جون ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ہم نماز کیوں پڑھیں؟

ڈاکٹر طاہرمسعود | جون ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت

Responsive image Responsive image

کائنات کی ابتدا سے انسان خدا کی تلاش میں رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ اسے خدا نہ ملا ہو اور وہ غیرخدا کو خدا سمجھ کر اس کی پرستش کرتا رہا ہو۔ غیرخدا کون ہے؟ وہ جو پتھر تھا،درخت تھا یا غیرانسانی مخلوق جسے انسان نے خدا کاعلامتی رُوپ سمجھا اور خدا کا قائم مقام سمجھ کر اس کی پوجا اور پرستش کی۔اسے انسان کی نادانی، ناسمجھی یا مجبوری سمجھا جائے کہ انسان کے اندر خدا کی تلاش کا مادہ اس کے خلق کرنے کے ساتھ ہی رکھ دیا گیا تھا اور اسی جذبۂ تجسس نے انسان کو ہر دور اور ہر زمانے میں اس امرپہ مجبور کیا کہ وہ خدا کو تلاش کرے تاکہ وہ اس کی پوجا کرسکے۔ اس کے آگے اپنی ضروریات اور احتیاجات رکھ سکے اور ساتھ ہی اس کی خوشنودی کے لیے اس کے آگے نذرونیاز پیش کرسکے۔ اس رویے کو ہم انسان کی جہالت اور لاعلمی کہنا چاہیں تو کہہ دیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان ایسا کرنے پر کل بھی مجبور تھا اور آج بھی مجبور ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ خدا نے انسان کے اندر خدا کو ڈھونڈنے کا جذبۂ تجسس کیوں رکھا؟ کیا اس لیے کہ انسان خدا کو خود ڈھونڈے۔ اگر ایسا تھا تو پھر خدا نے اپنی وحدانیت اور کبریائی کے اعلان و اعتراف کے لیے ہزاروں انبیا ؑاور رُسلؑ کیوں بھیجے؟ ان پر آسمانی صحائف کیوں اُتارے ؟ اور سب سے بڑھ کر ان کی اُمتوں نے ان انبیا ؑاور رُسلؑ کو تسلیم کیوں نہ کیا اور کیوں ان کی تردید و تکذیب کی اور آخری نتیجے میں خدا نے ان اُمتوں کو کیوں ہلاک کردیا اور کیوں اُن پر طرح طرح کے عذاب بھیجے؟ کیا خدا اس پر قادر نہ تھا کہ ان اُمتوں کو ہدایت دے دیتا اور جب وہ اس پہ قادر تھا تو اس کی قدرت سے یہ کرشمہ کیوں رُونما نہ ہوا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا آسان نہیں۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ خدا ہی نے ان کو ہدایت سے محروم رکھا ۔ وہ چاہتا ہی نہ تھا کہ یہ اُمتیں سیدھی راہ پر چلیں اور خدا کے بھیجے ہوئے انبیاؑ کو مانیں اور ان کی اطاعت کریں۔ اگر ہم اس مفروضے کو مان لیں تو پھر ساری ذمہ داری خدا پر آجاتی ہے (نعوذ باللہ)۔ لیکن جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا مہربان ہے ، رحمٰن و رحیم ہے، معاف کر دینے والا اور بخشنے والا ہے۔ اسے انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے میں کوئی خوشی نہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اس جبری مفروضے کو مان لینے سے اس کی شانِ ربوبیت میں فرق ضرور آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ دُنیا اور کائنات انسانوں اور اپنی مخلوقات ہی کے لیے تخلیق کی ہے اور اس لیے تخلیق کی ہے کہ انسان اس برگزیدہ ہستی کو پہچانے اور اس کی عبادت کرے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان اپنے مادئہ تجسس کی وجہ سے خدا کا متلاشی ضرور رہتا ہے لیکن وہ اس خدا کو ماننے پر تیار نہیں ہوتا جس کی وحدانیت اور کبریائی کا اعلان خود خدا کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول کرتے آئے ہیں۔ انسان غیرخدا کو تو آسانی سے خدا مان لیتا ہے کیوںکہ اس صنم کو وہ اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے، لیکن وہ اس خدا کو نہیں مانتا جو نظروں سے اوجھل ہے، جو دکھائی نہیں دیتا۔ انسان فطری طور پر ظاہر پرست ہے۔ جو چیز اسے دکھائی دیتی ہے، جو آسانی سے اس کی رسائی میں ہوتی ہے، وہ اسے مان لیتا ہے، اس کے آگے نذرو نیاز اور چڑھاوے بھی چڑھا دیتا ہے، لیکن وہ خدا اس کی عقل میں نہیں سماتا جو اس کا اصل خالق و مالک ہے۔ بنیادی طور پر یہی انسان کی کم مائیگی بھی ہے اور بدنصیبی بھی۔

