ستمبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ہمارا مقصد اقامت ِ دین ہے!

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ | ستمبر ۲۰۲۶ | اشارات

Responsive image Responsive image

خوب سمجھ لیجیے کہ ہمارا مقصد اقامت ِ دین ہے، محض تبلیغِ دین نہیں۔ جس طرح اقامت ِ صلوٰۃ  نماز ادا کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں مسجد کی تعمیر و تیاری، نماز کے لیے صفوں کی فراہمی اور پانی کا انتظام بھی شامل ہے، اسی طرح اقامت ِ دین بھی محض تبلیغِ دین نہیں ہے بلکہ یہ کام تبلیغ سے بہت آگے کا ہے۔ اس میں یہ ذمہ داری بھی شامل ہے کہ دین کا نفاذ سب سے پہلے خود ہماری زندگی پرہو، پھر ہمارے ملک پر اور آخر میں پوری دُنیا پر۔ تبلیغ کا کام انفرادی طور پر بھی ہوسکتا ہے، لیکن اقامت ِ دین کا کام اجتماعی سعی کے بغیر ممکن نہیں۔ دین کے قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا قانون نافذ ہو۔ ایسی انتظامیہ اور پولیس ہو، جو صحیح اسپرٹ کے ساتھ اس کا نفاذ کرے۔ ایسی عدالتیں ہوں جو اس کی صحیح روح کے مطابق فیصلے دیں۔ ایسی مقننہ کی ضرورت ہے جو دین کے منشاء کے عین مطابق قانون سازی کرے۔ جب دین اپنے حدود میں پوری طرح نافذ ہوجائے گا، تب کہا جائے گا کہ اب دین قائم ہوگیا ہے۔

اقامتِ دین کے تقاضے

مقصد جس نوعیت کا ہوتاہے، طریقِ کار بھی اسی کے مطابق اختیار کرنا پڑتاہے۔ چونکہ اقامت ِ دین کا مقصد ہمارا ذاتی مقصد بھی ہے اور جماعتی بھی، اس لیے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ہم دونوں حیثیتوں میں کیسی روش اور کیا طرزِعمل اختیار کرتے ہیں؟ اگر ہم نے اپنا طرزِعمل اپنے ذاتی و جماعتی مقصد کے مطابق اختیار نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں اپنے مقصد پر خود ہی یقین نہیں ہے، اور ہم نے اپنا مقصد اختیار کرنے میں غلطی کی ہے۔ لیکن جب ایک مقصد کو اختیار کرلیا ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا ہے، تو لازم ہے کہ ہماری پوری زندگی کا طرزِعمل اپنے مقصد کا علَم بردار ہو۔

اقامت ِ دین جب ہمارا ذاتی مقصد بھی ہے، تو ضروری ہے کہ ہم اس کے تقاضوں کو ذاتی حیثیت سے بھی پورا کرنے کی کوشش کریں۔

۱- ضروری علم دین کا حصول:پہلی چیز ہے ضروری علمِ دین اور فہمِ دین کا حصول۔ اللہ کے احکام محض تلاوت کے لیے نہیں، تعمیل کے لیے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ کے احکام کا کماحقہٗ علم حاصل کریں، اور دین کا اتنا فہم رکھیں کہ اس کا منشاء خود ہم پر بھی واضح رہے اور دوسروں پر بھی واضح کرسکیں۔ ضروری نہیں کہ یہ علم و فہم بہت اعلیٰ درجے کا ہو، تاہم اتنا ضرور ہو کہ مقصد ہمارے سامنے آئینہ بنا رہے، اور ہم میں اتنی استعداد پیدا ہوجائے کہ ہم اپنے گردوپیش  میں اپنے مقصد کو پھیلا سکیں، اور جتنے آدمی بھی زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ ملا سکتے ہوں، ملا لیں۔

