نومبر ۲۰۲۶

فہرست مضامین

بے روزگاری، انسانی سمگلنگ اور معاشرتی انتشار

سلیم منصور خالد | نومبر ۲۰۲۶ | اشارات

Responsive image Responsive image

کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو وطن عزیز میں شور اٹھتا اور کہرام میں بدل جاتا ہے۔ لیکن زیادہ سے زیادہ تین روز گزرنے کے بعد ہم سب کچھ بھول بھلا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے اس غیر صحت مند رویے نے پاکستانی معاشرے کو ایک رِستا ہوا پھوڑا بنا دیا ہے،جو مسلسل ناسور بنتا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک طالبہ کی خودکشی اور بیرون ملک انسانی سمگلنگ سے وابستہ ایک فرد کے قبیح جرم نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، لیکن پھر سب کچھ معمول پر آگیا اور ہمارا معاشرہ حسب ِ سابق اپنے بے سمت سفر پر گامزن ہو گیا۔

انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جانے کا یہ المیہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ، باعث ِ شرم اور اضطراب کا موضوع بننا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں بے مقصد اور بے ہنگم نظامِ تعلیم اور خاص طور پر معاشی منصوبہ بندی کے فقدان، اور انسانی اخلاق و تہذیب کی تعمیر کے افلاس نے نچلے اور متوسط طبقے کی معاشی زندگی کا رہا سہا ڈھانچا تباہ کر دیا ہے۔ سرمایہ کاری، ہنرمندی اور تخلیقی صلاحیت و ذہانت کے قحط نے قومی وجود کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔ نوجوانوں بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری نے معاشرے کو دوزخ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتِ حال میں نوجوانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر اور باعزّت زندگی گزارنے کے امکانات محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران قانونی طریقے سے  ۱۸لاکھ ۷۱ہزار تعلیم یافتہ افراد جن میں ہنر مند، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی سپیشلسٹ سمیت اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے نوجوان اپنا ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جاچکے ہیں۔

ان حالات میں ہماری نئی نسل کا ایک بڑا حصہ انسانی سمگلروں کے لیے ترنوالہ بنتا چلاجارہا ہے۔ دوسری طرف یہ منشیات فروشوں کا آسان ہدف ہے۔ گھپ اندھیرے کو دیکھ کر لوگ مایوسی کی دلدل میں اُترتے اور اپنی جان کے دشمن بنتے چلےجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض کے لیے خودکشی اس اندھی گلی کا آخری موڑ بن جاتی ہے۔ بے مقصدیت کے شکار نوجوانوں کا ایک سیلاب ہے، جو مسلسل اسی تباہ کن سمت میں بہا چلا جارہا ہے۔ حکومت، قومی قیادتیں، علمائے کرام اور اہل دانش اس عذاب کی یلغار سے نہ صرف غافل دکھائی دیتے ہیں، بلکہ ان کا طرزِ عمل ایک سنگدلانہ لاتعلقی کا مظہر ہے۔ ادھر معاشرے کی رگوں میں زہر اُتر رہا ہے، نسل نو کا مستقبل دائو پر لگا ہے، اور دوسری طرف راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

ایک زمانے میں لوگ زندگی کی تلخیوں اور اُلجھنوں سے فرار کے لیے میلوں ٹھیلوں اور تاش کے پتوں، بے مقصد گپ شپ کی محفلوں میں عافیت تلاش کرتے تھے۔ پھر ان کی جگہ ریڈیو، سینماگھروں اور ٹیلی ویژن نے لے لی۔ اب انٹرنیٹ نے ہر ہاتھ میں ایک چلتا پھرتا جیبی سینما تھما دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے بظاہر فرد کو اپنی پسند اور اختیار کی دُنیا عطا کی ہے، مگر اس دُنیا کا شور، اس کی بے انتہا کشش رفتہ رفتہ انسان کی توجہ، فکر، ارادے اور خواب تک کو اپنی گرفت میں لیتی جارہی ہے، اور آزاد نظر آنے والا انسان اسکرین، بٹن اور ریل کا غلام ہے، اکیلا اور بے بس غلام!

