مضامین کی فہرست


جنوری ۲۰۱۵

سانحۂ پشاورایسا الم ناک اور اندوہناک سانحہ ہے جس سے پوری قوم سوگوار ہے۔اتنے دن گزرنے کے بعد بھی کسی کو یقین نہیں آرہا کہ کلیوں کو ایسے مسلا جا سکتا ہے، پھولوں کو ایسے روندا جاسکتا ہے۔ ورسک روڈ پر واقع پاک فوج کے زیرانتظام اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے ۱۳۴بچوں سمیت ۱۴۴؍افراد شہیدکو کیا ،۱۲۰ سے زائد زخمی ہوئے۔ اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی حملے میں شہید ہوئیں۔ قطار میں کھڑے کیے گئے بچے زورزور سے لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا ورد کرتے اور اللہ کے واسطے دیتے رہے، آسمان کی طرف دیکھتے فریاد کرتے رہے اور ہاتھ جوڑتے رہے لیکن انھیں معاف نہیں کیا گیا۔سب سے پہلی گولی اسلامیات کے استاد کو لگی۔ پھول جیسے بچے جن میں سے بعض قرآن کریم کے حافظ تھے۔ ان معصوم بچوں کے چہرے دیکھ کریوں محسوس ہورہا تھا جیسے یہ معصوم فرشتے ہیں جنھیں سفید کپڑوں میں لپیٹ کر مٹی کے حوالے کیا جارہا ہے۔ میں نے خود کئی بچوں کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس دوران یوں محسوس ہوا جیسے میرے اپنے بچے سامنے پڑے ہیں۔

قومی المیے کا تقاضا

حالیہ تاریخ میں بدامنی سے سب سے زیادہ نقصان پشاور شہر کو پہنچاہے۔ گذشتہ تین عشروں سے اس کے گلی کوچوں اور گلیوں بازاروں میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔سابق سوویت یونین گرم پانیوں تک پہنچنے کے لیے افغانستان پر حملہ آور ہوا تولاکھوں افغان مہاجرین نے ادھرکا رُخ کیا۔ افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کا بدلہ روسی ایجنٹوں نے پشاور سے لیا اور اس کے معصوم شہری انتقام کا نشانہ بنے۔ امریکا، ناٹو فوجوں کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوا تو اس کا بھی سب سے زیادہ نقصان پشاور کو ہوا۔ یہاں کے شہریوں نے کئی بار انسانی چیتھڑوں کو دیواروں، درختوں اور شاخوں پر دیکھاہے۔ یہ کبھی پھولوں کا شہر تھا،لیکن گذ شتہ تین عشروں سے افغانستان میں استعماری قوتوں کی مسلط کردہ جنگوں کی وجہ سے اس کے چوک، چوراہے اور گلیاں اور بازار خون رنگ ہوگئے ہیں۔ پاک افغان بین الاقوامی سرحد کے آرپار گذشتہ تین عشروں میں اتنا بارود اور ایسے خطرناک ہتھیار استعمال ہوئے ہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سینیر ڈاکٹروں کے ایک گروپ کاریسرچ کے بعد کہناہے کہ: ’’اس علاقے میں بعض ایسی بیماریاں اور علامات مریضوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں جو ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کے استعمال کے بعد دیکھنے کو ملتی تھیں۔ یہاں کی زمین اورپہاڑوں کے پتھروں، درختوں اورپانی کے چشموں نے جنگی ہتھیاروں کا اتنا زہریلا مواد جذب کیا ہے کہ آیندہ ۳۰۰سال تک اس کے اثرات رہیں گے‘‘۔ یہ اتنا بڑا انسانی المیہ ہے جو اب تک نظروں سے پوشیدہ ہے اور کوئی اس پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

آرمی پبلک اسکول جہاں یہ قیامت ٹوٹی،پشاور کے حساس ترین علاقے میں واقع ہے۔ وہاں سے چند گز کے فاصلے پر سرکاری دفاتر ہیں، گورنر ہاوس، وزیر اعلیٰ ہاوس اور سیکرٹریٹ ہے۔ وہاں بغیر کسی رکاوٹ کے دہشت گردوں کے پہنچ جانے اور بڑے پیمانے پر بے گناہ بچوں کے  قتلِ عام نے عوام الناس کے ذہنوں میں بے شمار سوالات پیدا کیے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اوران کے بے شمار ادارے حادثات کے بعد توچند دنوں کے لیے متحرک ہوتے ہیں لیکن ایسے حادثات کا قبل از وقت اِدراک کرنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں؟ سانحے کے اگلے دن وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پشاور میں پارلیمانی پارٹیوں کا سربراہی اجلاس بلایا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مل کر پشاور کا دورہ کیا، ایک جگہ سرجوڑ کر بیٹھے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ حالات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ ذاتی اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سب ایک ہوجائیں۔ اگر اس موقعے پر بھی سیاسی قیادت ایک نہ ہوتی تو پھرکبھی آپس میں مل بیٹھنا ممکن نہ ہوتا۔

قصاص میں زندگی ھے!

سربراہی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے قیام امن اور ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ہماری طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ ملک میں استحکام اورقیام امن کے لیے عدل و انصاف کی حکمرانی ضروری ہے۔ قصاص اللہ کا حکم ہے مگر یورپی یونین کے دبائو کی وجہ سے اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ آئین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن عملی طور پر اس سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ اسے عملاً نافذ اور حدود اللہ پر عمل درآمد کیاجانا چاہیے، اوریہ مناسب موقع ہے کہ آئین کی جن اسلامی دفعات کوعملی طور پر معطل کیا گیا ہے، انھیں بحال کیا جائے۔ ہماری تجاویز کا تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے خیرمقدم کیا۔ قانون نافذ کرنے میں کسی قسم کے بیرونی دبائو کو یکسر مسترد کر دینا چاہیے۔قصاص اللہ تعالی کا حکم ہے اورقرآن مجید میں اسے زندگی قرار دیا گیا ہے:

وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرہ ۲:۱۷۹)عقل و خرد رکھنے والو!تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے اُمید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے ۔

جب کوئی قتل کا مرتکب ہوتا ہے اورجرم ثابت ہوجاتا ہے تو صدر پاکستان ، ریاست اورحکومت کویہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ سزا کو معاف کر دے یا اس پر عمل درآمد نہ کرے۔ قاتل کو معاف کرنے کا حق وارث کاہے ،ریاست یا اس کے سربراہ کا نہیں۔ حکومت صلح کی کوشش کرواسکتی ہے لیکن اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں یورپ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے حدوداللہ کو معطل کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ پاکستان میں جب حدود اللہ کے نفاذ کی بات ہوتی ہے تو یورپ سے متاثر بعض عناصراس پر واویلا کرتے ہیں کہ ملک کو اسلامی شریعت کے نفاذ کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ ایسے تمام عناصر کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس کی منزل اسلامی نظام ہی ہے۔ مسلمانان پاکستان کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی نظام قابلِ قبول نہیںہے۔ اسلامی نظام سے ہی ملک کو خوش حالی و ترقی نصیب ہوگی۔ اسلامی پاکستان بنے گا تو امن آئے گا،رزق میں کشادگی ہو گی اورقوم کے اندر وحدت پیدا ہوگی۔

دھشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی

اس اجلاس میں ہم نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اگر پورے اخلاص کے ساتھ ۲۰۱۵ء کو امن کا سال قرار دیتے ہوئے سیاسی قیادت اور قوم اس کے لیے یکسو ہو جائیں تو امن کو واپس لایا جا سکتا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر وزیراعظم کو قیام امن کے لیے اعتماد اور مینڈیٹ دیا گیا۔اب یہ وزیراعظم اور حکومت کا امتحان ہے کہ وہ آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ایسا جائز راستہ اختیار کرے کہ اس کے نتیجے میں   امن یقینی ہوجائے۔ حکومت کا اولین کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنی قوم ،اپنے بچوں اورمائوں بہنوں کو تحفظ دے۔ یہ ذمہ داری مرکزی حکومت کی بھی ہے اور خیبرپختونخوا حکومت کی بھی ۔ اپنے بچوں کو تحفظ فراہم نہ کرپانا، کسی ایک حکومت یا ادارے کی نہیں ، سب کی اجتماعی ناکامی ہے ۔ پوری قوم کی نظریں اس وقت وفاقی حکومت پر ہیں۔ وہ بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ حکومت اور اس کے ادارے اپنی کمزوریوں اور غلطیوںکا جائزہ لیں اور ان کے ازالے کی فوری کوشش کریں تاکہ آیندہ اس طرح کا کوئی روح فرسا واقعہ نہ ہو۔ ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ ہر سانحے اور حادثے کے بعد کچھ عرصے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اورادارے متحرک ہو جاتے ہیں لیکن پھرسانحے کو بھلا دیا جاتا ہے اور معمول کی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ سانحات اور حادثات کے تدارک کے لیے جامع لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے اور قیام امن کے لیے امریکا اور یورپ کے بجاے اللہ تعالی اور اپنی قوم اور آئین و قانون کی طرف دیکھنا چاہیے۔

اس اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے بعد حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی بنانے کا اعلان کیا ہے،اور اس کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں پارلیمنٹ میں موجود ہر پارٹی سے ایک ممبر لیا گیاہے۔ جماعت اسلامی کی نمایندگی قومی اسمبلی میں اس کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز کمیٹی میں پیش کی ہیں۔ہمارے خیال میں اس واقعے کی وجہ سے چند نمایشی اور وقتی اقدامات کے بجاے پورے سسٹم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس کا مقابلہ یک رُخی حکمت عملی سے نہ ہوگا بلکہ اس کے لیے کثیرجہتی حکمت عملی درکار ہے۔ قوت کا استعمال کرتے ہوئے مختلف پہلوئوں کو سامنے رکھا جائے۔

حدود کا نفاذ حکومت کی ذمہ داری

مسلمانوں کو قتل کرنا کافروں کا کام ہے۔ حجۃ الوداع کے موقعے پر حضور نبی کریمؐ نے فرمایا کہ دیکھو میرے بعد کافروں کی طرح نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔ ایک اور حدیث میں آنحضوؐرنے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی نے ایک انسان کو قتل کرنے کے لیے اُقتل پورا نہیں کہا، صرف اُق کہہ کر ارادہ کیا اورابھی بات مکمل نہیں کی تو وہ بھی قتل میں شریک ہے ۔نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلوار یا تیر لے کر مسلمان کی طرف اشارہ نہ کرو، اس سے بھی اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے مروی حدیث میں آپؐنے فرمایاکہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور حقیقت میں مہاجر وہ ہے جو ان باتوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔کسی انسان کا قتل آنحضوؐر کو اتنا ناپسند تھا کہ جب ایک جنگ کے دوران بھی صحابی نے کلمہ پڑھ لینے والے دشمن کو قتل کیاتو آپؐ نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور صحابی کو بلا کر پوچھا کہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا تواسے قتل کیوں کیا؟ صحابی نے جواب دیا کہ حضوؐر اس نے توخوف کی وجہ سے کلمہ پڑھا تھا تو نبی مہربانؐ نے فرمایا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔ حضور نبی کریمؐ نے جنگ کے بھی آداب سکھائے اور اس کے اصول متعین فرمائے کہ خواتین ، بچوںاور بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھانا ،پودوںاور فصلوں کو تباہ نہ کرنا، عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچانا، دشمن کی لاش کا مثلہ نہ کرنا، کسی کی شکل کو نہ بگاڑنا۔

اصولی طور پر کسی ریاست کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے کا حق کسی فرد یا کسی جماعت اور گروہ کو نہیں ہے، یہ ریاست اور حکومت کا کام ہے۔ اسی طرح حدود جاری اور تعزیرات قائم کرنابھی ریاست اور حکومت کے ذمے ہے۔کوئی فرد یا گروہ کسی چور کو پکڑ کر اس کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتا۔ اس راستے پر چلنے کے نتیجے میں معاشرے میں انتقامی جذبات پروان چڑھتے ہیں اور پورا معاشرہ فساد کا شکار ہوجاتا ہے۔ برائی دیکھ کر ہاتھ سے منع کرنے کا حکم بھی حکومت کے لیے ہے۔جو حکومت میں نہیں ہے اور جس کی ذمہ داری نہیں ہے اس کا کام دعوت دینا ہے، افہام و تفہیم کے ذریعے منع کرنا ہے، اوراگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل میں نفرت اور ناگواری کا اظہار کرنا ہے۔ ایک انسانی معاشرے میں ریاست کا کام ریاست کو کرنا ہے اوربحیثیت فرد ایک مسلمان کو اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنا فرض ادا کرنا ہے ۔ اگر کسی تنظیم اور گروہ نے من مانی کرتے ہوئے ازخود اپنے آپ کو قاضی کے منصب پر فائز کر لیا اوراپنی عدالتیں لگا کر سزائیں دینا شروع کر دیں، تو اس سے معاشرے میں فساد برپا ہوجائے گا اورہر چوک اور چوراہے اور ہر گلی اور بازارمیں خون خرابہ ہوگا اور پورا ملک دار الفساد بن جائے گا۔

استعماری سازشیں اور ھدف

جنگ عظیم اول کے بعد عالمِ اسلام کو استعماری طاقتوں نے تقسیم در تقسیم کیا ،اور برطانیہ ، فرانس، اٹلی اوردیگر ممالک نے مسلم ممالک پر قبضے کیے۔ فرانس اور برطانیہ نے ۱۹۱۷ء میں اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی اور خطے کی تقسیم کے نتیجے میں آزاد مسلم ممالک وجود میں آئے۔ اس تقسیم کا مقصد آزاد مسلم ممالک کے درمیان خانہ جنگی کروانا اور ان کی معدنیات پر ہاتھ صاف کرنا تھا۔  خزانے لوٹ کر اپنے ممالک میں پہنچائے گئے۔ جب مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو ہر خطے میں ایسے لوگ اٹھے جنھوں نے ان استعماری طاقتوںکے خلاف طویل جدوجہد کرکے آزادی کی شمعوں کو روشن اور خوابیدہ مسلمانوں کو بیدارکیا۔پاکستان سے لیبیا تک آزاد ممالک وجود میں آگئے۔ اقوام متحدہ کے نقشے پر جگہ جگہ مسلم ریاستیں نمودار ہوئیں اور انھوں نے وحدت و ترقی کا سفر شروع کیا۔ ان ریاستوں میں قدرت کے عنایت کردہ پوشیدہ ذخائر تھے۔ تیل کے سمندر اور سونے وہیرے جواہرات کے ذخائر دریافت ہوئے۔

ترقی و خوش حالی کی طرف مسلمانوں کا گلوبل مارچ شروع ہوا تو سامراجی قوتوں نے پہلا وار پاکستان پر کرکے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنادیا۔ عراق، جہاں کی فوج اور کرنسی دونوں مضبوط تھیں، اسے پہلے ایران اور پھر کویت سے لڑا یااورپھر اس پر براہ راست حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، اورکارپٹ بمباری کے ذریعے وہاں کی فوج کو منتشر اور وحدت کو پارہ پارہ کیا۔عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دی اور شیعہ سُنّی فسادات شروع کروا کر ملک کو تقسیم کر دیا۔ افغانستان نے روسیوں کے خلاف طویل جہاد میں ۱۵لاکھ شہدا کی قربانی دے کر آزادی حاصل کی، مگر ابھی شہدا کا خون خشک نہیں ہوا تھا اورافغان قوم نے آزادی کی بہار نہیں دیکھی تھی کہ اس پر بھی ۵۲-بی بم بار طیاروں سے بمباری ہوئی اور ۴۶ممالک کی فوجوں نے امریکی قیادت میں افغانستان کو قبرستان بنادیا۔ لیبیا میں براہ راست کارروائی کرکے وہاں نظام کو درہم برہم کیا گیااور اس وقت وہاں پر مسلح تنظیمیں ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہی ہیں۔ شام میں لاکھوں مسلمان شہید کر دیے گئے اور تباہی کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ ہر طرف یہی استعماری قوتیں مدد دے رہی ہیں اوران کی سازشوں سے اس وقت تقریباً اسلامی ممالک میں باہمی جنگیں جاری ہیں۔

عالمی استعماری قوتیں ہمیشہ سے اسلامی ممالک میں جمہوریت کی حوصلہ شکنی کر تی رہی ہیں اور ہر جگہ بادشاہوں اور فوجی آمریت کو سپورٹ کیاہے۔ آمرانہ حکمرانی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مفیدمطلب حکومتوں کو بروے کار لایاگیا ہے۔ جہاں بھی عوام حق راے دہی کے ذریعے اپنے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، وہاں اسے سازشوں کے ذریعے سبوتاژکر دیا جاتا ہے۔ الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ الیکشن میں جیت گیامگر اسے اس لیے تسلیم نہیں کیا گیا کیوں کہ اس کی منزل اسلام تھی۔فوج کے ذریعے وہاں جمہوریت کا گلا دباکر ۸۰ہزار کارکنان کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ فلسطین میں حماس کی جیت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور تبصرہ کیا گیا کہ دو سَروں والا سانپ ہے جس کے ایک سر پر ووٹ ہے اور دوسرے پر گولی۔مصرکو طویل عرصے کے بعد جمہوری حکمران ملا تو اس کے خلاف سازش کی گئی اورفوج کو استعمال کرکے ہزاروں کارکنان کو شہید کرنے کے بعد صدر محمدمرسی کو ہزاروں کارکنان کے ساتھ جیل میں ڈال دیا گیا۔پاکستان میں بھی امریکا اور یورپ نے ہمیشہ فوجی آمریت کی حمایت کی۔ جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کو ترجیح اور جمہوری حکمرانوں کے مقابلے میں فوجی ڈکٹیٹروں کوزیادہ امداد دی۔ کیونکہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں وہ فوائد نہیں لیے جاسکتے جو ڈکٹیٹر سے لیے جا سکتے ہیں۔ جمہوری حکومت، عوام اور اداروں کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے، جب کہ ڈکٹیٹرکی جڑیں عوام میں نہیں ہوتیں اور وہ مغرب کا محتاج ہوتا ہے۔

امریکا اور اس کے مغربی حواری چاہتے ہیں کہ عالمِ اسلام میں جنگ ہواور مسلمان آگے بڑھ کر تعلیم وترقی کے میدان میں ان کا مقابلہ کرنے کے بجاے آپس میں دست و گریباں رہیں اور ایک دوسرے سے لڑکر تباہ ہوتے رہیں۔ اس وقت جہاں جہاں جنگ ہو رہی ہے تو یہ ان کی باقاعدہ طویل منصوبہ بندی کی وجہ سے ہے۔ امریکا اور مغرب کی اسلحہ سازی کی صنعت ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ اسی لیے وہ جنگوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے لیے نئی مارکیٹ تلاش کرتے ہیں۔ جنگ ہوتو ان کی اسلحہ انڈسٹری ترقی پاتی اور زرمبادلہ کماتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس کتاب اور دلیل کی قوت ہے اور مغرب کی جنگی مشینری کا مقابلہ اسی سے کیا جاسکتا ہے ۔ ضروری ہے کہ امریکا و یورپ کی سازش کا شکار ہونے کے بجاے نئی نسل کے ہاتھ میں قلم اور کتاب دی جائے اور لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو آبادکیا جائے۔ مسلمانوں کا شان دار ماضی ان کے شان دار مستقبل کی نوید ہے۔ مغرب کے زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ان کے پاس عدل و انصاف پرمبنی اسلامی نظام ہے۔

راہِ نجات

انسان کی جسمانی و روحانی اور معاشرتی و معاشی اور تہذیبی ضرورتوں کوصرف اسلام ہی پورا کرسکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ کا پسندیدہ نظام اور عدل و انصاف کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

اِعْدِلُوْا قف ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ز وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط (المائدہ۵:۸) عدل کرو،    یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ مومن کو قصداً قتل کرنے والے کی سزا جہنم ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ کا غضب اور لعنت ہے اس پر اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے۔

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُوْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاوُہ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہ وَاَعَدَّ لَہ عَذَابًا عَظِیْمًاo (النساء ۴:۹۳)رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔

بڑے عذاب جہنم کا اعلان اور غضب و لعنت اس لیے ہے کہ اللہ رب العالمین بحیثیت خالق اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے اور جو مخلوق کو نقصان پہنچاتا ہے ، اس پر غضب ناک ہوتا ہے ۔ فرمانِ الٰہی ہے کہ جس نے ایک نفس کو بغیر کسی وجہ کے قتل کیا تو یہ ایسے ہی جیسے اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا ہو، اور جس نے ایک انسان کو بچایا تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے ساری انسانیت کو بچایا :

مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط  وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط (المائدہ۵:۳۲) جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔

قرآن کریم میںبارہا جہنم کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ اس حدیث ِمبارکہ کے مفہوم سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جہنم میں آگ کے بہت بڑے بڑے گڑھے ہیں اور ہر گڑھا بذات خود ایک عذاب ہے لیکن ہر گڑھا اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہے کہ میرے پڑوس میں آگ سے بچا۔ جہنم ایسی جگہ ہے جہاں آگ دوسری آگ سے پناہ مانگتی ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو کائنات میں اپنا خلیفہ بنا کر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اسے کائنات اور اپنے پورے نظام میں وی آئی پی کا درجہ دیا ہے ، توجو بھی اس کو ذلیل اور رُسوا کرتا ہے، اس پر اپنی خدائی مسلط کرنے کی کوشش کرتا اور انھیں اپنا بندہ اور غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے،   اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں فرماتا۔

عزمِ نَو کی ضرورت

ملت اسلامیہ بالعموم اور پاکستانی قوم بالخصوص اس وقت بہت بڑی آزمایش سے دوچار ہے۔ ایک انتہائی افسوس ناک صورت حال کا سامنا ہے۔ قتل و غارت گری کا ایک بازار ہے جو اسلام کے نام پر سجایا گیا ہے ۔ جو ذبح ہو رہا ہے وہ اشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ کا ورد کر رہا ہے اور جس نے اس کے گلے پر چھری رکھی ہے وہ بھی لا الٰہ الا اللّٰہ کا نعرہ لگا رہا ہے۔ اسلام کتنا مظلوم ہو گیا ہے اور دینِ رحمت کو کیسے یرغمال بنا لیا گیا ہے؟ سارے عالم کے لیے سراپارحمت وشفقت نبی کی امت کا آج یہ حال ہو گیا ہے۔ اس چہرے کے ساتھ دنیا کو اسلام کی دعوت کیسے دی جائے گی؟جب بھی پشاور جیسا کوئی سانحہ ہوتا ہے تو ایک مخصوص لابی اسے اسلام اور مذہب کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے حالانکہ مذہب اس سارے معاملے میں بذاتِ خود مظلوم ہے ۔ دین تو نام ہی انسان کے عقیدے اور جان و مال کی حفاظت کا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل اور ایک انسانی جان کے بچانے کو پوری انسانیت کو بچانا قرار دیا ہے۔

سانحۂ پشاور کے بعد ہم نے قوم سے اپیل کی کہ اپنے رب کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں کہ مسلمان پر جب بھی سخت وقت آتا ہے تو وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور دعا و التجا کے ذریعے اس سے رجوع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی چھت نہیں کہ جہاں پناہ لی جائے۔ مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ خوشی کے لمحے میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اورتکلیف کے لمحے میں صبراور دعا کرتا ہے۔ پوری قوم دعا گو ہے کہ ان بچوں کی شہادتوں کے بدلے اللہ تعالیٰ وطن عزیزکو امن کا تحفہ اورسکون کی نعمت عطا فرمائے ۔

بحیثیت مسلمان اور بحیثیت قوم ہمیں ایک طویل جدوجہد درپیش ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک کارکن کے طور پر ہمیں آبادی کے ۵۰ فی صد سے زائدنوجوان نسل کو اسلام کا حقیقی پیغام دینا ہے اور اسے منظم کرنا ہے۔ شرح تعلیم میں اضافہ کرنا ہے اور سکول اور کالجوں کے علاوہ مساجد کو بھی عبادت کے ساتھ تعلیم کا مرکز بنانا ہے۔ رنگ ، نسل، علاقے، زبان اور مسلک کی بنیاد پر اختلافات ختم کرکے اپنی قوم کو ایک امت بنانا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے دل پر دستک دی جائے اور اسے ذہن نشین کرایا جائے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے۔ اس نظام سے بے وفائی کے نتیجے میں ہم آدھا ملک کھو چکے ہیں اور باقی ماندہ ملک خطرات سے دوچار ہے۔

ملک اور قوم کو بحران سے نکالنے اور تحریک پاکستان کا وعدہ ایفا کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے اسلامی پاکستان کی جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ ہماری منزل ایک خوش حال    اور ترقی یافتہ پاکستان ہے، اور یہ اسلامی پاکستان ہی سے ممکن ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ملک  کے مؤثر ادارے اور مراعات یافتہ طبقے موجودہ صورتِ حال اور اسٹیٹس کو کے ساتھ ہیں اور سیاست و جمہوریت اور ریاست و حکومت کو انھوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ بنک غریبوں کا استحصال کرکے اسی اسٹیٹس کو ،کو آکسیجن مہیا کرتا ہے،اور نام نہاد آزاد میڈیا اسی کو مسلط رکھنے میں پیش پیش ہے مگرہمیں اپنے رحمان و رحیم رب کے اس وعدے پر کامل یقین ہے:

وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَـنَہْدِیَنَّہُمْ سُـبُلَنَا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِـنِیْنَ o (العنکبوت۲۹:۶۹) جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انھیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقینا اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے ۔

پاکستان کی تاریخ میں ۱۶دسمبر ۲۰۱۴ء ایک تاریک ترین دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن دہشت گردوں کے ہاتھوں ۱۳۴ ؍اسکول کے معصوم بچوں کا سفاکانہ قتل ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس نے نہ صرف ہرپاکستانی بلکہ دنیا کے ہردردمند دل کو خون کے آنسو رُلا دیا ہے۔ عملے کے ۱۰؍افراد بھی شہید ہوئے اور ۱۲۰ سے زائد زخمی ہوئے۔اس سفاکی پر جتنا بھی احتجاج کیا جائے وہ  کم ہے۔ ایسے سانحے قوموں کو ان کے خوابِ غفلت سے بیدار کردیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قوم اس امتحان اور آزمایش کا مقابلہ کس طرح کرتی ہے اور آیندہ ایسے واقعات کی پیش بندی کے لیے کیا اقدامات اُٹھاتی ہے۔

پاکستانی صحافت، دانش ور، کالم نگار، ایک عام شہری بلکہ جہاں کہیں بھی دو افراد چند لمحات کے لیے مل بیٹھتے ہیں اس واقعے پر تبصرہ کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ ایک چیز جو ان گفتگوئوں میں مشترک نظر آتی ہے وہ ان سفاک افراد کے بارے میں یہ راے کہ ایسے گھنائونے کام کے کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ یہ لازماً سرحدپار سے آنے والے وہ افراد تھے جو پاکستان میں عدم استحکام، عدم تحفظ اور عالمی تناظر میں پاکستان کی معاشی ساکھ اور ترقی کو مجروح کرنے اور پاکستان میں کسی بیرونی سرمایے سے تجارتی فروغ کے دروازے بندکرنے کے خواہش مند تھے۔ اس لیے نہ صرف  یہ کہ یہ مسلمان نہیں ہوسکتے بلکہ یہ پاکستانی بھی نہیں ہوسکتے۔ پھر یہ کون تھے؟ کیوں آئے اور انھیں اندر کیوں آنے دیاگیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر شہری کو پریشان کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلی بات بڑی واضح ہے کہ سانحۂ پشاور کو پاکستان میں دہشت گردی کا تنہا واقعہ نہیں کہا جاسکتا۔ جنرل ضیاء الحق کی اندرونِ ملک پالیسی نے سندھ میں ایک دینی جماعت کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے جس لسانی تحریک کو آنکھیں بند کر کے پنپنے کا موقع دیا اور جس کے ہمسایہ ممالک کے حساس اداروں سے روابط سے پردہ اُٹھانے پر صلاح الدین مدیر تکبیر کو شہید کیا گیا، اور پھر ٹارچر سیل قائم کر کے معصوم نوجوانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ یہ سب ہمارے ماضی کا حصہ ہیں۔   نہ صرف سندھ، بلوچستان میںسیکڑوں افراد کا اغوا اور قتل مختلف عنوانات کے تحت ہوتا رہا، بلکہ بلوچستان میں مسلکی منافرت پھیلانے کے لیے بڑی تعداد میں ہزارہ شیعہ فرقے کے افراد کی شہادت اسی سرگزشت کا ایک باب ہے۔ ملک کے ہر صوبے میں تھوڑے عرصے کے بعد کبھی کسی دیوبندی یا بریلوی عالم یا عسکری جماعت کے اہم فرد کا قتل، کبھی شیعہ عالم پر حملہ اور قتل کیا جانا،  کبھی کسی سیاسی شخصیت کا قتل کیا جانا، یہ سب واقعات ایک تسلسل کے ساتھ گذشتہ ۳۰سال سے     دن دہاڑے ہوتے رہے ہیں۔ انتظامیہ ہو یا نام نہاد سول سوسائٹی کی جانب سے اس پر سواے  ایک وقتی ردعمل کے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جو مسئلے کی جڑ کو تلاش کرنے کے بعد اس کا جڑ سے خاتمہ کرے۔ اس کی جگہ صرف ایک بات تسلسل سے کہی گئی کہ اس تمام قتل و غارت کی بنیاد ’مذہب‘ یا دینی مدارس ہیں۔ اس لیے دینی مدارس کو ختم کیا جائے اور ملک سے مذہب کے اثرات کو دُور    کیا جائے تاکہ یہاں ’روشن خیالی‘ اور لادینیت کا فروغ ہوسکے۔ اس فکر کو آگے بڑھانے میں ہمارے ابلاغی ذرائع خصوصاً برقی ابلاغی ذرائع نے بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ ابلاغ عامہ نے ایک جانب تو ایسے تمام واقعات کو بنیاد بناکر ’مذہبی‘ افراد اور دینی مدارس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے،  اور دوسری جانب دہشت گردی اورقتل و غارت گری کو مسلسل دکھا کر لوگوں کے دل و دماغ کو  دہشت گردی کے مناظر کا عادی بنادیا کہ کسی شہر میں ۱۰،۲۰؍افراد کا قتل ہوجانا، حتیٰ کہ بعض افراد کا زندہ جلادیا جانا بھی ان نام نہاد سول سوسائٹی کے ارکان کو جگانے میں ناکام رہا ہے۔

لیکن ۱۳۴ معصوم بچوں کے خون نے، اس سے قطع نظر کہ ان کے والدین کا تعلق فوج سے تھا یا نہیں، قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور جس سول سوسائٹی کے اصرار نے اسلامی شریعت سے انحراف کرتے ہوئے پاکستان میں قتل کی سزا کو منسوخ کر انے میں بنیادی کردار ادا کیا، آج وہی سول سوسائٹی اس سانحے کے بعد اس کے ذمہ داروں اور دیگر دہشت گردوں کے لیے سزاے موت کے نفاذ کی حمایت کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ اسلام کے نظامِ عدل میں جو احکامات خالق کائنات نے انسانوں کے معاشرے میں امن برقرار رکھنے کے لیے دیے وہ ابدی حیثیت رکھتے ہیں اور آخر انسان ٹھوکریں کھاکر ان کی طرف پلٹتا ہے۔

خوداحتسابی کی ضرورت ہے، الزام تراشی کی نہیں۔ اس سانحے میں فوج کے محفوظ مقام تک آنے کے لیے کئی سیکورٹی چیک پوسٹ عبور کیے گئے ہوں گے۔ مجرم دندناتے ہوئے آئے اور قتل و غارت گری کرگئے، اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

سانحۂ پشاور کو اگر گذشتہ ۳۰سال کے تناظر میں دیکھا جائے تو جن تنظیموں سے وابستہ یا ماضی میں ان سے وابستہ اور اب خود آزاد وجود کی حامل تنظیموں نے ملک میں بدامنی اور انتشار کی فضا پیدا کی ہے۔ ان کے وجود میں آنے کی تاریخ پر بھی تنقیدی نگاہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا کرایے پر کام کروانے کے لیے تنظیموں کا بنانا بجاے خود ایک اخلاقی، دستوری اور شریعت کے نقطۂ نظر سے مباح فعل ہے؟ یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ اسلام کے ابدی قانون اور پیغام میں قتلِ ناحق کو چاہے وہ صرف ایک انسان کا ہو، تمام انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیا اسلامی شریعت میں کہیں بھی اس بات کی گنجایش پائی جاتی ہے کہ عورتوں، بچوں اور ضعیفوں کو چاہے وہ غیرمسلم ہی کیوں نہ ہوں، سفاکانہ قتل کا نشانہ بنایا جائے؟ کیا نبی رحمتؐ نے کسی موقعے پر ایسے فعل کو جائز قرار دیا؟ کیا خلفاے راشدین نے بچوں، عورتوں اور معمر افراد کے قتل پر آنکھیں بند رکھیں؟ اگر یہ تاریخی حقیقت ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی قرآن و سنت اور خلفاے راشدین کی پیروی کا دعویٰ بھی کرے اور قرآن وسنت کے واضح احکام کو پامال بھی کرے۔

