ایک خاص قسم کے ’معتدل‘ مسلم ’عالم‘ کو سامراج بے حد پسند کرتا ہے۔ ایسا عالم کہ جس کے لہجے میں خاص قسم کی نرمی و خودسپردگی، دھونس اور یلغار کے سامنے مزاحمت سے چِڑ بظاہر مذہبی متون پر عبور، اور ہمیشہ اس بات کے لیے آمادہ اور ’خدمت کے لیے حاضر‘ ہو کہ مظلوموں کو سمجھائے کہ ان کی بے چینی اور اضطراب ایک ’بغاوت‘ غیر عملی، قبل اَز وقت، جذباتی، غیر اخلاقی اور مناسب حساب کتاب سے عاری ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے نائن الیون [۱۱ /۹ ]کے بعد کے دور میں اسی کردار کو کمال کے درجے تک پہنچایا ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض ’اعتدال پسندی‘ کے علَم بردار نہیں، بلکہ ایک ’ہمہ پہلو شکست‘ کے نظریہ دان ہیں۔
ایک پوڈکاسٹر شہزاد غیاث کے ساتھ حالیہ دنوں میں ریکارڈ کردہ انٹرویو کے دوران انھوں نے اپنے آپ کوکسی باریک بین سیاسی مفکر کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے ذہن کی عکاسی کی ہے، جو تجرید کو گہرائی، شکست خوردگی کو حقیقت پسندی، اور سامراجی فہم کو قانونِ الٰہی سمجھ بیٹھا ہے۔ یہ انٹرویو سیاسی تجزیہ کم اور نوآبادیاتی مسلمانوں کے لیے ایک تربیتی نصاب زیادہ ہے، جس میں یہ پیغام پایا جاتا ہے: ’’درجہ بندی کو قبول کرو، خلل سے بچو، خاموشی سے تعمیر کرو، اور براہِ کرم طاقت وروں کے لیے زحمت کا باعث نہ بنو‘‘۔
موصوف نے بار بار ’دنیا کے قوانین‘ کا حوالہ دیا، گویا جغرافیائی سیاست کششِ ثقل جیسے کسی اخلاقی اصول کے تابع ہو، نہ کہ پابندیوں، قبضوں، قتل ، فوجی اڈوں، کٹھ پتلی بادشاہتوں اور امریکی ’ضابطۂ کاری‘کی وہ دلکش اصطلاح میں چھپا وہ جبر، جس کا مطلب ہے: ’’سب قوانین تمھارے لیے،مگر ہرسطح پر کھلا استثنا ہمارے لیے ہے‘‘۔ یہ تجرید ’معصوم‘ نہیں، بلکہ اس کا ایک مقصد ہے۔ سامراج دُنیا کو اپنے وضع کردہ ’دُنیا کے قوانین‘ کے نیچے لاکر جکڑتا ہے، اور اپنے متعین کردہ ’ملزموں‘ کو ’مجرم‘ قرار دے کر منظر سے غائب کردیتا ہے، اور ان کے لیے اپنی بات کہنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔ ایسے بے رحم موسم میں وہ خاص طور پر مسلم دُنیا کی قیادتوں کو اُبھارتا، سہارا دیتا اور اختیار تھماتا ہے۔
اسی لیے غامدی صاحب کے طرزِ فکر میں، مسلم دُنیا کی سیاست اکثر بے دانت، گونگی، بہری مگر عملاً سفاک بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی مزاحمت کے نتائج پر تو طویل گفتگو ئیں کرتے ہیں، لیکن وہ اُن پر قبضے، محاصرے، نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ یا ریاستی دہشت گردی پر بات کرنے کے بجائے ’دُور اندیشی‘ کے لفظ سے آلودہ دکھائی دیتی ہیں۔ مظلوموں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ احتیاط سے حساب لگائیں، جب کہ ظالم کو ایک اٹل حقیقت مان لیا جاتا ہے۔ اسرائیل بمباری کرتا ہے، امریکا پابندیاں لگاتا ہے، بہت سے مسلم ممالک کے حاکم اپنے شہریوں کو غائب کرنے سے نہیں چُوکتے، بادشاہ تباہی کو مالی مدد کا سہارا دیتے ہیں اور غامدی صاحب پوچھتے ہیں کہ ’’کیا متاثرین نے قوت کے توازن کا درست اندازہ لگا لیا تھا؟‘‘
