غزہ کی گلیوں اور تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات سے اُٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے تو دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے، جس میں اصول اور نشستیں بدلتی رہتی ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟
نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے حالیہ اجلاس میں ’مزاحمت کاروں‘ سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دُہرایا گیا، جسے انھوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی‘۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادنوف کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور نشان دہی کی گئی ہے کہ امن کے تقاضے یک طرفہ رکھے جا رہے ہیں۔
ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا کے معاملے میں مکمل خاموشی۔اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انھیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔
سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں شہادتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکایت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو وہاں پر موجود اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا، جس سے چار فلسطینی شہید ہوگئے۔
لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاؤں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔
اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۷۲ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ۲۴۵۴ شہری شہید ہوئے ہیں اور ۷۶۵۸ زخمی۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ گیارہ بارہ سال کے معصوم بچے آخر کس ’دہشت گردی‘ میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔
دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے؟۲۱؍ اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایک ۱۴ سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولی لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے غارت گرد دیواروں پر 'عرب مُردہ باد کے نعرے لکھ گئے۔
صہیونی قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاری ماری جاتی ہے۔ بیت الحم کے گاؤں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
القدس شریف میں دراندازی :مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءمیں القدس پر قبضے کے فوراً بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائے گی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا، مگر یہ سب خواب ہے!
ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی:نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں ۱۴؍اپریل کو ’یومِ ہولوکاسٹ‘ منایا جاتاہے جسے عبرانی میں’یومِ ہاشوہ‘ کہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ’ڈیم اسکوائر‘ پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انھی یہودیوں کے مظالم کا شکار عرب بچوں کا کوئی دُکھ اور کوئی یاد نہیں؟ یقینا دُنیا بھر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں اور یاد رکھیں گے۔
گذشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے ۵۰۰ افراد گرفتارکرلیے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کے لیے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟
ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکا چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، ٹفٹ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ یونی ورسٹی کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انھیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا اور لوزیانا کی ایک دُور افتادہ جیل میں ۴۵ دن رکھا گیا، جہاں انھیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی گلبرائیٹ اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکا میں آزادیِ اظہارِ رائے کے ساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔
یوول (Yuval) اپنے ناخن چباتے ہوئے بیٹھا ہے، اس کی ٹانگیں بے چینی سے ہل رہی ہیں۔ تل ابیب میں دوپہر کا وقت ہے اور سڑک لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کبھی وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، اور پاس سے گزرنے والے لوگوں پر نظر ڈالتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’معذرت، میرا سب سے بڑا خوف’انتقام‘ ہے‘‘۔
یوول کسی جرائم پیشہ خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا، اور نہ وہ کوئی مجرم ہے۔ وہ ۳۴سال کا نوجوان ہے۔ تل ابیب کے مضافاتی علاقے رمت ہشارون میں پلا بڑھا اور کمپیوٹر پروگرامر بنا۔ حال ہی میں وہ دنیا کی ایک بڑی ہائی ٹیک کمپنی میں سے ایک میں کام کر رہا تھا، لیکن وہ مہینوں سے وہاں نہیں گیا۔ وہ کہتا ہے:’’میں جہنم میں تھا، لیکن مجھے اس کا احساس نہیں تھا‘‘۔ وہ جس جہنم کی بات کر رہا ہے وہ دسمبر ۲۰۲۳ء میں جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پیش آیا، جب وہ ایک فوجی کی حیثیت سے تعینات تھا۔’’وہاں ہر وقت فضائی حملے ہو رہے تھے۔ ایک ٹن وزنی بم آپ سے تھوڑی ہی دُور گرتا ہے اور آپ کا دل اچھل کر حلق میں آ جاتا ہے‘‘۔
اس کا یونٹ شہر کے مرکز کی طرف مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔’’وہاں شدید لڑائی ہو رہی تھی… اور میں ایک آٹو پائلٹ (مشین) کی طرح کام کر رہا تھا، سوال نہیں پوچھ سکتا تھا، بس حکم کی تعمیل‘‘۔
مگر سوالات اسے مہینوں بعد ستانے لگے:’’میرے پاس اس کے جوابات نہیں ہیں، میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ میں نے جو کیا ہے اس کی کوئی معافی نہیں۔ کوئی کفارہ نہیں‘‘۔
یہ واقعہ غزہ کی مرکزی شاہراہ صلاح الدین روڈ کے قریب پیش آیا۔ ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے، ایک پلاٹون نے کچھ مشکوک افراد کو دیکھا۔ میرے یونٹ نے حملہ کر دیا۔میں ایک پاگل آدمی کی طرح گولیاں چلا رہا تھا، جیسا کہ ہمیں بنیادی تربیت میں پلاٹون کی مشقوں کے دوران میں سکھایا گیا تھا‘‘۔وہ کہتا ہے: ’’جب ہم اپنی منزل پر پہنچے، تو مجھے احساس ہوا کہ لوگ جن کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کوئی دہشت گرد نہیں تھے۔ یہ ایک بوڑھا آدمی اور تین نوعمر لڑکے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مسلح نہیں تھا۔ لیکن ہم نے ان کے جسم گولیوں سے چھلنی کر دیے تھے، ان کے اعضا کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے کبھی اتنے قریب سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تھی‘‘۔
’’مجھے یاد ہے اس کارروائی کے بعد وہاں مکمل سناٹا تھا، کسی نے ایک لفظ نہیں بولا تھا۔ پھر بٹالین کمانڈر اپنے لوگوں کے ساتھ آیا۔ اس کے ساتھ آنے والوں میں سے ایک نے لاشوں پر تھوکا اور چلّایا،ایسا سلوک ہراُس فرد کے ساتھ ہوتا ہے جو اسرائیل سے الجھتا ہے، تم کمینوں کی کمینی اولاد۔ میں صدمے میں تھا، لیکن میں خاموش رہا کیونکہ میں ایک بزدل ہوں، صرف ایک بے ہمت بزدل‘‘۔
اس ذہنی دبائو کی کیفیت کے سبب یوول کو تقریباً تین ماہ بعد فارغ کر دیا گیا۔ اس نے دو ہفتے کی چھٹی لی اور واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ وہ کہتا ہے:’’جب میں فارغ ہوا تو انھوں نے میرے لیے ایک پارٹی رکھی، میرے لیے تالیاں بجائیں اور مجھے ہیرو کہا۔ لیکن مجھے لگا جیسے میں ایک درندہ ہوں۔ میں ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکا، جو انھوں نے مجھ سے کہیں۔ مجھے لگا کہ انھیں احساس ہی نہیں ہے کہ میں کوئی اچھا انسان نہیں ہوں‘‘۔
کچھ مہینوں تک اس نے اپنی ملازمت برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاکہ اپنے دل پر بوجھ کم کرسکے، لیکن آخر کار ہمت ہار دی۔ وہ کہتا ہے: ’’میرے اندر کی شرمندگی اب بدتر ہو چکی ہے‘‘۔
وہ کہتا ہے:’’میں گھر سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتا، اور اگر نکلتا ہوں تو ہڈ (Hood) پہن لیتا ہوں تاکہ لوگ مجھے پہچان نہ سکیں۔ میں اب بھی آئینے میں خود کو نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے۔ مجھے ایک گہرا خوف ہے کہ کوئی مجھ سے اس بات کا بدلہ لے گا جو میں نے وہاں کیا ہے۔ اگرچہ مجھے یہ بات معلوم ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، غزہ کے بچ رہنے والوں میں سے کون مجھے ڈھونڈ سکتا ہے؟ ‘‘
’’اس عافیت کے واہمے کے باوجود، میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ میں کسی طرح مرنا چاہتا ہوں، تاکہ اس سب سے چھٹکارا پا سکوں۔ میں خودکشی نہیں کروں گا کیونکہ میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہے، لیکن میں یہ بات نہیں جانتا کہ میں کب تک یہ بوجھ اٹھا سکوں گا‘‘۔
مایا، تل ابیب میں رہتی ہے اور فلسفے کی تعلیم حاصل کرتی ہے۔ غزہ جنگ کے دوران اس نے ریزرو فوجی کی ڈیوٹی کے طور پر ایک آرمرڈ کور بٹالین میں ایچ آر (HR) افسر کے طور پر کام کیا۔ وہ کہتی ہے: ’’میری روزمرہ کی زندگی اور میری ریزرو ڈیوٹی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ دنیائیں ہیں، جن میں بسنے والے مختلف لوگ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے بھی مختلف طریقے سے برتاؤ کیا تھا۔
مایا کو ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے، جو جنوبی غزہ میں ایک چوکی پر پیش آیا۔ مایا کہتی ہے:’’ہم وہاں کمانڈ روم میں بیٹھے تھے۔ اچانک فوجیوں نے پانچ فلسطینیوں کو دیکھا، جو اس لائن کو عبور کر رہے تھے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔وہاں ایک کتا بھی تھا۔ بٹالین کمانڈر نے انھیں قتل کرکے ایک گڑھے میں ڈالنے کا حکم دیا، حالانکہ وہ بالکل مسلح نہیں تھے۔ بہرحال ایک ٹینک پہ لگی مشین گن سے ان پر فائرنگ شروع کر دی، سینکڑوں گولیاں۔ پانچ میں سے چار فلسطینی مارے گئے۔کچھ گھنٹوں بعد، ایک ڈی-۹ (بلڈوزر) نے انھیں وہیں مٹی میں دبا دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ کتے انھیں کھا نہ سکیں اور ان کی لاشوں کی بدبُو سے بیماری نہ پھیلے‘‘۔
’’تب مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگی۔میں نے محسوس کیا کہ میں ایک منافق اور گھٹیا عورت ہوں۔ اس احساس کو کم کرنے کے لیے میں دن میں تین بار نہاتی مگر میری بے بسی کی تصویر مجھے نہیں چھوڑتی تھی۔ میرے ذہن میں خیالات مسلسل گھومتے رہتے ،میں وہاں کھڑی کیسے رہ سکتی تھی؟ میں، جو اخلاقیات اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہوں، وہاں احتجاج کرنے یا کچھ کرنے کے بجائے وہاں کیسے کھڑی رہی؟ میں نے ان سے کچھ بھی کیوں نہیں کہا؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے‘‘۔
