بعض احباب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’شہری زندگی کے مسائل اور لوگوں کی دنیاوی مشکلات حل کرانے کی جدوجہد کا اقامت ِ دین سے بھلا کیا تعلق ہے؟‘‘ پھر کچھ کرم فرما یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’جماعت ِ اسلامی تو معاشرے کی اصلاح اور شہادتِ حق کے لیے قائم ہوئی تھی، مگر یہ سڑکوں کی تعمیر، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپنی قوتیں لگانے کا جماعت کے مقصد ِ تاسیس و تحریک سے کیا تعلق بنتا ہے؟‘‘ یہ اور اس نوعیت کے سوالات اخلاص سے بھی کیے جاتے ہیں اور حکمت عملی سے گہری بے خبری کی بناپر بھی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ سوالات سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اصولی طور پہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اقامتِ دین کے لیے کوشاں اسلامی تحریک کے لیے عوام کے مسائل، تکالیف اور ان پر سرکاری و غیر سرکاری مظالم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ایک دینی تقاضا ہے، بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور اسلامی دعوت و انقلابی جدوجہد کا لازمی جزو بھی ہے۔ اس عمل کو اقامت ِ دین کی جدوجہد سے غیرمتعلق سمجھنا، دین اور دین کے جامع اور ہمہ گیر تصور سے کماحقہٗ آگہی نہ ہونے پر مبنی واہمہ ہے۔ اسلام کسی ایسی تفریق کو قبول نہیں کرتا جہاں کچھ مخصوص اعمال کو ’دینی‘ ، جب کہ خلقِ خدا کی خدمت اور مظلوم کی حمایت اور دادرسی کو ’غیر دینی‘ سمجھا جائے۔
اس موقف کو سمجھنے کے لیے قرآن، سیرتِ طیبہؐ اور اسلامی تاریخ پر مختصراًنظر ڈالتے ہیں:
اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ۱ۭ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۲ۙ وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۳ۭ (الماعون۱۰۷: ۱-۳) تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزاکو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اُکساتا۔[یعنی یتیم اور مسکین کے دُکھ سے بے حسی کو اللہ نے تکذیبِ دین قرار دیا ہے۔]
اس طرح قرآن کریم معاشی استحصال اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کو اقامتِ دین کی جدوجہد سے الگ نہیںکرتا، بلکہ اس جدوجہد کے لازمی جزو کے طور پر بیان کرتا ہے۔
تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید پر مبنی اسلامی معاشرے کے قیام یا دوسرے لفظوں میں اقامت ِ دین کی دعوت اور جدوجہد میں اپنے اپنے دور کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مظالم اور عوام کی تکالیف کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش فرمائی۔
اس طرح مدنی دور سے پہلے، مکی دور میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کے لازمی جزو کے طور پر مفلسوں، ناداروں، غلاموں اور کمزوروں کی دادرسی اور قریش کے استحصالی افراد کے خلاف گواہی بھی مرکزی طور پر دکھائی دیتی ہے۔
خلفائے راشدینؓ کا پورا زمانہ اس فکرمندی اور احساسِ ذمہ داری کی جیتی جاگتی مثال تھا کہ عوام کے دکھ درد کا خیال کرتے ہوئے اُسے دُور کرنے اور شہریوں کو راحت دینے کے انتظام و انصرام کو یقینی بنایا جائے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں سویا، کسی بیوہ کو آٹا تو نہیںچاہیے۔ ایک دفعہ ایک عورت بچوں کو بہلانے کے لیے خالی ہنڈیا چولہے پر چڑھائے ہوئے تھی، جب آپؓ کو معلوم ہوا تو آٹا خوداپنی پیٹھ پر لاد کر لائے۔
قحط کے زمانے میں حضرت عمرؓ نے اپنے لیے گوشت اور گھی کو ممنوع قرار دے لیا تھا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل:عام الرمادہ (قحط کے سال) میں حضرت عمرؓ نے عوام کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’اگرفرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر جائے تو عمر سےاس کی پوچھ گچھ ہوگی‘‘۔
یہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کے مطلوب خلافت راشدہ کے نظامِ حکومت کے سربراہ کا طرزِعمل تھا۔ خلفائے راشدینؓ عوام کی فلاح و بہبود کو رسولؐ اللہ کی اقتدا میں اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ گویا عامۃ المسلمین کی مشکلوں کو حل کرنے کی جدوجہد اقامت ِ دین کی جدوجہد کا لازمی جزو ہی نہیں، ایک اہم مقصد ہے، بلکہ ایک اسلامی اور عادلانہ نظامِ حکومت کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ ہرحق دار کو اُس کا حق پہنچایا جائے،اور ہر ظالم کو اس کے ظلم سے روک کر مخلوقِ خدا کو محفوظ بنایاجائے۔
اس ضمن میں سیّدنا ابوبکرؓ کے اوّلین خطبۂ خلافت کے یہ الفاظ یاد کیجیے: ’’تم میں جو کمزور ہے، میرے نزدیک قوی ہے، یہاںتک کہ مَیں اس کا اسے حق دلا دوں، اور تم میں سے جو طاقت ور ہے، وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں‘‘۔ اس اصول کا: ’’تقاضا یہ ہے کہ معاشرے کا ہرفرد اُن لوگوں کی دل سے عزّت کرے، جن کے حقوق ابھی ملنے ہیں۔ ان کے حقوق کی حمایت کرنا، ان کو ادا کرنے کی تلقین کرنا اور ان کو حاصل کرنے کے لیے سینہ سپر ہونا ہرباحمیت مسلمان کا فرض ہے‘‘۔ ( تدبر قرآن، ج ۸، ص ۵۸۳)
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے دور میں زکوٰۃ کا نظام ایسا قائم کیا کہ زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ اس نظام نے عام لوگوں کے دُکھ درد ، معاشی استحصال اور ان کے ساتھ ہونے والی ہرطرح کی ناانصافی ہی کو ختم کیا تھا۔
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ’’مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے بے جا طور پر عوام کے مسائل و مشکلات کے حل کی کوشش کو اقامت ِ دین کی جدوجہد کا حصہ بنا دیا‘‘۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سیّدمودودی نے کوئی نیا کام نہیں کیا۔ انھوں نے دراصل اُمت کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے۔
امام ابوحنیفہؒ (م:۷۶۷ء)اور ان کے شاگرد امام ابویوسفؒ (م:۷۹۸)کا عملی رویہ حکومت ِ وقت کے ساتھ تعاون کے بارے میں بالکل متضاد رہا۔ استاد نے ظالم حکمران اور اقتدار سے دُوری اختیار کی، جب کہ شاگرد نے اصلاح کی طرف مائل حکمران کی دعوت پر اقتدار میں شامل ہو کر اصلاحِ احوال کی کوشش کی۔ ان دونوں رویوں کا مقصد عوام کو حکومتی مظالم سے بچانا اور حقوق کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔
امام ابوحنیفہؒ نے عباسی حاکم ابوجعفر منصور کی پیش کش پر قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس پر منصور نے انھیں کوڑے لگوائے اور سرعام سزائیں دیں۔ ان کا موقف تھا کہ اقتدار کے قریب ہو کر ظالم حکمران کے فیصلوں پر شرعی مہر لگانے سے بہتر ہے کہ میں آزاد رہ کر حق بات کہوں۔ روایات کے مطابق انھوں نے اقتدار کے ظلم کے سامنے سمجھوتا کرنے کی بجائے عملاً قید و ابتلا کو ترجیح دی۔
امام ابویوسفؒ نے اس کے برعکس راستہ اپنایا۔ وہ ہارون الرشید کے دورِ خلافت میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے، اور اسی حیثیت سے انھوں نے نظام کے اندر رہ کر نظام کی اصلاح کی۔ اپنی مشہور تصنیف کتاب الخراج میں انھوں نے ٹیکس کے نظام، زمین کی ملکیت، اور عوام پر عائد محصولات کے شرعی اصولوں کو منضبط کیا۔کتاب الخراج میں وہ صراحتاً لکھتے ہیں کہ عمال اور جمع کنندگانِ خراج کو رعایا پر نرمی کرنی چاہیے، کسی فرد کی استطاعت سے زیادہ ٹیکس نہیں لینا چاہیے، اور ظلم و زیادتی کرنے والے اہلکاروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
