دسمبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

علی احسن محمد مجاہد ، صلاح الدین قادر چودھری شہادتِ حق سے جامِ شہادت تک

سلیم منصور خالد | دسمبر ۲۰۱۵ | شذرات

آج ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء ہے۔

گزری رات میں حکمرانوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ: ’’بھارتی جارحیت اور قومی غداری کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں‘‘۔اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ کے دفتر کے آس پاس جمعیت اور البدر کے کارکن اکٹھے ہیں۔ سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا۔ ساڑھے ۲۳ برس کا ایک نوجوان، اپنے چاروں طرف کھڑے ساتھیوں کی طرف نظر دوڑاتا ہے۔ اگرچہ چند سسکیاں سنائی دے رہی ہیں، مگر وہ نوجوان پوری خوداعتمادی سے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں سے مخاطب ہوتا ہے:

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ واشھد ان محمدًا عبدہٗ ورسولہٗ

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o

مجاہد ساتھیو!         

ہمارے جسم و جان صرف اور صرف اسلام کے لیے ہیں۔

ہم نے اسلام ہی کی خاطر وہ کردار ادا کیا، جسے ہم خدا کی کتاب اور سنتِ رسولؐ کے مطابق درست جانتے تھے۔ ہم نے پاکستان کو معبود سمجھ کر نہیں، مسجد سمجھ کر اپنے سروں کی فصل اور اپنے مستقبل کو اس پر نچھاور کیا ہے۔

ہمیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دوسرے لوگ ہمارے اس کردار کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ جسے قبول کرنا ہے وہ تو جانتا ہی ہے کہ ہمارے سامنے صرف اس کی مرضی تھی۔ یہ خدا کی مرضی تھی کہ ہم سربکف نکل کھڑے ہوں۔ آزمایش کی اس گھڑی میں ہم نے اسی سے مدد مانگی اور اسی کے بھروسے پر اس نازک گھڑی سے نمٹنے کی کوشش کی۔

اے مظلوم پاکستان کے مجبور بیٹو!

ہمارے ساتھ آج جو کچھ ہونے والا ہے، ہم گزرے ہوئے کل میں اُس سے واقف تھے اور آج ہم اُس سے بھی واقف ہیں جو آنے والا کل ہمارے لیے لے کر آئے گا۔ ہم نہ اپنے گزرے ہوئے دنوں پر شرمندہ ہیں اور نہ آنے والے کل سے مایوس ہیں۔ آزمایش خدا کی سنت ہے اور ہمیں سکھایا گیا ہے کہ آزمایش سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ لیکن، جب وہ مسلط ہوجائے تو سرخروئی کی دُعا اور کامرانی کی اُمید کے ساتھ خدا کے حضور جھک جانا چاہیے۔

آج کا سورج ایک کڑے امتحان کے ساتھ طلوع ہوا ہے اور آنے والا کل دہکتے انگاروں کی بارش کے ساتھ نمودار ہونے والا ہے۔ ہمیں اللہ کی رضا پر راضی رہنا ہے اور ان آزمایشوں سے ایک صاحب ِ ایمان جیسے عزم اور صبر کے ساتھ گزرنا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اس راہ میں جان دے دینا وہ عظیم ترین سعادت ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا اپنے رب سے اپنی جانوں کے عوض جنت کا سودا کرنے سے پہلے ہم نے خوب سوچ سمجھ نہیں لیا تھا؟

آزمایش کی یہ گھڑی اُس ابدی دنیا کی کامرانیوںکی بشارت بھی ہے۔ اس لیے ان کڑی ساعتوں کا سامنا ایمان، عزم اور استقلال کی دُعا سے کیجیے کہ ایمان اور عزم کو کبھی فنا نہیں۔

اے دنیا بھر کی کامرانیوں سے بڑھ کر عزیز دوستو!

آپ آج بھی وقت کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ اقامت ِ دین، شہادتِ حق اور اسلامی انقلاب کے لیے ان زندگیوں کی حفاظت آپ پر فرض ہے۔

اگر آپ کے گھروں کی دہلیزیں آپ کے لیے بند اور راحت کدوں کی وسعتیں آپ کے لیے تنگ کردی جائیں تو ہجرت کر جایئے کہ ہجرت، وفا کے راستے کا لازمی سفر ہے۔ ہجرت خدا کے آخری رسولؐ کی سنت ہے۔

ہجرت کی تکلیفوں اور اذیتوں میں قرآن، نماز اور سیرتِ رسولؐ و سیرتِ صحابہؓ سے روشنی حاصل کیجیے کہ زندگی کا ظلمت کدہ انھی سے منور ہوسکتا ہے۔

___ اور مت بھولیے ، آپ ہی روشنی کے امانت دار ہیں۔ قرآن، سیرت اور کردار روشنی ہے، جہاں بھی رہیے اسی کے چراغ روشن کیجیے۔

اے میرے بھائیو!

کسے معلوم کہ کل ہم میں سے کون زندہ رہے اور کون کس سے مل پائے؟ وہاں تو ملاقات یقینا ہوگی، مگر اِس دنیا میں بکھر جانے سے پہلے ان چہروں کو جی بھر کر دیکھ لو، اور ان سینوں سے آخری بار معانقے کرلو کہ شاید یہ سب ایک بار پھر یہاں اس طرح جمع نہ ہوسکیں، سواے اس کے کہ ہمارا رب چاہے، اور وہ چاہے تو ہم یہاں پھر بھی مل سکتے ہیں۔

ساتھیو، دوستو اور بھائیو!

اب ہمیں ایک دوسرے سے جدا ہو جانا ہے۔

اپنے حواس مجتمع کیجیے، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

آیئے! ہم ایک دوسرے کو دعائوں کے ساتھ رخصت کریں، فی امان اللّٰہ!

ایک طرف ہتھیار ڈالنے کی تیاری ہورہی تھی اور دوسری جانب یہ خطاب۔ خطاب ختم ہونے پر البدر کے کیڈٹ بھیگی پلکوں اور لرزتے ہونٹوں کے ساتھ ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے تھے۔   یہ سب ساتھی اپنے قائد کو پہلے الوداع ہونے پر اصرار کر رہے تھے، مگر وہ اس بات پر چٹان کی طرح جم گیاکہ: ’’میں آخری فرد ہوں، جو آپ سب کے روانہ ہونے کے بعد اس جگہ سے ہلے گا‘‘۔ اصرار بڑھا تو اس نوجوان نے کہا: ’’دوستو، میں مجبوراً آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ ہجرتوں پر چلے جایئے‘‘۔ اور تمام مجاہد اَن دیکھی راہوں پر چل نکلے۔

یہ نوجوان اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان کے آخری ناظم شہید علی احسن محمد مجاہد تھے، جو قیامِ پاکستان کے ۱۰ ماہ بعد ۲۳جون ۱۹۴۸ء کو فریدپور میں پیدا ہوئے۔ وہ ڈھاکہ یونی ورسٹی کے طالب علم تھے۔ انھیں ۲؍اکتوبر ۱۹۷۱ء کو اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ تسنیم عالم منظر (م:۱۵ستمبر۱۹۷۲ئ) نے مشرقی پاکستان میں جمعیت کا صوبائی ناظم مقرر کیا تھا۔ یاد رہے علی احسن ’البدر‘ کے صوبائی کمانڈر نہیں تھے۔

اپنی تحریر میں ، ’مَیں‘ کا لفظ استعمال کرنے سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔ لیکن آج یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں نے اس تقریر کے اجزا ان دوستوں سے مل کر قلم بند کیے، جو ان کرب و بلا کے لمحوں میں یہ تقریر سن رہے تھے۔ پھر دسمبر ۱۹۸۰ء میں ڈھاکہ پہنچ کر علی احسن محمد مجاہدبھائی کو یہ تقریر سنائی۔ یہ تقریر سناتے ہوئے جب ایک ایک جملے پر لرزتے ہوئے جملہ زبان سے ادا کرنے میں بے بس ہوجاتا تو علی احسن بھائی مجھے سینے سے لگاکر، اپنے ہاتھ سے میرے آنسو پونچھتے۔ میں حیران تھا کہ علی احسن بھائی کا ملکوتی چہرہ پُرسکون انداز سے اپنے اندر چھپے طوفان کو کس ضبط سے سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ تقریر میری مرتّبہ کتاب البدر میں اکتوبر ۱۹۸۵ء (ص ۱۷۶-۱۷۸) میں شائع ہوچکی ہے۔ کالی دیوی اور سزاے موت دینے والے ٹریبونل نے اس تقریر کو بھی فردِ جرم (چارج شیٹ) کا حصہ بنایا تھا۔ یہ تقریر زمان و مکان کی قید ختم کرتی، ہمیں ڈھاکہ سے اُٹھا کر ۱۴۰۰برس پہلے میدانِ بدر میں لے جاتی ہے۔ اس تقریر میں علی احسن کے ایمان، اعتماد اور مستقبل بینی کو اس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ جیسے سورج کی روشنی میں اپنے ہاتھ کی لکیریں!

o

سرزمینِ پاکستان پر علی احسن مجاہد کی ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کی صبح ڈھاکہ میں اس آخری تقریر کو، بنگلہ دیش میں ۲۲ نومبر ۲۰۱۵ء کی رات ۱۲بج کر ۵۵منٹ پر ڈھاکہ ہی میں الوداعی خطاب سمجھ کر، دوبارہ پڑھا، سمجھا اور لفظ لفظ پر خوب غور کیا ۔ بقول نعیم صدیقی مرحوم : 

میرے خیال میں آتے ہیں جب وطن کے شہید

تو سوچتا ہوں کہ اپنی یہ زندگی کیا ہے

سنا تھا خونِ شہیداں سے پھوٹتی ہے سحر

تو میرے گرد یہ دیوارِ تیرگی کیا ہے

کل کا مشرقی پاکستان آج کا بنگلہ دیش ہے۔کل جہاں کُل ہند مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور سب سے پہلے دو قومی نظریہ مجسم صورت میں اُبھرا تھا، آج وہ اسی برہمنی سامراج کے خونیں پنجوں میں پھڑپھڑاتے پرندے کے مانند ہے۔ جہاں بھارت نے عوامی لیگ کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن (م:۱۵؍اگست ۱۹۷۵ئ) کی مدد سے نہ صرف پاکستان توڑا بلکہ خود اپنی قوم کو ایک ایسی غلامی کی دلدل میں دھکیلا تھا، جہاں آج علامتی طور پر بنگلہ دیش کا پرچم تو موجود ہے اور کہنے کو، ایک بنگالی حکومت بھی، مگر عملاً اس کا اقتدارِ اعلیٰ بھارتی بدنامِ زمانہ ’را‘ کے ڈائرکٹریٹ کے ہاتھ میں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک دوسرے شیخ، شیخ عبداللہ (م: ۸ستمبر۱۹۸۲ئ)نے بظاہر کشمیر کا اختیار حاصل کرنے کا ڈراما رچایا، لیکن اہلِ کشمیر آج بھی اسی برہمنی سامراج کے شکنجے میں قربانیاں دے رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد شہید کا جرم کیا تھا؟

اگر  واقعی وہ اُن جرائم کے مرتکب تھے، جنھیں ’را‘ کے اہل کاروں نے مرتب کیا ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ’مجرم‘ کو خود اُس کے علاقے کے لوگوں نے کیوں ۴۳برس تک  اپنے درمیان قبول کیا؟ کیوں اُس کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا؟ کیوں اسے رکنِ اسمبلی منتخب کیا؟ کیوں اسے بطور ’وزیرسماجی بہبود‘ (۲۰۰۱ئ-۲۰۰۷ئ)کام کرنے دیا؟ کیوں عوامی لیگ نے شیخ مجیب الرحمن کے دورِاقتدار ۱۹۷۱ء تا ۱۹۷۵ء اور بعدازاں حسینہ واجد کے پہلے دورِحکومت میں مقدمہ نہ چلایا؟___ اس المیے کا واحد جواب یہ ہے کہ وہ ایسے کسی جرم میں شریک نہیں تھے۔  اگر ایسا ہوتا تو جنرل حسین محمد ارشاد کے دورِ آمریت (دسمبر۱۹۸۳ئ-دسمبر ۱۹۹۰ئ) میں جمہوریت کی بحالی اور دستوری ترامیم کے لیے عوامی لیگ ان کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوکر جدوجہد نہ کرتی۔

اب ذرا دیکھیے: علی احسن مجاہد کو ۲۹ جون ۲۰۱۰ء کو گرفتار کیا گیا، ۱۶جنوری ۲۰۱۲ء کو     چارج شیٹ مرتب کی گئی۔ ۲۱جون ۲۰۱۲ء کو الزامات متعین کر کے نام نہاد ٹریبونل میں پیش کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ پورے ۱۹۷۱ء میں، اور پھر ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء سے لے کر ۱۶جنوری ۲۰۱۲ء کے درمیانی عرصے میں علی احسن مجاہد کے خلاف کسی تھانے میں ان جرائم کی نسبت سے ایک سطر بھی درج نہیں، اور نہ کسی عدالت میں مذکورہ کسی الزام پر مبنی کوئی ایک مقدمہ بھی زیرسماعت ہوا۔ پھر یہ سب اچانک کیوں ہوا؟

اس جعلی عدالت نے، جسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور عدالتی عمل کے پاسداروں نے کھلے لفظوں میں مسترد کردیا ہے، اسی عدالت نے ۱۷جولائی ۲۰۱۳ء کو علی احسن مجاہد کو سزاے موت سنائی۔ علی احسن نے اُسی وقت عدالت کی کرسی پر بیٹھے نام نہاد جج کو مخاطب کر کے کہا تھا: ’یہ سب جھوٹ ہے اور تمھارا فیصلہ بھی جھوٹ ہے، سو فی صد جھوٹ‘۔ ازاں بعد سپریم کورٹ میں اپیل کی، جو ۱۶ جولائی ۲۰۱۵ء کو مسترد ہوگئی۔ پھر ۱۸نومبر کو اسی عدالت نے نظرثانی کی درخواست بھی خارج کر دی، اور ۲۱، ۲۲ نومبر کی درمیانی رات سچائی کا قتل کر دیا گیا۔

ہمیں اس وحشت انگیزی کے پس منظر میں کارفرما محرکات کو دیکھنا چاہیے جو بین الاقوامی اور سیاسی، معاشی اور تہذیبی ایجنڈے کے حامل ہیں۔ اس میں اوّلین محرک تو اسلامی تہذیبی رشتے پر حملہ ہے، اور دوسرا فوری سبب بھارت کے معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ غور کیجیے کہ: ’’آج بنگلہ دیش میں ۵ لاکھ بھارتی کارکن کام کر رہے ہیں۔ (اور بنگلہ دیش، بھارت کے ایک صوبے اترپردیش سے بھی چھوٹا خطۂ ارضی ہے، جہاں غربت اور بے روزگاری کے وہ ہولناک ڈیرے ہیں، مگر) عرب امارات، امریکا، سعودی عرب اور برطانیہ کے بعد جس ملک سے سب سے زیادہ زرمبادلہ بھارت منتقل ہوتا ہے، وہ یہی ’آزاد‘ بنگلہ دیش ہے (طیب حسین، ڈیلی اسٹار، ۸مارچ ۲۰۱۵ئ)۔ قبل ازیں یہی بات ڈھاکہ کا اخبار دی نیونیشن (۲۸فروری ۲۰۱۴ئ) لکھ چکا ہے۔ دونوں اخبارات بتاتے ہیں کہ: ’’بنگلہ دیشی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۷۱۶ئ۳ ملین امریکی ڈالر سے زیادہ زرِمبادلہ بنگلہ دیش سے بھارت کی طرف بہہ جاتا ہے، جب کہ اس سے دوگنی رقم غیرقانونی ہنڈی کے ذریعے بھارت منتقل ہوتی ہے [گویا کہ تقریباً ۸؍ارب امریکی ڈالر جو: ۶ کھرب اور ۲۴؍ارب بنگلہ دیشی روپے (ٹکے) بنتے ہیں]۔ اس رقم کا بڑا حصہ تجارت، صنعت اور بنگلہ دیش میں کام کرنے والی این جی اوز میں بھارتی کارندوں کی تنخواہوں کی صورت میں بھارت منتقل ہوتا ہے‘‘ (ذرا یہاں پاکستان میں متحرک مخصوص نظریاتی ’این جی اوز‘ پر نظر ڈال کر دیکھیے، کچھ نہ کچھ ’طبق ضرور روشن‘ ہوں گے)۔

نکتے کی یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ ایک طرف بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، اس بھارتی معاشی یلغار اور غلامی کے سامنے رکاوٹ کھڑی کر رہی تھی اور دوسری طرف عالمی شہرت یافتہ صحافی اور بنگلہ دیش کے پہلے وزیرخارجہ ڈاکٹر کمال حسین کے داماد ڈیورڈ برگ مین کے بقول:  ’’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کے مرکزی رہنما صلاح الدین قادر چودھری کا اصل جرم یہ تھا کہ انھوں نے ۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۷ء کے دوران، بطور مشیر پارلیمانی اُمور یہ دیوار کھڑی کر دی تھی کہ ہم بھارت کے ٹاٹا گروپ کو بنگلہ دیش میں ۳؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کرنے دیں گے، اور وہ اس میں کامیاب رہے‘‘۔ (دیکھیے Progress Bangladesh، ۲۱ نومبر ۲۰۱۵ئ)

اگرچہ دیگر نظریاتی، سیاسی اور عالمی اہمیت کے اُمور بھی اس اہتمامِ قتلِ بہاراں میں شامل ہیں، مگر بنیادی طور پر بھارت نے جب یہ دیکھا کہ اس کی معاشی چراگاہ بنگلہ دیش میں رکاوٹیں کھڑی ہورہی ہیں تو اس نے ۱۹۷۱ء کے بعد دوسری بار ۲۰۰۸ء سے میں بنگلہ دیشی معاشرے کو خونیں تصادم میں دھکیلنے کے لیے عوامی لیگ سے مدد مانگی، اور آج یہ سارا کھیل، کسی بنگلہ دیشی قومی مفاد میں نہیں بلکہ بھارت کے معاشی اور سیاسی مفاد میں کھیلا جا رہا ہے۔ بھارت کے پالیسی ساز اِس طرح مسلسل سیاسی آویزش پیدا کر کے، مقامی سطح پر معاشی استحکام کی بنیادوں کو ہلامارنے اور لوگوں کو باہم لڑانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پھر نریندرا مودی جیسے دہشت گرد کی برہمنی یلغار اس فساد میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

صلاح الدین قادر چودھری (جو ۱۳مارچ ۱۹۴۹ء کو چٹاگانگ میں پیدا ہوئے) کے والد ِ گرامی فضل القادر چودھری (۲۶ مارچ ۱۹۱۹ئ-۱۷جولائی۱۹۷۳ئ) چٹاگانگ سے تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما اور قائداعظم کے دست ِ راست تھے۔ وہ نوجوانی سے لے کر آخری سانس تک صرف مسلم لیگ ہی سے وابستہ رہے۔سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد مکتی باہنی نے انھیں گرفتار کر کے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی ’پاکستان مُردہ باد‘ کا نعرہ بلند کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور آخری روز ان کو خنجر مار کر شہید کردیا گیا۔ انھی فضل القادر چودھری شہید کے بیٹے صلاح الدین قادر چودھری نہ صرف بنگلہ دیش کی مسلم قومی شناخت کے علَم بردار تھے، بلکہ بھارت کے معاشی و سیاسی مفادات کے سامنے ایک مضبوط چٹان بھی تھے، اس لیے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

صلاح الدین قادر شہید کو ۱۶دسمبر ۲۰۱۰ء کی رات گرفتار کیا گیا۔ ۱۴نومبر ۲۰۱۱ء کو چارج شیٹ جاری کی گئی اور ۴؍اپریل ۲۰۱۲ء کو یہ چارج شیٹ نام نہاد خصوصی عدالت میں پیش کی گئی۔  حکومت نے ان کے خلاف ۴۱ خانہ زاد گواہ پیش کیے، لیکن ان جعلی گواہوں کے جواب میں صلاح الدین قادر  نے ۲۰گواہوں کی فہرست پیش کی، جن میں سے صرف پانچ گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت مل سکی۔ پھر چار گواہان کو مختصر ترین وقت میں سننے کے بعد پانچویں گواہ کو سننے سے انکار کردیا گیا۔ صلاح الدین نے ۱۹۷۱ء کے حوالے سے alibi (موقع واردات پہ عدم موجودگی) کے آٹھ گواہوں کے نام پیش کیے تو ان ناموں کی فہرست کو صرف پانچ منٹ کی سماعت کے بعد مسترد کر دیا گیا۔ پھر پاکستان کے سابق قائم مقام صدر اور سابق وزیراعظم محمد میاں سومرو، سابق وفاقی وزیر ریلوے اسحاق خاں خاکوانی، روزنامہ ڈان کی چیف ایڈیٹر عنبرہارون سہگل، منیب ارجمند خاں اور ریاض احمد جیسی قابلِ احترام شخصیات نے حلفیہ یہ گواہی دینے کے لیے ڈھاکہ جانا چاہا کہ: ’’صلاح الدین قادر ۱۹۷۱ء میں پاکستان میں تھے‘‘ تو اُن افراد کے بنگلہ دیش میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ معززین اس بات کے گواہ ہیں کہ صلاح الدین قادر، ۲۹ مارچ سے ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء تک مغربی پاکستان کے شہروں لاہور اور کراچی میں مقیم تھے، مگر اس نام نہاد خصوصی عدالت نے ایک نہ سنی، ایک گواہ کو بھی پیش نہ ہونے دیا۔

یوں ایک جعلی عدالت نے، جعلی مقدمے کی، جعلی کارروائی کا ڈراما رچا کر یکم اکتوبر ۲۰۱۳ء کو صلاح الدین قادر چودھری کو سزاے موت سنا دی۔ ۲۹جولائی ۲۰۱۵ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھا اور ۱۸نومبر ۲۰۱۵ء کو نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی۔ ۱۹۷۹ء سے ۲۰۱۲ء کے عرصے میں، چٹاگانگ سے چھے مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے صلاح الدین قادر ۲۱،۲۲نومبر کی درمیانی رات، حسینہ واجد کے ہاتھوں قتل کردیے گئے۔

جوں ہی ۱۸نومبر کو دونوں رہنمائوں کی اپیلیں سپریم کورٹ نے مسترد کر دیں، تو ۱۹نومبر کو انسانی حقوق کے عالمی ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے علی احسن محمدمجاہد اور صلاح الدین قادر چودھری کے لیے اس سزا پر ردعمل دیتے ہوئے یہ بیان دیا تھا: ’’جماعت اسلامی کے علی احسن محمد مجاہد اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے صلاح الدین قادر کی سزاے موت کے اعلانات کو [بنگلہ دیشی] حکام فی الفور معطل کریں اور ان فیصلوں کو غیر جانب دارانہ نظرثانی کے عمل سے گزاریں۔ بلاشبہہ ۱۹۷۱ء کے حوالے سے نازک اُمور کی جانچ ہونی چاہیے، مگر مقدمات کو انصاف کے عالمی، مسلّمہ اور عادلانہ معیارات کے مطابق چلانا چاہیے۔ مقدموں کی غیرعادلانہ کارروائی سے کبھی انصاف حاصل نہیں ہوسکتا اور خاص طور پر جب سزاے موت دیے جانے کا معاملہ ہو تو مسئلے کی نزاکت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ ، سابق امریکی سفیر اسٹیفن رپ کے اس بیان کو وزن دیتا ہے کہ مجاہد اور چودھری کے مقدموں پر فیصلہ درحقیقت اسقاطِ عدل (miscarriage of justice) ہے۔ (ڈیلی اسٹار، ۲۰نومبر ۲۰۱۵ئ)

علی احسن محمد مجاہد کے بیٹے نے ۱۹نومبر ہی کو اعلان کر دیا تھا کہ: ’’ہمارے عظیم والد نے اپنی ساری زندگی میں کوئی اخلاقی یا فوج داری جرم نہیں کیا ہے۔ وہ بے گناہ ہیں، انھیں صرف حق گوئی، دین داری کی سزا دی گئی ہے، اس لیے وہ رحم کی کوئی اپیل نہیں کریں گے‘‘۔ دوسری طرف کٹھ پتلی حسینہ حکومت نے ۲۱نومبر کی سہ پہر سے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ: ’’دونوں لیڈروں نے صدر سے رحم کی اپیل کی ہے‘‘۔ ایک جانب ان مظلوموں پر ظلم کی انتہا اور دوسری جانب انھیں پھانسی دینے سے قبل نمک پاشی کے لیے یہ گھنائونا مذاق۔ بہرحال جوں ہی رات کے سایے گہرے ہوئے تو ڈھاکہ اور تمام بڑے شہروں میں بڑی تیزی کے ساتھ پولیس اور بنگلہ دیش ریپڈ بٹالین نے پوزیشنیں سنبھالنا شروع کردیں۔ دونوں لیڈروں کے اہلِ خانہ کو آخری ملاقات کا نوٹس دیا گیا ۔ الوداعی ملاقات کے بعد علی احسن کے بیٹے نے جیل کے گیٹ پر حکومتی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا: ’’جب ہمارے والد نے جرم کیا ہی نہیں تو معافی کی اپیل کیسی؟‘‘اور صلاح الدین قادر کے بیٹے ہمام قادر نے جیل سے باہر نکل کر بتایا: ’’ہمارے والد نے کوئی جرم نہیں کیا، اس لیے انھوں نے کسی سے رحم کی اپیل نہیں کی‘‘۔

’بی ڈی نیوز ۲۴‘ کے نمایندے کو پھانسی گھاٹ پر آخری لمحوں کے گواہ پولیس افسر نے بتایا: ’’پھانسی کے تختے پر قدم رکھتے وقت صلاح الدین قادر اور علی احسن مجاہد، دونوں ہی نہایت پُرسکون تھے۔ ان دونوں کو پھانسی کے ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑا کیا گیا‘‘۔ اور ڈپٹی کمشنر کے بقول: ’’دونوں خاموشی سے پھانسی کے پھندے کی جگہ جاکر کھڑے ہوئے۔ جب ان کی گردنوں میں رسہ ڈالا جا رہا تھا، تو دونوں نے لمحے بھر کے لیے بھی گردن ہلا کر کسی منفی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اور پھر ایک ہی لمحے میں دونوں کو (بنگلہ دیش کے وقت کے مطابق رات ۱۲بج کر ۵۵ منٹ، پاکستان میں رات ۱۱بج کر ۵۵ منٹ پر) تختۂ دار پر کھینچ دیا گیا‘‘۔ (۲۲نومبر ، صبح ۶بجے، بی ڈی نیوز۲۴)

دونوں قائدین کے عدالتی قتل کی اگلی صبح حسینہ واجد نے بڑی خوشی کے ساتھ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی تو چٹاگانگ سے عوامی لیگی ممبر نے تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’حسینہ نے پھانسیاں دے کر عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، یہ ٹوٹ تو سکتی ہے، مگر جھک نہیں سکتی‘‘(بی ڈی نیوز،۲۲نومبر)۔ پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خاں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’یہ سزاے موت دراصل انصاف کا قتل، اخلاقیات، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ہم اس سلسلے میں کچھ نہ کرسکے‘‘۔ جس کے جواب میں: ’’کٹھ پتلی وزیراعظم حسینہ واجد نے کابینہ کا اجلاس شروع ہوتے ہی، پھانسیوں پر خوشی کا اظہار کیا اور بنگلہ دیشی برقی ذرائع ابلاغ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے علی احسن مجاہد اور صلاح الدین قادر کے خاندانوں اور پس ماندگان کے دکھ درد کو کیوں سکرین پر پیش کیا ہے‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ۲۳نومبر ، شام ۴بجے)

اگرچہ دنیا بھر میں اس ظلم پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم ۴۰ممالک کے علما کی عالمی تنظیم ’رابطہ علماے اہلِ سنت‘ استنبول نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے: ’’بنگلہ دیش میں حکومت غیرانسانی، غیرقانونی اور غیراسلامی اقدامات کرتے ہوئے محب ِ وطن افراد اور تحریکِ اسلامی کے قائدین کے خلاف انتقامی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صلاح الدین قادر اور    علی احسن محمد مجاہد کا خون تمام مسلم ممالک،اسلامی تنظیموں اور پوری ملت ِ اسلامیہ کی گردن پر ہے، جنھوں نے اس عرصے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ہم ہر صاحب ِ فکر اور ہر ذمہ دار فرد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کے ان مظلوم مسلمان بھائیوں کی معاونت کے لیے ہرممکن اقدام کریں‘‘۔ (الجزیرہ نیٹ، ۲۳ نومبر ۲۰۱۵ئ)

۲۲نومبر کو پورے بنگلہ دیش کے بڑے شہروں اور قصبوں میں دونوں شہیدوں کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقعے پر مقررین نے کہا: ’’ان شہیدوں کا کوئی قصور نہیں تھا، سب الزامات بدنیتی پر مبنی تھے، تاکہ بنگلہ دیش کو ایک خودمختار اسلامی اور معاشی اعتبار سے مستحکم ملک بننے سے روکا جاسکے۔ دشمن بھارت یہ دونوں باتیں ہضم نہیں کرسکتا، اس لیے اُس کی آلۂ کار اور غیرنمایندہ عوامی لیگی حکومت بھارت کی خوش نودی کے لیے اپنے ہی بیٹوں کے خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے بھی معاشرے کی اصلاح، ترقی اور خودمختاری کے لیے کام کررہی تھی، ہم آیندہ بھی اسے بھارتی غلامی سے بچانے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔یہ شہادتیں ہمارا راستہ روک نہیں سکتیں، بلکہ ہمیں ان سے اور زیادہ یکسوئی حاصل ہوئی ہے۔ ایک بندئہ مومن کی زندگی کا مقصد صرف اسی کی رضا ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پُرامن، دعوتی اور جمہوری انداز سے جاری رکھیں گے‘‘۔

۲۳نومبر کو جماعت اسلامی نے پورے بنگلہ دیش میں احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی۔ کئی شہروں میں بھرپور ہڑتال رہی، تاہم ہڑتال کو روکنے کے لیے، جماعت اسلامی اور ’اسلامی چھاترو شبر‘ (اسلامی جمعیت طلبہ) کے رہنمائوں کے گھروں کو (بھارت میں بجرنگ دل، شیوسینا اور آر ایس ایس کے فسادیوں کی طرح) رات ہی سے عوامی لیگی غنڈوں نے گھیر لیا، تاکہ مؤثر احتجاج کو روکا جاسکے۔ متعدد کارکنوں کو گھروں سے نکلتے ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سیکڑوں کو گرفتار کرلیا۔کئی رہنمائوں کے گھروں کے سامنے لائوڈاسپیکر پر اعلانات کیے جاتے رہے: ’’تم گھروں کو خالی کرو، اور بنگلہ دیش چھوڑ دو‘‘۔ جیسور کالج ہاسٹل میں اسلامی چھاترو شبر کے دو لیڈروں حبیب اللہ اور قمرالحسن کو لاٹھیاں مارمار کر شہید کردیا اور باقی کا سامان اُٹھا کر باہر پھینک دیا۔ ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے پوری ریاستی مشینری کو استعمال کیا گیا۔ تاہم، جماعت اسلامی کی جانب سے ہڑتال کی اس اپیل میں بی این پی شامل نہیں ہوئی، حالانکہ صلاح الدین قادر چودھری بی این پی کے مرکزی لیڈر تھے۔انھوں نے  اپنے اہلِ خانہ سے ۲۰ نومبر کی ملاقات میں اپنی پارٹی کے اس رویے پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ’’مجھے افسوس ہے، بی این پی نے یک جہتی کا مظاہرہ نہیں کیا‘‘۔ اور اپنے اہلِ خانہ سے کہا کہ: ’’آپ آیندہ جماعت اسلامی ہی کے ساتھ مل کر کام کریں‘‘۔

بنگلہ دیشی وزیرقانون انیس الحق نے ۲۴نومبر کو کہا ہے کہ: ’’جماعت اسلامی اور اس کی متعلقہ پارٹیوں پر جامع پابندی کے لیے، حکومت انتظامی حکم نامہ جاری کرنے کے بجاے باقاعدہ دستوری ترمیم پر کام کر رہی ہے، اور ’خصوصی عدالت‘ سے فیصلہ لینے کے لیے ریفرنس دائر کر رہی ہے تاکہ جماعت اسلامی، اس کی برادر اور اسلامی آئیڈیالوجی پر مبنی تنظیموں پر بنگلہ دیش میں مستقل طور پر پابندی عائد کردی جائے‘‘۔د وسری جانب ۲۵نومبر کو وزارتِ خزانہ نے بنک آف بنگلہ دیش سے کہا کہ: ’’جماعت اسلامی اور اس سے وابستہ تنظیموں، اور منسلک افراد کے بنکوں، انشورنس کمپنیوں، جایداد خرید و فروخت کے اداروں، ہسپتالوں، کلینکوں ، اسکولوں اور تدریسی اداروں کے لین دین پر کڑی نگاہ رکھ کر رپورٹ مرتب کی جائے، تاکہ مالیاتی پابندی کو مؤثر بنایا جاسکے‘‘۔

بہ ظاہر حالات سخت خراب ہیں اور سیکولر فسطائیت کی گرفت بھی نظر آتی ہے۔ مگر ان شاء اللہ ظلم کی یہ سیاہ رات زیادہ طول نہیں کھینچ سکے گی۔