اخبار اُمت


اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن جنوبی افریقہ کی طرف سے ان کے سالانہ کنونشن میں شرکت کا دعوت نامہ کافی دن پہلے مل چکا تھا۔ کنونشن سے قبل کئی ایک دیگر پروگرام بھی منتظمین نے طے کررکھے تھے۔۱۴؍اپریل کوجوہانس برگ پہنچا ۔ ۳۰؍اپریل کو تین دن کے لیے جوہانس برگ سے نیروبی گیا۔ یہ تین دن صبح شام مصروفیت میں گزرے۔ اسلامک فاؤنڈیشن، ینگ مسلم ایسوسی ایشن اور دیگر اسلامی تنظیموں نے کئی پروگرام مرتب کررکھے تھے۔ ۴ مئی کو واپس جوہانس برگ پہنچا۔  ایک دو پروگرام جو رہتے تھے، بالخصوص پریٹوریا میں اسلامک سرکل کے اجتماع میں حاضر ی دی۔  نیروبی کا قیام مختصر مگر بہت دل چسپ تھا، تاہم اس کے بارے میں کچھ کہنے کی یہاں گنجایش نہیں۔ ان سطور میں انتہائی اختصار کے ساتھ جنوبی افریقہ کے کچھ احوال پیش خدمت ہیں۔

براعظم افریقہ کا سب سے طاقت ور اور موثر ملک جنوبی افریقہ ہے۔ سفید فام اقلیت سے ۱۹۹۴ء میں آز ادی کے بعد اس کا سرکاری نام بھی ری پبلک آف ساؤتھ افریقہ ہے۔ یہاں برطانوی سامراج کئی صدیوں تک مسلط رہا۔آج سے ایک صدی قبل مقامی سفید فام لوگوں نے جن کا مجموعی آبادی میں تناسب ۲۰سے ۲۵فی صد تھا، یک طرفہ طور پر برطانوی سامراج سے علیحدہ ہوکر اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ کم وبیش ایک صدی تک ان لوگوں نے مقامی آبادی پر نسلی امتیاز کی پالیسیوں کے ذریعے بے انتہا مظالم ڈھائے۔ سب سے زیادہ آبادی مقامی افریقی لوگوں کی تھی، دوسرے نمبر پر سفید فام، تیسرے نمبر پر مخلوط نسل جن کو کلرڈ کہا جاتا ہے، اور سب سے چھوٹی اقلیت ایشیائی آبادی پر مشتمل تھی جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ مسلمان ہندستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے علاقوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر وہاں منتقل ہوئے تھے۔ افریقی بلکہ غیر سفید فام تمام آبادی، ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم تھی۔ ان کی حیثیت غلاموں سے بھی بدتر تھی۔

 بیسیویں صدی کے آغاز ہی سے آزادی کے لیے لوگوں نے خفیہ طو رپر جدوجہد شروع کردی تھی۔ اس صدی کے پانچویں عشرے میں باقاعدہ تحریک آزادی نے اپنا وجود قائم کیا اور خود کو منوایا۔ نیلسن منڈیلا قومی وحدت کی علامت بن کر ابھرا اور تمام مظلوم طبقات اس کے پیچھے  کھڑے ہوگئے۔ منڈیلا کو بے انتہا اذیتوں سے گزرنا پڑا۔ کم وبیش ۲۸ برس جیل کی سلاخوں کے  پیچھے رہا۔ وہ خطرناک ترین ’دہشت گرد‘ قرار پایا۔ نسلی امتیاز کی بنیاد پر قائم نظام حکومت نے  تحریک آزادی کے کارکنان کو بری طرح کچلا، مگر طلبہ جب اس تحریک میں شامل ہوئے تو تحریک نے زور پکڑ لیا۔ طویل جدوجہد کے بعد پوری دنیا کی توجہ بھی اس مظلوم خطے کی طرف مبذول ہوئی۔ آخر اقلیتی حکمرانوں کے ساتھ تحریک آزادی کے کئی معاہدوں کے بعد جن میں عالمی اداروں نے بھی کردار ادا کیا، ۱۹۹۴ء کے انتخابات میں افریقن نیشنل کانگریس، نیلسن منڈیلا کی قیادت میں بھاری اکثریت سے جیت گئی اور آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

 نیلسن منڈیلا باباے قوم اور انتہائی مقبول شخصیت ہے۔ چار چار سال کی دو میقات صدارتی محل میں گزارنے کے بعد پوری قوم کے مطالبے کے باوجود اس نے جارج واشنگٹن کی طرح تیسری مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ اس کے نائب مسٹر مبیکی تھابو نے بھی اسی روایت کو قائم رکھا۔ اس وقت تیسرا صدر مسٹر زوما برسراقتدار ہے۔ یہ اس کی پہلی میقات ہے۔ ملک میں کثیر الجماعتی جمہوریت ہے۔انتخابات باقاعدگی سے ہوتے ہیں، سفید فام پارٹی بھی انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور پارلیمان میں موجود ہے۔ میدانِ سیاست میں حکمران پارٹی افریقن نیشنل کانگریس کے سامنے کوئی بڑا چیلنج نہیں مگر مختلف افریقی گروپوں نے اپنی اپنی پارٹیاں قائم کررکھی ہیں جو آہستہ آہستہ زور پکڑ رہی ہیں۔ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے کچھ زیادہ ہی حصہ امور مملکت میں حاصل ہے۔ یہ بجا طور پر تحریک آزادی میں ان کی شرکت کا صلہ ہے۔ حلال فوڈ اور گوشت بھی مجلس علما کے دوگروپوں کے سرٹیفکیٹ سے فراہم کیا جاتا ہے۔

جنوبی افریقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ افریقہ میں سب سے مضبوط اقتصادی حالت اسی کی ہے، جب کہ پوری دنیا میں معاشی میدان میں اس کا ۲۸واں نمبر ہے۔ سفید فام آبادی میں یہودی خاصی تعداد میں ہیں اور دنیا کے مال دار ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ذرائع آمدنی میں زراعت، معدنیات، بالخصوص سونا اور ہیرے، صنعت، اور سیاحت اہم شعبے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی اڑھائی سے تین فی صد ہے۔ مسلمان بڑے شہروں میں مقیم ہیں اور مالی لحاظ سے خوش حال ہیں۔ مقامی آبادی میں دعوت اسلام کے بڑے مواقع ہیں۔ مسلمانوں نے اس میدان میں آزادیِ اظہار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم منصوبہ بندی کرکے کوئی کام نہیں کیا۔ الحمدللہ اب کچھ پیش رفت شروع ہوئی ہے۔ مسلمانوں میں جمعیت العلما اور تبلیغی جماعت کافی منظم اور مؤثر ہیں۔ ان کا بہت مضبوط نیٹ ورک پورے ملک میں موجود ہے۔ یہاں کی مساجد بہت خوب صورت اور صاف ستھری ہیں۔ مدارس میں بھی بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ ہندی الاصل مسلمانوں کی مساجد میں تمام سہولیات کے باجود عمومی طور پر خواتین کے لیے پروگراموں میں شرکت کی گنجایش نہیں ہوتی۔ اس مرتبہ البتہ یہ تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض مساجد کے ساتھ خواتین کے لیے بھی نماز اور اجتماعات کا اہتمام کیا جارہا ہے، یہ بہت خوش آیند ہے۔

جمعیت العلما اور تبلیغی جماعت کے بعد مسلمانوں کی دوسری بڑی تنظیم اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن ہے۔ یہ تنظیم بھی آزادی سے قبل قائم ہوئی تھی اور اس نے فلاحی کاموں کے علاوہ تعلیمی اور دعوتی میدان میں بھی اب قدم رکھ دیا ہے۔ یہ ایسوسی ایشن مسلمان ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم فیما (فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز) کی بھی ممبر ہے۔ اس فیڈریشن میں عمومی طور پر فلسطین، اردن، ترکی، پاکستان، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر زیادہ فعال اور منظم ہیں۔ اس کے موجودہ صدر اردن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد احمد مشعل ہیں۔ پاکستان کے ڈاکٹر تنویرالحسن زبیری اور ڈاکٹر حفیظ الرحمان بھی اس کے مرکزی ذمہ داران میں شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جسمانی لحاظ سے معذور مگر انتہائی فعال اور باہمت ڈاکٹر اشرف جی دار بھی فیڈریشن کی مرکزی مجلس میں شامل ہیں۔

ایک خوش آیند بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے مسلمان ہی نہیں عام افریقی اور حکومت  بھی فلسطینیوں کے ساتھ بہت زیادہ یک جہتی و ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ  نسلی امتیاز کی پالیسی نے ان کو کس قدر اذیت پہنچائی تھی۔ وہ صہیونیوں کے شدید مخالف ہیں۔ اسی طرح یہاں کے مسلمان طالبانِ افغانستان کے حامی اور امریکا و ناٹو کے سخت خلاف ہیں۔ مسئلہ کشمیر سے یہاں کوئی خاص دل چسپی نہیں پائی جاتی اور اس کی وجوہ ہیں۔

 اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ساؤتھ افریقہ گذشتہ ۳۰ برس سے باقاعدگی کے ساتھ اپنا سالانہ کنونشن منعقد کرتی ہے۔ یہ مختلف شہروں میں ہوتا رہتا ہے۔ اس کی کل حاضری عموماً ۴۰۰،۵۰۰ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ غیرڈاکٹر شرکا جو ڈاکٹروں کے اہل خانہ میں سے ہوتے ہیں، بھی شریک محفل ہوتے ہیں۔ یوں تعداد کافی زیادہ ہوجاتی ہے۔ مجھے کئی مرتبہ اس سالانہ کنونشن میں شرکت کی دعوت ملتی رہی، مگر میں اس میں دو مرتبہ ہی شریک ہوسکا۔ پہلی بار ۱۹۹۷ء میں اور دوسری مرتبہ اس سال ماہِ اپریل میں۔ ڈاکٹر حضرات تین دن کے سالانہ کنونشن میں بہت سلیقے اور ترتیب کے ساتھ اپنا پروگرام مرتب کرتے ہیں۔ بعض پروگرام اکٹھے ایک ہال میں ہوتے ہیں، جب کہ کئی ایک پروگرام تین چار مختلف ہالوں میں شرکا کو تقسیم کرکے متنوع موضوعات پر منظم کیے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں کی جامعیت یہ ہے کہ ان میں دروس قرآن وحدیث بھی ہوتے ہیں اور مختلف اسلامی موضوعات پر ڈاکٹر اور دیگر حضرات کے لیکچر بھی رکھے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ میڈیکل کے تمام شعبوں کے متعلق ماہرین کے نہایت اعلیٰ علمی و تکنیکی لیکچر ہوتے ہیں۔ ہر پروگرام کے بعد سوال وجواب کا دل چسپ سلسلہ بھی چلتا ہے۔ نماز باجماعت کا مثالی اہتمام ہوتا ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے احباب ڈاکٹروں، پروفیسروں، تاجر، صنعت کار اور محنت مزدوری کرنے والے طبقات پر مشتمل ہیں۔ پاکستانی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے جو پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ بیش تر لوگ یہاں کا پاسپورٹ حاصل کرچکے ہیں۔ یہاں تحریکی احباب نے اپنا ایک نظم قائم کیا ہے جو آہستہ آہستہ منظم ہورہا ہے۔ اس کا نام اسلامک سرکل آف ساؤتھ افریقہ ہے۔ ۱۷،۱۸ مقامات پر اس کے وابستگان کسی نہ کسی صورت میں خود کو حلقے کی صورت دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہر مقام کے ذمہ داران سے رپورٹ لی جاتی ہے۔ مرکزی دفتر جوہانس برگ میں ہے۔ اس وقت ڈاکٹر سید شبیرحسین صدر، ڈاکٹر فیاض حمید سیکرٹری اور ڈاکٹر طاہر مسعود خازن ہیں۔ خواتین میں بھی کام منظم ہورہا ہے۔ میرے لیے آئی ایم اے کی دعوت میں کشش اس وجہ سے تھی کہ اپنے تحریکی احباب کے کام کی کارکردگی، جس کا بیج ۱۵برس پہلے ڈالا گیا تھا،دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔ الحمدللہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے کنونشن کے علاوہ آئی ایم اے کے پروگراموں کے تحت کیپ ٹاؤن، ڈربن، کلارک سٹاپ، پولک وین (پرانا نام پیٹرزبرگ) وغیرہ میں جانے اور ڈاکٹروں کے ساتھ تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ گذشتہ سال برادرم اظہر اقبال کو دو مرتبہ یہاں آنے کا موقع ملا اور انھوں نے کام کو منظم کرنے میں مقامی ساتھیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان مقامات پر کوئی پاکستانی ڈاکٹر تو نہیں تھا، البتہ ہندی الاصل برادران وخواہران ہر جگہ پروگراموں میں   شریک ہوتے رہے۔ ان مقامات پر جہاں کہیں مساجد میں پروگرام ہوئے وہاں پاکستانی احباب نے بھی شرکت کی۔اسلامک سرکل آف ساؤتھ افریقہ کے تحت دو بڑے پروگرام ہوئے۔ ایک جوہانس برگ میں جس میں گردونواح سے مختلف صوبوں اور شہروں سے احباب نے شرکت کی۔ دوسرا بڑا پروگرام گراہمز ٹاؤن میں تھا، اس میں اس علاقے کے گردونواح سے بیش تر صوبوں اور شہروں سے لوگ آئے تھے۔ ہر دو مقامات پر خواتین بھی شامل تھیں۔ ان کے علاوہ کنگ ولیمز ٹائون اور کوئینز ٹائون میں بھی پروگرام کیے گئے۔

اسلامک سرکل کے پروگرام اردو میں ہوتے تھے، جب کہ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور مساجد کے تمام پروگرام انگریزی میں۔ ہرجگہ یہ بات زیر غور آئی کہ مقامی آبادی میں کام کیسے کیا جائے؟ اس وقت مجموعی طو رپر اس ملک میں بہت امن وسکون ہے مگر چونکہ مقامی آبادی معاشی لحاظ سے محرومی کا شکار ہے، اس لیے وہ اپنی اس کیفیت اور حالت زار کو بہت محسوس کرتے ہیں۔ آزادی ملنے اور سیاہ فام آبادی کی اپنی حکومت قائم ہونے کے باوجود ابھی تک عام افریقی شہری معاشی و تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہے۔ کبھی کبھار ردعمل میں کچھ باتیں خاموش سمندر کی سطح پر آجاتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی اخلاقی اور ذہنی تربیت اور معاشی وسماجی ارتقا کا اہتمام نہ ہوا تو کسی وقت بھی یہ لاوا پھٹ سکتا ہے۔ مسلمانوں نے ایسے کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جن میں مقامی آبادی کے وہ بچے جن کے والدین کا پتا نہیں، یا جن کی مائیں ہیں اور باپ نامعلوم، یا    جن کے والدین بہت ہی غربت کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کی تعلیم کا اہتمام نہیں کرسکتے، ان اداروں میں داخل کیے جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ان بچوں کے لیے ان اداروں میں   آنے کے بعد رہایش، خوراک، لباس اور تعلیم کی مکمل ذمہ داری اسلامی تنظیمیں اپنے ذمے لے لیتی ہیں۔ ان کے والدین اور مقامی آبادی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی کہ انھیں مسلمان بنالیا جائے۔ مجھے ڈربن کے علاقے میں ایک چھوٹی دیہاتی آبادی انچانگا میں،وہاں کے اسلامک سنٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک صاحب ِخیر میڈیکل ڈاکٹر جناب غلام حسین تتلہ اس کے روح رواں ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ پر مشتمل رقبے پر اس مرکز کی عمارات بھی بہت قابل دید ہیں۔ کچھ کلاسوں میں جاکر ۵ سے ۱۰سال کی عمر کے بچے بچیوں کو دیکھنے کا موقع ملا تو طبیعت خوش ہوگئی۔ ان سب نے اتنی خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور شش کلمات پڑھ کر سنائے کہ بے ساختہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کا لہجہ بھی بہت اچھا تھا، مخارج بھی درست اور لحنِ بلالی تو تھا ہی!

اس طرح کے مراکز جگہ جگہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ الحمدللہ تمام باعمل مسلمان اس ضرورت کا احساس وادراک رکھتے ہیں۔ دوردراز کی افریقی آبادیوں میں آئی ایم اے کی موبائل ڈسپنسریاں بھی فعال دیکھیں۔ ایک دیہاتی علاقے میں ۳۰، ۴۰ خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو بہت صاف ستھری جگہ پر بٹھانے کی سہولت کے ساتھ ڈسپنسری کو برسرِعمل دیکھا، تو اُن مخیر حضرات کے لیے جو مالی ایثار کر رہے ہیں اور اُن رضاکاروں کے لیے جو میدان عمل میں سرگرم ہیں، دل سے دعائیں نکلیں۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی خدمت کی جارہی ہے وہ اس پر ممنون احسان ہیں، ورنہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدمت کرنے والوں کو تحسین کے بجاے شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہمیں اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر شبیر حسین اور کئی دیگر مسلمان ڈاکٹر آنکھوں میں موتیے کے بلامعاوضہ آپریشن کرنے کے لیے کیمپ لگاتے رہتے ہیں۔ پاکستان سے بھی اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ایک کیمپ میں ۹۰کے قریب شفایافتہ مریضوں کے درمیان تقسیم تحائف کی محفل میں مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں اسلام کاتعارف بھی کرایا گیا۔ تمام مریض انتہائی خوش اور ڈاکٹر شبیر اور ان کی ٹیم کے لیے رطب اللسان تھے۔ دیگر تحائف کے علاوہ انھیں قرآن مجید اور رسالہ دینیات کے انگریزی ترجمے دیے گئے۔   یہ بڑا بنیادی کام ہے مگر ذاتی روابط اور اسلام کی عملی تعلیم و تربیت اس سے اگلی اور اصل ذمہ داری ہے۔

عینی شاہد بیان نہ کرتے، تصاویر او رویڈیو نہ دکھا دیتے تو یقین نہ آتا۔ آپ خود ہی دیکھ کر بتادیجیے کہ کیا اشرف المخلوقات ایسا کرسکتا ہے؟ یہ کپڑے پر بنی بشار الاسد کی جہازی سائز کی ایک تصویر ہے ، جسے بیچ میدان کے زمین پر بچھا دیا گیا ہے، اس کے چاروں کناروں پر اس کے درجنوں حامی اور فوجی اس تصویر کے سامنے سجدے میں پڑے ہیں اور درو دیوار پر لکھا ہے:لا الٰہ الا بشار۔ ایک اور منظر میں گھنی داڑھی والے ایک باریش نوجوان پر تشدد کیا جارہا ہے۔ لاٹھیوں، ٹھوکروں اور تھپڑوں کی بارش ہورہی ہے اور ایک سورما، زمین پر گرے اس نوجوان کی گردن پر اس طرح پاؤںجمائے کھڑا ہے کہ سنت نبوی مکمل طور پر جوتے کے نیچے روندی جارہی ہے، اس عالم میں نوجوان کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ کہے: بالروح بالدم نفدیک یا بشار،’’میرا جسم و جان تم پر فدا یا بشار‘‘۔ اس طرف دیکھیں یہ ایک طویل قطار ہے۔ یہ صرف بچوں کی لاشوں کی قطارہے اور ان سب کو گولیاں مار کر نہیں، باقاعدہ گردنیں کاٹ کر ذبح کیا گیا ہے۔ اور یہ دیکھیں یہ ایک لمبی کھائی ہے، لیکن یہ کھائی نہیں ایک اجتماعی قبر ہے، جس میں درجنوں لاشیں دفن کی جارہی ہیں___ آخر کون کون سا منظر دیکھیں گے، نہ دیکھنے کا یارا ہے اور نہ بیان کرنے کا حوصلہ!

یہ کوئی ایک آدھ دن کی بات نہیں، ۱۵ مارچ ۲۰۱۱ئسے لے کر آج تک گزرنے والا ہر لمحہ، مسلمان شامی عوام کے لیے قیامت کا لمحہ ہے۔ گھر، مسجدیں، بازار اور انسان، اور تواور باغات، مویشی، کھیت اور کھلیان کچھ بھی اور کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ لیکن ۴۹ برس کی ڈکٹیٹر شپ کے بعد یہ پہلا موقع آیا ہے کہ قتل و غارت کے نتیجے میں لوگ خوف زدہ ہوکر نہیں بیٹھ گئے۔ پہلی بار عوام نے خوف کی فصیلوں کو ریزہ ریزہ کردیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر اب ان تمام قربانیوں کو رائیگاں جانے دیا گیا، تو پھروہ کبھی ایک آزاد شہری کی حیثیت سے سانس نہ لے سکیں گے۔

شام کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے سے پہلے آئیے ذرا گذشتہ صدی کا سرسری جائزہ لیں۔ ۹مئی ۱۹۱۶ء کو ہونے والے سایکس پیکو معاہدے کے تحت پورے مشرق وسطیٰ کو ٹکڑیوں میں بانٹ دیا گیا۔ ۳۰ستمبر ۱۹۱۸ء کو آخری عثمانی افواج بھی شام سے نکل گئیں۔ فرانس قابض ہوگیا۔ اپریل ۱۹۴۶ء میں فرانسیسی استعمار سے بھی نجات مل گئی۔ اپریل ۱۹۴۷ء میں وہاں بعث پارٹی کی باقاعدہ تاسیس عمل میں آئی۔ اسی سال ملک میں انتخابات ہوئے تو بعث پارٹی کے بانی میشل عفلق اور صلاح بیطار جیسے اس کے تمام لیڈر ناکام ہوگئے۔

۳۰مارچ ۱۹۴۹ء کو حسنی الزعیم کی سربراہی میں فوجی انقلاب آگیا، پورے عالم عرب میں یہ پہلا انقلاب تھا۔ پھر ایک کے بعد دوسرا سفاک خود کو قوم کا محبوب ترین لیڈر ثابت کرنے پر    تلا رہا۔ حسنی الزعیم کو ہی دیکھ لیجیے۔اگست ۱۹۴۹ء میں ۹۹ئ۹۹ فی صد ووٹ حاصل کرلینے والے بزعم خود ’ہر دل عزیز‘ لیڈر کا اگلے ہی مہینے نہ صرف تختہ اُلٹ گیا، بلکہ اسے پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ ۱۵نومبر ۴۹ء کو دوبارہ عام انتخابات ہوئے، حکمران پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں الاخوان المسلمون کو چار نشستیں حاصل ہوئیں جن میں  شام میں اخوان کے بانی مصطفی السباعی بھی شامل تھے، جب کہ بعث پارٹی کا صرف ایک رکن منتخب ہوا۔ اسی ایک سال کے اندر اندر دسمبر ۴۹ء میں وہاں تیسرا انقلاب آگیا۔

۱۹۵۲ء میں الاخوان المسلمون سمیت اکثر سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور پھر مسلسل کئی انقلابات کے بعد ملک سے بعث پارٹی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں اور مذاہب و ادیان کا ناطقہ بند کردیا گیا۔ ۱۹۶۳ء میں بعثی انقلاب نے اقتدار سنبھالا، حافظ الاسد اس کا اہم حصہ تھا۔ ۱۹۶۶ء میں اس نے مزید اختیارات کے لیے پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کردی، خود وزیردفاع بن بیٹھا، اور پھرنومبر ۱۹۷۰ء میں ایک اور انقلاب کے ذریعے مکمل اقتدار سنبھال لیا۔ وہ دن اور  آج کا دن، اسد خاندان کا اصرار ہے کہ شامی عوام سانس بھی اس کی مرضی اور اجازت سے لیں۔

حافظ الاسد کی سفاکیت اور اسلام دشمنی کا اندازہ لگانے کے لیے چند جھلکیاں ملاحظہ کرلیجیے:

  • جون ۱۹۷۹ء میں کسی فوجی افسر نے چند علوی فوجی افسروں پر فائرنگ کر دی۔     حافظ الاسد نے اس اندرونی شورش کا سارا الزام اخوان کے سر تھوپتے ہوئے، ایک ہی واقعے میں جسر الشغور نامی شہر میں ۹۷؍افراد شہید اور کئی گھر زمین بوس کردیے۔
  •  ۲۱ جون ۱۹۸۰ء کو ملک میں ایک انوکھا قانون نافذ کردیا گیا جس کے تحت اخوان سے وابستگی کی سزا پھانسی قرار دی گئی۔ آج تک یہ شق نمبر ۴۹ قانون کا فعال حصہ ہے۔
  •  ۲۵ جون ۱۹۸۰ء کو ایک سفارتی تقریب میں حافظ الاسد پر قاتلانہ حملہ ہوا، اس کی تمام تر ذمہ داری بھی اخوان پر ڈال دی گئی۔ ان کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ۲۷جون کوتَدْمُْرْ جیل میں قید اخوان کے ایک ہزار سیاسی قیدیوں کو اندھا دھند فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔ نہ کوئی مقدمہ نہ عدالت، نہ منصف نہ گواہ، بس ایک الزام اور قصہ تمام۔
  •  ۲۵جولائی کو حلب شہرکے اتوار بازار میں پولیس فائرنگ کے ذریعے ۱۹۰ بے گناہ افراد کو شہید کردیا گیا۔ حلب کے بارے میں عمومی تأثر تھا کہ یہاں اخوان کی تائید نمایاں ہے۔
  •  ۱۹ دسمبر ۱۹۸۰ء کو تَدْمُْرجیل میں ایک اور قتل عام ہوا۔ اس بار وہ خواتین نشانہبنیں جنھیں ان کے شوہر، باپ بیٹے یا بھائی کے نہ ملنے پر گھروں سے اٹھا کر جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ ۱۲۰ خواتین لقمۂ اجل بن گئیں۔ یقینا ان سے روز حشر پوچھا جائے گا: بِاَیِّ ذَنْبٍم    قُتِلَتْ(التکویر۸۱:۹ ) ْ’’یہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کردی گئی؟‘‘
  •  ۲ فروری ۱۹۸۲ء تو پوری مسلم دنیا کی حالیہ تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن حافظ الاسد کے حکم پر اس کے بھائی رفعت الاسد نے اپنی سربراہی میں قائم خصوصی سیکورٹی فورس کی مدد سے ’حماہ‘ نامی شہر کا محاصرہ کرلیا۔ اور پھر ۲۷ روز تک اس پر ٹینکوں، توپوں اور جنگی جہازوں سے بمباری کی جاتی رہی۔ ۳۵ سے ۴۰ ہزار بے گناہ افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ پورا شہر مقبرہ بن گیا کہ لاشیں اٹھانے والا بھی کوئی نہ رہاتھا۔ ’حماہ‘ کا جرم بھی صرف یہ تھا کہ یہ اخوان کا گڑھ تھا۔

مکافات عمل ملاحظہ ہو کہ دو سال بعد حافظ الاسد بیمار ہوا تو اسی رفعت الاسد نے اپنی اسی سیکورٹی فورس کے ذریعے بھائی کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ رفعت کو فرار ہوکر یورپ میں پناہ لینا پڑی، اس کی خصوصی فوج ختم کردی گئی۔

اس خاندان کے دور جرائم کی تفصیل بہت طویل ہے۔ لیکن صرف ڈیڑھ دو سال کے عرصے میں ہونے والے درج بالا چند واقعات ۴۹ برس پر محیط درندگی کی ہلکی سی جھلک دکھا رہے ہیں۔ اس قتل عام کے علاوہ اسد خاندان کا اصل ہدف اور اولین ترجیح ملک میں بعث ازم کی جڑیں گہری کرنا تھی۔ یہ نظریہ عرب قومیت اور اشتراکیت کا ملغوبہ ہے۔ بعث ازم کو (نعوذ باللہ) اللہ اور اس کے رسولؐ سے بھی بالاتر درجہ دے دیا گیا تھا۔ حافظ الاسد کا ایک شاعر ہرزہ سرائی کرتا ہے:

