ستمبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

کرپٹو کرنسی، بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثے

حسان احمد | ستمبر ۲۰۲۶ | جدید فکر

Responsive image Responsive image

گذشتہ دنوں پاکستان کے ایک ممتاز دینی اسکالر کی جانب سے ’کرپٹو کرنسی‘ سے متعلق دیے گئے فتویٰ پر بحث مباحثہ رہا۔ ہر دوسرے فرد نے اس پر اپنی رائے دی۔ جہاں سوشل میڈیا پر اس فتویٰ کے حق اور مخالفت میں گرما گرمی چلتی رہی، وہیں بہت سے سنجیدہ لوگوں نے اس موضوع پر زیادہ تفصیل سے لکھ کر اپنے دلائل پیش کیے۔ لیکن یہ بحث صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ان دنوں امریکا میں بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی [CNBC] کی ۱۳ جولائی ۲۰۲۶ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینیٹ سے اپیل کی ہے کہ ’’ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ کے حوالے سے وضاحت کا قانون [Digital Asset Market Clarity Act] جلد از جلد پاس کیا جائے، ورنہ چین اور روس اس میدان میں امریکا پر برتری حاصل کرلیں گے‘‘۔ 

یہ قانون امریکا میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کو قانون کے دائرے میں لانے سے متعلق ہے۔ اور ہوسکتا ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں یہ بل منظور یا مسترد ہوچکا ہو۔ اس بل کے ناقدین کے خیال میں کیونکہ امریکی صدر ’خود کرپٹو کرنسی‘ کے کاروبار سے منسلک ہیں، اس لیے ان کو مفادات کے ٹکراؤ [Conflict of Interest] کے پیش نظر اس بل کو مؤخر کردینا چاہیے۔ دوسری طرف اس بل کے حمایتی اس ساری صورتِ حال کا ذمہ دار امریکا کے بینکاری کارٹیلز کو ٹھیراتے ہیں۔ جن کے خیال میں اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو ڈالر پر قائم ان بینکوں کی صدیوں پرانی اجارہ داری ختم ہوجائے گی، جو ان بینکوں کو عوام کی دولت پر اندھا منافع کمانے کا موقع دیتی ہے۔ 

عام خیال یہی ہے کہ امریکی بینک جے پی مارگن [ J.P. Morgan] کے سی ای او جیمی ڈائمن [Jamie Dimon] نے وائٹ ہاؤس اور امریکی سینیٹ میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اس بل کو منظور ہونے سے رکوا رکھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر یہ بل منظور ہوگیا تو آنے والے دنوں میں ان بینکوں سے تقریباً چار ٹریلین ڈالرز تک نکل کر کرپٹوکرنسیز میں داخل ہوجائیں گے، جو ان بینکوں کی اجارہ داری توڑنے کا باعث بنے گا۔ 

آخری خبریں آنے تک کافی حد تک معاملات طے ہوگئے تھے ، لیکن ابھی تک اس بات پر تعطل موجود تھا کہ عوامی منصب پر فائز لوگوں کی حدود کیا ہونی چاہئیں اور جس طرح بنک کے بچت اکاؤنٹ یا [Saving Account] میں رکھے گئے پیسوں پر صارف کو سود دیا جاتا ہے، اسی طرح اسٹیبل کوائن [Stable Coins] پر سود دیا جانا چاہیے یا نہیں؟ بینکاری کارٹیل کو خطرہ ہے کہ اگر اسٹیبل کوائن [Stable Coins] پر منافع بھی ملنا شروع ہوگیا تو روایتی بینکاری سے پیسہ بہت تیزی سے نکل کر کرپٹو کرنسیوں میں آنا شروع ہوجائے گا۔

ہم اس مضمون میں مستقبل میں آنے والی معاشی تبدیلیوں، عام فرد پر ان کے اثرات، اور ڈیجیٹل کرنسیوں کی مختلف شکلوں پر گفتگو کریں گے۔ اگرچہ یہاں ہمارا موضوع کرپٹو کرنسیوں کی حلت و حرمت پر بات کرنا نہیں ہے لیکن کیونکہ ’بٹ کوائن‘ اور دیگر ’کرپٹو کرنسیاں‘ آنے والے نظام کی پہلی کڑی بھی ہیں اور رائج الوقت بھی،لہٰذا ہم اس پر تھوڑی تفصیلی گفتگو کریں گے۔ 

