے اور فرماتے تھے کہ: ’’اے لوگو! تھوڑے نفع کو نہ ٹھکراؤکہ زیادہ نفع سے بھی محروم ہوجاؤگے‘‘۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے ایک بار لوگوں نے پوچھاکہ آپ کس طرح اتنے دولت مند ہوگئے؟ تو انھوں نے فرمایاکہ میں نے تھوڑے نفع کو بھی کبھی رد نہیں کیا۔ جس نے بھی مجھ سے کوئی جانور خریدنا چاہا میں نے اسے روک کر نہ رکھا بلکہ فروخت کردیا۔
  ایک دن عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ایک ہزار اونٹ اصل قیمت ِخرید پرفروخت کردیے اور بجز ہزار رسیوں کے کچھ نفع حاصل نہ کیا۔ پھر ہر ایک رسّی ایک ایک درہم سے فروخت کی اور اونٹوں کے اس دن کے چارے کی قیمت ایک ہزار درہم ان کے ذمے سے ساقط ہوگئی۔ اس طرح دوہزار درہم کا انھیں نفع حاصل ہوا۔ (کیمیاے سعادت ، ص ۲۸۰)
 یہ ہے تجارت میں ترقی کا راز! لیکن اس سلسلے میں ہمارے یہاںبڑی بے صبری پائی جاتی ہے۔ ہم چند دنوں میں ہی لکھ پتی اور کروڑ پتی بن جانا چاہتے ہیں،جس کا نقصان سامنے آکر رہتا ہے، جب کہ بعض دوسری قوموں نے اس پالیسی کو اپنا لیاہے اور وہ اس کا خوب پھل کھارہے ہیں۔ 
یہاں یہ واضح کردینا بھی مناسب ہے کہ اگرچہ تاجر کو اپنی چیزوں کا نرخ (Rate) مقرر کرنے کا حق ہے اور فطری اصول و ضوابط کے تحت قیمتوں میں اضافہ کرنا بھی درست ہے، لیکن اتنا اضافہ جو غیرمعمولی، غیر فطری، غیر مناسب اور غیرمنصفانہ ہو اور جس سے صارفین کے استحصال کی صورت پیدا ہوتی ہو، درست نہیں۔ ایسی صورت میں حکومت ِوقت کو اشیا کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور عوام کو تاجروںکے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں: ’’اگر ان (تاجروں) کی طرف سے (قیمتوں کے تعین میں) کھلا ظلم دکھائی دے،توان (قیمتوں) میں تبدیلی (یعنی کنٹرول) جائز ہے، کیوں کہ یہ (غیر مناسب بھاؤ بڑھا دینا) فساد فی الارض ہے‘‘۔(حجۃ اللہ البالغہ ، بیروت، ۱۹۹۰ء، ج ۲، ص ۳۰۱)
اس عبارت کی تشریح میں مولانا سعید احمد پالن پوری لکھتے ہیں: ’’اگر تاجروں کی طرف سے عام صارفین پر زیادتی ہورہی ہو، اور زیادتی ایسی واضح ہو کہ اس میں کوئی شک نہ ہو، تو قیمتوں پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے، کیونکہ ایسے وقت بھی تاجروں کو ظالمانہ نفع اندوزی کی چھوٹ دینا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو تباہ کرنا ہے‘‘ (رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغہ ، دیوبند، ۲۰۰۳ء ، ج ۴، ص۵۹۸)۔اس لیے تاجروں کو چاہیے کہ وہ قیمتوں کے تعلق سے بازار میں ایسی نامناسب  صورتِ حال پیدا نہ کریں جو عوام کے لیے پریشانی کا باعث اور حکومتی مداخلت کا جواز فراہم کرے۔ 

 دھوکا دہی سے پرہیز

تاجر کو چاہیے کہ خریدار کو کسی قسم کا دھوکا نہ دے، کیونکہ یہ خدمت اور حاجت روائی کے جذبے کے خلاف تو ہے ہی، دیانت داری کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے اگر اس کے سامان میں کسی قسم کا عیب ہو تو اس کو نہ چھپائے بلکہ سچائی کے ساتھ بیان کردے۔ اگر چھپائے گا توخیانت اور ظلم کا مرتکب ہوگا اور ایسی صورت میں خریدار کو شریعت کی رو سے یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ تاجر کو عیب دارمال واپس کردے اور اپنی رقم لے لے۔ 
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمان مسلمان کابھائی ہے اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیںکہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز فروخت کرے جس میں کوئی عیب ہو، الا یہ کہ اس کے سامنے اس (عیب) کو ظاہر کردے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،مَنْ  بَاعَ عَیْبًا فَلْیُبَیِّنْہُ، حدیث: ۲۲۴۶)
  اس حدیث کا یہ مطلب نہیںکہ غیر مسلموں کو دھوکا دینا جائز ہے۔ یہاںمسلمان کا ذکر خصوصاً اس لیے فرمایا کہ مسلمان گاہک کے ایک مسلمان تاجر پردو حق عائد ہوتے ہیں: ایک گاہک ہونے کی حیثیت سے اور دوسرا مسلمان ہونے کی حیثیت سے۔ اس لیے اس کو دھوکا دینا بہ نسبت ایک غیر مسلم گاہک کو دھوکا دینے کے زیادہ برا ہے کیونکہ یہاںدو حقوق کی تلفی ہے ورنہ خیانت اور   ظلم کسی کے ساتھ بھی روا نہیں۔ چنانچہ روایتوں میں بلا کسی تخصیص کے بھی اس عمل پر نکیر موجود ہے۔ 
مثال کے طور پر اس روایت کو ملاحظہ کیجئے: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر داخل کردیا تو آپؐ کی انگلیوں نے گیلاپن محسوس کیا۔ پس آپؐ نے فرمایا: ’’اے غلے کے مالک! یہ کیا ہے (یعنی یہ تری اور نمی کیسی ہے)؟ اس نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! اس پر بارش کی بوندیں پڑگئی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا : تو تم نے اس (بھیگے ہوئے غلے) کو ڈھیری کے اوپر کیوں نہیں کردیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے ؟ (یاد رکھو!) جوشخص دھوکے بازی کرے وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)‘‘۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب قَولِ النَّبِیِّ : مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا)
امام سلیمان بن احمد طبرانیؒ نے اس روایت کے آخری اور کلیدی فقرے کو عبداللہ ابن مسعودؓ سے چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ اس طرح روایت کیا ہے: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِي النَّارِ، یعنی جوشخص دھوکے بازی کرے وہ مجھ سے نہیں اور دغابازی اور فریب کا انجام جہنم ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث: ۱۰۲۳۴) 
لہٰذا، ایک مسلمان تاجر کو چاہیے کہ وہ چند سکّوں کی خاطراپنی آخرت کو داؤ پر نہ لگائے اور یہ یقین رکھے کہ چال بازی سے رزق میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ایسے شخص کی خیانت لوگوں میں مشہور ہوجاتی ہے اور گاہک اس سے گریز کرنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کا کاروبار بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اس لیے بجاے دھوکا دینے کے دیانت داری کے ذریعے گاہکوں کو اپنے اعتماد میں لینے کی سعی کرنی چاہیے، اور سامان میں اگر کوئی عیب ہو تو اسے  واضح کردینا چاہیے، تاکہ ان کو یہ یقین اور اطمینان ہو جائے کہ آپ انھیں کبھی دھوکا نہیں دے سکتے۔ 
بعض تاجر اپنے سامان کا نقص ظاہر نہیں کرتے بلکہ خریدار سے ہی یہ کہتے ہیں کہ: ’’آپ خود اچھی طرح دیکھ لیں، اگر بعد میں کوئی نقص نکلا تو ہم ذمے دار نہیں ہوں گے‘‘، حالانکہ یہ ان کے علم میں ہوتا ہے کہ سامان میں کس قسم کا نقص ہے۔ یہ طریقہ بھی خلافِ شریعت ہے کیونکہ شارع نے عیب کو ظاہر کرنے کی ذمے داری تاجر پر ڈالی ہے، جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامرؓکی روایت سے واضح ہے۔ ساتھ ہی تجارت کا نفع صرف اس شخص کے لیے جائز بتایا گیا ہے جو سامان کے بے عیب اور کارآمد ہونے کی ضمانت دے۔ جو شخص یہ ذمے داری نہیں لے سکتا اس کے لیے اس چیز کا نفع درست نہیں۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: وَلَا رِبْحُ مَالَمْ یُضْمَنُ، یعنی ’’حلال نہیں نفع اس کا جس کا ضامن وہ (تاجر) نہیں‘‘۔(جامع ترمذی، حدیث:۱۲۳۴، بروایت عبداللہ بن عمروؓ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام یا لونڈی کی بیع میں ایک خریدار کو تحریری ضمانت دینا حدیث کی کتابوں میں منقول ہے : ھٰذَا مَا شْتَرَی الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ھَوْذَۃَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ ، اشْتَرَی مِنْہُ عَبْدًا أَوْ أَمَۃً، لَا دَائَ وَلا غَائِلَۃَ وَلَا خَبِثَۃَ، بَیْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ، یعنی ’’یہ بیع نامہ ہے ایک ایسی چیز کا جو عداء بن خالد بن ھوذہ نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدی ہے۔ انھوں نے آپؐ سے ایک ایسا غلام یا لونڈی خریدی ہے جس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ بھگوڑاپن اور نہ کوئی (اور) خباثت (یعنی اخلاقی برائی) ہی۔ یہ ایک مسلمان کی مسلمان کے ساتھ بیع ہے ‘‘۔ (جامع ترمذی، حدیث: ۱۲۱۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قسم کی تحریر لکھ کر دینا امت کی تعلیم کے لیے ہی تھا ورنہ صحابہ کرامؓ میں سے کون ایسا فرد ہوگا، جسے آپؐ کی باتوں پر اعتماد نہ ہو۔ آج کے دور میں رسید اور وارنٹی کے کاغذات (warranty paper) کا دیا جانا تعلیم نبویؐ کی رُو سے ایک مستحسن عمل ہے، جس میں اس بات کی گنجایش موجود رہتی ہے کہ بعد میں سامان میں کوئی نقص سامنے آجائے تو خریدار ثبوت کے ساتھ فروخت کنندہ یا اس کی کمپنی سے رجوع کرسکے ۔ 
یہاں یہ ذکر کردینا بھی مناسب ہے کہ تجارت کی بعض شکلیں ایسی ہیں، جن میں فی نفسہٖ دھوکا موجود ہوتا ہے، جیسے پانی میں موجود مچھلی کی بیع کہ اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں میں سے کسی فریق کو حتمی طور پر یہ پتا نہیں ہوتا کہ اس میں مچھلی کی مقدار کتنی ہے؟ لہٰذا، ہرفریق کے دھوکا دینے یا کھانے کا امکان ہے ۔ اس طرح کی بیع جس میں بیچی جانے والی چیز اپنی جنس، ذات، مقدار اور اوصاف کے لحاظ سے مبہم اور مجہول ہو، متعین اور واضح نہ ہو، یا بیچنے والے کے قبضہ و قدرت سے باہر ہو اور اس کی سپردگی ممکن نہ ہو، اس کو شریعت کی اصطلاح میں ’بیع غرر‘ (Deceptive Transaction) کہا جاتا ہے۔ اس کی دوسری مثالوں میں شامل ہیں؛ غائب جانور یا فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع، دودھ کی بیع جو جانور کے تھن میں ہی ہو وغیرہ۔ 
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ  عَنْ بَیْعِ الْحَصَاۃِ وَ عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ (مسلم، کتاب البیوع)،یعنی ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع حصات اور بیع غرر سے منع فرمایا ہے‘‘۔ یہاں ’بیع حصات‘ سے مراد وہ بیع ہے جو کنکری پھینک کر طے کی جائے۔ یہ بھی دھوکے کی ایک شکل ہے۔ اس لیے ممنوع ہے۔
دودھ دینے والے جانوروں کی بیع میں بھی دھوکے کی ایک صورت اس طرح پیدا کی جاتی ہے کہ گاہک کے سامنے پیش کرنے سے ایک یا دو روز قبل سے ہی اس کا دودھ دوہنا بند کر دیتے ہیں تاکہ اس کے تھن بھرے نظر آئیں اور گاہک یہ تاثرلے کہ جانور بہت زیادہ مقدار میںدودھ دینے والا ہے، جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ گاہک مغالطے میں آکر معاملہ کرلیتا ہے لیکن ایک سے دو دنوں میں ہی حقیقی صورتِ حال اس پر واضح ہوجاتی ہے۔ اس طرح کی بیع کو شرعی اصطلاح میں ’بیع مصراۃ‘ کہا گیا ہے جو کہ ممنوع ہے اور اس کے نتیجے میں دھوکا کھائے ہوئے خریدار کو شریعت نے اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ بیع کو منسوخ کر دے اور جانور واپس کرکے اپنی رقم لے لے۔  اس اختیار کو شرعی اصطلاح میں ’خیا ر تدلیس‘ کہا جاتا ہے ۔ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو، اگر کسی نے (دھوکے میں آکر) کوئی ایسا جانور خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں؛ چاہے تو جانور کو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دے دے‘‘ ۔ (بخاری، حدیث: ۲۱۴۸، بروایت ابوہریرہؓ)
ایک روایت کے مطابق لوٹانے کا یہ اختیار خریدار کو تین دنوں تک ہے: مَنِ ابْتَاعَ شَاۃً مُصَرَّاۃً فَھُوَ فِیْھَا بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، إِنْ شَائَ أَمْسَکَھَا وَ إِنْ شَائَ رَدَّھَا، وَرَدَّ مَعَھَاصَاعًا مِّنْ تَمْرٍ،یعنی ’’جس نے ایسی بھیڑ (یا بکری ) خرید لی، جس کا دودھ روکا گیا ہو، تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور اگر لوٹائے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے‘‘ ۔ (مسلم، کتاب البیوع، حدیث: ۳۸۳۱؍۲۴)
 ایک صاع کھجورکے ساتھ جانور اس کے مالک کو لوٹانے کا حکم غالباً اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ خریدار نے اس کے دودھ سے فائدہ اٹھایا ہے اور بعضوں نے یہ کہا کہ یہ از راہِ احسان یا تالیفِ قلب کے لیے ہے، کیونکہ دودھ کے لیے تو خریدار نے جانور کو چارہ بھی ڈالا ہوگا اور الخراج بالضمان کے اصول کے مطابق حساب تو برابر ہوچکا۔ اور کھجور کی تخصیص اس لیے کی گئی کیونکہ یہ اس وقت وہاں کی عام غذا تھی۔ اس لیے یہ کوئی ضروری نہیں کہ ایک صاع کھجور ہی دی جائے بلکہ ہرزمانے میں اپنے اپنے ملکی دستور کے مطابق خوردنی غلہ اسی وزن سے یا اس کی قیمت کے برابر رقم بھی دی جاسکتی ہے۔    
اسی طرح درختوں اور باغات کو پھلوں کے نمودار ہونے سے پہلے ان کی امید پر ایک سال یا زیادہ مدت کے لیے بیچنا بھی ممنوع ہے کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ درختوں میں پھل نہ آئے یا آنے کے بعد پختگی سے پہلے ہی کسی آفت، مثلاً آندھی، بارش یا ژالہ باری کا شکار ہوجائے۔  اس طرح کی بیع کو حدیث میں ’معاومت‘ کہا گیا ہے اور اس سے روکا گیا ہے، نیز پھل لگنے کے بعد بھی اس وقت تک خرید و فروخت سے منع کیا گیا ہے، جب تک ان کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک پھلوںکی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک کہ ان کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے۔ یہ ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے لیے ہے‘‘۔ (بخاری، حدیث: ۲۱۹۴)
دوسری روایت حضرت انسؓ سے یوں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’زھو‘ سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ ’زھو‘ کسے کہتے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’یہاں تک کہ سرخ ہوجائے (یعنی پکنے پر آجائے)۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ’’ تم ہی بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے (یعنی پکنے سے روک دے یا کسی آفت کے ذریعے ضائع کردے) تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس بناپر لے گا؟‘‘ (بخاری، کتاب البیوع،حدیث: ۲۱۹۸)۔   اس لیے باغات کے مالکوں اور پھلوں کے تاجروں کو چاہیے کہ وہ پھلوں کے پختہ ہونے تک صبر و انتظار کریں اور اس کے بعد ہی خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کریں۔ 

 جھوٹ سے پرہیز 

 تجارت میں جھوٹ سے بھی پرہیز لازمی ہے۔ دور حاضر کی تجارت میں لوگ اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ غیروں کی تو بات ہی کیا بعض سادہ لوح مسلمان بھی ایسا خیال رکھتے ہیں۔یاد رہے  کہ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کا اعلان قرآن کریم میں موجود ہے۔ ارشاد ربانی ہے: لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ O (اٰل عمرٰن۳:۶۱) ’’جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو‘‘۔ 
رسول پاکؐ سے بھی دروغ گوئی کی مذمت میں بہت سے اقوال منقول ہیں، منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ اس کو منافقین کی صفت بتایا ہے۔ اب اس روایت کو دیکھیں: حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ بیع و شرا کرنے والے فریقین (بائع اور مشتری ) کو اختیار ہے (فسخ بیع کا) جب تک جدا نہ ہوں۔پھر اگر وہ دونوںسچ بولیں اور حقیقت واضح کر دیں (یعنی جو کچھ عیب ہے سامان میںیا قیمت میں) توان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر وہ جھوٹ بولیںاور چھپائیں (عیوب کو) تو ان کی بیع سے برکت ختم کردی جاتی ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع)
اس طرح جھوٹ کانتیجہ تجارت میں بے برکتی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا، مراد یہ ہے کہ جو جھوٹ کی لعنت سے اپنی تجارت کو پاک نہیں کرتے، ان کی تجارت کو فروغ نہیں ہوگا۔ یہ تو دنیا کا نقصان ہے، اب ذرا آخرت سے متعلق وعید بھی ملاحظہ کیجیے۔ حضرت رفاعہ بن رافع انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تاجر لوگ قیامت کے دن فاجر اور گنہگار اٹھائے جائیں گے، سواے ان لوگوں کے جنھوں نے (اپنی تجارت میں)تقویٰ اور نیکی اورسچائی کی روش اختیار کی‘‘ (سنن ترمذی،کتاب البیوع، حدیث: ۱۲۱۴)۔ اس سلسلے میں ایک بات اور ذہن نشین رہنا ضروری ہے کہ کسی سامان کی اصل نوعیت سے زیادہ تعریف بھی جھوٹ میںشامل ہے، لہٰذا، اس سے بھی پرہیز لازم ہے۔

قسم کھانے سے اجتناب کرنا

کچھ تاجروں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ گاہکوں کو مطمئن کرنے کے لیے بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایاہے: إِیَّاکُمْ وَ کَثْرَۃَ الْحَلِفِ فِي الْبَیْعِ، فَإِنَّہُ یُنَفِّقُ ثُمَّ یَمْحَقُ،یعنی ’’ تم بیع میںبہت قسمیں کھانے سے اجتناب کرو۔اس لیے کہ وہ (اولاً) مال کو تو نکلوادیتی ہے (فروخت کروادیتی ہے) پھر ( اس کی برکت کو) مٹادیتی ہے۔ (مسلم، کِتَابُ الْمُسَاقَاۃِ وَالْمُزَارَعَۃِ، بابُ النَّھْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَیْعِ، بروایت ابوقتادہؓ)۔ اسی طرح آپؐ فرماتے تھے: الْحَلِفُ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلرِّبْحِ، یعنی ’’قسم مال کو نکالنے والی ہے اور (بعد ازاں) نفع کو مٹانے والی ہے ‘‘۔ (مسلم، کِتَابُ الْمُسَاقَاۃِ وَالْمُزَارَعَۃِ ، بابُ النَّھْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَیْعِ، بروایت ابوہریرہؓ)۔ بخاری میں الفاظ ہیں:الْحَلِفُ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلْبَرَکَۃِ ،یعنی ’’قسم مال کو نکالنے والی ہے اور (بعد ازاں) برکت کو مٹانے والی ہے ‘‘۔ (بخاری، کتاب البیوع،باب یَمْحَقُ اللہُ الرِّبَوٰاْ وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ، حدیث: ۲۰۸۷ )
 ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ قسم کھانے سے گرچہ ابتدا میں خریدار بھروسا کرلیتاہے اور مال نکل جاتا ہے، لیکن آیندہ نقصان لاحق ہوتا ہے کیوں کہ لوگ اس کی اس عادت سے واقف ہوجاتے ہیں اور اس کی قسموں پر یقین کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری برائی اس میں یہ ہے کہ دُنیوی مفاد اور معمولی نفع کی خاطر اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے بابرکت نام کو بیچا جاتا ہے، جو کہ ایک طرح سے اس کے پاکیزہ نام کی بے حرمتی ہے اور بقول رسولِؐ رحمت اسی وجہ سے برکت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
یہ سب نقصانات تو تب ہیں جب کہ قسم سچی ہو، اگر جھوٹی قسم کھائی تو اور بھی برا ہے۔   علما نے اسے گناہ کبیرہ بتایا ہے۔ رسولِ پاکؐ سے بھی اس سلسلے میں سخت وعید مروی ہے۔ حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا : ’’تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ تو کلام فرمائے گا، نہ ان کی طرف (نظر کرم سے) دیکھے گا، اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا، اور ان (تینوں) کے لیے دردناک عذاب ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے پوچھا:یا رسولؐ اللہ! وہ کون شخص ہیں؟ وہ تو نامراد ہوگئے اور خسارے میں پڑگئے ۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے آزار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنی عطا کردہ چیزوں پر احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا مالِ تجارت فروخت کرنے والا‘‘۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب التجارات، حدیث: ۲۲۰۸)

جعلی کرنسی چلانے سے پرہیز 

بعض لوگ منظم ڈھنگ سے جعلی کرنسی کا دھندا چلارہے ہیں اور بعض نادانی میں اس کا شکار ہورہے ہیں۔ جو لوگ اس سازش کا شکار ہوجاتے ہیںوہ بھی اپنے نقصان کی تلافی کے لیے کسی دوسرے کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح فریب دہی کا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے دوسرے کا مال بالکل ناحق اور باطل طریقے سے کھایا جاتا ہے جس سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ باِلْبَاطِلِ (البقرۃ۲:۱۸۸) یعنی ’’آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ‘‘۔ اس لیے ایسے پیسوں سے حاصل کیا گیا مال بالکل حرام ہے۔ 
دوسرے یہ کہ اس اصول کے تحت جس نے کسی گناہ کا کام جاری کیا،اس کو ان تمام لوگوں کے گناہ کے برابرگناہ حصے میں آئے گا، جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے۔ بازار میں جعلی کرنسی چلانے والے کو بھی ان تمام لوگوں کے گناہ کے برابرگناہ ملے گا، جو سلسلے کے اخیر تک اس میں شریک ہوں گے۔ اسی لیے امام غزالیؒ نے کسی بزرگ کا مقولہ نقل کیا ہے کہ ایک کھوٹا درہم بازار میں چلانا سو درہم چُرانے سے بدتر ہے، کیوں کہ چوری کا گناہ تو اسی وقت تک ہے، جب کہ کھوٹے پیسے یا جعلی کرنسی چلانے کا گناہ ممکن ہے موت کے بعد تک جاری رہے۔ اور وہ شخص بڑا ہی بدنصیب ہے جو خود تو مرجائے، مگر اس کا گناہ نہ مرے اور اس گناہ کا مدتوں تک دنیا میں موجود رہنا ممکن ہے، اور ایسے شخص کو جس نے اس کی ابتدا کی قبر میں عذاب ہوتا رہے گا۔ اس لیے ان کی راے میں تاجر کے لیے کھوٹے سکّے اور جعلی نوٹ کو پہچاننے کاہنر جانناواجب ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ وہ خود دھوکا  نہ کھائے بلکہ اس لیے کہ لاعلمی میں وہ کسی اور کو دھوکا نہ دے دے۔ اگر کوئی خود دھوکا کھاجائے تو اسے چاہیے کہ خود اپنے نقصان پر صبر کرلے اور اس نوٹ کو ضائع کردے تاکہ اس کے بعد فریب دہی کا یہ سلسلہ جاری نہ رہے ۔ (کیمیاے سعادت، ص ۲۷۴)

ماپ تول کر لین دین کرنا 

تاجروں کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ بھی ہے کہ وہ خرید و فروخت میںچیزوں کا تبادلہ ماپ تول کر ہی کریں۔ حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: جب تو کوئی چیز بیچا کرے تو تول کے دیا کر اور جب تو کوئی چیز خریدے تو اسے بھی تول لیا کر (بخاری،کتاب البیوع، بَابُ الْکَیْلِ عَلَی الْبَائِعِ وَالْمُعْطِي)۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں دوحکمتیں پوشیدہ ہیں: ایک تواس سے دھوکا دہی کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور دوسرے اس میں مستقبل میں رونما ہونے والے آپس کے اختلافات اور فتنوں سے حفاظت ہے۔ ساتھ ہی ایسے لین دین میں برکت کی بشارت بھی ہے۔ 
حضرت مقدام بن معدیکربؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے اناج کو ماپ لیا کرو، اس میں تم کو برکت ہوگی‘‘۔ (بخاری،کتاب البیوع، بابُ مَا یُسْتَحَبُّ مِنَ الْکَیْلِ، حدیث: ۲۱۲۸)۔ اس لیے تاجروں کو چاہیے کہ اپنی تجارت میں اس اصول کا پورا لحاظ رکھیں۔ تاہم، جو چیزیں تول کر نہیں بلکہ گنتی سے فروخت ہوتی ہیں، ان میں اس حکم کا اطلاق گنتی پر ہی ہوگا۔ اسی سے یہ اصول بھی اخذ ہوتاہے کہ آپس میں پیسے کا لین دین بھی گن کر ہی کرنا چاہیے۔
قرآن پاک کے علاوہ رسول پاکؐ سے بھی دروغ گوئی کی مذمت میں بہت سے اقوال منقول ہیں، منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ اس کو منافقین کی صفت بتایا ہے۔ حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ بیع و شرا کرنے والے فریقین (بائع اور مشتری) کو (فسخ بیع کا) اختیار ہے ،جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں۔پھر اگر وہ دونوںسچ بولیں اور واضح کر دیں حقیقت کو (یعنی جو کچھ عیب ہے سامان میںیا قیمت میں) توان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر وہ جھوٹ بولیںاور چھپائیں (عیوب کو) تو ان کی بیع سے برکت ختم کردی جاتی ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع)
حضرت رفاعہ بن رافع انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تاجر لوگ قیامت کے دن فاجر اور گنہگار اٹھائے جائیں گے سواے ان لوگوں کے جنھوں نے (اپنی تجارت میں)تقویٰ اور نیکی اورسچائی کی روش اختیار کی‘‘۔ (سنن ترمذی،کتاب البیوع) 
اب اگر کوئی قیامت میں فاسق و فاجراٹھایا جائے تو اس کا جو حشر ہوگا اسے بہ آسانی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بات اور ذہن نشین رہنا ضروری ہے کہ کسی سامان کی اصل نوعیت سے زیادہ تعریف بھی جھوٹ میںشامل ہے، لہٰذا اس سے بھی پرہیز لازم ہے۔

