عراق میں امریکی اور اتحادی افواج (بلکہ اقوامِ متحدہ کے مرکزی دفتر تک پربھی) حملوں کے ساتھ ساتھ‘ افغانستان سے بھی مختلف علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں اور بعض علاقوں پر قبضے کی اطلاعات مسلسل آرہی ہیں۔ عراق کے حوالے سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے بھیجے جانے والے دستوں اور خصوصاً ان کے سربراہ کو اپنی حرام موت کا منظر پہلے سے ہی دیکھ لینا چاہیے لیکن افغانستان کے حوالے سے‘ خود گھرکے ایک بھیدی کے معروضانہ تجزیے سے اخذ کردہ مشاہدات پر ایک نظر شاید بند آنکھوں والوں کی آنکھیں بھی کھول دے۔ ان مشاہدات کی سند کے لیے برطانوی جریدے اکانومسٹ کا نام کافی ہے۔ شمارہ ۱۶ اگست ۲۰۰۳ء کے اس تجزیے کا آغاز عراق سے ہوتا ہے۔ ’’افغانستان‘ عراق پر حملے کی ریہرسل نہیں تھا… یہ غریب ہے‘ اس کے پاس تیل نہیں‘‘ (اس لیے اس تحریر کا آغاز بھی عراق سے کیا گیا ہے!)۔
افغانستان کو تباہ کرنے اور فتح کرنے کے بعد اصل کام تعمیرنو کا تھا۔ لیکن تعمیرنو تو دُور کی بات ہے‘ اصل مسئلہ تو امن و امان برقرار رکھنا اور کرزئی حکومت کے لیے اپنا حکم نافذ کرنا ہوگیا ہے (طالبان کے دور میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ لیکن دنیا کو کیڑے ہی کیڑے نظر آتے تھے۔اب کس حال کو پہنچا دیا گیا ہے؟)۔
امریکہ کی قیادت میں ۱۲ ہزار اتحادی افواج کے ساتھ نیٹو کے زیراہتمام ترکی‘ جرمنی‘ برطانیہ اور ہالینڈ کی ۵ ہزار امن فوج (ISAF) اپنے فرائض ادا کر رہی ہے لیکن قیمت بھی ادا کررہی ہے۔ جون میں چار جرمن فوجی ایک حملے میں ہلاک ہوگئے‘ اسپین کا امن دستہ گھر واپس لے جانے والا جہاز گرگیا اور ۷۵ ہلاک ہوگئے (قیمت غالباً اس سے بہت زیادہ ادا کی جا رہی ہے)۔ لیکن جہاں امن کی اصل ضرورت ہے‘ یعنی کابل سے باہر‘ وہاں جانے میں امن دستوں نے ابھی کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ تعمیرنو کی چند صوبائی ٹیمیں (PRTS) بنائی گئی ہیں لیکن مزارشریف میں ۷۲ افراد کی ایک ٹیم کے سپرد اسکاٹ لینڈ کے برابر علاقہ ہے۔ اس سے ان کی ممکنہ کارکردگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی افواج جنوبی افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے بڑی محنت کر رہی ہیں۔ اسامہ بن لادن اور ملا عمرکا کوئی پتا نہیں‘ لیکن جنوب کا علاقہ کم نہیں‘ زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی کارروائیوں کے نتیجے میں چند افراد ہاتھ آتے ہیں جنھیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ عام دیہاتی بھی ہو سکتے ہیں (یہ ا کانومسٹ کے الفاظ ہیں)۔ انھیں تفتیش کے لیے بگرام کے ہوائی اڈے لے جایا جاتا ہے۔ وہاں کئی افراد مرچکے ہیں۔ اس سب پر امریکہ ۱۰ ارب ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔
پُرامید لوگ کہتے ہیں: افغانستان گذشتہ ۲۴ سال میں اتنا مستحکم کبھی نہ تھا۔ دہشت گردی کے تربیتی کیمپ ختم کیے جا چکے ہیں۔ قومی حکومت کی بنیاد پڑ چکی ہے‘ دستور مرتب کیا جا رہا ہے‘ آیندہ سال خواتین کے ووٹ کے ساتھ انتخابات متوقع ہیں۔ معاشی ترقی ۲۸ فی صد رہی۔ ۲۰لاکھ مہاجرین جرمن واپس آئے ہیں۔
ناامید لوگ --- جو اپنے کو حقیقت پسند تصور کرتے ہیں --- کہتے ہیں: ایک تہائی ملک خطرناک علاقہ ہے جہاں امدادی کارکنان تک نہیں جاتے۔ کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں طالبان لیڈر کھلے عام اسلحہ تقسیم کرتے ہیں۔ پاکستان خود اپنے پڑوسی کو غیرمستحکم کر رہا ہے۔ کئی دفعہ فائرنگ کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ تعمیرنو کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے‘ لیکن ہوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بڑی سڑکوں کی تعمیر کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ کابل قندھار شاہراہ جس کے لیے صدربش نے ذاتی طور پر‘ اختتامِ سال کا ہدف دیا ہے‘ انجینیرسرگوشی کرتے ہیں کہ پپڑی جما کر بنائی جا رہی ہے جو دو تین سردیاں بھی برداشت نہ کر سکے گی۔
امریکہ کا آدمی ("boy") کرزئی تنہا اور بے اثر ہے۔ اصل طاقت صوبوں کے وارلارڈز کے پاس ہے۔ دستور میں الٹ پھیر ہو جائے گا۔ انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ عورتیں بے اثر رہیں گی۔ معیشت میں ضرور بہتری ہوئی ہے لیکن صفر سے آغاز ہو تو ذرا سی بھی نظرآتی ہے۔اس وقت یہ ۱۹۷۸ء سے نصف ہے۔ یہ کہنا کہ کوئی انسانی المیہ نہیں ہے‘ حقیقت کو نظرانداز کرنا ہے۔ اکثریت کو طبی سہولت میسر نہیں۔ زچہ و بچہ کی ہلاکت کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ یہاں ہے۔ ہیضہ اور وبائی امراض بڑھ رہے ہیں۔ جس ساڑھے ۴ ارب ڈالر امداد کا وعدہ تھا‘ اس میں سے صرف ایک ارب ڈالر ملی ہے۔ اس کا بھی بیش تر حصہ تنخواہوں اور غیرملکیوں کی چمکتی دمکتی کاروں میں چلا جاتا ہے۔
ان نکات پر نہ ختم ہونے والی بحث جاری رکھی جا سکتی ہے اور کابل میں بیش تر لوگ یہی کرتے ہیں۔ لیکن دستور اور معیشت کیسے بھی ہوں‘ دو عناصر ایسے ہیں جو سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے پانی کا مسئلہ ہے۔ ۸۰ فی صد افغان کاشت کاری پر زندگی گزارتے ہیں لیکن افغانستان میں پانی اور قابلِ کاشت زمین نہیں ہے۔ ۷۰ کے عشرے میں صرف ۵ فی صد زمین کو پانی نصیب تھا۔ جنگ نے اسے نصف کر دیا۔ پھر سات سال کا خشک سالی کا دور آیا۔ پانی کی سطح بے حد نیچی ہوچکی ہے۔ مویشی مرگئے ہیں۔ فصل ہے ہی نہیں۔ پہاڑوں میں پانی کے ذخائر بنانا اورآب پاشی کا نظام تعمیر کرنا بہت مہنگے منصوبے ہیں۔
دوسرا مسئلہ منشیات کا ہے۔ دنیا کی تین چوتھائی اور یورپ کی ساری افیون افغانستان سے آتی ہے۔ پشتون گلہ بان اب اس تجارت میں مصروف ہوگئے ہیں۔ پریشانی یہ ہے کہ منشیات‘ خشک سالی اور عدمِ استحکام ایک دوسرے کو پروش کرتے ہیں۔ افیون پیدا کرنے والے پانچ میں سے تین بڑے صوبے--- ہلمند‘ ارزگان‘ قندھار‘ زیادہ غیرمستحکم اور خشک سالی کا شکار ہیں۔
صرف ایک صوبے غور کی مثال لیں۔ یہ کابل سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے‘ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر۔ غور کے ۳ ہزار ملائوں میں سے بیش تر اَن پڑھ ہیں۔ یہاں صرف پانچ ڈاکٹر ہیں۔ ساڑھے ۷لاکھ آبادی ‘ بیش تر نئے واپس آنے والے مہاجرین پر مشتمل ہے۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ مویشی مرچکے ہیں یا بیچے جا چکے ہیں۔ ہر شخص مقروض ہے۔ لوگوں نے اپنی بیٹیاں تک فروخت کی ہیں۔ کچھ نے افیون کاشت کی ہے لیکن برف باری نے فصل تباہ کر دی۔ اب اگلی فصل کا انتظار ہے اور قرض بڑھ رہا ہے۔
پورے صوبے میں صرف ۵۰ عورتیں لکھ پڑھ سکتی ہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں اب بھی مشکلات ہیں۔ قرض کی ادایگی‘ منافع یا قتل کے جھگڑوں کے تصفیے میں لڑکیوں کا مالِ منقولہ کی طرح لین دین کیا جاتا ہے۔
اس وقت افغانستان کی ایک تہائی معیشت افیون پر منحصرہے۔ گذشتہ سال ایک ارب ۲۰کروڑ ڈالر اس سے ملے۔ جب یہ ایڈنبرا اور پراگ میں گلوکوز اور اینٹ کے برادے سے مل کر رگوں میں داخل کی جاتی ہے‘ اس کی قیمت ۲۵ ارب ڈالر ہوچکی ہوتی ہے۔ افیون کی کاشت کو اب باقاعدہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے (کون یاد دلائے کہ ملاعمر نے طالبان کے دور میں اسے ختم کر دیا تھا)۔ جمہوریت بھی انھی نودولتیے کمانڈروں کا ہتھیار ہے جن کے پاس افیون کی رقم ہے۔ وہ ابھی سے اگلے سال کے انتخابات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ہم اس نقد رقم کا مقابلہ کس طرح کریں جو ان لوگوں کے پاس ہے۔
اکانومسٹ آخر میں لکھتا ہے کہ ’’جنھوں نے افغانستان کی تباہی میں حصہ لیا‘ ان کی کچھ ذمہ داری ہے کہ اسے واپس ٹھیک کر دیں‘‘۔
کاش! ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔
بحرین ‘ مراکش ‘یمن‘ ترکی اور پاکستان کے بعد اب اُردن میں بھی اسلام پسندوں نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اخوان المسلمون نے’’اسلامک ایکشن فرنٹ‘‘ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا اور ۱۰۴ عام نشستوں میں سے ۱۶‘ اور خواتین کی چھ مخصوص نشستوں میں سے ایک پر کامیابی حاصل کی۔ اسلامک ایکشن فرنٹ اُردن کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اتنی تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔
کامیاب ہونے والوں میں سے اکثر نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ ان کا تعلق بدوی قبائل سے ہے‘ یا یہ وہ ارکان ہیں جو گذشتہ حکومتوں میں وزیر رہے ہیں اور ان کو حکومتی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ بعض ایسی سیاسی جماعتیں جن کا عالم عرب میں بڑا نام تھا‘ ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکیں۔ بائیں بازو کی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ نے انتخابات میں ۱۴نمایندے نامزد کیے لیکن ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اسی طرح تحریکِ اصلاح جمہوریت نے ۲۳ نمایندے نامزد کیے جن میں سے صرف تین کامیاب ہوسکے‘ ان میں سے دو عیسائی ہیں۔
اخوان المسلمون نے ۱۹۹۷ء کے عام پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ حالیہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح‘ ۱۹۸۹ء سے جاری اس براے نام جمہوری نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ ‘یعنی ۵۹ فی صد رہی۔ کل رائے دہندگان کی تعداد ۲۳لاکھ ۲۵ ہزار ہے۔ یہ انتخابات شاہِ اُردن عبداللہ الثانی کے دورِ حکومت میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں۔ انھوں نے اسلامی تحریک کے انتخابات میں حصہ لینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اخوان المسلمون اُردن کے سیاسی و معاشرتی دھارے کا حصہ ہے‘‘۔
اسلامک ایکشن فرنٹ کے قائدین نے انتخابی عمل کے شفاف ہونے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فرنٹ کے سربراہ منصور حمزہ کہتے ہیں: ’’اگر ہمارے ہاں منصفانہ قانون ہوتا تو ہم بہ آسانی اکثریت حاصل کر سکتے تھے‘‘۔ ایک ووٹ کے قانون پر تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں نے اعتراضات کیے‘ جس کی وجہ سے آزاد اور قبائلی اُمیدواروں کو بے حد فائدہ پہنچا جو حکومت کو مطلوب تھا۔ فرنٹ کے سربراہ نے اس قانون کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس قانون کی وجہ سے ہماری نشستوں میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ انتخابی حلقہ بندی اس طریقے سے کی گئی جو اسلام پسندوں کی کامیابی میں رکاوٹ بنے۔ اُردن کو ۴۶ انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا لیکن حلقوں کی حدبندی حقیقت پسندانہ نہیں تھی۔ کہیں ضلع کی سطح پر حدبندی کی گئی توکہیں تحصیل کی سطح پر۔ حدبندی کرتے وقت آبادی کا لحاظ بھی نہیں رکھا گیا۔ کہیں ۱۰ہزار شہریوں کے لیے ایک نشست مقرر کی گئی تو کہیں ایک لاکھ ۱۵ ہزار شہریوں کے لیے ایک نشست‘‘۔ اس طرح کی ترکیبوں سے ہم لوگ پاکستان میں اچھی طرح واقف ہیں۔
ایک اور انتخابی قانون کا براہِ راست منفی اثر اسلامک ایکشن فرنٹ پر پڑا۔ اس قانون کی رُو سے باپردہ خواتین کے لیے ووٹ ڈالتے ہوئے چہرے سے نقاب اُتارنا لازمی قرار دیا گیا۔ فرنٹ نے اس قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے تجویز دی کہ انتخابی عملے میں عورتوں کو شامل کر دیا جائے تاکہ باپردہ خواتین کو ووٹ ڈالنے میں کوئی دشواری نہ ہو لیکن اُردن کی حکومت نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وزیرداخلہ سے جب اس ظالمانہ قانون کے بارے میں سوال کیا گیا کہ گذشتہ انتخابات میں تو خواتین پر انتخابی عملے کے سامنے نقاب اُتارنے کی پابندی نہیں تھی۔ اب ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’ہم نے اس بارے میں شرعی مجلسِ فتاویٰ سے رائے لی ہے‘ جس نے ووٹ ڈالتے ہوئے خواتین کو انتخابی عملے کے سامنے نقاب اُتارنے کی اجازت دی ہے۔ یہ گواہی کی ہی ایک قسم ہے‘ اس لیے اس میں کوئی گناہ نہیں‘‘۔
اُردنی حکومت نے اسلامک ایکشن فرنٹ کی کامیابی کوانتخابی عمل کے شفاف ہونے کی دلیل قراردیتے ہوئے کہا کہ اگر انتخابی عمل شفاف نہ ہوتا تو فرنٹ کو اتنی نمایاں کامیابی نہ ملتی۔ بالخصوص وہ شخصیات انتخابات میں کامیاب نہ ہوتیں جو حکومت کی شدید ترین مخالف ہیں۔ ان میں ڈاکٹر محمد ابوفارس‘ ڈاکٹر علی العتوم‘ الشیخ عبدالمنعم اور انجینیرعلی ابوالسکرکے نام قابل ذکر ہیں۔
اسلامک ایکشن فرنٹ نے ملکی سیاست میں عورت کے کردار کی مسلمہ اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر الحیاۃ المسیمی کو خواتین کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا‘ جنھوں نے چھ مخصوص نشستوں کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں میں سے ۷ ہزار ایک سو ۳۳ ووٹ حاصل کیے‘ جب کہ باقی پانچ کامیاب ممبرخواتین نے مجموعی طور پر ۵ ہزار ۵ سو ۴ ووٹ حاصل کیے۔ ان نشستوں پر خواتین امیدواروں کی کل تعداد ۵۴ تھی۔ اس طرح محترمہ ڈاکٹر المسیمی الحیاۃ نے تمام خواتین امیدواروں کوملنے والے ووٹوں کا ۵۶ فی صد حاصل کیا۔
۱- ان قوانین کا جائزہ لینا جوگذشتہ دو برس کے دوران پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بعد نافذ کیے گئے۔ جن میں (ایک ووٹ) کا قانون اور بلدیاتی اداروں کے بارے میں نافذ کیے گئے قوانین سرِفہرست ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ میئر اور بلدیاتی اداروں کے آدھے ممبران نامزد کرے۔
۲- عراق کی موجودہ صورت حال اور اُردنی معیشت اور عالم عرب پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا۔
۳- فلسطین کے نقشۂ راہ (روڈمیپ) میں اُردن کا کردار اور صہیونی حکومت سے تعلقات معمول پر لانا۔
۴- اُردن کے معاشی و معاشرتی حالات کے تناظرمیں نعرہ ’’اُردن سب سے پہلے‘‘ کے مضمرات کا جائزہ۔
فرنٹ کے سربراہ حمزہ منصور نے ان مسائل کے بارے میں اپنے اراکین کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے سیاسی و معاشرتی طرزِعمل کی نگرانی‘ صہیونی حکومت سے تعلقات معمول پر لانے کا سدباب اور فلسطینیوں اور عراقیوں کی جدوجہد اور مزاحمت میں ان کی مدد کرنا ہمارا اولیں فرض ہوگا۔ہم ان قوانین کے خلاف ووٹ دیں گے جن کے ذریعے عام شہریوں کی آزادی کو سلب کیا گیا ہے۔ حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور شہریوں کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے۔
اسلامک ایکشن فرنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ہم صرف اپنی شرائط پر شریکِ اقتدار ہوسکتے ہیں‘ دوسروں کی مسلط کردہ شرائط کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔ ہم ایک ایسی حکومت میں شامل ہوسکتے ہیں جو ’’معاہدہ وادی عربہ‘‘ کی مخالف اور صہیونی استعمار کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بات نہ کرے۔ یہ شرائط آیندہ حکومت کے لیے تسلیم کرنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔
فرنٹ کے کامیاب امیدوار بیشتر نوجوان ہیں۔ اس حوالے سے منصور حمزہ نے کہا کہ: ’’ہم نے ایک ایسا سیاسی قدم اٹھایا ہے جو شاید تمام عرب سیاسی جماعتوں کے لیے مثال ہو۔ ہم نے پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی مدت انتخاب دو سال کر دی ہے۔ اس مدت میں صرف دو سال کی اور توسیع ہو سکتی ہے‘ اس کے بعد اس کو اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے جگہ خالی کرنا ہوگی۔ یہ چیز ہم نے اس سیاسی مطلق العنانیت کے جواب میں کی ہے جو ہم عالم عرب میں پاتے ہیں۔ ہم نے انتخابات میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی شرکت یا عدمِ شرکت کے بارے میں غور کیا اور فیصلہ کیا کہ اعلیٰ قیادت کو پارلیمانی عمل سے دُور رکھا جانا چاہیے‘ کیوں کہ ایک تو یہ عمل مکمل فراغت کا متقاضی ہے اور دوسرا یہ کہ ہم چاہتے ہیں کہ تنظیمی قیادت ہی پارلیمانی گروپ کا مرجع ہو۔ پارلیمانی قیادت کو پارلیمنٹ میں مختلف دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں‘‘۔
اُردن کے انتخاب میں آزاد امیدوار بہت زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے جن کا تناسب پارلیمنٹ میں ۸۰ فی صد ہے۔ اس طرح آیندہ حکومت بھی ایسے آزاد ارکانِ اسمبلی ہی تشکیل دیں گے جن کا کوئی سیاسی منشور ہے نہ ایجنڈا۔
ان انتخابات میں اسلامک ایکشن فرنٹ کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت قابلِ ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ حتیٰ کہ دارالحکومت عمان میں کسی بھی قومیت پسند یا بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعت کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اسلام پسند جماعتوں کی نسبت دوسری سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہی کچھ صورتِ حال مصر‘یمن‘ ترکی اور پاکستان کے انتخابات سے بھی ظاہر ہے۔ جہاں پر روایتی جماعتیں (قومیت پسند‘ اشتراکی‘ لبرل اور لادینی جماعتیں) عام شہری کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
اگر ان انتخابات کو علاقائی تناظر میں دیکھیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ عوام میں اسلامی تحریک کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں اور اسلامی تحریکوں کی دعوت کے میدانِ کار میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔
آیندہ لائحہ عمل: اسلامک ایکشن فرنٹ کے سربراہ حمزہ منصور نے تحریک کے آیندہ لائحہ عمل کے بارے میں کہا کہ: ’’تحریک ملک اور پارلیمنٹ میں موجود اچھے عناصر سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم نے گذشتہ گیارھویں پارلیمنٹ میں ’’پارلیمانی یونٹی‘‘ کے نام سے اتحاد بنایا تھا۔ جس میں اسلامی‘ سیاسی‘ نیشنلسٹ‘ لبرل اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہر قسم کے افراد موجود تھے اور جس کے نتیجے میں اسلامی فرنٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبداللطیف تین سیشنوں کے لیے پارلیمنٹ کے اسپیکرمنتخب ہوئے۔ ابھی ہم ارکان پارلیمنٹ کی صورتِ حال کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں کیوں کہ اس پارلیمنٹ میں ۸۰ ایسے ممبران ہیں جو پہلی دفعہ منتخب ہوکر آئے ہیں۔ ہم ایسے افراد کو ساتھ رکھیں گے جن سے تعاون ممکن ہے۔ چاہے ان کا تعلق کسی وسیع تر گروپ سے یا اتحاد کی کسی بھی شکل سے ہو۔ ہم ہر اس شخص سے تعاون کے لیے تیار ہیں جو ملک و ملّت کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔
بعض دیگر امور کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’’ہمارے پاس ایک اعلان کردہ منشور ہے جو ہم نے اپنے عوام کے سامنے رکھا ہے۔ ہم چند محوروں کے گرد کام کررہے ہیں۔ پہلا محور قانونی ہے‘ جس سے ہماری مراد قانونی اور دستوری دونوں پہلو ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی زندگی میں پارلیمنٹ کا وجود ناگزیر ہے اور کسی بھی طرح کے حالات میں اس کو تحلیل نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا سیشن پورا سال جاری رہنا چاہیے‘ جب کہ ہمارے ہاں پارلیمنٹ کا سیشن چار ماہ کا ہوتا ہے۔ باقی آٹھ ماہ چھٹیاں ہوتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سال میں گیارہ مہینے کام کرے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اقتدار کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے اور اکثریتی پارٹی کو حکومت تشکیل دینے کا حق ہونا چاہیے۔ ملک بہت سے ایسے جزوقتی قوانین سے متاثر ہوتا ہے جو ہماری رائے میں غیردستوری ہیں۔ اگر ہمارے ہاں کوئی دستوری عدالت ہوتی تو وہ معاملات کا فیصلہ کرتی۔ ہم سب سے پہلے ایک دستوری عدالت قائم کریں گے جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کون سا قانون دستور کے مطابق ہے اور کون سا قانون خلافِ دستور ہے‘‘۔
مقبوضہ فلسطین میں قائم صہیونی ریاست کا پرچم امن معاہدوں اور روڈمیپ کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ سفیدپرچم کے وسط میں چھ کونوں والا دائودی تارہ ایک مذہبی صہیونی ریاست کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے اُوپر نیچے پرچم کے دونوں کناروں پر عمودی نیلی لکیریں اس صہیونی ریاست کی سرحدوں کا تعین کرتی ہیں۔ صہیونی کرنسی شیکل اور صہیونی پارلیمنٹ کنیسٹ کی پیشانی پر کندہ الفاظ ان سرحدوں کا زیادہ واضح اظہار کرتے ہیں: ’’تیری سرحدیں اے اسرائیل از فرات تا نیل‘‘۔ گویا پرچم کی دو لکیروں میں سے ایک دریاے نیل ہے اور دوسری دریاے فرات۔
اس منصوبے کی جو تفصیل صہیونی تحریک کے شائع کردہ نقشے میں دی گئی ہے اس کی رو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان میں دریاے نیل تک مصر‘ پورا اُردن‘ پورا شام‘ پورا لبنان‘ عراق کا بڑا حصہ‘ ترکی کا جنوبی علاقہ اور جگر تھام کر سنیے کہ مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ہونے والے تمام اہم واقعات اسی صہیونی منصوبے کی تکمیل کا ایک حصہ ہیں۔ لایعنی امن مذاکرات اور سراب معاہدے اسی سفرکو مزید محفوظ بنانے کی عملی تدابیر ہیں۔ پہلی تحریک انتفاضہ کو کچلنے میں ناکامی ہوئی تو عراق کویت جنگ کے بعد یاسر عرفات سے اوسلو معاہدہ کیاگیا۔ اسے فلسطینی ریاست کا صدر بنانے کا خواب دکھاتے ہوئے اس کے وزیرداخلہ محمد دحلان کے ذریعے ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار‘ زخمی اور شہیدکروایا گیا۔ پھر جب اس معاہدے کے اصل اہداف میں سے ایک اور ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں آرییل شارون مسجداقصیٰ میں جا گھسا تو تحریک انتفاضہ کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ نتن یاہو‘ ایہودباراک اور سو دن کے اندر اندر انتفاضہ کو کچل دینے کا اعلا ن کرنے والے شارون سمیت کسی سے شہادتوں کا سفر روکا نہ جاسکا۔
اب تیسری خلیجی جنگ کے بعد فلسطینیوں ہی کے ہاتھوں آزادی کی اس جدوجہد کو کچلنے کی نئی کوشش کی جارہی ہے۔ اعلان یہ کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو علیحدہ آزاد ریاست دے دی جائے گی‘ اور تین مرحلوں میں ۲۰۰۵ء تک پورے روڈمیپ پر عمل کرلیا جائے گا۔ ہر مرحلے میں تاریخوں کے تعین کے ساتھ مخصوص ہدف حاصل کیے جائیں گے‘ لیکن سب سے اہم اور بنیادی ہدف‘ معاہدے کے نام ہی میں واضح کر دیا گیا ہے۔ معاہدے کا نام ہے: A performance based road map to a permanent two state solution to the Israeli-Palestinian conflict ’’اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے دو مستقل مملکتوں کے قیام کے لیے‘ کارکردگی پر مبنی‘ روڈمیپ‘‘۔ اس کے دو پہلو نمایاں ہیں: تنازعے کا حل اور اس کا کارکردگی پر مبنی ہونا۔ تنازعے کا صہیونی حل تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ فلسطینیوں کا زن بچہ کولہو میں پیس دیا جائے گا۔ اب اس حل میں اضافہ یہ ہوگیا ہے کہ یہ کارکردگی فلسطینیوں ہی کو دکھانا ہوگی۔ اس بات کا اعادہ ہر مرحلے میں نمایاں طور پر کیا گیا ہے۔ مقدمے میں لکھا گیا کہ یہ ’’حل تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے ذریعے صرف اس صورت میں حاصل ہوگا جب فلسطینی عوام کو ایسی قیادت ملے جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے اور رواداری پر مبنی جمہوریت کے قیام کی خواہش اور اہلیت رکھتی ہو‘‘۔ یاسرعرفات امن کا نوبل انعام پانے کے باوجود یہ اہلیت ثابت نہیں کر سکے تو راستے کا آغاز ہی اسے ہٹانے اور بہائی مذہب کے ایک سپوت مرزا محمود عباس (ابومازن) کو قائد بنانے سے کیا گیا۔
پہلے مرحلے میں ۲۱ نکات پر مشتمل نقشۂ کار ہے۔ دیگ کے ایک دانے سے ہی اس کی حقیقت کھل جاتی ہے: ’’فلسطینی قیادت غیرمبہم اور بالکل واضح بیان جاری کرے گی جس میں اسرائیل کے امن و سلامتی سے زندہ رہنے کے حق کا اعادہ کیا جائے گا۔ (بھول جائیے کہ اسرائیل کبھی فلسطین تھا) اور اسرائیلیوں کے خلاف ہرجگہ فوری اور غیرمشروط جنگ بندی اور مسلح سرگرمیوں اور تشدد کے تمام اقدامات کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔ فلسطین کے تمام سرکاری ادارے اسرائیل کے خلاف ترغیب اور اُکسانے کا سلسلہ ختم کر دیںگے۔ فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف کہیں بھی تشدد اور حملوں یا ان کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد اور گروپوں کو گرفتار کرنے اور ان کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے واضح اور موثر کوشش کریں گے‘ دہشت گردی میں ملوث تمام لوگوں اور گروپوں کے خلاف مسلسل متعین اور موثراقدامات کا آغاز کریں گے اور دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کریں گے‘‘۔
۲۱ نکات پر مشتمل اس نقشۂ کار میں ’’اسرائیل‘‘ کے ذمے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ’’جب سیکورٹی کے شعبے میں جامع کارکردگی میں پیش رفت ہوگی (فلسطینیوں کے ذمے اصل کام کا ایک بار پھر اعادہ) تو اسرائیلی دفاعی فورسز بتدریج وہ علاقے خالی کر دیں گی جن پر انھوں نے ۲۸ ستمبر ۲۰۰۰ء کو یا اس کے بعد قبضہ کر لیا تھا‘‘۔ گویا کہ نصف صدی سے قبلۂ اول اور پوری سرزمین اقصیٰ پر قبضہ توعین حق ہے۔ ستمبر۲۰۰۰ء میں شارون کے مسجداقصیٰ میں جاگھسنے اور دوسری تحریک انتفاضہ شروع ہونے پر جن فلسطینی مہاجرکیمپوں اور جنین جیسی پناہ گزیں بستیوں پر صہیونی فوجوں نے چڑھائی کی تھی وہاں سے انھیں نکال لیا جائے گا۔
دوسرا مرحلہ جو تاریخوں کے اعتبار سے اب عملاً شروع ہو جانا چاہیے‘ نام نہاد خودمختاری کی حامل فلسطینی ریاست کے اعلان کرنے کا مرحلہ ہے۔ اسے دسمبر ۲۰۰۳ء تک پورا ہو جانا ہے۔ اس میں فلسطینی ریاست کا اعلان تو کر دیا جائے گا لیکن اس کی سرحدیں ’’وقتی اور عارضی‘‘ ہوں گی۔ اس موہوم اعلان ریاست میں بھی اصل ہدف وہی رہے گا کہ ’’سلامتی کے شعبے میں مسلسل عمدہ کارکردگی اور موثر سیکورٹی تعاون‘‘ اور یہ کہ’’ یہ مقصد اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب فلسطینی عوام کی قیادت ایسے افرادکے ہاتھ میں ہو جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے‘‘۔
۰۵-۲۰۰۴ء میں تیسرے مرحلے میں بھی فلسطینی انتظامیہ کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔ لکھا ہے: ’’تیسرے مرحلے کے مقاصد میں فلسطینی اداروں میں اصلاح‘ ان کے استحکام اور فلسطین سیکورٹی اداروں کی مسلسل موثر کارکردگی کے علاوہ یہ بات شامل ہوگی کہ اسرائیلی اورفلسطینی ۲۰۰۵ء میں مستقل حیثیت کے سمجھوتے کے متعلق مذاکرات کریں گے‘‘۔
فلسطینیوںکے ذریعے فلسطینیوں کو کچلنے کی مسلسل و موثر کارکردگی کے نتیجے میں صہیونی ریاست ان علاقوں سے اپنا قبضہ ختم کر دے گی جن پر ۱۹۶۷ء میں قابض ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ ۱۹۴۸ء اور پھر ۱۹۶۷ء میں فلسطین کے ۸۰ فی صد علاقے پر صہیونی قبضہ ہوگیا تھا۔ اب مغربی کنارے اور غزہ کے جن علاقوںمیں فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب دکھایاجا رہا ہے‘ اسے بھی یوں چیرپھاڑدیا گیا کہ وسیع ترصہیونی ریاست کے اندر ان علاقوں کی حیثیت محصور چھائونیوں سے زیادہ نہ ہو۔ کئی سال سے ایک صہیونی منصوبہ پوری یکسوئی سے جاری ہے کہ فلسطینی جانبازوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے ان کے اور اپنے درمیان بلند‘ آہنی اور جدید آلات حرب و جاسوسی سے لیس دیوار کھینچ دی جائے۔ یہ آہنی دیوار فلسطینی آبادیوں کے گرد اس طور گھومتی ہے کہ ۳۵۰ کلومیٹر کی اصل مسافت بڑھ کر ایک ہزار کلومیٹر ہوگئی ہے۔ اس ایک ہزار کلومیٹر لمبی دیوار کی تعمیر پر ۲ ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں‘ یعنی ہر ایک کلومیٹر پر ۲۰ لاکھ ڈالر۔
ابومازن کے ذریعے کیے جانے والے اقدامات کی رفتار اوسلو معاہدے کی نسبت تیز ترہے۔ تب پورے عمل کو ۱۰ سال پر پھیلا دیا گیا تھا‘ اب اڑھائی سال میں پورا کرنے پر زور ہے۔ تب مسجداقصیٰ میں جا گھسنے کی بات معاہدے کے سات سال بعد کی گئی تھی‘ اب سات ہفتے بھی نہیں گزرے کہ صہیونی سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کر دیا ہے کہ حرم اقصیٰ کسی مخصوص مذہب کی اجارہ داری نہیں۔ یہودیوں کو بھی وہاں جانے کی مکمل آزادی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج حماس کے رہنمائوں کو ہدف بناکر قتل کرنے کی پالیسی پر ببانگ دہل عمل پیرا ہے جس میں اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف مجاہدین کی شہادت طلب کارروائیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جن کے جنازوں میں ہزاروں فلسطینی ایمان افروز نعروں کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔
حماس الجہاد اور خود الفتح کے کئی شہادت طلب حملوں نے روڈمیپ کے سرپرستوں کو حقیقت کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔ صہیونی ٹی وی چینل ’’۱‘‘ کے مراسلہ نگار ایٹان ریبورٹ نے شہادت طلب کارروائی کے بعد یہودی بستیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’اس علاقے میں حماس نے کرفیو لگا رکھا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ڈرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ یہاں ہر طرف خوف کا راج ہے‘‘۔ یہودی بستی کی ایک رہایشی فلونیٹ نے اپنے ٹی وی کو بتایا: ’’میں نے اور میرے شوہر نے ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا دفتر یہاں سے آٹھ کلومیٹر کی مسافت پر ہے‘ ہم دونوں یہ فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں۔ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن اس سے بھی مشکل بات یہ ہے کہ بندہ اپنے دفتر جانے کی کوشش میں موت کی وادی میں جااُترے‘‘۔ صہیونی ملٹری انٹیلی جنس کے شعبۂ ریسرچ کے سابق سربراہ جنرل دانی روچیلڈ نے عبرانی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری تمام تر فوجی کارروائیوں اور حملوں کے باوجود حماس کا شہادت طلب کارروائیوں میں کامیاب ہو جانا‘ مایوسی اور تشویش میں اضافے کا باعث ہے۔ اس صورت حال پر مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے اداروں کے تمام دعوے مبالغہ آمیز بلکہ مجرد خیال ہیں‘‘۔
