۴ سالہ فر.اس کا ایک ہاتھ اس کی والدہ کے ہاتھ میں تھا۔ وہ گاہے اسے سہلاتی اور گاہے اپنے بیٹے کی بند آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرتی۔ جو انجکشن نرس کے پاس تھا وہی بار بار لگاکر اس کی تکلیف کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی، حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ انجکشن اس کا علاج نہیں ہے۔ اس کے والد کو معلوم تھا کہ نسخے میں درج ادویات نہیں مل سکیں گی، لیکن بے تاب ہوکر وہ مزید تلاش کے لیے ہسپتال کے باہر بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ اسی دوران میں اچانک فر.اس کی سانس اکھڑی اور پھر چند لمحوں میں، والدہ کے ہاتھ میں تھامی ہوئی اس کی کلائی کسی مرجھائی ہوئی شاخ کی طرح جھولنے لگی۔ ماں باپ آنسوئوں کی جھڑی میں بیٹے کی لاش سنبھالنے لگ گئے۔ یہ منظر غزہ کے ایک ہسپتال کا تھا جہاں ایک فر.اس نہیں، روزانہ کئی فر.اس صرف اس وجہ سے علاج نہیں کروا پاتے کہ ان کے لیے مطلوب ادویات غزہ میں نہیں پہنچائی جاسکتیں۔ اس لیے کہ غزہ کو تین اطراف سے یہودی ملک اسرائیل نے گھیر رکھا ہے اور چوتھی جانب سے مسلم ملک مصر نے دروازے بند کر رکھے ہیں۔
فر.اس کی رخصتی کا یہ پورا منظر، براہِ راست الجزیرہ ٹی وی پر اس لیے آگیا کہ وہ فلسطین پر صہیونی قبضے کے ۶۱ برس پورے ہونے، اور پوپ مقرر کیے جانے کے بعد پہلی بار کسی مسلمان علاقے کے دورے پر آئے ہوئے عیسائی پیشوا کی مصروفیات پر غزہ سے ایک رپورٹ دے رہا تھا۔ اُردن اور پھر مقبوضہ فلسطین کے اپنے ۸ روزہ دورے میں پوپ بینی ڈِکٹ شانزدہم نے کئی خطبے اور بہت سے اہم پیغامات دیے۔ پوپ بینی ڈِکٹ کا یہ دورہ ابتدا ہی سے متنازع تھا۔ سب سے پہلا اعتراض اُردن کی سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرف سے کیا گیا کہ: پوپ یا مسیحیوں سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے، لیکن پوپ نے اپنا یہ مذہبی منصب سنبھالنے کے فوراً بعد ہی اپنے ایک لیکچر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرکے پوری اُمت محمدیؐ کے دل زخمی کیے تھے۔ اسلام کو بزور تلوار پھیلنے والا مذہب قرار دیا تھا، اور ۱۴ویں صدی عیسوی کے ایک بازنطینی حکمران کے وہ قبیح الفاظ دہرائے تھے، جو اس نے ایک مسلمان فلسفی سے مناظرہ کرتے ہوئے آں حضوؐر کے بارے میں کہے تھے۔ اب اگر پوپ واقعی عالمِ اسلام کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تو رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے بارے میں کہے ہوئے الفاظ واپس لے لیں۔ مگر افسوس کہ پوپ نے کوئی معذرت نہیں کی اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ: ’’مجھے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر افسوس ہے‘‘۔
اپنے تین روزہ دورۂ اُردن اور پانچ روزہ دورۂ مقبوضہ فلسطین کے دوران میں پوپ نے اپنی تمام گفتگوئوں میں یہودیوں کو خوش کرنے کی بار بار کوشش کی۔ اُردن میں واقع جبل نیبو جو کہ عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کے نزدیک مقدس مقام تھا، کے دورے سے ہی انھوں نے محبت ناموں کا آغاز کردیا تھا۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے تو اپنے دورئہ مشرق وسطیٰ کو ’سفرِحج‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’سرزمین مقدس کا حج ہماری قدیم روایت ہے اور یہ سفر ہمیں مسیحی کنیسے اور یہودی قوم کے درمیان وحدت اور ناقابلِ انقطاع تعلقات کی یاد دہانی کرواتا ہے‘‘۔
انھوں نے مسیحی پیشوا ہونے کے ناتے اپنا مغفرت و معافی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے یہودی قوم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی (نام نہاد) پھانسی کی سزا سے بھی بری الذمہ قرار دے دیا۔ انھوں نے یہودیوں پر نازیوں کے (مبالغہ آمیز) جرائم پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور دیوارِ گریہ کا دورہ کرتے ہوئے یہودی عبادات کی پیروی کی اور یہودی روایات کے مطابق دیوار کے شگافوں میں سے ایک شگاف میں اپنی دعائوں اور آرزوئوں پر مشتمل پرچی ٹھونس دی۔ پھر توازن پیدا کرنے کے لیے بعض مسلم مقامات مقدسہ کا دورہ بھی کیا۔ اُردن میں شاہی مسجد، مسجدحسین بن طلال اور بیت المقدس میں گنبد صخرہ بھی گئے لیکن نہ جانے اسے غفلت کہا جائے یا عمداً کی گئی غلطی کہ انھوں نے مسجدحسین کے اندر جاتے ہوئے جوتے اتارنے تک کا تکلف نہیں کیا اور جب یہ عمل احتجاج کا سبب بنا تو ان کے دفتر نے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ’’کسی نے انھیں جوتے اتارنے کا کہا ہی نہیں‘‘۔
سوال یہ ہے کہ پوپ نے اپنے اس ’حج‘ کے لیے فلسطین پر یہودی قبضے اور اسرائیلی ناجائز ریاست کے قیام کی ’برسی‘ کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ خود فلسطینی عیسائی باشندوں کے مطابق یہ دورہ سال کے کسی بھی دوسرے موقع پر ہوسکتا تھا۔ پوپ اور ان کا دفتر شاید اپنے تئیں اس کی کوئی تاویل رکھتا ہو لیکن ’’شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے‘‘ کے مصداق، وقت کے اس انتخاب نے ان کے سیاسی مقاصد کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ اپنے اس دینی دورے میں انھوں نے اسرائیلی ذمہ داران اور یہودی مذہبی پیشوائوں سے ملاقاتیں کیں اور ساتھ ہی ساتھ تقریباً چار سال قبل اغوا ہونے والے یہودی فوجی گلتاد شالیط کے گھر جاکر ان کے اہلِ خانہ سے بھی اظہار ہمدردی و یک جہتی کیا۔ معلوم تو انھیں بھی تھا کہ اس وقت صہیونی جیلوں میں ۱۱ ہزار فلسطینی باشندے قید ہیں، جن میں ۳۰۰ بچے اور ۲۹ خواتین بھی ہیں۔ ۴۳ منتخب ارکان اسمبلی اور حماس کے وزرا بھی ہیں اور ان ہزاروں قیدیوں میں نائل البرغوثی (ابوالنور) نامی ایک قیدی ایسا بھی ہے، جو گذشتہ ۳۵ سال سے مسلسل قید میں ہے۔ ۵۰سالہ نائل ۱۵برس کی عمر میں قید ہوا اور اب وہ دنیا کا سب سے طویل قید بھگتنے والا قیدی بن چکا ہے۔ اس کے ماں باپ اپنے قیدی بیٹے سے ملاقات کا خواب آنکھوں میں سجائے دنیا کی قید سے آزاد ہوگئے لیکن ابوالنور آزادی کا نور نہیں دیکھ سکا۔ پوپ ان ہزاروں مسلم قیدیوں کی رہائی نہ سہی، صرف عیسائی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہلکا سا اشارہ کر دیتے، مگر یہودیوں کے مقابلے میں وہ اپنے ہم مذہبوں کے لیے بھی یہ ہمت نہ دکھا سکے۔
اس عدمِ توازن کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ نازی جرائم کی مذمت، اور ان پر پوری یہودی قوم سے معذرت تو کر لی گئی، حالانکہ یہ کہانی اپنی انتہائی مبالغہ آمیزی کے باعث متنازع ہے۔ اس کے برعکس جن جرائم کے وقوع پذیر ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے، جن جرائم کو پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ غزہ پر گذشتہ دسمبر اور جنوری میں توڑی جانے والی قیامت تو آج بھی غزہ کے حصار کی صورت میں جاری ہے، جہاں نہ جانے کتنے بچے صرف دوا نہ ملنے کے باعث مائوں کی آغوش میں دم توڑ رہے ہیں، اس اکیسویں صدی کے ’نازی ازم‘ کے بارے میں پوپ کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں ادا ہوسکا۔ بس اتنا فرمایا کہ: فلسطینی اور یہودی شدت پسندی چھوڑ کر بقاے باہمی کی راہ اختیار کریں۔ گویا صہیونی ریاست کی طرف سے فاسفورس بموں کی بارش، گذشتہ ۶۱ برسوں سے جاری بے محابا مظالم، فلسطین کے لاکھوں باشندوں کو اجنبی قرار دے کر انھیں بے گھر کردینا، غزہ کے ۱۵ لاکھ باشندوں کا مسلسل محاصرہ، اور یہودی غاصبوں کے مقابلے میں بچوں کا پتھرائو، غلیلیں لے کر آجانا، اپنی جان پر کھیل کر احتجاج کرنا کیا شدت پسندی ہے…؟ چلیے ۶۱سال کے جرائم کو بھی چھوڑ دیتے صرف غزہ میں وقوع پذیر حالیہ درندگی کی مذمت اور اس پر افسوس ہی ظاہر کردیتے کہ جس میں ۱۳۱۲ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں ۴۱۰ بچے بھی تھے۔ ۵۳۴۰ زخمیوں کی بیمارپرسی کرلیتے، جن میں سے ۳۵فی صد بچے تھے، ۲۰ ہزار تباہ شدہ گھر نہ دیکھتے ان میں سے ۲۳ مساجد اور ۶۰ اسکولوں کی تباہی پر ہی احتجاج کرلیتے۔
جناب پوپ نے اہلِ فلسطین کی حمایت میں جو کلماتِ دل پذیر ادا کیے اور جن پر عالمِ اسلام کے کئی مقتدر لوگوں نے تعریف و ستایش کے ڈونگرے برسائے ہیں، بلکہ یہاں پاکستانی اخبارات میں بھی اداریے لکھے گئے، حالاں کہ ان کلماتِ دلنشیں میں، ’جناب پوپ‘ کا ایک بیان یہ بھی تھا کہ: ’’فلسطینی اور یہودی دو ریاستوں کی بنیاد پر اپنے تنازعات حل کرلیں‘‘۔ یہ دو ریاستی فلسفہ سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ فلسطینی اور مسلمانانِ عالم یہودی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرلیں اور اسرائیلی، فلسطین نام کی ایک ریاست بناکر اسے تسلیم کرلیں۔ یہ فلسفہ جناب پوپ ہی نہیں ایہود باراک، ایہود اولمرٹ اور سیبی لیفنی سمیت متعدد حالیہ اور سابقہ ذمہ داران کئی بار دہرا چکے ہیں۔ ۱۹۹۳ء میں اوسلو معاہدے کی بنیاد بھی اسی فلسفے پر رکھی گئی تھی، لیکن اس فلسفے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اوسلو معاہدہ اور متعدد روڈمیپ آجانے کے ۱۶ برس بعد بھی یہ نہیں بتایا جا رہا کہ فلسطینی ریاست کی حدود کیا ہوں گی اور صہیونی ریاست کی سرحدیں کہاں جاکر رکیں گی۔ اگر غزہ اور مغربی کنارے کے کٹے پھٹے علاقے پر فلسطینی ریاست کی تہمت لگا کر کوئی سمجھتا ہے، کہ وہ کوئی مبنی برانصاف یا قابلِ قبول حل پیش کر رہا ہے تو بصد افسوس عرض ہے کہ وہ اپنے تمام تر مذہبی رتبے اور دعوی ہاے پارسائی کی توہین کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہا۔
باعث ِ تشویش امر یہ ہے کہ ایک طرف تو مسلم دنیا کو دو ریاستی فارمولے کے کھلونے سے بہلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف انھی دنوں بیت المقدس میں ظلم و تعدّی کا نیا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔ بیت المقدس کو مکمل یہودی شہر بنانے کے منصوبے پر ایک بار پھر پورے زوروشور سے کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس وقت بھی بیت المقدس میں ۶۰ ہزار فلسطینی بستے ہیں۔ وہ خود کو مسجداقصیٰ کے محافظ و خادم سمجھتے ہیں۔ صہیونی ریاست نے بیت المقدس کو ہمیشہ اپنا ابدی دارالحکومت قرار دیا ہے۔ قیامت ِ غزہ کے بعد اب تہویدِ قدس کے نام سے ان ۶۰ ہزار فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ایک ایک کرکے ان کے گھر چھینے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مسجداقصیٰ کو شہید کرکے وہاں نام نہاد ہیکل سلیمانی لاکھڑا کرنے کی نئی تاریخیں دی جارہی ہیں۔ مگر جناب پوپ کو یہ چیخیں، ظلم کی داستانیں اور حق و انصاف کی پامالیوں پر مبنی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
یہ پوپ ہوں یا صہیونی قیادت اور اس کے ناپاک ارادے ہوں، ان سے تو شکوہ نہیں کیا جاسکتا۔ اصل شکوہ تو مسلم دنیا کے حکمرانوں سے ہے۔ ۱۰ مئی کو نئے صہیونی وزیراعظم نتن یاہو نے خود بیماری کی اصل جڑ کی نشان دہی کردی۔ اس نے مصری صدر حسنی مبارک اور اُردنی شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد بیان دیا کہ ’’صہیونیت کی تاریخ میں پہلی بار عربوں کے ساتھ ہمارا ایسا وسیع تر اتفاق ہوا ہے کہ جس میں مشترکہ خطرات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ خطرہ ہم سب کے لیے باعث ِ تشویش ہے‘‘۔ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر تبصرہ کر رہا تھا۔ اس سے پہلے اس کا وزیرخارجہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لیے اصل خطرہ قرار دے چکا ہے۔
ہر آنے والا دن جعفر و صادق کے پردے میں چھپے غداروں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ ۴سالہ فر.اس کی ماں صدمے کے باوجود، تدفین کے بعد کہہ رہی تھی: ’’فِراس زندہ ہے، وہ مجھے اور مجھ جیسی کروڑوں مائوں کو جدوجہد کا پیغام دے رہا ہے، جدوجہد اور مسلسل جدوجہد ہی اصل علاج ہے‘‘۔
۲۹ مارچ کو ہونے والے ترکی کے بلدیاتی انتخابات کی بازگشت ابھی جاری تھی کہ ۹ اپریل کو انڈونیشیا کے عام انتخابات نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ پھر اپریل کو الجزائر میں بھی صدارتی انتخابات کا رسمی اہتمام و غوغا دکھائی اور سنائی دیا، جس کے نتائج اکثر عرب ممالک کے معمول کے مطابق موجودہ صدر بوتفلیقہ کے حق میں نکلے۔ ۹۰فی صد ووٹ اپنے نام سے منسوب کرکے وہ اپنے تئیں آیندہ مزید پانچ برس کے لیے صدر منتخب ہوگئے۔
انھی دنوں کویت کے امیر نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد ۱۶مئی کو نئے عام انتخابات کا اعلان کردیا۔ یہ گذشتہ ۳ سالوں کے دوران چوتھے انتخابات ہیں۔ ہر بار اپوزیشن میں موجود مختلف اسلامی گروپوں کے افراد نے متعدد وزرا اور ذمہ دارانِ حکومت کے خلاف تحریکاتِ مواخذہ پیش کیں اور انھیں مزید زیربحث آنے سے بچانے کے لیے پارلیمانی بحران کا آسان حل پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے انتخابات سمجھا گیا۔ انتخابات تو شاید پوری دنیا میں ہی پیسے کا کھیل بن گئے ہیں، لیکن کویت کے متمول معاشرے میں انتخابی اسراف میں مسابقت نے خود اہلِ کویت کو بھی حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یہ کثیر اخراجات اس کے باوجود ہیں کہ وہاں انتخاب میں اصل فیصلہ کن عنصر، پارٹیوں اور قبیلوں سے نسبت قرار پاتا ہے۔ اب تک کے تجربات کے مطابق آدھی سے زیادہ پارلیمانی نشستیں مختلف اسلامی دھڑوں کے حصے میں آتی ہیں جن میں سرفہرست ’دستوری تحریک‘ کے نام سے اسلامی تحریک اور سلفی و شیعہ دھڑوں کے افراد ہوتے ہیں۔ آیندہ انتخابات میں بھی کم و بیش یہی نتائج رہنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے البتہ چہرے شاید تبدیل ہوجائیں۔
انھی دنوں لبنانی انتخابات کا غلغلہ بھی عروج پر ہے۔ شیعہ، سنی اور عیسائی آبادیوں میں عمومی تقسیم کے باعث یہ انتخابات بھی علاقائی و عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا اہم ترین سبب حزب اللہ ہے۔ حزب اللہ کی اہمیت کی وجہ اپنی منظم قوت کے علاوہ اس کے شام اور ایران سے مضبوط تعلقات، ماضی قریب میں رفیق حریری کی جماعت سے اور حال ہی میں مصر سے ہونے والے اختلافات و تنازعات بھی ہیں۔ مصر نے صحراے سینا سے کچھ لبنانی باشندوں کو گرفتار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ حزب اللہ کے دہشت گرد ہیں جو غزہ کو ہتھیار سمگل کرنے کے علاوہ مصر میں بھی دہشت گردی پھیلانا چاہتے تھے۔
۱۶ اپریل سے شروع ہونے والے اور ۱۳مئی تک جاری رہنے والے بھارتی انتخابات بھی ذرائع ابلاغ میں خوب جگہ پا رہے ہیں۔ اگرچہ بی جے پی یا کانگریس اور ان کی حلیف جماعتوں میں سے کسی کی بھی کامیابی سے بھارت کی عمومی پالیسیوں میں عملاً کوئی خاص فرق رونما نہیں ہوتا لیکن ہار اور جیت کے بعض نفسیاتی اثرات ملک کے اندر اور باہر اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان انتخابات میں اندرا گاندھی کے پوتے رُوَن گاندھی کی مسلمان دشمنی پر مبنی ہرزہ سرائی نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے داروں کے حقیقی چہرے سے کچھ پردہ سرکایا ہے۔ مسلمانوں کو قابلِ گردن زدنی قرار دینے کے باوجود حرام ہے کہ اس ’گاندھی زادے‘ کو لگام دینے اور کروڑوں بھارتی مسلمانوں کو احساس تحفظ دینے کے لیے سب سے بڑی جمہوریت نے کوئی بھی مؤثر کارروائی کی ہو۔ البتہ ان انتخابات کی ایک اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں ووٹ دینے کی اہمیت کا احساس بڑھا ہے، اگر مؤثر و معقول قیادت اور باہمی یک جہتی بھی نصیب ہوجائے تو کسی کو دھمکیاں دینے کی ہمت نہ ہو۔
انتخابی موسم میں ۶ جون کو ہونے والے موریتانیا کے صدارتی انتخابات کا ذکر اس حوالے سے دل چسپ ہے کہ چند ماہ قبل ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر برسرِاقتدار آنے والے جنرل محمد بن عبدالعزیز نے فوجی وردی اُتارنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس وقت ملک پر ایک فوجی کونسل کا اقتدار مسلط ہے۔ جنرل صاحب خود اس کے سربراہ تھے۔ اب اگرچہ استعفا دے کر سینیٹ کے سربراہ کو دو ماہ کی عبوری حکومت سونپنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن فوجی کونسل کا وجود باقی رہے گا۔ اب اس کی ذمہ داری ملک میں امن و امان برقرار رکھنا قرار دی گئی ہے۔ اسی کے زیرسایہ ۶جون کے انتخابات ہوں گے تاآنکہ ریٹائرڈ جنرل صاحب عوام کے پُرزور اصرار اور شاید اِسی ۹۰ فی صد والے تناسب سے کامیاب ہوکر منتخب ’سویلین‘ صدر ہوجائیں۔