نگارخانے کی دُنیا میں گھٹن محسوس کرنے والے جب اس کی قید سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، تو ان کے سامنے اُمید، مقصد اور مثبت مصروفیت کے راستے کم ہی کھلے نظر آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں انسانی اسمگلر انھیں اپنے پُرکشش دامِ فریب میں پھنسا لیتے ہیں، منشیات فروش ان کی بے سمتی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، اور مایوسی کے گہرے، اندھے کنویں بعض کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

یہ صورتِ حال محض افسوس کرنے یا چند رسمی بیانات دینے کی نہیں، سرپکڑ کر سوچنے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب ہمارے عزیزاَزجان نوجوانوں کے خواب لُٹ رہے ہوں، ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہوں، اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہوں، تو حکومت، قومی قیادت، دینی راہ نما اور اہل دانش کب تک محض تماشا دیکھنے کے بجائے اس سیلاب کا رُخ موڑنے، انھیں زندگی کا مقصد دینے، اور ان کے لیے ایمان، اخلاق، اُمید، روزگار اور بامعنی اجتماعی قرار کے راستے کھولنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے؟

اس المیے کے تین عملی مظاہر دیکھیے:

۱- انسانی سمگلنگ: خوابوں سے بھری آنکھیں، سمندروں کی نذر: غیر قانونی طریقوں سے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی ہلاکتیں اس المیے کا ایک ہول ناک منظر ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۲۳ء کے دوران ۲۰۷ پاکستانی نوجوان یورپی سمندروں میں ڈوب کر ہلاک ہوئے، جب کہ ۲۰۲۴ء میں ۲۵، ۲۰۲۵ء میں ۵۸ اور ۲۰۲۶ء میں ۴۷ نوجوانوں کی کشتیاں سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئیں۔

یہ اعداد و شمار اس المیے کی صرف ایک جہت سامنے لاتے ہیں۔ مختلف ملکوں کی سرحدوں پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ بتائی جاتی ہے، مگر ایسے واقعات کا مکمل احاطہ ہمارے سرکاری ریکارڈ میں نہیں ہوتا۔ البتہ ان کے لواحقین کے دلوں میں اٹھنے والی فریادیں کسی سرکاری اندراج کی محتاج نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، بیرونِ ملک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور بالآخر ملک بدر ہو کر واپس آنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ اپریل ۲۰۱۹ء میں رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق،  صرف ۲۰۱۸ء کے دوران مختلف ملکوں نے ۸۰ ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا تھا۔

انسانی سمگلنگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اور اس جرم میں سزا پانے والوں کی تعداد کے درمیان فرق بھی ہماری قانون نافذ کرنے والی مشینری کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، ۲۰۲۱ء میں۴۹۸،۲۰۲۲ءمیں ۱۹۳۶، ۲۰۲۳ء میں ۱۵۸۸ اور۲۰۲۴ء میں ۱۶۰۷  مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے مقابلے میں سزا پانے والوں کی تعداد ۲۰۲۲ء میں ۱۰۵، ۲۰۲۳ء میں ۳۵۱ اور ۲۰۲۴ء میں ۴۹۵ بتائی گئی۔

یہ اعداد و شمار اپنی جگہ، لیکن اصل صورتِ حال یقینی طور پر اس سے کہیں زیادہ سنگین تر ہے۔ پھر بہت سے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ یہ سوچ کر پولیس سے رجوع کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کہ جو نقصان ہونا تھا، وہ تو ہو چکا؛ اب شکایت درج کرانے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے اہل کاروں کی مبینہ بھتہ خوری اور ہراسانی کا ایک نیا اور کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے۔ یوں جرم کا شکار ہونے والے بہت سے افراد انصاف کے حصول سے بھی محروم رہتے ہیں اور مجرموں کے خلاف مقدمات درج نہ ہونے کے باعث اصل صورتِ حال سرکاری ریکارڈ میں بھی جگہ نہیں پاتی۔

۲- منشیات: زہر بانٹنے والے کتنے، گرفت میں آنے والے کتنے؟  منشیات کا زہر ہماری نوجوان نسل کو کس تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، اس کا اندازہ حکومتی اعداد و شمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، جولائی ۲۰۲۲ء سے جون ۲۰۲۳ء کے دوران۱۶۵۲ منشیات فروش گرفتار کیے گئے، جب کہ ستمبر ۲۰۲۳ء سے دسمبر ۲۰۲۴ء کے عرصے میں۲۳۵۰ منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی اطلاع دی گئی۔ تاہم، ان گرفتار شدگان میں سے کتنے افراد کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں؟ اس بارے میں کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔ پارلیمنٹ میں بھی ایسا تحریری جواب دستیاب نہیں ہوا ، جس سے معلوم ہو سکے کہ ان ملزمان میں سے کتنے سزا یافتہ قرار پائے۔