اس سلسلے میں ابن تیمیہؒ (۱۳۲۸ء)کا زاویۂ نظر ایک مختلف تاریخی و فقہی پس منظر رکھتا ہے۔ وہ ساتویں صدی ہجری کے ایک فقیہ و محدث تھے۔عوام پر مظالم اور حکمرانوں کے استحصال پر ان کا موقف نہایت واضح اور مضبوط ہے۔ان کی مشہور کتاب السیاسۃ الشرعیۃ فی إصلاح الراعی والرعیۃ کا بنیادی موضوع ہی حکمران اور رعایا کے تعلق میں عدل کا سوال ہے۔ ان کا مشہور فرمان ہے:
فَإنَّ النَّاسَ لَمْ يَتَنَازَعُوا فِي أَنَّ عَاقِبَةَ الظَّلْمِ وَخِيمَةٌ، وَعَاقِبَةَ الْعَدْلِ كَرِيمَةٌ، وَلِهَذَا يُرْوَى: اللَّهُ يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الْعَادِلَةَ وَإِنْ كَانَتْ كَافِرَةً، وَلَا يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الظَّالِمَةَ وَإِنْ كَانَتْ مُؤْمِنَةً (مجموع الفتاویٰ ، ج ۲۸ ، ص ۱۲۸) بے شک لوگوں کا اس بات میں کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ ظلم کا انجام برا (وخیم) ہے اور عدل کا انجام عمدہ (کریم) ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ روایت کیا جاتا ہے: اللہ عادل ریاست کی مدد فرماتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو، اور ظالم ریاست کی مدد نہیں فرماتا اگرچہ وہ مومن ہو۔
ان کے نزدیک حکمرانی کا مقصد ہی رعایا کے دُنیوی و اُخروی مفاد کی حفاظت ہے، اور جو حکمران عوام پر ظلم کرے وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کا مرتکب ہے۔
ابن تیمیہؒ نے اس بات کو بہت وضاحت کے ساتھ اُجاگر کیا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ محض انفرادی گناہوں تک محدود نہیں، بلکہ حکمرانوں کے مظالم اور بیت المال کی بدانتظامی کی اصلاح بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا دائرئہ کار ہے۔ ان کے رسائل میں ٹیکس کے ظالمانہ نظام، غیر شرعی محصولات اور عوام پر زیادتی کرنے والے عہدیداروں پر سخت تنقید ملتی ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کی فکر میں سیاسی استحکام اور فتنے سے اجتناب کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے، یعنی ظالم حکمران کے خلاف مسلح بغاوت کو وہ عموماً ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ اس سے بڑا فتنہ اور خوں ریزی جنم لے سکتی ہے۔یہ موقف ان کی مشہورکتاب الصبر علی جور الأئمة خیر من الخروج علیهم میں ملتا ہے۔ آواز اٹھانے اور نصیحت کرنے کو وہ درست بلکہ واجب سمجھتے ہیں، مگر مسلح بغاوت کو آخری اور اکثر ناپسندیدہ راستہ قرار دیتے ہیں۔
ابن تیمیہؒ عوام کے دُکھ پر آواز اٹھانے کو حکمران کی جواب دہی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اصول کے تحت نہ صرف جائز بلکہ واجب سمجھتے ہیں، مگر اس کا اظہار وہ نصیحت اور علمی احتساب کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ مسلح بغاوت کی صورت میں۔ اس ضمن میں ان کی کتاب الحسبہ [نظامِ احتساب] دیکھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح اٹھارھویں صدی میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ بھی معاشی استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو معاشی ظلم ختم کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ پھر ۱۹ویں صدی کے دوران بنگال میں ’فرائضی تحریک‘ ،دودھومیاں اور شہید تیتومیر کی تحریکیں بھی معاشی استحصال سے نجات پانے کے لیے انگریز اور ہندوزمین داروں سے ٹکرا جاتی ہیں۔