۱۲ جون کو منعقد ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں، لیکن ابھی اس کا ناک نقشہ پوری طرح واضح نہیں ہوا۔ امیدواروں کے ناموں کے حوالے سے متضاد اطلاعات آرہی ہیں البتہ ایک بات طے شدہ لگتی ہے کہ ایران میں اصل حکمران طاقت یعنی علماے کرام، رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سربراہی میں اپنا سفر اسی نفوذ و ثبات کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ امریکی صدر اوباما کی طرف سے ایران کے ساتھ بات چیت اور اچھے تعلقات کی خواہش پر مبنی بیانات نے ایرانی قیادت کو مزید توانائی فراہم کی ہے۔ حماس و حزب اللہ کی تائید اور اسرائیل کی مخالفت سے بھی پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان تمام انتخابات میں ترکی کے بلدیاتی اور انڈونیشیا کے پارلیمانی انتخابات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کہ دونوں ممالک میں اسلامی طاقتوں نے اپنے قدم مزید آگے بڑھائے ہیں۔ ترکی کی حکمران، ’انصاف و ترقی (جسٹس و ڈویلپمنٹ) پارٹی‘ کو ووٹوں کا ۳۹ فی صد حصہ ملا ہے اور تمام بڑے شہروں سمیت بلدیاتی اداروں کا ۴۶ فی صد۔ ان کے یہ ووٹ عام انتخابات میں انھیں ملنے والے (۴۷ فی صد) ووٹوں سے کم ہیں لیکن وہ اپنے تئیں مطمئن نہ ہونے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں عام طور پر ووٹ زیادہ تقسیم ہوجاتے ہیں اور قومی سے زیادہ مقامی سیاست اور تعلقات اثرانداز ہوتے ہیں۔
دوسری طرف پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی ’سعادت پارٹی‘ نے پارٹی کے نئے صدر ڈاکٹر نعمان کور تلموش کی سربراہی میں لڑے جانے والے انتخابات میں عام انتخابات میں حاصل ہونے والے ۳ فی صد ووٹوں میں ۱۰۰ فی صد اضافہ کرتے ہوئے ۶ فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ان کے بقول یہ ووٹ ہماری توقعات سے کم ہیں لیکن پھر بھی دگنے تو ہوگئے، آیندہ عام انتخابات میں ہم بہرصورت اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ واضح رہے کہ پارلیمانی انتخابات میں ۱۰ فی صد سے کم ووٹ لینے والی پارٹی کے ووٹ بھی بڑی پارٹیوں میں تقسیم کرتے ہوئے اسے اسمبلی میں جانے سے روک دیا جاتا ہے۔
عین انتخابات کے دنوں میں ناٹو کے نئے سربراہ کا انتخاب بھی ہوگیا جس کے لیے ڈنمارک کے وزیراعظم اینڈرس فوگ راسموسن کا نام پیش کیا گیا تھا۔ ترکی نے اس کے نام پر اعتراض کیا لیکن امریکی و یورپی اصرار پر اسی کو سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا، البتہ ترکی کو اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کا عہدہ دے دیا گیا جو یقینا راسموسن کے شر کو کم کرنے اور ترکی کے کردار میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔ واضح رہے کہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے ناٹو کے تمام ۲۸ ارکان کا اجماع ضروری ہے۔ منتخب ہونے کے بعد راسموسن نے بیان دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کا احترام کرتا ہے اور ان سے مذاکرات کرے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے فوراً بعد امریکی صدر اوباما نے ترکی کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کی بازگشت کئی ہفتوں سے سنی جارہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ امریکی صدر عالمِ اسلام بلکہ اُمت مسلمہ کو اہم پیغام دے گا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا کسی بھی مسلم ملک کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اوباما نے ترکی میں وزیراعظم اردگان کے ہمراہ تاریخی مساجد اور عثمانی آثار کا دورہ یا ’سیر‘ کرتے ہوئے عالمِ اسلام سے دوستی کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں واضح طور پر اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ امریکا عالمِ اسلام کے ساتھ حالت ِ جنگ میں نہیں ہے… ہم باہمی احترام اور مشترک مفادات کی بنیاد پر وسیع تر تعاون کی راہ نکالیں گے۔ ہم دھیان سے بات سنیں گے، غلط فہمیوں کا ازالہ کریں گے اور مشترکات کی تلاش جاری رکھیں گے‘‘۔ خدشہ ہے کہ خلافت عثمانی کے دارالحکومت سے دیے گئے یہ بیانات نقش برآب ثابت ہوں گے کیونکہ اصل فیصلہ اقوال نہیں اعمال کی بنا پر ہوتا ہے۔
انڈونیشیا کے حالیہ انتخابات جولائی ۱۹۹۸ء میں صدر سوہارتو کے ۳۲ سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد تیسرے عام انتخابات تھے۔ ۳۸ چھوٹی بڑی پارٹیوں اور گروہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ۱۸ لاکھ امیدوار میدان میں اُتارے تھے۔ ۱۷ کروڑ ووٹروں کو ووٹ کا حق حاصل تھا۔ تجزیہ نگاروں نے پانچ سیاسی پارٹیوں کو فیصلہ کن قوتیں قرار دیا تھا، نتائج کے بعد اکانومسٹ کے مطابق جیتنے والا صرف ایک تھا اور ہارنے والے کئی۔ موجودہ صدر (ریٹائرڈ جنرل) سوسینو بامبانگ یودھویونو کی ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ ۲۰ فی صد ووٹ لے کر سب سے بڑی قوت بن گئی۔ ۲۰۰۴ء میں ہونے والے انتخابات کی نسبت اس پارٹی کے ووٹ ۳ گنا زیادہ ہوگئے۔ میگاوتی سوئیکارنو پتری کی پارٹی نے ۱۵ فی صد، جب کہ سابق صدر سوہارتو کی ’گولکر پارٹی‘ کے موجودہ سربراہ اور ملک کے حالیہ نائب صدر یوسف کالا نے ۱۴ فی صد ووٹ حاصل کیے۔ نائب صدر آیندہ صدارتی انتخابات میں صدر سوسینو کے مدمقابل صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ چوتھے نمبر پر وہاں کی اسلامی تحریک ’جسٹس پارٹی‘ آئی ہے، اسے ۴ء۸ فی صد ووٹ حاصل ہوئے۔
انتخابات کے باقاعدہ نتائج کا اعلان ۹مئی کو ہوگا۔ ابھی تک صرف یہی تناسب بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے، سیٹوں کی تعداد بعد میں ہی بتائی جائے گی۔ جسٹس پارٹی نے سوہارتو کی ۳۲ سالہ طویل ڈکٹیٹرشپ کے بعد ۱۹۹۹ء کے انتخابات میں پہلی بار شرکت کی اور ۴ء۱ فی صد ووٹ حاصل کیے۔ پھر ۲۰۰۴ء کے انتخابات میں ۳ء۷ فی صد ووٹ لیے اور اب ۴ء۸ فی صد۔ پارٹی کے سربراہ ہدایت نور وحید کے مطابق جو گذشتہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور انتہائی قابلِ احترام شخصیت ہیں، ووٹوں کی نسبت سیٹوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی چالیس سے زائد پارٹیوں میں جسٹس پارٹی ہی واحد جماعت ہے جس کے ارکان اور ذمہ داران پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ اسلامی پارٹیاں کہلانے والی جماعتوں کے کل ووٹ گذشتہ انتخابات کی نسبت کافی کم ہوئے ہیں۔ گذشتہ بار انھیں ۳۹ فی صد ووٹ ملے تھے جب کہ اب تقریباً ۳۰ فی صد۔ مجموعی کمی کے باوجود ’عدالت پارٹی‘ کو نہ صرف یہ کہ کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اس کی سیٹوں اور ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اب آیندہ مرحلے میں صدارتی انتخاب ہونا ہیں، نئے نئے اتحاد وجود میں آرہے ہیں۔ قوانین کے مطابق ہر صدارتی امیدوار کے لیے کسی نہ کسی ایسی پارلیمانی جماعت یا اتحاد کے ساتھ اتحادبنانا ضروری ہے جو ۵۶۰ ارکان کے ایوان میں کم از کم ۱۲ نشستیں رکھتا ہو۔ عام انتخابات کے بعد ہونے والی ملاقاتوں اور کئی بیانات سے یہ امکان قوی تر ہو رہا ہے کہ صدر سوسینو کی ڈیموکریٹک پارٹی اور اسلامی تحریک جسٹس پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد وجود میں آجائے۔ خود صدر کی طرف سے بار بار اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن جسٹس پارٹی کے سربراہ ہدایت نور وحید نے ایک پالیسی بیان میں کہا ہے کہ سیاسی اتحاد صرف سرکاری مناصب کی تقسیم کے لیے نہیں، بلکہ اس بنیاد پر بننا چاہیے کہ جیتنے والا اپنے اعلان کردہ پروگرام اور منشور پر عمل درآمد کرسکے، ووٹروں کے اعتماد پر پورا اُتر سکے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم چند ووٹوں کے فرق سے جیتنے والے صدر کے بجاے مضبوط بنیادوں پر قائم اور مضبوط ارادوں کا مالک صدر چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ماضی کے ایسے تجربات دوبارہ نہ دہرائے جاسکیں کہ کسی بھی چھوٹے سے سیاسی مسئلے کو بنیاد بناکر صدر اور نائب صدر کو اپنے پروگرام پر عمل درآمد نہ کرنے دیا جائے۔ حالیہ انتخابی نتائج بعض لوگوں کے لیے انتہائی غیرمتوقع ثابت ہوئے۔ ایک سیاسی لیڈر نے تو حرام موت ہی کا انتخاب کرلیا اور خودکشی کی نذر ہوگیا جب کہ دو کے لیے دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔
انڈونیشیا کو بھی اگست ۱۹۴۷ء ہی میں ہالینڈ کے استعمار سے آزادی حاصل ہوئی تھی۔ تقریباً ۲۴ کروڑ نفوس پر مشتمل ہونے کے باعث آبادی کے لحاظ سے دنیا میںچوتھے اور عالمِ اسلام میں پہلے نمبر پر آنے والا انڈونیشیا، ڈکٹیٹرشپ اور مالی بدعنوانیوں کے باعث دنیا میں اپنا اصل مقام حاصل نہیں کر سکا۔ ۹۰ فی صد آبادی مسلمان ہے، ۷ فی صد عیسائی، ۲ فی صد ہندو اور ایک فی صد دیگر مذاہب سے ہیں۔ سوہارتو سے نجات کے بعد لگاتار تیسرے انتخاب منعقد ہوجانا اور بدعنوانیوں سے نجات کے مطالبے کا مرکزی حیثیت حاصل کر جانا اِس اُمید کو روشن تر کر رہا ہے کہ انڈونیشیا اپنے وسیع رقبے (ایک لاکھ ۹۱ ہزار ۹ سو ۴۰ مربع کلومیٹر)، بڑی آبادی اور کرپشن سے نجات کی دعوے دار اصلاحی تحریکوں کی کامیابی سے دنیا میں اپنا حقیقی کردار ادا کرسکے گا۔
حالیہ انتخابات سے پہلے ’کرپٹ لیڈروں کے خلاف قومی تحریک‘ کے عنوان سے ایک نمایاں سرگرمی سامنے آئی۔ جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر وجود میں آنے والے اس پلیٹ فارم نے ان لیڈروں کی فہرست تیار کی جن کی کرپشن کے باقاعدہ ثبوت ان کے پاس تھے۔ اس فہرست کو بڑے پیمانے پر عوام میں پھیلایا گیا۔ اس تحریک کے ایک ذمہ دار عدنان توبان نے رائٹر سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارا مقصد ایسے افراد کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے سے روکنا ہے جو ماضی میں اپنے دامن کو بدعنوانی سے نہیں بچاسکے‘‘۔ ایک سابق وزیر کے بقول: ’’اب حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ خود سیاسی پارٹیوں کی اصلاح کا وقت بھی آگیا ہے‘‘۔
عالمی انتخابی موسم میں عوام کا یہ روز افزوں احساسِ زیاں اطمینان کا باعث ہے۔ ترکی کے بعد انڈونیشیا کے انتخاب نے بھی اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ اگر پُرامن، شفاف، آزادانہ اور مسلسل انتخابات کا عمل جاری رکھا جائے تو نہ صرف تعمیر و ترقی اور اصلاح کو یقینی بنایا جاسکتا ہے بلکہ بہت سے ناقابلِ فہم، جلدباز اور لٹھ مار رجحانات کا راستہ بھی روکا جاسکتاہے جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کا چہرہ مسخ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ اُمت کی وحدت و سالمیت کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
سچ فرمایا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے: ’’جلدبازی کے لٹھ سے سواری کو ہلاک کرڈالنے والے نے نہ تو منزل حاصل کی اور نہ اپنی سواری ہی باقی رہنے دی‘‘۔ ان المنبت لا أرضاً قطع ولا ظھراً أبقی۔
سوڈان کے بارے میں مغرب کے عزائم کوئی خفیہ راز نہیں۔ وہی مغرب جسے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی، جارحیت، قتل و غارت، سفاکی و بے رحمی کچھ نظر نہیں آتا، دارفور میں ایسا کچھ نہ ہونے پر بھی، تمام عالمی اداروں کو حکومتِ سوڈان کے خلاف صف آرا کردیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے ۲۰۰۴ء سے لے کر اب تک پوری ۱۱قراردادیں منظورکرڈالیں کہ حقوقِ انسانی کی صورت حال خراب ہے۔ سیکورٹی کونسل نے ۲۰۰۵ء میں اپنی قرارداد نمبر ۱۵۹۳ کے ذریعے یہ معاملہ عالمی عدالتِ جرائم میں بھیج دیا۔ ۱۴ جولائی ۲۰۰۸ء کو اٹارنی جنرل اوکامبو نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ’’سوڈانی باشندے وزیر انسانی امور احمد محمد ہارون اور جنجا وید ملیشیا کے سربراہ علی قشیب دارفور میں قتلِ عام کے اصل ذمہ دار ہیں اور سوڈانی صدر انھیں ہمارے حوالے نہیں کر رہے، مطالبہ کیا کہ خود صدر کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ ۴ مارچ ۲۰۰۹ء کو عدالت نے خود صدرعمرالبشیر ہی کو اس قتلِ عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ اب اوکامبو کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سوڈانی صدر ملک سے باہر نکلے گا انھیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ امریکا اور فرانس نے بھی اس بارے میں بڑھ چڑھ کر دھمکیاں دی ہیں۔
دارفور کا بحران آخر ہے کیا؟عرب اور افریقی قبائل کے درمیان چراگاہوں کے مسئلے پر جھگڑا ہوا جسے فتنہ جو طاقتوں نے ہوا دے کر حکومت کے خلاف بغاوت کی شکل دی۔ تحریکِ آزادیِ سوڈان قائم کی جسے ہر طرح کی پشت پناہی اور مدد فراہم کی گئی۔ اس کے اسرائیل سے باقاعدہ روابط قائم ہیں۔ عالمی سطح پر بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے عمرالبشیر کو مجرم قرار دلوانے کی کوشش کی گئی۔
سوڈان کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی عدالتی نہیں، سراسر سیاسی مسئلہ ہے اور اصل ہدف سوڈانی صدر نہیں، سوڈان کی ریاست ہے۔ جس عدالت سے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اس کی تشکیل کے وقت دو باتیں طے کی گئیں: ایک تو یہ کہ یہ عدالت اپنی تاریخِ تشکیل (یکم جولائی ۲۰۰۲ء) سے پہلے کے واقعات کے بارے میں خاموش رہے گی۔ دوسرے یہ کہ جو ممالک اس عدالت کی تشکیل کی دستاویز پر دستخط اور ان دستخطوں کی توثیق نہیں کریں گے، عدالت ان ممالک کے بارے میں بھی کوئی مقدمہ نہیں سن سکے گی۔ یہی وجہ تھی کہ حال ہی میں ۴۰ سے زائد عراقی درخواست گزاروں نے عراق میں ہونے والے قتلِ عام اور ابوغُرَیب کے واقعات کے بارے میں مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی تو اٹارنی جنرل اوکامبو نے یہ کہہ کر درخواستیں مسترد کردیں کہ عراق نے عدالت کو تسلیم ہی نہیں کیا اس لیے وہاں کا کوئی مقدمہ نہیں سن سکتے۔ یہی جواب غزہ کے بارے میں دی جانے والی درخواستوں کا بھی دیا گیا کہ اسرائیل نے عدالت کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ سوڈان نے بھی تو اس عدالت کو تسلیم نہیں کیا…؟ (No comments) ،اس پر کوئی تبصرہ نہیں۔
یہ ہے عالمی عدالت کے انصاف اور انسان دوستی کی حقیقت! اس کے اٹارنی جنرل لوئیس مورینو اوکامبو نے یہ سارا بحران کھڑا کرنے اور ایک مسلمان حکمران کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیے اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ خود دارفور جاکر حقائق و شواہد کا جائزہ لیتا۔ اس نے صرف بعض غیرسرکاری تنظیموں این جی اوز اور کچھ برسرِپیکار عناصر کی گواہیوں پر ہی مقدمے کی پوری عمارت کھڑی کر دی۔ ان ’عناصر‘ کی قلعی بھی خود صہیونی اخبارات کھول رہے ہیں۔