۲- احکامِ دین کی خلاف ورزی سے بچیں:پھر جن احکامِ خداوندی کا علم حاصل ہوجائے، اس کی پابندی کی کوشش کیجیے، اور اس چیز کا خیال رکھیے کہ ان کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ خلاف ورزی کم از کم دانستہ نہ ہو، دانستہ خلاف ورزی بغاوت کے مترادف ہے اورآدمی کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس خالق و مالک کی سرتابی کر رہا ہے، جس کی گرفت سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ اس کے ساتھ دین کو اپنی زندگی میں جہاں تک ممکن ہو نافذ کریں اور حرام سے بچیں۔

۳- اپنا احتساب کرتے رہیں: اقامت ِدین کو مقصد ِ زندگی بنانے والے کے لیے تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ وہ اپنا مسلسل جائزہ لیتارہے کہ اس نے اپنے وسائل کو کس حد تک اپنے مقصد ِزندگی کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے؟ وسائل، زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن خود زندگی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ آپ دیکھیے کہ آپ نے اپنی قوت، صلاحیت ، قابلیت اور وسائل سے اپنے مقصد کے لیے کتنا کام لیا ہے؟ اس کا صحیح جائزہ جماعت نہیں لے سکتی، یہ جائزہ آپ خود لے سکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرنفس کو اس کا اپنا محتسب مقرر کر دیا ہے: بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِہٖ بَصِيْرَۃٌ۝۱۴ۙ  وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَہٗ۝۱۵ۭ (القیامۃ ۷۵:۱۴-۱۵) ’’انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے‘‘۔آپ کا نفس آپ کو حساب کرکے خود ہی بتا دے گا کہ آپ نے اپنے مقصد کے لیے کتنا کچھ صرف کیا اور اپنے نفس کے لیے کتنا کچھ؟ جب آپ پر اپنی کوتاہیاں واضح ہوجائیں، تو پھر آپ ان کو معلوم کرکے نہ رہ جائیں، بلکہ ان کو رفع کرنے کی کوشش کریں۔ جتنی کچھ کمی آپ کی جانب سے اپنے مقصد کے حصول میں رہ گئی ہو، اس کو پورا کرنے کی سعی کریں۔

جب ہمارا مقصد صرف تبلیغِ دین نہیں بلکہ اقامت ِ دین ہے، تو پھر یہ احتساب بے حد ضروری ہے کہ ہم نے اس فریضے کو کہاں تک ٹھیک ٹھیک ادا کیا ہے اور ہمارا طریقِ کار کیا ہے؟ کیا ہم اپنے مقصد کی سمت میں صحیح قدم اُٹھا رہے ہیں اور ہمارا انداز موزوں و مناسب ہے یا نامناسب ہے؟

طریق دعوتِ دین

دعوتِ دین پہنچانے کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی جو بھی قدم اُٹھائے اور جو بھی بات کرے وہ ’حکمت‘ اور ’موعظۃ حسنہ‘ کے مطابق ہو:

۱- حکمت:آپ پہلے یہ دیکھیے کہ آپ کے مخاطب کن رجحانات کے مالک ہیں؟ ان کا تعلیمی پس منظر کیا ہے اور وہ کس ماحول میں پلے بڑھے ہیں؟ ان کی سماجی زندگی کے مسائل اور مشکلات کیا ہیں؟ کیا عوامل ہیں، جو ان کی زندگی پر اثرانداز ہورہے ہیں اور وہ کن قدیم یا جدید تصورات سے متاثر اور مسحور ہیں؟ جب تک آپ ان کے انحرافِ دین کے وجوہ و اسباب اور معاشرتی و اجتماعی زندگی کے تضادات سے آگاہ نہیں ہوں گے، اُس وقت تک آپ ان کو دین کے قریب نہیں لاسکیں گے۔ وہ آپ کی بات اسی وقت سمجھیں گے، جب آپ ان کی زبان اور ان کی بولی میں اور اُن کی ذہنی سطح پر اُتر کر بات کریں گے۔ یہ جائزہ آپ کو ایک طبیب کی طرح لینا ہوگا، جو علاج سے پہلے مریض کے مزاج سے واقفیت پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ کسی شخص کا جسم اُس وقت تک آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا، جب تک کہ اس کا دل و دماغ آپ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہو۔ کسی شخص کا قدم جہاد پر نہیں اُٹھ سکتا، جب تک اس کے گہرے جذبات حرکت میں نہ آئیں، اور یہ لطیف جذبات اسی وقت حرکت میں آتے ہیں جب دل مطمئن ہوتا ہے، دماغ مطمئن ہوتا ہے اور آدمی یقین حاصل کرلیتا ہے کہ یہی اصل حق ہے۔اور اسی کی اشاعت و اقامت میرا مقصد ِ زندگی ہے۔