پیسہ کی نجکاری [Privatization of Money]

’بٹ کوائن‘ ہو، ’اسٹیبل کوائن‘ ہو، کوئی ٹوکن ہو یا پیسہ کی کوئی دوسری ڈیجیٹل شکل، یہ سب پیسہ کی نجکاری کی طرف ایک قدم ہیں۔ پیسہ کی نجکاری [Privatization of Money] کا تصور سب سے پہلے آسٹریا کے مشہور نوبل انعام یافتہ معیشت دان فریڈرک ہائیک [Friedrich Hayek] نے ۱۹۷۶ء میں اس وقت دیا تھا، جب امریکا کی جانب سے سونا کے معیار [Gold Standard] ہونے کے خاتمے کے اثرات نظر آنا شروع ہوئے۔ فریڈرک نے اپنی کتاب دولت کی نجکاری [The Denationalisation of Money] میں اس موضوع پر بحث کی اور مختلف تاریخی مثالوں سے یہ بتایا کہ کس طرح مختلف حکومتی اقدامات افراط زر اور دیگر مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔

جہاں دنیا بھر میں ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ (IMF) کی سربراہی میں مرکزی بنکوں کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کرایا جانا پیسہ کی نجکاری کی طرف پیش رفت لگتا ہے، اسی طرح ’مصنوعی ذہانت‘ (AI)کے میدان میں ملنے والی تیز رفتار ترقی نے اس مطالبےمیں شدت پیدا کردی ہے۔ اس وقت صرف ’بٹ کوائن‘ یا کرپٹو کرنسیاں ہی نہیں بلکہ پروگرام کے تحت سرمایے کی حرکیات [Programmable Money]، باقاعدہ جمع کرائی گئی رقوم [Tokenized Deposits]، ’مرکزی بنک سے وابستہ ڈیجیٹل رقوم‘ [Central Bank Digital Currencies]، [Quantum Money] جیسی بہت سی ڈیجیٹل کرنسیوں کی شکلیں منظر عام پر آنے کو تیار ہیں۔ اور بے شمار ملکوں کی حکومتیں مختلف نجی کمپنیوں کے ساتھ مال کی ان بدلتی شکلوں پر کام کررہی ہیں۔

مغربی تناظر میں انسان کی معاشی تاریخ

مؤرخین کے لیے یہ فیصلہ کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ تاریخ کو طاقت کی نظر سے دیکھا جائے یا معیشت کی نظر سے، یا دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں؟ طاقت کے ساتھ ساتھ مال و دولت کی بحث بالکل مرغی اور انڈے والی بحث کی طرح ابھی تک حل طلب ہے کہ طاقت اگر ہتھیار سے حاصل ہوئی، تو وہ ہتھیار مثلاً تلوار جس دھات سے بنی وہ دھات اس وقت کے اعتبار سے مال یا دولت تھی، اور اگر طاقت ذہانت سے حاصل ہوئی تو دراصل ذہانت خود مال کی ایک شکل ہے۔  

پھر جس طرح یہ بحث حل طلب رہی ہے، اسی طرح وسائل کا استعمال و اختیار بھی ہمیشہ سے ایک بحث طلب موضوع رہا ہے۔ بالکل اوّلین دور میں، جسے مغربی مؤرخین پتھروں کا دور [Stone Age] کہتے ہیں ، انسان بذاتِ خود طاقت و معیشت کا مرکز و محور تھا۔ جس میں جتنی طاقت تھی، وہ اتنا ہی شکار کرتا اور اپنے لیے خوارک کا بندوبست کرتا۔ یہیں سے خاندان کی ابتدائی شکل اُبھری۔ جسمانی طور پر طاقت ور انسان کے گرد لوگ اکٹھا ہونا شروع ہوئے، گروہ بنے، مل کر شکار شروع ہوا اور پھر خاندان سے قبائل بننا شروع ہوئے۔ گویا خوراک، مال کی پہلی شکل بنی۔

