مکہ مکرمہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایک بہترین ظاہری تاثر اور مثبت سفارتی منظرنامہ پیش کرتا ہے ۔لیکن اس معاہدے کو عملی طور پر فعال بنانے کے لیے، اگلا منطقی قدم بنیادی عسکری معاہدوں کے ایک سلسلے کو طے کرنا ہے، جو تینوں افواج کو امن اور جنگ کے حالات میں ایک ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کو یقینی بناسکیں۔ یہ مرحلہ ایک ایسا پیچیدہ، تکنیکی اور قانونی عمل ہے، جس کی تکمیل میں مہینوں بلکہ برسوں لگ سکتے ہیں۔ جب تک یہ ممالک بنیادی قانونی اور آپریشنل فریم ورکس کو حتمی شکل نہیں دیتے، اس وقت تک ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کی حیثیت صرف ایک سیاسی اعلامیے کی رہے گی۔ عسکری تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کو ایک بیان سے بڑھ کر عملی فوجی اتحاد میں تبدیل کر نے کے لیے چاربنیادی عسکری معاہدات پر دستخط ہونے ضروری ہیں۔ ان میں:
یہ چاروں معاہدے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کو محفوظ طریقے سے انٹیلی جنس شیئر کرنے، مشترکہ تعیناتیوں کو برقرار رکھنے، بلا تعطل مواصلات قائم کرنے اور درست ترین آپریشنز انجام دینے کے قابل بنائیں گے۔ اگرچہ یہ ممالک تمام علاقائی امور پر مکمل طور پر ایک پیج پر نہیں ہیں اور ان کی ترجیحات میں فرق ہے، لیکن وہ شام اور عراق میں استحکام، فلسطینی ریاست کے قیام، لیبیا میں سیاسی مفاہمت، سوڈان کے اداروں کی بحالی، صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور یمن کی یکجہتی پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔
اس اتحاد کو اپنا پہلا بڑا امتحان بحیرہ احمر کی سیکیورٹی اور سعودی عرب و حوثی تصادم کے تناظر میں دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف مکمل کشیدگی کی دھمکیوں کے بعد، اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ریاض ایک بڑے بحری اور زمینی آپریشن پر غور کر رہا ہے۔ چونکہ ترکیہ اور پاکستان دونوں ہی ایران یا حوثیوں سے راست تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، اس لیے یہ دیکھنا ہے کہ وہ ان کی کس حد تک عملی عسکری امداد کر سکیں گے۔ پاکستان اپریل میں سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں کا ایک اسکواڈرن اور چین کا تیار کردہ فضائی دفاعی نظام پہلے ہی تعینات کر چکا ہے۔ اب ترکیہ کی ممکنہ عسکری اور بحری پیش رفت اس اتحاد کے دائرۂ کار کو باب المندب اور شاخِ افریقہ تک پھیلا سکتی ہے، جہاں پر ترکیہ کا صومالیہ میں سب سے بڑا غیر ملکی عسکری اڈہ موجود ہے۔
یہ اتحاد تین ایسی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے جو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم دُنیا کی واحد تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، جس کے پاس ۶ لاکھ ۶۰ہزار پیشہ ورانہ اور جنگی تجربے سے لیس فوج اور انتہائی جدید میزائل ٹکنالوجی ہے۔ ترکیہ نیٹو (NATO) کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ۱۰؍ ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات والی جدید ترین دفاعی صنعت کا مالک ہے، جس کے جنگی ڈرونز، بحری جہاز اور الیکٹرانک سسٹمز دنیا بھر میں ماننے جاتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب جی۲۰ کا اہم رکن اور دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، جس کے مالیاتی وسائل اس اتحاد کی معاشی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
مکہ مکرمہ میں دستخط ہونے والا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ۱۹۵۵ء کے بغداد پیکٹ کی یاد تازہ کرتا ہے، جسے بعد میں مرکزی معاہدہ ’تنظیم سنٹو‘ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، کسی بھی تاریخی واقعے کا جائزہ اس کے مخصوص دور کے تناظر میں ہی لیا جانا چاہیے۔ ماضی کا سنٹو دو قطبی عالمی نظام، امریکا کی طرف سے سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششوں اور ایران کے مغرب شاہی نظام کی شراکت داری کا نتیجہ تھا۔اس کے برعکس، ’مکہ معاہدہ‘ امریکا کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات کی تبدیلی اور بتدریج واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خالی پن کا نتیجہ ہے۔ امریکا کی ترجیح یہ رہی ہے کہ وہ خطے سے نکلتے وقت ایسا نظام رکھے جو بالخصوص ان کے حلیفوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔ تاہم، ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی اور امریکا-اسرائیل عسکری اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے خطے کے تمام ممالک کو شدید معاشی نقصان پہنچایا اور سیکیورٹی خدشات کو تاریخی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں اس معاہدے کے دستخط ہونے کے بعد سے ہی ملاجلا اور گہرا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’خطے کے ممالک نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ سیکیورٹی کوئی ایسی جنس نہیں ہے جسے جھوٹے دلالوں یعنی امریکا سے خریدا جا سکے‘‘۔ انھوں نے واضح کیا کہ تہران کے لیے اس معاہدے سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ معاہدہ بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک کے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس خطے کو باہر سے آنے والے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے، اور خطے کو امریکا کے ذریعے سیکیورٹی حاصل کرنے کے وہم میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ امریکا خود خطے کی عدم سیکیورٹی کا بنیادی سبب ہے‘‘۔