اس وارنٹ گرفتاری اور عالمی عدالت جرائم کے دائرۂ کار اور طریق کار کے بارے میں مزید کئی قانونی و اخلاقی پہلو بہت اہم ہیں، لیکن بنیادی طور پر چونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اس لیے حکومت سوڈان بھی اسے سیاسی انداز ہی سے حل کر رہی ہے۔ ابھی تک سوڈان کی طرف سے اس عدالت میں نہ کوئی پیش ہوا، نہ کسی طرح مقدمے کی پیروی ہی کی گئی ہے۔ ہاں دارفور کی صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اصلاح احوال کی متعدد اہم کوششیں کی گئی ہیں۔ دارفور میں تعمیروترقی کے کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، مزید کئی پر کام جاری ہے۔ دارفور کے مختلف دھڑوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔ مختلف قبائل کے درمیان بھی مصالحت کروائی گئی ہے اور بعض اہم قبائل اور حکومت کے مابین بھی۔ اس ضمن میں اہم ترین کامیابی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حکومت سوڈان اور دارفور کے بعض نمایاں متحارب دھڑوں کے درمیان بین الاقوامی گارنٹی کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ہے۔ ۴ مارچ کو وارنٹ گرفتاری آنے کے چار روز بعد ہی سوڈانی صدر شمالی دارفور کے دارالحکومت فاشر پہنچ گئے۔ لاکھوں کی تعداد میں اہلِ دارفور نے ان کا استقبال کیا۔ اگلے ہفتے وہ جنوبی دارفور کے شہر سبدو پہنچ گئے یہاں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ عمرالبشیر نے ان اجتماعات میں اس عدالت اور اس کی پسِ پشت قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’آپ کے وارنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں اور ان شاء اللہ اپنے عوام کے تعاون سے تعمیروترقی کا سفر جاری رکھوں گا‘‘۔ سوڈانی صدر نے ان اجتماعات ہی میں اعلان کرتے ہوئے ایسی کئی عالمی تنظیموں کو سوڈان سے نکل جانے کا حکم دیا جو ان کے بقول امدادی سرگرمیوں کے لیے نہیں، جاسوسی کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ ان کے اس اعلان پر سب سے زیادہ ہنگامہ ہیلری کلنٹن نے برپا کیا‘‘۔
اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر ’آفی ڈیخٹر‘ بغیر کسی لاگ لپٹ کے واضح طور پر کہہ چکے ہیں: ’’ہمارا ہدف سوڈان کے حصے بخرے کرنا اور وہاں خانہ جنگی کی آگ بھڑکائے رکھنا ہے، کیونکہ سوڈان اپنی وسیع و عریض سرزمین، بے تحاشا معدنی و زرعی وسائل اور بڑی آبادی کے ذریعے ایک طاقت ور علاقائی قوت بن سکتا ہے۔ سوڈان کے ہم سے دُور دراز ہونے کے باوجود عالمِ عرب کی قوت میں اضافے کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔ اگر سوڈان میں استحکام رہا تو وہ اپنے وسائل کے ذریعے ایسی قوت بن جائے گا جس کا مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔ سوڈان سے اس کی یہ صلاحیت سلب کرلینا اسرائیلی قومی سلامتی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے‘‘۔(۱۰ اکتوبر ۲۰۰۸ء کے اسرائیلی اخبارات)
اسرائیلی وزیر نے تاریخ سے ایک حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۰ء کے دوران جب مصر اور اسرائیل حالت ِ جنگ میں تھے تو سوڈان نے مصری فضائیہ کی اصل قوت اور بری افواج کے تربیتی مراکز کے لیے اپنی سرزمین فراہم کی تھی۔ اس صورت حال کے اعادے سے بچنے کے لیے اسرائیلی ذمہ داران کا فرض تھا کہ وہ سوڈان کے لیے ایسی مشکلات کھڑی کریں جن سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ رہے‘‘۔ وزیرداخلی سلامتی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سوڈان کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا، یوگنڈا، کینیا اور زائیر میں سوڈان مخالف مراکز قائم کیے، اور اسرائیل کی تمام حکومتوں نے ان مراکز کو فعال رکھا ہے تاکہ سوڈان عالمِ عرب اور عالمِ افریقہ میں کوئی مرکزی حیثیت نہ حاصل کرسکے۔
اسی ترنگ میں دارفور کا ذکر کرتے ہوئے آفی ڈیخٹر کہتا ہے: ’’دارفور میں ہماری موجودگی ناگزیر تھی۔ یہ سابق اسرائیلی وزیراعظم شیرون کی دوربینی اور افریقی معاملات پر دسترس تھی کہ اس نے دارفور میں بحران کھڑا کرنے کی تجویز دی۔ ان کی تجویز پر عمل کیا گیا، عالمی برادری خاص طور پر امریکا و یورپ نے ساتھ دیا اور بالکل انھی وسائل، ذرائع اور اہداف کے مطابق دارفور میں ’کام شروع ہوگیا‘ جو ہم نے تجویز کیے تھے۔ آج یہ امر ہمارے لیے باعث ِ تشفی ہے کہ دارفور کے بارے میں ہمارے طے شدہ اہداف و مقاصد اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں‘‘۔
دھمکیوں اور سازشوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینا تباہی کا سفر تیز کردیتا ہے۔ اپنے حق پر ڈٹ جانا اور اپنی آزادی و وحدت کا ہر ممکن قوت سے دفاع کرنا ہی راہِ نجات ہے۔ سوڈانی صدر اور عوام نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ وارنٹ جاری ہونے کے بعد اوکامبو نے دھمکی دی تھی کہ سوڈانی صدر بیرون ملک گئے تو گرفتار کرلیے جائیں گے۔ ۲۸مارچ کو دوحہ میں عرب لیگ کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔ سوڈانی صدر نے سب سے پہلے اعلان کیا ہے کہ میںوہاں ضرور جائوں گا۔ اس اعلان پر خود سوڈان میں بھی ایک راے یہ پائی جاتی ہے کہ وہاں نہ جایا جائے۔ علماکی ایک تنظیم نے فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ اس وقت سفر خلافِ مصلحت ہے لیکن سوڈانی صدر ۲۸ مارچ کا انتظار کیے بغیر ۲۳مارچ ہی کو اریٹریا کی دعوت قبول کرتے ہوئے وہاں کے دارالحکومت اسمرہ پہنچ گئے تاکہ دنیا کو بھی ایک پیغام دیں اور اپنے عوام کو بھی نفسیاتی مخمصے سے نجات دلائیں۔
ابھی اس بحران کی بوتل سے صہیونی اشاروں پر بہت کچھ برآمد ہونے کی توقع ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان ممالک اور اُمت ِ مسلمہ اس عالمی توہین کا کیا بدلہ لیتی ہے۔ اگر مسلمان ممالک نے افغانستان و عراق کی تذلیل کی طرح یہ اہانت بھی برداشت کر لی تو پھر یقینا ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی۔
صومالیہ میں خد ا خدا کر کے ایک ایسی حکومت وجود میں آگئی ہے جس سے صومالی اور دیگر افریقی ممالک کے لوگوں کو امید بندھ گئی ہے کہ طویل خانہ جنگی، افراتفری اور انتشار کے بعد صومالیہ کے حالات سنبھل جائیں گے اور نفاذِ شریعت کی طرف بھی پیش رفت ہوسکے گی۔نئی حکومت کے سربراہ ۴۵ سالہ شیخ شریف احمد معتدل، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روحانی سلسلے اویسیہ کے راہ نما ہیں۔ انھوں نے اپنی پارلیمان سے مشاورت کے بعد ایک اور نوجوان عمر عبدالرشید علی شرمارکے، کو وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ، ماہر سفارت کار، اور ملک کے پہلے صدر عبدالرشید علی شرمارکے، کے فرزند ہیں۔ صدر شرمارکے، کو فوجی انقلاب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ مرحوم کے بارے میں عام صومالی اب تک اچھی رائے رکھتے ہیں۔ نئی حکومت کے سامنے بہت بڑے چیلنج ہیں۔ موجودہ حالات میں صومالیہ پر حکومت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ فی الحقیقت کانٹوں کا تاج ہے جو ان دونوجوانوں نے سر پر سجالیا ہے۔ اللہ ان کی مدد کرے۔
صومالیہ براعظم افریقہ کا پس ماندہ ترین ملک ہے، جس کی آبادی ۱۰۰ فی صد مسلمان ہے۔ قرنِ افریقہ میں واقع یہ ملک ۶ لاکھ ۳۷ ہزار ۶سو ۵۷ مربع کلومیٹر رقبے کو محیط ہے، جس میں سے بہت بڑا حصہ صحرائی اور بالکل بنجر ہے۔ کچھ پہاڑی علاقے بھی ہیں اور ساحلِ سمندر کے ساتھ بھی ۶ہزار ۳ سو کلومیٹر لمبی پٹی لگتی ہے، جس میں خلیج عدن، بحیرہ عرب اور بحرہند کے ساحل شامل ہیں۔ جوبا اور شبلی نامی دو دریا بھی اس ملک سے گزرتے ہیں لیکن ان سے کوئی خاطرخواہ زرعی و صنعتی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اُونٹ، بھیڑبکری اور گائے پالتو جانور ہیں۔ بیش تر لوگ چرواہے ہیں۔ یورینیم اور تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں مگر ابھی تک انھیں حاصل کرنے کا کوئی جامع منصوبہ عمل میں نہیں لایا جاسکا۔
صومالیہ کو برطانوی اور اطالوی استعمار سے ۱۹۶۰ء میں آزادی ملی۔ آزادی کے فوراً بعد صومالیہ کی اپنے ہمسایے کینیا سے سرحدی علاقوں کے تنازع پر جنگ چھڑ گئی جس میں دونوں ملکوں کا خاصا نقصان ہوا مگر صومالیہ کے متنازع علاقوں پر برطانیہ، امریکا اور عالمِ مغرب کی اشیرباد سے کینیا کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔ صومالیہ کا پہلا صدر عبدالرشید علی شرمارکے، ایک صاف ستھرا سیاست دان تھا مگر طبعاً کمزور تھا۔ اس لیے ملک میں بدنظمی اور کرپشن کی وجہ سے عدمِ اطمینان پیدا ہوا۔ ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کے سربراہ میجر جنرل محمد زیاد برّے نے ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو بغاوت کرکے ملک پر قبضہ کرلیا اور صدر شرمارکے، کو قتل کردیا گیا۔ یوں ملک پر فوجی آمریت مسلط ہوئی جو ۱۹۹۱ء تک قائم رہی اور جب اس کا خاتمہ ہوا تو صومالیہ بدترین خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا۔
آمریت ملکوں اورقوموں کے لیے ہمیشہ زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔ زیاد برّے کے ملک سے فرار ہو جانے کے بعد اب تک کوئی متحدہ حکومت صومالیہ میں قائم نہیں ہوسکی۔ وقتاًفوقتاً مختلف مسلح گروہ اور قبائلی لشکر دارالحکومت مقدیشو پر قابض ہوتے رہے مگر پورا ملک ایک حکومت کے تحت متحد ہونے کے بجاے مختلف گروپوں کے زیرتسلط رہا۔ کینیا کے ساتھ صومالیہ کے تعلقات معمول پر آئے تو بدقسمتی سے اس کے شمالی ہمسایے ایتھوپیا سے نئی جنگ چھڑ گئی۔ ادھر ایتھوپیا میں ہیلے مینگستو کا تختہ اُلٹ کر میلس زیناوی (Meles Zenawi) برسرِاقتدار آگیا، اور یہ اسی طرح امریکی مہرہ ہے جس طرح پاکستان اور افغان حکمران۔ امریکا کے اشارے پر ایتھوپیا کی فوجیں اگست ۲۰۰۱ء میں صومالیہ میں امن قائم کرنے کے بہانے داخل ہوئیں جوچند ماہ قبل تک وہاں موجود رہی ہیں اور بے پناہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا ارتکاب کرتی رہی ہیں۔
صومالیہ میں بہت سے جنگ جُو سردار اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیںقائم کیے بیٹھے تھے۔ فرح عدید ۱۹۹۲ء میںمقدیشو پر قابض تھا۔ اس نے امریکی فوجیوں کو پکڑ کر مقدیشو کی سڑکوں پر گھسیٹا تھا جس کے نتیجے میں امریکی تو وہاں سے دم دبا کے بھاگ گئے مگر انھوں نے ایتھوپیا کے ذریعے صومالیہ سے خوب انتقام لیا۔ افریقی اتحاد کی تنظیم (OAU) اور دوسری عالمی تنظیموں نے کوشش کی کہ صومالیہ میں اتفاق راے پیدا ہوجائے اور امن و امان کی کوئی صورت بن سکے مگر یہ تمام کوششیں صومالیہ کے اسلام پسند حلقوں کو مجوزہ سیٹ اَپ سے خارج کرنے پر مرتکز رہیں۔ صومالی اپنی طبیعت کے لحاظ سے افغانوں سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ اگر ہم صومالیہ کو افریقہ کا افغانستان کہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ صومالی جفاکش اور بہادر قوم ہیں اور اسلام سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔
اگست ۲۰۰۴ء میں عالمی اداروں کے دبائو کے تحت مختلف گروپوں کے درمیان کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک معاہدہ طے پایا جس میں ۲۷۵ نامزد ارکان پرمشتمل ایک پارلیمان وجود میںآئی۔ دو ماہ بعد نیروبی ہی میں صومالیہ کے نیم خودمختار صوبے ارض البنط (pant land) کے راہنما عبداللہ یوسف کو وفاقی حکومت کا عبوری صدر بنا دیا گیا جو امریکا کا منظورِنظر تھا۔ صاحب ِموصوف نے نیروبی ہی میں اپنے منصب کا حلف اٹھایا اور اسی دن افریقی یونین سے درخواست کردی کہ وہ ۲۰ہزار فوجی صومالیہ میں امن قائم کرنے کے لیے بھیجے۔ چونکہ اس نئے صدر کی ذاتی شہرت بھی اچھی نہیں تھی اور ملک میں عمومی حمایت سے بھی وہ محروم تھے، اس لیے زیادہ دیر اپنا مصنوعی اقتدار قائم نہ رکھ سکے۔ اس عرصے میں نفاذِ شریعت کے لیے ملک میں اسلامی عدالتوں کے نام سے ایک تحریک چل رہی تھی جو دن بہ دن لوگوں میں مقبول ہورہی تھی۔ اسلامی عدالت اتحاد نے صرف ۴ ماہ کی لڑائی کے بعد جون ۲۰۰۶ء میں دارالحکومت مقدیشو اور دیگر اہم مقامات پر قبضہ کرلیا۔ ان لوگوں نے تھوڑے عرصے میں امن و امان کی حالت بہت بہتر بنا دی۔
اس دور میں بھی موجودہ صدرِ مملکت، اسلامی عدالت یونین کے چیئرمین شیخ شریف احمد کو وسیع تر مشاورت میں صدرِ مملکت بنانے کا فیصلہ ہوا تھا مگر امریکی سرپرستی میں قائم عبوری پارلیمنٹ مقیم نیروبی نے اسلامی انتظامیہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ایتھوپیا اور امریکا کو مداخلت کی دعوت دی۔ اس کے بعد حبشہ کی فوجی پیش قدمی شروع ہوئی۔ امریکا کی مکمل سرپرستی میں دسمبر ۲۰۰۶ء میں حبشہ کے زمینی حملے کے ساتھ ہی امریکی گن شپ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی حملے شروع ہوگئے اور یوں صومالیہ کا امن پھر تباہ و برباد ہوگیا۔ اس طرح ایتھوپیا (عملاً) اور امریکا (بالواسطہ) ملک پر مسلط ہوگئے۔ اسی عرصے میں مسلم نوجوانوں کی ایک تنظیم ’الشباب‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ امریکا نے اسے القاعدہ کی ایک شاخ قرار دیا۔ بدقسمتی سے الشباب اور اسلامی عدالت اتحاد نے اپنے اپنے راستے الگ کرلیے جس سے اسلام پسند قوتیں کمزور ہوئیں۔ صومالیہ کے حالات سے باخبرتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ الشباب میں کچھ عناصر باہر سے داخل (induct) کیے گئے تھے جو اس اختلاف کے شعلوں پر تیل چھڑک رہے تھے۔ یوں مفاہمت کی ہر کوشش دم توڑ گئی۔
ستمبر ۲۰۰۷ء میں اریٹیریا کے دارالحکومت اسمارا میں اسلام پسندوں کا ایک نیا اتحاد وجود میں آیا، جسے انھوں نے اتحاد براے آزادیِ نو صومالیہ (Alliance for the Re-liberation of Somalia) کا نام دیا۔ امریکا کے منظورِنظر صدر عبداللہ یوسف نے نومبر ۲۰۰۷ء میں نورحسن حسین کو وزیراعظم نامزد کیا لیکن صومالیہ پر کوئی حقیقی رٹ قائم کرنے میں یہ حکومت بُری طرح ناکام رہی۔ صدر اور وزیراعظم ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہوگئے۔ دسمبر ۲۰۰۸ء میں صدر نے وزیراعظم کو معزول کردیا اور محمود محمد گلید کو وزیراعظم نامزد کیا گیا مگر پارلیمان نے اس کے تقرر کو مسترد کردیا۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ اتحاد براے آزادیِ نو صومالیہ کی شرکت کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
صدر عبداللہ یوسف، ذلیل و رسوا ہوکر ۲۹دسمبر ۲۰۰۸ء کو صدارت چھوڑ کر گوشہ نشین ہوگیا۔ نئے فارمولے کے تحت ۳۱ جنوری ۲۰۰۹ء کو جبوتی میں ایک نئی عبوری پارلیمنٹ وجود میں آئی، جس میں ۲۰۰ ارکانِ اسمبلی اسلامی گروپوں سے اور ۷۵ مختلف قبائل سے نامزد کیے گئے۔ ہرقبیلے کو اس کے حجم کے مطابق نمایندگی دی گئی۔ اس اجلاس میں کثرت راے سے شیخ شریف احمد کو صومالیہ کا نیا صدر چن لیا گیا۔ اپنے انتخاب کے بعد انھوں نے متوازن اور معتدل انداز میں ملکی بحران کو قومی اتفاق راے سے حل کرنے کا اعلان کیا۔ ۱۹۹۱ء کے بعد سے یہ اس شورش زدہ ملک کی پندرھویں حکومت ہے۔ اس کی کامیابی و ناکامی کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ ’الشباب‘ نے اس نئے سیٹ اَپ کو قبول نہیں کیا اور بعض علاقوں میں ان کازور ہے۔ الشباب کی قیادت ایک نوجوان شیخ حسن ظاہر اویس کر رہے ہیں جو ایک بہادر اور جنگ جُو نوجوان ہیں اور امریکا نے ان کے سر کی قیمت مقرر کر کے انھیں اشتہاری ’دہشت گرد‘ قرار دیا ہوا ہے۔
۷ فروری ۲۰۰۹ء کو شیخ شریف احمد مقدیشو میں اپنی عبوری پارلیمنٹ کے ساتھ تشریف لائے تو ہزاروں لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ شیخ شریف البغال قبیلے سے ہیں جو معروف اور محترم سمجھا جاتا ہے۔ وہ جولائی ۱۹۶۴ء میں پید ا ہوئے۔ انھوں نے اپنی تعلیم لیبیا اور سوڈان میں مکمل کی۔ سوڈان میں قیام کے دوران وہ اخوان کی دعوت سے بھی متاثر ہوئے۔ وہ معتدل مزاج اور نیک نفس انسان ہیں۔ بیش تر صومالیوں کی طرح شیخ شریف بھی حافظ قرآن ہیں اور اویسی سلسلے کے روحانی پیشوا ہیں۔ انتہائی ملنسار، بُردبار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ صومالی صدر خود کو استاد (معلم) کہلانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کا تخصص علومِ جغرافیہ میں ہے۔ شیخ شریف کے بارے میں عام تجزیہ نگار پُرامید ہیں کہ وہ مسائل کو حل کرلیں گے۔
شیخ شریف نے حلف اٹھانے کے بعد جبوتی میں ارکانِ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا اور اتفاق راے سے ایک نوجوان عمر عبدالرشید علی شرمارکے، کو پارلیمنٹ کا وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ موصوف ایک سابق سفارت کار ہیں جو اقوام متحدہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ امریکا کے تعلیم یافتہ ہیں اور صومالیہ کے ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے کینیڈا میں منتقل ہوگئے تھے۔ انھیں ایک ماہ کے اندر کابینہ نامزد کرنا ہوگی، جس کی منظوری پارلیمنٹ سے ضروری ہے۔ ان کا تعلق ایک بڑے قبیلے دارود سے ہے۔ وہ آزاد صومالیہ کے پہلے صدر کے بیٹے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کو عمومی طور پر لوگوں کی حمایت حاصل ہے مگر ’الشباب‘ تنظیم نے صدر کے بارے میں تو زیادہ سخت تبصرہ نہیں کیا تھا البتہ نامزد وزیراعظم پر شدید الفاظ میں تنقید کی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی سنا جا رہا ہے کہ امریکا نامزد وزیراعظم کوقبول کر لے گا مگر شاید نومنتخب صدر کو زیادہ عرصہ برداشت نہ کرسکے۔ شیخ شریف ایتھوپیا کو بھی سخت ناپسند ہیں۔ حبشہ کی فوجوں کی یلغار کے بعد شیخ شریف کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی۔
