کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو وطن عزیز میں شور اٹھتا اور کہرام میں بدل جاتا ہے۔ لیکن زیادہ سے زیادہ تین روز گزرنے کے بعد ہم سب کچھ بھول بھلا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے اس غیر صحت مند رویے نے پاکستانی معاشرے کو ایک رِستا ہوا پھوڑا بنا دیا ہے،جو مسلسل ناسور بنتا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک طالبہ کی خودکشی اور بیرون ملک انسانی سمگلنگ سے وابستہ ایک فرد کے قبیح جرم نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، لیکن پھر سب کچھ معمول پر آگیا اور ہمارا معاشرہ حسب ِ سابق اپنے بے سمت سفر پر گامزن ہو گیا۔
انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جانے کا یہ المیہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ، باعث ِ شرم اور اضطراب کا موضوع بننا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں بے مقصد اور بے ہنگم نظامِ تعلیم اور خاص طور پر معاشی منصوبہ بندی کے فقدان، اور انسانی اخلاق و تہذیب کی تعمیر کے افلاس نے نچلے اور متوسط طبقے کی معاشی زندگی کا رہا سہا ڈھانچا تباہ کر دیا ہے۔ سرمایہ کاری، ہنرمندی اور تخلیقی صلاحیت و ذہانت کے قحط نے قومی وجود کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔ نوجوانوں بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری نے معاشرے کو دوزخ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں نوجوانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر اور باعزّت زندگی گزارنے کے امکانات محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران قانونی طریقے سے ۱۸لاکھ ۷۱ہزار تعلیم یافتہ افراد جن میں ہنر مند، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی سپیشلسٹ سمیت اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے نوجوان اپنا ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جاچکے ہیں۔
ان حالات میں ہماری نئی نسل کا ایک بڑا حصہ انسانی سمگلروں کے لیے ترنوالہ بنتا چلاجارہا ہے۔ دوسری طرف یہ منشیات فروشوں کا آسان ہدف ہے۔ گھپ اندھیرے کو دیکھ کر لوگ مایوسی کی دلدل میں اُترتے اور اپنی جان کے دشمن بنتے چلےجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض کے لیے خودکشی اس اندھی گلی کا آخری موڑ بن جاتی ہے۔ بے مقصدیت کے شکار نوجوانوں کا ایک سیلاب ہے، جو مسلسل اسی تباہ کن سمت میں بہا چلا جارہا ہے۔ حکومت، قومی قیادتیں، علمائے کرام اور اہل دانش اس عذاب کی یلغار سے نہ صرف غافل دکھائی دیتے ہیں، بلکہ ان کا طرزِ عمل ایک سنگدلانہ لاتعلقی کا مظہر ہے۔ ادھر معاشرے کی رگوں میں زہر اُتر رہا ہے، نسل نو کا مستقبل دائو پر لگا ہے، اور دوسری طرف راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
ایک زمانے میں لوگ زندگی کی تلخیوں اور اُلجھنوں سے فرار کے لیے میلوں ٹھیلوں اور تاش کے پتوں، بے مقصد گپ شپ کی محفلوں میں عافیت تلاش کرتے تھے۔ پھر ان کی جگہ ریڈیو، سینماگھروں اور ٹیلی ویژن نے لے لی۔ اب انٹرنیٹ نے ہر ہاتھ میں ایک چلتا پھرتا جیبی سینما تھما دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے بظاہر فرد کو اپنی پسند اور اختیار کی دُنیا عطا کی ہے، مگر اس دُنیا کا شور، اس کی بے انتہا کشش رفتہ رفتہ انسان کی توجہ، فکر، ارادے اور خواب تک کو اپنی گرفت میں لیتی جارہی ہے، اور آزاد نظر آنے والا انسان اسکرین، بٹن اور ریل کا غلام ہے، اکیلا اور بے بس غلام!
نگارخانے کی دُنیا میں گھٹن محسوس کرنے والے جب اس کی قید سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، تو ان کے سامنے اُمید، مقصد اور مثبت مصروفیت کے راستے کم ہی کھلے نظر آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں انسانی اسمگلر انھیں اپنے پُرکشش دامِ فریب میں پھنسا لیتے ہیں، منشیات فروش ان کی بے سمتی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، اور مایوسی کے گہرے، اندھے کنویں بعض کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال محض افسوس کرنے یا چند رسمی بیانات دینے کی نہیں، سرپکڑ کر سوچنے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب ہمارے عزیزاَزجان نوجوانوں کے خواب لُٹ رہے ہوں، ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہوں، اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہوں، تو حکومت، قومی قیادت، دینی راہ نما اور اہل دانش کب تک محض تماشا دیکھنے کے بجائے اس سیلاب کا رُخ موڑنے، انھیں زندگی کا مقصد دینے، اور ان کے لیے ایمان، اخلاق، اُمید، روزگار اور بامعنی اجتماعی قرار کے راستے کھولنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے؟
اس المیے کے تین عملی مظاہر دیکھیے:
۱- انسانی سمگلنگ: خوابوں سے بھری آنکھیں، سمندروں کی نذر: غیر قانونی طریقوں سے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی ہلاکتیں اس المیے کا ایک ہول ناک منظر ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۲۳ء کے دوران ۲۰۷ پاکستانی نوجوان یورپی سمندروں میں ڈوب کر ہلاک ہوئے، جب کہ ۲۰۲۴ء میں ۲۵، ۲۰۲۵ء میں ۵۸ اور ۲۰۲۶ء میں ۴۷ نوجوانوں کی کشتیاں سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئیں۔
یہ اعداد و شمار اس المیے کی صرف ایک جہت سامنے لاتے ہیں۔ مختلف ملکوں کی سرحدوں پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ بتائی جاتی ہے، مگر ایسے واقعات کا مکمل احاطہ ہمارے سرکاری ریکارڈ میں نہیں ہوتا۔ البتہ ان کے لواحقین کے دلوں میں اٹھنے والی فریادیں کسی سرکاری اندراج کی محتاج نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، بیرونِ ملک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بالآخر ملک بدر ہو کر واپس آنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ اپریل ۲۰۱۹ء میں رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، صرف ۲۰۱۸ء کے دوران مختلف ملکوں نے ۸۰ ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا تھا۔
انسانی سمگلنگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اور اس جرم میں سزا پانے والوں کی تعداد کے درمیان فرق بھی ہماری قانون نافذ کرنے والی مشینری کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، ۲۰۲۱ء میں۴۹۸،۲۰۲۲ءمیں ۱۹۳۶، ۲۰۲۳ء میں ۱۵۸۸ اور۲۰۲۴ء میں ۱۶۰۷ مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے مقابلے میں سزا پانے والوں کی تعداد ۲۰۲۲ء میں ۱۰۵، ۲۰۲۳ء میں ۳۵۱ اور ۲۰۲۴ء میں ۴۹۵ بتائی گئی۔
یہ اعداد و شمار اپنی جگہ، لیکن اصل صورتِ حال یقینی طور پر اس سے کہیں زیادہ سنگین تر ہے۔ پھر بہت سے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ یہ سوچ کر پولیس سے رجوع کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کہ جو نقصان ہونا تھا، وہ تو ہو چکا؛ اب شکایت درج کرانے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے اہل کاروں کی مبینہ بھتہ خوری اور ہراسانی کا ایک نیا اور کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے۔ یوں جرم کا شکار ہونے والے بہت سے افراد انصاف کے حصول سے بھی محروم رہتے ہیں اور مجرموں کے خلاف مقدمات درج نہ ہونے کے باعث اصل صورتِ حال سرکاری ریکارڈ میں بھی جگہ نہیں پاتی۔
۲- منشیات: زہر بانٹنے والے کتنے، گرفت میں آنے والے کتنے؟ منشیات کا زہر ہماری نوجوان نسل کو کس تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، اس کا اندازہ حکومتی اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، جولائی ۲۰۲۲ء سے جون ۲۰۲۳ء کے دوران۱۶۵۲ منشیات فروش گرفتار کیے گئے، جب کہ ستمبر ۲۰۲۳ء سے دسمبر ۲۰۲۴ء کے عرصے میں۲۳۵۰ منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی اطلاع دی گئی۔ تاہم، ان گرفتار شدگان میں سے کتنے افراد کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں؟ اس بارے میں کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔ پارلیمنٹ میں بھی ایسا تحریری جواب دستیاب نہیں ہوا ، جس سے معلوم ہو سکے کہ ان ملزمان میں سے کتنے سزا یافتہ قرار پائے۔
اینٹی نارکاٹکس فورس (ANF) سے متعلق اعداد و شمار کے حوالے سے سینیٹر ثمینہ ممتاز کی زیرِ صدارت سینیٹ کے اجلاس میں بتایا گیا: مئی ۲۰۲۵ء میں دستیاب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، تمباکو اور شراب کے علاوہ دیگر منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد ایک کروڑ ۷۰ لاکھ تھی۔ اگر یہ تعداد درست ہے تو سوال محض چند ہزار گرفتاریوں یا چند سو افراد کو سزاؤں کا نہیں، بلکہ ایک وسیع اور منظم مجرمانہ نیٹ ورک کا ہے۔ آخر اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو منشیات فراہم کرنے والے مجرموں کی تعداد اتنی محدود کیوں ہے؟ کیا مسئلہ محض قومی اداروں کی استعداد کا ہے، یا اس کے پیچھے نگرانی، تفتیش، استغاثہ اور احتساب کی گہری کمزوریاں بھی کارفرما ہیں؟
۳- خودکشیاں: مایوسی کی آخری منزل : پاکستان میں خودکشیوں کے واقعات کا کوئی جامع اور قابلِ اعتماد قومی ریکارڈ دستیاب نہ ہونا بذاتِ خود ایک تشویش ناک امر ہے۔ تاہم، جنوری ۲۰۲۶ء میں ’آج‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے سالانہ اعداد و شمار جمع کرتے ہوئے بتایا کہ ’’صرف لاہور شہر میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۱۱۶ ؍افراد نے خودکشی کی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں ۸۱ مرد، ۳۳ خواتین اور ۲ خواجہ سرا شامل تھے۔صرف ایک شہر کے یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے میں پھیلتی ہوئی مایوسی اور ذہنی شکستگی کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔
ایک معاشرے میں جب اُمید کے دروازے بند ہوتے محسوس ہوں، روزگار کے امکانات معدوم ہو جائیں اور مستقبل تاریک دکھائی دینے لگے، تو بعض افراد اس قدر بے بس ہوجاتے ہیں کہ زندگی ہی سے دست بردار ہونے کا انتہائی قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔ خودکشی کو محض ایک فرد کا انفرادی فیصلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پس منظر میں معاشی دباؤ، سماجی تنہائی، نفسیاتی اذیت اور مستقبل سے وابستہ امیدوں کا ٹوٹ جانا بھی اہم عوامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ خودکشیوں کے اسباب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے، قابلِ اعتماد قومی اعداد و شمار مرتب کیے جائیں، اور ذہنی صحت، معاشی تحفظ اور سماجی معاونت کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔
اس جرم کا ایک اور خوف ناک پہلو پاکستانی لڑکیوں اور خواتین کی جنسی سمگلنگ بھی ہے۔ شادی یا نکاح کا جھانسہ دے کر خواتین کو بیرونِ ملک لے جانے اور وہاں استحصال کا شکار بنانے کے واقعات بھی سرکاری سطح پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ بعض واقعات میں افغانستان، ایران اور چین سمیت مختلف ملکوں میں خواتین کو لے جا کر قحبہ گری پر مجبور کرنے یا فروخت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہ محض انسانی حقوق کی پامالی نہیں، بلکہ انسانی وقار، خاندانی اعتماد اور معاشرتی تحفظ پر ایک بڑا ہی سنگین حملہ ہے۔
خواتین میں تعلیم کے فروغ نے، ان کے اندر معاشی خودمختاری کا احساس اور اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سنوارنے کی خواہش اور اُمنگ پیدا کی ہے۔ یہ بظاہر ایک مثبت تبدیلی ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب خواتین عملی اور خاص طور پہ پروفیشنل زندگی یا جاب مارکیٹ میں قدم رکھنا چاہتی ہیں ، تو انھیں بھی روزگار کی قلت، محدود مواقع اور معاشرتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بے روزگاری کا اژدھا جب مردوں کی معاشی زندگی کو نگل رہا ہو، تو خواتین کے لیے باعزت اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
یوں بہتر مستقبل کی خواہش رکھنے والی بعض خواتین، جرائم پیشہ عناصر کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ یورپ میں خواتین کے لیے وظائف اور مواقع زیادہ ہیں، بیرونِ ملک انھیں جدید ترین فنی تربیت ملے گی، اور وہ واپسی پر یا وہیں رہتے ہوئے لاکھوں روپے کما سکیں گی۔ ان پُرکشش دعووں کی آڑ میں جعلی ملازمتوں اور بھرتی کے نام پر انھیں پھنسایا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں یہی سلسلہ انسانی سمگلنگ اور جنسی استحصال تک جا پہنچتا ہے۔
ان واقعات کا انجام اکثر نہایت کرب ناک ہوتا ہے۔ متاثرہ خواتین کی واپسی، بحالی اور انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے سماجی ماحول میں بدنامی کے خوف سے بعض خاندان خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ والدین اپنی بیٹیوں کے دکھ پر رو پیٹ کر رہ جاتے ہیں، اور قانونی چارہ جوئی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً مجرموں کو نہ صرف سزا سے بچ نکلنے کا موقع ملتا ہے، بلکہ ان کے جرائم کا حقیقی حجم بھی چھپا رہ جاتا ہے۔
