ستمبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

تعمیرِ سیرت کے عملی تقاضے

پروفیسر غلام اعظم | ستمبر ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت

Responsive image Responsive image

جب ہم دینِ اسلام کی سربلندی چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم سب سے پہلے دینِ اسلام کے تقاضوں کو بھی سمجھیں اور ان ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں جو اس ضمن میں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔

ان ذمہ داریوں سے آگاہی اور کماحقہٗ ادائیگی کی فکری و عملی اساس ان اُمور پر مشتمل ہے: ۱- یقین ۲- علم ۳- عمل ۴-توکّل علی اللہ اور ۵- دعوتِ دین۔

  •  یقین :آپ کو دیکھنا چاہیے کہ دینِ اسلام کی سربلندی کا کام کرتے ہوئے کیا آپ یقین کی وہ کیفیت رکھتے ہیں جسے ’عین الیقین‘ کہا جاتا ہے؟ آپ ایک کام اسی صورت میں پوری تندہی کے ساتھ کرسکتے ہیں جب آپ کو اس کی بنیادی باتوں پر پورا یقین ہو۔ یقین کی یہی کیفیت  تحریک اسلامی کے کام کے لیے بھی ضروری ہے۔ یقین کامل کے بغیر آپ یکسوئی کے ساتھ یہ کام نہیں کرسکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرتے ہوئے تین باتوں کے بارے میں ہمارا ذہن بالکل صاف ہونا چاہیے:

۱- تصورِ دین:سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا اس بات پر مکمل یقین ہے یا نہیں کہ ہم جس تصورِدین کے مطابق کام کر رہے ہیں، یہ دراصل وہی تصورِ دین ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر ہم دینِ اسلام کو پوری زندگی میں غالب کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی حکومت کا نظام بھی اسلام کے مطابق چلے، تو یہ ہماری کوئی اختراع نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ہم اس تصورِدین کے بارے میں پوری طرح یکسو ہوں گے کہ صرف یہی اللہ اور اس کے رسول ؐ کا تعلیم کردہ تصورِ دین ہے، تو بے یقینی کبھی ہمارے قریب بھی نہ آسکے گی اور غیراسلامی ازموں کا کوئی جھوٹ ہمیں فریب نہیں دے سکے گا۔ ہم جدوجہد کریں گے تو صرف اسلامی نظام کے لیے اور ہماری زندگی کا کوئی نصب العین ہوگا تووہ صرف اسلام کی سربلندی ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ سیّد مودودیؒ کے لٹریچر اور ان کی تحریروں نے تصورِ دین کے اس پہلو کو اس حد تک واضح کر دیا ہے کہ ان کا مطالعہ کرنے والے، ان شاء اللہ، کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتے اور نہ اپنے کام سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔

ب: رضائے الٰہی کا حصول:جس طرح رضائے الٰہی کا حصول فریضۂ اقامت ِ دین کے بغیر ممکن نہیں، اسی طرح ہمیں اس بات کا بھی یقین ہونا چاہیے کہ اگر فریضۂ اقامت ِ دین ادا نہ کیا جائے تو زندگی بے مقصد و بے کار ہے۔ یعنی ہمیں اپنے خالق و مالک کی رضا کبھی حاصل نہیں ہوسکتی اگر ہم اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد نہیں کرتے۔

میں آپ سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مجھے یہ سمجھا دے کہ اقامت ِ دین کے لیے جدوجہد کیے بغیر بھی رضائے الٰہی حاصل کرسکتا ہوں، تو میں جماعت اسلامی میں رہ کر اسلامی نظام کے دشمنوں کی گالیاں سننے کے بجائے الگ تھلگ بیٹھ کر عبادت کروں گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا، کہ میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ پر عمل کیے بغیر اللہ کی رضا کیسے حاصل کرسکتا ہوں، اور دین کی راہ میں کام کرتے ہوئے جو سکون اور آرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ملا وہ کسی اور کو کیسے میسر آجائےگا؟

ج: آخرت:ہمیں آخرت کے معاملے میں بھی یہ یقین ہونا چاہیے کہ جو کچھ دُنیا میں ہورہا ہے یہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اگر یہاں ہمارے ہاتھوں دین کی تھوڑی بہت خدمت انجام پارہی ہے تو بنیادی طور پر یہ آخرت میں ہمارے کام آئے گی۔ آخرت پر یہ یقین اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر صرف دُنیا میں اپنے کام کے نتائج دیکھنے کی آرزو کی جائے گی تو ممکن ہے یہ چیز مایوسی پیدا کردے، کیونکہ دُنیا میں تو ہم اس کام کا صلہ عام طور پر پتھروں، گالیوں، الزام تراشیوں، جھوٹے پروپیگنڈا اور قیدوبند کی سزائوں بلکہ پھانسیوں تک کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ اگر اسی منظر کو اس کام کا کُل نتیجہ سمجھ لیا جائے تو انسان نہ اقامت ِ دین پر استقامت کی دولت سے مالا مال ہوسکتا ہے اور نہ وہ اقامتِ دین کے لیے اَن تھک جدوجہد کرسکتا ہے۔ لیکن یہ یقین کہ دیکھنے والا سب کچھ دیکھ رہا ہے، اور ایک دن ہربات اس کے حضور میں پیش ہونی ہے، ایسی کوئی مایوسی اور مردنی طاری نہیں ہونے دیتی۔ یہ ہے آخرت پر یقین کی اہمیت۔

