اگست ۲۰۲۶

فہرست مضامین

یومِ آزادی! ، چند سوال

سلیم منصور خالد | اگست ۲۰۲۶ | اشارات

Responsive image Responsive image

 

انسانی زندگی میں دن اور رات کے آنے جانے کا سفر جاری ہے۔ یہ سفر اَزل سے جاری خیروشر کی کش مکش کے بارے میں انسانوں کے رویے کی بنیاد پر ان کے آج اور مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔ اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی سال اور عشرے آتے ہیں اور ان کے حال ومستقبل پر گہرے نقوش چھوڑتے چلے جاتے ہیں۔ 

قومی دن یا یوم آزادی ایک علامت کے طور پر آزادی حاصل کرنے والے ملکوں میں ہرسال آتا ہے۔ اس کی حیثیت تشکر و اطمینان کے ساتھ گزرے وقتوں اور برسوں کے جائزے و تجزیے اور قومی آڈٹ کی ہوتی ہے اور ضرور ایسا ہی کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر پاکستان کے لیے تو یوم آزادی بڑی ذمہ داریوں کی یاددہانی اور تجدید عہد کا پیغام لے کر آتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ان ذمہ داریوں کے احساس اور سود و زیاں کی فکر کے بجائے، یہ یوم برقی قمقموں کی روشنیوں کی چکاچوند اور پرچم کی جھنڈیاں لہرانے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ بہت ہوا تو کہیں چند تقریریں ہو گئیں بلکہ اکثر تو راگ رنگ کی محفلیں جما لی جاتی ہیں اور قومی آڈٹ کا یہ موقع ضائع کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کچھ ایسے ہی المیے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کا تذکرہ اسی فرسودہ تاریخ نویسی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسا کہ پرانی تواریخ محض بادشاہوں کی شکستوں اور کامیابیوں کے تذکرے کی بازگشت سے آگے نہیں بڑھتیں۔ اُن گزرے زمانوں کی تواریخ میں عوام، عوام کے دُکھ درد، سماجی کرب، معاشی استحصال، ظالمانہ رواجی جبر کا کہیں ذکر نہیں ملتا، اور کہیں غلطی سے ایسی بات آ بھی جائے تو فوراً کسی شاہانہ کروفر کی گھن گرج میں وہ سب کچھ کانچ کی کرچیاں بن کر بکھر جاتا ہے۔

اگلے برس پاکستان کےقیام کو ۸۰ برس گزر جائیں گے۔ جن لوگوں نے اپنے ہوش میں پاکستان بنتے دیکھا، اُن کی تعداد اب ایک فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے، اور جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد پہلے پانچ برسوں میں آنکھ کھولی اُن کی بھی ایک بڑی تعداد موت کی وادیوں میں جا چکی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی تاریخ اور تاریخ کے تضادات کا مسئلہ انھوں نے کبھی بحث کا موضوع بنتے نہیں دیکھا۔ اُجڑ کر پاکستان آنے والے مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت کبھی پاکستان میں شامل علاقوں میں پہلے سے آباد ہم وطنوں کی یادداشت کا حصہ نہیں بنی۔ اسی طرح ہجرت کرکے آنے اور یہاں پہلے سے آباد ہم وطنوں کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی زندگی کے اتار چڑھائو بھی کبھی، کسی تحقیق و تجزیے کا عنوان نہیں بنے۔ اگر کبھی کسی نے اس معاملے کو چھیڑا تو اُس کا رویہ دوسرے ہم وطنوں کے خلاف شکایت اور اپنی قومیت یا برادری یا لسانی شناخت کی محض مظلومیت کے واویلے تک محدود رہا۔ اس طرح نہ یہاں پر آباد ہونے والوں اور ان کی نسلوں میں تشکر کا جذبہ پیدا ہوا، اور نہ یہاں پر پہلے سے آباد لوگوں اور ان کی نسلوں میں کبھی احساسِ تشکر جڑپکڑسکا۔  پاکستان بننے کے چندسال بعد ہی سے غلط ترجیحات اور ناقص پالیسیوں کے زیراثر محض: ’مرگئے، لُٹ گئے، اُجڑگئے‘ کی تکرار سنائی دینے لگی۔

