ستمبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

مکہ دفاعی معاہدہ‘ حقیقت یا سراب؟

افتخار گیلانی | ستمبر ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

مکہ مکرمہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایک بہترین ظاہری تاثر اور مثبت سفارتی منظرنامہ پیش کرتا ہے ۔لیکن اس معاہدے کو عملی طور پر فعال بنانے کے لیے، اگلا منطقی قدم بنیادی عسکری معاہدوں کے ایک سلسلے کو طے کرنا ہے، جو تینوں افواج کو امن اور جنگ کے حالات میں ایک ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کو یقینی بناسکیں۔ یہ مرحلہ ایک ایسا پیچیدہ، تکنیکی اور قانونی عمل ہے، جس کی تکمیل میں مہینوں بلکہ برسوں لگ سکتے ہیں۔ جب تک یہ ممالک بنیادی قانونی اور آپریشنل فریم ورکس کو حتمی شکل نہیں دیتے، اس وقت تک ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کی حیثیت صرف ایک سیاسی اعلامیے کی رہے گی۔ عسکری تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کو ایک بیان سے بڑھ کر عملی فوجی اتحاد میں تبدیل کر نے کے لیے چاربنیادی عسکری معاہدات پر دستخط ہونے ضروری ہیں۔ ان میں:

  •  پہلا معاہدہ عسکری معلومات کی عام حفاظت کا معاہدہ ہے، جو خفیہ عسکری معلومات اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے لیے ایک قانونی ڈھانچا قائم کرے گا۔ یہ معاہدہ فریقین کو پابند کرے گا کہ وہ دوسرے ملک کی خفیہ معلومات کو جاسوسی، سائبر حملوں اور غیر مجاز افشا سے محفوظ رکھے۔ اس سے انٹیلی جنس کی شراکت داری، مشترکہ منصوبہ بندی اور دفاعی تعاون کے لیے اعتماد بحال ہوتا ہے۔
  •  دوسرا معاہدہ ’اشیاء‘ کی نقل و حمل کے بار ے میںہے، جو تینوں ممالک کی افواج کو لاجسٹک سپورٹ کے لیے ایک دوسرے کے فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ اس میں ایندھن کی فراہمی، خوراک کی فراہمی، پُرزہ جات کی دیکھ بھال اور مرمت کے امور شامل ہیں۔ یہ معاہدہ طویل فاصلے تک بحری تعیناتیوں، فضائی آپریشنوں، انسانی بنیادوں پر مشنوں اور فوجی مشقوں کو آسان بنائے گا اور اس کے بجٹ وغیرہ کو طے کرے گا۔
  • تیسرا جزو مواصلاتی مطابقت اور سیکیورٹی کا معاہدہ ہے، جو مشترکہ مشقوں اور آپریشنوں کے دوران محفوظ فوجی مواصلات کو ممکن بناتا ہے۔ اس سے کمانڈ سینٹروں، طیاروں، جنگی جہازوں اور زمینی افواج کو حقیقی معلومات کا تبادلہ کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ یہ بحران یا جنگ کے دوران مواصلاتی تاخیر کو کم کرکے آپریشنل صلاحیت کو بہتر بنانے سے متعلق ہے۔ 
  •  چوتھا معاہدہ بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ ہے، جو جدید جغرافیائی انٹیلی جنس، ڈیجیٹل نقشوں اور سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی فراہم کرے گا۔ یہ میزائلوں، ڈرونز، طیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپوں کی نشانہ بازی کی درستی کو بڑھاکر، میدان جنگ کی مشترکہ کمانڈ کو جدید ترین بنائے گا۔ 

یہ چاروں معاہدے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کو محفوظ طریقے سے انٹیلی جنس شیئر کرنے، مشترکہ تعیناتیوں کو برقرار رکھنے، بلا تعطل مواصلات قائم کرنے اور درست ترین آپریشنز انجام دینے کے قابل بنائیں گے۔ اگرچہ یہ ممالک تمام علاقائی امور پر مکمل طور پر ایک پیج پر نہیں ہیں اور ان کی ترجیحات میں فرق ہے، لیکن وہ شام اور عراق میں استحکام، فلسطینی ریاست کے قیام، لیبیا میں سیاسی مفاہمت، سوڈان کے اداروں کی بحالی، صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور یمن کی یکجہتی پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔

’مکہ معاہدہ‘ : اثرات، امکانات اور خدشات

اس اتحاد کو اپنا پہلا بڑا امتحان بحیرہ احمر کی سیکیورٹی اور سعودی عرب و حوثی تصادم کے تناظر میں دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف مکمل کشیدگی کی دھمکیوں کے بعد، اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ریاض ایک بڑے بحری اور زمینی آپریشن پر غور کر رہا ہے۔ چونکہ ترکیہ اور پاکستان دونوں ہی ایران یا حوثیوں سے راست تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، اس لیے یہ دیکھنا ہے کہ وہ ان کی کس حد تک عملی عسکری امداد کر سکیں گے۔ پاکستان اپریل میں سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں کا ایک اسکواڈرن اور چین کا تیار کردہ فضائی دفاعی نظام پہلے ہی تعینات کر چکا ہے۔ اب ترکیہ کی ممکنہ عسکری اور بحری پیش رفت اس اتحاد کے دائرۂ کار کو باب المندب اور شاخِ افریقہ تک پھیلا سکتی ہے، جہاں پر ترکیہ کا صومالیہ میں سب سے بڑا غیر ملکی عسکری اڈہ موجود ہے۔

یہ اتحاد تین ایسی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے جو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم دُنیا کی واحد تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، جس کے پاس ۶ لاکھ ۶۰ہزار پیشہ ورانہ اور جنگی تجربے سے لیس فوج اور انتہائی جدید میزائل ٹکنالوجی ہے۔ ترکیہ نیٹو (NATO) کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ۱۰؍ ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات والی جدید ترین دفاعی صنعت کا مالک ہے، جس کے جنگی ڈرونز، بحری جہاز اور الیکٹرانک سسٹمز دنیا بھر میں ماننے جاتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب جی۲۰ کا اہم رکن اور دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، جس کے مالیاتی وسائل اس اتحاد کی معاشی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ 

مکہ مکرمہ میں دستخط ہونے والا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ۱۹۵۵ء کے بغداد پیکٹ کی یاد تازہ کرتا ہے، جسے بعد میں مرکزی معاہدہ ’تنظیم سنٹو‘ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، کسی بھی تاریخی واقعے کا جائزہ اس کے مخصوص دور کے تناظر میں ہی لیا جانا چاہیے۔ ماضی کا سنٹو دو قطبی عالمی نظام، امریکا کی طرف سے سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششوں اور ایران کے مغرب شاہی نظام کی شراکت داری کا نتیجہ تھا۔اس کے برعکس، ’مکہ معاہدہ‘ امریکا کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات کی تبدیلی اور بتدریج واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خالی پن کا نتیجہ ہے۔ امریکا کی ترجیح یہ رہی ہے کہ وہ خطے سے نکلتے وقت ایسا نظام رکھے جو بالخصوص ان کے حلیفوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔ تاہم، ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی اور امریکا-اسرائیل عسکری اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے خطے کے تمام ممالک کو شدید معاشی نقصان پہنچایا اور سیکیورٹی خدشات کو تاریخی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ایران کا ردعمل

ایران کے دارالحکومت تہران میں اس معاہدے کے دستخط ہونے کے بعد سے ہی ملاجلا اور گہرا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’خطے کے ممالک نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ سیکیورٹی کوئی ایسی جنس نہیں ہے جسے جھوٹے دلالوں یعنی امریکا سے خریدا جا سکے‘‘۔ انھوں نے واضح کیا کہ تہران کے لیے اس معاہدے سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ معاہدہ بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک کے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس خطے کو باہر سے آنے والے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے، اور خطے کو امریکا کے ذریعے سیکیورٹی حاصل کرنے کے وہم میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ امریکا خود خطے کی عدم سیکیورٹی کا بنیادی سبب ہے‘‘۔

 تاہم، اس سرکاری موقف کے برعکس، ایرانی سیاسی ایوانوں کے اندر ایک گہری تزویراتی بحث چھڑ چکی ہے۔ ایرانی تجزیہ کار احمد زید آبادی نے سوشل میڈیا پر اپنے تجزیے میں ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’’سعودی عرب کی سیکیورٹی اب ایران کے دو مغربی اور مشرقی پڑوسیوں ترکیہ اور پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر بن چکی ہے ۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ ’’اگرچہ انقرہ اور اسلام آباد امریکا اور ایران تصادم میں سفارتی حل کے خواہاں ہیں، لیکن اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ دونوں طاقتیں مداخلت کے لیے تیار ہوں گی‘‘۔