اس پس منظر کے ساتھ سیّد مودودی کے نزدیک اسلام محض چند مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ’نظامِ حیات‘ ہے، جس میں بنیادی عقائد، ارکان اسلام، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نوافل ،اذکار، تزکیہ، دعوتِ دین اور خدمت خلق کے ساتھ ساتھ حکومتی و ریاستی نظام، عوام کی خدمت اور حق گوئی پر مبنی سیاست، معاشی و معاشرتی عدل، بین الاقوامی تعلقات، بنیادی انسانی حقوق، اور معاشرہ و معاشرت سب شامل ہیں۔ چنانچہ، عوام کا معاشی استحصال اور سماجی فساد دراصل غلط حکومتی، ریاستی اور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں ،اور اس فساد کا اصل حل نظام کی تبدیلی (اقامتِ دین) میں ہے۔
انھوں نے اصلاح احوال کے لیے زور تدریجی، دستوری اور تحریکی جدوجہد پر دیا، یعنی دعوتِ حق، افراد کی اصلاح، منظم تنظیم و تحریک، اصلاحِ معاشرہ اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کی تبدیلی۔ عوامی مسائل پر آواز اٹھانا اس پورے عمل کا حصہ ہے۔ وہ بالکل الگ تھلگ کسی ’سوشل ایکٹوازم‘ کے بجائے نظام کی اصلاح کو دعوت، تربیت، تنظیم کے دائرے سے مربوط رکھتے ہیں۔’ تحریکِ اسلامی‘ کی اصطلاح خود اس بات کی غماز ہے کہ ان کے نزدیک اجتماعی، منظم اور سیاسی جدوجہد ہی عوامی دکھوں کے مستقل حل کا راستہ دکھاتی اور بناتی ہے۔ وہ انفرادی یا وقتی احتجاج پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ اس شعورکو مسلسل تازہ و بیدار رکھتی ہے۔ اگر ظلم حد سے بڑھ جائے تو پھر ایک ہدف کے طور پر اُس مسئلے کے حل پر زیادہ قوت صرف کر دینا کوئی غیرتحریکی اقدام نہیں ہے۔
مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو صرف مسجد و منبر تک محدود تحریک نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے صاف لکھا ہے کہ اسلامی تحریک کو شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ شہادتِ عدل بھی دینی ہے۔ معاشی، سماجی اور سیاسی استحصال کے خلاف سینہ سپر ہو کر حق کی آواز بھی بلند کرنی ہے۔ اس مقصد کے لیے مزدور کی مزدوری، کسان کی فصل کے نرخ، اور بازار میں مہنگائی پر بات کرنی ہوگی۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تدبر قرآن میں لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج ، (الحدید ۵۷:۲۵)کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
رسولوں اور [الہامی] کتابوں کے بھیجنے کا مقصد واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں کہ لوگ زندگی کے ہرشعبے میں حق و عدل کے اختیار کرنے والے بنیں۔ عقائد میں وہ راہ اختیار کریں جو ہر کج پیچ سے پاک ہو، سیدھی اور بیچ (وسط) کی راہ ہو، اور اعمال میں، خواہ وہ انفرادی زندگی سے متعلق ہوں یا اجتماعی زندگی سے، وہ روش اختیار کریں جو حق وعدل پر مبنی اور ظلم و جَور کے ہرشائبے سے پاک ہو۔ معلوم ہوا کہ اللہ نے اپنے رسول محض وعظ سنا دینے کے لیے نہیں بھیجے، اور نہ اپنی کتابیں محض تلاوت کے لیے نازل کیں، بلکہ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کی راہ نمائی میں حق و عدل پر قائم رہنے والے اور اس کو قائم کرنے والے بنیں [ج۷، ص ۲۲۹]۔ قیامِ قسط [کا] یہ کام مجرد وعظ و تذکیر اور انذاروتبشیر سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے طاقت کی بھی ضرورت ہے‘‘ (ایضاً، ص ۲۳۰)
مولانا اصلاحی نے اسلامی ریاست میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسلامی ریاست کی پہلی ذمہ داری فلاحِ عامہ ہے۔ روٹی، کپڑا، انصاف اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر کے معاشی دُکھ کو قرآن کی روشنی میں اجاگر کرنا چاہیے۔ صرف تقریر کے ذریعے نہیں، بلکہ عملی خدمت کے ذریعے جیسے قرض حسنہ، تعلیم اور علاج میں مدد کے ذریعے۔ عوام کے دُکھ پر آواز اٹھانے کو غیر دینی بات کہنا تو دُور کی بات ہے، بلکہ یہ تو دین کا لازمی تقاضا ہے۔ جو تحریک صرف اقتدار کی بات کرے اور عوام کی بھوک، ننگ اور ظلم پر خاموش رہے، وہ قرآن کی ہدایت سے رُوگردانی کی زد میں آتی ہے۔
