ارشاد ربانی ہے: النَّبِيُّ أَوْلَٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶)’’بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں پر اُن کی اپنی جانوں سے زیادہ مقدم ہیں‘‘۔ اس آیۂ کریمہ میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیّین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے خصوصی ذہنی، قلبی، روحانی، فکری اور عملی تعلق اور رشتہ کو نہایت ہی پیارے ،مختصر لیکن جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔
اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے اس آیت مبارکہ کے ان تمام معانی کو اللہ سبحانہٗ نے قرآن کریم کی دیگر آیات میں ، رسولؐ اللہ نے اپنے ارشادات میں کتنے تاکیدی انداز میں اجاگر کرتے ہوئے رسولؐ اللہ کے مسلمانوں سے تعلق کی کیا خصوصی نوعیت متعین کی ہے اور یہ خصوصی نوعیت کا تعلق قرآن وسنت ہی کے نصوص میں ہر مسلمان سے رسولؐ اللہ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلق کا تقاضا کرتا ہے؟اور اس خصوصی نوعیت کےتعلق کے ہرمسلمان سےکیا تقاضے ہیں؟ اور محقق مفسرین اور محدثین نے تفاسیر اور حدیث کی شروح میں اس خصوصی نوعیت کےتعلق اوراس تعلق کے ہر مسلمان سے تقاضوں کو کس طرح سمجھا اور بیان کیا ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں ایمان والوں سے اپنے سب سے زیادہ قریبی تعلق کو یوں بیان فرمایا:ما مِن مُؤْمِنٍ إلَّا وأنا أوْلَى النَّاسِ به في الدُّنْيا والآخِرَةِ ، اقْرَؤُوا إنْ شِئْتُمْ:﴿النبيُّ أوْلَى بالمُؤْمِنِينَ مِن أنْفُسِهِمْ﴾، فأيُّما مُؤْمِنٍ تَرَكَ مالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَن كانُوا، فإنْ تَرَكَ دَيْنًا، أوْ ضَياعًا فَلْيَأْتِنِي فأنا مَوْلاهُ،’’مومنوں میں سے کوئی مومن ایسا نہیں کہ دنیا اور آخرت میں میرا اس سے تعلق تمام انسانیت سے زیادہ قریبی نہ ہو، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶)، پس جو مسلمان ترکہ میں مال چھوڑ ے تو اس کے جو کوئی بھی عصبہ (ایسے قریبی رشتہ دار جن کا وراثت میں حصہ مقرر ہے) ہوں وہ اس مال کے وارث ہوں گے، اور جو مسلمان اس حال میں فوت ہوجائے کہ اس کے ذمہ قرض ہو یا اس کے بچے چھوٹے ہوں تو وہ میرے پاس آئیں کہ میں اس کا مولیٰ ہوں (یعنی اس قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے)‘‘۔(صحیح بخاری و سنن ابی داؤد، تفسیر ابن کثیر)
سیّدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مومن کے ساتھ اپنے اس خصوصی قریبی اور نافع تعلق کو یوں بھی بیان فرمایا: عَن أَبی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا،’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (۱۸ ق ھ-۵۹ھ)نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: میری مثال اور انسانیت کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے کہ جس نے آگ جلائی، جب اس آگ نے اپنے گردا گرد ماحول کو روشن کر دیا تو پروانے اور آگ میں گرنے والے پتنگے اس میں گرنے لگے، تو وہ آدمی انھیں آگ سے ہٹانے (کی سر توڑ کوشش کرنے) لگا لیکن وہ اس پر غالب آ کر آگ میں ہی گرتے رہے۔ اسی طرح میں کمر سے پکڑ پکڑ کر تمھیں آگ سے دور کھینچ رہا ہوں لیکن لوگ ہیں کہ اس میں گرنے پر ہی مصر ہیں‘‘۔(صحیح البخاری،تفسیر ابن کثیر، تفسیر صراط الجنان)
امام القرطبیؒ (۶۰۰-۶۴۳ھ)نے فرمایا کہ یہ حدیث جابر ؓ (۱۶ ق ھ- ۷۸ھ)سے بھی منقول ہے، جس میں آخری الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں روایت ہوئے ہیں: وأنتم تفلتون من يدي ’’اور تم ہو کہ میرے ہاتھوں سے مسلسل نکلے جا رہے ہو‘‘۔ (تفسیر القرطبی) لہٰذا اس آیت کے معنی کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ نبی ؐمومنین پر اُن کی جانوں سے زیادہ نرمی، رحمت اور لطف و کرم فرمانے والے اور انھیں سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں۔