ماپ تول میں کمی نہ کرنا 

ماپ تول میں کمی کرنا بھی ایک بدترین اخلاقی بیماری ہے، جو آج کے بازار کے نظام میں ایک وبا کی شکل اختیا ر کرچکی ہے۔ یہ بدترین قسم کی خیانت ہے کہ پیسے تو پورے لیے جائیںاور چیز کم دی جائے۔ قرآن کریم میں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی، کہ جب لوگوں سے ماپ کرلیتے ہیں تو پورا پورالیتے ہیںاور جب انھیں ماپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔کیا ایسے لوگ یہ خیال (بھی) نہیں کرتے کہ وہ (مرنے کے بعد زندہ )اٹھائے جانے والے ہیں؟ ایک عظیم دن (کی پیشی) کے لیے جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے‘‘۔ (المطفّفین۸۳: ۱-۶) 
مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی حرکت وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میںاللہ تعالیٰ کا خوف اور یومِ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی کا یقین نہیں۔ دوسری جگہ صحیح وزن کرنے کی تاکید ان الفاظ میں کی گئی ہے: ’’اور جب (کوئی چیز کسی کو)ماپ کر دینے لگو توبھرپور پیمانے سے ماپو اور (جب تول کر دو تو) سیدھی ترازو سے تولا کرو، یہ (فی نفسہٖ بھی) بہترہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے‘‘۔ (بنی اسرائیل۱۷: ۳۵)۔ اس میں ایک بہتری تو اجر و ثواب کے لحاظ سے ہے جس کا انجام جنت ہے، اور دوسری بہتری تجارت کے فروغ کے اعتبار سے ہے کہ ناپ تول میں دیانت داری سے گاہکوں میں دیر تک اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
ان دو کے علاوہ قرآن کریم میں چند دیگر مقامات پر بھی ماپ تول میںدیانت داری اختیار کرنے کی تاکید ملتی ہے، مثلاً الانعام۶: ۱۵۲، الرحمٰن ۵۵: ۷ - ۹، الاعراف۷: ۸۵، ھود۱۱: ۸۴ - ۸۶ وغیرہ جس سے اس مسئلے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سورئہ اعراف اور سورئہ ہود کی مذکورہ آیات میں یہ ہدایت حضرت شعیبؑ کے تذکرے میں ملتی ہے، کیونکہ ان کی قوم میں بھی یہ برائی عام تھی جس کی اصلاح کی فکر حضرت شعیبؑ نے کی، لیکن جب وہ نہیں مانے تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی نازل ہوا۔ اسی لیے رسول اکرمؐ نے اپنی امت کو اس سے متنبہ فرمایاکہ اس لعنت میں گرفتار ہوکر کہیں وہ بھی غضب الٰہی کا شکار نہ ہوجائیں۔ آپؐ نے ناپ تول کرنے والوں سے فرمایا: ’’تم لوگ دو ایسے کام کے ذمے دار بنائے گئے ہو (یعنی ماپنا اور تولنا) جن میں (کوتاہی کے سبب) تم سے پہلے کی(بعض)اُمتیںہلاک ہوگئی ہیں‘‘(سنن ترمذی، ابواب البیوع، حدیث: ۱۲۱۷؍ ۱۲۲۱)۔ آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: جب کوئی قوم ماپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط سالی، روزگار کی تنگی اور بادشاہ (حکمرانِ وقت) کے ظلم و ستم میں مبتلا کر دی جاتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الفتن، حدیث: ۴۰۱۹)
 اس لیے ایک مومن تاجر کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں احتیاط برتے، دیانت داری کا رویہ اپنائے اور چند سکّوں کی خاطر اللہ واحد القہار کے عذاب کا خود کو مستحق نہ بنائے۔

جھکتی ڈنڈی تولنا

 کم تولنے کو اسلام میں جہاں ناپسند کیا گیا ہے، وہیں جھکتا تولنے کو پسند کیا گیا ہے کیوں کہ اس میں ایثار اور احتیاط دونوں ہی پہلو شامل ہیں۔نبی کریمؐ سے اس سلسلے میں ہدایات بھی منقول ہیں۔ حضرت سوید بن قیسؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اور مخرفہ عبدی نے ہَجَر(بحرین کے ایک شہر) سے کچھ کپڑے خرید ے اور اسے مکہ لے کر آئے، تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پیدل تشریف لائے اور ہم سے ایک پائجامہ کا سودا کیا، جو ہم نے آپؐ کے ہاتھ فروخت کردیا۔ وہاں ایک شخص تھا جو اُجرت لے کر مال وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:  زِنْ، وَ أَرْجِحْ،یعنی ’’وزن کرو اور جھکتی ڈنڈی تولو‘‘۔(سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، حدیث: ۳۳۳۶)
 دوسری روایت حضرت جابرؓ سے ملتی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا یعنی ’’ جب تم تولو، تو جھکتا ہوا تولو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، حدیث: ۲۲۲۲)۔ ان احادیث کی بنیاد پرعلما نے جھکتی ڈنڈی تولنے کو مستحب کہا ہے۔ اس لیے تاجروں کو چاہیے کہ کسی کو سامان دیتے وقت اس اصول کو بھی مد نظر رکھیں۔

 ذخیرہ اندوزی سے پرہیز

  تجارت میں زیادہ نفع خوری کے لیے ایک حربہ یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ ضروری اشیا کی ذخیرہ اندوزی کر کے بازار میں مصنوعی قلت پیدا کردی جاتی ہے، جس سے مہنگائی بڑھ جاتی ہے اور چیزوں کے نرخ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پھر گراں بازاری کے اس موقعے سے ذخیرہ اندوز تاجر خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فقہی اصطلاح میں اس عمل کو ’احتکار‘ کہا جاتا ہے، جو شرعی نقطۂ نظر سے حرام اور انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے کیوں کہ اس میںانسانوں کی خدمت اور حاجت روائی کے جذبے کے بجاے ضرر رسانی اور استحصال کا جذبہ داخل ہوجاتا ہے۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنِ احْتَکَرَ فَھُوَ خَاطِیئٌ،یعنی ’’جس نے ذخیرہ اندوزی کی وہ گناہ گار ہے‘‘ (مسلم، بروایت معمر ؓ بن عبداللہ)۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: لَا یَحْتَکِرُ إِلَّا خَاطِیئٌ،یعنی ’’گناہ گار کے سوا کوئی اور شخص ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا‘‘ (مسلم، بروایت معمرؓ بن عبداللہ)۔ آپؐ کایہ بھی ارشاد ہے: الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ وَالْمُحْتَکِرُ  مَلْعُونٌ ،’’جالب (دوسرے شہروںسے غلہ وغیرہ لاکر بازار میں بیچنے والا تاجر) مرزوق ہے  (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے رزق دیا جاتا ہے)، اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق اور اس کی رحمت سے دُور ہے)‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث: ۲۱۵۳، بروایت عمرؓ بن الخطاب)
 آپؐ سے یہ بھی منقول ہے کہ جو شخص مسلمانوں سے غلے کا احتکار کرتا ہے( یعنی ان سے غذائی اشیا روک کر بعدہٗ گراں نرخ پران کے ہاتھ فروخت کرتا ہے) اللہ تعالیٰ اسے جذام اور افلاس میں مبتلا کردیتا ہے  (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، حدیث: ۲۱۵۵، بروایت عمرؓ بن الخطاب)۔ آپؐ سے یہ بھی روایت ہے کہ جس شخص نے ۴۰دن تک گرانی کے خیال سے غلے کو روک رکھا، وہ اللہ تعالیٰ سے بے زار ہوا اور اللہ اس سے بے زار ہوا ۔ ( مسند احمد، حدیث: ۴۹۹۰، بروایت عبداللہ     بن عمرؓ)۔ایک روایت میں یہ ہے کہ: جس شخص نے گراں فروشی کی نیت سے غلے کو ۴۰ دن تک روکے رکھا اور پھر اسے (اللہ کی راہ میں) صدقہ کردیا تو (بھی) وہ اس کے (اس گناہ) کے لیے کفّارہ نہیں ہوگا۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الاحتکار، حدیث: ۲۸۹۸، بروایت ابوامامہؓ)
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے ذخیرہ اندوزی کی مذمت واضح ہے۔ اس کے برعکس حاجت روائی کی نیت سے تجارت کرنے والے تاجر کے بارے میں آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: جس نے اناج خریدا اور کسی شہر میں لے گیااور مروجہ نرخ پرفروخت کردیا، وہ ایسا ہے جیساکہ اس نے وہ سارا اناج خیرات کردیا۔(احیاء علوم الدین ،ص۵۱۶)
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زمانہ قدیم میں ذخیرہ اندوزی عام طور سے غلے کی ہی ہوا کرتی تھی۔ اس لیے مذکورہ بالا احادیث میں غلے کا ہی ذکر ہے۔ اسی لیے ’احتکار‘ کا اطلاق علما عام طور سے غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی پر ہی کرتے آئے ہیں۔ اس لیے ایسی اشیا کی ذخیرہ اندوزی کو جو غذا ئی ضرورت میں استعمال نہیں ہوتی، بعض علما نے حرام نہیں کہا ہے۔ (مظاہر حق، جلد۳، ص۵۲۲)
تاہم، اس سلسلے میں چند اہم نکات پر غور کرنا ضروری ہے۔ اول یہ کہ ذخیرہ اندوزی خواہ کسی بھی چیز کی ہو، اس میں استحصال اور موقع پرستی کا جذبہ شامل ہوتا ہے اور یہ انسانی حاجت روائی اور نفع رسانی کے جذبے کے خلاف ہے۔ دوم یہ کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے مزاج کے بھی خلاف ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ معاشی نظام ایسا ہو جس میں عوام خصوصاً غریبوں اور کم آمدنی والوں کا زندگی گزارنادشوار نہ ہو۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی سے بچنا چاہیے۔ رہا علما کا مذکورہ بالا فتویٰ، تو یہ جاننا چاہیے کہ فتویٰ تو ظاہر پر ہوا کرتا ہے۔ اسی لیے امام غزالیؒ نے فرمایا: ــــــــ ’’بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں فتویٰ تو ہم یہی دیں گے کہ یہ درست ہے، لیکن اس معاملے کا مرتکب (اللہ تعالیٰ کی) لعنت میں گرفتار ہوگا، اور یہ وہ معاملہ ہے جس میں مسلمانوں کو تکلیف ونقصان پہنچتا ہو‘‘ (کیمیاے سعادت، ص ۲۷۲)۔اس لیے موجودہ دور میں رائج گھریلو استعمال کے لیے سلنڈروں میں گیس، چولھا جلانے کے لیے مٹی کا تیل اور ڈیزل، پھر دوا وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی بھی قابل ملامت فعل ہے۔

خرید و فروخت میں نرمی کا رویّہ 

 یوںتو اسلام میں نرمی اور خوش خلقی کا رویہ اختیار کرنے کی عمومی تعلیم دی گئی ہے لیکن تجارت کے شعبے میں اسے خصوصاً پسند کیا گیا ہے۔ رسول اکرمؐ نے ایسے تاجر کے لیے جو خرید و فروخت میںنرمی کا رویہ اختیار کرتاہے، دعا فرمائی ہے: ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے‘‘۔ (بخاری ، کتاب البیوع، بروایت جابر بن عبداللہؓ، حدیث: ۲۰۷۶ )
 ایک روایت کے مطابق: آپؐ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے نرمی اور خوبی سے بیچنے کو، نرمی سے خریدنے کو،اور نرمی و آسانی سے قرض ادا کرنے کو‘‘۔ (سنن ترمذی ، کتاب البیوع، حدیث: ۱۳۱۹، بروایت ابوہریرہؓ)۔  آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جو تم سے قبل (امت سے) تھا بخش دیا (اس لیے کہ) وہ آسانی اور نرمی کرتا تھا۔ جب (کچھ) بیچتا تھا تو آسانی اور نرمی کرتا تھا۔ جب (کچھ) خریدتا تھا، اور آسانی اور نرمی کرتا تھا، جب (قرض کی ادائی کا) تقاضا کرتا تھا‘‘۔ (حوالہ سابق، حدیث: ۱۳۲۰، بروایت جابرؓ)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کردیا اس شخص کوجو بیچنے اور خریدنے میں نرمی کا معاملہ کیا کرتا تھا‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات،حدیث: ۲۲۰۲)
ان روایتوںکا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان تاجر کو خرید و فروخت میںنرمی ہی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ حقیقت میں یہ ایک ایسی پالیسی ہے جس کے ذریعے ایک تاجر بہت کم وقفے میں گاہکوں میں اپنی ساکھ قائم کرسکتا ہے اور اس کی تجارت چمک سکتی ہے۔ اس طرح تجارت میں اس سنت کو اپنانے سے دُنیوی اور اخروی دونوں فوائدہیں۔ لیکن افسوس کا پہلویہ ہے کہ مسلمان تاجر عام طور سے اس صفت سے خالی نظر آتے ہیں، جب کہ دوسری قوموںکے اکثر تاجروں نے اس پالیسی کو سختی سے اپنا رکھا ہے جس کے دنیوی ثمرات سے وہ استفادہ کر رہے ہیں۔

 فروخت کی ہوئی چیز واپس لینا 

تجارت میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بیع کا معاملہ ہونے کے بعد خریدار سامان یاقیمت سے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور مصلحت کی وجہ سے پشیمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور خریدی ہوئی چیز کو واپس کرنا چاہتا ہے، یا کبھی فروخت کرنے والا افسوس کرنے لگتا ہے کہ میں نے اتنی کم قیمت پریہ سامان کیوں فروخت کردیا اور اسے واپس لینا چاہتا ہے، تو ایسی صورت میں فریقین کو چاہیے کہ باہمی رضامندی سے اس معاملے کو ختم کر دیں، یعنی تاجر بکاہوا سامان واپس لے لے، یا خریدار خریدا ہوا سامان واپس کردے۔ اسے شریعت کی اصطلاح میں ’اقالہ‘ کہتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کرنا فریقین پر واجب نہیں ہے، لیکن اس کا ثواب بہت زیادہ ہے کیونکہ ایساکرنا احسان میں داخل ہے۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَہُ اللّٰہُ عَثْرَتَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، یعنی جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ اقالے کا معاملہ کرے (یعنی اس کی بیچی ہوئی یا خریدی ہوئی چیز کی واپسی پر راضی ہوجائے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ بخش دے گا (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، حدیث:۲۱۹۹، بروایت ابوہریرہؓ)‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم  ؐ نے فرمایاکہ: ’’جو شخص کسی بیع کو فسخ کردے اور یہ تصور کرلے کہ میں نے بیع کی ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ایسا جانتا ہے گویا اس نے گناہ کیے ہی نہیں‘‘۔ (کیمیاے سعادت،ص ۲۸۲)
اس لیے مسلمان تاجروں کو چاہیے کہ ان فضیلتوں کے پیش نظر اس طرح کے معاملات میں احسان کی روش ہی اختیار کریں۔ بعض مسلم تاجر غیروں کی نقل میں اپنی دکان میں ’بکا ہوا سامان واپس نہیں ہوگا ‘ کا بورڈ لگادیتے ہیں۔ گویا وہ علی الاعلان یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سنت کی ان کے یہاں کوئی جگہ نہیں! یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ انھیں مذکورہ روایات پر غور کرنا چاہیے اورایسے کسی موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے، کیونکہ ہر شخص گناہوں کی بخشش کا محتاج ہے۔

دخل اندازی سے احتراز

کسی دو شخص کے جائز تجارتی معاملے میں تیسرے کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ مداخلت کی ایک صورت یہ ہے کہ قیمت بڑھا کر اس چیز کو خریدنے کا اظہار کرے جس کا معاملہ زیر غور ہے، اس میںخریدار کے نقصان کا امکان ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خریدار سے یہ کہے کہ: ’’بالکل یہی چیز یا اس سے بہتر میں آپ کو اس سے کم قیمت پر فراہم کرسکتا ہوں‘‘۔ اگر آپ اس معاملے کو  فسخ کردیں، اس صورت میں بیچنے والے کے نقصان کا امکان ہے۔ یہ دونوں ہی صورتیں درست نہیں اور اگر مقصد خود خریدنا یا بیچنا نہ ہو صرف معاملے کو بگاڑنا ہوتو یہ اور بھی برا فعل ہے۔
 حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا یَبِیْعُ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ،’’تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے‘‘ (بخاری، کتاب البیوع، حدیث: ۲۱۶۵)۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: لَا یَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلٰی سَوْمِ أَخِیْہِ، ’’ کوئی مسلمان اپنے بھائی کے سودے پر سودابازی نہ کرے‘‘ (مسلم، کتاب البیوع)۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ کے بقول آپؐ نے فرمایا: ’’کوئی شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کے مول پرمول نہ کرے اور نہ نجش کرے‘‘۔ (بخاری، کتاب البیوع، حدیث: ۲۱۶۰)
’نجش‘ اس عمل کو کہتے ہیں کہ دو افراد کے بیچ کوئی تجارتی معاملہ طے پارہا ہو اور تیسرا شخص آکر اس چیز کی بے جا تعریف کرنے لگے کہ جس کا معاملہ زیر بحث ہو،یا اس کی زیادہ قیمت لگادے اور اس کا مقصد خریدنا نہ ہو بلکہ اس خریدار کو گمراہ کرنا اور دھوکے میں ڈالنا ہو، تاکہ وہ اس چیز کی خریداری کی طرف راغب ہوجائے یا زیادہ قیمت دینے کو تیار ہوجائے۔ اس طرح کی دلالی کیسے درست ہوسکتی ہے، جب کہ اس میں اصل خریدار کو فریب دینے کی سازش کی جاتی ہے۔ اس لیے مذکورہ بالا احادیث کی بنیاد پر علما نے کسی دو شخص کے مابین جائز تجارتی معاملے میں مداخلت کی   ذکر کردہ ہر صورت کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے، البتہ اگرکسی معاملے میں کوئی شرعی قباحت ہو، مثلاً کوئی شخص کسی کو غبن یا چوری کا مال بیچ رہا ہو، یا کسی اور قسم کا دھوکا دے رہا ہو، تو اس صورت میں مداخلت کرکے معاملے کو فسخ کرادینا اور ایک مسلمان کو نقصان سے بچانا جائز ہے۔

  اللہ کو یاد رکھنا 

 ایک مسلمان تاجر کو چاہیے کہ تجارت کی مشغولیت میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی یاد اور اس کے حقوق کی ادائی سے غافل نہ ہو۔ صحابہ کرامؓ تجارت کیا کرتے تھے، مگر جب اللہ تعالیٰ کا کو ئی فرض آن پڑتا تو کوئی تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے ان کو غافل نہ کرتی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے۔ اس بات کی تعریف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمائی۔ فرمایا: ’’ایسے لوگ جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اورزکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی‘‘( النور۲۴: ۳۷)۔ آج ہم لوگ نماز جیسے اہم فریضے کی ادائی میں بھی اپنی تجارت کا حرج سمجھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے شامل حال ہوسکتی ہے، جب کہ اس نے اپنی یاد کے لیے خصوصی طور پر اسے قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے ( حالانکہ ساری ہی عبادات اس کی یاد کے لیے ہیں)۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو‘‘۔ (طٰہٰ ۲۰:۲۰) 
اس حکم سے تقربِ الٰہی کے حصول میں نماز کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ اس لیے اس سے غفلت برتنا انتہائی خسارے کا سودا ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت نے نماز کی وجہ سے رزق میں کسی قسم کے نقصان نہ ہونے کی ضمانت لی ہے بلکہ اس کے اہتمام پر رزق کا وعدہ بھی کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو، ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم تمھیں دیں گے اور بہترین انجام تو پرہیزگاری ہی کا ہے‘‘ (طٰہٰ۲۰: ۱۳۲)۔ اس لیے بھی نماز کا اہتمام ضروری ہے اور جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت کو چھوڑ کر نماز کے لیے دوڑ جانے (یعنی بلاتاخیر جانے) کا خصوصی حکم سورۃ الجمعہ (۶۲:۹)میں موجود ہے۔ 
  ان اُمور کے اہتمام کے ساتھ اگر فارغ اوقات میں قرآن کی تلاوت کی جائے یا کوئی ذکر مسنونہ زبان پر ہمہ وقت جاری رہے، تواور بھی برکت اور تقرب الٰہی کا ذریعہ ہوگا۔ سورۃ الجمعہ میں ہے:’’جب نماز [جمعہ] پوری ہوچکے تو تم زمین میںمنتشر جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تمھیں فلاح نصیب ہو ‘‘ (الجمعۃ۶۲: ۱۰)۔ اس آیت میں بھی گویا یہ تلقین کی گئی ہے کہ حصول رزق کی سعی تمھیں اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کرے بلکہ ساری تگ و دو کے ساتھ کثرت سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کا ذکر ہی تمھیں فلاح و کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔
چند کلمات ایسے ہیں جن کا پڑھنا کافی فضیلت رکھتا ہے۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بازار میں داخل ہوکر یہ کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیْتُ وَ ھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ  قَدِیْرٌ،تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ۱۰لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ۱۰ لاکھ برائیاں اس کی مٹادیتا ہے اور ۱۰ لاکھ درجے اس کے بلند کردیتا ہے۔(سنن ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: ۳۴۲۸)
 امام ترمذیؒ کی اسی مضمون کی دوسری روایت کے آخر میں یہ ہے کہ: ’’اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنادیا جاتا ہے‘‘ (حوالہ سابق، حدیث: ۳۴۲۹)۔ اس لیے تاجروں کو چاہیے کہ ان کلمات کا ضرور اہتمام کریں کہ اس میں نہ کوئی مشقت ہے اور نہ وقت فارغ کرنے کی ہی ضرورت۔ اور ان سب کا حاصل یہ ہے کہ ہر وقت اللہ رب العزت کا استحضار رہے۔
یہ ہیں کاروبار اور تجارت کے چند اہم اسلامی اصول! اگر ان کی رعایت کرتے ہوئے تجارت کی جائے گی تو بلاشبہہ وہ تجارت دنیوی و اُخروی اعتبار سے بڑی نفع بخش ثابت ہوگی لیکن ان کا اہتمام وہی لوگ کرسکتے ہیں، جنھیں اللہ عز و جل کے وعدوں اور اس کے رسول ؐکی خبروں پر کامل یقین ہو۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کے رسول ؐکی خبروں کے حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں یا جنھیں شرعی احکام کی تعمیل میں تجارت کا نقصان نظر آتا ہو ، ظاہر ہے ان سے ان اصولوں کی پاسداری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ تمام مسلمانوں کو ان کے تمام معاملات میں اپنے احکام اور اپنے حبیبؐ کی سنتوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