اللہ کو منظور ہو اور دُنیا میں ہماری آنکھوں کے سامنے دین حق کی سربلندی کے لیے ہمارے کام کے نتائج نکل آئیں تو یہ اس کی رحمت ہوگی۔ لیکن ہمیں جو چیز بہرحال اپنے سامنے رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے لیے بنیادی معیار ہماری دُنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اقامت ِ دین کے لیے ہماری استقامت ہے۔

  • علم:یقین کے بعد میرے موضوع کی دوسری چیز علم ہے اور علم سے میری مراد وحی کا علم ہے جو ہمیں قرآن و حدیث کے ذریعے ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنی جو رحمتیں اور نعمتیں نازل فرمائی ہیں، ان میں سب سے بڑی نعمت قرآن پاک کی تعلیم کی ہے۔ سورئہ رحمٰن میں اسی طرف اشارہ ہے: اَلرَّحْمٰنُ۝۱ۙ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۝۲ۭ  (الرحمٰن ۵۵:۱-۲)’’نہایت مہربان (اللہ) نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے‘‘۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ قرآن و حدیث کی نعمت میسر ہے۔ سیّدمودودیؒ نے قرآن و حدیث کو سمجھنے میں اس دور کے انسانوں کی جو مدد کی ہے وہ انتہائی قابلِ قدر ہے۔ میں ان کی تحریروں کو اسلام کی تسہیل (Islam Made Easy) کہتا ہوں۔ آپ طالب علم ہیں اور بآسانی اس اصطلاح سے میرے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں، یعنی عام فہم تحریریں۔
  •  عمل:ظاہر ہے کہ ایک انسان جب یقین اور علم سے مسلح ہوجائے اور وہ مخلص بھی ہو تو عمل کی دُنیا سے دُور نہیں رہ سکتا۔ لیکن جس طرح یقین سے میری مراد:۱- تصورِ دین کے بارے میں یقین ۲- فریضۂ اقامت ِ دین کو رضائے الٰہی کے حصول کی راہ سمجھنے پر یقین ، اور۳- آخرت پر یقین ہے اور علم سے مراد وحی کا علم ہے جو ہرمسلمان کو قرآن و حدیث کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح عمل سے میری مراد یہ ہے کہ اس یقین و علم کے مطابق سب سے پہلے خود عمل کیا جائے۔ جو شخص اپنی ذات پر اللہ کے دین کو غالب نہیں کرسکتا، وہ دُنیا میں اسے کیسے غالب کرسکتا ہے؟

اس عمل کی بنیاد یہ ہے کہ ہم وہ کام کریں جواللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہے، اور ان کاموں سے بچیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہیں۔ عمل کی اس بنیاد کے مطابق چل کر ہی آپ اپنی عملی زندگی میں اور اپنی ذات پر اللہ کے دین کو غالب کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے جن دو نکات پر عمل ناگزیر ہے، وہ یہ ہیں:

الف: داعی الی اللہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے معاشرے کو اللہ کی طرف بلانے والوں میں شامل ہوں اور اقامت ِ دین کا فریضہ انجام دے رہے ہوں۔ آپ جب یہ کام کریں گے اور اسلام کے سپاہی بن کر آگے بڑھیں گے، تو آپ کے سامنے سب سے پہلا سوال یہی آئے گا کہ آپ کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد نظر نہ آئے۔ اس تضاد سے بچنے کے لیے آپ زندگی کے ہرشعبے میں اسلام پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، اور جتنا زیادہ آپ کا تعلق اپنے اللہ سے مضبوط ہوگا اور جتنی زیادہ آپ معیت ِ الٰہی کی دولت رکھتے ہوں گے، اتنے ہی زیادہ آپ قول و فعل کے تضاد کو دُور کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

ب: معیتِ الٰہی:اقامت ِ دین کے لیے میدانِ عمل میں آتے ہی اللہ کا دین آپ کے اپنے اُوپر نافذ ہونا شروع ہوجائے گا لیکن اسے پوری طرح غالب کرنے کے لیے آپ کو اپنی خواہشاتِ نفس اور شیطان کا سخت مقابلہ کرنا ہوگا اور انھیں مکمل شکست دینی ہوگی۔

اس جدوجہد کے لیے تین چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں:

۱- نماز کو صرف پڑھیے نہیں بلکہ اسے قائم کیجیے اور باجماعت ادا کیجیے۔یاد رکھیے، اور زندگی کے ایک ایک قدم پر یاد رکھیے، کہ نماز کے مقصد کو نماز سے باہر کی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ اس عبادت کے بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے نماز باجماعت ادا کرنے کی تگ و دو کیجیے۔ اس کے لیے محنت کیجیے اور اسے عادت بنا لیجیے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کبھی کسی وجہ سے آپ باجماعت نماز سے رہ بھی جائیں تو آپ کی نماز قضا ہرگز نہیں ہوگی۔