پھر مسئلے کا حل کیا ہو؟ کیا چھاپہ ماروں کو مروجہ عسکری طریقوں سے کیفرکردار تک پہنچایا جاسکتا ہے؟ کیا دنیا کے دیگر مقامات پر چھاپہ مار تنظیموں کو روایتی فوجی کارروائی سے ختم کیا جاسکا؟ اس کے ساتھ اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا مسلح ماردھاڑ کرنے والوں کے وجود میں آنے کا سبب ان کی نام نہاد مذہبی شدت پسندی ہے یا وہ پیشہ ورانہ دہشت گرد ہیں جنھیں سرحدپار سے اسلحہ ، مالی امداد اور تربیت دے کر پاکستان کو غیرمستحکم رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً یہ بات قومی اخبارات میں آتی رہی ہے کہ بھارتی ساخت کا اسلحہ ملک کے مختلف حصوں میں پکڑا گیا ہے۔ یہ بات بھی بار بار سامنے آتی رہی ہے کہ افغان سرحد اس کام کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ اگر یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے تو پھر اس دہشت گردی کا الزام ’مذہب‘ کے سر تھونپنا ایک گھنائونی سازش ہے۔

اس فتنے سے نکلنے کے لیے ایک سہ رُخی قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے:

اوّلاً: ملک کے نظامِ تعلیم میں سوشل اسٹڈیز، اُردو اور انگریزی زبان کے نصابات میں ایسے موضوعات پر مؤثر تحریرات کی شمولیت جو اسلام کے نظامِ عدل، حقوقِ انسانی اور خصوصاً حقوقِ نسواں، معاشی عدل، معاشرتی اداروں خصوصاً خاندان کا تحفظ اور خاندانی اقدار پر مبنی ہوں۔ ان تحریروں کو پہلی جماعت سے بارھویں جماعت تک سرکاری اور غیرسرکاری اسکولوں میں لازمی مضمون کے طور پر نہ صرف پڑھایا جائے، بلکہ طلبا اور طالبات کو الگ الگ ایسی سرگرمیوں میںمشغول کیا جائے جہاں وہ ان تعلیمات پر عمل کرسکیں۔ غریبوں، بے آسرا افراد، بیماروں اور مصیبت زدہ افراد کی مدد کرنے کے ذریعے اسلامی تعلیمات پر عمل کرسکیں۔

ثانیاً: جو نوجوان انتہاپسند عسکری تنظیموں کے زیراثر یہ سوچنے پر آمادہ ہوگئے ہیں کہ جو کچھ انھیں ’جہاد‘ کے نام پر سمجھایا گیا ہے صرف وہی اسلام ہے، انھیں براہِ راست قرآن وسنت سے روشناس کراتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے جامع تصور سے آگاہ کرنا اوراس بات کو یقینی بنانا کہ لازمی طور پر افضل جہاد وہی ہے جسے قرآن کریم نے نفس اور مال کے ساتھ جہاد کہا ہے، لیکن    اس افضل جہاد سے قبل جس اہتمام اور تیاری کی ضرورت ہے کیا اس کے بغیر جو، جب اور جہاں چاہے اور جس طرح چاہے جہاد کرسکتا ہے؟ یہ کام علماے کرام کا ہے کہ وہ بغیر کسی معذرت اور مداہنت کے قرآن و سنت کے واضح احکام کو ان کے صحیح تناظر میں پیش کریں اور نوجوانوں کو اپنے موقف پر نظرثانی کا موقع فراہم کریں۔

کوئی بھی نظریاتی گروہ محض قوت کے استعمال سے ختم نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صحیح نظری شکل کو پیش کیا جائے اور ایک کھلے مکالمے کے ذریعے ذہنوں کے زاویوں کو بدلا جائے۔ یہ عمل صبر طلب ہے۔ یہ عمل قرآن و سنت کے جادۂ عدل و اعتدال کو براہِ راست پیش کرنے کا عمل ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کلامِ عزیز انسانوں کے قلب و دماغ کو تبدل کرنے کی اعلیٰ ترین صلاحیت رکھتا ہے۔

ثالثاً: معاشرے اور ملک سے استحصال، اقرباپروری، پارٹی کی بندگی، معاشی ظلم، اخلاقی زوال اور گھنائونی حد تک بداخلاقی کے رواج میں ابلاغ عامہ جو کردار ادا کر رہے ہیں اس کی اصلاح ریاستی، معاشرتی اور انفرادی، ہرسطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔ ابلاغِ عامہ کا کام نہ صرف صحت مند انداز میں کمزوریوں کی نشان دہی ہے بلکہ ان کے حل کی طرف اُمیدافزا انداز میں راہ دکھانا بھی شامل ہے۔ اگر ایک عام شہری کو عدالتوں سے عدل نہ ملے ، ہسپتالوں میں دوا نہ ملے، تجارتی اداروں میں ملازمت نہ ملے، اور گھراور معاشرے میں ہرجگہ فحاشی، استحصال اور ظلم کا دور دورہ ہو، تو اس کا موجودہ نظام کے خلاف کھڑے ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔

اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ مغربی ممالک کے زیراثر ان کے مفادات کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ لینے کی بھی اصلاح کی جائے، اور اپنے قومی مفاد کو مغربی سامراجی طاقتوں کے مفادات سے الگ کر کے ترجیحات میں تبدیلی کی جائے۔ زوال کی کم تر حد تک پہنچ جانے کے باوجود آج بھی اس ملک اور قوم پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے جو انعامات ہیں وہ اَن گنت ہیں۔ اس نے ہمیں چاروں موسم دیے ہیں اور ان کے لحاظ سے پھل، میوے اور ہرقسم کی غذائیں دی ہیں، معدنیات دی ہیں، ایسے افراد دیے ہیں جو اس گری ہوئی حالت میں بھی دنیا میں سب سے زیادہ اللہ کے نام پر خیرات کرتے ہیں اور پاکستان تمام دنیامیں سب سے زیادہ خیراتی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرنے والی قوم ہے۔ ان تمام اچھی خصوصیات کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مثبت فکر کے ساتھ قوم کی تعمیرنو کے لیے قرآن و سنت کے راستے کو اختیار کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری فلاح ہے، اسی میں ہمارا مستقبل ہے، اسی میں ہمارا اتحاد اور بقا ہے۔

ان مثبت اقدامات کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے گھنائونے جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق قرارواقعی سزا ملے۔ سیاسی جماعتوں کا معاشرے میں جرم، ناانصافی، قتل و غارت گری کو برداشت کرنا ہی بگاڑ اور تباہی کا اصل سبب ہے۔ جس معاشرے میں ظلم اور جرم دونوں کا تدارک نہیں کیا جاتاوہ تباہی سے نہیں بچ سکتا۔

اس سانحے کے پیش نظر فوری او ردیرپا اقدامات کی ضرورت ہے۔ پورا نقشۂ کار بننا چاہیے اور اس کے مطابق اقدامات اُٹھانے چاہییں۔ ہزاروں میل کا فاصلہ پہلے قدم سے ہی طے ہوتا ہے۔ منزل کے تعین کے بغیر جو قدم اُٹھے گا وہ بے سمت ہوگا۔

بلوچستان میں مسلکی بنیاد پر ہزارہ شیعوں کی تعداد ہزاروں کے بجاے سیکڑوں میں لکھی جائے۔

سورئہ مدثر بھی سورئہ مزمل کی طرح ابتدائی دور کی سورۃ ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سورئہ مزمل کے نزول کے بعد جتنی زیادہ سخت کش مکش تھی خود اس سے زیادہ سخت کش مکش سورئہ مدثر کے نزول کے وقت تھی۔ اگرچہ زمانے کا فرق کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت     جب شروع ہوئی ہے اور آپ نے لوگوں کو ہانکے پکارے دین کی طرف بلانا شروع کیا تو ہرروز بُغض و عداوت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کے بڑھنے ، ترقی کرنے اور شدت اختیار کرنے میں ہفتے بھی نہیں لگتے۔ ایک دن کچھ سختی ہے اور دوسرے دن کچھ اور۔ اسی زمانے میں سورئہ مزمل نازل ہوئی جس میں ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تربیت کا کورس بتایا گیا کہ ان کی عداوت کا مقابلہ تم کس طرح سے کرو۔ اسی زمانے میں سورئہ مدثر بھی نازل ہوئی۔

احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ راستے سے گزر رہے تھے کہ یکایک آپؐ کی نگاہ کسی چیز کی آہٹ محسوس کر کے آسمان کی طرف اُٹھی۔ آپؐ  فرماتے ہیں کہ وہی جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا وہی آسمان کے اُوپر چھایا ہوا نظر آیا (حضرت جبریل ؑ)۔ اس نظارے کو دیکھ کر مجھ پر اس قدر ہول طاری ہوا کہ میں سیدھا گھر گیا اور میں نے جاکر کہا: مجھے اُوڑھا دو، مجھے اُوڑھا دو۔ اس حالت میں، جب کہ آپ اُوڑھے لپٹے لیٹے ہوئے تھے تو سورئہ مدثر نازل ہوئی۔

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی دور کی سورہ ہے۔ آگے چل کر آپؐ  کا تحمل بہت بڑھ گیا تھا۔ وہ مناظر جن کو ابتدا میں دیکھ کر آپؐ  پر ہول کی کیفیت طاری ہوگئی تھی، اب وہ کیفیت ختم ہوگئی تھی۔ ابتدائی دور میں بالکل نیا نیا تجربہ تھا اور وہ مناظر دیکھنے میں آرہے تھے جو کبھی چشمِ تصور میں بھی نہ دیکھے ہوں گے۔ اس وجہ سے اس زمانے میں آپ پر ہول کی کیفیت طاری ہوگئی۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یٰٓاََیُّھَا الْمُدَّثِّرُ o قُمْ فَاَنْذِرْ o وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ o وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ o وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ o وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ o وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ o  (المدثر ۷۴:۱-۷) اے اُوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اُٹھو اور خبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور گندگی سے دُور رہو۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔

رب کی کبریائی کا اعلان

دثار عربی زبان میں ان کپڑوں کو کہتے ہیں جو اُوپر سے اُوڑھے جائیں ، جیسے کوئی چادر، لحاف یا کمبل کو اُوڑھ لیا جائے۔اسی طرح شعار ان کپڑوں کو کہتے ہیں جو جسم سے لگے ہوتے ہیں، جیسے کُرتا پاجامہ آدمی پہنتا ہے۔ مدثر سے مراد یہ ہے کہ آپؐ لحاف یا کمبل اُوڑھے ہوئے تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ اے اُوڑھے لپٹے شخص اُٹھو اور ڈرائو اور متنبہ کرو، یعنی تمھارا کام اب اُوڑھ لپٹ کر لیٹنا نہیں ہے بلکہ تمھارے اُوپر ایک بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ تمھارا کام یہ ہے کہ تم اُٹھو اور خلقِ خدا کو اُس بُرے انجام سے خبردار کرو جس کا انھیں اللہ کی نافرمانی اختیار کرنے، اللہ کے مقابلے میں بغاوت کرنے، اور کفروشرک اختیار کرنے کے نتیجے میں سامنا کرنا ہوگا ،اور جو ان کی غفلت اور خدا سے بغاوت کے نتیجے میں ان پر آنے والا ہے۔ اس انجام سے لوگوں کو خبردار کرو۔ انذار کے قریب قریب وہی معنی ہیں جو انگریزی زبان میں warning کے ہیں، یعنی متنبہ کرنا۔

وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ o (۷۴:۳) اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔

یعنی دنیا میں جتنی ہستیوں کی بڑائی کے اعلانات ہو رہے ہیں، ان کے مقابلے میں لوگ اپنے رب کو بھول گئے ہیں۔ کوئی لات کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے، کوئی ہبل کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے، کوئی قیصر کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے اور کوئی کسریٰ کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے۔ ان ساری بڑائیوں کے مقابلے میں تم اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرو۔

دوسرے الفاظ میں تیرے رب کے سوا جن جن کی بڑائیاں بیان کی جارہی ہیں ان سب کی بڑائی کی نفی کرو۔ اور یہ بیان کرو کہ اصل بڑائی میرے رب کی ہے، خواہ ستاروں اور سیاروں کی بڑائی بیان کی جارہی ہو، یا جنوں اور شیاطین کی بڑائی بیان کی جارہی ہو، یا انسانوں کی بڑائی بیان کی جارہی ہو، اور انسانوں میں انبیا ؑ اور اولیا کی بڑائی بیان کی جارہی ہو یا کسی اور کی۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس بات کا اعلان کرو کہ کوئی بڑا نہیں ہے صرف ایک تیرا رب بڑا ہے۔

پاک دامنی کی ھدایت

وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ o(۷۴:۴) اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔

اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ اپنے کپڑے پاک رکھو لیکن ہم اُردو زبان میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص پاک دامن ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے دامن پر کوئی گندگی لگی ہوئی نہیں ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اخلاق نہایت پاکیزہ ہیں۔ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ میں دونوں مفہوم شامل ہیں، یعنی اپنے لباس کو بھی پاکیزہ رکھو، اور اپنے اخلاق اور اپنی زندگی کو بھی پاکیزہ رکھو۔ ایک بھی دھبہ تمھارے دامن پر نہیں ہونا چاہیے، بے داغ کردار ہو۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن پر کوئی دھبہ نہیں تھا اور نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاک تھی لیکن ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور زیادہ پاکیزگی اختیار کرنی چاہیے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جتنے پاک دامن تم پہلے تھے اس سے زیادہ پاک دامن بن کر رہو، تاکہ کوئی شخص بھی اس بات کی   نشان دہی نہ کرسکے کہ جو شخص اپنے آپ کو رسولؐ کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے اس کی زندگی پر    یہ چھینٹ لگی ہوئی ہے۔ کہیں کوئی انگلی رکھ کر یہ نہ کہہ سکے کہ اس میں یہ عیب ہے، یہ خرابی اور      یہ کمزوری ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو ہرعیب اور ہرخرابی سے بالاتر کرلو۔

وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ o (۷۴:۵) اور گندگی سے دُور رہو۔

اس کے بھی دو معنی ہیں، یعنی اخلاقی گندگی اور ظاہری گندگی۔ اپنے آپ کو ہرقسم کی نجاستوں سے پاک کرو اور اس اخلاقی گندگی سے پاک کرو جو تمھارے سارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔

دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پورا معاشرہ جو انتہائی گندا ہے، اس معاشرے کے اندر جو شخص اخلاقی اصلاح کرنے کے لیے اُٹھے، اس کا یہ کام ہے کہ وہ ان ساری گندگیوں سے اپنے آپ کو بالکل الگ رکھے جو اس معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ اگر وہ ان گندگیوں میں سے کسی میں خود مبتلا ہوگیا تو پھر اس کی کیا اصلاح کرسکے گا۔ اس کی اصلاح وہ اسی صورت میںکرسکتا ہے ، جب کہ وہ ان ساری گندگیوں سے خود بچا ہوا ہو۔ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے  کہ جن بُرائیوں سے تم ہمیں روک رہے ہو، تم خود ان کا ارتکاب کرچکے ہو۔ اسی لیے فرمایا: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ کہ ہرقسم کی گندگیوں سے الگ رہو، اپنا دامن ہرطرح کی گندگی سے بچائو۔

جو شخص خدا کے راستے کی طرف بلانے کے لیے اُٹھے، وہ اگرظاہری اعتبار سے گندگی میں مبتلا ہو تو یہ چیز بھی خلقِ خدا کو اس سے متنفر کرنے والی ہے۔ اس کااخلاقی اثر لوگوں پر قائم نہیں ہوتا جب وہ یہ دیکھتے ہیں یہ شخص ایسا گندا رہتا ہے۔ اس کے بیٹھنے کی جگہ، اس کے لیٹنے کی جگہ، اس کے رہنے کی جگہ اگر گندی ہو تو ہرشخص کے دل میںاس سے کراہت ہوگی، اور کوئی بھی یہ توقع نہیں کرے گا کہ جو آدمی اتنا گندا رہتا ہے اس سے خود دنیا کو اخلاقی و روحانی طہارت حاصل ہوسکتی ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ ظاہری گندگی اور مادی گندگی سے بھی پوری طرح پرہیز کرو۔ دوسری طرف اسی فقرے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ تمھارے گردوپیش پورے معاشرے میں جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں، اپنا دامن ان سے بچائو اور پوری طرح ان سے پرہیز کرو۔ ظاہر بات ہے جو آدمی اصلاحِ خلق اور معاشرے کو درست کرنے کے لیے اُٹھا ہو، اگر وہ خود بھی ان خرابیوں میں مبتلا ہو جن کے اندر وہ معاشرہ مبتلا ہو، تو وہ ان کی کیا اصلاح کرسکے گا۔ وہ اسی صورت میں   ان کی اصلاح کرسکتا ہے جب کوئی بھی شخص اس کے بارے میں نشان دہی نہ کرسکے کہ وہ اُن اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہے جن کی اصلاح کے لیے وہ کوشش کر رہا ہے۔ یہاں دونوں قسم کی گندگیاں مراد ہیں کہ ان دونوں سے بچا جائے اور پرہیز کیا جائے۔

صلے کی تمنا

وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ o (۷۴:۶) اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔

تَمْنُنْ تَسْتَکْثِر کے معنی ہیں بے حد خدمت کرنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلقِ خدا کو خبردار کرنے کی خدمت کرنے کے لیے جب تم کھڑے ہو تو تمھارے دل میں یہ خیال نہ رہے کہ تم خلقِ خدا کے اُوپر کوئی احسان کر رہے ہو،اور تمھارے پیش نظر یہ نہ رہے کہ تم احسان کر کے اپنی ذات کے لیے زیادہ فائدے اُٹھائو۔ یہ چیز تمھارے پیش نظر نہیں رہنی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں یہ خدمت بے غرضانہ انجام دو۔ کسی قسم کا ذاتی فائدہ، کسی قسم کی دنیوی اغراض تمھارے سامنے نہیں ہونی چاہییں، بلکہ یہ خیال بھی نہیں ہونا چاہیے کہ تم کسی پر کوئی احسان کر رہے ہو۔ یہ ایک فرض ہے جو تم پر خدا کی طرف سے عائد کیا گیا ہے۔ اس فرض کو ایک فرض سمجھتے ہوئے تم انجام دو۔     یہ سمجھتے ہوئے انجام نہ دو کہ تم کسی پر احسان کر رہے ہو جس کا تمھیں کوئی بدلہ ان لوگوں کی طرف سے ملنا چاہیے جن کی تم نے یہ خدمت انجام دی۔ یہ وہی بات ہے جو قرآنِ مجید میں جگہ جگہ فرمائی گئی ہے کہ نبی ؑ کا یہ کام ہے کہ وہ کسی سے کوئی اجر طلب نہ کرے۔اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ (یونس ۱۰:۷۲)،یعنی میرا اجر تو اللہ کے ذمّے ہے ۔

مراد یہ ہے کہ یہ کام بے غرض ہے۔ کوئی ذاتی غرض اپنی نہ رکھو کہ کوئی شخص یہ کہہ سکے کہ  یہ دعوت کا کام اس لیے لے کر اُٹھے ہیں کہ اپنی جایداد بنانا چاہتے ہیں، یا یہ دعوت کا کام اس لیے لے کر اُٹھے ہیں کہ اپنی آیندہ نسلوں کو امیر بناکر چھوڑ جانا چاہتے ہیں۔ تمھاری کوئی غرض اس چیز کی نشان دہی نہ کرے۔ جتنی دیر تک تم تبلیغ کا یہ کام کر رہے ہو، اللہ کے راستے کی طرف بلارہے ہو، تو کسی کا احسان مت لو۔ اس کام کو بے غرض کرو۔

اللّٰہ کی خاطر صبر

وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ o (۷۴:۷) اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔

’’صبر کرو ‘‘ کا لفظ خود اس بات کی نشان دہی کر رہا ہے کہ یہ بات کن حالات میں فرمائی گئی ہے۔ حالات یہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے راستے کی طرف بلانے کے لیے جب اُٹھے تو پورا معاشرہ آپ کے مقابلے میں دشمنی پر اُتر آیا۔ ہر طرف آپؐ  کے خلاف الزامات اور تہمتیں تھیں۔ ہر طرف آپؐ  پر گالیوں کی یلغار اور ہر ایک مخالفت کے لیے تیار تھا۔ بہت ہی کم انسان ایسے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کے لیے تیار ہوئے ورنہ سارا معاشرہ آپؐ  کا مخالف تھا۔ اس حالت میں فرمایا گیا کہ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ   ’’اپنے رب کی خاطر صبر کرو‘‘ ، یعنی ان حالات کا مقابلہ کسی اور وجہ سے نہیں صرف اس لیے کرو کہ میرے رب نے یہ خدمت میرے سپرد کی ہے اور یہ کام بہرحال مجھے کرنا ہے، نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے۔ ہرقسم کے حالات کا مقابلہ کرو اور صبر کرو۔

صورتِ حال یہ تھی کہ جو اللہ کا بندہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہا تھا، لوگ اس کے جواب میں اس کو گالیاں دے رہے تھے۔ یہ اللہ کا بندہ لوگوں کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا اور لوگ اسے دنیا میں عذاب میں مبتلا کر رہے تھے۔ اسے ہر طرح کی تکلیفیں اور ہر طرح کی اذیتیں دے رہے تھے۔ اس حالت میں فرمایا گیا کہ اللہ کی خاطر صبر کرو۔ جو بھی مشکلات پیش آئیں، جو کچھ سختیاں تمھارے ساتھ ہوں، ان سب کے اُوپر صبر کرو اور ان کو برداشت کرو۔یہ سب کچھ کسی کی خاطر نہیں صرف اللہ کی خاطر برداشت کرو۔ یہ سمجھتے ہوئے برداشت کرو کہ یہ اللہ کی خاطر فرض ہے جو مجھے انجام دینا ہے۔ اس فرض کو انجام دینے میں جو مصیبت بھی میرے اُوپر آئے مجھے اسے اللہ کی خاطر برداشت کرنا ہے۔

اسی آیت سے ہی آگے کے مضمون سے مناسبت پیدا ہوتی ہے۔

جزا و سزا کا قانون

فَاِِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ o فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ o عَلَی الْکٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ o (۷۴: ۸-۱۰)  جب صُور میں پھونک ماری جائے گی، وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا، کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا۔

یہاں فرمایا گیا ہے کہ جس روز ناقور میں پھونکا جائے گا۔ ناقورکا لفظ ’صُور‘ سے بناہے۔ نقر  کہتے ہیں کسی چیز کو کھوکھلا کرکے اس کے اندر جگہ پیدا کرنا۔ ناقور اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کھوکھلا کرکے اگر اس میں پھونکا جائے تو اس سے آواز نکلے۔ یہی معنی ’صور‘ کے بھی ہیں۔ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن بڑا سخت ہوگا، اور کافروں کے لیے وہ دن کوئی آسان یا سہل دن نہیں ہوگا۔

اب یہ دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ فرمایا گیاکہ آپؐ  کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے ، اس پر آپؐ  صبر کریں، اس کے ساتھ یہ نہیں فرمایا گیا کہ اگر تم صبر کرو تو ہم ان پر دنیا میں عذاب لے آئیں گے اور ان کو دنیا میں سزا دیں گے۔ فرمایا گیا کہ جس روز صور پھونکا جائے گا وہ دن انکار کرنے والوں کے لیے بڑا سخت ہوگا۔

اس بات کی وضاحت پہلے بھی کی جاچکی ہے کہ اگرچہ انبیا ؑ کا انکار کرنے والوں اور ان کی تکذیب کرنے والوں اور ان کو ستانے والوں کے اُوپر دنیا میں بھی عذاب آتے رہے ہیں، اور خودکفارِ مکہ کو بھی قرآنِ مجید میں دھمکیاں دی گئی ہیں کہ تم اگر اس روش سے بازنہیں آئو گے تو وہ دن دیکھو گے جو عاد اور ثمود نے دیکھا ہے۔ لیکن اصل عذاب دنیا کا عذاب نہیں ہے بلکہ آخرت کا عذاب ہے جس سے کفار کو بھی ڈرایا جاتا ہے اور جس کے متعلق پہلے انبیا ؑ کو بھی اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ تمھیں یہاں ستا رہے ہیں آخرکار ان کی شامت قیامت کے دن آئے گی۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں ظلم و ستم کرتے ہیں ضروری نہیں ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص کے اُوپر اسی دنیا میں عذاب آجائے۔ فرض کیجیے کہ ایک خاص دن عذاب آنے والا ہے۔ اس دن سے ایک روز پہلے جو لوگ مرگئے ان کے اُوپر کون سا عذاب آیا۔ قومِ عاد پر عذاب آیا، قومِ ثمود پر عذاب آیا اور دوسری قوموں پر عذاب آیا اور ایک خاص تاریخ پر عذاب آیا۔ اس تاریخ پر یا اس عذاب کے نزول سے ایک گھنٹہ پہلے جو لوگ مرگئے ان پر تو کوئی عذاب نہیں آیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظلم و ستم کرنے والوں کے لیے اصل عذاب دنیا کا عذاب نہیں ہوسکتا کیوںکہ ہر ظالم کی شامت اس دنیا میں نہیں آسکتی۔

یہ تو حقیقت میں ایک گرفتاری ہے۔ دنیا میں جو عذاب آتا ہے اس کی نوعیت ایسی ہے جیسے ایک آدمی بڑھکیں مارتا پھر رہا تھا تو وہ اس روز گرفتار کرلیا گیا۔ اب یہ کوئی سزا نہیں ہے بلکہ فقط گرفتاری ہے۔ اصل سزا تو اس وقت ملے گی جب وہ عدالت میںپیش کیا جائے گا، اور عدالت سے اس کو سزا سنائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ یہاں صرف گرفتاری سے نہیں ڈرا رہا بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی شامت اس روز آئے گی جس روز صُور پھونکا جائے گا۔ وہ دن کافروں کے لیے بڑا سخت ہوگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ نبیؐ کی زندگی میں نبیؐ کے سامنے ہی عذاب آجائے۔ حضرت عیسٰی ؑ کا یہودیوں نے انکار کیا اور ان کے مقابلے میں اس قدر سخت باغیانہ روش اختیار کی کہ آخرکار اپنی طرف سے انھیں سولی پر چڑھا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اُٹھا لیا اور کوئی دوسرا شخص سولی پر چڑھا دیا گیا لیکن انھوں نے تو اپنی طرف سے حضر ت عیسٰی ؑہی کو سولی پرچڑھا دیا تھا۔ جس وقت وہ مقدمہ چلا رہے تھے اس وقت وہ عذاب نہیں آیا۔ جب وہ صلیب پر چڑھا رہے تھے اس وقت بھی وہ عذاب نہیں آیا۔ ۷۰ء میں جاکر رومیوں نے بیت المقدس فتح کیا اور ہیکل کو مسمار کردیا اور بنی اسرائیل کو دنیا بھر میں تتر بتر کر دیا۔ اس کے بعد مزید چندسال لگے اور ۱۳۵ء میں تمام بنی اسرائیل کو فلسطین سے نکال دیا گیا اور حکم دے دیا گیا کہ کوئی یہودی  بیت المقدس کی حدود میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی ؑ کی زندگی میں ہی کفار پر عذاب آنا ضروری نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ظالم لوگ نبی ؑکو پکڑلیں، گرفتار کرلیں، قتل کرڈالیں لیکن اس کے باوجود نبی ؑ کی زندگی میں عذاب نہیں آسکتا اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی اور موقعے کے لیے عذاب کو اُٹھا رکھا ہو۔

اس وجہ سے نبی ؑ کو صبر کرنا چاہیے لیکن یہ سمجھتے ہوئے نہیں کہ شاید چند سال بعد عذاب میری زندگی میں ہی آجائے۔ نبی ؑ کو صبر کرنا چاہیے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس دنیا میں کوئی شخص خواہ کچھ کرڈالے لیکن بہرحال آخرت میں اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھ کر رہے گا۔ نبی ؑ کو چونکہ اس پر کامل یقین ہوتا ہے کہ آخرت ضرور آنی ہے، اس کے ہاں یہ فلسفہ نہیں ہے کہ اس نے کچھ مقدمات کے زور پر یہ نتیجہ نکالا ہو کہ آخرت آسکتی ہے، یا آخرت آنی چاہیے، بلکہ اسے علم ہے کہ آخرت آئے گی اور اسے اس بات پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اس لیے نبی ؑ کے لیے یہ مکمل وجۂ تسلی ہے کہ اس دنیا میں چاہے کوئی شخص اپنے اعمال کا بُرا نتیجہ نہ دیکھے لیکن آخرت میں لازماً دیکھے گا۔

آیاتِ قرآنی سے عناد کا انجام

اب اس کے بعد ایک خاص مخالف کا کیس (مقدمہ) لیا جا رہا ہے:

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا o وَجَعَلْتُ لَـہٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا o وَبَنِیْنَ شُہُوْدًا o وَّمَہَّدْتُ لَہٗ تَمْہِیْدًا o ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ o (۷۴: ۱۱-۱۵) چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے مَیں نے اکیلا پیدا کیا، بہت سا مال اس کو دیا، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے، اور اس کے لیے ریاست کی راہ بھی ہموار کی، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ مَیں اسے اور زیادہ دوں۔

یہ ایک خاص شخص کی طرف اشارہ ہے جو مکہ معظمہ کے بڑے سرداروں میں سے تھا، بلکہ کہاجاتا ہے کہ مکہ معظمہ میں سب سے بڑا ذی وجاہت سردار یہی تھا، یعنی حضرت خالد بن ولیدؓ کا باپ ولید بن مغیرہ۔ یہ بنی مخدوم کا سردار تھا اور بہت بڑا دولت مند تھا۔ بڑا ذی وجاہت آدمی تھا اور مکہ معظمہ میں اس کی عقل مندی اور دانش مندی کی شہرت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے قابل اور اعلیٰ درجے کے بیٹے دیے تھے جن کا پورے معاشرے کے اندر اثر تھا۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ چونکہ بڑا سمجھ ار آدمی تھا، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور کلام، یہ دونوں چیزوں کو دیکھ کر دل میں سمجھ گیا تھا کہ یہ کلام انسانی نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ یہ جو کہا جارہا ہے کہ یہ شاعری ہے، یہ کہانت ہے، یہ سب کی سب فضول بات ہے۔ یہ کلام نہ شاعری کی نوعیت کا ہے، نہ کہانت کی نوعیت کا۔ اس نے اس بات کو اپنے ایک جلسے میں کہا بھی تھا۔ تمھارا یہ کہنا کہ یہ شاعری ہے، غلط بات ہے۔ کیا ہم نے شعر سنے نہیں ہیں۔ اس کلام کا شاعری سے کیا تعلق۔ کیا ہم نے کاہنوں کی باتیں سنی نہیں ہیں۔ اس کلام کا کاہنوں کی باتوں سے کیا تعلق۔ پھر وہ آپؐ کو بچپن سے جانتا تھا۔ اسی شہر کا رہنے والا بھی تھا، اور خاندانی رشتہ داریاں بھی تھیں۔ اس لیے وہ آپؐ  کی شخصیت سے بھی واقف تھا۔ اس کے دماغ میں کبھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا کہ حضوؐر شاعری کر رہے ہیں، یا یہ بناوٹی آدمی ہیں (نعوذ باللہ)۔ اس لیے وہ دل میں قائل ہوگیا تھا لیکن اس کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ اگر میں اس شخص کو مان لیتا ہوں تو میری سرداری اور وجاہت ختم ہوجاتی ہے۔ قوم جو مجھے بڑا سمجھتی ہے اور میرے گرد جمع ہوگئی ہے، مجھ سے دُور ہوجائے گی اور میرا سارا اثرورسوخ ختم ہوجائے گا۔

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا o (۷۴:۱۱) چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے مَیں نے اکیلا پیدا کیا۔

مراد یہ ہے کہ اس معاملے کو میرے حوالے کرو، مَیں اس سے نبٹوں گا۔ تمھیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب مَیں اس شخص سے نبٹوں گا۔ اس معنی میں یہ قرآنِ مجید میں بھی آیا ہے اور اُردو زبان میں بھی کہتے ہیں کہ چھوڑ دو مجھے مَیں ذرا اس کی خبر لوں۔ اسی مفہوم میں اسے لیا گیا ہے کہ تمھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کا معاملہ میرے سپرد کردو۔

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا o (۷۴:۱۱) چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے مَیں نے اکیلا پیدا کیا۔

اس کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس شخص کو مَیں نے اکیلا پیدا کیا۔ جس وقت یہ اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا تو کوئی فوج اور جتھہ لے کر نہیں آیا تھا۔ اس وقت اپنے ساتھ کوئی سازوسامان لے کر نہیں آیا تھا۔ کوئی محلات اور سواریاں لے کر نہیں آیا تھا، بلکہ اکیلا ہاتھ پائوں لیے پیدا ہوا تھا۔

اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس کو مَیں نے اکیلا پیدا کیا، اس کو پیدا کرنے میں کوئی لات یا ہبل شریک نہیں تھا۔ تنہا مَیں اس کو پیدا کرنے والا تھا۔ کسی اور کا اس کو پیدا کرنے میں ہاتھ نہیں تھا۔ یہ دونوں مفہوم ایک ہی فقرے کے ہیں۔

وَجَعَلْتُ لَـہٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا (۷۴:۱۲) بہت سا مال اس کو دیا۔

مالِ ممدود سے مراد لمبا چوڑا مال ہے۔ یعنی ماں کے پیٹ سے یہ کچھ نہیں لے کرآیا تھا ۔ میں نے اس کو یہ سب کچھ اس دنیا میں دیا۔ میں ہی اس کو اکیلا پیدا کرنے والا تھا اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں تھا۔ میں ہی اس کو مال دینے والا تھا اور کوئی دوسرا اس کو مال دینے میں شریک نہیں تھا۔

وَبَنِیْنَ شُہُوْدًا o (۷۴:۱۳) اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔

یعنی میں نے اس کو ایسے لڑکے دیے جو بڑی بڑی محفلوں میں اس کے ساتھ شریک ہونے والے ہیں، بڑے بڑے اور اہم مواقع پر شریک ہونے والے ہیں،اور جن کی سرداری اس دنیا میں مانی جاتی ہے۔

