مقبوضہ کشمیر میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب اس کے کسی نہ کسی حصے میں قابض انڈین حکمرانوں کے عسکری و انتظامی اداروں کے ظلم و زیادتی سے مقامی نہتے شہری متاثر نہ ہوں۔ بھارتی فوج اور بدنامِ زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں ’این آئی اے‘ اور ’ایس آئی اے‘ کے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ چھاپےاور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں درجنوں عام شہری گرفتار کیے گئے ہیں اور ایک درجن کے قریب جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔
اس نوعیت کے واقعات جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پے درپے سامنے آتے ہیں، مگر چند ہی واقعات کسی خبر کے ذریعے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
بنگلہ دیش اس وقت قومی زندگی کے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف تیرھویں قومی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، تو دوسری جانب ان انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔عوامی لیگ کی ۱۵ سالہ فسطائی حکومت کے خاتمے (اگست ۲۰۲۴ء) کے بعد دستور، قانون اور حکومتی انتظام کے تضادات پوری قوت سے اُبھر کر سامنے آئے، جنھیں درست کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے ڈیڑھ سال کے دوران بہت سی کوششیں کیں، مگر یہ چیلنج اس قدر گہرا، ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ عبوری حکومت، خواہش کے باوجود اس کام کو تسلی بخش طریقے سے انجام نہیں دے سکی۔
اس کے چار اسباب تھے: پہلا یہ کہ حکومت میں شامل افراد پہلے سے کوئی ریاستی و انتظامی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ بیش تر افراد مختلف این جی اوز کے پس منظر سے متعلق تھے، جن میں فکری ہم آہنگی نہیں تھی کہ وہ مل کر زیادہ اعتماد سے کام کرتے۔ تیسرا یہ کہ انھیں اس چیز کا احساس تھا کہ ان کے پاس عوام کا مقبول مینڈیٹ نہیں، جس کے سبب وہ زیادہ پُراعتماد اقدام نہ کرپائے، اور چوتھا یہ کہ پورے ریاستی نظام میں، عوامی لیگی اور انڈین اثرات کے تحت اہل کاروں سے اپنی بات منوانا مشکل ثابت ہوا۔
یہ وہ اسباب تھے کہ جنھوں نے انتخابات سے قبل قومی سطح پر قانون اور ضابطے کی درستی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے منظم ڈھانچے کو بے نقاب کرنے کے لیے اصلاحات کا خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ۱۲فروری کو انتخابات کے روز ایک جانب لوگ اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، تو دوسری جانب آئینی اصلاحات کی نسبت سے چند بنیادی نکات پر ریفرنڈم میں اپنی رائے دیں گے۔
عوامی لیگ کے قومی جرائم کے سبب، عبوری حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے بعد عملاً میدان میں دو قوتیں برسرِ انتخاب ہیں: ایک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP: بی این پی)اور دوسری بنگلہ دیش جماعت اسلامی۔
قومی زندگی میں بی این پی کی گہری جڑیں ہیں، اور تین مرتبہ حکومت میں رہنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ماہ قبل اس کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کا انتقال ہوا تو تدفین کے موقعے پر بلاشبہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوا۔ ان کے بیٹے طارق رحمان (پ: ۱۹۶۵ء) ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپس آئے اور اب وہ پُراعتماد حیثیت سے پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ملک میں آمد کے موقعے پر عبوری حکومت نے عملاً انھیں ایک سربراہ کی طرح پروٹوکول دیا، جس سے انتخابات میں حکومت کی غیر جانب داری کے دعوے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس چیز کو تمام حلقوں نے محسوس کیا ہے اور قومی سطح پر اس پہ اعتراض بھی اُٹھایا ہے۔ لیکن ریاستی انتظامی ڈھانچے نے فی الحقیقت انھیں مستقبل کے حکمران کے طور پر ہی سمجھنا اور پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ کے تین سو کے ایوان میں دو سو سے زیادہ نشستوں پر بی این پی نے نمائندے کھڑے کیے ہیں۔ طارق رحمان نے انتخابی مہم میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہورہے ہیں، لیکن جس تاثر کے ساتھ بی این پی انتخابات جیتنے کا دعویٰ رکھتی ہے، اُس نسبت سے لوگ جلسوں میں نہیں آرہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی اور جماعت اسلامی کم و بیش برابر یا کسی جائزے میں بی این پی قدرے بہتر نتیجے کے ساتھ نمایاں نظرآتی ہے، مگر بہت کم فرق کے ساتھ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بی این پی کی تائید کے لیے کمیونسٹ لابی، ہندو برادری کے طاقت ور گروہ، عوامی لیگ کے حامیوں کی بڑی تعداد، این جی اوز کی مشینری اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے مؤثر حلقوں کی آشیرباد واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اسی سول اور فوجی انتظامیہ کے ساتھ میڈیا کے فعال عناصر بھی اس کی جانب جھکائو رکھتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی ہے، جس کے دامن میں خلوص، محنت، دیانت، خدمت اور ملک و قوم کے لیے قربانیوں کی بہترین روایت ہے۔ اس کی بے داغ قیادت نے قوم میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔بلاشبہ ملک بھر میں سب سے بڑے انتخابی جلسے جماعت اسلامی ہی کے ہورہے ہیں، جس کی تائید کے لیے نو چھوٹی بڑی جماعتیں شریک کار ہیں۔ ان پارٹیوں میں طلبہ کی ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP)بھی شامل ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کی حمایت کرنے والوں میں چالیس سال سے کم عمر کے رائے دہندگان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پھر یہ پہلو بھی سامنے رہے کہ یونی ورسٹیوں کے تمام انتخابات جماعت اسلامی کی حامی ’اسلامی چھاترو شبر‘ کے اُمیدواروں نے واضح اور بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے، اور اپنے مدمقابل ’چھاترو دل‘ (بی این پی کے حامی طلبہ) کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ گویا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی جانب ووٹ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حالانکہ گذشتہ کئی عشروں سے جماعت اسلامی کے خلاف ابلاغی، نصابی اور قومی سطح پر ہمہ گیر مہم کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اب سے چند روز قبل علما کے ایک معروف گروپ نے جماعت اسلامی کے اتحاد سے الگ ہوکر انتخابات میں اُترنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یقینا جماعت اسلامی کے حامی ووٹروں کی قوت تقسیم ہوگی۔
جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن (پ:۱۹۵۸ء) قومی سطح پر ایک مرکزی راہ نما کے طور پر اُبھرے ہیں۔ ان کی تقاریر میں ٹھیرائو، تدبر، وسعت ِ نظری اور سنجیدگی نے عوام و خواص میں گہرا تاثر قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب انتخابی تقاریر اور عوامی پروگراموں میں الزام تراشی اور مخالفین پر طعن و الزام کے بجائے مثبت انداز سے اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ جس میں انصاف، سماجی فلاح اور معاشی استحکام کو مرکزیت حاصل ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی انتخابی مہم قدم قدم پر مالی وسائل کی کمی کے ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہے اور بی این پی کی مہم شاہانہ اخراجات کا نمونہ ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ اگر انتخابات غیر جانب دارانہ ہوں تو جماعت اور بی این پی برابر، برابر نشستیں لیں گی، اوریہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی سادہ اکثریت حاصل کرلے۔ لیکن دھاندلی سے یہ نتیجہ تبدیل کرکے بی این پی کی جانب جھکایا بھی جاسکتاہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے یہ پیش کش کر رکھی ہے کہ وہ کامیابی کی ہرصورت میں قومی حکومت بنا کر تعمیروترقی کے لیے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
۱۹۴۵ء میں اخوان المسلمون اُردن کا آغازمصر کی ایک رفاہی تنظیم کےطور پر رجسٹریشن سے ہوا ۔ اُردن میں اس کے بانی شیخ عبداللہ لطیف ابو قورہ تھے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ۱۹۵۳ء میں جماعت کی سرگرمیاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب بطور دینی جماعت اس کو باقاعدہ رجسٹر ڈکر لیا گیا۔ اس کے بعد پارٹی نے رفاہی کاموں اور سیاست میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کی۔ شاہ عبداللہ اوّل اور اس کے بعد اُردن کے فرماں روا شاہ حسین بن طلال کے دور میں اخوان المسلمون اور حکومت کے باہمی تعلقات بہتر ہوئے اور بائیں بازو اور عرب قوم پرستوں کے خلاف ایک غیرعلانیہ اتحاد وجود میں آگیا۔
حکومت کے ساتھ اخوان المسلمون کا تعلق نشیب و فراز کا حامل رہا ہے۔ ابتدائی چار عشروں میں باہم اس قدر ہم آہنگی رہی کہ اسے غیر علانیہ اتحاد قرار دیا گیا، اور آخری چار دہائیوں میں تعلقات بحرانوں کا شکار ہوتے ہوتے اس قدر خراب ہوئے کہ مارچ ۲۰۲۵ء میں آخرکار حکومت نے اخوان المسلمون پر پابندی عائد کر دی۔ درحقیقت تعلقات میں بگاڑ اس وقت شروع ہوا جب حکومتِ اُردن نے ۱۹۹۱ء میں اسرائیلی قابض ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کیا، اور ربع صدی کے بعد اختلاف اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب اخوان المسلمون نے دستور میں ترمیم اور بعض شاہی اختیارات پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف اردنی حکومت نے اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ جماعت کے اندر باہمی اختلافات کو ہوا دی گئی۔
اخوان المسلمون نے ۵۰ کے عشرے کے اوائل سے ہی سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ ۵۴-۱۹۵۱ء کے انتخابات میں اس کے بعض ارکان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ ۱۹۵۶ءمیں بطور جماعت پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا ،پھر ایک عرصے تک انتخابی میدان سے باہر رہے۔ ۱۹۸۴ءمیں پھر انتخابات میں حصہ لیا اور آٹھ میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ غرض اب تک کے سیاسی سفر میں جماعت کے کئی ذمہ داران اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
۱۹۸۹ء میں جماعت نے ’’اسلام ہی حل ہے‘‘ کے نعرے پر انتخاب لڑا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ۸۰ میں سے ۲۲نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا، اور جوں جوں اپوزیشن کا لہجہ سخت ہوتا گیا تو اس سے حکومتی شاہی حلقوں میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔۱۹۸۶ء میں یرموک یونی ورسٹی میں احتجاج ہوئے اور حکومت نے اخوان کے طلبہ قائدین کو گرفتار کر لیا۔ جماعت کے بہت سے اراکین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ گویا حکومت اور اخوان المسلمون کا پہلا ٹکراؤ تھا۔
۹۰ کے عشرے میں ’اسرائیل - اُردن امن مذاکرات‘ شروع ہوئے تو یہ اخوان اور حکومت کے درمیان اختلافات کا مرکزی نکتہ بن گئے۔ اخوان المسلمون اُردن نے شدت کے ساتھ ان مذاکرات کی مخالفت کی اور انھیں حرام تک قرار دیا۔ اُردنی عوام کی آواز بنتے ہوئے اخوان المسلمون نے اسرائیل اُردن امن مذاکرات کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے منظم کیے ۔ یوں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سڑکوں پر،اخوان المسلمون حکومت کی ایسی اپوزیشن بن چکے تھے، جن کا اثر و نفوذ یونینز میں، یونی ورسٹیوں اور مساجد میں ہر جگہ نمایاں تھا۔ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے جماعت کے اس اثر و نفوذ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کیے۔
۱۹۹۲ء میں بیرونی تعلقات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر اور اس بحران سےبچنے کے لیے اخوان المسلمون نے ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام جبهۃ العمل الاسلامی تھا۔۱۹۹۳ء میں حکومت نے الیکشن قوانین میں مزید ترامیم کیں، جن کا واضح مقصد اخوان المسلمون کے اثر و نفوذ اور پارلیمنٹ میں اس کے وجود کو محدود ترکرنا تھا۔ ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں حکومت نے دھاندلی کی اور اخوان کو صرف ۱۷ نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس سے اخوان کی صفوں میں حکومت کے خلاف مزید شدت پیدا ہوگئی۔۱۹۹۴ء میں اسرائیل -اُردن امن معاہدہ (معاہدۂ وادی عربہ)وجود میں آیا۔اخوان المسلمون نے پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔ حکومت کی طرف سے پابندیوں کے باعث اخوان المسلمون نے ۱۹۹۷ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔
۱۹۹۹ء میں حالیہ شاہِ اردن، شاہ عبداللہ ثا نی برسرِ اقتدار آئے۔ ان کے دور میں اخوان اور حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات، گویا دائمی اختلاف کی صورت اختیار کرتے چلے گئے۔ اُردن کی حکومت نے حماس کو اپنے دفاتر بند کرنے اور اُردن سے نکل جانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اُردن کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔حماس کی جلاوطنی سے اخوان المسلمون کے اندر داخلی طور پر بھی اختلافات پیدا ہوئے۔
۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۳ءتک حکومت نے پارلیمنٹ برخواست کیے رکھی۔ اس دوران ۲۰۰کے قریب مختلف ایسےآرڈی ننس جاری کیے، جن سے سیاسی عمل اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگی۔ ۲۰۰۴ء میں اخوان المسلمون نے یونینز پر لگنے والی پابندیوں کے جواب میں مظاہروں کی قیادت کی۔
۲۰۰۶ءمیں حکومت نے اخوان المسلمون کے عوامی بہبود کے سب سے بڑے ادارے جمعیۃ المرکز الاسلامی پر پابندی عائد کردی۔ ۲۰۰۷ء کے بلدیاتی انتخابات میں اخوان نے حصہ لیا، لیکن پولنگ کے آغاز کے دو ہی گھنٹے بعد دھاندلی کا الزام لگا کر بائیکاٹ کر دیا۔ ۲۰۰۷ء کے قومی انتخابات میں بھی اخوان نے حصہ لیا، لیکن صرف چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔اس کے بعد اخوان نے سیاسی اصلاحات، دستوری ترامیم اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافے پر اپنی پوری سیاسی توجہ مرکوز کر لی، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں سے بھی گفت و شنید کی۔ ۲۰۱۰ء کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا گیا کہ پابندیاں برقرار تھیں ۔
۲۰۱۱ء میں ربیعِ عربی (عرب بہار) کا آغاز ہوا۔ حکومت نے عوامی احتجاج سے بچنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی قائم کر دی، تاہم اخوان المسلمون نے کمیٹی میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیگر اپوزیشن پارٹیوں اور قبائلی قوتوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا، اور دستور میں وسیع ترترامیم اور ملک میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اتحاد کے اہم مطالبات درج ذیل تھے: پارلیمنٹ کی تشکیل و برخاست کے شاہی اختیارات کو دستوری ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے، پارلیمنٹ کو حکومت کے چناؤ میں زیادہ اختیار حاصل ہو، سینیٹ میں نامزدگی کے بجائے اس کابھی انتخاب ہو ، اینٹی کرپشن قوانین بہتر بنائے جائیں، اور انتخابی قانون کو یکسربدلا جائے۔
پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ہوا جو پورے ملک میں پھیل گیا ۔ شدید احتجاج کے جواب میں شاہ عبداللہ دوم نے انتخابی قوانین میں ترمیم اور دیگر اصلاحات متعارف کرائیں۔ اخوان المسلمون نے انتخابی قوانین میں ترمیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۳ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
۲۰۱۴ء میں اخوان المسلمون نے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاج منظم کیا جو پُرتشدد ہوگیا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومت کے ساتھ تعلقات میں اس وقت بدترین موڑ آیا جب ۳۱؍ افراد کو اُن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جو اسرائیل نے فراہم کی تھیں۔ علاوہ اَزیں نائب مرشدِ عام زکی ارشید کو ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا گیا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف بیان دیا ہے۔
اس سارے سفر میں اخوان المسلمون اختلافات کا شکار بھی ہوئی ۔ دو رائے کے حاملین تو ہمیشہ سے ہی اخوان المسلمون کا حصہ رہے ہیں، جنھیں کبھی عقاب (یعنی سخت موقف والے) اور فاختاؤں (نرم موقف والے)سے تشبیہ دی جاتی رہی۔ فاختائی دھڑے کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مقامی مسائل کی سیاست کو اولیت دی جائے، جب کہ عقابی دھڑے کے زیادہ تر افراد کا تعلق چونکہ فلسطین سے تھا، اس لیے ان کا اصرار تھا کہ فلسطین ایشو کو اخوان المسلمون کی سیاست میں اوّلیت دی جائے کہ اُردن کی بڑی آبادی فلسطینی نژاد ہے۔
۲۰۱۲ء میں فاختائی دھڑے کا مطالبہ سامنے آیا کہ اخوان المسلمون (مصر) سے قطع تعلق کر لیا جائے، اور پھر ۲۰۱۴ء میں اسی گروپ نے اخوان المسلمون کی تنظیمی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اختلاف بڑھا تو ۲۰۱۵ء میں جماعت کو اپنے ۱۰؍ اراکین کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی، جن میں ایک نمایاں ترین نام عبدالمجید ذنیبات کا بھی تھا۔ایک ماہ کے اندر اندر علیحدہ کیے جانے والے اراکین نے جمعیت اخوان المسلمون کے نام سے الگ جماعت کی بنیاد رکھی، جس کی سربراہی عبدالمجید ذنیبات کر رہے تھے۔ حکومت ِ اُردن نے ان باہمی اختلاف کو اور ہوا دی۔ اور نئی قائم ہونے والی ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کو اُردن میں اخوان المسلمون کا قانونی وارث قرار دیتے ہوئے باقاعدہ رجسٹر کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اخوان المسلمون کی ملٹی ملین ڈالر مالیت کی سات املاک پر قبضہ کر لیا اور انھیں ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کے نام کر دیا۔ اور باقاعدہ اعلان کردیا کہ جماعت اخوان المسلمون کو عوامی سطح پر کوئی سرگرمی نہیں کرنے دی جائے گی۔
۲۰۱۵ءکے آخر میں جماعت میں ایک اور اختلاف در آیا جب ’جبھۃ العمل الاسلامی‘ کے ۴۰۰؍ اراکان نے استعفا دے دیا، ان میں اخوان المسلمون کے چند نمایاں رہنما بھی شامل تھے۔ علیحدہ ہونے والے اراکین نے ۲۰۱۶ء میں نہ صرف نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی بلکہ علی الاعلان اخوان المسلمون کے نظریات سے لاتعلقی کا بیان بھی دیا۔
اخوان المسلمون نے اس عرصے میں عوامی امنگوں کے قریب تر رہتے ہوئے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ افہام و تفہیم کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ اخوان المسلمون مصر کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کیا، لیکن حکومت نے جماعت پر لگائی ہوئی پابندی نہیں ہٹائی، نیز حکومت نے جماعت کو اس کے اندرونی تنظیمی انتخابات کے انعقاد سے روک دیا اور اس کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔ جماعت نے حکومتی پابندی کے باوجود اپنی دعوتی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس طرح جبھۃ العمل الاسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔جبھۃ العمل الاسلامی نے ریاستی کارفرماؤں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی، نیز علاقائی اور داخلی چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مستعدی دکھائی۔سیاسی موقف اور اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی۔ اب اس کا سیاسی موقف ’اسلام ہی حل ہے‘ کے بجائے سویلین اداروں کی ترقی اور شہریوں کے عزت و وقار کی بحالی بن گیا۔ نیز اس جبھۃ نے اپنے انتخابی پروگرام میں اندرونی ملکی مسائل کو موضوع بنایا۔ ممبرشپ عیسائیوں اور خواتین کے لیے بھی کھول دی گئی اور نوجوانوں کا کردار مؤثر بنایا گیا۔