تقریباً ۹۰ لاکھ آبادی پر مشتمل یہ وسیع و عریض خطہ بدحالی، خانہ جنگی، قحط سالی اور قتل و غارت گری کی وجہ سے بدترین بحران کا شکار ہے۔ صومالیہ کو بحری قزاقی کا بھی سامنا ہے جو تجارتی بحری جہازوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صومالیہ کے انتہائی دگرگوں حالات نے ہی ان لوگوں کو جرائم پر مجبور کردیا ہے۔ پوری دنیا کو صومالیہ کے مسائل پر سر جوڑ کر اس کا کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔ اگر یہاں امن قائم نہ ہوسکا تو بحرہند اور خلیج عدن کے تجارتی راستے مستقل خطرات کی زد میں رہیں گے۔ موجودہ حکومت سے قیامِ امن اور نفاذِ شریعت کے لیے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔
بنگلہ دیش ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جو ۱۶؍دسمبر۱۹۷۱ء تک پاکستان کے مشرقی بازو کے طور پر ہمارا ایک صوبہ تھا۔ اس کے بعد اس نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی اور اب ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ بنگلہ دیش کی آبادی تقریباً ۱۵کروڑ افراد پرمشتمل ہے۔ یہاں گذشتہ ۳۷ برسوں کے دوران کئی مرتبہ فوج نے براہِ راست انقلاب برپا کیا اور مارشل لا لگا کر حکومت پر قبضہ کیا۔ بعد میں فوجی جرنیلوں نے خود کو سیاسی شخصیت بنانے کے لیے اپنی سیاسی پارٹیاں بنائیں اور ان کے ذریعے سے کئی سال حکومت کرتے رہے۔
شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد اور جنرل ضیا الرحمن کی بیوہ خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی عوامی لیگ اور بی این پی کی راہ نما ہیں۔ دونوں خواتین یکے بعد دیگرے وزراے اعظم رہ چکی ہیں۔ خالدہ ضیا نے یہ منصب دو مرتبہ حاصل کیا۔ ان کی حکومت کو فوج نے پُرتشدد ہنگاموں کے بعد ۲۰۰۶ء کے آخر میں برخاست کردیا تھا۔ فوج نے اس مرتبہ براہِ راست حکومت پر قبضہ کرنے کے بجاے پسِ پردہ رہ کر کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے بالواسطہ حکمرانی کا راستہ اپنایا۔ اصل اختیارات فوج ہی کے پاس ہیں۔ اس عبوری حکومت نے ملک کے بڑے بڑے تمام لیڈروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات قائم کیے۔ خالدہ ضیا، حسینہ واجد اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی سب پابندِ سلاسل ہوئے۔مطیع الرحمن نظامی نے چیلنج کیا کہ عام عدالت میں ان کا مقدمہ چلایا جائے۔ عدالت سے انھیں رہائی ملی مگر ایک ماہ بعد انھیں دوبارہ جماعت کے سیکرٹری جنرل، سابق وفاقی وزیر علی حسن مجاہد کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی گرفتاری پر شدید احتجاج ہوا تو عبوری حکومت نے ایمرجنسی قوانین کے تحت جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی۔ ۱۶نومبر کو دونوں قائدین کی عدالت سے ضمانت ہوگئی ہے اور وہ رہا ہوچکے ہیں۔
عبوری حکومت کی کوشش تھی کہ دونوں سابق وزراے اعظم خالدہ ضیا اور حسینہ واجد کو میدانِ سیاست سے خارج کردیا جائے لیکن اس میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوپائی۔ اب ۲۹دسمبر۲۰۰۸ء کو عام انتخابات ہونا ہیں۔ گذشتہ پارلیمنٹ میں خالدہ ضیا کی پارٹی بی این پی کے ساتھ جماعت اسلامی اور دیگر دو پارٹیوں نے اتحاد کیا تھا، جب کہ عوامی لیگ کے ساتھ ۱۰چھوٹی پارٹیاں اتحادی تھیں۔ بنگلہ دیش پارلیمنٹ میں کُل ۳۴۵ نشستیں ہیں، جن میں سے ۳۰۰ نشستیں براہِ راست انتخاب کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں اور خواتین کے لیے ۴۵ مختص نشستیں منتخب ارکانِ پارلیمنٹ کے تناسب سے پارٹیوں کو ملتی ہیں۔ جنرل نشستوں پر بھی خواتین انتخاب لڑ سکتی ہیں۔ بنگلہ دیش کا یومِ آزادی ۱۶دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان، جماعت اسلامی، البدر، الشمس اور پاک فوج کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے عوامی لیگ اور بھارت نواز عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے۔ میڈیا پر زہریلا پروپیگنڈا، در و دیوار پر چاکنگ، غرض ایک عجیب ماحول ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی فضا میں انتخابی معرکہ عوامی لیگ ہی کے مفاد میں ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی اور بی این پی دونوں جماعتیں چند ماہ کے لیے انتخابات کے التوا کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
خالدہ ضیا اور ان کی پارٹی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوامی لیگ کی حامی حکومت میں مشیرداخلہ (تمام وزرا مشیر ہی کہلاتے ہیں) حسین ظل الرحمن نے کافی مہارت سے عوامی لیگ کے حق میں فضا ہموار کردی ہے۔ بی این پی کے ۱۴۰ انتخابی حلقوں کو خراب کردیا گیا ہے۔ ۱۰۰ حلقے ایسے ہیں جہاں سے بی این پی کے مضبوط امیدواروں کو مختلف الزامات کے تحت نااہل قرار دے دیا گیا ہے، جب کہ ۴۰ حلقوں کی حدبندیاں اس طرح بدلی گئی ہیں کہ عوامی لیگ کو زبردست فائدہ پہنچے۔ اس وجہ سے بی این پی کے سیکرٹری جنرل خوندکر دلاور حسین نے انتخابات کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دی ہے۔ اب حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ انتخابات کچھ ہفتوں کے لیے ملتوی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ۳۲ سیاسی پارٹیوں نے رجسٹریشن کرا لی ہے۔
خالدہ ضیا کی بی این پی کی اتحادی جماعتوں میں جماعت اسلامی، قومی مدارس کی تنظیم، تنظیم اتحاد الاسلامی اور جنرل ارشاد کی نیشنل پارٹی کا ایک گروپ(ناجی الرحمن) شامل تھے۔ انتخابات میں خالدہ ضیا کی پارٹی نے ۲۰۱ نشستیں جیتیں۔ جماعت اسلامی نے ۱۷ (خواتین کی نشستیں ملا کر کُل ۲۰)، اتحاد الاسلامی نے ۳ اور نیشنل پارٹی(ناجی الرحمن) نے ۴ نشستیں جیتیں۔ عوامی لیگ کو صرف ۵۷ نشستیں ملیں۔ اس کے اتحادی صرف ۲ نشستیں حاصل کرسکے۔ باقی چند نشستیں جنرل ارشاد کی نیشنل پارٹی اور چند ایک آزاد امیدواروں کو ملیں۔ خالدہ ضیا کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں ۲۳۵ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ خالدہ ضیا کی کامیابی کا دارومدار پہلے بھی جماعت اسلامی کی حمایت پر تھا اور آیندہ انتخابات میں بھی جماعت ہی کے تعاون سے وہ نشستیں جیت سکیں گی۔
ملک میں راے عامہ کے سروے یہ بتاتے ہیں کہ عوامی لیگ کی حمایت تقریباً ۳۵ فی صد ہے۔ دوسرے نمبر پر ۲۹ فی صد کے ساتھ نیشنل پارٹی ہے۔ تیسرے نمبر پر جماعت اسلامی ہے جس کے حامی ۱۷ فی صد ہیں۔ جنرل حسین محمد ارشاد کی نیشنل پارٹی چند اضلاع تک محدود ہے۔ غالباً وہ ۸سے ۱۰ نشستیں حاصل کرپائیں گے۔ باقی آبادی چھوٹی پارٹیوں اور ضلعی گروپوں کے درمیان تقسیم ہے۔ بی این پی کی دیگر دو اتحادی جماعتیں بھی مجموعی طور پر ۵سے ۶ فی صد تک حمایت رکھتی ہیں۔ عوامی لیگ کے ساتھ اتحاد میں شامل جماعتیں تعداد میں تو بہت ہیں لیکن عملاً وہ محض خانہ پُری ہے۔
عبوری حکومت کے مخصوص عزائم ہیں۔ ان کی ترجیح اول تو یہ ہے کہ اہم سیاسی شخصیات کو میدانِ سیاست سے خارج کردیا جائے اور پاکستان میں پرویز مشرف کے تجربے کے مطابق کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے اپنی من مانی کی جائے۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو ان کی دوسری ترجیح یہ ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کا اتحاد کسی صورت برسرِاقتدار نہ آسکے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل معین الدین احمد بھارت کا حامی ہے اور جواب میں بھارتی حکومت بھی اس کے بارے میں خاصا نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ان جرنیل صاحب اور عوامی لیگ کے درمیان سیکولر سوچ کے علاوہ بھارت نوازی بھی ایک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔ خالدہ ضیا اور حسینہ واجد کے درمیان گذشتہ ۱۵برس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی بلکہ بول چال تک بند رہی ہے۔ اب دونوں راہ نمائوں کے درمیان ملاقات کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ عوامی لیگ چاہتی ہے کہ بی این پی بائیکاٹ نہ کرے کیونکہ اس صورت میں انتخابات کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور بی این پی کے سیکرٹری جنرل کے مطابق ایسی حکومت ایک ماہ بھی قائم نہ رہ سکے گی۔
بی این پی کوئی دینی سوچ رکھنے والی جماعت نہیں لیکن عوامی لیگ اور بی این پی کا موازنہ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جماعت بھارت کے مقابلے میں پاکستان سے زیادہ قریب ہے اور لادینی خیالات کی حمایت کرنے کے بجاے زبانی کلامی حد تک ہی سہی، اسلامی اقدار وشعائر کو ترجیح دیتی ہے۔ عوامی لیگ پاکستان مخالف ہے اور جماعت اسلامی کو آج تک غدارِ وطن قرار دیتی ہے۔ ان حالات میں جماعت اسلامی کی قیادت نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے اب تک بڑی حکمت کے ساتھ اپنا راستہ متعین کیا ہے اور ملک کی تیسری بڑی پارٹی کا مقام حاصل کرلیا ہے۔
سابقہ کابینہ میں جماعت اسلامی کے دو وزرا تھے: امیر جماعت مطیع الرحمن نظامی اور قیم جماعت علی حسن محمد مجاہد۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق انھی دووزرا کی وزارتوں میں قاعدے اور ضابطے کی مکمل پابندی کی گئی۔ عبوری حکومت نے بدعنوانی کے مقدمات قائم کرنے کے لیے ریکارڈ کی خوب چھان بین کی لیکن ان وزرا کے خلاف کوئی شواہد نہ تلاش کرسکی۔ ان کی وزارتوں کی کارکردگی کے اپنے اور غیر سب ہی قائل رہے۔ جماعت کی موجودہ بڑھتی ہوئی حمایت میں ان وزرا کی کارکردگی کا نمایاں حصہ ہے۔
جماعت اسلامی نے اسلامی بنک بنگلہ دیش کے ذریعے غیرسودی بنکاری کا قابلِ تحسین تجربہ کیا ہے۔ یہ بنک ملک کے تمام بنکوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب، اکاؤنٹ ہولڈرز کے نزدیک زیادہ قابل اعتماد اور مالیاتی امور اسلامی اصولوں کے مطابق انجام دینے کی وجہ سے انتہائی مقبول ہے۔ بنک نے اپنے حصہ داروں کو اچھا منافع دینے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اس قدر رفاہی کام کیا ہے کہ تمام مخالفانہ پروپیگنڈا اس کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا ہے۔
جماعت اسلامی نے عوامی سطح تک کسانوں اور مزدوروں کے اندر اپنی تنظیم کو منظم کیا ہے اور ملک کا کوئی حصہ ایسانہیں، جہاں انھیں مؤثر قابلِ لحاظ حمایت حاصل نہ ہو۔ جماعت اسلامی نے اپنی تنظیم میں خواتین کو بھی بڑی تعداد میں شامل کیا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کے وقت جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان تقریباً ۲۵۰ تھے۔ ان میں سے کئی شہید ہوگئے، جب کہ بہت سے جلاوطن بھی ہوئے۔ اس وقت مرد ارکان کی تعداد ۱۷ ہزار ۷ سو ۱۳ ہے، جب کہ خواتین ارکان کی تعداد ۶ہزار ۲سو ۱۱ ہے۔ یوں کُل تعداد ۳۰ہزار ۹ سو ۲۴ ہے۔
جماعت اسلامی نے تنظیمی اور مالیاتی شعبے کے علاوہ شعبہ ابلاغ عامہ میں بھی کامیاب پیش رفت کی ہے۔ ملک میں موجود سرکاری اور غیرسرکاری تمام ٹی وی چینل لادین اور ہندونواز عناصر کی آماجگاہ ہیں۔ ان سب میں قدرِ مشترک اسلام، پاکستان اور جماعت اسلامی کی مخالفت ہے۔ جماعت نے کچھ عرصہ قبل اپنا چینل شروع کیا ہے جو دیگانتو(آفاق) کے نام سے پروگرام پیش کررہا ہے اور روز بروز مقبول ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ چینل اپنا ایک روزنامہ بھی اسی نام سے شائع کررہا ہے، جس کی اشاعت اس وقت ایک لاکھ ۵۰ ہزار ہے۔
اگر مجوزہ انتخابات میں عبوری حکومت اور فوج زیادہ مداخلت نہیں کرتی تو بی این پی، جماعت اسلامی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرسکتا ہے۔ پچھلے انتخابات میں جماعت اسلامی کو اتحاد کی طرف سے ۳۰نشستیں دی گئی تھیں جس میں سے جماعت نے ۱۷ جیتیں۔ اس مرتبہ جماعت کا مطالبہ ہے کہ اسے کم از کم ۵۰ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت دی جائے۔ دیکھیے اگلے انتخابات میں برادر مسلم ملک بنگلہ دیش کی تقدیر کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
شرق اوسط میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف شام پر ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۸ء کو کیا جانے والا امریکی حملہ ہے جو امریکی عزائم کی نشان دہی کر رہا ہے تو دوسری طرف سفارتی عمل کے ذریعے نئی صورت حال سامنے آتی نظر آرہی ہے۔ سفارتی سطح پر تبدیلی کا آغاز ۲۹ مارچ ۲۰۰۸ء کو دمشق میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس سے ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کانفرنس کے اعلامیے میں عرب پالیسی کا ایک نیا رخ سامنے آیا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ نے جو اعلامیہ پڑھ کر سنایا اس میں کہا گیا تھاکہ: ’’اسرائیل اگر اپنا رویہ تبدیل کرنے پر تیار ہو تو پھر عرب ملک بھی امن کی پیش کش پر ازسرِنو غور کرنے کو تیار ہوں گے‘‘۔ یہ ’ازسرِنو غور‘ ایک نئی شرط اور ایک نیا عندیہ تھا جو پہلی بار اس کانفرنس میں سامنے آیا۔ اس وقت اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
’ازسرِنو غور‘ نے جلد ہی پَر پُرزے نکالنے شروع کردیے۔ ۲۲ مئی کو ترکی کی وساطت سے انقرہ میں بالواسطہ شام اسرائیل مذاکرات ہوئے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد پہلی بار جولان کی پہاڑیاں موضوع بنیں۔ انقرہ مذاکرات کا کھوکھلاپن اس وقت واضح ہوگیا جب جون کے اوائل میں اسرائیل کے سابق آرمی چیف اور موجودہ نائب وزیراعظم شال موفاز (Shaul Mofaz) نے صحافیوں کو بتایا کہ: ’’جولان شام کے حوالے نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
اب تک شام اور اسرائیل میں بالواسطہ مذاکرات کے چار دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود صدر بشارالاسد بڑے پُرامید ہیں۔ انھوں نے حکمران بعث پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بتایا کہ شام اور اسرائیل میں جولان کے بارے میں بلاواسطہ امن بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ انھوں نے کسی تفصیل کے بغیر بتایا کہ: ’’اسرائیل اچھی طرح سے جانتا ہے کہ شام کا مطالبہ کیا ہے اور اسے کیا قبول ہے اور کیا ناقابلِ قبول‘‘۔
اسی سال چار جون کو امریکا کی طرف سے دھمکی آئی کہ اب شام کو بین الاقوامی جوہری نگران ادارے (IAEA) سے اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانا ہوگا۔ مسلسل شامی تردید کے باوجود، امریکا کا اصرار ہے کہ شام ایران کا اتحادی ہے اوروہ شمالی کوریا کی مدد سے الکبر کا جوہری پلانٹ بنا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہ پلانٹ ہے جو گذشتہ سال ستمبر میں اسرائیل کی فضائی بم باری سے تباہ ہوچکا ہے۔ اس حملے کے لیے یہ بہانہ گھڑا گیا کہ اسرائیل کے جاسوس سیارچے نے اس پلانٹ کی جو تصویریں بھیجی تھیں وہ شمالی کوریا کی تنصیبات سے ’ملتی جلتی‘ تھیں۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ شام کی سرحدی فوجی چھائونی تھی جو زیر تعمیر تھی۔ چونکہ شام کا موقف واضح تھا اس لیے اس نے بین الاقوامی جوہری انسپکٹروں کی آمد میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ یہ انسپکٹر ۲۲ سے ۲۴ جون تک شام میں اپنی مرضی سے گھومتے پھرتے رہے، لیکن انھیں کہیں بھی کسی جوہری تنصیب کے آثار نہ ملے۔
امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ایک اور تدبیر سوجھی کہ اگر شام اور لبنان سفارتی تعلقات قائم کرلیں تو ایران تنہا رہ جائے گا اور فلسطینی تحریک حماس بھی کمزور پڑ جائے گی۔ واضح رہے کہ ۱۹۴۱ء میں لبنان اور ۱۹۴۶ء میں شام فرانس سے آزاد ہوئے لیکن وہ سفارتی تعلقات قائم نہ کرسکے (تنازع ’عظیم تر شام‘ کے نظریے کا تھا)۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ لبنان طویل عرصے تک براہِ راست شام کے زیرِاثر بلکہ زیرِ تصرف رہا ہے۔ حریری کے قتل کے بعد شامی فوجوں کو نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان تعلقات کے قیام کے لیے فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو ذمے داری دی گئی۔ انھوں نے اسی سال ۱۲ جولائی کو پیرس کے صدارتی محل ایلیزیہ میں شام کے صدر بشارالاسد اور لبنانی صدر مائیکل سلیمان کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا اور انھیں سفارتی تعلقات کے قیام پر رضامند کرلیا۔ فرانسیسی صدر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بشارالاسد ایران کو اس کے جوہری پروگرام میں پیش رفت سے باز رکھیں گے۔ دوسری طرف بشارالاسد نے صدر سرکوزی کے سامنے جولان کا مسئلہ پیش کیا کہ وہ امریکا سمیت شام اور اسرائیل کے درمیان بلاواسطہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے میں مدد دیں۔ ۳ستمبر کو فرانسیسی صدر دمشق آئے۔ دوسرے دن قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی اور ترک وزیراعظم طیب اردوگان بھی آئے۔ اس سربراہ کانفرنس میں بشارالاسد نے اسرائیل کے ساتھ قیامِ امن کے لیے تجاویزپیش کیں جس سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بلاواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے بھی کڑی شرائط سامنے آئیں کہ اگر شام ایران، حزب اللہ اور حماس سے تعلقات پر نظرثانی کرنے کو تیار ہو تو اس صورت میں اسرائیل کو باہمی مذاکرات سے کوئی عذر نہیں ہوگا۔
۱۴ اکتوبر کو صدر بشارالاسد نے صدارتی حکم نامہ نمبر ۳۵۸ جاری کر کے لبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دن شام کی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا کہ اس نے لبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلیے ہیں۔ نہ صرف عرب ملکوں بلکہ ایران نے بھی اس اقدام کو خوش آیند قرار دیا۔ حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے اسے ایک بہت بڑی تبدیلی قرار دیا۔ مرحوم رفیق حریری کے بیٹے تحریک المستقبل کے مرکزی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ سعد حریری نے سفارتی تعلقات کے قیام کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور ساتھ ہی یہ تبصرہ کیا کہ یہ لبنان کے ثورہ الارز (انقلابِ صنوبر) کی فتح ہے۔ واضح رہے کہ شام کی فوجی موجودگی کے خلاف شروع کیے گئے مظاہروں کو یہ نام دیا گیا تھا۔
سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد لبنان ایک نئے جذبے سے سرشار نظر آرہا ہے لیکن مسائل بے شمار ہیں۔ شام کے ساتھ اس کی سرحدیں ابھی تک غیرمتعین ہیں۔ ۲۵ مربع کلومیٹر پرمشتمل شَبْعافارمز کا زرخیز علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ شام اور لبنان دونوں اس کے دعوے دار ہیں۔ جولان اور شَبْعا فارمز جیسے مسائل لاینحل نہیں۔ اگرچہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی نے انھیں پیچیدہ ضرور بنا دیا ہے۔ سردست ان کی واپسی کے لیے کسی نظام الاوقات کا تعین مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب شام سفارتی روپ میں لبنان پر اثرانداز ہوگا، بلکہ اس کا سفارت خانہ سفارت کاری کے روپ میں انٹیلی جنس کا مرکز بنے گا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے شبہات فریقین کے قلب و ذہن سے جب تک دُور نہیں ہوں گے، بدگمانیاںباقی رہیں گی۔ لبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام سے بظاہر شام کا جھکائو امریکا کی طرف ہوگیا ہے لیکن اسرائیل اور امریکا دونوں شام کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ حالیہ امریکی حملہ اس کی تازہ مثال ہے جو شامی حدود کے اندر ۴ کلومیٹر گھس کر کیا گیا اور جس کے نتیجے میں ۸ بے گناہ شہری ہلاک ہوگئے۔
شرق اوسط عالمی طاقتوں کا اکھاڑہ ہے۔ سب کے اپنے اپنے مہرے ہیں۔ چالیں چلی جارہی ہیں۔ نقشہ کیا بنتا ہے، آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
اسکارف کے مسئلے کے بعد، اب ترکی سے خبر یہ ہے کہ ۱۴مارچ کو ترکی کے چیف پراسیکیوٹر نے ۱۶۲ صفحات پر مشتمل ایک فائل دستوری عدالت میں پیش کی اور پُرزور الفاظ میں عدالت سے درخواست کی کہ حکمران عدالت پارٹی سیکولر دشمنی میں تمام حدوں کو پھلانگ گئی ہے، اس پر پابندی لگائی جائے۔ یہ ۱۱ رکنی دستوری عدالت وہ حتمی ادارہ ہے جس کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں ہوسکتی۔ اسی عدالت نے ۱۹۹۸ء میں نجم الدین اربکان اور ان کی رفاہ پارٹی کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس میں ۹ ججوں نے فیصلے کے حق میں اور ۲ نے فیصلے کے خلاف راے دی تھی۔ کوئی بھی فیصلہ نافذ ہونے کے لیے ۶ ججوں کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ آج یہی نام نہاد عدالت اس نئے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ نہ صرف پارٹی پر پابندی لگائی جائے بلکہ وزیراعظم اور صدر سمیت عدالت پارٹی کے ۷۱ نمایاں سیاسی رہنمائوں پر سیاست میں حصہ لینا ممنوع قرار دے دیا جائے۔
ادھر عدالت میں مقدمہ زیرسماعت ہے اور ادھر فوج اس میں کھلم کھلا مداخلت کر رہی ہے۔ چیف آف اسٹاف جنرل یاسر بوکانت نے پریس میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’ترکی کی سیکولر حیثیت مسلمہ ہے۔ برائی کے مراکز ترک دستور کے تقدس کو پامال کرنے میں مصروف ہیں‘‘۔ عمومی خیال یہ ہے کہ دستوری عدالت منتخب حکومت کے خلاف فیصلہ صادر کردے گی لیکن اب حالات نصف صدی قبل سے کافی مختلف ہیں۔ ترک پارلیمان کے اسپیکر کوکسال توپتان نے انقرہ میں ۵جون کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دستوری عدالت کے لامحدود اختیارات محدود کردیے جائیں۔ ہمیں یک ایوانی پارلیمان کی جگہ دو ایوانی مقننہ کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور غیرمنتخب اداروں کو ایوان کے تابع رکھنا چاہیے۔
اسپیکر کی اس بات کی حمایت میں بہت سے غیر جانب دار ماہرینِدستور اور دانش ور بھی منظرعام پر آگئے۔ ڈاکٹر مصطفی سنتوب ترکی کے دستوری ماہر ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’یہ اعلیٰ عدالت ملک و قوم کے لیے ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ قانون ساز ادارے کے بارے میں عدالت کا فیصلہ بالکل بے وقعت ہے۔ دستوری ترامیم جب قواعد و ضوابط کے مطابق پارلیمنٹ میں منظور ہوجائیں تو ان کے اجرا کو کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔ واضح رہے کہ ترکی کے دستور کی دفعہ ۱۴۸ کے مطابق: ’’ریاست کا کوئی ادارہ پارلیمنٹ سے برتر نہیں ہوسکتا‘‘۔
اسکارف پر پابندی ہٹانے کے خلاف سیکولر عناصر نے عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے اس پارلیمانی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یونی ورسٹی کے قانون کے پروفیسر سیراب یزیجی نے کہا:’’یہ فیصلہ قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔ عدالت نے اسکارف پر پابندی لگا کر پارلیمنٹ بلکہ خود دستور پر بھی اجارہ داری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔
یہ بحث جاری ہی تھی کہ نئے واقعات رونما ہونے شروع ہوگئے۔ یکم جولائی کو دارالحکومت انقرہ میں پولیس نے چھاپے مار کر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ۲۱ شدت پسند قوم پرست گرفتار کرلیے۔ ان میں دو معروف ریٹائرڈ جرنیل بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ خفیہ طریقے سے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کر رہے تھے۔ وزیراعظم طیب اردوگان نے ان لوگوں کو ارجن کون (Ergene Kon) سے متعلق قرار دیا۔ یہ تنظیم ترکی میں کافی بدنام ہے۔ اس سے پہلے بھی اس کے ارکان بم حملوں اور بڑی شخصیات کو قتل کر کے انقلاب برپا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ ۱۶ جولائی کو ترکی ذرئع ابلاغ کے مطابق اس تنظیم کے مزید افراد گرفتار ہوئے جس سے گرفتار شدگان کی تعداد ۵۸ تک پہنچ گئی ہے۔ عدالتوں نے ان میں سے بعض کو جن میں ایک ریٹائرڈ میجر جنرل بھی شامل ہے، ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ اس انتہاپسند تنظیم کی حمایت انجمن افکار اتاترک (Ataturk Thought Association) بھی کر رہی ہے جس کا صدر ایک ریٹائرڈ جنرل ایروگر (Eroger) ہے۔ وہ بھی گرفتار ہے اور ہنوز زیرحراست ہے۔
ان سطور کے شائع ہونے تک ممکن ہے کہ عدالت کا فیصلہ بھی منظرعام پر آجائے۔ عدالت کو فیصلہ کرنے میں جلدی بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ کے ججوں کا تقرر صدر کے اختیار میں ہوتا ہے۔ دستوری عدالت کے تمام جج سابق صدر احمدنجدت سیزر کے دورِ صدارت میں مقرر کیے گئے تھے۔ ان میں سے بعض کو اگلے سالوں میں ریٹائر ہونا تھا اور عمومی خیال یہ تھا کہ ان کی جگہ عبداللہ گل ایسے ججوں کو مقرر کریں گے جو کم از کم شدت پسند سیکولر نہ ہوں۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اردوگان حکومت نے اسکارف کا مسئلہ عجلت میں اور قبل از وقت چھیڑ کر اپنے لیے مشکلات پیدا کرلی ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن ترکی کی جدید تاریخ بتاتی ہے کہ مخالفین کے شر سے بالواسطہ ہمیشہ خیر برآمد ہوا ہے۔ اب بھی اگر عدالت اور ارتقا پارٹی پر پابندی لگتی ہے تو نیوزویک کے مطابق اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوجائے گا اور اگر عدالت پابندی نہیں لگاتی تو اس سے بھی عملاً حکومت کی جیت ہوگی اور اسے بالادستی مل جائے گی۔ اس ضمن میں ڈان ۵جولائی کا ادارتی شذرہ اور ۷جولائی کو اسی اخبار میں: ’ترکی میں جمہوریت کا معلق مستقبل‘ جوکہ گارجین لندن کے مضمون نگار مائورین فریلے (Maureen Freely) کا مضمون ہے، قابلِ ملاحظہ ہیں۔
نیوزویک کے تازہ شمارے (۲۱ جولائی) میں ترکش ڈیلی نیوز کے ڈپٹی ایڈیٹر اور مشہور تجزیہ نگار مصطفی اکیول نے ’ترکی کے خلاف سازش‘ کے عنوان سے جو تجزیہ کیا ہے اس میں لادین عناصر کی شدید مذمت کے ساتھ یہ راے ظاہر کی ہے کہ حکمران پارٹی اور اس کی قیادت پر پابندی کی صورت میں وقتی طور پر اگلی پارلیمان پھر معلق ہوگی اور نئی حکومتوں کو جرنیل اپنے اشاروں پر نچائیں گے، تاہم طویل المیعاد تناظر میں اردوگان کی پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔
ہماری راے میں حکمران پارٹی پر پابندی لگنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اعلیٰ قیادت کو سیاست سے خارج بلکہ پابندِسلاسل بھی کیا جاسکتا ہے۔ ترکی میں اب تک ۲۵ پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہے۔ ان میں زیادہ تر کرد یا کمیونسٹ تھیں۔ اس سے پہلے اسلامی پارٹی پر پانچ مرتبہ پابندیاں لگیں۔ اسلامی پارٹی واحد پارٹی ہے جس پر پابندیوں سے ہمیشہ عوامی تائید میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر پابندی لگتی ہے تو یہ فیصلہ اور اس کے بعد کا منظر سیکولر طبقات کے لیے کچھ زیادہ خوش آیند نہیں ہوگا۔ ہم ترکی کے اسلام دوست حلقوں کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ صبرواستقامت اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں ع ’’شرِّ برانگیزد عدو کہ خیر ما در آں باشد‘‘۔
اسرائیل کے ناجائز قیام کو ۶۰ سال ہو گئے۔ اِس کی پوری تاریخ ظلم و جبر، نسل کشی، ناجائز قبضے اور مذاکرات کی فریب کاریوں پر مشتمل ہے۔ اسرائیل میں آج تک جو کچھ ہوتا رہا ہے یا اب جو کچھ غزہ اور مغربی کنارے میں ہو رہا ہے، اُسے انسانیت کے خلاف جرم ہی کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی کسی قرار داد، امن فارمولے، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کو تسلیم نہیں کیا۔ جنگِ عظیم دوم کے دوران جرمنی کے ہاتھوں ۶۰ لاکھ یہودیوں کے قتلِ عام کے افسانے گھڑ کر دُنیا کو فریب دیتے ہوئے مظلومیت کی داستانیںسنائیں اور پھر فلسطین کا رُخ کرتے ہوئے اُس پر قبضہ کر لیا۔
دُنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہودیوں کے ہاتھوں دیریاسین کے قتلِ عام کو بھی ۶۰ سال ہوگئے ہیں۔ ۳۰۰ فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں پر مشتمل یہ بستی ہاگانہ (Hagana) دہشت گردوں کے ہاتھوں راتوں رات صفحۂ ہستی سے اِس طرح مٹی کہ اب وہاں کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ’مہذب‘ مغربی حکومتیں دیریاسین کی بربریت پر آج تک خاموش ہیں، جب کہ یہ فلسطینیوں کے قتلِ عام کا پہلا بڑا واقعہ تھا۔ ایک معروف اسرائیلی مورخ ایلان پاپ(Ilan Pappe) نے جو ۲۰۰۷ء تک حیفا یونی ورسٹی میں پروفیسر رہے ہیں، اپنی ایک کتاب فلسطینیوں کا نسلی صفایا (The Ethnic Cleansing of Palestine) میں لکھتے ہیں:
دسمبر ۱۹۴۷ء سے جنوری ۱۹۴۹ء تک فلسطینیوں کا مسلسل ۳۱ بار قتلِ عام ہوا۔ یہودیوں نے فلسطینیوں کی ۴۱۸ بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دیں۔
ایلن پاپ حماس کی تحریکِ مزاحمت کے حامی ہیں۔ وہ صہیونیوں کو کھلّم کھلّا نوآبادکار کہتے ہیں۔ وہ اسرائیل کو ایک جمہوری ریاست نہیں سمجھتے۔ ۲۰۰۷ء میں اُنھیں یونی ورسٹی سے استعفا دینے پر مجبور کیا گیا۔ جنوری ۲۰۰۸ء میں ایلن پاپ نے مانچسٹر میٹروپولیٹن یونی ورسٹی (MMU) میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
جس طرح سے فلسطینیوں کا نسلی صفایا ہوا ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ اِسے نوآبادکاری کے جبر کے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ دُوسری جنگِ عظیم کے بعد اسرائیل نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتلِ عام کر کے نصف سے زیادہ فلسطینیوں کو اُن کے گھروں سے نکالا جو اب دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
اسرائیل دُنیا کی واحد ریاست ہے جو نسلی تفریق پر قائم ہے۔ عربوں کی زندگیاں اِتنی سستی اور اِتنی بے مایہ ہیں کہ ایک اسرائیلی کے قتل کے بدلے میں درجنوں فلسطینی بم باری کے ذریعے اُڑا دیے جاتے ہیں۔ ۶۰ برس گزرنے کے باوجود اسرائیل خوف و ہراس کا اِس حَد تک شکار ہے کہ سڑکوں اور گلیوں پر جگہ جگہ کلوز سرکٹ کیمرے اور میٹل ڈی ٹیکٹر نصب ہیں۔ ہر اسرائیلی کے لیے، چاہے وہ مرد ہے یا عورت، ملٹری سروس لازمی ہے۔ اسرائیل نے امن و آشتی کے راستے کا انتخاب کبھی نہیں کیا۔ اِس کے پاس امریکا کا دیا ہوا وافر اسلحہ موجود ہے۔ لیکن ۲۰۰۶ء میں حزب اللہ نے اسرائیل کو پسپا کر کے ثابت کر دیا کہ وہ کوئی ناقابل تسخیر قو ّت نہیں ہے۔ اب وہ غزہ میں حماس سے پنجہ آزمائی کر رہا ہے، لیکن وہ اِس کی راکٹ باری کو روکنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
یہودیوں کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اسرائیل اُن کے لیے کبھی خطۂ امن نہیں بن سکتا ۔ دُوسرے انتفاضہ کے بعد سے اب تک کے آٹھ برسوں میں ۱۱۰۰ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اِسی دوران ۴۸۰۰ فلسطینی بھی جاں بحق ہوئے ہیں، لیکن اسرائیل اُن کے عزم کو شکست دینے میں ناکام ہوا ہے۔ غزہ کو ایک ’اوپن جیل‘کہا جاتا ہے جس میں ۱۵ لاکھ قیدی فلسطینی بھوکوں مر رہے ہیں۔ باقی رہے مغربی کنارے کے فلسطینی، تو وہ اسرائیلی بستیوں کے محاصرے میں آ چکے ہیں۔ اب اُن کی اپنی فلسطینی اتھارٹی اسرائیل سے اُن کا سودا کرنے یا اُنھیں خود ہی ٹھکانے لگانے میں مصروف ہے۔ نام نہاد مذاکرات کے باوجود مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیاں کم ہونے کے بجاے بڑھ رہی ہیں اور فلسطینی سر چھپانے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات دینا تو دُور کی بات ہے، مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینی پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں، جب کہ اسرائیلی تازہ پانی کے سوئمنگ پولوں میں نہاتے ہیں۔ اِن حقائق سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل غیر یہودیوں کے لیے کتنا ظالم ہے۔