یہ حقیقت پسندی نہیں، ’من مانی موقف پسندی‘ ہے۔ ایسی موقف پسندی، جو کمزوروں کی مزاحمت پر غور کرتے وقت نہایت سخت گیر ہو جاتی ہے، اور طاقت وروں کے جرائم پر بات کرتے وقت عجیب طرح سے شاعرانہ اور فاختانہ طرزِعمل میں ڈھل جاتی ہے۔
ایران کے بارے میں کہتے ہیں: ایران نے انقلاب سے پہلے ’اسرائیل کو قبول‘ کر لیا تھا اور اس لیے کوئی قابلِ ذکر تنازع نہ تھا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو گول کرجاتے ہیں کہ شاہ کا ایران کوئی غیر جانب دار جنت نہ تھا کہ جسے مذہبی حکمرانوں نے بگاڑ دیا ہو۔ وہ مغرب کی پشت پناہی سے چلنے والی ایک پولیس ریاست تھی، جو اندرونی جبر اور بیرونی سامراجی وابستگی پر قائم تھی۔ اس کا ’استحکام‘ دراصل اس جوتے کا استحکام تھا، جو معاشرے کی گردن پر جما کر رکھا ہوا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر جوتا واشنگٹن میں پالش کردہ ہو تو کچھ لوگ اسے ’تہذیب‘ سمجھ لیتے ہیں۔
نرم سے نرم الفاظ میں بھی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے، ان کا فکری سانچا نوآبادیاتی مزاحمت کی حرکیات کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے، کیونکہ ان کے فکری ڈھانچے میں ’نوآبادیات فہمی‘ کے لیے کوئی سنجیدہ جگہ نہیں ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’’مسلمان علم اور اجتماعی اخلاق میں ناکامی کے باعث زوال پذیر ہوئے‘‘۔ ایک جملے میں یہ کتنا ’روشن خیال‘ موقف ہے۔ اس دانش ورانہ ڈانٹ میں، نوآبادیاتی تشدد، پس منظر کے ساتھ گم ہو جاتا ہے، بغاوتیں حاشیہ بن کر رہ جاتی ہیں، پابندیاں محکمہ موسمیات کا حال بن جاتی ہیں، اور قبضہ ہی ایک کھرا سچ رہتا ہے۔ یورپی و امریکی درندگی کے ساتھ سارے مظلوم، جہالت کی گٹھڑی بن کر اس خطبے میں گم ہو جاتے ہیں، جو تہذیبی ناکامی پر ملامت کرتا ہے۔ گویا، اگلا خطبہ غالباً یہ ہوگا کہ ’’غزہ کے محکوم عوام کو اپنی پڑھائی بہتر کرنی چاہیے تھی‘‘۔
یہ کہنا کہ ’’مسلمانوں نے پانچ صدیوں میں علم کے میدان میں کوئی معنی خیز حصہ نہیں ڈالا‘‘، کوئی تجزیہ نہیں بلکہ تہذیبی سینہ کوبی ہے، جو سنجیدگی کا لبادہ اُوڑھ کر خود کو کوڑے مارنے کی رضاکارانہ مشق ہے۔ یہ وہ مبالغہ ہے جو اس وقت تک کوئی سنجیدہ فرمان لگتا ہے، جب تک یہ یاد نہ آئے کہ قوموں کو محض سلطنتوں کے چارٹس اور نوبیل انعامات کی گنتی میں نہیں تولا جا سکتا۔ مسلم معاشروں نے نوآبادیاتی تباہی اور آمرانہ گھٹن کے باوجود سائنس دان، شاعر، فقہا، انجینئر، فلسفی، انقلابی اور اہلِ فکر پیدا کیے ہیں۔ مگر موصوف کا مقصد تاریخی صحت کا اعتراف نہیں، بلکہ ایک مخصوص خودسپردگی پر مبنی تربیتی حکمتِ عملی تھونپنا ہے: ’مسلمانوں کو پہلے رُسوا کیا جائے تاکہ اگلے قدم میں انھیں رام کیا جاسکے‘۔
