دسمبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

انسان کا مقام و مرتبہ اور اسلام

نعیم صدیقی ؒ | دسمبر ۲۰۱۵ | نظامِ حیات

میں نے خوب اچھی طرح چھانٹ پرکھ کر اپنی پوری زندگی جس مذہبِ انسانیت کے حوالے کی ہے اس کا نام ہے: امن و سلامتی کا مذہب۔

کسی بھی مذہب پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے دو ہی بنیادی حقیقتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے خدا کا تصور کیا دیا ہے؟ دوسرے یہ کہ اس نے انسان کو کیا مقام دیا ہے؟ جہاں خدا کا تصور ناقص یا خلافِ حقیقت ہوگا وہاں انسان بھی اپنے اصل مرتبہ و مقام سے ہٹا ہوا ملے گا، اور جہاں انسان کو اس کے شایانِ شان درجہ نہ دیا گیا ہو، وہاں خدا کا تصور کبھی صحیح اور مطابقِ حقیقت  نہیں ہوسکتا۔ کسی مذہب کے تصورِ خدا کی کسوٹی اس کا تصورِ انسان ہے۔ چونکہ مذہب کا مقصود انسانی زندگی کو بنانا سنوارنا ہے، اس لیے مذاہب کی جانچ میں یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ انسان اور انسانی زندگی کو کیا درجہ دیتے ہیں۔ آدمی کو جس نظامِ فکروعمل کی طرف پکاریے اس کی خودی یہ دریافت کیے بغیر نہیں رہ سکتی ہے کہ اس نظام میں میرا مقام کیا ہے؟ مادی کائنات کے اسٹیج پر زندگی کی تمثیل پیش کرنے میں میرے لیے کیا پارٹ تجویز کیا گیا ہے؟ آفرینش کی اس بھری مجلس میں میری نشست کہاں ہے؟

  •  میں نے جس مذہب ِ انسانیت کا دامن تھاما ہے اس نے انسان کو سلطنت ِ کائنات میں خدا کے نائب اور خلیفہ اور نمایندے کی پوزیشن دی ہے: اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (البقرہ ۲:۳۰)۔ خدا کی ساری مخلوق اور رعیّت اطاعت و عبادت کے ایک جبری ڈسپلن میں کَسی ہوئی ہے: وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْھًا وَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَo (اٰل عمران ۳:۸۳)۔ لیکن نوعِ انسانی کو اخلاقی و تمدنی زندگی کے دائرے میں محدود خودمختاری (limited autonomy) سے نوازا گیا ہے۔ خدا نے اس نوع کو اپنی طرف سے ایک روح ودیعت کی ہے:وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوحِیْ o (الحجر ۱۵:۲۹، صٓ ۳۸:۷۲)۔اپنی صفات کا ایک پرتو اس پر ڈالا ہے، علم و شعور کا ایک نور اُسے دیا ہے: وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَاo (البقرہ۲:۳۱)۔ اور پھر ارادے کی فاعلانہ قوت دے کر اسے زندگی کی امتحان گاہ میں اُتار دیا ہے۔ تمام اجرام اور اجسام اور عناصر اور قویٰ کو اس کی ضروریات پوری کرنے میں لگا دیا ہے اور بے شمار مادی ذرائع و وسائل اس کے تصرف میں دے دیے گئے ہیں: وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ (الجاثیہ ۴۵:۱۳)۔پوری سہولتیں انسان کو پہنچا دی گئی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو بنائے سنوارے اور ترقی کے راستوں پر جتنا بڑھ سکتا ہو آگے بڑھتا جائے۔ خلافت و نیابت کا یہ مقام پاکر آدمی عزتِ نفس (selfrespect) اور ذمہ دارانہ حیثیت کے احساس سے مالا مال ہوجاتا ہے۔
  • میرا مذہب انسانی شرف کی دوسری بنیاد یہ سامنے لاتا ہے کہ انسان کو بہترین ساخت پر اُٹھایا گیا ہے۔ اس کی فطرت میں کوئی رخنہ نہیں چھوڑا گیا، اس کے خمیر میں کوئی بُرائی شامل نہیں کردی گئی، کوئی گناہ اس کے سر پیدایشی طور پر چپکا نہیں دیا گیا، بدی کا کوئی موروثی حساب ایسا نہیں ہے جو نسلاً بعد نسل ایک ایک آدم زاد کے کھاتے میں منتقل ہوتا چلا آرہا ہو۔ ایک بے داغ فطرت ہے جس کے اندر زندگی کے مختلف رجحانات اور تقاضوں کو اعتدال اور توازن کے ساتھ سمویا گیا ہے۔ یہ آزادانہ فیصلے کے تحت اقدام کرنے والی فطرت ہے۔ جس کے اندر زندگی کے مختلف رجحانات اور تقاضوں کو اعتدال اور توازن کے ساتھ سمویا گیا ہے۔ یہ آزادانہ فیصلے کے تحت اقدام کرنے والی فطرت ہے جس پر نہ نیکی زبردستی ٹھونسی جاتی ہے، نہ بُرائی جبراً چپکائی جاتی ہے۔ اس معنی میں انسان کی ساخت بہترین ساخت ہے۔ انسانی فطرت کا یہ تصور جب میرے سامنے آتا ہے تو اپنے اُوپر میرا اعتماد قائم ہوتا ہے اور نوعِ انسانی کا شرف و وقار میری نگاہوں میں بہت بڑھ جاتا ہے۔