۲۰۰۶ء سے مغربی کنارے پر القدس کے ساتھ ساتھ دیوارِ برلن کے نمونے پر ایک دیوار بنائی جا رہی ہے۔ دیوارِ برلن ۱۵۵ کلو میٹر طویل اور تین سے ۶ میٹر اُونچی تھی۔ جب کہ مغربی کنارے کی دیوار ایک ہزار کلومیٹر طویل اور ۸ میٹر اُونچی ہو گی۔ یہ چاند سے نظر آنے والی دیوارِ چین کے بعد دُوسری طویل دیوار ہو گی۔ اِس کے ساتھ ایک دفاعی سڑک اور ٹاور تعمیر ہوں گے۔ فلسطینیوں نے اِسے جدارالفصل العُنصری ، یعنی نسلی منافرت کی دیوار کا نام دیا ہے۔ انگریزی میں اِسے Apartheid Wall کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیل اِس دیوار کو اگلے دَو برسوں میں مکمل کرنا چاہتا ہے۔ اِس کی تعمیر کے لیے راستے میں آنے والے فلسطینیوں کے باغ اُجاڑ دیے گئے اور اُن میں کھڑے زیتون کے لاکھوں درخت کاٹ دیے گئے۔ اسرائیل نے مغربی کنارے پر سڑکوں کا ایسا الگ تھلگ نظام قائم کیا ہے کہ وہاں فلسطینی نہ تو سفر کر سکتے ہیں اور نہ ہی گاڑی چلا سکتے ہیں۔ اِس جبری تقسیم کا مطلب القدس سمیت فلسطینی شہروں اور اُن کی زرخیز زمینوں پر مستقل قبضہ کرنا ہے۔ آج ۹۰ فی صد فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز تسلّط قائم ہے۔ شام کی جولان کی پہاڑیاں اور لبنان کے شبعاء فارمز اُن کے علاوہ ہیں جنھیں وہ ضم کر چکا ہے۔ حالانکہ ۱۹۴۷ء کی اقوامِ متحدہ کی قرار داد میں فلسطینیوں کو ۴۵ فی صد علاقہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اسرائیل کا دیمونہ (Dimona)جوہری ری ایکٹر النقب (Negev) کے دشت میں قائم ہے جہاں یورینیم دستیاب ہے۔ یہ ری ایکٹر فرانسیسی ایٹمی توانائی کے تکنیکی تعاون سے ۱۹۶۳ء میں مکمل ہوا۔ ان میں وہ فرانسیسی، مفرور جرمن اور یہودی سائنس دان شامل تھے جو ایٹم بم بنانے والے امریکی مین ہٹن پروجیکٹ میں کام کر چکے تھے۔ اسرائیل غیرعلانیہ طور پر ایٹم بم بنا چکا ہے۔ وہ ہزاروں ٹن مہلک جوہری فضلہ غزہ کی پٹی میں کم گہرائی پر دفن کرتا رہا ہے۔ دیمونہ ری ایکٹر روس کے چرنوبل پلانٹ کی طرح بوسیدہ ہو چکا ہے۔ بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم کے مطابق اسرائیل کے جوہری ری ایکٹر میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر مصر سے اُردن تک تباہی پھیلا سکتا ہے۔
تل ابیب اسرائیل کی ۶۰ ویں سالگرہ کے علاوہ اپنی صدسالہ تقریبات منانے کی تیاریاں بھی کر رہا ہے۔ یہ شہر ۱۹۰۹ء میں یافا کے پہلو میں بحیرۂ رُوم کے کنارے آباد کیا گیا تھا۔ یہ اِس وقت کی عثمانی حکومت کی فراخ دِلی کا کھلا ثبوت ہے کہ اُس نے یہودیوں کو ایک نیا شہر بسانے کی اجازت دی۔ تل ابیب ۵۱ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے۔ اِس کی آبادی ۳۰ لاکھ سے زائد ہے۔ یہودی اِسے اسرائیل کا نیویارک کہتے ہیں۔ پہلے اِس کا نام صہیونیوں کے باوا آدم تھیوڈور ہرزل کے نام پر ہرزیلیا (Herzliya) بھی تجویز ہوا تھا۔
اِس وقت اسرائیل کی مجموعی آبادی ۷۱ لاکھ سے زائد ہے۔ اِس میں یہودیوں کی تعداد ۵۴لاکھ ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی القدس اور جولان میں سیکڑوں یہودی نوآبادیات قائم ہیں۔ ویسٹ بنک میں ۲۴۲ نو آبادیات ہیں جن میں ایک لاکھ ۸۷ہزار نوآبادکار لاکر بسائے گئے ہیں۔ مشرقی القدس میں فلسطینیوں کی زبردست مزاحمت کے باوجود ۲۹ نوآبادیات قائم ہو چکی ہیں جن میں ایک لاکھ ۷۷ ہزار یہودی رہتے ہیں۔ جولان کی پہاڑیوں پر ۴۲نوآبادیات ہیں اور یہودی آباد کاروں کی تعداد ۲۰ ہزار ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر شام حزب اللہ ، حماس اور اسلامک جہاد سے تعاون نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دے تو وہ جولان کی واپسی کے لیے مذاکرات کر سکتا ہے۔
اسرائیل امریکا کا بغل بچہ ہے۔ اِسے امریکا سے ہر سال ایک بلین ارب ڈالر سے زائد بلاواسطہ معاشی امداد مل رہی ہے۔ اربوں ڈالر پر مشتمل امریکی یہودیوں سے ملنے والے فنڈ اِس کے علاوہ ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق ۲۰۰۶ء میں اسرائیل کی خام قومی آمدنی ۱۹۵ ارب ڈالر تھی۔ اِسی ذریعے کے مطابق ۲۰۰۷ء میں اسرائیلی کی فی کس آمدنی ۷۶۷,۳۱ ڈالر سالانہ تک بڑھ چکی تھی۔ دُوسری طرف فلسطینی ہیں جن کا پرسان حال کوئی نہیں۔ اپریل ۲۰۰۸ء میں عالمی بنک نے رپورٹ دی کہ اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے مغربی کنارے کے فلسطینی غربت کے چنگل میں پھنس کر رِہ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کے لیے مسلسل چیک پوسٹیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ مارچ ۲۰۰۸ء تک مغربی کنارے میں ۵۴۶ چیک پوسٹیں بن چکی تھیں۔ اِس امتیازی سلوک سے مغربی کنارے کی معیشت بدترین دَور سے گزر رہی ہے۔ یہاں کی نصف فلسطینی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ غزہ کا حال نام نہاد یہودی انخلا کے باوجود بہت پتلا ہے۔ یہاں کی پوری ۸۰ فی صد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ واضح رہے کہ غزہ کی آبادی ۱۵لاکھ ۳۷ ہزار، جب کہ مغربی کنارے کی فلسطینی آبادی ۲۶ لاکھ ۱۱ ہزار ہے۔
فلسطینیوں کے خون سے سرخ اسرائیل نہایت بے شرمی کے ساتھ اپنی ۶۰ ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مال و دولت کی ریل پیل کے باوجود اسرائیل کا حکمران طبقہ مالی و اخلاقی بدعنوانی اور روایتی یہودی بددیانتی میں ملو ّث ہے۔ اسرائیلی صدر موشے کتساف پر صدارتی دفتر کی خواتین سے زیادتی کا، موجودہ وزیراعظم اولمرٹ پر مالی بدعنوانی اور بدعنوان کابینہ بنانے کا اور نائب وزیراعظم لیبرمین پر خواتین کو چھیڑنے کا الزام ہے۔ پولیس اِن کیسوں کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ نومبر ۲۰۰۷ء میں ۲۰ سے زائد مقامات پر چھاپے مار کر سرکاری ریکارڈ قبضے میں لیے گئے، اِن میں وزارتِ صحت و تجارت شامل تھی۔
اسرائیل کا تحریری دستور مختلف تنازعات کے باعث آج تک وضع نہیں ہو سکا۔ اِس تنازع کے پیچھے عرب نہیں، بلکہ وہ یہودی ہیں جو آج تک اسرائیل کی صہیونی یا سیکولر حیثیت کا تعین نہیں کرسکے۔ یہ وہ نام نہاد ریاست ہے جو پورے مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کی اکیلی دعوے دار ہے۔ دُنیا کے دساتیر میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں، مگر اسرائیلی دستور کے لیے یہ شق متنازع ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے اکثر ارکان اِس مساوات کے مخالف ہیں، کیونکہ اِس سے یہودی دُوسرے غیر یہودی شہریوں کے مساوی ہو جائیں گے۔ اِس وقت ۱۹۴۸ء کے ایک بنیادی قانون کے تحت حکومت چلائی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی ۶۰ سالہ تقریبات میں صدومی بھی حصہ لیں گے، کیونکہ صدومیت یہودی کلچر کا تاریخی حصہ ہے۔ اِس سلسلے میں اگست میں عالمی فخر (World Pride) کے نام سے ہم جنس پرستوں کی پریڈ مشرقی یروشلم میں ہو گی۔ کئی یہودی ربیوں، عیسائی پادریوں اور مسلم علما نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ علانیہ گناہ کا مظاہرہ کر کے خدا کے غضب کو نہ بھڑکائیں۔
امریکا میں اسرائیل کی ۶۰ سالہ تقریبات کا سلسلہ فروری سے جاری ہے۔ اِس سلسلے میں واشنگٹن سکوائر میں ایک بڑے مخلوط رقص کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ امریکا کے یہودی طلبہ نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اُنھیں اسرائیل کی طرح یہاں بھی ہتھیار رکھنے اور فوجی تربیت لینے کا حق دیا جائے۔ اسرائیلی تقریبات منانے کے لیے امریکی یہودی اور یہود نواز تنظیمیں چندے اکٹھے کر رہی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل اپنے برتھ ڈے بجٹ کے لیے ۲۸ ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ دُوسری جانب فلسطین کا زخم مندمل ہونے کے بجاے گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہودی اور امریکی اسرائیل کے یومِ تاسیس ۱۴ مئی کو جس ڈھٹائی سے بھی منانا چاہیں، اُنھیں کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اُنھیں اِس موقع پر اپنے ضمیر کے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ وہ جس اسرائیل کی تقریبات منا رہے ہیں، اُس کی بنیاد فلسطینیوں کی کھوپڑیوں پر رکھی گئی ہے۔ ۱۴ مئی یومِ تاسیس نہیں، بلکہ ’یومِ نکبہ‘یعنی مصائب کے آغاز کا دِن ہے۔
مصر عالمِ عرب کا بہت اہم ملک ہے۔ عالمِ اسلام کی مضبوط تحریک اسلامی، اخوان المسلمون اس ملک میں ۱۹۲۸ء میں وجود پذیر ہوئی۔ اپنے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد اس تحریک کو گوناگوں مشکلات اور مصری حکومت کے تشدد کے علاوہ عالمی قوتوں کی چیرہ دستیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تحریک کی بنیادیں قرآن وسنت کے مضبوط اور محکم اصولوں پر اٹھائی گئی تھیں، اس لیے تحریک کی قیادت اور کارکنان نے وقت کے طوفانوں کا ایسی پامردی سے مقابلہ کیا کہ دوست اس پر جھوم اٹھتے ہیں تو دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ حسن البنا شہید ہوں یا ان کے قافلے کے دیگر شہدا، عبدالقادر عودہؒ، محمد فرغلی ؒاور سید قطبؒ سبھی آج دنیا میں روشن ستاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ تحریک کی قیادت میں حسن الہضیبیؒ سے لے کر عمرتلمسانی.ؒ تک اور مصطفی مشہورؒ سے لے کر محمدمہدی عاکف حفظہ اللہ تک سبھی صاحبِ عزیمت تھے۔ قیدوبند کی صعوبتیں اور ظلم وستم کے کوڑے ان کے پاے استقامت میں تزلزل پیدا نہ کرسکے۔
اخوان قانون اور دستور کے مطابق تبدیلی کے علَم بردار اور خفیہ سرگرمیوں کے مخالف ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنے کیس لڑے مگر بدقسمتی سے مصری حکمرانوں نے کبھی عدالتوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جب جرأت مند قاضیوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر انصاف پر مبنی فیصلے صادر کیے تو پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف کی طرح مصری حکمرانوں کا کوڑا عدلیہ پر بھی برستا رہا۔ عدالتوں کے ججوں کا ضمیر اس کے باوجود زندہ ہے، اسی وجہ سے بیش تر مقدمات عسکری عدالتوں ہی میں چلائے جاتے ہیں۔ اخوان اپنے آغاز ہی سے سیاسی اور جمہوری دھارے میں شامل رہے ہیں لیکن مصری نظام نے انھیں کبھی قبول نہیں کیا۔ مصر کے گذشتہ عام انتخابات منعقدہ ۲۰۰۵ء میں اخوان سے متعلق امیدواروں نے اپنی آزادانہ حیثیت میں ساری دھاندلیوں کے باوجود ۸۸ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ملک کے عام انتخابات کے بعد شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کاانعقاد اپریل ۲۰۰۶ء میں ہونا تھا مگر مصری حکومت نے مختلف حیلوں بہانوں سے وہ انتخابات دو سال کے لیے ملتوی کردیے۔ اس التوا پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا، اور مصر کی سول سوسائٹی نے کئی دنوں تک اس مسئلے کو حکومت کی بوکھلاہٹ اور بزدلی قرار دے کر بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کی تحریک جاری رکھی۔
اس موقع پر تمام تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ مصری حکومت اخوان کی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکر بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرگئی ہے۔ اس دوران حسنی مبارک نے دستور میں کئی ترمیمات کیں، جنھیں حکمران پارٹی کے انگوٹھا چھاپ قانون سازوں نے منظور کرلیا مگر سول سوسائٹی نے ان پر ہمیشہ تحفظات کا اظہار بلکہ شدید مخالفت اور احتجاج کیا۔ ان دو سالوں میں مصر میں پھر سے پکڑدھکڑ کا ایسا سلسلہ شروع ہوا، جس نے جمال عبدالناصر کے فرعونی دور کی یادیں تازہ کردیں۔ ہزاروں کی تعداد میں اخوان جیلوں میں ڈالے گئے، حتیٰ کہ ان کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی نہ بخشا گیا۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ اگر اخوانی اسیروں کے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال اور معاشی مدد کے لیے کوئی صاحبِ خیر خدمت سرانجام دیتا تو اس جرم کی پاداش میں اسے بھی جیل میں ڈال دیا جاتا۔ایسے تمام کیس خصوصی ملٹری عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔ اخوان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت کے بقول: ایک ایسے مخیر مصری کو جس نے اسیروں کے بال بچوں سے تعاون کیا، ۵۵ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ (بحوالہ رسالہ الاخوان، شمارہ ۵۴۷، ۲۸ مارچ ۲۰۰۸ئ)
۲۰۰۸ء کے آغاز میں انھی پُرآشوب حالات میں حسنی مبارک حکومت نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کردیا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ان انتخابات سے قبل اخوان کے اہم رہنمائوں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا اور انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر سے اخوان کے متوقع بلدیاتی امیدواروں کی پکڑ دھکڑ بھی شروع ہوگئی۔ ۸ اپریل انتخابات کی تاریخ تھی، جب کہ اس سے قبل اخوان کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے درمیان مقامی رہنما ملک بھر کی جیلوں میں محبوس کر دیے گئے۔ تجزیہ نگاروں کے بقول حال ہی میں کی جانے والی دستوری ترمیم جس کے مطابق صدارتی امیدوار کے لیے ۹۰ ارکانِ پارلیمان اور ۱۴۰ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی تائید ضروری ہے، اس پکڑدھکڑ کی اصل محرک ہے۔ حسنی مبارک خوف زدہ ہے کہ کہیں اپوزیشن کا کوئی نمایاں لیڈر آیندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار کے لیے اہلیت حاصل نہ کرلے۔
اخوان نے ان انتخابات کے لیے ۵ ہزار ۷ سو ۵۴ امیدواروں کا انتخاب کیا تھا، مگر پکڑدھکڑ اور خوف و ہراس کی وجہ سے صرف ۴۹۸ امیدوار کاغذات جمع کرا سکے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مصری تجزیہ نگار نبیل شرف الدین کے بقول: ان ۴۹۸ میں سے صرف ۲۰ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوسکے، باقی سب کے کاغذات ہی مسترد کردیے گئے۔ اخوان کے نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب نے اعدادوشمار کی روشنی میں اس صورت حال پر پریس کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کیا چارۂ کار ہے۔ اخوان کے علاوہ ایک اور تنظیم تحریکِ مصر براے تبدیلی (کفایۃ) نے بھی ان فراڈ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ ان دونوں تنظیموں نے تمام سیاسی گروپوں اور آزاد امیدواران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیں۔ اسی طرح ٹریڈ یونینز نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔تجزیہ نگاروں کے بقول عملاً پولنگ اسٹیشنوں پر اُلّو بول رہے تھے اور حکومتی کارندے آزادانہ ٹھپے لگا رہے تھے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم براے عرب دنیا نے ۱۸ اپریل کو اس تشویش ناک صورت حال پر اپنے ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں بدترین قسم کا سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ تمام بنیادی حقوق معطل ہیں، حتیٰ کہ عسکری عدالتوں کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے، اس میں ملزمان کے رشتے داروں اور وکلا تک کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ کسی فوٹوگرافر اور صحافی کو بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی صحافی اور کیمرہ مین وہاں پہنچ بھی پایا، تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹیپ ریکارڈر اور کیمرے تک چھین لیے گئے۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم نے کہا ہے کہ انصاف کے عالمی ضوابط و قوانین کے علاوہ مصری دستور کی دفعہ ۱۶۹ کے تحت یہ ظلم کسی صورت گوارا نہیں کیا جاسکتا۔