خود وزیر امن تساحی ہنجبی نے کہا کہ ’’میں ہر لمحے فلسطینی فدائی کارروائیوں کی خبر سننے کے لیے خود کو تیار رکھتا ہوں‘‘۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ہمارے ایک اجلاس میں ایک اعلیٰ افسر نے ہمیں بتایا کہ ’’یہ توقع کہ کل فدائی کارروائی ہوگی اتنی ہی یقینی ہے جتنی یہ کہ کل سورج طلوع ہوگا‘‘۔ وزیر موصوف نے دعویٰ کیا کہ اب بھی ہم ۹۵ فی صد کارروائیوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ روزنامہ معاریف لکھتا ہے: ’’وہ جب بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کو کچلنے کی بات کرتے ہیں‘ ثابت یہ ہوتا ہے کہ ان دعووں کی زمینی حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ ہم نے اب تک ہر طریقہ آزمالیا۔ ہم نے مغربی کنارے اور غزہ سمیت تمام علاقے اپنے کنٹرول میں لے لیے لیکن بے فائدہ۔
ستمبر ۲۰۰۰ء سے شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے دوران ۱۱۹ شہادت طلب کارروائیاں ہوئیں۔ ۷۸ کارروائیاں ناکام رہیں جن میں سے ۳۰ کارروائیاں فلسطینی خواتین کرنا چاہتی تھیں‘ جب کہ پانچ خواتین اپنے مشن میں کامیاب رہیں۔ (صہیونی اخبار یدیعوت احرونوت‘ ۲۳ مئی ۲۰۰۳ئ)
گھنی فلسطینی آبادی کے علاقے خالی کرنا ان کی دفاعی ضرورت ہے۔ خود شارون کے سابق وزیردفاع جنرل بنیامین بن ایعازر نے حماس کی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ہمیں ان بہت سے مسلمہ حقائق سے دست بردار ہونا پڑے گا جن سے ہم ماضی میں سختی سے چپکے ہوئے تھے۔ ہم سڑکوں‘ کلبوں اور چائے خانوں میں اپنے شہریوں کا قتلِ عام صرف اس صورت روک سکتے ہیں کہ ہم فلسطینیوں کے علاقے سے نکل آئیں اور ان کی ایسی حکومت منظور کرلیں جو مغربی کنارے اور غزہ میں اقتدار سنبھال لے۔ فلسطینیوں کا سامنا کرنے کے لیے فوجی حل کی بات اب بھی کی جا سکتی ہے لیکن ہمارے تمام انتظامات کے باوجود حماس کی کارروائیاں اس امر کی دلیل ہیں کہ فلسطینی عوام کے جذبۂ مزاحمت کا فوجی علاج حقیقت پسندانہ نہیں ہے‘ اور جو اب بھی اس پر مصرہے وہ خود کو دھوکا دیتا ہے‘‘۔ (الامان‘ لبنان۶/۶)
ایک طرف تو یہ حقائق ہیں‘ فلسطینی عوام کے جذبۂ شہادت سے صہیونی درندے شکست خوردہ ہیں لیکن دوسری طرف مسلم حکمران روڈمیپ کے تیسرے مرحلے کے ان نکات پر عمل کرنے کے لیے بے تاب ہیں جن کا حکم انھیں دیا گیا ہے۔ وہاں لکھا ہے: ’’عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ معمول کے مکمل تعلقات کا قیام تسلیم کریں گی‘‘۔ مصرکے شہر شرم الشیخ اور اُردن کے شہر عقبہ میں صدربش کی زیرسرپرستی ہونے والے سربراہی اجلاسوں میں محمود عباس کی تقریب رونمائی کی گئی اور کھلے لفظوں میں فلسطینی جانبازوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔
روڈمیپ بظاہر چند فی صد فلسطینی علاقے خالی کرنے کا اعلان ہے لیکن حقیقت میں فلسطینی مزاحمت کو کچلتے ہوئے مزید توسیعی منصوبوں کا نقطۂ آغاز ہے۔ روڈمیپ کے چند روز بعد ہی صہیونی وزیر سیاحت بنی ایلون نے اعلان کیا کہ دریاے اُردن کے مشرقی کنارے (یعنی کہ اُردن میں) فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن تشکیل دیا جائے۔ اگر بنی ایلون کا اعلان کردہ یہ سات نکاتی منصوبہ تکمیل کی جانب بڑھتا ہے تو یہ عظیم تر اسرائیلی ریاست کی جانب اگلا جارحانہ اقدام ہوگا۔
ڈاکٹر عبدالحق انصاری جماعت اسلامی ہند کے نئے امیر (براے میقات ۲۰۰۳ئ-۲۰۰۷ئ) منتخب ہوئے ہیں۔ آپ نے تحریکی لٹریچر سے تعارف کے بعد‘ ندوۃ العلما سے عالمیت کا کورس کیا۔ اس کے بعد سرائے میر میں مولانا اخترحسن اصلاحی سے علم تفسیرحاصل کیا۔علی گڑھ سے ۱۹۵۹ء میں فلسفہ میں ایم اے کیا۔ ۱۹۶۲ء میں فلسفۂ اخلاق‘ ابن مسکویہ کی تعلیمات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۶۵ء میں شانتی نکیتن (بنگال) میں فلسفے کے لکچرر سے تدریس کا آغاز کیا اور پھر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے صدر مقرر ہوئے۔ ۱۹۷۲ء میں ہارورڈ یونی ورسٹی سے ماسٹر ان تھیالوجیکل اسٹڈیز (MTS) کی ڈگری حاصل کی۔ ۹۵-۱۹۸۵ء تک ام درمان یونی ورسٹی (سوڈان)‘ کنگ فہد یونی ورسٹی (ظہران) کنگ سعود یونی ورسٹی (ریاض) میں تعلیم و تحقیق کی خدمات انجام دیں۔ تصوف اور شریعت پر مبسوط تحقیقی کتاب تصنیف کی۔ سعودی عرب میں تحریک کے کام کو نہایت منظم انداز میں ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھایا۔ سعودی عرب سے واپسی پر ۱۹۹۵ء میں ایک تحقیقی ادارہ سنٹر فار ریلجس اسٹڈیز اینڈ گائیڈنس (CRSG) بھی قائم کیا۔ تحریک کی طرف سے وقتاً فوقتاً عائد کی جانے والی متعدد ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔ گذشتہ دو میقاتوں میں مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ امیرجماعت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جماعت اسلامی ہند کے حوالے سے ان کی ترجیحات اور حکمت عملی پرمبنی مختصر تحریر ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔ (ادارہ)
انسانی وسائل کا فروغ اور اس کی زیادہ سے زیادہ فراہمی ہماری ترجیح اول ہے۔ ہرمیدان میں جو کارکن مصروف عمل ہیں‘ ان کی ماہرانہ تربیت کے ذریعے ارتقا اور ان میں جِلا پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ داعی‘ صحافی‘ مفکرین اور محققین‘ قائدانہ صلاحیت کے حامل لوگوں کی تیاری اولین ترجیح ہوگی۔ اس ضمن میں تحریکی کارکنوں کی تربیت کے پیش نظر دینی مطالعے اور رہنمائی کا ایک مرکز (سی آر ایس جی) کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ اس کو دوبارہ فعال بنانے کی سعی کی جائے گی۔ اس میں تیار ہونے والے کارکنوں سے تحریکی کاموں کی انجام دہی میں بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔ میری خواہش ہے کہ مرکز کے اسٹڈی گروپ کے نظم کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کی طرف توجہ دی جائے۔
میری ذاتی رائے میں ملک کے اندر ’’مبنی براقدار سیاست‘‘ کے تصور کو عام کرنے اور اس میں جان ڈالنے کے سلسلے میں جماعت بڑا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر ممکن ہو سکے تو اس کے لیے کسی درجہ نیم آزاد اور موثرمیکانزم وجود میں لایا جائے۔ مسلمانانِ ہند کی سیاسی قوت کو ملکی سیاست پر اثرانداز ہونے کے قابل بنانا بھی میں ضروری سمجھتا ہوں۔ ملکی مسائل کے سلسلے میں عوامی شعور بیدار کرنے‘ نیز ان کے جامع اور مناسب حل کے لیے پُرامن اور تعمیری اقدامات کی فضا پیدا کرنے کی طرف توجہ دلانے کی بھی ضرورت ہے۔
نوجوانوں کی قوتوں کو مجتمع کر کے انھیں تعمیری کاموں کی طرف موڑنے کے لیے منظم سعی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو منظم کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تعلیمی میدان میں جماعت جو سعی و جہد کر رہی ہے اسے مزید مستحکم اور منظم کرنے کی اور اس میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ اگر ضرورت ہو تو اس میدان میں تبدیلیوں سے ہچکچانا نہیں چاہیے۔ طلبہ تنظیم ایس آئی او اور جماعت کے درمیان ایسے مشترکہ کام کیا ہوسکتے ہیں‘ سوچا جانا چاہیے۔ ایسے کاموں میں طلبہ کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں کی اصلاح‘ اخلاقی اور سماجی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔ جب تک کہ کچھ ٹھوس اقدامات نہ کیے جائیں‘ اُمت مسلمہ کی اصلاح و ترقی مشکل ہے۔ اسلامی تحریک کو عوامی تحریک کی حیثیت تک پہنچانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے اس کا جائزہ لینے اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنا بھی ہمارے پیش نظرہے۔ گائوں اور دیہات کو مرکز بنا کر وہاں کی مختلف ضرورتوں کی تکمیل کے ذریعے گائوں کے لوگوں کی ہمہ گیر ترقی اور اخلاقی و انسانی اقدار کے فروغ کی طرف توجہ دینا چاہتا ہوں۔ جماعت کے پیغام اور عقائد‘ نظریات کی طرف لوگوں کو براہِ راست دعوت دینے اور اس کے لیے کارکنوں میں آمادگی پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ دی جائے گی۔
تحریک کے اندر اور سماج میں خواتین کا مقام‘ کردار اور حصہ واضح طور پر ادا ہو‘ اس کے لیے بتدریج آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انھیں مردوں کے ساتھ برابر کا حصہ دار بنانے کی ضرورت ہے۔
میڈیا کے سلسلے میں جامع اسکیم کی تیاری پیش نظر ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف اور اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال کی ترویج کی طرف توجہ دینے کی بڑی ضرورت ہے۔
بیرون ملک اسلامی اسکالروں سے میری ملاقات ہوا کرتی تھی اور اب بھی بہت سارے لوگوں سے خط و کتابت ہے۔ ان تعلقات کو مزید مستحکم اور منظم کرنے کی کوشش ہوگی۔
عقیدہ و مذہب کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے۔ اس پر کسی طرح کی پابندی برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ اگر کوئی قانون اس آزادی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہو تو اس کے خلاف قانونی و عدالتی چارہ جوئی اختیار کرنی پڑے گی اور ہم اس سے گریز نہیں کریں گے۔ (ماخوذ: سہ روزہ دعوت‘ دہلی‘ یکم مئی ۲۰۰۳ئ)
’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘ لیکن عراق میں امریکہ کی فتح سے ہمارے لیے ایک نئی روشن صبح طلوع ہوئی ہے جس کے بعد دنیا کبھی دوبارہ اس طرح کی نہیں ہوسکتی جس طرح اس جنگ سے پہلے تھی۔ اسرائیل اس نئی اور بہتر دنیا کا ایک فعال ملک ہوگا‘‘--- یہ الفاظ ہیں صہیونی دانش ور موشیہ ایرنز کے جو بڑے صہیونی روزنامہ ہآرٹس میں ۱۵اپریل ۲۰۰۳ء کو شائع ہوئے۔
وہ مزید لکھتا ہے: ’’اسرائیل کے لیے امریکہ کی جیت ایک بڑی خوش خبری ہے کیونکہ عالم عرب میں اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ‘ جس نے اسے کیمیائی اسلحے کی دھمکی دی اور ۱۹۹۱ء کی جنگ میں اس پر میزائل چلائے‘ شکست کھا گیا۔ اس کی شکست کے بعد عراق اسرائیل کے ساتھ صلح کے لیے واضح اور نمایاں قدم اٹھائے گا‘‘۔ یہ صرف موشیہ ایرنز ہی نہیں خود امریکی و صہیونی ذمہ داران آئے روز طرح طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ شارون کہتا ہے: ’’اب ایک سنہری موقع ہاتھ لگا ہے اور میں اسے کسی صورت ضائع نہیں ہونے دوں گا‘‘۔
امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے اپنے صہیونی ہم منصب سلفان شالوم سے ملاقات کے دوران کہا: ’’ہماری کامیابی پورے خطے میں دہشت گرد اور شدت پسند طاقتوں کے خاتمے کا آغاز ہے‘ اور آپ بہت جلد‘ مختلف ممالک اور تنظیموں کی پالیسیوں سے اس کے آثار واضح طور پر دیکھ لیں گے‘‘۔ شارون نے اس موقع پر امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’شام کی حکومت پرشدید ترین دبائو ڈالے تاکہ وہ شام میں موجود فلسطینی تنظیموں کا خاتمہ کر دے اور ایران سے اپنے تعلقات منقطع کر لے (صہیونی روزنامہ یدیعوت احرونوت‘ ۱۵ اپریل ۲۰۰۳ئ)۔ سابق روسی وزیراعظم پریماکوف نے اپنے ایک انٹرویو میں صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: ’’شارون اور اس کا احاطہ کیے ہوئے لوگ امریکہ کو بہرصورت شام کے مقابل لانا چاہتے ہیں کیونکہ شام پر حملہ درحقیقت انھی لوگوں کی جنگ ہے جو عسکری ذرائع سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں‘‘۔ (الشرق الاوسط‘ ۱۶ اپریل ۲۰۰۳ئ)
اس ضمن میں اب تک شام پر مختلف الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے پاس تباہ کن ہتھیاروں کے بارے میں امریکی ذمہ داران اپنے عراق والے بیانات متعدد بار دہرا چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ: ’’ہمارے پاس اس بارے میں ثبوت ہیں‘‘۔ ’’شام نے یورپی ممالک سے اپنے نام پر عراق کے لیے ہتھیار خریدے‘‘۔ ان ہتھیاروں میں رات کے وقت دیکھ سکنے والی خطرناک دوربینیں بھی شامل ہیں۔ پھر کہا گیا کہ ’’دورانِ جنگ شام سے مجاہدین اور شامی فوجی عراق بھیجے‘‘۔ اب کہا جا رہا ہے: ’’عراق سے سائنس دان اور دیگر عراقی ذمہ داران شام میں پناہ لیے ہوئے ہیں‘‘۔ وائٹ ہائو س کے ترجمان ایری فلیشر نے تو ہر گردن میں پورا آجانے والا پھندا پھینک دیا ہے کہ ’’شام دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے‘‘۔ یہی بات صہیونی تجزیہ نگار زائیف شیف لکھتا ہے: ’’شام حزب اللہ کے ساتھ مل کر عراق کو امریکی فوجیوں کے لیے لبنان بنانا چاہتا ہے‘‘۔ امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمٹیچ کا کہنا ہے: ’’حزب اللہ القاعدہ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے‘‘۔
۱۸ اپریل ۲۰۰۳ء کا صہیونی روزنامہ ہآرٹس لکھتا ہے: ’’لگتا ہے کہ اس بار امریکی کانگریس زیادہ موثر کردار ادا کرے گی۔ وہ اپنی وزارت خارجہ کے اس فیصلے کے انتظار میں نہیں رہے گی کہ وہ شام کو باقاعدہ برائی کا محور قرار دے۔ عراق میں جو کچھ ہوچکا ہے اور شام و عراق کے مابین جو تعاون سامنے آچکا ہے‘ اس کے بعد بشارالاسد کے ساتھ کسی اور زبان میں ہی بات کرنا ہوگی۔ اب یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ دمشق میں بیٹھے فلسطینی جہادی لیڈر اسرائیلی شہروں میں بسیں اُڑانے کے احکام جاری کرتے رہیں اور دمشق و حلب محفوظ رہیں‘‘۔ مزید لکھتا ہے: ’’اس وقت دنیا میں کسی اور ملک کے پاس اتنا قابلِ استعمال کیمیائی اسلحہ نہیں ہے جتنا شامیوں کے پاس ہے‘‘۔ البتہ صہیونی تجزیہ نگار نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا یہ کیمیائی اسلحہ (اگر ہے تو) اسرائیل کے پاس موجود ۱۹قسم کے مہلک کیمیائی و حیاتیاتی اسلحے سے بھی زیادہ ہے‘ خود امریکہ کے اسلحے سے بھی زیادہ ہے کہ جس کا دفاعی بجٹ اب ۴۲۲ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو دنیا بھر کے تمام ممالک کے مجموعی دفاعی بجٹ سے متجاوز ہے۔ واضح رہے کہ روس کا دفاعی بجٹ ۶۵ارب ڈالر‘ چین کا ۴۷ ارب ڈالر‘ جاپان کا ۳.۴۰ ارب ڈالر‘ برطانیہ کا ۴.۳۵ ارب ڈالر‘فرانس کا ۶.۳۳ ارب ڈالر اور جرمنی کا ۵.۲۷ ارب ڈالر سالانہ ہے۔