اینٹی نارکاٹکس فورس (ANF) سے متعلق اعداد و شمار کے حوالے سے سینیٹر ثمینہ ممتاز کی زیرِ صدارت سینیٹ کے اجلاس میں بتایا گیا: مئی ۲۰۲۵ء میں دستیاب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، تمباکو اور شراب کے علاوہ دیگر منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد ایک کروڑ ۷۰ لاکھ تھی۔ اگر یہ تعداد درست ہے تو سوال محض چند ہزار گرفتاریوں یا چند سو افراد کو سزاؤں کا نہیں، بلکہ ایک وسیع اور منظم مجرمانہ نیٹ ورک کا ہے۔ آخر اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو منشیات فراہم کرنے والے مجرموں کی تعداد اتنی محدود کیوں ہے؟ کیا مسئلہ محض قومی اداروں کی استعداد کا ہے، یا اس کے پیچھے نگرانی، تفتیش، استغاثہ اور احتساب کی گہری کمزوریاں بھی کارفرما ہیں؟

۳- خودکشیاں: مایوسی کی آخری منزل : پاکستان میں خودکشیوں کے واقعات کا کوئی جامع اور قابلِ اعتماد قومی ریکارڈ دستیاب نہ ہونا بذاتِ خود ایک تشویش ناک امر ہے۔ تاہم، جنوری ۲۰۲۶ء میں ’آج‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے سالانہ اعداد و شمار جمع کرتے ہوئے بتایا کہ ’’صرف لاہور شہر میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۱۱۶ ؍افراد نے خودکشی کی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں ۸۱ مرد، ۳۳ خواتین اور ۲ خواجہ سرا شامل تھے۔صرف ایک شہر کے یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے میں پھیلتی ہوئی مایوسی اور ذہنی شکستگی کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ 

ایک معاشرے میں جب اُمید کے دروازے بند ہوتے محسوس ہوں، روزگار کے امکانات معدوم ہو جائیں اور مستقبل تاریک دکھائی دینے لگے، تو بعض افراد اس قدر بے بس ہوجاتے ہیں کہ زندگی ہی سے دست بردار ہونے کا انتہائی قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔ خودکشی کو محض ایک فرد کا انفرادی فیصلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پس منظر میں معاشی دباؤ، سماجی تنہائی، نفسیاتی اذیت اور مستقبل سے وابستہ امیدوں کا ٹوٹ جانا بھی اہم عوامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ خودکشیوں کے اسباب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے، قابلِ اعتماد قومی اعداد و شمار مرتب کیے جائیں، اور ذہنی صحت، معاشی تحفظ اور سماجی معاونت کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔

  •   انسانی سمگلنگ کے سوداگر  : مایوس، بے روزگار اور بہتر مستقبل کے خواہش مند نوجوانوں کو انسانی سمگلر اپنے جال میں پھنسانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کرتے ہیں۔ کہیں بیرونِ ملک پُرکشش ملازمتوں کی پیش کش کی جاتی ہے، کہیں جعلی بھرتی ایجنسیوں کے ذریعے روشن مستقبل کے خواب دکھائے جاتے ہیں، اور کہیں ہنرمندی کی اعلیٰ تربیت اور غیرمعمولی آمدنی کے لالچ میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ یوں ان نوجوانوں کی مجبوریوں اور اُمیدوں کو کاروبار کا ایندھن بنا کر ان سے بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو کسی کے ہاتھ میں قرضوں کا بوجھ ہوتا ہے، کوئی اس شرمندگی میں مر مر کے جیتا اور جی جی کے مرتا ہے کہ اس نے ماں باپ کی جمع شدہ پونجی پھونک ڈالی اور بہن بھائیوں کا حق مار کر تماشا بنا ہوا ہے ، کسی کے حصے میں قید و بند کی صعوبتیں آتی ہیں اور کوئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

اس جرم کا ایک اور خوف ناک پہلو پاکستانی لڑکیوں اور خواتین کی جنسی سمگلنگ بھی ہے۔ شادی یا نکاح کا جھانسہ دے کر خواتین کو بیرونِ ملک لے جانے اور وہاں استحصال کا شکار بنانے کے واقعات بھی سرکاری سطح پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ بعض واقعات میں افغانستان، ایران اور چین سمیت مختلف ملکوں میں خواتین کو لے جا کر قحبہ گری پر مجبور کرنے یا فروخت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہ محض انسانی حقوق کی پامالی نہیں، بلکہ انسانی وقار، خاندانی اعتماد اور معاشرتی تحفظ پر ایک بڑا ہی سنگین حملہ ہے۔

خواتین میں تعلیم کے فروغ نے، ان کے اندر معاشی خودمختاری کا احساس اور اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سنوارنے کی خواہش اور اُمنگ پیدا کی ہے۔ یہ بظاہر ایک مثبت تبدیلی ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب خواتین عملی اور خاص طور پہ پروفیشنل زندگی یا جاب مارکیٹ میں قدم رکھنا چاہتی ہیں ، تو انھیں بھی روزگار کی قلت، محدود مواقع اور معاشرتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بے روزگاری کا اژدھا جب مردوں کی معاشی زندگی کو نگل رہا ہو، تو خواتین کے لیے باعزت اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