قم: ۲۱۳۶)
حکیم بن حزامؓ سے ہی اس طرح روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ میں ایک غیرمعمولی کاروباری آدمی ہوں تو میرے لیے کون سی چیز حلال ہے اور کون سی چیز حرام ؟ اس پر آپ ؐ نے فرمایا: ’’کسی بھی چیز کو اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک اسے قبضے میں نہ لے لو ‘‘۔ (معجم الکبیر للطبرانیؒ، جلد۳، حدیث:۳۱۰۸)
امام ابوداؤدؒ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے ایک ایسی روایت نقل کی ہے، جس سے یہ پتاچلتا ہے کہ خریدی ہوئی منقولہ شے پر (یعنی وہ چیزجو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاسکے) صرف قبضہ کافی نہیں بلکہ جب تک اسے خریدنے کی جگہ سے منتقل کرکے اپنے ٹھکانے پر نہ لے آئے، اس وقت تک اسے فروخت کرنا درست نہیں۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو ان کا خریدا ہوا تیل بازار میں اسی جگہ فروخت کرنے سے یہ کہہ کر روکا:یعنی ’’اسے فروخت نہ کرو جہاں پر تم نے خریدا ہے، حتیٰ کہ تم اسے اپنے ٹھکانے پر لے جاؤ، کیو نکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودے کو اسی جگہ بیچنے سے منع فرمایا ہے، جہاں اسے خریدا جاتا ہو، حتیٰ کہ تجار اسے اپنے گھروں کی طرف لے جائیں‘‘۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاجارۃ، حدیث: ۳۴۹۹)
 یہاں یہ سوال کسی کے بھی ذہن میںآسکتا ہے کہ آخر اس حکم کی حکمت کیا ہے؟ اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ کہی جاسکتی ہے کہ یہ ایک طرح سے کرنسی کے بدلے زائد کرنسی کی بیع ہے (جو کہ شریعت میں درست نہیں)۔ کیونکہ اس میںدوسرے تاجر کی عملی طور پر کوئی خدمت شامل نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے کہ سامان وہیں کا وہیں پڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت طاؤس کے سوال پر بتائی، جسے امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’یہ تو روپے کا روپے کے بدلے بیچنا ہوا اور غلہ توبعد میں دیا جائے گا‘‘۔ (بخاری، کتاب البیوع، حدیث: ۲۱۳۲)
 دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پہلا تاجر جب یہ دیکھے گا کہ دوسرا بغیر کسی محنت کے بہت زیادہ نفع حاصل کر رہا ہے، تو اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیوں نہیں وہ پہلی بیع کو فسخ کرکے تیسرے شخص سے براہ راست زیادہ قیمت پر معاملہ کرلے ؟ اس طرح وہ قبضہ نہ دینے اور پہلی بیع کو فسخ کرنے کے حیلے بہانے بناسکتا ہے، جس سے آپس میں جھگڑے کی نوبت آسکتی ہے۔ اگر وہ قبضہ دے بھی دے تو اس زائد نفع سے محرومی کا احساس اسے ستائے گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ایسا کرنے میں باربرداری کے شعبے سے وابستہ مزدوروں کے روزگار کے متاثر ہونے کا بھی قوی امکان ہے جس سے حفاظت مقصود ہے۔ چوتھی بات یہ کہ قبضے میںلیے بغیر آگے فروخت کرنے کا یہ سلسلہ اگر یوں ہی چلتا رہا، جیساکہ کسی صنعت و حرفت کی کمپنی سے نکلنے والی مصنوعات یا درآمدات کے ذریعے بازار میں آنے والی اشیا کے ساتھ اکثر دیکھنے کوملتا ہے، تو اصل صارف (Consumer)  تک پہنچتے پہنچتے متعلقہ شے کی قیمت بڑھ کرکہیں سے کہیں پہنچ جائے گی۔ کیوںکہ بیچ کا ہر تاجر کچھ نہ کچھ نفع پر ہی اگلے تاجر کو سامان فروخت کرے گا۔ اس عمل کے نتیجے میں سب سے زیادہ مالی نقصان تو اصل صارف کو ہی برداشت کرنا پڑے گا جو کہ ایک عام آدمی ہے۔ 
تاہم، اس مسئلے پر فقہا کے درمیان اختلاف راے ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک قبضے سے پہلے صرف غلے کا فروخت کرنا جائز نہیں، باقی تمام اشیا کا بیچنا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام یوسفؒ کے نزدیک اشیاے منقولہ میں سے کسی بھی چیز کا قبضے سے قبل بیچنا جائز نہیں، لیکن عقار، یعنی زمین کا بیچنا جائز ہے۔ امام احمدؒ کا بھی بظاہر یہی مسلک ہے۔ امام شافعیؒ اور حنفیہ میں سے امام محمدؒ کے نزدیک کسی بھی چیز کو خواہ وہ غلہ ہو یا اشیاے منقولہ میں سے کوئی اور چیز ہو یا پھر زمین، خریدنے کے بعد قبضے سے قبل فروخت کرنا درست نہیں۔ (مظاہر حق جدید، جلد۳، صفحہ ۴۹۶)
امام بخاریؒ نے اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے: أَمَّا الَّذِي نَھَی عَنْہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ فَھُوَ الطَّعَامُ أَنْ یُبَاعَ حَتّٰی یُقْبَضَ یعنی ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع فرمایا تھا، وہ اس غلے کی بیع تھی جس پر ابھی قبضہ نہ کیا گیا ہو ‘‘۔ پھر ابن عباسؓ نے فرمایا: وَلَا أَحْسِبُ کُلَّ شَیْئٍ إِلَّا مِثْلَہُ ‘‘ یعنی میرا گمان یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہر چیز اسی ( غلہ) کی مانند ہے۔ (بخاری، کتاب البیوع،  حدیث: ۲۱۳۵)
گویا انھوں نے بھی اس مسئلے میں غلے پر ہی غیر غلے کو قیاس کیا اور کسی بھی چیز کو خریدنے کے بعد قبضے سے پہلے بیچنے کو صحیح نہیں ٹھیرایا اور اسی راے کو امام شافعیؒ اور امام محمدؒ نے اختیار کیا ہے جس کی مطابقت حضرت حکیم بن حزامؓ اور حضرت زید بن ثابتؓکی روایات سے بھی ہوگئی۔رہی   یہ بات کہ واضح نصوص، یعنی حضرت حکیم بن حزامؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کی روایات کی موجودگی میں عبداللہ بن عباسؓ کو قیاس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ان تک اس وقت تک یہ نصوص نہ پہنچے ہوں جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ حکم اس وقت تک نہ پہنچا تھا جب زید بن ثابتؓ نے ان کے تیل کی تجارت میں مداخلت کی۔ 
اسی خدشے کا اظہار علامہ شوکانیؒ نے اس مسئلے کی بحث میں نیل الاوطار میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: استعمل ابن عباس قیاس، و لعلّہ لم یبلغہ النّصّ المقتضٰي لکون سائر الأشیاء کالطّعام کما سلف ،یعنی ابن عباسؓ نے قیاس کا استعمال کیا اور یہ شاید اس وجہ سے ہو کہ ان تک ضروی نصوص نہ پہنچے ہوں کہ سودے میں تمام اشیا غلے کی مانند ہیں (نیل الاوطار شرح منتقی الأخبار، لبنان، ۲۰۰۴ء، ص۹۸۶، کتاب البیوع )۔اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ ایک مسلمان تاجر کوئی بھی چیز، گو اس نے اسے خرید لیا ہو، اپنے قبضے میں آنے سے قبل کسی کو فروخت نہ کرے ۔
 تجارتی معاملات باہمی رضامندی سے طے کرنا
 بیع و شراء کے انعقاد کی بنیادی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ معاملہ بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی سے طے کیا جائے۔ بیچنے والا اپنے اختیار سے اپنی چیز بیچے اور خریدنے والا بھی اپنے اختیار اور خوشنودی سے اسے خریدے۔ اگر کسی جانب سے بھی دوسرے فریق کو مجبور کرکے معاملہ کرایا گیا، جب کہ وہ دل سے اس پر راضی نہ تھا تو یہ بیع درست نہیں ہوگی بلکہ منعقد ہی نہیں ہوگی۔ کیوںکہ فرمان الٰہی ہے: 
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۝۰ۣ (النساء۴: ۲۹)اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، اِلاّ یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجودمیں آئی ہو (تو وہ جائز ہے)۔ 
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے: إِنَّمَا الْبَیْعُ عَنْ تَرَاضٍ یعنی ’’بیع (فریقین کی) باہمی رضامندی سے ہی ہوتی ہے ‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، بابُ بَیْعِ الْخِیَارِ، حدیث: ۲۱۸۵، بروایت ابوسعید خدریؓ)۔آپ ؐکا یہ بھی فرمان ہے: ’’کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیںکہ وہ اپنے بھائی کا عصا بھی اس کی خوشنودی و رضامندی کے بغیر لے ‘‘۔ (صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبانؒ، کتاب الجنایات،حدیث: ۵۹۷۸، بروایت ابوحمید ساعدیؓ)
یہ حدیث اس معاملے میں، یعنی بغیر رضا مندی کے کسی بھائی کی کوئی چیز لینے کی حرمت کی شدت کو واضح کررہی ہے، جسے سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں، کہ لاٹھی جیسی معمولی چیز بھی جب کسی سے بغیر اس کی رضامندی کے لینا حلال نہیں، تو دوسری اہم چیزیںکیسے حلال ہوسکتی ہیں؟ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ خرید و فروخت کے ہر معاملے میں اس بنیادی اصول کا لحاظ رکھے بصورت دیگر وہ دوسرے کا مال باطل طریقے سے ہڑپ کر لینے والوں میں شمار کیا جائے گا۔
یہاں یہ واضح کردینا بھی مناسب ہے کہ یہ رضامندی حقیقی ہونی چاہیے، رسمی اور جبری نہیں۔ نہ دھوکے اور فریب کے ذریعے اس کی اصل قیمت سے دوسرے فریق کو اندھیرے میں رکھا گیا ہو۔ اگر ان حربوں سے رضامندی حاصل کی گئی ہو تو شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیںاور متاثرہ فریق کو بیع منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری اور بے بسی کے عالم میں اپنی کوئی چیز بیچ رہا ہو، تو اسے بازار کے نرخ (rate) یا مروجہ نرخ سے بہت کم پر خریدنا اگرچہ وہ اس پر بظاہر راضی بھی ہو، درست نہیں۔ کیوںکہ یہ بات یقینی ہے کہ مجبور شخص خوش دلی سے غیرمعمولی کم نرخ پر اپنی چیز بیچنے کو تیار نہیں ہوتا، جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء قلبی خوشی کے موجود ہونے کی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مجبور شخص کا سامان انتہائی کم قیمت پر خریدنے کی جو روش دیکھنے کو ملتی ہے، وہ یقیناً ناپسندیدہ اور اصلاح طلب ہے کیونکہ یہ انسانی خیرخواہی کے جذبے اور دین کی اصل اسپرٹ کے خلاف ہے۔
 خریدار کو صحیح مشورہ دینا 
 تجارت میں بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ گاہک اپنی کم علمی یا ناتجربے کاری کی وجہ سے کسی چیز کی نوعیت یا خاصیت کو از خود سمجھ نہیں پاتا اور دکاندار یا تاجر ہی سے مشورہ طلب کرتا ہے۔ ایسی صورت میں تاجر کو چاہیے کہ اس کو درست مشورہ دے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اَلْمُسْتَشَارُ مُؤتَمَنٌ یعنی ’’جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب الادب، حدیث: ۳۷۴۵، بروایت ابوہریرہؓ)،[یعنی اسے امانت داری کالحاظ کرتے ہوئے صحیح اور مفید مشورہ دینا چاہیے اور جس طرح امانت میں خیانت جائز نہیں ہے، اسی طرح کسی کو غلط مشورہ دینا بھی جائز نہیں، یہ بھی دھوکا دہی کی ہی ایک صورت ہے۔ایک شخص نے آپ پر بھروسہ کیا اور آپ نے اسے گمراہ کردیا۔ اس لیے تاجر کو چاہیے کہ محض ذاتی فوائد کے پیش نظر خریدار کو غلط مشورے نہ دے۔ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر بھروسا رکھے، جو رزق اس کے مقدر میں ہوگا وہ ضرور مل کر رہے گا۔ اس کے اس عمل سے خریدار کا اس پر اعتماد قائم ہوجائے گا، جو انجامِ کار اس کے لیے ہی مفید ثابت ہوگا۔
 قیمت متعین کرنا ،  غیرمعین نہ رکھنا
 بیع کے منعقد ہونے کی بنیادی شرائط میں سے یہ ہے کہ مبیع، یعنی فروخت ہونے والی چیز اور ثمن، یعنی قیمت دونوں معلوم اور معیّن ہوں۔ نیز فریقین باہمی رضامندی سے ان کے تبادلے پر راضی ہوں۔ مجہول اور غیر معین ثمن کے ساتھ بیع صحیح نہیں ہوتی، کیونکہ فقہا نے بیع کی تعریف ہی یہی بیان کی ہے کہ یہ باہمی رضامندی کے ساتھ مال کے عوض مال کا تبادلہ ہے یا ملکیت کی منتقلی ہے۔ شارح بخاری حافظ ابن حجر العسقلانیؒ (م: ۱۴۴۹ء) نے بیع کی تعریف یوں کی ہے: والبیعُ نقلُ مِلکٍ اِلَی الغیر بثمنٍ ،یعنی ’’بیع (کا مطلب ) قیمت کے عوض کسی چیز کی ملکیت دوسرے کی طرف منتقل کرنا ہے‘‘۔ (فتح الباری للحافظ ابن حجر العسقلانیؒ ، دمشق،۲۰۱۳ء، جلد ۷، ص ۵)
۲۰ویں صدی کے معروف فقیہ سیّد سابق مصریؒ (م: ۲۰۰۰ء) اپنی مایہ ناز تصنیف   فقہ السنۃ میں، بیع کی تعریف میں رقم طراز ہیں: ’’شرعًا بیع سے مراد باہمی رضامندی کے راستے سے مال کا مال کے عوض تبادلہ یا ماذون (جس کی شریعت نے اجازت دی ہے) طریقے پر کسی عوض کے بدلے مِلک کا دوسرے کے نام انتقال ہے‘‘۔ (فقہ السنۃ ، ص ۸۹۸)
اس لیے یہ ضروری ہے کہ فروخت ہونے والی چیز کی قیمت متعین کی جائے جو فریقین کے علم میں بھی آجائے، خواہ وہ معاملہ نقد ہو یا ادھار کا اور سامان کی قیمت متعین کیے بغیر کوئی بھی تجارتی معاملہ نہ کیا جائے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ باہمی تعلقات کی وجہ سے سامان فروخت کرنے والا خریدنے والے سے یہ کہتا ہے کہ: آپ یہ سامان لے جائیں اور بازار میں جو قیمت رائج ہے یا جس قیمت پر لوگ اسے فروخت کر رہے ہیں، وہ مجھے آپ ادا کردیں گے، جب کہ بازار میں رائج قیمت کا فریقین یا خریدار کو علم نہیں ہوتا۔ اس صورت میں قیمت کے مجہول (Indeterminate)  رہنے کی وجہ سے بیع درست نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ جو قیمت آپ کو پسند ہو وہ دے دیں، کیوں کہ یہ عین ممکن ہے جو قیمت خریدار اپنی پسند سے دے، وہ فروخت کرنے والے کی توقع سے کم ہو،جو اس کی دل شکنی کا باعث بنے اور باہمی نزاع کی کوئی صورت پیدا کر دے۔ اس لیے ہر حال میں سامان کی قیمت طے کرکے ہی خرید و فروخت کا معاملہ کرنا چاہیے اور اس حکم کے پیچھے حکمت یہی ہے کہ آگے چل کر آپس میں جھگڑے کا کوئی اندیشہ اور امکان باقی نہ رہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ قیمت مروجہ کرنسی میں ہی طے ہو بلکہ ہروہ چیز جو شریعت کی نظر میں جائز ہو اور معاشرے میں اس کا بطور معاوضہ قبول کیا جانا رائج ہو، قیمت بننے کی اہل ہے ۔
 ادھار معاملات کو ضبطِ تحریر  میں لانا
یہ بھی اسلامی اصول میں سے ہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ اگر ادھار پر مبنی ہوتو اسے  ضبطِ تحریر میں لانا چاہیے۔ ایسی صورت میں قیمت کے ساتھ ادائی کی مدت اور اس کی صورت و ترکیب کا بھی طے کیا جانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہ ادائی یکمشت ہوگی یا قسطوں میں؟ اور اگر قسطوں میں ہوگی تو کتنی قسطوں میں ہوگی وغیرہ؟ ان سب باتوں کو تحریر کے تحت لانا چاہیے، تاکہ آگے چل کر کسی بھی فریق کی بھول چوک سے، جس کا وقت گزرنے کے ساتھ امکان رہتا ہے، کسی قسم کی غلط فہمی اور اختلاف کی راہ ہموار نہ ہو۔ 
یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد باری ہے: 
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْہُ(البقرۃ۲: ۲۸۲) اے ایمان والو! جب تم معینہ میعاد کے لیے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
  آگے ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْہِ الْحَـقُّ وَلْيَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْہُ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْہِ الْحَـقُّ سَفِيْہًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّـمِلَّ ھُوَفَلْيُمْلِلْ وَلِــيُّہٗ بِالْعَدْلِ۝۰ۭ وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ۝۰ۚ(البقرۃ۲: ۲۸۲) اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے لکھنے میں کاہلی نہ کرو، یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے ، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آیندہ شک میں نہیں پڑوگے۔
اس لیے اس طرح کے معاملات کو ضرور دستاویزی شکل دینی چاہیے۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ فریقین میں سے اگر کسی کا بھی انتقال ہوجائے تو ان کے ورثا کے لیے حق کی ادائی یا وصولی دونوں ہی میں یہ دستاویز معاون ثابت ہوگی۔ بدقسمتی سے عام طور پر لوگ اس طرح کی تحریر کو باہمی اعتماد اور تعلقات کی نزاکتوں کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں کوتاہی برتتے ہیں، جو بسااوقات آگے چل کر نسیان یا غلط فہمی کے باعث باہمی نزاع کا سبب بن جاتاہے۔ کبھی کبھی تو مقدمہ بازی تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس لیے ہمیںاللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمت کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور سماجی اقدار کے خود ساختہ معیار قائم کر کے اس سلسلے میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ 
ساتھ ہی فریقین کو چاہیے کہ وہ معاہدۂ بیع کی پابندی کریں، فروخت کنندہ میعاد معین سے پہلے ادائی کا مطالبہ نہ کرے اور خریدار اس سے تاخیر نہ کرے اور نہ ٹال مٹول ہی کا رویہ اختیار کرے، بلکہ حُسن ادائی کی صورت اختیار کرے۔ قرض کی ادائی پر قادر ہوتے ہوئے بھی ٹال مٹول کا رویہ اختیار کرنا ظلم ہے۔ اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے اور اگر کسی معقول وجہ سے خریدار وقت پر ادھار کی رقم ادا نہ کرسکے تو تاجر کو خریدار سے نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اسے مہلت دینی چاہیے، اور جرمانہ وصول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ سود ہی کے زمرے میں داخل ہوجائے گا۔ 

 

ترقی کا اسلامی تصور یہ ہے کہ وہ وقتی یا عارضی نہ ہو، بلکہ دیرپا ہو اور باعث ِ خیر بھی۔ اسی چیز کو فوزوفلاح کا نام دیا جاتا ہے۔ ترقی کا عمل اور معاشی خوش حالی صرف آج کے لیے نہ ہو، بلکہ آیندہ کے لیے بھی ہو، جس کو Sustainable Development (پاےدار ترقی) کہا جاتا ہے۔
ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ مغربی معاشی نظام کی وجہ سے غریب، غریب تر اور امیر ، امیر ترہوتے جارہے ہیں، جیساکہ کہا جاتا ہے:
آج دنیا میں غربت کے گہرے سمندر ہیں، تو دوسری طرف دنیا بھر میں دولت اور خوش حالی کے چند جزیرے ہیں، جن کی مذمت کا طاقت ور اظہار ’وال سٹریٹ کا قبضہ‘ [۲۰۱۱ء] اور ’صرف ایک فی صد‘ کے مظاہرے ہیں۔
نام وَر ادیب برنارڈشا [م: ۱۹۵۰ء] سے ایک بار پوچھا گیا کہ’’ اقتصادی میدان میں انسانیت کی پریشانی کا سبب کیا ہے؟‘‘ انھوں نے ٹوپی سر سے اُتاری، گنجے سر اور گھنی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’یہی انسانیت کی پریشانی ہے، یعنی پیداوار کی کثرت اور غیر مساوی تقسیم‘‘۔
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ۲۰ستمبر ۲۰۱۶ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:A World in which one percent of humanity controls as much wealth as the other 99% will never be stable  (اس دنیا کے ایک فی صد لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جتنی باقی ۹۹ فی صد لوگوں کی دولت ملا کر ہے، اس صورت میں یہ پاے دار نہیں ہوسکتی)۔

’اوکس فیم انٹرنیشنل‘ [Oxfam] بین الاقوامی غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم (قائم شدہ: ۱۹۴۲ء)کی حالیہ رپورٹ کے مطابق: ’’دنیا کی ۵۰ فی صد آبادی کی دولت کے برابر دولت دنیا کے آٹھ کھرب پتیوں کے پاس جمع ہے‘‘۔اس رپورٹ میں ’۹۹ فی صد کی معیشت‘ (An Economy of 99%)کے زیرعنوان لکھا ہے کہ: ’’وقت آگیا ہے کہ ہم ایک انسان دوست معیشت کی تعمیر کریں، جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہو، نہ کہ صرف بااختیار اور باحیثیت طبقے کے لیے‘‘۔
عالمی بنک کے جائزے کے مطابق: ’’بھارت کی دو تہائی آبادی روزانہ ۲ ڈالر سے بھی  کم میں اپنا گزارا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ اس ملک میں ۵۷؍ارب پتی سیٹھوں کے پاس ملک کے ۷۰فی صد غریبوں کے مساوی دولت ہے‘‘۔
اس کے مقابلے میں اسلام ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے، جس میں باہمی ہمدردی اورتعاون (Caring & Sharing)کی فضا عام ہو۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ دولت چند افراد یا کسی مخصوص طبقے کے قبضے میں ہو:
كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ ط (الحشر۵۹:۷)تاکہ دولت تمھارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہے۔

اسی نابرابری کے خاتمے اور غربت میں نمایاں کمی کرنے کے لیے اکیسویں صدی کے آغاز پر اقوامِ متحدہ کے ۱۹۱ممبر ممالک نے ۲۰۰۰ء میں مل بیٹھ کر ۱۵ سالہ Millennium Declaration (ہزاریہ اعلامیہ) تیار کیا تھا۔ ان ممالک کے علاوہ دنیا بھر کے ۲۲ نام وَر بین الاقوامی مالیاتی اور فلاحی ادارے بھی شامل کیے گئے اور ۱۵ برسوں کے لیے آٹھ اہداف پر مشتمل ایک منصوبہ بنایا، جسے ’ملینیم ترقی کا منصوبہ‘ (Millennium Development Goals: MDG) کا نام دیا گیا۔ ان اہداف میں غربت میں نمایاں کمی، پرائمری اسکول تک کی تعلیم، صنفی مساوات، خواتین کی خوداختیاری، بچوں کی شرح اموات میں کمی، موذی امراض ایڈز اور ملیریا سے جنگ، ماحولیات میں پاے داری اور بین الاقوامی سطح پر ترقی وتعمیر کے کاموں میں حصہ داری اور شرکت کو اُجاگر کیا گیا۔
۲۰۱۵ء میں دنیا بھر کے ماہرین نے سرجوڑ کر ۱۵سالہ ملینیم ترقیاتی منصوبوں اور کاموں کا جائزہ لیا اور یہ محسوس کیا کہ صرف تعلیمی میدان اور معاشی ترقی کے پیمانے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، جب کہ دوسرے اہداف کا حصول تشفی بخش نہیں ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں دوبارہ ایک ۱۵سالہ نیا منصوبہ تیار کیا گیا، جسے Sustainable Development Goals  (SDG : پاےدا ر ترقی کے اہداف) کا نام دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے بیش تر ممالک نے ۲۵ستمبر ۲۰۱۵ء کو اس منصوبے پر دستخط کیے اور جنوری ۲۰۱۶ء میں اس کے نمایاں اہداف متعین کیے گئے،جو درج ذیل تھے:

  • غربت کا خاتمہ (End of Poverty ) l کرئہ ارض کی حفاظت (Protect the Planet) اور l عالمی امن و خوش حالی کو یقینی بنانا (Ensure Prosperity) ۔

اس جامع، ہمہ جہت اور متوازن دستاویز کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاس کیا،  جس میں عہد کیا گیا کہ غربت کا مکمل خاتمہ، صحت مند انسانی زندگی، فاقہ زدگی کے نتیجے میں اموات سے آزادی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور توانائی کی دست یابی ہوسکے گی۔

کہا جاتا ہے کہ: ’’یہ ’پاےدار اور دیرپا ترقیاتی منصوبہ‘ (SDG) انسانی ترقی اور خوش حالی کی طرف پیش قدمی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ممالک کے علاوہ فلاحی اداروں کے تعاون سے یہ اہداف حاصل کیے جائیں گے‘‘۔ فی الحال صحت، تعلیم، صفائی اور توانائی کے حصول کے لیے ۴ء۱ کھرب ڈالر کا حصول ہوسکا ہے، اور مزید۵ء۲ کھرب ڈالر کی رقم کی ضرورت ہے جو دنیا کے تمام ممالک، ادارے اور مخیر افراد کو مل جل کر فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ’پاے دار اور دیرپا ترقیاتی منصوبہ‘ کے حصول کے لیے تین امور پر خصوصی توجہ  دی جائے گی، جو سرمایہ کاری (Finance)، ٹکنالوجی (Technology) اور تجارت (Trade) پر مشتمل ہوگی اور خاص طور پر سماجی سرمایہ کاری (Social Finance) پیش نظر ہوگی۔
اقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی کے اجلاس (۲۷ستمبر ۲۰۱۸ء) میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک کے ایک خصوصی فورم میں یہ تاریخی فیصلہ کیا گیا کہ: ’’انسانی تاریخ کے اس اہم عالمی ترقیاتی منصوبے کے حصول کے لیے اسلامی سرمایہ کاری کے نئے طریقوں اور نادر نمونوں کے ذریعے ’پاے دار اور دیرپا ترقیاتی منصوبہ‘ کے اہداف کے حصول کی کوشش کی جائے گی‘‘۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام‘ (UNDP: یو این ڈویلپمنٹ پروگرام) اسلامک ڈویلپمنٹ بنک، جدہ کے ادارے ’اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (IRTI)‘ اور ملائیشیا کے سیکورٹی کمیشن نے مل کر  اسلامک فنانس کو استعمال کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ اس کے ذریعے اقوام متحدہ کے اس عالمی ترقی و خوش حالی کے عظیم منصوبے کو شرمندئہ تعبیر کرنے میں ایک واضح اور مؤثر کردار ادا کریں گے۔اس ۱۵سالہ اقوام متحدہ کے ترقی و خوش حالی کے منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے اور اس کے حصول کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ دنیا بھر کے ممالک سے انفرادی طور پر اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے مالیاتی ادارے اور تنظیموں کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔ بطورِ خاص اسلامی سرمایہ کاری کے نظام سے استفادہ کیا جائے گا، جو خطرات کو انگیز کرنے ، ذمہ دارانہ سرمایہ کاری (Responsible Financing)، اور سماجی مقاصد (Social Causes) کے پیش نظر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ دنیا کے سماجی ، معاشی اور ماحولیاتی نقشے کو بدلنے کی عالمی کوشش ہے۔ اس کے تحت اسلامی سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ چنانچہ ۲۷ستمبر ۲۰۱۸ء کو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں فورم کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان تھا:
"Achieving the SDG Unleashing the potential of Islamic Finance through innovative Investors and instruments".
اس فورم میں طویل المیعاد سرمایہ کاری، پاے دار ترقیاتی منصوبوں اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی سرمایہ کاری کے نئے انداز اور نئے طریقوں پر غور وخوض کیا گیا۔
ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیربن محمد [پ:۱۰جولائی ۱۹۲۵ء] نے کلیدی خطاب میں ملائیشیا کے گلوبل سطح پر اسلامی فنانس میں قائدانہ کردار کا جائزہ پیش کیا اور نئے انداز سے اسلامی سرمایہ کاری کو ماحولیات کی آلودگی سے بچانے کے لیے ’گرین فنانس‘ کا بطورِ خاص ذکر کیا۔ اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کی نمایندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر محمدجوینی نے بتایا:’’ SDG کے اہداف کا حصول کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے اور نہ یہ کام روایتی اسلامی فنانس کے طریقوں سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے باہمی اشتراک اور نئے انداز کے اسلامی فنانس پروڈکٹس (Products) پر غوروخوض کرکے عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

ڈاکٹر ہمایوں ڈار، ڈائرکٹر جنرل اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (IRTI)، جدہ نے اختتامی خطاب میں کہا کہ : ’’یہ مسرت کا مقام ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک باہمی اشتراک، نئی سوچ اور نئے طریقوں کو اپنا کر اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے آگے بڑھیں گے‘‘۔
اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری اور ’اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام‘(UNDP) کے افسراعلیٰ ٹیگیگ نے ورک گٹو ایڈ نے اُمید ظاہر کی کہ: ’’اقوام متحدہ کا اسلامی فنانس کے اداروں سے اشتراک پاےدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے مددگار ثابت ہوگا اور سرکاری مالیاتی اداروں،   نجی کاروباری اور فلاحی تنظیموں کے تال میل سے یہ کام ہوسکے گا‘‘۔ ترکی کے مستقل نمایندے صالح موتلوسین نے بتایا: ’’کس طرح ترکی میں اسلامی سرمایہ کاری کی پیش رفت جاری ہے‘‘۔ 
یاد رہے کہ ۲۰۱۶ء میں اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے ادارے IRTI  اور اقوامِ متحدہ کے   یواین ڈی پی نے مل کر ’گلوبل اسلامک فنانس اینڈ امپاکسٹ انوسٹمنگ پلیٹ فارم‘ (GIFIIP) بنایا تھا، تاکہ اسلامک فنانس کو اقوام متحدہ کے اس عظیم الشان ترقیاتی منصوبے سے ہم آہنگ کرے۔
ترکی، ملائیشیا اور سعودی عرب کے نمایندوں نے خاص طور پر اس فورم کے مباحثے میں حصہ لیا اور اُمیدو حوصلہ سے بھرپور عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی سرمایہ کاری کے ذریعے مستقل اور پاے دار ترقی کے اس گلوبل منصوبے پر عمل کیا جائے گا، خاص طور پرگرین صکوک (Green Sukuk) پر مشورہ کیا گیا، جس کے ذریعے ترقی کے ایسے نمونے اور طریقے اختیار کیے جائیں گے، جن سے ماحولیات کی آلودگی سے بچا بھی جاسکے، اور جو ہمہ جہتی (Inclusive) اور متوازن ترقی کا باعث بھی ہوں۔
 اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی نے انڈونیشیا کے زکوٰۃ کے حصول و تقسیم کی تنظیم BAZNAS کے اشتراک سے ایک دستاویز تیار کی ہے: ’زکوٰۃ کا پایدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں ممکنہ حصہ داری اور کردار‘‘ (The Role of Zakat in supporting the Sustainable Development Goals)۔ اس میں لکھا ہے کہ مذاہب، دنیا میں تبدیلی اور تغیرات کے لیے ایک اہم قوت ہوتے ہیں اور مذہبی ادارے امن و سلامتی، ترقی و خوش حالی اور برداشت و تحمل پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کی تقریباً ۲۲ فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ۲۰۰۵ء میں اسلامی سرمایہ کاری کا اندازہ تقریباً ایک سے دو کھرب ڈالر سالانہ لگایا گیا تھا۔ 
پھر قرآن کی سورۃ التوبہ آیت ۶۰ کاحوالہ دیتے ہوئے تفصیلی طور پر لکھا ہے کہ: ’’دین [اسلام] کے ارکانِ خمسہ میں کلمہ، نماز، روزہ اور حج کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی ذکر آتا ہے اور ہر صاحب ِ نصاب پر فرض ہے کہ وہ فقرا، مساکین اور مستحقین تک اپنے مالوں کا ایک حصہ پہنچائے، جس کے ذریعے معاشرے کے کمزور اور کچلے ہوئے افراد کو اُونچا اُٹھایا جاسکے۔ زکوٰۃ کو اگر اجتماعی طور پر حاصل کرکے ایک منصوبہ بند طریقے سے تقسیم کیا جائے تو آج کے مستحقینِ زکوٰۃ آنے والے کل میں زکوٰۃ دینے والے ہوسکتے ہیں‘‘۔
’عالمی زکوٰۃ فورم‘ نے ۲۰۱۷ء میں اپنے جکارتہ (انڈونیشیا) کے اجلاس میں مقاصد ِ شریعہ کی روشنی میں اقوام متحدہ کے اس پاےدار ترقی کے اہداف اور زکوٰۃ کے مقاصد پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ: ’’مقاصد ِ شریعہ، جس میں انسانوں کے اپنے ایمان، زندگی، نسل، عقل اور مال کی حفاظت کا تذکرہ ہے، دراصل اقوام متحدہ کے پاےدارترقی کے اہداف (SDG) کے حصول سے ہم آہنگ ہیں اور زکوٰۃ کا اجتماعی نظم ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔زکوٰۃ کے حصول و تقسیم اور مختلف اصناف مستحقین کی نشان دہی اور ان تک زکوٰۃ کی رقم پہنچانے کے لیے مالیاتی ٹکنالوجی (فن ٹیک) کا استعمال کیا جائے تو شفافیت اور تیزی کے ساتھ یہ کام ہوسکتا ہے‘‘۔

اس کے علاوہ ’اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام‘ نے ایک اور اہم دستاویز Unlocking the Potential of Zakat & Other forms of Islamic Finance to achieve SDG Goals میں: ’’زکوٰۃ اور دوسرے اسلامی فنانس کو SDG کے اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ بتایا ہے‘‘۔ اس طرح زکوٰۃ کے اجتماعی نظم اور اسلامی سرمایہ کاری میں نئے اور نادر تجربے کے ذریعے اکرام انسانیت اور ان کی بنیادی ضروریات کے ساتھ کرئہ ارض کی امن و سلامتی کے لیے اقوامِ متحدہ کے عظیم ’اقدام‘ میں کامیاب حصہ داری سے، یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ اقدار پر مبنی اسلامی معیشت آج کی دنیا کے  سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے میں ایک مثبت اور منافع بخش کردار ادا کرے گی۔ 