یہیں سے انسان نے زیادہ خوراک کے حصول کے لیے زمین کا استعمال شروع کیا۔ پھر دنیا ’زرعی دور‘ میں داخل ہوگئی، جس میں زمین کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، جس کے پاس زیادہ زمین تھی وہ زیادہ طاقت ور تھا۔ یہیں سے جاگیردارانہ نظام زندگی شروع ہوا۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’زرعی دور‘ میں زمین کو مال کی حیثیت حاصل تھی۔ پھر وقت کا پہیہ گھوما اور انسان ’زرعی دور‘ سے ’صنعتی دور‘ میں داخل ہوگیا۔ جہاں مشین، فیکٹری اور توانائی کے مختلف ذرائع مرکزی حیثیت اختیار کرگئے۔ اور ساتھ ہی مشینوں اور توانائی کو مال کی حیثیت بھی حاصل ہوگئی۔ 

پیسے کی ابتداء

جب انسان نے وسائل پر قابو پانا شروع کیا تو اس کے ساتھ ہی ان وسائل کے استعمال اور باہمی تبادلے کے لیے مختلف معیار مقرر ہوگئے۔ مثلا ’زرعی دور‘ میں سب سے پہلے ’بارٹر سسٹم‘ [Barter System] یعنی اشیاء کے تبادلے سے کاروبار شروع ہوا۔ ضرورتیں بدلیں تو کچھ اشیاء مثلاً نمک، اجناس وغیرہ کو اپنی اپنی مخصوص خوبیوں کے باعث زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی اور یہ اشیاء مالی تبادلے کا معیار مقرر ہوئیں۔ وقت آگے بڑھا اور انسانوں نے قبیلوں اور ریاستوں کی شکل اختیار کرلی، تو اپنے اپنے جھنڈوں کے ساتھ سونے، چاندی کے سکّے جاری کیے۔

دنیا کا نظام زندگی کافی عرصہ مختلف دھاتی سکّوں پر چلتا رہا، لیکن وزنی سکوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہا، جس کے حل کے لیے کاغذی رسیدوں یا بنک نوٹ وغیرہ کا رواج شروع ہوا۔ ایک عرصے تک یہ بنک نوٹ محض ایک ضمانت کی حیثیت رکھتے رہے، یعنی آپ جب چاہیں یہ بنک نوٹ دے کر سونا وصول کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کے استعمال میں آسانی نے بظاہر ان نوٹوں ہی کو مال کی شکل دے دی۔ 

دولت اور طاقت کا گٹھ جوڑ اور بغیر محنت پیسے کی تخلیق

انسانی تاریخ میں طاقت اور دولت کے ملاپ نے ہمیشہ دوسروں کے استحصال کو بڑھاوا دیا۔ ذات پات کے مختلف نظام ہوں یا جاگیرداری نظام، اشتراکیت ہو یا سرمایہ دارانہ نظام، تقریباً ہر نظام ہی انسان کے نجات دہندہ کے طور پر پیش ہوا، اور پھر استحصال کی ایک شکل بنتا چلا گیا۔ لیکن جب کاغذی نوٹوں نے مال کی حیثیت اختیار کرلی تو استحصال کی بدترین شکل ’جزوی ذخائر پر مبنی بینکاری ‘ [Fractional Reserve Banking] کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ 

یعنی جب بنکوں کو اندازہ ہوا کہ ان کے جاری کردہ نوٹ رسید کے بجائے خود ایک مضبوط ضمانت بن گئے ہیں، اور کم ہی لوگ ان کاغذی رسیدوں یا نوٹوں کے بدلے سونا لینے آتے ہیں، تو انھوں نے اپنے پاس موجود سونے سے زیادہ مالیت کے کاغذی نوٹ جاری کرنا اور بطور قرض دینا شروع کردیے۔ یوں دولت یا مال کی پیدائش بغیر محنت کے ہونا شروع ہوگئی۔ 

افراط زر اور کینٹیلن اثر [Cantillon Effect]