۲- موعظۃ حسنہ:حکمت کے ساتھ دوسری چیز ہے ’موعظۃ حسنہ‘ ۔ جس طرح ایک طبیب کسی مریض کی غیرمعمولی حرکات پر طیش میں نہیں آتا، یا اس کی بیماری پر اسے غصہ نہیں آتا، بلکہ اس کی تمام تر نگاہ اس پر لگی ہوتی ہے کہ کسی طرح مریض کی جان بچ جائے، وہ شفایاب ہوجائے۔ بالکل اسی طرح اقامت ِ دین کا مقصد رکھنے والے شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے گردوپیش عزیزوں اور معاشرے کے دوسرے لوگوں میں دردمندی سے اپنی دعوت کو پہنچائے۔ اس کو اس بات پر غصہ نہیں آنا چاہیے کہ یہ لوگ کیسی کیسی گمراہیوں میں مبتلا ہیں، بلکہ اس کی تمام تر توجہ اس پر رہے کہ وہ لوگوں کو کس طرح حق سے روشناس کرائے اور کس طرح انھیں دین کی طرف مائل کرے۔ وہ ان کی گمراہیوں پر ان سے لڑے جھگڑے گا نہیں، بلکہ ایسے سوز اور ایسی محبت سے انھیں دین کی طرف بلائے گا کہ بدترین مخالف بھی دوست بننے پر مجبور ہوجائے گا۔ 

آں حضوؐر کی سیرت کا مطالعہ کیجیے۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا بات تھی جس سے دشمن بھی آپؐ کے جانثار خادم بن گئے۔ حضرت حمزہؓ کا قاتل وحشی کیوں حلقہ بگوش اسلام ہوا؟ یہ سب ’موعظۃ حسنہ‘ کے کرشمے تھے۔ اس لیے اپنی دعوت پھیلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ عہد جدید کی گمراہیوں اور ضلالتوں سے اچھی طرح سے روشناس ہوں اورماضی کی گمراہیوں اور جہالتوں سے بھی آگاہ ہوں۔ اس لیے ان کے اسباب و محرکات کو سمجھیں اور جس قسم کی گمراہی میں کوئی مبتلا ہو، اس سے اسی حوالے سے ہمدردانہ اور مدلل انداز سے گفتگو کریں۔ یہ تمام چیزیں حکمت اور  ’موعظۃ حسنہ‘ سے تعلق رکھتی ہیں اور کامیابی کا بیش تر دارومدار انھی خوبیوں کے فہم و بصیرت پر ہے۔