وَّمَہَّدْتُ لَہٗ تَمْہِیْدًا o (۷۴: ۱۴) اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی۔

تمہید اُردو زبان میں، آگے کی تقریب کرنے اور میدان تیار کرنے کی خاطر جو ابتدائی کلمات بولے جاتے ہیں انھیں تمہید کہتے ہیں۔ عربی زبان میں تمہید کے معنی راستہ صاف کرنے کے اور راستہ تیار کرنے کے ہیں۔ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ بڑائی، وجاہت اور ریاست کے مقام پر پہنچنے کے لیے مَیں نے اس کے لیے اسباب فراہم کیے، راستہ تیار کیا ، اور راہ ہموار کی ۔

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ o (۷۴: ۱۵) پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ مَیں اسے اور زیادہ دوں۔

یہاں ’مزید دوں گا‘ اس معنی میں ہے کہ وہ یہ طمع رکھتا ہے کہ میں اس کا انجام بھی ٹھیک اور بخیر کروں گا۔یعنی یہ اُمید رکھتا ہے کہ دنیا تو مَیں نے اس کی ٹھیک بنائی ہے اب آخرت بھی ٹھیک کروں گا۔ ان لوگوں کے نزدیک آخرت یقینی نہیں تھی لیکن چونکہ خبریں سنتے تھے کہ آخرت بھی آنے والی ہے تو کہتے تھے کہ اگر آخرت بھی آئی، قیامت بھی برپا ہوئی اور کوئی دوسرا عالم ہوا تو وہاں بھی ہم اچھے ہی رہیں گے، کیوں کہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں دولت دی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ دولت کچھ دیکھ کر ہی دی ہے، اور کسی قابل سمجھا تھا تو دی ہے۔ اس لیے وہاں بھی ہم اچھے ہوں گے۔ ان کا یہ استدلال تھا۔ چونکہ اس زمانے میں مسلمان خستہ حال تھے اور جو خوش حال تھے ان کو بھی خستہ حال بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ اس لیے یہ ان سے کہتے تھے کہ میاں دیکھ لو کہ دنیا میں خدا کا محبوب کون ہے؟ خدا کے محبوب تو ہم ہیں، اس لیے کہ ہمیں راحتیں نصیب ہیں، دولت نصیب ہے،اعلیٰ درجے کے مکانات اور اعلیٰ درجے کی محفلیں نصیب ہیں۔ کیا خدا کے محبوب تم ہو کہ تمھیں کھانے کو نصیب نہیں ہو رہا اور پہننے کو کپڑے نصیب نہیں ہو رہے، اور رہنے کو گھر نصیب نہیں ہیں۔ یہ ان کا استدلال تھا اور اس وجہ سے وہ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہم خدا کے محبوب ہیں اور خدا کے محبوب ہونے کی علامت یہ ہے کہ ہمیں دنیا میں خوش حال بنایا گیا ہے، اس وجہ سے آخرت میں بھی ہم ہی بھلے رہیں گے، اور وہ لوگ جو دنیا میں خستہ حال ہیں وہ آخرت میں بھی خستہ حال ہوں گے۔

اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ اب وہ طمع رکھتا ہے کہ میںاسے مزید دوں اور آخرت میں بھی اس کی ریاست قائم رہے۔ وہاں بھی اس کو مزید وجاہت اور ریاست نصیب ہو۔

کَلَّا ط اِِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًا o (۷۴: ۱۶) ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات کے مقابلے میں عناد رکھتا ہے۔

یعنی آخرت میں اس کے لیے کسی سرداری اور کسی ریاست اور کسی بڑائی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ آخرت میں کسی شخص کو کوئی بڑا مقام صرف اس لیے نہیں مل سکتا کہ دنیا میں اسے بڑا مقام حاصل تھا۔ آخرت میں بڑا مقام صرف اس بنیاد پر مل سکتا ہے کہ اللہ کی آیات کے ساتھ اس نے کیا رویہ اختیار کیا۔ چونکہ اس نے ہماری آیات کے مقابلے میں عناد (دشمنی) کا رویہ اختیار کیا ہے، اس وجہ سے کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اسے وہاں مزید کوئی بڑائی ملے۔

سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا o (۷۴: ۱۷) میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھوائوں گا۔

یعنی بجاے اس کے کہ یہ وہاں کوئی بڑی دولت حاصل کرے، کوئی بڑی وجاہت یا ریاست یا کوئی بڑائی اسے وہاں نصیب ہو، ہم تو اسے بڑی کٹھن گھاٹی چڑھائیں گے، بڑے سخت راستے سے یہ وہاں گزرے گا۔

قرآن کو جادو قرار دینا

اِِنَّہٗ فَکَّرَ وَقَدَّرَ o فَقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ o ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ o ثُمَّ نَظَرَ o ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ o ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَکْبَرَ o فَقَالَ اِِنْ ہٰذَآ اِِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُ o اِِنْ ہٰذَآ اِِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ o (۷۴: ۱۸-۲۵) اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی، تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں، خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا۔ آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یہ تو ایک انسانی کلام ہے۔

یہاں اللہ کی آیات کے مقابلے میں اس نے جو عناد اختیار کیا تھا اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ وہ دل میں قائل ہوگیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذاللہ جھوٹے نہیں ہیں۔ دل میں جان گیا تھا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہوسکتا۔ یہ کلام فی الواقع اس شان کا ہے کہ یہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام نہیں ہوسکتا۔ مگر اب معاملہ تھا اپنی بڑائی اور ریاست اور وجاہت کا۔ اس کے سامنے معاملہ یہ تھا کہ اگر اس کو مان لیتا ہوں تو میری ساری بڑائی اور وجاہت جاتی رہتی ہے۔

اب اس کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ اس نے غور کیا۔ پھر اٹکل دوڑائی کہ کیا الزام چسپاں کروں؟ کس طرح سے اس کا انکار کروں؟ شاعری کہہ نہیں سکتا، کیوں کہ جانتا ہوں کہ یہ شاعری نہیں ہے۔ کہانت کہہ نہیں سکتا کیوں کہ جانتا ہوں کہ اگر کہانت کہوں گا چاہے لوگ اس پر اعتبار کرلیں لیکن جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ کہیں گے کہ کیا نبی ؑ بھی اس طرح کی کہانت کہہ سکتا ہے۔ اس لیے کہ کہانت کا کلام کس کو معلوم نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں بھی نجومی اور فال گیر اِسی طرح کے لگے بندھے فقروں کے ترنم کے ساتھ آوازے لگاتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح کے فقرے عرب میں بھی کاہن کہتے پھرتے تھے۔ لہٰذا اس نے سوچا کہ کون شخص مانے گا کہ یہ قرآن کاہنوں، فال گیروں اور نجومیوں کے فقروں جیسا کلام ہے۔ اس کے دماغ میں یہ خیال آتا تھا کہ اگر میں اس طرح کی کوئی بات کروں گا تو ظاہر بات ہے کہ لوگ کہیں گے کہ اتنا سمجھ دار آدمی بھی ایسی باتیں کر رہا ہے۔ اس لیے اب اٹکل دوڑا رہا ہے، سوچ رہا ہے کہ کیا الزام لگائوں؟

فرمایا گیا: قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ، مارا گیا یہ کہ دیکھو اس نے کس طرح سے اٹکل دوڑائی۔  ثُمَّ نَظَرَ ، پھر اس نے سوچا، غور کیا کہ کیا الزام لگائوں۔ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ  ، پھر اس نے منہ بنایا، تیوری چڑھائی۔ جس طرح سے کوئی آدمی کسی ایسی بات کے بارے میں کوئی بات بنانا چاہ رہا ہو جس کے بارے میں اس کا دل خود کہہ رہا ہو کہ یہ غلط بات ہے، تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ چہرہ بناتا ہے۔ کچھ غور کرتا ہے، کچھ سوچتا ہے کہ کیا بات بنائوں؟ آخرکار اس کی تیوریاں چڑھتی ہیں، منہ بنتا ہے۔ اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک اندرونی کش مکش میں مبتلا ہے۔ بات سچی ہے اور اسے جھوٹی قرار دے رہا ہے۔ الزام تجویز کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی چسپاں نہیں ہو رہا، کوئی ایسا الزام جو اس پر لگ سکے۔ اس لیے منہ بناتا ہے۔ آخرکار پلٹ گیا اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا۔ بجاے اس کے کہ غوروخوض کرکے اور جب وہ منہ بنا رہا تھا اور تیوریاں چڑھا رہا تھا اس وقت اس کا دل اور اس کا ضمیر اس کو یہ کہتا کہ میاں کیوں حق بات کو جھٹلا رہے ہو، سیدھی طرح مان لو۔ اس کے بجاے     وہ پلٹ گیا اور کس بنا پر پلٹ گیا؟ استکبار کی وجہ سے۔ گھمنڈ اور اپنی بڑائی کی بناپر پلٹ گیا اور کہنے لگا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو ہے۔

کیوں وہ جادو کہتا تھا؟ اور عرب کے لوگ قرآنِ مجید کے لیے بالعموم جادو کا لفظ استعمال کرتے تھے تو آخر کس بنا پر کرتے تھے؟

وہ کہتے تھے کہ اس کلام کے اندر ایسا جادو ہے کہ اس کو اگر کوئی آدمی سن لے تو اس کے بعد وہ اپنے بال بچے، خاندان برادری، رشتے دار، سب کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ بیٹا باپ سے منحرف ہوجاتا ہے۔ بیوی شوہر سے منحرف ہوجاتی ہے۔ یہ جادو نہیں تو کیا ہے؟ اس مفہوم میں وہ لوگ اسے جادو کہتے تھے۔ ولید بن مغیرہ کو بھی یہ ہمت نہ پڑی کہ اس کو شاعری کہے۔ اس کو یہ ہمت نہ پڑی کہ اس کو کہانت کہے۔ اب اس نے سوچ بچار کے بعد کہا کہ یہ تو ایک جادو ہے۔

عرب کے سردار بالعموم لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میاںاس کے کلام کو نہ سننا۔ یہ بیٹے کو باپ سے لڑا دیتا ہے، بیوی کو شوہر سے لڑا دیتا ہے، بھائی کو بھائی سے لڑا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ ایسے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تھے کہ آپؐ  قرآن پڑھ رہے ہیں تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے یا روئی ٹھونس لیتے تھے کہ کانوں میں آواز نہ پڑے۔ اس بات سے ڈرتے تھے۔

اسی معنی میں اس نے یہ بات کہی کہ یہ ایک ایسا جادو ہے جو اُوپر سے نقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ مطلب یہ کہ ایسے جادوگر پہلے بھی گزرچکے ہیں۔ اس کا اشارہ انبیا ؑ کی طرف تھا کہ پہلے بھی ایسے جادوگر گزرچکے ہیں۔ یہ بھی اسی طرح کا جادوگر ہے (نعوذباللہ)۔ دوسرے الفاظ میں اس نے اس طرح سے دھوکے بازی کی کہ جس بات کو وہ سمجھتا تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے بجاے اس کے کہ یہ کہتا کہ یہ خدا کا کلام ہے، اور یہ وہ کلام ہے جو پہلے انبیا ؑ پر بھی آتا رہا ہے، اور یہ وہ کلام ہے جس کی تاثیر پہلے بھی یہ تھی اور اس وقت بھی یہ دیکھی جارہی ہے۔ یہ انسان کو اس کے آپے میں نہیں رہنے دیتا اور انسان اپنی غلط کاری سے باہرآکر ہر طرح کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہ بات اس نے نہیں کہی۔ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس کی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ یہ جادو ہے اور یہ پہلے سے نقل ہوتا چلا آرہا ہے۔

اِِنْ ہٰذَآ اِِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ o(۷۴:۲۵) یہ تو ایک انسانی کلام ہے۔

اس نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے بس ایک انسان کا کلام ہے۔ درآں حالیکہ وہ دل میں مان چکا تھا کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہے لیکن صرف اپنی بڑائی قائم رکھنے کے لیے اس نے کہا کہ یہ انسان کا کلام ہے۔

جھنم کا کڑا عذاب

سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُ o لاَ تُبْقِیْ وَلاَ تَذَرُ o لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ o (۷۴: ۲۶-۲۹) عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔

اس طرح کے آدمی کا علاج اس دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ اس دنیا میں اس کو خواہ کوئی عذاب دے دیا جائے وہ اس کی سزا نہیں ہوسکتی۔ اس کی سزا جہنم ہے اور وہ جہنم کیا ہے؟ اس جہنم کے بارے میں قرآنِ مجید میں جتنے عذاب بیان کیے گئے ہیں ان کے مقابلے میں یہ عذاب جو ایک فقرے میں بیان کیا گیا ہے سخت کڑا ہے، یعنی یہ کہ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔

ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے: لَایَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی (الاعلٰی ۸۷:۱۳) ’’وہ نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا‘‘۔ اس کے اندر آدمی کی حالت یہ ہوگی کہ نہ مرے گا اور نہ جیے گا۔ عذاب اتنا سخت ہوگا کہ باربار موت آئے گی لیکن وہاں چونکہ موت نہیں ہے اس وجہ سے موت نہیں آئے گی مگر جینے کی طرح جیے گا بھی نہیں۔ یہ جہنم کے عذاب کی سختی کی انتہا ہے کہ جو یہاں بیان کی گئی ہے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے ہ وہ عذاب کے مستحقین میں سے کسی کو باقی نہ رہنے دے گی جو اُس کی گرفت میں آئے بغیر رہ جائے، اور جو بھی اس کی گرفت میں آئے گا اسے عذاب دیے بغیر نہ چھوڑے گی۔

لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ o(۷۴:۲۹) آدمی کی کھال کو چاٹ کھائے گی۔

’’یہ کہنے کے بعد کہ وہ جسم میں سے کچھ جلائے بغیر نہ چھوڑے گی، کھال جھلس دینے کا الگ ذکر کرنا بظاہر کچھ غیرضروری سا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن عذاب کی اس شکل کو خاص طور پر الگ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ آدمی کی شخصیت کو نمایاں کرنے والی چیز دراصل اس کے چہرے اور  جسم کی کھال ہی ہوتی ہے جس کی بدنمائی اُسے سب سے زیادہ کَھلتی ہے۔ اندرونی اعضا میں  خواہ اسے کتنی ہی تکلیف ہو، وہ اس پر اتنا زیادہ رنجیدہ نہیں ہوتا جتنا اس بات پر رنجیدہ ہوتا ہے کہ اس کا منہ بدنما ہوجائے، یااس کے جسم کے کھلے حصوں کی جِلد پر ایسے داغ پڑ جائیں جنھیں دیکھ کر ہرشخص اُس سے گھِن کھانے لگے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ حسین چہرے اور بڑے بڑے شان دار جسم لیے ہوئے جو لوگ آج دنیا میں اپنی شخصیت پر پھولے پھر رہے ہیں، یہ اگر اللہ کی آیات کے ساتھ عناد کی وہ روش برتیں گے جو ولید بن مغیرہ برت رہا ہے تو ان کے منہ جھلس دیے جائیں گے اور ان کی کھال جلاکر کوئلے کی طرح سیاہ کردی جائے گی‘‘۔(تفہیم القرآن، جلد ششم، ص۱۴۸-۱۴۹)۔ (کیسٹ سے تدوین: امجد عباسی)

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیادی طور پرجو چیز پیش کی وہ یہ تھی کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نہیں ہے۔ زمین خدا کی ہے، ہوا اور پانی اور روشنی اور ہر وہ چیز جس پر ہم زندگی   بسر کرتے ہیں، سب کچھ خدا کا ہے۔ یہ جسم جو ہمیں حاصل ہے اور اس کے اندر جو طاقتیںہیں اور اس کے جو اعضا ہیں، سب خدا کے بخشے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ حق پہنچتا ہی نہیں کہ ہم خوداقتدارِاعلیٰ کا دعویٰ کریں، یا کسی ایسے شخص یا گروہ، یا ادارے کا دعویٰ قبول کریں جو اقتدارِاعلیٰ کا مدعی ہو۔   حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اوّلین بات جو انسان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش فرمائی اور جس پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دی، وہ یہی تھی کہ ملک بھی اللہ تعالیٰ کا ہے، حکم بھی اللہ تعالیٰ کا ہے اوراس کے سوا کسی کو انسان کے لیے قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔

دوسری بات جو اسی طرح بنیادی اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو براہِ راست قانون نہیں دیتا، بلکہ اپنے رسولوں کے ذریعے سے دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے منتخب کیے ہوئے حکمران نہیں تھے نہ خود بنے ہوئے حکمران تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصب پر مقرر فرمایا تھا کہ آپ لوگوں کو تعلیم بھی دیں،  ان کی تربیت بھی کریں، ان کے ذہن وفکر اور اخلاق کو بھی ٹھیک کریں۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے احکام بھی پہنچائیں اور جو لوگ ان احکام کو قبول کر کے ان کے برحق ہونے پر ایمان لائے ان کے ذریعے سے احکامِ الٰہی کو نافذ بھی فرمائیں۔

تیسری اہم چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو بتائی اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی، وہ آخرت کا تصور ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ نہ سمجھے اور اس کو یہ یقین نہ ہو کہ ایک دن اسے مرکر اپنے خدا کے سامنے جانا ہے، اور اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے، تووہ نہ اسلام کے راستے پر چل سکتا ہے، نہ حقیقت میں صحیح انسان بن سکتا ہے۔

ان عقائد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے ۱۳ برس مکہ معظمہ میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے لوگوں کے سامنے پیش کیا، اور جن لوگوں نے ان کو مان لیا، ان کو آپ نے ایک جماعت، ایک اُمت کی شکل میں منظم کیا۔

حضوؐر کے زمانۂ قیامِ مکہ کے آخری تین سال ایسے تھے جن میں مدینہ منورہ کے باشندوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ایمان لے آئی اور اس نے آپ کو دعو ت دی کہ آپ ان کے شہر میں سب مسلمانوں کے ساتھ تشریف لے آئیں۔ حضرت عائشہ نے بہت صحیح بات فرمائی ہے کہ ’’مدینے کو قرآن نے فتح کیا ہے‘‘۔ یعنی کوئی تلوار نہیں تھی، کوئی جابرانہ طاقت نہیں تھی جس سے مدینے کے لوگ اسلام کے پیرو بنے ہوں، بلکہ قرآنِ مجید جب ان کو پہنچا، اور مکہ معظمہ میں قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئی تھیں وہ ان کے علم میں آئیں، تو وہ نہ صرف یہ کہ سچے دل سے ایمان لے آئے، بلکہ انھوں نے اپنی چھوٹی سی بستی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھی اہلِ ایمان کو تشریف لے آنے کی دعوت دے دی۔ یہ دعوت اس بات کی نہ تھی کہ آپ اور مکہ کے مسلمان  ان کے ہاں پناہ گزیں ہوں بلکہ اس بات کی دعوت تھی کہ حضوؐر ان کے معلّم، مربی اور فرماں روا ہوں، مہاجرین و انصار ایک اُمت ِ مسلمہ بن جائیں اور مدینے میں وہ نظامِ زندگی قائم ہو جس پر یہ اُمت ایمان لائی ہے۔ اس طرح جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے، اسی روز اسلامی حکومت کی بنا پڑگئی۔

اسلامی حکومت کے فرائض

  •  اشاعت ِ اسلام: اس حکومت کا اوّلین کام یہ تھا کہ لوگوں میں اسلام کا علم پھیلایا جائے کیونکہ اسلام جہالت کا نام نہیں ، علم کا نام ہے۔ حضوؐر اور آپؐ کے ساتھیوں نے اپنی پوری قوت اس بات پر صرف کردی کہ لوگ دین کو سمجھیں اور سمجھ کر ایمان لائیں۔ جوں جوں یہ علم پھیلتا گیا اور لوگ اس کو جان کر مانتے گئے،اسلام کی طاقت بڑھتی چلی گئی او ر اس کی بنیاد بھی مضبوط ہوتی چلی گئی۔
  •  تزکیۂ اخلاق و تعمیر سیرت: دوسرا عظیم کام جو آپ نے کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے اخلاق درست کیے، اور ایک ایسا اسلامی معاشرہ پیدا کیا، جس کی ہرچیز اخلاقِ صالحہ پر مبنی تھی۔ کوئی نظامِ حکومت خواہ کیسا ہی اعلیٰ مرتبے کا ہو،اور اس کے قوانین خواہ کتنے ہی بہتر ہوں، اگر اس کی عمارت عمدہ اخلاق کی مضبوط بنیاد پر قائم نہ ہو، اگر اس کے چلانے والے بلندسیرت و کردار کے مالک نہ ہوں، اور اگر وہ معاشرہ جس میں اسے قائم کیا گیا ہو، ایمان دار اور خدا ترس نہ ہو، تو وہ کبھی کامیابی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اس لیے حضوؐر نے ایمان کی دعوت اور علمِ دین کی اشاعت کے بعد سب سے زیادہ زور جس چیز پر دیا، وہ تزکیۂ اخلاق تھا۔ آپؐ کے قائم کیے ہوئے نظامِ حکومت کی فطرت ہی یہ تقاضا کرتی تھی کہ لوگوں کے اخلاق ٹھیک اس نظام کے مزاج کے مطابق ہوں۔ اس صورت میں احکام کو نافذ کرنے کے لیے قوت استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ جبروقہر کے ساتھ زبردستی اطاعت کرانے اور لوگوں کو دبا کر فرماں بردار بنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بس یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ فلاں چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فلاں چیز سے منع فرمایا ہے۔ اس کے بعد لوگ خود بخود ان فرامین کی تعمیل کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں کوئی پولیس نہ تھی۔ کوئی جیل خانہ نہیں تھا۔ کوئی جاسوسی نظام نہیں تھا۔ اس بات کا تصور تک نہ کیا جاسکتا تھا کہ آپ کی زبانِ مبارک سے کوئی حکم لوگوں کو پہنچے اور وہ اس کی خلاف ورزی کریں۔

اس کے لیے امتناعِ شراب ہی کے معاملے کو بطورِ مثال لے لیجیے۔ جس وقت مدینے کی بستی میں یہ اعلان ہوا کہ شراب حرام کردی گئی ہے، اسی وقت شراب کے مٹکے توڑ دیے گئے،اور پینے والوں میں سے جس کا ہاتھ جہاں تھا وہیں رُک گیا۔ اس طرح کی پابندیِ قانون کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔اس کے برعکس امریکا میں اربوں روپیہ اس کام پر صرف کیا گیا کہ لوگوں کو شراب کی بُرائی اور اس کے نقصانات کا قائل کیا جائے۔ بہت بڑے پیمانے پر اس کے خلاف پروپیگنڈاکیا گیا اور راے عامہ کی تائید سے امریکا کے دستور میں ترمیم کر کے امتناعِ شراب کا قانون پاس کیا گیا۔ لیکن جس روز یہ قانون پاس ہوا اس کے دوسرے ہی روز سے پورے ملک میں اس کی خلاف ورزی شروع ہوگئی۔ طرح طرح کی زہریلی شرابیں پی جانے لگیں، اور یہ وبا اس قدر خطرناک صورت اختیار کرگئی کہ آخرکار اس قانون کو منسوخ کرنا پڑا۔ اب ذرا مقابلہ کرکے دیکھ لیجیے۔ ایک جگہ بس ایک حکم سنا دیا جاتا ہے اور فوراً اس کی تعمیل کی جاتی ہے۔دوسری جگہ بڑی تیاری کے بعد لوگوں کی مرضی سے قانون بنایا جاتا ہے اور لوگ اس کو توڑ ڈالتے ہیں۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ ایک صالح نظامِ حکومت کی بنیاد ایمان اور اخلاق پر قائم ہوتی ہے ۔ جہاں یہ دونوں چیزیں موجود نہ ہوں وہاں آپ کاغذ پر خواہ کتنا ہی اچھا دستور اور قانون بنا لیجیے، زمین پر وہ کبھی نافذ نہیں ہوسکتا....

  •  حاکمیت اعلٰی: جہاں تک اقتدارِ اعلیٰ کا تعلق ہے، میں بتا چکا ہوں کہ حضوؐر کی تعلیم کے مطابق یہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ رہی نظامِ حکومت کی تین شعبوں میں تقسیم، یعنی منتظمہ، مقننہ اور عدلیہ تو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں نہ تھی۔ حضوؐر قانون دینے والے بھی تھے، جج بھی تھے اور حاکم بھی۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نبی کی حیثیت سے یہ تمام اختیارات آپؐ کی ایک ہی ذات میں جمع تھے۔

لیکن حضوؐ ر کا قاعدہ یہ تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملتا تھا اس میں تو آپ لوگوں سے بے چون و چرا اطاعت کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس میں کسی کے لیے کلام کرنے کی کوئی گنجایش نہ تھی، لیکن جس معاملے میں اُوپر سے کوئی حکم آیا ہوا نہ ہوتا تھا اس میں آپ صحابہؓ سے خود بھی مشورہ فرماتے تھے۔ صحابہؓ کو بھی یہ حق دیتے تھے کہ وہ آپؐ کی راے سے اختلاف کریں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ آپؐ نے اپنی راے چھوڑ کر ان کی راے قبول فرمائی ہے۔ مشہور واقعہ ہے کہ جنگ ِ بدر کے موقعے پر آپؐ نے ابتدا میں جس جگہ پڑائو کیا تھا اس کے متعلق ایک صحابی نے اُٹھ کر پوچھا کہ یہ جگہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اختیار فرمائی ہے یا یہ آپؐ کی اپنی راے ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں، میں نے خود یہ جگہ تجویز کی ہے‘‘۔ اس پر انھوں نے عرض کیا کہ ’’اس کے بجاے فلاں مقام جنگی حیثیت سے زیادہ موزوں ہے‘‘۔ اور آپؐ نے ان کی راے قبول فرما لی۔

اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دو طرح کی تربیت دے رہے تھے۔ ایک اس بات کی تربیت کہ جب خدا کی طرف سے کوئی حکم آئے تو اس کی بے چون وچرا اطاعت کرو۔ دوسری تربیت اس بات کی کہ جس معاملے میں خدا کا حکم نہ ہو، اس میں اہل الراے سے مشورہ بھی کیا جائے، لوگوں کوبحث کا کھلاحق بھی دیا جائے، حضوؐر کی اپنی راے تک سے اختلاف کرتے ہوئے دوسری راے بھی پیش کی جاسکے اور مشورے کے بعد جو بات طے ہو اس پر عمل کیا جائے۔

ایک اور مثال ملاحظہ فرمایئے۔ جنگ ِ احزاب کے موقعے پر جب حالات بہت نازک ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ دشمنوں کے چند قبائل، جن کی بڑی طاقت وہاں جمع تھی، ان کو مدینے کی پیداوار کا ایک حصہ پیش کرکے مخالفین کی جتھہ بندی سے انھیں الگ کردیا جائے۔ انصار کے سرداروں نے حضوؐر سے عرض کیا کہ ’’یہ معاملہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے حکم سے طے فرما رہے ہیں یا یہ آپؐ کا اپنا خیال ہے؟‘‘ حضوؐر نے فرمایا: ’’یہ میرا اپنا خیال ہے، میں تمھیں اس خطرے سے نکالنا چاہتا ہوں جس میں تم پڑگئے ہو‘‘۔ انھوں نے کہا: یارسولؐ اللہ! جب ہم کافر تھے اس زمانے میں بھی یہ قبائل ہم سے ایک حبّہ تک نہ لے سکے تھے اور اب تو ہم مسلمان ہیں۔ اب ہم سے کوئی چیز کیسے لے سکتے ہیں‘‘۔ چنانچہ اسی وقت ان کے کہنے کے مطابق یہ معاملہ ختم کردیا گیا۔ اس مثال سے بھی آپ رسولؐ اللہ کے طرزِ حکومت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جن معاملات میں اللہ کا حکم ہوتا تھا وہاں کوئی جمہوریت نہ تھی اور جن معاملات میں اُوپر کا حکم نہ ہوتا تھا ان میں پوری جمہوریت تھی۔

  •  عدلیہ: اب عدلیہ کے مسئلے کو لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قاضی تھے۔ اس لیے عدلیہ بھی پوری طرح آپ ہی کے ہاتھ میں تھی۔ اس معاملے میں آپؐ کا طریقہ یہ تھا کہ نہ صرف انصاف کیا جائے بلکہ لوگ بھی یہ دیکھ لیں کہ انصاف کیا جا رہا ہے۔ تمام مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں ہوتی تھی۔ خفیہ سماعت کی کوئی نظیر آپؐ کے طریقِ عدل میں نہیں ملتی۔

بڑا مشہور واقعہ ہے کہ فتحِ مکہ سے پہلے ایک صحابی نے مشرکینِ مکہ کے نام ایک خط لکھ دیا جس میں ان کو مطلع کیا گیا تھا کہ تم پر حملہ ہونے والا ہے۔ وہ خط پکڑا گیا۔ اب یہ صریح جاسوسی کا معاملہ تھا۔ اِس زمانے کے لوگ کہیں گے کہ ایسا خطرناک معاملہ تو بند کمرے میں پیش ہونا چاہیے تھا ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبویؐ میں اس کی کھلی سماعت فرمائی۔ دوسرا اہم قاعدہ آپ کی عدالت کا یہ تھا کہ کسی مقدمے کا فیصلہ فریقین کی بات سنے بغیر نہ کیا جائے اور کسی شخص کو صفائی کا پورا موقع دیے بغیر ایک لمحے کے لیے بھی اس کے کسی بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ حضوؐر نے مدینہ کے باہر جو قاضی مقرر فرمائے تھے ان کو بھی آپؐ کی ہدایت یہ تھی کہ فریقین کی بات سنے بغیر کسی معاملے کا فیصلہ نہ کریں۔ عدالت کے کام میں سفارش کا دروازہ آپؐ نے بڑی سختی کے ساتھ بند کردیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد قریش کے ایک معزز خاندان کی عورت نے چوری کا ارتکاب کیا۔ اس کے خاندان نے کوشش کی کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔

حضرت اسامہؓ بن زیدؓ سے، جو حضوؐر کو نہایت عزیز تھے، سفارش کرائی گئی۔ حضوؐر نے فرمایا کہ ’’تم حدوداللہ کے معاملے میں سفارش کرتے ہو؟ تم سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہیں وہ اسی لیے تباہ ہوئیں کہ ان کے عام آدمی جب کوئی جرم کرتے تھے تو ان کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی تھی، اور بڑے لوگ جب وہی جرم کرتے تھے تو ان کے ساتھ رعایت برتی جاتی تھی۔ خدا کی قسم! اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو مَیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا‘‘۔ اس طرح آپؐ نے سفارش کا دروازہ ہی بند نہ کیا بلکہ یہ اصول بھی قائم فرما دیا کہ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ یہ اصول بھی آپؐ نے قائم فرما دیا کہ اگر کوئی شخص عدالت کو دھوکا دے کر اپنے حق میں غلط فیصلہ حاصل کرلے تو اس کا فائدہ وہ دنیا ہی میں اُٹھا سکے گا۔ آخرت میں خدا کی پکڑ سے کوئی چیز اسے نہ بچا سکے گی۔

  •  مقننّہ:اس کے بعد مقننہ کا مسئلہ ہمارے سامنے آتا ہے جو دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اس میں چونکہ بنیادی طور پر قانون اللہ تعالیٰ کا تھا اور وہی قانون بنانے کا حق رکھتا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قانون ساز کی نہ تھی بلکہ قانون کو نافذ کرنے والے، اس کی تشریح کرنے والے اور لوگوں کو اس کے مطابق عدل و انصاف کا نظام چلانے کی تربیت دینے والے کی تھی۔ آپؐ نے مسلمانوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے اور پھر اس کی وہ تشریح فرمائی جو سنت میں پائی جاتی ہے، مثلاً قرآنِ مجید میں چوری کی سزا کا حکم بڑے مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو۔ اس سے زائد کوئی تفصیل قرآن میں نہیں ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جس نے ہمیں بتایا کہ اس حکم پر عمل کن حالات میں ہوگا اور کن حالات میں نہ ہوگا۔ چوری کسے کہتے ہیں اور کسے نہیں کہتے؟ کس قسم کے اور کتنے مال کی چوری کے لیے یہ سزا ہے اور اس پر عمل کس طرح ہوگا؟ اگر سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم کی یہ تشریح ہمیں نہ ملی ہوتی تو ہم اس حکم کی کبھی صحیح تعمیل نہ کرسکتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضوؐر خود قانون ساز نہیں  تھے بلکہ اصل قانون ساز اللہ تعالیٰ تھااور آپ اس کے مقرر کردہ سرکاری شارح تھے۔ اس طرح جس چیز کو ہم اسلامی قانون کہتے ہیں وہ قرآن اور سنت ِ رسولؐ کے مجموعے کا نام ہے۔

قانون نافذ کرنے کے معاملے میں جو نظام آپؐ نے قائم فرمایا تھا اس کے بڑے بڑے اصول یہ تھے کہ لوگوں کو جہاں تک ممکن ہو سزا سے بچائو۔ قاضی کا کسی قصوروار کو چھوڑ دینے کی غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ بے قصور کو سزا دینے میں غلطی کرے۔ آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ لوگ خود کرلیں، یاکسی کے قصور کو معاف کرنا ہو تو معاف کردیں، یا کسی کے جرم و گناہ پر پردہ ڈالنا ہو تو ڈال دیں۔ یہ سب کچھ عدالت میں معاملہ پہنچنے سے پہلے تک ہوسکتا ہے، لیکن جب عدالت تک معاملہ پہنچ جائے تو کوئی معافی اور پردہ پوشی نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد تو پھر عدالت ہی قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ عدالت کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی ہرکوشش کو آپ نے سختی کے ساتھ منع فرما دیا اور قاضی کو قرآن و سنت اور خود اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق بے لاگ فیصلہ دینے کے لیے آزاد قرار دیا۔ آپؐ نے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ علم کے بغیر فیصلہ کرنا، یا علم رکھتے ہوئے غلط فیصلہ کرنا سخت گناہ ہے۔ صحیح قاضی وہ ہے جو قانون کا علم رکھتا ہو اور اپنے علم کے مطابق بے رُو رعایت فیصلہ کرے۔