۲۰۱۶ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون کے بنائے ہوئے اتحاد ’نیشنل الائنس برائے اصلاح‘ نے ۱۵ نشستیں جیت لیں، جب کہ حکومت کی حمایت یافتہ جمعیۃ الاخوان کے حصے میں صرف ایک نشست آئی، اور وہ بھی اس لیے کہ انھوں نے نیشنل کانفرنس کی فہرست پر الیکشن لڑا تھا۔
۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر تعلقات میں اس وقت دراڑ آئی جب حکومت نے اساتذہ کے احتجاج کا الزام اخوان پر لگایا۔ ۲۰۲۰ء میں عدالتی حکم کے ذریعے اخوان المسلمون کو تحلیل کرنے اور اس کے تمام اثاثہ جات ضبط کرنے کا فیصلہ صادر ہوا، البتہ جبھۃ العمل الاسلامی، جو جماعت کا سیاسی ونگ تھا، کو کام کرنے کی آزادی حاصل رہی۔
۲۰۲۲ء کے انتخابات میں جبھۃ العمل الاسلامی نے آٹھ نشستیں جیت لیں، البتہ انتخابی دھاندلی کی بنا پر بلدیاتی اور یونین انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ۲۰۲۳ء میں طوفان الاقصیٰ کے بعد جماعت اخوان المسلمون نے اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا، اور الیکشن میں جبھۃ العمل الاسلامی ۳۱ پارلیمانی نشستیں جیت کر موجودہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اُبھری۔
دوسری طرف اپریل ۲۰۲۵ء میں حکومت نے ۱۶؍ افراد کو میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور کہا کہ ’یہ لوگ اُردن کے اندر سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘۔ ۲۰؍اپریل ۲۰۲۵ء کو حکومت نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا، اور اخوان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں بہت وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور قابض اسرائیل نے وہاں کے شہریوں کا بہت بڑے پیمانے پر قتل عام کیا ہے۔ لہٰذا غزہ کی فوری تعمیرِ نو نہایت ضروری ہے۔ لیکن تعمیرِ نو کے اس عمل کا امکان کن مسائل اور مشکلات سے ہو کر گزرے گا ، اس کا اندازہ کرنے کے لیے چند حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
غزہ کا جاری بحران صرف انسانی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ واضح طور پر سیاسی بحران ہے۔ حماس ۲۰۰۷ء سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹوں کے مطابق شفاف ترین انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر غزہ کے حکومتی معاملات چلا رہی ہے، جس کو بنیاد بناکر تعمیرِ نو کی کوششوں کوپیچیدہ بنایا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل حماس کی حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
یہ موضوع سیاسی میدان میں ایک کانٹے دار مسئلہ ہے، کیونکہ تعمیرِ نو کا گہرا تعلق سیاسی رسہ کشی سے ہے جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ہر فریق کے پاس جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے ایک الگ وژن ہے، جو باہم متضاد ہے، جس سے ملبہ ہٹانے کا عمل مستقبل میں ایک ’پراکسی جنگ‘ میں بدل جاتا ہے۔
رام اللہ، القدس، واشنگٹن، برسلز، دوحہ اور قاہرہ کے ایوانوں میں جو سوال گونج رہا ہے وہ یہ نہیں کہ کیا غزہ دوبارہ تعمیر ہوگا؟ بلکہ یہ ہے کہ یہ کیسے دوبارہ تعمیر ہوگا؟ اور کون اسے دوبارہ تعمیر کرے گا؟ اور کس کے اختیار کے تحت یہ تعمیر ہوگا ؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ غزہ کو کس مقصد کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا؟ غزہ کی تعمیرِ نو محض انجینئرنگ یا انسانی چیلنج نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینی عوام کے مستقبل اور قابض فلسطینی اتھارٹی کی کش مکش کے بارے میں ایک ہائی اسٹیکس بات چیت ہے۔
مابعد جنگ کی حقیقت (post-war reality) میں یہ تعین کرنا کہ غزہ میں کس کی حکومت ہوگی، کسی بھی تعمیرِ نو کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل امر ہے۔ عطیہ دینے والے ممالک ضمانتیں چاہتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری دوبارہ تنازع کی وجہ سے تباہ نہ ہو ۔ سرمایہ کاری کے لیے حکمرانی میں استحکام (governance stability) اور حکمرانی کی قانونی حیثیت (governance legitimacy)کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ حکمرانی کی قانونی حیثیت اور اس کا کنٹرول ابھی تک حل طلب ہے۔ حماس سے منسلک کئی سرکاری ملازمین اس ماحول میں بھی عملی کام کر رہے ہیں اگرچہ اسے متنازع قرار دیا جاتا ہے ۔
رام اللہ میں کمزور فلسطینی اتھارٹی، جو مغربی کنارے میں بھی قانونی عوامی حیثیت سے محروم ہے، جنگ کے بعد کے مرحلے کو دونوں علاقوں میں فلسطینی عوام کے واحد جائز نمائندے کے طور پر اپنے کردار کی دوبارہ تصدیق کا ایک ممکنہ ذریعہ دیکھتی ہے، اگرچہ اس کا مشن خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ صدر عباس اور ان کے حکومتی عہدے داروں نے ایک’نو تشکیل شدہ‘ (revitalized) فلسطینی اتھارٹی کی تجویز دی ہے جو غزہ میں حکومت سنبھالے، جس میں بین الاقوامی امن فورس بھی موجود ہو تاکہ استحکام بھی ممکن ہو سکے اور یہودی ریاست بھی مطمئن ہوجائے ۔ اس کے باوجود، فلسطینی اتھارٹی کو زبردست چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس کی سیکیورٹی فورسز کمزور ہیں، غزہ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد اس کے اداروں کو بدعنوان اور غیر مؤثر سمجھتی ہے، اور تباہ شدہ پٹی میں مؤثر حکومت کے لیے مالی وسائل اور ضروری عرب سیاسی حمایت سے بھی یہ محروم ہے۔ سیکیورٹی خدمات فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت پر بھی بڑے شکوک و شبہات ہیں۔
ٹرمپ حکومت اور اس سے قبل بائیڈن حکومت نے ’فلسطینی اتھارٹی کی بحالی‘ کے ماڈل کا ’دو ریاستی حل‘ کے طور پر کھلے عام دفاع کیا ہے۔ اس وژن کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے اور تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد کے وعدے حاصل کرنے کے لیے بڑی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود، امریکی پالیسی سب سے پہلے کانگریس سے جڑی ہوئی ہے، اور دوسری بات یہ کہ صہیونیت نواز لابیوں کے ذریعے اپنے اندرونی سیاسی دباؤ کے تابع ہو کر، صہیونی ریاست کے سیکیورٹی مطالبات کی غیرمتزلزل حمایت سے بھی وابستہ ہے، اور تیسری بات یہ کہ امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے لیے اپنی حمایت کو متوازن بنانے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے تاکہ حماس کو مضبوط کیے بغیر شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، جو کہ تقریباً ناممکن ہے۔
جہاں تک قطر کا تعلق ہے، یہ کئی برسوں سے غزہ کے لیے ایک بڑا فنڈ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، جو اکثر حماس کو تنخواہوں اور ایندھن کی ادائیگی کے لیے براہ راست رقم بھیجتا رہا ہے، جس سے یہ ایک فیصلہ کن لیکن متنازع فریق بن جاتا ہے۔
امریکا حالیہ لڑائی سے پہلے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک تاریخی معاہدے میں ثالثی کر رہا تھا۔ اگرچہ جنگ نے ان مذاکرات کو روک دیا، لیکن اس نے ایک نیا تعلق بھی پیدا کیا۔ سعودی عرب نے اب تعلقات کے ایک قابل اعتماد راستے کو فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادی شرط بنا دیا ہے، جس سے ریاض کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات انسانی امداد فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ ’ابراہیم معاہدوں‘ کے ذریعے قابض اسرائیل کے ساتھ اپنے معمول کے معاہدوں پر تیزی سے توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں غزہ کو فنڈ دینے کے لیے کم ہی مائل ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے وژن کے لیے ان کی حمایت اکثر غیر فعال اور مشروط ہوتی ہے۔
غزہ کی تعمیرِ نو اور اس کی مستقبل کی حکمرانی کے لیے مختلف بین الاقوامی تجاویز اور منصوبے ہیں، جن میں سب سے پرانا متنازعہ ’دی گریٹ ٹرسٹ پلان‘ ہے جو امریکی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک ہے، اور پھر اب اس میں سرفہرست ۲۱ نکات پر مشتمل امریکا کا منصوبہ اور مربوط بحالی کی کوششیں ہیں جو عرب لیگ، بین الاقوامی برادری اور کثیر جہتی تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔
ناقدین ’عظیم اعتماد منصوبے‘ کو حقیقی تعمیرِ نو کے بجائے آبادی کو بے دخل کرنے کا ایک خاکہ سمجھتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ یہ فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرے گا، اور ترقی اور سلامتی کے پردے میں انسانی بحرانوں کو جنم دے گا۔ مقامی مخالفت اور جغرافیائی سیاسی پیچیدگیاں اس کی عملیت اور اخلاقی بنیادوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔
یہ منصوبہ امریکی انتظامیہ کے سیکورٹی خدشات اور انسانی و سیاسی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا عکاس ہے۔ تاہم، غزہ کے رہائشیوں اور عالمی برادری کے درمیان اعتماد سازی اب بھی ایک مشکل کام ہے۔
بین الاقوامی برادری بحالی کے لیے مالی امداد کے وعدے کرنے میں تو جلدی میں تھی، چنانچہ جنوری/فروری ۲۰۲۴ء میں منعقدہ پیرس کانفرنس میں، عطیہ دہندگان نے فوری انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے لیے ۷؍ارب ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا۔ یورپی یونین اور خلیجی ممالک اور دیگر نے بڑی رقمیں شامل کیں، لہٰذا فنڈز نظریاتی طور پر تو موجود ہیں لیکن درحقیقت وعدوں سے عمل درآمد (from pledge to pavement) تک کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔
امریکا فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا انفرادی عطیہ دہندہ رہا ہے۔ تاہم، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈنگ واشنگٹن میں ایک کانٹے دار سیاسی میدان ہے، کیونکہ ٹیلر فورس ایکٹ جیسی قانون سازی، جو امریکی اقتصادی امداد کو براہِ راست فلسطینی اتھارٹی کو فراہم کرنے سے روکتی ہے۔ اگر وہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو تنخواہیں (شہداء کے لیے معاوضے) جاری رکھتی ہے،تو یہ قانون سازی اس کو سختی سے محدود کرتی ہے۔ مزید برآں، غزہ کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی انتظامیہ کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں حماس کو فائدہ پہنچانے والی کسی بھی امداد کے خلاف دونوں جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
سعودی عرب غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے معاہدے کے حصے کے طور پر ہی تیار ہوسکتا ہے کہ جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے مقابلے میں ہی صہیونی نظام کو رعایتیں شامل ہوں۔ یہ ایک ایسا امکان ہے، جس کی قابض اسرائیلی حکومت سختی سے مخالفت کرتی ہے۔
متحدہ عرب امارات بڑی رقم کی صورت میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر ایک وسیع تر سیاسی تصفیے کے حصے کے طور پر، جو ایرانی اثر و رسوخ کے مقابلے میں خطے کے بارے میں ان کے وژن سے ہم آہنگ ہو۔ اور ان کی سرمایہ کاری حماس کو گورننس سے دُور رکھنے کے ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سخت شرائط کے ساتھ ہی آئے گی۔
یہ سارا عمل دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو محض ایک سراب ہے، یاوعدوں کی خوش نما جھلک، جس کا حقیقت میں ڈھلنا شاید ہی ممکن ہو۔
بھارت کے ایک سول سوسائٹی گروپ نے حال ہی میں کشمیر کا تفصیلی دورہ کرکے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خطے میں حالات پریشان کن، غیر مستحکم اور خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سیاسی، سول سروس اور فوج سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشتمل اس گروپ نے ۲۸ سے ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کے درمیان کشمیر اور جموں کا تفصیلی دورہ کیا، درجنوں افراد سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت بھارتی حکومت کے بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔ ’کنسرنڈ سٹیزنز‘ یعنی ’فکر مند شہریوں کے گروپ‘ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سماجی کارکن سشوبابھا ر وے، ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ)کپل کاک اور سینئر صحافی بھارت بھوشن شامل تھے۔
یہ گروپ دراصل ۲۰۱۶ء میں وادیٔ کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد قائم کیا گیا تھا۔گروپ کے اراکین نے واضح کیا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، اور ان کے تمام دورے اور سرگرمیاں ذاتی وسائل سے انجام پاتی ہیں۔حال ہی میں کیا گیا ان کا کشمیر میں یہ گیارھواں دورہ تھا، جس کے بعد انھوں نے نئی دہلی میں ایک رپورٹ جاری کی۔
سول سوسائٹی اراکین کے مطابق ’’کشمیر بظاہر خاموش ہے، مگر یہ خاموشی اطمینان یا بہتری کی علامت نہیں، بلکہ خوف، دباؤ، نگرانی اور دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے‘‘۔ رپورٹ کے الفاظ میں ’’کشمیر ’خاموش اور اُداس‘ ہے، اختلافِ رائے خطرناک ہو چکا ہے، اور ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات کے بعد سے بیگانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے، جو ماضی کے کسی بھی دور میں دیکھنے میں نہیں آتی ہے‘‘۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ’’غصہ اب صرف وادی تک محدود نہیں رہا بلکہ جموں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے‘‘۔
دورے کے دوران گروپ نے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں، صحافیوں، طالب علموں، وکیلوں اور مذہبی شخصیتوں سے تفصیلی بات چیت کی۔ تقریباً تمام ملاقاتوں میں سب سے نمایاں، غالب اور مشترک احساس خوف کا تھا۔ سری نگر میں مقیم ایک سینئر ڈاکٹر نے گروپ کو بتایا کہ ’’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے، جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے‘‘۔اسی ڈاکٹر سے ملاقات اور دیگر کئی ملاقاتوں میں بھی، لوگوں نے گروپ کو بار بار یہ احساس دلایا کہ حالات کسی بڑے دھماکے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘‘۔ متعدد افراد نے ایک ہی جملہ دہرایا کہ ’’کچھ بڑا ہونے والا ہے، کچھ بڑا ہونے والا ہے۔‘‘ایک سینئر ایڈیٹر نے کہا کہ ’’کشمیری معاشرے کی یہ خاموشی غیر فطری اور غیر مستحکم ہے، اور جب یہ ٹوٹے گی تو اس کے نتائج نہ صرف کشمیر بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے‘‘۔
سب سے چونکا دینے والا انکشاف حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے کیا۔ انھوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’اکثر اوقات مجھے تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ جس روز اس کی اجازت ملتی ہے، اس سے ایک روز قبل مجھے خطبہ اور وعظ کے نکات حکام کے حوالے کرنے پڑتے ہیں، اور ان کی اجازت کے بعد ہی ان کو خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ نکاح کی مجالس میں جانے سے قبل دُلھا اور دُلھن کے خاندان کے کوائف حکام کو دینے پڑتے ہیں اور جانچ پڑتا ل کے بعد ہی نکاح کی مجالس میں جانے اور نکاح خوانی کی اجازت ملتی ہے‘‘۔
ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’’ ۲۰۱۹ء کے بعد سے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر بندوبست موجود نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’معاشی محرومی کے بڑھتے ہوئے احساس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کشمیری ہونے کی کوئی ضمانت یا تحفظ باقی نہیں ہے‘‘۔ کئی افراد نے بتایا کہ ’’ہمیںانڈیا کے دیگر حصوں میں گالیوں، نفرت انگیز رویوں اور دقیانوسی تصورات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔سرینگر کی سول سوسائٹی کے ایک رکن نے وفد کو بتایا کہ کشمیر میں منعقد ہونے والے ایک متنازعہ فلمی گلوکار کے ایونٹ کو ’ثقافتی یلغار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مقامی لوگ اسے کشمیری تہذیب اور وقار کی دانستہ توہین سمجھتے ہیں‘‘۔
رپورٹ کے مطابق: ’’مئی ۲۰۲۵ء میں ’آپریشن سِندور‘ اور اس کے بعد نومبر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد انڈیا مخالف جذبات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر نوجوان شدید ذہنی اور سماجی بحران کا شکار ہیں۔ گروپ کا مشاہدہ ہے کہ نوجوان دو خطرناک راستوں کے درمیان پھنس چکے ہیں: ایک طرف منشیات کی لت، اور دوسری طرف شدت پسندی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے‘‘۔
سیاسی سطح پر رپورٹ کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۴ء کے اسمبلی انتخابات کے باوجود جموں و کشمیر میں جمہوریت کی شکل محض رسمی حیثیت رکھتی ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں منتخب حکومت کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے، مگر حقیقی اختیار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ عمر عبداللہ نے خود گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ’’آدھا وزیر اعلیٰ‘‘ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’وادی کی ۴۷میں سے ۴۱ نشستوں کا واضح مینڈیٹ حاصل ہونے کے باوجود منتخب حکومت بے اختیار ہے، جب کہ انتظامیہ پر لیفٹیننٹ گورنر کا کنٹرول برقرار ہے۔اہم فیصلے، جن میں سول سرونٹس اور پولیس افسران کی تعیناتیاں شامل ہیں، منتخب ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ اس طرزِ حکمرانی نے عوام میں شدید مایوسی کو جنم دیا ہے‘‘۔ شہریوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’بہت کم کشمیری افسران کو ضلعی سطح پر ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، جب کہ باہر سے آنے والے افسران نہ مقامی زبان سمجھتے ہیں اور نہ زمینی حقیقت جانتے ہیں، جس سے عدم اعتماد مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔
’نیشنل کانفرنس‘ کے اندرونی اختلافات، خاص طور پر عمر عبداللہ اور بڈگام سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ کے درمیان تنازعات، نے حکومت کو مزید کمزور کیا ہے۔حال ہی میں بڈگام کے ضمنی انتخاب میں نیشنل کانفرنس کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی کی سیاسی سرگرمیوں میں دوبارہ جان آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کی طرف سے کشمیری قیدیوں کو مقامی جیلوں میں منتقلی کے مطالبے پر دائر عوامی مفاد کی درخواست اور احتجاجی سیاست نے ان کے لیے ہمدردی پیدا کی ہے۔
یہ رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ ’’اکتوبر ۲۰۲۴ء میں جموں و کشمیر اسمبلی نے ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، مگر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ریاستی درجہ نہ ہونے کے باعث انسانی حقوق کمیشن، صارفین کے ازالے کے ادارے اور اپیلٹ فورم مؤثر طور پر کام نہیں کر پا رہے، جس سے شہری ادارہ جاتی انصاف سے محروم ہیں‘‘۔
لوگوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’اگست ۲۰۱۹ء کے بعد آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی کے نقصانات آج بھی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس اقدام کو انھوں نے شناخت، عزت اور وقار کے نقصان سے تعبیر کیا‘‘۔ رپورٹ کے مطابق: ’’انڈین سپریم کورٹ کو بھی مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، اور اُس وقت کے جسٹس سنجیو کھنہ نے ایک علیحدہ عدالتی نوٹ میں ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم، پہلگام حملے اور مبینہ لال قلعہ جیسے واقعات کو فیصلے میں مزید تاخیر کے جواز کے طور پر استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے‘‘۔
نئی ریزرویشن پالیسی کو طلبہ نے ایک ’ٹائم بم‘قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گو کہ انڈیا کے دیگر علاقوں میں ریزرویشن یعنی نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے نچلے طبقے کے لیے نشستیں مخصوص رکھنے کا ایک پس منظرہے، کشمیر میںاس کو اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنے اور سسٹم سے باہر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ریزرویشن پالیسی کے تحت ریاست میں ۶۹فی صد کشمیری بولنے والی مسلم آبادی کے لیے نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ۴۰ فی صد سے کم نشستیں رہ گئی ہیں۔
میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ ۲۰۲۴ء کے انتخابات کے باوجود صحافتی آزادی بحال نہیں ہوئی۔ سنسرشپ، دھمکی اور نگرانی بدستور جاری ہے۔کئی ایسے صحافی جو بڑے قومی اداروں سے منسلک ہیں، اُن کی ایکریڈیشن منسوخ یا مسترد کی جا چکی ہے۔ ’آپریشن سِندور‘ کے دوران مقامی صحافی آزادانہ رپورٹنگ سے قاصر رہے اور کئی صحافیوں کو پولیس نے طلب کیا۔ ایک صحافی نے کہا کہ سرکاری تقریبات کی کوریج کی اجازت نہ دیناجان بوجھ کر ہمارے صحافتی کیریئر کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ پھر ایک نیا سرکاری ہدایت نامہ صحافیوں سے کہتا ہے کہ وہ چھ ماہ کی تنخواہ کی رسیدیں اور تفصیلی پس منظر کی معلومات جمع کرائیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ ’حقیقی صحافی‘ ہیں۔ انتظامیہ نقالی اور اسناد کے غلط استعمال کی شکایات کا حوالہ دیتی ہے، لیکن صحافی اسے دخل اندازی اور خوف زدہ کرنے والا ہتھکنڈا قرار دیتے ہیں۔رپورٹ میں اس خدشے کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر اکثر عسکری گروہوں کے ’اوور گراؤنڈ ورکرز‘ پر کریک ڈاون کی بات کرتے ہیں، جس سے رپورٹروں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ’دہشت گرد ماحولیاتی نظام‘ کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔انھوں نے صحافی عرفان معراج کی طویل حراست کا حوالہ دیا، جنھیں دہلی کی روہنی جیل میںسوسے زیادہ دنوں سے رکھا گیا ہے، اور سماعتیں بار بار ملتوی کی جاتی ہیں۔
معاشی محاذ پر صورتِ حال مزید تشویش ناک ہے۔ پہلگام حملے کے بعد سیاحت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ہزاروں ہوٹل مالکان، ٹیکسی ڈرائیور اور دکان دار موسمِ سرما سے قبل اپنی بنیادی آمدنی سے محروم ہو گئے۔ سری نگر جموں ہائی وے کی طویل بندش نے سیب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، اور صرف پلوامہ منڈی میں نقصانات۲۰ بلین روپے سے تجاوز کر گئے۔
رپورٹ کے مطابق ہندو اکثریتی جموں میں بھی بیگانگی اور غصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ’آپریشن سِندور‘ کے بعد گولہ باری کے واقعات جموں شہر کے قریب تک پہنچ گئے، جس کے باعث کئی خاندان عارضی طور پر ہماچل پردیش اور دہلی منتقل ہوئے۔ بعض علاقوں میں مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جموں کے ایک دانش ور نے گروپ کو بتایا کہ وہ بھی خود کو ایک مقبوضہ کالونی کی طرح محسوس کرتے ہیں کیونکہ منصوبہ بندی میں جموں کا کوئی واضح مقام نظر نہیں آتا۔
چار دن کے سفر اور درجنوں ملاقاتوں کے بعد کنسرنڈ سٹیزنز گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال غیر مستحکم، پریشان کن اور منظم انداز میں غلط طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ اس واضح انتباہ کے ساتھ اختتام کو پہنچتی ہے کہ اگر سیاسی مکالمے، ریاستی درجہ کی بحالی، انتظامی اصلاحات اور اقتصادی تحفظات پر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، تو جموں و کشمیر پر چھائی بظاہر یہ خاموشی زیادہ دیر تک نہیں رہے گی۔
غزہ کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی فیصلہ سازی اور یورپ کے فکری ماحول کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں پہلے سے زیادہ منظم انداز میں جاری ہیں۔ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض عسکری واقعات نہیں بلکہ سفارت کاری، سماجیات، انسانی حقوق اور عالمی رائے عامہ کے نئے رُخ کی داستان بھی ہے۔ یہ جنگ نہ صرف فلسطینی بستیوں کو کھنڈر بنا رہی ہے بلکہ خود اسرائیلی معاشرے اور یورپی و امریکی سیاست میں بھی دراڑیں ڈال رہی ہے۔
اسی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں وہ امریکی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں ایک بین الاقوامی فوج کی تعیناتی اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا خاکہ شامل ہے۔لیکن یہاں بھی غزہ کی مزاحمتی قوتوں سے ہتھیار ڈالنے کی شرط موجود نہیں۔ قرارداد کا ایک پہلو یہ ہے کہ مفلوج مقتدرہ فلسطین (PA) کے تنِ مُردہ میں جان ڈالنے اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان سیاسی مکالمے کی بحالی کا تصور پیش کیا گیا ہے،جو موجودہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس سب کے باوجود ۱۳ ووٹوں سے قرارداد کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست ایک نئے بیانیے کی طرف جھک رہی ہے۔ تاہم رائے شماری کے دوران چین اور روس کی غیر حاضری سے اندازہ ہوتا ہے کہ طاقت ور اقوام عالم ٹرمپ منصوبہ پر پوری طرح یکسو نہیں۔
جنگ بندی کے بعد بھی غزہ پر حملے جاری ہیں۔ان بڑے حملوں میں۱۹؍ اکتوبر کو ۴۲ اور ۲۹؍ اکتوبر کو ۱۰۹ ؍افراد شہید ہوئے۔ بی بی سی ویری یفائی شو (BBC Verify show)کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۰؍ اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کے اُن علاقوں میں جو تاحال اس کے قبضے میں ہیں، ڈیڑھ ہزار سے زائد عمارتیں منہدم کردیں۔ سیٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تباہی چند ہفتوں کے اندر منظم انہدامی کارروائیوں کے ذریعے کی گئی۔ کئی جگہوں پر پوری بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں۔یہ محض عمارتوں کی شکستگی نہیں بلکہ کھیتوں، باغات اور گھروں کے صحنوں کے مٹ جانے کی المناک داستانیں ہیں۔
خان یونس، رفح کا مشرقی علاقہ اور جبالیا و شجاعیہ کے وہ علاقے ہیں جہاں کبھی سبزہ اور درخت تھے، اب محض ملبہ اور مٹی کا غبار ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک سیاسی و سماجی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کی مثال برسوں سے غربِ اردن میں دیکھی جارہی ہے۔
۱۲نومبر کو غزہ کے ایک کلینک پر حملہ کر کے تین فلسطینی شہید کر دیئے گئے۔ ۱۷نومبر کو غزہ کے کئی علاقوں پر اسرائیلی گولہ باری میں ۱۴ شہید ہوئے، پھر ۲۳نومبر کو اسرائیلی جنگی طیاروں کی بم باری سے ایک ہی وقت میں ۲۴ فلسطینی شہید ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے ادارے UNICEFکے مطابق اسرائیلی فوج نے ان ٹرکوں کو روک دیا ہے، جن پر بچوں کی جدرین کاری(Vaccination) کے لیے ۱۶ لاکھ انجکشن اور دودھ لدا تھا۔بدترین انسانی بحران کے دوران بچوں تک امداد نہ پہنچنے دینا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نابلوس، طولکرم، قلقیلیہ اور بیت لحم میں گھروں، زیتون کے باغات اور چھوٹے کارخانوں کو آگ لگائی گئی۔جمعرات، ۱۳ نومبر کو ’دیراستیا‘ کی جامع مسجد پر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا گیا اور قرآن کے نسخے نذرِ آتش کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ سب کارروائیاں فوجی سرپرستی میں ہو رہی ہیں۔ تاہم، فلسطینی عوام ان ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ۔مسجد میں جمعرات کو آگ بھڑکی اور جمعہ کی نماز اسی مسجد کے ایک مرمت شدہ حصے میں ادا کی گئی۔ یہ وہ استقامت ہے جو اس جنگ کا اصل چہرہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
غربِ اُردن کی اس تباہی پر یورپی یونین نے خاموشی اختیار کی، لیکن کاغذ پر بنی فلسطینی ریاست کے لیے دستور کی تیاری کا کام شروع ہوگیاہے۔ گذشتہ ہفتے پیرس میں مقتدرہ فلسطین (PA)کے صدر محمود عباس اور فرانسیسی صدر نے مشترکہ آئین ساز پینل پر اتفاق کرلیا۔ سوال یہ ہے کہ جب مقتدرہ فلسطین کو عوامی مینڈیٹ ہی حاصل نہیں تو اسے آئین سازی کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ریاستی آئین منتخب دستور ساز اسمبلی بناتی ہے، اس مقدس دستاویز کی تدوین مذاکراتی میز پر نہیں ہوتی۔
چند ماہ پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں غزہ پر حملے کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا تھا۔لیکن اب خود یہ’فاتح فوج‘ اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ اسرائیلی چینل ۱۲ کے مطابق کپتان سے لیفٹیننٹ کرنل تک کے ہزاروں اہلکارقبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دے چکے ہیں۔ یہ رجحان فوج کی تمام شاخوں میں دیکھا جارہا ہے اور اُن عہدوں کو متاثر کر رہا ہے، جنھیں اسرائیلی فوج کی آئندہ قیادت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ نفسیاتی دباؤ، جنگی تھکن، ضمیر کا بوجھ، اور عسکری حکمتِ عملی سے مایوسی بنیادی عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی پارلیمان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک ریزرو فوجی کی بیوی علیحدگی یا طلاق پر غور کر رہی ہے۔ خواتین شدید مالی دباؤ اور بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ بحران براہِ راست جنگی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔رپورٹ پیش کرتے ہوئے کمیٹی کی سربراہ میراؤ کوہن (Meirav Cohen)نے کہا کہ ۳ لاکھ ریزرو اہلکار طویل عرصے سے محاذ پر ہیں، جو اس خوفناک سماجی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔نصف سے زیادہ خواتین کا کہنا ہے کہ شوہروں کی طویل جدائی سے اَزدواجی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ والد کی غیر موجودگی اور اس کے نتیجے میں ماؤں کے چڑچڑے پن سے بچے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔
غزہ جنگ کے اثرات اب اسرائیلی یونی ورسٹیوں تک جا پہنچے ہیں۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب کی بن گوریان یونی ورسٹی میں سیاسیات کے استاد ڈاکٹر سباسٹین بن ڈینیل ’ غزہ جنگ کے اسرائیلی معاشرے پر منفی اثرات‘ کے عنوان سے لیکچر دے رہے تھے کہ انتہا پسند وزیر الموغ کوہن نے کلاس میں گھس کر زبردستی لیکچر رکوا دیا۔
اسرائیلی اولمپک کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کو غیر ملکی دوروں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ نسل کشی کے خلاف دنیا کا بہت آہستگی سے جاگتا ضمیر اسرائیل کو ناپسندیدہ ریاست بنارہا ہے۔
اوکسفرڈ یونین نے ایک قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، ایران کے مقابلے میں خطّے کے استحکام کے لیے کہیں بڑا خطرہ ہے۔ گذشتہ سال بھی اوکسفرڈ یونین نے ایک قرارداد کہ اسرائیل نسل کشی کرنے والی نسلی تفریق پر مبنی ریاست ہے، کو ۵۹کے مقابلے میں ۲۷۸ ووٹوں سے منظور کیا تھا۔یہ قراردادیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یورپ کے سنجیدہ حلقے اب اسرائیلی موقف سے ہٹ کر حقائق کو تسلیم کر رہے ہیں۔
جرمنی کا برانڈن برگ گیٹ (Brandenburg Gate) جو کبھی اتحاد اور آزادی کی علامت تھا، آج ایک نئے فکری جمود کی نشانی بنتا جا رہا ہے۔ چند نوجوانو ں نے اس تاریخی دروازے پر ایک بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا: ’’نسل کشی کبھی دوبارہ نہیں، فلسطین کو آزادی دو‘‘۔وہ فلسطینی پرچم لہراتے ہوئےامن کی اپیل کر رہے تھے۔ مگر جواب میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔ دنیا کو اظہارِ رائے کا درس دیتا یورپ، اب انسانی ہمدردی کے ایک جملے سے بھی خوف زدہ ہے۔دلچسپ حقیقت کہ گرفتاریوں، جرمانوں اور مقدمات کے باوجود ایسے واقعات یورپ میں معمول بنتے جا رہے ہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ گرفتاری طے ہے، پھر بھی وہ بولنے سے باز نہیں آتے کیونکہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔
غزہ تعلیمی بورڈ نے ۱۳ نومبر کو انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا اعلان کیا۔ ضحیٰ نظمی نے ۹۶ء۷ فی صد نمبر لے کر ٹاپ کیا۔ لیکن جب نتیجہ نکلا تو اس شانداز کارکرگی پر خوشی منانے کو ضحیٰ موجود نہ تھی۔ گذشتہ ماہ جب جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے وحشیوں نے نصیرات مہاجر کیمپ پر بم برسائے تو یہ لڑکی اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں سمیت اپنے ربّ کے پاس چلی گئی۔ درندگی صرف جسموں ہی کو نہیں بلکہ خواب، محنت، کوشش اور مستقبل کو بھی ملبے میں دفن کر رہی ہے۔
مغربی پریس کے جانب دارانہ رویّے کے باوجود یورپ کا باشعور طبقہ سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقت سے آگاہ ہو رہا ہے۔ یہ وہ بدلتی فکری فضا ہے جو آنے والے کل فلسطین کے سیاسی مستقبل پر اثر ڈالے گی۔ اندھی طاقت عارضی فائدہ تو دیتی ہے لیکن فتح ہمیشہ حق اور ضمیر کی ہوتی ہے۔
اس سوال کی کہانی ۱۹۹۴ء میں شروع ہوئی جب اقوام متحدہ کے ایک ملازم نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے سوڈان کا وہ نقشہ دیکھا ہے جس میں اس کی پانچ ریاستیں دکھائی گئی تھیں۔ جب سوڈان کے موضوع پر یہ بات چیت ہو رہی تھی تو میں اپنے کلینک میں تھا۔ اس کے بعد میں نے میڈیکل کا شعبہ چھوڑ کر سوڈان جانے کا فیصلہ کیا۔
پھر سوڈان کے بارے میں تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی طور پر اپنی تحقیق کے ذریعے، میں نے بہت کچھ دریافت کیا جو اس وقت حقیقت بن کر میرے سامنے آگیا جب میں نے پہلی بار ۱۹۹۶ء میں سوڈان کا سفر کیا۔ پھر میرا آنا جانا جاری رہا ، یہاں تک کہ میں نے ۲۰۰۵ء میں سوڈانی شہریت حاصل کر لی۔ ۲۰۰۰ء میں مجھے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے لیے بلایا اور وہ سوال پوچھا کہ آپ نے سوڈان کے بارے میں کیوں سوچا اور آپ یہاں کیوں آئے؟
میرا جواب یہ تھا کہ ہمارے ممالک میں مغرب کے اہداف کے بارے میں مطالعے نے مجھے کچھ نتائج تک پہنچایا اور امریکا میں مقیم ایک شہری نے مجھے بتایاکہ ’’نوے کی دہائی کے آغاز میں قومی سلامتی کے دفتر میں ایک اجلاس ہوا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ امریکا کو کس ملک سے خطرہ ہو سکتا ہے اور کون سی سلطنت دنیا پر حکومت کر سکتی ہے؟ اس پر خاموشی چھا گئی ۔ پھر بات شروع ہوئی، تو ایک نے کہا: روسی ریچھ فلاں فلاں وجہ سے، دوسرے نے کہا: چینی شیر فلاں فلاں وجہ سے، پھر تیسرے نے کہا:یورپ ،اگر متحد ہو جائے تو…آخر میں، یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ ان کے گہرے مطالعات کے مطابق، وہ ملک سوڈان ہے جو اس حساب کتاب پر پورا اُتر سکتا ہے۔ اگر ایک محب وطن اور صالح قیادت اس پر حکمران بن جائے اور اس میں واقعی انسانوں کی تیاری شروع کردے، تو یہ ایک زبردست سلطنت بن سکتا ہے…!‘‘
اس لیے کہ اللہ نے سوڈان میں ہر وہ چیز پیدا کی ہے جو تہذیب کو قائم کر سکتی ہے، یہاں تک کہ یورینیم جس سے جوہری ہتھیار بنائے جاتے ہیں۔ اسی طرح تیل، گیس، پانی، معدنیات، زراعت، مویشی اور وہ رقبہ جو ایک براعظم ہونے کے مترادف ہے اور دو ارب انسانوں کو کھلانے اور رہائش فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اللہ نے اس ملک کو طاقت کے تمام عناصر عطا کیے ہیں، اور یہیں سے سوڈان کو تقسیم در تقسیم کرنے اور اس بڑے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا فیصلہ آیا۔پھر انھوں نے دارفور اور جنوب میں مسائل پیدا کرکے سوڈان کی تقسیم شروع کر دی۔ یقیناً اس سے پہلے نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد سے سوڈان کا استحصال کیا گیا اور جنوب کی پہلی تقسیم ۲۰۰۵ء میں عمر البشیر حکومت اور اسلامی تحریک کی ایک اسٹرے ٹیجک غلطی سے عمل میں آئی۔میں ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے اس تقسیم کی سخت مخالفت کی۔میں نے اخوان المسلمون کے صدر سے ۲۰۱۰ءمیں کہا تھا کہ عنقریب سوڈان دیوالیہ ہونے کا اعلان کردے گا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کیوں؟میں نے کہا تم بہت جلد دیکھ لو گے ۔
خیر میں آپ کو کچھ مثالیں دیتا ہوں کہ اس ملک میں کیا وسائل ہیں جن پر مغرب کی نظر ہے۔سوڈان ایک براعظم جیسا ملک سمجھا جاتا ہے، جسے اللہ نے ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ کچھ ممالک کے ساتھ موازنہ کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ جو کچھ سوڈان ان وسائل سے ایک سال میں پیدا کرسکتا ہے وہ کیا ہے؟ سعودی عرب سالانہ ۱۷۵ بلین ڈالر مالیت کا تیل پیدا کرتا ہے۔ اور یہ دُنیا کے امیر ترین تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔
سوڈان میں ۲۵۰ ملین ایکڑ زرعی زمین ہے۔ اگر ہم اس میں سے صرف ۳۵ ملین ایکڑ لوسن (برسیم) کاشت کریں تو اس کی سالانہ پیداوار ۳۵ ملین × ایک ایکڑکی ماہانہ پیداوار ایک ٹن × ۱۲ ماہ × برسیم کی قیمت۴۲۰ ڈالر=۱۷۶؍ ارب ۴سو ملین ڈالر بنتی ہے ۔لہٰذا، رقبے کا ایک چھوٹا سا حصہ جو ۱۵ فی صد سے زیادہ نہیں ہے، اگر اسے استعمال میں لایاجائے تو یہ سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کے برابر ہو سکتا ہے۔
سوڈان کو مویشی بانی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ۱۵۰ ملین سے زیادہ مویشی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ سوڈان کو ۱۵ فی صد اراضی میں لوسن سے پیدا کرنا چاہیے، وہ مویشیوں کی تعداد کو ۳۰۰ملین تک دوگنا کرنے کے لیے کافی ہے اور ان کی قیمت ۷۵ بلین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا، اگر صرف ۳۰ فی صد اراضی پر لوسن کاشت کیا جائے تو سوڈان کی سالانہ پیداوار ۲۵۰ بلین ڈالر کے برابر ہوگی، یعنی خلیجی ممالک کی تیل کی مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ صرف ایک شے کی پیداوار سے۔
اگر ہم سونے کے بارے میں بات کریں تو تمام رکاوٹوں کے باوجود سوڈان اب ہر سال تقریباً ۲۰۰ ٹن سونا پیدا کرتا ہے، جس کی مالیت سالانہ ۲۶ بلین ڈالر ہے۔ میڈیا پروپیگنڈا اسے ایک غریب قوم کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کے لیے خیرات اکٹھی کی جاتی ہے، جب کہ حقیقت میں کچھ بدعنوان عناصر ہیں جو عوام کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر اسے لوٹ رہے ہیں۔سوڈان ہر سال ایک ہزار ٹن سونے کی پیداوار تک پہنچ سکتا ہے، جس کی مالیت سالانہ ۱۳۰ بلین ڈالر ہوگی۔ ذرا ان اعداد و شمار کا تصور کریں اور سوڈان کے ایک غریب ملک ہونے کے پروپیگنڈا کا بھی !