۳- جہاد اور تنظیم: دین کی دعوت پھیلانے کے لیے جس طرح ’حکمت‘ اور ’موعظۃ حسنہ‘ کی ضرورت ہے، اسی طرح  اقامت ِ دین کے لیے جہاد کی ضرورت ہے۔ جہاد کا مفہوم قتال یا جنگ نہیں بلکہ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد ہے، لیکن جہاد کوئی اکیلا فرد نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے اجتماعیت اورتنظیم کی ضرورت ہے۔ جہاد بغیر تنظیم کے ممکن نہیں۔ باطل کی جن قوتوں کے مقابلے میں دین کو قائم کرنا ہے، وہ انتہائی منظم ہیں اورجس درجے کی تنظیم ان کی ہے، اس کے مقابلے کے لیے اس سے کہیں طاقت ور،منظم اور مربوط تنظیم درکار ہے۔ اور ایسی مطلوب تنظیم کی طاقت کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کے ارکان اپنے فرض کا کتنا احساس رکھتے ہیں؟ وہ تنظیم کے اصول و قواعد کی کتنی پابندی کرتے ہیں، اور اس عمل اور اقدام کے لیے ان کے دل میں روایات کا کتنا احترام موجود ہے؟ ایک مشین کے پُرزے جتنے کسے ہوئے ہوں گے، اور ان میں جتنا نظم و ضبط ہوگا، مشین اتنی ہی مؤثر اور فعال ہوتی ہے۔

تنظیم کے ساتھ ساتھ ارکان و کارکنان کی تربیت کا بھی معقول انتظام ہونا چاہیے کیونکہ تنظیم کی اثرانگیزی کا بیش تر انحصار تربیت پر ہے۔ محض تعداد پر انحصار سے منزل کا حصول ممکن نہیں۔ تعداد میں وسعت بہت ضروری ہے، مگر اس تعداد میں دینی، اخلاقی اور تنظیمی تربیت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ تربیت وہ بنیادی چیز ہے جو کارکنوں کے اندر مقصد کو تازہ رکھتی ہے اور ان کو ایک تحریک میں باہم پیوست رہنے کی عادت ڈالتی ہے۔

۴- توسیع دعوت:تنظیم کے بعد اگلا قدم ’توسیع دعوت‘ کا ہے۔ تنظیم ہوتی ہی اس غرض کے لیے ہے کہ اس سے دعوت کو توسیع دی جائے۔ اس لیے تنظیم کے بعد دوسرا مرحلہ دعوت کو وسیع تر حلقوں میں پھیلانے کا ہے۔ تنظیم کو کارکن میسر نہیں آسکتے، جب تک دعوت وسیع تر نہ ہوگی۔ دعوت جس تناسب سے پھیلے گی، کارکن اسی شرح سے ملیں گے۔ آپ کو دس بیس کارکن مل نہیں سکتے، جب تک آپ کی دعوت ایک ہزار تک نہ پہنچے گی۔ معاشرے کا کوئی طبقہ آپ کے پیغام سے ناآشنا نہ رہنے پائے۔ آپ کی دعوت پہنچ جانے کے بعد آپ کو اگر معاشرے میں کوئی مثبت مدد نہیں ملی، لیکن آپ کی مخالفت بندہوگئی ہے، تب بھی اسے کامیابی کا ایک مرحلہ جانیے۔

۵- دین دشمن عناصر کی قوت میں کمی :دعوت کے جڑ پکڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول کے اندر مخالف دین عناصر میں کمی آئے۔ خلافِ اسلام خیالات اور رجحانات جتنا پھیلیں اور فروغ پائیں گے، اقامت ِ دین کا کام اتنا ہی مشکل ہوجائے گا۔ جس معاشرے میں حرام بڑھے گا اس میں حلال کیسے مقبول ہوگا؟ جہاں بے حیائی اور بداخلاقی پھیلے گی، وہاں دین کی پاکیزگی کیونکر اپنی جگہ بناسکے گی؟ اس لیے اقامت ِ دین کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ آپ دین کی دعوت پہنچائیں، بلکہ آپ کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ دعوتِ دین کے جڑ پکڑنے کے لیے یہاں زمین موجود ہے بھی یا نہیں؟ اس لیے معاشرے کو اخلاقی اور دینی زندگی کی طرف لانے کی بھی فکر آپ کو کرنی ہوگی۔