۲- دوسری چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے گہری دلی محبت کا رشتہ قائم کیجیے۔ صرف ’قانونی رشتہ‘ کافی نہیں ہے۔ محبت کا یہ رشتہ قائم کرنے کے لیے ان باتوں پر عمل کیجیے:

ہفتہ میں کم از کم ایک رات تہجد کی نماز ضرور ادا کیجیے۔ ذرا تہجد کی نماز تک پہنچ کر تو دیکھیے، ان شاء اللہ آپ اپنے ربّ کے بہت قریب آجائیں گے۔

 تہجد کی نماز کے بعد دُعا کرنے لگیں تو اپنی خامیوں، کوتاہیوں، غلطیوں اور گناہوں کو یاد کر کے اس کے حضور میں گڑگڑا کر توبہ کیجیے۔ اس سے معافی مانگیے اور آئندہ ایسی ہر غلطی و کوتاہی سے بچنے کا عزم کیجیے۔

یہ دُعا بھی کیجیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے غلاموں اور فرمانبردار بندوں میں شامل رکھے اور غلامی کی اس نعمت سے کبھی محروم نہ کرے۔

عالمِ اسلام کے لیے، تحریک اسلامی کے لیے اور ساری دُنیا کے مسلمانوں کے لیے دُعا کیجیے اور یہ دُعا مانگتے ہوئے اپنے ان بھائیوں کو کبھی نہ بھولیے جو اپنے دین و ایمان، اپنی عزّت و آبرو اور وطن کے تحفظ کے لیے باطل قوتوں سے برسرِپیکار ہیں، جو شہید ہوگئے ہیں ان کے بلند درجات کے لیے، جو زندہ ہیں ان کی استقامت کے لیے، اور جو جیلوں میں ہیں یا وہاں دوسرے مصائب میں مبتلا ہیں، ان کی بہتری اور بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دُعا کیجیے۔ یہ دُعا کیجیے کہ ہمارا آقا، ہمارا مالک اور ہمارا خالق اس ملک کو اسلامی نظام کی نعمت سے نوازے اور قوم کو اس نظام کا مستحق بنائے۔

۳- ہر معاملے میں، ہر وقت، اپنی ہر ضرورت کے لیے اللہ تعالیٰ سے مانگئے۔ کوئی کام اللہ کو یاد کیے بغیر نہ کریں۔ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دُعائیں سکھائی ہیں وہ اذکارِمسنونہ سے بآسانی یاد ہوسکتی ہیں۔ جب تک عربی میں یاد نہ ہوں ان کے مفہوم کو اپنی زبان میں ادا کریں۔

ان تین کاموں سے آپ کے اندر قربِ الٰہی کا جذبہ پیدا ہوگا اور آپ اس چیز کو حاصل کرسکیں گے جسے میں ’معیت الٰہی‘ کہتا ہوں۔

  • دعوتِ دین:یقین، علم اور عمل کی منزل، دعوتِ دین ہے۔ یہ وہ کام ہے جو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ہم پر فرض ہے۔ یہی کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم انجام دیتے تھے۔ یہی کام صحابہ کرامؓ اور اس اُمت کے صلحاء کی زندگیوں کا محور رہا ہے۔ تو پھر ہم دین کا حق دُنیا کو اس کی دعوت دیئے بغیر کیسے ادا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ماحول میں، اپنے آس پاس اور اپنے ملک میں اللہ کے دین کو سربلند کرنے کی جدوجہد کیے بغیر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے، یا ہم بھی اس راہ کے مسافر ہیں جس پر ہمارے اسلاف چلتے رہے ہیں، یا ہم نے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کیا ہے؟
  •  توکلّ علی اللہ :آخری اہم چیز جو تحریک کے کارکنوں کے ہروقت پیش نظر ہونی چاہیے وہ توکّل علی اللہ ہے۔ جب ہمیں یقین ہے کہ ہم صحیح راستے پر گامزن ہیں، ہمارا مقصد، پروگرام اور نصب العین حق کے مطابق ہے، تو پھر ہمیں رکاوٹوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ۔ کیا آج تک اس راہ میں آگے بڑھنے والے مصائب اور تکالیف سے محفوظ رہے ہیں؟ کیا خود اللہ کے آخری نبی و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے مصیبتیں نہیں اُٹھائیں؟ آپ بھی اس راہ میں پیش آنے والے ہر دُکھ اور مصیبت کو خندہ پیشانی سے قبول کیجیے، اور اس بات کا یقین رکھیے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں ہورہا اور ہمارا آقا ہم سے غافل نہیں ، وہ ہرحال میں ہم پر مہربان ہے۔ اگر وہ کسی ابتلا میں ہمیں ڈالے گا تو اس میں ہماری بھلائی ہوگی۔ یہی چیز ہے جسے توکّل علی اللہ کہتے ہیں۔ یعنی اللہ کو اپنا وکیل بنا کر سب کچھ اس کے سپرد کر دیجیے۔ دُعائے قنوت دراصل توکّل علی اللہ کا ہی بہترین درس دیتی ہے۔

 _______________