انسانی زندگی کی بہترین ساخت ہی کو نمایاں کرنے کے لیے میرے مذہب نے انسانِ اوّل کی سرگزشت بیان کی ہے۔ جنت میں ریہرسل کا دور گزارتے ہوئے اس سے جو لغزش ہوئی تھی، اس کے بارے میں میرے مذہب کا بیان یہ ہے کہ ایک تو وہ دیدہ دانستہ نہ تھی بلکہ غلط فہمی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے سرزد ہوئی۔ دوسرے اس کے اندر زیادہ اُونچے مراتب اور ابدی زندگی پانے کا اعلیٰ مقصد کارفرما تھا: فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وٗرِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْاٰتِھِمَا وَ قَالَ مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ o (اعراف۷:۲۰)۔تیسرے یہ کہ اس لغزش پر باغیانہ اکڑ پیدا ہونے کے بجاے اس کے فوراً ہی بعد احساسِ ندامت ہوا اور آدم ؑ اپنی رفیقہ سمیت خدا کے سامنے معافی کے  خواست گار بن کر حاضر ہوگئے: قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (اعراف۷:۲۳)۔ اختیار کے استعمال کے ا س پہلے تلخ تجربے کے بعد اوّلین انسانی جوڑا  بدی کی شیطانی طاقتوں کے بارے میں پوری طرح چوکنا ہوگیا اور ایک پاکیزہ زندگی کی تعمیر کا نیا عزم لے کر میدانِ مقابلہ میں اُتر گیا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ایک بااختیار مخلوق کے لیے اس سے زیادہ اُونچی فطرت کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اپنا فرض ادا کرنے میں اگر کبھی اس سے بھول چوک ہوجائے تو وہ اس کا احساس کرے اور پھر اپنی اصلاح پر آمادہ ہوجائے۔

  •  میرے مذہب کی تعلیم کی رُو سے انسانی شرف و عظمت کا اتنا پاس کیا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ خود انسان ہی ذریعہ بنائے گئے۔ آدم ؑ سے ابراہیم ؑ تک اور ابراہیم ؑ سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک جو ہزارہا پیغمبر ؑ اور رسول ؑ قوم قوم اور دیس دیس میں ہماری تعلیم و تربیت کے لیے مامور کیے گئے وہ سب کے سب گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان ہی تھے۔ اس کام کے لیے نہ تو خدا کو خود اُتر کے آنا پڑا، نہ فرشتے ہی مقرر کیے گئے اور نہ کسی دوسری مخلوق کو یہ منصب دیا گیا۔