دوسری جانب، ایران کے سخت گیر حلقے اس معاہدے کو اہمیت دینے سے گریزاں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے اس معاہدے کو ’محض ایک کاغذی کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدہ اسے سیکیورٹی فراہم نہیں کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے امریکا کے ہاتھوں سالہا سال تک استعمال ہونے سے اسے سیکیورٹی نہیں مل سکی‘‘۔ یہ تضاد اس تزویراتی اُلجھن کو ظاہر کرتا ہے جس کا تہران کو سامنا ہے۔ ایران غیر روایتی طریقوں، گائیڈڈ میزائلوں اور علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ جتنا بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے پڑوسی ممالک اتنے ہی زیادہ مجبور ہو کر دفاعی بلاک بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

  • ترکیہ کی وضاحت:ترکیہ کے اندرونی سیاسی ماحول میں بھی اس معاہدے کے اعلان کے بعد ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے ۔ترک حکومتی ذرائع کے مطابق: ’’مشترکہ مکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر ایک دفاعی اور سلامتی کا بندوبست ہے۔ اس کا ہدف کوئی ملک نہیں، بلکہ اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا اور اجتماعی سلامتی کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل نظام تشکیل دینا ہے‘‘۔ ترک حکام کے مطابق: ’’یہ معاہدہ کسی اچانک پیش رفت کا نتیجہ نہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان ایک طویل عرصے سے مشاورت جاری تھی تاکہ خطے اور عالمی سطح پر اُبھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تشکیل دیا جاسکے۔ اسی مسلسل مشاورتی عمل نے بالآخر مکہ میں ایک باضابطہ دفاعی معاہدے کی شکل اختیار کی‘‘۔

سابق سفیر مدحت رندے نے اس معاہدے کی افادیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا: ’’یہ ایک ایسا دفاعی معاہدہ معلوم ہوتا ہے جس کی خواہش امریکا نے کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ اتنے اہم فیصلے میں ترکیہ نے مغربی اتحادیوں سے منظوری ضرور لی ہوگی۔ مگر اسی کے ساتھ انھوں نے اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ معاہدہ کہیں ترکیہ کو خلیج یا جنوبی ایشیا کی سیاست میںدھکیلنے کا کام نہ کرے اور وہ اپنے اصلی میدان مغرب سے کٹ کے رہ جائے گا۔ لندن سے وابستہ بین الاقوامی سیکیورٹی اور دفاعی ماہر برجو اوزچیلک کے مطابق اس معاہدے کو ایک پسِ امریکا (Post-American) مشرقِ وسطیٰ کا ثبوت سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے، اور نہ اسے ایک اُبھرتی ہوئی’اسلامی ناٹو‘ قرار دینے کا دعویٰ کرنا چاہیے۔ اگر کچھ ہے تو یہ امریکا کی اس وسیع تر ترجیح کے عین مطابق ہے جس کے تحت علاقائی طاقتیں اپنی سیکیورٹی اور دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھاتی ہیں، جب کہ وہ امریکا کے زیرِ اثر سیکیورٹی فریم ورک کا حصہ بھی رہتی ہیں۔ یہ انقرہ کی طویل المدتی پالیسی ’علاقائی مسائل کا علاقائی حل‘ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔یہ معاہدہ ترکیہ کے لیے اپنی دفاعی صنعت، ٹکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ پیداوار اور ملٹری آپریشنل صلاحیتوں کو خلیج میں پھیلانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے‘‘۔

  • اسرائیل کی بـے چینی:اسرائیلی ادارے ’انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز‘ کی سینئر محقق گالیا لنڈن اسٹراس کا کہنا ہے: ’’یہ معاہدہ اسرائیل کے نقطۂ نظر سے ایک انتہائی تشویش ناک پیش رفت ہے۔ یہ ایک ایسے سیاسی محاذ میں عسکری عنصر کا اضافہ کرتا ہے، جو پہلے ہی واضح طور پر اسرائیل مخالف موقف رکھتا ہے۔ یہ اس لیے بھی باعث ِ تشویش ہے کیونکہ سعودی عرب اور ترکیہ دونوں ممکنہ طور پر ایٹمی شعبے کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کے ساتھ گہرے دفاعی تعاون سے انھیں بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ معاہدہ اگرچہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی استواری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرتا، لیکن اس کے امکانات کو مزید کم اور دشوار بنا دیتا ہے‘‘۔ اسرائیلی اور ایرانی سیکیورٹی امور کے ماہر ڈینی سٹرینووچ کے مطابق ’’اس معاہدے کا اصل امتحان اس وقت ہو گا جب یہ معاہدہ حقیقی عسکری اور مالی اخراجات کا مطالبہ کرے گا‘‘۔  