  •  گورنروں کا تعیّن اور فرائض:اس سلسلے میں چند باتیں اور سمجھ لینی چاہییں۔ موجودہ زمانے کے سیاسی نظریات کو بنیاد بناکر عہدِرسالت ؐ کے معاملات کو اچھی طرح نہیں سمجھا جاسکتا۔ مثلاً اس زمانے میں ریاست کے تین شعبے ہوتے ہیں: انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ۔ پھر آئینی طریقے سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ ان شعبوں کے حدود کیا ہیں؟ مگر اُس زمانے میں صورتِ معاملہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے تشریف لے جانے سے پہلے وہاں کے بڑے بڑے گھرانوں کے الگ الگ احاطے ہوتے تھے جن کے اندر ان کی زمینیں ، ان کے باغات، ان کے رہنے سہنے کے گھر اور ان کے سقیفے (یعنی چوپالیں اور پنچایت خانے) ہوتے تھے۔ وہاں قبائلی نظام رائج تھااورہرقبیلے کے لوگ اپنے معاملات کو خود چلاتے تھے۔ مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ کے دست ِ مبارک پر اہلِ مدینہ کے ایک بڑے گروہ نے بیعت کی تو آپؐ نے خود ان کی درخواست پر بارہ نقیب مقرر فرما دیے جو اپنے اپنے قبیلوں میں زیادہ قابل، زیادہ بااثر اور زیادہ بااعتماد تھے۔ اور یہ ہرنقیب کی ذمہ داری تھی کہ اس کے قبیلے کے مختلف گھرانوں میں جو صالح اور معتبر سردار ہوں ان کی مدد سے اخلاق اور معاملات کو درست رکھیں۔ قبیلوں اور گھرانوں میں جو لوگ فطری طریقے سے سردار پائے جاتے تھے انھی میں سے ایمان لانے والوں کو آپؐ نے سربراہ بنا دیا  تھا۔ پھر جب حضوؐر خود مدینہ تشریف لے گئے تو اس نظام کو آپؐ نے برقرار رکھا۔ فرق جو کچھ واقع ہوا وہ یہ تھا کہ شہر کے مشرک سرداروں کی جگہ ایمان لانے والوں کو سرداری کا مقام حاصل ہوگیا۔ یہ تغیر ووٹوں کے ذریعے نہیں ہوا بلکہ یہ اسلامی انقلاب کا فطری تقاضا تھا کہ مشرک پیچھے ہٹتے چلے گئے اور مسلمان سردار آگے آتے گئے۔ شہر کے معاملات کو چلانے کے لیے حضوؐر مہاجرین کے اہل الراے اور انصار کے سرداروں سے مشورہ فرماتے تھے۔ یہ مجلسِ مشاورت موجودہ زمانے کی مقننہ یا پارلیمنٹ سے کوئی مشابہت نہ رکھتی تھی۔ مسلمانوں میں جو لوگ بھی بااثر ، ذی علم اور سمجھ دار لوگ تھے کہ اگر موجودہ زمانے کے طریقے پر الیکشن بھی ہوتے تو انھی کو منتخب کیا جاتا۔ ہر معاملے میں ان سب کا بلایا جانا ضروری نہ تھا۔ جس وقت کسی مسئلے میں مشورے کی حاجت پیش آتی تو اس وقت جولوگ بھی موجود ہوتے ان سے راے لے لی جاتی، اور بڑے اہم مسائل میں بس یہ اعلان کرا دیا جاتا کہ مسجد نبویؐ میں لوگ حاضر ہوجائیں۔

مدینے سے باہر جب اسلامی مملکت پھیلنی شروع ہوئی تو مختلف علاقوں میں گورنر مقرر کردیے گئے، وہی اپنے علاقے کے منتظم بھی تھے اور سپہ سالار بھی۔ اس زمانے میں کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ جس وقت بھی ضرورت ہوتی رضاکارانہ طور پر لوگ جہاد کے لیے آجاتے تھے۔ حضوؐر نے مختلف علاقوں میں قاضی بھی مقرر فرما دیے تھے جن کے عدالتی کام میں کوئی گورنر دخل نہ دے سکتا تھا۔ آپؐ نے ہر علاقے میں ایسے لوگ بھی مقرر کیے تھے جو باشندوں کو اسلام کی تعلیم دیں۔ تعلیم سے مراد یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ وہ عوام کو قرآن سنائیں، اس کے معانی و مطالب سمجھائیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ان کو آگاہ کریں۔ یہ کام زیادہ تر زبانی تلقین کے ذریعے سے کیا جاتا تھا اور معلمین لوگوں کی اخلاقی اور ذہنی تربیت اسی طریقے پر کرتے تھے، جس طریقے پر حضوؐر نے خود ان کی تربیت فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر جب مکہ معظمہ فتح ہوا تو حضوؐر نے حضرت عتابؓ بن اسیّد کو گورنر اور حضرت معاذ بن جبل کو معلم مقرر فرمایا تھا۔

  •  نظامِ زکٰوۃ: زکوٰۃ کے نظام کی صورت یہ تھی کہ کہیں آپؐ نے باقاعدہ تحصیل دار مقرر کیے تھے اور بعض علاقوں میں قبیلوں کے سرداروں کو اس کی تحصیل کا کام سپرد فرمادیا  تھا۔ جہاں غیرمسلم آبادی نے اطاعت قبول کرکے خراج ادا کرنے کا معاہدہ کیا تھا وہاں بھی خراج کی تحصیل کے لیے کوئی مستقل تحصیل دار مقرر نہ تھا۔ جب خیبر فتح ہوا اور وہاں کے باشندوں نے نصف پیداوار ادا کرنا قبول کرکے صلح کرلی تو فصل کی کٹائی کے وقت حضوؐر کسی صحابیؓ کو بھیج دیتے تھے اور وہ پیداوار کا نصف نصف الگ کر کے یہودیوں کو اختیار دے دیتے تھے کہ دونوں ڈھیروں میں سے جو ڈھیر چاہیں، اُٹھالیں۔ تاریخ میں یہ واقعہ موجود ہے کہ جب اس طریقے پر خراج لیا گیا تو یہودی پکار اُٹھے کہ اسی انصاف پر زمین و آسمان قائم ہیں۔ یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نظامِ حکومت کا ایک مختصر خاکہ۔(ریڈیو پاکستان کو انٹرویو، ۹-۱۰ مارچ ۱۹۷۸ئ، بحوالہ تصریحات، ص ۴۰۳-۴۱۱)

اللہ تعالیٰ نے اتباع و اطاعت ِرسولؐ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:وَمَا اٰتٰـکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ ق وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا (الحشر۵۹:۷)’’جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جائو‘‘۔ قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر رسولؐ اللہ کے امر و نہی کے اتباع کو نہایت مؤکد انداز میں بیان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسول ؐ کی زبانی ہی یہ اعلان کرایا ہے: وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖط (الانعام۶:۱۵۳) ’’نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا     تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمھیں پراگندا کر دیں گے‘‘۔

اس آیت میں رسولؐ کے متعین کردہ راستے کو چھو ڑکر دوسرے راستوں پر چلنے کا انجام یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ راستے تمھیں رسولؐ کے راستے سے دور لے جائیں گے۔ اسی انجام کو دوسرے مقام پر فتنے اور عذابِ الیم کے نام سے یوں بیان فرمایا: فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(النور۲۴:۶۳) ’’رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر درد ناک عذاب نہ آجائے‘‘۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ: مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَاجْتَنِبُوْہُ، وَمَا اَمَرْتُکُمْ بِہٖ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ (بخاری و مسلم) ’’میں تمھیں جس چیز سے منع کروں اس سے دور رہو، اور جس چیز کا حکم دوں، اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کی کوشش کرو‘‘۔

اتباعِ رسولؐ کا حقیقی معیار

ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال کو کتاب و سنت کی روشنی میں انجام دے، اپنی خواہشات کے پیچھے نہ چلے، بلکہ جو طریقہ و دین رسولؐ اللہ نے بیان فرمایا ہے اس کا اتباع کرے۔ اللہ کا یہ فرمان ہے کہ: وَمَا کَانَ لِمُؤمِنٍ وَّلَا مُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ، وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰــلًا مُّبِیْنًاo(احزاب۳۳:۳۶)’’کسی مومن مرداور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ یقیناصریح گمراہی میں پڑگیا‘‘۔

 دوسری جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُونَ حَتّٰی یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِی اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوا تَسْلِیْمًا (النسائ۴:۶۵) ’’تمھارے رب کی قسم! یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کریں‘‘۔

یہ رسولؐ اللہ سے محبت کا داعیہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان اطاعت ِرسولؐ کے مقابل مال و دولت، جسم و جان، اولاد و اخوان اور آبا و اَزواج کو ہیچ سمجھتا ہے اور ان سب چیزوں پر اللہ و رسولؐ کو مقدم ٹھیراتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُونَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہِ وَوَلَدِہٖ وَ اَھْلِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ(بخاری)’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد، اس کے اہل اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جائوں‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تین [صفات] جس شخص میں بھی ہوں، اس نے ایمان کی حلاوت کو پالیا: ۱- اللہ اور اس کا رسولؐ باقی ہرچیز سے زیادہ اسے محبوب ہو۔ ۲-وہ کسی آدمی سے محبت کرے تو یہ محض اللہ کی خاطر ہو۔ ۳-وہ جس طرح آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے، اسی طرح کفر میں پلٹ جانے کو ناپسند کرے، کیونکہ اللہ نے اس سے اسے نکال دیا ہے‘‘۔(بخاری، مسلم)

قرآن اور سنت دونوں سے ثابت ہے کہ اللہ و رسولؐ کے مقابل نہ تو کسی کا کوئی حکم چل سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی خواہش نفس کی پیروی کر سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: لَا یُؤْمِنُ أحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ،    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنی خواہش نفس کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کے احکام پر اِخلاص کے ساتھ عمل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں، جس کو حدیث میں ھَوَا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ہواے نفس شریعت محمدیؐ کی تابع ہو جائے تو انسان سچا مومن ہو جاتا ہے، اور اگر  شریعت محمدیؐ کے خلاف عمل پر انسان کو مجبور کرے تو ایسا شخص سچا صاحب ِ ایمان نہیں رہتا۔

ایمان کے معتبر ہونے کی شرط اتباعِ رسولؐ ہے۔ اتباعِ رسولؐ سے انکار، ایمان سے اِخراج کے مترادف ہے۔انقباضِ نفس کی کیفیت میں اتباع مقبول نہیں۔ دل کی خوشی اور رضامندی کے ساتھ یہ عمل مطلوب ہے۔اتباع و اطاعت رسولؐ کا حق تب ادا ہو گا، جب مومن اپنے نفس، اولاد اور دیگر تمام لوگوں کو اللہ و رسولؐ کے سامنے ہیچ سمجھے۔ اطاعت رسولؐ میں ذاتی منشا و مرضی نہیں     چل سکتی۔ رسولؐ اللہ کے قول کے مقابلے میں، ہر انسان کی بات ناقابلِ عمل ہے۔اللہ و رسولؐ کا اتباع و اطاعت ہی  محبت کا حقیقی معیار ہے۔ جو شخص اللہ و رسولؐ کی اطاعت سے انکار کرے، وہ بدترین گمراہی میں مبتلا ہوگا۔اتباعِ رسولؐ عبادات، معاملات، اخلاق، کردار غرض ہر عمل میں فرض ہے۔

اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ

حضرت عرباض بن ساریہؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسولؐ اللہ نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ اس وعظ سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ وعظ تو ایسا تھا جیسے الوداعی نصیحت ہو، لہٰذا ہمیں اور نصیحت فرمائیے! 

آپؐ نے فرمایا: ’’میں تمھیں اللہ سے ڈرنے اور سمع و طاعت کی نصیحت کرتا ہوں خواہ تمھارے اوپر کوئی غلام امیر بنا دیا جائے۔ تم میں سے جو بھی (طویل عمر) زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا۔ لہٰذا تم میری اور خلفاے راشدین مہدیین کی سنت کو اپنے اوپر لازم کر لینا۔ اسے ڈاڑھوں سے پکڑے رکھنا اور نئی چیزوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہوتی ہے اور ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جاتی ہے‘‘۔ (ابوداؤد ، ترمذی، حدیث حسن صحیح )

رسولؐ اللہ کی نصیحت میں یہ خبر بھی ہے کہ آپؐ کے بعد بہت سے اختلافات رُونما ہوں گے۔ یہ اختلافات دین کے اصولوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور فروعات میں بھی۔ اعمال و اقوال اور اعتقادات و نظریات میں بھی۔ اس صورت حال میں وہی لوگ راہ راست پر ہوں گے جو سنت رسولؐ اور سنت خلفاے راشدین پر عمل پیرا رہیں گے۔

اختلافات کے ہر موقعے پر سنت سے رہنمائی حاصل کرنا فرض ہے۔ سنت کی موجودگی میں بدعات کو رواج دینا رسولؐ کی حیثیت کو چیلنج کرنا ہے۔سنت کے مقابلے میں بدعت پر عمل اِتباعِ رسولؐ سے انکار ہے۔ جس عمل یا سوچ کی اصل دین و شریعت میں نہ ہو، وہ بدعت ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے بدعت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ بدعت گمراہی ہونے کی بنا پر جہنم میں لے جانے کا باعث بنے گی۔ دنیاوی وسائل اور ذرائع پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ یہ اعتقادات، عبادات، عادات اور معاملات میں شریعت کو پیش نظر نہ رکھنے کا نام ہے۔

دین کے اندر ایجاد کیا جانے والا ہر ایسا عمل، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو، مُحْدَثَۃ کہلاتا ہے اور ہر مُحْدَثۃ کو بدعۃ قرار دیا گیا ہے۔ بدعت دراصل ایسا عمل ہے، جو کوئی شخص اپنی عقل و فکر کی بنیاد پر اختراع کر کے اسے دین قرار دے۔ اس حدیث میں بدعت کی شناعت کو بڑے واضح الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔

رسولؐ اللہ نے کتاب اللہ کو ’بہترین بات‘ اور اپنی ہدایت و رہنمائی کو ’بہترین رہنمائی‘ بھی کہا ہے، جب کہ محدثہ [ہر نئے عمل] کو ’بدترین امر‘ کہا ہے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: اِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَ خَیْرَ الھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَ شَرَّ الْاُمُورِ مُحدَثَاتُھَا وَکُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ، ’’یقینا بہترین کلام، اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت، محمد کی ہدایت ہے اور بدترین امور محدثات ہیں اور ہر محدثہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘۔

دین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی و رسول جناب محمدؐ بن عبداللہ کے ذریعے تکمیل کو پہنچایا اور آسمان سے ترسیل ہدایت کا سلسلہ بند کر دیا۔ قرآن کے الفاظ میں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے: اَلیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط (المائدہ۵:۳) ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت  تم پر تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے‘‘۔  حضرت ابوالدرداؓ فرماتے ہیں:’’اللہ کی قسم! رسولؐ اللہ نے ہمیں ایسی صاف اور روشن شاہراہ پر چھوڑا ہے، جس کی رات کی تاریکی بھی دن کی مانند روشن اور واضح ہے‘‘۔ (ابن ماجہ)

 رسولؐ اللہ نے ان تمام احکامات کو من و عن امت تک پہنچا دیا، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کے ذمے لگائے گئے تھے کہ آپؐ انھیں امت تک پہنچا دیں۔ رسولؐ اللہ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقعے پر کم و بیش ایک لاکھ ۲۴ہزار صحابہؓ سے یہ شہادت لی تھی کہ کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا تو اس جم غفیر نے یک زبان و یک آواز ہو کر کہا کہ ہاں، آپؐ نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔

اس حقیقت کے بعد یہ بات قانونی اور دستوری حیثیت اختیار کر جاتی ہے کہ جس شخص کو بھی اس دین کو اپنانا ہے، وہ کسی پس و پیش اور ردّ و قدح کے بغیر اس کو حتمی و قطعی قانون سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام شعبوں پر نافذ کرے۔ کسی جدی پشتی عالمِ دین، نسل در نسل مسندِ افتا پر فائز چلے آنے والے کسی خاندان، کسی سیّد زادے اور کسی بڑے سے بڑے مفسر قرآن اور شیخ الحدیث کے لیے یہ روا اور جائز نہیں کہ وہ دین کے کسی معاملے میں اپنی راے اور خواہشِ نفس سے کسی چیز کو دین قرار دے۔ کسی بھی مسئلے کی متعین کی گئی شرعی حیثیت اس وقت تک ہرگز قابل قبول اور لائقِ عمل قرار نہیں دی جا سکتی، جب تک اسے دین کے مسلمہ اصولوں پر جانچ اور پرکھ نہ لیا جائے۔

قرآن اور سنت دو ایسے پیمانے اور معیار ہیں، جن کے ذریعے ہر مسئلے کی دینی اور شرعی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان دونوں چیزوں کو چھوڑ کر اپنی راے سے کسی چیز کو دین قرار دیتا ہے تو اللہ کے رسولؐ نے اسے باطل، ناقابلِ قبول اور مردود قرار دیا ہے۔

اُم المومنین ام عبداللہ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: مَنْ اَحْدَثَ فِی اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ(بخاری، مسلم)،’’جس نے ہمارے اس (دین) میں کوئی نئی چیز پیدا کی، جو اس (دین) میں سے نہ ہو تو وہ مسترد کر دی جائے گی‘‘۔

ایک اور روایت میں ہے: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ (مسلم)، ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس پر ہمارا امر (حکم) نہیں تو وہ کام مردود ہے‘‘۔

جو شخص دین میں کوئی ایسا نیا عمل رائج کرتا ہے جو شرع کے مطابق نہ ہو تو اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا اور اس کا یہ عمل اس کے منہ پر دے مارا جائے گا اور وہ وعید کا مستحق ٹھیرے گا۔ حضوؐر نے فرمایا: مَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا اَوْ اٰوٰی مُحدِثًا فَعَلَیْہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ(بخاری)،’’جو شخص کوئی نیا عمل رواج دیتا ہے یا نیا عمل رائج کرنے والے کسی شخص کی پشت پناہی کرتا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے‘‘۔

بدعت: مفھوم اور اِطلاق

حدیث میں اَحْدَثَ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے، اس کے معنی ہیں کوئی نئی بات یا شے ایجاد کرنا۔ دین کے معاملے میں اس نئی ایجاد (اِحْدَاث) کا اطلاق چار طرح کے اعمال پر ہوتا ہے:

۱- اعتقادات:دین اسلام کی بنیادوں میں عقیدے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ عقیدے کے اجزا توحید و رسالت کے تصور کو اسلام نے اس قدر نکھار اور نتھار کر پیش کیا ہے کہ ان میں کوئی ابہام و اشکال نہیں رہا۔

عقیدہ میں اِحداث (بدعت) کی بھی ایک پوری تاریخ ہے، جس میں مسلمان دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور ان کے فلسفوں سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان میں وحدت الوجود، وحدت الشہود، اتحاد و حلول، اولیا و صلحا کو یوں با اختیار سمجھنا گویا نظامِ کائنات انھی کامرہون منت ہو، رسولؐ اللہکو اللہ کے مقابلے میں بااختیار ثابت کرنا، اہلِ قبور کے بارے میں حاجت براری کا عقیدہ رکھنا___ یہ ایسے نظریات و عقائد ہیں، جو امت میں نیک جذبات کے لبادے میں در آئے ہیں لیکن قرآن و سنت میں ان عقائد و نظریات کے درست ہونے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔ یہ انسانی فکر کی جولانیوں کے کرشمے ہیں۔ دوسری طرف امت کے اندر کچھ ایسے گروہ پیدا ہوئے، جنھوں نے قصداً ایسے عقیدے ایجاد و اختیار کیے جو توحید و رسالت کے تصور سے صریح طور پر متصادم تھے جیسے قدریہ، جبریہ، مرجۂ، بہائیہ، اسماعیلیہ، قادیانیہ وغیرہ اور اسی طرح بے شمار فرقے ہیں۔ ان کے تصورات و عقائد دین کی مسلمہ تعلیمات سے متصادم ہیں۔ ان کی فکر و عقیدے میں بدعت کو بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ دورِ حاضر میں عقیدۂ توحید کے حوالے سے جو بدعات رواج پا چکی ہیں، ان کے شمار کی حدود بہت وسیع ہو گئی ہیں۔ قرآن و حدیث میں عقیدۂ توحید و رسالت کے حوالے سے دی گئی رہنمائی ہی اس طرح کی اعتقادی آلایشوں سے ایک مسلمان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

۲- عبادات: عبادات میں وہی طریقہ قابل قبول ہو گا جو دین میں بیان کیا گیا ہے، مثلاً فرض نمازوں کی تعداد پانچ ہے۔ کوئی شخص نماز کی رکعات کو بڑھا نہیں سکتا، کسی بھی ضرورت کے پیش نظر اس تعداد کو گھٹا نہیں سکتا۔ روزوں کی فرضیت ماہِ رمضان میں ہے۔ کوئی شخص اس فرضیت کو کسی اور ماہ میں منتقل نہیں کر سکتا، کوئی روزوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ نماز مکمل طور پر سنت کے مطابق ادا کرنا ہوگی۔ روزے مکمل طور پر سنت کے مطابق رکھنا ہوں گے۔ زکوٰۃ کی شرح متعین ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی اور نبی کریمؐ کی طرف سے متعین کردہ مخصوص مدّات میں ہی اسے صرف کیا جاسکتا ہے۔ حج کے مناسک بالکل اسی طرح ادا کرنا ہوں گے جس طرح رسولؐ اللہ نے بتائے اور سکھائے ہیں۔ ان میں رد و بدل اور کمی بیشی کا کسی شخص کو ہرگز کوئی اختیار نہیں اور نہ کسی ایسے شخص کے ان اعمال کو قبول کیا جائے گا جو ان میں کمی بیشی کر کے ادا کرے گا۔

۳-معاملات: معاملات کا دائرہ بہت وسیع ہے، لیکن اس میں بھی کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی طرف سے کوئی ایسا ضابطہ وضع کر کے دین کے طور پر رائج کر دے جس کا دین کے اصولوں سے کوئی جوڑ اور ربط نہ ہو۔ ہر دور کے اپنے مسائل ہوتے ہیں لیکن ان سب کا حل قرآن و سنت کو سامنے رکھ کر تلاش کیا جائے گا۔ اگر قرآن و سنت میں کوئی واضح رہنمائی موجود نہ ہو تو پھر دین کے مسلمہ اصولوں کو پیش نظر رکھ کر اس مسئلے پر اجتہاد کیا جائے گا۔ مجتہد وہ ہوسکتا ہے جو شرائط اجتہاد پر پورا اُترتا ہو اور جسے قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور اجتہادی اصولوں پر عبور ہو۔ اس کے لیے بھی بہتر اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ اجتہاد کی یہ کوشش انفرادی اور شخصی نہ ہو بلکہ اجتماعی اور جمہوری ہو۔ معاملات میں کوئی نیا طریقہ رائج کرنے کی مثال یہ ہوسکتی ہے کہ دین میں زنا کی سزا رجم یا کوڑے مارنا ہے لیکن کوئی شخص اس بدنی سزا کو مالی سزا میں بدل کر یہ کہے کہ اتنی رقم بطور سزا یا جرمانہ دے دو۔ کوئی شخص دوران عدت نکاح کو جائز قرار دے یا کوئی اس پر عمل کرے کیونکہ حدیث کے مطابق یہ جائز نہیں۔ عورت کو تین طلاق ہو جانے کے بعد کوئی شخص محض پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرانے کی غرض سے کسی دوسرے شخص سے عورت کا نکاح عارضی طورپر کرانے کا فتویٰ دے یا کوئی اس پر عمل کرے۔ حدیث رسولؐ کے مطابق یہ بھی جائز نہیں۔ وراثت میں کوئی شخص ہروارث کے لیے شریعت کے مقرر کردہ حصوں کو بڑھائے یا کم کرے۔ تجارت میں نجش (نیلام کے لیے جھوٹی بولی) کو جائز سمجھے۔ زکوٰۃ کی شرح میں اضافے کا قائل ہو۔یہ تمام معاملات ایسے ہیں، جن کو قرآن و سنت نے متعین کر دیا ہے۔ اگر کوئی شخص یہاں اپنی ذاتی راے اور عمل کو دین قرار دینے کی کوشش کرے گا تو وہ دین قرار نہیں پا سکتا۔

۴- عادات: اعمال کی ایک قسم عادات ہیں۔ عادات میں ہر نئی چیز کو دین کے منافی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس میں بنیادی اصولوں کی پیروی لازمی ہوتی ہے جزئیات کی نہیں۔ اگر بنیادی اصولوں کو بھی ملحوظ نہ رکھا جائے اور ان کی پیروی نہ کی جائے تو یہ چیز دین کے منافی ہو گی اور اِحداث میں شامل ہو گی۔ مثال کے طور پر لباس میں بنیادی اصول یہ ہے کہ ستر پوش ہو، موٹا ہو، باریک نہ ہو، ڈھیلا ڈھالا ہو تنگ نہ ہو، کفار سے مشابہ نہ ہو۔اسی طرح لباس اگر عورت کا ہو تو مردوں سے مشابہ نہ ہو اور مردوں کا لباس عورتوں سے مشابہ نہ ہو۔اب اس میں جزئیات یہ ہیں کہ جیب ایک بھی ہو سکتی ہے، دو بھی اور تین بھی۔ کالر بھی ہوسکتا ہے، بٹن ایک دو یا زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ قمیص بھی ہو سکتا ہے اور کُرتہ بھی۔ اس طرح گھڑی، موبائل، کمپیوٹر، کھانے کی چیزیں اور اوقات وغیرہ۔ یہ سب چیزیں وسائل ہیں۔ ان میں بدعت والی کوئی بات نہیں۔ یہ مسلمان کے لیے بھی مفید ہیں اور غیر مسلموں کے لیے بھی، البتہ ان کے استعمال میں بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھنا ہو گا کہ، اسراف نہ ہو، غلط استعمال نہ ہو، وقت اور صلاحیت کا ضیاع نہ ہو، وغیرہ ۔

انسانیت پر احسانِ عظیم

بدعات دین کے لیے خطرہ ہوتی ہیں۔ یہ خطرہ کئی راستوں سے آسکتا ہے۔ کئی صورتوں اور کئی لبادوں میں آسکتا ہے۔ یہ دین کے اندر کوئی ایسا اضافہ کردینا بھی ہوسکتا ہے جو دین میں موجود نہ ہو۔ خاص طور پر اعتقادات، عبادات کے اندر کسی امر کا اضافہ کردینا۔ جس طرح دین میں کوئی اضافہ کردینا خطرناک ہے اسی طرح دین میں کوئی کمی کرڈالنا بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ دین کے قواعد اور بنیادوں اور اصل احکام میں سے کسی کو کالعدم قرار دینا بھی بدعت ہے۔ دین کی حقیقی اور اصلی صورت کو بگاڑ کر پیش کرنا بھی بدعت ہے۔ کسی چھوٹی چیز کو بڑا اور بڑی چیز کو چھوٹا کر کے پیش کرنا، دین کا چہرہ مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ کسی ترجیحی امر کو مؤخر اور غیراہم بنادینا اور غیراہم کو اہمیت دینا بھی بدعت ہے۔ یونہی تو دین منتشر ہوتا ہے اور اس کے حقائق اُلٹ پلٹ جاتے ہیں۔

دین کے اندر کوئی اضافہ کرنا لوگوں کو تنگی، شدت اور حرج میں مبتلا کرنا ہے۔ اللہ کو یہ پسند نہیں ہے۔ اُس نے دین انسانوں کے لیے آسان اور قابلِ عمل بنایا ہے، مشکل اور ناقابلِ عمل نہیں بنایا۔ اللہ نے دینی احکام میں نہ کوئی شدت، سختی اور مشکل رکھی ہے اور نہ انسانی طاقت اور استعداد سے بڑھ کر کوئی تقاضے کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے: مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ (المائدہ ۵:۶) ’’اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ سورئہ نساء میں فرمایا: ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور انھی طریقوں پر تمھیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحا کرتے تھے۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمھاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی۔ ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے ہٹ کر دُور نکل جائو۔ اللہ  تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے‘‘۔(النسائ۴: ۲۶-۲۸)

دین میں زیادتی اور اضافے کا نتیجہ سنت ِ رسولؐ کو پسِ پشت ڈالنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے: میں نے جہاں بھی اسراف دیکھا، اس کے ساتھ کسی حق کو ضائع ہوتے دیکھا۔ ایک قول یہ بھی روایات میں آتا ہے: ’’لوگ جب بھی کوئی بدعت پیدا کرتے ہیں تو کسی سنت کو ضائع کربیٹھتے ہیں‘‘۔ (احمد)

دین کو اللہ تعالیٰ نے آسان بنا کر نازل کیا ہے۔ جو لوگ دین میں اضافوں کے درپے ہوتے ہیں وہ دین کو اس کی سادہ اور آسان طبیعت سے نکال کر لوگوں کو شدت اور مشقت میں مبتلا کرتے ہیں۔ ایسا کرنا لوگوں پر انھی ناروا اور بے جا و ناجائز پابندیوں، قدغنوں اور پھندوں کو کس دینا ہے، جنھیں توڑنے اور ہٹانے کے لیے محسنِ انسانیتؐ اور رحمۃ للعالمین ؐ تشریف لائے۔ آپؐ کی بعثت و نبوت کے اس مقصد کو قرآنِ مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ ز یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  بِہٖ وَ عَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o (اعراف ۷:۱۵۷)  (پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبرؐ، نبی اُمّی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔   وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی کریں جو اُس کے ساتھ نازل کی گئی ہے وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔

ان بنیادی اور اصولی تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر ہر مسلمان، مومن کو اپنے اعتقادات، عبادات، معاملات، عادات اور رسوم و رواج کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں وہ شارعِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی شریعت میں کسی اضافے یا کمی کا مرتکب تو نہیں ہے۔ بعض معاشرتی روایات ورسومات یقینا ایسی ہوں گی جن کو شریعت سمجھ کر ادا نہیں کیا جاتا مگر ان کے ادا نہ کرنے والے کو بہرحال معاشرہ موردِالزام ٹھیراتا ہے جو ہرگز روا اور جائز نہیں۔ جو چیز دین نہیں ہے اُس کی ادایگی پر اصرار کرنا درست نہیں۔ درست تو یہ ہے کہ دین حقیقی پر عمل کے لیے ترغیب دی جائے۔ اُسی کے لیے اصرار کیا جائے اور  اُسی پر عمل میں مداومت اختیار کی جائے۔ دین و شریعت کے متعین اور مسنون طریقوں کو چھوڑ کر، ازخود وضع کیے ہوئے طور طریقوں پر عمل کیے جانا اور دوسروں کو ان پر عمل کے لیے مجبور کرنا اطاعت و اتباعِ رسولؐ کے منافی ہے۔ یہ کسی بھی صورت میں نہ مستحسن ہے اور نہ لائقِ عمل۔  اللہ و رسولؐ سے آگے بڑھنے کی کوئی کوشش قابلِ قبول نہیں ہوسکتی اور رسولِ اکرمؐ کے طریقۂ عمل کو چھوڑ کر کسی اور طریقے پر عمل انسان کو متقی اور بڑا عابد و زاہد نہیں بنا سکتا۔ بقول علامہ محمد اقبال    ؎

بمصطفٰیؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی ، تمام بولہبی است

 

اس عالم رنگ وبو میں خالق کائنات نے انسان کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا اور اس کے ذمے یہ کام لگا کہ وہ اللہ اور صرف اللہ کی بندگی اختیار کرے۔ ساری مخلوق اس کے لیے مسخر کی گئی اور اسے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا پابند بنایا گیا۔ انسان کا مقصدِ حیات رضاے الٰہی اور فلاح اخروی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ انسان اپنے اس مقصد سے عموماً دور بھاگتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ o’’اورمیرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں‘‘ (سبائ۳۴:۱۳)۔ جو مخلص اہلِ ایمان اللہ کی رضا اور اس کے دین کے غلبے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، ان کے سامنے مشکلات، آزمایش وابتلا اور کٹھن مراحل کا آنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اس قافلے کو اپنے عظیم مقاصد کے حصول کی خاطر جان کی بازی بھی لگانا پڑتی ہے اور قیدوبند، دارورسن کے علاوہ بھوک، خوف اور نقصانِ اموال کی منزلوں سے بھی گزرنا پڑتا  ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کمزور ہے، اسے حوصلہ پانے کے لیے کوئی سہارا درکار ہوتا ہے۔ اللہ کی ذات ہی اصل سہارا ہے اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی ایمان افروز زندگیاں اس کو استقامت وعزیمت کی راہ دکھلاتی ہیں۔ آج امت پر انتہائی کڑا وقت آن پڑا ہے۔ ان پرآشوب حالات میں سیرتِ رسولؐ کا مطالعہ محض روایتی انداز میں نہیں بلکہ اس کی حقیقی روح کے ساتھ ضروری ہے۔