میری چہیتی بیٹی ’عُلا، میرے جگر کے ٹکڑے، میرے دل کی زندگی، میر ی روح کی ٹھنڈک،

میری پیاری بیٹی! تم پر میرا دل نثار ہے، میرے دل کی ساری محبت نثار ہے، میری محبت کی ساری صداقت نثار ہے، اور میری صداقت کا سارا خلوص نثار ہے۔ میری پیاری بیٹی، سودن سے زیادہ ہوگئے، تمھیں باغیوں اور سرکشوں کی جیلوں میں رہتے ہوئے۔ آہ! مظلوم کے اُوپر ظلم کے دن کتنے بھاری گزرتے ہیں،ایک دن ایک برس کے برابر لگتا ہے۔ مگر تسلی رکھو، اللہ نے چاہا تو ظلم کے یہ دن بھی ختم ہوں گے۔ تم اور تمھارے شوہر اپنے گھر والوں اور اپنے بچوں کے درمیان ضرور لوٹو گے، اس طرح کہ سلامتی تم پر سایہ فگن ہوگی، اور اللہ کی رحمت کی تم پر بارش ہوگی۔ تم نے سوچا ہوگا کہ ظالموں کا دھیان تمھاری طرف نہیں جائے گا، کیوں کہ تم ہمیشہ ان سے دُور رہی، نہ ان کے ملک میں پیدا ہوئی، نہ ان کے اسکول اور کالج میں داخلہ لیا، نہ ان کے محکمے میں نوکری کی، پھر ان سے تمھارا کیا لینا دینا ؟

تم ایک بیوی ہو، ایک ماں اور ایک دادی ہو، ایک امن پسند عورت ہو، اپنے ملک کے سفارت خانے میں ملازم ہو، جس کی تمھارے پاس شہریت ہے، ان کا تمھاری ملازمت سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر تمھارا سیاست سے بھی کوئی تعلق نہیں رہا، البتہ تمھارے شوہر کا سیاست سے ضرور تعلق رہا، مگر وہ بھی کسی ممنوعہ پارٹی سے نہیں، بلکہ وسط پارٹی سے، جو ملک کی ہر طرح سے تسلیم شدہ اور قانونی پارٹی ہے۔ اس کے باوجود تمھارے شوہر کو ان ظالموں نے دوسال سے زیادہ عرصہ جیل میں بند رکھا، عدالت میں مقدمہ چلایا، جب کچھ نہیں ملا تو پھر کافی عرصے بعد رہا کیا، اور اب پھر انھیں جیل میں ڈال دیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ تمھارے شوہر ہیں۔ ہرانسان اصولی طور سے قانون کی نگاہ میں بے گناہ ہوتا ہے۔ ہرقانون میں، ہر ملزم بھی بے گناہ ہوتا ہے ، جب تک کہ منصف عدالت اسے مجرم قرار نہ دے دے۔ اس کے بعد بھی اسے اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اعلیٰ عدالت بھی اس وقت تک اُس کے ساتھ ہوتی ہے، جب تک اس کی بے گناہی یا جرم کا فیصلہ نہ ہوجائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ کی ذاتِ واحد ہرچیز سے باخبر ہے۔

میری بیٹی، آخر یہ ظالم تمھارے ساتھ ایسی سنگ دلی کا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ انھوں نے تم کو ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں تنہا کیوں قید کر رکھا ہے؟ جہاں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ کب دن کا اُجالا آیا اور کب رات کی تاریکی اُتری؟ بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ تم کو قید ہی کیوں کیا گیا؟ اور عدالتی کارروائی کے دوران تمھارے خلاف اس قدر پروپیگنڈا کیوں کیا گیا؟ تم کو بنیادی حقوق سے کیوں محروم رکھا گیا؟ نہ کوئی تم سے مل سکتا ہے اور نہ تمھاری صحت اور دوا کا کوئی خیال اور انتظام ہے۔ تم نے تو کوئی بڑا گناہ تو کیا کوئی چھوٹا گناہ بھی نہیں کیا،نہ دین کے معاملے میں اور نہ دنیا کے سلسلے میں، نہ کسی مظاہرے میں حصہ لیا اور نہ کسی مہم جوئی میں شریک ہوئی۔ کتنے سال سے تم اس ملک میں رہتی بستی، ضابطے اور قانون کے مطابق سفر بھی کرتی رہیں، تمھارے ریکارڈ پر کبھی کوئی حرف نہیں آیا، پھر اب ایسا کیا ہوگیا؟ لگتا ہے کہ اچانک انھیں یاد آگیا کہ تم قرضاوی کی بیٹی ہو۔ میری بیٹی، تمھارا باپ بھی کون ہے؟ زندگی بھر دنیا والوں کے بیچ دین کا دامن تھامے چلتا رہا، لوگوں کو دین سکھانے کا کام کرتا رہا، داعی اور معلم، شاعر اور مصنف۔ کبھی اپنی اُمت کے ساتھ اس نے خیانت نہیں کی۔ کبھی اس نے اپنی اُمت کے مشن کے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔ جب سے لوگوں نے اسے جانا ہے، اور نوّے سال سے زیادہ عمر ہوجانے تک زندگی میں ایک بار بھی اس نے اپنی اُمت کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔    تمام براعظموں کا سفر کیا، سارے اہم ملکوں کا دورہ کیا، لیکن کہیں بھی اُمت کے کسی مسئلے کو فراموش نہیں کیا۔ مسلمانوں کے تعلق سے اپنی کسی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا۔ اگر یہ سب کچھ انھیں اچھا نہیں لگا، اور اس لیے اچھا نہیں لگا، کیوں کہ انھیں نہ تو اسلام کی فکر ہے، نہ اُمت مسلمہ کی فکر ہے، نہ اسلامی تہذیب کی فکر ہے، تو آخر اس میں تمھارا کیا قصور ہے؟ تمھیں یہ کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ یا تم پر ظلم کے پہاڑ توڑ کرتمھارے باپ کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ انھوں نے تمھارے باپ پر بھی مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ الزام یہ لگایا ہے کہ اس نے ۸۵سال کی عمر میں جیل میں گھس کر اس جیل سے قیدیوں کو نکال بھگایا تھا، جس کا نام بھی اس نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ خود ا س الزام کو بھی اس کی خبر نہیں ہے!

یہ ظالم اپنے دل کا کینہ اور نفرت اب ایک آزاد خاتون پر انڈیل رہے ہیں، اسے شکست دینا چاہتے ہیں، لیکن اللہ انھیں شکست دے گا۔مجھے یقین ہے، میرا رب میری بیٹی کی نگہداشت کرے گا، اپنی اس آنکھ سے جو سوتی نہیں ہے۔ میرا ربّ اس کی حفاظت کرے گا، اپنی اس پناہ میں رکھے گا جہاں کسی کی پہنچ نہیں ہے۔ میری بیٹی عُلا!تمھارے نام کا مطلب بلندی ہے، تو سمجھ لو کہ اللہ نے چاہا ہے کہ تمھارے نام کی برکت تمھیں حاصل ہوجائے۔ اس نے چاہا ہے کہ دنیا اور آخرت میں تمھارے درجات بلند کرے۔ ان آزمایشوں سے تمھاری نیکیوں کا ترازو بھاری کرے۔ تم جیل کی تنگ کوٹھڑی میں رہتے ہوئے اللہ کے نزدیک اُونچے محل میں رہنے والے سرکش ظالم کے مقابلے میں بہت بلند ہو، اور اللہ کو اور اللہ کے بندوں کو اس کے مقابلے میں بہت زیادہ محبوب ہو۔ تصور کرو، دنیا کے کونے کونے میں مومن مرد اور عورتیں تمھارے لیے استغفار کر رہے ہیں، تمھارے لیے اللہ سے دُعا کر رہے ہیں۔ اللہ تمھیں اور تمھارے تمام مظلوم بھائیوں اور بہنوں کو  جلد رہائی عطا کرے، اور ان ظالموں کو ان کے ظلم کا مزہ چکھائے۔ ان کی یہ دُعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی، ضرور رنگ لائیں گی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ تمھاری اور تمھارے شوہر کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، تمھارے دلوں کو سکون ملے، تمھارے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلے۔
میری بیٹی! یقین رکھو کہ ان جیلوں میں ستائے جانے والے مظلوموں کی ایک دُعا اتنی تاثیر رکھتی ہے کہ ظالموں کی ساری دنیا تباہ و برباد کرڈالے، اور انھیں ناکام و نامراد کردے۔ تسلی رکھو کہ تمھارا ربّ ان کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، اور ظالموں کو ضرور معلوم ہوجائے گا کہ انھیں کس انجام سے دوچار ہونا ہے!
 تمھارے ابو!
یوسف القرضاوی

مسلم دنیا پر ایک اُفتاد تو عالمی سامراجی قوتوں کی جانب سے مسلط ہے اور دوسرا عذاب دین اسلام، شعائر اسلام اور متفق علیہ معاملاتِ اسلام میں رخنہ اندازی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ گذشتہ دنوں جناب جاوید احمد غامدی کی زیرِ سرپرستی شائع ہونے والے ماہنامہ اشراق (جون ۲۰۱۹ء) میں موصوف کے قابلِ اعتماد رفیق عرفان شہزاد صاحب کا ایک مضمون بعنوان:’’قرآن کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت‘‘ پڑھنے اور ’متبادل بیانیہ‘ جاننے کا موقع ملا۔

مضمون نگار نے حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت وفضیلت کو، جس پر اُمت کا اجماع رہا ہے ، اس سعادت کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے لکھا:’’مسلم سماج میں… عام تاثر یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذریعہ اور باعثِ اجر وسعادت ہے۔ یہ تصور چند در چند غلط فہمیوں کا مرکب ہے‘‘، مزید لکھا: ’’حفظ قرآن کی موجودہ رسم اور اس سے جُڑے اجر وثواب اور گناہ کے دینی تصورات اسے ایک بدعت بناتے ہیں‘‘، پھر لکھا: ’’[حتیٰ کہ] یہ خیال ایجاد کیا گیا کہ قرآن مجید کا حفظ کرنا معجزہ ہے، یہ حقیقتاً درست نہیں‘‘۔ آگے چل کر لکھا:’’اتنا وقت، اتنی ضخامت کی کسی بھی کتاب کو زبانی یاد رکھنے کے لیے کافی ہے، خصوصاً جب الفاظ میں ایک خاص قسم کی موسیقیت اور موزونیت بھی پائی جاتی ہو تو یہ اور بھی سہل ہوجاتا ہے‘‘۔ گویا موصوف کے نزدیک قرآن کریم کے یاد ہونے کا سبب عِیاذاً باللہ !اس کی ’موزونیت اور موسیقیت‘ ہے۔

موصوف سے سوال ہے: دنیا میں دیگر مذاہب اور ان کی مذہبی کتب بھی ہیں یا علوم وفنون کی بے شمار کتابیں ہیں، کیا اتنی ضخامت کی کوئی ایک کتاب بھی ایسی ہے ،جس کو دنیا میں موجود قرآن  کے حفاظِ کرام کی کُل تعداد کے ایک فی صد یا ایک فی ہزارنے بھی ازاول تا آخر لفظ بلفظ یاد کررکھا ہو؟
یہی مضمون نگار مزید یلغار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حفظ کے دوران رہایشی مدارس میں بچوں کا اپنے گھر سے دُوری کا دُکھ، جنسی ہراسانی کا مسئلہ، یہ سب بچے کی نفسیات میں غیر صحت مند رویے تشکیل دیتے ہیں‘‘۔ بلاشبہہ خود ہماری آرزو ہے کہ کہیں بھی ایسا واقعہ رُونمانہ ہو، لیکن خال خال، یعنی لاکھوں میں اگر کوئی ایک واقعہ بدقسمتی سے رُونما ہوجائے تو اس کا جواز پیش اور اس کا دفاع کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا، مگر صرف اسی پر بس کیوں؟ اس طرح کے شاذ ونادر مگر افسوس ناک واقعات اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں بھی رُونما ہوتے ہیں۔ کیا کبھی ان گھنائونے واقعات کے سبب ان کی بندش کی،ہمارے دانش وروں اور بیانیہ سازوں نے کبھی کوئی زبانی یا قلمی تحریک بپاکی ہے یا ان کا ہدف صرف حفظِ قرآنِ کریم ہے؟

جدید تعلیمی اداروں میں موسیقی ،ڈراموں جیسی خرافات کے مقابلے ہوتے ہیں۔ مضمون نگار شاید انھیں بچوں میں جوہر قابل کو نکھارنے کا نفسیاتی عمل قرار دیتے ہوں گے۔اس لیے موصوف نے ان سلسلوں کو ہدفِ ملامت نہیں بنایا، لیکن حفظِ قرآنِ کریم کے مقابلوں کو ’شعبدہ بازی‘ سے تعبیر فرتے ہوئے ہوئے لکھتے ہیں: ’’قرآنِ مجید کے حفظ سے شعبدہ بازی کا کام بھی بعض حلقوں میں لیا جاتا ہے۔ طلبہ سے متنِ قرآن کے ساتھ صفحہ نمبر بلکہ آیت نمبر تک یاد کروائے جاتے ہیں۔ پھربین الاقوامی مقابلوں میں یادداشت کے لیے کارنامے پیش کر کے دادِ تحسین وصول کی جاتی ہے‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج کل خطابت یا تحریر میں حوالہ دینے کے لیے سورت کا نام، آیت نمبر ،حدیث کی کتاب اوررقم الحدیث کا جو رواج ہے، یہ اُن کے نزدیک شعبدہ بازی ہے۔

مضمون نگار آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’ماہِ رمضان میں تراویح کی نماز ،جو درحقیقت نمازِ تہجد ہی ہے ، میں پورے قرآن کی تلاوت اور اس کے سَماع کا اہتمام مسلمانوں کا اپنا انتخاب ہے ، اس کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جبریلؑ کے ساتھ ماہِ رمضان میں قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے ، نہ کہ نمازِ تہجد میں ‘‘۔ 
اس بیان سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ صحابۂ کرامؓ کا اجماعِ عملی اور امت کا عملی تواتر ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور مہاجرین وانصار، جو آپؐ کے براہِ راست تربیت یافتہ تھے ،ان کے نزدیک ساقط الاعتبار ہیں۔ اُن کا کوئی متواتر عمل بھی کسی درجے کی حجت نہیں ہے ،بلکہ ’بدعت‘ ہے۔
یہی صاحب لکھتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ سے منقول قرآنِ مجید کے حفظ کرنے کی ترغیب دلانے والی روایات میں سے جو معیارِ صحت پر پورا اترتی ہیں، اُن میں بھی اس تصور کا پایا جانا ممکن نہیں کہ آپ نے لوگوں کو بلاسمجھے قرآنِ مجید کو زبانی یاد کرنے کی تلقین فرمائی ہو۔ آپ کے مخاطَبین قرآنِ مجید کی زبان سے واقف تھے۔اُن کے لیے اسے سمجھے بغیر یاد کرلینا متصور ہی نہیں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیاآج بھی عالَمِ عرب کے عام اہلِ زبان باقاعدہ تعلیم کے بغیر قرآن کے معانی و مطالب کو کماحقہٗ سمجھ سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو عالَمِ عرب میں علومِ عربیہ واسلامیہ کی درس گاہوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی ۔ پھر دیکھیے: کیا اُن تمام ممالک کے لوگ ،جن کی مادری زبان انگریزی ہے،وہ باقاعدہ تعلیم حاصل کیے بغیر جدیدسائنسی ، فنی،ادبی اورسماجی علوم کو جان سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو مغرب میں ہر سطح کے تعلیمی اداروں کا وجود بے معنی ہوکر رہ جاتا۔ بلاشبہہ صحابہ کرامؓ اہلِ زبان تھے، لیکن اس کے باوجود اُن میں ماہرینِ تفسیر ، ماہرینِ حدیث اور ماہرینِ فقہ محدود تعداد میں تھے کہ جنھوں نے باقاعدہ مکتبِ نبوت سے علم حاصل کیا تھا۔ صُفّہ کی درس گاہ آخر کس لیے تھی؟ انھی ماہرین کو قرآنِ کریم نے التوبہ۹:۱۲۲ میں  تَفَقُّہْ فِی الدِّیْن سے تعبیر فرمایاہے۔  
اب آتے ہیں نفسِ مسئلہ کی طرف، سب سے پہلے ہم اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآنِ کریم کے معانی ومطالب اور احکامِ الٰہی کوبصورتِ اوامر ونواہی جاننا ،ان کی تفہیم وتفہُّم اور تعلیم وتعلُّم مقصودِ اصلی ہے اور اس سے امت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے،کیونکہ معانی اور مطالبِ قرآن کا فہم حاصل ہوگا، تو اسی صورت میں اس پر عمل کی سعادت حاصل کر کے فلاحِ دارین کی منزل کو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن فہمِ قرآن اور تلاوت وحفظِ قرآن کو ایک دوسرے کی ضد قرار دے کر حفظِ قرآن کی اہمیت کم کرنا یا اسے بدعت قرار دینا یا اسے شعبدہ بازی قرار دینا، ہمارے نزدیک یہ بے دردی پر مبنی مہم کا اذیت ناک حصہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے تعلیمِ قرآن اور تعلیمِ بیان (یعنی اس کے معانی ومطالب کی تفہیم )کو باہم مربوط کر کے بیان کیا ہے۔اسی طرح یہ بھی بتایا کہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ،اسے نبی کریم ﷺ کے دل ودماغ میں محفوظ کرنا اورآپؐ کی زبان پرجاری کرنااللہ نے اپنے ذمے لیا ہے اور پھر یہ بیان بھی اُسی خالق ارض و سما کی طرف سے آیا ہے ،ملاحظہ ہو: الرحمٰن:۱تا۴، القیامہ:۱۶ تا۱۹۔ نیز قرآن کا بیان، یعنی معانی ومطالب اُسی ہستی پر نازل ہوئے جس پر قرآن نازل ہوا ، پس قرآن کو صاحبِ قرآن سے جدا کر کے سمجھا نہیں جاسکتا۔
عہدِ نبوت اور عہدِ خلافتِ راشدہ میں حافظِ قرآن کو قاریِ قرآن کہاجاتا تھا، لیکن اصطلاح کے فرق سے معنویت نہیں بدلتی۔ جھوٹے مدعیِ نبوت مسیلمہ کے ساتھ جنگِ یمامہ میں ۷۰ قراء کرام شہید ہوگئے تو حضرتِ عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تحریری شکل میں جمعِ قرآن کی ضرورت کی جانب متوجہ کیا اور اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: ’’اللہ نے اس حکمت کو سمجھنے کے لیے میرے سینے کو کھول دیا، جس کے لیے عمر کے سینے کو کھول دیا تھا‘‘،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفاے راشدینؓ کے نزدیک حفظِ قرآن حفاظتِ قرآن کا ایک معتمد ومستند ذریعہ تھا۔
حدیثِ پاک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قوم کی امامت وہ شخص کرے، جو سب سے عمدہ قراء ت کرنے والا ہواور اگرحُسنِ قراء ت میں سب برابر درجے کے ہوں تو اُسے ترجیح دی جائے، جو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو،اور اگر اس میں بھی سب مساوی درجے کے ہوں تو اُسے ترجیح دی جائے، جو ہجرت میں مقدم ہو، اور اگر اس میں بھی سب مساوی درجے کے ہوں تو اُسے مقدم کیا جائے جوبڑی عمر والاہو، (سنن ترمذی:۲۳۵)‘‘۔ اگر قاری اور عالم کا ذکر الگ الگ آئے تو ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ دونوں ہم معنیٰ ہیں ،لیکن جب ایک ہی عبارت یا مسئلے میں بالمقابل آئیں تو پھر دونوں کے معنی میں تفاوت ہوگا، جیساکہ سورئہ حجرات :۱۱ میں ایمان اور اسلام کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے، تو ان میں معنوی فرق ہوگا، ورنہ عام طور پر یہ ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی حفاظت کاانتظام اپنے ذمے لیا ہے،فرمایا: ’’بے شک ہم نے ذکر( قرآن )اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (الحجر۱۵:۹)‘‘۔ عالَمِ اسباب میں حفاظتِ قرآنِ کریم کے دو ذرائع ہیں :تحریری صورت میں محفوظ کرنا یا ذہن میں محفوظ کرنا۔ آج کل آڈیو وڈیو ریکارڈنگ بھی اس کا ایک ذریعہ ہے ،لیکن یہ ظاہری چیزیں کسی حادثے یا آفت کے نتیجے میں امکانی طور پر تلف ہوسکتی ہیں ،لیکن ذہنوں میں جو امانت محفوظ ہے، وہ تلف نہیں ہوتی۔
حفاظت کا یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے دیگر الہامی کتابوں اور صُحُفِ انبیاے کرامؑ کے بارے میں نہیں فرمایا۔ شاید اس کی حکمت یہ ہو کہ اُن کتابوں کی شریعت ایک محدود زمانے کے لیے تھی اور قرآنِ کریم کی شریعت تاقیامت جاری وساری رہے گی ۔اللہ تعالیٰ نے اسے تحریف سے محفوظ رکھا، فرمایا: ’’اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے ،یہ اُس حکمت والے کی نازل کی ہوئی کتاب ہے جو ہرتعریف کے لائق ہے،(حم السجدہ۴۱:۴۲)‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفظ ہوجانے کی آسانی کو سورئہ قمر:۱۷ میں وصف ِ کمال کے طور پر بیان فرمایا ہے، اور سورئہ اعلیٰ:۶ میں فرمایا: ’’ہم عنقریب آپ کو پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے‘‘۔

اسی طرح فرمایا:l ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سواکسی اور کے پاس سے آیا ہوتا تو یہ اس میں بہت اختلاف پاتے (النساء۴:۸۲)‘‘۔l’’کیا یہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں (محمد۴۷:۲۴)‘‘۔ l’’ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غوروفکر کریں (الحشر۵۹:۲۱)‘‘۔ l’’ اور ہم لوگوں کے لیے ان مثالوں کو بیان فرماتے ہیں اور ان مثالوں کو صرف علما سمجھتے ہیں (العنکبوت۲۹:۴۳)‘‘۔ قرآن نےواضح طور پربتایا۔ l’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدایش اور گردشِ لیل ونہار میں عقل مندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں ، جو کھڑے ہوئے ، بیٹھے ہوئے اور کروٹوں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یادکرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدایش میں (مستور حکمتوں پر)غوروفکر کرتے رہتے ہیں  (اورکہتے ہیں:)اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ ( کارخانۂ قدرت)بے مقصد پیدا نہیں کیا ، تو (ہرعیب سے)پاک ہے، سو ہمیں عذابِ جہنم سے بچا، (اٰل عمرٰن۳:۱۹۱)‘‘۔ پس، قرآن کے معانی ومطالب کو سمجھنے میں اپنی عقلی اور فکری صلاحیتوں کو استعمال کرنا مقصدِ نزولِ قرآن کا منشا ہے اور اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ 
رہا یہ سوال کہ ’’آیا معنی سے ناواقفیت کے باوجود تلاوتِ قرآنِ کریم دین کو مطلوب ہے اور یہ سعادت ہے‘‘، تو خود قرآن نے تلاوت کا ذکر بھی بطورِ مدح فرمایا: ’’اے چادر اوڑھنے والے! رات کو قیام کیا کیجیے مگر تھوڑا،آدھی رات تک یا اُس سے کچھ کم یا (اگر اس سے آپ کی طبیعت سیر نہ ہوتو) اس سے کچھ زیادہ کیجیے اور قرآن کو ٹھیرٹھیر کر پڑھیے،(المزمل۷۳:۱-۴)‘‘۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ترتیل، یعنی ٹھیر ٹھیر کر پڑھنے کا تعلق تلاوت سے ہے ،نیز فرمایا: ’’(کامل) مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیں اور جب اُن پر اُس کی آیات پڑھی جائیں تو اُن کے ایمان کو تقویت ملتی ہے اور وہ اپنے ربّ پر بھروسا کرتے ہیں‘‘۔ (الانفال۸:۲)

مضمون نگار عرفان شہزاد صاحب کی فکر کا مطلب یہ ہے کہ: ’’اگر کسی کو قرآن کے معانی اور مطالب نہیں آتے تومحض تلاوت بے سود ہے‘ ‘،حالانکہ کروڑوں کی تعداد میں مسلمان معانی کو نہیں جانتے لیکن نماز میں تلاوت کرنے کے وہ بھی یکساں طور پر پابندہیں۔ شاید اسی فکر کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کے سابق صدر ایوب خان کے دورِ حکومت (۶۹-۱۹۵۸ء) میں ایک دانش وَر ڈاکٹر فضل الرحمان نے کہا تھا: ’’نماز میں معنی جانے بغیر قرآنی آیات کی تلاوت بے سود ہے ،اردو میں ترجمہ پڑھا جائے‘‘۔ 
اللہ تعالیٰ نے البقرہ۲:۱۲۹ میں دعاے ابراہیمی کی صورت میں ، آلِ عمران :۱۶۴ میں بطورِ احسان، اور الجُمُعہ:۲میں حقیقتِ واقعی یا مظہرِ شانِ باری تعالیٰ کی صورت میں فرائض نبوت کو بیان فرمایا اور اس میں تعلیمِ کتاب وحکمت کو الگ فریضۂ نبوت بتایا اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کو مستقل بالذات فریضۂ نبوت بتایا ۔

احادیثِ مبارکہ میں تلاوت کامقصود بالذات اور باعثِ اجرِ عظیم ہونا بہت واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(قیامت کے دن) قاریِ قرآن سے کہا جائے گا:جس طرح تم دنیا میں ٹھیر ٹھیر کر قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے ،اب بھی اُسی ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھو اور جنت کے درجات کو طے کرتے جائو،کیونکہ تمھارے درجات کی ترقی کا سلسلہ وہاں جاکر ختم ہوگا،جہاں (دنیا میں کی گئی مقدارِ )تلاوت کا سلسلہ ختم ہوگا‘‘(سنن ترمذی:۲۹۱۴)۔ حدیثِ قدسی میں فرمایا: ’’جسے قرآن میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھے (یعنی کثرتِ تلاوت کی وجہ سے ذکر ودعا کا موقع بھی نہ ملے)تو میں اُسے (بن مانگے)سوال کرنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا‘‘ (سنن ترمذی:۲۹۲۶)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی سے فرمایش کرکے تلاوت سنی بھی ہے اور صحابی کو سنائی بھی ہے تاکہ تلاوت کرنا اور سننا دونوں سنتِ رسول قرار پائیں۔ حدیث میں ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سنائو (وہ بیان کرتے ہیں): میں نے عرض کیا: میں پڑھوں اور آپ سنیں،حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں دوسرے سے تلاوتِ قرآن کو سنوں،پس میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کو پڑھنا شروع کیا ،حتیٰ کہ میں اس آیت[۴۱] پر پہنچا،[ترجمہ:’’اے حبیبِ مکرّم! وہ کیسا منظر ہوگا جب ہم ہر اُمت پر (تبلیغِ حق) کے لیے (اُس عہد کے نبیؑ کو)گواہ کے طور پر لائیں گے اور پھر آپ کو اُن سب کی گواہیوں کی(توثیق کے لیے)لائیں گے‘‘] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رک جائو۔ میں نے اچانک( نظریں اٹھاکردیکھا تو)آپ کی آنکھوں سے[بطورِ تشکّر] آنسو بہہ رہے تھے[کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شان کو بیان فرمایا]، (بخاری: ۴۵۸۳)‘‘۔

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُبی بن کعبؓ سے فرمایا:اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں قرآن پڑھ کر سنائوں‘‘۔ اُبی بن کعبؓ نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرا نام لے کر فرمایا ہے؟، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں !اللہ تعالیٰ نے تمھارا نام لیا ہے‘‘۔ اُبی بن کعبؓ (فرطِ مسرّت سے) رونے لگے۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورۃ البینہ پڑھ کر سنائی، (بخاری:۴۹۶۰)‘‘۔

احادیثِ مبارکہ میں ہے: ’’(۱)حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی (شیریں) آوازوں سے مزین کرو،( ابوداؤد:۱۴۶۸)‘‘۔ اسی طرح بیان کرتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی آوازوں سے قرآن میں حُسن پیدا کرو،کیونکہ اچھی آواز سے قرآن کی خوب صورتی میں اضافہ ہوتا ہے، (سنن دارمی:۳۵۴۴)‘‘۔ ظاہر ہے کہ آواز کی خوب صورتی کا تعلق تلاوت سے ہے، قرآن کریم کے معانی ومطالب کو سمجھنے کا مدار علم ، فہم اور عقل پر ہے ،اس کا آواز کی خوب صورتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن کو اہلِ عرب کے لہجے اور آوازوں میں پڑھو اور یہود ونصاریٰ اور فاسقوںکے لہجے میں نہ پڑھو، کیونکہ میرے بعد عنقریب ایسی قوم آئے گی، جو گویّوں ،راہبوں اورنوحہ خوانوں کے طرز پر کلماتِ قرآن کو باربار لوٹا کرپڑھیں گے،قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اُن کے دلوں کو آزمایش میں ڈال دیا گیا ہے اور جو لوگ انھیں سُن کر اُن کی تحسین کرتے ہیں ،اُن کے دلوں کو بھی آزمایش میں ڈال دیا گیا ہے،(المعجم الاوسط:۷۲۲۳)‘‘۔ یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت خشوع وخضوع سے کرنی چاہیے، اس سے روح کو قرار وسکون ملنا چاہیے ، اسے محض لذتِ سماع کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ 