اسی حقیقت کو امام ابن عطيۃؒ (۴۸۱-۵۴۱ھ)نے بعض علماء عارفينؒ کے حوالے سے یوں بیان فرمایا: هو أولى بهم من أنفسهم، لأن أنفسهم تدعوهم إلى الهلاك، وهو يدعوهم إلى النجاة، ’’وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (مومنین) پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مہربان اور شفیق ہیں کیونکہ ان کے نفس/ذات انھیں ہلاکت کی دعوت دیتے ہیں اور وہؐ انھیں نجات کی طرف دعوت دیتے ہیں‘‘(تفسیر المحرر الوجیز)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے ساتھ ان کی اپنی جان/ذات سے بھی زیادہ قریبی اور نافع تعلق رکھتے ہیں۔
مزید یہ کہ انسان اگر نیکی کی طرف مائل بھی ہو تو بھی اس کی اپنی ذات کی نفع رسانی اس کے لیے رسولؐ اللہ کی نفع رسانی کے برابر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اسے مصالح و مضار کا پورا علم نہ ہونے کی وجہ سے خیر و شر اور مصلحت و مضرت میں مغالطہ بھی ہو سکتا ہے لیکن رسولؐ اللہ کے ناطق بالوحی وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیO اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی اور نہیں کہتے وہ کوئی بات اپنی خواہش سے۔ وہ تو وحی ہے جو ان پر اتاری جاتی ہے‘‘۔ (النجم۵۳:۳-۴) کے ارفع مقام پر فائز ہونے کی بنا پر آپؐ کی تعلیمات میں کسی قسم کے مغالطہ کا کوئی خطرہ وامکان نہیں رہتا۔ اس لیے اپنی زندگی کے تمام معاملات کو رسولؐ اللہ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہر ایک کے لیے نافع ہی نافع اور خیر ہی خیر ہے۔ اور جب نفع رسانی میں رسولؐ اللہ ہمارے لیے خود ہماری جان/ذات سے بھی زیادہ نافع ہیں تو پھر ان کا حق بھی ہم پر ہماری جان سے زیادہ ہے۔( مفتی محمد شفیع،تفسیر معارف القرآن)
سید مودودیؒ (۱۹۰۳-۱۹۷۹ء)نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں سے تعلق کے ان کی اپنی جانوں سے زیادہ نافع ہونے کے سبب کی تشریح یوں فرمائی کہ یہ تعلق دوسرے تمام انسانی تعلقات سے ایک بالاتر نوعیت کا تعلق ہے۔ کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق اس تعلق سے جو نبی ؐاور اہل ایمان کے درمیان ہے ، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا ۔ نبیؐ مسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر ان کے خیرخواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کر سکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں، ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں، مگر نبی ؐان کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں ان کی دنیا وآخرت کی حقیقی فلاح ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار سکتے ہیں، حماقتیں کر کے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر سکتے ہیں،لیکن نبی ؐان کے لیے وہی کچھ تجویز کریں گے جو فی الواقع ان کے حق میں نافع ہو۔ (تفہیم القرآن)
سورئہ توبہ آیت۲۴ ، اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ اگر (تمھارے دلوں میں ) اللہ سبحانہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ سبحانہ (کی اطاعت پر قائم رہنے) کے رستے میں جدوجہد کی محبت تمام محبتوں، آباء واجداد ، ابناء، ازواج، قبیلہ وبرادری، اموال، تجارتوں اور مرغوب گھروں کی محبتوں، پر غالب نہ ہوپائے تو پھر اللہ کی رحمت و عنایات کی بجائے اللہ کا غضب وعذاب نازل ہونے کے فیصلے کا ہی انتظار کرو: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۲۴ ’’اے نبیؐ، بتا دیجئے کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کاتم کو خوف رہتا ہے اور تمھارے وہ گھر جو تمھیں پسند ہیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسُول اور اس (اللہ) کی راہ میں جہاد و جدوجہد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا‘‘۔