جب بغیر محنت پیسہ بننا یا چھپنا شروع ہوا تو اس کا لامحالہ نتیجہ پیسے کی بے قدری کی صورت میں نکلا۔ جسے ہم افراط زر یا [Inflation] یا عام لفظوں میں مہنگائی کہتے ہیں۔ کسی چیز کی قیمت میں اضافے اور کمی کی بنیادی وجہ طلب و رسد [Demand and Supply] کے اصول کے گرد گھومتی ہے، یعنی اگر ایک چیز کی طلب زیادہ ہے مگر رسد کم ہے تو وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے، یا پھر اسی طرح کسی چیز کی مانگ کم مگر رسد زیادہ رہے تو اس کی قیمت گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن جب پیسے کی رسد بڑھنا شروع ہوئی تو اس کا اثر پوری معیشت پر پڑنا شروع ہوگیا۔ کیونکہ کاغذی نوٹ کی طباعت تو ہوگئی یعنی دولت تو پیدا ہوگئی، لیکن اس دولت کے پیچھے کوئی حقیقی اثاثہ موجود نہ تھا، جس کا نتیجہ ہر دوسری دستیاب چیز کے مہنگے ہونے کی صورت میں نکلا۔ 

لیکن حقیقت میں یہ مہنگائی یا افراط زر سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ جب نیا پیسہ یا نوٹ چھپتا ہے تو یہ سب سے پہلے حکومت کے ہاتھ میں آتا ہے، اور وہ اس پیسے کو استعمال کرتی ہے۔ حکومت کے بعد بینک کے پاس پہنچتا ہے جو یہ پیسہ قرضے کی صورت میں سرمایہ دار کو دے دیتے ہیں اور سرمایہ دار اس کو کسی کاروبار میں لگا کر نفع کماتا ہے۔ اس کے بعد سب سے آخر میں یہ پیسہ ایک مزدور یا محنت کش طبقے کے پاس پہنچتا ہے۔ اس طرح جیسے جیسے یہ پیسہ ہاتھ بدلتا ہے ویسے ویسے مہنگائی بھی بڑھتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس پیسے کا سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہوتا ہے جو اسے سب سے پہلے استعمال کرتا ہے اور سب سے زیادہ خسارے میں وہ رہتا ہے، جس کے پاس یہ پیسہ سب سے آخر میں پہنچتا ہے ۔ معیشت کی زبان میں یا معیشت کا آسٹریوی مسلک [Austrian School of Thought] اسے کینٹیلن اثر [Cantillon Effect] کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افراطِ زر کو معاشی قتل یا چھپا ہوا ٹیکس بھی کہا جاتا ہے۔

سونا بطور معیار [Gold Standard] کا خاتمہ

اگرچہ کاغذی نوٹ نے صدیوں کے استعمال کے بعد بطور مال اپنی حیثیت تو منوالی تھی، لیکن پھر بھی ایک عام تصور یہی تھا کہ اس کاغذی نوٹ کے پیچھے سونا بطور معیار موجود ہے۔ چاہے سونے کی ’مقدار جزوی ذخائر پر مبنی بینکاری‘ [Fractional Reserve Banking] کے باعث کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے سونا کا بطور معیار [Gold Standard] کے خاتمہ کا اعلان کردیا کہ اب ڈالر کے پیچھے سونے کی طاقت نہیں ہوگی۔ 

بغیر کسی محنت یا وسائل کے پیسے چھاپنے کے اس عمل نے افراطِ زر میں کس قدر اضافہ کیا ہے، اس کا اندازہ دنیا کی سب سے طاقت ور کرنسی ڈالر کی آج بے قدری سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے سو سال میں ڈالر اپنی ۹۷ فی صد قدر کھو چکا ہے۔ یعنی آج سے سو سال پہلے جو چیز محض تین ڈالر کی تھی، آج سو ڈالر میں ملتی ہے۔  