غامدی صاحب کی سیاسی لغت اور فکریات،اخلاقی توجہ کو طاقت کے ڈھانچوں سے ہٹا کر مزاحمت کرنے والوں کی ’بے احتیاطی‘ پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اُن کے فرمان کے مطابق: فلسطین، صہیونی آبادکار نوآبادیات اور نسلی تباہی، محاصرے اور نسلی امتیاز کی خونیں تفصیل کے بجائے خود فلسطینیوں کی ناقص حکمتِ عملی کی مثال بن جاتا ہے۔ کشمیر پر قبضہ ایک ڈپلومیٹک اور عسکری ناکامی، بے بسی اور بے بصیرتی کا قصہ نہیں رہتا ہے بلکہ نادانی کا سبق بن جاتا ہے۔ ایران عشروں کے دباؤ، گھیرا بندی اور تخریب کا نشانہ نہیں رہتا، بلکہ انقلابی زیادتیوں کا نشان بن جاتا ہے۔
اس فکر کی سب سے نمایاں پہچان، اس کی سفاکانہ سنگ دلی ہے۔ بلاشبہ مزاحمتی تحریکوں کے کسی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقوں پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ بعض اقدامات کی مذمت بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر غزہ، لبنان، ایران، کشمیر یا افغانستان کے بارے میں کسی ایک تجزیہ کار کا جذبات سے عاری ہوکر بات کرنا، پرلے درجے کی اخلاقی بے حسی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں، خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ رہے ہیں، قیدیوں پر وحشیانہ تشدد ہو رہا ہے، معاشرے بھوک اور ننگ کا شکار ہیں اور ’معتدل‘ عالم یاد دلاتا ہے کہ اسکول کی ڈگری اور گنتی کی صلاحیت اہم ہے۔
یقیناً صلاحیت و تعلیم اہم ہے، حکمتِ عملی اہم ہے اور نتائج بہت اہم ہیں۔ مگر یک جہتی کے بغیر حکمت، حکمت نہیں، جسم و جان اور روح و تہذیب میں رچی بزدلی کا درس ہے۔ وہ ’احتیاط‘ جو کبھی طاقت سے ٹکراتی نہیں، وہ مزاجاً ظلم اور ظالم سے تعاون بن جاتی ہے۔ اور وہ مخصوص ’الٰہیات‘ جو مظلوم کو غیر معینہ مدت تک صرف جینے کی تلقین کرے، مگر مزاحمت کا کوئی سنجیدہ نظریہ نہ دے، وہ نبویؐ احتیاط نہیں بلکہ روحانی خود سپردگی و بزدلی کا نقارہ ہے۔
اسی لیے نائن الیون کے بعد مذکورہ صاحب کا کردار و بیان اہم ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے لیے کچھ طاقت ور حلقوں کے ’محبوب‘ مصلح کے طور پر سامنے آئے، جو ’طاقت ور‘ حلقے متن سے دُوری پر رکھتے، اور لبرل اشرافیہ کے لیے باعثِ اطمینان بن کر ’اچھے‘ اور ’خطرناک‘ مسلمانوں میں فرق کی گنتی کرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد ’روشن خیالی و اعتدال پسندی‘ کے تحت یہ طرزِ فکر اُس ریاست کو خودساختہ مذہبی جواز فراہم کرتا رہا ہے، جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ تھی۔ اور اب یہی منطق عوامی مزاحمت کے بارے میں شکوک کو ہوا دیتی ہے۔