دنیا میں ہر عظیم مقصدتک پہنچنا، عظیم قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے ہی میں ممکن ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے جو فریضہ سونپا گیا تھا وہ بہت مشکل تھا۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنا اور باطل کے ہر جھنڈے کو سرنگو ں کردینا، اللہ کی شریعت کا نفاذ اور ادیانِ باطلہ کو شکست سے دوچار کردینا بعثتِ رسولؐ کا مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اس مقصد کی عظمت اتنی زیادہ ہے کہ قرآن پاک میں تین مرتبہ ایک ہی انداز اور یکساں الفاظ میں اسے دہرایا گیا ہے:  ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ o( التوبۃ۹:۳۳) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔(سورۂ فتح، آیت۲۸ اور سورۂ صف، آیت۹ بھی اسی موضوع پر ہیں)۔

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کے مطابق مکہ اور اس کے گرد ونواح میں دعوت دین کا کام شروع کیا تو جاہلی معاشرے میں ہل چل مچ گئی، جیسے آپ نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہو۔ آپؐ کی مخالفت میں قریش کے تمام سردار اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور تو اور آپؐ  کا حقیقی چچا ابولہب مخالفت میں ان سب سے آگے آگے تھا۔ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے کا ہرحربہ اختیار کرتا۔ آنحضوؐر کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے اپنے مکان کی چھت سے آنحضوؐر کے گھر میں غلاظت پھینکنے سے بھی باز نہ آتا۔کبھی کبھار تو ہنڈیا پک رہی ہوتی تو بدبخت اوپر سے غلاظت پھینک دیتا۔ ابولہب کے علاوہ آپ کے دیگر پڑوسی بھی اسی قماش کے لوگ تھے، مثلاً عقبہ بن ابی معیط، حَکم بن عاص اور عدی بن حمرائ۔ ان سب کی حرکات بھی ابولہب کی طرح ہی کی تھیں۔ یہ کس قدر اذیت ناک بات تھی اس کا اندازہ ہر شخص کرسکتا ہے، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی ہمت ہاری اورنہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات کہی جو آپؐ  کے شایان شان نہ ہو۔ آپؐ  اتنا فرماتے:’’ اے بنو عبدمناف تم کیسے ہمسایے ہو، کیا ہمسایگی اسی کو کہتے ہیں؟‘‘ ۔ (تفہیم القرآن،ج۶،دیباچہ سورۂ لہب، ص۱۱۱۔ بحوالہ بیہقی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عساکر، ابن ہشام)

اس سارے عرصے اور مشکل منزلوں میں آپؐ  کی سرپرستی کا حق آپؐ  کے چچا جنابِ ابوطالب نے خوب ادا کیا۔ ہرچند کہ انھوں نے اسلام تو قبول نہ کیا،مگر اپنے بھتیجے کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے۔ شعب ابی طالب میں بھی انھوں نے آپؐ  کا ساتھ دیا، جہاں تین سال اہلِ ایمان اور بنوہاشم کو (ماسواے ابولہب اور اس کے اہل وعیال کے) مقید رکھا گیا۔ اس دور کی تلخ یادیں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہ بھولیں، حتیٰ کہ فتح مکہ کے وقت بھی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس گھاٹی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے آپؐ  نے فرمایا کہ اے جابر! تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون سی جگہ ہے ؟ جب انھوں نے لاعلمی ظاہر کی تو آپؐ  نے فرمایا : ’’یہ شعب ابی طالب ہے، جہاں ہم لوگوں کو تین سال تک مقید رکھا گیا۔ ہمارے بچے بھوک سے بلبلاتے رہے، ماؤں کی چھاتیوں میں دودھ تک خشک ہوگئے تھے اور ہم لوگ درختوں کے پتے اور چھال کھانے پر مجبور کردیے گئے تھے‘‘۔ (البدایۃ والنہایۃ، المجلد الاول، ص۵۰۷)

ان سخت آزمایشوں میں بھی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ آپؐ  نہ صرف خود ڈٹے رہے بلکہ تمام اہلِ ایمان کو بھی حوصلہ دیتے رہے۔ اس سب کچھ کے ساتھ وہ واقعہ بھی اپنی جگہ بڑا ایمان افروز ہے، جب سردارانِ قریش نے ایک قومی وفد بنا کر آپؐ  کے چچا ابوطالب کے پاس بھیجا اور کہا کہ تمھارے بھتیجے نے گھر گھر میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس کام کو چھوڑ دے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے ہر مطالبے کو پورا کردیں گے۔ اس پر جناب ابوطالب نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور سردارانِ قریش کی پیش کش آپؐ  کی خدمت میں رکھی۔ آپؐ  نے اس کے جواب میں فرمایا: اُرِیْدُ مِنْھُمْ کَلِمَۃً وَاحِدَۃً یَقُوْلُوْنَھَا تَدِیْنُ لَھُمْ بِھَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّی اِلَیْھِمْ بِھَا الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ ،’’چچا جان! میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں کہ اسے تسلیم کرلیں تو سارے عرب ان کے مطیعِ فرمان ہوجائیں اور پورا عجم ان کو جزیہ دینے لگے‘‘۔ جب آپؐ  نے ان کے سامنے کلمۂ طیبہ رکھا تو سب نے انکار کردیا۔ پھر آپؐ  نے اپنے چچاسے کہا: ’’چچا جان ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند لاکر رکھ دیں اور مجھ سے کہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں تو میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا۔ یا تو اللہ   اس دین کو غالب کردے گا یا میں اس راستے میں اپنی جان قربان کردوں گا‘‘(سیرت ابن ہشام، ج۲،ص۱۰۱۔ البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۴۸۴-۴۸۵)۔دیگر کئی مواقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکل ترین حالات میں بارہا یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور غالب کرے گا۔ حضرت مقداد بن اسودؓ کی روایت کے مطابق آپؐ  نے فرمایا: ’’ کرۂ ارض پر کوئی پکا اور کچا گھر گھروندہ، کوئی چمڑے اور اون کا خیمہ ایسا نہیں ہوگا جس میں یہ دین داخل نہ ہو۔عزت والے عزت کے ساتھ اس میں داخل ہوں گے اور انکار کرنے والوں کو بھی آخر ذلت کے ساتھ اس میں آنا پڑے گا‘‘۔ (مسنداحمد، ج۶،ص۴)

حضرت خدیجہؓ اور جناب ابوطالب ۱۰نبوی میں وفات پاگئے۔ اس سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں شخصیات سے بے پناہ محبت تھی اور دونوں نے آپؐ  کے مشن میں آپؐ  کا ساتھ نبھانے کا حق بھی بطریق احسن ادا کیا۔ غم کے باوجود آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمت ہار کر بیٹھ نہیں گئے بلکہ مکہ سے ذرا فاصلے پر عرب کے دوسرے بڑے شہر طائف کا دعوتی سفر اختیار کیا۔ طائف میں آپؐ  کی دعوت ووعظ کو سن کر وہاں کے ظالم لوگوں نے آپؐ  پر ہرجانب سے پتھر برسانا شروع کردیے۔ حضرت زید بن حارثہؓ جو رفیق سفر تھے، آپؐ  کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر شہر سے باہر لائے۔ آپؐ  کو بری طرح زخمی کیا گیا تھا جس سے آپؐ  بے ہوش بھی ہوگئے تھے۔ حضرت زید بن حارثہؓ نے چشمے کے پانی سے آپؐ  پر چھینٹے ڈالے تو آپؐ  ہوش میں آئے۔ وادیِ نخلہ کی وہ رات بڑی یادگار تھی جب اچانک آپؐ  کے پاس حضرت جبریل ؑ اور پہاڑوں کا نگران فرشتہ حاضر ہوئے اور آپ کو سلام عرض کرنے کے بعد اجازت چاہی کہ اہلِ طائف کو اس ظلم وسفاکی کی پاداش میں دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دیا جائے، مگر آپ نے فرمایا: ’’نہیں ہرگز نہیں۔ میں ان لوگوں کی تباہی کے لیے کیوں دعا کروں اگر یہ لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا؟ امید ہے کہ ان کی آیندہ نسلیں ضرور ایک اللہ پر ایمان لے آئیں گی‘‘۔ (تاریخ طبری،ج۲، ص۳۴۵)

اس رات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے جو دعا مانگی وہ بھی بہت عظیم ہے: ’’الٰہی میں اپنی کمزوری، بے سروسامانی اور لوگوں کی تحقیر کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں۔ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے۔ مجھے کس کے سپرد کیا جاتا ہے، کیا بیگانہ ترش رُوکے یا اس دشمن کے جو میرے معاملات پر قابو رکھتا ہے، لیکن مجھ پر تیرا غضب نہیں تو مجھے اس کی کچھ پروا نہیں، کیونکہ تیری عافیت میرے لیے زیادہ وسیع ہے، میں تیری ذات کے نور کی پناہ چاہتا ہوں، جس سے سب تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں اور دنیا ودین کے کام اس سے ٹھیک ہوجاتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر اترے یا تیری نارضامندی مجھ پر وارد ہو۔ مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے یا بدی سے بچنے کی طاقت، مجھے تیری ہی طرف سے ملتی ہے۔ (مسلم، عن عائشہؓ، کتاب الجہاد والسیر،حدیث۱۷۹۵، رحمۃ للعالمینؐ،ج۱،ص۷۴، از قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری، مطبوعہ ادارہ، معارف اسلامی،لاہور)

نبوت کے تیرھویں سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنے پر مجبورکردیا گیا۔ ہجرت کی رات آپؐ نے مکہ کی طرف منہ کرکے یہ کہا تھا :’’ اے ارض مکہ! تو اللہ کی بہترین زمین ہے۔ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، تیرے اندر اللہ کا گھر ہے، میں تجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا، مگر تیرے رہنے والوں نے مجھ پر زمین تنگ کردی ہے ‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۵۷۸)۔ ہجرت کا سفر شروع ہوا تو قدم قدم پر مشکلات اور جان کا خطرہ، مگر مجال ہے کسی مقام پر آپؐ  کے قدم ڈگمگائے ہوں یا بد دلی و مایوسی کا اظہار کیاہو۔ محسنِ انسانیتؐ نے ہر مشکل مرحلے میں امیدوں کے چراغ جلائے اور حوصلوں کو مہمیز دی۔ غارِ ثور میں یارِ غار کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ دشمن کھوج لگاتے ہوئے وہاں تک آپہنچے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن آپہنچے ہیں، ہم پکڑے گئے ہیں، مگر آپ نے فرمایا: مَاظَنُّکَ بِاِثْنَیْنِ اَللّٰہُ ثَالِثُہُمَا یَا اَبَابَکْرٍ لَاتَخَفْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا، یعنی  اے ابوبکر!تجھے ان دو کے بارے  میں کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جن کا تیسرا ساتھی خود اللہ ہے، ہرگز نہ ڈرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۵۶۴)۔ اسی مضمون کو سورۂ توبہ میں اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے: ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبۃ۹:۴۰) ’’(یاد کرو)جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا، غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔

 ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں سفر ہجرت کی تفصیلات میں فرماتے ہیں کہ غار کے دھانے پر مکڑی نے فوراً جالا تان لیا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے۔ مشہور شاعر صرصری نے اپنی نعت کے ایک شعر میں لکھا:

فَغَمٰی عَلَیْہِ الْعَنْکَبُوْتُ بِنَسْجِہٖ

وَ ظَلَّ عَلَی الْبَابِ الْحَمَامُ یَبِیْضٗ

(ایضاً، ص۵۶۴-۵۶۵)

سیرت کا مشہور واقعہ ہے کہ اسی سفر ہجرت میں انعام حاصل کرنے کے لالچ میں دیگر مہم جو نوجوانوں کی طرح سراقہ بن مالک بن جعشم بھی آپؐ  کے تعاقب میں نکلا اور آپؐ  کے قریب پہنچ گیا، مگر اس کے گھوڑے کے پاؤں دو مرتبہ زمین میں دھنس گئے۔ وہ خوف زدہ ہوا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی: ’’اے ابن عبدالمطلب! مجھے معاف کردو‘‘۔ آپؐ  نے فرمایا: ’’میں نے تجھے معاف کردیا‘‘۔ اس نے کہا کہ ازراہِ احسان اپنی امان مجھے لکھ کر بھی دے دیجیے۔ اس زمانے میں جو قلم وقرطاس کا زمانہ نہیں تھا اور اس کیفیت میں آپ کو اپنے گھر سے نکال دیا گیاتھا، سفر کی حالت میں یہ مطالبہ بظاہر کتنا عجیب بلکہ مضحکہ خیز نظر آتا ہے، مگر دیکھیے کہ نبیِ رحمتؐ اس حال میں بھی سرتاپا جود وسخا کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ایمرجنسی میں قیصروکسریٰ بھی کسی کو پروانہ لکھ کر نہ دے سکتے، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہؓ(یا بعض روایات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ) سے کہا کہ اسے لکھ کر دے دیجیے۔ چنانچہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر اسے امان   لکھ کر دی گئی۔ اسی موقع پر آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کو یہ خوش خبر بھی سنائی تھی کہ ایک دن شہنشاہِ ایران کسریٰ کے سونے کے کنگن اس کے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔ (البدایۃ والنہایۃ، الاول، ص۵۶۶ -۵۶۷)۔ دیکھیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشکل ترین حالات میں بھی کس قدر جرأت مند، فیاض اور مستقبل کے حالات اور اسلام کی کامیابی سے پرامید تھے۔

ہجرت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ ۲؍ہجری میں ابوجہل کی سرکردگی میں قریش مکہ کا ایک ہزار کا لشکر جرّار پورے سازوسامان سے لیس، مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے باہر ۸۰ میل کے فاصلے پر بدر کے مقام پر اس لشکر کا مقابلہ کیا۔ آپؐ  کے ساتھ صرف۳۱۳جانثار تھے، جن کے پاس نہ تو پورا اسلحہ تھا، نہ ہی جنگی لباس تھا اور نہ کھانے پینے کے لیے وافر خوراک اور راشن ہی تھا۔ اس کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے میدان میں پہنچ کر مختلف مقامات پر اپنے نیزے سے نشان لگائے اور فرمایا کہ قریش کا فلاں سردار اس جگہ اور فلاں اس جگہ قتل ہوجائے گا اور لوگوں نے دیکھا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی۔ کفار کا لشکر بدترین شکست سے دوچار ہوا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مشکل گھڑی میں اتنے ثابت قدم تھے کہ آپ نے کفار سے ذرا برابر مرعوبیت اور خوف محسوس نہیں کیا بلکہ صحابہؓ کو بھی اتنا حوصلہ دیا کہ وہ لشکرجرار سے بے جگری سے لڑے اور ۷۰ کفار کو قتل کرنے کے علاوہ ستر دشمن جنگی قیدی بنا لیے۔ (ایضاً،ص۶۰۸،۶۱۱)

غزوۂ احد، خندق اور حنین سخت ترین معرکے تھے۔ احد میں تو بالخصوص صحابہؓ کی ایک اجتہادی غلطی کے نتیجے میں فتح شکست میں بدل گئی۔ ستر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ آنحضور کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کی لاش کا مُثلہ کیا گیا۔ اس کے باوجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم استقامت کا پہاڑ بنے میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے۔ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: إِذْ تُصْعِدُوْنََ وَلَا تَلْوُوْنََ عَلٰٓی أحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرَاکُمْ فَأَثَابَکُمْ غَمًَّام بِغَمٍّ لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَآ أَصَابَکُمْ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَo (اٰلِ عمرٰن۳:۱۵۳)’’یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمھیں نہ تھا، اور رسول تمھارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔ اس وقت تمھاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمھیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تاکہ آیندہ کے لیے تمھیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمھارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے‘‘۔ 

احادیث میں جنگ ِاُحد کے حوالے سے یہ تذکرہ ملتا ہے کہ آپ میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے اور مسلسل کہہ رہے تھے: اِلََیَّ عِبَادَاللّٰہ (تفہیم القرآن،ج۱،ص۲۹۵)۔ ابوسفیان نے جب پہاڑ کے نیچے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ ہم نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کردیا ہے۔ پھر بڑ ہانکی کہ ہم نے ابوقحافہ کے بیٹے ابوبکرؓ کو بھی قتل کردیا ہے، تو آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خاموش رہو۔ پھر اس نے کہا کہ ہم نے جری جوان عمربن خطاب کو بھی قتل کردیا ہے۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! جواب دو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نَحْنُ کُلُّنَا اَحْیَائٌ نَسْمَعُ کَلَامَکَ یَا عَدُوَّاللّٰہِ،’’یعنی اے دشمن خدا ہم سب زندہ ہیں اور تیرا کلام سن رہے ہیں‘‘۔ پھر اس نے کہا ’’ہُبل سربلند ہوا‘‘اور اس کے ساتھ ہی کہا ’’ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے‘‘۔ اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کہا : اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ لَا سِوَائَ، قَتَلَانَا فِی الجَنَّۃِ وَقَتَلَاکُمْ فِی النَّارِ،’’یعنی اللہ ہی بلندوبالا اور شان والا ہے ۔ بدر کا بدلہ تم کیسے لے سکتے ہو، ہمارے شہدا جنت میں چلے گئے ہیں اور تمھارے مقتولین دوزخ میں۔ ابوسفیان نے کہا اگلے سال پھر ہمارا تمھارا مقابلہ بدر میں ہوگا۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو جواب دو کہ ہمیں یہ چیلنج قبول ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۶۸۶-۶۸۷، تفہیم الاحادیث، ج۶، ص۱۰۷، ستمبر۲۰۰۰ئ)۔اگلے سال آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ بدر کے میدان میں گئے، مگر ابوسفیان اور اس کی فوج کو ہمت نہ پڑی کہ وہ مقابلے کے لیے نکلتے۔

اسی موقعے پر شہدا کی تدفین کے بعد جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس پہنچے تو خبر ملی کہ ابوسفیان پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تاکہ مالِ غنیمت اور قیدی مکہ لے جائے۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو پکارا جو کمال جرأت وعزیمت کے ساتھ تیار ہوکر اللہ کے راستے میں نکلے۔ اس واقعہ کا تذکرہ خود قرآن مجید میں سورۂ آلِ عمران میں اللہ رب العزت نے شان دار الفاظ میں کیا ہے۔ آیت نمبر۱۷۲سے لے کر ۱۷۵ تک صحابہ کرامؓ کو اللہ نے وہ تمغہ عطا فرمایا ہے کہ جس کا کوئی بدل دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب منافقین اور یہودیوں نے اہلِ ایمان کو خوف زدہ کرنا چاہا تو انھوں نے کہا: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ،’’یعنی ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسازہے‘‘۔ ابوسفیان کا ارادہ واقعی واپس پلٹ کے حملہ کرنے کا تھا، مگر صحابہ کی جرأت واستقامت کی خبر پا کر وہ مدینہ کی طرف آنے کے بجاے مکہ کی طرف بھاگ گیا۔ اس جنگ کو غزوۂ حمراء الاسد کہا جاتا ہے۔

غزوہ خندق بھی بہت مشکل مرحلہ تھا۔ سورۃ الاحزاب میں اس کی شدت کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: اِذْ جَآئُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنََ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنََا (الاحزاب۳۳:۱۰) ’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے ، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔  اتنے مشکل حالات میں صادق الایمان اہلِ مدینہ ڈٹے رہے اور خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے محاذ پر قیادت کا حق ادا کرتے رہے۔ آپؐ  کا حوصلہ اتنا بلند اور فکر اتنی عظیم تھی کہ آپؐ  مستقبل کی خوش خبریاں سنا رہے تھے۔ خندق کی کھدائی کے دوران بھی چٹان کو کدال سے توڑتے ہوئے آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو جزیرہ نماے عرب سے باہر کی فتوحات کی بشارتیں دی تھیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے اس جنگ کے دوران نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لن تغزوکم قریش بعد عامکم ہذا ولکنکم تغزونھم،یعنی اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے۔ ‘‘(دلائل النبوۃ للبیہقی، ج۳،ص۴۵۸)

غزوۂ حنین اور غزوۂ تبوک کے واقعات بھی قرآن وسنت میں تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں مشکل مرحلے تھے، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے میدان میں بھی پیچھے ہٹنے کے بجاے آگے بڑھ رہے تھے اور مسلسل فرمارہے تھے: اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ، اَنَا بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۔ اسی طرح غزوۂ تبوک میں بھی جب صحابہؓ نے کچھ سستی دکھائی تو اللہ نے بھی سورۂ توبہ میں ان کو جھنجھوڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت موثر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپؐ  نے کہا: ’’اگر کوئی بھی قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ نکلا تو میں تن تنہا (اللہ کے بھروسے پر) اس کے مقابلے کے لیے نکلوں گا اور اسے عرب کی سرحد پر جا کر روکوں گا‘‘۔ (البدایۃ والنہایۃ ، المجلدالاول، ص۹۰۴)

 سیرت کے یہ سارے واقعات امت کو حوصلہ دینے، پرامید رہنے اور ہمیشہ کمرِ ہمت باندھے رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آج امت کے ہر چھوٹے بڑے کو شدید ضرورت ہے کہ وہ سیرت کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے کرے کہ ان پُرآشوب حالات میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے کیا درس فراہم کرتی ہے۔ قرآن کا حکم ہے: وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘۔ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۳۹)۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک ایک ورق اس آیت کی عملی تفسیرہے۔ دنیا سے قیصروکسریٰ کی نام نہاد سپریمیسی ہمارے اسلاف نے ختم کردی تھی۔ آج ہم انھی کے اَخلاف ہونے کے باوجود ، دورِ جدید کی نام نہاد سپر طاقتوں سے مرعوب اور اپنی حقیقت سے بے خبر ہیں، نہ وہ روح ہے ، نہ سوچ، نہ ایمان ہے نہ سوزویقین۔ بس اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اسلام دنیا کا غالب دین بن کر رہے گا:

خداے لم یزل کا دستِ قدرت  ُتو ، زباں  ُتو ہے

یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے

مٹایا قیصروکسریٰ کے استبداد کو جس نے

وہ کیا تھا ، زورِ حیدرؓ ، فقرِ  ُبوذرؓ ، صدقِ سلمانیؓ

 

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُونٹنی کا نام قصواء تھا۔قصواء اس اُونٹنی کو کہتے ہیں جو مالک کے نزدیک انتہائی محبوب ہو اور اس محبت کی وجہ سے اس کا مالک اسے کام اور بوجھ ڈھونے سے آزاد کردے اوردوسری اُونٹنیوں کی طرح اسے چرنے کے لیے چراگاہ نہ بھیجے ۔قصواء اس اُونٹنی کو بھی کہتے ہیں جس کے کان یا ناک یا ہونٹ کا کوئی حصہ کٹا ہوا ہو مگر رسولِ اکرمؐ کی اُونٹنی قصواء اس طرح کے کسی عیب سے پاک تھی۔قصواء نامی مبارک اُونٹنی رسولِ اکرمؐ کو بہت محبوب تھی۔ اس محبت کی وجہ یہ تھی کہ قصواء اُونٹنی نہایت فرماں بردار اورشریف الطبع تھی۔ اسلامی تاریخ میں’ قصواء اُونٹنی‘ کا بڑامقام ہے۔

قصوا ء قبیلہ بنی قشیر کی چراگاہوں میں پیدا ہوئی۔ اس کی رنگت سرخی مائل تھی۔ جب قصواء چارسال کی ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اسے بنی قشیر سے ۸۰۰ درہم کے عوض خرید لیا۔سیرت کی کتابوں میں ہے کہ جب رسولِ اکرمؐ نے صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دی تو اکثر صحابہ کرامؓ  ہجرت کرگئے مگر آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہجرت سے یہ کہہ کر روکے رکھا کہ شاید اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کسی ساتھی کا انتظام کردے۔ یہ سن کرحضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہجرت کی تیاری شروع کردی اور بنی قشیر سے دو تیز رفتار اورطاقت ور اُونٹیاں خرید لیں۔ ان دو اُونٹیوں میں سے ایک قصواء تھی۔

بخاری میں ہے کہ ہجرت کے وقت رسولِ اکرمؐ اور صدیق اکبرؓ نے غار میں پناہ لی۔   تین دن کے بعد جب روانگی کا وقت آیا تو صدیق اکبرؓ نے رسولِ اکرمؐ کی سواری کے لیے اُونٹنی  پیش کرتے ہوئے فرمایا:اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ پر میرے ماں باپ قربان، آپؐ ان دو اُونٹیوں میں سے کوئی ایک پسند فرمالیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں ! مگر میں اس کی قیمت ادا کروں گا۔ صدیق اکبرؓ نے جو اُونٹنی رسولِ اکرمؐ کو فروخت کی اس کا نام قصواء رکھا گیا۔ آپؐ نے اس کی قیمت ادا کی ، پھر اس پر سوار ہوکر مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔

علماے کرام ؒ کا کہنا ہے کہ سفر ہجرت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اُونٹنی خریدنے میں حکمت یہ ہے کہ رسولِ اکرمؐ چاہتے تھے کہ اس مبارک اور تاریخی سفر ہجرت میں آپؐ اپنی جان ومال سے ہجرت فرمائیں۔ قصواء کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپؐ نے اس پر سوار ہوکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا وہ عظیم سفر کیا جسے اسلامی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔

اس سفر کے بعد قصواء اُونٹنی کو شرف ورفعت کی کئی منزلیں ملیں۔

مدینہ منورہ پہنچ کر رسولِ اکرمؐ نے قبا میں قیام فرمایا ۔ پھر رسولِ اکرمؐ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا جہاں پہنچنے پر مدینہ منورہ کی بچیوں نے دف بجا کر رسولِ اکرمؐ کا استقبال کیا۔ اس مبارک سفر میں بھی رسولِ اکرمؐ قصواء پر سوار تھے۔

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں:’’انصار اگرچہ دولت مند نہ تھے لیکن ہر ایک کی یہی آرزو تھی کہ رسولِ اکرمؐ اس کے ہاں قیام فرمائیں۔ چنانچہ آپؐ انصار کے جس مکان یا محلے سے گزرتے وہاں کے لوگ آپؐ کی اُونٹنی کی نکیل پکڑ لیتے اور عرض کرتے کہ تعدادوسامان اور ہتھیار وحفاظت فرشِ راہ ہیں، تشریف لائیے مگر رسولِ اکرمؐ فرماتے کہ اُونٹنی کی راہ چھوڑ دو، یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ (الرحیق المختوم، ص ۲۴۱)

مطلب یہ ہے کہ قصواء اُونٹنی توفیق الٰہی سے چل رہی ہے ، اس کی راہ چھوڑ دو، اسے جہاں حکم ہوگا وہیں بیٹھ جائے گی۔ نیز اُونٹنی کے بیٹھنے کے مقام پر ہی مسجد نبویؐ کی تعمیر ہوگی اور وہیں رسول ؐاللہ قیام فرمائیں گے۔

یہ سن کر سب قصواء کی راہ سے ہٹ گئے اور حیرت واستعجاب سے اس کی حرکات وسکنات کا جائزہ لیتے رہے۔ قصواء چلتی رہی یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ کر بیٹھی جہاں آج مسجد نبویؐ ہے لیکن رسولِ اکرمؐ نیچے نہیں اُترے۔ قصواء دوبارہ اٹھی ، تھوڑی دور گئی ، مڑکر دیکھنے کے بعد دوبارہ اسی مقام پر آکر بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپؐ نیچے تشریف لے آئے۔ یہ آپؐ کے ننھیال والوں، یعنی بنی نجار کا محلہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ننھیال میں قیام فرماکر رسولِ اکرمؐ کی عزت افزائی کرنا چاہتے تھے۔ اب بنونجار کے لوگوں نے میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے لیے رسولِ اکرمؐ سے عرض کیا مگر حضرت ابوایوب انصاریؓ نے لپک کر قصواء سے کجاوہ اٹھالیا اور اپنے گھر لے گئے۔اس پر رسولِ اکرمؐ نے فرمایا:’’آدمی اپنے کجاوے کے ساتھ ہے‘‘ ۔ چنانچہ حضرت ابوایوب انصاریؓ کو رسولِ اکرمؐ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ادھر حضرت سعد بن زرارہ ؓ نے آکر قصواء کی نکیل پکڑ لی چنانچہ     اس مدت کے دوران قصواء ان کے پاس رہی۔

اللہ تعالیٰ نے قصواء کو وہ طاقت وقوت عطا کی کہ وہ وحی کے بار کو برداشت کرسکے۔  علماے کرام کہتے ہیں کہ یہ واحد سواری تھی جو وحی کا بار برداشت کرسکتی تھی۔ آپؐ اس پر سوار ہوتے اور اچانک آپؐ پروحی کا نزول ہوتا تھا۔وحی کے نزول کے وقت آپؐ کا جسم اطہر اپنے وزن سے  کئی گنا بھاری ہوجاتا تھایہاں تک کہ اس کی تاثیر ارد گرد کی چیزوں پر بھی ہوتی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ  فرماتی ہیں:’’رسولؐ اللہ اپنی اُونٹنی پرسوار ہوتے اور اچانک وحی کا نزول ہوتا۔ وحی کا اتنا بوجھ ہوتاتھا کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا گویا قصواء کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی ‘‘۔

وحی کے بوجھ کا اندازہ لگانے کے لیے ایک اور روایت پیش خدمت ہے۔ ایک مرتبہ آپؐ  حضرت زید بن ثابتؓ کی ران پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے تھے کہ اچانک وحی کا نزول شروع ہوگیا۔ سیدنا زید کہتے ہیں:’’اللہ کی قسم ! قرآن کے بوجھ سے قریب تھا کہ میری ہڈی ٹوٹ جاتی۔ میں سمجھا کہ آج کے بعد میں اپنے پیروںپر نہیں چل سکتا‘‘ ۔

قصواء کو یہ شرف حاصل ہے کہ اسے پانچ اہم مواقع میں شرکت نصیب ہوئی۔ رسولِ اکرمؐ غزوۂ بدر کے لیے اسی پر سوار ہوکرتشریف لے گئے۔ صلح حدیبیہ ، عمرہ قضا، فتح مکہ اور حجۃ الوداع کے سفرمیں بھی قصواء شریک تھی۔

فتح مکہ کے موقعے پر رسولِ اکرمؐ مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ تواضع اور انکساری سے آپؐ کا سر جھکاہوا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے اس قدر سر جھکالیا کہ سراقدس قصواء کے کوہان سے لگ رہا تھا۔ جب آپؐ مسجد الحرام میں فاتح بن کر داخل ہوئے تب بھی آپؐ قصواء پر سوار تھے۔ اس وقت بیت اللہ کے گرد۳۶۰ بت تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ آپؐ کمان سے بتو ںکو مارتے اور فرماتے:’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا،باطل جانے والی چیز ہے ‘‘۔آپؐ کی ٹھوکرسے بت اوندھے منہ گرپڑتے۔ آپؐ نے قصواء پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف فرمایا۔  

آپؐ جب کسی صحابی کو کسی اہم مہم کے لیے اپنا سفیر بناکر روانہ کرتے تو اسے قصواء پر بھیجتے تھے۔ ذو القعدہ ۹ہجری کو نبی کریمؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو امیر الحج بناکر مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ قافلے کی روانگی کے بعد سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوتی ہیںجن میں مشرکین سے کیے گئے عہد وپیمان کو برابری کی بنیاد پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کے آجانے کے بعد رسول اکرمؐ نے حضرت علی ؓ کو روانہ فرمایاتاکہ وہ آپؐ کی جانب سے اعلان کردیں۔خون اور مال کے عہد وپیمان میں عربوں کا دستور تھا کہ آدمی یا تو خود اعلان کرے یا اپنے خاندان کے کسی فرد سے اعلان کروائے۔ خاندان سے باہر کے کسی آدمی کا کیا ہوا اعلان تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ آپؐ نے حضرت علیؓ کو قصواء پر سوار کیا اور مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی  ؓ قصواء پر سوار ہوکر جب حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتے ہیں تونماز کا وقت ہوگیاتھا۔ تکبیر کہی گئی تھی اور حضرت ابوبکرؓجماعت کی امامت کرنے کے لیے آگے بڑھے ہی تھے کہ قصواء کی آواز سنائی دی۔ حضرت ابوبکر ؓ جو تکبیر کہنے والے تھے، رُک گئے اور فرمایا: ’’یہ قصواء کی آواز ہے، شاید آپﷺ خود تشریف لائے ہیں‘‘۔ جب قصواء قریب آتی ہے تو اس پر سوار بھی نظر آجاتے ہیں۔

دوسری روایت کے مطابق حضرت علیؓ کی حضرت صدیق اکبرؓ سے ملاقات عرج یا وادیِ ضجنان میں ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے سیدنا علیؓ کو قصواء پر سوار دیکھا تودریافت کیا:امیر ہو یا مامور؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: مامور۔ پھر دونوں آگے بڑھے۔

حضرت ابوبکرؓ نے امیر الحج کی حیثیت سے لوگوں کو حج کرایا۔ دسویں تاریخ، یعنی قربانی کے دن حضرت علیؓ نے قصواء پر سوار ہوکر جمرہ کے پاس لوگوں میں وہ اعلان کیا جس کا حکم رسولؐ اللہ نے دیاتھا۔ تمام عہد والوں کا عہد ختم کردیا اور انھیں چارمہینے کی مہلت دی۔ جن کے ساتھ عہد وپیمان نہیں تھا، انھیں بھی چارمہینے کی مہلت دی۔ جن مشرکین نے مسلمانوں سے عہد نبھانے میں کوتاہی نہیں کی، نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد کی، تو ان کا عہد ان کی طے کردہ مدت تک برقرار رکھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے صحابہ کی ایک جماعت بھیج کر یہ اعلانِ عام کروایا کہ آیندہ کوئی مشرک حج نہیں کرسکتا ،نہ کوئی بے لباس ہوکر بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہے۔ یہ اعلان گویا جزیرہ عرب سے بت پرستی کے خاتمے کا اعلان تھا۔