۲۰۰۸ء کا معاشی بحران

چونکہ امریکی ڈالر دنیا کی ایک عالمی ریزرو کرنسی [Reserve Currency] بھی ہے جو عالمی تجارت میں استعمال ہوتی ہے، لہٰذا اس کے افراطِ زر کا اثر دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ پیسہ یا ڈالر چھاپنے کا یہ کام کتنا بڑھ گیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ امریکا کا کل قرضہ ۴۰ٹریلین ڈالر تک پہنچ رہا ہے۔ جو ۱۹۷۱ء میں سونے کے معیار کے خاتمے سے قبل محض ۴۰۰بلین ڈالر تھا۔ یعنی قرض کی رفتار دگنی یا تگنی نہیں بلکہ سو گنا بڑھ گئی ہے۔ 

اس سب کا نتیجہ بالآخر ۲۰۰۸ء کے عالمی معاشی بحران کی صورت میں نکلا جو ۱۹۲۹ء کے عظیم معاشی بحران [Great Depression] کے بعد سب سے بدترین معاشی بحران ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تقریباً آٹھ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ تقریباً ۹۰لاکھ لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہوگئے اور ۴۰ لاکھ لوگ اپنے مکانوں کا قرض ادا نہ کرسکے۔

بٹ کوائن : تحریکِ بغاوت یا ایک سازش؟

  امریکی ڈالر کی غیرمعمولی طباعت کے باعث، جس کی سب سے بڑی وجہ امریکا کی دُنیابھر میں شروع کردہ جنگیں تھیں،  بیشتر ماہرین نے ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کی پیش گوئی کافی پہلے سے ہی شروع کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کو ’عظیم چوری‘ [Great Theft] بھی کہا گیا جس کے باعث پیسہ نہ صرف غریبوں کے ہاتھ سے نکل کر امیروں کے پاس گیا بلکہ خود حکومتوں نے اس بحران کے ذمہ دار بنکوں کو تو ’مالی مدد‘ [Bail out] دے کر بچا لیا، لیکن جو لوگ اپنے مکانوں اور نوکریوں سے محروم ہوگئے تھے ان کے لیے کوئی خاص حل نہیں نکالا۔

جزوی ذخائر پر مبنی بینکاری [Fractional Reserve Banking] کے ان ہولناک نتائج کو دیکھتے ہوئے اس کے مقابلے میں ۲۰۰۹ء میں ’بٹ کوائن‘ [Bitcoin]، جو کہ اپنی نوعیت کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی ہے، کو بطور حل پیش کیا گیا۔ ’بٹ کوائن‘ کے بنانے والوں نے اپنی شناخت کو مخفی رکھتے ہوئے ایک فرضی نام ’ستوشی نکاموتو‘ [Satoshi Nakamoto] سے ایک مقالہ لکھا، جس کے ذریعے بٹ کوائن اور اس کے نظام کو واضح کیا گیا تھا۔ 

’بٹ کوائن‘ بنانے والوں نے مال کی نئی اور پرانی شکلوں اور ٹکنالوجی کے ملاپ سے اس کو ایک مکمل مالیاتی نظام کے ایسے دعویٰ کے طور پر پیش کیا، جو موجودہ بینکاری نظام کی تمام کمزوریوں کو حل کرتا ہے۔ مثلاً جس طرح سونے جواہرات کی اہمیت، ان کی رسد کم یا محدود ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کی پرنٹنگ نہیں کی جاسکتی، اسی طرح بٹ کوائن کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۱ ملین تک رکھی گئی۔ جس طرح سونا زمین سے مائننگ کے عمل سے گزر کر نکلتا ہے، اسی طرح جدید ٹکنالوجی، حساب کے مشکل سوالات کو حل کرکے، برقی توانائی کے استعمال کے بعد ’بٹ کوائن‘ حاصل ہوتا ہے اور کاغذی کرنسیوں کی طرح اس کی پرنٹنگ نہیں ہوسکتی۔ 