ان نوجوانوں کو بعض اوقات بلوچستان اور افغانستان کے راستوں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرائی جاتی ہے، اور بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ، یونان، اٹلی، اسپین اور پرتگال جیسے ملکوں تک پہنچنے کے خواب دکھا کر ان نوجوانوں کو خطرناک راستوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سمگلر، ان کی مجبوریوں سے دولت کماتے ہیں، جب کہ ان کے خواب، گھر بار اور اکثر اوقات زندگیاں تک داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ اس خونیں کاروبار کی جڑیں محض انفرادی دھوکے بازی تک محدود نہیں ہیں ۔ اس کے پیچھے بے روزگاری، معاشی ناہمواری، روزگار کے محدود مواقع، غیر مؤثر نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور کارکردگی جیسے عوامل بھی کارفرما ہیں۔ جب تک ان بنیادی اسباب کا سنجیدہ جائزہ نہیں لیا جاتا، محض چند گرفتاریوں یا وقتی کارروائیوں سے اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔
یہاں ریاست کی ذمہ داری محض سرحدوں کی نگرانی یا کبھی کبھار چھاپے مارنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اسے نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بیرونِ ملک ملازمتوں کے نظام کو شفاف بنانے، جعلی بھرتی ایجنسیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے، متاثرین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے، اور انسانی سمگلروں کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے مسلسل اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔
لیکن ریاستی کارکردگی دیکھ کر یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ وہ نگرانی، گرفت، قانون سازی، عوامی آگاہی اور مجرموں کے نیٹ ورک توڑنے کے محاذوں پر مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف نوجوان اپنے ہی ملک میں مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی اسی مایوسی کو منافع بخش کاروبار میں بدلنے والے عناصر بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ المیہ محض چند نوجوانوں کے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے یا سمندر میں ڈوب مرنے کا نام نہیں، یہ اس قومی صورتِ حال کا نوحہ ہے جس میں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر اپنے وطن میں تلاش کرنے کے بجائے اجنبی ملکوں کے خطرناک راستوں پر جانیں داؤ پر لگانے پر آمادہ ہورہے ہیں۔
اس انسانی سمگلنگ کے جرم میں محض جرائم پیشہ افراد کے منظم گروہ ہی ملوث نہیں، بلکہ ان سفاک عناصر کو راستہ دکھانے، راہ ہموار کرنے اور ان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں بعض سرکاری اہل کاروں کا کردار بھی ایک کھلی حقیقت ہے۔ جرائم پیشہ گروہوں اور بدعنوان سرکاری اہل کاروں کی یہ ملی بھگت صورتِ حال کو مزید سنگین اور تشویش ناک بنا دیتی ہے۔ اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے ریاستی اور معاشرتی سطح پر درجِ ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
۱- قانون پر مؤثر عمل درآمد اور سزاؤں کا یقینی نفاذ :حکومت نے ۲۰۲۵ء میں انسدادِ انسانی سمگلنگ ایکٹ ۲۰۱۸ء (Prevention of Trafficking in Persons Act - PTPA ) میں ترمیم کرتے ہوئے سزائے قید کی مدت میں اضافہ تجویز کیا، لیکن قانون پر غیرمؤثر عمل درآمد کے باعث صورتِ حال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ ضرورت ہے کہ حکومتی سطح پر قانون میں درج جرائم کی مؤثر تحقیقات، مقدمات کا درست اندراج، اور عدالتوں میں ان کی بروقت اور ذمہ دارانہ پیروی یقینی بنائی جائے، تاکہ مجرموں کو قانون کے مطابق سخت اور عبرت ناک سزائیں مل سکیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس، متعلقہ خفیہ اداروں، عدالتی اہل کاروں اور استغاثہ کے عملے کو قانون اور تفتیش کی خصوصی تربیت دی جائے۔
۲- متاثرین اور گواہوں کا تحفظ : انسانی سمگلنگ کے مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کا تحفظ انتہائی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر خوف، دباؤ، دھمکیوں اور بااثر مجرموں کے اثر و رسوخ کے باعث متاثرین اور گواہان تفتیش اور عدالت سے تعاون سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فوجداری مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پروگرام نافذ کیے جائیں۔ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ہر مرحلے پر متاثرین کی عزّت، سلامتی اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
۳- مجرموں، سہولت کاروں اور بااثر سرپرستوں کو بے نقاب کرنا:اس گھناؤنے جرم میں سزا یافتہ انسانی سمگلروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرکاری سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسی طرح بااثر مقامی اشرافیہ میں شامل ایسے سیاست دانوں، جرائم پیشہ عناصر، بعض پیرانِ طریقت اور دولت مند افراد کی نشان دہی بھی ضروری ہے، جو اس کالے کاروبار کی سرپرستی یا معاونت میں ملوث ہوں۔ ان تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور ثابت شدہ جرائم کو معاشرے کے سامنے لایا جائے، تاکہ اثر و رسوخ اور دولت کسی مجرم کے لیے ڈھال نہ بن سکیں۔
۴- عوامی آگاہی اور معاشرتی مزاحمت: شہروں اور دیہات میں انسانی سمگلنگ کی مختلف صورتوں، اس کے خطرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیوں کے بارے میں عوامی شعور بیدار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے، تاکہ نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو انسانی سمگلروں کے فریب، جھوٹے وعدوں اور پُرخطر راستوں سے خبردار کیا جاسکے۔
۵- نوجوانوں میں قومی ذمہ داری اور تعمیرِ وطن کا شعور :تعلیمی اداروں میں دینی و عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اندر یہ شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ بیرونی دنیا سے علم، تجربہ اور مہارت حاصل کرنا یقیناً مفید ہے، لیکن اپنی قوم کی تہذیبی، سماجی اور معاشی تعمیر کی بنیادی ذمہ داری اپنے ہی معاشرے میں رہ کر ادا ہو سکتی ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے جائز مواقع سے فائدہ اٹھانے اور غیر قانونی ذرائع سے ملک چھوڑنے کی مجبوری میں فرق واضح کیا جائے۔ نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کی صلاحیتیں اپنے ملک میں بھی بامقصد زندگی، قومی ترقی اور معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس کے لیے ریاست کو بھی تعلیم، روزگار، ہنر مندی اور باعزت مستقبل کے حقیقی مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔
اب تک کی گفتگو میں تصویر کے ایک پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مایوسی، بے مقصدیت اور فکر و عمل کا انتشار ہمارے معاشرے میں مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں خودکشی، منشیات کی لت اور جان خطرے میں ڈال کر بیرونِ ملک جانے کی کوششوں کو محض دینی کمزوری، اخلاقی انحطاط یا معاشی بدحالی کا نتیجہ قرار دینا اس مسئلے کی گہرائی اور پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس المیے کے پس منظر میں نفسیاتی اذیت، خاندانی تنازعات، معاشی مشکلات، سماجی تنہائی اور مستقبل سے مایوسی جیسے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کے اثرات بھی ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اس کے روحانی، نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط ہیں۔
پاکستان میں خودکشی، منشیات کے استعمال اور غیر قانونی ترک وطن کے رجحانات کا درست اندازہ لگانے میں اعداد و شمار کی کمی اور نامکمل رپورٹنگ کے باوجود مختلف مطالعات اور معاشرتی مشاہدات سے چند اہم عوامل کی نشان دہی ہوتی ہے:
قرآن مجید، انسان کی عزت و حرمت اور زندگی کی قدر کو بنیادی اہمیت دیتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ (بنی اسرائیل ۱۷: ۷۰) ’اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزّت بخشی‘۔ یہ تکریم انسان کی جان، عزت، حقوق اور مشکلات کے احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ لہٰذا، خودکشی، منشیات کی لت اور خطرناک راستوں سے بیرونِ ملک جانے کے رجحانات کا مقابلہ صرف وعظ و نصیحت، قانونی کارروائی یا معاشی امداد سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے روحانی رہنمائی، ذہنی صحت کی سہولتوں، خاندانی اصلاح، معاشی مواقع، نوجوانوں کی تربیت اور مؤثر سماجی تعاون کو یکجا کرنا ہوگا۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ مایوس انسان کو محض اس کی کمزوری کا احساس نہ دلایا جائے، بلکہ اسے اُمید، عزت، علاج، روزگار اور بامقصد زندگی کی طرف واپس آنے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ کام ایک ذمہ دار ریاست اور ہمدرد معاشرے کا امتحان ہے۔
یہ سوال کہ ہم اس پریشان انسان اور خاص طور پر نوجوان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ یہ پہلو سب کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ کسی شخص کی خودکشی، نشے یا فرار کی اندھیری راہوں پر چلنے تک کے مرحلے میں اس کی ذاتی مشکلات کے علاوہ اس ماحول کا بھی کردار ہو سکتا ہے، جس میں وہ اپنی مشکلات کے دوران سامنا کرتے کرتے ٹوٹ جاتا ہے:
اصل سوال یہ ہے: کیا ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں مشکلات سے دوچار انسان کو زندگی کی طرف واپس آنے کے لیے امید، مدد اور عملی راستے مل سکیں؟ یا پھر اقتدار، اختیار، دولت اور مذہبی اجارہ داری انسانی زندگی سے دُور، بہت دُور محض تماشائی ہیں؟
_______________
بعض احباب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’شہری زندگی کے مسائل اور لوگوں کی دنیاوی مشکلات حل کرانے کی جدوجہد کا اقامت ِ دین سے بھلا کیا تعلق ہے؟‘‘ پھر کچھ کرم فرما یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’جماعت ِ اسلامی تو معاشرے کی اصلاح اور شہادتِ حق کے لیے قائم ہوئی تھی، مگر یہ سڑکوں کی تعمیر، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی قوتیں لگانے کا جماعت کے مقصد ِ تاسیس و تحریک سے کیا تعلق بنتا ہے؟‘‘ یہ اور اس نوعیت کے سوالات اخلاص سے بھی کیے جاتے ہیں اور حکمت عملی سے گہری بے خبری کی بناپر بھی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ سوالات سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اصولی طور پہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اقامتِ دین کے لیے کوشاں اسلامی تحریک کے لیے عوام کے مسائل، تکالیف اور ان پر سرکاری و غیر سرکاری مظالم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ایک دینی تقاضا ہے، بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور اسلامی دعوت و انقلابی جدوجہد کا لازمی جزو بھی ہے۔ اس عمل کو اقامت ِ دین کی جدوجہد سے غیرمتعلق سمجھنا، دین اور دین کے جامع اور ہمہ گیر تصور سے کماحقہٗ آگہی نہ ہونے پر مبنی واہمہ ہے۔ اسلام کسی ایسی تفریق کو قبول نہیں کرتا جہاں کچھ مخصوص اعمال کو ’دینی‘ ، جب کہ خلقِ خدا کی خدمت اور مظلوم کی حمایت اور دادرسی کو ’غیر دینی‘ سمجھا جائے۔
اس موقف کو سمجھنے کے لیے قرآن، سیرتِ طیبہؐ اور اسلامی تاریخ پر مختصراًنظر ڈالتے ہیں:
اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ۱ۭ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۲ۙ وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۳ۭ (الماعون۱۰۷: ۱-۳) تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزاکو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اُکساتا۔[یعنی یتیم اور مسکین کے دُکھ سے بے حسی کو اللہ نے تکذیبِ دین قرار دیا ہے۔]
اس طرح قرآن کریم معاشی استحصال اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کو اقامتِ دین کی جدوجہد سے الگ نہیںکرتا، بلکہ اس جدوجہد کے لازمی جزو کے طور پر بیان کرتا ہے۔
تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید پر مبنی اسلامی معاشرے کے قیام یا دوسرے لفظوں میں اقامت ِ دین کی دعوت اور جدوجہد میں اپنے اپنے دور کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مظالم اور عوام کی تکالیف کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی۔
اس طرح مدنی دور سے پہلے، مکی دور میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کے لازمی جزو کے طور پر مفلسوں، ناداروں، غلاموں اور کمزوروں کی دادرسی اور قریش کے استحصالی افراد کے خلاف گواہی بھی مرکزی طور پر دکھائی دیتی ہے۔
خلفائے راشدینؓ کا پورا زمانہ اس فکرمندی اور احساسِ ذمہ داری کی جیتی جاگتی مثال تھا کہ عوام کے دکھ درد کا خیال کرتے ہوئے اُسے دُور کرنے اور شہریوں کو راحت دینے کے انتظام و انصرام کو یقینی بنایا جائے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں سویا، کسی بیوہ کو آٹا تو نہیںچاہیے۔ ایک دفعہ ایک عورت بچوں کو بہلانے کے لیے خالی ہنڈیا چولہے پر چڑھائے ہوئے تھی، جب آپؓ کو معلوم ہوا تو آٹا خوداپنی پیٹھ پر لاد کر لائے۔
قحط کے زمانے میں حضرت عمرؓ نے اپنے لیے گوشت اور گھی کو ممنوع قرار دے لیا تھا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل:عام الرمادہ (قحط کے سال) میں حضرت عمرؓ نے عوام کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’اگرفرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر جائے تو عمر سےاس کی پوچھ گچھ ہوگی‘‘۔
یہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کے مطلوب خلافت راشدہ کے نظامِ حکومت کے سربراہ کا طرزِعمل تھا۔ خلفائے راشدینؓ عوام کی فلاح و بہبود کو رسولؐ اللہ کی اقتدا میں اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ گویا عامۃ المسلمین کی مشکلوں کو حل کرنے کی جدوجہد اقامت ِ دین کی جدوجہد کا لازمی جزو ہی نہیں، ایک اہم مقصد ہے، بلکہ ایک اسلامی اور عادلانہ نظامِ حکومت کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ ہرحق دار کو اُس کا حق پہنچایا جائے،اور ہر ظالم کو اس کے ظلم سے روک کر مخلوقِ خدا کو محفوظ بنایاجائے۔
اس ضمن میں سیّدنا ابوبکرؓ کے اوّلین خطبۂ خلافت کے یہ الفاظ یاد کیجیے: ’’تم میں جو کمزور ہے، میرے نزدیک قوی ہے، یہاںتک کہ مَیں اس کا اسے حق دلا دوں، اور تم میں سے جو طاقت ور ہے، وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں‘‘۔ اس اصول کا: ’’تقاضا یہ ہے کہ معاشرے کا ہرفرد اُن لوگوں کی دل سے عزّت کرے، جن کے حقوق ابھی ملنے ہیں۔ ان کے حقوق کی حمایت کرنا، ان کو ادا کرنے کی تلقین کرنا اور ان کو حاصل کرنے کے لیے سینہ سپر ہونا ہرباحمیت مسلمان کا فرض ہے‘‘۔ ( تدبر قرآن، ج ۸، ص ۵۸۳)
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے دور میں زکوٰۃ کا نظام ایسا قائم کیا کہ زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ اس نظام نے عام لوگوں کے دُکھ درد ، معاشی استحصال اور ان کے ساتھ ہونے والی ہرطرح کی ناانصافی ہی کو ختم کیا تھا۔
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ’’مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بے جا طور پر عوام کے مسائل و مشکلات کے حل کی کوشش کو اقامت ِ دین کی جدوجہد کا حصہ بنا دیا‘‘۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سیّدمودودی نے کوئی نیا کام نہیں کیا۔ انھوں نے دراصل اُمت کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے۔
امام ابوحنیفہؒ (م:۷۶۷ء)اور ان کے شاگرد امام ابویوسفؒ (م:۷۹۸)کا عملی رویہ حکومت ِ وقت کے ساتھ تعاون کے بارے میں بالکل متضاد رہا۔ استاد نے ظالم حکمران اور اقتدار سے دُوری اختیار کی، جب کہ شاگرد نے اصلاح کی طرف مائل حکمران کی دعوت پر اقتدار میں شامل ہو کر اصلاحِ احوال کی کوشش کی۔ ان دونوں رویوں کا مقصد عوام کو حکومتی مظالم سے بچانا اور حقوق کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔
امام ابوحنیفہؒ نے عباسی حاکم ابوجعفر منصور کی پیش کش پر قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس پر منصور نے انھیں کوڑے لگوائے اور سرعام سزائیں دیں۔ ان کا موقف تھا کہ اقتدار کے قریب ہو کر ظالم حکمران کے فیصلوں پر شرعی مہر لگانے سے بہتر ہے کہ میں آزاد رہ کر حق بات کہوں۔ روایات کے مطابق انھوں نے اقتدار کے ظلم کے سامنے سمجھوتا کرنے کی بجائے عملاً قید و ابتلا کو ترجیح دی۔
امام ابویوسفؒ نے اس کے برعکس راستہ اپنایا۔ وہ ہارون الرشید کے دورِ خلافت میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے، اور اسی حیثیت سے انھوں نے نظام کے اندر رہ کر نظام کی اصلاح کی۔ اپنی مشہور تصنیف کتاب الخراج میں انھوں نے ٹیکس کے نظام، زمین کی ملکیت، اور عوام پر عائد محصولات کے شرعی اصولوں کو منضبط کیا۔کتاب الخراج میں وہ صراحتاً لکھتے ہیں کہ عمال اور جمع کنندگانِ خراج کو رعایا پر نرمی کرنی چاہیے، کسی فرد کی استطاعت سے زیادہ ٹیکس نہیں لینا چاہیے، اور ظلم و زیادتی کرنے والے اہلکاروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
اس سلسلے میں ابن تیمیہؒ (۱۳۲۸ء)کا زاویۂ نظر ایک مختلف تاریخی و فقہی پس منظر رکھتا ہے۔ وہ ساتویں صدی ہجری کے ایک فقیہ و محدث تھے۔عوام پر مظالم اور حکمرانوں کے استحصال پر ان کا موقف نہایت واضح اور مضبوط ہے۔ان کی مشہور کتاب السیاسۃ الشرعیۃ فی إصلاح الراعی والرعیۃ کا بنیادی موضوع ہی حکمران اور رعایا کے تعلق میں عدل کا سوال ہے۔ ان کا مشہور فرمان ہے:
فَإنَّ النَّاسَ لَمْ يَتَنَازَعُوا فِي أَنَّ عَاقِبَةَ الظَّلْمِ وَخِيمَةٌ، وَعَاقِبَةَ الْعَدْلِ كَرِيمَةٌ، وَلِهَذَا يُرْوَى: اللَّهُ يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الْعَادِلَةَ وَإِنْ كَانَتْ كَافِرَةً، وَلَا يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الظَّالِمَةَ وَإِنْ كَانَتْ مُؤْمِنَةً (مجموع الفتاویٰ ، ج ۲۸ ، ص ۱۲۸) بے شک لوگوں کا اس بات میں کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ ظلم کا انجام برا (وخیم) ہے اور عدل کا انجام عمدہ (کریم) ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ روایت کیا جاتا ہے: اللہ عادل ریاست کی مدد فرماتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو، اور ظالم ریاست کی مدد نہیں فرماتا اگرچہ وہ مومن ہو۔
ان کے نزدیک حکمرانی کا مقصد ہی رعایا کے دُنیوی و اُخروی مفاد کی حفاظت ہے، اور جو حکمران عوام پر ظلم کرے وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کا مرتکب ہے۔
ابن تیمیہؒ نے اس بات کو بہت وضاحت کے ساتھ اُجاگر کیا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ محض انفرادی گناہوں تک محدود نہیں، بلکہ حکمرانوں کے مظالم اور بیت المال کی بدانتظامی کی اصلاح بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا دائرئہ کار ہے۔ ان کے رسائل میں ٹیکس کے ظالمانہ نظام، غیر شرعی محصولات اور عوام پر زیادتی کرنے والے عہدیداروں پر سخت تنقید ملتی ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کی فکر میں سیاسی استحکام اور فتنے سے اجتناب کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے، یعنی ظالم حکمران کے خلاف مسلح بغاوت کو وہ عموماً ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ اس سے بڑا فتنہ اور خوں ریزی جنم لے سکتی ہے۔یہ موقف ان کی مشہورکتاب الصبر علی جور الأئمة خیر من الخروج علیهم میں ملتا ہے۔ آواز اٹھانے اور نصیحت کرنے کو وہ درست بلکہ واجب سمجھتے ہیں، مگر مسلح بغاوت کو آخری اور اکثر ناپسندیدہ راستہ قرار دیتے ہیں۔
ابن تیمیہؒ عوام کے دُکھ پر آواز اٹھانے کو حکمران کی جواب دہی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اصول کے تحت نہ صرف جائز بلکہ واجب سمجھتے ہیں، مگر اس کا اظہار وہ نصیحت اور علمی احتساب کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ مسلح بغاوت کی صورت میں۔ اس ضمن میں ان کی کتاب الحسبہ [نظامِ احتساب] دیکھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح اٹھارھویں صدی میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ بھی معاشی استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو معاشی ظلم ختم کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ پھر ۱۹ویں صدی کے دوران بنگال میں ’فرائضی تحریک‘ ،دودھومیاں اور شہید تیتومیر کی تحریکیں بھی معاشی استحصال سے نجات پانے کے لیے انگریز اور ہندوزمین داروں سے ٹکرا جاتی ہیں۔
اس پس منظر کے ساتھ سیّد مودودی کے نزدیک اسلام محض چند مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ’نظامِ حیات‘ ہے، جس میں بنیادی عقائد، ارکان اسلام، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نوافل ،اذکار، تزکیہ، دعوتِ دین اور خدمت خلق کے ساتھ ساتھ حکومتی و ریاستی نظام، عوام کی خدمت اور حق گوئی پر مبنی سیاست، معاشی و معاشرتی عدل، بین الاقوامی تعلقات، بنیادی انسانی حقوق، اور معاشرہ و معاشرت سب شامل ہیں۔ چنانچہ، عوام کا معاشی استحصال اور سماجی فساد دراصل غلط حکومتی، ریاستی اور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں ،اور اس فساد کا اصل حل نظام کی تبدیلی (اقامتِ دین) میں ہے۔
انھوں نے اصلاح احوال کے لیے زور تدریجی، دستوری اور تحریکی جدوجہد پر دیا، یعنی دعوتِ حق، افراد کی اصلاح، منظم تنظیم و تحریک، اصلاحِ معاشرہ اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کی تبدیلی۔ عوامی مسائل پر آواز اٹھانا اس پورے عمل کا حصہ ہے۔ وہ بالکل الگ تھلگ کسی ’سوشل ایکٹوازم‘ کے بجائے نظام کی اصلاح کو دعوت، تربیت، تنظیم کے دائرے سے مربوط رکھتے ہیں۔’ تحریکِ اسلامی‘ کی اصطلاح خود اس بات کی غماز ہے کہ ان کے نزدیک اجتماعی، منظم اور سیاسی جدوجہد ہی عوامی دکھوں کے مستقل حل کا راستہ دکھاتی اور بناتی ہے۔ وہ انفرادی یا وقتی احتجاج پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ اس شعورکو مسلسل تازہ و بیدار رکھتی ہے۔ اگر ظلم حد سے بڑھ جائے تو پھر ایک ہدف کے طور پر اُس مسئلے کے حل پر زیادہ قوت صرف کر دینا کوئی غیرتحریکی اقدام نہیں ہے۔
مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو صرف مسجد و منبر تک محدود تحریک نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے صاف لکھا ہے کہ اسلامی تحریک کو شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ شہادتِ عدل بھی دینی ہے۔ معاشی، سماجی اور سیاسی استحصال کے خلاف سینہ سپر ہو کر حق کی آواز بھی بلند کرنی ہے۔ اس مقصد کے لیے مزدور کی مزدوری، کسان کی فصل کے نرخ، اور بازار میں مہنگائی پر بات کرنی ہوگی۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تدبر قرآن میں لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج ، (الحدید ۵۷:۲۵)کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
رسولوں اور [الہامی] کتابوں کے بھیجنے کا مقصد واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں کہ لوگ زندگی کے ہرشعبے میں حق و عدل کے اختیار کرنے والے بنیں۔ عقائد میں وہ راہ اختیار کریں جو ہر کج پیچ سے پاک ہو، سیدھی اور بیچ (وسط) کی راہ ہو، اور اعمال میں، خواہ وہ انفرادی زندگی سے متعلق ہوں یا اجتماعی زندگی سے، وہ روش اختیار کریں جو حق وعدل پر مبنی اور ظلم و جَور کے ہرشائبے سے پاک ہو۔ معلوم ہوا کہ اللہ نے اپنے رسول محض وعظ سنا دینے کے لیے نہیں بھیجے، اور نہ اپنی کتابیں محض تلاوت کے لیے نازل کیں، بلکہ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کی راہ نمائی میں حق و عدل پر قائم رہنے والے اور اس کو قائم کرنے والے بنیں [ج۷، ص ۲۲۹]۔ قیامِ قسط [کا] یہ کام مجرد وعظ و تذکیر اور انذاروتبشیر سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے طاقت کی بھی ضرورت ہے‘‘ (ایضاً، ص ۲۳۰)
مولانا اصلاحی نے اسلامی ریاست میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسلامی ریاست کی پہلی ذمہ داری فلاحِ عامہ ہے۔ روٹی، کپڑا، انصاف اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر کے معاشی دُکھ کو قرآن کی روشنی میں اجاگر کرنا چاہیے۔ صرف تقریر کے ذریعے نہیں، بلکہ عملی خدمت کے ذریعے جیسے قرض حسنہ، تعلیم اور علاج میں مدد کے ذریعے۔ عوام کے دُکھ پر آواز اٹھانے کو غیر دینی بات کہنا تو دُور کی بات ہے، بلکہ یہ تو دین کا لازمی تقاضا ہے۔ جو تحریک صرف اقتدار کی بات کرے اور عوام کی بھوک، ننگ اور ظلم پر خاموش رہے، وہ قرآن کی ہدایت سے رُوگردانی کی زد میں آتی ہے۔
اسی طرح سیّد قطب شہید کے نزدیک موجودہ نظام محض ناقص نہیں بلکہ ’جاہلیت‘ کا مظہر ہے۔ گویا مغربی و مسلم دونوں طرح کے حکمران، نظام اسلامی کے اصولوں سے مکمل انحراف پر مبنی نظام چلا رہے ہیں۔ عوام کا معاشی و سماجی استحصال اسی جاہلی نظام کی لازمی پیداوار ہے۔ عوامی دُکھ کی جڑ محض معاشی بدانتظامی نہیں، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ انسان نے اللہ کی حاکمیت پر مبنی نظام کو چھوڑ کر خود ساختہ نظام اپنا لیا ہے۔ اس لیے جاہلیت سے مکمل قطع تعلق کرکے انقلابی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اقامت ِ دین کی جدوجہد میں درج ذیل دونوں پہلو نمایاں مقام اور یکساں اہمیت رکھتے ہیں:
اگر اس جامع جدوجہد میں سے دوسرا پہلو نکال دیا جائے تو اسلام کی دعوت اور تحریک کی جدوجہدعوام میں اجنبی ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس تحریک نے عوام کے دکھ کو اپنا دکھ نہ سمجھا، عوام بھی اس کے دکھ کو اپنا دکھ نہ سمجھیں گے۔ اور جس نے عوام کے آنسو پونچھے، اللہ اسی کے ذریعے دین کو قائم کرے گا۔
اس اعتبار سے عوام کے دکھ درد، معاشی و معاشرتی مسائل اور ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ایک اسلامی فریضہ ہے، بلکہ اقامت ِ دین کی تحریک کے لیے روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مظلوم کی حمایت اور عوام کی خدمت کے بغیر اقامتِ دین کی کوئی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں ہے کہ اقامتِ دین کا کام اور عوام کے دکھ پر آواز اٹھانا دو الگ چیزیں ہیں۔ بلکہ اسلام میں عوام کے دکھ پر آواز اٹھانا عین اسلامی کام ہے، اور اقامتِ دین کی جدوجہد اس کے بغیر نامکمل ہے۔
اس اصولی صورتِ حال کو مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں یوں بیان فرمایا ہے:
انبیا علیہم السلام کو جس مقصد کے لیے بھیجا گیا وہ یہ تھا کہ دُنیا میں انسان کا رویہ اور انسانی زندگی کا نظام فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی، عدل پر قائم ہو۔ ایک طرف ہرانسان اپنے خدا کے حقوق ، اپنے نفس کے حقوق اور ان تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق ، جن سے اس کو کسی طور پر سابقہ پیش آتا ہے ، ٹھیک ٹھیک جان لے اور پورے انصاف کے ساتھ ان کو ادا کرے۔ اور دوسری طرف اجتماعی زندگی کا نظام ایسے اصولوں پر تعمیر کیا جائے، جن سے معاشرے میں کسی نوعیت کا ظلم باقی نہ رہے، تمدن و تہذیب کا ہر پہلو افراط و تفریط سے محفوظ ہو، حیات اجتماعی کے تمام شعبوں میں صحیح صحیح توازن قائم ہو، اور معاشرے کے تمام عناصر انصاف کے ساتھ اپنے حقوق پائیں اور اپنے فرائض ادا کریں ۔ بالفاظِ دیگر انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصود عدلِ انفرادی بھی تھا اور عدلِ اجتماعی بھی ۔ وہ ایک ایک فرد کی شخصی زندگی میں بھی عدل قائم کرنا چاہتے تھے، تاکہ اس کے ذہن، اس کی سیرت، اس کے کردار اور اس کے برتاؤ میں توازن پیدا ہو ۔ اور انسانی معاشرے کے پورے نظام کو بھی عدل پر قائم کرنا چاہتے تھے، تاکہ فرد اور جماعت [معاشرہ] دونوں ایک دوسرے کی روحانی ، اخلاقی اور مادی فلاح میں مانع و مزاحم ہونے کے بجائے معاون و مددگار ہوں۔(الحدید، حاشیہ ۲۵، ص ۳۲۲)
گویا اقامت ِ دین کا مطلب معاشرتی، سماجی، معاشی اور سیاسی، غرض زندگی کے ہرشعبے میں دین قائم کرنے کی ہمہ پہلو جدوجہد ہے، اور یہ کہ دین کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی، انفرادی و اجتماعی تقویٰ و تزکیہ اور انسانوں کو ظلم، جبر اور قہر سے نجات دلانا ہے۔
_______________
آج کا سوڈان، ایک اور مسلم ملک کی تباہی کا نوحہ بیان کر رہا ہے۔ وہی سوڈان جس کے ایک حصے کوکاٹ کر جنوبی سوڈان کے نام سے ۹جولائی ۲۰۱۱ء کو پہلے ایک عیسائی ریاست بنائی گئی، اور آج باقی سوڈان موت و حیات اور خاک و خون کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ دونوں طرف لڑنے اور مرنے والے مسلمان ہی ہیں۔ عالمی طاقتوں نے بڑی کامیابی سے مسلم ممالک کی تقسیم اور تباہی کے مختلف ماڈل پیش اور نافذ کر رکھے ہیں۔
وہ سوڈان جو کبھی اپنی اسلامی شناخت کے حوالے سے ایک بلندمقام رکھتا تھا، آج اس میں قتل و غارت اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔ ایک طرف ایسی حکومت ہے کہ جس نے اپنی بقا کے لیے کبھی اسرائیل سے تعلقات کا پرچم بلند کیا اور کبھی شریعت کے قوانین سے پسپائی اختیار کی، لیکن اس وقت وہی ہے جو سوڈان کی جغرافیائی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔ دوسری طرف وہ ہیں جو فساد اور موت کو مسلط کرکے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان حالات میں سوڈان کی حکومت کے متعدد ناپسندیدہ اقدامات کے باوجود پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ تحریک اسلامی ’کم تر بُرائی‘ کے اصول پر اس حکومت کی تائید کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتی کہ اسی طرح ملک کے وجود کو بچانے اور امن قائم کرنے کی اُمید کی جاسکتی ہے، جب کہ دیگر اصولی معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔
سوڈان کی اس خانہ جنگی کی تباہی کا احوال کسی ایک جگہ پر بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ ہولناک جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ ذرا تصور میں لائیے اس کا تباہ حال دارالحکومت، جو اس وقت مکمل بربادی کے قریب ہے۔اپریل ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے سے پہلے خرطوم تقریباً ۷۰ لاکھ آبادی کا ایک گنجان آباد شہر تھا۔ آج اس کے کوچہ و بازار ویران پڑے ہیں۔ سرکاری عمارتوں کے صرف کھوکھلے ڈھانچے باقی دکھائی دیتے ہیں۔ شاندار گھر اور پُرتعیش ہوٹل کھنڈرات میں بدل چکے ہیں۔ گلیاں لڑائی سے جھلسی ہوئی اور خاموش عمارتوں کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ اتنی لاشیں پھینکی گئی ہیں کہ عارضی اجتماعی قبروں سے انسانی کھوپڑیاں باہر نکل رہی ہیں۔ اس کے باوجود قتل و غارت جاری ہے۔اس صدی میں افریقہ کے بدترین تنازعات میں سے ایک تنازعے کا زخم خوردہ دل خرطوم شہر ہے۔
اس جنگ نے براعظم افریقہ کے تیسرے سب سے بڑے ملک سوڈان کے وسیع حصے تباہ کر دیے ہیں اور ایک کروڑ ۴۰ لاکھ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ لڑائی، قحط اور نسل کشی کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں کہ جن کا حساب رکھنا کسی ادارے اور ایجنسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ حالیہ افریقی جنگوں میں جس کی ہولناکیوں کا اس سے موازنہ کیا جا سکتا ہے وہ کانگو کی جنگ ہے، جس میں ۲۰۰۰ء کے عشرے کے اوائل میں ۵۰ لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ تاہم، جغرافیائی اور سیاسی اثرات کے لحاظ سے سوڈان کی جنگ اس سے بھی کہیں زیادہ تباہ کن اور ہلاکت آفرین ہے۔
اس جنگ نے پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے عیسائی ریاست جنوبی سوڈان اور یمن میں خانہ جنگی کو دوبارہ بھڑکنے میں مدد ملی ہے۔ ایتھوپیا اور پورے ’ہارن آف افریقہ‘ میں قتل و غارت کے ایک اور دور کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بیرونی طاقتوں نے اس تکلیف دہ منظرنامے میں بے حسی کی انتہا دکھائی ہے: ایک یہ کہ لڑائی کو جاری رکھنے کے لیے پیسہ اور اسلحہ دے کر، اور دوسرا اسے دانستہ نظرانداز کر کے۔ مزید آگے بڑھیئے تو بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال کر سوڈان اور ایران کے جنگی محاذ آپس میں ایک ہو رہے ہیں۔ پھر اس جنگ کے سرپرستوں کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھ رہی ہے، اور آخر کار انھیں امن قائم کرنے کی ایک کوشش کی کوئی وجہ بھی مل سکتی ہے۔
بظاہر سوڈان کی جنگ دو اہم متحارب فریقوں کے درمیان تصادم ہے: سوڈانی مسلح افواج (SAF: سوڈانی آرمڈ فورسز)، جو ملک کی باقاعدہ افواج اور بالفعل حکومت ہے، اور ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ (RSF)، محمد حمدان دقلو ’حمیدتی‘ کی سربراہی میں پوری طرح سے مسلح ملیشیا ہے۔ مختلف دوسرے سوڈانی مسلح گروہ بھی دونوں فریقوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ لڑائی افریقہ کے معدنی وسائل اور براعظم میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرنے والی خطے کی دولت مند طاقتوں کے درمیان ایک ’پراکسی وار‘ (’بالواسطہ جنگ‘)بھی ہے۔ ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ کو متحدہ عرب امارات (UAE) سے ہتھیار، پیسہ اور کرائے کے جنگجو ملتے ہیں، اگرچہ عرب امارات اس کی حمایت فراہم کرنے سے سختی سے انکار کرتا ہے۔ کسی حد تک کم درجے پر، ایس اے ایف (یعنی حکومتی فورسز)کو مصر، قطر، سعودی عرب اور ترکی سے بھی اسلحہ اور مالی مدد ملتی ہے۔
آر ایس ایف نے وقتاً فوقتاً جنگ بندی مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس نے اپنی لوٹ مار سے خود کو ایک قابلِ لحاظ فوجی اور معاشی طاقت میں تبدیل کر لیا ہے، جس کے عزائم ملک پر حکومت کرنا ہیں۔ سوڈان میں ایس اے ایف کے رہنماؤں کے موقف سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ آر ایس ایف کو شکست دے سکتے ہیں اور اسی لیے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہیں۔اس دوران، متحارب فریقوں اور ان کے حامیوں پر دباؤ ڈالنے کی طاقت رکھنے والے بیرونی عناصر کی توجہ یہاں کے بجائے کہیں دوسری جانب بٹی ہوئی ہے۔
یورپ کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنھوں نے گذشتہ نومبر میں جنگ ختم کرنے کا عہد کیا تھا، ۲۸فروری ۲۰۲۶ء سے ایران میں اپنی تباہ کن مہم میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ بہت سے سوڈانیوں، جنھوں نے اسے ایک لاینحل مسئلہ سمجھ کر قسمت کے لکھے پر سمجھوتہ کر لیا ہے، اور اس مایوسی میں صومالیہ ٹائم لائن کی بات کرنے لگے ہیں: یعنی کئی عشروں پر پھیلا ایک ایسا تنازع، جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔
اب دو پیش رفتوں نے مل کر جنگ کے خاتمے کا ایک موقع پیدا کیا ہے، اگرچہ اس کے امکانات کم ہیں۔ فروری میں امریکا کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے بعد سے، خلیج میں پھیلی افراتفری نے سوڈان کو معمول سے بھی کم درجے میں قابلِ ترجیح بنا دیا ہے۔
امریکا کے ایک سابق صدر آئزن ہاور نے کہا تھا کہ ’’جب کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکے تو اسے وسیع کر دو‘‘۔ اس لیے جیسے جیسے ’امریکا ایران جنگ‘ پھیل رہی ہے، توجہ آبنائے ہرمز سے، جو اس وقت بند ہے، بحیرۂ احمر کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور وہ بھی جلد ہی بند ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب کے لیے سوڈان کے ساحل کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے، جس سے جنگ میں اس کی دلچسپی دوبارہ جاگ اٹھی ہے۔ اس سے اب اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے آر ایس ایف کی مزید پشت پناہی کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
دوسرا عنصر میدان جنگ میں پانسہ پلٹنا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں میں سوڈان کی افواج نے ۱۸ ماہ قبل خرطوم واپسی کے بعد سے اب تک کی اپنی سب سے نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ جولائی کے آخر میں اس نے دارالحکومت خرطوم کو العبید سے ملانے والی ایک اہم شاہراہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ العبید ایک اسٹرے ٹیجک علاقائی مرکز ہے، جس پر آر ایس ایف کئی مہینوں سے قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مسلح افواج نے ایتھوپیا کی سرحد پر واقع قصبے کرمک پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اگرچہ اب سرکاری فوج، آر ایس ایف کو شکست دینے کی کوششوں کو دوگنا کرنے پر مائل ہے، اور فوج طویل عرصے سے یہ دلیل دیتی آرہی ہے کہ وہ طاقت کی پوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، اور اب اسے یہ پوزیشن حاصل ہے۔ ایس اے ایف بخوبی جانتی ہے کہ جیسے جیسے جنگ طوالت اختیار کرے گی، زیادہ سے زیادہ طاقت ان گروہوں کو منتقل ہو جائے گی جن کا مفاد جنگی معیشت کو برقرار رکھنے میں ہے۔ پھر چاہے اقتدار میں کوئی بھی ہو، ملک مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ یہ سچ ہے کہ کامیاب جنگ بندی کے امکانات ابھی کم ہیں۔ لیکن سفارتی کوششوں کا وقت تو بہرحال موجود ہے۔
سعودی عرب، مصر اور ترکی کو ’سوڈانی مسلح افواج‘ پر زور دینا چاہیے کہ وہ اس مطالبے سے باز آجائے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ’ریپڈ آرمڈ فورسز‘ ہتھیار ڈال دے اور غیرمسلح ہو جائے۔ متحدہ عرب امارات کو آر ایس ایف پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی اس خواہش پر قائم رکھنا چاہیے جس کا وہ اظہار کرتی رہی ہے، چاہے اس کا مطلب پورے سوڈان پر حکومت کرنے کے عزائم سے دست بردار ہونا ہی کیوں نہ ہو۔ ورنہ صومالیہ طرز پر طویل خانہ جنگی اور تباہی کی طرف جانے والا راستہ سوڈان کے علاوہ پورے غربی افریقہ کے عدم استحکام کو برقرار رکھے گا، جو یہ جنگ پیدا کر رہی ہے۔
_______________
انسانی زندگی میں دن اور رات کے آنے جانے کا سفر جاری ہے۔ یہ سفر اَزل سے جاری خیروشر کی کش مکش کے بارے میں انسانوں کے رویے کی بنیاد پر ان کے آج اور مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔ اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی سال اور عشرے آتے ہیں اور ان کے حال ومستقبل پر گہرے نقوش چھوڑتے چلے جاتے ہیں۔
قومی دن یا یوم آزادی ایک علامت کے طور پر آزادی حاصل کرنے والے ملکوں میں ہرسال آتا ہے۔ اس کی حیثیت تشکر و اطمینان کے ساتھ گزرے وقتوں اور برسوں کے جائزے و تجزیے اور قومی آڈٹ کی ہوتی ہے اور ضرور ایسا ہی کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر پاکستان کے لیے تو یوم آزادی بڑی ذمہ داریوں کی یاددہانی اور تجدید عہد کا پیغام لے کر آتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ان ذمہ داریوں کے احساس اور سود و زیاں کی فکر کے بجائے، یہ یوم برقی قمقموں کی روشنیوں کی چکاچوند اور پرچم کی جھنڈیاں لہرانے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ بہت ہوا تو کہیں چند تقریریں ہو گئیں بلکہ اکثر تو راگ رنگ کی محفلیں جما لی جاتی ہیں اور قومی آڈٹ کا یہ موقع ضائع کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ کچھ ایسے ہی المیے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کا تذکرہ اسی فرسودہ تاریخ نویسی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسا کہ پرانی تواریخ محض بادشاہوں کی شکستوں اور کامیابیوں کے تذکرے کی بازگشت سے آگے نہیں بڑھتیں۔ اُن گزرے زمانوں کی تواریخ میں عوام، عوام کے دُکھ درد، سماجی کرب، معاشی استحصال، ظالمانہ رواجی جبر کا کہیں ذکر نہیں ملتا، اور کہیں غلطی سے ایسی بات آ بھی جائے تو فوراً کسی شاہانہ کروفر کی گھن گرج میں وہ سب کچھ کانچ کی کرچیاں بن کر بکھر جاتا ہے۔