اسلام مذاہب اور ادیان میں وہ واحد مذہب اور دین ہے جس نے انسانوں کو ایک ایسے اللہ ربّ العالمین کا تصور دیا جو غیرمرئی ہے، جو موجود ہوکر بھی غیرموجود ہے۔ بے شک دوسرے مذاہب اور ادیان بھی خدا کا کچھ حوالوں سے ملتا جلتا تصور پیش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی گواہی اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اورادیان خالص نہیں رہے بلکہ ان کے صحیفوں میں الحاقی عناصر شامل کر کے انھیں کچھ سے کچھ بنا دیا گیا ہے۔ ان صحیفوں میں خدا کا جو تصور ملتا ہے، یہ وہ تصور نہیں ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا آسمانی صحیفہ ہرملاوٹ اور آمیزش سے پاک ہے اور ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے صحیفے کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی اور ہرزمانے میں ان تمام کوششوں کو اپنے فضل و کرم سے ناکام بنا دیا جو اس میں آمیزش کے لیے کی گئیں۔ اس لحاظ سے اسلام اورمسلمان خوش نصیب ہیں۔ خداوند تعالیٰ نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اسلام آخری دین اور اس کے رسولؐ آخری نبی ہیں جو خدا کی طرف سے دُنیا میں بھیجے گئے۔ اگر انبیا ؑ کے سلسلے کو ختم کرنا مقصود نہ ہوتا تو آخری صحیفے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خدا نہ لیتا۔ اسی لیے اسلام خدا کا ایک مکمل ڈسپلن ہے جس کی روشنی میں انسان ایک کامیاب زندگی گزارنے کا اہل ٹھیرتا ہے۔

دُنیا کے ہر مذہب میں عبادات کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا طریقۂ عبادت ہے جو تمام آسمانی مذاہب میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بات کی تصدیق آخری صحیفے قرآنِ پاک سے ہوتی ہے۔ نماز کی ابتدا وضو سے ہوتی ہے۔ وضو کا مقصد خود کو پاک صاف کر کے اس قابل بنانا ہے کہ خدا کے حضور حاضر ہوسکیں۔ نماز قیام اور رکوع و سجود پہ مشتمل ہے جس کے دوران نمازی آیاتِ ربانی کی تلاوت کرتا ہے اور رکوع و سجود میں خدا کی عظمت و بڑائی کا اعلان و اعتراف کرتا ہے۔ اور آخر میں سلام پھیر کر نمازی نماز سے نکل آتا ہے ۔ عبادت کا اختتام اس دُعا پہ ہوتا ہے جس میں نمازی خداوند تعالیٰ کے سامنے اپنی ضروریات اور احتیاجات رکھتا ہے اس اُمید کے ساتھ کہ خداوند تعالیٰ اس کی ضرور سنے گا اور اس کی دُعا کو قبول کرے گا۔

نماز پڑھنے والے اس حقیقت کی تصدیق کریں گے کہ ادائے نماز سے وہ اپنے اندر ایک پُرسکون روحانی کیفیت کو محسوس کرتے ہیں۔ ایک طرح کی پاکیزگی کا احساس ان کے وجود میں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ روحانی پاکیزگی اور اپنے وجود کی تکمیل کا یہ احساس اُنھیں نمازوں کا پابنداور عادی بنادیتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ اس فانی جسم میں روح خدا کی پھونکی ہوئی ہے۔ نماز نہ پڑھ کر کاروبارِ دُنیا میں اُلجھے رہنا روح کو پیاسا اور تشنہ بنادیتا ہے۔ نماز اس روح کو مطمئن ،آسودہ اور شادکام کردیتی ہے۔ جب انسان کی روح خداوند تعالیٰ کی روحِ اعلیٰ کے سامنے پیش ہوتی ہے، تو ایک ہم آہنگی کی کیفیت سے ہی پاکیزگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نمازیوں سے اس کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے کہ تمام نمازیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ وہ نماز جو حالت ِسپردگی میں ادا کی جاتی ہے، کیفیت کے اعتبار سے اس نماز سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے جو حالت ِ غفلت میں ادا کی جاتی ہے۔ وہ وضو اور وہ نماز جو عجلت، لاپرواہی اور بے سکونی سے ادا کی جائے کبھی اس نماز جیسی نہیں ہوسکتی جو تعلق باللہ کے احساس سے جڑی ہو۔