یوں بہتر مستقبل کی خواہش رکھنے والی بعض خواتین، جرائم پیشہ عناصر کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ یورپ میں خواتین کے لیے وظائف اور مواقع زیادہ ہیں، بیرونِ ملک انھیں جدید ترین فنی تربیت ملے گی، اور وہ واپسی پر یا وہیں رہتے ہوئے لاکھوں روپے کما سکیں گی۔ ان پُرکشش دعووں کی آڑ میں جعلی ملازمتوں اور بھرتی کے نام پر انھیں پھنسایا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں یہی سلسلہ انسانی سمگلنگ اور جنسی استحصال تک جا پہنچتا ہے۔

ان واقعات کا انجام اکثر نہایت کرب ناک ہوتا ہے۔ متاثرہ خواتین کی واپسی، بحالی اور انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے سماجی ماحول میں بدنامی کے خوف سے بعض خاندان خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ والدین اپنی بیٹیوں کے دکھ پر رو پیٹ کر رہ جاتے ہیں، اور قانونی چارہ جوئی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً مجرموں کو نہ صرف سزا سے بچ نکلنے کا موقع ملتا ہے، بلکہ ان کے جرائم کا حقیقی حجم بھی چھپا رہ جاتا ہے۔

  •  پنجاب کے اضلاع سے یورپ کے ساحلوں تک :انسانی سمگلنگ کے متاثرین پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن دستیاب اطلاعات کے مطابق پنجاب کے نوجوان نسبتاً زیادہ تعداد میں اس جال میں پھنستے ہیں۔ بالخصوص گجرات، منڈی بہاؤالدین، وزیرآباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے انسانی سمگلنگ اور منشیات سے متعلق جرائم کا شکار ہونے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

ان نوجوانوں کو بعض اوقات بلوچستان اور افغانستان کے راستوں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرائی جاتی ہے، اور بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ، یونان، اٹلی، اسپین اور پرتگال جیسے ملکوں تک پہنچنے کے خواب دکھا کر ان نوجوانوں کو خطرناک راستوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سمگلر، ان کی مجبوریوں سے دولت کماتے ہیں، جب کہ ان کے خواب، گھر بار اور اکثر اوقات زندگیاں تک داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ اس خونیں کاروبار کی جڑیں محض انفرادی دھوکے بازی تک محدود نہیں ہیں ۔ اس کے پیچھے بے روزگاری، معاشی ناہمواری، روزگار کے محدود مواقع، غیر مؤثر نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور کارکردگی جیسے عوامل بھی کارفرما ہیں۔ جب تک ان بنیادی اسباب کا سنجیدہ جائزہ نہیں لیا جاتا، محض چند گرفتاریوں یا وقتی کارروائیوں سے اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔

  • نوجوانوں کی منزل بیرونِ ملک کیوں؟:آج کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طالب علم سے بات کیجیے یا کسی گلی محلے کے نوجوان سے اس کے مستقبل کے بارے میں پوچھیے، تو ایک بڑی تعداد کی نگاہیں بیرونِ ملک روزگار اور بہتر زندگی کے امکانات پر جمی دکھائی دیتی ہیں۔انھیں یقین دلایا جاتا ہے کہ وہاں پہنچتے ہی ان کی زندگی بدل جائے گی۔ انھی خوابوں اور امیدوں کے درمیان انسانی سمگلروں کے لیے اپنا کاروبار پھیلانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ ان کی چرب زبانی، جعلی دستاویزات، فرضی ملازمتوں اور پُرکشش وعدوں کا مقابلہ وہ نوجوان کیسے کریں، جن کے پاس نہ مستند معلومات ہیں، نہ قانونی رہنمائی، اور نہ اپنے مستقبل کے لیے اپنے ملک میں کوئی قابلِ اعتماد راستہ دکھائی دیتا ہے؟

یہاں ریاست کی ذمہ داری محض سرحدوں کی نگرانی یا کبھی کبھار چھاپے مارنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اسے نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بیرونِ ملک ملازمتوں کے نظام کو شفاف بنانے، جعلی بھرتی ایجنسیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے، متاثرین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے، اور انسانی سمگلروں کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے مسلسل اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔

لیکن ریاستی کارکردگی دیکھ کر یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ وہ نگرانی، گرفت، قانون سازی، عوامی آگاہی اور مجرموں کے نیٹ ورک توڑنے کے محاذوں پر مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف نوجوان اپنے ہی ملک میں مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی اسی مایوسی کو منافع بخش کاروبار میں بدلنے والے عناصر بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ المیہ محض چند نوجوانوں کے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے یا سمندر میں ڈوب مرنے کا نام نہیں، یہ اس قومی صورتِ حال کا نوحہ ہے جس میں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر اپنے وطن میں تلاش کرنے کے بجائے اجنبی ملکوں کے خطرناک راستوں پر جانیں داؤ پر لگانے پر آمادہ ہورہے ہیں۔ 

انسانی سمگلنگ کا انسداد: ریاستی ذمہ داری اور معاشرتی کردار

اس انسانی سمگلنگ کے جرم میں محض جرائم پیشہ افراد کے منظم گروہ ہی ملوث نہیں، بلکہ ان سفاک عناصر کو راستہ دکھانے، راہ ہموار کرنے اور ان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں بعض سرکاری اہل کاروں کا کردار بھی ایک کھلی حقیقت ہے۔ جرائم پیشہ گروہوں اور بدعنوان سرکاری اہل کاروں کی یہ ملی بھگت صورتِ حال کو مزید سنگین اور تشویش ناک بنا دیتی ہے۔ اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے ریاستی اور معاشرتی سطح پر درجِ ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

۱- قانون پر مؤثر عمل درآمد اور سزاؤں کا یقینی نفاذ :حکومت نے ۲۰۲۵ء میں انسدادِ انسانی سمگلنگ ایکٹ ۲۰۱۸ء (Prevention of Trafficking in Persons Act - PTPA ) میں ترمیم کرتے ہوئے سزائے قید کی مدت میں اضافہ تجویز کیا، لیکن قانون پر غیرمؤثر عمل درآمد کے باعث صورتِ حال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ ضرورت ہے کہ حکومتی سطح پر قانون میں درج جرائم کی مؤثر تحقیقات، مقدمات کا درست اندراج، اور عدالتوں میں ان کی بروقت اور ذمہ دارانہ پیروی یقینی بنائی جائے، تاکہ مجرموں کو قانون کے مطابق سخت اور عبرت ناک سزائیں مل سکیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس، متعلقہ خفیہ اداروں، عدالتی اہل کاروں اور استغاثہ کے عملے کو قانون اور تفتیش کی خصوصی تربیت دی جائے۔

۲- متاثرین اور گواہوں کا تحفظ : انسانی سمگلنگ کے مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کا تحفظ انتہائی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر خوف، دباؤ، دھمکیوں اور بااثر مجرموں کے اثر و رسوخ کے باعث متاثرین اور گواہان تفتیش اور عدالت سے تعاون سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فوجداری مقدمات میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پروگرام نافذ کیے جائیں۔ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ہر مرحلے پر متاثرین کی عزّت، سلامتی اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

۳- مجرموں، سہولت کاروں اور بااثر سرپرستوں کو بے نقاب کرنا:اس گھناؤنے جرم میں سزا یافتہ انسانی سمگلروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرکاری سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسی طرح بااثر مقامی اشرافیہ میں شامل ایسے سیاست دانوں، جرائم پیشہ عناصر، بعض پیرانِ طریقت اور دولت مند افراد کی نشان دہی بھی ضروری ہے، جو اس کالے کاروبار کی سرپرستی یا معاونت میں ملوث ہوں۔ ان تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور ثابت شدہ جرائم کو معاشرے کے سامنے لایا جائے، تاکہ اثر و رسوخ اور دولت کسی مجرم کے لیے ڈھال نہ بن سکیں۔

۴- عوامی آگاہی اور معاشرتی مزاحمت: شہروں اور دیہات میں انسانی سمگلنگ کی مختلف صورتوں، اس کے خطرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیوں کے بارے میں عوامی شعور بیدار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے، تاکہ نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو انسانی سمگلروں کے فریب، جھوٹے وعدوں اور پُرخطر راستوں سے خبردار کیا جاسکے۔

۵- نوجوانوں میں قومی ذمہ داری اور تعمیرِ وطن کا شعور :تعلیمی اداروں میں دینی و عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اندر یہ شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ بیرونی دنیا سے علم، تجربہ اور مہارت حاصل کرنا یقیناً مفید ہے، لیکن اپنی قوم کی تہذیبی، سماجی اور معاشی تعمیر کی بنیادی ذمہ داری اپنے ہی معاشرے میں رہ کر ادا ہو سکتی ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے جائز مواقع سے فائدہ اٹھانے اور غیر قانونی ذرائع سے ملک چھوڑنے کی مجبوری میں فرق واضح کیا جائے۔ نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کی صلاحیتیں اپنے ملک میں بھی بامقصد زندگی، قومی ترقی اور معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس کے لیے ریاست کو بھی تعلیم، روزگار، ہنر مندی اور باعزت مستقبل کے حقیقی مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔

خودکشی، منشیات اور فرار کی نفسیات:اسباب اور عوامل

اب تک کی گفتگو میں تصویر کے ایک پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مایوسی، بے مقصدیت اور فکر و عمل کا انتشار ہمارے معاشرے میں مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں خودکشی،  منشیات کی لت اور جان خطرے میں ڈال کر بیرونِ ملک جانے کی کوششوں کو محض دینی کمزوری، اخلاقی انحطاط یا معاشی بدحالی کا نتیجہ قرار دینا اس مسئلے کی گہرائی اور پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس المیے کے پس منظر میں نفسیاتی اذیت، خاندانی تنازعات، معاشی مشکلات، سماجی تنہائی اور مستقبل سے مایوسی جیسے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کے اثرات بھی ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اس کے روحانی، نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط ہیں۔

۱-روحانی اور معنوی اسباب

  •  مقصدِ زندگی کا بحران: جب انسان زندگی کو بے معنی سمجھنے لگے، اپنی مشکلات کو ناقابلِ برداشت محسوس کرے اور مستقبل میں بہتری کی کوئی صورت دکھائی نہ دے تو اس کی امید کمزور پڑ سکتی ہے۔ اسلام، انسان کو زندگی کا مقصد، ذمہ داری کا احساس اور مشکلات میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید یاد دلاتا ہے کہ انسان بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا (المؤمنون ۲۳: ۱۱۵)۔ تاہم، شدید نفسیاتی اذیت میں مبتلا شخص کی کیفیت کو محض دینی و مذہبی کمزوری قرار دینا درست نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اسے زندگی کی معنویت، امید اور عملی سہارے میسر آئیں۔
  • اُمید، صبر اور توکّل: قرآن مجید کا واضح پیغام ہے: لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ  ط (الزمر ۳۹: ۵۳)’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘ ۔ لیکن امید اور توکّل کی تعلیم، محض وعظ تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ پریشان حال انسان کی بات سننا، اس کے مسائل میں تعاون کرنا، اور ضرورت کے وقت اسے مناسب علاج اور مدد فراہم کرنا بھی اسی انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔
  • مذہبی احساسِ جرم اور سماجی مذمت: بعض اوقات ذہنی اذیت میں مبتلا افراد کو کمزور ایمان، ناشکرے پن یا گناہ گار ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے، تو وہ اپنی کیفیت چھپانے اور مدد مانگنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ دینی رہنمائی کا مقصد، ملامت کے ذریعے انسان کو مزید تنہا کرنا نہیں، بلکہ اسے اللہ کی رحمت، توبہ، امید اور انسانی تعاون سے جوڑنا ہے۔ قرآن مجید اللہ کی رحمت سے نااُمیدی کے بجائے اس کی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے (الزمر ۳۹: ۵۳)۔
  • روحانی تعلق اور سماجی وابستگی: خاندان، دوستوں، مسجد اور قابلِ اعتماد سماجی حلقوں سے تعلق انسان کو تنہائی میں سہارا دے سکتا ہے۔ تاہم، محض عبادات اور مذہبی اجتماعات میں شرکت کو ، معاشی پریشانی اور نفسیاتی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ روحانی تقویت کو ہمدردانہ گفتگو، عملی تعاون اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ علاج و مدد کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔

۲-مادی، معاشی اور نفسیاتی اسباب

پاکستان میں خودکشی، منشیات کے استعمال اور غیر قانونی ترک وطن کے رجحانات کا درست اندازہ لگانے میں اعداد و شمار کی کمی اور نامکمل رپورٹنگ کے باوجود مختلف مطالعات اور معاشرتی مشاہدات سے چند اہم عوامل کی نشان دہی ہوتی ہے:

  • غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ: روزگار نہ ملنا یا ملازمت چھن جانے کا خوف، مہنگائی، قرضوں کا بوجھ اور گھریلو اخراجات پورے نہ کر پانا انسان کو شدید دباؤ میں مبتلا کر سکتا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات اٹھانے میں ناکامی، بیمار والدین کی مدد کرنے میں بے بسی، اور خاندان کی کفالت میں ناکامی کا احساس اس دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ دوسروں کے مقابلے میں محرومی اور معاشرتی تحقیر کا خوف بھی مایوسی میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ عوامل صرف مالی مسائل پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود اعتمادی، خاندانی تعلقات اور مستقبل سے وابستہ اُمید کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، خودکشی یا نشے کی لازمی وجہ غربت نہیں ہوتی۔ یہ خطرہ اس وقت بڑھ سکتا ہے جب معاشی دباؤ کے ساتھ نفسیاتی اذیت، تنہائی اور مدد کی عدم دستیابی بھی شامل ہو جائیں۔
  • ذہنی صحت کی مشکلات اور علاج تک رسائی: افسردگی، اضطراب، صدمات کے اثرات اور دیگر ذہنی عوارض بعض حالات میں خودکشی کے خطرے سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن ذہنی صحت کی ہر مشکل خودکشی کا سبب نہیں بنتی۔ ذہنی صحت کے حوالے سے کئی رکاوٹیں موجود ہیں: نفسیاتی علاج کو پاگل پن سے منسوب کرنا، ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے میں شرمندگی محسوس کرنا، علاج کے اخراجات، سہولتوں کی کمی اور ذہنی اذیت کو کم ہمتی یا ایمان کی کمزوری سمجھنا۔ نتیجتاً، بعض افراد شدید ذہنی دباؤ کے باوجود بروقت تشخیص اور مناسب مدد سے محروم رہ جاتے ہیں۔
  • خاندانی تنازعات اور گھریلو تشدد: خاندان، انسانی تہذیب کا ایک بنیادی اور قیمتی ادارہ ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خاندان عموماً مدد، تحفظ اور وابستگی کا اہم ذریعہ بنتا ہے، لیکن بعض حالات میں یہی تعلقات شدید ذہنی دباؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ میاں بیوی کے مسلسل تنازعات، ازدواجی تعلقات کا ٹوٹنا، گھریلو تشدد، تذلیل، جبری شادی، اولاد سے  غیرمعمولی توقعات اور والدین کا مسلسل دباؤ اس کی مثالیں ہیں۔ بعض خاندانوں میں روایتی وقار مجروح ہونے کے خوف سے مسائل چھپائے جاتے ہیں۔ اس رویے کے باعث متاثرہ افراد مدد حاصل کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔ خاندانی نظام کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے، جب اس میں محبت، عدل، احترام اور کمزور افراد کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
  • تعلیمی دباؤ اور مستقبل کی بے یقینی: نوجوانوں کو امتحانات، داخلوں، ملازمت اور مستقبل کے غیر یقینی حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ خاندان اور دوستوں میں دوسروں کی کامیابی سے مسلسل موازنہ بھی احساسِ محرومی کو بڑھا سکتا ہے۔ جب نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق مواقع نہ پائیں یا ناکامی کو اپنی پوری زندگی کی ناکامی سمجھنے لگیں تو مایوسی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس صورتِ حال کا حل محض نصیحت نہیں، بلکہ تعلیمی رہنمائی، ہنر مندی، روزگار کے مواقع، ناکامی سے نمٹنے کی تربیت اور نوجوانوں کے لیے امید افزا ماحول پیدا کرنا بھی لازم ہے۔
  • سماجی تنہائی اور انسانی تعلقات کی کمزوری: بسااوقات انسان کے پاس گھر، خاندان اور ملازمت تو ہوتی ہے، لیکن اپنی پریشانی بیان کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شخص نہیں ہوتا۔ مشترکہ خاندانی نظام کا ٹوٹنا، شہری زندگی کا دباؤ، بزرگوں کی تنہائی، کمزور سماجی روابط اور مشکلات دوسروں سے چھپانے کی عادت اس کیفیت کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں انسان بظاہر معمول کی زندگی گزارتا ہے، لیکن اندر ہی اندر شدید اضطراب اور تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ خاندان، تعلیمی اداروں، مساجد اور معاشرتی تنظیموں کو ایسے ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرنا چاہیے کہ جہاں پریشان حال افراد بلاخوف اپنی بات کہہ سکیں اور بروقت مدد حاصل کر سکیں۔

قرآن مجید، انسان کی عزت و حرمت اور زندگی کی قدر کو بنیادی اہمیت دیتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ  اٰدَمَ (بنی اسرائیل ۱۷: ۷۰) ’اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزّت بخشی‘۔ یہ تکریم انسان کی جان، عزت، حقوق اور مشکلات کے احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ لہٰذا، خودکشی، منشیات کی لت اور خطرناک راستوں سے بیرونِ ملک جانے کے رجحانات کا مقابلہ صرف وعظ و نصیحت، قانونی کارروائی یا معاشی امداد سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے روحانی رہنمائی، ذہنی صحت کی سہولتوں، خاندانی اصلاح، معاشی مواقع، نوجوانوں کی تربیت اور مؤثر سماجی تعاون کو یکجا کرنا ہوگا۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ مایوس انسان کو محض اس کی کمزوری کا احساس نہ دلایا جائے، بلکہ اسے اُمید، عزت، علاج، روزگار اور بامقصد زندگی کی طرف واپس آنے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ کام ایک ذمہ دار ریاست اور ہمدرد معاشرے کا امتحان ہے۔

