دسمبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

’اسلام کے نام پر‘ قتل اور اغوا؟

ڈاکٹر یوسف قرضاوی | دسمبر ۲۰۱۵ | فقہ و اجتہاد

’’[۱۲دسمبر ۱۹۸۳ء میں کویت میں خوں ریز دھماکے ہوئے نتیجتاً لبنانی حزب اللہ سے منسوب ۱۷ گوریلوں کو حکومت ِ کویت نے گرفتار کرلیا۔ ۵؍اپریل ۱۹۸۸ء کو ان کی رہائی کے لیے کویت ایرویز کی پرواز ۴۲۲ کو ]اغوا کرلیا گیا تھا۔ اس میں سوار بے گناہ بوڑھے، بچے اور عورتوں کو مسلسل ۱۶ دنوں تک خوف و ہراس کی حالت میں رکھا، بلکہ اغوا کنندگان نے بعض معصوموں کی جان بھی لے لی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اغوا کنندگان اپنے بارے میں متقی اور پرہیزگار ہونے کی بھی نمایش کرتے تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے طیارے کا اغوا اچھے اور نیک مقصد کے لیے کیا ہے۔ وہ نماز کے وقت نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے اور ان کی زبانیں ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتی تھیں۔

براہ کرم رہنمائی کیجیے کہ اس صورتِ حال میں اسلام کا کیا موقف ہے؟ کیا واقعی کسی اچھے اور نیک مقصد کے لیے اغوا جیسا گھنائونا جرم کیا جاسکتا ہے؟ کن گناہوں کی پاداش میں انھوں نے مسافروں کو اغوا کیا اور ان میں سے بعض کی جان لے لی؟ کیا اسلام  اس طرح بے گناہوں کو ڈرانے، دھمکانے اور ان کی جان لینے کی اجازت دیتا ہے؟‘‘

بلاشبہہ میں نے اور میرے جیسے اُن کروڑوں مسلمانوں نے، جن کا دل ابھی پتھر نہیں ہوا ہے، مذکورہ واقعے سے سخت اذیت محسوس کی تھی۔ میں نے اپنے خطبوں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں اس حرکت کی سخت مذمت بھی کی تھی۔

بے گناہ افراد پر ظلم ڈھانا، گناہ اور جرم ہے خواہ وہ کسی بھی دین یا کسی بھی قوم اور ملت سے تعلق رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ظلم و زیادتی کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ اس معاملے میں یہودیوں کی طرح اسلام کے دو پیمانے نہیں ہیں۔ یہودی قوم یہودیوں پر ظلم و زیادتی کو برداشت نہیں کرتی، لیکن   خود دوسروں پر ظلم و زیادتی کرنے میں کوئی گناہ محسوس نہیں کرتی۔

میں اسلام کے چند بنیادی اصول پیش کرتا ہوں، تاکہ اسلامی قوانین کی روشنی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکے:

  •  بے گناھوں پر ظلم و زیادتی حرام ھے: اسلام کسی بے گناہ انسان پر ظلم و زیادتی کو کسی بھی صورت میں جائز نہیں قرار دیتا، خواہ بے گناہ شخص مسلم ہو یا غیرمسلم، یا اس کا تعلق کسی بھی ملک، قوم اور ملّت سے ہو۔ زیادتی کرنے والا اگر خلیفۂ وقت بھی ہو، تب بھی اسلام اسے برداشت نہیں کرتا۔ اس بات کو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعے پر صاف صاف الفاظ میں بیان کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ جنگ کے دوران بھی اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ بے گناہ شہریوں ، مثلاً بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی جان لی جائے۔ یہاں تک کہ اس پادری اور پنڈت کی جان لینا بھی جائز نہیں ہے، جو جنگ سے کنارہ کش ہوکر کنیسہ (Church)یا مندر (Temple) میں بیٹھ کر عبادت میں مشغول ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض انصاف پسند تاریخ دانوں نے اعتراف کیا ہے کہ تاریخ نے مسلمانوں سے زیادہ رحم دل فاتح نہیں دیکھا ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ زیادتی صرف انسانوں ہی پر نہیں بلکہ جانوروں پر بھی جائز نہیں ہے۔ بخاری کی حدیث ہے کہ ایک عورت محض اس وجہ سے جہنم کی حق دار ہوگئی کہ اس نے ایک بلی کو گھر میں قید کردیا، نہ اسے کھانا دیا اور نہ گھر سے باہر جانے دیا کہ خود سے کچھ کھاپی لے یہاں تک کہ بلی بھوک سے مرگئی۔

ذرا غور کیجیے کہ ایک بلی کو بلاوجہ قید کرنا اور اس کو اذیت دینا اتنا بڑا جرم ہے، تو ان لوگوں کا جرم کس قدر بھیانک ہوگا، جنھوں نے بے گناہ مسافروں کو طیارے کے اندر قید کر دیا۔ انھیں خوف و ہراس میں مبتلا کیا اور ان میں سے بعض کی جان تک لے لی۔

  •  ھر شخص اپنے گناہ کا خود ذمہ دار ھے : ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ  وِّزْرَ اُخْریٰ o (النجم ۵۳:۳۸)’’کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا‘‘۔