آمَنْتُ بِالْبَعْثِ رَبًا لَا شَرِیْکَ لَہٗ

وَبِالْعُرُوبَۃِ دِیْنًا مَالَہٗ ثَانِی

(میں بعث ازم کے رب لا شریک ہونے، اور عرب ازم کے لاثانی دین ہونے پر ایمان لایا)۔ بعث پارٹی کا شعار ہے: أمۃ عربیۃ واحدۃ ذات رسالۃ خالدہ ،’’ ابدی پیغام رکھنے والی عرب اُمت واحدہ‘‘۔ پورے ملک کا نظام اسی بعثی مرکز و محور کے گرد گھومتا ہے۔ دستور کی دفعہ ۸ کے مطابق’’ بعث پارٹی ریاست اور معاشرے کی اکلوتی رہنما پارٹی ہے‘‘۔ کسی دوسرے کو پارٹی بنانے کی اجازت نہیں ۔ دستور کی دفعہ ۸۳ کے مطابق صدارتی انتخاب کا طریق کار یہ بتایا گیا ہے کہ ’’بعث پارٹی کے علاقائی ذمہ داران کسی ایک شخص کو صدارتی اُمیدوار نامزد کریں گے، پھر وہی صاحب خود عوامی ریفرنڈم منعقد کرواتے ہوئے منتخب صدر کہلائیں گے‘‘۔

جبر پر مبنی تدبیریں دوام دے سکتیں توفرعون کا اقتدار اور قارون کی دولت کبھی ختم نہ ہوتی۔ ظلم کا نظام بظاہربہت محکم لیکن حقیقتاً بہت بودا ہوتا ہے، بالآخر ظالم ہی کی گردن ناپتا ہے: وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّیُٔ اِلَّا بِاَھْلِہٖ(الفاطر ۳۵:۴۳)،’’بُری چال بالآخر چلنے والے ہی کے گلے پڑتی ہے‘‘۔ زین العابدین، حسنی، قذافی اور علی عبداللہ صالح پر بھی یہی حقیقت صادق آئی۔گذشتہ ۱۴ماہ میں بشارحکومت نے بھی عوامی تحریک کچلنے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن تحریک ختم ہونے کے بجاے مضبوط سے مضبوط تر ہوئی۔ یہ ۱۹۸۲ء نہیں ہے کہ پورا شہر تہ تیغ کردیں اور ذرائع ابلاغ کو قریب تک نہ پھٹکنے دیں۔ ۲۰۱۲ء کی عوامی تحریک کا اصل ہتھیار کیمرا، موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے۔ پل پل کی خبر سیٹلائٹ فون کے ذریعے دنیا کے سامنے آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہادتوں کی تعداد ’صرف‘ جی ہاں صرف ۱۵ ہزار افراد سے زائد ہے۔ ذرائع ابلاغ نہ ہوتے تو اقتدار کی خاطر پوری قوم بھی موت کی نذر کرنا پڑتی، تو سفاک بعثی نظام دریغ نہ کرتا۔

شامی عوام کی اصل بدقسمتی یہ نہیں کہ ان پر ایک درندہ نظامِ حکومت مسلط ہے، ان کے بقول ان کی اصل محرومی یہ ہے کہ ان کے بھائیوں نے انھیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ الاخوان المسلمون کے سربراہ محمد ریاض شقفہ کے بقول انھوں نے پہلے دن سے اپنی تحریک کو پُرامن رکھنے پر زور دیا ہے۔ لاکھوں عوام کا ۹۵ فی صد غیر مسلح ہے اور عوامی طاقت کے ذریعے ہی تبدیلی لاناچاہتا ہے۔ سفاک حکمران روز اول سے طاقت استعمال کررہا ہے۔ اب ایک طرف ٹینک اور وحشیانہ بمباری ہے اور دوسری جانب خالی ہاتھ عوام۔ یہ درست ہے کہ بے تیغ عوام کو آتش و آہن شکست نہیں دے سکا، لیکن ا ب معاملات فیصلہ کن موڑ تک آن پہنچے ہیں۔ شامی فوج کی ایک بہت بڑی تعداد بشار کا ساتھ چھوڑ کر ’الجیش الحر‘ آزاد فوج کے نام سے منظم ہوچکی ہے، لیکن ان کی اکثریت بھی ہتھیاروں کے بغیر ہے۔ مسلم دنیا کسی عملی مدد سے عاجز ہے۔ رہا امریکا اور عالمی برادری تو اس کے بیانات اور اجلاس تو بہت ہیں لیکن اس کے اہداف کی فہرست میں کہیں یہ بات نہیں ہے کہ عوام کو بچانا اور ان کی مدد کرنا ہے۔ اسرائیل کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے ان کا اصل ہدف یہ ہے کہ بشار کے بعد بھی وہاں اپنی گرفت کیسے مضبوط کی جائے۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ قتل عام کو طول ملے یہاں تک کہ بشار کے بجاے بذات خود شیطان بھی آجائے تو شامی عوام اسے قبول کرلیں۔ ایک کے بعد دوسرے اجلاس اور مسلسل وفود ارسال کرنے کا نتیجہ مزید خوں ریزی کی صورت میں ہی نکل رہاہے۔ لاکھوں ڈالر کے خرچ اور ابلاغی طوفان کے بعد سیکورٹی کونسل نے ۲۱؍اپریل کو ۳۰۰ غیر مسلح فوجی مبصرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نگران تین مہینے تک اس امر کا جائزہ لیں گے کہ بشار انتظامیہ نے عوام کو کچلنے کے لیے کہیں بھاری اسلحہ تو استعمال نہیں کیا۔ گویا مزید تین مہینے تک تباہ و برباد کرنے کا لائسنس دے دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اسی طرح کے نگران ۱۹۴۸ء سے کشمیری عوام کے ’تحفظ‘ کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔

شامی عوام کی تباہی پر سب سے زیادہ مسرت صہیونی ریاست کو ہے۔ اس کا واضح اندازہ ۲۲؍ اپریل کے صہیونی روزنامہ یدیعوت احرونوت سے ہوتاہے ۔ وہ اپنے ادارتی نوٹ میںلکھتا ہے کہ شام میں کوئی خانہ جنگی نہیں، ایک دینی جنگ ہے۔ اس کے بقول ۱۳۰۰ سال پرانا شیعہ سنی جھگڑا جو عثمانی خلافت کی کئی صدیوںتک دبا رہا ،اب دوبارہ زندہ ہوگیا ہے۔ ایک فریق مشرق وسطیٰ کو شیعہ بنانا چاہتا ہے اور دوسرا ۸۵ فی صداہل سنت کو ان کا فطری مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اس تمہید کے بعد اخبار یہ نتیجہ نکالتا ہے: ’’اب ہمارے لیے یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ۱۰۰سال سے کم عرصے پر محیط جھگڑا، ساتویں صدی عیسوی سے جاری شیعہ سنی جھگڑے کی نسبت کس قدر ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا اب ہمارے سامنے صرف شام کاکوئی اندرونی نزاع نہیں، جیسا کہ بعض اسرائیلی سمجھتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا دینی انتشار ہے۔ اس تنازعے کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں اور یہی سب سے اچھی بات ہے‘‘۔

اسد خاندان غلو کی حد کو پہنچے ہوئے علوی فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کسی دینی نہیں بلکہ شخصی بتوں پر قائم بعثی ریاست کا بانی خاندان ہے۔ لیکن حالیہ تحریک میں ایران کی طرف سے بشارانتظامیہ کی ہمہ پہلو امداد نے پورے مسئلے کوفرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کا کام آسان کردیا ہے۔ بشار اور اس کا باپ شاہِ ایران سے بد تر ڈکٹیٹر ہیں ۔ ایران کو اس کا ساتھ دینے کے بجاے مظلوم عوام کا ساتھ دینا چاہیے۔ خود ایران کے کئی اعلیٰ سطحی ذمہ داران بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیںلیکن بدقسمتی سے اس وقت عملاً بشار انتظامیہ کا سب سے بڑا مددگار ایران ہے اور اس کے بعد روس اور چین۔ یہ دونوں ملک اپنے اپنے اندرونی حالات کے تناظر میں عوامی تحریکات کا ساتھ نہیں دے رہے۔ تیونس اور مصر میں بھی ان کی پالیسی یہی تھی۔ لیکن کوئی صہیونی اور امریکی تجزیہ نگار  روس اور چین کی مدد کے باعث شام کی تحریک کو، کمیونزم یا سوشلزم کے خلاف تحریک نہیں کہہ رہا، کیونکہ وہ شیعہ سنی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ یہ طوفان اب عراق اور خلیج تک محدود نہیں رہا، شام اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں اسی جلتی پر تیل چھڑکا جارہا ہے۔ اس طوفان کو اسی صورت روکا جاسکتا ہے کہ اُمت کی توجہ اصل مسائل پر مرکوز رہے۔ اصل مسئلہ ظلم کا خاتمہ ، ڈکٹیٹر شپ سے نجات اور عوام کو ان کے حقوق دینا ہے۔ یہ قرآنی فیصلہ سب کے سامنے رہنا چاہیے کہ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُوْنَ o(الشعراء ۲۶:۲۲۷)’’اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں‘‘۔

نائیجیریا براعظم افریقہ کے مغرب میں بحیرۂ اٹلانٹک کے طویل ساحل کے تقریباً وسط میں حبشی النسل قبائل کی ۹لاکھ ۲۳ہزار ۷سو۶۸ مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی دنیا کی ساتویں بڑی آبادی پر مشتمل مملکت ہے۔ اس کا رقبہ اور آبادی، دونوں پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ برطانوی قوم کی توسیع پسندی اور ہوس ملک گیری کے نتیجے میں یہ علاقہ بیسویں صدی کے شروع میں برطانوی کالونی قرار پایا، اور برطانوی حکومت نے ۱۹۱۴ء میں اس کے ۲۵۰ سے زائد قبائل پر نائیجیریا نام کا ملک برطانوی کالونی کی صورت میں تشکیل دیا۔ یہ سب قبائل اپنے عقائد، مذہب، روایات اور عادات و اطوار میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ اس مملکت کا شمالی علاقہ زیادہ تر صحارا کے ریگستان میں واقع ہے اور حوسا اور چند دوسرے قبائل پر مشتمل ہے۔اس علاقے کی   ۷۰فی صد آبادی مسلمان ہے، جب کہ بقیہ آبادی عیسائی ہے اور روایت پرستوں پر مشتمل ہے۔

نائیجیریا میں اسلام شمالی افریقہ کے مسلمان ممالک، مثلاً مراکش، الجزائر، لیبیا، تیونس، مصر وغیرہ اور مشرق سے سوڈان، صومالیہ، یمن، سعودی عرب کے راستے داخل ہوا۔ مغربی نائیجیریا میں زیادہ تر پروبا قبائل آباد ہیں اور ان کی اکثریت بھی مسلمان ہے۔ مشہور بندرگاہ لاگوس اسی علاقے کے ساحل پر واقع ہے، جو نائیجیریا کا پہلا دارالخلافہ تھا۔ مشرقی علاقہ بھی زیادہ تر سمندر کے کنارے واقع ہے۔ اس علاقے کی جانب سے برطانوی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور عیسائی مبلغین کا طائفہ اپنے ساتھ لائے تھے۔ اس علاقے میں اگبو اور دوسرے قبائل   رہتے تھے جن کی اکثریت کو ان مبلغین نے عیسائی بنا لیا۔ اسی لیے اس علاقے کے قبائل یا تو عیسائی ہیں اور جو عیسائی نہ بن سکے وہ اپنی روایت پرستی پر قائم رہے۔ اس علاقے کی ساحلی پٹی پٹرول سے مالامال ہے، اور یہاں سے دنیا کا بہترین پٹرول حاصل ہوتا ہے۔

بین الاقوامی حالات اور ملک میں اندرونی تحریکوں کے دبائو کے تحت برطانوی آبادکاروں کو اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا۔ اس طرح ۱۹۶۰ء میں نائیجیریا آزاد ملک قرار پایا۔ آزادی کے فوراً بعد ملک فوجی انقلاب کی نذر ہوگیا۔ ایک عیسائی جنرل برونسی کی قیادت میں یہ خونیں ثابت ہوا۔ معروف سیاسی اور مذہبی رہنما قتل کردیے گئے جو زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل تھے۔ ان میں ابوبکر تفاوا بلیوا اور احمد بیلو قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں گہری خلیج پیدا ہوئی۔ کچھ عرصے بعد مسلمان اور عیسائی فوجی جرنیلوں پر مشتمل ایک نئی فوجی قیادت اُبھری۔

۱۹۶۷ء میں مشرقی نائیجیریا کے اگبوقبائل کے ایک عیسائی فوجی کرنل اجوکو نے مرکزی حکومت سے بغاوت کرکے اس علاقے کو بیافرا کے نام سے نئی حکومت بنا کر علیحدہ کرلیا۔ برطانیہ، فرانس، اور دوسری مغربی حکومتوں نے اس نئی حکومت کی مدد کی، کیونکہ اس علاقے میں دنیا کا بہترین پٹرول نکلتا ہے اور یہ عیسائی علاقہ ہے۔ مرکزی حکومت کی خفیہ مدد مصر، لیبیا اور سوڈان نے اس بغاوت کو فرو کرنے میں کی۔ بغاوت ناکام ہوئی مگر اس میں ۱۰لاکھ سے زائد افراد کام آئے۔ عجب ستم ظریفی ہے کہ باغی لیڈر کرنل ایمسکا اجوکو ،کو حال ہی میں (اوائل مارچ ۲۰۱۲ئ) نائیجیرین حکومت کی طرف سے عزت و احترام سے دفنایا گیا اور نائیجیریا کے صدر نے اس کے جنازے میں بذاتِ خود شرکت کی ہے۔

  • اسلام اور عیسائیت کی کش مکش: گذشتہ صدی کے آخیر میں نائیجیریا کے  تین علاقوں کو ۲۹ سے زیادہ ریاستوں میں تقسیم کردیا گیا۔ یہ تقسیم وہاں کے بڑے بڑے قبائل کی بنیاد پر کی گئی۔ اس کے باوجود جہاں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں صدیوں سے انھوں نے عرب امارات کی طرح امارات قائم کی ہوئی ہیں۔ یہ امارات نائیجیریا کے سیاسی نظام کے تحت    اپنا اسلامی تشخص رکھتی ہیں۔ ’ناصرالاسلام‘ کے نام سے مسلمانوں کی ایک مذہبی جماعت ہے جو اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کے مفاد کے لیے کام کرتی ہے۔ اس جماعت کی تصدیق کی بنیاد پر ایک مسلمان حج پر جاسکتا ہے اور سعودی حکومت حج پر جانے والوں کے لیے اس تصدیق نامے کو ضروری قرار دیتی ہے۔ اس لیے کہ قادیانیوں نے برطانوی دور سے نائیجیریا میں اپنے تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کیے ہوئے ہیں اور زوروشور سے تبلیغ کا کام کرتے ہیں، اور مسلمانوں کو قادیانی بناتے ہیں۔ جب سے پاکستان نے ان کو غیرمسلم قرار دیا ہے اس وقت سے نائیجیریا سے حج پر جانے والے مسلمانوں کے لیے متذکرہ تصدیق نامہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ نائیجیریا میں بعض      صوفی سلسلوں کے اثرات بھی ہیں۔ ’ناصرالاسلام‘ کے دو اہم رہنما سراحمد بیلو اور تفاوا بلیوا پہلے فوجی انقلاب کے دوران میں شہید کردیے گئے تھے۔ یہ رہنما اتنے بااثر تھے کہ اپنے تبلیغی دوروں کے دوران میں ایک وقت میں ۱۰ہزار روایت پرست قبائل افراد کو مسلمان کرلیا کرتے تھے، اور یہی بات مقامی اور بین الاقوامی عیسائیت کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ ہرسطح کا نائیجیرین مسلمان، گو بہت سی معاشرتی اور معاشی خرابیوں میں ملوث ہے، مگر نماز بڑی پابندی سے ادا کرتا ہے۔ مسلمانوں کی زندگیوں میں یہ انقلاب اڑھائی سال قبل ایک مسلمان مصلح عثمان ڈان فوڈیو کی طویل اور انقلابی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ مسلمان بحیثیت مجموعی سیاسی سمجھ بوجھ اور عمدہ انتظامی صلاحیتوں کے باعث بڑے بااثر ہیں۔ گو، وہ جدید انگریزی تعلیم کی کمی کے باعث غیرتعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں،   حالانکہ وہ اپنے دین اور قرآن کی تعلیم اور معاشرے کے نظم و نسق کے حوالے سے دوسروں سے بہت آگے ہیں۔ نائیجیریا میں قرآن کے حفاظ کی بڑی تعداد ملتی ہے۔ اس کے باوجود رمضان کے دوران ختم قرآن کا رواج کم ہے۔ قرآن پڑھنے پڑھانے اور قرأت کی محفلیں خوب ہوتی ہیں۔

برطانوی استعمار کے دوران عیسائیت نائیجیریا میں داخل ہوئی اور عیسائی مبلغین کی سرگرمیوں کے باعث مشرقی علاقوں کے قبائل نے عیسائیت اختیار کی۔ پھر برطانوی دور میں قائم کیے گئے تعلیمی اداروں کے ذریعے بھی عیسائیت کو فروغ ملا۔ ہر ادارے میں بائبل اور عیسائیت کی تعلیم لازم تھی۔ عالمی عیسائیت نے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں براعظم افریقہ میں بڑے پیمانے پر عیسائیت کی تبلیغ اور عیسائی براعظم بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس پروگرام کے تحت بے شمار مبلغین مغربی ممالک اور امریکا سے لائے گئے۔ یہ تحریک ہزار جتن کے باوجود کامیاب نہ ہوسکی۔ دل چسپ مناظر یہ دیکھنے میں آئے کہ مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کا صدر جو خود عیسائی مبلّغ تھا اور عیسائیت کی تبلیغ و توسیع کا ذمہ دار تھا، اس کے اپنے گھر کے افراد نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح نائیجیریا میں عیسائی بشپ کی اپنی بیٹی اموجہ سے مسلمان ہوگئی کہ اسے مسلمانوں میں شادی کے بندھن کے طریقے بڑے سادہ اور پُراثر نظر آئے۔

نائیجیریا میں اسلام اور عیسائیت ہمیشہ ایک دوسرے کے مقابل رہے۔ لہٰذا یہاں کچھ عرصے بعد کہیں نہ کہیں عیسائی مسلم فساد ضرور ہوتا ہے۔ دونوں طرف سے بڑی تعداد میں اموات ہوتی ہیں اور گرجا اور مساجد اور گھر جلائے اور مسمار کردیے جاتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق ۱۹۹۹ء سے اب تک مذہبی اور سیاسی فسادات ۱۶ہزار انسانوں کو نگل چکے ہیں۔ صرف ۲۰۱۱ء میں شمالی نائیجیریا میں ۸۰۰؍افراد موت کے گھاٹ اُتارے گئے۔ اسی سال کے دوران میں بائوچی، بنوئے،نساروا اور ترابا ریاستوں میں ۱۲۰؍افراد فساد کی نذر ہوئے۔ یہ سب ریاستیں شمالی نائیجیریا کی ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ فسادات ہوتے کیوں ہیں؟ مشرقی اور جنوبی ریاستوں کے عیسائی افراد روزگار اور تجارت کی غرض سے شمالی نائیجیریا آتے ہیں اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرنا اور قبضہ جمانا شروع کردیتے ہیں۔ عیسائیت اور اسلام کی بنیاد پر بُغض و عناد جو پہلے سے ہی ہے اور اس پر قبائلی عناد بھی۔ بس پھر کہیں سے شعلہ بھڑکتا ہے، علاقے کے باسی دوسرے علاقے کے واردین کو علاقہ چھوڑنے کو کہتے ہیں اور یہی فساد کی جڑ بن جاتا ہے۔ اس کے ردعمل میں عیسائی علاقوں میں بھی یہی صورت پیدا ہوتی ہے۔

  • بوکو حرام اور نائیجیریا: ’بوکوحرام‘ نام سے شمالی نائیجیریا میں مسلمان نوجوانوں کا   ایک گروپ گذشتہ کئی سال سے متحرک ہے۔ اس گروپ کا طریقۂ واردات لوگوں کو گولی کا نشانہ بنانا، بم پھینکنا، یا خودکش حملہ کرنا ہے۔ اس گروپ نے ۲۰۱۱ء میں ۴۲۵؍افراد کو شمالی نائیجیریا میں تہِ تیغ کیا۔ نومبر ۲۰۱۱ء میں ریاست میڈوگوری میں نصف درجن حملوں میں پولیس افسران، سیاست دانوں، اپنے مخالف مذہبی رہنمائوں اور قبائلی رہنمائوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ ریاست یوبے کے مقام ڈماٹرو میں بم حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ۱۰۰؍افراد مارے گئے۔ پھر اسی سال، یعنی ۲۰۱۱ء میں اگست کے مہینے میں نائیجیریا کے دارالخلافہ ابوجا میں اقوامِ متحدہ کی عمارت پر خودکش بم حملہ کیا جہاں ۲۴؍افراد لقمۂ اجل بنے اور ۱۰۰؍افراد زخمی ہوئے۔ یہ اس گروپ کی اب تک کی کارستانی ہے۔ اس گروپ کے سرغنہ محمد یوسف اور اس کے بہت سے ساتھیوں کو ۲۰۰۹ء میں پانچ پولیس افسران اور تین اسسٹنٹ پولیس کمشنر نے عدالتی کارروائی اور انصاف کے بغیر تہِ تیغ کردیا اور آج تک ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جاسکی۔

بوکوحرام گروپ خالص مقامی لوگوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے مگر اس کو کیا کہیے کہ اقوام متحدہ کے آفس کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں اس گروہ کا تعلق القاعدہ سے تلاش کرلیا گیا ہے۔ یہ اس طرح ہوا کہ اس گروپ کے سات ممبران جو نائیجر (نائیجیریا کی ہمسایہ اسٹیٹ) سے گزر رہے تھے، جب گرفتار ہوئے تو ان کے قبضے سے ملنے والی بعض چیزوں کا تعلق القاعدہ سے پایا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو القاعدہ نے ’اسلامی مغرب‘ میں تربیت بھی دی تھی۔

’بوکوحرام‘ کی درج بالا سرگرمیوں کی وجوہات کے بارے میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی رپورٹ ۲۰۱۱ء سے معلوم ہوتا ہے کہ:

  •  نائیجیریا کی حکومت اس کے افراد اور ادارے انتہا درجے کی کرپشن میں ملوث ہیں ، مثلاً ۲۰۰۳ء میں ۳۵قومی سطح کے سیاست دان ملوث پائے گئے۔ اسی طرح چار گورنر، قومی اسمبلی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اور ممبران بھی ملوث پائے گئے اور ایک مرکزی وزیر بھی۔ مگر ان کے خلاف سیاسی اثرات اور عدالتی نظام کی کمزوری کے باعث کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔
  • حکومت نائیجیریا نے آج تک ان پولیس اور ملٹری افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جنھوں نے ملاکو اسٹیٹ میں مذہبی فسادات کے دوران میں ۱۳۰؍افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور نہ ان فوجیوں ہی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی جنھوں نے بنوئے اسٹیٹ میں ۲۰۰۱ء میں ۲۰۰؍افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا ۔ اسی طرح فوج کے ان افراد کے خلاف بھی کارروائی نہ کی گئی جنھوں نے ہائلسہ ریاست میں ۱۹۹۹ء میں اوڈی نام کے ایک قصبہ کو تہس نہس کردیا تھا۔
  •  بڑے پیمانے پر سیاست دانوں، اور کاروباری شرفا کا ملکی کرنسی اور دولت کو اسمگل کرنا۔
  •  عوام میں انتہا درجے کی غربت ، غذا کی کمی اور اس کے نتیجے میں بیماریوں کے باعث لوگوں کی اموات ۔
  •  تیل پیدا کرنے والے علاقے میں تیل کی چوری اور حکومتی اداروں اور ذمہ داران کی بے حسی۔
  •  مذہبی اور قبائلی گروہوں میں آپس کی منافرت اور ایک دوسرے کے خلاف فسادات۔
  • چوری، ڈکیتی، اور قتل اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی___ ان حالات میں کسی بھی ملک میں مقامی ’بوکوحرام‘ کا پیدا ہوجانا کوئی اچنبھا نہیں۔

تیونس سے شروع ہونے والی بہار نے کئی عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مصر، لیبیا اور یمن میں بھی آمریت کا جنازہ نکل گیا۔ اب دیریا سویر شام کی باری ہے۔ اس بہارِ جاں فزا سے افریقہ کے دیگر ممالک بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ مغربی افریقہ کا ملک سینیگال اس کی بہترین مثال ہے جہاں دارالحکومت ڈاکار اور دیگر شہروں میں عوام صدر عبد اللہ واد کے خلاف سر سے کفن باندھ کر میدان میں نکل آئے ہیں۔ سینیگال مغربی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کا کُل رقبہ ایک لاکھ ۹۶ہزار ۷سو۲۳ مربع کلومیٹر، یعنی پاکستان کے رقبے کا ایک چوتھائی ہے، جب کہ آبادی ایک کروڑ ۲۳ لاکھ ہے، یعنی پاکستان کی آبادی کا پندرھواں حصہ۔   ملک معاشی لحاظ سے پاکستان سے بھی غریب ہے۔ فی کس آمدنی۱۶۰۰ ڈالر فی کس سالانہ ہے، جب کہ پاکستان کی تقریباً۲۱۰۰ڈالر فی کس سالانہ ہے۔ سینیگال کی آبادی ۹۶ فی صد  مسلمان ہے البتہ قدیم مذہبی رسومات اور روایاتِ بت پرستی بیش تر آبادی میں اسی طرح پائی جاتی ہیں،     جس طرح ہمارے ہاں ہندوانہ تہذیب اور رسوم و رواج کا چلن ہے۔

سینیگال نے ہم سے ۱۳ برس بعد، یعنی ۱۹۶۰ ء میں فرانسیسی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ پانچ مقامی قبائلی زبانوں کے علاوہ فرانسیسی یہاں کی سرکاری زبان رہی ہے۔ اب عربی کی طرف  بھی بہت زیادہ رجحان ہے۔ افریقہ کا یہ ملک اس لحاظ سے دیگر بیش تر افریقی، لاطینی امریکی اور ایشیائی و عرب ممالک سے ممتاز و ممیز ہے کہ یہاں فوجی انقلابات کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ یہاں کی فوج ہے بھی نہایت مختصر۔ سینیگال کے بحیثیت مجموعی اپنے ہمسایوں سے تعلقات اچھے ہی رہے ہیں البتہ اپنے پڑوسی ملک مالی کے ساتھ اس وقت کچھ تلخیاں پیدا ہوئی تھیں جب دونوں ممالک نے آزادی کے بعد آپس میں ایک وفاق قائم کیا، مگر چار ہی ماہ بعد یہ وفاق بکھر گیا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس علیحدگی میں بھی نہ کوئی گولی چلی، نہ فسادات ہوئے۔ یوں ان افریقی ممالک نے مہذب ہونے کا ثبوت دیا۔ سینیگال کے پڑوس میں سبھی ممالک چھوٹے چھوٹے ہیں۔ ان میں گامبیا، ماریتانیہ، مالی، گِنی اور گِنی بسائو شامل ہیں۔ یہاں اسلام کی روشنی تقریباً اُسی دور میں پہنچی جب مسلمان شمال مغربی افریقہ سے ہسپانیہ کی طرف منتقل ہوئے۔