سوڈان میں ہر قسم کی معدنیات بھی موجود ہیں، جن کی مالیت کھربوں ڈالر ہے۔اور اگر ۲۵۰ ملین ایکڑ زمین گندم، تل، جو، چارہ اور دیگر اقسام کے ساتھ کاشت کی جاتی، تو اس کی پیداوار سالانہ ۵۰۰ بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ جاتی۔جہاں تک تیل کا تعلق ہے تو اس کی بہت بڑی مقدار اب بھی غیر استعمال شدہ ہے جس کا حجم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
دارفور کا نام ’دار الفور‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ’فور کی سرزمین‘۔ فور ایک بڑا قبیلہ ہے ۔ دارفور، سوڈان کے رقبے کا ایک تہائی حصہ ہے اور اس کا رقبہ ۵۱۱ ہزار مربع کلومیٹر ہے، یعنی فرانس کے رقبے کے برابر ۔ اسے زمین کا سب سے امیر ترین خطہ سمجھا جاتا تھا اور اس پر پرانے زمانے میں تنازع تھا اور عثمانی عہد حکومت میں دارفور کا گورنر: مکہ اور آبار علی کی دیکھ بھال کرتا تھا۔
یہاں دارفور کے بارے میں کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں جو عموما لوگوں کو معلوم نہیں ۔ یہاں جبل مرہ واقع ہے ۔یہ پہاڑی سلسلہ دنیا کے عجائبات میں سے ہے۔ اس کی لمبائی ۱۶۵ کلومیٹر اور چوڑائی ۶۵-۸۰ کلومیٹر ہے اور یہ ایک عظیم پہاڑ ہے جس میں ایک ہی وقت میں چاروں موسم آتے ہیں۔ یہ سطح سمندر سے ۱۰ ہزار فٹ بلند ہے اور اس کا رقبہ لبنان کے رقبے کے برابر ہے۔ اس میں چشمے، ندیاں اور مختلف قسم کی فصلیں ہیں، اور یہ پہاڑ زمین پر سب سے بڑا سیاحتی منصوبہ بن سکتا ہے ،کیونکہ یہ ایک ملک کے رقبے کے برابر ہے۔
سوڈان کے ایک عالم نےجو برطانوی کمیٹی میں شامل تھے، مجھے بتایا کہ انھوں نے اس کے اندر ایک سلوریں دریا (murkery) دریافت کیا۔ بعض لوگ جبل مرہ سے متعلق بیان کرتے ہیں کہ تورات کے ۱۸۱۷ء اور ۱۸۳۰ء کے نسخوں میں ذکر ہے کہ ہمارے آقا ہارون، نبی موسیٰ علیہ السلام کے بھائی، وادی ھور کے قریب جبل (حور) میں وفات پا گئے تھے، جس کی وجہ سے بعض مؤرخین یہ خیال کرتے ہیں کہ جبل مرہ دراصل (جبل طور) ہے ، لیکن یہ معلومات صحیح نہیں ہیں۔
کچھ انگریزوں نے مجھ سے ذکر کیا اور میں نے۱۹۵۳ ء میں ان کی یادداشتوں میں پڑھا بھی جو یوں درج تھیں: ’’ہم برطانیہ عظمیٰ اگر صرف دارفور میں تانبے کا گڑھا ہی ملکیت میں لے لیتے تو برطانیہ ۵۰۰ سال تک ایک عظیم طاقت بنا رہتا‘‘۔یہ گڑھا جنوبی دارفور میں واقع ہے، اس میں پانچ ارب ٹن تانبے کا تخمینہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر معدنیات اور سونا بھی ہے۔
دارفور میں یورینیم کی کئی کانیں ہیں۔ ان میں تقریباً ۶ ملین ٹن یورینیم ہے اور جیسا کہ میرے ایک پڑوسی نے مجھے بتایا جو دارالحکومت خرطوم میں میرے قریب رہتا تھا اور اقوام متحدہ سے وابستہ تھا۔ ۲۰۰۰ء میں اس نے مجھ سے کہا: ’’ہم دارفور میں مختلف مقامات پر تعینات بکھرے ہوئے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے!‘‘ میں نے پوچھا: ’’آپ کا مشن کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا:’’پہلا مشن دارفور اور اس کی کانوں کی حفاظت کرنا ہے‘‘۔
اس کے بعد، سوڈان اور دارفور میں سونے، یورینیم، لوہے، ٹائٹینیم، سیسے، کوبالٹ وغیرہ کی کئی کانیں ہیں اور سب سے اہم چیز جو ہم نے ۲۰۱۰ء میں دریافت کی وہ دارفور میں جبل عامر تھا، جس میں تقریباً ۳ہزار ٹن سونا تھا، اس سے روزانہ ۱۵۰ کلو گرام سونا نکالا جاتا تھا۔
دارفور کو دنیا کا سب سے زیادہ تیل سے مالا مال علاقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں دو عظیم ذخائر ’ایکس ‘ کی شکل میں ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں۔ یعنی پٹرول کا وہ ذخیرہ جو روس سے شروع ہو کر ایران سے ہوتا ہوا خلیج میں داخل ہوتا ہے، پھر بحیرہ احمر اور سوڈان میں داخل ہو کر وسطی دارفور سے جاملتا ہے۔ پھر اس کے ساتھ نائیجیریا کے تیل کے ذخائر سے ملتا ہے اور یہاں آکر وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ بن جاتے ہیں ۔یہی وہ تیل کا وسیع ذخیرہ ہے جس کے متعلق الجزیرہ چینل نے تقریباً ۲۷ برس پہلےایک پروگرام نشر کیا تھا۔
دارفور دنیا کے سب سے بڑے پانی کے ذخیرے پر تیر رہا ہے، جسے ’نوبین حوض‘ کہا جاتا ہے۔ میں نے اس کے بارے میں سوڈان کی خصوصی فائلوں میں پڑھا تھا۔ تحقیقات میں ذکر کیا گیا تھا کہ یہ ذخیرہ سوڈان اور اس پر رہنے والے انسانوں، زراعت اور مویشیوں کو ۵۰۰ سال تک زندگی دے سکتا ہے۔ اگر بارشیں نہ بھی ہوں اور چشمے بھی خشک ہو جائیں، اور نیل کا پانی بھی بند ہوجائے۔ تصور کیجیے، اللہ تعالی نے کتنی دولت سوڈان کو عطا کر رکھی ہے ۔ اور یہ پانی کا علاقہ دارفور اور کئی ریاستوں میں اس کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔
جبل عامر دارفور کے وسط میں ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے، جس میں تقریباً ۳ہزار ٹن سونے کا ذخیرہ ہے۔ میں پہلا شخص تھا جو سیٹلائٹ سے یہ معلومات لایا اور ۲۰۱۰ء میں اسے دریافت کیا۔ پھر جبل عامر کونسل تشکیل دی گئی، جس میں قبائل اور حکومت کی ۱۰۰ شخصیات شامل تھیں۔ اس طویل کہانی کا اختتام ۲۰۱۴ء میں ریپڈ سپورٹ فورسز گروپ کے اس پہاڑ پر کنٹرول حاصل کرنے پر ہوا، اور اس کی سالانہ پیداوار ۴۰ ٹن سونے سے زیادہ تک پہنچ گئی۔
دارفور کو ہیروں، قیمتی پتھروں، نایاب معدنیات، زنک، سونا، چاندی، سیسہ، تانبا اور دیگر کی موجودگی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ میرے پاس بہت سے نمونے ہیں، یہاں تک کہ شہاب ثاقب اور بہت زیادہ تناسب میں لوہے کا خام مال بھی۔
ایک حقیقی دولت جس سے ہم غافل رہے اور اسے نظر انداز کر دیا، اور وہ زمین کی تمام دولتوں سے زیادہ اہم ہے، وہ ہے’انسان ‘!میں نے ماضی میں ایک کتاب پڑھی تھی جس کا نام تھا (نامعلوم انسان)۔ پھر میں نے ایک کتاب لکھنا شروع کی ( نامعلوم سوڈان) لیکن مجھے یہ معلوم ہوا کہ اصل ’نامعلوم سوڈان‘ نہیں بلکہ انسان ہے، اور جب انسان کو اس مقام پر فائز کیا جاتا ہے، جہاں اللہ نے اسے عزّت دی ہے، تو وہی حقیقی دولت بن جاتا ہے جس کے ذریعے باقی دولتیں دریافت ہوتی ہیں اور وہ عزّت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
جاپان کی طرف دیکھیے، اس کے پاس بالکل بھی تیل، سونا یا دولت نہیں ہے، سوائے ایک دولت یعنی ’انسان‘ کے۔ چنانچہ اس نے عقل اور علم کے ذریعے بنی نوع انسان پر فوقیت حاصل کی۔
سوڈان افریقہ میں واقع ایک مسلم عرب ملک ہے جو عرب لیگ اور او آئی سی کا ممبر ہے۔ اس کا رقبہ ۲ کروڑ ۶۶ لاکھ ۸۱ ہزار ۸ سو ۸۶ کلومیٹر ہے، آبادی بہت کم یعنی ۵۱ملین جن میں ۷۰ فی صد عرب ہیں اور ۹۰ فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ ۲۰۲۳ء میں سالانہ پیداوار (GDP) ۱۱۷ بلین ڈالر تھی۔
سوڈان کا بڑا حصہ صدیوں سے سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا۔ ۱۸۸۲ء میں برطانیہ نے مصر کے ساتھ سوڈان بھی قبضے میں لے لیا۔۱۹۱۶ء سے مصر برطانیہ کا زیرحفاظت خطہ (protectorate ) قرار پایا۔ یعنی مصر پر برطانیہ کا براہِ راست قبضہ نہیں رہا،جب کہ سوڈان پر برطانیہ نے براہِ راست قبضہ کرلیا جو یکم جنوری ۱۹۵۶ء تک برقرار رہا، جب برطانیہ نے سوڈان کو مصر سے الگ کرکے اسے آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔ ۲۰۱۱ء میں سوڈان کی ایک بار پھر تقسیم ہوئی اور سوڈان کا عیسائی اکثریتی جنوبی حصہ برسوں کی خانہ جنگی کے بعد ’جنوبی سوڈان‘ کے مسلم اکثریتی شمالی حصہ سے کاٹ کر الگ ملک بنادیا گیا، جس کا دارالحکومت ’جوبا‘ ہے اور آبادی تقریباً ۱۵ ملین ہے۔ اس تقسیم سے پہلے رقبے کے لحاظ سے سوڈان افریقہ کا سب سے بڑا ملک تھا۔
برطانیہ سے آزادی کے بعد شروع کے برسوں میں سوڈان میں انتخابات کے ذریعے حکومتیں بنیں، لیکن دوسرے عرب ممالک کی طرح سوڈانی فوج بھی سیاست میں کود پڑی۔ ۱۹۷۱ء میں جنرل جعفرنمیری نے صدر اسماعیل ازہر ی کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر ۱۹۸۵ء تک حکومت کی۔ نمیری نے اپنے مخالف اسلام پسند انصار اور کمیونسٹوں کا ہزاروں کی تعداد میں قتل عام کیا۔ ۱۹۸۵ء میں جنرل سوارالذہب نے جنرل نمیری کی حکومت کا تخت اُلٹ دیا اور اس کے چار سال بعد جنرل حسن البشیر نے جنرل سوار الذہب کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اگلے ۳۰برس تک لگاتار حکومت کی۔
جنرل عمر حسن البشیرکے زمانے میں ’دار فور‘ جو اسلامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر حسن الترابی کا علاقہ تھا، میں بہت مظالم ڈھائے گئے جس کی وجہ سے بین الاقوامی عدالت نے جنرل عمرالبشیر کو نسل کشی کا ملزم گردانا اور اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ ۲۰۱۹ء میں ایک فوجی انقلاب نے اس کی حکومت بھی ختم کردی اور اکتوبر ۲۰۲۱ء میں فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح صدر بن گئے اور ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ (RSF) کے قائد جنرل محمدحمدان دگالو (حمیدتی) کو نائب صدر مقرر کیا ۔ جنرل برہان نے ایمرجنسی کا اعلان کرکے بہت سی سیاسی شخصیات کو جیل میں ڈال دیا۔
’ریپڈ سپورٹ فورس‘ (قوات الدعم السریع) ایک پرانی ملیشیا (غیر سرکاری مسلح تنظیم) کا نیا نام ہے ۔ یہ پہلے’ جنجوید‘ کے نام سے جانی جاتی تھی، جس کے معنی ہیں اونٹ پر سوار جنات۔ ۲۰۰۰ء میں جنرل عمر حسن البشیر نے دار فور میں برسوں سے جاری مقامی شورش کو ختم کرنے کے لیے ’جنجوید‘ بنائی تھی۔ ’جنجوید‘ پر عوام کے بے تحاشا قتل، بے جا تشدد، لُوٹ مار اور منظم زنا کاری کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان مظالم کی وجہ سے تقریباً ۲۵ لاکھ لوگ صوبہ ’دار فور‘ چھوڑ کر دربدر ہوگئے اور ۳لاکھ افراد خانہ جنگی کے دوران قتل ہوئے۔ دار فور کی خانہ جنگی ۲۰۰۸ء میں ختم ہوئی۔ اس جنگ میں ’جنجوید‘ ملیشیا سوڈانی فوج کی مددگار کے طور پر اُبھری۔ دار فور میں جنگی جرائم کی وجہ سے سابق صدر بشیر کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلا اور ۲۰۰۹ء اور ۲۰۱۰ء میں ان کی گرفتاری کا بین الاقوامی وارنٹ جای ہوا۔ چونکہ مسائل حل نہیں ہوئے تھے اور دار فور کے عوام میں شدید بے چینی تھی ، اس لیے وہاں ۲۰۱۳ء میں خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوگئی۔
۲۰۱۳ء میں جنجوید ملیشیا کو سرکاری حیثیت دینے کے لیے اسے ’ ریپڈ سپورٹ فورس‘کا نام دیا گیا اور اس کے ایک کمانڈر حمیدتی کو اس نئی سرکاری فورس کا کمانڈر بنا دیا گیا اور اسے’ جنرل ‘کا درجہ دے دیا گیا ۔ جنرل عمر حسن البشیر کا خیال تھا کہ یہ نئی فورس باغیوں سے لڑنے کے علاوہ فوج پر کنٹرول رکھنے کے کام بھی آئے گی جیسا کہ بعض ملکوں میں فوج کے علاوہ ایک اور منظم مسلح گروپ ہوتا ہے ، مثلاً سعودی عرب میں ’الحرس الوطنی‘ اور ایران میں ’سپا ہ پاسداران انقلاب اسلامی‘۔ اس طرح کی الگ مسلح تنظیم کا مقصد باقاعدہ فوج کو قابو میں رکھنا اور اس کو انقلاب لانے سے روکنا ہوتا ہے۔
۲۰۲۱ء میں صدر بننے کے بعد جنرل عبد الفتاح برہان نے کوشش کی کہ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کو فوج میں ضم کر دیں لیکن یہ بات ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کے قائدین کو پسند نہ آئی ۔ وہ ایک الگ فورس کے طور پر باقی رہنے کو اپنے لیے زیادہ فائدہ مند سمجھتے تھے کیونکہ انھوں نے سونے کی اسمگلنگ اور دوسرے غیر قانونی دھندے شروع کر رکھے تھے جس میں اس کے قائدین ملوث تھے۔
اسی دوران ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ نے ۱۵؍ اپریل ۲۰۲۳ کو جنرل برہان کے صدارتی محل پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اور پھر ملک میں مسلح خانہ جنگی شروع ہوگئی جس میں ایک طرف فوج اور دوسری طرف ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ تھی۔ سوڈانی فوج ۲لاکھ پر مشتمل ہے، اور ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کے پاس ایک لاکھ جنگجو ہیں۔ دونوں کا مقصد سوڈان پر مکمل قبضہ جمانا ہے۔ اس دوران ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ نے خرطوم کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا اور حکومتی اداروں نے خرطوم سے بھاگ کر ساحل سمندر پر واقع شہر پورٹ سوڈان میں پناہ لی اور اب تک وہیں سے کام کررہے ہیں۔اس وقت خانہ جنگی جاری ہے، جس کے دوران ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں ، دسیوں لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں اور تقریباً ۲۵ ملین سوڈانی بھوکوں مر رہے ہیں۔
سوڈان میں خانہ جنگی بیرونی طاقتوں کی دخل اندازی اور تائید سے چل رہی ہے، ورنہ کب کی دم توڑ چکی ہوتی۔ سوڈان کی فوجی حکومت کو اگرچہ وہاں کی قانونی حکومت سمجھا جاتا ہے لیکن بیرونی طاقتوں کے ہاں سوڈانی حکومت کے لیے سرد مہری پائی جاتی ہے کیونکہ متعدد ممالک اس کو نہ صرف اسلام پسند بلکہ ’الاخوان المسلمون‘ اور ’حماس‘ کی حلیف سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کے قائد جنرل حمیدتی نے باہر کی طاقتوں، بالخصوص متحدہ عرب امارات سے تعلقات بنا لیے اور ان سے سونے کے بدلے ہتھیار حاصل کرنا شروع کردیے۔ دارفور میں واقع سونے کی کانیں ’ریپڈسپورٹ فورس‘ کے قبضے میں ہیں۔ اس دولت کو استعمال کرکے آج جنرل حمیدتی دنیا کے بڑے مالدار لوگوں میں شمار ہوتا ہے اور اس نے یہ دولت بیرونِ ملک انوسٹ کر رکھی ہے۔ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ پچھلے جولائی سے ’نیالا‘ (Niala) شہرسے ایک متبادل حکومت چلا رہی ہے جسے فی الحال دنیا کی کوئی حکومت تسلیم نہیں کرتی۔
’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کو بیرونی مدد کے ساتھ ساتھ بیرونی کرایہ کے فوجی (Mercenaries) بھی میسر ہیں جو بڑی بڑی تنخواہوں کے عوض دنیا کے کسی بھی حصے میں جاکر لڑنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان کی بڑی تنخواہیں باہر کی طاقتیں دے رہی ہیں۔ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کو فوجی امداد اور کرایہ کے فوجی لیبیا، سنٹرل افریقہ، صومالیہ اور چاڈ کے ذریعے مہیا کرائے جاتے ہیں، جن کی سرحدیں سوڈان سے ملتی ہیں۔ آر ایس ایف کے ساتھ کولمبیا (جنوبی امریکا)کے بھی ہزاروں فوجی لڑ رہے ہیں۔ اس فورس کا لیڈر جنرل حمیدتی اسرائیل کا بڑا مداح ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ’’ہمیں اسرائیل کی بڑی ضرورت ہے اور عرب ممالک کو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے‘‘۔ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ اسرائیل سے سیاسی تائید کے ساتھ اسلحہ بھی حاصل کر رہی ہے۔ جنرل حمیدتی نے ایک سابق اسرائیلی فوجی افسر آری بن ناشی کی کمپنی ڈکنز اینڈ میڈیسن (Dickens & Madison) سے ۶ ملین ڈالر کا معاہدہ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کا تاثر بہتر کرنے کے لیے کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کو مستقل اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ بیرونی امداد کے بغیر ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کی بغاوت اتنے عرصہ تک نہیں چل سکتی تھی۔ روس اس جنگ میں طرفین کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے۔ برطانیہ بھی ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کو اسلحہ فراہم کرتا ہے ،جب کہ ترکی اور مصر سوڈانی فوج کی تائید کر رہے ہیں۔
مصر میں ’عرب بہار‘ کے دوران امریکا نواز صدر حسنی مبارک کی حکومت گرنے اور ’الاخوان المسلمون‘ کے ۲۰۱۲ء کے الیکشن میں جیتنے سے امریکا، اسرائیل اور خلیج کے ملکوں میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی تھی۔ ایک سال کے اندر ہی امریکا اور اسرائیل کے اثرورسوخ ، فوجی و انٹیلی جنس طاقت اور خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات ،کے پیسوں سے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور پوری عرب دنیا میں ’الاخوان المسلمون‘ اور ان کے حامیوں کے خلاف سیاسی اور فوجی حملہ شروع ہو گیا۔ غزہ میں ’حماس‘ کو بے سہارا چھوڑنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ عرب حکومتیں ’حماس‘ کو ’الاخوان المسلمون‘ کی ہی ایک شاخ سمجھتی ہیں ۔ غزہ پر اسرائیلی حملے کی تقریباً تمام عرب ممالک نے خاموشی سے تائید کی اور اسرائیل سے کہا کہ حماس کو تباہ کیے بغیر جنگ بند نہ کرے۔ یہ بات مشہور امریکی صحافی بوب وڈورڈ نے اپنی تازہ کتاب War میں کہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی موجودہ خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد اسلام کے حرکی تصور کے خلاف لڑنا ہے ۔ امارات کا خیال ہے کہ سوڈانی فوج اسلام پسند ہے جو امارات کے لیے سوہانِ روح ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت آگ سے کھیل رہی ہے۔ امارات کے پاس پیسہ بہت ہے لیکن آبادی اور رقبہ کم ہے۔ امارات میں رہنے والے ۹۰ فی صد لوگ غیر ملکی ہیں۔