اسی طرح ماضی کی فرسودہ تاریخ گوئی کی روایت کے مطابق پاکستان میں بھی یہ سوال اور جواب ازبر ہوتے چلے گئے ہیں کہ فلاں کے بعد فلاں حاکم بنا اور فلاں نے سازش اور جوڑ توڑ کر کے فلاں کو چلتا کیا۔ ان تذکروں کو بڑی کامیابی سے حکومت، صحافت اور درس گاہ نے قبول کرکے ’تاریخ پاکستان‘ کا نام دے دیا، حالانکہ یہ تاریخِ پاکستان نہیں تاریکیِ پاکستان کے مختلف موڑ تھے، جن میں نہ عوام کا رنج و کرب شامل تھا اور نہ ان کی حصہ داری کی کوئی ایک سطر موجود تھی۔

بلاشبہ پاکستان نے شدید ترین بحرانوں میں اور بدترین خطرات کے طوفانوں میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بانیانِ پاکستان نے بڑی جاں فشانی سے اور نہایت پُرخطر حالات میں ہاتھ پائوں مار کر راستہ بنایا اور تحفظِ وطن کی دیواریں بھی کھڑی کیں۔ لیکن کیا واقعی اس جان جوکھم کی کوئی ایک سطر یا اس جدوجہد کی کوئی کسک ہمارے طلبہ و طالبات اور آنے والی نسلوں کی روح کا حصہ بن سکی؟ یقینا ایسا نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ جملہ یاد رکھنے کے لیے کافی سمجھ لیا گیا کہ ’’فائل کے کاغذوں کو لگانے کے لیے کامن پِن نہیں تھے، جن کی جگہ کیکر کے کانٹوں سے کاغذوں کو نتھی کیا گیا‘‘۔ کیا واقعی یہ ایک جملہ اس عظیم چیلنج اور ہرکولین ٹاسک کی تصویر کشی کرنے کے لیے کافی ہے کہ جو تخلیق پاکستان کے وقت درپیش تھا؟ یقینا نہیں۔ تو پھر اُن عظیم جاں نثاروں اور گم نام محسنوں کا تذکرہ کیا ہوا کہ جنھوں نے سخت ترین ناسازگار حالات میں قومی وجود کی تشکیل کے لیے تنکا تنکا اکٹھا کیا، اور بے نمودونام رہ کر قومی تعمیروتشکیل میں کارنامے انجام دیتے ہوئے زندگی کی آخری سانس لی تھی۔

ہماری آنے والی نسلوں کو نہیں بتایا جاتا کہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۶ء تک اور پھر ۱۹۵۶ء سے ۱۹۷۳ء تک پاکستان کیوں بے دستور رہا؟ پھر ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۸ء تک اور ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک دستور کا کیا تماشا بنایا گیا؟ آج تک دستور کے ساتھ یہ تماشا ایک سلسلۂ جاریہ کی صورت میں مسلسل جاری ہے۔ پھر ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۶ء کے دوران دستور کو صرف غیر سیاسی عناصر نے ہی نہیں، بلکہ خود پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے سیاسی ہاتھوں کے ذریعے، اور صرف پاور انٹرسٹ گروپوں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ خود اعلیٰ عدالتی افسروں کے ذریعے بھی دستوری بے توقیری کا سیاہ پرچم بلند سے بلند تر کیا جارہا ہے، اور یہ کیوں کیا جارہا ہے؟ یہ نہیں بتایا جاتا۔