ایک طرف تو شام کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے دوسری طرف خود فلسطینی محاذ پر ایک خاموش انقلاب برپا کر دیا گیا ہے۔ ۲۰۰۲ء کے اختتام پر بش (خورد) نے اعلان کیا تھا کہ فلسطینیوں کو نئی قیادت منتخب کرنا ہوگی‘ حالیہ قیادت سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔ یاسرعرفات نے ایک آدھ بار یہ کہا کہ جیسے ہی انتخابات کے لیے مناسب حالات پیدا ہوئے انتخابات کروا کے نئی فلسطینی قیادت چن لی جائے گی‘ لیکن آخرکار ۸ مارچ کو دستور میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک نیا عہدہ تراش لیا گیا۔ محمود عباس (ابومازن) کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیراعظم چن لیا گیا۔ محمود عباس صہیونی و امریکی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں دونوں کے اعتماد پر پورے اُترے تھے۔ اوسلو معاہدے کے پیچھے اصل کردار ابومازن ہی کا تھا۔ اسے وزیراعظم بنوانے کا اصل مقصد یاسرعرفات کو نمایشی صدر بنا کر اس کے تمام اختیارات سلب کرلینا ہے۔ صہیونی تجزیہ نگار ایلیکس فش مین یدیعوت احرونوت میں لکھتا ہے: ’’فلسطینیوں کے حملے اور شدت پسندی روکنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یاسرعرفات اور اس کے قریبی ساتھی ہیں۔ یہ لوگ مسلح جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔ (۱۸ اپریل ۲۰۰۳ئ)
ساری دنیا کو یاد ہے کہ ۱۹۸۷ء میں پہلی تحریک انتفاضہ شروع ہوئی تو اسے کچلنے کے لیے یاسرعرفات کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی تشکیل دی گئی اور ۱۹۹۳ء میں اوسلو معاہدے کے ذریعے فلسطین کے اڑھائی فی صد رقبے میں فلسطینی ریاست اور باقی ساڑھے ستانوے فی صد سرزمین پر اسرائیلی ریاست بنانے کا اعلان کیا گیا۔ یاسرعرفات کو عالمِ اسلام کے تمام حکمرانوں کے سامنے مثالی لیڈر کے طور پر پیش کیا گیا۔ یاسرعرفات نے امریکی اور صہیونی امداد سے متعدد سیکورٹی فورسز تشکیل دیں اور ہر آزادی پسند لیڈر اور مجاہد کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ غزہ میں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا جواخانہ اور علاقے کی بڑی زیرزمین جیل تعمیر کی گئی۔ قومی سلامتی کی ذمہ داری محمد دحلان نامی ایک شخص کو سونپی گئی جس نے اپنے فلسطینی بھائی بندوں کو ٹھکانے لگانا شروع کر دیا۔ لیکن پھر حالات نے پلٹا کھایا‘ ۱۹۹۹ء کے اختتام پر تحریکِ انتفاضہ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی جانے لگی۔ شارون نے بھی بہیمیت کی انتہا کر دی۔ جنین اور دیگر فلسطینی علاقوں کو ٹینکوں سے روندا جانے لگا‘ میزائل برسنے لگے لیکن شہادتی کارروائیوں کو نہ روکا جا سکا۔ یاسرعرفات کو بھی اس کے ہیڈکوارٹر میں محصور ہونا پڑا۔ گولہ باری کا نشانہ بننا پڑا‘ اور اب اسے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
محمود عباس کی سب سے بڑی خوبی یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ فلسطینی تحریک پر سے عسکری چھاپ ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ فلسطینیوں کی عسکری اور شہادتی کارروائیاں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یدیعوت احرونوت لکھتا ہے: ’’ابومازن کی کابینہ یاسرعرفات کی کابینہ سے یکسر مختلف اور فلسطینی تاریخ کا ایک حقیقی اہم موڑ ہے۔ اس میں پیشہ ور‘ صاحب اختصاص‘ صاف ستھری شخصیتیں شامل ہیں۔ اس میں شامل سب سے نمایاں شخصیت وزیرداخلہ محمد دحلان کی ہے جس نے حماس کی قیادت کو ابھی سے یہ باور کروا دیا ہے کہ اگراس نے نئی قیادت کے احکام نہ مانے تو وہ ان سے اسی طرح نمٹے گا جیسے ۱۹۹۶ء میں نمٹا تھا۔ دحلان ایسے پیغامات دے کر ان تنظیموں سے عملاً تصادم چاہتا ہے تاکہ انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سبق سکھا دے۔ اس ہفتے ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو اسرائیل کے لیے بڑی نیک فالی ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے سامرہ کے علاقے میں ایک اہم جہادی لیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ ابھی پٹرول دریافت نہیں ہوا لیکن اس کی موجودگی کے بڑے قوی امکانات و آثار ہیں‘‘۔ (۱۸ اپریل۲۰۰۳ئ)
واضح رہے کہ ابومازن نے اپنی کابینہ کے لیے جو نام پیش کیے ہیں ان میں سات افراد ایسے تھے جو یاسر عرفات سے کھلم کھلا بغاوت کرچکے ہیں۔ محمددحلان بھی ان میں سے ایک ہے جسے یاسرعرفات نے بڑی رشوت کھانے اور قومی مفادات سے غداری کے الزام میں نکال دیا تھا۔ اب اسی کا نام وزیرداخلہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پہلے اسی کو وزیراعظم کے لیے لائے جانے کی افواہیں بھی تھیں۔ یاسرعرفات نے وزارتِ داخلہ کے لیے دحلان کا نام یکسر مسترد کر دیا ہے‘ لیکن صہیونی مشیرابومازن کو مشورہ دے رہے ہیں کہ تم وزارت داخلہ کا عہدہ اپنے پاس ہی رکھنے کا اعلان کر دو اور دحلان کو وزیرمملکت بنا کر وزارتِ داخلہ عملاً اس کے سپرد کر دو۔
صہیونی منصوبہ یہ ہے کہ عراق پر امریکی تسلط‘ شام و ایران کے خلاف بلند بانگ دھمکیوں اور دنیا بھر پر امریکی جنگی مشنری کی دھاک کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے دوران ہی فلسطینی مسئلے سے چھٹکارا پا لیا جائے۔ اسی موقع پر بڑی تعداد میں فلسطینیوںکو عراق واُردن میں بسانے کے منصوبے بھی سامنے لائے جا رہے ہیں ۔ بش عنقریب ایک روڈمیپ کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس کا مسودہ کہیں سامنے نہیں آیا لیکن شارون نے اعلان کر دیا ہے کہ ہمیں اس پر ۱۴اعتراضات ہیں ۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں ملک بدر لاکھوں فلسطینیوں کے حق واپسی پر بھی بات کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس کے بقول یہ ایک ایسا سرخ خط ہے جسے پار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔
صہیونی وزیرخارجہ شالوم کے الفاظ ہیں: ’’ہم یہ اطمینان چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کی واپسی کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ روڈمیپ میں اس بات کا اشارہ بھی نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ تل ابیب میں امریکی سفیر ڈینیل کیرٹزر نے فوراً ہی صہیونی حکمرانوں کے در پہ حاضری دیتے ہوئے انھیں تسلی دلائی اور کہا کہ ’’روڈ میپ اصل حل نہیں ہے یہ تو صرف مذاکرات شروع کرنے کا ایک بہانہ ہے‘‘۔ اسی دوران امریکی کانگریس کے ۲۳۵ اور امریکی سینیٹ کے ۷۰ ارکان نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’حکومت امریکہ کو شارون حکومت کے ساتھ کوئی تصادم مول نہیں لینا چاہیے‘‘۔ اسی مضمون کے کئی خطوط بش کی مشیرہ براے قومی سلامتی کونڈالیزا رائس کو متعدد صہیونی تنظیموں کی طرف سے موصول ہوئے۔ (صہیونی روزنامہ معاریف)
سابق امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا: ’’القدس جانے کا راستہ بغداد سے گزرتا ہے‘‘۔ کیا اس کی بات اس معروف صہیونی ماٹو کی طرف اشارہ تھا کہ ’’اے اسرائیل تیری سرحدیں فرات سے نیل تک ہیں‘‘ (حدودک یا اسرائیل من الفرات الی النیل)‘ یا اس نے پہلے صہیونی وزیراعظم بن گوریون کے اس جملے کو عراق پر منطبق کرنے کی کوشش کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’اسرائیل کی سلامتی صرف اس بات میں مضمر نہیں ہے کہ اس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر اس ایٹمی طاقت کو تباہ کر دیا جائے جو اس میدان میں اسرائیل کے مقابل ہو اور اس کے وجود اور علاقائی مفادات کو خطرے میں ڈالتی ہو‘‘۔ کسنجرکا یہ معروف جملہ آج کے حالات پر بھی پوری طرح درست بیٹھتا ہے۔
سقوطِ بغداد کے بعد اب القدس کی تحریک آزادی کو ختم کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ عالمِ اسلام اس صہیونی امریکی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ تو کیا اس میں شرکت کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ خود صہیونی نقشہ نویس اپنے اس نقشۂ کار کے متعلق شکوک کا شکار ہیں۔ ایلیکس فش مین لکھتا ہے: ’’اس پورے معاملے میں اصل خطرہ یہ ہے کہ ابومازن یاسرعرفات کی جگہ تو لے لے لیکن وہ سیاسی اور امن و امان سے متعلقہ مقاصد حاصل نہ ہوں جو اسرائیل چاہتا ہے‘ دہشت گردی جاری رہے۔ اس صورت میں کیا ہوگا‘ کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری پوری کی پوری پالیسی ہی غلط تھی‘‘ (یدیعوت احرونوت‘ ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ئ)۔ لیکن پاکستانی وزیرخارجہ کا بیان ملاحظہ فرمایئے: ’’عراق کے بعد فلسطین اور پھر کشمیر کامسئلہ حل ہوگا‘‘، یعنی ہم نہ صرف سقوطِ بغداد اور فلسطین کا کانٹا نکل جانے کے لیے بھی ذہناً تیار بیٹھے ہیں بلکہ اس کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی امریکہ ہی کی طرف نظریں اٹھاتے ہیں۔
یہ بات پتھر پہ لکیر ہے کہ فلسطین کے سربراہ موعود ابومازن کا انجام عبرت ناک ہوگا۔ اپنے مجاہدین اور اپنی قوم کے بجائے دشمن کے کام آنے والا ہر بدقسمت عبرت کا نشان ضرور بنتا ہے‘ لیکن کیا پاکستان‘ اہل پاکستان‘ اور کارپردازانِ پاکستان کے لیے بھی اس میں کوئی پیغام‘ کوئی سبق ہے!
کربلا پھر خون خون ہے۔ ہلاکو پھر کشتوں کے پشتے لگانے کے درپے ہے۔امریکہ نے قانون‘ اخلاق‘ انسانیت ہر چیز کو وحشی درندے کی طرح روند ڈالا ہے۔ برائی کا محور‘ القاعدہ سے تعلق ‘ عام تباہی پھیلانے کے ہتھیار‘ اسلحہ انسپکٹروں کے کام میں رکاوٹ جیسے تمام الزامات عالمی برادری کی حمایت دلانے میں ناکام رہے تو امریکی بھیڑیے کا پانی اُوپر کی طرف بہ نکلا۔
متعدد امریکی دانش وروں نے سعودی عرب میں سابق امریکی سفیرجیمز آکنز کی یہ بات نقل کی ہے کہ جارج واکربش کی یہ جارحیت ۱۹۷۵ء میں بننے والے کسنجرمنصوبے کا ایک حصہ ہے۔ آکنز کہتا ہے: ’’میں سمجھتا تھا کہ یہ منصوبہ مرچکا ہے لیکن یہ منصوبہ پھر زندہ ہو گیا ہے جس کا ہدف دنیا میں تیل کے اہم ترین ذخائر پر قبضہ کیا جانا تھا‘‘۔ معروف تحقیقاتی رپورٹر رابرٹ ڈریفس کے بقول اس منصوبے پر سخت گیر‘ اسرائیل دوست امریکی ذمہ دارانِ حکومت نے پہلے بھی پیش رفت کی اور اس وقت بھی وہی ٹولہ وائٹ ہائوس‘ پینٹاگون اور وزارتِ خارجہ کے درجنوں اہم مناصب پر فائز ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’’اگر ہم عراق پر قبضہ کر لیں تو قطروبحرین پر قبضہ آسان ترین ہدف ہوگا جس کے بعد صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بات ہے‘‘۔ رابرٹ ڈریفس نے Resource Warsکے مصنف مائیکل کلیر کی تحریروں کا خلاصہ بھی ان الفاظ میں نکالا ہے: ’’خلیج فارس پر قبضہ یورپ‘ جاپان اور چین کو اپنی مٹھی میں لے لینے کے مترادف ہے‘‘۔
تیل درآمد کرنے میں امریکہ پہلے‘جاپان دوسرے اور چین تیسرے نمبرپر ہے۔ چینی کسٹم حکام کے مطابق چین نے ۲۰۰۲ء میں ۴۱.۶۹ ملین ٹن خام تیل درآمد کیا تھا جو ۲۰۰۱ء سے ۱۵ فی صد زیادہ ہے۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف انرجی (DOE) کے مطابق ۲۰۰۱ء خود امریکہ کو اپنی ضرورت کا ۵۵ فی صد تیل درآمد کرنا پڑا جو ان کے اندازے کے مطابق ۲۰۲۵ء تک ۶۸ فی صد ہو جائے گا۔ یہ بات تو پہلے بھی آچکی ہے کہ عراق میں سعودی عرب کے بعد دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں جن کی مقدار ۵.۱۱۲ ارب بیرل تو معلوم ہے لیکن یہ مقدار ۱۲۰۰ ارب بیرل بھی ہوسکتی ہے۔ عراقی پٹرول نکالنے پر دنیا میں سب سے کم اخراجات اُٹھتے ہیں‘ یعنی صرف ڈیڑھ ڈالر۔
افغانستان پرحملے سے امریکہ نے بنیادی طور پر وسطی ایشیا کے قدرتی وسائل کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ اب دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر پر قبضے کے لیے لاکھوں جانوں کا خون کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ صرف بغداد کی آبادی ۵۰ لاکھ ہے اور جس طرح کی خون آشام بمباری کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے بڑی آبادی کا لقمۂ اجل بن جانا کسی طور بعید نہیں)۔ ساتھ ہی ساتھ بحراحمرکے کنارے دریافت ہونے والے تیل کے ذخائر پر تسلط کا انتظام بھی شروع ہے۔ سوڈان میں دریافت ہونے والے تیل پر دسترس کے لیے پہلے متعدد حملے کروائے گئے اور اب جنوبی علیحدگی پسندوں کو کسی طور وہاں لانے کا بندوبست ہو رہا ہے۔
افغانستان اور عراق میں بنیادی کردار بش اور ڈک چینی کے تیل شریکوں کو دیا جا رہا ہے۔ بش کا خصوصی نمایندہ زلمای خلیل زادہ بھی اسی صنعت سے وابستہ رہا ہے۔ افغانستان کے بعد اب عراق میں ایک شمالی اتحاد کی ایجاد اور کرداروں کی تقسیم اسی کے ذمے ہیں۔ سنی‘ کرد‘ شیعہ کی تقسیم کو مزید گہرا کرتے ہوئے کٹھ پتلی انتظامیہ کی تشکیل کے لیے‘ موصوف کئی پڑوسی ممالک میں مصروف ہیں۔ لیکن قبضے کے بعد اصل اقتدار کے لیے امریکی افواج کے سربراہ ٹومی فرینکس کے علاوہ جنرل (ر) جے گارنر کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ جے گارنر کا نام امریکی جنگ پسندوں کی فہرست میں نمایاںہے۔ ان کی اصل خوبی ان کے اسرائیلی لیکوڈ پارٹی میں گہرے اثرات ہیں۔ جے گارنر کا نام سیکرٹری وزارت دفاع براے سیاسی امور ڈوگ فتھ نے ۱۱ فروری ۲۰۰۳ء کو امریکی سینیٹ کی وزارتِ خارجہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا ہے۔
ڈوگ فتھ نے عراق پر قبضہ کرنے سے حاصل ہونے والے اہداف کا بھی ذکر کیا جن میں اس بات کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا کہ ’’عراق میں جمہوری اداروں کے قیام سے فلسطینیوں کو اس پر آمادہ کرنے میں مدد ملے گی کہ وہ اسرائیل سے سنجیدہ مذاکرات کریں‘‘۔ وزیرخارجہ کولن پاول بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’عراق میں جمہوریت سے پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات سے ہم آہنگ حکومتوں کے قیام میں مدد ملے گی‘‘۔
ایک امریکی دانش ور مائیکل کولنز نے ۱۱ مارچ کو دبئی میں ایک لیکچر کے دوران کہا: ’’عراق پرحملے کے دوران اسرائیل بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو ملک بدر کرسکتا ہے۔ یہ سارا منصوبہ عظیم تر اسرائیل کی تشکیل ہی کا ایک حصہ ہے‘‘۔
