دسمبر ۲۰۱۵

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| دسمبر ۲۰۱۵ | مدیر کے نام

ڈاکٹر محمد ناصر ، پشاور

پروفیسر خورشیداحمد کا مقالہ بہ سلسلہ’دستور اور عدلیہ کا کردار‘ تمام اہلِ وطن کے لیے چشم کشا آئینہ ہے۔ اسی طرح ’مطالعہ کتاب‘ اقبال، جناح اور پاکستان بہت اہم ہے۔ تاہم تبصرے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ کتاب میں اقبال پر سواے ضمیمے میں خطبۂ الٰہ آباد پر مضمون کے کچھ میسر نہیں۔ اس حوالے سے عرض ہے کہ کتاب میں اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد کے تحریک ِ پاکستان سے تعلق پر ابتدا ہی میں شافی بحث موجود ہے۔


رانا محمد افضل ، میانوالی

پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے ’قراردادِ مقاصد‘ پر گذشتہ چند ماہ میں نہایت اہم، مدلل مقالات قلم بند کیے ہیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ ، سینیٹر حضرات اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے لیے ان کا مطالعہ خصوصاً مفید ہوگا۔


قاضی سمیع اللّٰہ ، لاہور

’ہجرت، مشاورت اور اسلامی تحریکات‘ (نومبر ۲۰۱۵ئ) میں ہجرت اور اسلامی تحریکوں کی احیاے اسلام کی جدوجہد کے تسلسل کا عمدگی سے انطباق کیا گیا ہے۔ ہجرت کا سبق اسی جدوجہد میں ہے۔


عبدالجبار بھٹی، پتوکی

’اسلامی پاکستان اور خوش حال پاکستان‘ (نومبر ۲۰۱۵ئ) میں مغربی مادیت کے تصور کے مقابلے میں خوش حالی کے اسلامی تصور کو قرآن و سنت سے استدلال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔تاہم حضرت عدیؓ بن حاتم کی روایت میں سہو ہوگیا۔ ایک شخص نے فاقے کی، جب کہ دوسرے نے ڈاکے کی شکایت کی تھی۔(ص ۱۵)


عبدالرشید عراقی ، گوجرانوالہ

’مصر: جیلوں میں سسکتی انسانیت‘ (اکتوبر ۲۰۱۵ئ) کے مطالعے سے قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ الاخوا ن المسلمون کے کارکنان کے جذبۂ استقامت پر دل سے دُعا نکلتی ہے۔


بینا حسین خالدی ، رحیم یار خان

عالمی ترجمان القرآن اپنی تحریروں کے ذریعے (بذریعہ تذکیر وتعلیم) اشاعت ِ اسلام کا فریضہ بخوبی انجام دے رہا ہے۔


عبدالباسط ، لاہور

ترجمان القرآن تحریک برپا کردینے اور قلوب و اذہان کو مسخر کر کے احیاے اسلام کی مؤثر جدوجہد میں شمولیت کا عملی راستہ دکھانے کا ذریعہ ہے۔ کیا ہم یہ گل دستہ پیش کرنے میں کامیاب ہیں؟


رفیع الدین ہاشمی ،لاہور

ترجمان القرآن الکریم: ترجمانی و مختصر تفہیم (از احمد ابوسعید، حیدرآباد دکن) پر تبصرے (اکتوبر، ۲۰۱۵ئ،پروفیسر عبدالقدیر سلیم) سے معلوم ہوا کہ موصوف نے مولانا مودودی کے اُردو ترجمۂ قرآن کی اصلاح فرمائی ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں مولانا مودودی کے ہاں، عبارات ’زیادہ صاف‘ نہیں اور ’تعقید‘ بھی ہے۔ اسی طرح احمدابوسعید صاحب نے ’’بعض جملوں کی ساخت میں کچھ تقدیم و تاخیر بھی کی ہے‘‘۔

یہ بیان مولانا مودودی کی عبارات میں اصلاح نہیں بلکہ ’تحریف‘ کے ذیل میں آتا ہے۔ اس لیے ابوسعید صاحب کی یہ حرکت نامناسب، ناقابلِ قبول اور بلاجواز ہے۔’اصلاح‘ کا جذبہ قابلِ قدر ہے مگر اس کے لیے کسی متن کو بہتر اور زیادہ قابلِ فہم بنانے کا اصول یہ ہے کہ اصل متن کو برقرار رکھتے ہوئے، حواشی میں متبادل لفظ یا الفاظ یا جملہ تجویز کیا جائے اور وہیں مشکل لفظ کے معنی درج کیے جائیں۔

مولاناخالد سیف اللہ کی کتاب: وہ جو بیچتے تھے دواے دل پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصر نے،   اُن کے اندازِ بیان کا جو نمونہ دیا ہے، وہ فقط لفاظی ہے۔اس حصے سے اقبال کی شخصیت یا ان کی فکر سے تعارف ہوتا ہے، اور نہ کسی طرح معلومات میسر آتی ہیں۔