سوڈان کی معیشت کا بڑا حصہ سونا ہے۔ ۲۰۲۱ء میں سوڈان نے ۳ہزار ملین ڈالر کا سونا برآمد کیا تھا۔ موجودہ خانہ جنگی سے بہت پہلے سے یعنی ۲۰۱۵ء سے یمن میں جنگ کے لیے متحدہ عرب امارات، سوڈان سے دسیوں ہزار کرایہ کے فوجی لاکر استعمال کررہا ہے۔ امارات کی نظریں سوڈان کی زراعت پر بھی ہیں۔ اگر اس کی مؤید حکومت وہاں قائم ہو جاتی ہے، تو وہاں کی زراعت امارات کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہوگی۔ سوڈان کی زمین زرخیز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر اس کی زمینوں کو ٹھیک طرح سے استعمال کیا جائے تو وہ اکیلا پورے افریقہ کو کھلا سکتا ہے۔ متحدہ امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی ’بالفعل‘ سوڈان میں ۵۰ ہزار ہیکٹر پر زراعت کر رہی ہے۔
۱۸ ماہ کے محاصرے کے بعد ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ نے دارفور کے دارالحکومت ’الفاشر‘ پر ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو قبضہ کرلیا۔ اس محاصرے کے دوران شہر الفاشر کے اندر ۲ لاکھ ۶۰ہزار شہری محصور تھے، جن میں ایک لاکھ ۳۰ ہزار بچے تھے۔ شہر پر قبضے کے بعد ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ نے وہاں پر اتنا قتل عام کیا کہ سٹیلائٹ کی تصویروں میں شہر میں خون بہتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ بیسیوں ہزار لوگ اس کے بعد دوسرے علاقوں کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ محاصرے کے دوران سینکڑوں لوگ بھوک اور علاج سے محرومی کی وجہ سے مر گئے۔ پچھلے ۱۸ ماہ کی خانہ جنگی میں سوڈان کے مختلف علاقوں میں تقریبا ًایک لاکھ ۵۰ ہزار لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ان میں سے۶۱ہزار لوگ صرف دارالحکومت خرطوم میں مارے گئے اورایک کروڑ ۴۰ لاکھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کرملک کے اندر دوسری جگہوں بلکہ چاڈ، لیبیا اور مصر کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کے الفاشر پر قبضے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے جنگ کا نقشہ بدل جائے گا۔ سوڈانی فوج اب بھی ملک کے بڑے حصے پر قابض ہے اور مختلف طریقوں سے، بالخصوص فضائیہ کے ذریعے، ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ پر جوابی حملے کر رہی ہے۔
موجودہ خانہ جنگی کے دوران سوڈان میں کاروبار، بینک، انڈسٹری، زراعت، تعلیم، ہسپتال، اسکول، یونی ورسٹیاں وغیرہ سب متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً ۲۵ ملین سوڈانی بھوک کا شکار ہیں اور تقریباً ۱۰ ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ خانہ جنگی سے سوڈان کو ۲۰۰ بلین (۲۰۰ ہزار ملین) ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
کچھ طاقتیں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل___ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کےمسلم ممالک کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں، تاکہ ان پر کنٹرول آسان ہوسکے۔ پورے علاقے میں اسرائیل کا کوئی حریف باقی نہ رہے اور امریکا کے لیے پورے علاقے کو کنٹرول کرنا اور انھیں اقتصادی استحصال کا شکار بنانا آسان ہوجائے۔ برسوں سے اس نئے منصوبے کے نقشے موجود ہیں جس کے تحت پاکستان، افغانستان، ایران، عراق، شام، مصر، سعودی عرب، مصر، لیبیا اور سوڈان وغیرہ کو تقسیم کرکے وہاں علاقائی، قبائلی اور مسلکی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے ملک بنائے جائیں گے۔ مختلف ممالک میں پائی جانے والی مذہبی یا قبائلی اقلیتیں اس منصوبے کا خاص مہرہ ہیں، تاکہ نئے بنائے گئے ملک بیرونی مدد و تائید حاصل کرنے کے لیے مجبور ہوں اور ان کے قدرتی وسائل کو بہتر طور سے لوٹا جاسکے۔
سوڈان کی خانہ جنگی میں غیر ملکی طاقتوں کی دلچسپی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ پہلے سوڈان کو مصر سے الگ کیا گیا، پھر جنوبی سوڈان کو الگ کر کے اس علاقے میں ایک نیا ملک بنادیا گیا اور اب عرب اور غیر عرب کی بنیاد پر سوڈان کو مزید دو ،تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ کا خواب پورے سوڈان پر قبضے کا تھا جو ناکام ہو چکا ہے ، البتہ اس کی وجہ سے سوڈان کی ایک بار پھر تقسیم کا خدشہ موجود ہے۔
گذشتہ عشرے کے سیاسی منظر نامے کو غور سے دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ۲۰۱۴ء سے بالعموم اور ۲۰۱۹ء سے انڈیا میں بالخصوص کشمیریوں کے خلا ف نفرت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پھر پلوامہ کا افسوس ناک واقعہ محض ایک واقعہ نہ رہا، بلکہ نفرت کی جڑ بنادیا گیا۔ اس کے بعد سے کشمیری مزاحمت کا ہر عمل اور بھارتی ریاست کی طرف سے ترتیب دیے گئے، سابقہ روایت کے مطابق ہرانڈین ساختہ فلیگ آپریشن کو انڈین عوامی جذبات کو مزیدبھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ نفرت کو نہ صرف اُبھارا گیا بلکہ انڈین قومی نفسیات میں مستقل حیثیت سے ذہنوں میں ٹھونک دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے پہلگام واقعے کے بعد انڈیا کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بجا طور پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔اپنے بیان میں ان ماہرین نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد انڈین حکام نے مقبوضہ کشمیر میں وسیع آپریشن شروع کیے، آپریشن کے نتیجے میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں سمیت تقریباً ۲۸ سو افراد کو حراست میں لیا گیا۔حراست کے دوران افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وکلا اور خاندان کے افراد تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔ انھوں نے ان گرفتاریوں، نظربندیوں، حراست میں مشتبہ اموات، تشدد اور دیگر ناروا سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان ماہرین نے مزید کہا کہ ’’کشمیری اور مسلم آبادیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بھی مذمت کرتے ہیں، ان سے متعلق خبروںاور اطلاعات کے بلیک آؤٹ اور آزادی صحافت پر پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔اسی طرح کشمیری طلبہ کو ہراساں کیا گیا، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے لیے اُکسایا گیا،۸ ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے گئے۔ دوسری طرف گجرات اور آسام میں مسلمانوں کے ہزاروں گھر، مساجد اور کاروبار مسمار کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے انڈیا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ طور پر تحقیقات کرنے اور احتساب کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
تاہم، یاد رہے کہ یہ نفرت نہ تو نئی ہے اور نہ اچانک پیدا ہوئی ہے۔ چودھویں صدی عیسوی سے، جب کشمیریوں کی غالب اکثریت نے اپنی مرضی اور بلاکسی خوف و دباؤکے شاہ ہمدانؒ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا، تو ایک نہایت معمولی اقلیت نے لوگوں کی اس تبدیلیٔ مذہب کو ہضم نہ کیا اور انھوں نے اس تبدیلی کے خلاف ایک متعصبانہ موقف تخلیق کیا، جس میں افسانہ سازی اور جھوٹ کا سہارا لے کر کشمیری مسلمانوں کو مندر توڑنے والے، مقدسات کی بے حُرمتی کرنے والے اور ظالم قرار دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس پراپیگنڈے کو مزید تقویت دی گئی۔
۱۹۹۰ء کے عشرے میں اس کی سب سے مہلک شکل سامنے آئی۔ جب کشمیریوں نے بھارتی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کی تو نئی دہلی نے یہ موقع غنیمت جانا اور انڈین حکمرانوں اور ’ہندوتوا‘ کے پرستاروں نے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کا الزام مسلمان اکثریت پر لگا دیا، حالانکہ یہ شرمناک ڈراما ان کے اپنے مقرر کردہ گورنر جگ موہن نے رچایا تھا۔ درحقیقت یہ جگ موہن ہی تھا، جس نے ان کی بے دخلی کو منظم اور آسان بنایا تاکہ کشمیری مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کا راستہ کھل جائے، اور منصوبے کے مطابق، پنڈتوں کے روانہ ہونے کے صرف چند ہی دنوں بعد ہزاروں کشمیری مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور اس طرح جدید تاریخ کے سب سے وحشیانہ فوجی آپریشنوں کا آغاز ہوا۔
آج یہ نفرت اس درجہ بڑھ چکی ہے کہ ہر کشمیری کو غیر معمولی نفسیاتی دباؤ میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ ہرکشمیری سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حد سے زیادہ شائستہ، حد سے زیادہ صابر اور حد سے زیادہ پُرامن رہتے ہوئے مسلسل اپنی پُرامن فطرت ثابت کرتا پھرے۔ اس پر براہِ راست اور بالواسطہ دباؤڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنی اس مزاحمتی تحریک سے بھی لاتعلقی اختیار کر لے، جو اس نے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے شروع کی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کشمیریوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ غداری کررہے ہیں جس ملک کی وفاداری کا حلف انھوں نے کبھی لیا ہی نہیں، جس میں وہ کبھی اپنی رضامندی سے شامل ہی نہیں ہوئے اور جسے وہ کبھی اپنا ملک نہیں سمجھتے۔ حق خود ارادیت کا مطالبہ، جس کا انڈیا کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے اقوامِ متحدہ میں کھلے عام وعدہ کیا تھا، اسے جرم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں انڈیا نے ایک بار پھر وہی پرانا ڈراما شروع کر دیا ہے، جس میں کشمیریوں کو مستقل ملزم بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ریاستی مشینری ’سیکیورٹی‘ کے لبادے میں انتقام کے جذبے کے ساتھ حرکت میں آ جاتی ہے۔ حالیہ دہلی دھماکا، جو ابھی تک غیر یقینی صورتِ حال اور بے جواب سوالات میں لپٹا ہوا ہے، کشمیریوں کے خلاف گرفتاریوں، چھاپوں، تفتیش اور نفسیاتی جنگ کی نئی لہر کے لیے ایک نیا بہانہ بنالیا گیا ہے۔
دہلی کے مبینہ واقعے سے بھی پہلے، ہزاروں کشمیریوں کوجن میں طلبہ، مزدور، تاجر اور مسافر شامل ہیں، —وادیٔ کشمیر میں ’پری ایمپٹو ڈیٹینشن‘ کے نام پر گھیر کر پکڑ لیا گیا۔ ۹نومبر ۲۰۲۵ء کو ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو سری نگر میں کشمیر کی آزادی کے حق میں پوسٹرز لگانے کے الزام پر انڈین ریاست اترپردیش کے شہر سہارنپور میں گرفتار کیا گیا ہے، جو وہاں ایک نجی ہسپتال میں کام کر رہا تھا۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر عادل احمد کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ہوئی ہے جس میں اسے سرینگر کے متعدد مقامات پر پوسٹرز لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔۱۱ نومبر ۲۰۲۵ء کو ضلع پلوامہ، شوپیاں، سرینگر، بڈگام، ہندواڑہ، کولگام اور گاندربل کے علاقوں میں انڈین فوج اور پولیس اہلکاروں اور دیگر ایجنسیوں نے صرف تین دنوں کے دوران محاصرے اور تلاشی کی مہم تیز کرتے ہوئے تقریباً ۱۵۰۰؍ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کر لیا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی ہدف آزادی پسند کارکن اور ان کے ہمدرد تھے، جن کے مکان اور بینک کی دستاویزات، ڈیجیٹل آلات، کتابیں اور دیگر اشیا ضبط کیے گئے۔
بریکنگ نیوز کی ہیڈلائن ’دہلی دھماکا کیس میں ایک اور کشمیری گرفتار‘ اتنی بار دُہرایا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کا قومی نعرہ لگنے لگا ہے۔ اب وہ خاص طور پر اور دانستہ طور پر کشمیریوں کے دانش ور طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں، ’وائٹ کالر دہشت گردی‘ جیسی نئی اصطلاحات گھڑ کر ہر کشمیری پر شک اور مسلمان ہونے کی سزا دے رہے ہیں، تاکہ ایک ایسا ماحول بنایا جائے جہاں ڈاکٹر، وکیل، پروفیسر اور محققین کو بغیر کسی جواز کے ستایا جا سکے۔
۱۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو انڈین تحقیقاتی ایجنسیوں نے دلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دھماکے کی آڑ میں ڈاکٹر عمر النبی اور مزمل احمد گنائی سمیت ۵۷ ڈاکٹروں کو دھماکے میں ملوث کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں دہلی پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے وادی میں پہنچ کر تین ڈاکٹروں اور خواتین سمیت ۱۷ سو سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا، جن میں سے بہت سوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اےجیسے کالے قوانین کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔
انڈین قابض انتظامیہ نے سیاسی اور دینی تنظیموں کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر اور دیگر حریت پسند تنظیموں کے اراکین اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر مکینوں کو ہراساں کیا اور بینک اور مکانوں کے اہم کاغذات، موبائل فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ قبضے میں لے لیے ہیں۔ ضلع پونچھ میں پولیس نے ایک کشمیری محمد اقبال کی جائیداد، جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ روپے ہے، ضبط کر لی۔
انڈین فوج، انڈین پولیس، اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر کے اہلکاروں نے وادیٔ کشمیر کے اسلام آباد، پلوامہ اور کولگام اضلاع کے علاوہ جموں خطے کے ضلع ڈوڈہ میں تقریباً ۱۳ مقامات پر چھاپے مارے اور آزادی پسند کارکنوں، کشمیری پیشہ ور افراد اور عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا۔ ۱۵ نومبر ۲۰۲۵ء کو گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مضافات میں واقع نوگام تھانے میں ہونے والے ایک پُراسرار دھماکے میں کم از کم ۹ پولیس اہلکار ہلاک، جب کہ ۳۰ کے لگ بھگ زخمی ہو گئے اور یہ تمام کے تمام مسلمان ہیں ۔ دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک ٹیم تھانے میں رکھے گئے دھماکا خیز مواد کی جانچ کر رہی تھی۔
قبل ازیں انڈین حکام نے انڈین ریاست ہریانہ کے علاقے فرید آباد میں ایک کرائے کے مکان سے ۳۶۰ کلو گرام دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا۔ مواد کا کچھ حصہ جانچ کے لیے نوگام تھانے میں لایا گیا تھا۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ فرید آباد کے جس مکان سے دھماکاخیز مواد برآمد کیا گیا اس میں ایک کشمیری ڈاکٹر مزمل گنائی رہائش پذیر تھا۔ پولیس نے مزمل گنائی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ جب وادی میں ہونے والے بم دھماکوں میں شامل مواد کو دہلی فرانزک ٹیسٹ کے لیے لیاجاتا تھا، تو اب کی بار کیوں دہلی اور یوپی کی جدید ترین فرانزک لیبارٹریز پر کشمیر کےایک دُور دراز دیہات کے تھانے کی فرانزک لیبارٹری کا انتخاب کیا گیا؟
بات یہ نہیں کہ پہلے وہ ان پیشوں سے وابستہ لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے تھے، انھوں نے ماضی میں سینکڑوں ایسے افراد کو قتل کیا ہے۔ لیکن اب ان افراد کے خلاف تشدد کشمیری دانش ور برادری کے پورے طبقے کے خلاف ایک مکمل حملے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔آج کا انڈیا سو فی صد اسلام مخالف اور کشمیر مخالف بیانئے کے ایندھن پر چل رہا ہے اور لگتا ہے کہ ’ہندوتوا‘ کے پرستاروں کو ایک مستقل دشمن اور ولن کی ضرورت ہے، جس کے وجود سے ریاستی جبر، نفرت کی مشینری اور ہندوتوا کے نظریاتی خوابوں کو جواز ملتا رہے۔ اس کردار کے لیے کشمیریوں سے بہتر کوئی کردار نہیں۔ بقول ان کی فلاسفی کے کہ کشمیری ظاہری طور پر تو سیدھے سادھے مسلمان لگتے ہیں، لیکن سیاسی طور پر سرکش ہیں۔