اسی طرح سیّد قطب شہید کے نزدیک موجودہ نظام محض ناقص نہیں بلکہ ’جاہلیت‘ کا مظہر ہے۔ گویا مغربی و مسلم دونوں طرح کے حکمران، نظام اسلامی کے اصولوں سے مکمل انحراف پر مبنی نظام چلا رہے ہیں۔ عوام کا معاشی و سماجی استحصال اسی جاہلی نظام کی لازمی پیداوار ہے۔ عوامی دُکھ کی جڑ محض معاشی بدانتظامی نہیں، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ انسان نے اللہ کی حاکمیت پر مبنی نظام کو چھوڑ کر خود ساختہ نظام اپنا لیا ہے۔ اس لیے جاہلیت سے مکمل قطع تعلق کرکے انقلابی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اقامت ِ دین کی جدوجہد میں درج ذیل دونوں پہلو نمایاں مقام اور یکساں اہمیت رکھتے ہیں:
اگر اس جامع جدوجہد میں سے دوسرا پہلو نکال دیا جائے تو اسلام کی دعوت اور تحریک کی جدوجہدعوام میں اجنبی ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس تحریک نے عوام کے دکھ کو اپنا دکھ نہ سمجھا، عوام بھی اس کے دکھ کو اپنا دکھ نہ سمجھیں گے۔ اور جس نے عوام کے آنسو پونچھے، اللہ اسی کے ذریعے دین کو قائم کرے گا۔
اس اعتبار سے عوام کے دکھ درد، معاشی و معاشرتی مسائل اور ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ایک اسلامی فریضہ ہے، بلکہ اقامت ِ دین کی تحریک کے لیے روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مظلوم کی حمایت اور عوام کی خدمت کے بغیر اقامتِ دین کی کوئی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں ہے کہ اقامتِ دین کا کام اور عوام کے دکھ پر آواز اٹھانا دو الگ چیزیں ہیں۔ بلکہ اسلام میں عوام کے دکھ پر آواز اٹھانا عین اسلامی کام ہے، اور اقامتِ دین کی جدوجہد اس کے بغیر نامکمل ہے۔
اس اصولی صورتِ حال کو مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں یوں بیان فرمایا ہے:
انبیا علیہم السلام کو جس مقصد کے لیے بھیجا گیا وہ یہ تھا کہ دُنیا میں انسان کا رویہ اور انسانی زندگی کا نظام فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی، عدل پر قائم ہو۔ ایک طرف ہرانسان اپنے خدا کے حقوق ، اپنے نفس کے حقوق اور ان تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق ، جن سے اس کو کسی طور پر سابقہ پیش آتا ہے ، ٹھیک ٹھیک جان لے اور پورے انصاف کے ساتھ ان کو ادا کرے۔ اور دوسری طرف اجتماعی زندگی کا نظام ایسے اصولوں پر تعمیر کیا جائے، جن سے معاشرے میں کسی نوعیت کا ظلم باقی نہ رہے، تمدن و تہذیب کا ہر پہلو افراط و تفریط سے محفوظ ہو، حیات اجتماعی کے تمام شعبوں میں صحیح صحیح توازن قائم ہو، اور معاشرے کے تمام عناصر انصاف کے ساتھ اپنے حقوق پائیں اور اپنے فرائض ادا کریں ۔ بالفاظِ دیگر انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصود عدلِ انفرادی بھی تھا اور عدلِ اجتماعی بھی ۔ وہ ایک ایک فرد کی شخصی زندگی میں بھی عدل قائم کرنا چاہتے تھے، تاکہ اس کے ذہن، اس کی سیرت، اس کے کردار اور اس کے برتاؤ میں توازن پیدا ہو ۔ اور انسانی معاشرے کے پورے نظام کو بھی عدل پر قائم کرنا چاہتے تھے، تاکہ فرد اور جماعت [معاشرہ] دونوں ایک دوسرے کی روحانی ، اخلاقی اور مادی فلاح میں مانع و مزاحم ہونے کے بجائے معاون و مددگار ہوں۔(الحدید، حاشیہ ۲۵، ص ۳۲۲)
گویا اقامت ِ دین کا مطلب معاشرتی، سماجی، معاشی اور سیاسی، غرض زندگی کے ہرشعبے میں دین قائم کرنے کی ہمہ پہلو جدوجہد ہے، اور یہ کہ دین کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی، انفرادی و اجتماعی تقویٰ و تزکیہ اور انسانوں کو ظلم، جبر اور قہر سے نجات دلانا ہے۔
_______________