پھر دیکھیے کہ میرے مذہب کا خطاب کسی ایک گروہ اور نسل اور قوم کے لیے خاص نہیں ہوا بلکہ وہ ساری انسانیت کے لیے عام ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بنی نوع انسان ایک گھرانا اور ایک برادری ہیں۔ اس نے کسی خاص عنصر کو اپنا چہیتا اور لاڈلا بنا کر نہیں پکارا بلکہ ’اے انسان‘: ٰٓیاََیُّھَا الْاِِنْسَانُo (الانفطار۸۲:۶،  الانشقاق۸۴:۶)اور ’اے لوگو‘ : یٰٓاَیُّھَا النَّاسُo (البقرہ۲:۲۱-۱۶۸، النسائ۴:۱، ۱۷۰، ۱۷۴، یونس۱۰:۵۷،۱۰۴، ۱۰۸، الحج۲۲:۱، ۵، ۴۹، الفاطر۳۵:۳،۵، ۱۵، الحجرات۴۹:۱۳)کہہ کر ساری اولادِ آدم ؑ کو سچائی اور نیکی کا پیغام یکساں سنایا ہے۔ وہ سورج اور ہوا اور بارش کی طرح اپنا فیضانِ عام رکھتا ہے۔ وہ انسانیت کے مقابلے میں اور کسی چیز کو وجہِ احترام نہیں مانتا۔ وہ ان ساری تقسیموں سے انکار کرتا ہے جو انسان اور انسان کو آپس میں کاٹتی اور اُن میں جھوٹی اُونچ نیچ پیدا کرتی ہیں۔ وہ ایک ہی تقسیم کو مانتا ہے اور عزت و ذلت کا ایک ہی معیار تسلیم کرتا ہے، یعنی کون سچائی اور نیکی میں آگے ہے اور کون پیچھے ہے: اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات ۴۹:۱۳۔ لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ عَلٰی اَحَدٍ اِلَّا بِدِیْنٍ اَوْ عََمَلٍ صَالحٍ (مسند امام احمد)۔ حد یہ کہ وہ مذہبی جتھا بندیوں اور ان کے نمایشی سائن بورڈوں کو بھی کوئی وزن نہیں دیتا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ (البقرہ ۲:۲۵۶)، بلکہ جو لوگ خود اُس کا اپنا ٹھپہ ماتھے پر لگاکر آتے ہیں انھیں بھی وہ مجرد ظاہری ٹھپے کی بنا پر قابلِ قدر نہیں مانتا۔ وہ صرف یہ پوچھتا ہے کہ تم چاہے گورے ہو چاہے کالے، تم چاہے سامی ہو یا حامی، تم چاہے مرد ہو یا عورت، بتائو کہ سچا ایمان اور کھرا کردار کس کے پاس ہے۔ وہ یہاں تک کہتا ہے کہ جس نے انسانیت کو کاٹنے والی جاہلی عصبیتوں کا نعرہ بلند کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں: مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عَمِیَّۃٍ یَغْضَبُ لِعَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَدْعُوا اِلٰی عَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبِیَّۃً فَقَتَلَ قِتْلَۃً جَاھِلِیَّۃً (مسلم، نسائی)