۳- ایک بڑا بنیادی معاشرتی مسئلہ

 یہ سوال کہ ہم اس پریشان انسان اور خاص طور پر نوجوان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ یہ پہلو سب کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ کسی شخص کی خودکشی، نشے یا فرار کی اندھیری راہوں پر چلنے تک کے مرحلے میں اس کی ذاتی مشکلات کے علاوہ اس ماحول کا بھی کردار ہو سکتا ہے، جس میں وہ اپنی مشکلات کے دوران سامنا کرتے کرتے ٹوٹ جاتا ہے:

  • اس معاشرتی رویے کا ممکنہ اثر: ناکامی پر تضحیک: احساسِ کمتری اور شرمندگی۔ بدنامی کا خوف، ذہنی پریشانی کو کمزوری کہنا، مدد لینے سے گریز کرنا، خاندان کی عزّت کو فرد کی سلامتی پر ترجیح دینا، تشدد یا بحران چھپانا، نوجوانوں سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنا۔ پھر مسلسل ذہنی دباؤ بڑھاتے ہوئے اُس بے روزگار شخص کو حقیر سمجھنا۔ خود اعتمادی میں کمی کا طعنہ دینا ، قرض دار یا غریب شخص کو ملامت کرنا اور اس پر تنہائی اور بے بسی وغیرہ، اس کے نتائج ہیں۔

۴- تدارک: دینی، معاشرتی اور ریاستی ذمہ داریاں

  • دینی قیادت اور ادارے: خطبات، دروس اور دینی تربیت میں امید، اللہ کی رحمت، ہمدردی اور پریشان حال انسان کی مدد کو نمایاں کیا جائے۔ ذہنی بحران میں مبتلا کسی شخص کو محض ملامت نہ کی جائے، اسے محفوظ ماحول اور علاج تک رسائی دی جائے۔
  • خاندان اور تعلیمی ادارے: والدین اور اساتذہ، نوجوانوں کی بات سنیں، غیرحقیقی توقعات کم کریں، تشدد اور تذلیل کی روک تھام، اور ذہنی پریشانی کی ابتدائی علامات پہچاننے کی تربیت حاصل کریں، اور یہی تربیت آگے دیں۔ یہ صدقۂ جاریہ ہے، جو ایک مایوس فرد کو زندگی جینے کا راستہ دکھا سکتا ہے۔
  • صحت کا نظام: بنیادی مراکز صحت، ہسپتالوں اور کمیونٹی سطح پر نفسیاتی مشاورت، بروقت تشخیص، کم خرچ علاج اور بحران کے بعد مسلسل رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔
  •  ریاست اور معاشی پالیسی: روزگار، سماجی تحفظ، قرض اور مالی بحران میں مشاورت، گھریلو تشدد سے تحفظ اور ذہنی صحت کی خدمات میں سرمایہ کاری کو ان صدمات کی روک تھام کی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
  •  اسلامی فکر کی روشنی میں تجزیہ: اس طرح ہمارے سامنے یہ نکتہ آتا ہے کہ اگر آخرت کی کامیابی کا تصور محض دُنیاوی زندگی کی مشکلات، معاشی محرومی اور سماجی ناانصافی برداشت کرنے کا جواز بن جائے، تو ایسے ناقص تصور کی عملی تعبیر پر بڑے پیمانے پر نظرثانی ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات میں صبر اور توکّل کے ساتھ انسانی جان کی حرمت، ذاتی آسودگی اور دوسروں کی مدد کا درس عام کیا جائے۔ ضرورت مند کی مدد، معاشی ذمہ داری اور مظلوم کی حمایت جس میں اہم ہیں۔ لہٰذا، سماجی سطح پر پھیلتی بے چینی کے  چلن کی روک تھام کو صرف انفرادی تقویٰ یا مذہبی وعظ تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر ضروری ہے، جہاں انسان کو معاشی تحفظ، خاندانی احترام، شخصی توقیر، ذہنی صحت کی سہولت اور اپنی تکلیف بیان کرنے کے مواقع میسر ہوں۔

اصل سوال یہ ہے: کیا ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں مشکلات سے دوچار انسان کو زندگی کی طرف واپس آنے کے لیے امید، مدد اور عملی راستے مل سکیں؟ یا پھر اقتدار، اختیار، دولت اور مذہبی اجارہ داری انسانی زندگی سے دُور، بہت دُور محض تماشائی ہیں؟ 

 _______________