مختلف مہمات کے علاوہ سفر وحضر کے دوران بھی اکثر وبیشتر صحابہ کرام ؓ ، رسولِ اکرمؐ کے ساتھ قصواء پر سوار ہوئے۔ حجۃ الوداع کا سفر بھی آپؐ نے قصواء پر کیا۔روایات میں آتا ہے کہ ۹ذوالحجہ کو آپؐ کے حکم پر قصواء پر کجاوہ کسا گیا اور آپؐ  بطن وادی میں تشریف لے گئے جہاں ایک لاکھ ۲۴ہزار یا ایک لاکھ ۴۴ ہزار صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ آپؐ نے وہاں ایک جامع خطبہ دیا۔ یہ خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے معروف ہے۔ یہ مساواتِ انسانیت اور ذات پات کے خاتمے کا اولین چارٹر ہے۔ قصواء کو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر یہ جامع خطبہ ارشاد فرمایا: ’’لوگو! میری بات سنو۔ میں نہیں جانتا کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی مل سکوں۔ تمھارا خون اور تمھارامال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمھارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور اس شہر کی حرمت ہے۔سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی۔

عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیوں کہ تم نے انھیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے ۔

میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھاتو تم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔

تم سے میرے بارے میں پوچھا جانے والا ہے، توتم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہؓ نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچادیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرمادیا۔ یہ سن کر  آپؐ نے انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔

واضح رہے کہ رسولِ اکرمؐ کے تمام خطبات میں یہ خطبہ جو حجۃ الوداع کے موقعے پر ارشاد فرمایا گیا ، آپؐ کا طویل ترین خطبہ ہے۔

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں: ’’خطبہ ارشاد فرمانے اور ظہر وعصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپؐ جاے وقوف پر تشریف لے گئے۔ قصواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا اور جبل مشاۃ کو سامنے کیا اور قبلہ رخ وقوف فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔اس کے بعد رسولِ اکرمؐ قصواء پر سوار ہوئے اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کو پیچھے بٹھایا۔وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے‘‘۔

رسولِ اکرمؐ کو قصواء اس قدر محبوب تھی کہ اسے دیگر اُونٹنیوں کی طرح کھونٹے سے باندھ کر نہیں رکھا جاتاتھا بلکہ اسے کھلا چھوڑا جاتا تھا۔ قصواء کا دائمی مسکن جنت البقیع کے قریب ایک چراگاہ تھی۔ قصواء وہاں قرب وجوار کی جھاڑیوں سے چرتی تھی۔رسولِ اکرمؐ قصواء کو پیار سے کبھی ’جدعائ‘ بھی کہہ کر بلاتے۔ کبھی ’قضبائ‘ اور کبھی’ عصباء ‘کہتے۔گویا یہ سب قصواء کے نام ہیں۔قصواء کو  اُونٹوں کے دوڑ کے مقابلوں میں بھی کبھی کبھار شریک کرایا جاتا تھا۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں:’’جب کبھی قصواء کو اُونٹوں کے مقابلوں میں شریک کروایا گیا تو قصواء دوڑ میں ہمیشہ بازی لے گئی‘‘۔

حضرت سعید بن المسیبؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوڑ کے مقابلے میں قصواء پیچھے رہ گئی اور دوسری اُونٹنی اس پر سبقت لے گئی۔ اس پر مسلمانوں کو افسوس ہوا ۔ جب نبی کریمؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے فرمایا:’’دنیا کی چیزوں میں جس چیز کو لوگ بہت زیادہ بلند مقام دینے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس کے مقام سے گراتا ہے‘‘۔

قصواء رسولِ اکرمؐ کی خدمت میں۱۱سال تک رہی۔ آپؐ کی وفات جہاں تمام صحابہ کرامؓ کے لیے عظیم صدمہ تھا وہاں قصواء کے لیے بھی حضوؐر کی وفات کسی بڑی مصیبت سے کم نہ تھی۔  صحابہ کرام ؓ اس صدمے سے نکل آئے مگر قصواء کو رسولِ اکرمؐ کی جدائی برداشت نہ ہوسکی۔ شدتِ غم کی وجہ سے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔ قصواء نے کھانا پینا ترک کردیا۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے ر ہتے تھے، یہاں تک صحابہ کرامؓ نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ رسولِ اکرمؐ کی وصال کے بعد قصواء پر کوئی سوار نہ ہوا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ قصواء بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔

 

 

۲۰۱۱ء میں عالم عرب کے کئی ممالک میں آمریت سے نجات کی لہر اُٹھی۔ تیونس، مصر، لیبیا، شام اور یمن میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ان میں سے ہر ملک کے حالات مختلف اور تفصیل طلب ہیں۔ اس لیے اختصار کی خاطر صرف شام ہی کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ شامی عوام ۱۹۶۵ء سے    حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد کے جابرانہ قہر و تسلط کا شکار ہیں۔ اس دوران وہاں ان پر وہ مظالم توڑے گئے کہ بیان کرتے ہوئے پتھر سے پتھر دل بھی تھرا جائیں، لیکن عوام نے مسلسل صبر سے کام لیا۔ تیونس اور مصر میں عوام کو عارضی رہائی ملی، تو شامی عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ لیبیا کے سفاک حکمران کی طرح بشار الاسد نے بھی پُرامن مظاہرین پر بارود کی بارش کردی۔ لیبیا تیل کے سمندر پر واقع ایک بڑا ملک تھا۔ ناٹو افواج میدان میں کود پڑیں اور قذافی پر پل پڑیں۔ وہاں کھیل ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ اسلامی قوتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ملک کے ایک حصے کو مسلسل انتشار کا شکار رکھا جارہا ہے۔ لیکن ملک کا ایک بڑا علاقہ جنگ سے محفوظ ہے۔

شام مقبوضہ فلسطین کے پڑوس میں واقع ایک اہم تاریخی ملک ہے۔ اس کے ایک حصے جولان (گولان) پر صہیونی ریاست نے قبضہ کررکھا ہے۔ شامی حکومت نے ایک سیاسی کارڈ کے طور پر ہی سہی مختلف فلسطینی تنظیموں کو وہاں رہنے کی اجازت دے رکھی تھی اور اس حقیقت سے بھی سب آشنا ہیں کہ صہیونی ریاست کو جب بھی حقیقی خطرہ لاحق ہوگا، اس میں شام کا کردار بہت اہم ہوگا۔ اس لیے بشار الاسد کو تحفظ دیتے ہوئے شام کو مکمل تباہی کا نشانہ بنادیا گیا۔

گذشتہ چار سال سے جاری شام کی خانہ جنگی نہ صرف اب ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرگئی ہے، بلکہ اس آگ میں فرقہ واریت اور علاقائی نفوذ کی دوڑکا تیل بھی چھڑکا جارہا ہے۔لیبیا میں قذافی کے خاتمے کے لیے ناٹو افواج آن دھمکی تھیں۔ بدقسمتی سے شام میں بشار کو بچانے کے لیے ایرانی افواج میدان میں ہیں۔ پہلے اسے ایک الزام کہا جاتا تھا، اب اس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جارہا ہے۔ روس بھی اپنے اسلحے اور کامل سیاسی سرپرستی کے ساتھ بشار کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکا اور سعودی عرب بشار کی مخالفت کررہے ہیں، لیکن عملاً شامی عوام کی ایسی کوئی مدد نہیں کررہے کہ وہ بشار سے نجات حاصل کرسکیں۔ پڑوسی ہونے کے ناتے ترکی پر لاکھوں شامی مہاجرین کا اتنا بوجھ آن پڑا ہے کہ شامی عوام کی کوئی عسکری معاونت اس کے بس میں نہیں رہی، اور نہ زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا ارادہ ہے کہ بشار کے مقابل لڑتے لڑتے بالآخر ایران کے مقابل ہی  آن کھڑا ہو۔ اس ساری صورت حال کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ گذشتہ چار برس میں شام عملاً کھنڈرات کی شکل اختیار کر گیاہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد بے گناہ عوام جن میں ہزاروں بچے شامل ہیں، شہید ہوچکے ہیں۔ تقریباً ۲ کروڑ عوام دربدری پر مجبور ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود بشار انتظامیہ، اب بھی ان پر یوں بمباری کرتی ہے، جیسے شاید کسی جنگ کے دوران میں بھی نہ کی جاتی ہو۔

سفاکی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے تباہ کن بموں کی بارش سے تسکین نہیں ہوتی تو بارود سے بھرے ٹینکر فضا میں لے جا کر اپنے مخالف عوام پر برسادیے جاتے ہیں۔ نام نہاد مہذب دنیا اس سارے ظلم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔امریکا ایک بار اور صرف اس وقت کچھ حرکت میں آیا جب بشار انتظامیہ نے کیمیائی بم پھینک کر سیکڑوں معصوم بچے شہید کردیے۔ اس وقت چند روز میں ایسی فضا بنادی گئی کہ گویا اگلے ہی روز ساری دنیا بشار پر پل پڑے گی اور عوام کو سُکھ کا سانس نصیب ہوگا۔ لیکن امریکا کا اصل ہدف عوام کی مدد یا خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں، شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ تھا جو مستقبل میں کسی بھی وقت اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ وہ دن اور آج کا دن عالمی تفتیش کار ان کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش و تدفین میں مصروف ہیں۔ بشار بھی وہیں، ا س کے مظالم بھی وہی اور مظلوم عوام کی بربادی بھی اسی طرح جاری و ساری۔

داعش: قیام اور پس منظر

اس ماحول میں گذشتہ سال، یعنی ۲۰۱۳ئمیں اچانک وہاں ایک مسلح گروہ سامنے آیااور  تین سالہ قربانیوں کے بعد بشار انتظامیہ سے آزاد ہوجانے والے علاقوں میں اپنی اسلامی ریاست: الدولیۃ اسلامیۃ کے قیام کا اعلان کردیا۔ پھر ۲۰۱۴ء کے وسط میں اس کی کارروائیوں کا دائرہ عراق کے کئی علاقوں تک پھیل گیا اور ریاست، ریاست اسلامی در عراق و شام: الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق و الشام (داعش) میں بدل گئی۔ حیرت انگیز طور پر اس کی کارروائیوں کے سامنے عراق کے اہل سنت اکثریتی علاقوں میں موجود عراقی فوج، جن کا ۹۹ فی صد شیعہ مذہب کا پیروکار تھا، بلاادنیٰ مزاحمت اپنا جدید ترین اسلحہ چھوڑتے ہوئے پسپا ہوگئی۔

بدقسمتی سے عراق میں امریکی افواج کی آمد کے بعد وہاں عرب کرد اور شیعہ سنی تقسیم اتنی گہری کردی گئی ہے کہ نوری المالکی کی شیعہ افواج کے مقابلے میں ایک سُنّی مسلح گروہ کا کامیاب ہونا، آغاز کار میں سنی عوام کو اپنی فتح یابی محسوس ہوا۔ قبائلی سرداروں، ان کے مسلح جتھوں اور   صدام حسین کے سابق فوجیوں نے بھی داعش کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق چند ہفتوں میں ہی داعش نے سب سے اپنی بیعت پر اصرار کرتے ہوئے اپنے ہرمخالف کی گردن اُڑانا شروع کردی۔ عمومی احکام شریعت کے بارے میں بھی کوئی دوسری راے رکھنے والوں کو اسی انجام سے دوچار ہونا پڑا۔

عراق میں الاخوان المسلمون کے ایک بزرگ رہنما، اخوان کی سیاسی تنظیم ’حزب اسلامی‘ کے سابق سربراہ اور بغداد یونی ورسٹی کے علاوہ عالم عرب کی کئی جامعات میں شریعت اسلامی کے سابق پروفیسر، ڈاکٹر محسن عبدالحمید نے راقم سے ایک حالیہ ملاقات میں بتایا کہ داعش کے خلیفہ  ابوبکر البغدادی کا نام ایاد السامرائی ہے اور وہ ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ کسی نے جنابِ بغدادی سے پوچھا کہ آپ کے استاد ڈاکٹر محسن عبد الحمید نے آپ کی بیعت نہیں کی، اگر وہ آپ کے ہاتھ آگئے تو کیا آپ انھیں بھی ذبح کردیں گے؟ خلیفہ صاحب نے جواب دیا: بہرحال وہ میرے استاد ہیں، میں خود تو انھیں ذبح نہیں کروں گا، لیکن اگر میرے کسی ساتھی نے ایسا کردیا تو میں اسے منع نہیں کروں گا۔ داعش کا فکر و فلسفہ جاننے کے لیے شاید اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

اس سب پر مستزاد یہ کہ شام اور عراق میں داعش کی ۸۰ فی صد کارروائیوں کا نشانہ وہی عوام بنے اور بن رہے ہیں، جو پہلے ہی بشار الاسد اور مذہبی منافرت کے ہاتھوں بدترین مظالم کا شکار تھے۔ داعش بشار کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کرتی ہے لیکن اس کی سب سے زیادہ کارروائیاں خود بشار کے خلاف برسرپیکار مختلف جہادی تنظیموں ہی کے خلاف ہورہی ہیں۔ المناک حقیقت یہ ہے کہ داعش عراق اور شام میں اخوان اور اس کی برادر تنظیموں کو بالخصوص کارروائیوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ دونوں جگہ اس کے ہاتھ ایسے ایسے قیمتی، باصلاحیت اور اللہ کے رنگ میں رنگے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہیں کہ کسی کلمہ گو انسان کے ہاتھوں ان کی شہادت کا سنیں، تو کانوں کو یقین نہ آئے۔

چند غور طلب پھلو

عراق اور شام کی اس صورت حال نے کئی اہم سوال اور نکات پیدا کردیے ہیں:

  •  شام اور عراق میں مسلح گروہ تو وہاں امریکی قدم پہنچنے کے بعد سے ہی وجود میں آنا شروع ہوگئے تھے۔ کئی تنظیمیں براہِ راست امریکی استعمار سے مقابلے کے لیے ہی وجود میں آئیں۔ ان سب کو کسی عالمی ابلاغیاتی مہم کے ذریعے اتنا نمایاں نہیں کیا گیا، جتنا داعش کی تنظیم کو چند ہفتوں کے اندر بڑھا چڑھا کر پیش کردیا گیا۔
  •  فوراً ہی ۴۰کے قریب ممالک کو جمع کرتے ہوئے اس کے خلاف ایک عالمی بلاک بنادیا گیا اور ۵۵۰؍ ارب ڈالر کی خطیر رقم اس کے مقابلے کے لیے مختص کردی گئی جس کا زیادہ حصہ خود مسلمان ملکوں ہی سے وصول کیا جائے گا۔
  •  چند ہزار افراد سے جنگ کے لیے خطیر بجٹ ساتھ ہی یہ بھی اعلان کردیا گیا کہ یہ جنگ آیندہ ۱۰ برس تک جاری رہے گی۔
  •  ایک طرف داعش سے اتنی بڑی جنگ لڑی جارہی ہے اور دوسری طرف اسی سے تیل کے اہم عراقی کنوؤں سے نکالا جانے والا تیل بلیک مارکیٹ میں خریدا جارہا ہے۔
  •  اگرچہ خود عراق و شام میں اس کے قبضے میں آنے والے علاقوں میں ابھی سب نے اس کی بیعت نہیں کی، لیکن تقریباً ہر مسلم ملک کے درو دیوار پر کوئی جناتی ہاتھ ’داعش‘ کا خیر مقدم کررہا اور خلیفہ البغدادی کو پکار رہا ہے۔ لیبیا اور مصر کے بعض علاقوں میں تو اس کا باقاعدہ ظہور بھی ہوچکا ہے۔

l ۴۰ممالک کے داعش مخالف بلاک اور ۵۵۰؍ ارب ڈالر کے بجٹ کے بعد بھی داعش کے خلاف فوجی کارروائیاں صرف فضائی حملوں تک محدود ہیں۔ خود امریکی عسری ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جب تک زمینی کارروائیاں نہ کی گئیں یہ فضائی حملے بے ہدف اور بے مقصد رہیں گے۔ لیکن اس فوجی حکمت عملی کی بلی بھی اس وقت تھیلے سے باہر آگئی جب امریکا بہادر دُہائیاں دینے لگا کہ زمینی کارروائیاں ناگزیر ہوگئیں۔ ہم بوجوہ یہ کارروائیاں نہیں کرسکتے، پڑوس میں واقع ترکی اگر واقعی دہشت گردی کے خلاف ہے تو اپنی زمینی افواج شام میں اتارے۔ گویا اصل مقصد ترکی کو پرائی آگ میں جھونکتے ہوئے اس کا خون بھی مسلسل نچوڑنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ترکی اس پھندے میں نہیں پھنسا۔

یہ اور اس طرح کے کئی بنیادی پہلو ہر واقف حال کو اصل حقائق سے قریب تر پہنچا دیتے ہیں۔ لیکن ان سوالات و حقائق کا مطلب یہ بھی نہیں کہ داعش یا مماثل مسلح تنظیموں کے سب افراد  کسی کے ایجنٹ یا کارندے ہیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ان تنظیموں کے وابستگان کی غالب اکثریت مخلص، نیکوکار اور حصول جنت کی خاطر جان پر کھیل جانے والوں پر مشتمل ہے۔ البتہ ان تمام مخلص و فداکار افراد کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صرف اخلاص کا ہونا حقانیت کی دلیل نہیں ہوتا۔ خوارج کی اکثریت مخلصین پر مشتمل تھی لیکن تاقیامت فتنے کاشت کرگئی۔ انھیں یہ چند سوال بھی ضرور اپنے سامنے رکھنا چاہییں:

  •  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کس ہستی نے اپنے قول یا فعل سے یہ تعلیم دی کہ چند افراد اُٹھیں اور ہتھیاروں کے زور پر باقی ساری اُمت کو اپنی بیعت کا حکم دیں اور نہ ماننے پر قابل گردن زدنی قرار دیتے ہوئے اُنھیں ذبح کرنا شروع کردیں۔
  •  اگر تلوار اور توپ کے ذریعے ہی پوری قوم یا اُمت کو زیر اطاعت لانا شریعت قرار پائے تو آخر اس میں اور بدترین ڈکٹیٹر شپ میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
  •  اپنے دشمنوں ہی نہیں اپنے مخالفین کو بھی تہ تیغ کرتے چلے جانے اور اپنے ہم وطن غیرمسلموں کی خواتین کو باندیاں بنا کر پیش کرنے سے دنیا کے سامنے اسلام کا کیا تعارف اور کیا تصور پیش کیا جارہا ہے؟
  •  شریعت چند القابات یا اصطلاحات کا نام نہیں۔ مقاصد شریعت میں جان مال، عزت آبرو، بنیادی انسانی آزادیوں کی حفاظت، شورائیت اور مساوات جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔ کیا ہم صرف چند الفاظ اور خوش کن اصطلاحات کے اسیر ہو کر تمام مقاصد شریعت کا خون تو نہیں کررہے۔

عالمی امن اور امریکا کا کردار

دوسری جانب خود امریکا اور عالمی برادری کو بھی یہ ضرور بتانا ہوگا کہ:

  •  نائن الیون کی آڑ میں اور القاعدہ کے نام پر تقریباً ۱۴ سالہ جنگ کے نتائج مزید تباہی کے علاوہ کیا نکلے؟ گوانتانامو میں تذلیل آدمیت، اُسامہ بن لادن سمیت ہزاروں القاعدہ ممبروں کی جان لینے، افغانستان اور عراق میں اَربوں نہیں کھربوں ڈالر جنگ اور ہلاکت کی بھٹی میں جھونک دینے کے بعد بھی کیا یہ حقیقت نہیں کہ دنیا آج مزید غیر محفوظ ہوچکی ہے؟
  •  اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ اب ’داعش‘ کا ہوّا کھڑا کرکے ۴۰ممالک کا بلاک بناکر اور ان سے سیکڑوں اَرب ڈالر اس جنگ میں بھسم کروا دینے کے بعد، اس ساری جنگ کے نتائج     نائن الیون کی آڑ میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے مختلف نکلیں گے۔
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کے وہ نقشے جو خود امریکی دفاعی وتحقیقی اداروں نے شائع کیے، ان میں خطے کے تمام مسلم ممالک کو مزید تقسیم در تقسیم کرتے ہوئے صرف صہیونی ریاست کی سرحدیں مزید وسعت پزیر دکھائی گئی ہیں۔ اس نقشے پر عمل درآمد کے پہلے قدم کے   طور پر عراق اب عملاً تین الگ الگ ریاستوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان و عراق پر قبضے کے بعد امریکی دانشوروں نے ایک پالیسی کے طور پر ’’خود ساختہ و منظم فتنہ و فساد’الفوضی الخلاقہ‘ جیسی اصطلاحیں متعارف کروائیں۔  آج مشرق وسطیٰ سمیت اکثر مسلم ممالک میں مستقل، مسلسل اور ’منظم‘ فتنہ و فساد اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کیا یہ ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کا نیا ورژن ہے؟
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ خود امریکی پالیسیاں عالم اسلام میں پائے جانے والے اس غم و غصے کا اصل سبب ہیں جو مختلف علاقوں اور مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ فلسطین و کشمیر پر قابض افواج کی مکمل سرپرستی، مصر، شام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں عوام کی آزادیاں سلب کرتے ہوئے ان پر مسلط بدترین ڈکٹیٹرشپ کی کامل پشتیبانی، عراق و افغانستان پر براہِ راست قبضہ اور مختلف مسلم ممالک پر بلا تردد ڈرون حملے وہ ایندھن ہے جو دنیا میں اشتعال کا سبب بن رہا ہے۔ امریکا واقعی دہشت گردی کا شکار اور اس کے خلاف جنگ میں مخلص ہے تو کیوں وہ آگ ہی نہیں بجھا دیتا،  جس سے دھواں اُٹھتا اور اُٹھ سکتا ہے۔
  • کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکا میدان جنگ و جدال کے علاوہ اپنی اصل جنگ تعلیم، ثقافت اور تہذیب کے میدان میں لڑ رہا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے ذریعے بلامبالغہ کھربوں ڈالر کا بجٹ مسلم معاشروں میں اباحیت اور اخلاقی تباہی کو ترویج دینے پر خرچ کیا جارہا ہے۔ اس کی یہ کھلی جنگ مسلم نوجوانوں میں پائے جانے والے اضطراب کو مزید ہوا دیتی اور انھیں کسی بھی مخالف انتہا تک لے جانی کا باعث بن سکتی ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ یہ نہیں کہ دنیا پر مسلط اپنی اس تہذیبی دہشت گردی کو ختم کیا جائے؟

دنیا اب ایک عالمی بستی ہے۔ اس کی کوئی بھی روش اب یک طرفہ اور بلا ردعمل نہیں رہتی۔ اس عالمی بستی کے سب باسی ایک دوسرے سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ بحیثیت انسان اگر ہم اپنا اور دنیا کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہم سب کو اپنے اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ آج کی دنیا میں اگر کوئی ایک فریق بھی ظلم، ہٹ دھرمی اور قتل و غارت پر بضد رہا تو یقینا وہ خود بھی اس کا نشانہ بن کر رہے گا۔ ایک مسلمان ہونے کے ناتے حقیقی ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم خود بھی حق شناس بنیں اور ظلم و ہلاکت پر تلی دنیا کو بھی حق سے آشنا کرتے رہیں۔ آج کی دنیا میں جان پر کھیل جانا یا دوسروں کی جان لے لینا کوئی بڑا کمال نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ ہم اسلام کا روشن اور حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔

بحیثیت مسلمان ہمیں ہر دم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خالق اپنے بندوں کی کمزوریاں بھی جانتا ہے اور ان کی ضروریات و مشکلات بھی۔ دلوں کے راز اور ذہنوں کے خیالات سے باخبر ہستی جانتی ہے کہ راہ ہدایت انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہدایت نصیب ہوجائے تو تیروں سے چھلنی اور تختۂ دار پر جھول جانے والا بھی پکار اٹھتا ہے کہ فزت برب الکعبۃ  ، ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ اور ہدایت نصیب میں نہ ہو تو خدائی کے دعوے دار کو بھی سب سے پہلے اس کا اپنا دل ملامت کررہا ہوتا ہے کہ تم جھوٹے ہو، فریبی ہو، نامراد ہو۔

ہدایت عطا ہوجانا دوجہاں کی سعادت ہے۔ لیکن ہدایت کا مل جانا ہی کافی نہیں، اس پر ثابت قدم رہنا بھی ناگزیر ہے۔ خاتم النبیینؐ، رحمۃ للعالمینؐ بھی ہمیشہ دُعا فرمایا کرتے: اللّٰہُمَّ یَامُقَلِّبَ القُلُوبِ وِ الاَبصَارِ ثَبِّت قَلبِی عَلَی دِینِکَ، ’’دل و نگاہ کو پھیرنے والے میرے معبود! میرے دل کو اپنے دین پر جمادے‘‘۔ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے حیرت سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ بھی یہ دُعا کرتے رہتے ہیں..؟ آپؐ نے فرمایا: بندوں کے دل رحمن کی انگلیوں میں ہیں، وہ جب چاہیں انھیں پھیر دیتا ہے۔ ہدایت اور اس پر ثبات پروردگار کی توفیق کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مہربان ہستی نے بندے کونماز کی معراج سے نوازدیا۔ ہر نماز ہی میں نہیں، نماز کی ہر رکعت میں صراطِ مستقیم کی دُعا لازمی قرار دے دی: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ... اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ!

قرآن پاک کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مردوں کی طرح خواتین بھی یکساں توقیر اور احترام کی مستحق ہیں اور اس معاملے میں کسی تفریق یا امتیاز کی گنجایش نہیں ہے۔ مرد کو قوام بنانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ بربناے جنس وہ برتر اور افضل ہے اور عورت کم تر اور کم مرتبہ ہے، بلکہ گھر کی چھوٹی سی وحدت میں سربراہی کا مقام مرد کو حاصل ہے اور معاشی کفالت، محافظت و مدافعت کی ذمہ داری اُسی کے مضبوط کندھوں پر رکھی گئی ہے۔ اسی وجہ سے اُسے یک گونہ فضیلت حاصل ہوگئی ہے، مگر یہ فضیلت کلّی نہیں ہے بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کو ثابت کرتی ہے۔ قرآن کہتا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ط (النساء ۴:۳۴) مرد عورتوں کے سرپرست ہیں، بوجہ   اس کے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنے مال خرچ کیے۔

قرآن کریم کے اسلوب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مرد اور عورت دونوں کی فضیلت اور امتیاز کا اعتراف ہے۔ مرد کی فضیلت یہ ہے کہ اُسے باہر کی دنیا میں ہاتھ پائوں مارنے کی استعداد زیادہ دی گئی ہے اور حفاظت اور دفاع کی صلاحیت اور ہمت نسبتاً زیادہ بخشی گئی ہے۔  بعض دوسرے پہلو خواتین کے امتیاز اور فضیلت کے ہیں۔ گھر سنبھالنے، بچوں کی پرورش و پرداخت کرنے اور عائلی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا صبروتحمل اور حکمت و فراست سے مقابلہ کرنے کی جو صلاحیت خواتین میں ہوتی ہے، مرد اُس سے محروم ہوتے ہیں۔ اُوپر کی آیت میں قرآن نے ابہام کا اسلوب اختیار کیا ہے: ’’جس سے مرد اور عورت دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب ِ فضیلت ہونا نکلتا ہے لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے‘‘۔۱؎

رقابت فساد کی جڑ ھے

خواتین کو مردوں کی طرح گھر سے باہر سماجی و معاشی جدوجہد کرنے کے لیے پوری آزادی حاصل ہے۔ اگر ضرورت لاحق ہو تو وہ اپنے فطری دائرۂ کار سے آگے بڑھ کر متحرک ہونے کا حق رکھتی ہیں، کیونکہ اسلامی معاشرے میں دونوں اصناف کے درمیان کوئی معرکہ آرائی نہیں ہے۔ دنیوی مال و متاع کے حصول کے لیے باہمی کش مکش اور تنازعات سے یہ معاشرہ پاک ہوتا ہے۔ اس میں اس بات کی گنجایش نہیں ہے کہ کوئی طبقہ دوسرے کے خلاف صف آرا ہو، اس کی عیب چینی کرے، اس کی خامیوں پر انگشت نمائی کرے اور اُس کے مقابلے میں اپنے حقوق کی جنگ لڑے۔ صنفین کی ساخت اور خصوصیات میں تنوع ہے اور اسی لیے وظائف ِحیات اور ذمہ داریوں میں بھی رنگارنگی اور بوقلمونی ہے۔ اس تصورِ مساوات کو قرآن نے اس انداز میں بیان کیا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ جیسی کمائی کریں گے اُسی کے مطابق اُن کا حصہ ہوگا۔ جو جتنی اور جیسی بھلائی یا بُرائی کمائے گا اُسی کے مطابق اللہ کے ہاں حصہ پائے گا۔

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍط لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا ط وَ لِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ ط وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا o (النساء ۴:۳۲)، اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو، جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ۔ ہاں، اللہ سے اُس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔

اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی جدوجہد کرنے اور گھر سے باہر بھاگ دوڑ کرنے کی آزادی حاصل ہے اور جو کچھ وہ کمائیں گے اُن کا حصہ شمار ہوگا۔ اکتساب کی یہ آزادی دنیاوی و روحانی دونوں میدانوں میں ہے۔ قرآن نے ایسا اسلوبِ بیان اپنایا ہے جس میں آخرت کے ساتھ دنیا کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا بھی شامل ہے۔ اگر یہ آیت معنوی مقاصد کے حصول کے لیے یکساں آزادی دینے کے اعلان تک محدود نہیں ہوتی تو آیت کے اوّلین حصے کا جوڑ بے ربط ہوتا، جس میں اہلِ ایمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ    وہ دوسروں کی کمائی اور اُن کے مقدر پر حسد اور لالچ نہ کریں اور اللہ نے جو کچھ اُن کے نصیب میں لکھا ہے اُس پر شاکر و صابر اور قانع رہیں۔

اس آیت میں ایک اخلاقی تعلیم یہ بھی دی گئی ہے کہ اجتماعی زندگی میں بدامنی اور انتشار کی بڑی وجہ صبروقناعت کا فقدان اور حسد ورقابت کا بڑھتا ہوا میلان ہے۔ قدرت نے تمام انسانوں کو یکساں نہیں بنایا ہے۔ خوب صورتی و بدصورتی میں، طاقت اور کمزوری میں، آواز کی نرمی و کرختگی میں، سلیم الاعضا ہونے اور جسمانی طور پر ناقص ہونے میں، حالات کی بہتری و بدتری میں، صلاحیتوں اور قابلیتوں کے فرق و امتیاز میں دنیا کے انسان برابر نہیں ہیں اور اسی عدمِ برابری پر انسانی تمدن کی عمارت قائم ہے اور ثقافت و تہذیب کی ترقی منحصر ہے۔ اس فطری فرق و امتیاز کو ختم کردیا جائے تو معاشرے میں فساد رُونما ہوجائے اور تمدن کا ارتقا تھم جائے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ئ-۱۹۷۹ئ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیںکہ: ’’آدمی کی یہ ذہنیت کہ جسے کسی حیثیت سے اپنے مقابلے میں بڑھا ہوا دیکھے، بے چین ہوجائے، یہی اجتماعی زندگی میں رشک، حسد، رقابت، عداوت، مزاحمت اور کشاکش کی جڑ ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو فضل اُسے جائز طریقوں سے حاصل نہیں ہوتا اسے پھر وہ ناجائز تدبیروں سے حاصل کرنے پر اُتر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اِسی ذہنیت سے بچنے کی ہدایت فرما رہا ہے۔ اس کے ارشاد کا مدّعا یہ ہے کہ جو فضل اُس نے دوسروں کو دیا ہو اس کی تمنا نہ کرو، البتہ اللہ سے فضل کی دعا کرو، وہ جس فضل کو اپنے علم و حکمت سے تمھارے لیے مناسب سمجھے گا، عطا فرمادے گا‘‘۔(تفہیم القرآن، ج اوّل، ص ۳۴۸)

مولانا امین احسن اصلاحیؒ (۱۹۰۶ئ-۱۹۹۷ئ) فرماتے ہیں کہ:’’ تنافُس (باہمی مقابلہ) کا اصلی میدان اکتسابی صفات کا میدان ہے، صفاتِ خلقت یا فطری ترجیحات کا نہیں۔ یہ میدان نیکی، تقویٰ، عبادت، ریاضت، توبہ، انابت یا زیادہ جامع الفاظ میں ایمان و عمل کا میدان ہے۔ اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر کوئی روک نہیں ہے۔ مرد بڑھے وہ اپنی جدوجہد کا پورا ثمرہ پائے گا۔ عورت بڑھے وہ اپنی سعی کا پھل پائے گی۔ اگر کسی میں کچھ فطری اور خلقی رکاوٹیں ہیں تو اس کے کسر کا جبر بھی یہاں موجود ہے۔ خدا نے خلقی طور پر جو فضیلتیں بانٹی ہیں اُن سے ہزارہا اور لکھوکھا درجہ زیادہ اس کا فضل یہاں ہے تو جو فضیلت کے طالب ہیں وہ اس میدان میں اُتریں اور خدا کے  فضل کے طالب بنیں۔ دینے والا سب کی طلب، سب کے ذوق و شوق، اور سب کی نیت اور سب کے اخلاص سے واقف ہے اور اس کے خزانے میں نہ کمی ہے، نہ وہ دینے میں بخیل ہے، تو غلط میدان میں اپنی محنت برباد کرنے سے کیا حاصل ہے؟ جس کو قسمت آزمائی کرنی ہو اس میدان میں کرے‘‘۔ (تدبرقرآن، ج ۲،ص ۶۰)