عراق پر امریکی جارحیت کے بنیادی طور پر یہی دو بڑے اہداف ہیں۔ تیل پر قبضہ‘ اس کے ذریعے پوری دنیا پر عملاً حکمرانی‘ اور اسرائیلی ریاست میں توسیع و استحکام۔ اس کے علاوہ کسی دلیل کو دنیا بھی مسترد کرتی ہے اور حقائق بھی۔ مثال کے طور پر اگر بات واقعی اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں کی ہوتی تو خود امریکی رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کے پاس نہ صرف ۴۰۰ سے زائد ایٹم بم ہیں بلکہ وہ ۱۹۹۵ء میں نیوٹران اور ہائیڈروجن بم بھی بنا چکا ہے۔ ہائیڈروجن بم اپنے حجم کے اعتبار سے ایٹم بم کی نسبت ۱۰۰ سے ۱۰۰۰ گنا زیادہ تباہ کن ہے۔ ایٹم بم استعمال کرنے کے لیے اس کے پاس میزائلوں کی بڑی کھیپ اور ایف سیریز کے طیاروں کے علاوہ جرمنی کی بنی ہوئی ڈالفن آبدوز بھی ہے۔ ایٹمی اسلحے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خود امریکہ نے حال ہی میں اسرائیل کو سپرکمپیوٹر Gray2 کے ۱۰ جدید ترین پروگرام فراہم کیے ہیں‘ جن کے استعمال سے ایٹمی اسلحہ بنانے کے اخراجات براے نام رہ جاتے ہیں اور بین البراعظمی میزائلوں کی تیزی سے تیاری ممکن ہو جاتی ہے۔ عراق میں تباہ کن ہتھیار تباہ کرنے کے نام پر تباہی بانٹنے والے امریکہ کو نہ اپنی یہ صہیونیت نواز دلداریاں یاد ہیں‘ نہ اسے اسرائیل کے پاس ۱۸ اقسام کے مختلف کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ہی دکھائی دیتے ہیں‘ جن میں بعض ایسے کیمیائی ہتھیار بھی شامل ہیں کہ جن سے پھیلنے والی آگ کا درجۂ حرارت ۲۸۰۰ سنٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔ رہا بدنام زمانہ انتھراکس تو وہ بہت عرصہ پہلے اسے فراہم کیا جا چکا ہے۔
امریکہ کی اسی اسرائیل نوازی اور غنڈا گردی کے باعث پوری دنیا میں امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔ احتجاج کا سلسلہ عراق کے بارے میں امریکی عزائم واضح ہو جانے کے بعد شروع ہو گیا تھا اور دنیا کے گوشے گوشے میں ۳‘ ۴ کروڑ سے زیادہ افراد مظاہروں میں شریک رہے ہیں۔
۲۰ مارچ کو عراق پر حملہ شروع ہونے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ فزوں ہو گیا ہے۔ اوائل مارچ میں ایک امریکی سروے کے مطابق عرب ممالک میں امریکہ سے نفرت عروج پر تھی۔ جیمززغبی انٹرنیشنل کے اس سروے کے مطابق سعودی عرب کے ۹۷ فی صد عوام امریکہ کے خلاف ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں یہ تناسب ۸۵ فی صد ہے اور اُردن جیسی امریکہ نواز حکومت کے ۸۱ فی صد عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔
نفرت کا یہ لاوا زیادہ دیر تک زیرزمین نہیں رکھا جا سکے گا۔ فلسطین ‘ افغانستان ‘ عراق اور دیگر مسلم ممالک میں روز افزوں امریکی دراندازیاں اس لاوے کے لیے مختلف راستے پیدا کررہی ہیں۔ مصر اور یمن میں کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے اعلان کے بغیر ہی سڑکوں پر آکر عوام نے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں۔ سعودی عرب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق لوگوں نے خصوصی صلوٰۃ تہجد اور نفلی روزوں کی خاموش تحریک شروع کر دی ہے جس میں لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ ’’آج اپنی تمام تر دعائیں اپنے عراقی اور فلسطینی بھائیوں کے لیے مخصوص کردیں‘‘۔ امریکہ اور اسرائیل سے اظہارِ نفرت کے ساتھ ہی ساتھ تعلق باللہ کا یہ انوکھا انداز دلوں کی دنیا تبدیل کر رہا ہے۔
خود امریکہ بھی اس زیرزمین لاوے کی تپش محسوس کر رہا ہے اور ارنے بھینسے کی طرح جلد از جلد پوری خلیج پر عملاً قبضے کا منصوبہ مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بادی النظر میں اس راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں بچی۔ فرانس‘ جرمنی اور دیگر ممالک نے سیکورٹی کونسل کی حد تک مخالفت کی ہے لیکن عملاً وہ بھی عراق ہی کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔ گمان غالب یہی ہے کہ عراق میں جنگ کے مخصوص مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد فرانس و جرمنی سمیت یہ ممالک بھی تعمیرنو کے نام پر امریکہ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں گے۔ اسے اپنے مفادات کے تحفظ کا نام دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس قیامت کا انحصار آیندہ دنوں میں جنگ کے پانسے پر بھی ہے۔ عراق کی تمام تر کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ باقی شہروں میں ممکنہ حد تک لیکن بغداد میں آخری سانس تک مزاحمت کی جائے۔ عراقی حکومت نے بغداد کی تقریباً پوری آبادی (۵۰ لاکھ) کو شہر کے اندر ہی رہنے کا حکم دیا ہے۔ تقریباً ہر شہری کو ہتھیار اور خوراک پہنچانے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ عراق سے آنے والے ایک سیاسی رہنما کے بقول: ’’اگر بغداد کو کئی ماہ بھی محصوررہنا پڑا تو وہ اس کے لیے تیار ہوں گے‘‘۔ ان کے بقول ’’آسمان سے آگ برسا کر وہ نہ ۱۹۹۱ء میں عراقی حکومت ختم کرسکے تھے نہ اب کر سکیں گے‘‘۔ پٹرول اور تسلط کے جنون کی اندھی آگ میں کودتے ہوئے امریکہ اس حقیقت کو فراموش کر گیا کہ کائنات کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والا ہر فرعون و نمرود مالکِ کائنات کے کوڑوں کی زد میں ضرور آیا ہے۔ جلد یا بدیر یہ سنت الٰہی ضرور پوری ہونا ہے۔
الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ o فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ o فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ o اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ o (الفجر ۸۹:۱۱-۱۴)
یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور اُن میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ آخرکار تمھارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا رب گھات لگائے ہوئے ہے۔
عراق پر متوقع امریکی حملے کے خلاف مغربی دنیا میں لاکھوں افراد کے مظاہرے ہوئے تو ایک عام تاثر یہ بھی تھا کہ مسلمان‘ جن کو دراصل تباہی کا سامنا ہے اپنے ممالک میں خاموش ہیں۔ رابرٹ فسک جیسے نامہ نگار نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ تباہی سامنے دیکھ کر عرب چوہوں کی طرح ہوگئے ہیں۔ (دی انڈی پنڈنٹ‘ لندن‘ ۱۸فروری ۲۰۰۳ئ)۔ کریسنٹ انٹرنیشنل میں قاہرہ کے ایک نامہ نگار نے لکھا کہ رابرٹ فسک کو‘ جو عربوں کا ہمدرد شمار ہوتا ہے‘ حالات کا بہتر علم ہونا چاہیے تھا۔ایسا نہیں ہے کہ مظاہرے نہیں ہوئے‘ لیکن اگر وہ اس پیمانے پر نہیں ہوئے جس پر مغربی ممالک میں ہوئے تو اس کی وجوہات صاف اور ظاہر ہیں۔
۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کو قاہرہ میں دو مظاہرے ہوئے ۔ بڑا مظاہرہ جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی سیدہ زینب چوک میں دوپہر کے وقت ہوا۔ عراقی اور فلسطینی جھنڈوں کے ساتھ امریکہ مخالف پلے کارڈ بھی تھے اور نعرے بھی لگائے گئے جن میں کوئی کوئی حسنی مبارک کے خلاف بالواسطہ بھی ہوتا تھا۔ مظاہرے کو کئی ہزار نفری پر مشتمل پولیس کے مسلح دستوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ چوک کے قریب کی سڑکوں پر فوجی دستے درجنوں گاڑیوں میں موجود تھے۔ ان سب کے درمیان مظاہرہ مشکل ہی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ گزرنے والے بجائے شریک ہونے کے یہ حالات دیکھ کر دُور ہی دُور سے گزرنے میں خیریت سمجھتے تھے۔ دوسرا نسبتاً چھوٹا مظاہرہ امریکی سفارت خانے کے سامنے معطل لیبرپارٹی نے کیا جسے معتدل اسلامی آواز کہا جاتا ہے۔ اس میں پہلے سے بھی زیادہ پولیس اور فوج موجود تھی جس نے علاقے کو کئی گھنٹوں تک محاصرے میں لیے رکھا۔ امریکی سفیر ڈیوڈ ویلچ نے کچھ دیر کے لیے باہرآکر مظاہرہ دیکھا۔
کم شرکت کی وجہ صرف یہی نہیں تھی کہ موقع پر اتنی پولیس اور فوج تھی۔ مغربی ممالک کی حکومتیں مخالفانہ مظاہروں کا دبائو برداشت کر سکتی ہیں لیکن مصر جیسے ملک میں ۱۹۸۱ء میں انورالسادات کے قتل کے بعد سے ہنگامی قانون نافذ ہے اور سڑکوں پر کسی بھی طرح کے مظاہروں پر پابندی ہے۔ ہنگامی قانون کے تحت کسی کو بھی کوئی وجہ بتائے بغیرگرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی اسلامی تحریکوں سے وابستہ ۳۰ ہزار افراد جیلوں میں بند ہیں۔ بہت سے کئی برس گزار چکے ہیں۔
گذشتہ دو ماہ میں عراق سے یک جہتی ‘ اور جنگ کے خلاف سرگرمیوں کی بنا پر ۱۵ افراد جن میں کئی صحافی ہیں گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چار نمایاں افراد جن کی گرفتاری مسئلہ بن سکتی تھی‘ رہا کر دیے گئے ہیں۔ ۱۷ فروری کو پریس سنڈیکیٹ کی فریڈم کمیٹی نے گرفتارشدگان کی حمایت میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں اخبار العالم الیوم کے صحافی ابراہیم السحر نے بھی خطاب کیا جو چند گھنٹے قبل ہی رہا کیے گئے تھے۔
ابراہیم السحرنے پریس کانفرنس میں اپنے اوپر گزری ہوئی پوری تفصیل بتائی۔ صبح سویرے گھرسے گرفتاری‘ گھر کی مکمل تلاشی‘ سیکورٹی ہیڈکوارٹر جانا اور پھر جیل مازارات لے جایا جانا---- بغیر کسی قانونی امداد کے موقع یا اہل و عیال سے ملاقات کے--- انھوں نے خاص طور پر ان غیرانسانی حالات کا ذکر کیا جن سے جیل میں اسلام پسند گزر رہے ہیں۔ ہفت روزہ الاہرام (۲۰-۲۶ فروری ۲۰۰۳ئ) کے مطابق انھوں نے کہا:’’میرے ساتھ جو کچھ ہوا‘ وہ توکچھ بھی نہیں ۔ مجھے مارا پیٹا گیا‘ گالیاں دی گئیں‘ تذلیل کی گئی۔ یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا جو اسلام پسندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں گرفتار ہونے والوں کو سلام کرتا ہوں۔ اس لیے کہ وہ عراق کے خلاف جنگ اور امریکی سامراج کے خلاف کھڑے ہوگئے‘ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ۳۰ ہزار اسلام پسندوں کو سلام کرتا ہوں۔ جنھوں نے مجھے گرفتار کیا‘ میرے ساتھ اچھائی کی اس لیے کہ اس طرح مجھے معلوم ہوا کہ اسلام پسند قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ ہولناک تفصیلات پہلے معلوم نہ تھیں‘‘۔
عالمی مظاہروں کی خبریں آنے کے بعد سے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ قاہرہ میں الازہر یونی ورسٹی‘ اسمعیلیہ میںسویز کنال یونی ورسٹی اور بنی سعد (بالائی مصر) میں قاہرہ یونی ورسٹی کی شاخ میں ہزاروں طلبہ نے ۱۸ فروری کو مظاہرہ کیا لیکن انھیں سڑکوں پر نہیں آنے دیا گیا۔ قاہرہ یونی ورسٹی کے کیمپس میں ۲۲ فروری کو ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔
اس طرح کے جبرواستبداد کے حالات میں‘ اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیوں نہیں ہو رہے۔ مغرب کی حکومتیں مستحکم ہیں‘ جب کہ عرب حکمران اپنے کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ مغرب اس پر خوش ہے کہ یہ حکومتیں مظاہروں پر پابندیاں رکھیں‘ اس خوف سے کہ کہیں یہ حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ (ماخوذ: کریسنٹ انٹرنیشنل‘ کینیڈا‘ ۱-۱۵ مارچ ۲۰۰۳ئ)
حالیہ انتخابات پاکستان کی تاریخ میں اہم ترین انتخابات تھے۔ اس کے مفصل تجزیوں‘ حکومت سازی کے مراحل اور آیندہ انتخابات پر ان کی تاثیر سے ان کی اہمیت مزید واضح ہو گی۔ لیکن لگتا ہے انتخابات پاکستان ہی میں نہیں دنیا کے ہر خطے میں ہو رہے ہیں۔ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۲ء ہی کو الجزائر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے‘ ۵-۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء کو بوسنیا کے عام انتخابات ہوئے‘ ۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء ہی کو برازیل کے انتخابات ہوئے۔ جرمنی‘ لٹویا‘ اکواڈور‘ آئرلینڈ میں راے دہی ہوئی‘ بحرین میں عام انتخابات ہوئے اور ۲۷ ستمبر ۲۰۰۲ء کو مراکش میں وہاں کی تاریخ کے اہم انتخابات ہوئے۔
پاکستان کی طرح بوسنیا‘ بحرین اور مراکش کے انتخابات میں وہاں کی اسلامی تحریکوں نے حیران کن کامیابی حاصل کی۔ بوسنیا کے سابقہ انتخابات میں سابق صدر علی عزت بیگووچ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا‘ ان کے اہم شریک‘ وزیر خارجہ اور پھر وزیراعظم حارث سلاجک کی علیحدگی سے لبرل اور سیکولر عناصر کو کامیابی ملی تھی‘ اور خدشہ یہ تھا کہ اس بار بھی وہی جیتیں گے لیکن تقسیم ہونے کے باوجود علی عزت بیگووچ جنھوں نے آزادی اور پھر جنگ کے ہر مرحلے میں اپنی قوم کی قیادت کی تھی‘ کی پارٹی پہلے نمبر پر رہی۔ لیکن دنیا کو اصل اچنبھا مراکش اور پاکستان کے نتائج پر ہوا۔
مراکش جو کبھی طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کے نام سے پردئہ ذہن پر اُبھرتا تھا‘ سترھویں صدی کے وسط سے دستِ ملوکیت میں ہے۔ مولای الرشید اس مملکت کے پہلے بادشاہ بنے جن کا انتقال ۱۶۷۲ء میں ہوا (مراکش میں مولانا کے بجائے مولای بولااور لکھا جاتا ہے لیکن اس کا استعمال عام طور پر حکمرانوں کے لیے ہوتا ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ مراکش کے تمام شہنشاہوں نے اپنے اقتدار کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور خانوادئہ رسولؐ سے منسوب کر رکھا ہے)۔ اس علوی مملکت پر مختلف ادوار آئے۔ جب ریاست ہاے متحدہ امریکہ کی تشکیل ہوئی تو مراکش پہلا ملک تھا جس نے اسے تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ پھر فرانسیسی استعمار کے بادل گہرے ہوتے چلے گئے اور علوی مملکت پر فرانسیسی زبان‘ ثقافت اور تہذیب کے نقوش نمایاں ہو گئے۔ ۵ نومبر ۱۹۵۵ء کو طویل جدوجہد کے بعد مراکش کو آزادی ملی تو محمد الخامس حکمران تھے۔ ۱۹۶۱ء میں ان کا انتقال ہوا تو حسن الثانی بادشاہ بنے جن کا ۱۹۹۹ء میں انتقال ہوا۔ اب ان کا بیٹا محمد السادس شہنشاہ ہے جو اپنے خانوادے کا تیئسواں بادشاہ ہے۔
حسن الثانی نے اپنے ۳۸ سالہ اقتدار میں مراکش کو ایک جدید ریاست بنانے کے لیے مختلف تجربات کیے۔ شہنشاہی کی حفاظت و تقدیس ہر تجربے کا مرکز و محور رہی۔ ۹۰ کے عشرے میں انھوں نے ملک بدر اپوزیشن رہنمائوں کو ملک میں واپس آکر حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی۔ فرانس میں مقیم اکثر لیڈر لوٹ آئے اور عبدالرحمن الیوسفی وزیراعظم بنا دیے گئے۔ الیکشن بھی کروائے گئے‘ یوسفی کی اشتراکی اتحاد پارٹی پہلے نمبر پر رہی اور مخلوط حکومت وجود میں آئی۔ اعلان کر دیا گیا کہ اب جمہوری روایات کی آبیاری کی جائے گی اور عوام کو اپنی حکومتوں کے انتخاب کی مکمل آزادی ہوگی۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ہر پانچ سال بعد ۲۷ ستمبر کو انتخابات ہوا کریں گے اور کسی کو اس تاریخ میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ ووٹر کی عمر ۲۳ سال مقرر کر دی گئی اور پارٹی رجسٹریشن کا طریق کار طے کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ سنہ ۲۰۰۰ء کی مردم شماری کے مطابق مراکش کی آبادی ۳کروڑ سے متجاوز ہے۔
مراکش کے حالیہ انتخابات ۳۹ سالہ شاہ محمد السادس کے عہد کے پہلے انتخابات تھے اور ملکی تاریخ کے بھی پہلے انتخابات تھے جو متناسب نمایندگی کی بنیاد پر کروائے گئے۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی مہم اپنے پروگرام اور انتخابی نشان ہی کے لیے چلائی۔ کہیں پر بھی شخصیتوں کو سامنے نہیں لایا گیا۔ تمام شخصیات کے نام پارٹی کی فہرستوں میں شامل تھے جو الیکشن سے پہلے کمیشن کو جمع کروائی گئیں۔