ہماری تاریخ میں بلاشبہ یہ ابواب قابلِ تشکر ہیںکہ ۱۹۶۵ء اور ۲۰۲۵ء کی جنگوں کے دوران پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے قابلِ فخر کارنامے انجام دیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ باب کیوں ہماری یادداشت سے گم کردیا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء کا المیہ کیوں اور کیسے رُونما ہوا؟ اس میں سیاست دانوں اور عسکری حاکموں کا ٹھیک ٹھیک کردار کیا تھا؟ اور ان میں ہماری صحافت نے کیسے اپنی چونچیں پروں کے نیچے دبائے رکھیں؟ یہ بھی نہیں بیان کیا جاتا کہ اگر مشرقی پاکستان میں سپلائی لائن چاروں طرف سے دشمن کے ہاتھوں گھر چکی تھی، تو یہاںمغربی پاکستان کا بارڈر کیوں وہ نتیجہ پیدا نہ کرسکا جو ’مشرقی پاکستان کا دفاع، مغربی پاکستان سے‘ کے فارمولے کے ذریعے قائم کیا گیا تھا؟ مشرقی پاکستان کا المیہ تو ایک طرف رہا خود مغربی محاذ پر کیوں قابلِ اطمینان صورت نہ سامنے آ سکی؟

دسمبر۱۹۷۰ء سے پہلے کے انتخابات میں بھی کیا واقعی عوام کا کچھ حصہ تھا؟ اور کیا وہ انتخابات عوام ہی کے لیے تھے یا پھر محض چند مقتدر گروہوں کے لیے راستہ بنانے کا وسیلہ تھے؟ اور یہ بھی کیوں نہیں پڑھایا اور بتایا جاتا کہ دسمبر۱۹۷۰ء کے دوران مشرقی پاکستان میں کیا واقعی شفاف اور ’فری اینڈ فیئر‘ انتخابات ہوئے تھے یا ’فری فار عوامی لیگ‘ انتخابات تھے؟ جن میں ۱۹۷۰ء کے پورے سال کے دوران سول انتظامیہ، عوامی لیگ کی مددگار رہی، جس کے نتیجے میں مدمقابل سیاسی پارٹیوں کے لیے انتخابی مہم چلانا عملاً ممنوع قرارپایا اور مارشل لا انتظامیہ بے دست و پا تماشائی بنی بیٹھی رہی۔ اس ماحول میں وہ الیکشن ہوا، جسے مخصوص طرزِ فکر کی دانش ’شفاف ترین الیکشن‘ کہتی ہے۔ کیا تاریخ کے نام پر یہ دھبہ دُھویا جاسکتا ہے؟ پھر ۱۹۷۰ء کے بعد سے اب تک کے انتخابات کی صحیح صورتِ حال اور قسم قسم کی انتخابی دھاندلی کا بیان کبھی ضبط تحریر میں آئے گا کہ جس سے واضح ہوکہ ان انتخابات میں عوام کا کوئی کردار تھا، یا سرےسے کوئی کردار تھا ہی نہیں؟

اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا یہ سوال بھی جواب مانگتا ہے: ’’پاکستان کا پاور سٹرکچر یا طاقت کا ہیکل کن ستونوں اور اداروں پر قائم ہے؟‘‘ کیا محض سول انتظامیہ اور افواج کے اعلیٰ افسران ہی مقتدرہ یا پاور سٹرکچر کی چھت ہیں، یا پھر ان کے شریک کاروں میں سیاسی لیڈر، برادریوں کے کرتا دھرتا، نواب، وڈیرے، سردار اور پیر حضرات بھی برابر کے حصے دار ہیں؟‘‘ یہی نہیں بلکہ کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ ’’اس پاور سٹرکچر کی دو اہم طاقتیں اعلیٰ عدلیہ کے اکثر ارکان اور صحافت و ذرائع ابلاغ کے نام پر رائے عام کو موم کی ناک کی طرح موڑنے والے سیٹھ حضرات بھی ہیں؟ اور اس سارے گھن چکر کا عوام اور عوام کے دکھ درد سے کیا تعلق واسطہ ہے؟ حالانکہ مذکورہ بالا طبقوں کے کرتا دھرتا تو اپنے محفوظ گھر یہاں بھی رکھتے ہیں اور باہر بھی۔ لیکن جن کے وسائل اور جن کی گردنوں پر سوار ہو کر وہ حکمرانی کا لطف اٹھاتے ہیں، وہ بے زبان اس سارے ہنگامے کے حاشیے پہ بھی نظر نہیں آتے۔