تاہم، اس سرکاری موقف کے برعکس، ایرانی سیاسی ایوانوں کے اندر ایک گہری تزویراتی بحث چھڑ چکی ہے۔ ایرانی تجزیہ کار احمد زید آبادی نے سوشل میڈیا پر اپنے تجزیے میں ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’’سعودی عرب کی سیکیورٹی اب ایران کے دو مغربی اور مشرقی پڑوسیوں ترکیہ اور پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر بن چکی ہے ۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ ’’اگرچہ انقرہ اور اسلام آباد امریکا اور ایران تصادم میں سفارتی حل کے خواہاں ہیں، لیکن اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ دونوں طاقتیں مداخلت کے لیے تیار ہوں گی‘‘۔
دوسری جانب، ایران کے سخت گیر حلقے اس معاہدے کو اہمیت دینے سے گریزاں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے اس معاہدے کو ’محض ایک کاغذی کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدہ اسے سیکیورٹی فراہم نہیں کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے امریکا کے ہاتھوں سالہا سال تک استعمال ہونے سے اسے سیکیورٹی نہیں مل سکی‘‘۔ یہ تضاد اس تزویراتی اُلجھن کو ظاہر کرتا ہے جس کا تہران کو سامنا ہے۔ ایران غیر روایتی طریقوں، گائیڈڈ میزائلوں اور علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ جتنا بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے پڑوسی ممالک اتنے ہی زیادہ مجبور ہو کر دفاعی بلاک بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
سابق سفیر مدحت رندے نے اس معاہدے کی افادیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا: ’’یہ ایک ایسا دفاعی معاہدہ معلوم ہوتا ہے جس کی خواہش امریکا نے کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ اتنے اہم فیصلے میں ترکیہ نے مغربی اتحادیوں سے منظوری ضرور لی ہوگی۔ مگر اسی کے ساتھ انھوں نے اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ معاہدہ کہیں ترکیہ کو خلیج یا جنوبی ایشیا کی سیاست میںدھکیلنے کا کام نہ کرے اور وہ اپنے اصلی میدان مغرب سے کٹ کے رہ جائے گا۔ لندن سے وابستہ بین الاقوامی سیکیورٹی اور دفاعی ماہر برجو اوزچیلک کے مطابق اس معاہدے کو ایک پسِ امریکا (Post-American) مشرقِ وسطیٰ کا ثبوت سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے، اور نہ اسے ایک اُبھرتی ہوئی’اسلامی ناٹو‘ قرار دینے کا دعویٰ کرنا چاہیے۔ اگر کچھ ہے تو یہ امریکا کی اس وسیع تر ترجیح کے عین مطابق ہے جس کے تحت علاقائی طاقتیں اپنی سیکیورٹی اور دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھاتی ہیں، جب کہ وہ امریکا کے زیرِ اثر سیکیورٹی فریم ورک کا حصہ بھی رہتی ہیں۔ یہ انقرہ کی طویل المدتی پالیسی ’علاقائی مسائل کا علاقائی حل‘ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔یہ معاہدہ ترکیہ کے لیے اپنی دفاعی صنعت، ٹکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ پیداوار اور ملٹری آپریشنل صلاحیتوں کو خلیج میں پھیلانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے‘‘۔
انڈین دفاعی امور کی معروف تجزیہ کار سواتی راؤ کا کہنا ہے :’’یہ دفاعی معاہدہ ایک نیا سیکیورٹی خاکہ ہے، جو خلیج کے سیکیورٹی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا کو اب ایک قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضامن نہیں سمجھا جا رہا، چاہے خلیجی ممالک امریکی ہتھیاروں پر جتنا بھی خرچ کریں۔ یہ ترکیہ کو نہ صرف دفاعی صنعت بلکہ جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں ایک بڑا میدان فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اپنی ایٹمی چھتری اور ملٹری ہیومن ریسورس کے ذریعے سعودی سرمایے کی مدد سے اپنے وجود کو زیادہ وسعت دینے کا موقع ہے۔ یہ انڈیا کے لیے ایک بے حد ناگوار اور تشویش ناک پیش رفت ہے، جس پر کسی وہم میں رہنے کے بجائے باخبر اور سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے‘‘۔
تاہم، مکہ کا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دستاویزات تبدیل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج اور جنوبی ایشیا کی جیواسٹرے ٹیجک سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ممالک جو کچھ سال پہلے تک ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اور نظریاتی مسابقت میں مصروف تھے، آج امریکی غیر یقینی پالیسیوں، ایران-امریکا جنگ کے بعد پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتِ حال اور علاقائی خطرات کے پیشِ نظر ایک سیکیورٹی فریم ورک پر جمع ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کا حقیقی مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا یہ تینوں ممالک اپنے سیاسی بیانات کو حتمی عملی صورت دے پاتے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ تینوں افواج مستقبل قریب میں عسکری معلومات کی حفاظت، لاجسٹک تبادلے، مواصلاتی مطابقت اور جیوسپیٹل انٹیلی جنس جیسے چار بنیادی معاہدات کو طے کر کے اپنے کمانڈ سٹرکچر کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو یہ معاہدہ واقعی علاقائی بااختیاری اور ایک نئے سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی بنیاد ثابت ہوگا۔ بصورتِ دیگر ’مکہ معاہدہ‘ بھی ماضی کے ’بغداد پیکٹ‘ کی طرح تاریخ کے اوراق میں صرف ایک سیاسی کوشش کے طور پر رہ جائے گا۔
_______________