اس بار ۲۶ پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ لیا جو اب تک انتخابات میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ وزیراعظم عبدالرحمن یوسفی کی اشتراکی اتحاد پارٹی کے علاوہ دائیں بازو کی استقلال پارٹی اور اسلامی تحریک حزب العدالۃ والتنمیۃ ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘اہم پارٹیاں تھیں اور تینوں ہی بالترتیب پہلے‘ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔ ۳۲۵ کے ایوان میں یوسفی کو ۵۰‘ استقلال کو ۴۷ اور انصاف و ترقی کو ۴۲ نشستیں ملیں۔ ۳۰ نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کر دی گئیں جو اب تک سب سے زیادہ ہیں۔
اسلامی تحریک کو گذشتہ انتخابات میں نو نشستیں ملی تھیں جو بعد میں پانچ ضمنی نشستیں جیت کر ۱۴ ہوگئیں اور حالیہ الیکشن میں تین گنا ہو گئیں جس سے پوری غربی و عربی ذرائع ابلاغ میں کھد بھد مچ گئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ مراکش الجزائر کا پڑوسی ملک ہے اور اسی کی طرح فرانسیسی اثر و نفوذ میں ہے۔ پوری انتخابی مہم میں اسلامی تحریک کے مخالفین اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ اس کا انتخاب مراکش کو الجزائر کی طرح خون خرابے میں مبتلا کر دے گا۔ کہا گیا ’’عالمی اور علاقائی قوتیں مراکش میں اسلامی تحریک کو کبھی برداشت نہیں کریں گی‘‘۔ ’’اسلامی قوتوں کی جیت بہائو کے مخالف سمت تیرنے کی ناکام کوشش ہوگی‘‘۔ لیکن مراکش کے عوام نے کہا کہ ’’یہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی‘‘ (انصاف و ترقی پارٹی کا نشان چراغ تھا)۔
انصاف و ترقی پارٹی مراکش میں اسلامی تحریکوں کے مختلف مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔ آزادی کے بعد جب وہاں کارِ دعوت کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دعوت و جماعت سے متاثر ہو کر اس کا نام جماعت اسلامی مراکش رکھا گیا۔ پھر شہنشاہیت کے ماحول میں نام تبدیل کرنا پڑا۔ متعدد بار نام تبدیل کرنے اور مختلف افراد کے اشتراک و اجتماع کے بعد اس کا نام تحریک اصلاح و تجدید رکھا گیا‘ ادریس الریسونی اس کے سربراہ تھے۔ پھر ’’حزب التجدید الوطنی‘‘ کے نام سے اسے ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی اجازت نہ ملی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ پہلے سے موجود ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ جو اسلامی تشخص رکھتی ہے اور شیخ عبدالکریم الخطیب (۱۹۲۱ء) اس کے سربراہ ہیں‘ میں شمولیت اختیار کرلی جائے۔ شیخ الخطیب نے خوش آمدید کہا۔ لیکن شرط یہ رکھی کہ شمولیت پارٹی کی حیثیت سے نہیں انفرادی حیثیت سے کی جائے۔ یہ شرط پوری کر دی گئی‘ انضمام عمل میں آیا اور نئی روح سے جدوجہد کا آغازہوگیا۔
سابقہ حکومت میں ’’انصاف و ترقی‘‘ نے اپوزیشن کی حیثیت سے شان دار کارکردگی دکھائی۔ ان کا موقف تھا کہ ہم ’’ناصحانہ اپوزیشن‘‘ المعارضۃ الناصحۃ کریں گے۔ سودی نظام‘ خواتین کے حقوق اور صہیونی ریاست سے تعلقات کے ساتھ ساتھ عوام کی مشکلات و مسائل پارلیمانی جدوجہد کے خاص مراحل ٹھہرے اور عوامی پذیرائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
’’انصاف و ترقی‘‘ نے اپنے اور ملکی حالات کی روشنی میں یہ فیصلہ بھی کیا کہ فی الحال خود کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنانے اور منوانے کی کوشش نہ کی جائے۔ الجزائر کی ہمسایگی‘ فرانسیسی عمل دخل اور شہنشاہی نظام میں انھوں نے فیصلہ کیا کہ ملک کے کل ۹۱ حلقوں میں سے ۵۵ حلقوں میں حصہ لیا جائے۔ اسی پالیسی کو انھوں نے ’’المشارکۃ لا المغالبۃ‘‘ کا نام دیا،’’یعنی غلبہ نہیں شرکت‘‘۔ پارٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم فی الحال ملک کی بڑی پارٹیوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ نتائج آنے کے بعدبھی پارٹی نے یہی فیصلہ کیا کہ حکومت میں شرکت کی پیش کش قبول نہ کی جائے‘ اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے خود کو مضبوط تر اور عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کی جائے۔
’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ مراکش کی اکلوتی اسلامی تحریک نہیں ہے۔ ایک اور اہم بلکہ اہم تر اسلامی پارٹی، ’’جماعت عدل و احسان‘‘ ہے۔ اس کے سربراہ شیخ عبدالسلام یاسین بڑے حق گو رہنما ہیں۔ شیخ حسن البنا کی طرح شیخ عبدالسلام یاسین نے بھی عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور پھر وزارت تعلیم میں انسپکٹر کی ذمہ داری سے گزرتے ہوئے خود کو دعوت و اصلاح کے لیے وقف کر دیا۔ اس راہ میں انھیں لاتعداد مصائب جھیلنا پڑے۔ ۱۹۷۴ء میں گرفتار ہوئے تو چار سال بعد رہا ہوئے۔ پھر تقاریر پر پابندی لگا دی گئی۔ ۱۹۸۳ء میں پھر گرفتار ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں رہا ہوئے اور پھر پورے ۱۰ سال کے لیے گھر میں نظربند کر دیے گئے۔ اس دوران ان کی صاحبزدی ان کے اور مراکشی عوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں۔
۱۰ سال کے بعد رہائی ملتے ہی شاہ حسن الثانی کو ایک مفصل اور دو ٹوک خط لکھا کہ عوام کی دولت و ثروت پر ناجائز قبضہ تمھیں جہنم کی آگ سے دوچار کر سکتا ہے۔ اپنے آپ اور اپنے آبا و اجداد کی نجات کے لیے محلات اور لوٹی ہوئی دولت عوامی خزانے میں جمع کروا دو۔ لوگوں کو آزادیاں دینے کی بات کی‘ بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ شاہ حسن الثانی نے اس نصیحت کو سنا لیکن قبول نہیں کیا۔ شیخ عبدالسلام کے لاکھوں عشاق کے باعث وہ انھیں اس جسارت کی سزا بھی نہ دے سکا اور گور میں جا پہنچا۔ شیخ عبدالسلام نے ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ صرف ایک فریب اور سراب ہے۔ اصل اور کلی اختیار ’’شاہ‘‘ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے ہم اس ڈرامے میں شریک نہیں ہوں گے۔ گویا شاہ محمد السادس کو پارلیمنٹ کے اندر بھی اسلامی تحریکوں کی توانا آواز کا سامنا کرنا پڑے گا اور باہر بھی۔ بائیکاٹ کرنے والوں میں ایک گروہ ان قبائل کا بھی تھا جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ’’امازیغی‘‘ زبان کو بھی ملک کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔
انتخابات کے بعد شاہ محمد السادس نے یوسفی کے وزیرداخلہ ادریس جطو کو وزیراعظم مقرر کرتے ہوئے حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ اس فیصلے پرسب سے زیادہ صدمہ یوسفی کو ہوا ہے کیونکہ سب نقاد اس پر یہی تنقید کرتے تھے کہ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہے۔ اس نے اپنے کئی مطالبات صرف شاہ کی رضامندی کی خاطر تج دیے۔ بہت سے کام اپنی رضا و رغبت سے ہٹ کر انجام دیے اور پھر پارٹی کو بھی سب سے بڑی پارٹی ثابت کیا‘ لیکن اس کے بجائے اس کے ایک وزیر کو حکومت سونپ دی گئی۔ دوسرا بڑا صدمہ ایک سابق سیکورٹی انچارج محمود عرشان کو ہوا جس نے اپنے بڑوں کی خاطر اپوزیشن اور حکومت مخالف عناصر پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ ان کے حلقے میں صرف ایک ہی بے ضرر نعرے نے انھیں شکست کا منہ دکھا دیا۔ ’’الجلاد لایبنی الدیمقراطیہ‘‘ جلاد جمہوریت نہیں دے سکتا۔ ایک اور صاحب سعید سعدی‘ وزیر امور خواتین تھے۔ انھوں نے عالمی دبائو کے پیش نظر خواتین کو ہر میدان اور پارلیمنٹ میں بھی غیر معمولی طور پر شریک کیا۔ ۳۰ خواتین ان کے فیصلوں کے باعث اسمبلی میں پہنچ گئیں لیکن سعدی خود نہ آ سکے۔
مراکش کے ان انتخابی نتائج کے بعد پوری دنیا میں مختلف تبصرے اور تجزیے سامنے آئے ہیں۔ کچھ نے کہا: ’’نئے بادشاہ نے تسلیم کروا لیا کہ وہ اپنے والد سے مختلف اور زیادہ جمہوری ہے۔ لوگوں کو آزادی راے اور نسبتاً شفاف انتخاب کروا کے اس نے اپنے والد کا کفارہ ادا کرنا چاہا ہے‘‘۔ ایک بڑے گروہ نے ان نتائج کو تاریکی میں اُمید کی کرن قرار دیا۔ معروف تجزیہ نگار فہمی ھویدی نے الشرق الاوسط میں لکھا کہ ایسی عرب دنیا میں کہ جب حکمران ۹.۹۹ فی صد ووٹ لے کر جیت رہے ہوں آزادانہ انتخاب کروا دینا اور پھر ان میں اسلام سے محبت رکھنے والوں کا کامیاب ہو جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دل میں اُمید روشن رکھنا چاہتا ہے کہ وہ پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے اصلاحی مقاصدمیں ضرور کامیاب ہوں گے۔ پاکستان کے انتخابات کے بعد اس سوچ کے حامل تبصروں میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
مردِ بیمار کی پھبتیاں سہنے والا ترکی‘ اس صدی کے آغاز پر بھی یورپ کے لیے مردِ بیمار ہی ہے۔ تمام تر چاپلوسی کے باوجود ترکی یورپی یونین کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اتاترک اور اس کے پیروکار ۸۰ برس کی مسلسل کوششوں کے باوجود بھی مغرب کے دل میںجگہ نہیں بنا سکے‘اور نہ ترک قوم کے دل سے اسلام اور مشرقیت کی محبت نکال سکے ہیں۔
۳ اگست ۲۰۰۲ء کو پارلیمنٹ کے ذریعے کی جانے والی ترامیم کے مطابق ترکی میں سزاے موت ختم کر دی گئی ہے خواہ مجرم کا قاتل ہونا ثابت ہو جائے۔ قرآن کے اس واضح حکم کو قانوناً منسوخ کرنے سے عملاً جو فساد برپا ہوگا وہ تو اپنی جگہ پر ہے لیکن جس یورپی یونین کا ممبر بننے کے لیے یہ اقدام کیا گیا وہ اس کے باوجود بھی ممبر بنانے کے لیے تیار نہیں۔ اب کردوں کے علاوہ قبرص کا معاملہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔
۲۰۱۰ء تک یورپی یونین میں مزید ۱۳ ممالک شامل کیے جانا ہیں لیکن ترکی کا معاملہ مختلف ہے۔ جرمن رہنما ہیلمٹ کوہل کے مطابق:’’ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت ایک کثیر پہلو تہذیبی اقدام ہوگا‘‘۔ ۱۵ برس کے اندراندر ترک آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہوگی‘ جرمنی سے کہیں زیادہ۔ اس کا مطلب ہے ترکی یورپی یونین کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور چونکہ یورپی کمیٹی میں ووٹنگ کا نظام ممبرملکوں کی آبادی کے تناسب سے ہے‘ ترکی کے ووٹ سارا کھیل خراب کر سکتے ہیں۔ دوہرے معیاروں کا عالم یہ ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت سے ترکی کو جو فوائد و حقوق حاصل ہو سکتے ہیں‘ ان پر تو شرائط لگائی جا رہی ہیں‘ لیکن یورپی ٹیکس سسٹم میں شمولیت سے یورپ کو فائدہ اور ترکی کو نقصان ہوتا تھا‘ اس میں اسے ابھی سے شامل کرلیا گیا ہے۔ اب ترکی اور یورپی ممالک کے درمیان درآمدات و برآمدات پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوسکتا۔اس اقدام کی وجہ سے ترکی کو ہر سال ۴ ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یورپی مال کی فراوانی کی وجہ سے ترکی کے کئی صنعتی یونٹ بند اور ملازمین بے روزگار ہو چکے ہیں۔ نجم الدین اربکان نے کوشش کی تھی کہ یورپ سے برآمد شدہ مال پر ۶ فی صد ٹیکس لگایا جائے لیکن ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔
ترکی میں جب حالیہ اقتصادی بحران پیدا ہوا تو اربکان کے سب سے بڑے مخالف اور سیکولرازم کے عاشق ایک صحافی امین گوچالان نے لکھا تھا: ’’ اس بحران کا مطلب ہے اربکان حق پر تھا‘‘۔ نجم الدین اربکان کے حق پر ہونے کا اعتراف کرنے کے باوجود ۱۹۹۸ء میں ان پر پانچ سال کے لیے پابندی لگادی گئی۔ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان کی قائم کردہ ہر پارٹی ختم کر دی گئی۔ ۱۹۷۰ء میں ملّی سلامت پارٹی بنی اور ۱۹۷۴ء سے ۱۹۷۷ء کے درمیان دو بار حکومت میں شرکت کے باوجود ۱۹۸۰ء میں اسے بھی بند کر دیا گیا۔ اربکان اور ساتھی پھر گرفتار بلا ہو گئے۔۱۹۸۳ء میں رفاہ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس نے ۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۳ء تک اپوزیشن کی قیادت کی اور ۱۹۹۵ء میں استنبول و انقرہ سمیت بلدیاتی اداروں میں کامیابی حاصل کی۔
اصل قیامت اس وقت برپا ہوئی جب جون ۱۹۹۴ء میں اربکان کو وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ اتاترک کے وفاداروں کی نیندیں حرام ہو گئیں اور سیکولرازم کی حفاظت کا حلف اٹھانے والی فوج نے کرپشن مافیا اور صہیونی میڈیا کی مدد سے صرف ایک سال بعد اربکان کو استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ ۱۶ جنوری ۱۹۹۸ء کو رفاہ پارٹی غیر قانونی قرار دے دی گئی۔ الزام یہی تھا کہ ’’رفاہ ملک کے سیکولر نظام کے مخالفین کا گڑھ بن گئی ہے‘‘۔ دسمبر ۱۹۹۸ء میں فضیلت پارٹی تشکیل دی گئی۔ پورے ملک میں پھیلے رفاہ کے مراکز پر R.P کے بجائے F.P لکھ دیا گیا۔ فضیلت پارٹی پوری قوت سے پارلیمنٹ میں داخل ہوئی۔ ۵۵۰نشستوں کے ایوان میں اسے ۱۱۰ نشستیں حاصل ہوئیں لیکن پوری سیکولر مشینری کو حرکت میں لاتے ہوئے اسے حکومت بنانے یا حکومت میں شرکت سے محروم رکھا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ پارلیمنٹ میں جانے اور لاکھوں ووٹ حاصل کرنے کے ایک ماہ بعد مئی ۱۹۹۹ء میں فضیلت پارٹی کے خلاف دستوری جنگ شروع کر دی گئی اور سیکولر دستور کی حفاظت کے نام پر ۲۲ جون ۲۰۰۰ء کو ’’فضیلت‘‘ پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
۲۰ جولائی ۲۰۰۱ء کو فضیلت پارٹی کی جگہ سعادت پارٹی نے لے لی لیکن بیرونی دشمن کے ہاتھوں تمام چرکے سہہ لینے والوں کے لیے اس بار اندرونی چیلنج بھی مہیب تھے۔ فضیلت پارٹی میں کام کرنے کے دوران ہی اربکان کے حقیقی سیاسی وارث رجائی قوطان کو گمبھیرحالات کا سامنا کرنا پڑا۔ استنبول کے سابق میئر اور قائدانہ سحر رکھنے والے رجب طیب ایردوغان اور ان کے ساتھیوں نے ایک اور نوجوان سیاسی قائد عبداللہ گل کو پارٹی لیڈر بنانے پر اصرار کیا۔ پارٹی انتخابات میں انھیں بھاری ووٹ بھی ملے لیکن منتخب رجائی قوطان ہی ہوئے۔ اس وقت تو عبداللہ گل نے جو اربکان کے اہم وزیر بھی رہ چکے ہیں اور تحریک کا سرمایہ ہیں رجائی قوطان کو اپنا لیڈر تسلیم کیا‘ اسٹیج پر جا کر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور پارٹی ارکان کی پُرجوش داد وصول کی لیکن بدقسمتی سے تقسیم کا عمل پورا ہو کر رہا۔ فضیلت پر پابندی لگی تو رجب طیب نے ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ کے نام سے الگ پارٹی بنا لی۔ فضیلت کے تقریباً ۴۵ ارکان اسمبلی نے ’’سعادت‘‘ کے بجائے ’’انصاف و ترقی‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ دیگر کئی پارٹیوں سے بھی ارکان آئے اور طیب ایردوغان سیاسی لیڈروں میں اہم ترین ہوتے چلے گئے۔
جولائی ۲۰۰۱ء میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق طیب ایردوغان سیاسی قائدین میں سرفہرست ہیں۔ انھیں ۲۳ فی صد افراد کی تائید حاصل تھی‘ جب کہ خود صدر مملکت احمد نجدت سیزر کو ۱۳ فی صد اور وزیراعظم بلنت ایجوت کو صرف ۲ فی صد عوامی تائید حاصل تھی۔ ایجوت کو بیماری کے علاوہ پارٹی کے اندر بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