الغرض، شیریں کلامی ہی قرآن کا مقصود ومُدعا نہیں ہے ،حدیث میں فرمایا: ’’حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قراء ت وحفظِ قرآن میں ماہر ہے، اُس کا انجام معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا ہے اور (زبان میں لکنت کے باعث) اٹک اٹک کر دشواری سے پڑھتا ہے ،تو اس کے لیے دہرااجر ہے‘‘ (مسند احمد: ۲۶۲۹۶)۔ یعنی تلاوتِ قرآنِ کریم بالذات مقصود بھی ہے اور اللہ کے ہاں اجر کا باعث ہے ۔ 

اگر  قرآن کوصرف مطالب اور احکام کے جاننے تک محدود رکھا جائے، تو یہ قانون کی ایک کتاب بن کر رہ جائے گی ،حالانکہ کوئی شخص معانی نہ سمجھنے کے باوجود اسے اللہ کا کلام سمجھ کر پڑھتا یا سنتا ہے تو اس کا دل بھی روحانی کیف وسرور سے معمور ہوجاتا ہے اوراس کے دل پر اللہ کی جلالت طاری ہوتی ہے، خود قرآن کے کلمات اس پر شاہد ہیں کہ دل پر اللہ کی ہیبت طاری ہوتی ہے۔ لہٰذا، تلاوت کی اہمیت کو کم کرنا، یا کم تر سمجھنا تعظیم وحرمتِ قرآن کے کم کرنے کا سبب بنے گی اور سعادتِ تلاوت کے اجرسے محرومی کا باعث بنے گی۔ پھر تو لوگ قرآنِ کریم کے کلماتِ مبارکہ کو چھوڑ کر اردو تراجم میں محو ہوجائیں گے ،جب کہ اس پر امت کا اتفاق ہے کہ اردو ترجمہ قرآن کا معنی ضرور ہے ،لیکن یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور نہ اُن برکات کا حامل ہے جو کلامِ الٰہی کے لیے قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں ۔
 جو حضرات قرآن کا مقصود صرف اس کے معنی یا ترجمہ جاننے تک محدود رکھتے ہیں ، اُن کے نزدیک قرآن کو چھونے کے لیے باوضو اور پاک ہونا بھی ضروری نہیں ہے اور وہ سورۃ الواقعہ کی ان آیات کا وہ معنی مراد نہیں لیتے، جو جمہورِ علماے امت نے مراد لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک یہ بہت عزت والا قرآن ہے ،محفوظ کتاب میں ،اسے نہ چھوئیں مگر باوضو (الواقعہ: ۷۷-۷۹) ‘‘، یعنی قرآنِ مجید کو چھونے کے لیے حَدَثِ اصغر(بے وضوہونے) اور حدَثِ اکبر (جنابت)دونوں سے پاک ہونا چاہیے۔ حدیثِ پاک میں اس کے معنی یہی بیان کیے گئے ہیں : ’’قرآن کو نہ چھوئیں مگر باطہارت لوگ،(موطا امام مالک:۲۳۴)‘‘۔ 

  صحابہ کرامؓ اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ یہ جان سکیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ بہت ساری نیکیوں میںسے کون سی نیکی آخرت میں خیر کے پلڑے میں سب سے وزنی ہو گی؟
قرآن و سنت سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں جن سے ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سے ہیں ، اور اعمال کے درجے کیا ہیں؟ پھر یہ رہنمائی بھی ہے کہ ایک ہی عمل ایک وقت میں اگر اجر کے لحاظ سے افضل ترین ہوتا ہے تو دوسرے حالات یا وقت میں اس کا وہ درجہ نہیں رہتا۔ اسی طرح بُرے اعمال جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ، ان کے درمیان فرق کو قرآن و حدیث میں واضح کیا گیا ہے۔

دین میں ترجیحات اور ہمارا رویّہ

 ربّ کی رضا کے متلاشی اور اس کے لیے کوشش کرنے والے اور رب کی ناراضی سے بچنے والوں کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اعمال کے درجوں کے بارے میں علم حاصل کریں ۔ فرض ، واجب ، مستحب اور نفل میں کیا فرق ہے؟ یہ درجہ بندی کیوںہے اور کون سے اعمال کس زمرے میں آتے ہیں؟ ایسے ہی جن کاموں سے رُکنا ہے، ان میں بڑے گناہ یا کبائر، صغائر ، مشتبہہ اور مکروہ اعمال کون سے ہیں؟ یہی علم ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔یہ علم نہ ہو، تو ہم عمل کریں گے،    مگر غیراہم کو اہم بنا لیں گے اور اہم کو غیر اہم سمجھ لیں گے جو کہ بہت زیادہ نقصان کا سودا ہو گا۔  جو لوگ دین سے محبت رکھتے ہیں ،پابندی سے عمل کرتے ہیں، وہ بھی اکثر اوقات ان تفصیلات اور اس ترتیب تک کو نہیںجانتے۔
دین دار اپنی انفرادی زندگی میں نفلی حج اور رمضان کے عمرے پر خرچ کرنا زیادہ اہم جانتے ہیں بہ نسبت اس کے کہ اپنے خاندان کے کسی تنگدست کی مدد کی جائے ، کسی مصیبت زدہ ملک،فلسطین یا کشمیر کے باسیوں کی بنیادی ضرورتوں کے لیے عطیہ دیا جائے ۔ کوئی دعوتی اور تحریکی مرکز قائم کریں یا اس کی کفالت کریں، جہاں تخصص حاصل کر کے ایسے افراد تیار ہوں، جو دلیل کے ساتھ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے شبہات کا جواب د ے سکیں۔
 دین کا شعوری تعارف اور جذبہ بیدار ہونے کے بعد بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ کئی افراد اپنے تعلیمی میدان کو خیر باد کہہ کر ، دعوت و ارشاد کے لیے فارغ ہوجاتے ہیں۔ حالاںکہ اگر وہ اچھی نیت کے ساتھ، اپنے کام کو پوری مہارت کے ساتھ انجام دیتے، حدود اللہ کی پابندی کرتے، تو یہ عمل بڑی عبادت تصور ہوتا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے بڑے پیمانے پر یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تم اپنے پیشے چھوڑ کر دعوت و تبلیغ کے لیے فارغ ہو جائو۔ہجرت سے پہلے ، ہجرت کے بعد بھی یہی طریقہ رہا کہ سارے لوگ اپنے اپنے پیشے سے وابستہ رہے اور دعوت کا کام بھی سرانجام دیتے رہے۔ جب جہاد کے لیے اعلان ہوتا تو اس کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔
امام غزالی نے اپنے دور میں لوگوں کے لیے یہ بات ناپسند کی کہ ان کے اکثر طالب علم ، علم فقہ وغیرہ کی طرف متوجہ رہتے۔ دوسری طرف مسلم ممالک میں علاج معالجے کے لیے عیسائی یا یہودی طبیب ہی ہوتے، جو عورتوں اور مردوں کا علاج کرتے۔ 
۱۹۷۳ء میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبات کا ایک وفد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سے ان کی رہایش گاہ پر ملا، راقمہ بھی اس وفد میں شامل تھی۔ عرض کی: ’’ہم ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ، مرُدوں کی چیر پھاڑ (ڈاسیکشن) کر کے پڑھتے ہیں ،یہ مرُدوں کی بے حرمتی میں آتا ہے۔ ہم دین پر مکمل عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم میڈیکل کی   تعلیم چھوڑ دیں‘‘۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ہمارے اجتہاد سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ: ’’اگر سب اس طرح سوچیں ،تو ان شعبوں میں جس اصلاح کی ضرورت ہے ، وہ کون کرے گا؟‘‘ آپ نے اس کام کو بہ کراہت مکمل کرنے اور بڑے ہدف پر نظر رکھنے کا کہا اور مثال دی کہ گلاس کے گدلے پانی کو صاف پانی سے بدلنا ہو تو اس عمل میں درمیان کا وقت ، گدلے پانی کا ہو گا، مگر صاف پانی تک پہنچنے کے لیے اس گدلے پانی سے گزرنا ، ناگزیر ہے۔ اس کے سوا چارہ نہیں ،سو آپ اپنی تعلیم جاری رکھیں اور آیندہ اس کوخلاف اسلام امور سے پاک کریں۔
علامہ یوسف القرضاوی لکھتے{ FR 644 } ہیں کہ امریکا، کینیڈا اوردوسرے یورپی ممالک میں رہایش پذیر مسلمان،ہم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہیں کہ گھڑی دائیں ہاتھ میں پہنیں یابائیں ہاتھ میں، کوٹ پتلون پہناجاسکتا ہے یا شلوار قمیص پہننا فرض ہے؟عورتوں کامسجدوں میں جانا حلال ہے یا حرام؟
ترجیح کو نظرانداز کرنے کی روش پر چلتے ہوئے، ہم نے ان بہت سارے فرائض کفایہ کو چھوڑدیا ہے، جو مسلمان امت کو دنیا کی قیادت کے منصب پرفائز کرنے کے لیے ناگزیر تھے،مثلاً سائنسی،عسکری ،صنعتی برتری۔
بعض ایسے امور کوبھی چھوڑ دیا ہے، جو فرض عین کے درجے میں آتے ہیں، یعنی یہ کہ ہر فرد پر ان کا کرنا لازم ہے۔اگر چھوڑا نہیں تو انھیں وہ مقام نہیںدیا جودینا چاہیے تھا۔امربالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ بیان کرتے ہوئے ،اللہ تعالیٰ نے سورئہ توبہ کی آیت ۷۱ میں اسے نماز اورزکوٰۃ سے پہلے بیان کیاہے۔اس فریضے کے ترک پربنی اسرائیل کے لیے ان کے نبیوں کی زبان سے لعنت کی گئی ہے۔
بعض اُمور کوبعض پرزیادہ اہمیت دے رکھی ہے۔بہت سارے بے نمازی ،رمضان کے روزے شوق سے رکھتے ہیں۔بعض کے ہاں نوافل کااتنا اہتمام کہ فرائض اور واجبات کابھی وہ اہتمام نہیں ہے۔
عبادات پہ بجاطور پر توجہ ہے،مگر معاشرتی فرائض کاوہ درجہ نہیں ہے۔جن میں والدین سے حُسن سلوک،رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی،یتیموں اورمسکینوں کاخیال رکھنا،اہل خانہ کے حقوق شامل ہیں۔ دوسری طرف یہ صورت حال بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ دعوت کاکام کرنے کاایسا شوق اور مشغولیت کہ گھر میں بچوں کی تعلیم وتربیت،خانگی ضروریات اوربزرگوں کی خدمت میں کوتاہی ہونے لگتی ہے۔
ملازمت میں ایسی مشغولیت ہے کہ دین کاعلم سیکھنے اوردعوت کے کام کے لیے وقت نکالنا گراں محسوس ہوتا ہے۔مرکزومحور اپنی ذات ہے تومال بھی یہاں ہی خرچ ہوتا ہے۔کہیں اورخرچ کرنے کے لیے بچتا ہی نہیں ہے۔
چہرے کے پردے کی ایسی سختی کہ گھر میں آئے شوہر کے محرم رشتہ دار کے لیے دروازہ کھولنا اور بٹھانا تک ناممکن۔ گھر آئے مہمانوں کی مناسب میزبانی کے بجاے پردے کی بنا پر کمرے میں بند ہوجانا۔ دوسری طرف ملازمت اوراعلیٰ تعلیم کاایسا شوق اورآگے بڑھنے کی اتنی لگن کہ گھر باربچے،سب اس پر قربان کردیے جاتے ہیں۔
یہ سب خرابیاں اس بنا پر آتی ہیں کہ ہمیں ترجیحات کاتعین معلوم نہیں،کس وقت کون سا کام اہم ترین ہے،کس کوکس پرترجیح دینی ہے اورکس کوچھوڑ دیں تو خیر ہے؟ اس کے لیے یہ علم ناگزیر ہے کہ اعمال کے درجے کیا ہیں،اورحالات کے ساتھ ان کے درجے کیسے بدل جاتے ہیں؟

اعمال میں ترجیحات کی اہمیت

ترجیحات کی اہمیت، اللہ تعالی کے اس ارشاد سے بھی واضح ہوتی ہے:
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھیرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جان فشانی کی اللہ کی راہ میں۔ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ اللہ کے نزدیک تو انھی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑ ے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں۔(التوبہ ۹:۱۹-۲۰)  
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس بات کی وضاحت کرتا ہے۔ فرمایا:
اَلْایمَانُ بِضْعٌ وّسَبْعُونَ شُعبَۃً، اَعْلَا ھَا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ وَاَدْنَا ھَااِمَاطَۃُالْائَ ذَی عَنِ الطّرِیْق (بخاری،کتاب الایمان) ایمان کے۷۰ کے لگ بھگ شعبے ہیں ان میں سے اعلیٰ شعبہ لا الٰہ الا اللہ ہے اور ادنیٰ یہ کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا جائے۔ 
 قرآن و سنت میں اس حوالے سے جو تعلیمات وارد ہوئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں افضل، اولیٰ اور سب سے پسندیدہ اقدار و اعمال کیا ہیں؟ یعنی فرض، واجب، مستحب اور نوافل کون کون سے ہیں؟یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے ان کے درمیان کیا فرق ہے؟ بعض احادیث میں ان کے درمیان جو نسبت ہوتی ہے وہ بیان کر دی گئی ہے جیسے: 
باجماعت نماز انفرادی نماز سے ۲۷درجے فضیلت رکھتی ہے۔(بخاری، کتاب الاذان، ابواب صلاۃ الجماعۃ ، حدیث: ۶۲۸)
اللہ کی راہ میں ایک ساعت پہرہ دینا اس سے بہتر ہے کہ آدمی لیلۃ القدر کو حجراَسود کے پاس کھڑا عبادت کرتا رہے۔ (بیہقی، باب فی المرابطۃ، حدیث: ۴۱۰۵)
اسی طرح بُرے اعمال کی بھی درجہ بندی موجود ہے۔ ان میں کچھ کبائرہیں، کچھ صغائر ہیں، پھر مکروہات اور مشتبہات ہیں۔ بعض اوقات ان کی بھی آپس میں نسبت بیان کی گئی ہے، مثلاً ایک آدمی جان بوجھ کر ایک درہم سود کھائے تو یہ اس سے شدید تر ہے کہ ایک شخص۳۶ بار زنا کا مرتکب ہو( دارقطنی، کتاب البیوع، حدیث: ۲۴۸۷)۔ لیکن اس کا مطلب زنا کو کم تر ثابت کرنا نہیں، بلکہ سود کے ناجائز ہونے کی شدت کو واضح کرنا ہے۔
 قرآن پاک میں یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ سارے لوگ مرتبے کے لحاظ سے برابر نہیں ہیں بلکہ علم و عمل کے لحاظ سے لوگوں کے دمیان فرق ہوتا ہے۔ فرمایا:’’ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، ان دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگر چہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں او ر مغفرت او ررحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (النساء ۴:۹۵-۹۶)

ترجیحات کے درمیان موازنہ

یہ موازنہ دراصل بھلائیوں کا آپس میں موازنہ کرنا ہے۔ دوسرے برائیوں کا آپس میں موازنہ ہے، اور تیسرے بھلائیاں اور برائیاں جب دونوں موجود ہوں تو اس وقت ان کے درمیان موازنہ کر کے فیصلہ کرنا ہے۔ بھلائیوں کے موازنے کے تین درجات ہیں۔ یہ تین درجے، ضروریات، حوائج یا آسانیاں اور محسنات یا تعیشات ہیں۔
 ضروریات وہ ہیں جو زندگی کے لیے ضروری اور بنیادی ضرورتیں ہیں:
حوائج یا آسانیاں وہ ہیں، جن کے بغیر زندگی توگزر جاتی ہے مگر مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ محسنات اور تعیشات وہ ہیں جو زندگی کو حسین و جمیل اور انتہائی آرام دہ بنا دیتی ہیں۔
 سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ، یعنی گھر بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے اندر مہمان کے لیے کمرہ، مکین کے لیے کمرہ، کھانا پکانے کی جگہ وغیرہ وغیرہ آسانیاں مہیا کرتے ہیں، لیکن ان کو بہت کشادہ کرنا، بہت سجانا وغیرہ تعیشات میں آتے ہیں۔ ضروریات کا اہتمام کرنا فرض ہے۔ آسانیاں حاصل کرنے کی گنجایش ہے مگر تعیشات ناپسندیدہ ہیں۔ اس لیے ضروریات کو آسانیوں پر ترجیح اور آسانیوں کو تعیشات پر ترجیح دینا ضروری ہے ۔
 ضروریات میں بھی پانچ چیزیں ہیں: دین، جان ، نسل، عقل اور مال۔ ان میں دین پہلے اور سب سے اہم ہے اور باقی ضروریات پر مقدم ہے۔ یہاں تک جان پر بھی مقدم ہے اور جان باقی ضروریات پر مقدم ہے۔
بھلائیوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھائے جائے: بڑی مصلحت چھوٹی مصلحت پر مقدم ہے ، جماعتی مصلحت جس میں سب کا فائدہ ہو، انفرادی مصلحت پر مقدم ہے ، اکثریت کی مصلحت ،اقلیت کی مصلحت پر مقدم ہے، دائمی مصلحت عارضی مصلحت پر مقدم ہے۔ مستقبل کی قوی مصلحت حال کی کمزور مصلحت پر مقدم ہے، جیسے صلح حدیبیہ میں نبیؐ نے اصل اور بنیادی، مستقبل کی مصلحتوں کو ظاہر اور فوری مصلحتوں پر مقدم رکھ کر شرائط قبول کرلیں۔
 برائیوں کے درمیان موازنہ بھی ضروری ہے۔ اس لیے کہ ان کے بھی مختلف درجے ہیں۔ وہ برائیاں جو مال کے نقصان کا ذریعہ بنیں ان کا درجہ کم ہے۔ اُن سے جوجان کے نقصان کا باعث بنیں، اور جان کے نقصان والی کا درجہ دین کے نقصان کا باعث بننے والی برائیوں سے کم ہے۔
 پھر برائیاں اپنے حجم، اثرات اور خطرات کے لحاظ سے بھی مختلف درجوں کی حامل ہوتی ہیں۔ ان کے لیے فقہا نے بعض قواعدوضع کیے ہیں، مثلاً دو برائیوں میںسے کم تر کا انتخاب کیا جائے یا بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کو برداشت کیا جائے۔
 اگر کسی معاملے میں بھلائیاں اور برائیاں یا فائدے اور نقصان دونوں ہوں تو ان کے درمیان بھی موازنہ کئے بغیر چارہ نہیں۔ کسی معاملے میں برائیاں زیادہ اور فائدے کم ہوں تو اس کو اختیار نہیں کیاجائے گا۔ یہی بات قرآن نے شراب کے مسئلے میں سمجھائی: ’’پوچھتے ہیں: شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ کہو: ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگر چہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ اُن کے فائدے سے بہت زیادہ  ہے‘‘۔(البقرہ۲ :۲۱۹)
ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے ، ایک اور نکتہ ایمان اور اعمال میں ترجیح کے تعین کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف کرو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے‘‘ (البقرہ۲:۱۷۷)۔ یعنی ایمان سب سے مقدم ہے اور عمل اس کے بعد ہے۔ ایمان پہلے لانا ہو گا، پھر عمل اور جتنا ایمان مضبوط ہو گا، اتنا عمل بہتر ہو گا۔
ایمان کے بعد اعمال ہیں اور اعمال میں ترتیب: فرائض ، واجبات اور مستحبات ہے۔ بنیادی فرائض میں عبادت: یعنی نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃہیں۔ ان فرائض میں بھی فرائضِ العین ہیں اور فرائضِ کفایہ ہیں۔ فرضِ عین اہم تر ہے۔ فرضِ عین وہ ہے جس کی ادایگی ہر فرد پر لازم ہے۔ اس کے بعد فرض کفایہ ہے، یعنی کچھ لوگ کر لیں تو بقیہ پہ لازم نہیں رہتا لیکن کچھ حالات میں فرضِ کفایہ فرضِ عین بن جاتا ہے۔ اگر ایک محلے میں ۵۰فقیہہ ہیں اور ایک طبیب ہے اور وہ بھی غیرمسلم تو طب کا علم حاصل کرنا، فرضِ کفایہ نہیں ، فرضِ عین ہو گا۔ فرضِ عین میں حج پر نماز مقدم ہے، اور فرائضِ کفایہ میں والدین کی خدمت مقدم ہے جہاد پر۔ یعنی حالات کے لحاظ سے ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا گورنر بنا کر روانہ کیا تو ہدایت کی: پہلے اللہ اور اس کے رسولؐ پہ ایمان کی دعوت دینا۔ پھر پانچ نمازوں کا کہنا، مان لیں تو صدقہ اور پھر زکوٰۃکا حکم دینا۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، حدیث ۱۳۴۲)
تربیتِ نبویؐ کے انداز کو سمجھنا بھی اہم تر ہے۔ جس میں پہلے ارکانِ اسلام اور اساسیات ، بنیادی امور کی تعلیم دیتے اور پھر جزئیات پر عمل کی تلقین فرماتے۔ دین کے مزاج کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ آدمی سنن اور نوافل میں مشغول رہے اور فرائض سے غفلت اور سستی اختیار کرے۔ 
بعض اوقات راتوں کو اُٹھ کر نمازِ تہجد کا اہتمام کرنے والے، صبح اپنی ملازمت کو ایسے جاتے ہیں کہ تھکاوٹ اور سستی دور نہیں ہوئی ہوتی، حالانکہ یہاں کے وقت کی وہ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ وہ اس کا پورا پورا حق ادا نہیں کر پاتے۔ گویا  اچھے طریقے سے کام کرنا بھی فرض ہے۔ 
علامہ یوسف القرضاوی لکھتے ہیں کہ: یہ کوتاہی امانت میں خیانت ہے اور مہینے کے آخر میں آدمی جو تنخواہ لیتا ہے وہ حرام کا مال ہوتا ہے۔ رات کا قیام نفل ہے ،جو اللہ نے فرض نہیں کیا۔ فقہانے یہ بات طے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفل کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ فرض کو ادا نہ کیا جائے۔ 
امام راغب فرماتے ہیں کہ: جو شخص فرض کی ادایگی میں نفل سے غافل رہا، اس کو معذور سمجھا جائے گا، مگر جو شخص نفل کی ادایگی کا اہتمام کرے مگر فرض سے غافل ہوگیا، وہ دھوکے میں ہے۔ 
فرضِ عین میں حقوق العباد، حقوق اللہ پہ فوقیت رکھتے ہیں۔ علمانے کہا ہے کہ اللہ کے حقوق مسافت، یعنی نرمی و چشم پوشی پر مبنی ہیں، اور حقوق العباد مشاخت ،یعنی لڑائی جھگڑے پر مبنی ہیں۔ مثال یوں ہے کہ حج واجب ہے اور دوسری طرف قرض کی ادایگی واجب ہے، تو ان میں قرض کی ادایگی پہلے کرنا ہو گی۔ 
فرائض میں اور حقوق العباد میں جو فرائض جماعت کے حقوق سے تعلق رکھتے ہیں ، ان فرائض پر جن کا تعلق افراد کے حقوق سے ہے، ان کو ترجیح حاصل ہو گی۔ 
مثال کے طور پر حکومت کا ٹیکس لگانا بظاہر چند افراد کے مال کو نقصان پہنچانا ہے، مگر اس سے حکومت بہت سارے افراد کے لیے درکار ملکی ضروریات کو پورا کرتی ہے، تو یہ ایک افضل عمل ہے کہ یہ ملک کی حفاظت یا رفاہ عامہ کے دیگر امور کے لیے ضروری ہے۔ 

منہیات میں ترجیح کا تعین

منہیات،یعنی جن کاموں سے منع کیا گیا۔ان کی اقسام اور ان میں ترجیح کا علم ہونا بھی اہم ہے۔ اس فہرست میں درج ذیل کو ذہن میں رکھنا ہو گا:

  • گناہ:اس کی بھی دو قسمیں اور درجے ہیں: گناہِ کبیرہ اور گناہِ صغیرہ۔ 
  • گناہِ کبیرہ: اس کے کرنے والے پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے اور وہ اللہ کی لعنت اور جہنم کی آگ کا مستحق بنتا ہے۔ یہ فہرست ان ہی وعیدوں کے مستحقین سے مرتب کی گئی ہے۔ بعض اوقات ان کی وجہ سے حد لازم آتی ہے۔ قرآن پاک نے بعض کبائر کی تعریف بھی متعین کر دی ہے۔ ان میں السبع المہلکات،یعنی سات مہلکات شامل ہیں۔ یہ ہیں شرک، اللہ کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا، جادوکرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، پاکیزہ اور بے خبر مومنات پر الزام لگانا، میدانِ جنگ میں دشمن سے منہ موڑنا ۔ اسی طرح کا معاملہ ان گناہوں کا بھی ہے، جو صحیح احادیث میں بتائے گئے ہیں۔ ان میں والدین کی نافرمانی، قطع رحمی، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسم، شراب نوشی، زنا، ہم جنسیت، خودکْشی، راہزنی، غصب، مالِ غنیمت میں خیانت، رشوت، چغلی کھانا۔ بنیادی فرائض نماز، روزہ، زکوٰۃ اور استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا بھی کبائر میں آتے ہیں-ان عملی کبیرہ گناہوں میں پھر کچھ زیادہ بڑے ہیں، مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں اکبر الکبائر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر آپ ? نے شرک کے بعد والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی کو گنتی کر کے بتایا۔ (بخاری، حدیث: ۵۹۲۷)شریعت نے اس حوالے سے گناہوں کی درجہ بندی اور فرق بیان کیا ہے، کہ کچھ گناہ وہ ہیں جو آدمی کسی کمزوری کی وجہ سے کر لیتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو سرکشی کا نتیجہ ہیں، مثلاً، زنا کمزوری اور سود سرکشی کی مثال ہے۔ سود کے ستر درجے قرار دیے گئے ہیں اور ان میں سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں کو بیوی بنائے۔ (ابن ماجہ ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، حدیث: ۲۲۷۱)ہمارے ہاں زنا، یا اجنبی فرد اور عورت کے درمیان رابطے کو بجاطور پر بہت بُرا سمجھا جاتا ہے مگر سود سے نفرت یا بچنا اور بچنے کے لیے چوکنا رہنا، گویا معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ کتنے سودی کاروبار ہیں ، سودی نظام پر چلنے والے ادارے ہیں ، جن میں ہم شامل ہیں۔ کتنے بنک اکاؤنٹس محض سستی کی بنا پر یا شک کی بنیاد پر ، کرنٹ یا نفع  و نقصان کے اکاونٹ میں تبدیل نہیں ہوپاتے۔ سودی بنکوں سے اسلامی بنکوں میں اکاؤنٹ منتقل کروانا بسا اوقات مہینوں ہماری فرصت کا محتاج رہتا ہے۔ 
  •  قلبی گناہِ کبیرہ:عملی کبیرہ گناہوں کے علاوہ دوسری قسم قلبی گناہِ کبیرہ ہیں۔   کبیرہ گناہ صرف ظاہری ہیں کہ جو نظر آئیں، جب کہ قلبی گناہ وہ ہیں، جو ہماری سوچ اور دل میں جگہ بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور بسا اوقات بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے گناہ میں فرق یہ تھا کہ حضرت آدمؑ کی نافرمانی ظاہری اور جسمانی تھی، انھوں نے فورا توبہ کر لی۔ ابلیس کی نافرمانی کے پیچھے قلبی تکبر اور رعونت تھی کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس قلبی کیفیت کی بنا پر وہ رجوع کرنے کے بجاے ہٹ دھرمی کی راہ پر چل پڑا۔ قلبی گناہوں کے بارے میں زیادہ سخت وعید ہے اور ان سے محتاط رہنے کی زیادہ تاکیدہے کہ یہ عملی کبائر کا محرک بھی بنتے ہیں۔ ان میں کچھ قلبی گناہ ہوں، کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے: 
  • تکبر: قرآن پاک میں اس طرف اشارہ یوں کیا گیا ہے، شیطان کا اللہ سے مکالمہ ہے:’’میں اس سے بہتر ہوں‘‘۔ (ص ۳۸: ۷۶) حدیث:’’آدمی کے لیے اتنا شر بہت ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے‘‘۔ ’’وہ ان لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرورِ نفس میں مبتلا ہوں‘‘۔ ( النحل۱۶:۲۳)خود احتسابی کی ضرورت ہے کہ کہاں کہاں اور کب کب میں نے اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ سمجھا۔ علم، عمل، عبادات، تحریر، تقریر، معاملات وغیرہ وغیرہ۔ 
  • بغض اور حسد: حضرت آد م علیہ السلام کے بیٹے کے قتل کا محرک حسد تھا، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’پناہ مانگو اور حاسد کے شر سے، جب کہ وہ حسد کرے‘‘۔ (الفلق۱۱۳:۵)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی بڑی وعید ہے کہ :’’ایمان اور حسد بندے کے دل میں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے‘‘۔ (صحیح ابن حبان ، کتاب السیّر، باب فضل الجہاد، حدیث: ۴۶۷۶)
  •  طمع و لالچ : قلبی گناہوں میں جو کبائر ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ:’’تین مہلکات ہیں: ایک طمع و لالچ جس کی پیروی کی جائے، دوسری خواہش جس کے پیچھے چلا جائے، اور تیسرا آدمی کا اپنے آپ میں گم ہو جانا‘‘۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث:۵۵۵۶) شح   ،یعنی طمع و لالچ ، دو امراض بخل اور حرص کے مجموعے کا نام ہے۔ بخل صرف مال کے حوالے سے ہوتا ہے اور شح  کسی سے بھلائی کرنے یا کسی بھی عبادت میں کشادہ دلی سے روکتی ہے۔ 
  • شدید خواہشِ نفس: اللہ فرماتا ہے:’’پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا  جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ (الجاثیہ ۴۵:۲۳)خواہشِ نفس علم کے باوجود آدمی کو گمراہ کر دیتی ہیں اور اس کی بصیرت سلب کر لیتی ہے۔ 
  • خود پسندی:یہ کہ آدمی اپنے عیبوں کہ نہ دیکھے خواہ وہ کتنے ہی بڑے ہوں اور اپنے محاسن اور خوبیوں کو دور بین سے دیکھے اور انھیں بڑا کر کے ہر وقت پیش کرتا رہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ وہ برائی جو تمھیں پریشان کر دے، اس بھلائی سے بہتر ہے جو تمھیں خود پسندی میں مبتلا کر دے۔ یعنی وہ مصیبت جس پر تم اپنے آپ کو ذلیل محسوس کرو اور انکسار اختیار کرو، اس عبادت سے بہتر ہے جو تمھارے اندر خودپسندی اور استکبار پیدا کر دے۔ 
  • ریاکاری: قلبی گناہوں میں ریاکاری ایسی بیماری ہے کہ جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہے اور اسے اللہ قبول نہیں کرتا، اگرچہ وہ عمل یا اس کا ظاہر لوگوں کے لیے کتنا ہی خوب صورت اور حسین ہو: ’’پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں، جو ریاکاری کرتے ہیں‘‘۔ (الماعون۱۰۷:۴-۶) 