خدا کے حضور حاضر ہونے کے لیے خود کو تیار کرنا مگر اس کا شعوری احساس نہ کرنا کہ میں کس برگزیدہ ترین ہستی کے حضور کھڑا ہورہا ہوں، نماز کو روحانی اعتبار سے کمزوراور بڑی حد تک بے تاثیر بنادیتا ہے۔ اس لیے نمازی کو چاہیے کہ وضو جیسے تیسے عجلت میں نہ کرے بلکہ ایک ایک عضو پر پوری توجہ سے پانی بہائے، انھیں پاک صاف کرے بالکل اسی طرح جیسے دُنیا کی کسی مقتدر اور باحیثیت شخصیت سے ہم ملنے جائیں تو اس کے لیے ہم کتنا اہتمام کرتے ہیں۔ ویسے ہی خداوندتعالیٰ کی عظیم الشان اور برگزیدہ ہستی کے حضور کھڑے ہونے کے لیے ہمارا لباس پاکیزہ اور ہمارے وجود میں وضو سے پیدا ہونے والا تقدس ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب ہم وضو، کیفیت ِ وضو کے ساتھ کریں۔ یہی معاملہ نماز کا ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر ایک سکون اور ٹھیرائو ہو۔ نماز کے ارکان کی ادائیگی میں عجلت اور جلدبازی جیسے ایک بوجھ ہے جسے سر سے اُتارنے کی فکر ہے۔ ایسی نمازیں کیا خدا کی بارگاہ میں مقبول ہوسکتی ہیں؟

اس پہلو پہ ضرور غور کرنا چاہیے۔ نماز حقیقتاً باطن کا غسل ہے۔ جس طرح نہانے دھونے سے بدن میں پاکی و صفائی کا ایک احساس پیدا ہوجاتا ہے جس سے طبیعت پُرسکون ہوجاتی ہے، اسی طرح نماز ہمارے باطن میں روحانی پاکیزگی کا احساس اور دل و دماغ کو پُرسکون کردیتی ہے۔

نمازی کو شعوری طور پر خود کو یقین دلانا چاہیے کہ وہ نماز پڑھ کر کسی طرح کا خدا یا خدا کے بندوں پر احسان نہیں کر رہا، بلکہ یہ نماز وہ اپنے بھلے اور اپنی ضرورت کے تحت پڑھ رہا ہے۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور نیکی کا کوئی کام کرکے وہ مختلف قسم کے گمانوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، مثلاً اس کے اندر تقویٰ کے دعوے اور احساس کا پیدا ہوجانا جو خدا کو سخت ناپسند ہے۔ خود نماز پڑھ کر بے نمازیوں کے لیے حقارت کا جذبہ رکھنا اپنی نماز کو بھی ضائع کر دینا ہے۔

نماز کے دوران توجہ اور یک سوئی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو تقریباً تمام ہی نمازیوں کو درپیش رہتا ہے۔ ذہن میں طرح طرح کے خیالات کا آنا، نماز سے توجہ کا ہٹ جانا اور یہ یاد نہ رہنا کہ میں نے پہلی رکعت پڑھی ہے یا دوسری، قومہ کیا یا نہیں، تمام رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا یا نماز ادھوری رہ گئی۔ یہ شکایت اپنے آپ سے تمام ہی نمازیوں کو رہتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ ذہن گزرگاہِ خیال ہے۔ نمازی نماز کی طرف کتنی ہی توجہ مرکوز رکھنا چاہے، کوئی نہ کوئی خیال اس کی توجہ کو ضرور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور وہ بروقت چوکنا نہ ہو توخیالات کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسا ہونا فطری سی بات ہے۔

اس کا ایک آسان سا حل تو یہ ہے کہ نمازی جب نماز میں داخل ہوجائے تو تلاوت کرتے ہوئے اپنی توجہ کو ان آیات ِ مبارکہ پہ مرکوز کردے جن کی وہ تلاوت کر رہا ہے۔ اس طرح خیالات کی یورش کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ نماز حالت ِ سکون میں پڑھے۔ عجلت یا جلدبازی بھی کیفیت ِ نماز کو متاثر کرتی ہے اور غلطیاں سرزد ہونے لگتی ہیں۔ انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے۔ سجدئہ سہو کی رعایت بھی اسی لیے رکھی گئی ہے کہ نمازی سے غلطی عین ممکن ہے۔

غالب نے کہا تھا  ؎

ہے آدمی بجائے خود ایک محشرِ خیال          ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

 _______________