سیاسی پارٹیوں کے بارے میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق‘ انتخابات کی اہل ۲۳ پارٹیوں میں سے صرف چار پارٹیاں پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں گی کیونکہ ترک قانون کے مطابق ۱۰ فی صد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی پارلیمنٹ میں شامل نہیں ہو سکتی اور اس کی جیتی ہوئی نشستیں اور ووٹ بھی جیتی ہوئی دیگر جماعتوں کو دے دیے جاتے ہیں۔
اس سروے کے مطابق طیب ایردوغان کی انصاف و ترقی پارٹی کو ۲۰ فی صد‘ ڈینز بائیکال کی کمیونسٹ ری پبلک پیپلز پارٹی کو ۱۱ فی صد‘ سعادت پارٹی کو ۱۰ فی صد اور تانسو چیلر کی صراط مستقیم پارٹی کو بھی ۱۰ فی صد ووٹ ملنے کی توقع ہے جب کہ نیشنلسٹ پارٹی کو ۸ فی صد‘ وزیرخارجہ اسماعیل جحم کی نئی قائم کردہ گریٹ یونٹی پارٹی کو ۵ فی صد‘ مسعود یلماز کی مدرلینڈ پارٹی کو ۳ فی صد اور حالیہ وزیراعظم بلنت ایجوت (بلند نہیں بلنت جس کا ترکی میں مطلب ہے جوان) کو صرف ایک فی صد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔
مختلف چھوٹی پارٹیوں کے درمیان اتحاد بنانے کی کوششیں اپنی جگہ جاری ہیں لیکن اسی اثنا میں ۱۴ستمبر کو مسعود یلماز نے ایک نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور وہ ہے الیکشن ملتوی کرنے اور اپنے اصل شیڈول کے مطابق کروانے کی مہم۔ اس کے لیے انھوں نے پارلیمنٹ کے فوری اجلاس کی تحریک شروع کی ہے۔ فوری اجلاس بلانے کی درخواست دینے کے لیے انھیں ۵۵۰ کے ایوان میں سے ۱۸۰ ارکان پارلیمنٹ کے دستخطوں کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے انھیں ۱۸۰ ارکان کے دستخط مل جائیں لیکن کیا پارلیمنٹ الیکشن ملتوی بھی کر دے گی؟ حالات جہاں تک پہنچ گئے ہیں‘ اس کی روشنی میں اس کا امکان کم ہے۔
اسی اثنا میں ایک اہم عدالتی فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ آیندہ انتخابات میں نجم الدین اربکان کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب وہ کسی پارٹی کی طرف سے تو نہیں‘ آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں تمام تجزیہ نگار اس پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اگر بڑی دھاندلی نہ ہوئی تو ۳نومبر ۲۰۰۲ء کو ہونے والے آیندہ الیکشن طیب ایردوغان کے ہیں۔ سعادت پارٹی کے بجائے انصاف و ترقی پارٹی میں شامل ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد اربکان کی خدمات و صلاحیتوں کی بھی معترف ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ سیکولر فوج نے ہر بار ان کا راستہ روکا ہے‘ اس لیے اس بار ان کے بجائے طیب کو منتخب کرنا ہے۔ اگرچہ استنبول کے اس سابقہ میئر کو بھی صرف اس بنا پر قید رکھا گیا اور سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی کہ انھوں نے ایک تقریر میں کچھ اشعار پڑھے تھے جن کا مفہوم یہ تھا کہ اگر مجھے دہشت گرد کہتے ہو تو‘ ہاں میں دہشت گرد ہوں۔ مسجدوں کے مینار میری تلوار ہیں‘ ان کے گنبد میری ڈھالیں ہیں اور یہ مساجد ہماری بیرکیں ہیں۔
۱۰ رکنی نیشنل سیکورٹی کونسل کے نام پر ترکی کی اصل حکمراں‘ سیکولرازم کی محافظ فوج ہے۔ ۱۹۶۰ء‘ ۱۹۷۱ء اور ۱۹۸۰ء میں براہِ راست مداخلت اور فوجی انقلاب کے علاوہ سیکورٹی کونسل کے ذریعے دائمی مداخلت فوج اپنا حق سمجھتی اور بلاتکلف و حیا استعمال کرتی ہے۔ اب تک ترکی میں صرف دو جمہوری حکومتیں اپنی چار سالہ مدت پوری کر سکی ہیں۔ اتاترک کے بعد اب تک ۳۵ حکومتیں اسی سیکولر فوج کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن سعادت اور اربکان کو ترک قانون کے مطابق کم از کم ۱۰ فی صد ووٹ حاصل کر کے پارلیمنٹ میں پہنچنے سے روکنے کے لیے شاید فی الحال طیب کا راستہ نہ روکا جائے اور جس طرح کے تجزیے اور سروے سامنے آ رہے ہیں ان کی روشنی میں شاید طیب کا راستہ روکنا ممکن بھی نہ ہو۔
۵ اگست ۲۰۰۲ء کو رفاہ کے قائم کردہ ٹی وی چینل میں دو صحافیوں فہمی قور اور نورشریک کا کہنا تھا: ’’طیب ایردوغان اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت ۱۹۴۶ء میں عدنان مندریس اور ۱۹۸۳ء میں ترگت اوزال جیسی ہے۔ وہ دونوں بھی سنگین سیاسی بحرانوں کے بعد آئے اور اس وقت بھی ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ طیب ایردوغان کا پارلیمنٹ اور اقتدار میں پہنچنا یقینی اور سہل ہو چکا ہے‘‘۔
ملکی سیاست میں فوج کا کردار اس وقت ہمارے ملک میں ایک گرم موضوع ہے۔ اس حوالے سے ہمارے لیے انڈونیشیا سے آنے والی یہ خبرآنکھیں کھولنے والی ہونا چاہیے کہ وہاں کے دستور میں سے فوج کا کردار ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ کردار اس سے بہت زیادہ تھا جتنا ہمارے ہاں اس بہانے تجویز کیا جا رہا ہے کہ فوج کو بار بار مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ انڈونیشیا میں تو منتخب اسمبلی میں فوج کے نامزد نمایندے بطور ممبر بیٹھتے تھے اور صدر کے انتخاب میں فیصلہ کن ووٹ ڈالتے تھے۔۳۰ سال کی سہارتوکی فوجی حکومت کے بعد جب جمہوری حکومتوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک کی اصل تصویر عوام کے سامنے آئی۔ خوش حالی کے دعوئوں اور پٹرولیم‘ گیس‘ ٹیکسٹائل‘ سیمنٹ‘ لکڑی‘ربڑ اور سیاحت کی وسیع صنعتیں موجود ہونے کے باوجود‘ غربت اور بے روزگاری عام ہے اور ملک کے شہری پریشان حال ہیں۔ عوام آج بھی راہ نجات کی تلاش میں ہیں۔
عبدالرحمن واحد کی ناکامی کے بعد انڈونیشیا پر اس وقت سوئیکارنو کی بیٹی میگاوتی بطور صدر حکومت کررہی ہیں جو سیکولر ہیں اور جمہوری پارٹی کی سربراہ ہیں۔ ۱۹۹۹ء کے انتخابات میں ان کی جمہوری پارٹی نے ۱۵۴ اور سہارتوکی سابق حکمران گولکر پارٹی نے ۱۲۰ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ دائیں بازو کی اسلام پسند پارٹی یونائٹیڈڈویلپمنٹ پارٹی کے سربراہ حمزہ حاذ اس وقت ملک کے نائب صدر ہیں۔ اس نے ۵۸نشستیں حاصل کی تھیں۔ یہ سیکولر پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب انڈونیشیا میں جعفر عمرطالب اور ابوبکر بشیر کو القاعدہ سے رابطے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو حمزہ حاذ نے بلاتکلف جیل جاکر ان سے ملاقات کی۔ اسمبلی کے اسپیکر امین رئیس کی قومی بیداری پارٹی نے ۳۵ نشستیں حاصل کیں۔ یہ دونوں پارٹیاں اور نہضۃ العلما اسلامی قوتوں کی ترجمان ہیں۔ سہارتو کے خلاف تحریک میں ان کا نمایاں کردار تھا اور اب بھی دستور میں ترامیم کے وقت انھوں نے ملکی قوانین میں اسلامی شریعت کی بالادستی کے لیے منظم کوشش کی لیکن یہ ترمیم دستور میں نہ ہو سکی۔ اس پر نیوزویک نے یہ تبصرہ بھی دیا کہ: ’’دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کی اکثریت نے اسلام کو بحیثیت ملک کے قانون کو مسترد کر دیا‘‘۔
نظام حکومت میں شریعت اسلامی کی بالادستی کی علم بردار ایک پارٹی انصاف پارٹی ہے۔ جس کو سات نشستیں ملی تھیں۔ اس نے نوجوان نسل کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اس کے ۳ لاکھ ممبر ہیں۔ اس کے سیکرٹری جنرل لطفی حسن اسحاق گذشتہ دنوں پاکستان آئے تو انھوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ۵ فی صد چینی النسل آبادی نے ملک کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔
مشرقی تیمور کی آزادی کے بعد وہاں آچے‘ پاپوا‘ ایم بون‘ سلاویسی میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ آچے کے عوام اسلامی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی خبریں برابر آتی رہتی ہیں۔ ایک عنصرعیسائی مسلم فسادات کا بھی ہے۔ سہارتو کے دور میں عیسائیوں نے بہت پیش رفت کی۔ ۱۹۵۵ء میں جو مسلمان۹۵ فی صد تھے‘ ۱۹۸۰ء میں ۸۷ فی صد رہ گئے۔ کلیسا اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور انڈونیشیا ان کا سوچا سمجھا ہدف ہے۔
۲۰۰۴ء میں صدارتی انتخاب ہونے ہیں۔ نئی دستوری ترمیم کے مطابق یہ اب براہِ راست ہوں گے۔ پہلے کی طرح اسمبلی کے ذریعے بالواسطہ نہیں۔اس موقع پر یقینا اسلام اور سیکولر قوتوں کا پولرائزیشن ہوگا۔ نیوزویک نے اس سال سنٹر فار انٹرنیشنل کارپوریشن کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق۵۸ فی صد آبادی نے یہ پسند کیا تھا کہ انڈونیشیا کے تمام جزائر میں شریعت کی بالادستی بالفعل ہونا چاہیے۔ ملک کے حالات ابتر ہیں‘ اقتصادیات تباہ ہیں۔ اگر اسلامی قوتیں ایک پلیٹ فارم بناکرعوام کے سامنے آئیں تو بالکل ممکن ہے کہ آیندہ انتخاب میں حمزہ حاذ بطور صدرمملکت کامیاب ہو جائیں۔
دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمان مل جل کر بیٹھیں اور اپنے اجتماعی مسائل پر غور کریں تو یقینا یہ ایک خوش گوار امر ہے۔ ایسا اجتماع اگر امریکہ میں ہو تو وہ زیادہ ہی اہم ہو جاتا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ امریکہ میں ہورہا ہے اور دوسرا اس لیے کہ مسلمان اس وقت امریکہ کے ٹارگٹ پر ہیں۔ امریکہ میں ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہو‘ بہرحال وہ وہاں کی ایک موثراقلیت ہیں اور اگر مربوط اور منظم ہوں تو پوری اُمت مسلمہ کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس حوالے سے گذشتہ دنوں دو بڑے اجتماعات اخبارات میں موضوع بنے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جو ضروری نہیں ہیں کہ درست ہوں‘ اس لیے کہ ہر جگہ کے اخبار‘ اخبار ہی ہوتے ہیں‘ ۳۶ ہزار مسلمانوں کا اجتماع واشنگٹن کے کنونشن سنٹر میں ۳۰ اگست سے ۲ ستمبر ۲۰۰۲ء تک جاری رہا۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کی برسی کی تقریبات سے ایک ہفتے قبل منعقد ہونے والا یہ اجتماع اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (ISNA) (اسنا) کے زیراہتمام منعقد ہوا۔ اس کا مرکزی موضوع تھا: ’’اسلام‘ سلامتی کا مذہب‘‘۔ اس کلیدی موضوع کے حوالے سے تقریباً ایک سو سے زیادہ مسلم قائدین اور مختلف شعبہ ہاے زندگی کے نمایاں افراد نے خطاب کیا۔ ان میں امام حمزہ یوسف‘ مراد ہوف مین‘ اکبر ایس احمد‘ غلام نبی فائی‘ زاہد بخاری‘ آغا سعید اور ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی شامل ہیں۔
اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر ’’دہشت گردی‘‘ کا جو الزام چسپاں کر دیا گیا ہے‘ اسلام اور اپنے آپ کو وہ اس سے کیسے الگ کریں۔ کانفرنس کا موضوع بھی اسی کا اظہار ہے اور تمام مقررین نے اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات کو نمایاں کیا۔ ساتھ ہی فلسطین‘ کشمیر اور دیگر علاقوں میں مسلمان جو جدوجہد کر رہے ہیں اس کو صحیح تناظر میں پیش کیا گیا۔
اسنا امریکہ کی اسلامی تنظیمات کا نمایندہ اور موثر وفاق ہے اور اس میں مقامی امریکی مسلمانوں کے علاوہ جو بیشتر ایفروایشین ہیں‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت‘ مصر‘ ایران‘سوڈان‘اُردن‘ تیونس‘ الجزائر‘ مغربی یورپ اور دیگر ممالک کی انجمنیں شامل ہیں۔ قابل ذکر تنظیموں میں مسلم امریکن یوتھ ایسوسی ایشن (MAYA)‘ ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنٹسٹ (AMSS)‘ نارتھ امریکہ اسلامک ٹرسٹ‘ کونسل فار اسلامک اسکولز وغیرہ ہیں۔ سوسائٹی کے موجودہ صدر نورمحمد عبداللہ ہیں‘ جو سوڈان کے رہنے والے ہیں‘ جب کہ سیکرٹری جنرل ایک کشمیری سید محمد سعید ہیں۔
اسی طرح کا ایک بڑا اجتماع دو ماہ قبل اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA) (اکنا) کے زیراہتمام منعقد ہوا۔یہ سرکل ۴۰ سال قبل اسلامی جمعیت طلبہ کے سابقین نے حلقہ احباب کے نام سے قائم کیا تھا۔ بنیادی طور پر اس میں پاکستان سے گئے ہوئے تحریک سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ لیکن اب یہ ایک بڑی اور منظم تنظیم ہے۔ اس کا اپنا مرکز ہے۔ مختلف شعبے اپنے اپنے میدانوں میں سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے مواقع بھی مہیا کیے جاتے ہیں‘ تعلیمی ادارے بھی قائم کیے جاتے ہیں۔ اسلامی مراکز اور مساجد بھی قائم ہیں۔ مسلم ممالک میں ریلیف کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ مسیج کے نام سے رسالہ بھی ہے۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد کے حالات کے پس منظر میں ۳‘۴‘۵ جولائی ۲۰۰۲ء کا سالانہ کنونشن خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ اس سال عرب نوجوانوں کی انجمن کے ساتھ مشترکہ اجتماع رکھا گیا تھا۔ مختلف اجلاسوں میں ۲۰ ہزار سے زائد شرکا نے حصہ لیا۔ انگریزی‘ اُردو‘ بنگلہ اور عربی بولنے والوں کے علیحدہ علیحدہ اجتماع اور گروہی مباحث ہوئے۔
یہ کنونشن بالٹی مور شہر کے کنونشن سنٹر میں ہوا۔ اس سال کا موضوع بحث یہ تھا:
Islam in North America, Challenges, Hopes and Responsibilities
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ۲ لاکھ سے متجاوز ہے۔ اتنی ہی تعداد میں برعظیم کے دوسرے ممالک کے مسلمان مختلف ریاستوں میں قیام پذیر ہیں۔ اجتماع سے اکنا کے مرکزی صدر ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ‘ امام سراج وہّاج‘ امام وارث دین محمد‘ امام نعیم سرویا‘ ڈاکٹر یونے حداد‘ ڈاکٹر احسان باگبی‘ ڈاکٹر ممتاز احمد‘ امام زیدشاکر‘ لارڈ نذیر احمد‘ڈاکٹر محمد مزمل صدیقی‘ محترمہ فوزیہ ناہید‘ ڈاکٹر زکیہ امین اور پاکستان سے آئے ہوئے ناظم کراچی نعمت اللہ خاں کے علاوہ دیگر سرکردہ شخصیات نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا اور سرزمین امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہی اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے لایا جا سکتا ہے اور اس طرح اہل امریکہ کا متعصبانہ نقطۂ نگاہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بھارت سے جماعت اسلامی کے کل ہند سیکرٹری جناب محمد جعفر‘مولانا یوسف اصلاحی اور سید غلام اکبر نے شرکت کی۔ سید غلام اکبر نے گجرات کے فسادات کا حال بتایا۔
اکنا کے کنونشن میں امریکی سفیدفام مسلمانوں کی نمایندگی بھی ہوتی ہے۔ غیرمسلم دانش ور بھی مدعو تھے جس میں مسلمانوں کے مشہور حریف اسٹیون ایمرسن اور انسانی حقوق کے علم بردار پال فنڈلے قابل ذکر ہیں۔ پال فنڈلے اپنے ضمیر کی آواز پر سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اتفاقی نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ تین روز تک جاری رہنے والے اجتماع میں نہ صرف کتب‘ ملبوسات اور دیگر سامانِ زیست کی خرید کے وافر مواقع میسر آتے ہیں بلکہ لوگ اپنے اُن احباب سے بھی مل لیتے ہیں جن کے پاس ملازمت کی مصروفیات کے سبب جانا نہیں ہوتا۔ کئی باہمی معاملات بھی دورانِ اجتماع طے پا جاتے ہیں۔