ریاکاری ایک طرح کا شرک ہے۔ ریا کار کا اپنے عمل سے مقصود اللہ کی رضا نہیں ہوتا بلکہ  یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس سے راضی ہوں، اس کی تعریف کریں اور اس کی بزرگی وشرافت کا تذکرہ کریں۔ ایسے شخص کا عمل لوگوں کو راضی کرنے، ان کے درمیان اپنا مقام و مرتبہ بلند کرنے کی سعی ہوتی ہے، اور بظاہر لوگوں کو دکھاتا ہے کہ وہ رب کو راضی کرنا چاہتا ہے۔ اللہ اسے روزِ قیامت ذلیل کرے گا۔ (مختلف احادیث کا مفہوم)

  •  دنیا کی محبت اور طلب: یہ دنیا کی محبت اور اس کو حاصل کرنے کو آخرت پر فوقیت دینا ہے۔ خطرے کی بات اس کو مقصود و مطلوب بنا لینا ہے:’’جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں، ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘۔ (ھود۱۱:۱۵-۱۶)
  • جاہ اور عہدے کی محبت: آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو دنیا میں بڑے نہیں بنتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامیدی بھی قلبی گناہوں میں سے ہے۔ فرمایا: ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں‘‘۔ (یوسف ۱۲:۸۷)
  • صغیرہ گناہ:کبائر کے بعد، ترجیح میں دوسرے نمبر پر یا مہلک ہونے کے حوالے سے نسبتاً کم تر صغیرہ یا چھوٹے گناہ ہیں۔ لیکن یہ امر ملحوظ ِ خاطر رکھیے کہ اگر کوئی صغیرہ گناہوں کو معمولی سمجھے اور ان پر عمل کرتا رہے، اصرار کرے تو یہ حقیر یا صغیرہ گناہ بھی کبیرہ گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اور کبائر کفر کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان گناہوں میں اکثر آدمی کبھی نہ کبھی مبتلا ہو جاتا ہے اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ آدمی نے کبھی کوئی صغیرہ گناہ نہ کیا ہو۔تاہم، یہ ایسے گناہ ہوتے ہیں جو ہماری عبادات، نماز، روزہ ، قیامِ لیل وغیرہ سے بخش دیے جاتے ہیں، جب کہ کبیرہ گناہوں کا یہ معاملہ ہے کہ وہ توبۃ النصوح کیے بغیر نہیں بخشے جائیں گے۔ 

یہ بھی ذہن میں رہے کہ حالات زمانہ اور ارتکاب کرنے والے فرد کے لحاظ سے بھی گناہ میں فرق آ جاتا ہے، جیسے کنوارے ، شادی شدہ اور بوڑھے کے زنا میں فرق ہے۔ اسی طرح مسجد میں یا ہمسایے سے زنا میں فرق ہے۔ 

  • حرام: وہ محرکات جن کی حرمت قرآن پاک سے ثابت ہو وہ حرام ہیں: ’’اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ کہ مُردار نہ کھاؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو‘‘۔ (البقرہ۲:۱۷۳)

کمائی میں تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کہا ہے۔ یعنی جس چیز کی حرمت کو قرآن و سنت میں صراحت سے بیان کر دیا گیا ہے وہ حرام ہے۔ 

  • بدعت: یہ بھی گناہ کے ساتھ ہی شامل ہے۔ بدعت وہ ہے جس کو لوگوں نے دینی معاملات میں نیا ایجاد کیا ہو۔ یہ بدعت اعتقادی بھی ہو سکتی ہے ، قولی بھی اور عملی بھی۔ اس کا کرنے والا اللہ کا قرب چاہتا ہے۔ اس کاعقیدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کر رہا ہے، عبادت کر رہا ہے۔ 

ابلیس کو گناہ کے مقابلے میں بدعت زیادہ اچھی لگتی ہے کیوں کہ بدعت کا کرنے والا نہ توبہ کرتا ہے، نہ باز آتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی اس کی طرف بلاتا ہے۔ بسا اوقات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امور کو مزید ’معتبر‘ بنانے کی کوشش میں عملاً تحریف کردیتا ہے۔
بدعتیں بھی مختلف درجات کی ہیں۔ کچھ بدعات مغلظہ جو آدمی کو کفر تک پہنچاتی ہیں جیسے وہ فرقے جو اسلام کے اصول سے ہی نکل جاتے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو کفر تک تو نہیں فسق تک پہنچا دیتی ہیں۔

  • مشتبہات: مشتبہات وہ ہوتی ہیں جن کا حکم اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا اور اس کے حلال اور حرام ہونے میں اشتباہ ہوتے ہیں۔ 

ایک اَن پڑھ آدمی کو کسی با اعتماد عالم سے پوچھ لینا چاہیے۔ خود مشتبہات کے حوالے سے لوگوں کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ وسوسے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اور انتہائی معمولی مناسبت ہو، تب بھی، مشتبہات کی تحقیق میں وقت اور صلاحیت صرف کرتے ہیں۔ بعض تاویلات کر کے ناممکن کو ممکن بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اللہ کسی مسلمان سے اتنی گہرائی میں جانے اور اتنی نکتہ چینی کا تقاضا نہیں کرتا۔ صحابہ کرامؓ مشرکین اور اہلِ کتاب سے لین دین کرتے تھے، حالانکہ ان کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ تمام حرام چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے۔
اگر معاملہ مشتبہ ہو تو اس کو چھوڑ دینا بہتر ہے۔ حضرت سفیانؓ کہتے ہیں کہ مجھے اس سے کوئی رغبت نہیں، اسے اختیار کرنے کے مقابلے میں مجھے اس کا ترک کرنا زیادہ مرغوب ہے۔ 
اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی پڑوسی ہے جو کھلم کھلا سود کھاتا ہے اور حرام لینے سے نہیں ہچکچاتا، وہ مجھے اپنے ہاں کھانے پر بلاتا ہے تو میں کیا کروں؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس کی دعوت کو قبول کرو۔ یہ تمھارے لیے جائز ہے اور گناہ اسی کے ذمے ہے۔(مصنف عبدالرزاق، حدیث: ۱۴۱۹۰)

  • مکروہات: مکروہ وہ ہیں جس کے ترک کرنے میں اجر اور ان کے کرنے میں گناہ نہیں ہوتا۔ سب سے ادنیٰ درجہ مکروہات کا ہے۔ مکروہات میں بھی کچھ وہ ہیں جو حرام سے زیادہ قریب ہیں، جیسے مکروہ تحریمی، اور کچھ وہ ہیں جو حلال سے زیادہ قریب ہیں، جیسے مکروہِ تنزیہی، مثلاً ٹیک لگاکر کھانا کھانا، اونچی آواز نکالنا، بخار کو گالی دینا وغیرہ۔ 

پاکستان کی وفاقی حکومت ’دینی مدارس کوقومی دھارے میں لانے‘ کے دعوے کے ساتھ مذاکرات، بیانات اور دبائو کو بروے کار لارہی ہے۔ اتحاد تنظیماتِ مدارس دینیہ کے نمایندہ وفد کی یکم اپریل ۲۰۱۹ء کو آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ۲؍اپریل کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقاتوں سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ پھر وفاقی وزارتِ تعلیم اور وفاق ہاے مدارس کے مابین ۶مئی ۲۰۱۹ء کو ایک اہم اجلاس ہوا جس کی رپورٹ اخبارات میں یوں چھپی:
وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت دینی مدارس کے حوالے سے ایک اہم اجلاس میں اتحاد تنظیماتِ مدارس پاکستان کے سربراہان اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ :
    ۱-    تمام دینی مدارس و جامعات، اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے ساتھ طے شدہ رجسٹریشن فارم کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے۔ 
    ۲-    اس مقصد کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت پورے ملک میں۱۰؍ریجنل دفاتر رجسٹریشن کے لیے قائم کرے گی۔
    ۳-    وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدارس و جامعات کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کی مجاز اتھارٹی ہو گی۔ 
    ۴-    جو مدارس و جامعات وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ نہ ہوں گے، وفاتی حکومت اُنھیں بند کرنے کی مجاز ہو گی۔ 
    ۵-    جو مدارس و جامعات رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے ، اُن کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔
    ۶-    وہ مدارس و جامعات جو وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے، اُنھیں بنکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم معاونت کرے گی۔
    ۷-     وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس وجامعات ہی غیر ملکی طلبہ کو تعلیم کی سہولت مہیا کر سکیں گے ۔ اس سلسلے میں وزاتِ تعلیم کی سفارش پر ان طلبہ کو اُن کی مدتِ تعلیم (جو زیادہ سے زیادہ ۹ سال ہوگی) اور حکومتی قواعد وضوابط کے مطابق ان کے لیے ویزوں کے اجرا میں معاونت کرے گی۔
    ۸-    ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے وزارت کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس وجامعات میٹرک اور ایف اے کے بعد فنی تعلیمی بورڈ کے ساتھ الحاق کر سکیں گے۔
        اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، نائب صدر’وفاق المدارس العربیہ، مُفتی محمد رفیع عثمانی ،ناظمِ اعلیٰ وفاق المدارسُ العربیہ، پاکستان‘ مولانا محمد حنیف جالندھری، صدر ’تنظیم المدارس اہل سُنّت‘، مفتی مُنیب الرحمٰن، جنرل سیکرٹری ’وفاق المدارس السّلفیہ،  مولانا محمد یٰسین ظفر ،نائب صدر’ وفاق المدارس الشیعہ، سیّد قاضی نیاز حسن نقوی، جنرل سیکرٹری، رابطۃ المدارس الاسلامیہ، ڈاکٹر عطاء الرحمٰن ،جنرل سیکریٹری’وفاق المدارس الشیعہ‘، مولانا محمد افضل حیدری اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ (روزنامہ نواے وقت، ۷مئی ۲۰۱۹ء)

چند روز قبل اسی فیصلہ کی بازگشت دوبارہ یوں سنی گئی:

’’وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود(۱) نے اعلان کیا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ملک بھر میں ۱۲ مراکز کھولے جائیں گے اور مدارس کے مسائل کا حل وزارتِ تعلیم مقامی انتظامیہ سے مل کر نکالے گی۔ ’ایک قوم ایک تعلیم ‘ہمارا ہدف ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن سے نہ صرف مدارس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے گی بلکہ اس سے یکساں تعلیمی نصاب رائج کرنے میں بھی آسانی ہوگی‘‘۔(روزنامہ نواے وقت ، ۲۷ جولائی ۲۰۱۹ء)
مذاکرات کے دوسرے دور میں ۱۶جولائی کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باوجوہ سے ملاقات ہوئی۔۱۷ جولائی ۲۰۱۹ء کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سابقہ فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ طلبہ مدارس کی میٹرک اور ایف کی اسناد کے لیے یہ ہدایت کی گئی کہ:ان کے جملہ امتحانات وفاقی ثانوی تعلیم بورڈ (فیڈرل بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) کے تحت منعقد کروائے جائیں گے۔ اساتذہ اور ممتحن حضرات کی خصوصی تربیت کی جائے گی۔ تاہم، وفاق ہاے مدارس کے اتفاق نہ کرنے پر، حکومت کی طرف سے: ’’ان امتحانات کو صرف اُن پرچوں تک محدود کرنے کا کہا گیا، جو حکومت کی طرف سے بطورِ لازمی مضمون پڑھائے جاتے ہیں‘‘۔ اس سلسلے میں وفاق ہاے مدارس سے کہا گیا کہ وہ اپنی مجلس شوریٰ سے اس پر منظور ی حاصل کریں۔ مذاکرات کا تیسرا دور ۱۹؍اگست ۲۰۱۹ء کی نشست سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں مدارس اپنا موقف پیش کریں گے۔
 مدارس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبہ و طالبات کے لیے ایم اے کی سند تو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور۱۹۸۲ءمیں منظور ہوئی تھی، جس میں ایم اے کو تمام میدانوں کے لیے جامع تر کرنے اور اس کی بنا پر گریجوایشن کرنے کا طریقہ بھی طے کیا گیا تھا۔ تاہم، صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس پر کچھ شرائط عائد کی گئیں۔ حال ہی میں ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ (HEC) نے بی اے کی سند کے بارے بھی ایک اعلامیہ(۲) جاری کیا ہے۔ اُصولاً ۱۹۸۲ء میں ایم اے معادلہ (Equivalence) کے فوری بعد ہی مدارس کے باقی تعلیمی مراحل کی اسناد کی منظوری کی طرف پیش قدمی ہونا چاہیے تھی، لیکن ۳۷برس گزر جانے کے بعد بھی تاحال، پاکستان میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے میٹرک اور ایف اے کی سند کے اعتراف کا کوئی باضابطہ نظام نہیں بن سکا۔ 
جنرل مشرف دور کے جاری کردہ حکم نامے ۲۰۰۵ء کے مطابق وفاق ہاے مدارس سے   ایم اے کی سند کا معادلہ انھی کو ملتا تھا، جن کے پاس مدارس کی میٹرک، ایف اے اور بی اے مراحل کی سند موجود ہوتی۔ اگر پہلی دو اسناد پر کوئی سخت پابندی لگا دی جاتی ہے، تو باقی اسناد (بی اے اورایم اے یعنی الشهادة العالمية) کا مرحلہ آنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اسی طرح اگر مدارس کی ابتدائی اسناد کے ساتھ ان کی رجسٹریشن بھی وزراتِ تعلیم کے ہاتھ میں ہوجائے تو وفاق ہاے مدارس کے پورے ۳۷ سالہ نظام کا ہی بوریا بستر لپیٹا جاسکتا ہے۔ 

اُصولی اور مستقل لائحہ عمل 

۱- سرکاری اور نجی یونی ورسٹیوں کو حکومتی گرانٹس بھی ملتی ہیں، اور یہ ادارے اپنے منظور شدہ نظام تعلیم کے ساتھ دیگر کالجوں کو بھی ملحق (affiliate)کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف دینی مدارس پر پاکستان کی وفاقی یا صوبائی حکومتیں عمارتوں، یوٹیلٹی بلز، اساتذہ وعملہ کی تنخواہوں اور نصابی کتب کی مد میں کچھ خرچ نہیں کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں برطانوی او لیول اور اے لیو ل کی تعلیم جاری ہے۔ پھر فرانس کے اسکولوں وغیرہ میں مروّجہ انٹربیچلوریٹ کورس بھی کرایا جاتا ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹس کے انٹر اور بیچلر مرحلے کے کورسوں اور ڈپلوموں کے امتحانات بھی منعقد ہوتے ہیں۔ اور حکومتِ پاکستان ان کورسوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دیتی اور ان کی عطا کردہ اسناد کو بھی منظور کرتی ہے۔ انھی اسناد کی بنا پر اُنھیں قومی جامعات میں داخلے اور ملازمت کی سہولت بھی دیتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان تمام مراحل مثلاً اے لیول اور آئی بی کی انٹرڈگریوں میں قومی نظامِ تعلیم کے تقاضوں کی پاس داری بھی نہیں کی جاتی اور ان میں لازمی مضامین: اُردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان سمیت انگریزی زبان کی لازمی تعلیم بھی نہیں دی جاتی۔
اس لیے اگر دینی مدارس پر قومی وسائل کا کوئی حصہ بھی صرف نہیں کیا جاتا، تو پھر ان پر ملک میں جاری دیگر نظاموں کی طرح قومی نصابِ تعلیم کے لازمی تقاضے عائد نہ کیے جائیں۔ جو رعایت برطانیہ، فرانس، اور کامرس کے عالمی اداروں کو حاصل ہے، وہی استثنا دینی مدارس کو بھی حاصل ہونا چاہیے۔حالانکہ مذکورہ متوازی تعلیمی نظاموں کے برعکس دینی مدارس مسلم معاشرے پر عائد لازمی دینی تعلیم کے فریضے کی تکمیل میں مدد کررہے ہیں، جو دراصل پاکستان جیسے ملک کا بنیادی تقاضا ہے۔ اس بنا پر حکومت کا یہ مطالبہ بنیادی طور پر درست نہیں کہ باقی نظام ہاے تعلیم کو چھوڑ کر، صرف مدارس کو قومی تعلیمی نظام کا پابند کیا جائے۔ 
۲- عصری مضامین پر حکومت کے اصرار پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ صرف دو چار مضامین کی بات نہیں ہے بلکہ میٹرک کے لازمی مضامین میں مذکورہ بالا چار لازمی مضامین کے ساتھ سائنس وریاضی (یعنی کل چھے مضامین) کا امتحان ضروری ہے۔(۳) تاہم، مولانا محمد حنیف جالندھری لکھتے ہیں: ’’عصری مضامین، یعنی میٹرک میں انگریزی، ریاضی، اُردو اور مطالعہ پاکستان، جب کہ انٹرمیڈیٹ میں انگریزی، اُردو اور مطالعہ پاکستان کا امتحان وفاقی تعلیمی بورڈ لے اور دینی مضامین کے نمبروں کو شامل کرکے نتیجہ اور ڈگری جاری کرے‘‘۔(ماہ نامہ وفاق المدارس، ملتان، اگست ۲۰۱۹ء)
اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مدارس میں پڑھائے جانے والے ۸،۹ بھاری مضامین کا وزن(۴) کیا رہ جاتا ہے؟پھر اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ وفاقی تعلیمی انٹر بورڈ اپنے اصل مطالبے کو سامنے رکھتے ہوئے، جیسا کہ اجلاس میں بتایا گیا، ملحق ہوجانے کے بعد اس امتحان کو مستقبل قریب میں اپنے معروف طریقۂ کار کے مطابق باقی تمام مضامین تک وسیع نہ کر دے؟ محترم مولانا جالندھری کے الفاظ سے بھی پتا چلتا ہے کہ: ’’فی الوقت وفاقی بورڈ نے ہی لازمی عصری مضامین کے ساتھ وفاق کے امتحانات پر انحصار واعتماد کرتے ہوئے دینی مضامین کی سند جاری کرنا ہے‘‘۔ 
۳-  وفاقی تعلیمی بورڈ کے امتحان لینے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ تعلیمی ادارہ اور مدرسہ اُن کے پاس رجسٹرڈ ہو، تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ ملحق کرسکے۔جب مدارسِ دینیہ کی بنیادی سندوں کی منظوری ہی اس بات سے مشروط کر دی گئی کہ وفاقی تعلیمی بورڈا ن کے بنیادی لازمی مضامین کا مستند امتحان لے کر سند جاری کرے ، توپھر وفاق کے آیندہ اعلیٰ امتحان بھی گویا وفاقی انٹربور ڈ کے رحم وکرم پر ہوگئے، اور اس طرح ان اعلیٰ اسناد کی مستقل حیثیت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ 
۴-ایک طرف حکومتی موقف میں کوئی معقولیت نہیں کہ اس میں مدارس کے ساتھ امتیازی سلوک پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اس سلسلے میں سیکورٹی ’اداروں ‘کا کردار اپنے دائرۂ عمل سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی شان دار خدمات کے اعتراف کے ساتھ، پاکستانی ریاستی دستور ان کو تعلیمی وسیاسی اُمور کے بجاے صرف دفاع تک محدود کرتا ہے۔ اس صورت میں وزارت ِ تعلیم یا وزراتِ مذہبی اُمور کے دائرۂ عمل میں ان ’اداروں‘ کی شرکت کا جواز نہیں۔
۵- اسی طرح وفاقی وزارت ِ تعلیم کا پاکستان بھر کے مدارس کے معاملات کو طے کرنا،   ان کے آئینی کردار سے تجاوز ہے، کیونکہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد: ’’تعلیم ، وفاق کے بجاے صوبوں کے دائرۂ عمل میں ہے، اور تعلیمی معاملات کی نگرانی ہر صوبائی حکومت کرتی ہے‘‘۔
۶- اس صورتِ حال میں وفاق ہاے مدارس کو باضابطہ آئینی طریقۂ کار کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں تنظیماتِ وفاق نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ بلکہ معاہدہ (۵)  بھی کررکھا ہے کہ: ریاستی سطح پر ایسا آئینی بورڈ منظور کیا جائے گا، اور حکومت سے منظور شدہ بورڈ کے تحت تما م مسالک کے مدارس اپنی اسناد کے امتحان لیں گے۔(۶) لیکن حکومت نے ان کے مطالبات کا سنجیدگی سے جواب نہیں دیا۔
یہ ضروری ہے کہ تمام وفاق ہاے مدارس مل کر، آئینی بورڈ اور یونی ورسٹی کی درخواست  کے مطلوبہ رسمی تقاضے پورے کریں۔ پہلے ایک بورڈ کے تحت جملہ مسالک کے خصوصی نصابات کو تحفظ دیا جائے، پھر بہ تدریج اپنے اپنے مستقل بورڈوں کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ جب پاکستان میں ڈیڑھ سو سے زائد پرائیویٹ یونی ورسٹیاں چارٹر منظور کراسکتی ہیں، تو پھر دینی مدارس کو اس کی طرف پیش قدمی میں کیا رکاوٹ ہے؟ 
مدارس کے اپنے مستقل بورڈوں کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ ایف اے کے بعد ،بی اے اور ایم اے کی روایتی تعلیم کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے،اور روایتی بی اے/ایم اے کا مستقبل (جو پرائیویٹ امتحان کی سہولت دیتا تھا) پاکستان میں ختم ہورہا ہے۔ 
یہاں پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ دستورِ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان یہاں کی حکومتوں کو اسلامی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ کرتا ہے،جس کی پابندی ہرحکومت کی قانونی ذمہ داری ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے دستورِ اسلامی جمہوریہ پاکستان:
دفعہ۳۱: (۱) : پاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انھیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیےاقدامات کیے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ 
 (۲)  پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی: 
الف :قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا۔
ب:اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیارات کی پابندی کو فروغ دینا ۔
ج: زکوٰۃ، عشر ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔

حکومتی مطالبوں کے لیے وقتی اور فوری حکمتِ عملی 

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سے مکالمے کے دوران میں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھے جائیں:

۱- اجلاس کے ایجنڈے میں ’وفاقی تعلیمی بورڈ سے الحاق‘ کے لیے کہا گیا ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی تعلیمی بورڈ سے ان کا باقاعدہ الحاق کیا جائے جیساکہ پاکستان میں تمام سرکاری سکول ، اِنھی بورڈوں سے منسلک ہوکر بطورِ باقاعدہ طالب علم میٹرک اور ایف اے کا امتحان دیتے ہیں۔ جب کو ئی تعلیمی ادارہ یا مدرسہ، کسی بورڈ سے الحاق کرتا ہے ، تو سرکاری روایت کے مطابق بورڈ ان پر اپنے قوانین لاگو کرتے اور پھر وہ ایسی بے رحمی سے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہیں کہ ملحقہ ادارے بلبلا اٹھتے ہیں۔ سکول یا مدارس تو چلیے کم زور تعلیمی ادارے ہیں، بڑی بڑی پبلک یا پرائیویٹ یونی ورسٹیوں کے سامنے جب ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ اپنے ہرآن بدلتے قوانین نافذ کرتا ہے ، تو ان اربوں کے بجٹ والی یونی ورسٹیوں کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ عمارتوں کی انسپکشن، ہرسال تجدید کے لیے فیسوں ، ان کے عملے کی بے جا مداخلتوں اور بلیک میلنگ جیسے تکلیف دہ معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔ الحاق کی صورت میں تمام پرچوں کے امتحانات، ان کے شیڈولز، پرچوں کی تیاری اور پھر ان کی چیکنگ، بورڈوں کے افسران اور ان کے منظورِنظر ممتحن کرتے ہیں۔ اور یہ ممتحن جس بے دلی، بے دردی اور سفاکی سے پرچوں کی جانچ کرتے ہیں، اس پر ایک زمانہ گواہ ہے۔اگر کسی مرحلے پر طلبہ کی تعداد میں کوئی اضافہ یا کسی ضابطے میں کوئی کوتاہی ہوجائے، تو ایسے تعلیمی بورڈوں کے افسران نئے داخلوں پر بندش سے لے کر سند جاری کرنے میں رکاوٹ تک کے تمام قانونی اقدامات کرتے ہیں۔ اس لیے مدارسِ دینیہ کا مکمل طور پر کسی سرکاری بورڈ سے یوں ملحق ہونا کہ ان کے طلبہ بطور ریگولر طالب علم میٹرک ، اور ایف اے کے امتحان میں شریک ہوں، گویا اپنی خود مختاری گروی رکھنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے بہرصورت گریز کرنا چاہیے۔قومی تعلیمی ادارے خالصتاً مادی تعلیم پر یکسو ہیں۔ ان کی پیروی اختیار کرنے والے اداروں میں علومِ نبوت کا علم و عمل بہت مشکل ہوگا۔

۲- پاکستان کے اکثر دینی مدارس عصر کے بعد، یعنی سیکنڈ شفٹ میں مستقل اساتذہ کے ذریعے مڈل، میٹرک، ایف اے اور بی اے کی تیاری کراتے ہیں۔ یہ طلبہ کسی بورڈ میں پرائیویٹ اُمیدوار کے طورپر تمام پرچوں کا امتحان دیتے ہیں کہ اس وقت تک دینی مدارس کے طالب علم کے لیے قومی نظام تعلیم سے سند حاصل کرنے کا یہی بہترین طریقہ رہا ہے ۔ 
ویسے بھی پہلے ہی وفاق المدارس کے تحت میٹرک ، ایف اے اور بی اے میں حکومت نے طلبۂ مدارس کے لیے جتنے بنیادی مضامین لازمی کر دیے ہیں، یعنی:

  •    میٹرک میں چھے : انگریزی، اُردو، جنرل ریاضی، جنرل سائنس، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات 
  •   ایف اے میں چار :انگریزی، اُردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات
  •   بی اے میں چھے:انگریزی، اُردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات، سماجیات کے دو مضامین  (بی اے ویسے ہی ختم ہورہا ہے)۔

اس سوچ میں افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت نے مدارس کے بھاری اور معیاری نصاب کو (جو اصل العِلم کا مصداق ہے) ’بے وقعت‘ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔مدارس کے اپنے نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ مذکورہ بالا تمام سرکاری امتحانات کو مختلف مہینوں میں دینا، دینی طالب علم کے لیے پریشانی پیدا کرتا ہے۔ دینی مدرسے کا طالب علم مدرسے کے داخلی امتحان، وفاق کے امتحان کے ساتھ، تیسرا سرکاری تکمیلی امتحان بھی دے تو یہ چیز اس کے لیے مشکل تر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے مجوزہ لازمی یا جبری اور جزوی امتحان کے اپنی جگہ بہت سے مسائل ہیں، جن پر سرکاری حکام کوئی بات سننے کے روادار نہیں ہیں۔
اس لیے پرائیویٹ سطح کے کلی سرکاری پرائیویٹ امتحانات کو بہر طور ترک نہیں کرنا چاہیے۔ میٹرک، ایف اے کی حد تک تو پرائیویٹ امتحان کی سہولت باقی ہے۔ تاہم، اس طریقۂ کار پر پابندی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وفاق ہاے مدارس کی ثانویہ، عامہ، خاصہ اور عالیہ کی اسناد کا نظام مزید بے وزن ہوجائے گا، کیونکہ طالب علم اپنی متوازی اسناد کے لیے میٹرک، ایف اے اور بی اے کے پرائیویٹ امتحان پر ہی پورا انحصار کرلے گا، اور بی اے کے بعد پرائیویٹ ایم اے کرلینا بھی چنداں مشکل نہیں ہے۔
بی اے اور ایم اے کا پرائیویٹ امتحان 
حکومت کے ایک حکم نامے میں ایف اے کے بعد مزید تعلیمی مراحل میں تمام قومی یونی ورسٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دسمبر ۲۰۱۸ء کے بعد اُصولی طور پر بی اے ختم اور اس کی جگہ ریگولر طلبہ کے لیے سمسٹرسسٹم پر مشتمل دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP) کا اجرا ، جس میں سابقہ چارلازمی مضامین کے ساتھ مغربی سماجی علوم کا ایک بڑا حصہ بھی لازماً شامل ہوگا۔ جیساکہ قومی اخبارات میں آیا ہے:
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں، ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز سے کہا گیا ہے کہ ۳۱دسمبر ۲۰۱۸ء کے بعد سے کیے جانے والے بی اے اور بی ایس سی انرولمنٹ، رجسٹریشن اور ڈگری کو ہائر ایجوکیشن کمیشن تسلیم نہیں کرے گا، جب کہ ۲۰۲۰ء میں ایم اے اور ایم ایس سی پروگرام بھی ختم کر دیا جائے گا۔(روزنامہ جنگ ، ۲۵؍اپریل ۲۰۱۹ء) 

اس کے بعد ۱۷ جولائی ۲۰۱۹ء کو ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ کی طرف سے ایک حتمی نوٹس جاری کیا گیا:’’ملک کی تمام سرکاری اور نجی جامعات اور ان سے منسلک کالجز کو آیندہ تعلیمی سال سے دو سالہ گریجویٹ پروگرام (بی اے ؍بی ایس سی) ختم اور ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP) شروع کرنے کے لیے حتمی نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔حکم نامے کے مطابق بی اے اور بی ایس سی پروگراموں میں ۳۱ دسمبر ۲۰۱۸ء سے قبل داخلہ لینے والے طلبہ کو ۳۱ دسمبر ۲۰۲۰ء تک اپنی ڈگری مکمل کرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، جو طالب علم اس میں ناکام رہیں اُنھیں ڈگری دینے والے کالجوں اور یونی ورسٹیوں کی شرائط پر پورا اُترنے کے بعد ایسو سی ایٹ ڈگری تفویض کی جائے گی۔ چنانچہ جو طالب علم ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کریں گے وہ چار سمسٹرز کے برابر ہوگی، اور وہ چار مزید سمسٹرز مکمل کر کے بی ایس کی ڈگری حاصل کرسکیں گے‘‘۔(ڈیلی ڈان، ۱۷جولائی ۲۰۱۹ء)
اس اقدام پر صوبائی وزارت تعلیم کے علاوہ یونی ورسٹیوں کو شدید تحفظات ہیں، جیسا کہ: ’’ایڈیشنل سیکرٹری اکیڈمک پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) طارق بھٹی نے کہا کہ    ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ نے بی اے ؍بی ایس دو سالہ ڈگری پروگرام پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے مشاورت نہیں کی۔ اس فیصلے پر کوئی بھی اقدام مشاورت کے بعد کریں گے۔(روزنامہ دنیا، ۲۷؍اپریل ۲۰۱۹ء)
امرواقعہ یہ ہے کہ: ’’یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ سمسٹر سسٹم کی ضروریات کو پورا کرسکیں اور ابھی بھی مختلف تعلیمی ادارے مطلوبہ ضروری صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے سمسٹر سسٹم پر عمل درآمد کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے فیصلوں پر بنیادی

ضروریات کو پورا کیے بغیر عمل درآمد نہیں ہوسکتاہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز کے وائس چانسلروں نے ایچ ایس سی کے چیئرمین کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس حوالے سے کچھ شیخ الجامعات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز کو بتایا کہ وہ ایچ ای سی کو بی اے؍بی ایس سی اور ایم اے؍ایم ایس سی پروگرامز کو مکمل طور پر ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے تحریری طور پر لکھیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ کے چیئرمین کو بتایا گیا ہے کہ یہ ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کو شروع کریں کیونکہ ان کے پاس اس مقصد کے لیے مطلوب وسائل نہیں ہیں‘‘۔ (ڈیلی ڈان، ۲۹جولائی ۲۰۱۹ء)
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ایف اے کے بعد ہونے والے بی اے اور    ایم اے کے نظام تعلیم اور اس سطح کے پرائیویٹ امتحانات پر اس وقت شدید مباحثہ جاری ہے۔ پاکستان کی قدیم ترین جامعہ ، پنجاب یونی ورسٹی کے ۹؍اگست ۲۰۱۹ء کو جاری کردہ نوٹی فکیشن میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ’’بی اے ، بی ایس سی اور بی کام کی دو سالہ ڈگری میں کسی بھی قانونی ونصابی نوعیت کی تبدیلی کے بغیر، اس کا نام ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کرکے اسے جاری کردیاگیا ہے۔ اس کے سالانہ اور ضمنی امتحانات میں ماضی کی طرح ریگولر وپرائیویٹ اُمیدوار شریک ہوسکتے ہیں۔ مستقبل میں یونی ورسٹی کی قائم کردہ کمیٹی اس میں ضروری اصلاحات کی ضرورت اور مطالبوں کا جائزہ لیتی رہے گی‘‘۔(پنجاب یونی ورسٹی، ۹؍اگست ۲۰۱۹ء،R/D/612 )
چیئرمین ایچ ای سی نے دینی وفاقوں کے ذمہ داران کو مدارس کا ایف اے کے بعد بی ایس ماڈل پر (عالیہ اور عالمیہ پر مشتمل ) چار سالہ کورس تشکیل دینے کے لیے کہا ہے۔ گویا ایچ ای سی کے نئے نظام کے بعد جس طرح قومی یونی ورسٹیوں میں بی اے ،ایم اے کا منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، اسی طرح طلبہ مدارس کی بی اے اور ایم اے اسناد کا اُصولی فیصلہ ہونا بھی باقی ہے۔ 

۳-  وفاق ہاے مدارس کو اس سلسلے میں بھی حکومت کے سامنے درج ذیل تجاویز کو زیربحث لانا چاہیے ، کیونکہ اس کے بغیر یہ حکومتی اقدام ناقابل قبول ہے:

۱- ایسے امتحانات کے پرچوں کو بنانے، ان کی جانچ اور نگرانی کاکام ایک ایسی کمیٹی کے سپرد ہو، جس میں پانچوں وفاقوں کے نمایندے موجود ہوں۔
۲- یہ امتحانات وفاقی تعلیمی بورڈ کے بجاے، صوبائی سطح پر بورڈوں کے تحت لیے جائیں، تاکہ طلبہ کے لیے اپنے اپنے صوبوں میں آمد ورفت آسان ہوسکے۔
۳- ان امتحانات کا شیڈول مدارس کے وفاقوں کی منظوری سے طے کیا جائے اور اُنھیں ایسے دنوں میں رکھا جائے جب طلبہ مدارس کے لیے ان میں شریک ہونا آسان ہو۔
۴-وفاقی تعلیمی بورڈ کا نظام، فیسیں، کتب کی قیمت اور نصاب بھی تمام دیگر انٹربورڈز کی نسبت مشکل تر ہے۔ طلبۂ مدارس کو اس مشکل سے بچانا چاہیے۔
۵-یہ امتحانات اُردو زبان میں منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
۶-ایف اے کے بعد بی ایس سطح پر ایچ ای سی کے چندسال قبل تجویز کردہ چار سالہ تعلیمی پروگرام میں بھی دینی مدارس کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، تاکہ دینی مدارس کے لیے قومی نظام تعلیم سے ہم آہنگ ہونا ممکن ہو۔ جیسے مغربی سماجی علوم کی ایک تہائی لازمی شرح کو کم کرتے ہوئے مزید معیاری اسلامی کورسز کا اضافہ، بی ایس میں داخلہ کے لیے ثانویہ خاصہ (ایف اے) کی اُصولی رعایت دینا اور امتحانی پرچے بنانے والی کمیٹی میں علما کے نمایندوں کی شمولیت وغیرہ۔
معقول بات یہی  کہ حکومت کو نئے اقدامات کے بجاے سابقہ معاہدوں کی طرف متوجہ کیا جائے، جب کہ نئے اقدامات کے لیے تمام وفاقوں کی مشاورت اور تائید سے کام کیا جائے۔ 
_______________

حوالہ جات
(۱)    پاکستان تحریک ِانصاف کی حکومت میں وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اپنے مذہبی رجحانات میں آزاد رو ہیں۔ (دیکھیے: اسلام آباد ہائی کورٹ، مقدمہ ، ۳۸۳۲/ ۲۰۱۷ء)
(۲)    ایچ ای سی کی ’اسناد کو مساوی اور معتبر قرار دینے والی کمیٹی‘ نے ۲فروری۲۰۱۷ء کو فیصلہ کیا، اور نوٹیفکیشن نمبر 8(61)/A&A/2017/HEC ، ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء جاری کیا۔(دیکھیے: ماہنامہ محدث ،  اکتوبر۲۰۱۷ء ،ص ۱۷)
(۳)    ۱۶؍ اگست ۲۰۰۵ء کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس محمد افتخار چودھری نے فل بنچ کے سربراہ کے طور پر  قرار دیا کہ ’’ صرف انھی دینی مدرسوں کی سندیں قابل قبول ہوں گی، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ ہوں اور یہ سندیں میٹرک کے مساوی اس وقت سمجھی جائیں گی جب طالب علم نے کسی بورڈ سے انگریزی، اُردو اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین پاس کیے ہوں‘‘۔
(۴)    ماضی میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کا درسِ نظامی گروپ اسی بنا پر زیادہ پذیرائی حاصل نہ کرسکا، کیونکہ اس میں بھی مڈل سے لے کر ایم اے تک کے نصاب میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک ، ایف اے اور بی اے میں بھاری جدید نصاب رکھا گیا تھا۔
(۵)    مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر مملکت (براے وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ) بلیغ الرحمٰن کا اتحادِتنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے ساتھ معاہدہ جولائی ۲۰۱۶ء کو قومی اخبارات میں رپورٹ ہوا۔ اس کی رُو سے مدارس کے طلبہ کو مختلف مراحل میں جدید سائنسی مضامین، انگلش اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس کے بدلے میں حکومت ان طلبہ کے امتحانات کے بعد اُنھیں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کے مساوی تسلیم کرے گی۔ مدارس کی تعلیم کو ’ایکٹ آف پارلیمنٹ ‘ کے تحت تسلیم کیا اور ۳۵ ہزار مدارس کو اس نظام میں لایا جائے گا (ماہ نامہ محدث، اکتوبر ۲۰۱۷ء، ص ۱۶)۔ اس معاہدے میں سرکاری بورڈوں کے بجاے مدارس کی تعلیم کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اپنے بورڈ بنانے کی منظوری کا معاہدہ کیا گیا تھا، جس سے موجودہ حکومت منحرف ہوگئی۔
(۶)    وزیر مملکت بلیغ الرحمٰن نے کہا: ’’اس سلسلے میں امتحانی بور ڈز کے ڈھانچے کو پورا کرنا ہو گا اور اتحادِ تنظیمات مدارس کے بورڈز کو قانونی شکل دینے کے بارے میں ضروری مراحل طے کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے‘‘۔(روزنامہ نوائے وقت،۱۴ جولائی ۲۰۱۶ء)
 

دین کے دفاع کے دعوے لے کر اُٹھنے والے بعض لوگوں نے دوسروں کی تردید اور اپنے حوالے سے دعوئوں کی وہ مثالیں پیش کی ہیں کہ پڑھ کر دل دُکھتا ہے۔ یہاں اسی طرح کی ایک مثال پیش خدمت ہے:
تعبیر کی غلطی کے مصنف مولانا وحید الدین خان نے دعویٰ فرمایا کہ: ’یہ کتاب لکھ کر میں نے اسلاف ِ امت کا دفاع کیا ہے‘۔ خان صاحب کے ہاں اس قسم کے دعوئوں پر مبنی واقعات بڑی تعداد میں ملتے ہیں، اور وہ اپنی اکثر کاوشوں کو بڑے دعوے اور یقین کے ساتھ الٰہی منصوبہ قرار دیتے ہیں۔۱  بعض اوقات ان کا یہی رویہ عجیب صورت اختیار کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے اپنے ادارے، سی پی ایس انٹرنیشنل (CPS: Centre for Peace and Spirituality International)کی ٹیم کے بارے میں ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس کو ’اخوان رسول‘ قرار دیا ہے:
’’ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ سی پی ایس کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے، جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبرؐ اسلام نے ان کو اخوان رسول کا لقب دیا تھا۔ اصحابِ رسولؓ کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ تھے بلکہ وہ عام انسانوں کی طرح انسان تھے۔ اسی طرح اخوان رسول بھی کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ ہوں گے، بلکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ نہ ہوگی کہ وہ انوکھے جسم والے ہوں گے یا یہ کہ وہ کرامتیں دکھائیں گے۔ ان کی پہچان صرف یہ ہوگی کہ وہ دعوتِ حق کے اس ربّانی مقصد کے لیے کھڑے ہوں گے، جس پر رسولؐ اور اصحابِ رسولؓ کھڑے تھے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ ’اخوانِ رسول‘ کا درجہ نہیں پاسکتیں۔ اس لیے کہ اخوانِ رسول کا درجہ صرف وہ لوگ پاسکتے ہیں، جو ما انا علیہ واصحابی کا مصداق ہوں۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکیں رد عمل کی تحریکیں تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی تحریک ایسی نہیں، جس کا یہ کیس ہو کہ اس کے رہنما نے ردّ عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوکر، قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا، اور پھر خالص مثبت بنیادوں پر اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ خصوصیت صرف ’سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک‘۲    میں پائی جاتی ہے۔ تاریخ میں اہلِ حق کے لیے جو بڑے بڑے امکانات رکھے گئے تھے، اب وہ سب امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ پیغمبروں کا ساتھ دینا، مسیحؑ کا حواری بننا، پیغمبر آخر الزماںؐ کے اصحاب میں شامل ہونا۔ اب صرف ایک بڑا درجہ باقی رہ گیا ہے، یہ درجہ اخوانِ رسول کے گروپ کا حصہ بننا ہے۔ اس کے بعد جو چیز ہے، وہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تاریخ کا آخری مبارک موقع ہے۔ جس نے اس موقعے کو پالیا، اس نے سب کچھ پالیا اور جس نے اس موقعے کو کھودیا، اس نے سب کچھ کھودیا‘‘۔۳ 
خان صاحب کے ہاں ایسے واقعات کمی نہیں ہے، اور ایسےعرفانی دعوے آپ کی  تحریروں میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہاں ہمارے پیشِ نظر ان کی کتاب تعبیر کی غلطی سے اسلافِ امت کا تعلق واضح کرنا ہے کہ خود موصوف، اسلافِ امت کے مقابل کہاں کھڑے ہیں؟ مذکورہ کتاب دراصل مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی(۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) پر تنقید کی غرض سے لکھی گئی ہے۔ اُوپر کی سطور میں ذکر ہوا کہ اس کتاب کو بھی انھوں نے ’الٰہی منصوبہ قرار دے کر اسلافِ امت پر احسان‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔خان صاحب کے مطابق مولانا مودودی کی سیاسی فکر اسلافِ امت سے انحراف اور ان کے تصورِ دین کے بارے میں بے اعتمادی کا اظہار ہے۔۴  تاہم، یہ رُوداد   دل چسپ ہے۔ وہ مذکورہ کتاب لکھنے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:

’’میرے لیے یہ احساس ساری دنیا کی نعمتوں سے بڑھ کر لذیذ ہے کہ میری یہ کتاب اسلاف کے اوپر وارد ہونے والے اعتراض کی مدافعت ہے۔ میں اپنے عاجز اور ناتواں وجود کے ساتھ، ان کی طرف سے دفاع کرنے کے لیے اٹھا ہوں۔ یہاں مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے جو ۷مارچ ۱۹۶۳ء کو پیش آیا۔ ان دنوں میں [مولانا مودودی کی کتاب]  قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں کے استدلالات کی تحقیق کے سلسلے میں بے حد مشغول تھا۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے، چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیوار سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہوچکے ہیں، اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جاچکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے جس میں ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اس وقت میری کیفیت یہ ہوچکی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اُٹھا تو کمزوری کی وجہ سے چکّر آگیا، اور سمت بھول گئی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں؟ کچھ دیر کے بعد ہوش میں آیا تو معلوم ہوا کہ متعلقہ الماری فلاں سمت میں ہے۔ اس واقعے کے کچھ دیر بعد جب میں نے اپنے ہواس [حواس]کو یک جا کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا میں زیر بحث نظریے کے بارے میں اسلافِ امت سے تبادلۂ خیال کرنے کے لیےبہت دُور چلا گیا تھا اور چلتے چلتے تھک گیا۔ مگر اس کمزوری اور تکان کے باوجود مجھے یہ سوچ کر خوشی ہورہی تھی کہ مجھے ان کی راے معلوم ہوگئی ہے، اور اب میں اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کی طرف سے پورے اعتماد کے ساتھ زیرِ بحث تصورکی تردید کر سکوں۔ مجھے ایسا نظر آیا گویا یہ تمام الماریاں اور ان میں بھری ہوئی کتابیں اسلاف کی روحیں ہیں، جو میرے پیچھے کھڑی ہیں اور اپنے کمزور ہاتھوں اور کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ ان کی طرف سے مدافعت کرنے کے لیے جارہاہوں۔ یہ سوچ کر اتنی خوشی ہوئی کہ تکان اور بھوک پیاس سب بھول گئی اور میں دوبارہ مغرب تک کے لیے اپنے مطالعے میں مشغول ہوگیا‘‘۔ ۵  

خان صاحب نے اسلافِ امت کے ساتھ محبت کا اظہار بہت عقیدت مندانہ اسلوب میں کیا ہے۔ کتاب کے مقدمے میں ایسا اظہارِ عقیدت دیکھ کر قاری کا متاثر ہونا لازمی امر ہے۔  مزید یہ کہ خان صاحب کے عقیدت مندوں سے جب بھی  تعبیر کی غلطی کے موضوع پر گفتگو ہوئی، انھوں نے سب سے پہلے اسی واقعے کا حوالہ دیا۔ لیکن وہ یہ بات نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں کہ خود خان صاحب کا اپنا پورا نتیجۂ فکر کہاں تک اسلاف امت سے موافق ہے؟ وہ مسائل جو مسلم روایت میں اساس کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے صدیوں پہلے لوگ اسلاف امت سے الگ ہوئے، خان صاحب نے انھی مسائل میں نہایت ناہموار بلکہ تکلیف دہ اسلوب میں اختلاف کیا ہے۔ جیسے موصوف کا تصورِ جہاد مکمل طور پر مسلم روایت سے ہٹا ہوا ہے۔ شتمِ رسول کے مسئلے پر آپ اسلافِ اُمت کے بالکل مقابلے پر کھڑے ہیں، اور اس کی بہت ساری مثالیں آپ کی تحریروں میں موجود ہیں۔ مزید برآں موافقت تو بعد کی بات ہے،     خان صاحب تو اسلافِ امت کے حوالے سے غیرتہذیب یافتہ اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ ۶ 
فقہ اور فقہاے کرام کے بارے میں لکھتے ہیں:’’حج کے مسائل جو قرآن و حدیث میں ہیں، وہ اتنے کم ہیں کہ چند صفحات میں لکھے جاسکتے ہیں، مگر فقہا نے دوسری عبادات کی طرح حج کے بے شمار مسائل وضع کر رکھے ہیں ۷    جن کا احاطہ عام آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ اس ’اضافہ‘ کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ ’حجاج کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے‘ مگر اس استدلال میں کوئی وزن نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہی مسائل پڑھ کر کوئی شخص نہ نماز پڑھ سکتا ہے، نہ حج کرسکتا ہے۔ یہ کام ایسا ہے جو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے رسولؐ اللہ نے نماز کے مفصل احکام بتانے کے بجاے یہ فرمایا: صَلُّو کما رایتمونی اصلی۔ یہی اصل طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہؓ نے نماز پڑھی، صحابہؓ کو دیکھ کر تابعینؒ نے، تابعینؒ کو دیکھ کر تبع تابعینؒ نے۔ اس طرح یہ سلسلہ آج تک چلا جارہا ہے۔ اگر لوگوں کے پاس صرف فقہ کے نام نہاد تفصیلی مسائل ہوتے تو لوگ کبھی صحیح نماز نہ پڑھ سکتے۔ امام ابو حنیفہ اس فن کے سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مگر [ان کے شاگرد] وکیع کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے ان سے کہا کہ میں نے مناسک کی ادایگی میں پانچ غلطیاں کیں۔ پھر ایک حجام نے مجھے بتایا۔۸
اوپر خان صاحب بیان کرچکے ہیں کہ: مولانا مودودی کی تعبیر، اسلاف کے تصورِ دین کے بارے میں بے اعتمادی کا اظہار ہے اور پھر اسلاف سے تبادلۂ خیال کرکے ان کی مدافعت کا دعویٰ بھی کرچکے۔ لیکن یہاں پر خود انھوں نے فقہا کی صدیوں کی محنت کو ’وضع مسائل‘ سے موسوم کیا ہے۔ جناب خان صاحب نے نماز کے مسئلے پر جو بحث کی ہے، اگرچہ اس وقت وہ ہمارا موضوع نہیں ہے، تاہم اس پر مختصراََ عرض ہے کہ آپ کا یہ فرمانا قانونی مسائل سے بے خبری کی بہت بڑی دلیل ہے۔ پھر خان صاحب نے ایک جگہ دین کی روایتی تعبیر و تشریح کو دین کے اُوپر’گرد و غبار‘ اور آمیزش  قرار دیا ہے۔ ۹البتہ ان کی کتابوں میں ’تجدید دین‘ اسلاف امت کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں انھوں نے مسلم روایت کو ہر پہلو سے رگیدا ہے۔ اسی سے چند اقتباسات پیشِ خدمت ہیں:
’’یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوف اور علمِ کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے،  ان کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سِرا امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کا فن بنا دیا۔ کتابِ الٰہی میں جو چیز سادہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کرکے نئے نئے مسئلے پیدا کیے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تاکہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جاسکے‘‘۔ ۰