بٹ کوائن ایک کرنسی یا سونے کی طرح ایک اثاثہ

گوکہ ’بٹ کوائن‘ کو روپے پیسے کی طرز پر انٹرنیٹ پر باہمی تبادلہ کے لیے بطور مال پیش کیا گیا تھا لیکن اس کی محدود تعداد، مخصوص شرائط اور مضبوط نظام کے باعث ایک عام کرنسی کے بجائے ’بٹ کوائن‘ کا استعمال سونے یا ہیرے جواہرات کی طرح مال کی قدر کو محفوظ کرنے کے ذریعے [Store of Value] کے طور پر شروع کردیا گیا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ بینکاری کا نظام ہے، جہاں پیسہ کو بے دریغ چھاپا جارہا ہے۔ چونکہ دنیا بھر میں پیسہ مستقل چھپ رہا ہے لیکن ’بٹ کوائن‘ کی تعداد ۲۱ ملین سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ چنانچہ کاغذی نوٹ خواہ کسی بھی ملک کا ہو اس کے مقابلے میں ’بٹ کوائن‘ کی قیمت بہت تیزی سے بڑھی ہے۔

دنیا بھر میں جہاں جہاں کاغذی نوٹ یا پیسہ بے وقعت ہوا ہے، وہاں لوگوں نے تیزی سے سونے اور چاندی کے ساتھ ساتھ ’بٹ کوائن‘ میں بھی اپنی دولت کو رکھنا شروع کردیا ہے، تاکہ محنت سے کمائی اپنی دولت کو بے وقعت ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس کی بڑی مثال ارجنٹائن ہے، جہاں تیزی سے بڑھتے افراط زر کے مقابلے کے لیے لوگوں نے ’بٹ کوائن‘ میں اپنی دولت رکھنی شروع کی۔ اسی طرح ’روس یوکرین جنگ‘ کے بعد بہت سارے یوکرینی شہریوں نے ’بٹ کوائن‘ کا استعمال شروع کیا۔ کیونکہ سونا لے کر ایک ملک سے دوسرے ملک جانا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے بھی ’بٹ کوائن‘ کا نسبتاً آسان استعمال ان ممالک میں لوگوں کے لیے پہلی ترجیح بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا سمیت کئی ممالک میں ’بٹ کوائن‘ کو سونے کی طرح قومی خزانے کا حصہ [State Reserves] بنانے کا مطالبہ زوروں پر ہے۔  

کیا بٹ کوائن ایک سازش ہے؟ 

لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ’بٹ کوائن‘ کی قیمت جتنی تیزی سے بڑھتی ہے اتنی ہی تیزی سے گرتی بھی ہے۔ اور قیمت کے اس زبردست اتار چڑھاو کی وجہ سے روزمرہ کے لین دین میں بطور کرنسی اسے کوئی استعمال نہیں کررہا، ساتھ ہی اس کی قیمتوں میں مستقل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بطور سرمایہ کاری بھی یہ قیاس آرائیوں پر مبنی سرمایہ کاری [Speculative Risk Asset] بن کر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’بٹ کوائن‘ کی قیمت آخری پندرہ برسوں میں کم از کم چار دفعہ ۷۵ فی صد سے نیچے گر کر پھر اوپر اٹھی ہے۔ 

اسی طرح ہر ایک کے لیے نئی ٹکنالوجی استعمال کرنا آسان نہیں ہوتا، لہٰذا لوگ ’بٹ کوائن‘ کو اپنی ذاتی تحویل میں رکھنے کے بجائے جس ’کرپٹو کرنسی‘ ایکسچینج سے خریدتے ہیں، وہیں پر محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اپنا پیسہ بنک میں رکھا جائے، جہاں اس عمل سے آپ ذاتی تحویل کی پیچیدگیوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں، وہیں قیمتوں کے بڑھنے یا گرنے کی صورت میں فوری فیصلہ کرنے اور خریدنے یا بیچنے کا اختیار بھی رہتا ہے۔ اگرچہ بٹ کوائن خود تو حکومتی دسترس سے باہر ہے لیکن یہ کرپٹو ایکسچینج خود کسی نہ کسی حکومت کے زیر سایہ کام کرتے ہیں۔ نتیجتاً اگر کوئی حکومت کسی پر روک ٹوک لگانا چاہے تو یہ ممکن ہوجاتا ہے۔ 

اسی طرح اس نئی ٹکنالوجی کی مشکلات اور کرپٹو ایکسچینج کی ہیکنگ(Hacking) کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر ایک اندازے کے مطابق ۱۵؍ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان صارفین کو برداشت کرنا پڑا ہے۔