 سینیگال میں صحیح اسلامی تعلیم کا فقدان رہا ہے۔ اس کے باوجود شمال مغربی افریقہ کے عرب ممالک الجزائر، لیبیا، تیونس اور مراکش کے اسلامی جہاد کی وجہ سے یہاں بھی ایک محدود طبقے میں جہادی جذبات پروان چڑھے۔ سنوسی تحریک، عبدالقادر الجزائری اور عمرمختار سے محبت کرنے والا ایک مختصر حلقہ ڈاکار اور دیگر بڑے شہروں میں موجود ہے۔ تحریک ِآزادی میں بھی یہ لوگ    پیش پیش تھے، مگر فرانسیسی استعمار نے ان کو ہمیشہ زیرعتاب رکھا۔ بدقسمتی سے عیسائی مشنری اور قادیانی بھی یہاں اپنی سرگرمیاں فرانسیسی دور ہی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور بے پناہ وسائل رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ بات باعث ِ اطمینان ہے کہ سینیگال کی آبادی نے عیسائیت یا قادیانیت کو قبول نہیں کیا۔

سینیگال میں اسلامی تحریک بالکل نئی اور قوت کے لحاظ سے ابھی بہت محدود ہے۔ تاہم، مصر اور سعودی عرب کی جامعات سے فارغ ہوکر آنے والے نوجوان عقائد و افکار کے لحاظ سے درست اسلامی سوچ کے حامل ہیں۔ انھوں نے اخوان المسلمون کی فکر سے متاثر ہوکر ۱۹۹۹ء میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام ’جماعت عبادالرحمن‘ ہے۔ اس کے سربراہ ایک ذہین اور تعلیم یافتہ مسلمان استاد احمد جاں ہیں۔ وہ مولانا مودودی کے مداح ہونے کے ساتھ تحریکِ اسلامی پاکستان سے بھی متعارف ہیں۔ والی سعودی عرب نے بھی اس ملک میں کافی کام کیا ہے اور ان کے موجودہ نمایندے استاد رجب مصری ہیں۔ اسلامی تحریک کے لیے ایسے قابل نوجوانوں کا وجود بساغنیمت ہے۔ ان کا کام محدود تھا مگر گذشتہ سال کی عرب بہار نے جب اسلامی بہار کا روپ دھارا تو ان کی جماعت کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ ابھی وہ انتخابی معرکے میں اُترنے کے قابل نہیں مگر ان کے منظم کام کی وجہ سے تمام اپوزیشن پارٹیاں ان کی حمایت کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کی برتری اور جمہوریت کی حقیقی بحالی و تحفظ کی یقین دہانی کرانے والے صدارتی اُمیدوار کی حمایت کریں گے۔ طلبا میں ’طلبا عبادالرحمن‘ کے نام سے ان کی ملک گیر تنظیم موجود ہے جو فعال ہے اور مستقبل میں قوت میں اضافے کا باعث ہوگی۔ پاکستان سے اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر انتظاربٹ اور دیگر ماہرین امراضِ چشم اطبا کی نگرانی میں گذشتہ چند برسوں سے افریقہ کے  جن ممالک میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں ان میں سینیگال بھی قابلِ ذکر ہے۔ ان کیمپوں کی وجہ سے بھی عباد الرحمن تنظیم کو اخلاقی و عمومی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یہاں فرانس اور بھارت نے سونے کی کانوں اور کھاد کی فیکٹریوں کے ذریعے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ پاکستان کا اس ملک کے ساتھ محض سفارت خانے کی حد تک تعلق ہے۔

سینیگال پر مختلف اوقات میں پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے اپنے استعماری پنجے گاڑے مگر آخر میں ۱۸۴۰ء سے ۱۹۶۰ء تک یہ سرزمین فرانسیسی کالونی ہی رہی۔ یورپ اور امریکا میں افریقی آبادی کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا تو اس کا سب سے بڑا اڈا بھی اسی ملک میں تھا۔ فرانس نے سینیگال کو آزادی دینے سے قبل اپنا ایک سدھایا ہوا شاگرد لیوپولڈ سیدار سینغور، کمال چابک دستی سے اس ملک پر مسلط کر دیا۔ موصوف خاندانی لحاظ سے مسلمان تھے مگر فرانسیسی تہذیب و ثقافت کے دل دادہ، فرنچ زبان کے شاعر اور آزاد ملک کی حکمرانی کے باوجود اس بات کے خواہش مند کہ انھیں فرانسیسی شہریت مل جائے۔ انھیں اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔ ہاں، فرانس کی سرپرستی میں اس ملک پر ایک جماعتی نظام کے تحت اس نے ۲۰سال حکمرانی کی۔ اس عرصے میں اس نے جو قانون، جب چاہا اور جیسے چاہا بنایا اور پھر جب چاہا اسے تبدیل کر دیا۔ وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ سیکولرازم اور سوشلزم کا دل دادہ صدر سینغور ہر روز معاشی پالیسیاں بدلتا تھا۔ ملک کی معیشت تباہ ہو رہی تھی۔   اس دوران میں اس نے ایک مفید اور انقلابی کام بھی کر دکھایا۔ ۱۹۷۳ء میں اس نے دیگر چھے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر ’مغربی افریقی معاشی کمیونٹی‘ کی بنیاد رکھی جس سے ان سب کو کم و بیش تجارتی فوائد حاصل ہوئے۔ سینیگال اقوام متحدہ ،او آئی سی اور افریقن یونین کا ممبر ہے۔

سینیگالی عوام بھی اپنے صدر سے تنگ آچکے تھے۔ عوامی پریشانی نے ابھی کوئی احتجاجی رنگ یا انقلابی لہر کا روپ نہیں اختیار کیا تھا کہ اپنے خلاف عوامی نفرت کا احساس کرتے ہوئے صدر سینغور نے اقتدار سے استعفا دے دیا۔ تیسری دنیا کے ممالک اور وہ بھی پس ماندہ افریقہ میں یہ مثال یکتا ہے۔ دراصل سینغور کے اقتدار سے ہاتھ اٹھانے کی وجہ اس کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی اقتصادی ابتری اور عوام الناس کی شدید پریشانی اور غم و غصہ تھا۔ اس نے یہ شاطرانہ چال بھی چلی کہ اپنے نائب عبدہٗ ضیوف کو اقتدار سونپ دیا۔ ضیوف نے کسی حد تک عوام کے لیے سیاسی آزادی کا راستہ ہموار کیا مگر ہنوز ملکی سیاست یک جماعتی سیاسی پارٹی کے گرد ہی گھومتی رہی۔ نئے صدر نے معاشی صورتِ حال کو سنبھالا دینے کے لیے اپنے پیش رو کی قومیائی ہوئی بیش تر کمپنیوں اور اداروں کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کر دیا۔ ملک کے اندر خام لوہا اور فاسفیٹ کی اچھی خاصی مقدار موجود ہے، اسے ترقی دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد ضیوف نے کثیرالجماعتی سیاست کی اجازت دی۔ حکومت کے مخالفین نے اپنی سیاسی جماعت بنالی جس کے بعد کئی نئی جماعتیں بھی وجود میں آنے لگیں۔

ضیوف کے ۲۰سالہ دورِا قتدار کے بعد مارچ ۲۰۰۰ء میں صدارتی الیکشن ہوئے تو اپوزیشن کے نمایندے عبد اللہ واد نے ۶۰ فی صد ووٹ حاصل کرکے صدارتی الیکشن جیت لیا۔ ۲۰سال صدارتی منصب پر فائز رہنے کے بعد اپنی عبرت ناک شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ضیوف نے بڑی خوش اسلوبی سے اقتدار نو منتخب صدر کے حوالے کر دیا۔ اب ملک کے اندر سیاسی آزاد یاں بھی تھیں اور مختلف پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام کے تحت اپنے منشور بھی پیش کر رہی تھیں۔ عبد اللہ واد اگرچہ انتخاب کے ذریعے برسر اقتدار آیا مگر وہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے جنون میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے جو اصلاحات کیں، اس کے نتیجے میں ملک بھر میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ ان اصلاحات میں سے ایک یہ تھی کہ عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا نیز انھیں جایداد اور وراثت کا حق بھی قانون میں دے دیا گیا۔ اس عرصے میں عبد اللہ واد نے اپوزیشن کے دبائو پر دستور میں ایک ترمیم کی، جس کے تحت کوئی بھی صدر دو میقات سے زیادہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔

عبد اللہ واد ۲۰۰۱ء میں منتخب ہوا تھا، پھر ۲۰۰۷ء میں، اور اب ۲۰۱۲ء کے انتخابات کے لیے دوبارہ اُمیدوار بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دستور میں ترمیم کے بعد دستور کی دفعہ ۲۷ اور ۱۰۴ واضح طور پر کسی بھی منتخب صدر کے لیے دو سے زیادہ مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنا ممنوع قرار دیتی ہیں۔ عبد اللہ واد نے یہ مکرو حیلہ اختیار کیا ہے کہ اس کا پہلا انتخاب دستوری ترمیم سے قبل ہوگیا تھا، اس لیے اسے اس مرتبہ بھی انتخاب میں حصہ لینے پر کوئی دستوری قدغن نہیں ہے۔ حزبِ مخالف کی تمام پارٹیاں صدر کے خلاف میدان میں نکل آئی ہیں۔ دارالحکومت ڈاکار اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے ہورہے ہیں اور کئی جگہ سرکاری عمارتوں کو توڑ پھوڑ کے ذریعے نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی تحریکوں کے اثرات سینیگال میں بھی پہنچ گئے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی ’’سوشلسٹ پارٹی آف سینیگال‘‘ کے صدارتی امیدوار عثمان تنور دیانگ نے ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد اللہ واد صدارت پر غاصبانہ اور غیر دستوری قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ دستور کی خلاف ورزی کرکے اس نے خود کو مجرم ثابت کر دیا ہے۔ اب عوامی غیظ و غضب سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے۔

اس دوران میں عبد اللہ واد نے دستوری مجلس کے پانچ ارکان سے تصدیق کروالی ہے کہ اس کا یہ الیکشن تیسرا نہیں، دوسرا شمار ہوگا۔ اپوزیشن صدارتی امیدوار نے کہا کہ یہ ہزاروں کا مجمع جو فیصلہ دے رہا ہے، وہ درست ہے یا پانچ افراد کا فیصلہ درست تسلیم کیا جائے۔ اس موقع پر مجمع عام میں صدر عبد اللہ واد کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔ ایک دوسرے صدارتی امیدوار  ابراہیم فال نے کہا: ’’صدر واد کے اس خود غرضانہ موقف کے نتیجے میں پورا ملک مستقل طور پر تشدد اور بدامنی کا شکار ہوجائے گا۔ اگر صدر نے اپنی حکومتی مشینری کے ذریعے پرتشدد راستہ اختیار کیا تو عوام اس سے زیادہ قوت کے ساتھ اس کا جواب دیں گے‘‘۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے تمام طبقے بھی صدر کی راے سے اختلاف کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان سینیگالی آرٹسٹ یوسف اندور نے کہا کہ سینیگال کا ہر شخص آج سڑکوں پر نکل آیا ہے اور لوگوں کے چہروں سے واضح طور پر پڑھا جاسکتا ہے کہ وہ موجودہ صدر کی رخصتی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ایک معروف سیاسی تجزیہ نگار اور ماہرِ امور سینیگال مختار ولد سیداتی نے کہا: ’’سینیگال میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہی جذبات پروان چڑھ رہے ہیں جو عالم عرب میں دیکھے گئے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے عرب میڈیا بہت مقبول ہو رہا ہے۔ یہ بات ہر گز بعید نہیں کہ عرب دنیا میں رونما ہونے والا انقلاب ان تمام افریقی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے جو عربی ثقافت سے متاثر ہیں اور اس لحاظ سے سینیگال بہت نمایاں ہے ‘‘۔

حسن البنا شہیدؒ اپنی ڈائری میں بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’گرمیوں کی چھٹیوں میں ہماری ایک سرگرمی یہ بھی ہوتی کہ ہم تین ساتھی ’محمودیہ‘ کے محلوں کو آپس میں تقسیم کرتے ہوئے، فجر کی نماز سے پہلے وہاں جاکر لوگوں کو جگایا کرتے۔ میں جب کسی مؤذن کو اذان کے لیے جگاتا تو ایک پُرکیف لذت محسوس کرتا۔ میں انھیں جگانے کے بعد اسی جادو اثر اور جذباتی کیفیت میں دریاے نیل کے کنارے جاکھڑا ہوتا۔ ’محمودیہ‘ کی مساجد قریب قریب واقع تھیں، جب اذانیں شروع ہوتیں تو مجھے محسوس ہوتا کہ گویا ایک ہی اذان، مختلف مؤذنوں کے گلے سے نکل کر فضا میں رَس گھول رہی ہے۔ ایسے میں میرا دل کہتا: ان سارے مؤذنوں کو مَیں نے جگایا ہے، اب اتنی  بڑی تعداد میں جو بھی نمازی جاگیں گے، ان کی عبادت میں، مَیں بھی برابر کا شریک ٹھیروں گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مجھے اپنے لطیف حصار میں لے لیتا: ’’جو شخص کسی کو بھلائی کی طرف بلاتا ہے تو اسے اپنی نیکی کا اجر بھی ملتا ہے اور اس شخص کی نیکی کا بھی جو اس کی وجہ سے نیکی پر عمل پیرا ہوا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہتا ہے اور اس سے ان کے اجر میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوتی۔ پھر اسی لذت و سعادت سے سرشار مَیں جب مسجد پہنچتا اور دیکھتا کہ ان تمام نمازیوں میں سے مَیں سب سے کم عمر ہوں، تو سراپا حمدوسپاس بن جاتا کہ تمام تر توفیق اسی کے ہاتھ میں ہے‘‘۔

 مذکرات الداعیۃ (داعی کی ڈائری) کے عنوان سے شائع اس کتاب کی یہ سطور امام حسن البنا کی شہادت کے ۶۳برس بعد بھی قاری کو اسی کیفیت سے آشنا کردیتی ہیں جو حسن البنا نامی بچہ محسوس کیا کرتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت کہ: ’’یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہنا ہے‘‘۔ آج ہرصاحب ِ ایمان کو تقویت فراہم کر رہا ہے۔ حسن البنا بچپن میں مؤذنوں کو جگاتے رہے اور ۴۳برس کی مختصر عمر ختم ہونے سے پہلے، پوری دنیا میں تکبیر بلند کرنے والی نسلوں کی فصلیں بوگئے۔ آج دنیا تغیر پذیر ہے، اور جہاں بھی تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے سب تسلیم کرتے ہیں کہ بیداری کے پیچھے اصل ’اذان‘ اسلامی تحریک کے کارکنان کی ہے۔

  • تیونس، مصر اور مراکش کے بعد ۲فروری ۲۰۱۲ء کو کویت میں بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ نتائج آئے تو سب نے کہا: اخوان جیت گئے، اسلامی پارٹیاں جیت گئیں۔ خلیج کی اس مال دار ترین ریاست میں گذشتہ تقریباً اڑھائی صدیوں سے آلِ صباح خاندان مقتدر ہے، لیکن خلیج میں سب سے پہلے، یعنی ۱۹۶۳ء میں انتخابی عمل بھی کویت ہی میں شروع ہوا۔ اگرچہ پارلیمنٹ کا کردار محدود ہوتا ہے، حکومت بنانے کا اختیار بھی امیرکویت ہی کو حاصل ہے، لیکن منتخب پارلیمنٹ نہ صرف عوام کے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ حکومتی کارکردگی پر بھی کڑی نگاہ رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے کویتی اسمبلی اکثر اپنی عمر پوری نہیں کرپاتی۔ ابھی ۲۰۰۹ء میں انتخابات ہوئے تھے، اس سے پہلے بالترتیب ۲۰۰۸ئ، ۲۰۰۶ئ، ۲۰۰۳ئ، ۱۹۹۹ء اور ۱۹۹۶ء میں بھی انتخاب ہوئے، لیکن عرب انقلابات کے بعد حالیہ انتخابات کی اہمیت کئی حوالوں سے زیادہ تھی۔

 تیونس اور مصر کی عوامی تحریکوں کے بعد کویت میں بھی حکومتی کرپشن پر تنقید کی لَے بہت بلند ہوگئی اور نومبر ۲۰۱۱ء میں تو مظاہرین نے  اسمبلی ہائوس پر باقاعدہ دھاوا بول دیا۔ وزیراعظم کے خلاف مواخذے کی تحریک آگئی۔ اس تناظر میں امیرکویت نے اسمبلی توڑتے ہوئے نئے انتخاہات کروانے کے اعلان کردیا۔ کویت کی پارلیمانی تاریخ میں  پہلی بار ۵۰؍ارکان کے ایوان میں اسلام پسند ارکان کو ۳۴ نشستیں ملی ہیں۔ اخوان کی سیاسی پارٹی کا نام ’دستوری تحریک‘ ہے۔ اسے ۵۰ میں سے پانچ نشستیں ملیں (چار ان کے اپنے اور ایک حمایت یافتہ) اخوان، سلفی، تحریک، آزاد ارکان اور دیگر اسلامی گروپوںکو ملا کر دیکھیں تو انھیں ۲۲نشستیں ملی ہیں۔ سات شیعہ ارکان اسمبلی ان کے علاوہ ہیں۔ اس طرح اگر اسلام پسند ارکان اسمبلی مل کر اور مؤثر حکمت عملی سے فعال کردار ادا کریں تو مخصوص قبائلی اور خاندانی نظام کے باوجود، کویت میں ایک  نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے۔ انتخابات میں اسلامی رجحانات رکھنے والے تجزیہ نگار بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ حکومتی کرپشن کے مقابلے میں عوام کے پاس ایک ہی راہ بچتی ہے کہ وہ اسلامی قیادت منتخب کریں۔

  • نومنتخب ارکان اسمبلی کو بھی اپنی اس ذمہ داری کا بخوبی ادراک ہے۔ کویت کے ارکان اسمبلی ہی نہیں مصر، تیونس اور مراکش کی حکومتیں بھی اس آزمایش پر پورا اُترنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہیں۔ حال ہی میں الاخوان المسلمون کے نائب مرشدعام جمعہ امین سے ملاقات ہوئی تو بتا رہے تھے کہ نومنتخب ارکان اسمبلی کے لیے پارلیمانی امور کے خصوصی ٹریننگ کورس شروع کردیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اخوان کے نظم نے اسرہ جاتی نظام کے تحت خصوصی تربیت گاہوں کا بھی مستقل نظام بنادیا ہے۔ ان تربیت گاہوں میں کسی بھی اور موضوع کے بجاے تعلق باللہ میں اضافے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے مختلف حلقوں کی طرف سے گاہے بگاہے ایسے اقدام و بیانات سامنے آجاتے ہیں کہ قوم کے حقیقی مسائل ان کی گرد میں کھو جاتے ہیں۔

۴فروری کو مصر کے بڑے شہر بورسعید (پورٹ سعید) میں دو مصری ٹیموں ’المصری فٹ بال کلب‘ اور ’الاھلی فٹ بال کلب‘ کے میچ کے دوران بھڑک اُٹھنے والے ہنگامے سے ۷۷؍افراد جاں بحق اور ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ زخمی ہوگئے۔ اس دوران انتظامیہ نے لڑائی کی آگ بجھانے کے بجاے اس پر مزید تیل چھڑکا، اسٹیڈیم کے دروازے بند کردیے گئے، روشنیاں بجھا دی گئیں، لوگوں کے پاس اچانک ہتھیار بھی آگئے۔ پارلیمنٹ نے فوری تحقیقات کے لیے کمیٹی بنادی، پتا چلا کہ خود وزارتِ داخلہ کے لوگ اس پوری خوں ریزی میں ملوث تھے۔ ہنگاموں کی اس آگ کو جلد ہی ملک کے دوسرے شہروں تک بھی پھیلا دیا گیا اور کئی روز تک ملک میں فسادات جاری رہے۔ کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک کسی ذمہ دار کو سزا نہیں دی گئی۔ اس دوران میں عبوری حکومت کے وزیرداخلہ میجر جرنل محمد ابراہیم کا بیان آیا بھی تو یہ کہ وزارتِ داخلہ کے قوانین کے مطابق پولیس والوں کی داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں ہے، جو لوگ بھی اس قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ بیان کے بعد ایک اور بحث اور مناقشت شروع ہوگئی۔ اخوان کے ذمہ دار ڈاکٹر البلتاجی نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب وزیرداخلہ! حیرت ہے، آپ کو غنڈا گردی اور جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی تو کوئی فکر نہیں لیکن آپ نے داڑھی کی بنیاد پر معرکہ آرائی شروع کردی ہے۔ اصل کام پر توجہ دیں، قوم کو غیرضروری بحثوں میں نہ اُلجھائیں۔

مصر میں انتخابی عمل ابھی جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے بعد اب مجلسِ شوریٰ (سینیٹ) کے انتخابات بھی مکمل ہوگئے ہیں۔ ۲۷۰ کے ایوان میں سے دوتہائی، یعنی ۱۸۰؍ارکان براہِ راست عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں، جب کہ باقی ۹۰؍ارکان آیندہ منتخب ہونے والا صدر    نامزد کرے گا۔ سینیٹ انتخابات کے باقاعدہ نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، لیکن اندازہ یہی ہے کہ ایوانِ بالا میں بھی قومی اسمبلی کی طرح اخوان کی الحریۃ والعدالۃ (حریت و عدالت) پارٹی ہی سب سے بڑی پارٹی ہوگی اور اسے تقریباً اسمبلی جتنی نشستیں یہاں بھی مل جائیں گی۔ انتخابی عمل میں اب اہم ترین مرحلہ صدرمملکت کا انتخاب ہے۔ ۱۰مارچ سے کاغذات نامزدگی وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ حسنی مبارک نے صدارتی اُمیدوار کی نامزدگی ہی جوے شیر نکال لانے کی طرح ناممکن بنا دی تھی۔ اُمیدوار کے لیے سب سے اہم شرط یہ قرار دی گئی تھی کہ اسے کم از کم ۲۵۰؍ارکانِ پارلیمنٹ نامزد کریں۔ واضح رہے کہ دسمبر ۲۰۱۰ء کے آخری انتخاب میں ’ہردل عزیز‘ حسنی مبارک کے علاوہ کسی پارٹی کو ایک بھی نشست نہیں حاصل ہوئی تھی، یعنی نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔ صدر مملکت چھے سال کے لیے منتخب ہوتا تھا اور وہ تاحیات اُمیدوار بن سکتا تھا۔ انقلاب کے بعد مارچ ۲۰۱۱ء میں ریفرنڈم کے ذریعے ۷۷ فی صد عوام کی تائید سے بننے والے عبوری دستور میں کسی بھی صدارتی اُمیدوار کے لیے کم از کم ۳۰؍ارکان اسمبلی کی تائید کافی ہے۔ صدرمملکت چارسال کے لیے منتخب ہوگا اور وہ مسلسل صرف دوبار منتخب ہوسکتا ہے۔ یہ شرط بھی رکھ دی گئی ہے کہ اس کے پاس مصری شہریت کے علاوہ کوئی دوسری شہریت نہ ہو۔ حسنی مبارک نے فردِ واحد کا اقتدار یقینی بنانے کے لیے کبھی اپنا کوئی نائب نہیں بنایا تھا، اب شرط لگادی گئی ہے کہ صدرِمملکت زیادہ سے زیادہ ۶۰روز میں اپنا نائب صدر متعین کردے گا۔

الاخوان المسلمون کے لیے اس وقت اپنا صدر مملکت منتخب کروانا انتہائی آسان ہے، لیکن ملک میں قومی وحدت کو یقینی بنانے کے لیے وہ اپنے اس اعلان پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں کہ اخوانی صدر نہیں لائیں گے، قوم کے لیے قابلِ قبول کوئی بھی اچھا شہری ہمارا اُمیدوار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ان کا یہ بھی اعلان ہے کہ اگرچہ ہم اکیلے بھی بآسانی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں لیکن حالیہ عبوری حکومت کی مدت (جون میں) ختم ہونے پر ہم سب کے ساتھ مل کر قومی حکومت تشکیل دیں گے۔ اسپیکراسمبلی کے انتخابات کے موقع پر بھی انھوں نے دیگر پارٹیوں کو ساتھ ملاتے ہوئے انھیں مختلف کمیٹیوں میں برابر کا حصہ دیا۔ کئی مواقع پر اخوان اور سلفی حضرات کے مابین اختلافات کھڑے کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن اخوان کے کارکنان کا نعرہ ہے: السلفیۃ والاخوان اِید واحدۃ فی کل مکان، ’’اخوان اور سلفیت ہرجگہ یک مشت ہیں‘‘۔

اخوان کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں ان کے بارے میں پھیلائے جانے والے خدشات اور خوف کے باوجود ہرطبقے سے ان کے حق میں آواز اُٹھ رہی ہے۔ اخوان کی جیت کے تناظر میں پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ یہ مولوی حضرات فن و ثقافت کے دشمن ہیں۔ جواباً ایک معروف قومی گلوکار شعبان عبدالرحیم (المعروف: الشعبولا) نے اپنا تازہ نغمہ پیش کیا: یامھاجم الاخوان ھتروح من ربک فین، ’’اخوان پر اعتراضات کرنے والو! اپنے رب سے بچ کر کہاں جائو گے‘‘۔ فین ملقوش فی الزھرۃ عیب  - قالوا أحمر الخدین، ’’انھیں پھول میں کوئی عیب نہ ملا تو کہنے لگے: اس کے گال سرخ کیوں ہیں؟‘‘۔ سبحان اللہ اُوپر تبدیلی آجائے تو نغمہ و لحن بھی اللہ کی یاد دلانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

اخوان کے ذمہ دار بتا رہے تھے کہ ہم لا صِدَام ، یعنی عدم تصادم کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ کسی سے بھی تصادم کے بجاے ، قوم کے تمام صالح افراد  سے تعاون چاہتے ہیں۔ اس وقت اسلام پسند عناصر کو ناکام بنانے کے لیے ہی نہیں، ملک ہی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ پوری قوم کو متحد کیے بغیرچارہ نہیں ہے۔ قاہرہ کے اِلیٹ اسٹڈیز سنٹر (Elite Studies Centre) کے سربراہ احمد فودہ لکھتے ہیں: ’’۸۰ کی دہائی کے آغاز میں امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے معروف صہیونی دانش ور برنارڈ لویئس کو ذمہ داری سونپی تھی کہ عالمِ اسلام کو مزید ٹکڑے کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرے۔ اس نے ایک مسودہ تیار کیا، جسے امریکی کانگریس نے ۱۹۸۳ء میں اپنے ایک خفیہ اجلاس کے دوران منظور کیا اور تب ہی سے اس پر عمل درآمدشروع ہے۔ احمد فودہ مزید لکھتے ہیں کہ حسنی مبارک کے دور میں مصر کو توڑنے کے لیے جتنا کام ہوا،      وہ ہماری پوری تاریخ میں نہیں ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ میں انتخابی مہم کی انچارج مصری خاتون دولت عیسیٰ نے اس وقت اپنے عہدے سے استعفا دے دیا جب انھیں معلوم ہوا کہ انسٹی ٹیوٹ کے تمام بیرونی فنڈ براہِ راست امریکی کانگریس سے آتے ہیں، اور ادارے کی سرگرمیوں کا اصل ہدف یہ ہے کہ ۲۰۱۵ء تک مصر کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے۔ احمد فودہ کا کہنا ہے کہ حسنی مبارک کے اقتدار کے بعد ملک میں مذہبی، علاقائی اور قبائلی بنیادوں پر جتنے بھی فسادات شروع کروائے گئے ہیں ان کے پیچھے ملک توڑنے کی یہی امریکی سازش کارفرما ہے۔