کچھ سپاہیوں نے بتایا کہ غزہ میں تفتیش کے دوران کیے جانے والے انسانیت سوز سلوک نے ان پر گہرے ذہنی اثرات چھوڑے۔ ایک سپاہی کہتا ہے:’’جب آپ اسنائپر کے دُوربین (Scope) سے دیکھتے ہیں، تو سب کچھ بہت قریب نظر آتا ہے۔ آپ جن لوگوں کو مارتے ہیں، ان کے چہروں کے خدوخال، پریشانی، خوف، بے بسی اور مرنے سے پہلے چہرے پر نظر آنے والے آثار آپ کو نہیں بھولتے۔ وہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں زندگی بھر‘‘۔
ایک اور سابق فوجی نے بتایا:’’میں نے اپنے لوگوں کو بجلی کے آلات، مقتولین کے سونے کے زیورات اور نقدی لوٹتے ہوئے دیکھا اور اپنوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: تمام عرب نازی ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میں بیزار تھا، لیکن میں نے کچھ نہیں کہا۔ خاص طور پر جب لوگ فلسطینیوں کے مارے جانے یا ان پر تشدد کی تصاویر دکھاتے، تو مجھے بہت تکلیف ہوتی‘‘۔
سرکاری طور پر، وزارت دفاع ’ذہنی صدمہ‘ کو ایک طبی تشخیص کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی صدمہ اور خوف ہے۔ذہنی صدمہ کا تعلق ضمیر، شرمندگی اور گناہ کے احساس سے ہوتا ہے۔
ایک افسر نے کہا:’’یہ احساس صرف جونیئر کمانڈرز کی سطح پر نہیں ہے، بلکہ چیف آف اسٹاف تک ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں: یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا آپ غدار ہیں‘‘۔
یوول کہتا ہے:’’میں اب ایک سبزی خور بن گیا ہوں۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب اس بوڑھے کی لاش سے اُٹھنے والی بو مجھے الشفاء ہسپتال کی بُو کی یاد دلا گئی جہاں فلسطینیوں کی بہت سی دبی ہوئی لاشوں کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ اس چیز نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم کیا بن گئے ہیں؟ میں کیا بن گیا ہوں؟ مجھے اس بات کا جواب دینے سے ڈر لگتا ہے: انسان نہیں درندہ!‘‘
[اسرائیلی اخبار Haaretz، ۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء ، ترجمہ: ادارہ]
_______________
جب اقوام متحدہ کی ’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ (CED) نے ۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جنیوا میں اپنا تیسواں اجلاس شروع کیا تو اس نے ایک طاقتور اور فوری نعرے کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی شروع کی: ’پہلے متاثرین، فوری کارروائی‘۔ یہ موضوع بہت سا وقت گزرنے کے بعد زیربحث لایا جارہا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں، جبری گمشدگیاں اب بھی خاندانوں کو تباہ اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہیں۔ تاہم، کشمیر کے ہزاروں خاندانوں کے لیے، یہ الفاظ خاص طور پر گہرا مفہوم رکھتے ہیں — کیونکہ ان کے لیے سچائی کی تلاش برسوں نہیں بلکہ عشروں سے جاری ہے۔
’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ آزاد ماہرین کا وہ ادارہ ہے، جو تمام افراد کو جبری گمشدگی سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی کنونشن کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بیس سال قبل منظور کیا تھا۔ دس آزاد ماہرین پر مشتمل یہ کمیٹی، جو اپنی ذاتی حیثیت میں خدمات انجام دیتی ہے، بین الاقوامی برادری کے اس اعتراف کی نمائندگی کرتی ہے کہ جبری گمشدگی، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک گھناؤنا جرم ہے۔
موجودہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے، کمیٹی کے چیئرپرسن پروفیسر جوآن پابلو البان الینکاسٹرو اور ایکواڈور کے ماہر قانون نے دنیا کو یاد دلایا کہ کنونشن پہلے کیوں اور کن حالات میں منظور کیا گیا تھا۔ بیس سال قبل، بین الاقوامی برادری نے غیر مبہم طور پر اس بات کی توثیق کی تھی کہ کسی بھی شخص کو قانون کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سب سے سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کنونشن، متاثرین کے وقار کے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ و احترام کے لیے اور ایسے جرائم کے دوبارہ وقوع کو روکنے کے لیے ایک ضمانت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
تاہم، چیئرپرسن نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی منظرنامہ جس میں کنونشن اب کام کر رہا ہے، تیزی سے پریشان کن صورتِ حال پیش کر رہا ہے۔ تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، دنیا کے کئی حصوں میں آمرانہ رجحانات مضبوط ہوئے ہیں، اور انسانی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے حکومتی جابرانہ اقدامات اور موقف زور پکڑ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں، کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں جیسے بین الاقوامی میکانزم ان چند آلات میں سے ہیں جو متاثرین کے لیے انصاف اور احتساب کے حصول کے لیے دستیاب ہیں۔
ہیومن رائٹس ٹریٹیز برانچ، آفس آف دی ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کے سربراہ پروفیسر اینٹی کورکیاکیوی نے اپنے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ کنونشن واحد عالمگیر معاہدہ ہے جو خاص طور پر جبری گمشدگیوں کو روکنے اور اس ظالمانہ عمل کوختم کرنے کے لیے وقف ہے۔ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ انسانی حقوق کا نظام خود بہت سی ادارہ جاتی اور مالی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جب کہ خلاف ورزیاں دنیا بھر میں جاری ہیں۔
کمیٹی کا فوری کارروائی کا طریقۂ کار متاثرین کے لیے دستیاب ہے۔ اس ’نظامِ کار‘ (Mechanism)کے ذریعے، خاندان اس وقت براہ راست اقوام متحدہ میں مقدمات لا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص لاپتہ ہو جائے، جس سے کمیٹی حکومتوں سے فوری وضاحت کی درخواست کرتی ہے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیتی ہے۔ ایسے ’نظامِ کار‘ کا وجود یہ ظاہر کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں ماضی کی باقیات نہیں ہیں —، بلکہ وہ دنیا کے کئی خطوں میں روزمرہ کی حقیقت بنی ہوئی ہیں۔
بدقسمتی سے، کشمیر ان خطوں میں شامل ہے جہاں گمشدگی کا درد ہزاروں خاندانوں کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق،۱۹۸۹ء اور ۲۰۱۲ء کے درمیان کشمیر میں کم از کم۸ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ ریاستہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ کی’کنٹری رپورٹس آن ہیومن رائٹس پریکٹسز‘ نے بھی اسے نوٹ کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۱۹۸۹ء اور ۲۰۰۶ء کے درمیان جموں و کشمیر میں۸ ہزار سے ۱۰ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ پیچھے رہ جانے والے خاندانوں، — ماؤں، باپوں، شریکِ حیات اور بچوں — کے لیے غیر یقینی صورتِ حال زندگی بھر کا عذاب بن گئی ہے۔
جبری گمشدگی کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک یہی غیر یقینی صورتِ حال ہے۔ اقوام متحدہ کے ’ورکنگ گروپ آن انفورسڈ یا انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ نے بارہا زور دیا ہے کہ گمشدگی اس وقت تک انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہے جب تک کہ لاپتہ شخص کی قسمت یا ٹھکانہ نامعلوم رہے۔ دوسرے لفظوں میں، مصیبت خود گمشدگی کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، یہ روز بروز اور سال بہ سال جاری رہتی ہے۔
کشمیر میں، لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اکثر جوابات کی تلاش میں زبردست قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ’ (AFSPA) جیسے قوانین سکیورٹی فورسز کو وسیع استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس سے نئی دہلی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر سویلین عدالتوں میں مقدمہ چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے دلیل دی ہے کہ ایسی دفعات استثنیٰ کی فضا پیدا کرتی ہیں جو بامعنی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔
سول سوسائٹی گروپس اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں نے بارہا خطے میں من مانی حراست، تشدد، اور گمشدگیوں کے بارے میں خدشات اٹھائے ہیں۔ ’جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘ (JKCCS) اور ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (APDP) کی ایک مشترکہ رپورٹ نے کئی عشروں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد اور بدسلوکی کو بیان کرنے والی سیکڑوں شہادتوں کو دستاویزی شکل دی۔ دیگر تحقیقات نے غیر نشان زدہ اور اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا ہے، جن میں سے کچھ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں لاپتہ ہونے والوں کی باقیات موجود ہیں۔
’آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس‘ (او ایچ سی ایچ آر) نے بھی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے قابل اعتماد معلومات اور کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی فوری ضرورت کو نوٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ احتساب کا فقدان انصاف کی راہ میں سب سے سنگین رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
کشمیر میں مقامی انسانی حقوق کے محافظوں کا کام ان زیادتیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مرکزی رہا ہے۔ سب سے نمایاں شخصیات میں خرّم پرویز شامل ہیں، جو کشمیری انسانی حقوق کے ایک کارکن، جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر اور فلپائن میں قائم ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ کے چیئرمین ہیں۔ پرویز اور ان کے ساتھیوں نے The Structure of Voilence کے عنوان سے ۷۹۹صفحات کی ایک تاریخی رپورٹ تیار کرنے میں مدد کی، جس میں خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوتوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔ رپورٹ کی ہارڈ کاپیاں متعدد بین الاقوامی اداروں کو فراہم کیں، بشمول آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس اور آفس آف دی یو این سیکرٹری جنرل۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ خرم پرویز خود بعد میں بین الاقوامی تشویش کا موضوع بن گئے۔ نومبر ۲۰۲۱ء میں، انھیں انڈیا کے غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جو افراد کو بغیر رسمی الزامات کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کی گرفتاری کو انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی قانون سازی کے غلط استعمال کی ایک اور مثال قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، پروفیسر میری لولر نے کہا، خرم پرویز کسی بھی حوالے سے دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے رضاکار اور محافظ ہیں۔ خرم کو ۲۰۲۲ء میں امریکا میں قائم ٹائم میگزین کی جانب سے دنیا کے۱۰۰ بااثر ترین افراد میں سے ایک قرار دیا گیا۔