یہ سفر حادثاتی نہیں ہے۔ سامراج کو درکار ’معتدل مسلمانوں‘ کی کھیپ کی تیاری مطلوب ہے۔ وہ مسلمان جو محض نام نہاد ’انتہاپسندی‘ کا مخالف نہیں ہوتا۔(اگرچہ انتہا پسندی نہ قابلِ تعریف ہے اور نہ نظرانداز کرنے کے قابل، بلکہ یہ لفظ سامراجی لغت میں مخصوص پس منظر کے ساتھ مخصوص حلقوں پر ہی تھوپا جاتا ہے) مگر صرف اس حد تک نہیں رُکتا بلکہ وہ اس کھڑکی سے فائدہ اُٹھا کر پورا کھیل کھیلتا ہے اور ’انتہاپسندی‘ کی تعریف کو اس قدر وسیع کردیتا ہے کہ ہرسطح کی مزاحمت اپنی جگہ مشکوک بن جاتی ہے۔ وہ مسلم غصے کی شدت سے مذمت کرتا ہے اور سامراجی یا سامراج نواز مقامی عناصر کے تشدد و سفاکیت کی مذمت کرتے وقت الفاظ اس کے گلے میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔
موصوف کے مداح ہماری ان گزارشات کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہیں گے کہ ’وہ مستقل مزاج ہیں‘۔ واقعی ان کی یہ ’مستقل مزاجی‘ اس بات میں ہے کہ وہ مستضعفین اور زمین کے دبے کچلے لوگوں کو اپنی سیاسی فکریات کا نقطۂ آغاز بنانے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ مخصوص لفاظی کا کھیل کھیلتے ہوئے ترتیب، استحکام، صلاحیت اور نتائج کی اصطلاحوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اور اُمور اہم ہیں، مگر جب یہ سب اصطلاحیں اور الفاظ ظالم کا ہتھیار بن جائیں تو انصاف ایک جھوٹا خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ مظلوم کو تھپکی دے کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک وہ آزادی کا ’اہل‘ نہ ہو جائے۔
تاریخ، انتظار کرنے والوں نے نہیں بنائی۔ نوآبادیاتی حاکمیت اور جبر کے خلاف جدوجہد ہمیشہ خطرے، غلطیوں، قربانیوں اور ناممکن فیصلوں سے آگے بڑھی ہے۔ اس جدوجہد میں تخیل اور عزم شامل تھا، وہی شے جو غامدی صاحب کی سیاست میں گم ہے۔ ان کی دنیا اُن جامد درجہ بندیوں کے بھیس میں سامنے آتی ہے: ’’طاقت ور عمل کرتا ہے، کمزور برداشت کرتا ہے، اور ’عالم‘ وضاحت کرتا ہے‘‘۔
مگر اب دنیا بدل رہی ہے۔ سامراج مطلق العنان نہیں، صہیونیت ناقابلِ شکست نہیں، مسلم حکمران اور مسلم عوام ایک نہیں، اور کوئی ایسا مدرسہ نہیں جہاں شکست خوردہ بچّے ایسے ’ناصحین‘ کی نصیحت کے منتظر ہوں۔ یہ ایک زخم زخم تاریخی قوت ہے زندہ اور دھوکا کھائی ہوئی، مگر خاموش ہرگز نہیں۔ ان صاحب کا المیہ یہ نہیں کہ وہ احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں، احتیاط تو بہرحال ضروری ہے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی احتیاط سیاسی خاموشی اور موت میں ڈھلنے کا درس دیتی ہے، اور یہ گونگاپن اور اطاعت انگیز فکریات، غلامی کا شکنجہ کسنے سے زیادہ کچھ نہیں۔انھوں نے خودکشی سے بچنے کے حکم کو، مقابلے سے بچنے کا حکم سمجھ لیا ہے، اخلاقی پسپائی کو حکمتِ عملی کی فالج زدگی سے خلط ملط کردیا ہے، اور اعتدال کو مخملی پٹے سے باندھ کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بے باک ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم فکر کو محض اس نصیحت تک محدود کر دینا چاہیے کہ مظلوم، جبر کے باڑے میں بند مجبور بھیڑ بکریوں کا سا رویہ اختیار کریں؟ موصوف کا جواب غالباً ’ہاں‘ ہے۔ سامراج اس سے بہتر خطیب اور خطبہ نہیں مانگ سکتا تھا! (ترجمہ: س م خ)
_______________