اخلاقیات کی مساویانہ پاس داری

قرآن یہ صراحت بھی کرتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی روحانی ترقی مطلوب ہے اور رضاے الٰہی کے حصول کے لیے اور روحانیت کے اعلیٰ مدارج طے کرنے کے لیے یکساں مواقع دونوں کو حاصل ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادایگی دونوں پر فرض ہے۔ اسلامی اخلاق و کردار کا مظاہرہ دونوں سے بحیثیت عادت اور صفت کے ہونا چاہیے۔ دین کا ظاہر، اسلام اور اس کا باطن، ایمان دین کی ایک جامع تعبیر ہے اور یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔ دل کی پوری یکسوئی اور پوری نیازمندی کے ساتھ خدا و رسول کی فرماں برداری، قول و فعل کا صدق، صبرواستقامت اور استقلال و پامردی، فروتنی و خاکساری اور جلالِ خداوندی کا استحضار، انفاق و تصدق، ضبط ِ نفس اور تربیت صبر کے لیے روزوں کا اہتمام ، زیب و زینت کی جاہلانہ نمایش سے پرہیز اور عفت و عصمت پر اصرار اور ذکر الٰہی___ یہ وہ اعلیٰ درجے کی صفات ہیں جن سے مرد اور عورت دونوں کو متصف ہونے کی ضرورت ہے۔ اِن ہی صفاتِ محمودہ سے اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے اور اسلامی اخلاق و کردار کی جلوہ گری ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ۔ٓ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ لا اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (الاحزاب ۳۳:۳۵)، اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں، ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں۔ فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، ثابت قدمی دکھانے والے مرد اور ثابت قدمی دکھانے والی عورتیں، فروتنی اختیار کرنے والے مرد اور فروتنی اختیار کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد رکھنے والے مرد اور اللہ کو کثرت سے یاد رکھنے والی عورتیں۔ اِن کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجرعظیم تیار کر رکھا ہے۔

اس آیت میں قرآن نے ۱۰ صفات گنائی ہیں اور اسلامی اخلاق کے جملہ پہلوئوں کو اُن کے اندر سمیٹ لیا ہے:

۱- اسلام، یعنی ظاہری اطاعت و فرماں برداری۔ ۲- ایمان، یعنی دین کا باطن جس میں اخلاص اہم ہے۔ ۳- قنوت، مکمل تابع داری اور کامل یکسوئی کے ساتھ خدا کی اطاعت۔ ۴- صدق، یعنی قول و فعل اور ارادہ تینوں کی استواری۔ ۵- صبر، یعنی پامردی اور مستقل مزاجی۔ ۶- خشوع، جو استکبار کی ضد ہے۔ اس سے خدا کے آگے جھکنے اور خلقِ خدا کے لیے مہربان ہونے کی صفت پیدا ہوتی ہے۔۷- صدقہ، حقوق العباد کی ادایگی کے لیے اپنا مال دوسروں پر خرچ کرنا۔۸- روزہ، صبر کی تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ۔۹- عفت و حیا، جس کے لیے حفظ فروج کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔۱۰- ذکرخداوندی، جو تمام محمود صفات کا منبع ہے۔(تدبرقرآن، ج ۵،ص ۲۲-۲۲۴)

اس آیت میں مسلمان مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک آئینہ فراہم کیا گیا ہے جس میں وہ اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں اور اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو سنوار سکتے اور رب کی خوشی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہاں خواتین کا تذکرہ ضمناً نہیں بلکہ مردوں کے پہلو بہ پہلو مستقلاً آیا ہے، کیونکہ وہ معاشرے کا بالکل نصف اور برابر حصہ ہے بلکہ معاشرے کی تعمیروتخریب میں اُن کی شراکت قدرے زائد ہے۔

اطاعتِ رسولؐ کا یکساں مطالبہ

سورئہ احزاب میں اُوپر مسلمان مردوں اور عورتوں کی مطلوبہ صفات و اخلاقیات فراہم کرنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ (م:۸ھ/ ۶۲۹ئ) کی زندگی کے ایک اہم واقعے کا تذکرہ اور اس سے متعلق اصولی ہدایات دی گئی ہیں۔

حضرت زید بن حارثہؓ کا تعلق قبیلہ کلب سے تھا۔ یہ بچپن میں دشمن کی کسی غارت گری میں گرفتار ہوئے اور غلام بنائے گئے۔ حکیم بن حزام نے ان کو اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کے لیے خریدا۔ حضرت خدیجہؓ جب رسولؐ اللہ کے عقدِنکاح میں آئیں تو انھوں نے ان کو آنحضرتؐ کو ہبہ کردیا۔ اس طرح اُن کو حضوؐر کی غلامی کا شرف حاصل ہوا۔ حضوؐر کی غلامی کی جو قدروعزت اُن کی نگاہ میں تھی اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے والد اور چچا نے آنحضرتؐ سے اُن کی آزادی کا مطالبہ کیا تو حضوؐر نے ان کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے باپ کے پاس چلے جائیں، اور چاہیں تو حضوؐر کی خدمت میں رہیں۔ اس موقعے پر حضرت زیدؓ نے آزادی کا اختیار نامہ پاجانے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو ترجیح دی۔ اس کے بعد حضوؐر نے ان کو آزاد کردیا ، اور ان کی محبت دوچند ہوگئی۔

اللہ کے رسولؐ نے حضرت زیدؓ کی عزت افزائی کے لیے ان کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت حجشؓ (م: ۲۰ھ/۶۴۱ئ) کے ساتھ کردیا۔ ان کا تعلق خاندانِ بنی اسد سے تھا۔ اس نکاح پر عزیزوں اور رشتہ داروں نے اعتراض کیا کہ حضرت زیدؓ ایک آزاد کردہ غلام اور غیرکفو ہیں۔ لیکن رسول ؐ اللہ غلاموں کے تعلق سے لوگوں کے افکار میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے تھے اس لیے آپؐ نے نکاح پر اصرار فرمایا۔ آخرکار حضرت زینبؓ راضی ہوگئیں اور نکاح ہوگیا۔

منافقین اس معاشرتی اصلاح کو آسانی سے قبول نہ کرسکتے تھے، اس لیے انھوں نے اس نکاح کے خلاف ایک مخالفانہ فضا پیدا کردی۔ انھوں نے حضرت زینبؓ کو بھی ورغلانے کی کوشش کی۔ عین ممکن ہے کہ ان باتوں کا ان کے دل پر اثر پڑا ہو۔ فضا میں بدگمانی بہرحال گشت کرگئی اور حضرت زیدؓ کو احساس ہونے لگاکہ حضرت زینبؓ احساسِ برتری رکھتی ہیں اور اس نکاح سے خوش نہیں ہیں۔ چنانچہ انھوں نے حضرت زینبؓ کو طلاق دے دی کہ اُن کی کبیدگی بھی رفع ہوجائے اور خود اُن کے سر کا بوجھ بھی اُتر جائے۔ طلاق کے بعد حضرت زینبؓ کو صدمہ ہوا۔ اب اُن کی دل داری کی صورت صرف یہ رہ گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اُن سے نکاح کرلیں مگر دورِ جاہلیت کی رسم آڑے آرہی تھی۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس رسم کی اصلاح فرمائی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ انسانوں کی مخالفت سے بے پروا ہوکر حضرت زینبؓ کو اپنے عقدِ نکاح میں لے لیں۔ اس ہدایت کے مطابق آپ نے حضرت زینبؓ سے نکاح کرلیا۔۲؎

اس واقعے پر تبصرہ کرنے اور اس سے متعلق ضروری ہدایات دینے سے پہلے اللہ نے   سورئہ احزاب میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کیا کہ جب اللہ اور رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو اس میں کسی مومن مرد یا عورت کے لیے کسی چون و چرا کی گنجایش باقی نہیں رہتی:

وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ط وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا o (احزاب ۳۳:۳۶)، کسی مومن یا مومنہ کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو ان کے لیے اس میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا۔

مولانا اصلاحی فرماتے ہیں کہ یہ آیت آگے آنے والے واقعے کی تمہید ہے۔ اس کا تعلق خاص حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ سے نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت ایک کلیہ کی ہے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی نے بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلے کی مخالفت نہیں کی تھی۔حضرت زینبؓ کو جب معلوم ہوا کہ حضوؐر کی خواہش یہی ہے کہ حضرت زیدؓ سے اُن کا رشتہ ہوجائے تو انھوں نے اس خواہش کے آگے اپنا سر جھکا لیا، اور بعد میں جب حضوؐر نے اپنے لیے پیامِ نکاح بھیجا تو انھوں نے استخارہ کے بعد ہی اسے منظور کرلیا۔ اسی طرح حضرت زیدؓ نے بھی حضوؐر کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ طلاق نہ دینے کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو انھوں نے ناصحانہ مشورے پر محمول کیا، اس کو کوئی فیصلہ نہ سمجھا، اور جب انھیں محسوس ہوا کہ حضرت زینبؓ سے نباہ کی کوئی صورت باقی نہیں بچی ہے تو انھیں طلاق دے دی۔ مولانا اصلاحیؒ کے نزدیک آیت میں   بیان کردہ حکم کی نوعیت ایک عام کلیہ کی ہے جس کے بیان کے لیے وقت کے حالات و واقعات نے مناسب فضا پیدا کردی تھی۔(تدبرقرآن، ج ۵، ص ۲۳۳)

آیت میں قاعدۂ کلیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے روا نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کریں۔ یہ بات ایمان کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہے، اور جو اِس کا ارتکاب کرتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت،وہ صریح ضلالت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کو مستوجب ہے۔ اگر دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہے تو اللہ اور اس کے رسولؐ کے کسی فیصلے پر اعتراض کرنے کی گنجایش نہیں رہ جاتی۔ رسولؐ جو فیصلہ بھی کرتا ہے اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے کرتا ہے۔ اِس وجہ سے اُس کی حیثیت مُطاع مطلق کی ہوتی ہے۔

حریف نھیں، رفیق

قرآن نے اہلِ ایمان کے معاشرے کی جو تصویر کھینچی ہے اس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھی، دست و بازو اور ہمدرد و غم گسار ہیں۔ وہ اس مشترک خصوصیت کے مالک ہوتے ہیں کہ نیکی کو فروغ دیں، بُرائی سے نفرت کریں، خدا کی یاد خون بن کر ان کی رگوں میں دوڑے، راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے اُن کے دل اور ہاتھ کھلے ہوں ، اور خدا و رسولؐ کی   فرماں برداری اُن کی زندگی کا وتیرہ ہو۔ اس مشترک اخلاقی مزاج اور طرزِ زندگی نے انھیں آپس میں ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ وہ معاشرے میں حریف بن کر کشاکش اور کش مکش پیدا نہیں کرتے بلکہ رفیق بن کر ایک دوسرے کے لیے سہارا ثابت ہوتے ہیں: ’’مومن بندے جب اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو مومن بندیاں اُن کے پائوں کی زنجیر اور گلے کا پھندا بننے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ سچے دل سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور اپنے ایثار، اپنی دعائوں، اور اپنی بے لوث وفاداری اور امانت داری سے ان کے جہاد میں تعاون کرتی ہیں اور اس طرح خود بھی اجروثواب میں شریک بنتی ہیں‘‘(تدبرقرآن، ج ۳، ص ۶۰۵)۔اہلِ ایمان کی یہ تصویرکشی اہلِ نفاق کی تصویر سے بالکل مختلف اور متصادم ہے۔

منافق مردوں اور عورتوں کی جو کیفیت اور صورتِ حال اسی سورہ میں بیان ہوئی ہے وہ اہلِ ایمان واخلاص کی کیفیت کے بالکل برعکس ہے۔ اگرچہ ایمان کا ظاہری اقرار اور اسلام کی پیروی کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے لیکن دونوں کے مزاج، اخلاق، اطوار، عادات اور طرزِفکروعمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ منافق کی زبان پر ایمان کا دعویٰ ہے مگر دل سچے ایمان سے خالی ہے۔ بقول مولانا مودودی: ’’اُوپر کے لیبل پر تو لکھا ہے کہ یہ مُشک ہے مگر لیبل کے نیچے جو کچھ ہے وہ اپنے پورے وجود سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ گوبر کے سوا کچھ نہیں۔ بخلاف اس کے جہاں ایمان اپنی اصل حقیقت کے ساتھ موجود ہے وہاں مشک اپنی صورت سے اپنی خوشبو سے، اپنی خاصیتوں سے ہر آزمایش اور ہرمعاملے میں اپنا مُشک ہونا کھولے دے رہا ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ص ۲۱۴)

منافق مرد اور خواتین دونوں برابر کے شریکِ جرم ہیں۔ منافقین کے ساتھ قرآن نے منافقات کا بھی ذکر کیا ہے تاکہ نفاق زدہ خواتین کو تنبیہہ ہو کہ مردوں کے ساتھ ان کا بھی انجامِ بد مقدر ہے۔ وہ بھی خدا کے غضب سے بچنے والی نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے مردوں پر جان و مال کی محبت کو غالب کردیا ہے اور انھیں بخیل و بزدل بنایا اور دین کے تقاضوں سے غافل کیا ہے تو نفاق کے اِس کھیل میں حصہ داری نبھانے کی وجہ سے یکساں طور پر وہ اللہ کی ناراضی کی مستحق ہیں۔ قرآن بڑی خوب صورتی سے پہلے منافق معاشرے کی کیفیت بیان کرتا ہے:

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰــفِقٰتُ بَعْضُھُمْ مِّنْم بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَھُمْ ط نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ ط اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَo وَعَدَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْکُفَّارَ نَارَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط ھِیَ حَسْبُھُمْ ج وَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌo (التوبہ ۹: ۶۷-۶۸)، منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی چٹّے کے بٹّے ہیں۔ یہ بُرائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے روکتے اور ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ انھوں نے اللہ کو بھلا رکھا ہے تو اللہ نے بھی انھیں نظرانداز کردیا ہے۔ یہ منافق بڑے ہی بدعہد ہیں۔ منافق مردوں، منافق عورتوں اور کفار سے اللہ نے جہنم کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ان کے لیے کافی ہے اور ان پر اللہ کی لعنت اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔

اس کے بعد مومن معاشرے کی تصویر کشی کرتا ہے:

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَـہٗ ط اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌo (التوبہ ۹: ۷۱)، اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ یہ بھلائی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے ہیں، اور نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے نوازے گا، اللہ عزیزوحکیم ہے۔

اُوپر کی آیت میں مسلمان مردوں اور عورتوں کی انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی سطح پر بھی،ایک دوسرے کا ’ولی‘ قراردیا گیا ہے جس کی جمع ہے اولیا۔ ولی کے معنٰی ہیں دوست، رفیق،  دم ساز ، غم گسار اور محرم راز۔ مسلم معاشرے میں صنفی امتیاز و تفریق کی گنجایش نہیں ہوتی۔ مردوں کے حقوق و فرائض ہیں تو عورتوں کے بھی ہیں۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کی ادایگی میں دونوں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ اقامت ِ صلوٰۃ اور ایتاے زکوٰۃ کا نظام دونوں مل کر قائم کرتے ہیں۔ دونوں اصناف خدا و رسولؐ کی اطاعت کے لیے پابند عہد ہیں۔ مردوں اور عورتوں کی باہم رفاقت و ولایت کے نتیجے میں معاشرہ رحمت خداوندی کا مستحق بنتا ہے۔ اس پر انعامات الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور تجلیاتِ ربانی کے فیضان سے وہ جگ مگ کرتا ہے۔طبقاتی کش مکش، صنفی تفریق، گروہی تصادم، نسلی و لسانی منافرت و مسابقت سے یہ معاشرہ کوسوں دُور ہوتا ہے۔

تکریم خواتین

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں خواتین کی تکریم و توقیر کی تعلیم دی، اُن کے ساتھ عفو و درگزر کا رویہ اپنانے کی تلقین کی اور اُن سے حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المَرْأۃُ کَالضِّلَع اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَا وَ اِنْ اسْتَمتَعتَ بِہَا استَمْتَعتَ بِھَا، وَفِیْھَا عِوَجٌ، (بخاری، الجامع الصحیح، ج۵، ص ۱۹۸۷ئ، حدیث ۴۸۸۹) عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے۔ اگر اسے سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اگر اُسی طرح اس سے استفادہ کرنا چاہو تو استفادہ کرسکتے ہو، کیونکہ اس کے اندر ٹیڑھا پن موجود ہے۔

بعض حضرات اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ عورت پیدایشی طور پر اپنی خلقت کے اعتبار سے ٹیڑھی ہوتی ہے اس لیے وہ فروتر اور کم رُتبہ ہے۔ یہ حدیث کا غلط مطلب نکالنا ہے۔ فحواے کلام بتا رہا ہے کہ خواتین سے دھینگامشتی کرنے، ان کے ساتھ جبروتشدد کا رویہ اختیار کرنے سے منع کیا جا رہا ہے۔ خواتین میں منفعل المزاجی، جذباتیت، اثرپذیری میں سُرعت اور وسعت زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے خواتین سے معاملہ کرتے وقت اُن کی اس فطرت کا لحاظ کرنے اور اُن کے ساتھ چشم پوشی اور رافت و رحمت کا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ پسلی کی ہڈی ٹیڑھی ہوتی ہے اور سخت بھی۔ اگر زبردستی اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اللہ نے عورتوں کو منفرد خصوصیات اور ممتاز اوصاف سے ہمکنار کیا ہے۔ ان کی بھرپور رعایت کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسری حدیث میں زیادہ صراحت کے ساتھ یہ مثال موجود ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَن کان یُؤمنُ بِاللّٰہِ وَالیومِ الآخِرِ فَلا یُؤْذِی جَارَہ وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَائِ خَیْرًا فَاِنّھن خُلِقْنَ مِن ضِلْعٍ وَ اِنَّ اَعْوَجَ شَیئٍ فیِ الضِّلَع أعلاہ، فاِن ذَھَبْتَ تُقِیُمہٗ کسرتَہٗ، وَ اِنْ ترکتَہٗ لم یزل أعوجَ فَاستَوصُوا بالنِّسآئِ خَیرًا (ایضاً، حدیث ۴۸۹۰)، جو شخص اللہ پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اُس پر لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔ عورتوں کے ساتھ نیکی کرنے کے بارے میں میری وصیت قبول کرو۔ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور سب سے اُوپر والی پسلی سب سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو اسے توڑ دو گے اور    اگر اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی رہے گی، اس لیے عورتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے بارے میں میری وصیت قبول کرو۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم بہت اہم ہے۔ اس میں خواتین کے مزاج، ان کی سرشت اور طبیعت کا بھرپور اِدراک ہے۔ اُن کی نفسیات اور طبعی خصوصیات پر بہترین روشنی اس میں ڈالی گئی ہے۔ عام طور پر مردجفاکش، طاقت ور، قوتِ مزاحمت اور قوتِ دفاع کا مالک ہوتا ہے۔ وہ بزور اپنی بات منواناچاہتا ہے۔ عورت رقیق و لطیف مزاج کی حامل ہوتی ہے۔ محبت و عقیدت اور سرفگندگی اس کی فطرت کا ناگزیر حصہ ہوتی ہے۔ مرد اپنی مردانگی کے زعم میں عورت کے لطیف جذبات کی پروا نہیں کرتا۔ وہ دھونس دھاندلی اور جبرواِکراہ سے عورت کو خاموش کرنا چاہتا ہے اور اسے مجبور کر کے اپنے مطالبات تسلیم کرواتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی کہ خواتین اپنی جبلت، خلقی فطرت اور مزاجی ساخت کی بناپر تکریم و توقیر کی زیادہ سزاوار ہیں۔اگر ان کی فطرت اور ساخت کو بزور بدلنے کی کوشش کی گئی تو وہ ٹوٹ جائیں گی۔ اُن کی صلاحیتیں ختم ہوجائیں گی اور معاشرے کی تعمیر میں اُن کا کردار صفر ہوکر رہ جائے گا۔ اُن کی قابلیت اور صلاحیت سے فائدہ اُٹھانا ہے اور بہتر سماج کی تشکیل میں ان کی حصہ داری کو یقینی بنانا ہے تو اُن کے مزاج، طبعی ساخت اور صنفی خصوصیات کی بھرپور رعایت رکھو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت بھی کردی کہ میں اُن کے ساتھ ہرحال میں حُسنِ سلوک کرنے اور بھلائی کا معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اگر تمھیں اپنی خواتین کے اندر کوئی کجی، ضد اور انانیت کی کوئی رمق نظر آئے تو اشتعال انگیزی اور پُرتشدد کارروائی سے بچو۔ محبت، عفوودرگزر اور حُسنِ سلوک سے انھیں اپنانے اور اُن کا دل جیتنے کی کوشش کرو کیونکہ اگر اُن کا شیشۂ دل ٹوٹ گیا تو خاندان ٹوٹ جائے گا، سماج   بکھر جائے گا اور انسانیت ختم ہوجائے گی۔

ماں کی حیثیت میں عورت سب سے زیادہ مکرم اور واجب الاحترام ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے:

قال جاء رجلٌ اِلی رسولِ اللّٰہ فقال یارسول اللّٰہ، مَنْ اَحَقَّ النَّاس بحُسْن صَحابَتِیْ ، قال: امک، قال ثم من؟ قال: ثم امک، قال: ثم من؟ قال: ثم امک، قال ثم من؟ قال: ثم أبوک(بخاری، الجامع الصحیح، ج۵، ص۲۲۲۷، حدیث ۵۶۲۶)، ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر سوال کیا:    اے اللہ کے رسولؐ! میرے حُسنِ سلوک کا سب زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ اُس نے پوچھا: اس کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے تیسری بار سوال کیا: اُس کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ پھر پوچھا: اُس کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا: تیرا باپ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت ِ جگر حضرت فاطمہؓ کے بارے میں تکریم کے جو الفاظ استعمال کیے، اُن سے دنیا کی تمام بیٹیوں کی قدرومنزلت متعین ہوگئی کیونکہ حضرت فاطمہؓ تمام دخترانِ انسانیت کے لیے اسوہ اور نمونہ تھیں۔ آپؐ نے فرمایا:

فاِنّ ابنتی بَضْعَۃ منّی یریبنی مارابھا ویؤذینی ما ازاھَا (ترمذی، السنن، ابواب المناقب، باب ماجاء فی فضل فاطمۃؓ)،میری بچی میرا ہی گوشت پوست ہے۔ جو بات اس کے لیے موجب ِ تشویش ہوگی وہ میری تشویش کا ذریعہ ہوگی اور جو چیز اس کے لیے باعث ِ اذیت ہوگی اُس سے یقینا مجھے بھی تکلیف پہنچے گی۔

بیوی کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اس کی نازبرداری اسلام کی تعلیم ہے یہاں تک کہ خالص مذہبی معاملات میں اس کے جذبات کی رعایت کی تلقین ہے۔ نوافل کی ادایگی سے زیادہ ضروری ہے بیوی سے پیارومحبت کی باتیں کرنا۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے:

جآء رجل الی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: یارسول اللّٰہ، انی کتبت فی غزوۃ کذا وکذا وامرأتی حاجّۃ؟ قال: ارجع فحج مع امراتک(بخاری، الجامع الصحیح، ج۳،ص ۱۱۱۴، حدیث ۲۸۹۶) ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے سوال کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ لیا گیا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تم واپس جائو اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہی نہیں ، تمام خواتین کی   تعظیم و تکریم کی نصیحت کی۔ مشہور فرمانِ نبویؐ ہے:

حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسآئُ وَالطِّیبُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِی فیِ الصَّلٰوۃِ (نسائی، السنن، کتاب عشرۃ النسآئ، باب حب النسآئ) دنیاوی چیزوں میں میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں خواتین اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے نماز میں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے وجود کو پسندیدہ اور محبوب قرار دیا بالکل خوشبو کی طرح۔ کیونکہ عورتوں کا وجود ہی تصویر کائنات میں رنگ بھرتا اور اُسی کے ساز سے سوزِدروں قائم رہ سکتا ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہونے کا اعلان کر کے اللہ کے رسولؐ نے قلبی سکون و اطمینان کا مخزن بتا دیا کہ ذکرالٰہی سے ہی حقیقی مسرت اور شادمانی حاصل ہوتی ہے۔ اِن تینوں چیزوں کا حدیث میں حسین اجتماع اشارہ کرتا ہے اسلامی تہذیب و ثقافت کے عناصر تشکیلی کی طرف۔ علامہ اقبال ؒ نے کتنی خوب صورت ترجمانی کی ہے:

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت ِ خاک اُس کی

کہ ہر شرف ہے اِسی دُرج کا دُرِّمکنوں

مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی ، لیکن

اُسی کے بطن سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں

 

حواشی

۱-            اصلاحی، امین احسن، تدبرقرآن، ج ۲، مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن، لاہور، بار دوم، رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ/ستمبر ۱۹۷۶ئ، ص ۶۳-۶۴۔ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے سیّد قطب شہید (۱۹۰۶ئ-۱۹۶۶ئ) کہتے ہیں کہ ’’مرد کی قوامیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ گھر میں اور انسانی سماج میں عورت کی شخصیت اور اس کی تمدنی حیثیت کو ختم کردیا گیا ہے۔ یہ تو خاندان کے اندرون کا مسئلہ ہے کہ کس طرح اس ادارے کا صحیح طور پر نظم اور اس کی حفاظت و صیانت ہو۔ کسی ادارے کے لیے منتظم کے وجود کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس میں شریک افراد یا اس کی ذمہ داریوں کو بجا لانے والے نفوس کے وجود، اُن کی شخصیت اور اُن کے حقوق کو ساقط کردیا گیا ہے۔ فی ظلال القرآن، اُردو ترجمہ، سیّد حامد علی، ہندستان پبلی کیشنز، دہلی، ۲۰۰۷ئ، جلد سوم، ص ۲۶۴

۲-            واقعے کی یہ تفصیل مولانا اصلاحی نے تمام روایات کی تحقیق کے بعد فراہم کی ہے۔ اُن کو اس طولِ بیان کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ مستشرقین نے اس واقعے کو اپنی رنگ آمیزیوں سے نہایت مکروہ بنادیا ہے اور صدمے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اس رنگ آمیزی کے لیے سارا مواد ہماری تفسیر وسیرت کی کتابوں ہی سے لیا ہے۔ (تدبرقرآن، ج۵، ص ۲۲۵-۲۲۷)

سوال : سرکاری اہل کاروں کو جو نذرانے اور ہدیے اور تحفے ان کی طلب اور جبرواِکراہ کے بغیر کاروباری لوگ اپنی خوشی سے دیتے ہیں، انھیں ملازمت پیشہ حضرات بالعموم جائز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ رشوت کی تعریف میں نہیں آتا۔ اس لیے یہ حلال ہونا چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ملازموں کے تصرف میں جو سرکاری مال ہوتا ہے اسے بھی اپنی ذاتی ضرورتوں میں استعمال کرنا یہ لوگ جائز سمجھتے ہیں۔ میں اپنے حلقۂ ملاقات میں اس گروہ کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر میری باتوں سے ان کا اطمینان نہیں ہوتا۔

جواب:ایک شخص یا اشخاص سے دوسرے شخص یا اشخاص کی طرف مال کی ملکیت منتقل ہونے کی جائز صورتیں صرف چار ہیں۔ ایک یہ کہ ہبہ یا عطیہ ہو برضا و رغبت۔دوسرے یہ کہ خریدوفروخت ہو، آپ کی رضامندی سے۔ تیسرے یہ کہ خدمت کا معاوضہ ہو، باہمی قرارداد سے۔ چوتھے یہ کہ میراث ہو، جو ازروے قانون ایک کو دوسرے سے پہنچے۔ ان کے ماسوا جتنی صورتیں انتقالِ ملکیت کی ہیں، سب حرام ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ جو روپیہ ایک افسر یا اہل کار کسی صاحب ِ غرض سے لیتا ہے، یا جو استفادہ وہ اس مال سے کرتا ہے جو دراصل پبلک کا مال ہے اور پبلک کاموں کے لیے اس کے تصرف میں دیا جاتا ہے، اس کی حیثیت کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ خریدوفروخت اور میراث کی تعریف میں تو آتا نہیں۔ پھر کیا وہ ہبہ یا عطیہ ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک سوال کا جواب کافی ہے۔ کیا یہ ہبہ یا عطیہ ایک اہل کار کو اس صورت میں بھی ملتا،  جب کہ وہ اس منصب پر نہ ہوتا، یا پنشن پر الگ ہوچکا ہوتا۔ اگر نہیں تو یہ عطیہ یا ہبہ نہیں ہے کیونکہ  یہ اس کے منصب کی وجہ سے اس کے پاس آرہا ہے نہ کہ کسی ذاتی تعلق یا محبت یا ہمدردی کی بناپر۔ اب کیا یہ ان خدمات کا معاوضہ ہے جو ایک اہل کار اپنے منصب کے سلسلے میں انجام دیتاہے؟ ظاہر ہے کہ یہ درحقیقت معاوضہ بھی نہیں ہے۔ معاوضہ تو صرف وہ تنخواہ اور الائونس ہیں جو ملازم ہونے کی حیثیت سے آدمی کو ملتے ہیں۔ ان کے ماسوا جو کچھ اہل کار اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے کے سلسلے میں حاصل کرتا ہے وہ یا تو خیانت ہے جو پبلک فنڈ میں سے کی جاتی ہے۔ یا ناجائز خدمات کا معاوضہ ہے جو شرائط ملازمت کے خلاف عمل کرنے کے بدلے میں آدمی کو ملتا ہے۔ یا جائز خدمات کا ناجائز معاوضہ ہے کیوںکہ شرائط ملازمت کے حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کا معاوضہ تو بشکل تنخواہ آدمی پہلے ہی لے چکا ہے، اس پر بھی مزید معاوضہ حاصل کرنا صریح طور پر حرام خوری ہے۔

یہ تو تھی اصولی بحث۔ اب دیکھیے کہ اس معاملے میں شرعی احکام کیا ہیں:

 ابوحمید الساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکاری ملازمین جو ہدیے وصول کرتے ہیں یہ خیانت ہے۔(مسند احمد)

ان ہی ابوحمید کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ نامی ایک شخص کو قبیلہ ازد پر عامل بنا کر بھیجا۔ جب وہ وہاں سے سرکاری مال لے کر پلٹا تو بیت المال میں داخل کرتے وقت اس نے کہا کہ یہ تو ہے سرکاری مال، اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ اس پر حضوؐر نے ایک خطبہ دیا اور اس میں حمدوثنا کے بعد فرمایا: ’’میں تم میں سے ایک شخص کو اس حکومت کے کام میں جو اللہ نے میرے سپرد کی ہے عامل بناکر بھیجتا ہوں تو وہ آکر مجھ سے کہتاہے کہ یہ تو ہے سرکاری مال اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ لوگ خود ہدیے دیتے ہیں تو کیوں نہ وہ اپنے ابا اور اپنی اماں کے گھر بیٹھا رہا کہ اس کے ہدیے اسے وہیں پہنچتے رہتے؟(بخاری، مسلم ، ابوداؤد)

 بُریدہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ہم کسی سرکاری خدمت پر مقرر کریں اور اسے اس کام کی تنخواہ دیں، وہ اگر اس تنخواہ کے بعد اور کچھ وصول کرے تو یہ خیانت ہے۔(ابوداؤد)

ردیفع بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ یہ حرکت نہ کرے کہ مسلمان کے فَے (یعنی پبلک کے مال) میں سے ایک جانور کی سواری لیتا رہے اور جب وہ بیکار ہوجائے تو اسے پھر سرکاری اصطبل میں داخل کردے۔ اور جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اس کا یہ کام بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کے فَے میں سے ایک کپڑا برتے اور جب وہ پرانا ہوجائے تو اسے واپس کردے۔

عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔(ابوداؤد)

عدی بن عمیرۃ الکندی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جو شخص ہماری حکومت میں کسی خدمت پر مقرر کیا گیا اور اس نے ایک دھاگہ یا اس سے بھی حقیر تر کوئی چیز چھپاکر استعمال کی، تو یہ خیانت ہے جس کا بوجھ اُٹھائے ہوئے وہ قیامت کے روز حاضر ہوگا۔(ابوداؤد)

یہ ہیں اس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، اور یہ اپنے مدعا میں اتنے واضح ہیں کہ ان پر کسی تشریح و توضیح کے اضافے کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ اپنی حرام خوری کے لیے طرح طرح کے حیلے اور بہانے پیش کرتے ہیں اور اسے اپنی زبانی چال بازیوں کے ذریعے سے حلال بنانے کی کوشش کرتے ہیں، آپ ان سے کہیے کہ اگر حرام کھاتے ہو تو کم از کم اسے حرام تو سمجھو، شاید کبھی اللہ اس سے بچنے کی توفیق دے دے۔ لیکن اگر حرام کو حلال بنا کر کھایا تو تمھارے ضمیر مُردہ ہوجائیںگے، پھر کبھی حرام سے بچنے کی خواہش دل میں پیدا ہی نہ ہوسکے گی۔ اور جب خدا کے ہاں حساب دینے کھڑے ہوگے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت تمھارے بدلنے سے نہیں بدل سکتی۔ حرام حرام ہی ہے خواہ تم اسے حلال بنانے کی کتنی ہی کوشش کرو۔