 یہی وہ مقام ہے جہاں اقامت ِدین کے فرائض، تبلیغ دین سے مختلف اور بھاری ہوجاتے ہیں۔ تبلیغ دین میں ماحول کو بدلنے کی فکر شامل نہیں، لیکن اقامت ِ دین میں یہ فکر ضروری عنصر کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ زراعت مقصد ہو تو زمین کی تیاری، اس کو جھاڑجھنکار سے صاف کرنا اور فصل کو اس کے تمام مراحل میں بنانا سنوارنا ضروری ہے۔ اسی طرح اقامت ِ دین کے لیے ناگزیر ہے کہ معاشرے کی اخلاقی حالت اور ماحول کی کج روی پر نگاہ رہنی چاہیے، پھر دعوتِ دین کے ساتھ ساتھ اس کی اصلاح کی تدبیر بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔

۶- موافق دین قیادت:اقامت دین کی جدوجہد کے سلسلے میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اجتماعی قیادت کیسی ہے؟ کیا وہ اقامت ِ دین کی مؤید ہے یا اس کی مخالف؟ اقامت ِ دین کی تکمیل میں یہ عنصر بہت بڑا حصہ رکھتا ہے۔ جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے، وہ اسے سیاست کانام دیتے ہیں، حالانکہ ظاہر ہے کہ اگر اجتماعی قوت حرام کی پشت پناہی اور حلال کی حوصلہ شکنی پر تل جائے، تو دین کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ دین کے حلال کو فروغ دینے اور اسے معاشرے کی پسندیدہ قدر بنانے اور حرام کو ناپسندیدہ اور مردُود قرار دلوانے کے لیے اجتماعی دباؤ کو کیوں غیرضروری سمجھا جاتاہے۔ اگر حکومت اور پولیس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطالبہ نہ کریں گے، تو یہاں پر معروف کیسے پھیلے گا اور منکر کیسے رُکے گا؟ اس کے لیے کوشش کرنا اگر سیاست ہے ، تو یہ ناگزیر ہے۔ اگر آپ دین کا درد رکھتے ہیں اور منکر کو پھیلتا ہوا دیکھتے ہیں، تو ناگزیر ہے کہ آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ یہاں پر کوئی ایسی انتظامیہ ہونی چاہیے ، جو منکر کو روکے اور معروف کا حکم دے۔ سود مٹانا ہے تو اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ملک کے نظام مالیات کو بدلا جائے۔ اقامت ِ دین اگر مقصودہے تو اس کے لیے ان تمام محاذوں پر پتہ مار کر یہ سب کچھ کرنا پڑے گا۔ اگربعض کی نگاہ میں یہ سیاست ہے تو یہ سیاست غیرمستحسن نہیں، کیونکہ یہ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے ہے، اس لیے مطلوب ہے۔

فریضہ اقامتِ دین اور حالاتِ حاضرہ

اقامت ِ دین کے لیے اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ حالاتِ حاضرہ پر کڑی نگاہ رہے۔ ملک کا نظام کیا ہے؟ اس کا مزاج کیا ہے اور اس کے اثرات کیا ہیں؟ یہ کیسے موافقِ دین بنے گا؟ اس کے لیے کیا اقدام اُٹھانے ہوں گے؟ ان تمام چیزوں پر نگاہ رکھنی پڑے گی، اور یہ موضوعات غیرمتعلق نہیں ہیں بلکہ اقامت ِ دین کے ضروری لوازمات ہیں۔