جہاں ’بٹ کوائن‘ کے چاہنے والے بہت ہیں وہیں بہت سے محتاط تجزیہ نگار اس کو ایک ’معاشی بلبلہ‘ کہتے ہیں، کیونکہ ’بٹ کوائن‘ اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بعض سازشی نظریات سے متاثر حضرات تو اس کو مال پر ریاستی جبر کی ابتدائی شکل کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں حکومت پہلے ’بٹ کوائن‘ کو ایک مقبول تحریک بنا کر ڈیجیٹل کرنسیوں کو عوام میں قبولیت دلوائے گی اور اس کے بعد اپنی ڈیجیٹل کرنسی [Central Bank Digital Currency] جاری کرکے نقد رقوم [Cash] کے لین دین کا مکمل خاتمہ کردے گی۔ 

چین : نقدی سے آزاد معاشرہ 

اس سب کی جھلک دیکھنی ہو تو آپ چین کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ چین نے آخری عشروں میں ٹکنالوجی کے استعمال کے ذریعے کافی حد تک اپنے معاشرے کو نقدی سے آزاد معاشرہ [Cashless Society] بنادیا ہے ۔ آپ اسمارٹ فون پر موجود ایپلی کیشن کے ذریعے جب چاہیں، جہاں چاہیں ادائیگی کرسکتے ہیں۔ اگرچہ فی الوقت چین میں نقدی کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں، اور نہ موجودہ چینی نظام ’بلاک چین‘ (Block chain)پر مشتمل ہے لیکن پرائیویسی  کے ماہرین اس نظام پر شدید تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے حکومت کے لیے عوام کی نگرانی کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکا جہاں آزادیٔ اظہار پر کوئی پابندی نہیں، وہاں ’بٹ کوائن‘ پر تو کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کیونکہ اس کی ساری نقل و حرکت [Transactions] عوام کی طرح حکومت کی نظروں میں بھی رہتی ہے۔ لیکن بعض دوسرے کوائن پر، جو Privacy Coin کہلاتے ہیں اور اپنی نقل و حرکت صارف کے تحفظ کے لیے چھپاتے ہیں، امریکا میں آزادیٔ اظہار کے تمام نعروں کے برعکس غیر علانیہ پابندی بھی ہے اور بعض سافٹ وئیر انجینئرز کو ایسے سافٹ وئیر بنانے پر سزا بھی مل چکی ہے، جو ان کوائن کی نقل و حرکت کو دوسروں کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ 

تمام کرپٹو کرنسیاں بٹ کوائن نہیں

لیکن یہاں اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نہ تو تمام کرپٹو کرنسیاں بٹ کوائن کی طرح کام کرتی ہیں اور نہ ان میں ’بٹ کوائن‘ کی تمام خصوصیات ہی موجود ہیں، اور نہ ان کو وہ وسیع پذیرائی حاصل ہے جو ’بٹ کوائن‘ کو حاصل ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں کرپٹو کرنسیاں یا ٹوکن موجود ہیں جن میں سے بیش تر کا مقصد سادہ لوح لوگوں کو راتوں رات امیر ہونے کا خواب دکھا کر مال کمانا اور پھر غائب ہوجانا ہے۔

کرپٹو کرنسیاں روایتی معنوں میں کرنسی یا پیسہ نہیں

اسی طرح تمام کرپٹو کرنسیوں یا ٹوکنز کو روایتی معنوں میں کرنسی سمجھنا بھی غلطی ہے۔ مثلاً دنیا کی دوسری مقبول ترین کرپٹو کرنسی ایتھریم [Ethereum] روایتی معنوں میں ایک کرنسی نہیں ہے۔ جس طرح ہم کمپیوٹر کو استعمال کرنے کے لیے ’مائیکروسافٹ‘ کے بنے ’ونڈوز آپریٹنگ سسٹم‘ [Windows Operating System] کا استعمال کرتے ہیں اور پھر اس آپریٹنگ سسٹم پر ہرکام کے لیے مختلف سوفٹ وئیر بنائے جاتے ہیں۔ یا اسمارٹ فون کو استعمال کرنے کے لیے ’اینڈرائیڈ‘ [Andriod] یا ’ایپل کمپنی‘ کا بنایا ہوا ’آئی او ایس‘ [Apple's iOS] درکار ہوتا ہے، جن پر ہم مختلف کاموں کے لیے مختلف ایپس [Apps] انسٹال کرتے ہیں۔ اسی طرح ایتھریم [Ethereum] بھی بلاک چین [Blockchain] پر مبنی ایک آپریٹنگ سسٹم کہلاسکتا ہے جو مختلف ایپس، جنھیں [dApps] کہا جاتا ہے، بنانے کی سہولت دیتا ہے۔ 