ایک ایسے ساتھی کا بھی ذکر آیا جنھوں نے نفرت کی فضا میں صحیح راستہ اختیار کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی معروف کتاب دینیات کا انگریزی ترجمہ Towards Understanding Islam ۲۵ ہزار کی تعداد میں غیرمسلموں تک پہنچایا۔
اس طرح کے کنونشن بڑے امکانات رکھتے ہیں۔مسلمانوں میں یہ احساس بیدار کرنا کہ وہ اچھے مسلمانوں کی طرح رہیں‘ یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے۔اگر ۷۰ لاکھ مسلمان حقیقی اسلام کے سفیر بن جائیں تو بہت سارے مسئلے حل ہوجائیں۔ اس طرح کے کنونشن امریکی شہریوں اور ان کے میڈیا کو یہ موقع دیتے ہیں کہ جو بغیر تعصب کے مسلمانوں کا حقیقی چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں وہ دیکھ لیں۔ امریکی شہریوں اور مسلمانوں کے تعلقات بظاہر وہاں کا داخلی مسئلہ ہیں۔ لیکن دراصل اس پر پوری اُمت کا مستقبل دائو پر لگا ہے۔ اگر آج امریکی راے عامہ تعصب سے پاک صحیح رخ پر ہو‘ یقینا وہاں کی حکومت مسلم دشمن پالیسیوں کو نہیں چلا سکتی۔ اس لحاظ سے یہودیوں کی کارکردگی میں مسلمانوں کے لیے بڑا سبق ہے۔
امریکہ کے ممتاز تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی طرف سے پینٹاگون کو دی جانے والی بریفنگ میں سعودی عرب کو امریکہ کے دشمن ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ اسے دہشت گردی کی پشت پناہی سے روکنے کے لیے الٹی میٹم دیا جائے۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۰ جولائی ۲۰۰۲ء کو رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ نگار لارینٹ موریوک نے ڈیفنس پالیسی بورڈ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا:’’ سعودی شہری دہشت گردی کے پورے سلسلے سے منسلک ہیں۔ منصوبہ سازوں سے لے کر مالی معاونت کرنے والوں ‘اعلیٰ تنظیمی عہدے داروں سے عام کارکن اور نظریہ سازوں سے جوش دلانے والے رہنماؤں تک سعودی عرب میں اس سلسلے کی ہر کڑی متحرک ہے --- سعودی عرب ہمارے دشمنوں کی مدد کرتا ہے اور ہمارے اتحادیوں پر ضرب لگاتا ہے --- سعودی عرب برائی کا منبع ہے‘ وہ سب سے بڑی متحرک قوت ہے اور مشرق وسطیٰ میں ہمارا سب سے زیادہ خطرناک دشمن ہے۔ رپورٹ میں امریکہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب امریکہ کے مطالبات پورے نہ کرے تو سعودی تیل کے چشموں اور بیرون ملک اس کے اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے‘‘۔
کہا جاتا ہے کہ خلیجی جنگ کے بعد امریکہ اور سعودی عرب نے باہمی تعلقات کا ہنی مون منایا ہے اور ہنی مون ختم ہوکر ہی رہتا ہے چاہے وہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو ۔ ایک سعودی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی بہت قیمت ادا کی ہے جب کہ اسرائیل ان کو تباہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے لیے ماحول ساز گار ہو جائے ۔
ساڑھے چار ہزار امریکی فوجیوں کی سعودی عرب میں موجودگی --- مسئلہ فلسطین --- عراق کا مستقبل --- سعودی عرب کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات--- یہ وہ امور ہیں جن پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اختلاف رائے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ او ر اس سب کچھ پر مستزاد یہ کہ ۱۱ستمبرکے بعد سعودی عرب کو دہشت گردی کا اصل سرپرست قرار دیا جارہا ہے۔ سعودی عرب کے تعلیمی نظام کو دہشت گردی کی نرسری کہا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عالمی تجارتی مرکز پر حملہ آور ۱۹افراد میں سے ۱۵سعودی شہری تھے اور سعودی عرب کے دہشت گرد ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔
۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے علاوہ تعلقات کی ۷۰ سالہ تاریخ میں دونوں ملکوں کے درمیان اتنی کشیدگی کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ خلیجی جنگ کے بعد امریکی حکام اور تجزیہ نگاروں کا یہ تاثر تھا کہ کٹھ پتلی کی طرح سعودی عرب وہی کرے گا جو امریکہ چاہے گا لیکن افغان جنگ نے حالات کو یکسرتبدیل کر دیا ہے ۔ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکہ عرب دنیا کی صرف حمایت ہی نہیں چاہتا تھا بلکہ اس کے مطالبات کا دائرہ سعودی عرب کی سیاسی ‘ دینی اور نظریاتی بنیادوں تک بڑھ گیا ہے ۔ ۷۰ سال کے طویل عرصے پر محیط امریکی سعودی تعلقات میں آج جو شگاف دکھائی دے رہے ہیں ان کے اسباب میں سب سے اہم امریکی میڈیا ‘ یہودی لابی اور وہ حکومتی حلقے ہیں جو ان تعلقات کوحسد وبغض کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
نیویارک ٹائمزکی ‘ ۱۲ دسمبر ۲۰۰۱ء کی اشاعت میں تھا مسن فریڈ مین سعودی نظام تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھتا ہے:’’دینی مدارس اور دینی ادارے وہ مراکز ہیں جہاں سے دہشت گردوں کی قیادت اٹھتی ہے ۔اس لیے دہشت گردی کے ان چشموں کو خشک کرنا ہوگا۔ یہ نظام تعلیم یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیتا ہے اور ان کے خلاف لڑائی پر اکساتا ہے ۔ ‘‘
امریکی سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جوزف بیڈن ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو کہتا ہے کہ:’’اب وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب کو خبر دار کر دیا جائے کہ وہ دنیا میں متشدد دینی مدارس کی پشت پناہی چھوڑ دے کیونکہ سعودی جن مدارس کی سرپرستی کرتے ہیں ان میں امریکیوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو فروغ دیا جا تا ہے ۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب پر واضح کر دے کہ وہ ان سرگرمیوں سے باز رہے ورنہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔‘‘
امریکی حکام اور اسلام دشمن صہیونی لابی نے سعودی عرب کے خلاف اس مہم میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو امریکی یہودی تنظیموں کے رہنمائوں کے ساتھ ملاقات میں صدر جارج ڈبلیو بش نے سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’’ سعودی عرب ایک غیر جمہوری ملک ہے‘ جب کہ اسرائیل اس خطے کا واحد جمہوری ملک ہے ۔ ایریل شیرون منتخب وزیر اعظم ہے اور سعودی قیادت غیر جمہوری ہے ‘‘۔
امریکی حکام اس بات کو بھی نہیں بھولے کہ سعودی عرب ہی نے طالبان کے نظام کو بنایا اور ۱۹۹۹ء کے آغاز سے ۲۰۰۰ء کے وسط تک پاکستان اور افغانستان کو یومیہ ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل مفت فراہم کیا جس کی وجہ سے افغانستان خانہ جنگی کے زمانے میں مضبوط ہوا اور شاید تیل کی بعض مقدار کو بیچ کر طالبان کو مسلح کیا گیا ۔ مشہور سعودی علماے دین کے بیانات بھی اہم ہیں جیسا کہ شیخ حمود بن عقلہ الشعیبی نے طالبان کی واضح حمایت کی اور امریکہ کو کافر کہتے ہوئے یہودو نصاریٰ کے ساتھ تعاون کو حرام قرار دیا ۔
سعودیہ پر امریکہ کا ایک اور الزام یہ ہے کہ ۲۵ ہزار سے زائد سعودی باشندوں نے اسلام کی خاطر بوسنیا ‘ چیچنیا اور افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا ۔ لندن میں مقیم ایک سعودی منحرف سعد الفقیہ کہتا ہے کہ ان میں سے اکثر نے وطن واپس آکر اسلامی جماعتوں کے لیے چندہ جمع کیا اور جنگجو تیار کیے ۔
سعودی حکومت نے علماے دین کی جہاد اور افغانیوں کی مدد کرنے کی اپیلوں کو مفتی سعودیہ کے رسمی بیانات کے ذریعے اپنے تئیں روکنے کی کوشش کی ۔ بعض علما اور مفتی سعودیہ نے غیر مسلموں کے قتل کو حرام قرار دیا ہے ۔ اس بات کو فنانشل ٹائمز نے ۲۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء کی اشاعت میں ’’ سعودی حکام بمقابلہ جہادی اپیل ‘‘ کے عنوان سے لکھا ۔ ایک حیرت انگیز بات امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے یہ سامنے آئی ہے کہ سعودی آئمہ اور خطبا کے لیے ۵ ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ وہ اسلام کی ’’ صحیح تعریف‘‘ پیش کریں ۔ اور مسلمانوں کو ’’ صحیح تعلیم ‘‘ دیں ۔ اسرائیل ان عرب ممالک پر جن کے ساتھ اس کے معاہدے ہوئے ہیں دبائو ڈال رہا ہے کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ان قرآنی آیات کی تلاوت نہ کی جائے جن میں یہودیوں کا تذکرہ ہے ۔ قرآن و حدیث جو کہ تمام اسلامی تعلیمات کا منبع و سرچشمہ ہیں ان کے بارے میں یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ یہ دہشت گردی پر اکساتے اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں ۔ قرآن کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَم بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْط (المائدہ ۵:۵۱) (اے لوگو جوایمان لائے ہو‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو‘ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تواس کا شمار بھی پھر انھی میںہے) کو دلیل بناتے ہوئے مذہبی پیشوا ہیرف کہتا ہے کہ ’’ اسلام تشدد کی دعوت دیتا ہے ‘‘ ۔
اسی دبائو کے نتیجے میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ممالک میں نظام تعلیم کو تبدیل کرنے کے بارے میں نئے منصوبے بنائے جا رہے ہیں ۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی کی ۷ جنوری ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر مذہبی امور الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ نے بند اجلاس میں آئمہ اور خطبا کی اصلاح پر زور دیا ہے۔
سعودی ولی عہدشہزادہ عبداﷲ‘ جو ملک فہد کی بیماری کی وجہ سے سعودی عرب کے حقیقی فرمانروا ہیں ‘ نے سعودی عرب کے خلاف اس امریکی مہم کو اسلام کے خلاف بغض و حسد پر مبنی قرار دیا۔ سعودی عرب کا اپنے حلیف ملک امریکہ کے خلاف حالیہ موقف ۱۱ ستمبرکے واقعات کے بعد کی بات نہیں بلکہ اس کا آغاز ایریل شیرون کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہوگیا تھا ۔ یہ سخت موقف اس وقت واضح ہو کر سامنے آیا جب اگست ۲۰۰۱ء میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی پر امریکہ نے خاموشی اختیار کی۔شہزادہ عبداﷲ نے اسرائیل کی جانب داری پر امریکہ کو بار بار متنبہ کیا اور بالآخر اپنا مجوزہ دورہ امریکہ اور صدر بش سے ملاقات کا پروگرام منسوخ کر دیا ۔
سعودی ترجمان کے مطابق فلسطین کے خلاف وحشیانہ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے سعودی اعلیٰ فوجی افسر نے اگست ۲۰۰۱ء میں اپنا وہ مجوزہ دورہ امریکہ منسوخ کر دیا جس میں دونوں ممالک کے مابین فوجی تعاون پر بات چیت ہونا تھی ۔ وال سٹریٹ جرنل ۲۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء میں ‘سعودی پیغام ( ۲۷ اگست ۲۰۰۱ء) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’ سعودی عرب نے بش انتظامیہ کو متنبہ کرد یا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں واشنگٹن کی ناکامی سعودیہ کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دے گی ‘‘۔
۱۲ اگست ۲۰۰۱ء کو سعودی ولی عہد شہزادہ عبداﷲ نے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی اندھی حمایت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور سعودیہ دوراہے پر کھڑے ہیں اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنے مخلص دوستوں کا انتخاب کرے ‘‘۔ انھوں نے جارج ڈبلیو بش کو سخت لہجہ میں کہا: ’’ قوموں کی تاریخ میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اور سعودیہ اپنے اپنے مفادات دیکھیں ۔ وہ حکومتیں جو اپنی عوام کی نبض کو نہیں پہچانتیں اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ نہیں کرتیں ان کا حشر وہ ہوگا جو شاہ ایران کا ہوا‘‘۔
شہزادہ عبداﷲ کا یہ پیغام ہر باشعور اور غیرت مند سعودی کے جذبات و احساسات کی ترجمانی ہے ۔ کوئی بھی سعودی شہری یہ نہیں چاہتا کہ امریکہ سعودیہ تعلقات امریکی بالادستی پر قائم ہوں اور یہ بھی نہیں چاہتا کہ یہ تعلقات دوستی سے دشمنی میں تبدیل ہو جائیں بلکہ اس کی خواہش ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت وہی ہو جیسی دوسرے ممالک‘ یعنی جاپان ‘ جرمنی وغیرہ کے ساتھ ہے ۔ جس میں سعودی مفادات کو اولیت دی جائے لیکن امریکہ کا اسرائیل کے بارے میں موقف دوستی کے رشتے کو ختم کر رہا ہے۔ پھر۱۱ ستمبرکے بعد سیکڑوں سعودی باشندوں سمیت ۱۷ ہزار عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی گرفتاری جیسے اقدامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور ان میں سے ابھی بیسیوں سعودی شہری جیلوں میں ہیں ۔۶ ہزار عرب اور غیر عرب مسلمانوں پر امریکی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے اور ان کو زبردستی امریکہ سے نکالا جا رہا ہے۔ ہزاروں غیر مسلم تارکین وطن بھی امریکہ میں موجود ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی قابل ذکرکارروائی نہیں ہو رہی ۔
اگر سعودی عوام کا رد عمل دیکھا جائے تو ہرکس و ناکس ‘ مرد و زن ‘ اساتذہ و طلبہ حتیٰ کہ سیاستدان تک اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے ۔ سعودی عوام چاہتے ہیںکہ ان کی حکومت ایسا موقف اختیار کرے جو عوامی جذبات کا ترجمان ہو اور سینوں کو ٹھنڈا کر دے ۔ سعودی عوام نے اپنے وزیر دفاع اور وزیرداخلہ کے ان بیانات کو بہت سراہا ہے کہ کسی عربی یا اسلامی ملک پر حملے کے لیے کسی ملک کو سعودی زمین استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیںدی جائے گی‘ اور نہ کسی سعودی باشندے کو ہی امریکہ کے حوالے کیا جائے گا ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے بڑی جدوجہد کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایسے مقام پر پہنچا یا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف ہیں ۔ وہ یقینا ان کو خراب نہیں کرنا چاہے گا ۔
امریکہ بھی ان تعلقات کو کشیدہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ اس کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ امریکی انتظامیہ اور سعودی قیادت ذرائع ابلاغ پر کسی ایسے موقع کو ضائع نہیں کرتے جس میں اس بات پر زور نہ دیا جائے کہ سعودی امریکی باہمی تعلقات بہترین ہیں ۔ کم از کم میڈیا کی حد تک صدر جارج ڈبلیو بش اور سعودی ولی عہد امیر عبداﷲ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ۔ امریکی ڈپلومیٹس سعودی عرب کا دورہ کرتے ہیں اور خوش گوارماحول میں سعودی حکام سے ملاقات کرتے ہیں لیکن حالات عملاً کیا رخ اختیار کرتے ہیں ؟ امریکہ کی طرف سے اسرائیلی سرپرستی میں کتنی کمی آتی ہے ؟ عراق پر حملے کے حوالے سے امریکہ کیا طے کرتا ہے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ دہشت گردی کے نام پر سعودی حکومت ‘ سعودی عوام ‘ سعودی روایات اور مسلم دنیا کے خلاف کیا رویہ اختیار کرتا ہے ؟ انھی سوالوں کے معلوم جواب میں مجہول مستقبل کے خدوخال نظر آتے ہیں ۔