انڈین دفاعی امور کی معروف تجزیہ کار سواتی راؤ کا کہنا ہے :’’یہ دفاعی معاہدہ ایک نیا سیکیورٹی خاکہ ہے، جو خلیج کے سیکیورٹی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا کو اب ایک قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضامن نہیں سمجھا جا رہا، چاہے خلیجی ممالک امریکی ہتھیاروں پر جتنا بھی خرچ کریں۔ یہ ترکیہ کو نہ صرف دفاعی صنعت بلکہ جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں ایک بڑا میدان فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اپنی ایٹمی چھتری اور ملٹری ہیومن ریسورس کے ذریعے سعودی سرمایے کی مدد سے اپنے وجود کو زیادہ وسعت دینے کا موقع ہے۔ یہ انڈیا کے لیے ایک بے حد ناگوار اور تشویش ناک پیش رفت ہے، جس پر کسی وہم میں رہنے کے بجائے باخبر اور سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے‘‘۔

  • مصر کی غیرموجودگی: اس معاہدے کے حوالے سے ایک اور بڑا اور بنیادی سوال مصر کی عدم شمولیت کے گرد گھومتا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ بات زبانِ زدِ عام تھی کہ مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان مل کر ایک چار فریقی دفاعی فریم ورک بنانے جا رہے ہیں۔ لیکن حتمی معاہدے سے مصر کا باہر رہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قاہرہ نے شاید اس معاہدے کی شقوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، یا پھر ’امریکا کی ہدایت‘ پر فی الحال الگ رہنے کو ترجیح دی ہے، تاکہ وہ مستقبل میں الگ سے دوطرفہ سیکیورٹی معاہدے طے کر سکے۔

معاہدے کا حقیقی مستقبل

تاہم، مکہ کا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دستاویزات تبدیل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج اور جنوبی ایشیا کی جیواسٹرے ٹیجک سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ممالک جو کچھ سال پہلے تک ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اور نظریاتی مسابقت میں مصروف تھے، آج امریکی غیر یقینی پالیسیوں، ایران-امریکا جنگ کے بعد پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتِ حال اور علاقائی خطرات کے پیشِ نظر ایک سیکیورٹی فریم ورک پر جمع ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کا حقیقی مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا یہ تینوں ممالک اپنے سیاسی بیانات کو حتمی عملی صورت دے پاتے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ تینوں افواج مستقبل قریب میں عسکری معلومات کی حفاظت، لاجسٹک تبادلے، مواصلاتی مطابقت اور جیوسپیٹل انٹیلی جنس جیسے چار بنیادی معاہدات کو طے کر کے اپنے کمانڈ سٹرکچر کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو یہ معاہدہ واقعی علاقائی بااختیاری اور ایک نئے سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی بنیاد ثابت ہوگا۔ بصورتِ دیگر ’مکہ معاہدہ‘ بھی ماضی کے ’بغداد پیکٹ‘ کی طرح تاریخ کے اوراق میں صرف ایک سیاسی کوشش کے طور پر رہ جائے گا۔ 