پھر لوگوں سے کہیے کہ خدا اور آخرت اور حساب اور جزا و سزا، یہ سب تمھارے نزدیک محض افسانہ ہی افسانہ ہے، تب تو حلال و حرام کی بحث فضول ہے۔ جانوروں کی طرح جس کھیت میں ہریالی نظر آئے اس میں گھس جائو، اور جائز و ناجائز کی بحث کے بغیر کھائو جتنا کھایا جاسکے۔لیکن اگر تمھیں یقین ہے کہ اُوپر کوئی خدا بھی ہے، اور کبھی اس کے سامنے جاکر حساب بھی دینا ہے، تو ذرا اس بات پر بھی غور کرلو کہ آخر یہ حرام کی کمائی کس کے لیے کرتے ہو؟ کیا اپنے جسم و جان کی پرورش کے لیے؟ مگر یہ جسم و جان تو اس خدمت پر تمھارے احسان مند نہ ہوں گے بلکہ تمھارے خلاف خدا کے ہاں اُلٹا استغاثہ کریں گے کہ تو نے ہمیں اس ظالم کی امانت میں دیا تھا اور اس نے ہمیں حرام کھلاکھلا کر پرورش کیا۔ پھر کیا بیوی بچوں کے لیے کرتے ہو؟ مگر یہ بھی قیامت کے روز تمھارے دشمن ہوںگے، اور تم پر اُلٹا الزام رکھیں گے کہ یہ ظالم خود بھی بگڑا اور ہمیں بھی بگاڑ دیا۔ پھر آخر یہ عذابِ الٰہی کے خطرے میں اپنے آپ کو کس لیے ڈال رہے ہو؟ کون ہے جو اس ناجائز خدمت پر تمھارا احسان مند ہوگا؟ کس سے اس بے جا سعی پر صلے کی توقع رکھتے ہو؟ وہ غیرالٰہی نظامِ حکومت جس کے ایک جز کی حیثیت سے آپ لوگ کام کر رہے ہیں، بجاے خود ناپاک ہے۔ اس کی حیثیت بالکل خنزیر کے نظامِ جسمانی کی سی ہے جس کی بوٹی بوٹی اور رگ رگ میں حرام سرایت کیے ہوئے ہے۔ اس کے کل پرزے بن کر آپ لوگ پہلے ہی گناہِ عظیم میں مبتلا ہیں۔ اب اس پر خیانت اور رشوت اور باطل طریقوں کے ارتکاب کا اضافہ کر کے اپنے آپ کو کیوں مزید خطرے میں ڈالتے ہو؟ کیا کبھی موت آنی ہی نہیں ہے؟ یا مرنے کے بعد کوئی جاے پناہ تجویز کر رکھی ہے جہاں خدا کی پکڑ سے بچ جانے کی اُمید ہے؟ (سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، رسائل و مسائل، اوّل،ص ۷۸-۸۲)


کمپیوٹر پروگرام کا مفت استعمال

س : کمپیوٹر میں جن پروگراموں پر کام کیا جاتا ہے وہ عموماً چوری شدہ ہوتے ہیں اور مفت میں دستیاب ہیں۔ یہ چوری شدہ پروگرام نیٹ پر بھی دستیاب ہیں اور کھلے عام  سی ڈی میں بھی جن کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ جن افراد یا کمپنیوں نے یہ پروگرام بنائے ہوتے ہیں ان کا ان پر بہت وقت اور پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں ان کی اچھی خاصی قیمت وصول کی جاتی ہے اور وہاں کے لوگ چوری شدہ پروگراموں کو استعمال کرنے کو غیراخلاقی حرکت تصور کرتے ہیں۔ ان پروگراموں کے بغیر کسی کمپیوٹر پر کوئی کام نہیں ہوسکتا، لہٰذا ان کا استعمال ضروری ہے مگر ان کی قیمت بہت زیادہ ہے اور سب لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ ان کو خرید سکیں اور کمپنیوں اور بڑے اداروں کے لیے تو ان کے لائسنس بہت ہی مہنگے ہیں۔کیا یہ چوری میں شمار ہوگا؟

ج:چوری شرعاً اس چیز کی شمار ہوتی ہے جو کسی ایسی جگہ میں محفوظ ہو جس تک دوسرے آدمی کی رسائی نہ ہو۔ کمرے کا تالا یا بکس کا تالا توڑ کر اس میں سے چیز نکالی جائے۔ چونکہ چوری شدہ پروگرام بقول آپ کے نیٹ پر بھی دستیاب ہیں اور کھلے عام ان کی سی ڈیز بھی دستیاب ہیں     اس لیے اس کے روکنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ چوری شمار نہ ہوگی۔ جن لوگوں نے یہ پروگرام تیار کیے ہیں اور وہ اس کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انھیں اپنے بس میں رکھیں کہ وہ جسے دینا چاہیں دیں اور جس سے روکنا چاہیں روکیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص ان پروگراموں کو کسی طرح سے بلاقیمت و بلااجازت لے گا تو وہ چور شمار ہوگا۔ اگر کمپیوٹر پروگرام تیار کرنے والے چاہتے ہوں کہ لوگ ان کی اجازت سے یہ پروگرام چلائیں اور اس کی قیمت بھی دیں تو اخلاقاً لوگوں کو ان سے اجازت بھی لینا چاہیے اور قیمت بھی ادا کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ دور میں کاپی رائٹ کے تحت ان کا یہ حق بنتا ہے۔(مولانا عبدالمالک)


اعانت ِجماعت کی، زکوٰۃ سے ادایگی

س : ہمارے کچھ ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اعانت ِ جماعت، زکوٰۃ کی مَد سے ادا کی جاسکتی ہے، جب کہ کچھ کا موقف ہے کہ زکوٰۃ کے آٹھ مخصوص مصارف ہیں جنھیں سورئہ توبہ میں بیان کردیا گیا ہے اور اعانت ِ جماعت ان مصارف میں نہیں آتی۔ لہٰذا زکوٰۃ کی مَد سے اعانت ادا نہیں کی جاسکتی۔ براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔

ج:جماعت اسلامی دین کی سربلندی کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور دین کی سربلندی کے لیے کام کرنے والی جماعت مجاہد فی سبیل اللہ ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے جو آٹھ مصارف بیان کیے ہیں، ان میں ایک مصرف جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہٰذا جماعت کی اعانت میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ اس میں کسی قسم کا  تردّد نہیں کرنا چاہیے۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)

روشنی کا سفر(اوّل، دوم) ،مؤلف: کرنل (ریٹائرڈ) محمد پرویز۔ ناشر: جمہوری پبلی کیشنز، ۲-ایوانِ تجارت روڈ، لاہور۔ فون: ۳۶۳۱۴۱۴۰-۰۴۲۔ صفحات:جلداوّل: ۷۶۲، جلددوم: ۵۰۴۔ قیمت (علی الترتیب): ۱۲۵۰ روپے، ایک ہزار روپے۔

روشنی کا سفر اسلام کی بنیادی تعلیمات کے موضوع پر دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جسے مؤلف نے بڑی محنت و محبت سے اس احساس کے ساتھ مرتب کیا ہے کہ مختلف   علما کی تفاسیر اور تحریروں میں ایسے خزینے مدفون ہیں جو اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے معروف استاد مولانا محمد اکرم کشمیری صاحب نے اس پر نظرثانی کی ہے۔ دونوں جلدوں کو الگ الگ عنوان دیا گیا ہے۔ جلداوّل کا نام ’الحکمہ‘ ہے اور جلد دوم کا نام ’الاساس‘ ہے۔

جلداوّل میں توحید، تخلیقِ کائنات، انسان اور اس کا مقصد ِتخلیق، حضرت آدم ؑ، حضرت ابراہیم ؑ کے بعد حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ، سیرتِ طیبہ، ختم نبوت اور مقصد ِ بعثت کے بارے میں تفصیلی بیان ہے۔ اسی طرح ازواجِ مطہرات، قرآنِ مجید، صفات المومنین بالخصوص اطاعت ِ رسولؐ، انفاق فی سبیل اللہ، احسان، عدل، آثارِ قیامت اور احوال جنت و جہنم کوبھی موضوع بنایا گیا ہے۔ دوسری جلد میں عقائد ِ اسلام، فریضہ اقامت ِدین، اسلامی حکومت کی ضرورت، اہمیت، فرضیت ، اسلامی حکومت کے ادارے اور اسلام کے معاشی نظام پر قرآن و حدیث کی تعلیمات جمع کی گئی ہیں۔

دونوں کتابوں کا حُسن یہ ہے کہ ان میں معروف مفسرینِ قرآن اور اہلِ علم و دانش کی تحریروں سے استفادہ کرتے ہوئے انھیں خوب صورت پیرایے میں ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔ کتاب کے دائرۂ استفادہ کو بڑھانے کے لیے قرآن کے انگریزی تراجم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک قابلِ قدر کاوش اور قابلِ تعریف تحقیقی کام ہے۔مصنف کا ہدف ایک پڑھا لکھا فرد بالخصوص نوجوان ہے۔ انھوں نے استدلال کا پیرایہ اختیار کیا ہے تاکہ فہم و فراست کی دہلیز پر عقائد کے چراغ روشن ہوسکیں۔ تاہم قیمت زیادہ ہے۔(فریداحمد پراچہ)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مستشرقین کے اعترافات، تالیف: حمیداللہ خان عزیز۔ ناشر: ادارہ تفہیم الاسلام، احمدپور شرقیہ، ضلع بہاول پور۔ صفحات:۲۳۰۔ قیمت: درج نہیں۔

یورپ میں مستشرقین نے حضور اکرمؐ کی شخصیت پر گذشتہ دو صدیوں میں خصوصی توجہ دی ہے اور ہر پہلو سے آپؐ کی ذات و صفات کو زیربحث لاکر نئے نئے نکات پیدا کیے ہیں۔اُردو زبان میں سرسیداحمدخاں نے سیرت النبیؐ پر مغربی مصنفین کے اعتراضات کے مدلل جواب تحریر کیے۔     شبلی نعمانی اور سیّد سلیمان ندوی نے بھی سیرت النبیؐ پر مستشرقین پر گرفت کی ہے۔

زیرنظر کتاب میں مغربی مصنفین کے اعتراضات کے بجاے ان پہلوئوں کو اُجاگر کیا گیا جس میں انھوں نے حضور اکرمؐ کی تعریف وتحسین کی ہے اور آپؐ کے کمالات کا اعتراف کیا ہے۔ مؤلف نے یہ کتاب رسولؐ اللہ کے تقدس اور ان کی عظمت کی بلندی کے لیے تحریر کی ہے۔

کتاب چھے ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب: سیرتِ محسنِ اعظمؐ اور اہلِ عرب، دوسرا باب: محسنِ اعظمؐ کے بارے میں مغرب کے معاندانہ رویے، تیسرا باب: حضور اکرمؐ کی تعلیمات اور مذہب عیسائیت کا تقابلی مطالعہ، چوتھا باب: اسلام اور عیسائیت میں مذہبی رواداری کا تقابلی جائزہ، پانچواں باب: مغرب کی انکوئزیشن (تعذیب و مظالم)کے ظالمانہ عمل کا فتح مکہ کے حوالے سے حضور اکرمؐ کے عفوودرگزر سے موازنہ۔ چھٹا باب: حضور اکرمؐ کے متعلق مستشرقین کے اعترافات۔

کتاب میں سیرت النبیؐ پر مغربی مصنفین کی کتب سے اقتباسات مع ترجمہ بھی شامل ہیں۔ جارج برنارڈشا کا یہ اعتراف لائقِ مطالعہ ہے کہ ’’میں نے محمدؐ کے دین کے متعلق پیش گوئی کی ہے کہ کل یورپ اسے اسی طرح قبول کرے گا جیسے آج کے یورپ نے اسے (غیرشعوری طور پر) اپنانا شروع کردیا ہے‘‘ (ص ۱۶۷)۔ ان کا یہ قول بھی یورپی طرزِفکر کی نقاب کشائی کرتا ہے: ’’زمانہ وسطیٰ کے پادریوں نے جہالت یا اندھے مذہبی تعصب کی وجہ سے محمدؐ کے لائے ہوئے دین کو انتہائی گھنائونی شکل میں پیش کیا ہے‘‘۔

فلپ ہٹی کا یہ قول اعترافِ حقیقت کا اعلان کرتا ہے: ’’محمدؐ عربی کے سوا اور کسی پیغمبر ؑکو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہوئی اور نہ کوئی اُمت کرئہ ارضی پر ایسی موجود ہے، جو اپنے پیغمبر ؑ اور ان کی آل پر شب و روز کے ہر حصے میں تواتر و تسلسل کے ساتھ درود و سلام بھیجتی ہو‘‘ (ص ۲۰۸)۔ آخری باب میں ۶۴ اعترافات دیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور اکرمؐ کی ذات والاصفات ایسی خصوصیات کی حامل ہے جن کی صداقت کا اعتراف غیرمسلم بھی کرتے ہیں۔(ظفر حجازی)


معروف و منکر، مولانا سیّد جلال الدین عمری۔ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی، بھارت۔صفحات:۳۱۲۔ قیمت: ۱۸۵ بھارتی روپے۔

عالمی تحریکاتِ اسلامی کی دعوت کی بنیاد امربالمعروف کا فریضہ ہے۔ یہ تحریکات اللہ کے بندوں کو جس چیز کی دعوت دیتی ہیں، اسے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اُمت مسلمہ کا مقصدِوجود قرار دیا ہے (اٰلِ عمرٰن۳:۱۱۰) ۔گویا اُمت مسلمہ وہ بھلائی والی اُمت ہے جس کا بنیادی کام لوگوں کو بھلائی، سچائی، حق اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلانا اور انسانی معاشرے سے ظلم و استحصال اور برائی کا مٹانا ہے۔

مولانا جلال الدین عمری علمی حلقوں میں ایک ممتاز مقام کے حامل ہیں اور حقیقی معنی میں علماے سلف کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب ۱۹۶۷ء میں تصنیف فرمائی تھی۔ اب تقریباً ۴۷سال بعد نظرثانی اور اضافوں کے ساتھ اسے کتاب کی جدید ترتیب کے ساتھ طبع کیا گیا ہے۔  کتاب کا ہرہرلفظ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے اور ۱۰؍ابواب میں ذیلی موضوعات قائم کرکے موضوع کے مختلف پہلوئوں کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مولانا نے معروضی طور پر مفسرین، فقہا اور مفکرین کی آرا کو مکمل حوالوں کے ساتھ یک جا کیا ہے اور ان کی روشنی میں راہِ اعتدال اختیار کرتے ہوئے اپنے موقف کو پیش کیا ہے۔ عموماً یہ تصور پایا جاتاہے کہ امر بالمعروف ایک فرضِ کفایہ ہے اور اس راے کے حامل شاطبی اور امام ابن تیمیہ جیسے فقہا ہیں۔ دوسری جانب امام غزالی اسے واجب قرار دیتے ہیں۔ اسی موقف کو شیخ عبداللہ دراز نے اختیار کیا ہے کہ دعوتِ خیر کا کام ہر مسلمان پر واجب ہے کیونکہ اس فرض کو انجام دینا حقیقت میں دین کی ایک عمومی مصلحت کو پورا کرناہے اور اس کے پورا کرنے کا مطالبہ فی الجملہ سب ہی کے لیے ہے۔(ص ۶۶)

ایک اہم پہلو جو محترم مولانا نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے ، یہ ہے کہ شہادت علی الناس کے فریضے میں امربالمعروف شامل ہے کیونکہ اس کے بغیر شہادتِ حق کا فرض ادا نہیں ہوسکتا (ص۱۰۰)۔ یہ حکم حالات کی تبدیلی کا پابند نہیں ہے، چنانچہ اس کی فرضیت جس طرح مکہ مکرمہ میں تھی ، اتنی بلکہ اس سے زیادہ مدینہ منورہ میں رہی۔ گویا مسلمان دنیا کے کسی خطے میں ہوں، ان کی تعداد اور ان کا قیام مغرب میں ہو یا مشرق میں، انھیں یہ فرض ادا کرنا ہوگا۔

اس سے آگے بڑھ کر اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں میں ایک اہم فریضہ امربالمعروف کا ہے اور اگر غور کیا جائے تو قرآنِ کریم اسے صلوٰۃ اور زکوٰۃ سے متصل بیان کرتا ہے۔ چنانچہ سورئہ حج میں فرمایا گیا کہ اگر اہلِ ایمان کو زمین میں اقتداردیا جائے تو ان کے فرائض میں صلوٰۃ کا نظام قائم کرنا اور زکوٰۃ کا نظام رائج کرنے کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرنا لازم ہے۔

اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گو امربالمعروف ہر حالت میں کیا جائے گا لیکن اقتدار کے حصول کے بعد اسے اس کے تمام حقوق کی ادایگی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے کیونکہ قوتِ نافذہ کے بغیر اس کے بعض مطالبات پورے نہیں کیے جاسکتے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ریاست کے اس فریضے کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے قیام میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمام ارکانِ دین کو قائم کرایا جائے، اور معروف کے حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ علومِ دین کو زندہ کیا جائے، جہاد کیا جائے، حدود و تعزیرات کونافذ کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر نہی عن المنکر کے مطالبات پورے نہیں ہوسکتے۔ (ص ۱۴۰-۱۴۳)

شیخ عبدالقادر عودہؒ شہید بھی اسی راے کے حامل ہیں کہ امربالمعروف میں پوری شریعت شامل ہے لیکن اس فریضے کی ادایگی کرتے ہوئے خوداپنا جائزہ اور اپنے عمل سے ثبوت فراہم کرنا امربالمعروف کی روح ہے۔ قرآن کریم نے اس پہلو کو ایک جملے میں بیان کردیا کہ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ (البقرہ۲:۴۴)

امربالمعروف کے فریضے کی ادایگی ہرسطح پر فرض ہے۔ چنانچہ ایک شخص کا دائرۂ اختیار جس حد تک ہوگا، وہ اسی حد تک جواب دہ ہوگا۔ تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن اور قائد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ قیادت چونکہ دوسروں کے لیے مثال کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے دین کے اس بنیادی مطالبے کو اچھی طرح سمجھے بغیر دعوتِ حق کا کام صحیح طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ کتاب بنیادی تحریکی تصورات کو واضح کرنے میں غیرمعمولی مدد فراہم کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم مولانا کو اس کا بہترین اجر دے اور دعوتِ دین کو پیش کرنے کے مزید مواقع سے نوازے۔(ڈاکٹر انیس احمد)


شیئرز بازار میں سرمایہ کاری، موجودہ طریقۂ کار اور اسلامی نقطۂ نظر، ڈاکٹر عبدالعظیم اصلاحی۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی۔ ملنے کا پتا: ڈی ۳۰۷، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی، بھارت۔ فون: ۲۶۹۵۴۳۴۱۔ صفحات: ۱۵۲۔ قیمت: ۸۰بھارتی روپے۔

دورِ جدید میں اسٹاک مارکیٹ یا شیئرز بازار کو کسی بھی ملک معیشت کا درجۂ حرارت کہا جاتا ہے۔ کاروبار ترقی کر رہے ہوں تو شیئرز بازار میں اچھے حالات دیکھے جاتے ہیں اور کاروباری حالات کی خرابی کا اثر شیئرز بازار پر مرتب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی سیاسی حالات اور بین الاقوامی مالیاتی و سیاسی تبدیلیاں بھی اس بازار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس کاروبار سے ہر ملک میں لاکھوں افراد وابستہ ہوتے ہیں۔ مزیدبرآں دورِ جدید کی بہت سی خرابیاں اور غیرشرعی معاملات اس بازار میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن اُردو زبان میں اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک مختصر رسالہ مولانا تقی عثمانی نے۱۹۹۴ء میں لکھا۔ اس کے بعد ایک تفصیلی کتاب جناب عبدالعظیم اصلاحی نے ۱۹۹۹ء میں لکھی اور دہلی (بھارت) سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں شیئرز بازار کی تعریف سے لے کر اس کے عملی پہلوئوں اور خرابیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد مصنف نے اس موضوع پر اسلامی نقطۂ نظر کو بھی پیش کیا، جس میں مختلف علما کی آرا بھی شامل کی گئیں۔

اس کتاب کی خوبی یہ تھی کہ اسلامی معاشیات کے حوالے سے وقیع ترین شخصیت جناب ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے دیکھا اور پسند فرمایا اور یہ تبصرہ کیا کہ ’’اصلاحی صاحب نے اس کتاب میں شیئرز کی ماہیت اور شیئرز بازار کا عمل سمجھانے کی بھی کوشش کی ہے اور اس سے متعلق علما کی رائیں بھی نقل کردی ہیں جس سے ایک بڑی کمی پوری ہوگئی ہے۔ مگر ان کا اصل کام ان کی اپنی رائیں اور دوسروں کی رائیں کا تنقیدی جائزہ ہے، جسے مَیں نے متوازن اور معقول پایا ہے‘‘۔

زیرتبصرہ کتاب کا نظرثانی شدہ اڈیشن جنوری ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے جس میں    صکوک کے موضوع پر ایک باب کا اضافہ بھی کیا گیا ہے اور کچھ فصلوں کا اضافہ شیئرز بازار میں روزمرہ ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اس طرح گذشتہ ۱۵برسوں میں شیئرز بازار میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق آرا کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے، جس سے اس کتب کی وقعت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس لحاظ سے اس میدان میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک اچھی گائیڈ مارکیٹ میں مہیا ہوگئی ہے، اور محققین کے لیے بھی ایک راہ متعین ہوگئی ہے۔ (ڈاکٹر میاں محمد اکرم)


پاکستان کی روحانی اساس، پروفیسر محمد یوسف عرفان۔ ناشر: سنگت پبلشرز، ۲۵-سی، لوئر مال، لاہور۔فون: ۳۷۳۵۸۷۴۱-۰۴۲۔ صفحات:۲۳۶۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

پروفیسر محمد منور (م: ۲۰۰۰) معروف ادیب، شاعر، مترجم اور خطیب تھے اور علامہ اقبال، قائداعظم، دو قومی نظریہ اور نظریۂ پاکستان کے متخصص تھے۔ ان کی جملہ تصانیف انھی موضوعات کی تشریح و تعبیر پر مبنی ہیں۔پروفیسر محمد یوسف عرفان (استاد شعبۂ انگریزی، اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور) ان کے تربیت یافتہ اور خاص شاگرد ہیں۔ ان کی زیرنظر کتاب کے مضامین بھی انھی موضوعات کے گرد گھومتے ہیں (پاکستان کی روحانی اساس، پاکستان اور ریاست مدینہ، علامہ اقبال ایک کامل صوفی، اقبال، جہاد اور یہودیت وغیرہ)۔ پاکستان کے قیام میں علامہ اقبال کی فکری رہنمائی اور قائداعظم کی عملی جدوجہد شامل ہے۔ پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے جنرل محمد ضیاء الحق اور ڈاکٹرنذیراحمد قریشی مستعد اور کوشاں رہے۔

کتاب کا ایک ایک حصہ مؤخرالذکر دو صاحبوں کی خدمات اُجاگر کرنے کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ یوسف عرفان بھی اپنے استاد پروفیسر محمد منور کی طرح جنرل محمد ضیاء الحق کو ’عالمِ اسلام کا عظیم ہیرو‘ سمجھتے ہیں جو ’’بیرونی اور اندرونی سازش کا شکار ہوگیا‘‘۔ ان پر پانچ مضمون شامل ہیں (جن میں سے ایک پروفیسر محمد منور کے قلم سے ہے)۔ نذیر احمد قریشی، ایک صاحب ِدل اور    ’اللہ والے بزرگ‘ تھے۔ مرزا صاحب سے ان کی صحبت رہتی تھی اور دونوں اکثر شام اکٹھے گزارتے تھے۔ کبھی کبھی یوسف عرفان بھی ساتھ ہوتے۔ مستقبل کے بارے میں ان کی باتیں او ر پیش گوئیاں (جیسے جارج بش صدر بنیں گے، افغانستان میں جہاد کے بعد فساد ہوگا، پاکستان میں مارشل لا لگے گا) بالعموم درست ثابت ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کتاب کو ’اَنمول دستاویز‘ قرار دیا ہے۔ جنرل حمید گل، راجا ظفرالحق، مفتی لطف اللہ، مجیب الرحمن شامی اور جسٹس (ر) نذیراحمد غازی ایسے ثقہ بزرگوں اور اہلِ قلم نے کتاب کی تعریف و تحسین کی ہے۔ مصنف کے اپنے بقول: ’’ان کی دیگر بہت سی کتب کا مواد تیار ہے‘‘۔ درخواست ہے کہ انھیں بھی (کاہلی برطرف کرتے ہوئے) شائع کرا دیجیے۔(رفیع الدین ہاشمی)


تنقیدی افکار، شمس الرحمن فاروقی۔ ناشر: یکن بکس، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۳۲۰۰۳۰-۰۴۲   + گلگشت کالونی ، ملتان: فون: ۶۵۲۰۷۹۱-۰۶۱۔ صفحات: ۳۶۰۔ قیمت: ۵۴۰ روپے

جناب شمس الرحمن فاروقی دورِحاضر کی معروف اور نام وَر ادبی و علمی شخصیت ہیں۔ بنیادی طور پر وہ نقاد ہیں لیکن تحقیق، لغت، شرح، افسانہ نویسی اور ناول نگاری میں بھی ان کی بلندپایہ نگارشات اور عالمانہ تحقیقی کاموں کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت میں سول سروس کے اُونچے عہدے سے  کئی برس پہلے وظیفہ یاب ہوکر الٰہ آباد میں مقیم ہیں۔ طویل عرصے تک ادبی رسالہ شب خون نکالتے رہے۔ ان کی مختلف النوع تصانیف و تالیفات کی تعداد صحیح تو معلوم نہیں مگر ۳۰، ۴۰ سے کم   نہ ہوں گی۔زیرتبصرہ کتاب کا یہ تیسرا اڈیشن کُل ۱۳ مضامین پر مشتمل ہے۔

دیباچے میں فاروقی صاحب نے اسے ادب کے ’نظری مباحث‘ پر مشتمل ’نظری تنقید‘ کی کتاب قرار دیا ہے۔ پہلے مضمون کا عنوان ہے : ’کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟‘ فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ پچھلی نسل کے تمام نقاد بشمول حالی کسی نہ کسی حد تک موضوعی اور موضوعاتی دھوکے میں گرفتارتھے۔ موضوع کی اچھائی یا بُرائی سے ادب کا معیار متعین نہیں ہوتا اور کسی مخصوص فلسفے یا نظریے کا اظہار فن پارے میں کرنا تضیع اوقات ہے۔ اس پیمانے سے فاروقی صاحب نظریاتی تنقید کو رد کرتے ہوئے ترقی پسند نقادوں پر گرفت کرتے ہیں۔

ایک تفصیلی مضمون مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ہماری شاعری پر ہے۔ ان کے خیال میں یہ کتاب نظریہ سازی اور کلیہ تراشی کی ایک غیرمعمولی کوشش ہے۔ دیگر مضامین کے عنوانات اس طرح ہیں:’ارسطو کا نظریہ ادب‘، ’نثری نظم یا نثر میں شاعری‘، ’نظم کیا ہے؟‘، ’داستان اور ناول: بعض بنیادی مباحث‘۔ ۵۷صفحات پر مشتمل طویل مضمون ’اصنافِ سخن اُردو لغات اور لغت نگاری میں‘ انھوں نے اُردو لغت نگاروں اور اُردو لغات کی خامیوں کی کوتاہیوں کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ اس وقت تک تمام لغات نقصِ فکر اور نقصِ عمل کا نمونہ ہیں، اس لیے ہمیں اس مردِ غیب کا انتظار کرنا چاہیے جو ایک اطمینان بخش لغت تیار کرے گا۔

شمس الرحمن فاروقی کی تحریر ہمیشہ ایک تازگی اور ندرت کا احساس دلاتی ہے۔ وہ نہ صرف اُردو ادب (بشمول کلاسکی ادب) کا بلکہ فارسی اور انگریزی ادبوں کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ ’اواخرصدی میں تنقید پر غوروخوض‘‘ میں انھوں نے مغرب کی اہم فکری اور ادبی کتابوں اور جدید ادبی نظریات کا ذکر کیا ہے۔ فوکو اور دریدہ کے خیالات و نظریات پر بھی بحث کی ہے۔ آخر میں بڑی خوب صورت بات کہی ہے کہ ’’آج ہمارے لیے ایک بڑا کام یہ ہے کہ اپنی تہذیبی میراث کی قدروقیمت کو پھر سے قائم کریں اور اس سلسلے میں کلاسکی شعریات کو اسٹیج کے مرکز پر لانا ناگزیر ہے‘‘۔

تنقید خصوصاً نظری تنقید ایک خشک موضوع ہے جیسے پڑھنا پڑھانا آسان نہیں ہوتا مگر فاروقی صاحب کے یہ مضامین اتنے دل چسپ پیرایے میں لکھے گئے ہیں کہ ادب کے باذوق قاری کو پڑھتے ہی بنتی ہے۔ بیکن بکس نے کتاب اچھے معیار پر شائع کی ہے۔ کتاب میں اشاریہ بھی شامل ہے جو اس کی اضافی خوبی ہے۔ آخری صفحے پر فاروقی صاحب نے ترقیمہ لکھ کر کلاسکی ادب اور مخطوطات سے اپنی دل بستگی کا اظہار کیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


مشاہیرِ ترک، ڈاکٹر دُرمش بلگر۔ ناشر: رومی چیر براے ترکی زبان و ثقافت، پنجاب یونی ورسٹی، علامہ اقبال (اولڈ) کیمپس، لاہور۔ صفحات: ۲۰۰۔ قیمت:۵۰۰ روپے۔

اگر سوال کیا جائے کہ کس اسلامی ملک سے پاکستان کے سب سے زیادہ قریبی، دلی اور ذہنی تعلقات چلے آرہے ہیں؟ تو جواب ایک ہی صحیح ہوگا:ترکی__ وجوہ بہت سی ہیں مگر بنیادی   اور اہم ترین وجہ تحریکِ خلافت میں ہندی مسلمانوں کا ترکوں سے اظہارِ یک جہتی ہے۔ پھر   سقوطِ خلافت ِ عثمانی پر ہندی مسلمانوں کا شدید رنج و غم کا اظہار بھی ایک اہم وجہ تھی۔ چنانچہ ہمارے تمام تر زوال و اِدبار کے باوجود، ترک عوام پاکستان سے غیرمعمولی محبت رکھتے ہیں۔ سلطنت ِ عثمانیہ (اور ماقبل دور) میں ترکی کی بعض شخصیات نے اپنے اپنے شعبوں میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ پروفیسر دُرمش بلگر تین سال سے پنجاب یونی ورسٹی میں قائم مسند رومی پرفائز ہیں۔ ان کی زیرنظر کتاب ۳۰ ترک شخصیات کے تعارف اور کارناموں پر مشتمل ہے۔ ان میں علماے دین ہیں، مصلحین اُمت اور صوفیاے کرام کے ساتھ دانش ور اور سائنس دان بھی ہیں مگر سب باکمال لوگ ہیں، مثلاً ریاضی دان اور ماہرفلکیات الغ بیگ (۱۳۹۳ئ-۱۴۴۹ئ) جو تیمور کی نسل سے تھے، ۳۸سال تک سمرقند کے حاکم رہے۔ حکمرانی کے ساتھ علم دوست ایسے کہ علمی موضوعات پر اہلِ علم کے ساتھ مناظرہ کیا کرتے۔ ایک رصدگاہ قائم کی، اس کے سائنسی تجربات اور مشاہدات پر مبنی کتاب زیجِ گورکانی بہت معروف ہے۔ ان کے دور میں علمِ فلکیات میں بہت ترقی ہوئی اور فلکیات کے جدید آلات ایجاد ہوئے۔ الغ بیگ کا حافظہ اتنا تیز تھا کہ جس کتاب کو ایک بار پڑھ لیتے، وہ انھیں حرف بہ حرف یاد ہوجاتی۔

اسی طرح اولیاچلبی (۱۶۱۱ئ-۱۶۸۲ئ) تاریخ کو نیا رُخ دینے والے ترک سیاح تھے۔ انھوں نے مجموعی طور پر ۵۰سال تک سیروسیاحت میں گزارے۔ شرقِ اوسط، یورپ اور افریقہ کے بیش تر ممالک کی سیر کی اور باریک بینی سے کیے گئے مشاہدات اپنی کتاب سفرنامہ میں قلم بند کیے جو ۱۰جلدوں پر محیط ہے۔ پہلی جلد ۱۸۹۶ء میں اور آخری جلد ۱۹۳۸ء میں منظرعام پر آئی۔ مشاہیر ترک میں معروف دینی شخصیات بدیع الزماں نورسی (۱۸۷۸ئ-۱۹۶۰ئ) کا ذکر ہے اور زمانۂ حاضر کے ایک استاد، محقق، ادیب اور اقبال شناس عبدالقادر کراخان (۱۹۱۳ئ-۲۰۰۰ئ) کے حالات بھی شامل کتاب ہیں جو کلاسیکی ترکی ادب کے ساتھ ’’لوک ادب، تاریخ، حدیث اور دیگر اسلام علوم کے علاوہ ایرانی علوم میں بھی یکتا تھے‘‘(ص ۹۱)۔ اسی طرح سلطنت ِ عثمانیہ کے سب سے بڑے ماہر تعمیرات سنان (۱۴۹۰ئ-۱۵۸۸ئ) کے تعمیری کارناموں کا تذکرہ ہے۔ انھوں نے بیسوں جامع مساجد، مدرسے، دارالقرا، مقبرے، حمام، نہریں، ہسپتال، پُل اور مہمان سرائیں تعمیر کرائیں۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ہم دنیاے اسلام کے مشاہیر ہی سے نہیں، مسلم تاریخ سے بھی ناواقف ہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں رجال کے تذکروں اور مشاہیر پر کتابوں میں ان مایہ ناز ہستیوں کا ذکر نہیں ملتا۔ طلبا کے لیے خاص طور پر اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ مشاہیر کی تصاویر بھی شاملِ کتاب ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)