اس سوچ کا احاطہ معروف کشمیری نژاد امریکی مصنفہ اطہر ضیا نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ’قابل گردن زدنی‘ قوم ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے یہی نظر آتا ہے اگر انڈیا کے بس میں ہوتا تو وہ ہرکشمیری مسلمان کو گرفتار کر لیتا، پوری قوم کو کسی دھماکے سے جوڑ کر جیلوں میں ڈال دیتا اور ساری آبادی کو ایک ہیڈلائن کا توسیعی حصہ بنا دیتا۔ ابھی تک اسے صرف عالمی سطح پر جمہوریت کا چربہ برقرار رکھنے کی مجبوری ہے۔انڈین عوام سے توقع رکھنا کہ وہ تاریخ سمجھیں گے اور اپنے تعصب سے باہر نکلیں گے، ایک مشکل بات لگتی ہے۔ وہ نادان جنونی جو انڈین مسلمانوں کو محض فریج میں گوشت رکھنے کے شبہے میں بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں اور کھلم کھلا ان کے قتل عام کا مطالبہ کرتے ہیں، ان سے یہ توقع بے کار ہے۔
دُنیا کو جاگنا ہو گا اور ایک اور بڑے قتل عام کو روکنا ہو گا۔ انڈیا چاہتا ہے کہ عالمی برادری، کشمیریوں کو ولن، دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھ لے، تاکہ جب اگلی بڑی بے دخلی یا قتلِ عام ہو تو دنیا کندھے اُچکائے، یا اس سے بھی بُرا کوئی طریقہ اختیار کر کے، متاثرین کو ہی قصوروار ٹھیرائے۔ اسلامی دنیا کو بالخصوص اس صورت حال کو دیکھنا ہو گا اوربروقت اقدامات اٹھانے پڑیں گے ورنہ ایک اور جموں جیسا قتل عام اور اسپین جیسا منظر نامہ بالکل سامنے نظر آ رہا ہے۔
۱۹۹۹ءکی کرگل جنگ کے بعد جب نئی دہلی میں اس کے مضمرات کا جائزہ لیا جا رہا تھا، تو قومی سلامتی مشیر برجیش مشرا، میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر انڈین موقف کی پذیرائی سے مطمئن نہیں تھے کہ بین الاقوامی سطح پر انڈین میڈیا پر کوئی یقین نہیں کر رہا تھا۔ نیوز چینلوں میں ’اسٹار نیوز‘ کے انگریزی شعبہ کو ’این ڈی ٹی وی‘ مواد فراہم کرتا تھا۔ جنگ کے فوراً بعد مشرا نے ’این ڈی ٹی وی‘ کے سربراہ پرنائے راے کو بلا کر ان کو اپنا الگ چینل شروع کرانے کا مشورہ دیا۔ ’این ڈی ٹی وی‘ کے بجٹ کے ایک حصہ کا بار حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا۔ طے ہوا کہ ’این ڈی ٹی وی‘ ٹی وی صحافت میں ایک اعلیٰ معیار قائم کرے۔حکومت کی کارکردگی پر جتنی بھی تنقید کرنا چاہے کرسکتا ہے، اس میں حکومت کبھی مداخلت نہیں کرےگی، مگر نازک اوقات میں حکومت کی مدد کرنے کے لیے ایک ایسا بیانیہ وضع کرے، جس کوبین الاقوامی سطح پر قبولیت ہو‘‘۔
’این ڈی ٹی وی‘ نے اپنی کوریج اور حکومت کے احتساب کرنے کی وجہ سے ساکھ بنالی۔ جس کا استعمال نازک اوقات، خاص طور پر کشمیر میں شورش کو موڑ دینے کے لیے بیش تر اوقات کیا گیا۔بین الاقوامی سطح پر اس نے ’بی بی سی‘، ’سی این این‘ کی طرح ساکھ بنانے میں خاصی کامیابی حاصل کرلی۔ یعنی ایک غیر جانب دار میڈیا مشکل حالات میں ملک کےلیے اکسیر کا کام کرتا ہے۔
حال ہی میں جموں میں ریاست جموں و کشمیر کے سب سے پرانے اور مؤثر انگریزی اخبار کشمیر ٹائمز کے دفتر پر جس طرح پولیس نے یلغار کی اور اس کی ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف مبینہ طور پر کیس درج کیا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ انڈین حکومت کو اب کسی میڈیا کے سافٹ پاور کی ضرورت نہیں ہے۔یہی نظر آرہا ہے کہ صرف اسی میڈیا کی سرپرستی بلکہ شائع ہونے کی اجازت دی جائے گی، جو بالکل حکومت کی گود میں بیٹھا ہو۔
نوے کے عشرے میں جب کشمیر میں عسکریت زوروں پر تھی، تو سیکرٹری اطلاعات نے اس وقت کے ڈائریکٹر اطلاعات کو حکم دیا کہ سرینگر سے شائع ہونے والے اخباروں پر نکیل کس دے، کیونکہ وہ عسکریت کے بارے میں خبریں شائع کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر اطلاعات ایک جہاندیدہ کشمیری پنڈت کنہیا لال دھر تھے۔ انھوں نے سیکرٹری صاحب کو ہدایت دی کہ اس بارے میں گورنر سے حکم نامہ حاصل کریں۔ مگر گورنر گریش چندر سکسینہ نے سیکرٹری کو ڈانٹ پلائی اور کہا کہ ’’اگر اخباروں پر نکیل کس دی جائے،تو گراؤنڈ انفارمیشن یا فیڈبیک ان کو کہاں سے ملے گا؟‘‘
کم از کم دکھاوے کےلیے بھی ضروری ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ آزاد ہو، اور اس میں اسلوب و سوچ کی وہ تخلیقی کش مکش زندہ رہے، جو اسے حکومتی ڈھانچے سے الگ اور خودمختار دکھا سکے، تاکہ جب بحران کی گھڑی آئے تو یہی آزادانہ لہجہ کام آسکے۔ اطلاعاتی جنگ کا ایک بنیادی پہلو ’اعتبار’ہوتا ہے۔ یہ اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب سچائی بھی بیان کی جائے۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھا پہ آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی ایک کوشش ہی نہیں، بلکہ یہ یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو عشروں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ایسے وقت میں سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ ایک اخبار کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟ اصل بات یہ ہے کہ ان آوازوں، تحریروں اور ریکارڈ شدہ یادداشتوں کو خاموش کرانے کی یہ ایک کوشش ہے، جنھوں نے کشمیر کی اجتماعی یادداشت کو تشکیل دیا ہے۔ایک ایسی سوچ کی علامت ہے، جو صحافت کو رکاوٹ سمجھتی ہے، ضرورت نہیں۔ یہ اس بڑی لڑائی کا حصہ ہے کہ کشمیر کی کہانی کون لکھے گا، اور کون اس راستے سے ہٹایا جائے گا تاکہ سرکاری بیانیہ مضبوط رہے۔
ویسے تو ۲۰۲۰ءمیں ہی اس اخبار کے سرینگر کے دفتر کو سیل کر دیا گیا تھا،مگر اس کا جموں کا دفتر قائم تھا۔ وہ بھی تین سال سے بندپڑا تھا، کیونکہ اخبار کی مدیرہ انورادھا بھسین امریکا منتقل ہوگئی تھیں، جہاں سے انھوں نے اخبار کا دیجیٹل ایڈیشن پچھلے سال دوبارہ شروع کر دیا تھا۔ طاقت ور ریاستی طبقات کے ساتھ اس اخبار کا ہمیشہ ہی سے معرکہ رہا ہے۔ جب فضا پر عسکریت پسند چھائے ہوئے تھے، توان میں سے کوئی نہ کوئی گروہ کشمیر ٹائمزکی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ جب سرکار نواز بندوق برداروں کا دور آگیا توان کے کمانڈر محمد یوسف المعروف کوکہ پرے نے اس اخبار کے سرینگر دفتر میں کا م کرنے والے صحافیوں کی موت کے فرمان صاد ر کر دیے تھے۔
فاروق عبداللہ کی حکومت نے ۱۹۹۶ء سے لے کر ۲۰۰۲ء تک اس اخبار کے ریاستی اشتہارات بند رکھے۔ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں برپا عوامی احتجاج کے بعد تو بھارتی وزارت داخلہ نے تمام سرکاری اور پبلک سیکٹر اداروں کو حکم جاری کیا: کشمیر ٹائمز چونکہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے، اس لیے اسے اشتہارات دینا بند کر دیا جائے، حتیٰ کہ پرائیوٹ سیکٹر کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ بھی کشمیر ٹائمز سے دُور رہیں۔ مجھے دہلی میں کئی بار حکومتی اداروں کے ذمہ داران نے کہا کہ بانی مدیر وید بھسین کو وزیر اعظم من موہن سنگھ یا وزیر داخلہ پی چدمبرم سے ملنا چاہیے، مگر وید بھیسن صرف اشتہارات بحال کرانے کے لیے وزیروں سے ملنے پر کبھی راضی نہیں ہوئے، حتیٰ کہ انھیں سری نگر کا انتہائی جدید پریس، زمین سمیت بیچنا پڑا۔ اخبار کی سرکولیشن خاصی کم کرنی پڑی، مگر اقدار اور اصولوں پر کبھی اس شخص نے حرف نہ آنے دیا۔
ویسے تو اس اخبار کو وید بھسین نے ۱۹۵۵ء میں ہفت روزہ کی صورت میں شروع کیا تھا اور بعد میں ۱۹۶۰ء کے عشرے میں اس کو روزنامہ کردیا۔ آنجہانی وید، جموں و کشمیر کی سیاست میں گہری دل چسپی رکھتے تھے۔ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۴۹ء تک وہ ’جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس یونین‘ (JRSU) کے صدر رہے۔ بعد ازاں ۱۹۵۰ء سے ۱۹۵۳ء تک ’جموں و کشمیر یوتھ نیشنل کانفرنس‘ (JKYNC) کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اور نیشنل کانفرنس کی جنرل کونسل کے رکن بھی رہے۔ ۱۹۵۳ء کے بعد انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اپنی توجہ ریاست کی سماجی اور ثقافتی ترجیحات پر مرکوز کر دی۔انھوں نے ۱۹۵۲ء میں نیا سماج کے نام سے ایک اردو ہفت روزہ بھی جاری کیا، جسے وہ ۱۹۵۴ء تک چلاتے رہے۔ ۱۹۵۴ء میں یہ اخبار دفاعِ ہند کے قوانین کے تحت اس لیے بندکر دیا گیا کہ اُس نے اُس وقت کے جموں و کشمیر کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ کی برطرفی اور گرفتاری کو’غیر جمہوری‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ۱۹۵۵ء میںانھوں نے کشمیر ٹائمز کی بنیاد رکھی اور ۲۰۰۰ء تک اس کے ایڈیٹر رہے۔تاہم، آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جب جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا گیا، تو اخبار اور زیادہ ابتلا و آزمائش کی نذر ہوگیا۔
انو رادھا بھسین نے انٹرنیٹ کی طویل بندش کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ کشمیر میڈیا کی طویل خاموشی نے بھی ایک آزاد اور خودمختار میڈیا کے مستقبل کے امکانات کے بارے میں خوف اور خدشات کو جنم دیاتھا۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ پریس اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن سروسز اور فوٹو جرنلسٹ اور رپورٹرز کی نقل و حرکت پر عائد سخت پابندیوں میں فوری نرمی کی جائے۔ٹھیک پانچ ماہ بعد، ۱۰ جنوری ۲۰۲۰ء کو، عدالت نے کہا کہ ’’حکومت طویل عرصے تک انٹرنیٹ یا لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں نہیں لگا سکتی‘‘۔ ان کی کتاب ڈسمانٹلیڈ اسٹیٹ: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف کشمیر آفٹر آرٹیکل 370پر حال ہی میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے ۲۴ دیگر کتابوں کے ساتھ پابندی عائد کر دی تھی۔ ۲۰۱۹ء کے بعدسے جموں و کشمیر میں سیاسی پیش رفت اور میڈیا پر پابندیوں کے بعد کشمیرٹائمز کا پرنٹ ایڈیشن تقریباً بند ہو چکا تھا۔
۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کے عشروں میں کشمیر ٹائمز مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ سوپور میں ہر روز بس ڈپو سے متصل یونیورسل نیوز ایجنسی کے باہر بھیڑ دیکھتا تھا۔ لوگ کشمیر ٹائمز حاصل کرنے کے لیے چھینا جھپٹی کر رہے ہوتے تھے۔ چونکہ اخبار جموں سے شائع ہوتا تھا، اس لیے سوپور اکثر دوپہر کو ہی پہنچتا تھا۔ کئی بار ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنا پڑتی۔
باضمیر افراد کے لیے یہ ایک بڑا سوال ہے ، وہ کب اپنی خاموشی توڑ یں گے یا اپنی باری کا انتظار کریں گے؟ یادرکھیں، وہ جرمن پادری مارٹن نیومولر کی اس نظم کی تصویر بن جائیں گے:
پہلے وہ سوشلسٹوں کے لیے آئے،اور میں نے کوئی بات نہیں کی۔
کیونکہ میں سوشلسٹ نہیں تھا۔
پھر وہ ٹریڈ یونینوں کے لیے آئے،اور میں نے کوئی بات نہیں کی۔
کیونکہ میں ٹریڈ یونینسٹ نہیں تھا۔
پھر وہ میرے لیے آئے ،اور میرے لیے بولنے کے لیے کچھ بچا نہیں تھا۔
۵؍اکتوبر۲۰۲۵ء کو ’الجزیرہ‘ نے اپنی ویب سائٹ پر غزہ میں اسرائیلی فوج کی درندگی، قتل و غارت اور ظلم و سفاکی سے ہونے والی تباہی و بربادی کو اعداد و شمار کی صورت میں شائع کیا ہے۔ یہ رپورٹ غزہ کے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جو بے گناہ شہریوں اور نہتے عوام پر اسرائیل کے اندھے اور بے حدوحساب بارود برسانے کی المناک صورتِ حال کو بیان کرتی ہے۔ سرکاری میڈیا کے دفتر نے بتایا ہے کہ ۶۷ ہزار سے زائد افراد شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یہ اُن لوگوں کی تعداد ہے جن کو ہسپتالوں تک پہنچایا گیا اور ان کا ہسپتال کے ریکارڈ میں اندراج موجود ہے، جب کہ ۱۰ ہزار افراد کا اَتا پتا نہیں۔ ان میں سے کئی ملبے تلے دب گئے اور کئی نامعلوم صورتِ حال سے دوچار ہوئے۔
اس رپورٹ کے مطابق ۲۰ ہزار سے زائد بچّے شہید ہوئے، جن میں ایک ہزار ابھی دودھ پیتے بچّے تھے اور ۵ سو کے قریب وہ شیرخوار تھے جو پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ناموافق حالات سے دوچار ہونے کی بنا پر انتقال کر گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق اندراج میں موجود شہید عورتوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے زائد ہے۔
اس سرکاری بیان کے مطابق مکانوں، دکانوں اور مارکیٹوں ، پلازوں کی تخریب و تباہی کے تخمینے کا گراف ۹۰ فی صد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تمام تباہی راکٹوں، میزائلوں، گولہ و بارود اور ڈرون ٹکنالوجی سے برسائی گئی آگ کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی جنگی جنون نے ان دو برسوں میں دو لاکھ ٹن بارود غزہ کی بے گناہ آبادی پر برسایا ہے۔ یہاں اس رپورٹ کی تفصیل درج کی جارہی ہے:
۲۵ لاکھ کے قریب غزہ کے رہائشی انسان قتل و غارت، نسل کشی اور جبری قحط و بھوک کا شکار ہوئے۔ اجتماعی نسل کشی اور تباہی کا یہ اسرائیلی عمل ۷۳۰ دن (دو برس) تک مسلسل جاری رہا۔ ۹۰فی صد عمارتیں مکمل طور پر تباہ و برباد کردی گئیں۔ غزہ کے ۸۰ فی صد رقبے پر غاصب نے اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جہاں بے دریغ طریقے سے بارود برسایا، شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا اور ظلم و عدوان کا کھلا مظاہرہ کیا۔
مجموعی طور پر ۸۶ ہزار سے زائد افراد شہادت، لاپتا او ر قتل عام کا شکار ہوئے۔ شہداء کی ۶۷ہزار تعداد تو صرف وہ ہے جن کا ہسپتالوں میں اندراج ہوسکا۔ لاپتا افراد کی تعداد ساڑھے۹ہزار سے زائد ہے۔ ان میں وہ شہداء بھی شامل ہیں جو ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، یا ان کا کوئی اتاپتا نہیں۔ ۲۰ہزار سے زائد شہداء تو بچّے ہیں اور ان میں ۱۹ہزار سے زائد بچّے وہ ہیں جو ہسپتالوں کے ریکارڈ میں آئے ہیں۔ ساڑھے ۱۲ہزار سے زائد عورتیں شہید ہوئی ہیں۔ ان میں بھی ۱۰ہزار سے زائد کا اندراج موجود ہے۔ ۹ہزار سے زائد مائیں شہید ہوئیں۔ ۲۲ہزار سے زائد باپ شہادت کا رُتبہ پاگئے۔ ایک ہزار سے زائد اُن شہید بچوں کی تعداد ہے جن کی عمر ابھی ایک برس سےکم تھی۔ ۳۵ ہزار کے قریب بچّے پیدائش کے بعد شہید ہوگئے۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد، طبّی عملے کے افراد کو غاصب فوج نے قتل کردیا اور انھوں نے شہادت پائی۔ ڈیڑھ سو کے قریب شہری دفاع کے افراد تہہ تیغ کیے گئے۔ ڈھائی سو سے زائد صحافی شہید ہوئے۔ ۲سو سے زائد بلدیاتی ملازمین کو شہید کردیا گیا جن میں چار بلدیات کے صدور تھے۔ ۸سو کے قریب پولیس کے سپاہی اور امدادی سامان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ ۹سو افراد ہلال احمر کی تنظیموں کے شہید کیے گئے، ۳ہزار کے قریب گھرانے اور خاندان بالکل ختم کر دیے گئے جن کا اندراج شہری ریکارڈ سے ختم کردیا گیا ہے۔ یہ ساڑھے۸ہزار شہداء میں سے ہیں۔ ۶ ہزار سے زائد وہ خاندان ہیں جومکمل طور پر ختم ہوگئے اور ان کا صرف ایک ایک فرد زندہ بچا۔ یہ تعداد ۱۳ ہزار کے قریب شہداء میں سے ہے۔ شہداء میں ۵۵ فی صد سے زائد تعداد بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی ہے۔ ۵ سو کے قریب شہداء کی وہ تعداد ہے جو بھوک اور ناکارہ غذا کے سبب شہید ہوگئے۔ ان میں بھی ڈیڑھ سو سے زائد بچّے ہیں۔ اسی طرح فضائی ذرائع سے گرائی گئی امداد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۲۴ کے قریب ہے۔ ۴۰ فی صد سے زائد لوگ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر جان سے گزر گئے کیونکہ انھیں مناسب اور ضروری غذا اور علاج کی سہولت نہ مل سکی۔ ۱۲ہزار سے زائد حاملہ خواتین ناقص غذا اور صحت کی سہولت کی عدم دستیابی کے باعث اسقاطِ حمل کا شکار ہوئیں۔ ۲۵۰ کے قریب شہری سردی کی شدت کے سبب خیموں میں دم توڑ گئے۔ان میں بھی زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