ان حالات میں بظاہر حسنی مبارک نے بلدیات سے حزبِ اختلاف کا نام و نشان مٹا دیا ہے مگر مصر اور پوری دنیا کے مہذب شہری اس انتخاب کو ایک ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ اخوان کے نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب نے اخباری نمایندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ ہتھکنڈے نہ تو مصری حکومت کو استحکام دے سکتے ہیں، نہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کو سرنگوں کرسکتے ہیں۔ عالمی جریدے الشرق الاوسط کے تجزیہ نگاروں کے مطابق حسنی مبارک اپنے بیٹے جمال کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کرچکا ہے۔ لیکن ان اوچھے حربوں سے حکومت اور ایوانِ صدارت کی ساکھ بُری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب حسنی مبارک دور کا خاتمہ قریب ہے کیونکہ مصر میں جس قدر نفرت موجودہ حکومت سے پائی جاتی ہے، اس کی کوئی مثال ماضی میں دیکھنے میں نہیں آئی۔
بلدیاتی انتخابات کے بعد مصر میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ حسنی مبارک نے اس صورت حال کو آہنی ہاتھ سے قابو کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ملک بھر میں ۲۸ گورنروں (ڈی سی) کا نئے سرے سے تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔ ان میں سے ۱۲ نئے چہرے سامنے آئے ہیں، جب کہ تین کے اضلاع تبدیل کیے گئے اور ۱۳ سابقہ اضلاع ہی میں بحال رکھے گئے ہیں۔ ان سے حسنی مبارک نے گذشتہ ہفتے حلف لیا ہے اور انھیں تلقین کی گئی ہے کہ امنِ عامہ میں گڑبڑ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ ان گورنروں نے حلف کے بعد اعلان کیا کہ ان کی ترجیحات میں ان عناصر کی بیخ کنی سرفہرست ہے جو امن و امان کا مسئلہ پیدا کریں، نیز وہ صدر کے سیاسی پروگرام کے محافظ بن کر کام کریں گے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی عزائم کیا ہیں۔
عراق میں امریکی جارحیت کے پانچ سال مکمل ہونے پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ امریکی حکومت کو خود امریکی عوام اور دانش وروں اور کانگرس کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ عملاً امریکا کو اس جنگ کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے اور روز بروز امریکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب صدام حسین کی حکومت کا تختہ ۲۰۰۳ء میں اُلٹا گیا تو امریکا کے سامنے بظاہر دو اہداف تھے: اجتماعی تباہ کاری کے ہتھیاروں کی بازیابی اور مشرق وسطیٰ میں بتدریج جمہوریت کا قیام۔ یہ اہداف تو حاصل نہ ہوسکے اور امریکا اب ایران میں ’موت کا رقص‘ شروع کرنے کے لیے تمام ممکنہ تیاریاں کر رہا ہے۔ صدام حسین کے بعد عبوری حکمران کونسل اور اُس کے بعد دستوری حکومت، امریکی انتظامیہ کے اشارے پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں تھیں جن کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوورقہ پڑھ کر سنا دینے کے سوا کوئی کردار نہیں۔ نوری کامل المالکی یہ کام بخیروخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ ہر روز مختلف لسانی اور مذہبی گروہوں میں تصادم ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ ’’افواج کا قیام بے انتہا ضروری ہے‘‘۔ شیعہ، سُنّی اور کُرد سیکڑوں برس سے عراق میں رہ رہے ہیں۔ مگر یہ امریکی پالیسی سازوں کا کمال ہے کہ وہ تینوں گروہوں کو وافر مقدار میں اسلحہ بھی فراہم کرتے ہیں، ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ بھی کرتے ہیں، اور بعدازاں تینوں گروپوں کے گرفتار شدہ مجاہدین، اور ہلاک شدہ ’جہادیوں‘ کی تصاویر بھی عالمی نشریاتی اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
کُردوں کی قوم پرست تحریک نے بھی اِس عرصے میں شدت اختیار کرلی ہے۔ شام، ایران اور عراق میں پھیلے ہوئے کُرد آزاد ریاست کی منزل تک نہ پہنچ سکیں گے اگرچہ ’نیوکونز‘ کے پالیسی سازوں کے سامنے ایک یہ حل بھی موجود ہے کہ عراق کو سُنّی، شیعہ اور کُرد عراق ریاستوں میں تبدیل کردیا جائے جو خودمختار ہوں لیکن امریکا کی باج گزار ہوں اور امریکی اشارے پر کسی بھی ہمسایہ عرب ریاست کے خلاف فوجی کارروائی کرسکیں یا امریکی کارروائی کے لیے’ محفوظ پناہ گاہ‘ فراہم کرسکیں۔ تین شمالی صوبوں میں کُردوں کی علاقائی حکومت ہے۔ اُن کی مسلّح افواج، قومی نشان اور جھنڈا ہے، لیکن داخلی بدامنی اور قومی انتشار نے اُن کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ جنگ اور فوجی کارروائی کا منظر ہی اُنھیں نجات کا منظر نظر آتا ہے۔ ایک ہزار سے زائد قبائل اور گروہ عراق میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اُن کے باہمی لسانی، قبائلی اور تہذیبی اختلافات بھی ہیں، تاہم اس پر اُن کا اتفاق ہے کہ غیرملکی حملہ آوروں کا نہ سازوسامان واپس جائے اور نہ وہ خود زندہ واپس لوٹیں۔ امریکا کی جانب سے مسلط جنگ اور باہمی خوں ریزی سے عراق میں ۱۰ لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ تباہی و بربادی کے جو مناظر تشکیل پائے ہیں، عالمِ انسانیت اس پر ہمیشہ نوحہ کناں رہے گی۔
امریکی انتظامیہ ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ کرنے کے بعد اور تو کچھ حاصل نہ کرسکی، تاہم سرکاری اعلان کے مطابق ۴ ہزار امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ چکی ہیں، ۲۳ ہزار اپاہج اور زخمی فوجی، مختلف امریکی ریاستوں میں زیرعلاج ہیں (www.antiwar.com)۔ امریکا عراق میں جنگ جاری رکھنے کے لیے ۷۲ کروڑ (۷۲۰ ملین) ڈالر روزانہ خرچ کر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا مجبورہے کہ ہر ایک منٹ میں ۵ لاکھ ڈالر جنگی اخراجات کی صورت میں خرچ کرے۔ معروف تحقیقی مجلے فارن پالیسی نے ناکام ریاستوں کا گوشوارہ ۲۰۰۷ء میں عراق کو دنیا کی ناکام ترین ریاستوں میں دوسرا نمبر دیا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال ریاست کو اس مقام تک پہنچانے کا سہرا واشنگٹن کے سر بندھتا ہے۔
امریکا کے سرکاری ترجمان اور پالیسی ساز ادارے جو اعلان بھی کریں، عراق سے امریکی افواج کو بالآخر نکلنا پڑے گا۔ پانچ برس قبل عراق پر مکمل امریکی تسلط تھا، اب اقتدار براے نام سہی عراقی انتظامیہ کے پاس ہے۔ امریکی بحری، بّری اور فضائی افواج کی نوعیت بھی ماضی والی نہیں رہی۔ امکان ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے فوجی دستے بتدریج عراق سے نکال لے، لیکن اس کی فوجی چھائونیاں اور دستے یہاں موجود رہیںگے، چاہے وہ دنیا کے دکھاوے کے لیے عراقی حکومت سے معاہدے کے بعد یہاں رہیں۔ ایسے معاہدے امریکی حکومت ’جنوبی کوریا‘ کی حکومت سے بھی کرچکی ہے اور بہ سہولت وہاں براجمان ہے۔
امریکا کو عراق میں قیام کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور مزید ادا کرنا پڑرہی ہے۔ عراق پرقبضے کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے، خود امریکی عوام نے اس سے نفرت کا اظہار کیا۔ عراقیوں کی صدام حسین سے ناراضی ڈھکی چھپی بات نہ تھی، تاہم امریکی فوجیوں سے نفرت اُس سے کئی ہزار گنا زیادہ ہے۔ عراق کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں امریکا کے خلاف مظاہرے نہ ہوئے ہوں، یا امریکی فوجیوں کو نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد دارالحکومت بغداد میں ہے اور یہیں سب سے زیادہ پُرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ بم مارنے اور فوجی گاڑیاں اڑا دینے کے واقعات عام ہیں۔ عراق میں بم مارنے اور باہمی کُشت و خون کے کُل واقعات کا ایک چوتھائی بغداد میں رونما ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا: عراق میں جنگ غیرقانونی ہے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر پورا نہیں اُترتی۔
واشنگٹن کے پالیسی ساز کانگرس کے دبائو اور عوامی ردعمل کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگر فوری طور پر افواج، عراق سے واپس بلا لی گئیں تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ امریکی افواج عراق میں ناکام ہوگئیں،نیز یہ کہ امریکی افواج کے عراق چھوڑ دینے سے دنیا بھر کے ’دہشت گرد‘ عراق میں اکٹھے ہوجائیں گے۔ امنِ عالم، جمہوریت، روشن خیالی اور مہذب دنیا کو ناکام کرنے کے لیے نائن الیون، سیون سیون اور سیون الیون جیسے واقعات بار بار رونما ہوں گے۔ اس لیے کُلی طور پر نہیں، جزوی طور پر امریکی افواج اور بحری و فضائی بیڑے کی موجودگی ضروری ہے اور مشرق وسطیٰ میں ’جمہوریت کی ترویج‘ کی منزل بھی تو حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
اگلے صدارتی انتخابات جیتنے والا امریکی صدر مجبور ہوگا کہ سال ۲۰۰۸ء میں امریکی افواج کی تعداد میں واضح طور پر کمی کا اعلان کردے۔ سول سوسائٹی کے اراکین اور کانگرس مشترکہ طور پر مطالبہ کرچکے ہیں کہ فوج واپس بلائی جائے۔
امریکا نے بغداد میں جو حکومت قائم کی ہے، وہ بھی مجبور ہوجاتی ہے کہ امریکا کے غیرقانونی، غیراخلاقی تسلط کے خلاف لب کشائی کرے۔ جولائی ۲۰۰۶ء میں عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے عراق پر امریکی حملے اور اس کے نتائج کو ’ذبح کرنے والوں کی کارروائی ‘ قرار دیا۔ عالمی پیمانے پر بھی امریکا کو تنہائی کا سامنا ہے۔ کئی ممالک نے واشنگٹن کے اتباع میں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے فوجی عراق بھیجے تھے، مگر اب اُن میں سے اکثر نے اپنی فوجیں عراق سے نکالی ہیں۔ برطانیہ بھی اپنی فوجیں عراق سے نکال رہا ہے جو کہ امریکا کا جاںنثار ’شریکِ کار‘ رہا ہے۔ اُس کے بعد امریکا کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عراق میں اپنی افواج کو ’کثیر المُلکی فوج‘ قرار دے۔
گذشتہ پانچ برسوں میں سیاسی تعمیرنو کے دوران، عراق کو انتہائی ناہموار حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وفاقی نظام اور سیاسی انتشار نے عراق کی شناخت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عراق کو ایسی سیاسی قوت کی ضرورت ہے کہ جو لسانی، مذہبی اور قبائلی تعصب سے بالاتر ہوکر تعمیرنو کا مقامی عمل شروع کرے۔ یہ قوت عراق ہی سے اُبھرنی چاہیے، باہر سے آنے والی قوت یہ کام نہ کرسکے گی، نہ امن وامان اور سرحدوں کی حفاظت کا کام ہی، بیرونی ایجنٹ سرانجام دے سکیں گے۔
روسی افواج ۱۹۷۹ء میں افغانستان میں داخل ہوئیں اور ۱۹۹۲ء تک واپس جا چکی تھیں لیکن اس عرصے میں روس کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ سوویت یونین کے زوال پذیر ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکا کو ویت نام، کوریا اور اب عراق کے تجربے سے یہ سیکھ لینا چاہیے کہ ’عالمی داداگیری‘کے دورانیے کو طول دیتے ہوئے اُس کو داخلی محاذ پر شکست در شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی اراکینِ کانگرس، اراکینِ سینیٹ، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے امریکی عوام یقینا اپنی حکومت پر دبائو ڈالیں گے کہ عراق سے اپنی افواج واپس بلالیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اُن کی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، اور امریکا سے بڑھتی ہوئی نفرت انتقامی جذبے کو ہوا دینے کا باعث بنے گی جس سے عالمی امن تباہ ہوسکتا ہے اور اس کی ذمہ داری امریکا کے سر ہوگی۔ کاش! امریکی حکمران عقل کے ناخن لیں۔
ملایشیا میں آزادی کے بعد انتخابات کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری و ساری ہے۔ بارھویں قومی انتخابات کا انعقاد ۸مارچ ۲۰۰۸ء کو مکمل ہوا۔ اِن انتخابات کے حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کی تین جماعتوں کے اتحاد نے وفاقی ایوان کی ۲۲۲ میں سے ۸۱ نشستیں حاصل کرلی ہیں، جب کہ ۱۹۵۷ء سے برسرِاقتدار ’متحدہ مَلے قومی محاذ‘ ’امنو‘ (UMNO) دو تہائی نشستیں حاصل نہ کرسکا۔ گذشتہ ۵۰ برسوں میں اسے ’قومی محاذ‘ کے لیے بدترین نتائج تصور کیا جا رہا ہے۔ موجودہ وزیراعظم عبداللہ بداوی نے تسلیم کیا ہے کہ سرکاری اہل کاروں کی بدعنوانی، نسلی اقلیتوں کے عدمِ اطمینا ن اور کئی اہم معاملات پر غیرواضح موقف کی وجہ سے برسرِاقتدار جماعت کو دو ٹوک اکثریت حاصل نہ ہوسکی۔ ان کی نشستوں کی تعداد ۱۳۷ ہے۔
ملایشیا کثیرنسلی معاشرہ ہے۔ یہاں مَلے نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد ۶۰ فی صد، چینی النسل باشندوں کی تعداد ۲۵ فی صد اور ہندی النسل شہریوں کی تعداد ۱۰ فی صد ہے، جب کہ بقیہ تعداد دیگر قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ ملایشیا میں جس قسم کی قومی یگانگت، معاشی استحکام اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے اِس کی مثال کسی اور ملک میں ملنا مشکل ہے۔
’امنو‘ کے اقتدار کو دھچکا تین جماعتی اتحاد نے لگایا۔ ’پاس‘ (PAS) ملایشیا کی معروف اسلامی تحریک ہے۔ یہ ۱۹۵۶ء میں وجود میں آئی۔ اس کے سربراہ عبدالہادی آوانگ ہیں، جو سابقہ پارلیمان میں منتخب رُکن رہے۔ ’پاس‘ صوبہ کلنتان میں پانچویں بار حکومت بنائے گی، اس کے سربراہ عالم دین نِک عبدالعزیز ہیں۔ ’پاس‘ جمہوری عمل پارٹی اور عوامی انصاف پارٹی نے مل کر اتحاد قائم کیا۔ ملایشیا کی ۱۳ ریاستوں میں سے پانچ ریاستوں میں اب حزبِ اختلاف کی حکومت قائم ہوگی۔ اسلامی پارٹی کی ۲۰۰۴ء کے انتخابات میں سات سیٹیں تھیں، اب یہ ۲۴ ہوچکی ہیں۔ عوامی انصاف پارٹی کی گذشتہ انتخابات میں صرف ایک سیٹ تھی، اب ۳۱ ہوچکی ہیں، جب کہ جمہوری عمل پارٹی نے اس بار ۲۶ نشستیں حاصل کی ہیں۔ اِن تینوں جماعتوں کو اکٹھا کرنے اور اکٹھا رکھنے میں ڈاکٹر انور ابراہیم کا اہم کردار ہے جو ملایشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد اور بعدازاں عبداللہ بداوی کے جبروناانصافی کا شکار رہے اور طویل عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔
اسلامی پارٹی ملایشیا ’پاس‘ کے امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم عبداللہ بداوی کے اُن وعدوں کا بار بار تذکرہ کیا جو ۲۰۰۴ء کے انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی کے بعد اُنھوں نے قوم سے کیے تھے۔ ان کا وعدہ تھا کہ قانون ساز ادارے اور سرکاری اداروں میں اہم تبدیلیاں لائی جائیں گی، تمام نسلی گروہوں سے انصاف کیا جائے گا، نجی شعبے کو آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے گا، عرصۂ دراز سے مالی بدعنوانی کے جو مقدمات تاحال فیصلہ طلب ہیں، اُن کا فیصلہ کیا جائے گا، اقتدار اور حکومت کا ناجائز استعمال نہ ہوگا، سرکاری معاملات اور تجارتی امور شفاف ہوں گے اور احتساب کیا جائے گا۔ بداوی کے اعلانات، اعلانات ہی رہے اور بدعنوانی کا گراف بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم کے اپنے قریبی عزیزوں اور وزرا کے بدعنوانی کے اسیکنڈل زبان زدعام ہوئے، مہنگائی سابقہ ریکارڈ توڑ گئی اور غیرملکی کمپنیوں نے سرمایہ نکالنا شروع کردیا لیکن کسی کو قرارواقعی سزا نہیں ملی۔
’پاس‘ نے یہ واضح کیا کہ لاتعداد ملیشیائی باشندے خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ اشیاے صرف کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور اس کے ساتھ ساتھ جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بداوی کی حکومت نے ایک ملیشیائی خلاباز کو روسی اسپیس کرافٹ میں کروڑوں ڈالر کے خرچ پر بطور سیاح بھیجا اور اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ایک ایسا ریکارڈ توڑ دیا جائے جوکہ پہلے ہی ملیشیا کے پاس تھا۔ اس کے مقابلے میں کلنتان اور ترنگانو کی غریب ریاستوں کو بہت سے وسائل اور حکومتی گرانٹ صرف اس لیے نہیں دی گئی کہ ان صوبوں کے عوام اسلامی پارٹی ملایشیا کے امیدواروں کو کامیاب کراتے ہیں (کلنتان میں حالیہ انتخابات میں ریاست کی ۵۷ میں سے ۴۰ نشستیں ’پاس‘ نے حاصل کیں)۔ بداوی بھی ’روشن خیال اسلام‘ کے علَم بردار ہیں۔