پروینہ آہنگر، کشمیر میں قائم ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (اے پی ڈی پی) کی بانی، جنھیں کشمیر میں ’آئرن لیڈی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو کشمیر میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کے کام، بشمول ان کے بیٹے کو بین الاقوامی شناخت کے لیے ناروے کا رافٹو پرائز دیا گیا۔
جیسا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے، ضرورت سے زیادہ حفاظتی اقدامات جو انسانی وقار کی خلاف ورزی کرتے ہیں، بالآخر نفرت اور تقسیم کو گہرا کرتے ہیں بجائے اس کے کہ انھیں حل کریں۔
یہی وجہ ہے کہ اس سال کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں کی طرف سے اختیار کردہ موضوع — ’پہلے متاثرین ،فوری کارروائی‘ — بہت اہم ہے۔
کشمیر میں لاپتہ افراد کی ماؤں کے لیے جو عشروں سے اپنے لاپتہ بیٹوں کی تصاویر تھامے خاموشی سے مارچ کر رہی ہیں، ان کا مطالبہ دردناک حد تک سادہ ہے: ’سچائی‘۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا ہوا؟ وہ مستقل شک کے ساتھ جینے کے بجائے یقین کے ساتھ سوگ منانے کا حق چاہتی ہیں۔
بین الاقوامی برادری جبری گمشدگی کے خلاف کنونشن کا احترام کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی،جب کہ ان حل طلب مقدمات کو نظر انداز کر رہی ہے جو کشمیر کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ آزادانہ تحقیقات، شفافیت، اور احتساب کسی بھی ریاست کے خلاف دشمنی کے اقدامات نہیں ہیں، وہ انصاف اور مفاہمت کی طرف ضروری اقدامات ہیں۔
کشمیر میں اب بھی انتظار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے، پیغام واضح ہونا چاہیے: ان کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں، ان کے دُکھ کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، اور سچائی کی تلاش کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ (ترجمہ: س م خ)
_______________
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی معاشرے کی جو درگت بنی، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کسی نے اُس دَور کی حکومتی سرگرمی ملاحظہ کرنی ہو تو آج کی بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے معروف رکن، بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، کی شائع ہونے والی تازہ کتاب اندھیری جیل کا قیدی کا مطالعہ کرلے، سب چانن ہو جائے گا۔
حسینہ واجد کے متنوع مظالم، استحصالی قوانین اور انڈیا کی جانب بے تحاشہ جھکاؤ سے بغاوت کرتے ہُوئے بنگلہ دیشی طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے نے ’عوامی لیگ‘ اور حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ ۵؍اگست۲۰۲۴ء کو وقوع پذیر ہُوا۔ تختہ اُلٹنے کی تحریک میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ۱۴۰۰ سے زیادہ بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے۔ اِن سانحات کی تمام ذمہ داری شیخ حسینہ واجد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی گئی۔
حکومت کے خاتمے پر حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر اپنے محسن ملک، انڈیا، میں پناہ گزیں ہو گئیں اور اب تک وہیں ہیں۔ متنوع اور سنگین الزامات کے تحت بنگلہ دیشی عدالت حسینہ واجد کو سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔بنگلہ دیش میں پروفیسر محمد یونس کی سابقہ عبوری حکومت نے متعدد بار انڈیا سے مطالبہ کیا تھا کہ حسینہ واجد کو ہمارے حوالے کیا جائے، مگر مودی حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبیل انعام یافتہ معروف بنگلہ دیشی راہ نما پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی۔ اُن کی۱۸ماہ پر پھیلی حکومت کے دوران میں انڈیا و بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات انتہائی نچلے درجے پر دیکھے گئے۔ دوسری طرف اِسی عرصے میں پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات نئی بلندیوں پر پائے گئے۔ اِسی دوران کئی بنگلہ دیشی عسکری شخصیات نے بھی پاکستان کے دَورے کیے۔ پاک، بنگلہ دیش سفارتی، تجارتی، تعلیمی، صحافتی اور ثقافتی تعلقات میں خاصا اضافہ ہُوا۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ مناظر خاصے تکلیف دِہ تھے، مگر اُس نے خاموش رہ کر بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات کو بالکل ہی منقطع نہ ہونے دیا۔
کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے انڈین وزیر خارجہ، جے شنکر، ڈھاکہ میں اُس وقت پُر جوش انداز میں دیکھے گئے، جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کا ۳۱دسمبر ۲۰۲۵ء کو جنازہ اُٹھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جے شنکر کی مذکورہ شرکت اِس امر کا اظہار تھا کہ انڈیا کسی بھی طور بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہے کہ وہ پکے ہُوئے پھل کی طرح پاکستان کی جھولی میں جا گرے، جب کہ پاکستان کے عوامی حلقوں کا خیال تھا کہ پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران پاک، بنگلہ دیش تعلقات میں جو شان دار اُبھار آیا ہے، یہ برقرار رہے گا۔ ایسا مگر ہو نہیں سکا ہے۔
فروری۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقد عام انتخابات کے بعد جیسے ہی ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (BNP) کی حکومت برسرِاقتدار آئی اور جناب طارق رحمٰن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے، تو انڈیا اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں پہلے کی طرح، بلکہ تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔
یاد رہے یہ انڈین وزیر اعظم، نریندر مودی، ہی تھے جنھوں نے طارق رحمٰن کی پارٹی کی کامیابی پر پاکستان سے پہلے انھیں فتح کی مبارکباد دی تھی، اور طارق رحمٰن نے فوری طور پر شکریے کا خط لکھا تھا۔ طارق رحمٰن کی حکومت بنتے ہی بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن نے سب سے پہلے انڈیا کادو روزہ دَورہ کیا ہے۔ یہ دَورہ ۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو عمل میں آیا۔ انھوں نے اِس دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور مودی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، اُجیت ڈووَل (جو پاکستان دشمنی میں خاصا معروف و مشہور نام ہے)، سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
انڈین میڈیا بڑی خوشی اور مسرت سے اعتراف کررہا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیشی و انڈین حکومت میں عدم اعتماد کے جو بحران دَر آئے تھے، اب طارق حکومت کے آتے ہی اِن بحرانوں کا خاتمہ ہورہا ہے اور تعلقات میں مضبوطی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن، نے اسی دورے میں انڈین وزیر پٹرولیم سے جو تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں، اُن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مارچ میں انڈیا نے طارق حکومت کو، دو اقساط میں، ۱۵ہزار ٹن پٹرول و ڈیزل فراہم کیا، اور اپریل۲۰۲۶ء میں انڈیا نے مزید ۴۰ہزار ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے انڈین اعانت کا سہارا لیا۔
ڈھاکہ سے شائع ہونے والے معروف انگریزی اخبار دی ڈیلی اسٹار نے (۹؍اپریل ۲۰۲۶ء) خبر دی ہے کہ ’’بنگلہ دیش ریلویز ۲۰۰ کی تعداد میں انڈیا سے بنے بنائے ریل ڈبے خرید رہی ہے‘‘۔ بنگلہ دیش کے وزیر ریلوے، شیخ ربیع العالم نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںاِس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ انڈیا یہ آرڈر دسمبر۲۰۲۷ء تک مکمل کرے گا۔اِس بھاری سودے کے اخراجات ’یورپین انویسٹمنٹ بینک‘ برداشت کرے گا، اور مذکورہ بینک نے یہ رقم بنگلہ دیش کو قرض میں دی ہے۔
یوں بھاری مالی فائدہ انڈیا کو پہنچے گا۔ اِسی طرح کرکٹ کے میدان میں انڈیا و بنگلہ دیش سے تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی، اُسے بھی درست کیا جارہا ہے۔ اِس کے لیے بھی طارق حکومت نے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ تعلقات کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے انڈین کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا ہے۔ اِس خط میںبی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز، نظم العابدین فہیم، نے اِس خواہش کا اظہار کیا ہے: ’’ستمبر۲۰۲۶ء میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم شیڈول کے مطابق انڈیا میں کھیلنے کے لیے آنا چاہتی ہے‘‘۔ یوں قربتوں کا ایک اور موقع پیدا ہوا ہے۔
مراد یہ کہ بنگلہ دیش چاہتے ہُوئے بھی انڈیا سے کامل نجات حاصل نہیں کر سکتا کہ متعدد شعبوں میں بنگلہ دیش ہر پہلو سے انڈیا پر انحصار کرتا ہے۔ دریائے ’ٹیسٹا‘ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر بنگلہ دیش کی انڈیا سے ناراضی نمایاں ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی زبان بولنے والوں سے جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، اِس نسبت سے بھی بنگلہ دیشی عوام نئی دہلی سے خاصے ناخوش ہیں۔
انڈین ’بارڈر سکیورٹی فورسز ‘(BSF)کے مسلح اہل کار آئے روز بنگلہ دیش اورانڈیا کی مشترکہ سرحد پر بنگلہ دیشی شہریوں کو بے جا طور پر قتل کر ڈالتے ہیں اور بنگلہ دیش محض احتجاج ہی کرتا رہ جاتا ہے۔
۱۱؍اپریل۲۰۲۶ء کو تقریباً تمام انڈین اخبارات نے یہ خوفناک خبر شائع کی: ’’انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل نے انڈیا، بنگلہ دیش سرحد پر تعینات اپنے جملہ ماتحتوں کو حکم دیا ہے کہ اِس امر کا جائزہ لیں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد کے درمیان بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں اگر زہریلے سانپ اور خونخوار مگر مچھ چھوڑ دیے جائیں، تو کیا اِس اقدام سے بنگلہ دیشیوں کو انڈیا میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے؟‘‘اِس پر ایک انڈین صحافی سنجیو کرشن سُوڈ نے لکھا کہ ’’سوال یہ ہے کہ اِس مہلک زہریلی مخلوق کو انڈین شہریوں کو کاٹنے سے کیسے منع کیا جائے گا؟‘‘
اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی تھا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا رہا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ نیوزایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دنوں میں ایران کے ۱۲۷۰، لبنان کے ۴۸۸ اور غزہ کے ۳۶ فلسطینی اپنی جانیں ہار گئے۔ موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۱۰ لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنوبی غربِ اُردن ہی کے علاقے اُم الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملہ کرکے مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ہزاروں مرغیاں اور چوزے جل کر مرگئے۔
اسی دوران عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے بم استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ،عرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس کے خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا: ’نیتن یاہو کو جیل بھیجو‘۔پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کھودیں جارہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب ہرخبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدہم کیوں تھی؟
۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔
اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔
اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔
اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔
اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔
’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔
مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔
انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔
ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔
گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔
’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔
دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔
۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔
انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔
جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔
اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔
یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔
تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔
خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔
تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔
خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔
اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔
یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔
فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔
جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔
کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟
اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔
دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔
پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟
ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔
اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟
میری والدہ، سیّدہ آسیہ اندرابی کو تین بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جو درحقیقت موت کی سزا کے مترادف ہے۔ یہ سزا ان دفعات کے تحت دی گئی ہے، جنھیں انڈیا کے نافذ کردہ سیاہ ترین قوانین (UAPA) میں شمار کیا جاتا ہے (یہ قانون کشمیر میں عوامی رائے کچلنے کے لیے بنایا گیا ہے)۔ کشمیر میں یہ پہلی مثال ہے کہ تحریکِ خود ارادیت میں شمولیت کی پاداش میں کسی کشمیری خاتون کو عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔
میری والدہ کے ساتھ ان کی دو ساتھیوں، ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کو بھی تیس تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان تینوں کو۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ آٹھ سال تک جاری رہا ہے۔ میری والدہ نے اپنی زندگی کی ۱۵ سال سے زائد مدت مختلف بھارتی جیلوں میں گزاری ہے۔ جس میں سے زیادہ تر وقت ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (PSA) کے تحت گزارا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ میں اس کرب سے گزر رہا ہوں۔ دو عشرے قبل، اسی طرح کے ایک کمرۂ عدالت میں، ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے میں نے اپنے والد، ڈاکٹر قاسم فکتو کے خلاف عمرقید کی سزا کا حکم سنا تھا (وہ ۳۳ برس سے مسلسل قید میں ہیں)۔ انھیں ایک جھوٹے مقدمے میں الجھایا گیا، لیکن حقیقت میں یہ سزا تحریک حقِ خود ارادیت میں ان کی شمولیت کی وجہ سے تھی۔ میرے والد، جو اطالوی سوشلسٹ دانشور گرامچی (Gramsci)کے الفاظ میں ایک ’نامیاتی دانشور‘ (Organic Intellectual) ہیں، اب تک ۳۳سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار چکے ہیں۔ انھوں نے جیل کی کوٹھری سے۲۰ سے زائد کتابیں لکھیں اور وہیں سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والدین اب اپنے گھر، اپنے بچوں اور ایک دوسرے سے سیکڑوں کلومیٹر دور دوالگ الگ جیلوں میں قید ہیں۔ میری والدہ کے خلاف سزا کا حکم نامہ روایتی عدالتی لفاظی اور ان مبینہ جرائم کی قانونی دفعات سے بھرا ہوا ہے، جو ان تینوں خواتین پر عائد کی گئی ہیں۔ یہ کیسی خون کے آنسو رُلانے والی بات ہے کہ نئی دہلی حکومت کے پاس کشمیری زندگیوں کے لاتعداد برس چھین لینے کا اختیار ہے، جیسے ان کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ وہ کیسے ہمارے گھر اُجاڑ دیتے ہیں، ہمارے خاندانوں کو بکھیر دیتے ہیں، اور پھر خود اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو بھی لیتے ہیں؟
ہمارے گھر میں والد صاحب کے لیے ایک کمرہ ہے، ایک ایسا گھر کہ جس میں وہ ایک دن بھی نہیں رہے۔ عشروں پر پھیلی ان کی قید کے بعد، اب ہمارے گھر میں ایک لائبریری موجود ہے، جو ہماری زندگیوں میں ان کی موجودگی اور غیر موجودگی، دونوں کی علامت ہے۔
اردو میں ’شریکِ حیات‘ کا مطلب ہے کہ جس کے ساتھ زندگی بانٹی اور گزاری جائے۔ میری والدہ نے اپنے ایمان اور اپنی ہمت کے ساتھ کہا کہ اب وہ صحیح معنوں میں میرے والد کی ’شریکِ حیات‘ بن گئی ہیں، کیونکہ اب وہ دونوں عمر قید کی زندگی ایک ساتھ گزار رہے ہیں۔
بھارت کس طرح سرگرمی (Activism) کو جرم قرار دیتا ہے؟
میری والدہ کو عمر قید کی سزا سنانا ان تمام زمروں کی فضولیات کو بے نقاب کرتا ہے، جس کے تحت کہا جاتا ہے: تشدد پسند، یا عدم تشدد پسند،جنگجو یا غیر جنگجو،عسکریت پسند یاسرگرم کارکن۔ یہ وہ تفریق ہے جسے لبرل دنیا بڑے اعتماد کے ساتھ وضع کرتی ہے، لیکن جب اسے نوآبادیاتی ریاستوں کے ظالمانہ نظام کے سامنے پرکھا جائے تو یہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، اور سامنے خونخوار آنکھوں والا گدھ (Vulture)نظر آتا ہے۔
میری والدہ نے کبھی زندگی بھر ہتھیار نہیں اٹھایا۔ اس لیے عدالت نے انھیں جنگ اور عسکریت پسندی کی مالی معاونت کے الزامات سے بری کر دیا۔ مگر ان کے الفاظ، ان کی وابستگیوں اور ان کے نظریات کی پاداش میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
تشدد اور عدم تشدد کی وہ حدیں جن پر لبرل دنیا اصرار کرتی ہے، ایک نوآبادیاتی ریاست کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ مگر میری والدہ کو ملنے والی سزا کسی مسلح جنگجو سے کم نہیں، بلکہ برابر ہے۔ کیونکہ سزا کا ہدف مزاحمت کا طریقہ کار نہیں، بلکہ خود ’مزاحمت‘ ہے۔ یہ عشروں تک، عوامی سطح پر، برملا اور سچ کی بولنے سزا ہے۔ سزا کے حکم نامہ میں لکھا گیا ہے کہ میری والدہ کے ساتھ نرمی برتنا: ’’ایک ایسی روح میں نئی جان ڈالنے کے مترادف ہوگا جس کا مقصد انڈیا کے اٹوٹ انگ کی علیحدگی ہے‘‘۔
ان خواتین کے اسی پختہ یقین نے انڈین انتظامیہ کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔ انڈیا کے نزدیک میری والدہ، ان کی ساتھی، میرے والد اور سیکڑوں دیگر قیدی محض انسان نہیں، بلکہ وہ ’عبرت کے نشان‘ اور عام لوگوں کے لیے ’انتباہ‘ ہیں، جنھیں پوری کشمیری آبادی تک پہنچانے کی بھونڈی حرکتیں کی جارہی ہیں۔ پیغام واضح ہے: ’’اگر ہم۶۴ سالہ ایک بیمارخاتون کو تین بار عمر قید سنا سکتے ہیں، تو تمھیں کون بچائے گا؟‘‘
کنیائی دانشور نگوگی وا تھیونگو (م:۲۰۲۵ء)، جو خود ایک ایسی ریاست میں قید رہے، جس نے نوآبادیاتی طریقے سیکھ رکھے تھے، اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے۔ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتابWrestling with the Devil: A Prison Memoirمیں انھوں نے لکھا کہ قید صرف سزا نہیں بلکہ ایک ڈرامائی تماشا ہوتی ہے۔ سیاسی قید کا کام ایک ’رسمی علامت‘ کے طور پر ہوتا ہے۔ ریاست قید سے صرف مزاحمتی وجود کو معاشرے سے ختم نہیں کرنا چاہتی، بلکہ وہ اسے اندر سے توڑنا چاہتی ہے اور پھر اس ٹوٹ پھوٹ کی چاروں طرف نمائش کرنا چاہتی ہے۔
اگر نوآبادیاتی ریاست ایسے لوگوں کو جیل میں اپنی جرأت کے برعکس معذرت اور معافیاں مانگتے ہوئے اور اپنے مقصد سے دست بردار ہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے پیش کر سکے، تو حکمران سمجھتے ہیں کہ ہم نے طاقت کے ذریعے قید سے بڑھ کر حاصل کر لیا ہے کہ اس نے ’اعترافِ جرم‘ کر لیا، اور ماضی کے تمام جبر کو جواز فراہم کرکے مستقبل کے لیے بھی راستہ صاف کر دیا ہے۔ ٹوٹا ہوا قیدی پھر ایک ’’اصلاح یافتہ پیغام بر‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یا انسانی ملبے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، تاکہ آنے والے انقلابی دیکھ لیں کہ کوئی بھی اتنا فولادی نہیں کہ یہ سب سہہ سکے۔
عدالت نے خواتین کے لیے سزا میں سختی کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان تینوں خواتین میں اپنے طرزِ عمل پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں ملتا۔ انھیں اپنی جدوجہد پر فخر ہے اور وہ دوبارہ یہی کریں گی۔ عدالت نے اس پختہ ارادے کو ان کے ’خطرناک‘ اور ’ناقابلِ اصلاح‘ ہونے کے ثبوت کے طور پر لیا۔ میری والدہ نہیں ٹوٹیں۔ وہ سبق جو ریاست سکھانا چاہتی تھی، وہ الٹا پڑ گیا۔ اسی لیے ریاست نے وہ آخری حربہ استعمال کیا، جو اس کے پاس تھا: ایک ہی زندگی میں تین بار عمر قید!