  • کانگریس میں بلوچستان کے حوالے سے آنے والی قرارداد کے تناظر میں اہلِ پاکستان کے لیے ان سازشوں کی حقیقت سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ تقریباً ہرمسلم ملک میں انھی بیرونی سازشوں کے تانے بانے دکھائی دے رہے ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کے محب ِ وطن دانش ور حضرات نے بھی قوم کے سامنے دہائی دی ہے کہ عوامی لیگ حکومت میں تمام حدیں پھلانگتا ہوا بھارتی اثرونفوذ  ملکی سلامتی کے لیے سمِ قاتل ہے۔ نمایاں بھارتی سیاست دان بالخصوص بی جے پی کے رہنما کھلم کھلا مطالبہ کرتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء میں مشرقی پاکستان سے بھارت جانے والے ہندوئوں کو واپس بنگلہ دیش بھیجا جائے۔ ان کے لیے اور بنگلہ دیش کی دوسری ہندو آبادی کے لیے، بنگلہ دیش کے ۶۵ میں سے ۱۹؍اضلاع کو ایک آزاد ہندو ریاست کی حیثیت دی جائے۔ ظاہر ہے کہ ہرجانب سے ہندستان کی گرفت میں پھنسی اس ریاست کی آزاد حیثیت کچھ بھی نہ ہوگی، لیکن بنگلہ دیش کو بتدریج ہڑپ کرنے کا آغاز ہوجائے گا۔

اسی طرح بنگلہ دیش کا ۱۱/۱ علاقہ چٹاگانگ پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے، جہاں مقامی قبائل اور بنگالی آبادی نصف نصف تناسب رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور متعدد مغربی غیرسرکاری تنظیمیں یہ مہم بھی چلا رہی ہیں کہ بھارت کی دو ریاستوں منی پور اور میزورام کے علاوہ بنگلہ دیش کے اس ۱۱/۱ علاقے کو بھی ایک الگ ملک کی حیثیت دی جائے۔ اسرائیل کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے یہ مقامی قبائل بنیادی طور پر یہودی تھے۔ دوسری طرف دونوں ہندستانی ریاستوں میں بھی ۵۰ہزار یہودی رہتے ہیں، جن کی اکثریت اسرائیلی پاسپورٹ رکھتی ہے۔ اسرائیل نے بنگلہ دیش کی قبائلی آبادی کو بھی دھڑادھڑ اسرائیلی دورے کروانا شروع کردیے ہیں۔ بنگلہ دیشی دانش وروں کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے قلب میں پیوست صہیونی ریاست کی طرح جنوب مغربی ایشیا میں بھی ایک صہیونی ریاست کاخنجر گھونپ دیا جائے۔ انڈونیشیا      سے مشرقی تیمور اور سوڈان سے جنوبی سوڈان کو کاٹ پھینکنے کی مہم سرانجام دینے والے لارڈ ابورر (Lord Abburir) کو چٹاگانگ ہل ٹریکٹس کمیشن (Chitagong Hill Tracts Commission) کا سربراہ بناکر میدان میں اُتار دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کو بھی ان ساری سازشوں کا ادراک تو یقینا ہوگا، لیکن مکمل بھارت نوازی نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔

اب ایک طرف یہ ساری سازشیں ہیں اور دوسری طرف عالمِ عرب سے آنے والی خوش گوار بہار کے جھونکے۔ یمن میں بھی ۳۳سال کے بعد پہلی بار ایسے صدارتی انتخاب ہوئے کہ جس میں سابق صدر علی عبداللہ شریک نہیں تھا۔ عبدہ منصور ہادی سب کا مشترک اُمیدوار تھا۔ اخوان نے بھی بھرپور ساتھ دیا اور اب سابقہ ڈکٹیٹر کے اقتدار کا حتمی خاتمہ ہوگیا۔ یہ تمام تبدیلیاں دشمن کے تمام منصوبوں کے علی الرغم اور لاتعداد قربانیوں کے بعد وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ اہلِ ایمان کو یقینِ کامل ہے کہ ان شاء اللہ جیت حق ہی کو ملنا ہے۔ بیرونی دشمن بھی نامراد ہوگا اور اندرونِ ملک ان کے غلام بھی۔

چلتے چلتے یہ خوش گوار خبر بھی سن لیجیے کہ ۱۰فروری کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں سیدابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن کے سنہالی زبان میں ترجمے کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ سری لنکن وزیراعظم تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے اور امیرجماعت اسلامی سری لنکا رشید حج الاکبر صدرمجلس۔ عرب انقلابات کے بعد دنیا اسلام اور اسلامی تحریک کو نئی روح سے سمجھنا چاہتی ہے۔ تفہیم القرآن کا سنہالی ترجمہ اس سلسلے کی اہم کڑی ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔ اس تقریب کی اطلاع سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کی مٹھاس پھر عود کرآئی کہ:’’جو شخص کسی کو بھلائی کی طرف بلاتا ہے تو اسے اپنی نیکی کا اجر بھی ملتا ہے اور اس شخص کی نیکی کا بھی کہ جو اس کی وجہ سے نیکی پر عمل پیرا ہوا، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہتا ہے اور اس سے ان کے اجر میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوتی‘‘۔ امام حسن البنا شہید اور سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ اور ان جیسے لاتعداد بزرگوں کی تاقیامت جاری رہنے والی نیکیوں کا ذکر کرتے ہوئے آیئے ہم بھی سوچیں، بلکہ فیصلہ کریں کہ ہمیں پیچھے کیا چھوڑنا ہے۔

  •  مصر: ۵۵ روز جاری رہنے والے طویل انتخابی عمل کے بعد ۲۱ جنوری ۲۰۱۲ء کو    حتمی نتائج آئے تو اخوان المسلمون کو ۴۹۸ میں سے ۲۳۵، یعنی ۱۲ئ۴۷فی صد نشستیں حاصل ہوئیں۔ اسے ایک کروڑ ایک لاکھ ۳۸ ہزار ووٹ ملے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے تین جماعتی سلفی اتحاد ’حزب النور‘ کو۱۲۳ نشستیں ملیں، جب کہ دیگر پارٹیاں اس سے بھی پیچھے تھیں۔ اخوان نے پہلے دومرحلوں میں ہی اپنی اس قوت کا اندازہ کرلیا تھا۔ ذمہ داریوں کے حوالے سے مشاورت میں ایک راے یہ آئی کہ یہ سنہری موقع ہے، لہٰذا اب ہمیں صدر مملکت بھی اپنا لانا چاہیے، وزیر اعظم اور اسپیکر بھی اور تمام اہم وزرا بھی۔ لیکن طویل غوروخوض کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم نہ تو صدارت کے لیے اپنا  کوئی اُمیدوار لائیں گے اور نہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے، البتہ اسپیکر ہم اپنا لائیں گے۔ اعتراض کرنے والے تو اس اعلان کو منفی رنگ دے رہے ہیں۔ کوئی اسے راہِ فرار کہہ رہا ہے اور کوئی فوج سے گٹھ جوڑ، لیکن اخوان یکسو ہیں کہ ہمیں بہرصورت اپنی ترجیحات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ ٹھیک ہے کہ تاریخی کامیابی حاصل کرلینے کے بعد سب مناصب حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن اس دستور ساز اسمبلی کا اصل فریضہ ملک کو ایک جامع اور تمام بنیادی حقوق کا ضامن پہلا دستور دینا ہے، اس لیے ہماری تمام تر توجہ اسی پر مرکوز رہنا چاہیے۔ انقلاب کے بعد امیرجماعت اسلامی سیدمنور حسن کی قیادت میں مصر جانے والے وفد کو مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع بتا رہے تھے: ملک طویل عرصے تک ظالم اور کرپٹ ڈکٹیٹرشپ کے پنجوں میں جکڑا رہا۔ ہمارا معاشرہ اسلامی نظام کی برکات سے پوری طرح آگاہ ہی نہیں ہے۔ ہماری کوشش اور حکمت عملی یہ ہوگی کہ آیندہ انتخاب میں پارلیمنٹ کے اندر زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کریں، حکومت سازی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں، لیکن فی الحال اپنی ساری توجہ معاشرے کو بابرکت اسلامی نظام سے متعارف کروانے اور ملک کے لیے جامع دستور وضع کرنے پر مرکوز رکھیں۔

۲۱جنوری ۲۰۱۲ء کو حتمی نتائج کا اعلان ہوا اور انقلاب کی پہلی سالگرہ سے دو روز پہلے، ۲۳جنوری کو اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ ۴۹۸ منتخب ارکان کے علاوہ ۱۰ نامزد کردہ کا اعلان کیا گیا، حلف برداری ہوئی اور پھر اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا۔ درست قرار دیے جانے والے ۴۹۶ ووٹوں میں سے اخوان کے اہم رہنما ڈاکٹر محمد سعد الکتاتنی ۳۹۹  ووٹ لے کر پہلی آزاد اسمبلی کے اسپیکر   چُن لیے گئے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے کہ گذشتہ سال ڈاکٹر سعد ’لیمان‘ جیل میں تھے اور آج  پارلیمنٹ کے اسپیکر بنادیے گئے۔ دوسری جانب عین اسی روز، فرعون صفت سابقہ حکمران حسنی مبارک اپنے دونوں بیٹوں اور ظلم ڈھانے کے ذمہ دار وزیر داخلہ سمیت عدالت کے کٹہرے میں نشانِ عبرت بنا کھڑا تھا۔
 ڈاکٹر سعد کی کامیابی کا اعلان ہوا تو وہ مبارک بادیں جمع کرتے ، اسپیکر کے لیے مخصوص نشست پر آئے اور حمدوثنا کے بعد یہ آیت پڑھی: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ط ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَo (یونس ۱۰:۵۸)’’کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنھیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر محمد سعد اکتوبر۲۰۰۸ء میں مینارِ پاکستان پارک میں    منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام میں اخوان کی نمایندگی کرچکے ہیں۔ پاکستان اور اہلِ پاکستان سے خصوصی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ دھیما مزاج لیکن اپنے فرائض کی ادایگی کے لیے ہردم چوکنا و بیدار رہنے والے ڈاکٹر سعد کے انتخاب کو مصر کے ہرمخلص شخص نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یوں جیسے عمارت کی پہلی مضبوط اینٹ، ٹھیک اپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہو۔
اب ۲۹ جنوری سے مجلس شوریٰ، یعنی سینیٹ کے انتخاب شروع ہونا ہیں۔ یہ بھی تین مراحل میں اور عام انتخابات کے ذریعے مکمل ہوں گے۔ پھر دونوں ایوان مل کر ۱۰۰ رکنی دستوری کمیٹی منتخب کریں گے۔ کمیٹی زیادہ سے زیادہ چھے ماہ کے دوران دستور کا مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی اور دستور پیش ہونے کے ۱۵ روز کے اندر اندر اس پر عوامی ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ اسی دوران صدارتی انتخابات کا اہم ترین مرحلہ بھی آئے گا۔ یہ بھی طے ہے کہ موجودہ عبوری صدر،  جرنل حسین الطنطاوی کو یہ عہدہ بہرصورت ۳۰ جون سے پہلے پہلے نومنتخب صدر کے سپرد کرنا ہوگا۔ فوجی حکومت سے اس تاریخ کا اعلان کروانا بھی عوامی تحریک کی ایک بڑی کامیابی ہے۔آیندہ مراحل میں جو چند بڑے چیلنج درپیش ہیں ان میں سے ایک فوج کے کردار کا تعین بھی ہے۔  فوجی عبوری مجلس کی یقینا یہ کوشش ہوگی کہ ۱۰۰ رکنی دستوری کمیٹی اور اس کی سفارشات میں اس کا کردار بھرپور رہے۔ انتخابات کے دوران اس نے قومی مجلس مشاورت کی تشکیل بھی اسی نقطۂ نظر سے کی تھی لیکن اخوان کی طرف سے اس میں شرکت سے معذرت اور مجلس مشاورت کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد وہ خود ہی مرجھا کر رہ گئی تھی۔ اب اسمبلی وجود میں آجانے کے بعد اس کی حیثیت مزید کم ہوگئی ہے اور اس کے کئی ارکان مستعفی بھی ہو چکے ہیں۔
اخوان اور دیگر کئی جماعتیں یہ نہیں چاہتیں کہ فوج کے ساتھ خواہ مخواہ کا تصادم مول لیا جائے،لیکن وہ یقینا یہ بھی نہیں چاہتیں کہ اصل اقتدار و اختیار فوج ہی کے ہاتھ میں رہے۔ نومنتخب اسپیکر محمد سعد الکتاتنی نے اپنے افتتاحی خطاب میں شفاف انتخابات کی نگرانی کرنے والے ججوں کے علاوہ فوج کو بھی بھرپور خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے وعدے کے مطابق، مقررہ وقت پر پہلے  حقیقی اور شفاف انتخابات کروادیے۔  یار لوگوں نے اس بات کو فوج اور اخوان کے مابین گٹھ جوڑ قرار دینا شروع کردیا ہے۔ کچھ بزر جمہروں نے تو اخوان کو خود امریکا کے ساتھ ہی نتھی کردیا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اخوان صرف اور صرف اللہ پر بھروسے اور عوام کی تائید سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ کسی بھی گٹھ جوڑ اور سازش کو اللہ کے ساتھ بدعہدی اور شہدا کے خون سے غداری سمجھتے ہیں۔
ذرا ایک نظر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کو بھی دیکھ لیجیے۔ اس الزام کی قلعی کھل جائے گی۔  وہاں ایک قیامت برپا ہے۔ حکومتی ذمہ داران، فوجی جرنیلوں اور دانش وروں سے لے کر عام  شہری تک ہر کوئی واویلا کررہا ہے کہ اسرائیل کا مستقبل سنگین خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔  روزنامہ یدیعوت احرونوت اپنے ایک مضمون ’’مشرق وسطیٰ مسلمانوں کی جنت یہودیوں کا جہنم‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے: ’’تیونس میں اسلامسٹس ۴۰فی صد  ووٹ لے گئے ہیں، مراکش میں تقریباً ۳۰فی صد، جب کہ مصر میں اخوان اور سلفی تحریک نے مل کر ۷۰فی صد  ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔ لیبیا میں قذافی کے قتل کے بعد اسلامی شریعت چاہنے والے اقتدارکے ایوانوں میں ہیں۔ شام کی عبوری قومی کونسل کے ۱۹؍ ارکان میں سے ۱۵ اسلامی ذہن رکھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر لکھتا ہے: ’’سیکولرازم لیکن کرپشن سے بھرپور چھے دہائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نظام میں ڈھل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب یہ خطہ تمام یہودیوں اور بے دین عناصر کے لیے جہنم بن کر رہ جائے گا‘‘۔
 یروشلم پوسٹ دھمکی آمیز لہجے میں لکھتا ہے:’’اسرائیلی فوج کے منصوبہ بندی کمیشن نے فوری طور پر نئے فوجی دستے ترتیب دینے کی سفارش کی ہے۔ جلد یا بدیر ہمیں یقینا مزید فوج کی ضرورت پڑے گی‘‘۔  وزیر اعظم اسحق رابن کا دست راست ایتن ہاپر لکھتا ہے: ’’اسرائیل کی سلامتی بلکہ اس کے وجود کو اس وقت تین بڑے خطرات لاحق ہیں اور وہ ہیں: عالم عرب میں انقلاب کی بہار، اسرائیل سے اس کا حقِ وجود سلب کرنے کی کوششیں، اور ڈیموگرافک (یعنی ہماری مخالف آبادی کے بڑھتے چلے جانے کا) خطرہ‘‘۔ مزید لکھتا ہے: ’’عرب ممالک میں ریڈیکل اسلامی طاقتیں اقتدار میں آرہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے گرد ایسی طاقتوں کا حصار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا جو اس کے وجود ہی کے خلاف ہیں‘‘ (روزنامہ معاریف، ۲۷ نومبر ۲۰۱۱ئ)۔ جنرل بنیامین الیعازر ۱۵نومبر اور پھر ۳دسمبر کو اسرائیلی سرکاری ریڈیو پر کہتا ہے: حالات تبدیل ہوگئے، مستقبل غیرواضح اور تاریک ہوچلا ہے‘‘۔اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک بھی دہائی دیتا ہے: ’’مصری انتخابات کے نتائج انتہائی پریشان کن اور ہوش اڑا دینے والے ہیں‘‘۔ یہ اور اس طرح کے لاتعداد تبصرے اور تحریریں ہیں جو اسرائیل کی پریشان خیالی کا پرتو ہیں۔ اس کیفیت میں امریکا اسلامی تحریکات کی کامیابی کو کیسے دیکھتا ہوگا، اندازہ مشکل نہیں ہے۔ عالمِ عرب میں تبدیلی کا آغاز امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کے لیے ایک کڑوی حقیقت تھی۔ امریکا اگر ان تمام ممالک اور ان کے عوام سے دشمنی مول لے لیتا تو اس وقت عالمِ اسلام میں اس کے خلاف جتنی نفرت پائی جاتی ہے اس میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ظالم ڈکٹیٹروں کے خلاف غصے کا عوامی لاوا، امریکا کی رہی سہی ساکھ کو بھی راکھ بنا دیتا۔ عرب انقلابات کی حمایت میں بیان جاری کردینے کا مطلب کسی بھی صورت یہ نہیں ہے، کہ وہ عوام کی حقیقی نمایندہ منتخب حکومتوں کو دل سے قبول کرلے گا۔ 
تیونس ، مراکش اور مصر کی نومنتخب حکومتوں کے سامنے بیرونی خطرات ہی اصل آزمایش نہیں ہیں، اندرونی خطرات اس سے بھی زیادہ مہیب ہیں۔ بیرونی طاقتیں بھی مختلف اندرونی عناصر ہی کو آلۂ کار بناتی ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کھلم کھلا اعلان کرچکی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران عالمِ عرب کی لبرل طاقتوں کی مدد کے لیے انھیں کروڑوں ڈالر دے چکی ہے۔ مصر کے نیم سرکاری اخبار الاہرام کے مطابق مصری پولیس نے ۳۰دسمبر کو سول سوسائٹی کے نام پر کام کرنے والی بعض تنظیموں کے دفاتر پر چھاپہ مارا، تو وہاں سے لاکھوں ڈالر اور اہم دستاویزات برآمد ہوئیں۔
l یمن: مصر کی طرح یمنی عوام کے لیے بھی جنوری ۲۰۱۲ء کا آخری عشرہ تاریخی لمحات لے کر آیا۔ ۲۲جنوری کو اس وقت عوام کو اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا جب جنرل علی عبداللہ صالح نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ: ’’میں علاج کے لیے امریکا جا رہا ہوں۔ ۳۳سالہ اقتدار میں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں‘‘۔ علی عبداللہ بھی ڈکٹیٹر تھا، لیکن یمن کی قبائلی روایات کے باعث وہ عوام پر صرف ایک حد تک ہی ظلم ڈھا سکتا تھا۔ ہرشخص روایتی خنجر اور کلاشنکوف کے علاوہ مضبوط قبائلی حصار کا تحفظ رکھتا تھا، لیکن چال بازیوں اور کہہ مکرنیوں میں یمنی صدر نے سب کو مات دے دی ہے۔ گذشتہ تقریباً ۱۱ ماہ کی عوامی تحریک میں پوری قوم سڑکوں پر اُمڈ آئی تھی۔ صدر نے باربار مذاکرات کیے، معاہدے کیے، اعلانات کیے لیکن ہربار اپنا ہرعہدوپیمان شوقِ اقتدار کی نذر کر دیا۔ خطرناک قاتلانہ حملہ بھی ہوا، اہم حکومتی عہدے داران مارے گئے، خود بھی شدید زخمی ہوگیا، علاج کے لیے سعودیہ لے جایا گیا، کئی روزہ افواہ گرم رہی کہ دنیا سے چلا گیا لیکن موقع ملتے ہی جھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ نمودار ہوکر کہا کہ میں بدستور صدر ہوں۔ پھر اعلان کیا کہ اقتدار چھوڑ رہا ہوں، لیکن رات کی تاریکی میں ایک روز خاموشی سے یمنی دارالحکومت صنعا کے ایئرپورٹ اور وہاں سے ہیلی کاپٹر میں سیدھا ایوانِ صدر میں جا اُترا۔ آمد اتنی خفیہ تھی کہ ایئرپورٹ اتھارٹی اور ذاتی محافظوں کو بھی چند لمحے پہلے اطلاع دی گئی۔
یمنی عوامی تحریک کو مصر، تیونس یا لیبیا و شام کی طرح بہت زیادہ میڈیا کوریج نہیں ملی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنے بڑے بڑے عوامی اجتماع یمن میں ہوئے ہیں، ان میں سے کسی بھی ملک میں نہیں ہوئے۔ ۱۱ ماہ کی تحریک کے دوران کوئی جمعہ ایسا نہیں تھا کہ جب ہربڑے شہر میں کئی کئی لاکھ لوگ جمع نہ ہوئے ہوں۔ ایک مارچ تو ایسا انوکھا تھا کہ لاکھوں افراد نے جنوبی شہر تعز سے دارالحکومت تک ۲۵۰کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ پانچ روزہ پیدل سفر کے دوران یہ کاررواں جہاں سے بھی گزرا مزید افراد شریک ہوتے گئے، لیکن ’مضبوط کرسی‘ کے جنون میں مبتلا صدر نے دارالحکومت کے باہر ہی شرکا کو کچلنے کی ناکام کوشش کی۔ ۱۲شہید اور ۳۰۰سے زائد افراد زخمی ہوئے لیکن عوام کو قصرِصدارت پہنچنا تھا، وہ بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔ امریکا جانے سے پہلے علی عبداللہ نے اپنی آخری سیاسی جنگ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ و رفقاے کار کے لیے استثنا حاصل کرنے کے لیے لڑی۔ وہ بضد رہا کہ اقتدار چھوڑنے کے بعد مجھ پر مظاہرین کو قتل کرنے سمیت کسی بھی طرح کا مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ عوام نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا لیکن صدر خود ہی اسمبلی سے قرارداد منظور کروا کے بزعمِ خود تمام مقدمات سے بَری ہوگیا۔ علی عبداللہ صالح سمیت کوئی حکمران اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ دامن اگر واقعی پاک ہے، تو عدالت سے کیوں گھبراتے ہو، اور اگر جرائم کیے ہیںتو کوئی عارضی استثنا ’اصل عدالت‘ اور اس کی سزا سے کیوں کر بچائے گا۔ وہ سزا تو خالدین فیھا کا اعلان بھی  سناتی ہے۔
علی عبداللہ کے خلاف تحریک کے آغاز ہی سے مغربی تجزیہ نگاروں نے لکھنا شروع کردیا تھا کہ یمن میں تبدیلی آئی تو یہاں بھی اخوان المسلمون برسرِاقتدار آجائے گی۔ اب اتنی تبدیلی تو آگئی کہ ۳۳سال سے انا ولاغیری کا نعرہ لگانے والا رخصت ہوگیا۔ لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ تیونس اور مصر کی صورت حال سے بچنے کے لیے ۲۱فروری کو صدارتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دو سال کے عہدصدارت کے بعد پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔ یمن میں اسلامی تحریک التجمع الیمنی للاصلاح کے نام سے سرگرم عمل ہے۔ دھن، دھونس اور دھاندلی کے بے شمار ہتھکنڈوں کے باوجود، الاصلاح پارلیمنٹ میں دوسرے نمبر پر آجاتی تھی۔ حالیہ وسیع تر عوامی تحریک کے دوران تو اس کا کردار مرکزی رہا۔ وہ نہ تو یہ دعویٰ کرتے ہیں اور نہ  اس کے لیے کوشاں ہی ہیں کہ علی عبداللہ جیسا راندۂ درگاہ کردینے والا اقتدار انھیں مل جائے۔   البتہ ایک حقیقت نوشتۂ دیوار ہے کہ عوام کو ڈکٹیٹر سے نجات مل گئی اور اب عوام آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں گے۔ مراکش، تیونس اور مصر کی طرح یمن کے عوام بھی اپنا فیصلہ بہرصورت اسلام ہی کے حق میں دیں گے کہ یہی عالمِ عرب میں تبدیلیوں کا اصل عنوان ہے۔
l شام: عالمِ عرب میں جاری حالیہ تحریکوں میں اب شام کی عوامی تحریک رہ گئی ہے جو ڈکٹیٹر سے نجات کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ نصف صدی سے حکمران اسد خاندان، دن رات قتلِ عام میں مصروف ہے۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق اب تک شہدا کی تعداد ساڑھے چھے ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ لیکن شامی عوام میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ احتجاج کا دائرہ ایک کے بعد دوسرے شہر تک وسیع ہو رہا ہے۔ بشارالاسد اقتدار کی ناکام جنگ میں کسی بھی دشمن فوج سے زیادہ ظلم ڈھا رہا ہے۔ عرب لیگ نے شرماتے لجاتے ایک جائزہ وفد شام بھیجا، لیکن قتل عام ان کی موجودگی میں بھی جاری رہا۔ اب ایک اور وفد بھیجا جا رہا ہے۔ مظالم تو بشار بھی دیگر ڈکٹیٹر حکمرانوں کی طرح ڈھا رہا ہے، لیکن ایک بات میں اس کی ظالم افواج سب سے بازی لے گئی ہیں۔ وہ ظلم کے آخری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے گرفتار شدہ شہریوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ بشارالاسد کی تصویر کو سجدہ کریں۔ وہ انھیں بشار پر دل و جان نچھاور کردینے کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتی ہیں۔ انھوں نے درودیوار پر یہ کفریہ نعرے لکھ دیے ہیں: لا الٰہ الا الوطن ولا رسول الا البعث، ’’وطن کے علاوہ کوئی معبود اور بعث پارٹی کے علاوہ کوئی رسول نہیں‘‘۔یہ تشدد اور نعرے اپنی تمام تر تصاویر اور وڈیوز کے ساتھ دنیا کے سامنے ہیں۔ دوسری طرف عوام کا نعرہ ہے: لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، الشہید حبیب اللّٰہ، (شہید اللہ کا محبوب ہے)___ یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ بالآخر غالب کس کلمے کو ہوکر رہنا ہے۔
_______________

تیونس کے انتخابات کے نتائج

گندھے ہوئے سفید بالوں والے ایک ۷۰سالہ تونسی باباجی مظاہروں کے لیے سڑکوں پر کھڑے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہہ رہے تھے: ’’نوجوانو!  تیونس کو آج تم نے بچانا اور کامیاب بنانا ہے‘‘۔ پھر اپنے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے:’’ہم تو اسی تاریخی لمحے کی خاطر بڑھاپے کی نذر ہوچکے ہیں‘‘۔ نوجوانوں نے اپنی تقریباً تین ہفتے کی تحریک اور سیکڑوں جانوں کی قربانیاں دے کرتیونسی ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ تقریباً ۱۰ماہ کے بعد تیونس کی تاریخ میں پہلی بار آزادانہ انتخابات منعقد ہوئے۔ ذرائع ابلاغ نے آج پھر اسی تیونسی باباجی کو تلاش کرڈالا۔ معلوم ہوا کہ بن علی کے مظالم سے تنگ آکر وہ سعودیہ چلے گئے تھے۔ محنت مزدوری کرتے رہے، پھر زیادہ مشقت کے قابل نہ رہے تو تیونس واپس آکر آج کل ایک کیفے ٹیریا چلارہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ نے انھیں ان کا وہ جملہ یاد دلایا جسے ذرائع ابلاغ نے تیونسی تحریک کا عنوان بنادیا تھا۔ باباجی بے اختیار کہنے لگے: ’’وہ لمحہ واقعی تاریخی لمحہ تھا۔ تیونس اب اپنی تاریخ کا بالکل نیا باب رقم کررہا ہے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے گندھے ہوئے بالوں والا بابا زار و قطار رونے لگا۔ لیکن آج اس کے یہ آنسو خوشی کے آنسو تھے۔ آج وہ اپنے ملک میں آزاد تھا اور ہزاروں شہریوں کو جیل میں ڈالنے والا اور لاکھوں شہریوں کو ملک بدر کرنے والا بن علی خود سعودی عرب میں پناہ لیے ہوئے تھا۔