اس دو برس کی بمباری، ڈرون گردی اور میزائل حملوں سے زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد پونے دو لاکھ کے قریب ہے۔ ۱۹ہزار سے زائد زخمی وہ ہیں جن کو بحالی میں ایک طویل مدت درکار ہوگی۔ ۵ہزار کے قریب زخمیوں کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہیں جن میں ۱۸ فی صد تعداد بچوں کی ہے۔ ۱۲ سو فالج کے کیس ، اتنے ہی بینائی کی کمی کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ۴سو سے زائد صحافی زخمی ہیں۔ ۷ہزار کے قریب شہری گرفتار ہوئے۔۴سو کے قریب تو میڈیکل عملے کے لوگوں کی تعداد ہے جو گرفتار ہوئے۔ ایک سو کے قریب صحافی اور شہری دفاع سے متعلقہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ۲۱ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں اور ۵۶ ہزار سے زائد بچّے یتیم ہوئے۔ ان میں دونوں ماں باپ یا ایک کی شہادت کی صورت میں یتیم ہونے والے بچّے شامل ہیں۔ ۲۰لاکھ سے زائدافراد جبری نقل مکانی کے نتیجے میں متعدی امراض کا شکار ہوگئے۔ ۷۰ہزار سے زائد افراد یرقان کے مرض میں مبتلا ہوئے۔
۴۰ کے قریب ہسپتال حملہ آوروں نے تو بالکل تباہ کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک سو کے قریب مراکز صحت ملیامیٹ کر دیے یا برباد کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں رہنے دیا۔ ۲سوکے قریب ایمبولینسوں کو ظالموں نے نشانہ بنایا۔ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، سہولیات، گاڑیوں اور سپلائی چینوں پر ۸سو کے قریب حملے کیے گئے۔ ۶۰ سے زائد سرکاری فائربریگیڈاور شہری دفاع کے شعبے کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی ۹۵ فی صد اسکول عمارات کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ۹۵ فی صد سے زائد اسکولوں کی عمارتیں نئے سرے سے تعمیر ہوں گی یا اُن کا بڑا حصہ تعمیر کرنا پڑے گا۔ ۷سو کے قریب اسکول عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ یہ مدارس کی مجموعی تعداد کا ۸۰ فی صد ہے۔ ۲سو کے قریب اسکول، یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ ۴سو کے قریب اسکول،یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ ساڑھے ۱۳ ہزار سے زائد طلبہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔ ۸ لاکھ کے قریب طلبہ کو سفاک دشمن نے تعلیم سے محروم کردیا۔ ۸سو سے زائد اساتذہ اور تعلیمی و تربیتی شعبوں کے افراد اس جنگ میں اسرائیلی ظلم سے شہید ہوگئے۔ اسی طرح ۲ سو کے قریب علما، دانش ور اور محقق اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہوئے۔
ساڑھے ۸سو کے قریب مساجد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ ۲سو کے قریب مساجد جزوی طور پر منہدم ہوئیں۔ تین گرجوں کو بھی ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ ۶۰ میں سے ۴۰قبرستانوں کو بلڈوز کر دیا گیا۔ اڑھائی ہزار کے قریب فوت شدگان اور شہداء کی لاشیں قبروں سے غائب کردی گئیں۔ سات اجتماعی قبریں ہسپتالوں کے اندر ہی بنائی گئیں۔ ۵ سو سے زائد افراد کو سفاک دشمن نے قتل کیا اور پھر ان کی لاشیں اجتماعی قبروں سے بھی نکال کر لے گئے۔
قابض و جابر اور غاصب ظالم نے پونے تین لاکھ رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچایا جو رہائش کے قابل نہیں رہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا۔ تین لاکھ کے قریب فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ سوا لاکھ سے زائد خیموں کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا گیا جو استعمال کے قابل نہ رہے۔ ۲۰لاکھ کے قریب شہری جبری نقل مکانی کے باعث بے گھر ہوئے۔ سو کے قریب پناہ گاہوں اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں قائم ہونے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
۲۲۰ دن تک غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ سوا لاکھ انسانی امداد اور ایندھن وغیرہ کے ٹرکوں کو غزہ میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔ فلسطینی شہریوں کو بھوک سے مارنے کی پالیسی کے تحت ۵۰ کے قریب کھانے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امداد اور خوراک کی تقسیم کے ۶۰ سے زائد مراکز کو بھی اسی پالیسی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ امدادی کاموں میں حصہ لینے والے ساڑھے ۵سو افراد کو شہید کردیا گیا۔ ۱۲۸ مرتبہ امدادی قافلوں اور انسانی وفود کو نشانہ بنایا گیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد شہید اور ۱۹سو سے زائد زخمی موت کے جال میں گم ہوگئے۔ ان کو ’اسرائیلی امریکی امدادی مراکز‘ کہا جاتا ہے اور ’مستحقین امداد کے متلاشی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ ساڑھے ۶لاکھ بچّے غذائی قلّت، بھوک اور خوراک کی کمی کے باعث موت کے خطرے سے دوچار تھے۔ ۴۰ ہزار شیرخوار (ایک سال سے کم عمر) دودھ کی نایابی کے سبب موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ دودھ کے اڑھائی لاکھ پیکٹ اسرائیلی فوج نے غزہ کے معصوموں تک پہنچنے سے روکے رکھے۔
۷سو سے زائد پانی کے مرکزی کنوئیں اسرائیل نے تباہ کردیے اور انھیں ناکارہ بنادیا۔ میٹھے پانی کے ۱۳۴ منصوبوں کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا اور اس کے دوران ساڑھے ۹ہزار کے قریب شہادتیں ہوئیںجن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ۵ہزار سے زائد کلومیٹر بجلی کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔ سوا دو لاکھ سے زائد بجلی میٹر اسرائیلی تباہی کا نشانہ بن کر ختم ہوگئے۔ ۲ہزار ارب کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی کی مقدار سے غزہ کی پٹی کو محروم رکھا گیا۔ ۷لاکھ میٹر پانی کے پائپ، نیٹ ورک کو اسرائیل نے تباہ کردیا۔ ۳۰ لاکھ میٹر سڑکوں کے نیٹ ورکس کو برباد کر دیا گیا۔ اڑھائی سو کے قریب سرکاری عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ۳سو کے قریب پارکس، کھیل کے گرائونڈ اور اسپورٹس ہال تباہ کر دیے گئے۔ ۲سو سے زائد قومی و ثقافتی ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
۹۴ فی صد زرعی اراضی کو اسرائیلی فوج نے تباہ کردیا ہے جو اصل میں ایک لاکھ ۷۸ہزار دونم ہے۔ ایک ہزار سے زائد زرعی کنوئوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ۷سو کے قریب گائے، بھیڑبکری اور مرغی فارموں کو جنونی اسرائیلیوں نے برباد کردیا۔ سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والی اراضی ۹۳ دونم سے کم ہوکر صرف۴ ہزار دونم رہ گئی ہے۔ غزہ کی پٹی کے زیرانتظام ۸۴ فی صد زرعی سہولیات تباہ کردی گئی ہیں۔ سبزیوں کی سالانہ پیداوار ساڑھے ۴۵ لاکھ ٹن سے کم ہوکر صرف ۲۸ہزار ٹن رہ گئی ہے۔ ماہی گیری کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے یہ شعبہ سوفی صد متاثر ہوا ہے۔
اجتماعی نسل کشی کے باعث ۷۰؍ارب ڈالر ابتدائی نقصان ہے۔ ۵؍ ارب ڈالر صحت کے شعبے،۴؍ارب ڈالر تعلیمی شعبے، ۳؍ارب ڈالر کے قریب ہائوسنگ سیکٹر، ایک ارب ڈالر مذہبی اُمور کے شعبے، ساڑھے ۴؍ارب ڈالر کے قریب زرعی شعبے، ۴؍ ارب ڈالر گھریلو سامان کے ضمن میں، ۳؍ارب ڈالر مواصلات اور انٹرنیٹ کے شعبے میں، ۲؍ارب ڈالر کے قریب نقل و حمل اور مواصلات کے شعبے میں، ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب بجلی کے شعبے اور ۶؍ارب ڈالر شہری سہولیات اور بلدیاتی کاموں کے شعبے میں نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو دو برس کی بے رحم اسرائیلی حملوں سے غزہ کی خوفناک تباہی کے بعد امریکا اور چند اسلامی ممالک کی مشاورت کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا جس کے پہلے مرحلے میں دونوں اطراف کے جنگی قیدیوں کی واپسی طے پائی۔ غزہ میں امداد و خوراک کی بندش کو کھولنے پر اتفاق ہوا۔ غزہ کی بحالی کے لیے کاوشوں کی بات کی گئی۔ مگر اسرائیل اور وزیراعظم اسرائیل نے ہٹ دھرم طبیعت اور سرشت کی اپنی تاریخی روایات پر قائم رہتے ہوئے معاہدے کی ان شرائط اور نکات کی ذرا پروانہ کی۔ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جنگی کارروائیاں اور حملے مزید قبضے کی کوششیں اور غزہ پر مکمل قبضے کی دھمکیاں، زیتون کے درختوں کی تباہی جیسے پرانے ہتھکنڈوں سے ہاتھ نہ روکا۔ غزہ سے رابطے کی سات کراسنگ میں سے صرف دو کرم ابوسالم اور کیہوویم سے امدادی ٹرکوں کے گزرنے کی اجازت دی۔ باقی پانچ گزرگاہوں کو حسب سابق بند رکھا ہوا ہے۔ رفح کراسنگ جو غزہ کے لیے زیادہ قابلِ رسائی گزرگاہ ہے، اس کو نہ کھولنے کا بار بار اعلان کیا۔ غزہ کی مقامی انتظامیہ کی اطلاعات کے مطابق ۱۸ہزار امدادی ٹرکوں میں صرف۱۸ سو ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ملی جن میں سے صرف ساڑھے ۶ سو ٹرک، ۱۲ اور ۱۳؍اکتوبر کو داخل ہوسکے۔ یہ بھی اقوام متحدہ کے مطالبے پر ممکن ہوسکا۔ اس دوران فلسطینیوں کو مارنے، ان پر میزائل پھینکنے کا عمل جاری رہا۔ ادھر اسرائیلی اسمبلی ’کینسٹ‘ میں غزہ پر مکمل قبضے کی قرارداد بھی منظور کرالی گئی۔ امریکی صدر اور اس کے نمائندے کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہوگا مگراس کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس دوران اسرائیل آبادکاری میں توسیع اور قبضہ گیری میں مسلسل پیش قدمی کرتا رہا۔ اب تو باقاعدہ پیلی لکیر کھینچی جارہی ہے جہاں تک اسرائیل کے قبضے کی حدود ہوں گی۔ اس میں رفح کا بہت سا رقبہ بغیر حدود کے اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس لائن پر ساڑھے ۳میٹر اُونچی کنکریٹ کی دیواربنانا شروع کر دی ہے۔ ۱۰؍اکتوبر کے بعد سے اب تک ایک سو سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید کیے گئے اور اڑھائی سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔
غزہ کی اس خوفناک تباہی کے پیچھے کیا ذہنیت اور عقیدہ کام کرتا ہے؟ اس کومعروف مصری عالم اور محقق و مصنف پروفیسر محمد عمارہ (۱۹۳۱ء-۲۰۲۰ء)نے یوں بیان کیا ہے:اسرائیل کی ۱۹۴۸ء سے لے کر آج تک تمام جنگوں میں ایک مظاہرہ خاص طور پر ہوتا رہا کہ وہ اپنے جنگی اہداف کو نشانہ بنانے کے دوران صرف انھی اہداف تک محدود نہیں رہتا بلکہ قتل و غارت اور تباہی و بربادی سے بلاامتیاز کام لیتا ہے۔ کسی بچے پر ترس کھاتا ہے، نہ کسی عورت کا لحاظ رکھتا ہے۔ کسی مجاہد اور شہری میں کوئی فرق نہیں کرتا، کسی جنگجو اور غیر جنگجو کو نہیں چھوڑتا۔ ۱۹۴۸ء کی جنگ میں اس کی فوج نے سیکڑوں فلسطینی دیہات تباہ کیے، نہ مسجدوں کو چھوڑا نہ گھروں اور قبرستانوں کو۔ بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور پُرامن شہریوں تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ۱۹۷۸ء میں تو اس نے قیدیوں کے بھی قتل سے دریغ نہ کیا۔ ساحل پر موجود شہروں کو تباہ کر دیا، شہری آبادی کو نشانہ بنا کر مٹا دیا۔ اسرائیل نے اس تباہ کن ذہنیت کا غزہ اور لبنان کے خلاف ہر لڑائی میں مظاہرہ کیا۔ اس ہمہ گیر تباہی میں اسکول، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام اسکولوں کو بھی نہ چھوڑا۔ مساجد اور ہسپتالوں کو تباہ کر دیا، حتیٰ کہ ایمبولینسیں بھی اس کے حملوں سے محفوظ نہ رہیں۔صہیونیت کا یہ مسلسل اور عجیب و غریب مظاہرہ جس میں جنگی قواعد و ضوابط کا ذرا لحاظ نہیں رکھا جاتا، اس کا سبب کیا ہے؟ تجزیہ نگار، صحافی اور سیاست دان اس کو ’اجتماعی سزا‘ کا نام دیتے ہیں جو بین الاقوامی قانون جنیوا معاہدے کی روح سے جرم ہے لیکن کوئی تجزیہ کار، صحافی یا سیاست دان اس طرف متوجہ نہیں ہوتا کہ اس کا سبب ایک دینی حکم کی بجا آوری ہے جس کا متن تلمود میں موجود ہے۔ یہودی علما ’حاخامات‘ نے عہد نامۂ قدیم میں اس کو درج کیا ہے اور یہودی علما اس حکم کی تعلیم صہیونی فوج کی یونٹوں میں دیتے ہیں۔ فوج کا یہ جنگی عقیدہ عربوں کی نسل کشی اور ان کا خاتمہ ہے۔ یہودیوں کے نزدیک موجودہ عرب قدیم عمالقہ کا نمونہ ہے جن کے بارے میں کتاب مقدس کے سفر الخروج کے باب ۱۴:۱۷ میں کہا گیا ہے:
رب نے موسیٰ سے کہا : یہ بات کتاب میں بطور یادداشت لکھ اور یشوع کو بھی سنادے ، کیونکہ میں عمالیق کا نام آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالوں گا۔
فوج جو انسانوں اور مکانوں کو نیست و نابود کر دیتی ہے، بستیوں اور شہروں کو ملبے کے ڈھیر بنا دیتی ہے دراصل وہ یہ تعلیم کتاب مقدس کے باب ۱۳: ۱۲ ، ۱۵ - ۱۷ سے پاتی ہے جو اس کے رب کی زبان سے اس کی پسندیدہ قوم کے لیے آیا ہے:
اگر تو ان شہروں میں سے کسی کے بارے میں، جو تیرا رب تجھے عطا کرے کہ تو ان میں رہے، کوئی بات سنے تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار کی دھار سے کاٹ کر رکھ دے اور ہرجانور چوپایا جو اس شہر میں ہے اسے بھی تلوار سے ختم کر دے۔ اس شہر کے تمام ساز و سامان کو ایک میدان میں اکٹھا کر اور آگ لگا کر اس شہر اور اس کے سارے سامان کو جلا کر رکھ دے تاکہ یہ شہر ایک ٹیلا بن کر رہ جائے ، دوبارہ تعمیر نہ ہو سکے۔
یہ تو ان شہروں کی سزا ہے جو پُرامن ہیں، لڑائی میں حصہ نہیں لیتے، نہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اس متن میں ’کوئی بات‘ کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سرزمین اسرائیل کے لیے چھوڑنے اور خالی کرنے سے انکار کریں۔اسرائیل جب اپنی تمام جنگوں میں تشدد و ہلاکت کی انتہا تک جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ کوئی شفقت کرتا ہے، نہ عورتوں پر ترس کھاتا ہے اور نہ کسی معاہدے اور پیمان کا پاس رکھتا ہے، تو وہ اسی جنگی عقیدے کا نفاذ عمل میں لاتا ہے جو اس کی فوج اپنی مقدس مذہبی کتب سے اپنے علما سے سیکھتی ہے۔ یہ عقیدہ انھیں دیگر تمام قوموں کو ختم کر ڈالنے بلکہ کسی ترس اور عہد کا لحاظ رکھے بغیر تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق وہی مقدس قوم ہیں اور ہر قوم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ سفر التثنیہ میں ہی ہے:
جب خداوند تیرا خدا ان سات قوموں کو، جو تجھ سے بڑی اور طاقت ور ہیں، تیرے سامنے سے ہٹا دے اور تو انھیں شکست دے تو انھیں مکمل طور پر تباہ کر دینا۔ ان کے ساتھ کوئی عہد نہ کرنا اور نہ ہی ان پر رحم کرنا۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرنا۔ کیونکہ تو ایک مقدس قوم ہے۔ خداوند تیرے خدا نے تجھے زمین کی تمام قوموں میں سے چُن لیا ہے تاکہ تو اس کی خاص قوم ہو۔ تو تمام قوموں سے زیادہ بابرکت ہو گا اور تو ان سب قوموں کو تباہ کر دے گا، اور تو ان پر رحم نہ کرنا۔
اسی طرح صہیونی جب مقبوضہ زمین سے باقی عربوں کے نکل جانے کی بات کرتے ہیں تاکہ یہودی اپنی خالص یہودی ریاست وہاں قائم کر سکیں، تو یہ بھی ان کا دینی عقیدہ ہے۔ سفر العدد ۳۳:۵۰-۵۱، ۵۵- ۵۶ میں یہ آتا ہے:
۴- اور خداوند نے موآب کے میدانوں میں یردن کے کنارے یریحو کے مقابل موسٰی سے کہا: بنی اسرائیل سے کہو: تم یردن پار کر کے ملک کنعان میں جاؤ گے، اور تم اس ملک کے تمام باشندوں کو اپنے سامنے سے نکال دو گے، اور اس ملک کو اپنا بنا لو گے اور اس میں بس جاؤ گے۔ لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے سامنے سے نہ نکالو گے، تو جو لوگ تم میں سے باقی رہ جائیں گے وہ تمھاری آنکھوں میں کانٹے اور تمھاری پسلیوں میں خار بن جائیں گے، اور وہ اس ملک میں جہاں تم رہتے ہو تمھیں تنگ کریں گے۔