اور جس طرح ہمیں ونڈوز استعمال کرنے کے لیے ایک الگ لائسنس درکار ہوتا ہے اور ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کسی بھی دوسرے سوفٹ وئیر مثلاً ایم ایس آفس [Microsoft Office] کے لیے ایک مختلف لائسنس درکار ہوتا ہے، اسی طرح ایتھریم [Ethereum] پر بننے والی مختلف ایپس یا [dApps] ایتھریم کی ’کرپٹو کرنسی‘ کو بطور لائسنس [Gas Fees] کا استعمال کرتی ہیں اور خود ’اپنی ایپ‘ [dApps] کے لیے ایک الگ لائسنس بناتی ہیں، جسے ٹوکن کہتے ہیں۔ 

اسٹیبل کوائن [Stable Coins] کیا ہیں؟ 

ایتھریم [Ethereum] پر بنی دو سب سے مقبول ایپس [dApps] یا ٹوکن [Token] امریکی ڈالر کی کرپٹو شکل یو ایس ڈی ٹی [USDT] اور یو ایس ڈی سی [USDC] ہیں، جنھیں اسٹیبل کوائن یا Stable Coin بھی کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کے پیچھے اصل میں ڈالر ہی کام کرتا ہے، یعنی آپ کا ڈالر یو ایس ڈی ٹی [USDT] یا یو ایس ڈی سی [USDC] بنانے والی کمپنی کے اکاؤنٹ میں چلا جاتا ہے اور وہ کمپنی آپ کو اس کے بدلے ڈالر کی ڈیجیٹل شکل اپنے ٹوکن کی شکل میں دے دیتی ہے۔ یہ اس لیے مفید ہے کہ بنک تو صرف دن کے آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں، لیکن اگر آپ کے پاس یو ایس ڈی ٹی [USDT] یا یو ایس ڈی سی [USDC] موجود ہوں تو آپ ان کو کسی بھی وقت دن ہو یا رات استعمال کرسکتے ہیں۔ گوکہ یہی کام مختلف بنکوں کی موبائل ایپس بھی کرتی ہیں لیکن ان دونوں ٹوکن [Stable Coins] کو آپ دنیا بھر میں کہیں بھی کسی بھی وقت بلاتاخیر اور نہایت ہی کم خرچ کے ساتھ بھیج سکتے ہیں۔ 

ان اسٹیبل کوائن [Stable Coins] کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگالیں کہ یوایس ڈی سی [USDC] بنانے والی کمپنی سرکل [Circle] نے امریکا میں اب اپنا بینکاری ٹرسٹ لائسنس حاصل کرلیا ہے۔ یہ کسی اسٹیبل کوائن کمپنی کو ملنے والا پہلا لائسنس ہے ، جس کی وجہ سے سرکل [Circle] کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ کمپنی اب امریکا کے دیگر بنکوں کی طرح امریکی حکومتی نگرانی میں کام کرے گی۔ لہٰذا، اب اسے تمام وہی قوانین بھی ماننے ہوں گے جو دیگر امریکی بنک مانتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک ایران کے مختلف کرپٹو اثاثوں پر امریکی پابندی سے دیکھی جاسکتی ہے اور یہی وہ خطرہ تھا، جس کا اظہار ’بٹ کوائن‘ اور کرپٹو کرنسیوں کے ناقدین اب تک کرتے آرہے ہیں۔ اسی طرح یو ایس ڈی ٹی [USDT] پر فریکشنل ریزرو بینکاری کے طور طریقے استعمال کرنے کے الزام لگتے رہتے ہیں۔

 _______________