گھر میں اُگے ہوئے پودینے کی خوشبو میری والدہ کی خوشبو کی مانند ہے۔ مَیں آج بھی انھیں گھر میں پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں۔ ان کے ہاتھ ہر پتّے کی پرورش کرتے ہوئے نہایت نرم مگر پُرعزم ہوتے تھے۔ ریاست، میری والدہ کو ’موت کا فرشتہ‘ کہتی ہے، کیونکہ وہ اس عزم و ایمان سے مزاحمت کرتی ہیں، جو کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ برسوں کی قید کے بعد بھی وہ کشمیر کی جدوجہد حق خود ارادیت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ میں اپنی والدہ سے ان کی مکمل ہستی، ان کی انسانیت، ان کے جاہ و جلال اور ان کی شفقت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ وہ ظلم کے سامنے آہنی دیوار ہیں، مگر اپنے بچوں، اپنے خاندان، اپنے لوگوں اور ہاں، اپنے پودینے کے پودوں کے لیے بے حد مہربان ہستی ہیں۔ وہ انھیں پیار سے ’میرا پودینہ‘ کہا کرتی تھیں۔
کاش! میری امّی جلد اپنے گھر میں اپنے پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ پودینے کی خوشبو سے رچی فضا میں اپنے ’پودینہ بچوں‘ سے پیار کرکے دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک دے سکیں۔(انگریزی سے ترجمہ: س م خ)
غزہ آج محض ایک جغرافیائی پٹی نہیں رہا، یہ عالمی سیاست کا آئینہ بن چکا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم صرف کسی عمارت کو مسمار نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اقدار اور سفارتی توازن کو بھی کسوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ یہاں طاقت کے بے دریغ استعمال اور مزاحمت کے عزم کے درمیان ایک کش مکش جاری ہے۔ایسی کش مکش جس کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ بیانیوں، عدالتوں اور سفارتی میزوں پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق فرانزک سائنسی شواہد کی بنیاد پر تیار کردہ دستاویزات کم از کم ۲ہزار ۸سو۴۲ افراد کی نشاندہی کرتی ہیں،جنھیں ’بخارات بن جانے والے‘ قرار دیا جاسکتا ہے،یعنی تباہ شدہ مقامات سے ان کے جسموں کی کوئی قابلِ شناخت باقیات برآمد نہ ہوسکیں۔ ان دعوؤں کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق پیچیدہ اور متنازع ہے۔ تاہم، اگر شہری آبادی کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کا ثبوت مل جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ٹھہرایا جائے گا —اور سزا کون بھگتے گا؟
’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے شروع کیے گئے ایک المیہ ڈرامے میں بڑے دعوے کے ساتھ غزہ کے لیے ۱۲ رکنی نیشنل کمیٹی (NCAG) کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد غزہ جا کر انتظامی کنٹرول سنبھالنا تھا۔ مگر شیر کے منہ میں قدم رکھنا آسان نہیں۔امریکا اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کر دینا بذاتِ خود امن قائم نہیں کر سکتا۔
غیر مسلح کرنے کے منصوبے میں یہ مبینہ ترمیم امریکی اور اسرائیلی تکبر میں دراڑ کی علامت ہے —اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف بھی کہ سفاک عسکری کارروائیاں، منظم نسل کشی، اور بھوک و موسمی حالات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی غزہ کے عوام کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ یا یوں کہیے کہ غزہ کے لوگوں کے پُرعزم صبر نے ظلم کو اپنا مؤقف نرم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا: اگر بین الاقوامی افواج اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گی تو فلسطینی انھیں ’قبضے کا متبادل‘ سمجھ سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق انڈونیشیا نے اصولی طور پر ISF میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
غزہ کا بحران محض ایک جنگ نہیں، یہ طاقت اور ثابت قدمی، بیانیے اور حقیقت، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک طویل کش مکش ہے۔ عسکری قوت وقتی غلبہ تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام کے لیے سیاسی بصیرت، قانونی توازن اور سفارتی جراءت درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کے راستے مسدود رہے تو یہ تصادم صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور سماجی مستقبل کو شکل دے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ عارضی طور پر غالب کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ پائیدار امن کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ کس کے پاس ہے؟
بھارتی مقبوضہ کشمیر (IOK) کا تنازعہ برطانوی انڈیا کی ۱۹۴۷ء کی تقسیم سے پیدا ہونے والا ایک طویل مدتی قضیہ ہے، جو انڈین حکمرانی کے خلاف حقِ خود ارادیت کی جدوجہد، پاکستان کے ساتھ بار بار جنگوں، اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں انڈیا کی طرف سے آرٹیکل۳۷۰ اور ۳۵-اے کے منسوخ ہونے سے اس علاقے کی رہی سہی، واجبی سی خودمختاری بھی ختم ہوگئی، جس نے مقامی سطح پر بے گانگی کو مزید شدید کر دیا، آبادی میں تبدیلیاں کیں اور بحران کو گہرا کر دیا۔
یہ مسئلہ ۱۹۴۷ء میں شروع ہوا جب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے حکمران ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہشات کے برعکس انڈیا کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، حالانکہ اکثریت پاکستان سے وابستگی یا الگ وجود برقرار رکھنے کی طرف مائل تھی۔ اس سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں میں سے پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اقوام متحدہ نے قراردادوں کے ذریعے عوام کی مرضی جانچنے کے لیے ’استصواب رائے‘ (براہ راست ووٹ) کا فیصلہ کیا، جو اب تک نافذ نہیں ہوا۔ رپورٹوں میں اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد شامل ہیں۔ مقامی مزاحمت عشروں سے جاری ہے۔ وادی میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ماورائے عدالت قتل اور جعلی انکاؤنٹرز ان لوگوں کے لیے معمول بن چکے ہیں، جو ریاستی انتظامی درندگی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اس وقت پوری وادی ایک جیل بن چکی ہے، ’زمین پر سب سے بڑی انسانی جیل‘ ناقابلِ بیان پابندیوں کے ساتھ۔ کشمیریوں کی نئی نسل، جنھوں نے اپنے پیاروں کو جعلی انکاؤنٹرز اور جعلی کورڈن اینڈ سرچ آپریشنز میں شہید ہوتے دیکھا ہے، نے خود ارادیت کے اپنے حق کے طور پر مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
انڈیا اپنے بے مثال ریاستی جبروبہیمیت کو چھپانے کی ناپاک کوششیں کرتا چلا آرہا ہے۔ بنیادی طور پر ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۷ء کے درمیان منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی قراردادیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت آزاد، منصفانہ اور غیر جانب دار ’استصواب رائے‘ کے ذریعے اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کلیدی قراردادیں (۴۷، ۵۱، ۸۰، ۹۱، ۱۲۲) نے سیز فائر قائم کیا، غیر فوجی کاری کا حکم دیا، اور خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں موجودہ تحریک لوگوں کی خود ارادیت کے حق کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ آزادی کے نعرے لگانے والی پُرامن ریلیوں پر انڈین فوج اور پولیس کی فائرنگ ایک معمول رہا ہے۔ ہزاروں مرد، خواتین اور بچے مارے یا زخمی ہو چکے ہیں۔ نئی دہلی کا یہ الزام کہ کشمیری عوام کو پاکستان کی طرف سے مدد مل رہی ہے، بے بنیاد ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی معروضی رپورٹس گواہی دیتی ہیں کہ کشمیر کی تحریک مقامی ہے۔
اگرچہ یہ قراردادیں چالیس کے عشرے کے آخر اور پچاس کے عشرے کے شروع میں منظور ہوئی تھیں، لیکن آزادی کی بڑی تحریک ۱۹۹۰ء تک شروع نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کشمیریوں کی اکثریت کو یقین تھا کہ بین الاقوامی برادری کی مرضی غالب آئے گی اور ان کے مقدمے میں انصاف ہو گا۔ البتہ انڈیا نے بدنیتی سے ایک طرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا ڈھونگ رچایا اور پاکستان کے ساتھ طویل بات چیت میں مصروف رہا۔ تاہم، پردے کے پیچھے اس نے علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ریاست کی خودمختاری کو کم کرنے کے لیے کئی دُور رس اقدامات کیے، جن میں وفاقی قوانین کو علاقے میں توسیع دینا شامل تھا۔ ایک واضح مثال علاقے کو بھارتی سپریم کورٹ کے دائرۂ کار میں لانا تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بجائے اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کیا۔ ان اقدامات اور زہریلی تقاریر نے کشمیری نوجوانوں کے جذبات کو مشتعل کیا، جنھوں نے انڈین خیانت کاری اور توہین آمیزی کے جواب میں آزادی کی جدوجہد شروع کردی۔ کشمیری عوام کی اکثریت نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی۔ اس سے انڈین حکومت گھبرا گئی اور اس نے اس جدوجہد کا مقابلہ کرنے کے لیے دہشت گردی کا دور شروع کردیا۔ ۱۹۹۰ء سے ۲۰۱۱ء تک کی بے مثال سفاکیت میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد نوجوان شہیدکیے گئے، گیارہ ہزار ۳سو خواتین کو گینگ ریپ کیا گیا، ہزاروں کشمیری لاپتہ ہیں اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈین مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دانش وروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اجتماعی قبروں کی دریافت کی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شروع کی گئی ان کوششوں کو انڈین حکومت نے روک دیا۔