ان متون سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینیوں اور عربوں پر بے دردی کے ساتھ مسلط کی گئی اسرائیل کی جنگ ان کا محض سیاسی تصادم نہیں بلکہ ایک دینی فریضے اور حکم کی تکمیل ہے جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج کے یونٹوں میں جو یہودی علما تعینات ہوتے ہیں، ان کو عسکری رینک دیے جاتے ہیں جن کی ڈیوٹی فوجیوں کو مذکورہ عقیدے کی تعلیم دینا ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم و تشدد اور تباہی و بربادی کے ذریعے وہ اس عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ یہودی علما کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں جن کو بڑی تعداد میں طبع کر کے فوج میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ علماء جنگی عقیدے سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ تلمود میں اس سوچ کو ’اسلحہ کی صفائی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔اسرائیلی فوج نے وسطی علاقے میں جو کہ اس کی مقبوضہ زمین کے مغربی کنارے پر واقع ہے، ایک حاخام برگیڈیئر فیضان زیمبل کا فتویٰ شائع کیا۔ اس میں اس حاخام نے معصوم فلسطینی شہریوں کے قتل کو فرض قرار دیا کیونکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ [ہلاخات]کی روشنی میں یہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔اسرائیلی کاتب ’اسرائیل شاحاک‘ نے اس فتوے کو اپنی کتاب ’یہودی مذہب اور غیر یہودیوں کے بارے میں اس کا موقف‘ میں شامل کیا ہے۔ شاحاک اس کتاب میں لکھتا ہے: جنگ کے دوران افواج کا شہریوں سے آمنا سامنا ہو جانے کی صورت میں یا سخت جارحانہ حملے یا مدافعانہ حملے کی صورت میں ہماری افواج کے پاس شہریوں کو تکلیف پہنچانے کی کوئی دلیل نہیں ہے، تاہم انھیں قتل کرنے کا امکان موجود ہے کیونکہ انھیں قتل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ تو معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حاخام شمعون وائزر، تو اسرائیلی فوجی موشی جو ۱۹۶۰ء میں مقبوضہ فلسطین میں خدمات انجام دے رہا تھا کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے جس میں موشی پوچھتا ہے کہ کیا ہم عربوں کے ساتھ عمالقہ جیسا معاملہ کریں یعنی ان کو قتل کر دیں تاکہ ان کا ذکر زمین سے ختم ہوجائے جیسا کہ سفرالتثنیہ ۲۵:۱۹ میں آیا ہے: ’’تاکہ تم آسمان کے نیچے عمالقہ کا ذکر ہی ختم کر دو‘‘۔ ہم اس پر عمل کریں یا عادلانہ قوانین جنگ کا اطلاق کریں جن کے مطابق صرف محارب (جنگجو) کو قتل کیا جاتا ہے اور کیا ہتھیار ڈال دینے والے عربی کو پانی پیش کرنا میرے لیے جائز ہے؟
اس خط کا جواب دیتے ہوئے حاخام شمعون وائزر، یہودی شریعت ’ہلاکات‘ کا حکم واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں تمھارے سامنے بعض دانشوروں کے اقوال رکھتا ہوں اور ان کی وضاحت کرتا ہوں: یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب میں جنگ کے مخصوص قوانین ہیں جس طرح فٹ بال اور باسکٹ بال کے قوانین ہوتے ہیں مگر ہمارے دانش وروں کے مطابق جنگ ہمارے نزدیک کھیل نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے اور صرف ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کو نافذ کرنے کی صورت حال کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ غیر یہودی کو قتل کر دو، اس کا سرقلم کردو۔ یہی ’ہلاکات‘ کے مطابق ’قانون اسلحہ صفائی‘ ہے۔اسرائیلی فوجی موشی نے اس خط کا جواب اپنے ساتھی فوجیوں کو بھی پڑھ کر سنایا تاکہ وہ اپنی شریعت کا وہ قانون جان لیں جس کے مطابق بہترین غیر محارب [غیرجنگجو]،بے گناہ اور معصوم فلسطینی کا قتل لازمی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ وہ غیریہودی ہے، وہ سانپ ہے جس کا سر کچلنا ضروری ہے۔موشی نے حاخام شمون وائزر کو جوابی خط لکھا کہ مجھے آپ کا خط مل گیا ہے۔ میں نے اس کو یوں سمجھا ہے کہ میرے لیے زمانۂ جنگ میں ان عرب مرد و عورت کو قتل کرنا نہ صرف جائز ہے جو اچانک میری زد میں آجائیں بلکہ میرا یہ فریضہ ہے کہ اس قانون کو نافذ کر کے رہوں۔
اسرائیل نو آبادیاتی اور نسلی امتیاز کے استعمار کی آخری نشانی ہے۔ سفید فاموں نے اپنے زوال سے قبل یہ نظام جنوبی افریقہ میں اس نسل پرستی کی بنیاد پر نافذ کیا جس کے مطابق سفید فام تمام نوع انسانی سے برتر مخلوق ہیں۔ ادھر صہیونیت نے سرزمین فلسطین میں اسی نسلی برتری کا امتیاز قائم کرنے کا کھیل کھیلا ہے۔ صہیونیت اس کو اپنا دین بنائے ہوئے ہے کیونکہ یہ عہد نامہ قدیم اور اس کی شرح تلمود کی تعلیمات ہیں۔اسرائیل شاحاک (۱۹۳۳ء-۲۰۰۱ء) اپنی مذکورہ کتاب میں اس نسلی برتری کے عقیدے سے متعلق متعدد مثالیں پیش کرتا ہے۔ ان کے ہاں ’نفس‘ لفظ کا مطلب یہودی ہے وہ اس میں غیر یہودیوں اور کتوں کو بالکل شامل نہیں کرتے۔ آرتھوڈوکس یہودی اپنی نوخیز عمری ہی سے مقدس تعلیمات میں یہ عقیدہ بھی سیکھ لیتا ہے کہ غیر یہودی کتوں کے برابر ہیں اور ان کو اچھا سمجھنا گناہ ہے۔
’کتاب تربیت‘ جس پر حکومت اسرائیل نے ایک بڑی رقم خرچ کر کے طبع کرایا ہے اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور یہ اسرائیل کی قومی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کے آغاز ہی میں لکھا ہے: غیر یہودی غلام کو تاحیات غلام رکھنا واجب ہے اور یہودی غلام کو آزاد کردینا واجب ہے۔ اس لیے کہ یہودی کائنات کے افضل ترین انسان ہیں۔ وہ اس لیے پیدا کیے گئے تاکہ خالق کو پہچانیں اور اس کی عبادت بجا لائیں۔ بندوں کو غلام بنانا ان کا حق ہے اور جب ان کے پاس دیگر قوموں کا فرد غلام نہ ہو تو پھر وہ اپنی ہی قوم کے فرد کو غلام بنانے پر مجبور ہوں گے، جو اپنے ربّ کی خدمت نہ کرپائیں گے۔ یہی اس آیت کا مقصد ہے:
تم اپنے بھائیوں کو جو سب رب کی عبادت کے لیے تیار ہو رہے ہیں دُور نہیں کرو گے۔(سفراللاویین ۲۵-۲۶)
ان کی کتاب مقدس (عہد نامہ قدیم) کی وصیت یہ ہے کہ تم کسی ایسی شے کو زندہ نہ چھوڑو جو سانس لیتی ہو(سفر التثنیہ۶۰، ۶۱)،تو یہ آیت اسرائیلی افواج کے لیے ایسا تربیتی لیکچر بن جاتی ہے جو مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، جس لیکچر میں کہا جاتا ہے کہ فلسطینی عمالقہ کی مانند ہیں اور عمالقہ کا ذکر آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالو(سفرالتثنیہ ۲۵:۹)۔ اور جو فلسطینی عمالقہ جیسے انجام سے بچ جائے، اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جائے۔
موسیٰ بن میمون فلسفی (۱۱۳۵ء-۱۲۰۴ء)کو یہودی سیّدنا موسٰی جیسا بلند مقام سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ موسٰی کے بعد موسٰی جیسا کوئی نہیں آیا سوائے موسی (بن میمون) کے۔ یہ یہودی فلسفی عہد نامہ قدیم کے اسفار کی شرح و تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے: غیر یہودی بلند دینی قیمت تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ رب کی حقیقی عبادت کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی طبیعت ہی بے زبان حیوانوں کی طرح ہے۔ وہ کائنات میں ادنیٰ ترین انسان ہیں، بندروں سے کچھ اوپر کا درجہ رکھتے ہیں۔
یہودی عورت کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے ماہوار غسل طہارت کے بعد مذہبی حمام سے واپسی پر چار شیطانی اشیاء کا سامنا کرنے سے پرہیز کرے: کسی غیر یہودی سے، کسی خنزیر سے، کسی کتے سے اور کسی گدھے سے۔ اگر ان میں سے کسی سے بھی اس کا سامنا ہو جائے تو وہ دوبارہ غسل کرے۔
اسرائیل نے درجنوں قوانین ایسے بنا رکھے اور جاری کر رکھے ہیں جو فلسطین کی سرزمین پر یہودی نوآبادیاتی نظام میں نسلی برتری کے امتیاز کے مظہر ہیں۔ اس امتیازی یہودی نظام اور نسلی برتری قائم کرنے والے یہودی نظام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والوں نے کیا کبھی ان حقائق پر بھی توجہ کی؟ کیا مسیحی تہذیب کے فرزندوں نے جو کہ عربوں اور مسلمانوں کے خلاف صہیونیت کے اتحادی ہیں موسیٰ بن میمون کے بیان کو پڑھا ہے؟ اس نے تورات شفاہیہ (تورات کی شفوی تشریح) میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے اور ہر یہودی کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ جب یسوع کا نام سنے تو کہے اللہ تعالیٰ شریر نام کو ہلاک کرے تاکہ یہ شریر نام یسوع ناصری اور اس کے شاگردوں کو مبتلائے مصیبت کرے۔ یہ یہودی دیگر انسانوں کو نہ انسان سمجھتے ہیں اورنہ اُنھیں زمین پر زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ اعتقاد رکھنا ایمان کے نہایت سادہ وسطحی معانی میں سے ہے کہ جب مومن احکامِ الٰہی کی پابندی کرے اور گناہوں سے اجتناب کرے تو اس دُنیا میں اس کی زندگی کا سفر پھولوں کی سیج پر گزرے گا۔ اس کی دُعائیں رَد نہیں ہوں گی، اسے بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، اس کا رزق تنگ نہیں کیا جائے گا، اور وہ ظالموں کے ظلم کا شکار نہیں ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ دُنیا دارالامتحان ہے، دارالجزا نہیں۔ یہ بیج بونے کی زمین ہے، فصل کاٹنے کا کھیت نہیں، جہد و سعی کا راستہ ہے، منزلِ مقصود نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مومن کی خوش بختی اور سعادت اُس کے اس تسلیم و رضا کے رویے سے پھوٹتی ہے کہ اللہ کا ہر فیصلہ خیر ہوتا ہے، خواہ اس کی حکمتیں ہماری نظروں سے اوجھل ہی ہوں۔ اللہ کی تقدیر جاری اور نافذ ہوکر رہتی ہے۔ کوئی ناراضی و رضامندی اُسے روک نہیں سکتی، بلکہ ناراض ہونے اور شکایت کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اور رضامندی کا اظہار کرنے والا اجر اور سعادت کا حق دار قرار پاتا ہے۔
کائنات میں جاری قوانینِ قدرت کا فہم رکھنے والا صاحب ِ عقل اس بات سے ناواقف نہیں ہوتا کہ اللہ کی فرماں برداری کا معاملات کی آسانی میں ایک اثر ضرور ہوتا ہے، اور معاملات کو اُلجھانے اور بگاڑنے میں گناہوں کا اثر۔مگر دُنیا کی ہر آزمائش و امتحان کو اس اصول سے مربوط کردینا اور اسے ایک مستقل قانون مان لینا ایمان کا سطحی مفہوم ہے بلکہ سیکڑوں دلائل و شواہد اس بات کو یقینی ٹھیراتے ہیں کہ اہل ایمان کو پہنچنے والی بیشتر تکلیفوں کا سبب اُن کا حق پر ثابت قدم رہنا ہوتا ہے نہ کہ باطل پر ہونا۔ یعنی یہ تکلیفیں اُن پر اس لیے آئیں کہ وہ اللہ کی فرماں برداری کے راستے پر تھے، معصیت و گمراہی کے راستے پر نہیں۔
فرعون نے اپنی بیٹی کی خادمہ کے بچوں کو یکے بعد دیگرے، کھولتے ہوئے تیل میں محض اس لیے پھینکا کہ وہ اطاعتِ الٰہی کی راہ پر تھیں، اس لیے نہیں کہ وہ معصیت کے راستے پر تھیں۔ اور پھر خود اُس خاتون کو بھی جب تیل میں پھینکا گیا تو صرف اس وجہ سے کہ اُس نے اپنی اولاد کے عوض اپنے ایمان و عقیدے کا سودا کرنے سے انکار کردیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس ظالم فرعون کو اُس خاتون کے گناہوں کے سبب اُس پر نہیں مسلط کیا تھا، بلکہ یہ تو حق و باطل کی کش مکش تھی۔
اسی طرح جب ظالم بادشاہ نے خندقیں کھدوا کر اُن میں اہل ایمان کو پھینک کر آخری فرد تک کو ہلاک کر دیا تو یہ اُن اہل ایمان کے گناہوں کے باعث نہیں ہوا تھا بلکہ اُن کے ایمان کی وجہ سے ہوا تھا۔ایک بچّے کے ساتھ ملاقات سے چند ہی گھڑیاں پہلے یہ لوگ محفوظ و مطمئن تھے کیونکہ اس وقت شرک پر تھے لیکن خندقوں کی آگ نے انھیں اس لیے بھسم کیا کہ وہ ایمان کے راستے پر آچکے تھے۔
یہ ظالم ان لوگوں پر اُن کے گناہوں کے سبب مسلط نہیں ہوا تھا بلکہ یہ حق و باطل کا ٹکرائو تھا۔ جب جادوگروں کی جماعت فرعون کی عزّت کی خاطر حضرت موسٰی کو زیر کرنے آئی تھی تو وہ فرعون کے ہاں بڑی معزز و مکرم جماعت تھی۔ اُس نے انھیں انعامات و اکرامات سے نوازنے اور اپنا مقرب بنانے کے وعدے بھی کیے تھے اور یہ سب کچھ اُس وقت تک تھا جب تک وہ شرک پر تھے۔ مگر اس نے ان کے ہاتھ پائوں الٹی سمتوں سے کاٹ دیئے، اور انھیں کھجور کے بلند تنوں پر پھانسی چڑھا دیا، اس لیے کہ اُس وقت وہ شرک کی راہ چھوڑ کر شاہراہِ ایمان پر آچکے تھے۔یہ ظالم، اُن جادوگروں کے گناہوں کی بنا پر اُن کے اُوپر مسلط نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ حق اور باطل کا تصادم تھا۔
جب سیّدنا زکریا علیہ السلام کو آرے سے چیرا گیا تو اُن کے گناہوں کی بنا پر نہیں بلکہ اُن کی اطاعت ِ خداوندی کے باعث، لہٰذا بہت سادہ بات ہے کہ یہ حق و باطل کی کش مکش تھی۔
اسی طرح جب سیّدنا یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کیا گیا اور ایک فاحشہ عورت کو بطورِ مہر پیش کیا گیا تو سیّدنا یحییٰ ؑ پر یہ ظلم اُن کی گنہگاری کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کی فرماں برداری کا اعلان کرنے اور ظالم کی بے حیائیوں پر اُسے ٹوکنے کے باعث ڈھایا گیا!___ ظاہر ہے کہ یہ حق و باطل کے ٹکرائو کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔
جب قریش مکہ نے سیّدہ سمیہؓ کو زمین میں گاڑا تو یہ اُن کے غیرمتزلزل ایمان کے باعث ہوا۔ جب ابوجہل نے انھیں اپنا نیزہ مارا، جب کہ وہ زمین میں گڑی ہوئی تھیں، تو اس ظلم کا سبب سیّدہ سمیہؓ کی گنہگاری نہیں بلکہ ایمان سے وفاداری تھی۔ جب اس ظالم نے اُن کے عقیدے کا سودا کرنا چاہا تو اُنھوں نے اس کے منہ پر تھوک دیا جو اس بات کا اعلان تھا کہ میرا ایمان قابلِ فروخت نہیں___کوئی شک نہیں کہ یہ حق و باطل کا ٹکرائو تھا۔
اسی طرح جب سیّدنا یاسرؓ کو سیّدنا عمارؓ کی نظروں کے سامنے سولی پر چڑھایا گیا تو یہ اُن کے گناہوں کی سزا نہیں تھی،بلکہ یہ کائنات میں جاری قوانین الٰہی میں سے ایک قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے ایمان کی بناپر کافر کے کفر کے ذریعے مبتلائے آزمائش کرتا ہے___ یقینی بات ہے کہ یہ کش مکشِ حق و باطل ہے۔
جب صحابہ کرامؓ کو مکہ مکرمہ سے اجنبی سرزمین حبشہ کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا تو قریش نے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ اس ہجرت کا سبب صحابہؓ کا پختہ عقیدئہ ایمان تھا، جس کو متزلزل کرنے میں قریش ناکام رہے تھے۔صحابہ کرامؓ ایمان کے اُس عظیم مقام پر تھے جس نے ان کے وطن و قبیلے اور اہل و عیال پر ایمان کو اُن کے لیے مقدم بنا دیا تھا۔
امام بخاری کی روایت کردہ حدیث خباب بن ارتؓ کے مطابق: ہم نے رسولؐ اللہ سے شکوہ کیا اور اُس وقت آپؐ کعبہ کے سایے میں چادر کا تکیہ بنائے آرام فرما تھے۔ ہم نے عرض کیا: کیا آپؐ ہمارے لیے مدد و نصرت نہیں مانگیں گے؟ کیا ہمارے لیے دُعا نہیں فرمائیں گے؟
آپؐ نے فرمایا: تم سے پہلے جو تھے، اُن میں سے تو کسی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور اس میں اُسے گاڑ دیا جاتا۔ پھر آرا لایاجا تا، اس کے سر پر رکھا جاتا اور اس کو دوحصوں میں چیر دیا جاتا۔ لوہے کی کنگھیوں سے اُس کا گوشت نوچ کر ہڈیوں سے الگ کر دیا جاتا۔ مگر یہ ظلم بھی اُس کو اُس کے دین سے باز نہ رکھ سکا۔
بخدا، اللہ تعالیٰ اس معاملے کو مکمل کر کے رہے گا یہاں تک کہ سوار صنعاء سے چلے گا اور حضرموت تک آجائے گا کہ اُس کو اللہ کے خوف کے علاوہ کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ ہاں بھیڑبکریوں پر بھیڑیے کا خوف ہوسکتا ہے مگر تم جلدبازی سے کام لے رہے ہو!
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ مفہوم کی گہرائی کا اندازہ کیجیے کہ یہ ظلم بھی انھیں اُن کے دین سے باز نہ رکھ سکا۔یہ صاحبانِ ایمان نہایت بُری طرح قتل کیے گئے اور صرف اس لیے کہ دین پر پختگی سے قائم تھے۔ اگر اُن میں سے کوئی دین کو چھوڑ دیتا تو قتل کا آلہ اُسی وقت اُس کے سرسے ہٹا لیا جاتا۔یہ ظالمانہ اور بہیمانہ قتل کوئی گناہوں کا خمیازہ نہیں تھا، بلکہ یہ حق و باطل کی کش مکش کا نتیجہ تھا۔
جب سیّدنا حمزہ ؓ کو نیزہ مارا گیا تو محض اس لیے کہ وہ ایمان لاچکے تھے۔ جب اُن کا سینہ چاک کیا گیا اور جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے تو اس لیے کہ صرف اُن کے قتل سے دشمنوں کے سینے ٹھنڈے نہ ہوئے تھے۔ سیّدنا حمزہؓ انھیں غزوئہ بدر میں غیرمعمولی تباہی کا مزہ چکھا چکے تھے۔
ذرا سوچیے، اس کا سبب کیا تھا؟ کفروشرک نہیں بلکہ توحید کا عقیدہ و ایمان!
سیّدنا مصعب بن عمیرؓ، قریش کے جوانِ رعنا کے قتل کا منظر بھی دیکھیے کہ غزوئہ اُحد میں ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے، سبب کیا تھا؟ گناہ نہیں ایمان!
جب وہ شرک پر تھے تو قریش کے سب سے وجیہ اور نمایاں نوجوان تھے مگر جب ایمان قبول کرچکے تو قریش ہی نہیں، بلکہ حقیقی ماں بھی خلاف ہوگئی۔ یہ اصل میں حق و باطل کا معرکہ ہے۔
قرآن کریم کی جمع و تدوین کا سبب جنگِ یمامہ کے روز شہید کیے جانے والے حفاظ صحابہؓ کا قتل بنا۔ مسلمانوں کو خدشہ لاحق ہوا کہ قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے والے صحابہؓ کی شہادتوں سے کہیں قرآن مجید ہی ناپید نہ ہوجائے۔کیونکہ یہی صحابہؓ قرآن کے حافظ تھے، اور یہی سرحدوں کے مجاہد اور محافظ!
ان عظیم انسانوں کو محض اس لیے قتل کیا گیا کہ یہ اسلام کے علَم بردار تھے۔ میدانِ جہاد میں موجود تھے، ان کو گناہوں کے سبب قتل نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ایمان تھا جس پر استقامت ان کے قتل کا سبب بنی۔
چلیے فرض کر لیتے ہیں کہ گنہگار مسلمان پر ہی کافر اور فاجر مسلط ہوتا ہے ، لیکن یہ کون کہتا ہے کہ بے گناہ اور نیک و پرہیزگار انسان بیٹھے رہیں اور یہ موقع اور حالات فراہم کرتے رہیں کہ اُسے قتل کر دیا جائے؟