  • میرا مذہب انسان کی فطرت سے حُسنِ ظن رکھتا ہے، اس کے دل و دماغ پر اعتماد کرتا ہے اور اس کے فطری حقِ خود ارادیت کا پورا پورا احترام کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اس سے اپنی بات جبر و اِکراہ سے نہیں منواتا، بلکہ اس کی عقل کے سامنے سوچنے اور سمجھنے کے لیے سارا مواد رکھ دیتاہے اور صاف صاف سنا دیتا ہے کہ عقیدے اور مذہب کے بارے میں کسی کو کسی پر زبردستی کرنے کا حق نہیں: لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِo (البقرہ۲:۲۵۶)۔ وہ پیچ در پیچ عقیدوں کی بھول بھلیوں میں نہیں ڈالتا۔ وہ کچھ انوکھے نظریوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لانے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ شعبدوں سے مسحور نہیں کرتا اور دماغی کشتیوں کے دنگل جما کر لوگوں کو مغالطوں میں نہیں ڈالتا بلکہ سیدھا سیدھا افہام و تفہیم کا طریقہ اختیار کرتا ہے: قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَo (الحدید ۵۷:۱۷)۔ وہ زندگی کے دوراہے پر کھڑے ہوکر آدمی کو حق اور باطل کے دونوں راستوں سے آگاہ کردیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ جی چاہے تو اُس ہاتھ مڑو اور جی چاہے تو اِس ہاتھ اقدام کرو: فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ لا (الکہف۱۸:۲۹)۔میرا مذہب دنیا کے ہر سیاسی نظام کی سیاست کے دائرے میں بلاشبہہ قوت کا استعمال کرتا ہے، لیکن عقیدہ و مذہب کے دائرے میں وہ دلیل کے سوا کسی دوسری طاقت کی ایک رمق بھی استعمال نہیں کرتا۔ یہ انسانی اختیار کا احترام ہے اور اس کی آزادیِ ضمیر کی پاسبانی ہے۔ بخلاف اس کے اگر کسی مذہب نے لٹھ چلا کر بات منوانے کا طریقہ اختیار کیا ہو تو وہ گویا انسانی شرف و احترام کا خاتمہ کرکے رکھ دے گا۔
  • میں اپنے مذہب سے اس لیے بھی محبت کرتا ہوں کہ یہ مجھے ایک خدا کی بارگاہ پر پہنچاکر دوسری تمام بارگاہوں سے بے نیاز کردیتا ہے۔ یہ انسان کے سامنے ایک ہی مرکز روح ایسا رکھتا ہے جس کے سامنے سجدئہ عبادت بھی گزارنا ہے ، جس کے آگے دامنِ دُعا بھی پھیلانا ہے: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo (الفاتحہ۱:۴)۔ اور جس سے پوری کی پوری زندگی کی ہدایت اور   ضابطہ اور قانون بھی لینا ہے: اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰیo (الانعام۶:۷۱)۔ یہاں مذہب اور دنیاداری کی تقسیم نہیں، یہاں خدا اور قیصر کے درمیان کوئی نہیں، یہاں پبلک اور پرائیویٹ دو زندگیاں نہیں، ایک ہی زندگی ہے اور اس کا ایک ہی مالک و فرماں روا ہے۔ یہ تصورِ توحید انسان کو خودداری اور شرف کے اُونچے مرتبے پر پہنچا دیتا ہے۔ خدا اور انسان کے درمیان یہاں کوئی پردہ اور روک حائل نہیں، یہاں بیچ میں کوئی واسطہ اور سفارشی اور وکیل نہیں۔ یہاں مذہبی اجارہ داروں کے کسی طبقے کی اتھارٹی نہیں چلتی۔ یہاں پروہتوں اور پجاریوں کی مسندیں راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالتیں۔ یہاں خدا اپنے بندوں کو پکار پکار کر کہتا ہے کہ میں تمھارے ساتھ ہوں: ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ (الحدید۵۷:۴)، میں تمھارے قریب ہوں: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ (البقرہ ۲:۱۸۶)۔ مجھ سے براہِ راست رابطہ پیدا کرو۔ یہ تصورِ توحید انسان کو خدا سے  اتنا قریب کردیتا ہے کہ اس کی قدروقیمت خود اپنی نگاہوں میں بہت بڑھ جاتی ہے۔
  • میرا مذہب آدمی کو ایسی مذہبی زندگی میں نہیں ڈالتا جو اسے ذلّت و کمتری کے احساس میں مبتلا کر دے۔ وہ اسے ایک مضحکہ اور تماشا نہیں بناتا۔ وہ اسے گندا اور ننگ دھڑنگ رہنا نہیں سکھاتا۔ وہ اسے اپنے پیچھے گھسٹتے رہنے کا درس نہیں دیتا۔ وہ نہیں کہتا کہ خدا کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کی ساری ذمہ داریوں کو تج کر جنگلوں میں ٹکریں مارتے پھرو۔ وہ نہیںسکھاتا کہ نیک بننے کے لیے آدمی کو تمدنی فرائض سے بھاگ کر عبادت گاہ کی تاریک کوٹھڑی میں چشم و گوش بند کر کے پڑرہنا چاہیے: رَہْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ(الحدید۵۷:۲۷)، اَلْمُسْلِمُ الَّذِی یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی مَا اَذَاھُمْ (ترمذی)۔ بخلاف اس کے میرا مذہب متمدن انسان کا مذہب ہے۔ وہ اسے صاف ستھرا، خوش ذوق اور خوش پوش: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ (اعراف۷:۳۲)، دنیا کے کاموں میں مصروف:     لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (القصص۲۸:۷۷)،تمام انسانی رشتوں کے حق ادا کرتا ہوا:   وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (النساء ۴:۳۶) ،معاشی جدوجہد میں سرگرم : وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ (الجمعہ۶۲:۱۰)،   علم وفکر کے لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن اور مشکلات اور رکاوٹوں کے خلاف مصروفِ جہاد دیکھنا چاہتا ہے (مسلم)۔ أَحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجِزْ (ریاض الصالحین، باب فی المجاہدہ)۔ وہ صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ ساری اجتماعی سرگرمیاں خدا کے مقرر کردہ اخلاقی و قانونی حدود کے اندر رہنی چاہییں: وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ (التوبۃ ۹:۱۱۲)۔ ظاہر ہے کہ اس تصورِ مذہب کے تحت انسان کو اپنی قدرومنزلت کا ایک نیا احساس حاصل ہوتا ہے۔
  •  میرے مذہب ِ انسانیت میں انسانی جان کا احترام نظامِ تمدن کی ایک اہم بنیاد ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جس کسی نے کسی ایک انسانی جان کو بھی قانونی حق کے بغیر ہلاک کیا اس نے گویا ساری انسانیت کو ہلاکت کے خطرے میں ڈال دیا: مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط (المائدہ۵:۳۲)۔ اس معاملے میں میرا مذہب اتنا حساس ہے کہ اگر اس کا کوئی بڑے سے بڑا ماننے والا اس مذہب کے کسی مخالف کو بھی ناحق قتل کردے تو وہ اس اپنے ماننے والے آدمی کے خلاف قانونی کارروائی پوری کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جان کے بعد دوسرے درجے پر میرے مذہب میں انسانی ملکیت کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کسی بڑی سے بڑی طاقت کی مجال نہیں کہ اس کے نظام میں کسی دوسرے کا ایک تنکا بھی ناروا طور پر لے سکے: وَلَیْسَ لِلْاِمَامِ أَنْ یُخْرِجَ شَیْئًا مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا بِحَقٍّ ثَابِتٍ مَعْرُوْفٍ( کتاب الخراج)۔ اسی طرح بلاامتیاز وہ ہر انسان کی عزت و عصمت کا محافظ بن کر سامنے آتا ہے۔ پھر وہ راے اور خیال کی آزادی کے حق کا پاسبان ہے اور ایک ایک فرد کے لیے وہ کوئی راے رکھنے اور اسے ظاہر کرنے کا، کسی عقیدے کو اختیار کرنے اور اس کے مطابق مذہبی عبادات و مراسم بجا لانے کا، اور حکمران طاقت سے اختلاف کرنے اور اس پر تنقید کرنے کا پورا پورا حق تسلیم کرتا ہے۔ انسانی آزادی کا اسے اس حد تک احترام ملحوظ ہے کہ وہ باضابطہ قانونی کارروائی کے ذریعے جرم ثابت ہوئے بغیر کسی شخص کو قید کرنے، یا اس کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنے کا کسی کو حق نہیں دیتا:  لَا یُؤْسَرُ رَجُلٌ فِی الْاِسْلَامِ بِغَیْرِ الْعَدْلِ ( قولِ عمرؓ، مؤطا، باب الشرط الشاہد)۔پھر وہ بلاامتیاز تمام انسانوں کو قانون کی نگاہ میں ایسی معیاری مساوات عطا کرتا ہے کہ ایک معمولی شہری اور صدرِمملکت کو اس نے عالمِ واقعہ میں ایک سطح پر لاکھڑا کیا: یَاعَلِیُّ اِذَا جَلَسَ اِلَیْکَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَیْنَھُمَا حَتّٰی تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ، ابوداؤد، ترمذی)۔
  • پھر میرا مذہب اپنے ماننے والوں کے منظم معاشرے کو ایک ایسا نظامِ معیشت قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے جو سارے نسلی اور مذہبی امتیازات سے بالاتر ہوکر محتاج اور ضرورت مند کو سہارا بہم پہنچائے: وَفِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِo (الذاریات ۵۱:۱۹)۔چنانچہ میرے مذہب کے ماننے والے ایک مثالی حکمران نے ایک مرتبہ ایک بوڑھے عیسائی کو بھیک مانگتے دیکھا تو ماتحت کارکنوں کو ڈانٹا اور اسی لمحے سرکاری خزانے سے اس کے نام وظیفہ جاری کرنے کی ہدایت دی(الفاروق، جلد دوم،ص ۲۱۴ )۔ پھر انسانی احترام کی یہ حد ہے کہ اپنے دشمن سے میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے بھی میرا مذہب مجھے اس سے روکتا ہے کہ میں عورتوں اور بوڑھوں اور بچوں اور عام شہری آبادی پر ہاتھ اُٹھائوں ، کسی کا چہرہ مسخ کروں اور کسی کی نعش کی بے حُرمتی کروں: نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانٍ(نسائی)۔ اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ، فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ۔ ینھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ (ابوداؤد)،  نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ عَنِ النُّھٰی وَالمُثْلَۃِ (بخاری)
  • میرا مذہب انسانوں کی خدمت کا ایک وسیع پروگرام میرے سامنے رکھتا ہے اور دوسروں کے بہت سارے حقوق میرے اُوپر عائد کرتا ہے۔ رشتہ داروں میں سے والدین درجۂ اوّل پر آتے ہیں اور چاہے وہ میرے مذہب کے ماننے والے ہوں یا مخالف ہوں، ہرحال میں ان کی خدمت اور ان کا ادب مجھ پر واجب ٹھیرایا گیا ہے۔ ان کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے قرابت داروں کی بھلائی چاہنا میرے اُوپر لازم ہے۔ عام انسانی برادری میں سب سے پہلا مرتبہ پڑوسی کا ہے۔ میرا مذہب کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حالت میں پیٹ بھر کر سوئے کہ اس کا پڑوسی فاقے میں مبتلا ہو تو ایسے شخص کا دین و ایمان بالکل بے معنی ہے: لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالَّذِیْ یَشْبَعُ وَجَارُہُ جَائِعٌ اِلٰی جَنْبِہٖ (مشکوٰۃ)۔ اسی طرح میرے مذہب میں اس شخص کا ایمان معتبر نہیں جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی پریشان رہے : وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ الَّذِیْ لَا یَامَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ (ریاض الصالحین، باب حق الجار)
  • میرے مذہب نے سچائی اور نیکی کا تاریخی معیار ہی انسانوں کے بھلے کو قرار دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تاریخ میں اسی نظریہ و مسلک کا چلن ہوتا ہے اور وہی روایات اور قدریں زندہ رہتی ہیں جو انسانیت کی خیروفلاح کا ذریعہ ہوں۔ باقی جو کچھ ہے وہ کھوٹ میل ہے جسے تاریخ کی کٹھالی جلاکر راکھ کر دیتی ہے: وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ (الرعد ۱۳:۱۷)
  • میرا مذہب گھر کی چار دیواری سے لے کر حکومت کے ایوان تک اور اندرونِ ملک کے معاملات سے لے کر بین الاقوامی سرگرمیوں تک مجھے انسانیت دوستی کی روح سے بھرا ہوا ایک وسیع نصب العین دیتا ہے۔ وہ مجھ سے چاہتا ہے کہ میں اپنی زبان، اپنے ہاتھ پائوں، اپنے دماغ،   اپنے قلم اور اپنے روپے پیسے کی ساری قوتیں اس مہم میں لگادوں کہ سچائی اور نیکی کا پیغام ہر انسان تک پہنچے: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰)، اور جھوٹ اور ظلم اور بُرائی اور فساد کا زور ٹوٹ جائے: وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ (انفال ۸:۳۹)
  •  وہ اس پر مطمئن نہیں ہوتا کہ میں ذاتی حد تک کچھ جزوی نیکی کو سینے سے لگائے بدی کے اجتماعی ماحول میں امن چین سے پڑا رہوں، بلکہ وہ مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ اپنے دوسرے لاکھوں بھائیو ں کی بھلائی کے لیے کسی بھی فاسد نظام کے خلاف تبدیلی کی جدوجہد کروں: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (الصف۶۱:۹)۔اس مہم میں میرا مذہب مجھے یہ سکھاتا ہے کہ انسانی بھلائی کے کسی بھی نیک کام کے لیے میں بغیر کسی تعصب کے ہرانسانی طاقت سے تعاون کروں اور انسانوں کی بھلائی کے خلاف پڑنے والے غلط کاموں میں کسی عزیز سے عزیز اور قریبی سے قریبی کا بھی ساتھ نہ دوں: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ (المائدہ ۵:۲)۔ اس مہم کی بنیاد میرے مذہب نے خالص انسانی محبت و اخوت کے جذبے پر رکھی ہے۔

حضرات! ان چند مختصر اشارات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میرے مذہب ، دینِ اسلام نے انسان کو کیا مقام دیا ہے۔ بس خاتمۂ کلام کے طور پر میں ایک جملہ کہنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ میرا مذہب اُن محدود معنوں میں مذہب نہیں ہے جن میں یہ لفظ عام طور پر بولا جاتا ہے، بلکہ وہ ایک دین یا ایک نظامِ زندگی ہے۔ اس کی بنیاد پر کوئی جامد فرقہ نہیں پیدا ہوتا بلکہ ایک متحرک پارٹی تشکیل پاتی ہے۔ وہ کوئی مذہبی مشن نہیں کھڑا کرتا بلکہ ایک بین الاقوامی تحریک بپا کرتا ہے۔ وہ    مجرد وعظ نہیں سناتا، عملی مسائل کو اپنے ہاتھ سے حل کرنا چاہتا ہے۔ وہ کسی سے تبدیلیِ مذہب نہیں چاہتا بلکہ ذہن و کردار کی مکمل تبدیلی مانگتا ہے۔ اس کا منتہا چند پاک باز افراد پیدا کردینا نہیں، وہ نیکی کا ایک جہانی نظامِ سیاست و تمدن وجود میں لانا چاہتا ہے۔

 

الحمدللہ! مسلمان بچے (اوّل)، قرآنی تعلیمات (دوم) اور اسلامی آداب و اخلاق کے نفیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ دسمبر کے پہلے ہفتے سے احباب میں تحفتاً تقسیم شروع ہوجائے گی، ان شاء اللہ۔ مقامی حضرات دستی وصول کریں، جب کہ دیگر حضرات ۵۰روپے کے ڈاکٹ ٹکٹ ارسال کریں۔

شیخ عمر فاروق، -15 بی، وحدت کالونی، لاہور۔ فون: 042-37810845