ماضی میں مکہ کے تاریخی معاہدے اور اعلانات

  •  ۱۹۹۳ء افغانستان کے بارے میں معاہدہ: اسلام آباد میں امن معاہدے پر دستخط کے بعد افغانستان کے متحارب مجاہدین رہنما مکہ مکرمہ پہنچے، جہاں انھوں نے خانہ کعبہ کے سامنے عہد کیا کہ وہ ’اسلام آباد معاہدہ‘ کی پاسداری کریں گے۔اس بندوبست کے تحت برہان الدین ربانی کو صدر کے منصب پر برقرار رکھا گیا، گلبدین حکمت یار کو وزیراعظم بنانے پر اتفاق ہوا، جب کہ جنگ بندی اور اقتدار میں شراکت کی حامل حکومت کے قیام کا عہد کیا گیا۔لیکن خانہ کعبہ کے سامنے کیے گئے عہد بھی افغان دھڑوں کو زیادہ دیر تک باندھ نہ سکے۔ چند ہی دنوں میں کابل اور اس کے گردونواح میں لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھی۔ معاہدہ عملاً دم توڑ گیا، خانہ جنگی جاری رہی اور اسی انتشار نے بالآخر طالبان کے ابھرنے کے لیے زمین ہموار کی۔
  •   ۲۰۰۵ء اعلانِ مکہ، اسلامی سربراہی کانفرنس:اسلامی تعاون تنظیم کے غیرمعمولی سربراہی اجلاس میں اعلانِ مکہ اور مسلم دنیا کے لیے دس سالہ لائحہ عمل منظور کیا گیا۔اس پروگرام میں سیاسی اصلاحات، اقتصادی ترقی، سائنس اور تعلیم میں پیش رفت، اعتدال پسندی کے فروغ اور انتہا پسندی کے خلاف مسلم ممالک کی اجتماعی کوششوں پر زور دیا گیا، تاکہ مسلم دنیا اپنے داخلی مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے سیاسی، معاشی اور علمی تقاضوں کا اجتماعی طور پر سامنا کرسکے۔
  •   ۲۰۰۶ء عراق کے بارے میں اعلانِ مکہ:عراق میں فرقہ وارانہ خونریزی اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ایسے میں عراق کے ممتاز سُنّی اور شیعہ علما اسلامی ممالک کی تنظیم کی سرپرستی میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت اسلام میں حرام ہے۔یہ اعلان سامرہ میں امامین عسکریین کے روضے پر بم حملے کے بعد عراق میں تیزی سے پھیلتی ہوئی شیعہ سنی خونریزی کو روکنے کی ایک اہم مذہبی اور سیاسی کوشش تھی۔ مکہ سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ سیاسی اختلاف یا مسلکی شناخت کسی مسلمان کا خون بہانے کا جواز نہیں بن سکتی۔
  •  ۲۰۰۷ء میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی ثالثی میں فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما خالد مشعل مکہ مکرمہ میں ایک میز پر بیٹھے۔ دونوں فلسطینی دھڑوں نے باہمی خونریزی ختم کرنے اور قومی اتحاد کی حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ابتدا میں اس معاہدے سے کشیدگی میں کمی آئی اور امید پیدا ہوئی کہ فلسطینی داخلی تقسیم ختم ہو سکتی ہے، مگر یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ماہ کے اندر معاہدہ بکھر گیا۔
  •  ۲۰۱۱ء کے دوران یمن کے شدید سیاسی بحران کے دوران سعودی عرب نے یمنی مذہبی اور سیاسی شخصیات کو مکہ مکرمہ میں جمع کیا، تاکہ بات چیت، مفاہمت اور پُرامن سیاسی انتقالِ اقتدار کی راہ نکالی جا سکے۔ان ملاقاتوں نے یمن کے بحران کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش ضرور ظاہر کی، لیکن یہ کوشش کسی دیرپا سیاسی سمجھوتے میں تبدیل نہ ہو سکی۔ آنے والے برسوں میں یمن کا بحران ایک تباہ کن جنگ میں بدل گیا۔
  •  ۲۰۱۹ء میں دُنیا کے ۱۳۰ سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے ۲ہزار سے زیادہ مسلم علما اور مذہبی شخصیات نے ’میثاقِ مکہ‘ کی منظوری دی۔اس دستاویز میں اعتدال، مذہبی رواداری، پُرامن بقائے باہمی، مساوی شہریت اور انسانی و تہذیبی تنوع کے احترام کو بنیادی اقدار قرار دیا گیا، جب کہ انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو واضح طور پر مسترد کیا گیا۔ ’میثاقِ مکہ‘ کو عصر حاضر میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور مختلف عقائد اور تہذیبوں کے پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے مسلم دنیا کی جامع دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔
  •  اور اب ۲۰۲۶ء میں مکہ ایک مرتبہ پھر ایک اہم علاقائی معاہدے کا مرکز بنا، لیکن اس بار معاملہ داخلی مفاہمت یا سیاسی ثالثی کے بجائے اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ میں سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ مسلم دنیا کے تین اہم ممالک کے درمیان اُبھرتی ہوئی ایک نئی سلامتی شراکت داری کی نشاندہی کرتا ہے۔

 _______________