اگلے برس پاکستان کےقیام کو ۸۰ برس گزر جائیں گے۔ جن لوگوں نے اپنے ہوش میں پاکستان بنتے دیکھا، اُن کی تعداد اب ایک فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے، اور جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد پہلے پانچ برسوں میں آنکھ کھولی اُن کی بھی ایک بڑی تعداد موت کی وادیوں میں جا چکی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی تاریخ اور تاریخ کے تضادات کا مسئلہ انھوں نے کبھی بحث کا موضوع بنتے نہیں دیکھا۔ اُجڑ کر پاکستان آنے والے مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت کبھی پاکستان میں شامل علاقوں میں پہلے سے آباد ہم وطنوں کی یادداشت کا حصہ نہیں بنی۔ اسی طرح ہجرت کرکے آنے اور یہاں پہلے سے آباد ہم وطنوں کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی زندگی کے اتار چڑھائو بھی کبھی، کسی تحقیق و تجزیے کا عنوان نہیں بنے۔ اگر کبھی کسی نے اس معاملے کو چھیڑا تو اُس کا رویہ دوسرے ہم وطنوں کے خلاف شکایت اور اپنی قومیت یا برادری یا لسانی شناخت کی محض مظلومیت کے واویلے تک محدود رہا۔ اس طرح نہ یہاں پر آباد ہونے والوں اور ان کی نسلوں میں تشکر کا جذبہ پیدا ہوا، اور نہ یہاں پر پہلے سے آباد لوگوں اور ان کی نسلوں میں کبھی احساسِ تشکر جڑپکڑسکا۔ پاکستان بننے کے چندسال بعد ہی سے غلط ترجیحات اور ناقص پالیسیوں کے زیراثر محض: ’مرگئے، لُٹ گئے، اُجڑگئے‘ کی تکرار سنائی دینے لگی۔
اسی طرح ماضی کی فرسودہ تاریخ گوئی کی روایت کے مطابق پاکستان میں بھی یہ سوال اور جواب ازبر ہوتے چلے گئے ہیں کہ فلاں کے بعد فلاں حاکم بنا اور فلاں نے سازش اور جوڑ توڑ کر کے فلاں کو چلتا کیا۔ ان تذکروں کو بڑی کامیابی سے حکومت، صحافت اور درس گاہ نے قبول کرکے ’تاریخ پاکستان‘ کا نام دے دیا، حالانکہ یہ تاریخِ پاکستان نہیں تاریکیِ پاکستان کے مختلف موڑ تھے، جن میں نہ عوام کا رنج و کرب شامل تھا اور نہ ان کی حصہ داری کی کوئی ایک سطر موجود تھی۔
بلاشبہ پاکستان نے شدید ترین بحرانوں میں اور بدترین خطرات کے طوفانوں میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بانیانِ پاکستان نے بڑی جاں فشانی سے اور نہایت پُرخطر حالات میں ہاتھ پائوں مار کر راستہ بنایا اور تحفظِ وطن کی دیواریں بھی کھڑی کیں۔ لیکن کیا واقعی اس جان جوکھم کی کوئی ایک سطر یا اس جدوجہد کی کوئی کسک ہمارے طلبہ و طالبات اور آنے والی نسلوں کی روح کا حصہ بن سکی؟ یقینا ایسا نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ جملہ یاد رکھنے کے لیے کافی سمجھ لیا گیا کہ ’’فائل کے کاغذوں کو لگانے کے لیے کامن پِن نہیں تھے، جن کی جگہ کیکر کے کانٹوں سے کاغذوں کو نتھی کیا گیا‘‘۔ کیا واقعی یہ ایک جملہ اس عظیم چیلنج اور ہرکولین ٹاسک کی تصویر کشی کرنے کے لیے کافی ہے کہ جو تخلیق پاکستان کے وقت درپیش تھا؟ یقینا نہیں۔ تو پھر اُن عظیم جاں نثاروں اور گم نام محسنوں کا تذکرہ کیا ہوا کہ جنھوں نے سخت ترین ناسازگار حالات میں قومی وجود کی تشکیل کے لیے تنکا تنکا اکٹھا کیا، اور بے نمودونام رہ کر قومی تعمیروتشکیل میں کارنامے انجام دیتے ہوئے زندگی کی آخری سانس لی تھی۔
ہماری آنے والی نسلوں کو نہیں بتایا جاتا کہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۶ء تک اور پھر ۱۹۵۶ء سے ۱۹۷۳ء تک پاکستان کیوں بے دستور رہا؟ پھر ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۸ء تک اور ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک دستور کا کیا تماشا بنایا گیا؟ آج تک دستور کے ساتھ یہ تماشا ایک سلسلۂ جاریہ کی صورت میں مسلسل جاری ہے۔ پھر ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۶ء کے دوران دستور کو صرف غیر سیاسی عناصر نے ہی نہیں، بلکہ خود پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے سیاسی ہاتھوں کے ذریعے، اور صرف پاور انٹرسٹ گروپوں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ خود اعلیٰ عدالتی افسروں کے ذریعے بھی دستوری بے توقیری کا سیاہ پرچم بلند سے بلند تر کیا جارہا ہے، اور یہ کیوں کیا جارہا ہے؟ یہ نہیں بتایا جاتا۔
ہماری تاریخ میں بلاشبہ یہ ابواب قابلِ تشکر ہیںکہ ۱۹۶۵ء اور ۲۰۲۵ء کی جنگوں کے دوران پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے قابلِ فخر کارنامے انجام دیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ باب کیوں ہماری یادداشت سے گم کردیا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء کا المیہ کیوں اور کیسے رُونما ہوا؟ اس میں سیاست دانوں اور عسکری حاکموں کا ٹھیک ٹھیک کردار کیا تھا؟ اور ان میں ہماری صحافت نے کیسے اپنی چونچیں پروں کے نیچے دبائے رکھیں؟ یہ بھی نہیں بیان کیا جاتا کہ اگر مشرقی پاکستان میں سپلائی لائن چاروں طرف سے دشمن کے ہاتھوں گھر چکی تھی، تو یہاںمغربی پاکستان کا بارڈر کیوں وہ نتیجہ پیدا نہ کرسکا جو ’مشرقی پاکستان کا دفاع، مغربی پاکستان سے‘ کے فارمولے کے ذریعے قائم کیا گیا تھا؟ مشرقی پاکستان کا المیہ تو ایک طرف رہا خود مغربی محاذ پر کیوں قابلِ اطمینان صورت نہ سامنے آ سکی؟
دسمبر۱۹۷۰ء سے پہلے کے انتخابات میں بھی کیا واقعی عوام کا کچھ حصہ تھا؟ اور کیا وہ انتخابات عوام ہی کے لیے تھے یا پھر محض چند مقتدر گروہوں کے لیے راستہ بنانے کا وسیلہ تھے؟ اور یہ بھی کیوں نہیں پڑھایا اور بتایا جاتا کہ دسمبر۱۹۷۰ء کے دوران مشرقی پاکستان میں کیا واقعی شفاف اور ’فری اینڈ فیئر‘ انتخابات ہوئے تھے یا ’فری فار عوامی لیگ‘ انتخابات تھے؟ جن میں ۱۹۷۰ء کے پورے سال کے دوران سول انتظامیہ، عوامی لیگ کی مددگار رہی، جس کے نتیجے میں مدمقابل سیاسی پارٹیوں کے لیے انتخابی مہم چلانا عملاً ممنوع قرارپایا اور مارشل لا انتظامیہ بے دست و پا تماشائی بنی بیٹھی رہی۔ اس ماحول میں وہ الیکشن ہوا، جسے مخصوص طرزِ فکر کی دانش ’شفاف ترین الیکشن‘ کہتی ہے۔ کیا تاریخ کے نام پر یہ دھبہ دُھویا جاسکتا ہے؟ پھر ۱۹۷۰ء کے بعد سے اب تک کے انتخابات کی صحیح صورتِ حال اور قسم قسم کی انتخابی دھاندلی کا بیان کبھی ضبط تحریر میں آئے گا کہ جس سے واضح ہوکہ ان انتخابات میں عوام کا کوئی کردار تھا، یا سرےسے کوئی کردار تھا ہی نہیں؟
اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا یہ سوال بھی جواب مانگتا ہے: ’’پاکستان کا پاور سٹرکچر یا طاقت کا ہیکل کن ستونوں اور اداروں پر قائم ہے؟‘‘ کیا محض سول انتظامیہ اور افواج کے اعلیٰ افسران ہی مقتدرہ یا پاور سٹرکچر کی چھت ہیں، یا پھر ان کے شریک کاروں میں سیاسی لیڈر، برادریوں کے کرتا دھرتا، نواب، وڈیرے، سردار اور پیر حضرات بھی برابر کے حصے دار ہیں؟‘‘ یہی نہیں بلکہ کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ ’’اس پاور سٹرکچر کی دو اہم طاقتیں اعلیٰ عدلیہ کے اکثر ارکان اور صحافت و ذرائع ابلاغ کے نام پر رائے عام کو موم کی ناک کی طرح موڑنے والے سیٹھ حضرات بھی ہیں؟ اور اس سارے گھن چکر کا عوام اور عوام کے دکھ درد سے کیا تعلق واسطہ ہے؟ حالانکہ مذکورہ بالا طبقوں کے کرتا دھرتا تو اپنے محفوظ گھر یہاں بھی رکھتے ہیں اور باہر بھی۔ لیکن جن کے وسائل اور جن کی گردنوں پر سوار ہو کر وہ حکمرانی کا لطف اٹھاتے ہیں، وہ بے زبان اس سارے ہنگامے کے حاشیے پہ بھی نظر نہیں آتے۔
کسی بھی ملک کی قسمت کا ستارہ تو امن، انصاف اور نظم و ضبط سے چمکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کے ساتھ اسلام کا حوالہ بطور کمٹ منٹ لازم ہے۔وجہ یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کے دوران یہی بتایا گیا تھا، یہ ملک اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی قانون و معاشرت کے نفاذ کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے۔ تب کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان، چند گھرانوں، چنیدہ افسروں اور جائز یا ناجائز دولت کے زور پر سیاست و قیادت کا کھیل کھیلنے والوں کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پیش کیا جاتا تو یقینا ان لوگوں کے رشتہ داروں اور خاندانی ملازموں کے سوا کوئی فرد اس مقصد کے لیے نہ ووٹ دیتا اور نہ جان لڑاتا۔ کہاں مقصد کی وہ بلندی اور کہاں حقائق کی یہ پستی! مگر ہمارے ہاں تضاد بھرے اس قول و عمل کو بھی نہیں بیان کیا جاتا اور نہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
یہ امرِ واقعہ بھی کسی تاریخ میں مذکور نہیں ہے کہ وہ بدعنوانی اور اقرباپروری جس سے قائداعظم نے پارلیمان میں ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کی تقریر میں بچنے کی سختی سے ہدایت کی تھی، آج اسی ہدایت کی بے حرمتی اور پامالی پورے معاشرے میں پھیلی نظر آتی ہے۔ عدالت کی مسندیں ہوں یا دفتروں کے کمرے، فیصلہ سازوں کے ایوان ہوں یا حاکموں کی غلام گردشیں، سبھی پر ایک جملے کا راج ہے ’پیسے لگائو تو کام ہوگا‘، یا پھر ’اُوپر والوں کا حصہ اتنے فی صد‘ ہے۔ اس چیز نے وہ تباہی مچا رکھی ہے کہ اگر کوئی فرد جائز معاشی سرگرمی کے لیے صنعت و تجارت کی کشتی اس ہلاکت خیز سیلاب میں اتارتا ہے، تو طرح طرح کے محکموں کے اہل کار، اُس فرد پر یوں جھپٹے پڑتے ہیں جیسے گِدھ نوچنے کے لیے اُمڈ اُمڈ آتے ہوں، اور بہت ہی کم ہوتے ہیں جو اس حملے سے بچ پاتے ہیں۔ اسی لیے نہ لوگ سرمایہ کاری پر آمادہ ہوتے ہیں اور نہ سرمایہ کار، سرمایے میں یہاں کی محنت کو شریک کار بنانے کی ہمت کرتے ہیں۔ یوں بے روزگاری و بے کاری کا ناگ اپنے پھن پھیلائے پھنکارتا نظر آتا ہے۔
قوم کے پسے ہوئے طبقوں کے لیے، صدیوں کی غلامی سے نکلنے کا سب سے اہم ذریعہ تعلیم ہی ہوسکتی تھی۔ لیکن سرکاری تعلیمی اداروں میں بدنظمی اور اکثر اساتذہ کی نااہلی اور عدم دلچسپی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تودوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کی بڑی تعداد نے وہ تجارتی ادھم مچایا ہوا ہے کہ الحفیظ الامان۔ قسم قسم کے تعلیمی اداروں نے نئی نسل کو فکری انتشار کی دلدل میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ والدین مجبور ہیں کہ پرائیویٹ ٹیویشنیں بھی پڑھوائیں اور بڑی بڑی فیسیں بھی دیں۔ اس مقصد کے لیے وہ دوہری ملازمتیں کرتے اور اپنے اثاثے بیچتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود سرنگ کے آخر میں زیادہ تر اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تو خطرناک حد تک داخلے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یونی ورسٹیاں چار چار مرتبہ اشتہار دے کر طالب علموں کو داخلے کی دعوت دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود داخلے پورے نہیں ہوتے۔ انجامِ کار، یہ نوخیز بچّے مایوسی، نشے اور غلط ہاتھوں کا شکار ہورہے ہیں۔
دُنیا بھر میں ریل ایک سستا ،محفوظ اور قابلِ اعتماد ذریعۂ سفر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریل کے نظام میں بہتری لانے کے بجائے اس کی تباہی کا منظم سامان کیا گیا۔ صدر ایوب خان کے زمانے میں ۱۹۶۷ء کے دوران خانیوال سے لاہور تک بجلی سے چلنے والے انجنوں کا نظام قائم کیا گیا، جو ۱۹۸۷ء آتے آتے اُجڑ گیا۔ برقی رو دوڑانے والی تانبے کی تاریں چوری کر لی گئیں اور آہنی گاڈر اُکھاڑ کر لوگ گھروں کو لے گئے، اور سارا زور روڈ ٹرانسپورٹ پر لگادیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ غیر ملکی گاڑیوں، ٹائروں، پُرزوں اور پٹرول پر قیمتی قومی زرمبادلہ سیلاب کے پانی کی طرح بیرونِ پاکستان کی طرف بہہ نکلا اور مہنگائی کا عذاب اس راستے سے پوری قوم پر مسلط ہو گیا۔ آج پاکستان ریلویز، شوکت تھانوی کے افسانے ’سودیشی ریل‘ سے بھی زیادہ بدتر شکل پیش کر رہی ہے، جس میں ہرشخص خود تو سوار ہونے کی کوشش میں ہے لیکن کسی دوسرے کو سوار نہیں ہونے دیتا۔
زراعت کی حالت کو خراب کرنے کے لیے ناقص پیداواری منصوبہ بندی نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ کسان کی گردن دبوچنے کے لیے تیل، بجلی، بیجوں اور مصنوعی کھادوں کے مہنگے داموں نے بربادی مسلط کی ہوئی ہے، تو دوسری طرف خود کسانوں نے نہری پانی کی ترسیل کے فعال نظام کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ نہری پانی کی ستھری ترسیل کا شاندار نظام اب تباہی و بربادی کا نوحہ پڑھتا نظر آتا ہے۔
تجارت میں بددیانتی، بیرون ملک بدنامی درحقیقت عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کو تباہ کرنے اور امکانات کی دنیا کو محدود کرنے کا ذریعہ بنی۔ لیکن مجال ہے کہ قانون سازوں اور حکمرانوں نے ایسے تاجروں سے باز پُر س کا کوئی تادیبی نظام قائم کیا ہو؟
اس تحریر میں عوام کو نظرانداز کرنے کی بات بہ تکرار کی گئی ہے، لیکن خودعوام بھی اس ظلم کے کئی پہلوئوں سے ذمہ دار ہیں جس کے چند مظاہر یہ ہیں: اپنے حال اور مستقبل سے لاتعلقی، انتخابات کو ایک سنجیدہ عمل سمجھنے کے بجائے ایک شغل کے طور پر لینا، ووٹ کی قوت کو برادری، رنگ، نسل اور عصبیت کی بھینٹ چڑھانے کا شوق پالنا، شرافت کو محض دیکھنے کی چیز قرار دینا اور بدمعاشی، خیانت اور بدکرداری کو حکمرانی کی صلاحیت بیان کرنا___ عوام کے اندر پائے جانے والے یہ تضادات اخلاقی شکست، دینی گمراہی اور مثبت دُنیاوی قدروں کے قحط کے نشانات ہیں۔
اس تلخ داستان کے یہاں پر ’کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے‘، اس لیے نہیں کہ مایوس ہوا جائے بلکہ اس لیے کہ ان خرابیوں کو درست کیا جائے۔ یومِ آزادی دراصل فخر کرکے سوجانے کا پیغام نہیں لاتا، بلکہ یہ احتساب کی میزان لے کر آتا ہے، تاکہ کوتاہیوں کے ازالے کے لیے تجدیدعہد ہو اور روشن مستقبل کی راہ ہموار کی جاسکے۔