پاس نے راے دہندگان پر واضح کردیا کہ بداوی کی حکومت اہم ثقافتی، سیاسی، اداراتی اور ساختیاتی (structural) مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔ چند مندروں کو مسمار کرنے، گرجاگھروں کی تعمیر کی اجازت نہ دینے اور کئی مقامات سے ’انجیل‘ اٹھائے جانے سے اُن شہریوں کے حقوق مجروح ہوئے ہیں جو اسی سرزمین کے بیٹے ہیں اور اُن کا جینا مرنا اِسی سرزمین سے وابستہ ہے۔ کئی ایسے افسوس ناک واقعات ہوئے کہ جہاں وزیراعظم بداوی اور اُن کی کابینہ کے لوگوں کو آگے بڑھ کر غلط اقدام کی مذمت کرنا چاہیے تھی مگر اُنھوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی، اور وزیراعظم یہ سمجھتے رہے کہ ’’میں تمام ملیشیائی باشندوں کا وزیراعظم ہوں‘‘ کا اعلان کافی ہوگا۔ حالیہ انتخابات میں اُنھوں نے مَلے راے دہندگان پر مکمل توجہ دی لیکن نتائج حسب توقع برآمد نہ ہوئے۔
متحدہ حزبِ اختلاف نے وزیراعظم بداوی کی اُس تصویر کو انتخابی مہم میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا، جو ’امنو‘ کے اجلاس سے لی گئی تھی جس میں وزیراعظم گہری نیند سو رہے تھے، اور تصویر دیکھنے والے کو یہ احساس ہوتا کہ جیسے وزیراعظم خراٹے لے رہے ہوں۔ سہ جماعتی اتحاد نے اس بات کو اُجاگر کیا کہ نہ صرف ملک کا وزیراعظم سو رہا ہے، بلکہ ساری انتظامیہ کی یہی صورت حال ہے اور اگر ملک کی کشتی کو سوئے ہوئے ڈرائیور سے بچانا ہے تو اس کے لیے متبادل قیادت کو موقع فراہم کرنا ہوگا۔ اِس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے۔
’پاس‘ اور سہ جماعتی اتحاد کی اس بھرپور مہم کی وجہ سے ’امنو‘ کے ۳۰ فی صد چینی النسل ووٹر، ۳۰ فی صد ملے ووٹر اور ۵ فی صد ہندو ووٹروں نے اپنی رضامندی سے حزبِ اختلاف کو ووٹ دیا۔ اُن کی راے بنی کہ ’امنو‘ آیندہ دور میں اُن کے حقوق کی کماحقہٗ پاسبانی نہیں کرسکتی۔ ۰۷-۲۰۰۶ء کے برسوں میں وکلا نے مظاہرے کیے کہ عدالتی نظام میں اصلاح کی جائے، عوام الناس نے مظاہرے کیے کہ انتخابات کو شفاف بنایا جائے، اور مذہبی اقلیتوں نے مطالبے کیے کہ اُن کے مذہبی حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ اِن کا جواب بداوی انتظامیہ نے سول سوسائٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج، عوامی سیمی ناروں کے لیے سرکاری اجازت نہ دینے، کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور ذرائع ابلاغ کی آزادی کو محدود کرنے کی صورت میں دیا، اور انورابراہیم کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ تو سب پر عیاں ہے۔
انتخابی نتائج اس قدر غیرمتوقع تھے کہ وزیراعظم عبداللہ احمد بداوی نے اگلے ہی روز دستوری شہنشاہ میزان زین العابدین اور درجنوں حکومتی عہدے داران کی موجودگی میں وزیراعظم کا حلف اُٹھا لیا، اُن کو یقین ہوگیا تھا کہ اس میں تاخیر کی گئی تو اُن کے استعفے کا مطالبہ قوت پکڑ سکتا ہے۔ موجودہ انتخابات کے نتیجے میں جمہوری عمل پارٹی، انصاف پارٹی اور پاس کلنتان، قدح، پینانگ، پراک اور سیلانگور میں حکومتیں بنائیں گی۔ حزبِ اختلاف نے ۳۷ فی صد سیٹیں اور ۴۷ فی صد عوامی ووٹ حاصل کیے ہیں۔
ان انتخابات میں ڈاکٹر انور ابراہیم کا کردار بھی اہم تھا۔ ان کی کوششوں سے چینی النسل باشندوں کی جمہوری عمل پارٹی اور اسلامی نظام کے نفاذ کی علَم بردار ’پاس‘ ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ۳۷ سال پرانی ’نئی معاشی پالیسی‘ کو ختم کیا جائے جس کے ذریعے ۶۰فی صد ملے باشندوں کو ملازمت، کاروبار، تعلیم، ٹھیکوں اور دیگر معاملات میں فوقیت دی گئی ہے۔ اس نکتے نے چینی النسل باشندوں کی اکثریت کو حزبِ اختلاف کے لیے ووٹ ڈالنے پر آمادہ کیا۔ انھوں نے عوام پر یہ بھی واضح کیا کہ جب میں وزیرخزانہ اور نائب وزیراعظم تھا تو میں نے اشیا کی قیمتیں کسی قیمت پر بڑھنے نہیں دی تھیں، جب کہ مہاتیر اور اب بداوی نے عالمی دبائوکو تسلیم کرکے عوام کے لیے بے شمار مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مہاتیر نے مجھے جیل میں ڈالے رکھا لیکن میں نے اپنے وطن کے لیے کسی قسم کے دبائو کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آج آپ لوگ مل کر نئے ملایشیا کی تعمیر کے لیے اس اتحاد کو تقویت پہنچائیں۔
اسلامی پارٹی کے سربراہ عبدالہادی آوانگ نے ملایشیا کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اُنھوں نے سہ جماعتی اتحاد کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم اسلامی نظامِ قانون کی بالادستی اور عوام الناس کی خوش حالی میں یقین رکھتے ہیں، اور ہم مثالی طرزِ حکومت متعارف کرائیں گے۔ ہمارے دروازے عوام کے لیے کھلے ہیں اور ان شاء اللہ اگلے قومی انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گے ___آنے والا وقت ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ سہ جماعتی اتحاد اس کامیابی کے نتیجے میں نئے ملایشیا کی تعمیر کے نعرے کو کس حد تک حقیقت کا رنگ دے پاتا ہے۔
صدرمملکت عبداللہ گل کی اہلیہ ہوں، وزیراعظم طیب اردوگان کی صاحبزادیاں ہوں، منتخب رکن پارلیمنٹ مروہ قاوقچی ہوں یا دیگر کروڑوں ترک خواتین، کسی کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر یا سرکاری تقریبات میں جاتے ہوئے سر ڈھانپ سکیں۔ چہرے کا پردہ نہیں صرف سر اور گردن کو دوپٹے یا اسکارف سے ڈھانپ لینا ہی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں ہزاروں طالبات کو حصولِ تعلیم سے محروم کیا جاچکا ہے۔ وزیراعظم اردوگان کے لیے بھی ممکن نہیں ہوسکا کہ اپنی دو بیٹیوں کے سر ڈھانپ کر کالج میں داخلہ دلوا سکیں۔ ہاں، اگر کوئی خاتون اپنا لباس مختصر کرنا چاہے تواس پر کوئی قدغن نہیں، اسے ایسا کرنے سے روکنے والے بنیاد پرست، تاریک خیال اور سیکولر ریاست دشمن قرار پائیں گے۔ خلافت اسلامی کے آخری امین، ۹۹ فی صد مسلم آبادی پر مشتمل ترکی کے درودیوار سیکڑوں ایسے مناظر کے گواہ ہیں کہ سر ڈھانپے نوجوان بچیوں کو دھکے مار کر تعلیمی اداروں سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ بھی ہوا کہ طالبات اپنے اس ایمان کے باعث کہ حجاب امرخداوندی ہے، سر، گردن اور سینے پر باوقار اسکارف اوڑھ کر آئیں، لیکن اپنی مادر علمی کی دہلیز پر آنسو بہاتے ہوئے اسکارف نوچ کر بیگ میں چھپا لیا کہ ایسا نہ کیا تو حصولِ علم سے محروم کردی جائیں گی۔
پردے کے مخالفین میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے، جس معاشرے میں پردہ کرنا، نہ کرنے سے زیادہ آسان ہو، وہاں یہ ’فلسفہ‘ رواج دیا جاتا ہے کہ یہ تو انسان کا ذاتی مسئلہ ہے کوئی دوسرا کیسے اسے اس بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے، بندہ جانے اور اس کا رب جانے یا پھر یہ کہ یہ تو معمولی اور چھوٹی سی بات ہے، اس کا بتنگڑ کیوں بناتے ہو… وغیرہ لیکن ترکی جیسے معاشرے میں کہاجاتا ہے: پردہ ایک مخصوص عقیدے کی علامت ہے، پردہ بنیاد پرستی کی نشانی ہے، پردہ رجعت پسندی کی طرف لے جاتا ہے، پردہ ترقی پسندی اور روشن خیالی کے منافی ہے، پردہ دہشت گردی کی انتہاتک لے جاتا ہے۔ ترکی ہی نہیں تیونس، تاجکستان اور ازبکستان جیسے کئی مسلمان ملکوں میں، جہاں بھی اسلام پسندی کے خلاف سرکاری محاذ آرائی عروج پر ہوتی ہے، سب سے پہلا نشانہ پردے ہی کو بنایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں سے صرف فرانس ایسا ملک ہے جہاں تعلیمی اداروں یا سرکاری دفاتر میں اسکارف اوڑھ کر جانا قانوناً ممنوع ہے۔ جرمنی نے بھی اس راہ پر قدم اٹھائے ہیں، اس کے ۱۲ صوبوں میں سے سات میں اسکارف پر پابندی ہے۔ اسپین میں عام انتخابات ہونے والے ہیں، انتخابی مہم میں اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوگئی تو تعلیمی اداروں میں اسکارف پر پابندی لگا دے گی۔
ترک عوام اور بالخصوص خواتین نے ان پابندیوںاور جبر سے نجات کی ہرممکن کوشش کی، لیکن روشن خیالی اور سیکولر ریاست کو بنیاد بناکر ان تمام کوششوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ صدآفریں کہ خواتین نے اپنے حق اور اپنی کوششوں سے دست برداری قبول نہیں کی۔ لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوکر مظاہرے کیے، تعلیمی اداروںاور سرکاری ملازمتوں سے باہر آتے ہی خود کو اسکارف کی زینت سے آراستہ کیے رکھا۔ عرصے تک ایک انوکھا مظاہرہ یہ بھی کیا کہ ہراتوار کی صبح فجر کی نماز استنبول میں واقع صحابی رسولؐ حضرت ابوایوب انصاریؓ کی قبر سے ملحق مسجد اور میدان میں ادا کی۔ ہزاروں کی تعداد میں مسلم خواتین اپنے کنبوں سمیت منہ اندھیرے آتیں اور آس پاس کی تمام سڑکیں رب کے حضور سجدہ ریز، اللہ کی ان بندیوں سے بھر جاتیں۔
۲۰۰۲ء میں انصاف و ترقی پارٹی بھاری اکثریت سے برسرِاقتدار آئی تو اس نے وعدہ کیا کہ وہ حجاب سے پابندی ختم کردے گی، کیونکہ یہ پابندی خود سیکولرزم کے ان دعووں کے بھی منافی ہے جن میں ہر شخص کو اپنے لباس اور عقیدے کی آزادی دینے کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن سعی کے باوجود یہ پابندی ختم نہیں کی جاسکی۔ صدارتی انتخابات کا مرحلہ آیا تو عبداللہ گل پر سب سے بڑااعتراض ہی ان کی اہلیہ کا باحجاب ہونا تھا۔ اعتراض اور معرکہ یہاں تک پہنچا کہ کئی بار پولنگ کے بعد بالآخر اسمبلی برخاست ہوگئی۔ دوبارہ عام انتخابات بھی ’انصاف و ترقی‘ کی جیت پر منتج ہوئے تو صدارتی معرکے میں پھر حجاب ہی کو اصل وجہ نزاع بنانے کی کوشش کی گئی۔ عوامی تائید کی لہر کے سامنے مخالفین کی ایک نہ چلی اور باحجاب خاتونِ اول ایوانِ صدر کی زینت بن گئیں۔ اس سے قبل جب ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی کی طرف سے مروہ قاوقچی رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں تو مخالفین کے منع کرنے کے باوجود وہ اسکارف سمیت ایوان میں داخل ہوگئیں، آسمان سر پر اُٹھالیا گیا، دہائیاں دی گئیں کہ اتاترک کی روح کو گھائل کردیا گیا، بالآخر مروہ کو اسمبلی چھوڑنا پڑی۔
اب ایک ایک کر کے اتاترک کی باقیات السیئات سے نجات مل رہی ہے۔ ۷فروری کو اسی پارلیمنٹ میں ایک دستوری ترمیم پیش کی گئی جس میں براہِ راست تو حجاب یا اسکارف کا کوئی ذکر نہیں تھا لیکن اصل ہدف حجاب کی بتدریج بحالی ہی تھا۔ عمومی تصور یہ ہے کہ ترکی دستور حجاب پر کوئی براہِ راست ممانعت عائد کرتا ہے۔ لیکن اس ضمن میں درحقیقت ۱۹۲۶ء میں جاری قانونِ ہیئت کی ایک شق کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اتاترک نے اس قانون کے ذریعے ہر مردوزن پر مغربی لباس فرض کردیا تھا تاکہ ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت دیا جاسکے۔ اس ضمن میں خواتین کو پابند کردیا گیا کہ وہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں لمبااسکرٹ اور شرٹ پہنا کریں۔ا گرچہ اس میں یہ نہیں کہاگیا تھا کہ سرڈھانپنے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن عملاً ایسا ہی کیا جاتا رہا۔ ۱۹۸۰ء کے فوجی انقلاب کے بعد ترک یونی ورسٹیوں کے سربراہوں نے مل کر ایک فیصلہ جاری کردیا کہ آیندہ کوئی طالبہ یونی ورسٹی کی عمارت میں اسکارف لے کر نہیں آسکے گی، تب سے یہ معرکہ اپنے عروج پر جاپہنچا۔ کئی شہروں میں ہنگامے ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں طالبات و خواتین کو جیلوں میں بھیج دیا گیا۔ کئی طالبات اور ان کے خاندان ترکی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ ایک تنہا خاتون ہدی کایا اپنی تین بچیوں اور ایک صاحبزادے سمیت پاکستان آکر بھی رہیں۔ تقریباً ایک سال قیام کے بعد واپس گئیں تو جاتے ہی پھر گرفتار ہوگئیں، مقدمہ چلا اور سب کو کئی سال کی سزا بھگتنا پڑی۔ جرم صرف یہی تھا کہ نہ تو یونی ورسٹی میں حجاب اُتارنے پر راضی تھیں اور نہ تعلیم سے محروم رہنے پر تیار ، بلکہ اس پر احتجاج کرتی تھیں۔ پھر ۱۹۹۷ء میں صدر سلیمان ڈیمرل نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے صراحت کے ساتھ تعلیمی اور سرکاری اداروں میں اسکارف لینے پر پابندی عائد کردی۔
فروری کو پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی دستوری ترمیم میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ ’’کوئی شخص یا ادارہ کسی ایسی بنیاد پر کسی کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روک سکے گا کہ جس کا ذکر ترک دستور میں نہیں ہے‘‘۔ اس ترمیم پر ۹فروری کو ووٹنگ ہوئی تو ۵۵۰ کے ایوان میں سے ۴۰۳ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ دستوری ترمیم کے لیے ۳۶۷ ووٹ درکار تھے لیکن ’قومی تحریک پارٹی‘ نامی ایک سیکولر جماعت نے بھی اردوگان کی پارٹی کا ساتھ دیا۔ ایک سیکولر جماعت کا حجاب کی راہ سے رکاوٹیں ختم کرنے میں ساتھ دینا سب کے لیے حیرت کا باعث بنا۔ تجزیہ نگار اس فیصلے کی توجیہہ یہ کر رہے ہیں کہ ’قومی تحریک پارٹی‘نے عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔ سیکولر جماعتوں نے یہ ترمیم سامنے آنے پر ۱۷شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوکر اس کے خلاف مظاہرے کیے، لیکن یہ بات سب جانتے تھے کہ اب ترمیم کا راستہ روکنا کسی کے بس میں نہیں۔ ’قومی تحریک‘ نے فیصلہ کیا کہ حجاب کے حق میں بڑھتی ہوئی عوامی لہرسے اپنا حصہ حاصل کیا جائے۔ دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ ترکی کی سیکولر پارٹیوںنے جان لیا ہے کہ ’انصاف و ترقی‘ کی مخالفت اس کی مزید شہرت و تقویت کا باعث بنتی رہی ہے۔ اب کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ قومی تحریک پارٹی کے نائب صدر ٹوسکای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم نے انصاف و ترقی کی اس دستوری ترمیم کا ساتھ اس لیے دیا ہے تاکہ اسے اس سے زیادہ حسّاس اور اہم ترامیم سے روکا جاسکے۔ واضح رہے کہ انصاف و ترقی آیندہ برس ترکی کے نئے دستور کا مسودہ پیش کرکے اس پر عوامی ریفرنڈم کروانا چاہتی ہے۔
۹فروری ۲۰۰۸ء کو اسمبلی سے منظوری کے دو ہفتے کے اندر اندر اس پر صدر جمہوریہ کی منظوری درکار تھی۔ صدر یہ منظوری دو ہفتے کے دوران کسی بھی وقت دے سکتا تھا لیکن انھوں نے آخری روز، یعنی ۲۳فروری کو دستخط کیے اور یہ ترمیم دستور کا حصہ بن گئی۔ تحمل اور صبر کا یہ رویہ بھی انصاف پارٹی کی حکمت عملی کا ایک تعارف کرواتا ہے۔ حالیہ ترمیم سے صرف یونی ورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی طالبات پر سے پابندی ختم ہوئی ہے، تعلیم کے تمام ابتدائی مراحل میں ابھی یہ پابندی باقی ہے اور یونی ورسٹیوں کی اساتذہ و ملازمین بھی اسکارف لے کر یونی ورسٹی نہیں آسکتیں۔ دیگر سرکاری اداروں میں بھی یہ پابندی بدستور باقی ہے لیکن یہ ایک آغاز ہے اور اتاترک کی راہ پر چلنے والوں کے لیے انتہائی تہلکہ خیز آغاز۔
اب اصل سوال ترک فوج اوردستوری عدالت کا ہے۔ فوج کے سربراہ نے تو یہ بیان دے کر فی الحال خاموشی اختیار کرلی ہے کہ ’’پردے کے بارے میں فوج کا موقف معلوم و معروف ہے، اسے بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں‘‘۔ لیکن دستوری عدالت کا موقف فی الحال مجہول بھی ہے اور خطرناک بھی۔ اس کا فیصلہ ناقابلِ اپیل اور حتمی ہوتا ہے اور اس پر کٹڑ اسلام دشمن سیکولر حاوی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال یہ ہے کہ بھرپور عوامی رو کو دیکھتے ہوئے دستوری عدالت بھی خاموش رہنے ہی میں عافیت سمجھے گی۔ عدالت کو بھی یہ خدشہ ہے کہ اگر اس جزوی ترمیم کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو کہیں اردوگان فوراً ہی نئے دستور کا مسودہ ریفرنڈم کے لیے پیش نہ کردیں کہ جس میں خود دستوری عدالت کا کردار بھی محدود کرنا پیش نظر ہے۔ ترکی میں گذشتہ پون صدی سے جاری سیاسی و ثقافتی کش مکش اب حسّاس دور میں داخل ہوگئی ہے۔ عوام کی بھرپور اکثریت اسلامی شعائر کا احترام کرنے پر زور دے رہی ہے۔ حالیہ دستوری ترامیم کے بارے میں جب سروے کروایا گیا تو ۷۰ فی صد عوام نے اس کے حق میں رائے دی۔ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ یہ حمایت کسی عمومی معاشرتی ماحول یا وراثتی روایات کی بنیاد پر مبنی نہیں ہے۔ اسکارف کی حمایت کرنے والوں میں سے ۶۱ فی صد نے بتایا کہ وہ اس لیے حمایت کر رہے ہیں کہ اسلام حجاب کا حکم دیتا ہے۔
وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ،(الصف ۶۱:۸) اللہ اپنا نور مکمل کرکے رہے گا خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