کسی بھی ملک کی قسمت کا ستارہ تو امن، انصاف اور نظم و ضبط سے چمکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کے ساتھ اسلام کا حوالہ بطور کمٹ منٹ لازم ہے۔وجہ یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کے دوران یہی بتایا گیا تھا، یہ ملک اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی قانون و معاشرت کے نفاذ کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے۔ تب کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان، چند گھرانوں، چنیدہ افسروں اور جائز یا ناجائز دولت کے زور پر سیاست و قیادت کا کھیل کھیلنے والوں کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پیش کیا جاتا تو یقینا ان لوگوں کے رشتہ داروں اور خاندانی ملازموں کے سوا کوئی فرد اس مقصد کے لیے نہ ووٹ دیتا اور نہ جان لڑاتا۔ کہاں مقصد کی وہ بلندی اور کہاں حقائق کی یہ پستی! مگر ہمارے ہاں تضاد بھرے اس قول و عمل کو بھی نہیں بیان کیا جاتا اور نہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

یہ امرِ واقعہ بھی کسی تاریخ میں مذکور نہیں ہے کہ وہ بدعنوانی اور اقرباپروری جس سے قائداعظم نے پارلیمان میں ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کی تقریر میں بچنے کی سختی سے ہدایت کی تھی، آج اسی ہدایت کی بے حرمتی اور پامالی پورے معاشرے میں پھیلی نظر آتی ہے۔ عدالت کی مسندیں ہوں یا دفتروں کے کمرے، فیصلہ سازوں کے ایوان ہوں یا حاکموں کی غلام گردشیں، سبھی پر ایک جملے کا راج ہے ’پیسے لگائو تو کام ہوگا‘، یا پھر ’اُوپر والوں کا حصہ اتنے فی صد‘ ہے۔ اس چیز نے وہ تباہی مچا رکھی ہے کہ اگر کوئی فرد جائز معاشی سرگرمی کے لیے صنعت و تجارت کی کشتی اس ہلاکت خیز سیلاب میں اتارتا ہے، تو طرح طرح کے محکموں کے اہل کار، اُس فرد پر یوں جھپٹے پڑتے ہیں جیسے گِدھ نوچنے کے لیے اُمڈ اُمڈ آتے ہوں، اور بہت ہی کم ہوتے ہیں جو اس حملے سے بچ پاتے ہیں۔ اسی لیے نہ لوگ سرمایہ کاری پر آمادہ ہوتے ہیں اور نہ سرمایہ کار، سرمایے میں یہاں کی محنت کو شریک کار بنانے کی ہمت کرتے ہیں۔ یوں بے روزگاری و بے کاری کا ناگ اپنے پھن پھیلائے پھنکارتا نظر آتا ہے۔

قوم کے پسے ہوئے طبقوں کے لیے، صدیوں کی غلامی سے نکلنے کا سب سے اہم ذریعہ تعلیم ہی ہوسکتی تھی۔ لیکن سرکاری تعلیمی اداروں میں بدنظمی اور اکثر اساتذہ کی نااہلی اور عدم دلچسپی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تودوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کی بڑی تعداد نے وہ تجارتی ادھم مچایا ہوا ہے کہ الحفیظ الامان۔ قسم قسم کے تعلیمی اداروں نے نئی نسل کو فکری انتشار کی دلدل میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ والدین مجبور ہیں کہ پرائیویٹ ٹیویشنیں بھی پڑھوائیں اور بڑی بڑی فیسیں بھی دیں۔ اس مقصد کے لیے وہ دوہری ملازمتیں کرتے اور اپنے اثاثے بیچتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود سرنگ کے آخر میں زیادہ تر اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تو خطرناک حد تک داخلے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یونی ورسٹیاں چار چار مرتبہ اشتہار دے کر طالب علموں کو داخلے کی دعوت دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود داخلے پورے نہیں ہوتے۔ انجامِ کار، یہ نوخیز بچّے مایوسی، نشے اور غلط ہاتھوں کا شکار ہورہے ہیں۔