یعنی اللہ سبحانہٗ رسول ؐاللہ کی راہ میں جہاد و جدوجہد کرنے کو دنیا کی ہر چیز، ماں باپ، اولاد، مال، منصب، حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب و عزیز رکھنا ایمان کی لازمی شرط ہے۔لہٰذا النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶) کے معنی کے دوسرے پہلو کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہرمسلمان رسولؐ اللہ کو دنیا کی ہر چیز، ماں باپ، اولاد، مال، منصب، حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب و عزیز رکھے اور یہ ایمان کی لازمی شرط ہے ۔ سیّد مودودی نے مسلمانوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطلوب حقِ تعلق کے تقاضوں کو ہم (مسلمان) اپنی پسند وناپسند پر آپ ؐکی پسند وناپسند کو، اپنی رائے پر آپ ؐکی رائے کو اور اپنے فیصلے پر آپ ؐکے فیصلے کو مقدم رکھیں، اور آپ ؐکے ہر ہر حکم وہدایت کے آگے سرتسلیم خم کر دیں۔غرض اپنے ہر ہر معاملے میں اور ہر ہر حال میں آپ ؐہی کو سند وأسوۃ (رول ماڈل) بنائیں اور ہر ہر کام میں آپ ؐکی مکمل اطاعت واتباع کریں۔(تفہیم القرآن)
امام شہاب الدین محمود الآلوسی (۱۲۷۳-۱۳۴۲ھ)نے سورئہ احزاب کی آیت ۶ کی تفسیر میں اس تعلق کے تقاضوں اور حقیقت کو یوں بیان فرمایا: وإذا كان صلّى الله عليه وسلّم بهذه المثابة في حق المومنين، يجب عليهم أن يكون أحب إليهم من أنفسهم، وحكمه- عليه الصلاة والسلام- عليهم أنفذ من حكمها، وحقه آثر لديهم من حقوقها، وشفقتهم عليه أقدم من شفقتهم عليها، ’’اور جب آپ ؐمومنوں کے حق میں (خیر خواہی اور شفقت اور نفع رسانی کے) اس (عظیم) مقام و مرتبہ پر فائز ہیں، تو مومنین پر واجب ہے کہ آپ ؐبھی انھیں ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں، اور ان پر آپ ؐکا حکم ان کی اپنے ذاتی فیصلوں سے زیادہ نافذ (اور مؤثر) ہو، اور آپ ؐ کا حق ان کے نزدیک ان کی اپنی جانوں کے حقوق پر ترجیح رکھتا ہو، اور آپ ؐ کے ساتھ ان کی عقیدت و خیرخواہی ان کی اپنی جانوں کے ساتھ خیرخواہی پر مقدم ہو‘‘۔ (تفسیر روح المعانی)
امام البیضاویؒ (ت:۶۸۵ھ) نے اس تعلق کے تقاضوں اور حقیقت کو یوں بیان فرمایا: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ في الأمور كلها… فلذلك أطلق فيجب عليهم أن يكون أحب إليهم من أنفسهم وأمره أنفذ عليهم من أمرها وشفقتهم عليه أتم من شفقتهم عليها، ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام معاملات میں مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب اور اولیٰ ہیں… اسی لیے مطلق حکم دیا گیا ہے کہ نبی ؐمومنوں کو ان کی جانوں سے بھی زیادہ پیارے ہوں، آپ کا حکم ان کے اپنے ذاتی حکم سے زیادہ ان پر نافذ ہو، اور آپ کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر ہو‘‘۔ (تفسیر البیضاوی)
امام ابو بکر الجصاصؒ (۳۰۵-۳۷۰ھ) نے (النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ) کی تفسیر میں ان تقاضوں کی توجیہہ یوں فرمائی: إنَّهُ أَحَقُّ بِأَنْ يَخْتَارَ مَا دَعَا إلَيْهِ مِنْ غَيْرِهِ وَمِمَّا تَدْعُوهُ إلَيْهِ أَنْفُسُهُمْ. وَقِيلَ: إن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يَحْكُمَ فِي الْإِنْسَانِ بِمَا لَا يَحْكُمُ بِهِ فِي نَفْسِهِ لِوُجُوبِ طَاعَتِهِ; لِأَنَّهَا مَقْرُونَةٌ بِطَاعَةِ اللَّهِ تَعَالَی، بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق دار ہیں کہ نبی ؐکے علاوہ کسی بھی مطالبہ یا چاہت یا جس طرف ان (مومنین) کے اپنے نفس انھیں راغب کریں، کے مقابلہ میں جس امر کی طرف نبی ؐدعوت دیں یا جو مطالبہ وہؐ کریں اسے ہی اختیار کیا جائے۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا گیا کہ کسی شخص کے خود اپنے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے سے نبی کریم ؐ کو اس کے تمام معاملات کے بارے میں احکام دینے کا زیادہ حق حاصل ہے، اس لیے کہ آپؐکی اطاعت اس پر واجب ہے کیونکہ آپؐ کی اطاعت ہی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (أحكام القرآن للجصاص) ۔رسولؐ اللہ کی مکمل اطاعت ہی در اصل اللہ کی اطاعت ہے اور زندگی کے کسی بھی معاملے میں آپ ؐکی نافرمانی ومعصیت اللہ کی نافرمانی ومعصیت ہے۔
یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور میں نبی ؐ کا ہر حکم ہر مسلمان کے تمام انفرادی اور مسلمانوں کے تمام اجتماعی معاملات میں ہر حال میں نافذ العمل ہے اور زندگی کے ہرہر دائرے کے ہر ہر معاملے میں اور ہر ہر حال میں آپ ؐکی اطاعت ہرمسلمان مرد و عورت پر واجب ہے اور آپ ؐکے حکم وسنت سے مطابقت نہ رکھنے والی اپنی خواہشات، اپنے میلانات اور اپنی چاہتوں کو ترک کر دینا بھی ہرمسلمان مردوعورت پر واجب ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (۲۵ ق ھ- ۶۳ھ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ، ’’تم میں سے کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا، جب تک کہ اس کی ہوائے نفس (اس کی دلی خواہشات، رجحانات اور پسند ناپسند) اس ہدایت و شریعت کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ (شرح السنہ، للبغوی؛ الحجة على تارك المحجة لأبي نصر المقدسي، امام نووی نے الحجة على تارك المحجة میں روایت کردہ اس حدیث کی سند کو صحیح کہا)۔ امام أبونصر المقدسیؒ (۴۱۰ھ-۴۹۰ھ) نے فرمایا: ومعنى هواه أي محبته وميله ،’’ ھواہ کا معنی اس کی محبت وچاہت اور میلان وپسند ہے۔
رسولؐ اللہ کے مومنین کے ساتھ تعلق کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ثمرات: حقیقی ایمان جو دل میں راسخ ہو، جس کا حصول واجب ہے، جب ہی نصیب ہو سکتا ہے، کہ آدمی کے نفسی میلانات اور اس کی جی کی چاہتیں کلی طور پر ہدایاتِ نبوی کے تابع اور ماتحت ہوجائیں۔ هوى (یعنی نفسی میلانات اور جی کی چاہتیں) اورهدى (یعنی انبیا علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایات و تعلیم) یہی دو چیزیں ہیں جن پر خیر و شر کے سارے سلسلہ کی بنیاد ہے اور جن سے انسانوں کی سعادت یا شقاوت وابستہ ہے۔ ہر گمراہی اور بدعملی اتباعِ ھوی کا نتیجہ ہے، اور ہرخیر اور ہر نیکی اتباعِ ھدیٰ سے پیدا ہوتی ہے، لہٰذا حقیقی ایمان جس کا حاصل کرنا واجب ہے جب ہی نصیب ہو سکتا ہے کہ هوى کو ھدی کے تابع کر دیا جائے اور جس نے ھدیٰ کو چھوڑ کر ھویٰ کی غلامی اختیار کی اور بجائے ربانی ہدایت کے وہ نفسانی خواہشات کے تابع ہوگیا، تو گویا خود ہی اس نے مقصد ِ ایمان کو پامال کر دیا۔ قرآن حکیم میں ایسوں ہی کے متعلق فرمایا گیا ہے، کہ انھوں نے خواہشاتِ نفس کو اپنا الٰہ بنا لیا ہے: اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ (الفرقان ۲۵:۴۳) ’’کیا تم نے اُن بدبختوں کو دیکھا، جنھوں نے اپنے نفس کی خواہشوں کو اپنا الٰہ (معبود) بنالیا ہے‘‘۔ دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ (القصص ۵۰:۲۸) جو شخص اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنے جی کی چاہت پر چلے اس سے زیادہ گمراہ اور غلط اور کون ہو سکتا ہے، اللہ ظالم لوگوں کو اپنی راہ پر نہیں لگاتا(معارف الحدیث، کتاب الایمان)۔ یعنی جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام اور فیصلوں پر مکمل خود سپردگی نہ ہو آدمی مومن نہیں ہوتا۔ (تفسیر احسن البیان)
امام سھل بن عبدالله التستریؒ (۲۰۰-۲۸۱ھ) نے اس حقیقت کے باطنی پہلو کو یوں بیان فرمایا:مَنْ لم يرَ ولاية الرسول صلی اللہ علیہ وسلم عليه في جميع الأحوال، ويرى نفسه في ملكه صلی اللہ علیہ وسلم لا يذوق حلاوة سنته؛ لأنّٰ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه. الحديث ،’’جب تک کوئی انسان اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت اور اپنے آپ کو آپ ؐکی کامل ولایت و حاکمیت کے تابع نہ سمجھے، اور اپنے تمام معاملات و احوال میں آپ ؐکے فیصلے کو خود پر مقدم نہ جانے، تب تک اسے سنت (پر عمل کرنے کی حقیقی) لذت اور حلاوت محسوس نہیں ہوتی۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (الشفا بتعريف حقوق المصطفٰی، للقاضی عیاض،۲/۱۹، تفسیر کشف الرحمٰن)