_______________
ہر معاشرے کی سماجی اور قومی زندگی میں شہریوں کو متعدد مشکلات اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ سنجیدہ، دوراندیش اور سمجھ دار لوگ اور ان کی قیادتیں، یقینا ان مشکلات کو دور کرنے اور معاشرے میں پھیلی اُلجھنوں کا مداوا کرنے کے لیے بہتر سے بہتر حل تلاش کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ صبرو تحمل، فکری بیداری، نظم و ضبط اور دلیل کے ساتھ راستہ بناتی اور حصولِ منزل کی شاہراہ پر چلتی ہیں۔
اس کے برعکس عجلت پسند قوتیں، معاشرے کی ان ہی کمیوں اور کمزوریوں کو لے کر، مبالغے کی یلغار اور جذبات کی آگ کے الائو کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیںکہ حالات خود ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ بعض بدنصیب تو ان شعلوں کو بھڑکانے کے لیے اپنے ہاتھوں اپنوں تک کو بھی اس کش مکش کی بھینٹ چڑھانے سے باز نہیں آتے۔
جون ۲۰۲۶ء کے پہلے عشرے میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے افسوس ناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ جہاں سراسر ایک آئینی اور سماجی مسئلہ تصادم کا پیش خیمہ بن گیا۔ مگر افسوس کہ آزاد کشمیر حکومت اور سول انتظامیہ اس چیلنج کا کامیابی سے جواب دینے کے بجائے، عجلت پسندی میں اس طرح اُلجھ کر رہ گئی کہ حالات کا تلخ اور منفی پہلو سارے منظرنامے پر حاوی ہوگیا۔ یوں منفی بیانیے کو بے جا طور پر عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کا موقع مل گیا۔
آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہر صاحبِ ضمیر انسان کا دل رنجیدہ ہے۔ خون جس کا بھی بہے، اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان کا ضیاع ایک اجتماعی المیہ ہوتا ہے اور اس پر سیاست کے بجائے تدبر، احتساب اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آزاد کشمیر میں یہ منظرنامہ ایک غیرذمہ دارانہ سیاسی کھیل کا نتیجہ ہے کہ جس میں گذشتہ برسوں حزبِ اختلاف اور حکومت نے مل کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ خاص طور پر گذشتہ پانچ برسوں میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ اس مدت میں چونکہ حزبِ اختلاف نے اپنا منصبی کردار ادا نہیں کیا، اور اقتدار کی ’میوزیکل چیئر‘ کا ایک کردار ہی بنی رہی، اس لیے اپوزیشن کا کردار اس کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کسی بھی ریاست میں اضطراب کو کم کرنے کے اصل ذمہ دار بہرحال ریاست کے حکمران ہوتے ہیں۔ اور یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو بروقت سمجھے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرے اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن سے تصادم، انتشار اور خون ریزی جنم لے۔لیکن افسوس کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور حکومت سازی سے منسلک کردار اس صورتِ حال کو سنبھال نہیں سکے۔
عوامی ایکشن کمیٹی جس نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل اور مطالبات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بنیادی ایجنڈے پر احتجاج اور جواب در جواب تشدد حاوی ہوتا گیا۔ بدقسمتی سے آج اس کے پلیٹ فارم پہ چند علیحدگی پسند داخل ہوکر ایسے مطالبے کرنے لگے ہیں، جیسے
ابتدا میں جب عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کے مسائل پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے اس کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ بھی دیا۔ لیکن جیسے ہی اس پلیٹ فارم سے ان نکات کو کبھی دھیمی اور کبھی بلندآواز میں کچھ لوگوں نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا کا حصہ بنانا شروع کیا اور ایک قدم آگے بڑھ کر تشدد کا راستہ اپنایا تو یہ طرزِعمل دیکھ کر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور دُوری کا اعلان کردیا۔ تاہم، ایکشن کمیٹی کے آئینی اور جائز مطالبات کی جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی حمایت کی تھی اور مستقبل میں بھی جائز مطالبات اور پُرامن جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گی۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ ایسے کسی منفی نعرے کی حمایت نہیں کر سکتی، جو پاکستان کی سلامتی اور جہادِ آزادی کے لیے صدمے کا باعث بنے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ نشستیں ایک عرصے سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع بنتی چلی آ رہی ہیں۔ ان نشستوں کے طریقِ انتخاب میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی بنیاد پر اور حکومت سازی میں ان کے کردار پر تلخ آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہوا اس مسئلے کا ایک پہلو۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان نشستوں کا وجود خود مسئلۂ کشمیر کا نتیجہ ہے۔ اگر مسئلۂ کشمیر حل ہو چکا ہوتا تو نہ یہ نشستیں وجود میں آتیں اور نہ یہ تنازع پیدا ہوتا۔یہ نشستیں دراصل اُن لاکھوں کشمیریوں کی سیاسی شناخت اور تاریخی جدوجہد کی علامت ہیں، جو۱۹۴۷ء کے بعد اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے محروم ہوئے، اور آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔ اس لیے بارہ نشستوں کا معاملہ محض انتخابی یا انتظامی مسئلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلۂ کشمیر کی تاریخ، تاریخی جدوجہد اور کشمیریوں کے سیاسی تشخص کا مظہر ہے۔
آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی جانب سے اگست۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ضروری آئینی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں
مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت اسلامی جو آزاد کشمیر جماعت اسلامی سے بالکل جداگانہ نظام، قیادت اور پروگرام رکھتی ہے، اس کی تقریباً ساری قیادت گذشتہ آٹھ، نو برسوں سے جیلوں میں قیدہے اور اس پر ظالمانہ پابندی عائد ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستگان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے لاکھوں کشمیری تہہِ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ان کے لیے مسئلۂ کشمیر کی نظریاتی اساس پر کسی قسم کا حملہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
ممتاز کشمیری راہنما غلام محمد صفی، کنونیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادکشمیر کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ’’ہم جموں وکشمیر میں جس حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جدوجہد صرف مقبوضہ کشمیر کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر، آزاد جموں وکشمیر، گلگت، بلتستان اور اس پوری ریاست کے لیے ہے، جس ریاست کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر بھی ہے۔ اس لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل جدوجہد کرنے اور انڈین فورسز اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو برداشت کرنے اور بربادی و تباہی کا سامنا کرنے والے لوگ جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہم تو ایک بڑے حق حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ اس پوری ریاست کے صرف ایک حصے میں کچھ حقوق کی بات کرتا ہے تو انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔ وہ مسئلہ جو سب کا مشترکہ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جس پر برس ہا برس سے ایک جدوجہد جاری ہے، اور جس کی بنیاد پر انڈیا، جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج بھی ظلم ڈھا رہا ہے، اسے نظرانداز کرکے یہ بات کی جا رہی ہے۔
’’ ہم یہ سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کے افراد کے جائز روز مرہ کے مسائل اور حقوق بلاشبہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یاد رہنا چاہیے کہ حقِ خود ارادیت اپنی جگہ مرکزیت کا حامل مسئلہ ہے۔ لیکن جب اس بڑے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اُٹھانے کی جدوجہد میں دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہوں یا آزاد کشمیر کے بھائی، ہم سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ ہم دُنیا بھر کی ہرپارلیمنٹ، ادارے، تھنک ٹینک، ابلاغ عامہ کے پلیٹ فارم اور دانش وروں کے مراکز میں جاکر انڈیا کے مظالم کو اُجاگر کریں اور کشمیریوں کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کریں۔ مگرآج آزاد کشمیر میں چند لوگوں نے عجلت پسندی اور چند مقامی مسائل کی بنیاد پر پاکستان کو، انڈیا کے ہم پلہ کہنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کے بدترین اور انسانیت سوز مظالم، یوں لگتا ہے کہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
’’اس پس منظر میں ہم حریت کانفرنس کی طرف سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آزاد کشمیر کے بھائیوں کا یہ مسئلہ تشدد اور تصادم اور مبالغہ آمیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو بات چیت کے ذریعے سے ہوگا۔ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی، کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پُرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش کردہ مطالبات میں سے بہت سے پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، اور جو مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، ان کو بہرحال آئینی اداروں ہی میں بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔ اس طرح جگ ہنسائی کا کھیل ختم کر کے، حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر متحدومتحرک ہونا ہوگا‘‘۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے آزاد کشمیر کے ان واقعات پر واضح الفاظ میں کہا ہے:
آزاد کشمیر میں درپیش صورتِ حال سے نکلنے کے لیے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا چاہیے:
اصل توجہ مرکزی مسئلے پر مرکوز رہنی چاہیے۔کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، بھارتی تسلط کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل پر پوری قوت صرف ہونی چاہیے۔
اختلاف اور احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن جذبات میں بے قابو ہو کر شاخوں کے جھگڑے میں جڑ کاٹنے پر چڑھ دوڑنا نہایت نامناسب ہے۔ کشمیر کا مقدمہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے حقِ خودارادیت، شناخت اور انصاف کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کی کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ باہمی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھ کر حل کریں اور قومی مفادات اور تاریخی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کریں جو آزاد کشمیر کے ہرہرشہری اور تمام سیاسی و اجتماعی قوتوں کے کندھوں پر ہے۔(س م خ)
_______________
۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔
اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔
اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔
اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔
اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔
’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔
مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔
انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔
ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔
گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔
’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔
دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔
۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔
انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔
جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔
اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔
یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔
تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔
خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔
تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔
خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔
اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔
یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔
فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔
جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔
کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟
اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔
دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔
پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟
ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔
اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟
بنگلہ دیش اس وقت قومی زندگی کے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف تیرھویں قومی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، تو دوسری جانب ان انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔عوامی لیگ کی ۱۵ سالہ فسطائی حکومت کے خاتمے (اگست ۲۰۲۴ء) کے بعد دستور، قانون اور حکومتی انتظام کے تضادات پوری قوت سے اُبھر کر سامنے آئے، جنھیں درست کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے ڈیڑھ سال کے دوران بہت سی کوششیں کیں، مگر یہ چیلنج اس قدر گہرا، ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ عبوری حکومت، خواہش کے باوجود اس کام کو تسلی بخش طریقے سے انجام نہیں دے سکی۔
اس کے چار اسباب تھے: پہلا یہ کہ حکومت میں شامل افراد پہلے سے کوئی ریاستی و انتظامی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ بیش تر افراد مختلف این جی اوز کے پس منظر سے متعلق تھے، جن میں فکری ہم آہنگی نہیں تھی کہ وہ مل کر زیادہ اعتماد سے کام کرتے۔ تیسرا یہ کہ انھیں اس چیز کا احساس تھا کہ ان کے پاس عوام کا مقبول مینڈیٹ نہیں، جس کے سبب وہ زیادہ پُراعتماد اقدام نہ کرپائے، اور چوتھا یہ کہ پورے ریاستی نظام میں، عوامی لیگی اور انڈین اثرات کے تحت اہل کاروں سے اپنی بات منوانا مشکل ثابت ہوا۔
یہ وہ اسباب تھے کہ جنھوں نے انتخابات سے قبل قومی سطح پر قانون اور ضابطے کی درستی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے منظم ڈھانچے کو بے نقاب کرنے کے لیے اصلاحات کا خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ۱۲فروری کو انتخابات کے روز ایک جانب لوگ اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، تو دوسری جانب آئینی اصلاحات کی نسبت سے چند بنیادی نکات پر ریفرنڈم میں اپنی رائے دیں گے۔
عوامی لیگ کے قومی جرائم کے سبب، عبوری حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے بعد عملاً میدان میں دو قوتیں برسرِ انتخاب ہیں: ایک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP: بی این پی)اور دوسری بنگلہ دیش جماعت اسلامی۔
قومی زندگی میں بی این پی کی گہری جڑیں ہیں، اور تین مرتبہ حکومت میں رہنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ماہ قبل اس کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کا انتقال ہوا تو تدفین کے موقعے پر بلاشبہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوا۔ ان کے بیٹے طارق رحمان (پ: ۱۹۶۵ء) ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپس آئے اور اب وہ پُراعتماد حیثیت سے پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ملک میں آمد کے موقعے پر عبوری حکومت نے عملاً انھیں ایک سربراہ کی طرح پروٹوکول دیا، جس سے انتخابات میں حکومت کی غیر جانب داری کے دعوے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس چیز کو تمام حلقوں نے محسوس کیا ہے اور قومی سطح پر اس پہ اعتراض بھی اُٹھایا ہے۔ لیکن ریاستی انتظامی ڈھانچے نے فی الحقیقت انھیں مستقبل کے حکمران کے طور پر ہی سمجھنا اور پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ کے تین سو کے ایوان میں دو سو سے زیادہ نشستوں پر بی این پی نے نمائندے کھڑے کیے ہیں۔ طارق رحمان نے انتخابی مہم میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہورہے ہیں، لیکن جس تاثر کے ساتھ بی این پی انتخابات جیتنے کا دعویٰ رکھتی ہے، اُس نسبت سے لوگ جلسوں میں نہیں آرہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی اور جماعت اسلامی کم و بیش برابر یا کسی جائزے میں بی این پی قدرے بہتر نتیجے کے ساتھ نمایاں نظرآتی ہے، مگر بہت کم فرق کے ساتھ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بی این پی کی تائید کے لیے کمیونسٹ لابی، ہندو برادری کے طاقت ور گروہ، عوامی لیگ کے حامیوں کی بڑی تعداد، این جی اوز کی مشینری اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے مؤثر حلقوں کی آشیرباد واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اسی سول اور فوجی انتظامیہ کے ساتھ میڈیا کے فعال عناصر بھی اس کی جانب جھکائو رکھتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی ہے، جس کے دامن میں خلوص، محنت، دیانت، خدمت اور ملک و قوم کے لیے قربانیوں کی بہترین روایت ہے۔ اس کی بے داغ قیادت نے قوم میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔بلاشبہ ملک بھر میں سب سے بڑے انتخابی جلسے جماعت اسلامی ہی کے ہورہے ہیں، جس کی تائید کے لیے نو چھوٹی بڑی جماعتیں شریک کار ہیں۔ ان پارٹیوں میں طلبہ کی ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP)بھی شامل ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کی حمایت کرنے والوں میں چالیس سال سے کم عمر کے رائے دہندگان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پھر یہ پہلو بھی سامنے رہے کہ یونی ورسٹیوں کے تمام انتخابات جماعت اسلامی کی حامی ’اسلامی چھاترو شبر‘ کے اُمیدواروں نے واضح اور بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے، اور اپنے مدمقابل ’چھاترو دل‘ (بی این پی کے حامی طلبہ) کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ گویا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی جانب ووٹ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حالانکہ گذشتہ کئی عشروں سے جماعت اسلامی کے خلاف ابلاغی، نصابی اور قومی سطح پر ہمہ گیر مہم کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اب سے چند روز قبل علما کے ایک معروف گروپ نے جماعت اسلامی کے اتحاد سے الگ ہوکر انتخابات میں اُترنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یقینا جماعت اسلامی کے حامی ووٹروں کی قوت تقسیم ہوگی۔
جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن (پ:۱۹۵۸ء) قومی سطح پر ایک مرکزی راہ نما کے طور پر اُبھرے ہیں۔ ان کی تقاریر میں ٹھیرائو، تدبر، وسعت ِ نظری اور سنجیدگی نے عوام و خواص میں گہرا تاثر قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب انتخابی تقاریر اور عوامی پروگراموں میں الزام تراشی اور مخالفین پر طعن و الزام کے بجائے مثبت انداز سے اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ جس میں انصاف، سماجی فلاح اور معاشی استحکام کو مرکزیت حاصل ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی انتخابی مہم قدم قدم پر مالی وسائل کی کمی کے ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہے اور بی این پی کی مہم شاہانہ اخراجات کا نمونہ ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ اگر انتخابات غیر جانب دارانہ ہوں تو جماعت اور بی این پی برابر، برابر نشستیں لیں گی، اوریہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی سادہ اکثریت حاصل کرلے۔ لیکن دھاندلی سے یہ نتیجہ تبدیل کرکے بی این پی کی جانب جھکایا بھی جاسکتاہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے یہ پیش کش کر رکھی ہے کہ وہ کامیابی کی ہرصورت میں قومی حکومت بنا کر تعمیروترقی کے لیے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
وطن عزیز میں ’طاقت اور اختیار کا کھیل‘ اپنی تمام کثافتوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ دیکھنے میں چلاآرہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی غالباً ہرآن یہی سوچتے ہیں کہ ’طاقت و اختیار‘ کا کب کتنا مزید حصہ حاصل کرنا ہے۔ باقی رہی قوم اور قوم کے روزمرہ اُمور، یا مستقبل کے معاملات، تو اُن کے بارے میں جب فرصت ملی تو سوچ لیا جائے گا۔
قوم کے اعصابی مراکز پر فائز قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری، عدالتی ہوں یا سول، اپنے کردار سے کم و بیش اسی کھیل میں کبھی تیزگامی اور کبھی سُست رفتاری اختیار کرنے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ مقتدر طبقوں کی یہی وہ لَت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے بعد دستور بنانے میں قوم کے نوسال ضائع کردیئے، اور انھی ۹برسوں میں ایسے ایسے امراض قومی وجود کو لاحق ہوگئے کہ پہلے انھوں نے دسمبر۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ دکھایا، اور پھر باقی پاکستان کو بھی مسلسل خطرات کے گرداب میں رکھا ہے۔ یہ پریشان کن تبصرہ بے وجہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی قوتوں کی آمریت پسندی اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کبھی عسکری قوتوں سے گٹھ جوڑ اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ سازباز کا چلن سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ’بے زبان‘ قوم کی تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔
اس تمہید کا ایک تلخ پہلو فروری۲۰۲۴ء کے وہ انتخابات بھی ہیں، جن میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے ایک پارٹی کا نشان سلب کرکے قبل اَز انتخابات دھاندلی کا ظلم شامل کیا گیا، اور پھر من پسند لوگوں کو ’فارم ۴۷‘کے کٹھولے میں بٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی، وہ نئی غلطی کو جنم دیتی ہے‘۔ یہی کام یہاں بھی ہوا کہ سالِ انتخابات ۲۰۲۴ء ختم ہونے سے پہلے ہی ۲۶ویں ترمیم کا ایسا ڈول ڈالا گیا کہ جس نے خود آئینی ترمیم کے طریق کار کو ہی مشکوک نہیں بنایا، بلکہ اُس کے متعدد منفی نتائج بھی سیاسی و قانونی کلچر کی خرابی کی بنیاد بنے، اور اس کی ضربِ کاری کا اصل نشانہ اعلیٰ عدلیہ ہی بنی۔ چونکہ اس ترمیم میں بدنیتی کے کئی عوامل موجود تھے، اس لیے ’ھل من مزید‘ کی پیاس نے ۲۰۲۵ء کے خاتمے تک ۲۷ویں آئینی ترمیم کی یلغار کرادی۔ یہ ترمیم کیا ہے؟جزوی چیزوں کو چھوڑ کر درحقیقت عدل و انصاف پر ایک غیراسلامی، غیراخلاقی اور غیر جمہوری خودکش حملہ ہے۔
اس ترمیم میں عدلیہ کو مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور مسلسل دہشت زدہ رکھنے کا بارود رکھا گیا ہے، اور مقتدرہ کے کچھ مناصب پر فائز افراد کو ’تاحیات استثناء‘ دے کر، اسلام اور انصاف کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پھر اس ترمیم کے ذریعے ’قراردادِ مقاصد‘ کی روح کچل کر رکھ دی گئی ہے۔’قراردادِ مقاصد‘ تحریک پاکستان کے لیے مسلمانانِ برصغیر کے عمرانی معاہدے کی غماز اور آئینِ پاکستان کی بنیاد ہے۔جو واضح طور پر متعین کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اللہ کی امانت کے طور پر استعمال کریں گے، اور متفقہ قومی دستور نے کہا ہےکہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور اگر کوئی ایسا متصادم قانون ہوگا تو چیلنج کرکے تبدیل کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ قائم کیے گئے ہیں۔
حالیہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے دستور میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری اور دیوانی مقدمات سے دیا گیا تاحیات استثناء سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت میں تویہ استثناء رسولِ معصوم عن الخطاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ کو بھی حاصل نہیں۔یہ غیر اسلامی اور غیر عادلانہ دفعہ مسلّمہ جمہوری و مہذب اصولوں یعنی مساوات، عدل کی گردن اُڑانے کا اعلان بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہ دفعہ اسلام کے ان اصولوں، جن میں سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں کو مرکزیت حاصل ہے، پامال کرنے کی جسارت بھی ہے۔
مزید ملاحظہ فرمایئے کہ ۲۷ویں ترمیم بھی اسی طرح اناڑی پن، عجلت پسندی اور اَدھوری ڈرافٹنگ کی بھونڈی تصویر پیش کر رہی ہے، جس انداز سے ۲۶ویں ترمیم کی گئی تھی (غلطیوں اور اَدھورے پن کے اسی تسلسل میں اب ۲۸ویں ترمیم لانے کے لیے ذہن سازی کی جارہی ہے)۔ اس ترمیم کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے ۲۶ویں ترمیم میں چند حلیفوں کو غچہ دینے کے لیے واپس لیا گیا تھا، مگر ’زخم مندمل‘ ہونے اور اس دوران مزید پارلیمانی نمبر حاصل کرلینے کے بعد اب اس بلّی کو تھیلے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ اس نومولود عدالت کے جج حضرات کو اب انتظامیہ اور مقننہ مل کر چُنے گی اور ظاہر ہے چناؤ کے فیصلے کا وزن مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ایسی عدالت سے بھلا کوئی شہری، ریاست کی جابرقوت کے خلاف عدل کی اُمید کیسے باندھ سکتا ہے؟ جب کہ اس نومولود عدالت کو مقرر کرنے والی قوت وہی ہو، جس کے جبر یا ناانصافی کے خلاف اسے ایوانِ عدل میں دستک دینے کی ضرورت محسوس ہو؟ اسی طرح یہ عدالت ہو یا اعلیٰ عدلیہ، اس کے ججوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی، تقرر یا برطرفی کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا، مگر بازو مروڑنے کا راستہ رکھا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے، جس میں انتظامیہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔
یاد رہے، دستور کی دفعہ ۲۰۰ میں درج تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، متعلقہ جج صاحب کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ ۲۷ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جج صاحب کی مرضی کے بغیر بھی انھیں تبدیل کیا جاسکے گا، اور اگر وہ یہ حکم یا ہدایت ماننے سے انکار کریں تو اُن کے خلاف ۳۰ روز کے اندر ’اعلیٰ عدالتی کونسل‘ (SJC) میں تادیبی کارروائی ہوگی، اور انھیں کام کرنے سے منع کردیا جائے گا۔