دُنیا بھر میں ریل ایک سستا ،محفوظ اور قابلِ اعتماد ذریعۂ سفر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریل کے نظام میں بہتری لانے کے بجائے اس کی تباہی کا منظم سامان کیا گیا۔ صدر ایوب خان کے زمانے میں ۱۹۶۷ء کے دوران خانیوال سے لاہور تک بجلی سے چلنے والے انجنوں کا نظام قائم کیا گیا، جو ۱۹۸۷ء آتے آتے اُجڑ گیا۔ برقی رو دوڑانے والی تانبے کی تاریں چوری کر لی گئیں اور آہنی گاڈر اُکھاڑ کر لوگ گھروں کو لے گئے، اور سارا زور روڈ ٹرانسپورٹ پر لگادیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ غیر ملکی گاڑیوں، ٹائروں، پُرزوں اور پٹرول پر قیمتی قومی زرمبادلہ سیلاب کے پانی کی طرح بیرونِ پاکستان کی طرف بہہ نکلا اور مہنگائی کا عذاب اس راستے سے پوری قوم پر مسلط ہو گیا۔ آج پاکستان ریلویز، شوکت تھانوی کے افسانے ’سودیشی ریل‘ سے بھی زیادہ بدتر شکل پیش کر رہی ہے، جس میں ہرشخص خود تو سوار ہونے کی کوشش میں ہے لیکن کسی دوسرے کو سوار نہیں ہونے دیتا۔

زراعت کی حالت کو خراب کرنے کے لیے ناقص پیداواری منصوبہ بندی نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ کسان کی گردن دبوچنے کے لیے تیل، بجلی، بیجوں اور مصنوعی کھادوں کے مہنگے داموں نے بربادی مسلط کی ہوئی ہے، تو دوسری طرف خود کسانوں نے نہری پانی کی ترسیل کے فعال نظام کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ نہری پانی کی ستھری ترسیل کا شاندار نظام اب تباہی و بربادی کا نوحہ پڑھتا نظر آتا ہے۔

تجارت میں بددیانتی، بیرون ملک بدنامی درحقیقت عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کو تباہ کرنے اور امکانات کی دنیا کو محدود کرنے کا ذریعہ بنی۔ لیکن مجال ہے کہ قانون سازوں اور حکمرانوں نے ایسے تاجروں سے باز پُر س کا کوئی تادیبی نظام قائم کیا ہو؟

اس تحریر میں عوام کو نظرانداز کرنے کی بات بہ تکرار کی گئی ہے، لیکن خودعوام بھی اس ظلم کے کئی پہلوئوں سے ذمہ دار ہیں جس کے چند مظاہر یہ ہیں: اپنے حال اور مستقبل سے لاتعلقی، انتخابات کو ایک سنجیدہ عمل سمجھنے کے بجائے ایک شغل کے طور پر لینا، ووٹ کی قوت کو برادری، رنگ، نسل اور عصبیت کی بھینٹ چڑھانے کا شوق پالنا، شرافت کو محض دیکھنے کی چیز قرار دینا اور بدمعاشی، خیانت اور بدکرداری کو حکمرانی کی صلاحیت بیان کرنا___ عوام کے اندر پائے جانے والے یہ تضادات اخلاقی شکست، دینی گمراہی اور مثبت دُنیاوی قدروں کے قحط کے نشانات ہیں۔

اس تلخ داستان کے یہاں پر ’کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے‘، اس لیے نہیں کہ مایوس ہوا جائے بلکہ اس لیے کہ ان خرابیوں کو درست کیا جائے۔ یومِ آزادی دراصل فخر کرکے سوجانے کا پیغام نہیں لاتا، بلکہ یہ احتساب کی میزان لے کر آتا ہے، تاکہ کوتاہیوں کے ازالے کے لیے تجدیدعہد ہو اور روشن مستقبل کی راہ ہموار کی جاسکے۔

_______________