پاکستان دین اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔پارلیمانی دور کے سیاست دانوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ملک میں اسلامی نظام رائج کریں گے۔ہم نے تشکیل ملک کے وقت جو راستہ اختیار کیا تھا ، وہ یہ تھا کہ اربابِ اختیار کو قائل کیا جائے کہ اس ملک کی زندگی اسلام سے وابستہ ہے اور ان پر بہ دلائل واضح کیا کہ پاکستان کے لیے ازروئے ایمان اور ازروئے مصلحت، اسلامی نظام ہی سلامتی کا واحد راستہ ہے۔ ہم نے ہرطریقے سے ان پر حجت تمام کی اور ان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بہت جلد معلوم ہوگیا کہ اقتدار کی اصل کنجیاں سیاست دانوں کے ہاتھوں میں نہیں، بلکہ بدقسمتی سے سرکاری ملازموں کے ہاتھوں میں تھیں۔ سیاست دان اگر اسلامی نظام قائم کرنا بھی چاہتے تو نہ کرسکتے تھے، جب تک سول سروسز اور آرمڈ سروسز ان کا ساتھ نہ دیتیں۔

اس کے بعدہم نے اپنے طریق کار میں تبدیلی کی اور اسلامی نظام کی فکری اور ذہنی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کردیں۔ اس مقصد کے لیے ہم نے علم، عقل اور دلیل سے، اور جدید ذہنی سانچے کے مطابق اس کا حق اور مفید ہونا ثابت کیا۔ اسلامی نظام کے بارے میں کوئی شبہ ایسا نہ چھوڑا، جس کو صاف نہ کردیا ہو۔ فضا میں طمانیت رچ گئی۔ کسی کے دل میں کوئی اضطراب رہ گیا ہو تو الگ بات ہے۔ اس طرح شبہات پھیلانے والوں کی تمام زبانیں بند ہوچکی تھیں۔

۱۹۵۶ء میں ملک کا ایک دستور بن گیا ، جو بہرحال سب کے لیے قابلِ قبول تھا اور اس سے دین کے نفاذ کا راستہ کھلتا تھا۔ لیکن سروسز کی آنکھ میں یہ کانٹا بن کر کھٹک رہا تھا۔ وہ اس پر تلے ہوئے تھے کہ اس دستور کو ناکام بنایا جائے۔ انھوں نے طے کیا کہ اگر پاکستان میں سیکولر دستور نہیں بنتا تو پھر اسلامی دستور بھی نہ بننے پائے۔ آخرکار اکتوبر ۱۹۵۸ء میں فوج نے اس دستور کو اُٹھا کر پھینک دیا اور عام انتخابات، جن کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی، منسوخ کردیئے گئے۔

اگر آپ اقامت ِ دین کا مقصد رکھتے ہیں اور یہ فریضہ آپ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہے، تو پھر ناگزیر ہے کہ حالات کی تمام کروٹوں سے آپ باخبر ہوں۔ آپ کو معلوم ہو کہ حالات کس رُخ پر جارہے ہیں اور یہ تبدیلیاں اقامت ِدین کے راستے میں کیا اُلجھن پیدا کرتی ہیں؟ آج  ملک ایسی حالت کو پہنچ چکا ہے کہ اختیارات ان عوام کے ہاتھ میں نہیں ہیں جو دین اسلام کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ لازم ہے کہ آپ کوشش کریں کہ یہ اختیارات ان کے ہاتھوں میں ہوں، جو دین کو دل سے چاہتے ہیں۔

ہم نے صحیح معنوں میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اسی غرض سے جدوجہد کی ہے۔ اہل دین اور جماعت اسلامی کے لیے یہ سخت آزمائش کا وقت ہے۔ طرح طرح کے شکوک و شبہات اور اُلجھنیں پیدا کی جارہی ہیں تاکہ ذہنوں کی یکسوئی ختم ہوجائے۔ کبھی ہوسِ اقتدار کے طعنے دیئے جاتے ہیں اور کبھی سیاست بازی کے۔ میں آپ سے کہتا ہوں، آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے اس صورتِ حال کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ ان حالات میں اقامت ِ دین کے لیے کیا اس کے سواکوئی اور راستہ ہوسکتا ہے؟(۱۹۶۸ء میں حیدرآباد، سندھ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں سے خطاب)

_______________