آج باباجی ہی نہیں تیونس کا ایک ایک نوجوان آنکھوں میں خوشی کے آنسو لیے ،دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے ووٹ ڈال رہا تھا۔ الیکشن کا ڈھونگ تو بن علی بھی ہر چار پانچ سال بعد رچاتا تھا، لیکن اس کے نتائج پہلے سے طے اور معلوم ہوتے تھے۔ ۲۳؍اکتوبر۲۰۱۱ء کے انتخابات کو    عوام نے ’عید الانتخابات‘ (انتخابی عید) قرار دیا۔ ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ  شام سات بجے پولنگ کا وقت ختم ہوجانے کے بعد جو ووٹر انتخابی سٹیشن کے احاطوں میں آگئے تھے وہ رات ۱۲ بجے تک ووٹ ڈالتے رہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ووٹنگ کا تناسب ۸۰ فی صد اور   کئی علاقوں میں ۹۰ فی صدسے بھی زیادہ ہے۔ پورا انتخابی عمل پُرامن رہا۔ لوگ دن بھر طویل قطاروں میں لگے رہے لیکن کہیں کوئی تشدد آمیز واقعہ پیش نہیں آیا۔

۲۰ مارچ ۱۹۵۰ء کو فرانس سے آزادی حاصل ہونے کے بعد صرف بن علی اور اس کے  پیش رو حبیب بورقیبہ ہی تیونس کے حکمران رہے۔ دونوں کا سب سے بڑا ہدف بھی اسلام اور  اسلام پسند افراد ہی رہے۔ بورقیبہ نے ۱۹۸۱ء میں صدارتی فرمان نمبر ۱۰۸ جاری کرتے ہوئے  ’فرقہ وارانہ لباس‘ پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس قانون سے اصل مراد خواتین کے حجاب پر پابندی تھی۔ فرقہ واریت کا نام دیتے ہوئے حجاب کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں جب بن علی نے اپنے گرو کا تختہ اُلٹا تو سب سے زیادہ سختی اسی قانون کو نافذ کرنے کے لیے برتی گئی۔ کسی بھی سرکاری دفتر، تعلیمی ادارے یا ہسپتال میں سر پر اسکارف لینے والی خواتین کا داخلہ سختی سے بند کردیا گیا۔ سیکڑوں طالبات صرف اسکارف کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہنے پر مجبور ہوگئیں۔ کئی خواتین ہسپتالوں کے دروازوں پر دم توڑ گئیں کہ وہ سکارف اتارنے پر تیار نہ تھیں۔ نمازوں کے لیے مسجد جانے والے نوجوانوں کو چن چن کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ تیونس کی اسلامی تحریک کو کالعدم   قرار دے دیا گیا۔ اس کے ۳۰ہزار کارکنان گرفتار کرلیے گئے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اسے عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے رہے۔ بن علی کے جانے کے بعد آج پہلے انتخابات ہوئے تو عوام نے اسی اسلامی تحریک کو سب سے زیادہ ووٹ ڈالے۔

تیونس کی آبادی ایک کروڑ ۷ لاکھ کے قریب ہے۔ ووٹروں کی تعداد ۴۱ لاکھ ہے۔    حالیہ انتخابات میں ۲۱۷ نشستوں پر چناؤ ہوا، جن کے لیے ۱۲ ہزار اُمیدوار میدان میں تھے لیکن انتخابات متناسب نمایندگی کی بنیاد پر ہوئے۔ بن علی کے دور میں صرف حکمران پارٹی کا تسلط تھا۔ باقی یا تو براے نام تھیں یا کالعدم قرار دے دی گئی تھیں۔ اب آزادی ملی تو ۱۵۰ سے زائد پارٹیاں وجود میں آگئیں۔ انتخابات سے پہلے ہی سب کہہ رہے تھے کہ اسلامی تحریک نہضت پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ ۹؍اکتوبر کو نہضت پارٹی کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی سے تفصیلی ملاقات ہوئی تو وہ بھی بتارہے تھے کہ اگرچہ ہم گذشتہ ۲۰ برس سے ملک بدری اور کالعدم قرار دیے جانے کی قیمت چکا رہے تھے، ہماری مصروفیات بھی عملاً صرف یہ رہ گئی تھیں کہ اپنے گرفتار کارکنان کے   اہل خانہ کی کچھ نہ کچھ امداد کرتے رہیں، لیکن اب بحال ہوئے ہیں تو چند ماہ میں ہمارے تقریباً ۲۰ہزار ارکانِ جماعت نے پورے ملک میں وسیع پیمانے پر عوامی تائید حاصل کرلی ہے۔ تحریک نہضت کے مقابل کوئی قابل ذکر پارٹی نہیںرہی۔ اگر ہم سے ہماری کامیابی زبردستی نہ چھین لی گئی تو ہم سب سے بڑی پارٹی بنیں گے۔ ہم نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی پارٹی کے دروازے پوری قوم کے لیے کھولتے ہوئے اور دیگر پارٹیوں کو بھی ساتھ ملاتے ہوئے آیندہ نظام حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کریں۔ ۲۴؍اکتوبر کو شیخ راشد غنوشی کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تحریک نہضت کو ۵۲فی صد ووٹ اور ۲۱۷ میں سے ۱۱۵نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ سادہ اکثریت تو الحمد للہ مل گئی،  لیکن اب آیندہ مراحل مشکل تر ہیں۔

اب دستور ساز اسمبلی کو عبوری حکومت تشکیل کرنا اور ملک کو ایک نیا دستور دینا ہے۔ ایک سال کے بعد دستور پر ریفرنڈم اور پھر پارلیمانی و صدارتی انتخابات منعقد ہونا ہیں۔ یہ تمام مراحل مشکل تر ہیں۔ یورپ بالخصوص فرانس تیونس کے رگ و پے میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔  شیخ راشد غنوشی اور ان کے ساتھی بھی اللہ پر راسخ ایمان اور نظریات سے مکمل وابستگی کے ساتھ ساتھ حکمت اور وسعت قلبی سے پوری قوم کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ حالیہ نتائج نے قوم کو مزید یکسو کیا ہے۔ عام شہری بھی کہہ رہے ہیں: ’’آج کا انتخاب اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے‘‘۔ فرمان خداوندی کی حقانیت دنیا دیکھ اور تسلیم کررہی ہے: وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ o (القصص۲۸:۵)، ’’اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انھیں پیشوا بنادیں اور انھی کو وارث بنائیں‘‘۔

۲۰۱۱ء کے آغاز میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عالم عرب میں جبر واستبداد کے نظام سے نجات مل سکتی ہے۔ تیونس کے اسلام دشمن حکمران سے نجات ابرِ رحمت کاپہلا قطرہ تھا۔ آج وہاں کے انتخابی نتائج نے تبدیلی کے ایک اور سفر کا آغازکردیا ہے ۔ ان شاء اللہ انتخابی کامیابیوں کا یہ قافلہ اگلے ماہ مصر پہنچے گااور اس کے چھے ماہ بعد لیبیا میں چار عشروںکے بعد، پہلے حقیقی انتخابات ہونا ہیں۔ آج وہاں بھی خوشی کے آنسو رواں ہیں۔

لیبیا میں قذافی کا زوال

لیبیا کے دوسرے بڑے شہربن غازی کے بڑے میدان میں لاکھوں لوگ جمع تھے ۔ عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل خطبہ حجۃ الوداع کا اقتباس پیش کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: ’’اے اہل لیبیا ! ہمارے خون، ہمارے مال اور ہماری عزتیں ہم پر حرام کردی گئیں ہیں۔ ہمیں سب کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنا ہے۔ ‘‘انھوں نے گرفتاری کے بعد معمر القذافی اور اس کے بیٹے کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم قذافی پر مقدمہ چلاکر ظلم کا حساب لینا چاہتے تھے، انھیں قتل کرنے میں ہمارا کوئی مفاد نہیں تھا، ہم تحقیقات کریں گے کہ انھیں کس نے اور کیوں قتل کیا۔ پھر جب انھوں نے اعلان کیا کہ اب ہم آزاد ہیں اور ہمیں ایک آزاد مسلمان شہری کی حیثیت سے فیصلے کرنا ہیں۔ گذشتہ حکومت نے ہم پر ظلم ڈھائے ہیں لیکن خبردار رہو کہ ہمیں کسی سے انتقام نہیں لینا، تو مجمع میں اکثر خواتین نے پہلے تو ہونٹوں پر ہاتھ کی کپی بناتے ہوئے عرب خواتین کا معروف اظہار مسرت بلند کیا اور ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔ انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ جبر کا نظام لد گیالیکن خوشی کے آنسو ڈکٹیٹر سے نجات کا اعلان کررہے تھے۔

۴۲ سال تک بلا شرکت غیرے سیاہ وسفید کا مالک بنے رہنے والا معمر القذافی عجیب شخص تھا۔ وہ ایک طرف تو مغرب اور اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتا تھا ۔پوری دنیا میں انقلابی قوتوں کی حمایت کا اعلان کرتا ۔ لیکن اپنے ملک میں لوگوں کی تمام تر آزادیاں سلب کیے ہوئے تھا۔ اگر اس کے ۴۲ سال اقتدار اور اس کے پورے نظام پر کوئی بات بھی نہ کریں، تب بھی گذشتہ فروری میں اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کے حوالے سے اس کی پالیسی ہی اس کا سب سے ناقابلِ معافی جرم قرار پاتا ہے۔ تحریک شروع ہوئی تو اسے القاعدہ اور دہشت گردوں کی تحریک قرار دیتے ہوئے سختی سے نمٹنے کا اعلان کردیا۔ مظاہرے پھر بھی نہ رُکے تو عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے انھیں فرمایا: ’’تم ہوتے کون ہو مجھ سے استعفا طلب کرنے والے___ میں اگر صرف تمھارے ملک کا سربراہ ہوتاتو استعفا تمھارے منہ پر دے مارتا___ میں شہنشاۂ افریقا ہوں اور دنیا کے کروڑوں عوام میرے ساتھ ہیں‘‘۔ پھر فوجوں کو حکم دیتے ہوئے کہا: ’’یہ کاکروچ ہیں___ چوہے ہیں___ انھیں پٹرول چھڑک کر بھسم کردو‘‘۔ رمضان المبارک کے آخر میں جب طرابلس پر بھی عوا م کا قبضہ ہوگیا تب بھی قذافی نے آڈیو کیسٹ کے ذریعے تقاریر جاری رکھیںاور ہر بار لیبیا کے عوام کوــ’ جرذان‘ (چوہے) قرار دیتے ہوئے انھیں مارڈالنے کا حکم ہی سناتے رہے ___ آخر کار جب پکڑے گئے تو ہاتھ میں سونے کا پستول تھا لیکن نالے کے ایک پائپ میں چھپے ہوئے تھے___ گرفتار کرنے والے کئی جذباتی نوجوان چیخ کر کہہ رہے تھے: یاجرذ ___یا جرذ، سبحان اللہ! زندہ گرفتار کرنے کے بعد تشددکرنا اور قتل کردینا اسلام کی جنگی تعلیمات کے یقینا منافی ہے لیکن اُولی الابصار کے لیے اس میں بھی بڑی عبرت ہے۔

ناٹو افواج کی بھرپور اور ہمہ جہت موجودگی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان اور سنگین چیلنج ہے۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اگر قذافی اتنا ظلم نہ ڈھاتا ، اپنے ہی ملک پر فوج کشی کرتے ہوئے ہزاروں افراد کا قتل شروع نہ کردیتا تو کسی ناٹو کو مداخلت کا بہانہ نہ ملتا۔ آخر تیونس اورمصر میں بھی تو عوامی تحریک ہی کامیابی سے ہم کنار ہوئی ہے اور کوئی بیرونی فوج براہِ راست وہاں نہیں آسکی، حالانکہ اسرائیل کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے مصر کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔

حماس اور اسرائیل میں قیدیوں کا تبادلہ

عالمِ عرب کے انقلابات میں امریکا اور یورپ کے لیے سب سے اہم سوال اسرائیل کا دفاع اور اس کا مستقبل ہی ہے ۔ اسرائیل کے حوالے سے اس ماہ اہم ترین پیش رفت حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہے۔ پانچ برس پہلے اغوا ہونے والے اسرائیلی فوجی گلعاد شالیت کی رہائی کے مقابل حماس نے ۱۰۲۷ قیدی رہا کروانے کا معاہدہ کیاہے۔ ان میں سے ۴۷۷ قیدی رہا ہوچکے ہیں اور ۵۵۰ آیندہ ماہ رہا ہوں گے۔ دنیا کے تمام تجزیہ نگار اسے حماس کی عسکری، سیاسی اور اخلاقی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔پانچ سال تک غزہ ہی میں رکھے جانے کے باوجود اسرائیل اپنے تمام تر جاسوسی اور عسکری جبروت کے باوجود اپنے فوجی کا سراغ نہیں لگا سکا۔ جنگ سمیت مختلف مراحل سے گزرنے کے باوجود حماس نے بے صبری نہیں دکھائی اور بالآخر زیادہ سے زیادہ تعداد میں قیدی رہا کروالیے۔ اخلاقی بلندی اتنی کہ حماس نے اپنے کارکنان سے زیادہ دوسری تنظیموں کے قیدی رہا کروائے۔ اس معاہدے میں مصر کا کردار بھی مثبت رہا ہے ۔ پہلے بھی کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن ہر بار حسنی مبارک انتظامیہ نے صرف اس وجہ سے کوئی نہ کوئی رکاوٹ کھڑی کردی کہ قیدیوں کی رہائی کا تمام تر سہرا حماس کے سر بندھے گا۔

اہلِ فلسطین اس معاہدے کو عرب انقلاب کے اہم ثمر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ رہائی پانے والوں میں ایسے ایسے قیدی ہیں کہ جنھوں نے آزادی کا سوچنا تک چھوڑ دیا تھا۔ سب سے پرانے فلسطینی قیدی نائل البرغوثی ۳۳برس قید کے بعد باہر آئے ہیںتو پوری تبدیل ہوچکی ہے۔ اس کا شیر خوار بیٹا اب خود بچوں کا باپ بن چکا ہے۔ ۳۱سالہ خاتون قیدی احلام التمیمی ۱۰سال سے قید تھی اور اسے ۱۶ بار عمر قید، یعنی تقریباً ۲۰۰سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی۔ اسرائیل کی تاریخ میں اتنی لمبی سزا کسی کو نہیں سنائی گئی۔ وہ بھی رہا ہوکر اہل خانہ میں آچکی ہیں۔ احلام سمیت تمام قیدیوں نے ایک ہی بات کہی کہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ حماس کے شکرگزار ہیں کہ وہ دشمن سے اس کی زبان میں بات کر رہی ہے۔ صحافی نے احلام سے پوچھا: ’’خود آپ نے یہ ساری مدت کیسے گزاری؟‘‘ فوراً کہنے لگی:’’ اپنے اللہ کے ساتھ رہ کر___ اگر ایمان کی دولت نہ ہوتی تو آج میں تمھارے سامنے نہ ہوتی‘‘ ۔ ایک اور قیدی حسن سلامہ کا استقبال کرنے کے لیے، اس کی بوڑھی والدہ خود سرحد پر آئی ہوئی تھی۔ ان سے پوچھا گیا:’’ اماں جی! کیا آپ کو امید تھی کہ بیٹا رہا ہوجائے گا؟ کہنے لگیں: ’’جب سے بیٹا جیل میں گیا تھا، ایک دن کے لیے بھی دل کی یہ امید نہیں ٹوٹی کہ بیٹا ضرور رہا ہوگا‘‘۔ واضح رہے کہ حسن ۳۰ سال بعد رہا ہوا تھا، گذشتہ پانچ سال تو مکمل قید تنہائی میں گزارے۔ اہل خانہ تو کجا جیل میں موجود قیدی بھی ملاقات نہ کرسکتے تھے۔ آج جب ماں کہہ رہی تھی ۳۰سال میں ایک دن بھی امید کی لڑی نہیں ٹوٹی تو ساتھ ہی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی___ خوشی کے آنسوؤں کی!

 

بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ اور اپوزیشن راہنما خالدہ ضیا نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں موجودہ حکومت کی ناکامی کی بنا پر     وسط مدتی (مڈٹرم)انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ اس موقع پر بی این پی کی اتحادی جماعتیں جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش جاتیو پارٹی (بی جے پی) بھی موجود تھیں۔ خالدہ ضیا نے اپنے خطاب میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافے، امن و امان کی تشویش ناک صورت حال، بجلی کے بحران جیسے مسائل اور عوامی لیگ کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، لہٰذا وسط مدتی انتخابات کروائے جائیں۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو درپیش مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی (دی ڈیلی سٹار، ڈھاکہ، ۱۵مارچ ۲۰۱۱ء)۔ بی این پی اور اپوزیشن جماعتیں گذشتہ برس جون سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیے ہوئے تھیں۔ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ جمہوری عمل کے تسلسل اور ملکی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

عوامی لیگ کی حکومت کو اڑھائی برس ہونے کو آئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت کی نیشنل ویمن ڈویلپمنٹ پالیسی اور فتویٰ دینے پر پابندی کے اقدامات سے علما کی طرف سے ایسی بھرپور مزاحمت سامنے آئی ہے، جو اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی۔ گویا ان اقدامات سے علماے کرام بھی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو کہ بنگلہ دیش میں گہرا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

حکومت نے لادینی اور مغرب نواز حلقوں کی خوشنودی کے لیے خواتین کے حقوق کے نام پر نیشنل ویمن ڈویلپمنٹ پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت وراثت میں مرد اور عورت کا حصہ برابر قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں علماے کرام پر عدلیہ کے ذریعے پابندی لگائی ہے کہ وہ فتویٰ نہیں دے سکتے۔ اس سے قبل حکومت نے جو تعلیمی پالیسی تشکیل دی ہے، وہ بھی قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ علما نے قانونِ وراثت میں تبدیلی کو غیرشرعی قرار دیا ہے اور فتویٰ دینے پر پابندی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ ۴؍اپریل ۲۰۱۱ء کو ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ یہ ہڑتال کمیٹی براے نفاذِ اسلامی قانون (اسلامک لا ایمپلی مینٹیشن کمیٹی) کے امیر مفتی فضل الحق امینی کی اپیل پر کی گئی۔ اس ہڑتال کے نتیجے میں لاکھوں لوگ حکومت کے غیر شرعی اقدامات کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جس سے حکومت کو تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ ہڑتال سے قبل مذہبی جماعتوں کی جانب سے ایک تسلسل سے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر جلسے اور مظاہرے کیے گئے جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ عوامی لیگ نے پکڑدھکڑ اور طاقت کے زور سے عوامی ردعمل کو دبانا چاہا لیکن عوام کے سامنے وہ بے بس نظر آرہی تھی۔ علماے کرام اور عوام کا مطالبہ تھا کہ اگر شیخ حسینہ کو اقتدار عزیز ہے تو قرآن و سنت کے خلاف بنائے گئے تمام قوانین واپس لے۔ اس طرح علما کی قیادت میں ملک گیر سطح پر بڑے پیمانے پر حکومت مخالف ردعمل سامنے آیا جو حکومت کے مسائل میں اضافے کا سبب ہے۔

شیخ حسینہ حکومت کو ایک اور ناکامی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب بنگلہ دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عوامی لیگ اور حکمران اتحاد کے حامیوں کو بُری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ الیکشن ۳۰، ۳۱ مارچ ۲۰۱۱ء کو منعقد ہوئے۔ بی این پی کی قیادت میں چار جماعتی اتحاد کے حامی پینل نے ۱۴نشستوں میں سے صدر اور سیکرٹری سمیت ۱۱ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ الیکشن میں ناکامی کے خدشے کے پیش نظر عوامی لیگ اسٹوڈنٹ ونگ چھاترو لیگ کے غنڈے سپریم کورٹ کی عمارت میں گھس گئے اور ہنگامہ آرائی کی کوشش کی لیکن وکلا برادری نے اس کو ناکام بنا دیا۔ الیکشن میں شان دار کامیابی کے بعد سپریم کورٹ بار کے نومنتخب صدر خوندکر محبوب حسین نے جو خالدہ ضیا کے سیاسی مشیر بھی ہیں، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فتح درحقیقت ’عوامی جاہلیت‘ کی شکست ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی لیگ اور اس کے اتحادیوں نے عدالتی نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم ایک بار پھر عدالتی نظام کو عدل و انصاف کے حسن سے آراستہ کریں گے۔ بار ایسوسی ایشن کے انتخاب میں اپوزیشن کی کامیابی حکومت کے لیے ایک اور دھچکا ہے اور اس کی عدم مقبولیت کا پیمانہ بھی۔

عوامی لیگ کی حکومت کو اندرونِ ملک کے ساتھ ساتھ عالمی دبائو کا بھی سامنا ہے اور یہ اس وقت سامنے آیا جب نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کو گرامِن بنک کے مینیجنگ ڈائرکٹر کے عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ ڈاکٹر محمد یونس نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو ۸مارچ ۲۰۱۱ء کو خارج کر دی گئی۔ بعدازاں انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی فل بنچ نے بھی ۵؍اپریل ۲۰۱۱ء کو ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد عالمی ردعمل سامنے آیا۔ ہیلری کلنٹن، جان کیری اور کانگریس کے ایک گروپ نے اس اقدام کی مذمت کی اور ڈاکٹر محمد یونس کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ امریکا کے اسسٹنٹ سیکرٹری وسطی و جنوبی ایشیا راورڈ بلیک نے وزیراعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی جس کا مقصد ڈاکٹر محمد یونس کی بحالی تھا۔ انھوں نے بیگم خالدہ ضیا سے بھی ملاقات کی اور گرامِن بنک کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ۔

ڈاکٹر محمد یونس بنگلہ دیش میں کبھی بھی مقبول شخصیت نہیں رہے۔ اُن کو گرامِن بنک کی بڑھتی ہوئی شرح سود اورسود کی وصولی کے لیے بے رحمی پر ہمیشہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا، البتہ عالمی سطح پر ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شیخ حسینہ کے ٹارگٹ بننے کے بعد بنگلہ دیش میں اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شیخ حسینہ نے اپنے پہلے دورِحکومت (۱۹۹۶ء-۲۰۰۱ء) میں ملکی مفاد کے خلاف چٹاگانگ ہل ٹریکٹ کے قبائل کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا جس کا مقصد نوبل پرائز کا حصول تھا لیکن اس کے حصول میں وہ ناکام رہیں اور ڈاکٹر محمد یونس کو نوبل پرائز کا حق دار ٹھیرایا گیا۔ شاید اسی وجہ سے وہ ان کے شخصی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر عالمی دبائو کے باوجود شیخ حسینہ ان کو بحال کرنے پر تیار نہیں۔ اس طرح اندرونِ ملک دبائو کے ساتھ ساتھ حکومت کو عالمی دبائو کا بھی سامنا ہے اور اس کی حمایت میں کمی آرہی ہے۔

عوامی لیگ نے برسرِاقتدار آتے ہی انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل قائم کرکے جنگی جرائم کے نام پر مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ اس کی زد میں پہلے جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین مطیع الرحمن نظامی، علی احسن محمد مجاہد آئے۔ بی این پی کے مرکزی رہنما صلاح الدین قادر چودھری کو بھی گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ گذشتہ ایک برس سے پابند سلاسل ہیں۔ گذشتہ دنوں بی این پی کے سابق وزیر ۸۰سالہ عبدالعلیم کو ان کے آبائی شہر جے پور ہرٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف الزام ہے کہ انھوں نے ۱۹۷۱ء میں ۱۰ہزار افراد کا قتل کیا تھا۔ جب عدالت نے سوال کیا کہ کیا ۱۰ہزار لوگوں کا قتل اکیلے عبدالعلیم نے کیا، تو سرکاری وکیل اس کا    کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ بعدازاں ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان کی رہائی پر کسان مزدور عوامی پارٹی کے سربراہ عبدالقادر صدیقی نے کہا کہ عبدالعلیم صاحب کو ضمانت پر رہا کردینے کے بعد ٹریبونل کو چاہیے کہ جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار باقی لوگوں کو بھی ضمانت پر رہا کردے۔ اب ان کو جیل میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ مزید یہ کہ خود ٹریبونل بھی بین الاقوامی معیار سے فروتر ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے اس احساس کو مزید تقویت ملی کہ حکومت جنگی جرائم کے نام پر مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت بھی نہیں ہیں۔

عوامی لیگ کی حکومت کے مسائل میں اضافہ اور مخالفت بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ جاپان میں زلزلے اور سونامی کی وجہ سے جاپان کی طرف سے ترقیاتی کاموں میں امداد کا سلسلہ رُک گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بحران کی وجہ سے ۳۵ہزار سے زائد بنگلہ دیشی ملک واپس آچکے ہیں۔ ورلڈبنک سے قرضوں کے حصول میں بھی مسائل کا سامنا ہے۔ گرامِن بنک کے مسئلے پر امریکا اور یورپی یونین سے کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ امن و امان کی ابتر صورت حال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کے غیر جمہوری رویوں اور انتقامی پالیسی سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ نیشنل ویمن ڈویلپمنٹ پالیسی کے تحت غیرشرعی اقدامات نے علما کو بھی حکومت کے خلاف کھڑا کردیا ہے۔ ایسے میں بی این پی کی طرف سے وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مبصرین کی راے میں اگر حکومت کی یہی روش رہی تو وہ اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے گی۔

 

اللہ سے غافل اہلِ دولت و ثروت اور حکومت اپنی قوت، حکمت اور عیارانہ سیاست کے زعم میں، اور اپنے سرپرستوں کی دنیوی طاقت اور تائید کے بھروسے پر، اپنے اقتدار کو ناقابلِ شکست سمجھ لیتے ہیں، اور ساری منصوبہ بندیاں اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے ان کی حکمرانی اور بالادستی کو دوام میسر رہے گا۔ وہ تاریخ کے نشیب و فراز سے بے پروا ہوکر اصل بالاتر قوت کی تدبیر کے امکانات کو ایک لمحے کے لیے بھی لائقِ توجہ نہیں گردانتے، اور قوت کے نشے میں مست ہوکر اپنی  من مانی کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور ایسے ایسے کھیل کھیلتے ہیں کہ انسان تو کیا فرشتے بھی ششدر رہ جاتے ہیں۔ لیکن پھر قدرت کا ایک جھٹکا ان کے سارے شیش محل کو چکنا چور کردیتا ہے، اور ان کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ زمین و آسمان کے خالق و مالک نے سچ کہا ہے کہ وَ مَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَo(اٰل عمرٰن ۳:۵۴) ’’وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے اور اللہ ہی کی تدبیر غالب رہتی ہے‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے اربابِ قوت و اقتدار کا حال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ 

سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں

اس کی تازہ ترین مثال تیونس میں رونما ہونے والے ان واقعات کے آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے، جو ۱۷دسمبر ۲۰۱۰ء کو ایک چھوٹے سے قصبے سیدی بوزید میں ایک ۲۶سالہ گریجویٹ نوجوان محمد البوعزیزی کی خودسوزی کی کوشش سے شروع ہوئے اور احتجاج کی لہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے چار ہفتوں میں پورے تیونس میں ایسی ہلچل مچا دی کہ تاحیات صدارت کا مدعی اور بعدِحیات جانشین کے تقرر کا خواب دیکھنے والا کُلی اختیارات کا مالک، صدر زین العابدین بن علی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اقتدار، دولت، پولیس، فوج اور ذاتی ملیشیا، کچھ بھی اس کے کام نہ آسکا۔ تیونس کے طول و عرض میں تبدیلی کے نقارے بجنے لگے، بن علی کی شخصی اور حزبی آمریت کا قلعہ زمین بوس ہوگیا اور ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کی راہیں کھل گئیں جسے ’انقلابِ یاسمین‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ یہ تبدیلی عرب اور اسلامی دنیا میں دُور رس تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ بلاشبہہ انقلاب کا یہ عمل ابھی جاری ہے اور اپنی تکمیل کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انقلاب دشمن قوتیں اپنی چالوں میں مصروف ہیں اور اسے پٹڑی سے اُتارنے کا کھیل کھیل رہی ہیں، لیکن تمام قرائن اشارہ کر رہے ہیں کہ ان شاء اللہ تیونس اور اس کے بعد عرب اور مسلم دنیا کے متعدد ممالک کی زندگیوں میں ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ تبدیلی کی جو مضبوط لہر اُٹھی ہے اس کی کامیابی اور صحیح سمت میں پیش رفت کی دعائوں کے ساتھ اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس انقلابی رُو کے بارے میں غوروفکر کے چند گوشوں پر روشنی ڈالی جائے۔

تیونس ایک مسلمان ملک ہے جس کی تاریخ تیرہ سو سال پر محیط ہے۔ اسلام کی روشنی افریقہ کے اس علاقے میں پہلی ہجری صدی (۶۹۸ء) میں پہنچی اور ۱۸۸۳ء میں فرانس کے غلبے تک یہ حسین و جمیل ملک اسلامی قلمرو میں ایک نگینے کے مانند دمکتا رہا۔ درمیان میں یورپ کی عیسائی یلغار (Crusade) کے زمانے میں اسے نصف صدی (۱۵۲۴ء-۱۵۷۴ء) کے لیے ہسپانیہ کے تسلط کا تلخ تجربہ بھی ہوا۔ اوّلین بارہ سو سال میں تیونس نے مسلمان حکمران خاندانوں (عرب، بربر، فاطمی، موحدون اور عثمانیہ سب ہی) کے اقتدار کا مزا بھی چکھا۔ عوامی سطح پر تصوف کے تمام ہی بڑے سلسلوں کے اثرات اس سرزمین پر رہے۔ خاص طور پر قادریہ، الرحمانیہ، عیساویہ، تیجانیہ اور عروسیہ۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی جامع الزیتونیہ دینی، اصلاحی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور ابن خلدون جیسا نابغۂ روزگار مفکر اور سیاسی مدبر بھی اسی سرزمین کا گلِ سرسبد تھا۔ ابتدا ہی سے اہلِ تیونس    مالکی مذہب کے پیرو تھے۔ گو عثمانی دور میں آبادی کے ایک حصے نے حنفی مسلک اختیار کیا اور اس طرح مالکی اور حنفی فقہ دریا کے دو دھاروں کی طرح اس علاقے کو سیراب کرتے رہے اور بڑی    ہم آہنگی کے ساتھ یہ کام انجام دیتے رہے۔ واضح رہے کہ جامع الزیتونیہ نے ۱۲۰۷ء میں باقاعدہ جامعہ الزیتونیہ (زیتونیہ یونی ورسٹی) کا درجہ حاصل کرلیا تھا جہاں تمام دینی علوم کے ساتھ لغت، سائنس اور طب کے ہرشعبے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ نیز زیتونیہ کے مدارس کا سلسلہ ملک کے  طول وعرض میں قائم تھا اور مرکزی جامعہ میں ہزاروں طلبہ علم کے چشمے سے فیض یاب ہوتے تھے۔

تیونس کی تاریخ کا تاریک دور فرانس کا نوآبادیاتی زمانہ تھا، جو ۱۸۸۳ء میں معاہدہ لومارسک (Treaty of Lu marsc)کی چھتری تلے شروع ہوا اور ۱۹۵۵ء تک جاری رہا۔ مارچ ۱۹۶۵ء میں تیونس آزاد ہوا، مگر آزادی کے ساتھ ہی اہلِ تیونس کی آزمایش کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ جس میں اقتدار بیرونی حکمرانوں سے منتقل ہوکر اپنی ہی سرزمین کے دو آمروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہوگیا، یعنی حبیب بورقیبہ (۱۹۵۶ء-۱۹۸۷ء) اور زین العابدین بن علی (۱۹۸۷ء-۲۰۱۱ء)۔ فرانس نے اپنے زمانۂ تسلط میں تیونس کے شریعت کے قانون کو ذاتی زندگی کے امور تک محدود کردیا۔ اس کے ساتھ تیونس پبلک لا کو بھی فرانس کے نظام قانون کے مطابق ڈھال دیا گیا۔ یوں زبان، تعلیم، تہذیب و تمدن اور معیشت اور سیاست، ہر شعبۂ زندگی کو فرانس کی تہذیب کے رنگ میں رنگنے کے سامراجی ایجنڈے کو بڑی بے دردی اور قوت سے آگے بڑھایا گیا۔ اس دور میں دین کی روشنی اگر کہیں سے میسر تھی تو وہ خانقاہیں اور مساجد اور مدرسے تھے۔

فرانسیسی سامراج کے خلاف جو عوامی تحریک رونما ہوئی وہ دینی اور خود دنیوی تعلیمی اداروں ہی کی مرہونِ منت تھی۔ حبیب بورقیبہ اگر جدید تعلیمی اداروں کی پیداوار تھا، تو عبدالحمید ابن بادیس، توفیق مدنی اور خود حوری بومدیان زیتونیہ ہی کے تعلیم یافتہ رہنما تھے۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ استعمار سے آزادی کی تحریک کے دوران میں، آزادی کی تحریک کا ہدف صرف فرانسیسی سامراج  سے نجات ہی نہ تھا بلکہ تیونس کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور دینی اقدار کی سربلندی بھی تھا۔ حبیب بورقیبہ کی ۱۹۲۹ء اور اس کے بعد کی تقاریر اس پر شاہد ہیں کہ خود اس نے اسلام کو تیونس کی شناخت کے طور پر پیش کیا اور بار بار مسلمان عورت کے حجاب کو اس شناخت کا مظہر قرار دیا۔ لیکن یہ ایک عظیم بدقسمتی تھی کہ آزادی کے حصول کے فوراً بعد اس (حبیب بورقیبہ) کی دستور پارٹی اور   اس کی قیادت نے رنگ بدلا اور اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال میں ملکی سیاست، قانون اور  تہذیب و ثقافت کا رشتہ اسلام سے کاٹنے کا ’کارنامہ‘ انجام دیا۔ کبھی ’اسلامی اصلاحات‘ کا تقاضا قرار دیا اور کبھی بڑی ڈھٹائی سے ترقی اور جدیدیت کا سہارا لے کر ملک کے قانون، تعلیم اور اجتماعی زندگی کے تمام ہی شعبوں پر سیکولر تہذیب اور قانون کو مسلط کیا۔ اس طرح جدیدیت کے نام پر لادینیت اور مغربیت کا کھیل شروع ہوگیا۔ تعددِ ازدواج پر پابندی اور عائلی قانون بشمول قانونِ وراثت کی تبدیلی سے اس ’سیکولر یلغار‘ کا آغاز ہوا۔ مسجدو محراب اور مدرسہ اور خانقاہ کو سرکاری نظام کے تسلط میں لایا گیا۔ شخصی اور سیاسی آزادیاں مفقود اور بنیادی حقوق پامال کیے جانے لگے۔ قوت کا ارتکاز ایک مطلق العنان حکمران کے ہاتھ میں ہوگیا جس نے روزے جیسی فرض عبادت تک پر شب خون مارتے ہوئے اسے معاشی ترقی سے متصادم قرار دے کر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ گو، بالآخر اس آخری اقدام کی حد تک بورقیبہ کو منہ کی کھانی پڑی لیکن بحیثیت مجموعی اجتماعی زندگی کے پورے نظام، بشمول حجاب پر پابندی اور شراب اور جوے کی ترویج اور سیاحت کے فروغ کے نام پر مغربی اقوام کے تمام گندے اور مذموم کاروبار کی کالک اپنے منہ پر مل گیا۔

قوم کے اجتماعی ضمیر اور حکمرانوں کے مقاصد اور اہداف میں تناقض اور تصادم نے اس ملک کو، جو قدرتی وسائل سے مالا مال تھا، حکومت اور عوام کی مسلسل کش مکش کی آگ میں جھونک دیا۔ یک جماعتی آمریت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا اور اسلامی قوتوں اور اشتراکی تصورات کے تحت کام کرنے والی جماعتوں اور گروہوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ روحانی اور صوفی سلسلوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ ان سلسلوں سے وابستہ ہزاروں نوجوانوں، اور اسی طرح اسلامی تحریک کے کارکنوں کو پابندسلاسل کیا گیا۔ اس صورت حال کے نتیجے میں اسلام کے نام لیوا ہزارہا لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس ریاستی استبداد سے تبلیغی جماعت جیسی غیرسیاسی مذہبی تحریک بھی محفوظ نہ رہی۔

ان نامساعد حالات میں دینی غیرت رکھنے والے نوجوانوں نے جامعہ تیونس کے   پروفیسر شیخ راشد الغنوشی اور ان کے معاون عبدالفتاح مورو کی قیادت میں پہلے الانتجاہ الاسلامی اور پھر حزب النہضہ کے پرچم تلے جمہوریت کے قیام، بنیادی حقوق کے تحفظ، معاشی انصاف کے حصول، قانون کی بالادستی، کثیرجماعتی سیاست کے فروغ اور اسلامی اقدار اور شعائر کی ترویج    کے لیے منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔ اسلامی تحریک نے فکری، دعوتی اور سیاسی تبدیلی کے محاذوںپر بیک وقت کام کیا۔ ان کے جاری کردہ رسالوں المعارفہ، مستقبل اورالفجر کے مضامین نے فکری انقلاب برپا کیا۔ اس دعوت اور پیغام کو اقتدار نے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔بورقیبہ اور اس کی خفیہ ایجنسی (مخابرات) کے سربراہ زین العابدین بن علی نے جو ۱۹۸۷ء میں بورقیبہ کو ہٹاکر خود صدرِ مملکت بن گیا، ساری قوت اسلامی تحریک کو کچلنے اور اس کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کی۔ مغربی اقوام خصوصیت سے فرانس اور امریکا نے تیونس کے اس استبدادی ٹولے کی پوری پوری پشت پناہی کی۔ شیخ راشدالغنوشی نے بھی برسوں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، انھیں عمرقید تک کی سزا دی گئی جس کی گرفت سے نکل کر انھیں جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنا پڑی۔ وہ ابھی تک برطانیہ میں مقیم اور وطن واپسی کے منتظر ہیں!

تیونس کا اصل مسئلہ ، متعدد دوسرے عرب اور مسلمان ممالک کی طرح یہی ہے کہ مغربی سامراج سے آزادی کے بعد بھی وہ مغرب کی گرفت سے آزاد نہیں ہوسکے اور سامراجی استبداد کا ایک نیا دور شروع ہوگیا، جس میں اصل کارفرما قوت مغربی اقوام ہی ہیں۔ البتہ اب وہ بلاواسطہ حکمرانی کے بجاے بالواسطہ حکمرانی کا کام انجام دے رہے ہیں، اور ان ممالک کی مفاد پرست اشرافیہ ان کے آلۂ کار کا کردار ادا کرر ہی ہے۔ ان کا مقدر ان چار مصیبتوں سے عبارت ہے:   ذہنی غلامی، سیاسی محکومی، معاشی گرفت اور تہذیبی جال۔ یہ چوہری غلامی کی وہ لعنت ہے جس کے خلاف عرب اور بیش تر اسلامی دنیا کے عوام آج نبردآزما ہیں۔ تیونس ہویا مصر، لیبیا ہویا مراکش، اُردن ہویا شام، بنگلہ دیش ہو یا پاکستان، ہمارا اصل مسئلہ ہی عالمی سامراجی قوتوں اور مقامی اشرافیہ کے آمرانہ نظام کا گٹھ جوڑ ہے، اور تیونس میں رونما ہونے والی انقلابی تحریک نے ایک بار پھر اس بنیادی حقیقت کو مرکز توجہ بنادیا ہے۔ لندن کے اخبار دی گارڈین کی ایک تازہ اشاعت میں تیونس کے ایک دانش ور ہشام مطار نے پورے عالمِ عرب کے دل کی کیفیت کو اس طرح بیان کیا ہے:

میری پیدایش سے بھی پہلے ہم عرب، دو طاقتوں کی گرفت میں ہیں جو بظاہر ناقابلِ شکست ہیں۔ ایک ہمارے بے رحم آمر جو ہم پر جبر کرتے ہیں اور ہماری تحقیر کرتے ہیں، اور دوسرے مغربی طاقتیں، جو یہ پسند کرتی ہیں کہ ہم پر ان کے وفادار مجرم حکومت کریں، بجاے اس کے وہ منتخب راہنما جو ہمارے سامنے جواب دہ ہوں۔ ہم اس تاریک انجام کی طرف بڑھتے رہے کہ ہم ہمیشہ ان درندوں کی گرفت میں رہیں گے۔ تیونس کے عوام نے ہمیں تباہی کے گڑھے کے کنارے سے پیچھے کھینچ لیا ہے۔

تیونس، عالمِ عرب اور مسلم دنیا کے کرب ناک حالات میں تیونس کے ’انقلابِ یاسمین‘ کا یہی وہ پیغام ہے جس کا ادراک ضروری ہے اور جس کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے ساتھ خود عرب اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں کے ایوانوں میں ایک زلزلہ سا آگیا ہے اور ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے۔ ہم نہایت اختصار سے تبدیلی کے اس منظرنامے کے چند پہلوئوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:

۱- سب سے پہلی بات مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج ہم جس مصیبت میں مبتلا ہیں اس کی جڑ وہ بگاڑ ہے جس نے آزادی کے بعد تیونس ہی نہیں، بیش تر مسلم ممالک پر    تسلط حاصل کرلیا ہے اور وہ ہے دہری غلامی جس کی ایک مثال تیونس ہے، یعنی:

(ا) مغربی استعماری اقوام کی ہمارے سیاسی، معاشی، قانونی اور تہذیبی نظام پر گرفت  اور جدیدیت، سیکولرزم، معاشی ترقی، روشن خیالی ، آزاد روی (لبرلزم)، مارکیٹ اکانومی اور نام نہاد عالم گیریت کے حسین عنوانوں کے ذریعے ہمارے فکرونظر، ہمارے میڈیا، ہماری تعلیم، ہمارا    نظامِ حکومت اور ہماری معیشت کو اپنی گرفت میں لانا اوراپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا۔

(ب) اس نوسامراجی انتظام میں خود ہمارے اپنے ملک کے بااثر عناصر اور اشرافیہ کو  آلۂ کار بنانا خواہ ان کا تعلق سول قیادت سے ہو یا فوج اور بیوروکریسی کے افراد ہوں یا ادارے، خصوصیت سے این جی اوز۔ جمہوریت، معاشی امداد اور عالم گیریت وہ خوش نما عنوان ہیں، جن کے تحت مغرب کے ایجنڈے پر مقامی کارندے یہ کھیل کھیلتے ہیں، اپنی قوم اور اس کے وسائل کو بری طرح لوٹتے ہیں تاکہ جب بھی ان کا پردہ چاک ہو تو اپنی محفوظ پناہ گاہوں کا رُخ کرلیں۔ فسطائی نظام اور بدعنوانی پر مبنی اس انتظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اس لیے بھی کہ مسلمان اُمت کی روح میں اس کا دین و ایمان رچے بسے ہیں، صرف جبرواستبداد ہی وہ طریقہ ہے جس سے ان پر ان کے دین، ان کی اخلاقی اقدار اور ان کی تہذیبی روایات سے متصادم کوئی نظام مسلط کیا جاسکتا ہے۔ حقیقی جمہوریت کا نفاذ و ترویج (democratization) اور اسلامائزیشن ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں اور مغرب کے ایجنڈے کا فروغ ممکن ہی ہے صرف ایک آمرانہ نظام اور فسطائی قیادت کے ذریعے۔ جگرمرادآبادی نے   اس طرف اشارہ کیا تھا جب انھوں نے کہا    ؎

جمہوریت کا نام ہے، جمہوریت کہاں
فسطائیت حقیقت عریاں ہے آج کل

مسلم ممالک میں آمرانہ حکمرانی (autocratic rule) اور من مانی اور استبدادی قوت (arbitrary power)کا نظام اور قیادتوں کا اپنے شخصی مفادات کے حصول کے لیے مغربی اقوام، ان کے مقاصد، تہذیب اور مفادات کا خادم ہونا ایک دوسرے سے مربوط اور لازم و ملزوم ہیں اور جس تبدیلی اور انقلاب کے لیے مسلمان عوام بے چین اور مضطرب ہیں، وہ ان دونوں مصیبتوں سے نجات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب کا ہدف چہرے بدلنا نہیں ہے، اس پورے انتظام اور دروبست کو تبدیل کرنا ہے، اور انقلاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس اصل مسئلے کا حل نہ تلاش کرلیا جائے۔

تیونس میں انقلاب کی ابھی ابتدا ہوئی ہے اور مغربی اقوام اور مقامی مفاد پرست عناصر کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ چند نمایشی تبدیلیاں کرکے پرانے نظام کے لیے نئی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور جب تک اس خطرے کا سدباب نہ کرلیا جائے انقلاب نامکمل ہوگا اور تبدیلی کا عمل پٹڑی سے اُتر سکتا ہے جس کی پیش بندی ضروری ہے۔

۲- دوسری بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مغربی اقوام کا مقصد اپنے مفادات اور اہداف کا حصول ہے، جن کی خاطر وہ بڑی سے بڑی قلابازی کھا سکتے ہیں۔ تیونس میں حبیب بورقیبہ جب تک ان کے مقاصد کی خدمت کرتا رہا، وہ ان کا پسندیدہ شخص تھا، لیکن انھوں نے دیکھا کہ اس کی گرفت کمزور ہونے لگی ہے تو اپنا دوسرا مہرہ زین العابدین بن علی کی شکل میں آگے بڑھا دیا۔ وہ بورقیبہ کا قریبی ساتھی اور خفیہ سروس کا سربراہ تھا۔ اس طرح ایک غیرخونیں انقلاب کے ذریعے اس نئے مہرے کو ملک کی کمانڈ کے مقام پر لے آئے اور بورقیبہ کو ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ پھر بن علی نے ۲۳سال تک ان کے مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا اوراس دور میں اس کی تمام بدعنوانیاں، عوام دشمنیاں اور حقوق کی پامالیاں ان کو نظر نہ آئیں، حتیٰ کہ جب دسمبر۲۰۱۰ء میں احتجاجی لہریں بڑھیں تو فرانس کے وزیرداخلہ نے فرانس سے فسادات کو روکنے اور ہنگاموں کو فرو کرنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ پولیس (Riot Police) تک بھیجنے کی بات کی، لیکن جب  بن علی کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی تو فرانس کے صدر سرکوزی نے پناہ تک دینے سے   معذرت کرلی، بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے شاہِ ایران کو امریکا نے پناہ دینے سے  انکار کیا تھا۔ جس دوستی کی بنیاد مفاد پر ہوتی ہے اس کا انجام اس سے مختلف ہو نہیں سکتا، لیکن   اقتدار کے نشے میں مست کتنے ہی حکمران ہیں جو اپنے سامنے کی ایسی بات کا بھی ادراک نہیں رکھتے، فاعتبروا یااولی الابصار۔

۳- مغربی اقوام اور مقامی حکمران دونوں ہی ایک اور بھی کھیل کھیل رہے ہیں جس کا مظہر یہ حکمت عملی ہے کہ ایک قوم کے ایمان، اس کے نظریاتی عزائم اور تہذیبی تمنائوں کو محض مادی ترقی، مال و متاع کی خیرات اور ترغیب و ترہیب کے ہتھکنڈوں سے ہمیشہ کے لیے اپنے قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ توقع انسانی فطرت کے خلاف ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ایسی حکمت عملی بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ لیکن ہردور کے ظالم اور جابر حکمران اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں۔ تیونس کے حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ حکمت عملی تارِ عنکبوت کے مانند ہے، لیکن کم لوگ ہیں جو ایسے واقعات سے سبق لیتے ہیں۔ زین العابدین بن علی کو اپنی فوج اور سوا کروڑ کے اس ملک میں ایک لاکھ ۳۰ہزار امریکا کی تربیت یافتہ مسلح پولیس فورس اور میڈیا اور معلومات کے تمام ذرائع پر سرکاری کنٹرول کے زعم میں کسی عوامی ردعمل کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن بظاہر بے بس انسانوں کی اس بستی میں اندر ہی اندر جو لاوا پک رہا تھا اس کا کسی کو ادراک نہ تھا۔ مگر راکھ کے ڈھیر سے پھر ایک ایسی چنگاری نکل آئی جس نے پورے ملک میں مزاحمت اور بغاوت کی آگ بھڑکا د ی۔

ایک مشہور عرب صحافی اور دانش ور رامی جی خوری (Rami G. Khouri) نے اس طرف متوجہ کیا ہے جب وہ کہتا ہے: ’’کس طرح بن علی کی پولیس اسٹیٹ کو جب دیرپا عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو تیزی سے بکھر کر رہ گئی‘‘۔ (ہیرالڈ ٹریبون، ۲۲ جنوری ۲۰۱۱ء)

صرف پولیس اسٹیٹ ہی کے پاے چوبیں نہیں، مغربی اقوام کی پوری حکمت عملی ہی   کسی حقیقی اور مضبوط بنیاد سے عاری ہے، چنانچہ حقیقی عوامی ردعمل کے آگے اس کی ناکامی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

۴- تیونس کے حالیہ واقعات نے مسلمان ممالک میں سیکولرزم، سرمایہ داری اور مغربیت کی ہر طرح سے ترویج اور اسلامی لہر کو ’دہشت گردی‘ کے نام پر قوت کے ذریعے روکنے کی حکمت عملی کی ناکامی کے بارے میں غوروفکر کے لیے نئے زاویے فراہم کیے ہیں۔ تیونس میں یہ تجربہ فرانسیسی سامراجی اقتدار کے ۸۰سال اور بورقیبہ، بن علی ٹولے کے تسلط کے ۵۵سال سے جاری ہے لیکن تیونس کے عوام کے حصے میں اپنے دین اور تہذیب سے دُوری کے ساتھ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، قرضوں کی لعنت اور آزادی اور عزتِ نفس سے محرومی ہی کی سوغات آئی ہے۔ ۱۵ سے ۲۵ سال کے نوجوان جو آبادی کا ۲۵فی صد ہیں، ان میں بے روزگاری کا تناسب ۳۰ فی صد سے متجاوز ہے۔ مارکیٹ اکانومی جسے معاشی ترقی اور خوش حالی کا مجرب نسخہ قرار دیا جاتا ہے، وہ مریض کو اور بھی محرومیوں کا شکار کرنے کا باعث ہوا ہے۔ سیکولر قیادت نے استبدادی نظام کے ساتھ معاشی استحصال، دولت کی ظالمانہ حد تک غیرمنصفانہ تقسیم اور اس کے نتیجے میں اقتصادی ناہمواریوں اور ملک و ملّت کی بیرونی دنیا پر محتاجی کے تحائف عطا کیے ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جو انقلاب کو جنم دیتے ہیں۔ جب قوم کروٹ لیتی ہے تو پھر بڑے سے بڑے آمر کے پائوں اُکھڑ جاتے ہیں۔ تیونس کی انقلابی رَو کا یہ پیغام دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے لیے ہے۔ یہ دوسرے ممالک کے مصیبت زدہ عوام کے لیے نئی زندگی کا پیغام اورغاصب حکمرانوں اور ان کے مغربی آقائوں کے لیے بھی ایک ’صداے ہوش‘ (wake up call) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح قدرت کا قانون ہے کہ رات کے بعد صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے، اسی طرح ظلم کی رات بھی جو چھوٹی یا لمبی تو ہوسکتی ہے مگر ہمیشہ کے لیے سورج کی روشنی کا راستہ نہیں روک سکتی:

یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے

گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

ایک قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ جس طرح پہاڑوں کی سنگلاخ زمین پر پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے اسی طرح انسانی تخیل، اُپج اور سوچ بچار کی صلاحیت ہزاروں دروازوں کو کھولنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے۔ تیونس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کا عملی تسلط تھا۔ مسجد ومنبر پر حکومتی فکر کی حکمرانی تھی، لیکن موبائل فون، انٹرنیٹ اور فیس بک کی اعانات، جنھیں آبادی کا ۱۸ فی صد استعمال کررہا ہے، مزاحمت کی تحریک کو منظم اور مربوط اور مؤثر ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

بلاشبہہ آج کے پاکستان کے حالات تیونس کے حالات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی امریکا کی گرفت ہماری قیادت، ہماری پالیسیوں اور ہمارے سیاسی اور معاشی نظام پر اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب ملک کی آزادی ایک نمایشی شے بنتی جارہی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جس طرح امریکا کے مطالبات کے آگے سپر ڈالی گئی اور زرداری گیلانی حکومت نے اس غلامانہ پالیسی کو اور بھی وفاداری کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، اس کے نتیجے میں قومی عزت اور غیرت کا تو خون ہوا ہی ہے، اور ملک کی آزادی بُری طرح مجروح ہوئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ملک کا امن و امان تہ و بالا ہوگیا ہے۔ لاقانونیت کا دور دورہ ہے، فوج اور عوام میں تصادم اور ٹکرائو بڑھ رہا ہے، ’دہشت گردی‘ کا دائرہ وسیع تر ہورہا ہے، امریکی ڈرون حملے اور ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معصوم انسان شہید اور وسیع وعریض علاقے تباہ و برباد ہورہے ہیں۔ معیشت کا یہ حال ہے کہ صرف اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے ۵۰ سے ۱۰۰ ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور اشیاے ضرورت کی قلّت نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی عیاشیاں، بدعنوانیاں روز افزوں ہیں اور ہر طرف بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ قیادت کے ایک اہم حصے کے مفادات اور اثاثے ملک سے باہر ہیں اور ان کو اپنے اقتدار کے لیے ہی نہیں اب تو ذاتی حفاظت کے لیے بھی بیرونی قوتوں کا سہارا درکار ہے۔ ملک میں حکمرانی کا عمل مفقود ہورہا ہے اور مفادات کی پرستش کا بازار گرم ہے۔ حکمرانی اور معیشت کی حالت یہ ہے کہ    ؎

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

کیا ہماری قیادت تیونس کے ’انقلابِ یاسمین‘ سے کوئی سبق لینے کے لیے تیار ہے یا اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے، جب:

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا

۔

’’جیل میں ہم پر اکثر تشدد ہوا، لیکن سب سے زیادہ تشدد اس وقت ہوتا جب ہم میں سے کوئی وہاں نماز پڑھتے ہوئے پکڑا جاتا‘‘___ تیونس کی جیل سے رہائی پانے والا نوجوان راقم کو آپ بیتی سنا رہا تھا۔ میں نے حیرانی سے پوچھا: ’’ایک مسلمان ملک میں نماز ادا کرنا کیوں کر جرم ٹھیرا؟‘‘ کہنے لگا: ’’مجموعی طور پر تو نماز جرم نہیں ہے، لیکن نماز چونکہ دین داری کی علامت بھی ہے اور اگر کسی نوجوان میں دین داری کی کوئی علامات پائی جائیں تو یہ اس کی ’بنیاد پرستی‘ اور ’دہشت گردی‘ کی علامت ہے۔ اس لیے نوجوانوں کا نماز ادا کرنا جرم قرار پایا۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ    نماز کے وقت مساجد میں جماعت کھڑی ہوجاتی تو اچانک مساجد کے دروازوں کے باہر پولیس کی لاریاں کھڑی کردی جاتیںاور نمازیوں میں سے نوجوانوں کو الگ چھانٹ کر لاریوں میں ٹھونس کر   لے جاتیں۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ فجر کے وقت رہایشی آبادیوں کا جائزہ لیا جاتا کہ کس کے گھر میں بتیاں روشن ہیں۔ اس وقت اگر کوئی اُٹھ کر نماز پڑھنے لگ جاتا ہے تو یقینا پکا بنیاد پرست ہے۔