اس استدلال پر مزید لکھتے ہیں:’’ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانے کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دین منزل اور دین مدون کا اختلاف ہے، جو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کے اندر پیدا ہوگیا ہے۔ خدا کا دین قرآن و حدیث میں ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرماتا ہے اور عقل میں جِلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الٰہی علوم جب انسانی کتابوں میں مدون ہوکر ہمارے سامنے آتے ہیں، تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جس میں خشک بحثوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لیے گرمی ہے اور نہ عقل کے لیے روشنی۔ قرآن میں بھی  فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابوالبرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے‘‘۔؎  ۱۱
خان صاحب آگے چل کر فقہا کو یہودی فریسوں سے تشبیہ دیتے ہیں:’’ آج پیغمبر آخر الزماںؐ کی امت خود انھی ’اصر و اغلال‘ کے نیچے دب چکی ہے۔ ان کے فقہا اور مشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں، جو یہودی فقیہوں اور فریسوں نے شریعت موسوی میں کیے تھے۔ آج اسلام کی تجدید کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو ان تمام اضافوں سے پاک کردیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو، اسلام زندہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔؎۱۲
دراصل یہ متجددین کی وہ قطعیت بیانی ہے، جس سے ان کو فقہا کا فہمِ دین ’شریعت سازی‘ اور ’دین میں آمیزش‘ لگتی ہے ، اور اپنے موقف کو منزل من اللہ سمجھتے ہیں۔؎  ۱۳
خان صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فقہا، محدثین اور متکلمین کی کاوشیں بہ یک بینی و دوگوش رد کردی جائیں، جب کہ دوسری طرف موصوف نے مولانا مودودیؒ پر تنقید کرتے ہوئے انھی حضرات سے اپنا فکری رشتہ ظاہر کرکے خود کو اسلافِ امت کے وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ ؎  ۱۴   خان صاحب کی تحریروں میں امت کے بڑے ائمہ کے لیے عزت کے الفاظ نہیں ملتے۔ جہاں بھی فقہا اور محدثین کا ذکر کرتے ہیں، تو نہایت طنزیہ اسلوب اپناتے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں صرف ان کی اس دلیل کا تعارف کرانا تھا کہ جس میں انھوں نے خود کو ’اسلاف کا ترجمان‘ ظاہر کیا ہے اور خود انھوں نے اسلاف کے بارے میں کیا لکھا ہے  ع
اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی
_______________
۱-       مثال کے طور پر وحید الدین خان اپنے مضمون: ’خواب پورا ہوگیا‘ میں لکھتے ہیں:’’ یہ کام عینِ خدا کے منصوبے کے تحت اپنی تکمیل کو پہنچا۔ آج جب میں نے تذکیر القرآن کو مکمل کیا تو میرے دل نے کہا: جو کام مجھے کرنا تھا وہ کام آج پورا ہوگیا۔ اب ان شاءاللہ خدا کے دین پر کوئی شخص پردہ نہ ڈال سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے‘‘۔ ( ماہنامہ الرسالہ  ، دہلی،اکتوبر۱۹۸۶ ء ، ص ۲۶) 
۲-    یہاں پر خان صاحب نے اپنی ٹیم کو ’تحریک‘ کا نام دیا ہے، حالاں کہ ان کو اس اصطلاح سے سخت چڑہے۔
۳-    سی پی ایس انٹرنیشنل، وحید الدین خان مشمولہ: ماہنامہ تذکیر، ستمبر۲۰۰۶ ء، ص۴۲ (یاد رہے تذکیر، دہلی سے شائع ہونے والے، وحید الدین صاحب کے ماہنامہ الرسالہ  کا پاکستانی ایڈیشن ہوا کرتا تھا۔)
۴-    اقامتِ دین کا قرآنی مستدل سورئہ شوریٰ ۴۲،آیت ۱۳ شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ…… ہے۔ اس پر مولانا نے بعض اعتراضات کیے ہیں۔ جس کے جواب میں ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے سلف کی آرا نقل کر کے یہ واضح کیا ہے کہ: سلف کے ہاں بھی اس آیت کی تفسیر مولانا مودودی سے مختلف نہیں ہے۔ دیکھیے: اقامتِ دین اور نفاذِ شریعتؒ (نئی دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر، ۲۰۱۲ء)
۵-    وحید الدین خان، تعبیر کی غلطی، لاہور، دارالتذکیر، اگست ۱۹۶۲ء، ص ۱۴-۱۵
۶-    خان صاحب نے فقہا اور محدثین میں سب سے زیادہ بے زاری بلکہ نفرت کا اظہار امام ابن تیمیہؒ (م: ۷۲۸ھ) کے بارے میں کیا ہے۔ اپنی کتاب شتمِ رسول کا مسئلہ' میں امام ابن تیمیہ کے بارے میں سخت تکلیف دہ اسلوب اختیار کیا ہے (دیکھیے: شتمِ رسول کا مسئلہ، لاہور: دارالتذکیر ۱۹۹۷ء ، ص۱۰۴-۱۱۳)۔ اختلاف خان صاحب کا حق ہے، لیکن امام ابن تیمیہؒ جیسی جلیل القدر شخصیت، فقیہ اور محدث کے لیے، طفلانہ جملے لکھنا حددرجہ ناانصافی ہے۔ چند ماہ پیش تر بھی امام ابن تیمیہؒ کو اسی پیرایے میں مخاطب کیا تھا ۔ (دیکھیے: الرسالہ ،دہلی، اپریل ۲۰۱۸ء)
۷-    اصولِ فقہ سے ان متجدّدین کی بے خبری کی یہی سب سے بڑی دلیل ہے۔ 
۸-    الرسالہ ( جولائی ۱۹۸۴ء)، ص ۳۷۔ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں یہ قصہ، محض ایک افسانہ ہے ۔ دیکھیے: محمد انور شاہ ابن معظم شاہ کشمیری، العرف الشذی شرح سنن الترمذی (بیروت، داراحیاء التراث العربی)، ج ۲، ص ۲۷۰-۲۷۱
۹-    وحید الدین خان، تجدید دین ،لاہور، دارالتذکیر، ۲۰۰۳ء، ص ۱۷،۱۸
۱۰-    ایضاً، ص ۷۱        ۱۱-   ایضاً، ص ۷۳        ۱۲-   ایضاً، ص۷۵
۱۳-    اپنے فہم کو وحی و الہام سے کم حیثیت میں نہیں دیکھتے۔ بالکل اسی طرح خان صاحب بھی اپنے فہمِ دین کو واحدحق سمجھتے ہیں۔ جناب محمد عمار خان ناصر، موصوف صاحب کی اس قطعیت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’مولانا [وحید الدین خان ] کے زاویۂ نگاہ سے اصولی طور پر اتفاق رکھنے والے اہل فکر کا ایک حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مخالف فکری زاویوں اور شخصیات پر تنقید کے لیے ان کا اختیار کردہ لب ولہجہ اور اسلوب ’رایی صواب یحتمل الخطا ورایھم  خطا یحتمل الصواب‘ کے ذہنی رویے کے بجاے حتمیت کی عکاسی کرتا ہے، اور وہ اپنے زاویۂ نگاہ کو ایک ’نقطۂ نظر‘ سمجھنے کے بجاے ’واحد درست طرزِ فکر‘ قرار دینے پر اصرار میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں… افسوس ہے کہ اس ذہنی رویے نے اب ایک ایسا رُخ اختیار کر لیا ہے، جس سے ہماری راے میں نہ صرف مولانا [وحیدالدین خان]کی پوری جدوجہد کی افادیت پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے ، بلکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ خود دین کے حوالے سے ایک بے حد خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے‘‘۔(مضمون:’سی پی ایس انٹرنیشنل کسی نئے فتنے کی تمہید‘ ، ماہ نامہ الشریعہ   ، گوجرنوالہ، اکتوبر۲۰۰۶ء، ص۲۵)
۱۴-       خان صاحب کی فکر ایک لحاظ سے مولانا مودودیؒ کی مخالفت سے وجود میں آئی ہے۔ جس کی وجہ سے انھوں نے دین میں اجتماعیت سے ہر سطح پر انکار کردیا۔ تعبیر کی غلطی کے اثر سے مولانا سیّدابوالحسن علی ندویؒ (۱۹۱۴ء-۱۹۹۹) اور مولانا محمد منظور نعمانی ؒ(۱۹۰۵ء- ۱۹۹۷ء) بھی محفوظ نہ رہے۔ تاہم، وہ اجتماعیت کے مقابلے میں انفرادیت پر جس شدت کے ساتھ زور دیتے ہیں بالکل اسی طرح روحانیت حاصل کرنے کے لیے پوری دینی روایت پر خطِ تنسیخ پھیر دیتے ہیں۔ اوپر ذکر ہوا ہے کہ خان صاحب کی کتاب تجدیدِ دین' دینی روایت کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ خان صاحب، جیّد فقہا کی کاوشوں کو دین پر اضافہ سمجھتے ہیں، دینی روایت سے بے زاری کی اس سے کیا بڑی بات ہوسکتی ہے۔ بہ تکرار عرض ہے کہ وحیدالدین صاحب نے مولانا مودودی پر تنقید کرتے ہوئے اپنے عمل کو ’اسلافِ امت‘ کا دفاع قرار دیا تھا۔ تاہم، ایک جگہ سلف کے فہم پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حامل کتاب قوم میں یہ زوال اس وقت آتا ہے،جب کہ خدا کے دین کو ’فن‘ بنا دیا گیا ہو۔ فن نام ہے کسی حقیقت کو ناپ تول کی زبان میں متعین کرنے کا۔ اب چوں کہ اندرونی حقیقت ناپ تول کی گرفت میں نہیں آتی، وہ صرف بعض ظاہری پہلوؤں کو بیان کرسکتی ہے، اس لیے جب کسی قوم کے اندر ا س قسم کے فنون ترقی کرتے ہیں تو ظاہری بحثوں والے دین کے ماہرین تو ان کے یہاں خوب پیدا ہوتے ہیں، مگر ایسے لوگ ناپید ہوجاتے ہیں، جو کیفیت والے دین سے آشنا ہوں۔ عبادت جو دل کی گھلاوٹ کا نام ہے، فقہی ناپ تول کے ایک ظاہری عمل کا نام رہ جاتی ہے۔ روحانیت جو خدا اور آخرت کی سطح پر جینے کا نام ہے، اس کے مقامات عملیاتی ورزشوں سے طے ہونے لگتے ہیں۔ دعوتِ دین جو دراصل بندوں کے ساتھ خیرخواہی کا اظہار ہے، وہ تقریر اور تحریر، مناظرہ اور احتجاج، حتیٰ کہ ہڑبونگ اور توڑپھوڑ کی صورت اختیار کرلیتی ہے، وغیرہ‘‘۔ (تجدیدِ دین، ص۱۹-۲۰)

’انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین‘ (IMWU- امیو) دنیا کے ۷۰ممالک کے وفود کے سوڈان میں اجتماع میں ۱۹۹۶ء میں قائم ہوئی۔ تاسیسی اجلاس میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر کوثر فردوس اور سمیحہ راحیل قاضی نے شرکت کی تھی۔ یونین کا ہیڈ کوارٹر سوڈان میں ہے اور جنرل سیکرٹری کا تقرر سوڈان سے ہی ہوتا ہے۔ یونین کی شوریٰ، یعنی کونسل آف ٹرسٹیز کی تعداد ۳۲ہے۔ اس کا اجلاس ہر سال کسی نہ کسی ملک میں منعقد ہوتا ہے،جب کہ جنرل کانگریس کا انعقاد ہر تین سال بعد ہوتا ہے، جس میں چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز اور ریجن کے انچارجوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ پاکستان میں تین بار سالانہ کانفرنسیں (۲۰۰۳ء، ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۸ء) منعقد ہوئیں۔
۲۰۱۹ء کے لیے ملائیشیا کی ریاست کلنتان سے یونین کی رکن محترمہ ممتاز محمد نووی حسین نے کانفرنس کی میزبانی کی پیش کش کی۔ ۲۳ سے ۲۹ جون ۲۰۱۹ء کے دوران اس کانفرنس کا انعقاد نہایت حُسن و خوبی سے ہوا۔یاد رہے محترمہ ممتاز محمد نووی حسین ریاست کلنتان کی حکومت میں  ’اُمورِ خواتین، خاندان اور سماجی ترقی‘ کی وزیر ہیں۔ 
کانفرنس میں ۱۸ ممالک:سوڈان، پاکستان، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، عراق، ملاوی، نائیجیریا، صومالیہ، کیمرون، ٹوگو، آئیوری کوسٹ، یوگنڈا، عمان، ہانگ کانگ اور کوریا سے ۵۵نمایندگان شریک ہوئیں۔ تنظیم کے تمام مندوبین کو اپنے جملہ سفری وانتظامی اخراجات کا ذاتی طور پر انتظام کرنا ہوتا ہے۔ کانفرنس کا انعقاد کوٹابھارو (کلنتان، ملائیشیا) میں ہوا

پاکستانی وفد میں یونین کی چیئر پرسن ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، قیمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی، دردانہ صدیقی، انچارج شعبہ ویمن اینڈ فیملی، ڈاکٹررخسانہ جبین، انچارج ایشین ریجن ’امیو‘، شگفتہ عمر، یونین کی مجلس عالمات کی رکن ڈاکٹر زیتون بیگم اور پاکستان میں یونین یوتھ فورم کی انچارج    عائشہ عمرمرغوب شامل تھیں۔ پاکستانی وفد ۲۲ جون کی رات کوالالمپور پہنچا۔ رات کو ڈاکٹر ہاجرہ شکور صاحبہ نے میزبانی کی۔ اگلے روز ۲۳جون کو گیارہ بجے کوٹابھارو پہنچے۔
۲۴ جون ۲۰۱۹ء کو ’امیو‘ کی کونسل آف ٹرسٹیز کا اجلاس شروع ہوا۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عفاف احمد محمد احمد حسین نے ہیڈکوارٹر کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ پھر ایشین اور افریقین ریجنوں کی رپورٹیں پیش کی گئیں۔ ایشین ریجن کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے راقمہ نے پاکستان، کشمیر اور سری لنکا کی رپورٹ پیش کی۔افریقن ریجن کی رپورٹ ڈاکٹر اسماء جمیلہ نبلا مبا (یوگنڈا) نے پیش کی۔ پھر قدرے مستحکم کام والے ممالک ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی، تھائی لینڈ، عراق، صومالیہ، نائیجیریا، اور یوگنڈا کی نمایندگان نے رپورٹیں پیش کیں۔ کیمرون، ٹوگو اور آئیوری کوسٹ میں کام ابتدائی مراحل میں ہے، وہاں کی صورتِ حال بھی سامنے آئی۔  شام، اُردن، فلسطین، لبنان، سری لنکا اور کشمیر میں تنظیم مستحکم ہے، مگر وہاں سے نمایندے شرکت نہ کرسکے۔ ڈاکٹر زیتون بیگم نے مجلس عالمات اور ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے اقوامِ متحدہ کے تحت خواتین کانفرنس میں شرکت (دیکھیے: عالمی ترجمان القرآن جولائی ۲۰۱۹ء)اور عائشہ مرغوب نے ’امیو‘ یوتھ فورم پاکستان کی رپورٹ پیش کی۔ محترمہ دردانہ صدیقی صاحبہ نے مستقبل کے لیے تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ دوسرے سیشن میں برانچوں کی مشکلات کے جائزے اور آیندہ کی منصوبہ بندی پر بات ہوئی۔ بعدازاں اس سلسلے کی دو مزید تفصیلی نشستیں ۲۶اور ۲۸جون کو بھی منعقد ہوئیں۔
۲۴جون ہی کو ایک ملحق ہال میں الیوم انٹرنیشنل ینگ مسلمۃ فورم ملائیشیا کے تحت طالبات کے لیے کانفرنس کا اہتمام تھا، جس کا عنوان:’سیّدنا خدیجۃ الکبریٰؓ بہ حیثیت نمونۂ عمل‘ تھا۔    کانفرنس میں ۵۰۰سے زائد طالبات شریک ہوئیں۔ملائشیا سے نوجوان مقررات کے ساتھ فلسطین اور ہانگ کانگ سے بھی نمایندگی ہوئی اور پاکستان کی نمایندگی عائشہ عمر مرغوب نے کی۔

اس روز ریاست کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کی طرف سے سادگی اور وقار کی علامت عشائیے کا اہتمام تھا، جس میں مندوبین کے علاوہ شہر کے معززین بھی شامل تھے۔ عشائیے میں مقامی کلچرل شوز کا اہتمام بھی تھا۔
۲۵جون کو ’مسلم انٹرنیشنل سمٹ ، کلنتان‘ (MISK)کے تحت کانفرنس ہوئی جس کا موضوع ’تحقیق و تالیف کانفرنس‘ تھا۔ ایک ماہ قبل حاصل کردہ ۷۸تحقیقی مقالہ جات انگریزی، عربی اور ملے (مقامی) زبان میں تین کتب کی صورت میں شائع کیے گئے۔ یہ ایک قابل ستایش اور غیرمعمولی کام تھا۔ راقمہ نے ’ماوراے صنف افراد اور ہم جنسی رویے‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کا انعقاد تین متوازی سیشنوں میں ہوا۔
۲۵جون کی شام کلنتان ریاست کی اسمبلی کا دورہ تھا۔سپیکر کلنتان نے وفد کو خوش آمدید کہا۔محترمہ ممتازاحمد نے کلنتان کی اسلامی پالیسیاں بیان کیں، جن میں: ’سود‘ سے پاک معیشت، شراب پر پابندی، حجاب کا اہتمام، مردوں کی بحیثیت قوام تعلیم و تربیت کا انتظام، خواتین کی معاشی خودانحصاری کے مؤثر مراکز کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رہے، نوجوان نسلوں کے لیے صحابہؓ اور صحابیاتؓ کو بطور ماڈل پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یہ تقریبات بھی اسی کا حصہ ہیں۔
حضرت خدیجہ ؓ کے حوالے سے منعقدہ ان تقریبات کا مرکزی پروگرام ۲۵ جون کے روز عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ریاست بھر سے اہلِ علم اور معززین شامل تھے۔ مہمان خصوصی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اور دیگر اعلیٰ عہدے داران اور ان کی بیگمات بھی شریکِ کانفرنس تھے۔ یہ پروگرام  عمائدین، کارکنان اور رضاکاروں میں برابری اور یک جہتی کا مظہر تھا۔ ان تقریبات کو کامیاب بنانے میں تقریباً ۳۰۰؍ انتہائی مستعد، مہذب اور سہولت کار رضاکاروں کا بھی بڑا حصہ تھا، جو اپنے کاموں کو تقسیمِ کار کے ساتھ احسن انداز سے نبھا رہے تھے۔
تقریبات کی میزبان ممتاز احمد نووی نے افتتاحی کلمات کے ساتھ ریاست میں خواتین کے حوالے سے اعداد و شمار، دائرہ کار اور پیش نظر منصوبوں پر مفصل تقریر کی۔یہ تقریر ان کی قومی زبان میں تھی، البتہ غیرملکی وفود کے لیے ترجمے کی سہولت موجود تھی۔ اس تقریب میں مختلف میدانوں میں عمدہ کارکردگی پر خواتین کو ایوارڈز دیے گئے، جن میں ڈاکٹر سمیحہ راحیل بھی شامل تھیں ۔

اگلے روز دوسرا سیشن غیر ملکی وفود کی تقاریر اور سوالات و جوابات پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر نورافلاح موسیٰ کی میزبانی میں ملائشیا کی زیلا محمد یوسف، سوڈان سے ڈاکٹر عفاف احمد محمد احمد حسین، تھائی لینڈ سے ناتبا کونتھو تھونگ(خدیجۃ الکبریٰ)، ترکی سے ڈاکٹر رابعہ یلماز، عراق سے ڈاکٹر سحر مولود جابر، صومالیہ سے ڈاکٹر فاطمہ ابوبکر احمد، کیمرون سے ممبالہ انتا گانہ مابا حمادو، یوگنڈا سے ڈاکٹر حلیمہ وکابی اکبر، اور ڈاکٹر عصمت جمیلہ نبلامبا، ٹوگو سے ڈارو عالیہ، کلنتان سے یعقوب روحانی ابراہیم اور پاکستان سے ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خطاب کیا۔
انتہائی مصروف دن کے بعد عشائیے کا اہتمام وزیر اعلیٰ کی رہایش گاہ پر تھا۔ہیڈ آف سٹیٹ کے گھر کھانے کا مینو اور سادگی بیان سے باہر تھا۔ ملائیشیا میں کھانا ٹھنڈا کھایا جاتا ہے، اس لیے پہلے سے ہی میز پر رکھ دیا گیا تھا۔
کوٹا بھارو، کلنتان میں ہمارا آخری دن شہر کی سیر کے لیے مخصوص تھا۔ہمارے ہوٹل کے ساتھ بہتا دریاے کلنتان اتنے دنوں سے خاموشی سے ہماری سرگرمیاں دیکھ رہا تھا۔ آج ہم اس دریا کے پار اُترے تو کنارے پر مختلف قصبوں کے کچھ کلچرل اور صنعتی مناظر سے مستفید ہوئے۔ وہاں ہم نے ناریل سے بننے والے بسکٹ کے کارخانے دیکھے۔ چھوٹے فریموں میں بوتیک پینٹنگ اور قدرتی مناظر کے نمونے خرید وفروخت کے لیے رکھے تھے۔ ریاست میں خواتین کے لیے قائم انڈسٹریل ہوم دیکھا، جہاں کی مصنوعات قابلِ قدر تھیں۔ ان کا مارکیٹنگ کا نظام بھی فعال تھا۔ اس طرح کے ڈیڑھ سو ادارے اس ایک ریاست کے اندر حکومتی سطح پر کام کر رہے ہیں۔
کوٹا بھارو میں آخری روز، رات گئے تک’امیو‘ کی تمام ذمہ داران کے اجلاس جاری رہے۔ اگلے سال کی میٹنگ تک طے کرنے والے تمام اہم اقدامات، ذیلی شاخوں کے لیے منصوبہ بندی، مسائل کے حل کی کوششیں اور ۲۰۲۰ء میں کونسل آف ٹرسٹیز میٹنگ کے انعقاد کے لیے تجاویز، زیرغور آئیں۔زبانی اور تحریری تفصیلی آرا پر طے ہوا کہ بعد میں آگاہ کردیا جائے گا۔ 
اگلے روز پتراجایا روانہ ہوئے اور پھر اس سے اگلے روز کوالالمپور ایئرپورٹ سے اسلام آباد پہنچے۔ان تقریبات میں طے شدہ امور، ان شاء اللہ امت مسلمہ کی خواتین کو اسلامی تعلیمات کے دائرہ کار میں اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔یوں مسلم خاندان ہرمعاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دینے اور امن و استحکام قائم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔

آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی، مؤلفین: مولانا محمد حسن، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی [مرتبہ: عمرانور بدخشانی]۔جامعہ علومِ اسلامیہ، علامہ بنوری ٹائون، کراچی۔ فون: ۳۹۰۰۴۴۱-۰۳۳۳۔ جلداوّل، سورۃ الفاتحہ تا توبہ، صفحات:۱۱۲۸؛ جلد دوم، سورئہ یونس تا القصص، صفحات: ۹۸۰؛جلد سوم،سورۃ العنکبوت تا الناس، صفحات: ۱۰۶۴۔سائز مجلاتی۔ قیمت: درج نہیں۔


بیسویں صدی کے دوران قرآنی علوم میں ایک سے بڑھ کر ایک تفسیری خزانہ، اہلِ حق کے لیے معرضِ وجود میں آیا۔ اس ضمن میں اُردو کا دامن غالباً دوسری تمام زبانوں سے زیادہ مالا مال ہوا۔  ’’تفسیر بیان القرآن مولانااشرف علی تھانویؒ کی قرآنی فکر کا شاہ کار ہے، جو ۱۳۲۵ھ میں شائع ہوئی، جب کہ ۱۳۳۶ھ مولانا محمودحسنؒ نے موضح فرقان کے نام سے کام مکمل کیا، اور اس ضمن میں کام کی تکمیل مولانا شبیراحمد عثمانی ؒنے ۱۳۵۰ھ میں کی‘‘۔ (ص۵)


زیرنظر مجموعہ تفاسیر کی امتیازی خصوصیات یہ ہیں:’’lقرآنی آیات کا ترجمہ مولانا محمودحسنؒ کا ہے lترجمے کے بعد تفسیر مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہے lتفسیری فوائد مولانا شبیراحمد عثمانی ؒکے تحریر کردہ ہیں‘‘۔ (ص۷، ۸)


استادِ گرامی عمر انور بدخشانی نے سالہا سال کی محنت سے مذکورہ بالا مستند تفسیری سرچشموں کو، نہایت سلیقے، حد درجہ خوب صورتی اور عالمانہ شان کے ساتھ مرتب کرکے، دین کی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔ امرواقعہ ہے کہ اساتذہ اور طلبہ، یہ خبر پانے کے بعد اس تفسیر سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ بیش قیمت کریم رنگ میں کاغذ اور دو رنگوں میں طباعت، فکر اور نظر کو سکون اور شوقِ مطالعہ کو فراوانی عطا کرتی ہیں۔ (س م خ)


بز مِ خردمنداں ، از محمد اسحاق بھٹی۔ ناشر : محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔ ۲۰۵۱۳-جناح سٹریٹ، اسلامیہ کالونی ، ساندہ، لاہور۔ فون: ۴۷۶۸۹۱۸-۰۳۰۱۔ صفحات: ۳۱۲مجلد۔ قیمت: درج نہیں۔


اللہ تعالیٰ کا یہ نظام خاص ہے کہ اُس کی ذاتِ واحد کے علاوہ سب فانی ہے۔ انسان اس کائنات کی سب سے قیمتی مخلوق ہے۔پھر ان میں جنھوں نے تقویٰ کی زندگی گزاری یا انسانی خدمت اور علم و فضل کے باب میں اضافے کا ذریعہ بنے، ان کی اپنی ہی قدرومنزلت ہے۔


محمد اسحاق بھٹی ایک عالم اور محقق تھے، خوش گوار انسان اور خوش رنگ نثرنگار تھے۔ انھوں نے تحقیق و تالیف کی منزلیں سر کرنے کے علاوہ اپنی طویل زندگی بہت سے قیمتی لوگوں کے ساتھ گزاری۔ یہ کتاب ایسے ہی ممتاز لوگوں کے ساتھ اُن کے شخصی ربط اور یادوں پر مبنی مضامین پہ مشتمل ہے۔ علم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے جن متعدد رجالِ کار کے بارے میں لوگ جاننا چاہتے ہیں، ان میں سے چند خوش خصال نام اس کتاب میں شامل ہیں، جیسے: شیخ محمد اکرام، پروفیسرحمید احمد خان، پروفیسر محمد سعید شیخ، مولانا امتیاز علی عرشی، یوسف سلیم چشتی، سراج منیر، مولانا عبدالستار خان نیازی، عبدالجبار شاکر، علیم ناصری وغیرہ کے علاوہ پندرہ مزید حضراتِ گرامی بھی۔


بھٹی صاحب نے شخصی معلومات کے علاوہ ، دل چسپ واقعات اور گہرے مشاہدات کو ان یادداشتوں کا حصہ بنایا ہے، جن میں سبق بھی ہے اور جذبہ بھی۔(س م خ)

مشتاق حسن ،سری نگر

ترجمان کے شماروں (جولائی، اگست) میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا مضمون: ’قرآن، سنت اور قربانی‘ اپنے دلائل، اسلوب اور توجہ دلانے کے حوالے سے نہایت قیمتی تحفہ ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اتنی قیمتی تحریریں عام لوگوں کی پہنچ میں کیوں نہیں آتیں،جو بہت بڑا ملّی نقصان ہے۔ 


 انیسہ احمد ، استنبول

اگست کے شمارے میں محترم میاں طفیل محمد صاحب اور جناب سیّد منور حسن کی مختصر تقریروں یا تحریروں میں مجھے جماعت اسلامی کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی جو سہولت اور مدد ملی، اس کے لیے ان بزرگواروں کے لیے دُعائوں کے ساتھ ترجمان کی شکرگزار ہوں۔


 پروفیسر محمد رؤف صابر ، گجرات

الحمدللہ، ترجمان القرآن اُمت مسلمہ کا ترجمان ہے اور اصلاحِ معاشرہ کا نقیب بھی۔ اگست کا شمارہ قیمتی تحریروں سے مزین ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد نے اُمت کے مسائل اور حل کی طرف عمدگی سے توجہ دلائی ہے۔ یہ مضمون توجہ سے پڑھنا اور سمجھنا اور اجتماعات میں زیربحث لانا چاہیے اور عام لوگوں تک پہنچانا چاہیے، بالخصوص توحید باری تعالیٰ کا یہ جامع تصور عام کرنا، بہت بڑی نیکی اور اصل دعوت الی اللہ ہے۔ 


عفت نوید ، سکھر

سیّد علی گیلانی صاحب نے اپنے خط میں درحقیقت ہرمسلمان بچّے اور بچی کو مخاطب کیا ہے۔ کاش! کوئی صاحب ِ خیر اس خط کو دیدہ زیب طریقے سے چھاپ کر پاکستان کے لاکھوں طالب علموں میں پھیلائے۔


اکبر حسین ، سرگودھا

تازہ شمارے میں محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے تحقیقی مضمون نے احساس دلایا کہ آزاد خیال لوگ تو اپنے کام میں مگن ہیں، لیکن تعمیری قوتیں اپنے محاذ پر لاتعلقی اور بے عملی کی شکار ہیں۔


احمد نور ، سیالکوٹ

محترم ڈاکٹر ظفرالاسلام اصلاحی نے، قرآن میں ہرشخص کو اس کا تذکرہ پڑھاکر، قرآن سے ہمارے تعلق کو تازہ اور مضبوط کیا ہے۔ اتنا جامع مضمون ایک محقق ہی پیش کرسکتا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر محمدواسع ظفر نے تجارت میں اسلام کی رہنمائی پیش کر کے، ہر تاجر اور دکان دار کو اسلامی زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔


ڈاکٹر سیّد ظاہر شاہ ، پشاور

 محترم ظہور احمد نیازی نے ’پاکستان: ماضی اور حال___ ایک تاثر‘ میں قوم کی اخلاقی حالت پر  آنکھیں کھول دینے والے تلخ حقائق بیان کیے، اور بجا طور پر اس اخلاقی زوال کی ذمہ داری قوم پر ڈالی ہے۔ حلال رزق کمانے اور کھانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کی بڑی وجہ دین اور دنیا کی تقسیم ہے۔ لوگ نماز، روزہ، حج وغیرہ کی ادایگی کے بعد زندگی کے معاملات میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ 


عامر حسن ، اسلام آباد

جناب ظہور نیازی (اگست ۲۰۱۹ء) بجا طور پر وطن کے حال پر دل گرفتہ ہیں، لیکن وہ اپنی نئی جاے سکونت، یعنی مغرب کی تحسین میں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغربی اقوام صرف اپنے مفادات کی اسیر ہیں۔ یہ جب دوسری اقوام پر حکمران تھیں تو براہِ راست ظلم کرتی تھیں، اور اب بالواسطہ ظلم کرتی ہیں اور ظالم کا دست و بازو بھی ہیں۔ کشمیر و فلسطین کے مجرموں کو اپنے ہاں پناہ دینے سے متعلق ان کی پالیسیاں، فوجی حکومتوں کی حمایت، آمریت و کرپٹ سیاست دانوں کی سرپرستی اس کی واضح مثالیں ہیں۔


اخوندزادہ نصراللہ، موڑدہ ایون ،چترال

’تکفیر کے شرعی اصولوں پر نظر‘ از ڈاکٹر عصمت اللہ (ماہ جون و جولائی ۲۰۱۹ء )قرآن و سنت کے نصوص و دلائل پر مشتمل بڑی اہم تحریر ہے۔ کسی کے بارے میں لب کشائی سے قبل کاش! ان اصولوں پر کوئی  نظر رکھے۔حُب ِ رسولؐ و صحابہ کرامؓ کی آڑ میں بلاشرعی ضابطہ و تحقیق اپنی زبان قینچی کی طرح چلانے والے   کل بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟ زبان کی آفت تو تمام آفات سے بڑھ کرشدید ہے، جو لوگوں کے درمیان نفرتوں کو ہوا دیتی ہے اور معاشرے کے اندر بگاڑ و فساد کا سبب بنتی ہے۔