اگست ۲۰۱۹ء میں، انڈین حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰ منسوخ کر دیا، جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے اور علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بڑا اضافہ کردیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر نگرانی کرنے والے اداروں نے نوٹ کیا کہ اظہار رائے، اجتماع اور نقل و حرکت پر پہلے سے موجود پابندیاں اس کے بعد شدید ہو گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ l خود ارادیت کے مطالبے کی حمایت کرنے والی آوازوں کو دبانا l جتنا ممکن ہوسکے نوجوانوں کو ختم کرنا lقانونی باشندوں کی زمین اور جائیداد ضبط کرنا l مسلح ہندو نسل پرستوں کو علاقے میں داخل کرنا اور ان کی آبادکاری کو آسان بنانا l مسلمان افسروں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانا اور ان کی جگہ نسل پرستانہ ذہنیت رکھنے والے ہندوؤں کو بھرتی کرنا l مجموعی طور پر، کشمیر پر براہِ راست نئی دہلی سے حکمرانی کرنا، ایسے اقدامات کو وسعت دینا جو مقامی آبادی کو مکمل طور پر مطیع کریں اور انھیں ذہنی، سماجی اور معاشی طور پر غلام بنا دیں۔
انڈین حکومت ۵؍اگست۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، اس کی بڑی حکمت عملی ’سیٹلرکالونیلزم‘ (Settler Colonialism)ہے۔ یہ علاقائی حصول اور آبادیاتی ڈھانچا سازی کا عمل ہے، جس میں انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختاری منسوخ کرتے ہوئے تیز رفتاری سے قدم اٹھایا۔ مقامی زمین کی ملکیت اور رہائشی حقوق کی حفاظت کرنے والے قوانین کو ختم کر کے، انڈین غیر کشمیریوں کی آبادکاری کو ممکن بنا یا ہے، جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی آبادی کو تبدیل کرنا، مقامی باشندوں کو بے دخل کرنا، اور علاقے کو ہندو قوم پرست فریم ورک میں ضم کرنا ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سیٹلر کالونیلزم کے کلیدی پہلو یہ ہیں:
۱- آبادیاتی انجینئرنگ: آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی نے غیر رہائشیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دے دی، جس سے ایک ’سیٹلر کلاس‘ کو علاقے میں منتقل ہونے کا موقع ملا۔
۲- زمین کی بے دخلی: نئے زمینی قوانین بیرونی لوگوں کو زمین کی منتقلی کی اجازت دیتے ہیں، سابقہ ’زمین کسان کی ‘ اصلاحات کو الٹتے ہوئے اور کشمیری کسانوں کی روزی روٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
۳- ثقافتی اور سیاسی مٹاؤ: انڈین پالیسیوں میں کشمیری شناخت کو کمزور کرنے، مقامی سیاسی موقف کو دبانے، اور انھیں ’زمین کی بازیافت‘ کا ہدف سامنے رکھا گیا ہے۔
۴- فوجی قبضہ: تقریباً ۹ لاکھ فوجیوں اور ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ‘ (AFSPA) کی حمایت سے، جو سیکیورٹی فورسز کو قانونی استثنیٰ فراہم کرتا ہے، ریاست اس تبدیلی کو شدید نگرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذریعے نافذ کرتی ہے۔
۵- معاشی استحصال: وسائل، بشمول ممکنہ لیتھیم کے ذخائر اور جنگلات کی زمین، ریاست کے کنٹرول سے نکالے جا رہے ہیں، مقامی ماحولیاتی خدشات کو نظرانداز کرتے ہوئے۔
مقبوضہ کشمیر میں مظالم اکثر غیر رپورٹ شدہ رہتے ہیں یا بین الاقوامی توجہ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ انڈین حکام کی طرف سے پروپیگنڈا مشینری کا ایک ہمہ گیر اور مربوط عمل ہے، جو حقائق کو مسخ کرتا ہے۔ اس شیطانی عمل میں شامل ہیں:
۱-مواصلاتی بلیک آؤٹس اور میڈیا پابندیاں: انڈین حکام نے تاریخی طور پر مواصلاتی بلیک آؤٹس کا استعمال کیا ہے، جس میں انٹرنیٹ سروسز کو دبانا شامل ہے، تاکہ علاقے سے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کرنے پر معمول کی ہراسانی، قید اور ’دہشت گردی‘ کے الزامات کا سامنا کرتے ہیں، جس سے خوف اور خود سنسرشپ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
۲- سیکیورٹی فورسز کو استثنیٰ: آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) انڈین سیکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں ان کے اقدامات پر قانونی استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ جواب دہی کی کمی پیدا کرتا ہے اور مزید خلاف ورزیوں کو فروغ دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل PSA کو ’قانون کے بغیر قانون‘ کہتا ہے۔
۳-حکومت کا انکار: انڈین حکومت اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کو اپنا ایک اندرونی تنازع کا حصہ قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے، زمینی حقائق سے انکار کرتی ہے اور بیرونی جانچ کو محدود کرتی ہے۔
۴- جیو پولیٹیکل اور معاشی مفادات: بہت سی قومیں اس مسئلے پر خاموش رہتی ہیں، ’جیوپولیٹیکل احتیاط‘ اور انڈیا کے ساتھ بڑے معاشی و تجارتی مفادات کی وجہ سے۔ خاص طور پر مغربی طاقتیں اکثر انسانی حقوق کے خدشات سے زیادہ چین کے علاقائی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ اپنے اسٹرے ٹیجک تعلقات کو ترجیح دیتی ہیں۔
۵- بین الاقوامی مبصرین کی رسائی کی کمی: انڈیا کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بار بار زور دیا گیا ہے کہ وہ آزاد تحقیقات کی اجازت دے اور اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹرز، آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بلا رکاوٹ رسائی دے، لیکن ان درخواستوں کو زیادہ تر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ان چیلنجوں کے باوجود، انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے سنگین الزامات کی وسیع دستاویزات تیار کی ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں، تشدد، جنسی تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔ ان رپورٹس نے بین الاقوامی سطح پر آگاہی پیدا کی ہے اور انڈین حکومت کو جواب دہ ٹھیرانے کے مطالبات کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حالیہ مہینوں میں علاقے میں خلاف ورزیوں کے بارے میں سرکاری طور پر سنگین خدشات پر آواز اُٹھائی ہے۔ ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو پہلگام حملے کے بعد، جہاں ۲۶ ؍افراد، زیادہ تر عام سیاح فالس فلیگ آپریشن، میں مارے گئے، تو انڈین فوج کی کارروائیاں پورے کشمیر میں شدید ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے دہشت گردی کی مذمت کی، لیکن زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے ہونے چاہییں۔ انھوں نے متعدد اضلاع میں تقریباً۲۸۰۰ ؍ افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراستوں کو رپورٹ کیا، جن میں طلبہ، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کو اکثر سخت قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور ’ان لاء فل ایکٹیویٹیز (پریونشن) ایکٹ‘ (UAPA) کے تحت رکھا جاتا ہے، جو بغیر الزام یا بروقت مقدمے کے طویل حراست کی اجازت دیتے ہیں ، جو حقوق کے ماہرین کی طرف سے خاص طور پر تنقید کا نشانہ ہے۔
آزاد رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی دستاویزات تیار کی ہیں:
اقوام متحدہ کے ماہرین اور سول رائٹس کی تنظیمیں بار بار حکام پر زور دے چکی ہیں کہ وہ سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹتے ہوئے ان معیاروں کو برقرار رکھیں۔ ان کلیدی خدشات میں شامل ہیں:
۱- بروقت مقدمے کے بغیر من مانی حراست، ۲-انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال طویل حراست کے لیے، ۳-گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی، ۴-اظہار رائے اور اجتماع پر پابندیاں، ۵- تشدد، خواتین کی توہین و بے حُرمتی، تحویل میں اموات، اور سول سوسائٹی کے دبانے کے بڑے پیمانے پر مقدمات۔
ان تمام مسائل کو اقوام متحدہ کے ماہرین، بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں، اور آزاد رپورٹس نے اٹھایا ہے ،اور یہ علاقے میں انسانی حقوق پر جاری مباحث کا حصہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے ایک گروپ نے عوامی طور پر علاقے میں ’سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘ قرار دے کر مذمت کی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی تاکید کی ہے۔ اس کے علاوہ، کئی حکومتوں اور این جی اوز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور آزاد تحقیقات، جواب دہی کے طریقہ کار، اور بنیادی آزادیوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال انتہائی متنازع اور حساس ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے من مانی حراست، آزادیوں کو محدود کرنے، جبری بے دخلی، مواصلاتی کنٹرولز، اور سول سوسائٹی کے دبانے کے نمونوں کی دستاویزات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شدید تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ تمام خدشات بہرے کانوں پر پڑ رہے ہیں، اور انڈین حکومت نہ صرف انھیں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ کشمیری آبادی کو ختم کرنے اور اسے ایک ایسے علاقے میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے پروگرام تیز کر رہی ہے جہاں ہندو مذہب/طرزِ زندگی غالب ہو یا غالب رہے۔