جیل بیتی دوبارہ شروع کرتے ہوئے پوچھا کہ: پھر آپ لوگوں نے تشدد کے خوف سے نماز چھوڑ دی؟ ہنس کر کہنے لگا: ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم نے مختلف تدبیروں سے نماز پڑھنا شروع کردی، کبھی اشاروں سے، کبھی کوٹھڑی میں چھپ کر… لیکن جلاد بھی بضد تھا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا ہیں۔ انھوں نے کوٹھڑی کی چھت میں سوراخ کروا کے اُوپر عارضی تختے رکھ دیے۔ دن رات کے کسی وقت وہ کوٹھڑی کے پچھواڑے سے اُوپر چڑھتے اور اچانک   تختہ ہٹاکر چھاپہ مارتے کہ کہیں کوئی ’دہشت گردی‘ کا ارتکاب تو نہیں کر رہا۔ ہم نے باری باری کمبل میں لیٹ کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ جلاد آتے تو حیرانی سے پوچھتے: یہ اتنی گرمی میں کمبل کیوں اوڑھ رکھا ہے؟ ہم بتاتے طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘‘۔

تیونس میں دین کے خلاف مخاصمانہ روش کا آغاز صدر حبیب بورقیبہ کے دور میں ہوا تھا۔ سابق صدر زین العابدین بن علی اس کا وزیرداخلہ تھا۔ ملک میں اسلامی عناصر کے خلاف اس ساری کارروائی کا ذمہ دار وہی تھا۔ صدر حبیب بورقیبہ اپنی یہ تمام تر کارروائیاں ’روشن خیالی‘ کے عنوان سے کر رہا تھا۔ اس نے حجاب (سر پر اسکارف رکھنے) کو جرم قراردیتے ہوئے کسی بھی باحجاب خاتون کو تعلیمی اداروں میں داخلے، سرکاری دفاتر میں ملازمت، یا ہسپتال سے علاج کروانے پر پابندی عائد کردی۔ اس کی ظالم پولیس اہل کار سر پر اسکارف رکھنے والی کسی بھی خاتون کا حجاب سرراہ نوچ ڈالتے۔ حبیب بورقیبہ نے ایک بار خود بھی اس روشن خیال کارروائی میں حصہ لیا۔ اس نے ایک ہال میں اجتماع منعقد کیا، جس میں کچھ خواتین کو سر پر اسکارف رکھ کر شریک کروایا گیا اور پھر صدر بورقیبہ نے دورانِ تقریب ان میں سے ایک خاتون کو اسٹیج پر بلایا اور اس کا اسکارف سر سے نوچ کر پائوں تلے روندتے ہوئے کہا: ’’آیندہ اس رجعت پسندی کا ارتکاب نہ کرنا‘‘۔

’روشن خیال‘ بورقیبہ اور اس کا وزیرداخلہ زین العابدین بن علی یہ تمام کارروائیاں ’اسلام کے حقیقی پیروکار بلکہ دینی پیشوا‘ ہونے کے دعوے کے ساتھ کرتے تھے۔ موسمِ گرما میں رمضان المبارک آیا تو ایک روز اعلان ہوا کہ صدر مملکت ریڈیو، ٹی وی پر قوم سے براہِ راست خطاب فرمائیں گے۔ دوپہر کے وقت صدر صاحب سرکاری ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوئے اور اعلان فرمایا: ’’میں صدر مملکت ہونے کے ناتے مسلمانوں اور ان کے تمام امور کا ذمہ دار اور ان کے مفادات کا محافظ ہوں، اور گرمی کی شدت کی وجہ سے چونکہ لوگوں کی قوتِ کار متاثر ہورہی ہے، اس لیے میں ’ولی امرالمسلمین‘ ہونے کے ناتے اعلان کرتا ہوں کہ لوگ اس سال رمضان میں روزے نہ رکھیں۔ یہ کہنے کے بعد براہِ راست خطاب کے دوران کچھ نوش کرتے ہوئے روزہ چھوڑ دینے کا عملی مظاہرہ کیا۔

چند مزید مناظر بھی ملاحظہ کیجیے: ’ولی امرالمسلمین‘ ہونے کے دعوے دار صدر مملکت نے اعلان فرمایا کہ قرآن میں وراثت کے اصولوں کے مطابق مرد کا حصہ خواتین سے دگنا بتایا گیا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں، اس وقت خواتین معاشی زندگی میں عملاً شریک نہیں تھیں، اس لیے یہ حصے رکھے گئے۔ آج ہماری خواتین ترقی کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لے رہی ہیں، اس لیے اب وراثت میں مردوں اور خواتین کا حصہ برابر ہوگا۔ اب یہ وہاں کا باقاعدہ قانون ہے۔

’روشن خیال‘ بورقیبہ کے نزدیک عدم مساوات کا ایک یہ پہلو بھی بہت قابلِ اعتراض تھا کہ مرد کو تو چار بیویاں رکھنے کی اجازت دے دی گئی لیکن عورت کے ساتھ زیادتی ہوگئی کہ اسے چار شوہر رکھنے کی اجازت نہ ملی، اس لیے اس نے مردوں پر بھی پابندی عائد کر دی۔ قانون بن گیا کہ مرد بھی صرف ایک ہی شادی کرسکتا ہے، خلاف ورزی کرنے والے کو جیل جانا پڑے گا۔

حبیب بورقیبہ کی اس ’روشن خیالی‘ کے خلاف جس نے بھی آوازِ احتجاج بلند کی اسے   ’لاپتا افراد‘ میں شامل کر دیا گیا۔ پھر ایک روز اچانک اعلان ہوا کہ وزیرداخلہ زین العابدین بن علی نے صدر بورقیبہ کا تختہ اُلٹ دیا ہے۔ کہا گیا: صدر اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث امورِ مملکت انجام دینے کے قابل نہیں رہا، اور مزید چند برس گمنامی میںگزارکر، اسے بھی قبر میں اُترنا پڑا۔

زین العابدین نے اپنے آقا کا تختہ اُلٹا تو یہ ۷نومبر ۱۹۸۷ء کا دن تھا۔ مکمل اقتدار سنبھالنے کے بعد اس نے اعلان کیا کہ ملک میں جمہوریت کی داغ بیل ڈالیںگے۔ مگر کہاں؟ وہی جبر کا نظام قائم رہا۔ زین العابدین کے ۲۳ سالہ دورِ اقتدار میں پانچ بار انتخابات ہوئے اور ہرمرتبہ ہردل عزیز صدر کو ۹۰ فی صد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔ حجاب، داڑھی اور نماز روزے سمیت دینی شعائر کی اسی طرح تضحیک و توہین ہوتی رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۳سالہ دورِاقتدار میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد کو ان کے خیالات و نظریات کی سزا کے طور پر جیلوں کی ہوا کھانا پڑی۔ اسلامی تحریک ’تحریکِ نہضت‘ کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی سمیت ہزاروں کی تعداد میں تیونسی شہری کسی نہ کسی طرح ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور گذشتہ تقریباً دو عشروں سے ملک بدری کی زندگی ہی گزار رہے ہیں۔ ’تحریک نہضت‘ کے جن ہزاروں کارکنان اور قائدین کو گرفتار کیا گیا ان میں تحریکِ نہضت کے سابق صدر محمد عاشور بھی تھے۔ انھیں ۱۰برس کی قید کے بعد ڈیڑھ سال قبل رہا کیا گیا لیکن رہائی پانے کے چند ہی روز بعد ایک صحافی نے انٹرویو کرتے ہوئے سوال کیا: کیا آپ ۱۰برس کی اس قیدبامشقت کے بعد بھی ’تحریک نہضت‘ کا ساتھ دیں گے؟ پیرانہ سالی کا شکار ہوتے ہوئے محمدعاشور نے کہا: اسلامی تحریک میں شمولیت کا فیصلہ دنیا کی کسی جزا یا سزا سے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ یہ سودا تو خالق کائنات کے ساتھ کیا ہے۔ اگلے ہی روز محمدعاشور کو ’تحریک نہضت‘ سے وابستگی کے الزام میں اُٹھا کر پھر سے جیل میں بند کر دیا گیا۔ مزید ڈیڑھ سال، یعنی مجموعی طور پر ساڑھے گیارہ برس کی قید کے بعد انھیں گذشتہ نومبرکو رہا کیا گیا تھا۔

ایک محمد عاشور ہی نہیں ضمیر کے ہزاروں قیدی، قلم بردار ہزاروں صحافی اور اپوزیشن قرار دیے جانے والے بے حساب شہری جیلوں میں سڑتے رہے۔ سیکڑوں افراد نے مسلسل بھوک ہڑتال کیے رکھی۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کے اہلِ خانہ کو یہی معلوم نہ تھا کہ ان کے پیارے دنیا میں ہیں یا قیدِحیات سے ہی گزر چکے۔ اگرچہ کسی بھی غیر جانب دار صحافی یا تیونسی حکومت کی ’روشن خیالی‘ کے بارے میں منفی راے رکھنے والے کسی معروف شخص کے لیے تیونس کے دروازے بند تھے، لیکن  گذشتہ کئی سال سے وہاں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ حجاب پر تمام تر پابندیوں کے باوجود حجاب کے تناسب میں واضح اضافہ ہو رہا تھا۔ نمازوں میں نوجوانوں کی شرکت کو جرم بنا دیا گیا تھا لیکن رمضان المبارک اور نمازِ جمعہ میں مساجد اتنی بارونق ہونا شروع ہوگئی تھیں کہ نماز کے وقت سے کافی پہلے مساجد نہ پہنچ سکنے والوں کو باہر سڑک پر نماز پڑھنا پڑتی تھی۔

ایسے میں جب تیونس کے شہر میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان نے بھوک اور فاقوں سے تنگ آکر خودسوزی کرنے کی کوشش کی، اور وہ اس کوشش میں شدید زخمی ہوگیا، تو پورے شہر میں اس سے اظہارِ ہمدردی اور حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ڈکٹیٹر کی ملیشیا نے مظاہرین کے خلاف حسب ِ سابق طاقت کا استعمال کرنا چاہا تو عوام مزید بپھر گئے۔ موبائل فون کے کیمروں اور انٹرنیٹ کی مدد سے یہ مناظر مختلف عرب ٹی وی چینلوں بالخصوص الجزیرہ پر آنا شروع ہوگئے، اور پھر تیونس کے مظلوم و مقہور عوام نے ایک دنیا کو حیرت زدہ کر دینے والی تاریخ رقم کردی۔ سفاک حکمران سمجھتاتھا: ’’اس کی کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ لیکن نہتے عوام کے دو ہفتے کے مظاہروں کے بعد ہی سٹم گم ہونے لگی۔ پہلے اعلان کیا: بے روزگار نوجوان پریشان نہ ہوں، جلد ہی ان کے لیے ۳ لاکھ نوکریوں کا انتظام ہوجائے گا۔ یہ اعلان کرنے اور گولیاں چلانے کے باوجود مظاہرے جاری رہے تو حکومت کے تین وزرا کو فارغ کر دیا گیا۔ دوبارہ اعلان کیا بدعنوانی برداشت نہیں کروں گا، حالانکہ ملکی نظام میں بے تحاشا بدعنوانی کی کہانیاں بچے بچے کی زبان پر تھیں۔ مظاہرے پھر بھی جاری رہے تو اعلان کیا: عوام پریشان نہ ہوں چھے ماہ بعد عام انتخابات میں انھیںاپنی مرضی کی حکومت بنانے کا موقع دیا جائے گا۔ مظاہروں کا سلسلہ قصرین اور سیدی بوزید سے باہر پھیلتے پھیلتے دارالحکومت تیونس تک پہنچ گیا۔ اب تک ۵۰ شہری شہید ہوچکے تھے، سیکڑوں زخمی تھے۔ سفاک ڈکٹیٹر نے اعلان کیا: آیندہ انتخاب میں چھٹی بار امیدوار بننے کا کوئی ارادہ نہیں، عوام چند ماہ صبر کرلیں۔ ترقی کا نیا دور شروع ہوجائے گا۔ لیکن مظاہروں کا ریلا تھا کہ کہیںتھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

ایک روز اچانک خبر آئی: صدر نے اپنی بیوی لیلیٰ اور باقی سب اہلِ خانہ کو بیرونِ ملک بھیج دیا۔ مظاہرے جاری تھے۔ صدر نے سختی سے نمٹنے اور فوج کو سڑکوں پر بلا کر گولی چلانے کا حکم دیا۔ ۷۷؍افراد پہلے ہی جاں بحق ہوچکے تھے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل رشیدعمار نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفا پیش کردیا۔ حالات تیزی سے بدلنے لگے اور اچانک خبر آئی کہ صدر زین العابدین بن علی ملک سے فرار ہوگیا۔ لوگ دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئے۔ فوج اور پولیس کے سپاہی عوام سے گلے ملنے لگے۔ لوگوں کو تو جیسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ جو خود کو فرعون سمجھتا اور عوام کی جان کا مالک گردانتا تھا، اتنی جلد ڈھ گیا۔ صرف تقریباً تین ہفتے کی عوامی تحریک، جس میں عوام نے گولیاں برداشت تو کیں لیکن خود کوئی گولی نہیں چلائی، اور اتنی بڑی کامیابی تیونس ہی نہیں پوری دنیا میں لکھا اور پکارا جانے لگا: تیونسی جلاد چلا گیا، ڈکٹیٹر سے نجات   مل گئی، شاہِ تیونس بھاگ گیا، تیونسی مارکوس، تیونسی چائو شسکو… تیونسی دارالحکومت کی خالی سڑکوں پر ایک شخص دیوانہ وار چلّا رہا تھا:’’تیونس آزاد ہوگیا‘‘۔ آج اسے اپنے دل کی بات کہنے سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ آج اسے اور اس کے ضمیر کو قید رکھنے والا خود سر چھپانے کو جگہ تلاش کر رہا تھا۔

سبحان اللّٰہ… تعز من تشاء وتذل من تشاء… وتلک الایام نداولھا بین الناس … ہم اس سلسلۂ ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ وہ جو نماز اور شعائر دین کو دہشت گردی کے مترادف قرار دیتا تھا، اس کے جاتے ہی نماز کا وقت ہونے پر سرکاری ٹی وی پر پہلی بار باقاعدہ اذان کی آواز سنائی دی۔ لوگوں کے لیے یہ اسی طرح کے لمحات تھے جیسے کمال اتاترک کے جانے اور ترک زبان میں اذان کے بجاے پھر دوبارہ سے عربی زبان میں بلالی اذان بلند ہوئی تھی، اور لوگ بے اختیار سڑکوں پر ہی رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے تھے۔ آج تیونسی عوام سرکاری ٹی وی پر اذان سن کر اسے اپنا اعلان فتح قرار دے رہے تھے۔

اس کے بعد وزیراعظم محمدالغنوشی نے خود کو خود ہی عبوری صدر مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ اگلے ہی روز اسپیکر کو عبوری صدر قرار دے دیا۔ عوام نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ ملک میں موجود براے نام چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے ایک قومی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، جس کے اکثر وزرا پرانی کابینہ سے ہی تھے اور تین وزیر اپوزیشن جماعتوں سے، لیکن عوام نے اسے بھی مسترد کر دیا اور اپنے مظاہرے جاری رکھے۔ اگلے ہی روز اپوزیشن جماعتوں نے اپنے وزرا واپس ہونے کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں، سابق نظام کے باقی ماندہ کل پُرزوں سے زیادہ یہ فیصلہ کن اور حساس مرحلہ خود تیونسی عوام کا امتحان ہے۔ انھیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنی قربانیوں اور ادھوری کامیابی کو ہی اصل کامیابی سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں، یا پوری مسلم دنیا میں اُمید کے دیپ روشن کردینے کے بعد خود اپنی جدوجہد کو بھی اس کے منطقی نتیجے تک پہنچاتے ہیں اور عالمِ اسلام کو بھی مایوسی کے آسیب سے نجات دلانے کا سبب اور ذریعہ بنتے ہیں۔

تیونس میں عوامی جدوجہد کے پہلے مرحلے میں کامیابی کے اثرات فوراً ہی دیگر عرب ممالک میں بھی اپنا آپ منوانے لگے۔ پڑوسی ملک الجزائر میں بھی عوامی مظاہروں کا دھیما دھیما آغاز ہونے لگا۔ تیونسی نوجوان محمد البوعزیزی کی خودسوزی کی کوشش اور احتجاج سے تیونس میں عوامی انقلاب کا آغاز ہوا تھا۔ مختلف عرب ممالک میں اب تک کئی عرب ممالک میں نوجوانوں نے اسی کی تقلید شروع کر دی ہے۔ اب تک الجزائر میں چار، موریتانیا، مصر اور یمن میں ایک ایک نوجوان خودسوزی کرچکا ہے۔ ان کوششوں سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ اصل بات خود سوزی میں نہیں۔ یہ تو محمد البوعزیزی کے غصے اور مایوسی کا ایک ایسا مظہر تھا کہ اسلامی تعلیمات جس سے سختی کے ساتھ روکتی اور خبردار کرتی ہیں۔ تعلیم یافتہ محمد البوعزیزی کے سبزی کے ٹھیلے کو بھی جب شہر کی انتظامیہ نے اُٹھاکر پھینک دیا تو اس نے دوبارہ ٹھیلا بنا لیا مگر اسے بھی اُٹھا لیا گیا اور البوعزیزی کو بھی پولیس اسٹیشن لے گئے۔ وہاں گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ خاتون کانسٹیبل نے اس کے منہ پر طمانچے بھی رسید کیے۔ اس توہین اور زیادتی پر احتجاج کرنے وہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچا۔ اس نے بھی بری طرح دھتکار دیا تو اس نے اس کے دفتر کے سامنے ہی خودسوزی کرلی۔ اس کی ماں ایک انٹرویو میں بتارہی تھی کہ محمد تین سال کی عمر میں یتیم ہوگیا تھا۔ لٹتے پٹتے، محنت کرتے اب وہ گھر سنبھالنے کے قابل ہوا تھا کہ اس کی ساری جمع پونجی لوٹ لینے کے ساتھ ہی ساتھ اس کی توہین و بے عزتی بھی کی گئی۔ ظلم و جبر کے اس ماحول میں اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی بھی نہ تھا، نہ انصاف فراہم کرنے کا کوئی ادارہ ہی باقی بچا تھا۔ وہ جان سے گزر گیا، لیکن اس کی یہ کوشش پوری قوم کی آزادی کی بنیاد بن گئی۔

عرب ممالک میں خود سوزی کرنے والے بلکہ پوری مسلم دنیا کے نوجوانوں کے سامنے اصل بات یہی رہنی چاہیے کہ پوری قوم کا اُٹھ کھڑے ہونا، بندوق اُٹھانے یا خود کش حملوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کے بجاے گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جانا، لاشوں پہ لاشے گرتے چلے جانے کے باوجود اپنے احتجاج کو جاری رکھنا اور ثابت قدم رہنا ہی بالآخر انقلاب کی بنیاد بنتا ہے۔ تیونس میں انقلاب آنے کے بعد اب تمام عرب ممالک کے حکمرانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں ان کے عوام بھی ڈکٹیٹرشپ، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور حکمرانوں کی لوٹ مار کے خلاف نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ فوراً ہی کئی ممالک نے ’احتیاطی تدابیر‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ پڑوسی ملک الجزائر میں اشیاے خوردونوش کی قیمتیں فوراً آدھی کر دی گئی ہیں۔ شام میں فوراً تنخواہیں دگنی کردی گئی ہیں۔ مصر میں تیل کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ واپس لے لیا گیا ہے۔ کویت میں تو سارے کویتی شہریوں کو ایک ایک ہزار دینار (یعنی تقریباً تین لاکھ روپے) فی کس اور ۱۴ ماہ کے لیے غذائی اشیا مفت کردینے کا اعلان کر دیا ہے۔

روزنامہ لی مونڈ کے مطابق صدر زین العابدین بن علی کے فرار سے پہلے اس کی بیوی بیگم لیلی الطرابلسی نے اسٹیٹ بنک سے ڈیڑھ ٹن سونا نکلوایا اور پھر دیگر دولت کے ساتھ وہ سونا بھی ساتھ لے کر دبئی چلی گئی۔ تیونسی ذمہ دار بتا رہے تھے کہ بیگم صاحبہ کا حکم جب بنک کے گورنر کو پہنچا کہ ڈیڑھ ٹن سونا فوراً بھجوادو تو اس نے تصدیق کرنے کے لیے صدرمملکت کو فون کیا کہ خاتونِ اوّل کا یہ حکم موصول ہوا ہے کیا کروں؟ صدر مملکت نے جواب میں فرمایا: اگر تمھیں یہ یقین ہوگیا تھا کہ حکم بیگم صاحبہ ہی کا ہے تو پھر دیر کیوں کی؟ مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ فوراً سونا بھجوا دو۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ بیگم صاحبہ ۱۹۹۲ء میں بن علی سے شادی سے پہلے ایک بیوٹی پارلر چلاتی تھیں، شادی کے بعد ملک چلانے لگ گئیں۔ صدر کی دولت کا ابتدائی اندازہ ۱۲ ارب ڈالر، یعنی ۱۰کھرب روپے سے بھی زائد کا لگایا جا رہا ہے۔ لیکن اب معلوم نہیں اس میں سے کتنی ہاتھ آتی ہے، سوئٹزرلینڈ کے بنکوں نے مظاہروں کا بہانا بناکر اپنے بنکوں میں موجود اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

بن علی تو فرانس ہی میں زیرتعلیم رہا۔ اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیکورٹی اور انٹیلی جنس میں اعلیٰ تعلیم امریکا سے حاصل کی۔ مغرب کے نزدیک ان دونوں حکمرانوں کی سب سے اہم کارکردگی یہ تھی کہ انھوں نے اسلام پسندی، یعنی رجعت پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ سختی سے نمٹا۔ اسلامی تعلیمات مسخ کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کو جیلوں میں بند کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں خود کو ڈکٹیٹر اور فرعون بنائے رکھا، لیکن جیسے ہی غریب عوام نے عزت و آزادی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا، تمام مغربی آقائوں نے منہ موڑ لیا۔ ملک سے فرار کا بھی کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا، رات کی تاریکی میں لیبیا کے صدر قذافی نے گاڑیوں کے قافلے میں لیبیا آنے کا راستہ دیا، وہاں سے اٹلی پہنچا۔ مگر اٹلی، مالٹا اور فرانس سب نے پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ پھر مصری صدر کی وساطت سے سعودیہ میں پناہ ملی۔

تیونس میں عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا تو سب سے پہلے فرانسیسی وزیرخارجہ نے پیش کش کی تھی کہ اگر ملک میں’امن و استحکام‘ کے لیے خصوصی پولیس فورس کی ضرورت ہو تو فرانس بھجوا سکتا ہے۔ پھر جب آتش و آہن سے اپنے عوام کو کچلنے والا اچانک ریت کے گھروندے کی طرح ڈھے گیا تو اس کے لیے اپنے تمام در بند کرتے ہوئے اسی فرانسیسی وزیرخارجہ نے بیان دیا: ’’ہم تیونسی عوام کی راے کا احترام کرتے ہیں اور اسے کامیابی حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں‘‘۔

عملاً دیکھا جائے تو فرانس نے اب بھی تیونسی عوام کی راے کا کوئی احترام نہیں کیا ہے۔ اس کی اب بھی پوری کوشش ہے کہ سابقہ نظام کے زیادہ سے زیادہ افراد ہی آیندہ بھی حکمران رہیں۔ اس وقت بھی سابق اسپیکر فواد المبزع کو صدر اور سابق وزیراعظم محمدالغنوشی کو پہلے صدر اور پھر وزیراعظم بنایا گیا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے تمام حکومتی ذمہ داران نے سابق حکمران پارٹی ’التجمع الدستوری‘ سے استعفا دے دیا ہے اور وزیراعظم نے بیان دیا ہے کہ ’’ماضی سے مکمل براء ت کا اظہار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اب تک ۱۸۰۰سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے لیکن بہت سے خاندان اب بھی اپنے گم شدہ افراد خانہ کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تیونس کے حالیہ عوامی انقلاب سے پہلے تیونس میں حالات بظاہر معمول پر تھے۔ ۱۴دسمبر کو لبنان سے شائع ہونے والے معروف پندرہ روزہ سیکولر سیاسی رسالے نے ’بن علی کے تیونس‘ کے عنوان سے ٹائٹل اسٹوری شائع کرتے ہوئے اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے اور ساری عرب دنیا کو اس کی تقلید کی دعوت دی تھی۔ ان معمول کے حالات میں بھی اتنی بڑی تعداد میں سیاسی قیدی جیلوں میں بند تھے۔ اسی لیے عبوری حکومت کے تمام ظاہری اقدامات کے باوجود عوام نے اپنے مظاہرے بند نہیں کیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سابقہ حکومت کے تمام افراد کو ایوانِ اقتدار سے نکال کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

تحریکِ اسلامی تیونس بھی عوام کے شانہ بشانہ میدان میں ہے۔ اگرچہ عوامی تحریک کا کوئی قائد نہیں اور پوری قوم ہی یک جا ہوکر سڑک پر ہے، اب ملک بدر سیاسی قیادت واپس آرہی ہے۔ زیرزمین قیادت بھی سامنے آرہی ہے۔ سیکولر رجحانات والے اپوزیشن لیڈر منصف المرزوقی آچکے ہیں اور اسلامی تحریک، تحریکِ نہضت کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی بھی جلد واپسی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف تین بار عمرقید کے عدالتی احکامات بھی موجود ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جلاد کے ساتھ اس کے سارے جائرانہ احکامات کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے، اس لیے وہ بہرصورت ملک جائیں گے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے واویلا شروع کر دیا ہے کہ راشد الغنوشی خمینی کی طرح واپس آنا چاہتے ہیں۔ شیخ راشد کا کہنا ہے کہ نہیں، ہر شہری کی طرح انھیں بھی ایک آزاد ملک میں سانس لینے کا حق ہے۔ میں خمینی بننے یا کسی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے نہیں جا رہا۔ تحریک کی قیادت بھی تحریک کے سپرد کر دوں گا اور اپنے عوام کے ساتھ مل کر قوم کی کشتی کو منزل تک پہنچانے میں سعی کرکے انقلابی جدوجہد میں دیگر بہت سے عوامی نعروں کے علاوہ نوجوان معروف تیونسی شاعر ابوالقاسم الشابی کی نظم بآواز بلند گا رہے ہیں:

اذا الشعب یوماً أراد الحیاۃ
فلا بد أن یستجیب القدر

ولا بد للیل أن ینجلی
ولا بد لقید أن ینکسر

(جب قوم زندہ رہنے کا فیصلہ کرلے تو پھر تقدیر بھی ضرور اس کا ساتھ دیتی ہے۔ پھر (ظلم کی) تاریک رات چھٹ جاتی ہے اور قید کی زنجیریں ٹوٹ گرتی ہیں۔)

تیونس کے عوام نے ثابت کر دیا کہ پورے عالمِ اسلام کے عوام کی تقدیر خود ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

 

الجزائر: اسیروں سے یک جھتی

قومی ترانہ کیا ہے، پورا اعلانِ بغاوت اور اعلانِ جہاد ہے۔ میرا نہیں خیال کہ دنیا کے کسی اور ملک کے قومی ترانے میں استعماری ملک کا نام لے کر اسے چیلنج کیا ہوگا۔ الجزائر کے قومی ترانے میں دو مرتبہ فرانس کا نام لے کر اس سے نجات حاصل کرنے پر اظہارِ فخروانبساط کیا گیا ہے:

یَافَرنَسْا قَدْ مَضٰی وَقْتُ الْعِتَاب
وَطَوَیْنَاہ کَمَا یُطْوٰی الْکِتَاب

یَافَرنَسْا اِنَّ ذَا یَوْمُ الحِسَاب
فَاسْتَعِدِّی وَخُذِی مِنَّا الْجَوَاب

اِنَّ فِی ثَوْرَتِنَا فَصْلَ الخِطَاب
وَعَقَدْنَا الْعَزْمَ اَنْ تَحْیَا الْجَزَائر

(او فرانس! اب وقت عتاب لد چکا، ہم نے اس دور کو کسی کاغذ کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔ اوفرانس! روزِ حساب آن پہنچا۔ اب تیار ہوجائو اور ہمارا جواب سن لو۔ بے شک ہمارے انقلاب میں دوٹوک پیغام ہے۔ ہم نے پختہ عزم کرلیا ہے کہ الجزائر ہمیشہ تابندہ رہے گا۔)

کسی بھی موقع پر، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ، حتیٰ کہ فرانسیسی ایوان ہاے اقتدار میں بھی اگر کبھی الجزائر کا قومی ترانہ بجے گا تو وہاں بھی یہی لَے اور اس کی یہی شان ہوگی۔ الجزائر سمیت بہت سے افریقی ممالک فرانسیسی استعمار کے قبضے میں رہے ہیں۔ ہرجگہ فرانسیسی زبان اور فرانسیسی تسلط کے اثرات اب بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں، لیکن الجزائری عوام میں فرانسیسی استعمار کے خلاف جذبات اس قدر گہرے اور ہمہ گیر ہوں گے، الجزائر خود جاکر دیکھنے سے پہلے اس کا یوں اندازہ نہ تھا۔

الجزائر جانے کا پروگرام پہلے بھی دو تین بار بنا، لیکن ہربار کسی نہ کسی ناگزیر مصروفیت کے باعث آخری لمحات میں منسوخ کرنا پڑا۔ بالآخر ۵ اور ۶ دسمبر کو الجزائر کے دارالحکومت الجزائر (ملک اور دارالحکومت کا نام ایک ہی ہے) میں استعماری جیلوں میں گرفتار قیدیوں سے یک جہتی کے لیے منعقدہ کانفرنس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ کانفرنس حکمران پارٹی ’محاذ آزادی‘ اور فلسطینی تنظیموں کے اشتراک سے منعقد ہوئی تھی۔ دنیا بھر سے ۷۰۰ کے قریب شرکا مدعو تھے۔ میزبانوں کے اعلان کے مطابق نیلسن منڈیلا کی شرکت بھی متوقع تھی، وہ تو اپنی ضعیفی کے سبب نہ آسکے، لیکن کانفرنس میں کئی اور نیلسن منڈیلا شریک تھے۔ ایسے بہت سے افراد تھے جو صہیونی، فرانسیسی، عراقی جیلوں میں طویل قید کاٹ چکے تھے۔ حزب اللہ کے سمیرالقنطار بھی تھے جنھیں اسرائیل نے ۵۴۲ سال کی قید سنائی تھی اور بالآخر ۳۰سال بعد قیدیوں کے تبادلے میں رہا کرنا پڑا۔ ایسی خواتین بھی تھیں جو ۱۰،۱۰سال سے بھی زائد عرصہ صہیونی درندوں کے نرغے میں رہیں۔ ایک ایسی خاتون بھی اپنے شوہر اور اڑھائی سالہ بچے کے ساتھ کانفرنس میں موجود تھیں جو اپنی شادی کے چند ماہ بعد گرفتار ہوگئیں۔ جیل ہی میں بچے کی ولادت ہوئی اور معصوم باغی، دنیا میں آمد کے پہلے ۲۰ماہ اپنی ماں کے ساتھ جیل ہی میں رہا۔ گویا قیدوبند اس کی گُھٹی میں شامل ہے۔ عبداللہ البرغوثی نام کے ایک قیدی کے ۷۰سالہ والد بھی موجود تھے۔ عبداللہ کو اسرائیل نے ۶۷بار عمرقید، یعنی ۱۶۷۵سال کی سزا سنائی ہے۔ ظاہر ہے نہ قیدی نے سیکڑوں سال تک جینا ہے، نہ جلادوں اور جیلروں نے، لیکن اپنی درندگی ثابت کرنے کے لیے ضروری تھا کہ صدیوں کی قید سنائی جائے۔ سفید ریش والد کی آنکھیں غمِ یعقوب کی جھلک دکھا رہی تھیں، لیکن اپنی گفتگو میں انھوں نے بیٹے سمیت آزادی و جہاد کے ہر اسیر کو یہی پیغام دیا کہ لاتحزن ان اللّٰہ معنا، ’’غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔

اسرائیلی جیل میں قید ۳۰ سالہ فلسطینی خاتون احلام التمیمی کے اہلِ خانہ بھی شریکِ کانفرنس تھے۔ احلام کو ۱۶بار عمرقید (۴۰۰ سال) کی سزا سنائی گئی ہے۔ صہیونی ریاست کی تاریخ میں کسی خاتون کو دی جانے والی یہ سب سے لمبی سزا ہے۔ کانفرنس میں ایک فلسطینی قیدی نائل البرغوثی کا خط بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ نائل صہیونی جیلوں کا سب سے پرانا قیدی ہے۔ ذرا جگر تھام کر سنیے کہ وہ گذشتہ ۳۳سال سے جیل میں ہے۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا: ’’ہمیں زنجیروں کی پروا نہیں ہے، لیکن اگر آپ مسئلۂ فلسطین اور قیدیوں سے اظہار یک جہتی میںکمزوری دکھاتے ہیں تو اس کا دکھ شدید ہوتا ہے‘‘۔ نائل اگر آج بیت المقدس پر قابض صہیونی دشمن کو لکھ کر دے دے کہ اسے جہادِ آزادی میں حصہ لینے پر افسوس ہے، اور وہ آیندہ اس جرم کا ارتکاب نہیں کرے گا، تو وہ کل رہائی پاسکتا ہے۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ جہاں ۳۳ سال قید گزر گئی، شاید باقی عمر بھی وہیں گزر جائے گی۔ لیکن اگر آج اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلۂ اوّل سے بے وفائی کرتے ہوئے، اس پر یہودی تسلط قبول کرلیا تو پھر جو قید شروع ہوگی وہ موت کے بعد بھی جاری رہے گی… ہمیشہ ہمیشہ کی قید… جہنم کی وادیوں کی قید!

عراق کے ابوغُرَیب جیل میں امریکی سورمائوں کی قید میں رہنے والی ۵۰سالہ خاتون بھی کانفرنس میں شریک تھیں، بتانے لگیں کہ آزادی، جمہوریت اور حقوقِ انسانی کے علَم بردار امریکی درندوں نے، ہمیں کئی ماہ تک ایک تنگ بیت الخلا میں بند رکھا۔ ابوغریب میں ہونے والے مظالم کی تصویریں باہر آئیں، تذلیلِ انسانیت کی نئی تاریخ دنیا کے سامنے آئی، عالمی احتجاج ہوا، تو امریکا نے دنیا کو دکھانے کے لیے بعض عالمی تنظیموں کو ابوغُرَیب کا دورہ کروایا۔ اسی طرح کے ایک دورے کے موقع پر ہم درجنوں خواتین کو قیدخانے کی اُوپر والی منزل میں بند کر دیا گیا۔ نیچے ان زائرین کا وفد پہنچا، تو امریکی جیلر انھیں صاف ستھرے کمروں میں، نظم و ترتیب سے رکھے گئے قیدیوں کی بیرکیں دکھانے لگے۔ موقع غنیمت جان کر ہم سب خواتین نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ٹیم کے کچھ ارکان ہم تک آن پہنچے اور حقیقت ِ حال کھل جانے پر امریکیوں کو ہمیں رہا کرنا پڑا۔ اس ادھیڑعمر خاتون نے کانفرنس ہال کے باہر، دیگر تنظیموں کی طرح عراقی قیدیوں کے بارے میں بھی ایک تصویری نمایش لگا رکھی تھی۔ ناقابلِ بیان مناظر امریکی فوجیوں کے ’مہذب‘ ہونے کی دہائی دے رہے تھے۔

کانفرنس میں معروف برطانوی پارلیمنٹیرین جارج گیلوے بھی شریک تھے۔ وہ اب تک تین قافلے غزہ لے جاچکے ہیں۔ فریڈم فلوٹیلا کے بعد وہ پورے عالمِ عرب میں ہیرو کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ اسٹیج پر آکر انھوں نے انگریزی لہجے میں ’السلامولیکم‘ سے گفتگو کا آغاز کیا تو ہر ایک نے اپنائیت کا ایک انداز محسوس کیا۔ کانفرنس کے اکثر شرکا اسے برادر جورج، جارج بھائی کہہ کر مخاطب ہورہے تھے۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں غزہ کی کھلی جیل میں ۱۵لاکھ فلسطینی قیدیوں کا ذکر کیا۔  انھوں نے اس پر اظہارِ افسوس کیا کہ وکی لیکس کے ہزاروں مراسلوں میں کسی عرب حکمران نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی بات نہیں کی۔ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں انھوں نے بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دوبرسوں میں ۵۵ امریکی شہروں میں جاکر فلسطین کے حق میں تقاریر کی ہیں۔

کانفرنس میں شریک مغربی دانش وروں میں سے ایک بڑا نام سٹینلی کوہن کا تھا۔ یہ معروف یہودی امریکی وکیل، امریکی اور اسرائیلی عدالتوں میں فلسطین کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ہم تمام یہودی، فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے یکساں ذمہ دار ہیں۔ ایک امریکی شہری ہونے کی حیثیت سے ہم شرمندہ ہیں کہ ہمارا ملک صہیونی لابی کے نرغے میں گھرا ہوا ہے‘‘۔ انھوں نے مغربی حکمرانوں سے سوال کیا کہ وہ فلسطین کا دورہ کرتے بھی ہیں تو فلسطینی عوام کی منتخب حکومت سے کیوں نہیں ملتے؟ ہم تو جمہوریت کے چیمپئن ہیں۔ عیسائی جورج اور یہودی سٹینلی نے انصاف کی بات کی، تو پوری کانفرنس نے انھیں دل کھول کر داد دی۔ اس پذیرائی میں یہ اعلان شامل تھا کہ اصل دشمنی پالیسی اور اعمال سے ہے۔ یہودی اور عیسائی رہتے ہوئے بھی اگر کوئی حق کا ساتھ دے تو اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ قرآن کریم بھی دعوت دیتا ہے:

اے نبیؐ! کہو، ’’اے اہلِ کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے‘‘۔ اِس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیںتو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں۔(اٰل عمران ۳:۶۴)

کانفرنس صبح ۱۰ بجے شروع ہوئی تھی۔ راقم کو بھی افتتاحی سیشن میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ اسٹیج پر پہنچا تو سوا گیارہ ہورہے تھے۔ پاکستان اور الجزائر میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے۔ عین اس وقت، یعنی تقریباً سوا چار بجے سہ پہر، اسلام آباد کے ایوانوں کے سامنے جماعت اسلامی کا دھرنا اپنے عروج پر تھا۔ اندازہ لگایا کہ اب شاید محترم امیرجماعت کا خطاب شروع ہونے کو ہوگا۔ اللہ نے توفیق دی اور اسی بات سے گفتگو کا آغاز ہوگیا کہ آج جس لمحے ہم پوری دنیا سے اس کانفرنس ہال میں جمع ہیں، اسلام آباد کی سڑکوں پر آپ کے ہزاروں بھائی اپنے امیر کی قیادت میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ وہ سب میدان میں آکر صرف صہیونی ہی نہیں، تمام استعماری جیلوں سے    بے گناہ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں… شرکاے کانفرنس نے تالیوں سے اس اعلان کا استقبال کیا اور وہ سب بھی دھرنے میں شریک ہوگئے۔ پھر چند منٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے لے کر امریکی ڈرون حملوں، پاکستان کے خلاف دشمنوں کی سازشوں، کشمیر میںہندستانی استعمار کی چکّی تلے پسنے والے کشمیریوں کا ذکر کرتے ہوئے اجازت لی۔ متعدد بار شرکا بھی اپنی تالیوں سے شریکِ گفتگو رہے۔

مصر کے عام انتخابات

اسی روز (۵ دسمبر) ہی کو مصر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہورہی تھی۔ اس لیے وہاں سے زیادہ شرکا نہیں آئے تھے۔ ویسے بھی مصر اور الجزائر کے درمیان ان دنوں تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔ بدقسمتی ملاحظہ فرمایئے کہ دونوں اہم برادر ملکوں کے درمیان جھگڑا ایک فٹ بال میچ کے دوران ہوا۔ لگتا تھا میچ دونوں بھائیوں کے درمیان باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ کئی ماہ قبل ہونے والے اس حادثے کی گرمی ابھی تک فضا میں موجود تھی۔ اب بھی الجزائر کے اخبارات لکھ رہے تھے: ’’مصر سے تعلقات بحال نہیں ہوسکتے، اس نے ہمارے شہدا کی توہین کی ہے، اسے الجزائری قوم سے معافی مانگنا ہوگی‘‘۔ مصری دوستوں سے ان کے انتخابات کے بارے میں دریافت کیا تو غصے اور بے بسی کا مرقع بن گئے۔ کہنے لگے: کچھ نہ کچھ دھاندلی اور فراڈ تو شاید دنیا کے ہرالیکشن میں ہوتا ہے، لیکن ہر غیرجانب دار منصف، مصر میں انتخابی دھاندلی کو پوری دنیا میں پہلا نمبر دے گا۔

الیکشن سے کئی ماہ پہلے مصر کے تقریباً ہر شہری کو معلوم تھا، کہ اس بار الیکشن میں اپوزیشن کو ایک فی صد نمایندگی بھی نہیں لینے دی جائے گی۔ گذشتہ انتخابات پانچ مراحل میں مکمل ہوئے تھے۔ اگرچہ ان میں بھی دھاندلی اور ریاستی تشدد کی انتہا کر دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی     الاخوان المسلمون کو ۸۸ نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ مرحلہ وار انتخاب میں اخوان کو جیتنے سے روکنے میں ناکامی پر اس بار پورے ملک میں ایک ہی روز ووٹنگ تھی۔ اخوان کا ایک بھی نمایندہ پارلیمنٹ میں نہیں جانے دیا گیا۔ اپوزیشن وفد پارٹی کو تین سیٹیں دی گئی تھیں، حکومت نے پہلے ہی ہلے میں ۹۵فی صد سیٹیں جیت لیں، جب کہ ۲۰۰ سے زائد حلقوں میں حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باعث، ایک ہفتے بعد دوبارہ پولنگ کروانے کا اعلان کیا گیا۔ ان میں اخوان کے بھی ۲۷ اُمیدواروں کے نام شامل کیے گئے۔ وفدپارٹی کے بھی چند اُمیدوار دوسرے مرحلے میں آگئے۔ وفدپارٹی نے اتوار کے روز ہونے والی پولنگ میں دھاندلی کے خلاف، منگل کے روز دوسرے مرحلے کے بائی کاٹ کا اعلان کردیا۔ اخوان کے مرشدعام نے پیر کے روز ایک تفصیلی اور پُرہجوم کانفرنس میں اپنے تفصیلی موقف کا اعلان کیا۔ انھوں نے مصری عوام اور اخوان کے اُمیدواروں اور کارکنان کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ تمام تر حکومتی جبروتشدد کے باوجود، انھوں نے میدان نہیں چھوڑا اور آج وہ ایک بھی سیٹ نہ ملنے کے باوجود دنیا میں کامیاب قرار دیے جارہے ہیں اور اللہ کے دربار میں کامیابی کا تو ادنیٰ شک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: انتخابات میں بے نظیر دھاندلی کی وجہ سے پوری دنیا میں مصر کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس عالمی توہین کی پوری ذمہ داری حکومت کے سر ہے۔ واضح رہے کہ مصری انتخابات میں  کھلم کھلا دھاندلی کا اعتراف خود حُسنی مبارک کے سرپرست امریکا و برطانیہ کے تقریباً تمام اخبارات نے بھی کیا۔ سب نے حُسنی ہی کی نہیں خود اس کے مغربی آقائوں کی بھی مذمت کی۔ کئی ایک نے کہا: اگر ہماری جمہوریت کی عملی مثال حُسنی مبارک، حامد کرزئی اور نوری المالکی ہی ہیں، تو اس جمہوریت کی کون تائید و حمایت کرے گا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے کا عنوان رکھا: ’مسٹر حُسنی بمقابلہ مسٹر اوباما‘۔ اس نے لکھا کہ ’’مصری انتخابات نے اوباما انتظامیہ کے ان تمام اعلانات کو   بے بنیاد ثابت کردیا ہے جو وہ خطے میں تبدیلی کے حوالے سے کرتے چلے آرہے تھے‘‘۔

اخوان کے مرشدعام نے انتخابی دھاندلی کی مذمت کے ساتھ ہی ساتھ اس پہلو پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی کہ ’’اس سارے ظلم و تعدی کے باوجود ہم اپنی پُرامن جدوجہد کے راستے کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں کوئی بھی قانون اور دستور سے متصادم راستے کی طرف نہیں دھکیل سکتا۔ ہمارا راستہ طے شدہ، واضح اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ ہے۔ ہم ان شاء اللہ اسی پُرامن، دستوری راستے پر چلتے ہوئے ہی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے‘‘۔ اخوان کے ایک تجزیہ نگار نے دل چسپ اور جامع بات کی۔ انھوں نے کہا: اگر ہمارے سامنے الیکشن لڑنے کے ۱۲؍ اہداف و مقاصد تھے،تو ہم نے ان میں سے ۱۱ حاصل کرلیے۔ الیکشن میں نشستیں حاصل کرنے کا بارہواں ہدف حاصل نہیں بھی ہوسکا تو کوئی پروا نہیں، اللہ کی رسی کو تھامے رہے تو ان شاء اللہ یہ ہدف بھی جلد اور ضرور حاصل کرلیں گے۔

ووٹنگ کے دوران جھڑپوں میں ۱۱؍افراد موت کی آغوش میں اُتار دیے گئے، سیکڑوں زخمی ہوئے، ۲ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔ بیرونی ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کو مقید کر دیا گیا۔ کئی ٹی وی رپورٹوں کو درمیان ہی میں روک دیا گیا اور کسی عالمی مبصر کو مصر نہیں آنے دیا گیا۔ دھاندلی کی ایک جھلک ملاحظہ ہو کہ کیا چوری اور سینہ زوری ہے: حلوان نامی شہر کے بوتھ نمبر ۲۳۴ میں پولنگ ریکارڈ کے مطابق، پولنگ بند ہونے کے وقت ۳۷۸ ووٹ ڈالے گئے، کوئی ووٹ کینسل نہیں ہوا۔ جب گنتی مکمل ہوئی تو حکومتی نمایندے سیدمشعل کو ۴۶۰ اور اخوان کے نمایندے کو کوئی بھی ووٹ نہیں ملا، جب کہ دیگر اُمیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کو جمع کریں تو ۳۷۸ کاسٹ ہونے والے بوتھ کے ڈبوں سے ۹۱۰ ووٹ برآمد ہوئے۔ نہ کسی بندے کا ڈر، نہ بندوں کے رب کا خوف۔

اس پورے تناظر میں پہلے وفد پارٹی نے اور پھر اخوان نے انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائی کاٹ کر دیا۔ بائی کاٹ کے اعلان میں کہا گیا کہ انتخابات کے نتائج کا تو پہلے سے بھی اندازہ تھا، لیکن ہم شرکت کے جو اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے، کرلیے۔ اب ان انتخابات کو مزید بے نقاب کرنے کے لیے بائی کاٹ کر رہے ہیں۔ اب یہاں ایک مثال اُلٹی دھاندلی کی ملاحظہ ہو: جب سب نے بائی کاٹ کر دیا تو عالمی اور عرب ذرائع ابلاغ کہنے لگے کہ حکمران پارٹی کا مقابلہ حکمران پارٹی ہی سے ہورہا ہے۔ حکومت نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ نہیں، اخوان بھی انتخاب میں شریک ہے۔ بائی کاٹ کرنے والے اُمیدواروں میں سے ایک اُمیدوار کو کامیاب قرار دے دیا، یعنی پہلے ہروانے کے لیے دھاندلی اور اب جتوانے کے لیے دھاندلی۔ مصر میں آیندہ برس صدارتی انتخاب ہونا ہے، اس کا نتیجہ بھی ابھی سے معلوم ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات میں خود امریکی سفارت کار بھی کہہ رہے ہیں۔ ۸۲سالہ حُسنی مبارک مرتے دم تک جان نہیں چھوڑے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جب دنیا سے کوچ کرنا پڑا، تو اپنے بعد اپنے بیٹے جمال مبارک کے سر پر تاج رکھ کر جائے گا۔ امریکی سفارت کاروں نے اس آدھے سچ کے ساتھ باقی یہ سچ نہیں لکھا، کہ اس سارے عمل کو امریکی سرپرستی حاصل رہے گی اور امریکا اس شان دار عوامی تائید کے حامل مصری صدر کو، سالانہ ایک ارب ڈالر کی امداد پیش کرتا رہے گا۔

جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم

الجزائر کانفرنس میں سوڈانی سفیر کے مشیر قطبی المہدی بھی شریک تھے۔ ان کے ساتھ ساری گفتگو ۹جنوری کو ہونے والے ریفرنڈم کے بارے میں رہی۔ چھے سال قبل ہونے والے معاہدے کے تحت ہونے والے اس ریفرنڈم میں، جنوبی سوڈان کی آبادی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سوڈان ہی میں شامل رہیں گے یا وہ الگ ہونا چاہتے ہیں؟ سوڈانی حکومت نے اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت جنوب میں امن قائم کرلے۔ پہلے ۱۹۵۵ء سے ۱۹۷۲ء تک کی گیارہ سالہ اور پھر ۱۹۸۳ء سے ۲۰۰۵ء تک کی ۲۲سالہ جنگ میں ۱۹ لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے تھے۔ ۴۰لاکھ افراد بے گھر ہوچکے تھے، اب سوڈانی صدر مصر تھے کہ جنگ بند کرکے خطے میں امن کا سفر شروع کیا جائے۔ جنوری ۲۰۰۵ء میں صدر عمرالبشیر اور جنوبی باغی لیڈر جون گرنگ کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی کامیابی کے لیے جنوبی رہنمائوں نے جو مانگا، انھیں دیا گیا۔ انھوں نے معاہدے کے وقت تقاضا کیا کہ ’’اقتدار اور ثروت‘‘ میں برابر حصہ دیا جائے، حکومت نے مان لیا۔ سینیرنائب صدر کا عہدہ بھی دے دیا، وزارتِ خارجہ سمیت اہم وزارتیں بھی ان کے سپرد کر دیں۔ چند سال قبل برآمد ہونے والے تیل کی آمدنی میں سے بھی ایک بڑا حصہ انھیں دے دیا۔ جنوبی آبادی کی اکثریت اس حسنِ سلوک کا اعتراف واظہار بھی کرنے لگی، لیکن براہِ راست امریکی مداخلت، ڈالروں کی بارش اور خود اسرائیلی ذمہ داران کے جنوبی علاقوں میں براجمان ہوجانے سے،   تالیفِ قلب کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔

ریفرنڈم ہونے اور باقاعدہ نتائج آنے میں ابھی چند ہفتے باقی ہیں، لیکن تمام تر شواہد اعلان کر رہے ہیں کہ جسدِ ملّی کے دو حصے کیے جارہے ہیں۔ اب کوئی دن جاتا ہے کہ جنوبی سوڈان کا لاکھوں کلومیٹر پر مشتمل رقبہ سوڈان کے جسد سے کاٹ کر، افریقہ میں اسرائیلی اور امریکی مداخلت کا ایک نیا اڈا بنا دیا جائے گا۔ الگ جنوبی ریاست کی تشکیل سے سوڈان ہی نہیں تمام پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ بحیرۂ احمر کے مختصر پاٹ کے دوسری جانب سعودی سرحدیں اور جدہ کی بندرگاہ ہے۔ جنوبی ریاست کے اسی علاقے سے دریاے نیل پھوٹتا ہے۔ اسرائیل امریکا اور ان کے غلام جنوبی حکمران، مل کر پورے خطے کا پانی اپنے کنٹرول و اختیار میں کرسکتے ہیں۔ یہاں موجود تیل کے وسیع ذخائر پر بھی پوری مغربی دنیا کی رال ٹپک رہی ہے۔

تاریخ اس موقع پر ایک اور عجیب و تلخ حقیقت یاد دلا رہی ہے۔ صدر عمرالبشیر نے اقتدار سنبھالا تو انھیں سب سے پہلی مزاحمت انھی پڑوسی ممالک کی طرف سے برداشت کرنا پڑی تھی۔ مصر سمیت تمام ممالک نے امریکی پابندیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سوڈان کا محاصرہ کرڈالا تھا۔ سوڈان سخت جاں نکلا، نہ صرف حصار کی سختی برداشت کرگیا، بلکہ چین کے ساتھ مل کر تیل بھی نکال لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سوڈان کی تقدیر بدلنے لگی۔ بس یہی بات استعمار کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ اس نے سوڈان کے حصے بخرے کرنے کے علاوہ ہر راستہ مسدود کردیا۔

سوڈان کے حصار میں دشمنوں سے بھی زیادہ فعال مصر سوچے کہ آج وہ خود سوڈان سے بھی زیادہ خطرات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ مصر کو دریاے نیل کا عطیہ و ثمر کہا جاتا ہے۔ چند ہفتے بعد ریفرنڈم اور پھر چند ماہ بعد ہونے والے انتقالِ اقتدار سے، دریاے نیل کا منبع بھی مجہول مستقبل کا شکار ہوجائے گا۔ آج مصر سے آوازیں آرہی ہیں: کاش ہم نے آغاز میں اپنے بھائی کا گلا گھوٹنے کی حماقت نہ کی ہوتی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ دونوں برادر پڑوسی اور مسلمان ملک ہیں۔ دونوں کا نقصان، بالآخر پوری اُمتِ محمدی کا نقصان بھی ہے۔ اب مستقبل کی کوکھ سے خود امریکا و اسرائیل کو اس جرم کی کیا سزا ملتی ہے… یہ ظاہر ہونے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

سوڈانی صدر عمرالبشیر نے اعلان کیا ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے بھائی ہم سے الگ ہوں، لیکن اگر انھوں نے بیرونی سازشوں کا شکار ہوکر علیحدگی ہی اختیار کی، تو ہم بھی اپنے ملک میں وہ تمام اصلاحات کرنے کے لیے آزاد ہوجائیںگے، جو ہم پہلے جنوب میں جنگ اور پھر جنوبی علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدہ کی وجہ سے نہیں کرسکے۔

صدمے کے لمحات میں بھی سوڈانی صدر امید کے دیے جلا رہے ہیں۔ باغیوں کی خانہ جنگی میں ۱۹ لاکھ جانوں کا نقصان دوسری عالمی جنگ کے بعد شاید سب سے بڑا نقصان ہے۔ وہ اس جنگ کے شعلوں کو ہمیشہ کے لیے بجھا کر سوڈان کی تشکیلِ نو کا عزم رکھتے ہیں۔