بلاشبہہ اسلام کے اصولوں میں سے ایک واضح اصول یہ ہے کہ ہرشخص اپنے عمل کا خود ذمے دار ہے۔ اگر کسی نے غلطی کی ہے تو اس کی غلطی کی سزا اس کے باپ یا بھائی کو نہیں دی جائے گی۔ یہی عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ طیارے کے اغوا کنندگان خود کو ’متقی اور پرہیزگار‘ ظاہر کرنے کے باوجود اسلام کے اس واضح حکم سے کھلا انحراف کر رہے تھے۔ انھوں نے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے اور اس پر دبائو ڈالنے کے لیے، بے گناہ مسافروں پر ظلم کیا اور ان کی جان لی، حالاں کہ یہ مسافر بالکل بے قصور تھے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسا بھیانک جرم وہ ’اسلام کے نام‘ پر کر رہے تھے۔ بلاشبہہ ایسے لوگ مسلمانوں کے لیے باعث ِ شرمندگی بھی ہیں اور اسلام کی پیشانی پر ایک بدنما داغ بھی۔کیا انھیں پتا نہیں ہے کہ کسی بے گناہ کا قتل کس قدر بھیانک گناہ ہے؟

اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط(المائدہ ۵:۳۲) جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔

صحیح حدیث میں ہے:

لَزَوَالُ الدُّنْیَا اَھْوَنُ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ (ترمذی)، پوری دنیا کو مٹا دینا اللہ کے نزدیک زیادہ آسان ہے کسی مسلم کو قتل کردینے کے مقابلے میں۔

مَنْ اَشَارَ اِلٰی اَخِیْہٖ بِحَدِیْدَۃٍ فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَلْعَنُہٗ حَتّٰی یَنْتَھِی (مسلم)، جس نے اپنے بھائی کی طرف ہتھیار اُٹھایا فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ہتھیار ہٹا لے۔

  •  اچہے مقصد کے لیے غلط راستے کا انتخاب ناجائز ھے :گناہ اور جرم کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، خواہ کسی اچھے مقصد ہی کے لیے، یہ غلط راستہ کیوں نہ اختیار کیا جائے۔ اسلام اس ’میکیاولی نظریے‘ کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ’ ’اچھے مقصد کو پانے کے لیے اچھا بُرا کچھ بھی کیا جاسکتا ہے‘‘۔ اسلامی نظریے کے مطابق جتنا ضروری کسی مقصد کا نیک یا مفید ہونا ہے، اتنا ہی ضروری ان ذرائع کا اچھا ہونا بھی ہے، جنھیں مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے کے لیے چوری کرنا یا حرام طریقے سے مال حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ مقصد کے نیک ہونے کے باوجود اس مقصد کو حاصل کرنے کا راستہ جائز نہیں ہے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا الطَّیِّبَ (مسلم) اللہ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے۔

اسی لیے علماے کرام ’عملِ صالح‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: عملِ صالح وہ ہے جس میں دو باتیں پائی جاتی ہوں۔ پہلی یہ کہ عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہو اور دوسری یہ کہ اسلامی احکام اور شریعت کے مطابق ہو۔ اسلامی شریعت سے ہٹ کر انجام دیا ہوا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کو    خوش کرنے کے لیے کیا گیا عمل صالح عمل نہیں ہوسکتا۔

طیارہ اغوا کرکے ، مسافروں کو یرغمال بنانے والوں کا یہ دعویٰ کہ: ’’ہمارا مقصد نیک و صالح ہے اور جیلوں میں قید اپنے بے گناہ بعض ساتھیوں کی رہائی کی غرض سے یہ سب کچھ کر رہے ہیں‘‘۔ ان کے اس ہدف کو اگر چند لمحوں کے لیے کوئی جائز سمجھ بھی لے، تو فی الواقع اس کے باوجود اس امرواقعہ میں دو راے نہیں کہ انھوں نے جو راستہ یا طریقہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی شرم ناک ہے، قابلِ مذمت ہے اور یہ ایک بدترین جرم ہے۔ اس صورت میں اس جرم کا گھنائونا پن اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ انھوں نے یہ جرم ’اسلام کے نام‘ پر اور خود کو ’متقی پرہیزگار‘ سمجھتے ہوئے کیا ہے۔ اپنے اس رویے سے وہ اسلام کی زبردست بدنامی کا سبب بنے ہیں۔

بلاشبہہ اسلام کی نظر میں مسافر طیارے کو اغوا کرنا [یا کسی کو یرغمال بنانا] کسی بھی صورت جائز نہیں ہے اور اب علماے کرام پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا والوں کے سامنے اسلام کے صحیح موقف کی وضاحت کریں اور انھیں پورے وثوق کے ساتھ بتائیں کہ اسلام اس نوعیت کے اقدامات اور کارروائیوں کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے اور ایسا ظلم کرنے والے صحیح مسلمان     نہیں ہوسکتے۔ (فتاویٰ یوسف القرضاوی، ترجمہ: سید زاہد اصغر فلاحی، دوم، ص۲۰۶۔ ۲۱۰، مرکزی مکتبہ اسلامی، نئی دہلی، دسمبر ۱۹۹۸ئ)