مئی ۲۰۲۵ء میں سرحدی جھڑپ کے دوران انڈیا اور پاکستان کے درمیان صورتِ حال اس درجہ بھڑک اُٹھی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری جنگ چھڑنے کا خوفناک خدشہ حقیقت بن کر سامنے آگیا تھا۔ ایسی خوفناک صورتِ حال سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو حل کیا جائے، کہ مسئلہ کشمیر ایک بارود کا ڈھیر ہے اور جو کسی بھی وقت تباہی و بربادی کا محرک بن سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’مجلس السلام‘ (Board of Peace) [جسے ’ٹرمپ دھونس بورڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے] کو عالمی سطح پر ’امن کے فروغ‘ اور غزہ کی جنگ کے بعد ’صلح و بحالی کے عمل‘ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کا اعلان ’ورلڈ اکنامک فورم‘، ڈیوس میں کیا گیا، جہاں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً انیس ممالک نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ حکومتی بیانات کے مطابق ’مجلس السلام‘ کا ابتدائی مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور ایک عارضی نظمِ حکمرانی کا قیام ہے، جب کہ بعد ازاں اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، منطق، عملیت اور بین الاقوامی سیاسی حقیقت کے تناظر میں یہ منصوبہ آغاز ہی سے ناکامی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔
تاہم مجوزہ منصوبے میں اسرائیل سے فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعے کا ایک فریق غیر مسلح ہونے پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے ، جب کہ دوسرا فریق مکمل عسکری طاقت کے ساتھ بدستور موجود رہے؟ مزید یہ کہ غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو فنا کرنے کی دھمکیاں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہیں، جو کسی طور پر امن سازی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
اہلِ غزہ نے رمضان المبارک کے انتظار کا آغاز کر دیا ہے۔ یہاں رجب کا چاند نظر آتے ہی استقبالِ رمضان کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ طویل عرصے کے بعد بارش اور اَبر آلود موسم کا سلسلہ تھما تو ۳ جنوری کی رات، چودھویں کا چاند تباہ حال پٹی پر پوری آب و تاب سے جگمگایا۔ مکمل تاریکی کے باعث اہلِ غزہ نے ماہِ کامل کا بڑے اشتیاق سے نظارہ کیا۔ملبے پر کھڑے بچوں سے جب ایک صحافی نے پوچھا: ’’چاند کو دیکھتے ہوئے تم زیر لب کیا کہہ رہے تھے؟‘‘، تو ایک لڑکے نے کہا:’’میں تاریک غزہ پرروشنی بکھیرنے والے چاند سے کہہ رہا تھا کہ دنیا بہری ہو چکی ہے۔ اے خوب صورت اور روشن چاند! تو ہی ہماری فریاد اپنے اور ہمارے خالق و مالک تک پہنچا دے‘‘۔
اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی حد، یعنی ییلو لائن کو مزید مغرب کی جانب، ساحلی پٹی کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ غزہ کے مزید رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ یہ معلومات ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ عرب سفارت کار کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ واشنگٹن اکتوبر ۲۰۲۵ء میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کو دوسرے مرحلے تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امن مذاکرات کے سائے میں فوجی نقشے تیار کیے جا رہے ہیں۔یہ اطلاعات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کسی مستقل امن کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہیں کہ اصل ہدف امن نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے نئے زمینی حقائق مسلط کرنا ہے۔
غزہ اور غربِ اُردن اب بھی بمباری، محاصرے اور سفارتی منافقت کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے زمینی حقائق کبھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دُنیا کب آنکھیں کھولنا اور کوئی مثبت عملی اقدام کرنا شروع کرے گی۔
ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر کرسی پر ترجمے کی سہولت کےلیے ہیڈ سیٹ ترتیب سے رکھے تھے۔ دنیا بھر سے سفارت کار، دانش ور، سیاسی و سماجی کارکن اور صحافی ہال میں موجود تھے۔اس کانفرنس کے ایک سیشن میں جب نائل البرغوثی نے بولنا شروع کیا، تو چند لمحوںمیں ہی اوپر جھلملاتے فانوس غیر متعلق محسوس ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کانفرنس ہال کسی عالی شان مقام کے بجائے ایک بند، بھاری اور دم گھونٹ دینے والی جگہ بن گیا، جیسے دیواروں نے عشروں کا دُکھ اپنے اندر جذب کر لیا ہو۔میرے پیچھے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ چند قطار پیچھے بیٹھی ایک عورت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا، اس کے لیے ہچکیاں روکنا ممکن نہ رہا۔ دروازے کے قریب بیٹھا ایک بوڑھا شخص بار بار اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، شاید ان آنسوؤں پر خود حیران اور کچھ شرمندہ تھا جو رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہال کے پچھلے حصے سے دبی دبی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ہال کے اندر کوئی ایک چہرہ بھی بے تاثر نہ تھا۔
برغوثی بغیر کسی نوٹس کے بول رہے تھے۔ ان کی آواز بلند نہیں تھی۔ نہ کوئی ڈراما، نہ الزام، نہ فریاد تھی نہ شکوہ، نہ الزام۔وہ انتہائی سکون اور وضاحت کے ساتھ اسرائیلی جیل میں ان کے گزرے ۴۵برسوں کی دردناک کہانی سنارہے تھے۔ چار عشرو ں کی تاریکی کے بعد البرغوثی نے روشنی میں قدم رکھا تھا۔جب وہ خاموش ہوئے تو پورا ہال ایک جسم بن کر کھڑا ہو گیا۔ فوراً تالیاں نہیں بجیں۔ پہلے گہری اور باوقار خاموشی آئی۔ پھر تالیوں کی آواز، ابتدا میں کچھ دھیمی، پھر بڑھتی ہوئی، پھیلتی ہوئی، پورے ہال کو بھر دینے والی جوش سے بھری آوازیں اُبھریں۔ لوگ دیر تک کھڑے رہے۔ برغوثی کے اسٹیج سے نیچے اترتے ہی لوگ ان کو چھو کر جیسے یقین کر رہے تھے کہ کیا یہ شخص واقعی گوشت پوست کا انسان ہے، جو اسرائیل کی جیل سے زندہ باہر نکل آیا ہے۔
ہال کے باہر صحافیوں کا ہجوم ان کی طرف مائک اور کیمرے لے کر لپک رہا تھا ۔ان پر عربی، ترکی اور انگریزی میں سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ وہ سب کے جواب تحمل سے دے رہے تھے، نہ جھنجھلاہٹ، نہ عجلت۔ جب ہجوم کچھ کم ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا۔ انھوں نے پوری توجہ سے سنا۔ ان کی نگاہ ٹھیری ہوئی تھی، ویسی ہی جیسی قیدی سیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اپنے جیل کے چند واقعات بتائے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی، یوں ہماری گفتگو شروع ہوئی۔
قدآور اور دبلے پتلے نائل البرغوثی کی عمر ۶۷ برس ہے۔ ان کا جسم محرومی کی طویل چھاپ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بال مکمل سفید ہو چکے ہیں، چہرے پر گہری لکیریں ہیں، جو صرف عمر کی نہیں بلکہ عشروں کے ضبط اور برداشت کی گواہ ہیں۔ ان کی آنکھیں تیز اور چوکنی ہیں، ان میں ایک پُرسکون شدت بے چین کر دیتی ہے۔ ان کا لباس سادہ تھا، جسم پر ڈھیلا لٹکتا ہوا، ایک ایسے وجود پر جو برسوں کی قید سے کمزور ہو چکا ہو۔ چہرہ لکیروں سے بھرا تھا۔ یہ لکیریں صرف عمر کی نہیں تھیں بلکہ برداشت، ضبط اور طویل خاموشی کی علامت تھیں۔
میں نے جب ان سے قید میں گزری زندگی کے بار ے میں پوچھا ،تو انھوں نے کہا: ’’اگر کوئی پینتالیس سال کی قید کے بارے میں بات کرنا چاہے تو ایک دو گھنٹے کافی نہیں۔ کتابیں بھی کافی نہیں ہوں گی‘‘۔ اسٹیج سے جب ان کا تعارف کرایا گیا تھا، تو ا ن کو فلسطینی قیدیوں کا ڈین یا عمید بتایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ: ’’مَیں اس لقب سے بے چین ہوں جو اکثر میرے نام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مجھے اس پر فخر نہیں‘‘۔ انھوں نے مضبوط لہجے میں کہا:’’یہ مجھے عزّت نہیں دیتا۔ کسی فلسطینی کو چند دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پینتالیس سال؟ یہ لقب خود ایک الزام ہے‘‘۔ تھوڑی دیر رُک کر انھوں نے کہا:’’میری پہچان سب سے پرانا قیدی نہیں ہے بلکہ میں ایک فلسطینی مجاہد ہوں۔ایک ایسا انسان جو اپنے حق کےلیے لڑا ہے‘‘۔
برغوثی ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو مغربی کنارہ کے فلسطینی شہر رملہ کے شمال میں واقع گاؤں ’کوبر‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔ زمین اور زیتون کے درختوں کے ساتھ ان کے خاندان کا گہرا تعلق تھا۔ مزاحمت ان کے خاندانی ورثے میں شامل تھی۔ ان کے والد کو برطانوی دورِ انتداب میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک چچا ۱۹۳۶ء کی عظیم عرب مزاحمت میں شہیدہوگئے۔وہ دس برس کے تھے جب جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا۔ انھیں یاد ہے کہ کیسے فوجی ان کے علاقے میں داخل ہوئے۔ وہ دھماکے کر رہے تھے اور بچے ان پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دن ان کے اندر کچھ بس گیا، جو پھر کبھی نہیں نکلا۔جوانی میں انھوں نے اپنے بڑے بھائی عمر اور کزن فخری کے ساتھ مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پہلی گرفتاری دسمبر ۱۹۷۷ء میں ہوئی۔ تین ماہ قید کے بعد رہائی ملی۔ وہ گھر لوٹے، ہائی اسکول کے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے کہ اسرائیلی افواج نے انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔اس بار جیل کا دروازہ عشروں کے لیے بند ہو گیا۔۱۹۷۸ء میں برغوثی پر ایک اسرائیلی افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان کو سرسری سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ بمشکل بیس برس کے تھے۔
’’میں ایک نوعمر لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا‘‘، اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر انھوں نے کہا ’’اب بوڑھا ہوگیا ہوں‘‘۔ اگلے ساڑھے چار عشروں میں انھیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔ گیارہ برس انھوں نے ایک جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیواروں کو تکتے ہوئے بسر ہوئے۔ نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد ٹھونسے گئے تھے۔ ٹھنڈی کنکریٹ کے فرش پر جسم سے جسم جڑا ہوتا تھا، نہ ہل جل سکتے تھے اور نہ رازداری۔ ان کے مطابق جیل صرف قید کی جگہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا نظام تھا جو انسانی روح کو آہستہ آہستہ ، منصوبہ بند طریقے سے تھکاکر مارنے کے لیے بنایا گیا تھا، بغیر ایسے نشانات چھوڑے جو باہر کی دنیا کو خبردار کردیں۔اشکلون جیل ان کی یاد میں سب سے زیادہ وحشیانہ جگہوں میں سے ایک مقام کے طور پر نقش ہے۔ وہاں تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ سب قیدیوں کے لیے معمول تھا۔