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ (الاحزاب۳۳:۶)کے معنی کے دوسرے پہلو کے لازمی تقاضے، یعنی زندگی کے ہر دائرے کے ہر معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع واطاعت کی مزید تاکید سورۃ الاحزاب میں ہی یوں فرمائی :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا۲۱(الاحزاب۳۳:۲۱)’’یقیناً تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (کی رضا) اور یوم آخر میں کامیابی کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے طرزِ زندگی) میں اسوۂ حسنہ (بہترین نمونہ،رول ماڈل) ہے‘‘۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے رسولؐ اللہ کی پوری زندگی کو مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا اسلامی تعلیمات کا خلاصہ وتقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے ہر انفرادی واجتماعی معاملہ میں آپ ؐکے طرزِ زندگی کو ہی اپنے لیے أسوۃ (رول ماڈل) بنائیں اور اس کے مطابق اپنے فکر وعمل، سیرت و کردار، پسند وناپسند اور ترجیحات کو ڈھالیں۔ کیونکہ دنیا وآخرت میں کامیابی، اللہ رب العزت کے فضل واحسان اور اس کی عنایات اور تمام بھلائیوں کا سارا انحصار ہی اس پر ہے کہ انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کس حد تک رسولؐ اللہ کی سنت وسیرت کے مطابق ہے۔(تفہیم القرآن)
سورۃ الاحزاب کی آیت النَّبِيُّ أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ہرمسلمان پر اپنے زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو ہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِ مطہرہ اور سیرتِ طیبہ کے تابع کرنا واجب کرتی ہے۔ یہ مقصد صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ ہرمسلمان قرآن وسنت کا وہ بنیادی علم جس کو اللہ الرحمٰن الرحیم الحکیم نے قرآن کریم کی پہلی وحی میں نازل ہونے والی پانچ آیات اور دیگر متعدد آیات کے علاوہ رحمۃ للعالمینؐ کی زبان مبارک سے ادا کروائے گئے الفاظ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابْنُ مَاجَهْ) ’’علم حاصل کرنے کی طلب و جدوجہد کرنا ہر مسلمان (مرد وعورت) پر فرض ہے‘‘ کے ذریعےبھی فرض فرمایا ہے،جس کو حاصل کر کے علیٰ وجہ البصیرت اپنے تمام فکری، عملی ، ذاتی، خانگی، سماجی، معاشرتی، معاشی، اقتصادی، سیاسی، تنظیمی، تحریکی، ریاستی، عدالتی، قومی، بین الاقوامی، صلح وجنگ اور قومی سلامتی کے معاملات کو سنتِ مطہرۃ اور سیرتِ طیبہؐ کے مطابق انجام دیا جاسکے، مثلاً اگر انسان کی ذاتی زندگی کے معاملا ت ہی کو لیا جائے تو ایک مسلمان کے لیے جن امور کا سنتِ مطہرۃ کے مطابق علم سیکھنا فرض ہے ان میں سے چند یہ ہیں کہ:اس کا مزاج کیسا ہونا چاہیے؟ غصے کی حقیقت کیا ہے؟ غصے کو رفو کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ سچ کیسے بولنا ہے اور سچ پر عمل کیسے کرنا ہے؟ گفتگو کے آداب کیا ہیں؟ صحت کی حفاظت کیوں واجب ہے اور صحت کی حفاظت کے اصول کیا ہیں؟ کون سی ذاتی صفات مطلوب ومحمود ہیں اور کن صفات سے توبہ اور چھٹکارا فرض ہے ؟ ہرمسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس جدوجہد و جہاد میں آخری سانس تک لگا رہے، تا کہ حکم ربانی: وَاعْبُدْ رَبِّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ، ’’اور اپنے رب کی عبادت (زندگی کے ہرہر معاملے میں اپنے خالق، رازق اور الٰہ کی مکمل اطاعت) کرتے رہو یہاں تک کہ تمھیں موت (یقین) آ لے‘‘ (الحجر ۱۵:۹۹) کی تعمیل ہوسکے۔
_______________