اس ’آئینی عدالت‘ کو غیرآئینی کام کرنے کے لیے یہ کہہ کر پوری سہولت بہم پہنچا دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں سابقہ عدالتی نظائر (فیصلوں) کی پابند نہ ہوگی، ان کے سامنے سابقہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس طرح انسانی سماج کے تجربات سے حاصل شدہ راہ نمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صاف سلیٹ پر من پسند آئینی عدالت کو اختیارات کا ڈنڈا پکڑا کر، دراصل یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ وہ پرانے ’ناپسندیدہ‘ تجربات کو نظرانداز کرنے کی ’شرمندگی‘ سے بچ سکیں۔
۲۶ویں ترمیم میں اس کج روی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ۹مئی ۲۰۲۵ء کو دس رکنی ’آئینی بنچ‘ نے سپریم کورٹ کے جولائی ۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو پلٹ کر کالعدم کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمے چلانا دستور کی دفعہ ۱۰-الف (منصفانہ مقدمے اور قانونی حق) کی خلاف ورزی ہوگی۔درحقیقت نئی ’آئینی عدالت‘ کا یہ وجود عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی قانون سازی کے اسلامی اور عدالتی ریویو اور جائزے کے اختیار کو بھی سلب کرنے کا اعلان ہے۔
نومبر ۱۹۸۵ء میں ’آٹھویں ترمیم‘ اور دسمبر۲۰۰۳ء میں ’سترھویں آئینی ترمیم‘ میں شامل ۵۸(۲-الف) کا غیرجمہوری حق، مقتدر قوتوں نے مارشل لا کے فیصلوں کو تحفظ دینے کی دھونس برت کر حاصل کیا تھا کہ اس کے بغیر ان کے سابق دور کے فیصلے بے وجود ہوجاتے۔ لیکن اب ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے فیصلوں کے لیے تو کوئی دبائو بھی موجود نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ نے یہ غیرآئینی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ اقدام کیوں کیے ہیں؟
ان ترامیم نے فی الحقیقت مستقبل کے معاشی اُمور کو بھی داغدار کر دیا ہے، اور قومی زندگی میں سیاسی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ ان ترامیم سے انتظامی اور عسکری غلبے کو آئینی تحفظ ملنے سے طاقت وروں کے اختیارات اور قوت میں مزید اضافہ ہواہے، جب کہ جمہور کی طاقت میں بڑی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے میرٹ یا معیار کے بجائے انتظامیہ کی پسند و ناپسند کو راہ دی گئی ہے، جس سے عدل کے ایوان گروہ بندی اور سیاسی جھکائو کے اندھے گڑھے میں گرائے جاسکتے ہیں۔ آئینی بنچوں کی تشکیل میں سیاسی مداخلت کا سامان فراہم کرکے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنا ڈالا گیا ہے۔
وطنِ عزیز میں جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب معاشرے کو توازن سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن اگر عدل کے حصول کا راستہ کھوٹا ہوگا اور رکاوٹ زدہ ہوگا تواس سے مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے تمام طبقوں کو درست بات حکامِ بالا اور عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے ساتھ وکلا اور صحافیوں کو غیرجذباتی انداز سے اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔
دین سے وابستگی اور دین کی خدمت کی توفیق، اللہ تعالیٰ کے بہترین انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر میںبہت سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ سعادت عطا فرمائی ہے۔ انھی خوش نصیب قافلوں میں ایک معتبر قافلے کا نام جماعت اسلامی ہے، جو دُنیا بھر میںمعروف ہے۔
جماعت اسلامی اپنی دعوت اور اپنی منزل کے حصول کی جدوجہد میں، انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلے کے اِتباع اور صلحائے امتؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنے والی ایک منظم تحریک ہے۔
جماعت اسلامی آج سے ۸۵ برس قبل ۲۶؍اگست۱۹۴۱ء کو لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ آج یہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا گہرا اثر و نفوذ رکھتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر اور ان کی قیادت میں جب اس قافلے نے سفر کا آغاز کیا تو اس میں صرف ۷۵ افراد شامل تھے۔ مگر ان کے خلوص اور دینی جذبے نے اس تحریک کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ رفتہ رفتہ یہ کارواں عالم گیر صورت اختیار کرتے ہوئے فکروعمل کی دُنیا میں گہرے نقوش ثبت کرتا آرہا ہے۔
جماعت کی تاسیس کے وقت بمشکل ۷۴ روپے سے بیت المال قائم ہو سکا۔ مگر اس قافلے کی رفتارِکار کی راہ میں نہ مالی وسائل آڑے آئے اور نہ افرادی قوت کی کمی کوئی نفسیاتی رکاوٹ پیدا کرسکی۔ اسلام کے یہ جاں نثار پورے ہند میں پھیل گئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے متعین کردہ مقاصد کے شعور سے مالا مال اور حکمت عملی سے وابستہ کارکنان کی اجتماعیت دنیا کے مختلف حصوں میں مصروفِ عمل ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کے ذریعے، اللہ کی رضا کے حصول اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لاکھوں مرد و زن اور پیروجوان متحرک ہیں۔
جماعت اسلامی نے اسلام کی جو دعوت پیش کی اس کو قبول کرتے ہوئے ایک تعداد اس سے عملاً وابستہ ہوئی۔ دوسری بڑی تعداد نے اسے اچھا تو سمجھا، لیکن اس کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ کرپائی۔ اسی طرح ایک تیسری تعداد نے اس کا راستہ روکنے کے لیے الزام تراشی، اِتہام بازی اور ظلم و زیادتی کا طرزِعمل اپنایا۔ ان سبھی کے لیے ہم خیروعافیت کی دُعا کرتے ہیں۔ بہرحال، زندگی کے ان مختلف دائروں کے پہلو بہ پہلو جماعت اسلامی آج دنیا میں ایک حوالہ ہے، خیر، تعمیر اور حق کی گواہی کا، خدمت، خلوص اور امانت داری کا۔ اسی جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام ۲۱-۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔
مسلم اُمہ اس وقت جن مصائب، بحرانوں اور غلامی کی نئی قسموں سے دوچار ہے، ان میں یہ اجتماع، زندگی بخش راہوں کو کشادہ کرسکتا ہے۔ وطن عزیز جن اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، اُن میں ہم آہنگ جذبۂ عمل دے سکتا ہے۔ سیاسی ابتری، معاشی فساد اور ماورائے دستور حکمرانی کی حقیقت کو آشکار کرسکتا ہے۔ مخصوص این جی اوز کے ذریعے ملک و ملّت کی فکری و نظریاتی تخریب کا جو سامان کیا جارہا ہے اور شریعت ِ اسلامی پر حملہ آور ہونے کے لیے جس ’میٹھے زہر‘ کو نام نہاد ’مذہبی اسکالروں اور اصلاح پسندوں‘ کی سرپرستی کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے، اس فکری ارتداد سے باخبر رہنے کا اسلوب دیا جاسکتا ہے۔
آنے والا کل جن فکری، علمی اور کلامی چیلنجوں کے ساتھ یلغار کرتا چلا آرہا ہے، اس تباہی کا احساس بیدار کرنا پہلی ضرورت ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے میدانِ عمل میں آنا دوسری ضرورت ہے، اور عمل و رَدعمل سے بڑھ کر مثبت انداز سے ایک نظامِ فکر اور لائحہ عمل پیش کرنا تیسری اور سب سے اہم ضرورت ہے۔
جماعتوں اور پارٹیوں کے اجتماعات میں مذہبی یا سیاسی ہنگامے ہوتے ہیں، لیکن ان سب سے بالکل مختلف انداز اور امتیازی شان کے ساتھ جماعت اسلامی کا اجتماع عام منعقد ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی اور تحریکی زندگی میں مرکزی اجتماع کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سے ۱۶۶کلومیٹر کے فاصلے پر دارالاسلام میں منعقد ہونے والے پہلے کُل ہند اجتماع میں ۱۹؍اپریل ۱۹۴۵ء کو فرمایا تھا:
مختلف گوشوں سے، موجودہ زمانے کے پُر صعوبت سفر کی تکلیفیں برداشت کرکے یہاں جمع ہو کر آپ نے میری طاقت میں بھی اضافہ کیا ہے اور اپنی طاقت میں بھی۔ [اگر آپ] ایسا نہ کرتے تو میں اپنی جگہ کم زور ہو جاتا اور آپ اپنی جگہ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہماری یہ تحریک جو ایک بڑے عزم کا اظہار ہے، آپ اپنی جگہ ٹھٹھر کر رہ جاتی۔ آپ جب کسی ایک شخص کو، ایک مقصدِ عظیم کے لیے خود اپنا امیر بناتے ہیں، تو اس کی اطاعت کر کے دراصل اپنی ہی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں، اور جتنی کم اطاعت کا ا ظہار آپ سے ہوگا، اس کمزوری کی وجہ سے آپ کی جماعت کی طاقت ضعیف ہوگی۔ [مگر] اس کے برعکس جس قدر زیادہ آپ کے قلب و دماغ پر اپنا مقصد حاوی ہوگا، اور جتنا زیادہ اپنے مقصد کی خاطر اطاعتِ امر کا صدور آپ سے ہوگا، اُسی قدر زیادہ آپ کا مرکز قوی ہوگا اور آپ کی تنظیمی طاقت زبردست ہوگی۔
مولانا محترمؒ نے اپنے خطاب میں اس چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ: lآپ نے مالی، سفری اور صحت کی مشکلات برداشت کرکے یہاں جمع ہونے کا قدم اٹھایا lاس طرح آپ نے نظم جماعت، جماعت اور خود اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے lیوںآپ نے مقصدِ عظیم سے وابستگی کا اظہار کیا ہے lاوراطاعتِ نظم کا قدم اٹھا کر مقصد کی قوت میں اضافہ کیا ہے ___ دراصل یہی ہے وہ روح، جس کے تحت جماعت کے نظم کی دعوت پر ہم تمام کارکنان لبیک کہتے ہوئے اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس طرح ہم نظم ہی کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی مضبوط بنائیں گے، ان شاء اللہ۔
جماعت اسلامی، قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر چھوٹے بڑے تنظیمی اجتماعات کا انعقاد معمول کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اور یہی ذیلی اجتماعات جماعت کی ہم آہنگی، ترقی، تربیت اور ہمہ پہلو پھیلائو کا ذریعہ ہیں۔ مگر قومی سطح پر بڑے اجتماع کا انعقاد فکری، تربیتی، روحانی اور تحریکی تجدید کا طاقت ور مظہر بھی ہوتاہے اور ذریعہ بھی۔ اس بڑے اجتماع سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی اُمید ہوتی ہے:
دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام کوئی روایتی میلہ یا جلسۂ عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر کا روحانی و انقلابی عکس ہوتا ہے۔ اس لیے ہر سطح کےکارکنوں پر لازم ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کے لیے خود بھی شعوری طور پر تیار ہوں، اور اپنے اہل خانہ ، خاندان اور قریبی لوگوں کو بھی تیار کریں۔
سیّد مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپریل ۱۹۴۵ء میں اسی طرح کے ملکی اجتماع میں فرمایا تھا:
آپ کے اجتماعات میں خواہ کتنا ہی بڑا مجمع ہو، مگر خیال رکھیے کہ بھیڑ اور ہڑبونگ، اور شوروہنگامہ کی کیفیت کبھی رونما نہیں ہونی چاہیے۔
جو کام ہم نے اپنے ہاتھ میںلیا ہے، یعنی اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنا، دنیا کے نظم کو درست کرنا، اس کا تقاضا ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کر دکھائیں۔
جس طرح ہمیں دنیا کے بگاڑ پر تنقید کا حق ہے، اسی طرح دنیا کو بھی یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں؟ کیا برتائو کرتے ہیں؟ کس طرح جمع ہوتے ہیں اور کس طرح اپنے اجتماعات کا انتظام کرتے ہیں؟
اگر دنیا نے یہ دیکھا کہ ہمارے اجتماعات میں بدنظمی ہے، ہمارے مجمعوں میں انتشار اور شوروغل ہوتا ہے۔ ہمارے رہنےا ور بیٹھنے کی جگہیں بدسلیقگی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اور جہاں مشورے کے لیے جمع ہوتے ہیں، وہاں مذاق، قہقہے اور جھگڑے برپا ہوتے ہیں، تو دنیا خدا کی پناہ مانگے گی۔
اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اجتماعات کے دوران نظم، باقاعدگی، سنجیدگی و وقار، صفائی و طہارت اور حسنِ اخلاق اور خوش سلیقگی کا ایسا مکمل مظاہرہ کریں، جو دنیا میں نمونہ بن سکے.... ایک منظم گروہ کی طرح اٹھیے اور بیٹھیے، کھائیے اور جمع ہو جائیے اور منتشر ہو جائیے۔
جہاں آپ جمع ہوں، وہاں آپ کی دیانت و امانت بالکل ایک محسوس و مشہود شکل میں نظر آنی چاہیے۔ [وہاں]کسی شخص کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جس کا مال اور سامان جہاں رکھا ہو، بغیر کسی نگران اور محافظ کے محفوظ پڑا رہے۔
بانی ٔ جماعت کے ان الفاظ میں اجتماع اور شرکائے اجتماع کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو انفرادیت بخشنے کا بہترین سبق موجود ہے۔
اسی طرح سیّد مودودی علیہ الرحمہ نے معاشرے، ماحول، سوچ کے زاویے اور عمل کی دُنیا کی تبدیلی کا درس دیتے ہوئے فرمایا تھا:
اس وقت ہماری حقیقی ضرورت یہ ہے کہ وہ سارانظامِ زندگی تبدیل کیا جائے، جو انگریز نے سرمایہ داری، استعماریت اور مادہ پرستی کی بنیاد پر قائم کیا تھا اور جو آج بھی جوں کا توں ہمارے ملک پر قائم ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، کوئی تکلیف، کوئی شکایت اور کوئی خرابی کُلی طور پر رفع ہونا ممکن نہیں ہے۔ خرابیوں کا اصل علاج یہ ہے کہ سارا نظام اپنی نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں کے ساتھ بدلا جائے اور اس کو اسلامی، اخلاقی و نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جائے، جو اجتماعی انصاف کی ضامن ہوں۔ جب نظامِ زندگی بدلے گا تو عدل و انصاف خود قائم ہوجائے گا اور لوگوں کی مشکلات اور شکایات آپ سے آپ دُور ہوجائیں گی۔
اجتماع میں شرکت اور اجتماع کی تمام تر کارروائی اسی فرسودہ نظامِ کار کو بدلنے کی تمہید ہے۔ جب کہ اجتماع کے بعد کارکنوں اور شرکائے اجتماع کی اپنے اپنے مقامات پر واپسی ، ان شاء اللہ نظام کو بدلنے کی واضح حکمت عملی سے آگاہی اور جذبہ و تحرک کی سرشاری کا عنوان بنے گی۔