’’جب قیدی بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کرتے، تو جواب میں زبردستی خوراک دی جاتی۔ اس کو بھی اذیت کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ ربڑ کی استعمال شدہ نالیاں منہ یا ناک میں زبردستی ڈالی جاتیں تھیں، وہ نالی اتنی نیچے دھکیلتے کہ خون بہنے لگتا۔پھر انتہائی گرم دودھ، نمک ملا کر، پیٹ میں انڈیل دیتے تھے۔ قیدیوں کو باندھ دیا جاتا تھا تاکہ حرکت سے محروم ہوجانے پر وہ مزاحمت نہ کرسکیں۔ ایک قیدی کے منہ سے نالی نکالی جاتی اور دوسرے کے منہ میں ڈال دی جاتی تھی۔ اس طرح کچھ لوگوں کے پھیپھڑے بیکار ہوگئے، کیونکہ دودھ ان میں چلا گیا تھا۔ ‘‘
برغوثی جب یہ بیان کر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید ا ن کا ذہن دوبارہ جیل میں پہنچ گیا تھا۔ وہ بتارہے تھے:’’مار پیٹ سہنا ہماری روز کی غذا تھی۔ نقاب پوش محافظ سیلوں پر دھاوا بولتے، ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے حملہ کرتے۔ بند جگہوں میں آنسو گیس چھوڑی جاتی تھی، سٹن گرنیڈ پھٹتے اور قیدیوں پر خوفناک تربیت یافتہ کتے چھوڑے جاتے تھے‘‘۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپنی آستینیں اوپر کرکے بازو دکھائے، جن پر اَن گنت نشانات پڑ ے ہوئے تھے۔ ان کے بازو کو کتّے نے بھنبھوڑا تھا۔’’ کئی قیدی تشدد میں مارے گئے۔ جوبچ گئے،وہ میری طرح مستقل زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی قیدی ٹوٹی پسلیوں ، خراب اعضا اور دائمی درد کے ساتھ پسِ زندان ہیں‘‘۔
اسرائیلی جیلوں میں کھانے کے انتظام کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’’کھانا بس اتنا دیا جا تا تھا کہ ان پرقیدیوں کو بھوک سے مارنے کا الزام نہ آئے۔’’ چائے کے کپ سے بھی چھوٹے برتن میںپتلا سا سوپ، نہ پھل، نہ گوشت۔ کیلوریز اس طرح ناپی جاتیں کہ قیدی بس زندہ رہیں۔یہ پیسہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول کے لیے تھا‘‘۔ برغوثی کا وزن بیس کلو سے زیادہ کم ہوگیا تھا۔ دوسروں کا اس سے کہیں زیادہ کم، بعض کا ستّر کلو تک وزن کم ہوگیا۔’’ دانتوں کے درد کا علاج ہی نہیں کیا جاتا۔ قیدی ہفتوں سوجے ہوئے چہروں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، نہ سو سکتے، نہ کھاسکتے، نہ سوچ سکتے تھے اور نہ کسی کو درد کی ایک گولی تک ملتی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا:’’سوچیں، کسی کے ساتھ ایک کمرے میں ہفتوں رہنا، جب وہ ناقابلِ برداشت درد کی حالت میں ہو اور آپ کچھ نہ کرسکنے کی پوزیشن میں ہوں،تو بے بسی کی ایسی انتہا میں بس مرنے کی ہی دعا کی جاسکتی ہے‘‘۔
انھوں نے بتایا: ’’اس تشدد کے خلاف اور حقوق کی آواز بلند کرنے، اہل خانہ سے ملاقاتیں، یا قید تنہائی کے خاتمے، بچے یا ماں سے ملاقات کا حق منوانے کے لیے قیدیوں کے پاس بس بھوک ہڑتال کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہوتا تھا۔ اگر میں اپنی تمام بھوک ہڑتالیں گنوں،تو یہ تقریباً دو سال بغیر کھانے کے بنتی ہیں، یعنی اس کا دورانیہ سات سو تیس دن کا ہے۔ جب ایک قیدی کو تنہائی میں ڈالا جاتا، تو دوسرے یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرتے تھے۔ دراصل اسرائیلی ہمارے اندر کی انسانیت مارنا چاہتے تھے اور ہم نے بھوک بانٹ کر مزاحمت کی‘‘۔
اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا: میرے خیال میںقیدِ تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑو ں سے باتیں کرتا تھا۔ خوف تھا کہ کہیں بولنا ہی بھول نہ جائوں۔ مگر اس دوران میں نے دیکھا کہ اگر ایک کاکروچ کو نقصان پہنچتا تھا، تو دیگر اس کی مدد کرنے پہنچ جاتے تھے اور اس کو دیوار پر چڑھنے میں مدد کرتے تھے‘‘۔ ایک فلسفی کے انداز میں برغوثی نے حسرت ناک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے سوال کیا:’’ مگر انسان دیگر انسانوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا ؟‘‘
اپنے بڑے بھائی عمر کے ساتھ جیل کی زندگی کا بڑا حصہ رہا: ’’عمر چار سال بڑے تھے، اور وہ بھی مزاحمت کے علَم بردار تھے۔ ۱۹۸۵ء میں جب قیدیوں کے تبادلے ہونے والے تھے، تو میرا نام فہرست میں تھا۔اسرائیلی حکام نے مجھے بتایا کہ میرا نام رہا ہونے والے فلسطینیوں میں شامل ہے، تو میں نے کہا کہ اگر سب کو رہا کیا جاتا ہے، تو تب ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ اگر صرف فہرست میں شامل قیدیوں ہی کی رہائی ہونی ہے، تو میں اپنی جگہ عمر کو شامل کروانا چاہتا ہوں‘‘۔ عمربھائی رہا ہو گئے۔ نائل البرغوثی وہیں رہے۔بعد میںانتفاضہ کے دوران عمر کو دوبارہ قیدی بنایا گیا۔ بہت سے رہا شدہ قیدی دوبارہ واپس جیلوں کی زینت بن گئے۔ برغوثی نے اپنے والدین جیل میں رہتے ہوئے کھو دیے۔ انھیں جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں ملی۔۲۰۰۴ء میں قیدیوں نے انیس دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کے والد باہر یکجہتی کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ماں کی موت بھی اسی طرح ہوئی۔قیدیوں کےلیے فلسطینی حکام نے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا۔ قیدی اس ریڈیو کے پروگراموں کو چھوٹے ٹرانزسٹروں پر سنتے ہیں۔ اس پر رات گیارہ بج کر تین منٹ پر ان کی ماں کی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا: ’عزّت کا گھر، دولت کے گھر سے بہتر ہے‘۔ پھر اسی رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ ’دنیا دھند بن گئی‘، برغوثی نے کہا: ’’والدین کو کھونا زندگی کا ایڈریس کھو دینے جیسا ہے ۔میںاندر سے ٹوٹ گیا تھا مگر بظاہر خود کو سنبھالے رکھا۔ میں اپنی کمزوری جوان قیدیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا‘‘۔
اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھیں۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی: ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے اور جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انھوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنھیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی سے ملنے کا حق نہ ملا:’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ یہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے‘‘۔ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔
برغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا،مگر جب ۲۰۰۲ء میںفلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انھوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں، اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ہماری گفتگو میںانھوں نے برصغیر ہند کی تاریخ کا ذکر کیا۔انھوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لال نہرو، ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر کا جب ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انھوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی کا بھی ذکر کیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی؟ تو وہ مسکرائے:’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا‘‘، انھوں نے کہا۔ وہ اس کےلیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انھوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا: ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہماری تعلیم معاشرے کو فائدہ نہیں دے سکے گی، کیونکہ ہماری قسمت میںتو جیل میں ہی مر جانا لکھا ہے، مگر یہ یقین ہے کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔
برغوثی کو فروری ۲۰۲۵ء میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ ان کو فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ان کو جلا وطن کیا جائے گا۔ ‘‘ ابتدا میں جب جیل میں ان کو بتایا گیا کہ رہا ہونے کے فوراً بعد ان کو مصر بھیجا جائے گا، تو انھوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا: ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘۔مگر ثالثوں کے دبائو میں ان کی رہائی ہوگئی ، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی بھی متاثر ہوگی۔’’یہ حکم نامہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انھوں نے کہا۔
انھیں اپنی زمین، اپنے گھر، اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔ عشروں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم اور کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اب وہ ترکیہ میں زیرعلاج ہیں۔ دائمی درد، چوٹیں اور ان بیماریوں کے ساتھ جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب ان کوپریشان کر رہی ہیں، پھر بھی ان کا یقین قائم ہے۔وہ بتا رہے تھے: ’’ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے اور ہم اب بھی مزاحمت کر رہے ہیں‘‘۔
ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے، جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے۔نائل البرغوثی ۴۵ برس بعد جیل سے باہر آئے۔ مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیرمعلوم ہو رہے تھے ؎
یقیں محکم ، عمل پیہم،محبت فاتح عالم
جہاد زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں