جون ۲۰۲۶

فہرست مضامین

فلسطین : جنسی تشدد پر چھائی خاموشی

نکولس کرسٹوف | جون ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

یہ ایک سادہ بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے بارے میں ہمارے جو بھی خیالات ہوں، ہمیں کم از کم ’جنسی تشدد‘ (Rape)کی مذمت کرنے پر متحد ہو جانا چاہیے۔

اس ضمن میں تکلیف دہ انٹرویو ہیں جن میں فلسطینیوں نے مجھے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں، آبادکاروں، شن بیت (اندرونی سلامتی ایجنسی) کے تفتیش کاروں اور سب سے زیادہ اسرائیلی جیل کے محافظوں کی طرف سے[فلسطینی] مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ بھی بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کا ایک چلن (Pattren) موجود ہے۔

اس بات کا تو کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی رہنما اس عصمت دری کا حکم دیتے ہیں، لیکن پچھلے کچھ برسوں میں انھوں نے ایک ایسا سیکیورٹی نظام بنایا ہے، جس میں جنسی تشدد عام ہو چکا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طرزِعمل اسرائیل میں ایک ’معمول کی کارروائی‘ (standard operating procedure) بن چکا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کا ایک بڑا حصہ بھی ہے۔

گذشتہ اپریل کے دوران جنیوا میں قائم ’یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’منظم جنسی تشدد‘ کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے جو ’منظم ریاستی پالیسی‘ کا حصہ ہے۔

یہ ہےکہ ’معمول کی کارروائی‘ کیا شکل اختیار کرتی ہے؟

 ۴۶ سالہ فری لانس صحافی سامی ال سائی کہتے ہیں: جب۲۰۲۴ء میں مجھے گرفتار کرکے جیل کے سیل میں لے جایا جا رہا تھا، تو محافظوں کے ایک گروپ نے مجھے زمین پر پٹخ دیا۔ وہ سب مجھے مار رہے تھے۔ ایک نے میرے سر اور گردن پر پاؤں رکھ دیا، دوسرے نے میری پتلون اتار دی اور انھوں نے میرا انڈرویئر بھی اتار دیا‘‘۔ پھر ایک محافظ نے وہ ربڑ کا ڈنڈا نکالا جو قیدیوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ اسے میرے مقعد میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے رہے۔ میں نے خود کو بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن بے بسی میں ناکام ہو گیا۔میرے لیے یہ لمحہ بہت درد ناک تھا، جب کہ اسرائیلی سپاہی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ پھر ایک سپاہی نے کسی کو کہا، ’’گاجر مجھے دو‘‘۔ انھوں نے گاجر کا استعمال کیا۔ اس ناقابلِ برداشت لمحے میں، مَیں موت کی دعا کر رہا تھا‘‘۔

سامی ال سائی نے بتایا: ’’میری کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ اس کارروائی کے دوران میں نے کسی کو کہتے سنا، ’تصاویر مت لینا‘۔ شاید وہاں کسی نے کیمرہ نکال لیا تھا۔ پھر ایک محافظ عورت نے شرمگاہ کو پکڑ کر اتنا زور سے دبایا کہ میں تکلیف سے چیخ اٹھا‘‘۔جب مجھے سیل میں پھینک دیا گیا تو میں نے اندازہ لگایا کہ جہاں میرے ساتھ ریپ ہوا ہے، وہ جگہ پہلے بھی ان مظالم کے لیے استعمال ہو چکی ہے۔ کیونکہ وہاں پر دوسروں کی قے، خون اور ٹوٹے ہوئے دانت نظر آ رہے تھے‘‘۔

ال سائی نے بتایا کہ ’’مجھ سے اسرائیلی انٹیلی جنس کا مخبر بننے کو کہا گیا تھا۔ میری گرفتاری اور انتظامی حراست کا مقصد دباؤ ڈال کر یہ کام قبول کرانا تھا، مگر میں نے اپنے صحافتی پیشے کی لاج رکھتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا‘‘۔

میں نے جنگ، نسل کشی اور جنسی تشدد سمیت ایسے مظالم کی رپورٹنگ کی ہے۔ چند سال پہلے ایتھوپیا کے تیگرے تنازعے میں شاید ایک لاکھ عورتوں کی عصمت دری ہوئی۔ اب سوڈان میں بھی مخالفین کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ امریکی ٹیکس کے پیسے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کو رعایت دیتے ہیں کہ وہ جنسی تشدد کریں، جس میں امریکا بھی شریک ہے۔

مجھے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹنگ میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب عیسیٰ عمرو (ایک ایسے پُرامن کارکن، جنھیں بعض اوقات فلسطینی گاندھی کہا جاتا ہے) نے مجھے بتایا: ’’اسرائیلی فوجیوں نے میرے ساتھ بھی جنسی تشدد کیا تھا۔ یہ جرم اور ظلم یہاں عام ہے، لیکن شرم کی وجہ سے کم ہی رپورٹ ہوتا ہے‘‘۔

ایک اندازے کے مطابق اسرائیل نے ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے بعد صرف مغربی کنارے میں ۲۰ہزار لوگوں کو گرفتار کیا۔ ۹ہزار سے زیادہ فلسطینی اب بھی حراست میں ہیں۔ ان میں سے اکثریت پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا، بلکہ مبہم سیکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ۲۰۲۳ء سے اب تک زیادہ تر کو ریڈ کراس اور وکیلوں کی ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔

یورو-میڈ رپورٹ کے مطابق: ’’اسرائیلی فوجی، فلسطینی خواتین قیدیوں کو ذلیل کرنے کے لیے منظم طریقے سے ریپ اور جنسی تشدد کرتے ہیں‘‘۔ رپورٹ نے ایک۴۲ سالہ عورت کا حوالہ دیا ہے جس نے بتایا کہ اسے بے لباس کر کے دھاتی میز پر جکڑ دیا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے دو دن تک اس کے ساتھ زبردستی جنسی فعل کیا، جب کہ دوسرے فوجی اس کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ بعد میں اسے اپنی ریپ والی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا گیا کہ ’’اگر تم اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون نہیں کرو گی تو یہ تصاویر شائع کر دی جائیں گی‘‘۔

فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کا درست پیمانہ جاننا ناممکن ہے۔ اس مضمون کے لیے میری رپورٹنگ۱۴ مردوں اور عورتوں سے بات چیت پر مبنی ہے، جنھوں نے بتایا کہ ہمارے ساتھ اسرائیلی آباد کاروں یا سیکیورٹی فورسز نے جنسی زیادتی کی۔ میں نے ان کے اہل خانہ، تفتیش کاروں، حکام اور دوسروں سے بھی بات کی۔ ان متاثرین کی تلاش کے لیے وکیلوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، امدادی کارکنوں اور عام فلسطینیوں تک رسائی حاصل کی۔

بہت سے کیسوں میں متاثرین کی آپ بیتیوں کی جزوی تصدیق ممکن ہوئی، گواہوں سے بات کر کے یا زیادہ تر ان لوگوں سے جن کے ساتھ متاثرین نے اپنی بات شیئر کی تھی (جیسے فیملی ممبران، وکیل اور سوشل ورکرز) کچھ کیسز میں تصدیق ممکن نہ ہو سکی، کیونکہ شرم کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والی بہیمانہ زیادتی کا ذکر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

عالمی تنظیم Save the Children نے گذشتہ سال ۱۲ سے ۱۷ سال کے ان بچوں کا سروے کیا جو اسرائیلی حراست میں رہے تھے۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ بچوں نے جنسی تشدد دیکھنے یا خود اس کا شکار ہونے کی بات بتائی۔’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ شرم کی وجہ سے کچھ بچے اپنے ساتھ ہوئے واقعے کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ایک معتبر امریکی تنظیم Committee to Protect Journalists نے۵۹ فلسطینی صحافیوں کا سروے کیا، جنھیں۷؍ اکتوبر کے بعد اسرائیلی حکام نے رہا کیا تھا۔ ۳فی صد نے کہا: ’’ہمارے ساتھ ریپ ہوا، اور ۲۹ فی صد نے کہا کہ ہمیں جنسی تشدد کی دوسری شکلیں برداشت کرنا پڑیں‘‘۔

اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا، جس میں اسرائیل کے خلاف جنسی زیادتی کی تحقیقات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

جن فلسطینیوں سے میں نے انٹرویو کیے انھوں نے ریپ کے علاوہ دیگر قسم کے تشدد کی بھی تفصیلات بیان کیں۔ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ اکثر ان کے جنسی اعضاء کو کھینچا جاتا ہے یا فوطوں پر ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ ہاتھ سے پکڑنے والے دھاتی ڈٹیکٹرز کو مردوں کی ننگی ٹانگوں کے درمیان پھیرا جاتا ہے اور پھر ان کی شرم گاہوں پر زور سے مارا جاتا ہے۔ ’یورو-میڈ مانیٹر‘ کے مطابق کچھ مردوں کو اتنی مار پڑی کہ ڈاکٹروں کو ان کے فوطے کاٹنے پڑے۔

ان زیادتیوں پر توجہ نہ ہونے کی ایک وجہ اسرائیلی حکام کی دھمکیاں بھی ہیں۔ رہا ہونے والے قیدیوں کو اکثر خبردار کیا جاتا ہے کہ خاموش رہیں۔ فلسطینی متاثرین نے مجھے بتایا کہ عرب معاشرہ بھی اس موضوع پر بات کرنے سے روکتا ہے، کیونکہ اس سے قیدیوں کے خاندانوں کا مورال (حوصلہ) ٹوٹ سکتا ہے اور فلسطینیوں کی ’بہادر اور نڈر قیدی‘ والی تصویر خراب ہو سکتی ہے۔

روایتی سماجی اقدار بھی اس موضوع پر بحث کرنے سے روکتی ہیں۔ دو متاثرین نے مجھے بتایا کہ اگر کوئی قیدی یہ تسلیم کر لے کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا تو اس کی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے شادی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک کسان نے مضمون میں اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جو اس سال کے شروع میں انتظامی حراست سے رہا ہوا، حالانکہ اس پر کوئی الزام بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ’’گذشتہ سال ایک دن lچھ [اسرائیلی] سپاہیوں نے مجھے بازو اور ٹانگیں پکڑ کر بے بس کر دیا۔ پھر میری پتلون اور انڈرویئر اتار دیے گئے اور دھاتی ڈنڈا میری مقعد میں ٹھونس دیا گیا۔ ریپ کرنے والے ہنس رہے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے۔ میں کئی گھنٹے بے ہوش رہا، اسی دوران جیل کے کلینک لے جایا گیا اور جب ہوش میں آیا تو دوبارہ اسی دھاتی ڈنڈے سے اذیت دی گئی۔ میرا خون بہہ رہا تھا، میں مکمل طور پر ٹوٹ گیا تھا اور رو رہا تھا‘‘۔

کسان نے بتایا:’’سیل میں واپس پہنچایا گیا تو میں نے ایک محافظ سے قلم اور کاغذ مانگا کہ زیادتی کے بارے میں شکایت لکھ سکوں، مگر میری درخواست مسترد کر دی گئی۔ اسی شام محافظوں کا ایک گروپ سیل میں آیا اور کہا: ’’شکایت کرنے والا کون ہے؟‘‘ ایک محافظ نے مذاق اڑاتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا، جس پر فوراً مار پیٹ شروع ہو گئی‘‘۔ اس طرح اس ایک دن میں تیسری بار میرے ساتھ ڈنڈے سے ریپ کیا گیا‘‘۔

اس نے ایک محافظ کو کہتے سنا: ’’اب تمھارے پاس شکایت میں لکھنے کے لیے اور بھی کچھ ہے‘‘۔

میرے انٹرویو کے چند دن بعد، اس کسان نے مجھے فون کر کے کہا کہ میں اس کا نام نہ لکھوں۔ شن بیت والے اس سے ملنے آئے تھے اور اسے تنبیہ کرگئے تھے، اور اس نے ساتھ یہ کہا:’میں اپنے خاندان کے ردعمل سے بھی ڈرتا ہوں‘۔

اسرائیلی امریکی انسانی حقوق کی وکیل ساری باشی، اسرائیل میں ٹارچر کے خلاف پبلک کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کہتی ہیں: ’’فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی اب معمول بن چکا ہے۔ تاہم مجھے اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ اس عمل کا حکم اُوپر سے دیا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکام کو اس کا علم ہے اور وہ اسے روکتے نہیں‘‘۔

ایک اور اسرائیلی وکیل بین مرمریلی نے مجھے بتایا کہ ان فلسطینی قیدیوں کے تجربات کی بنیاد پر جن کے کیس وہ لڑ چکے ہیں،’’ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اشیاء سے ریپ اس نظام میں ہو رہا ہے‘‘۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی کو جولائی ۲۰۲۴ء میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کی مقعد شدید زخمی تھی۔ پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور پھیپھڑا زخمی تھا۔ تفتیش کاروں نے ایک ویڈیو حاصل کی، جس میں مبینہ طور پر تشدد دکھایا گیا تھا۔ حکام نے شکایت پر کچھ رضاکار فوجیوں کو گرفتار کیا، لیکن اس پر اسرائیل کے دائیں بازو والوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ ان لوگوں کا ایک مشتعل ہجوم جیل میں گھس گیا تاکہ رضاکار محافظوں کی حمایت کر سکے۔ مارچ میں فوجیوں پر تمام الزامات ختم کر دیے گئے اور پچھلے ماہ فوج نے ان فوجیوں کو دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آنے کی اجازت دے دی ۔

نیتن یاہو نے کہا: ’’اسرائیل کو اپنے دشمنوں کا شکار کرنا چاہیے، اپنے بہادر جنگجوؤں کا نہیں‘‘۔

ساری باشی نے اس نتیجے پر کہا: ’’میں کہوں گی کہ الزامات ختم کرنا درحقیقت ریپ کی اجازت دینے کے مترادف ہے‘‘۔

مذکورہ بالا قیدی کو بعد میں ایک بیگ (stoma bag) لگا کر رہا کیا گیا، جس میں فضلہ جمع ہوتا تھا۔ اور پھر اسے غزہ واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے ایک جاننے والے نے بتایا کہ وہ کئی مہینے ہسپتال میں اپنے اندرونی زخموں کا علاج کرواتا رہا۔

ایسی حرکتیں کرنے والوں کو سزائیں اور ایسے تشدد کے خلاف عوامی توجہ اسے روک سکتی ہے۔ یاد رہے ۱۹۹۷ء میں نیویارک شہر کے پولیس افسران نے ہیٹی کے ایک تارک وطن کے ساتھ لکڑی کے ڈنڈے سے اسی طرح ریپ کیا کہ اسے ہسپتال اور آپریشنز کی ضرورت پڑی۔ نیویارکرز غصے سے بپھر گئے، میئر روڈی گیولانی ہسپتال گئے اور پولیس افسران پر مقدمہ چلا۔ یہ ایک بڑا مشہور کیس تھا۔ اس نے پولیس فورس کو واضح پیغام دیا کہ قیدیوں پر زیادتی کرنے والوں کو سزا مل سکتی ہے۔ یہی پیغام اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کو بھی پہنچنا چاہیے۔

اگر ٹرمپ حکومت قیدیوں کے لیے ریڈ کراس کی ملاقاتوں کا دوبارہ آغاز کرائے، اگر امریکی سفیر کیمروں کے ساتھ ریپ کے متاثرین سے ملنے جائے، اگر ہم ہتھیاروں کی منتقلی کو جنسی زیادتی ختم کرنے سے مشروط کر دیں، تو اس طرح ہم ایک اخلاقی اور عملی پیغام دے سکتے ہیں کہ جنسی تشدد ناقابلِ قبول ہے، چاہے متاثر کوئی بھی ہو۔ سب سے پہلے سفیر یہ یقینی بنائیں کہ جن فلسطینیوں نے اس مضمون کے لیے بہادری سے بات کی، ان کے ساتھ دوبارہ کوئی زیادتی نہ ہو۔

اس طرح کا تشدد کیسے ہوتا ہے؟

عشروں تک جنگوں کی رپورٹنگ نے مجھے سکھایا ہے کہ dehumanization (انسان کو انسان نہ سمجھنا) اور سزا نہ ملنے کا ماحول لوگوں کو Hobbesian  (درندگی کی حالت) میں لے جاتا ہے۔ میں نے کانگو، سوڈان، میانمار کے قتل عام کے مقامات پر یہ وحشت دیکھی ہے۔ بالکل اسی طرح عراق کے ابو غریب جیل میں امریکی فوجیوں نے قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی سزا نہ ہو تو ہم انسان ان لوگوں کے ساتھ بہت بڑی ظالمانہ حرکتیں کرسکتے ہیں، جنھیں ہمیں Subhuman (کم تر انسان) کے طور پر رکھنا سکھایا جاتا ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ائتمار بن گویر نے قیدیوں کو ’گندے‘ اور ’نازی‘ کہا اور فلسطینیوں کے لیے جیل کے حالات کو مزید سخت کرنے پر فخر کا اظہار کیا۔ جب ایسی سوچ عام ہو تو جنسی تشدد فلسطینیوں کو تعذیب اور ذلت دینے کا ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔

’بی تسلیم‘ (ایک اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم) نے فلسطینیوں کے ساتھ ’جنسی تشدد کا سنگین پیٹرن‘ دستاویزی شکل میں پیش کیا۔ اس نے غزہ کے ایک قیدی تامر قرموط کا بیان پیش کیا، جس نے کہا کہ اس کے ساتھ لکڑی کے ڈنڈے سے ریپ کیا گیا۔ ’بی تسلیم‘ کا کہنا ہے کہ ’’تشدد (ٹارچر) اب معمول کی قبول شدہ حقیقت بن چکی ہے‘‘۔

ایک سابق اسرائیلی افسر نے جیل کے ہسپتال میں Breaking the Silence نامی اسرائیلی گروپ کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ یہ قبول شدہ رویہ عملی طور پر کیا معنی رکھتا ہے؟ ’’آپ عام، اچھے لگنے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو تفریح کے لیے لوگوں پر زیادتی کرنے لگتے ہیں، بس مزے کے لیے، دوستوں کو بتانے کے لیے یا بدلہ لینے اور نفرت کا اظہار کرنے کے لیے‘‘۔

زیادہ تر ریپ اور جنسی تشدد مردوں پر کیا گیا، اس لیے کہ فلسطینی قیدی ۹۰ فی صد سے زیادہ مرد ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے ایک فلسطینی عورت سے بات کی، جو اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے بعد ۲۳ سال کی عمر میں گرفتار ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اسے گرفتار کرنے والے فوجیوں نے اسے، اس کی ماں اور چھوٹی بھتیجی کے ساتھ ریپ کرنے کی دھمکی دی۔ جیل میں خاتون محافظوں کے ہاتھوں بے لباس کر کے تلاشی سے اس کا عذاب شروع ہوا، لیکن پھر اسی دوران ایک مرد فوجی اندر آیا جب مجھے بالکل بے لباس کردیا گیا تھا۔ اگلے چند دنوں تک مجھے بار بار بے لباس کیا جاتا، اور مردو خواتین محافظوں کی ٹیموں کے ذریعے تلاشی لی جاتی رہی۔ اس مشق کا ہمیشہ ایک ہی طریقہ تھا: کئی محافظ (مرد اور عورتیں) میرے سیل میں آتے، زبردستی کپڑے اتارتے، ہاتھ پیچھے کرکے ہتھکڑی لگاتے، جھکا دیتے (بعض اوقات سر ٹائلٹ کے کموڈ میں دبا دیتے)۔ اسی حالت میں مارا جاتا اور پورے جسم پر ہاتھ پھیرے جاتے۔ مجھے کچھ پتا نہیں کہ انھوں نے مجھے ریپ کیا یا نہیں، کیونکہ بعض اوقات مار پیٹ سے میں بے ہوش ہو جاتی تھی‘‘۔

اس کا خیال ہے کہ زیادتی کے مقصد دو تھے: حوصلہ توڑنا اور اسرائیلی مردوں کو ایک بے لباس فلسطینی عورت کے ساتھ بلا روک ٹوک دست درازی کی اجازت دینا۔

مجھے دن میں کئی بار بے لباس کرکے مارا جاتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ مجھے وہاں پر کام کرنے والے ہر شخص کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔ ہر شفٹ کے شروع میں وہ لڑکوں کو مجھے بے لباس کرنے کے لیے لاتے۔ جیل سے رہا ہونے سے پہلے مجھے ایک کمرے میں بلایا گیا جہاں چھ افسران موجود تھے۔ انھوں نے سختی سے خبردار کیا کہ کبھی کسی کو انٹرویو نہ دینا، اور دھمکی دی کہ اگر میں نے بات کی تو مجھے ریپ کریں گے، مجھے مار دیں گے اور میرے باپ کو بھی مار دیں گے‘‘۔ اس متاثرہ خاتون نے مجھ سے مضمون میں اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

غزہ کے ایک صحافی نے ۲۰۲۴ء میں گرفتاری کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کی تفصیل سنائی: ’’کوئی بھی جنسی زیادتی سے نہیں بچا۔ اگرچہ ہر ایک کے ساتھ ریپ تو نہیں ہوا، لیکن سب نے ذلت آمیز اور گندی جنسی زیادتی ضرور برداشت کی‘‘۔ ایک بار محافظوں نے اس کے فوطوں اور عضو خاص کو گھنٹوں کے لیے پلاسٹک کی پٹی سے باندھ دیا اور ان پر ضربیں لگائی گئیں۔ اس کے بعد کئی دن تک اس کو پیشاب خون کے ساتھ آیا۔ایک موقعے پر اسے ننگا کیا گیا۔ آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ ہتھکڑی میں بندھے ہوئے تھے اور ایک کتا بلایا گیا اور محافظوں کا کتا اس پر چڑھ گیا۔

اس نے بتایا:’’وہ کیمرے سے تصاویر لے رہے تھے اور میں ان کے قہقہے سن رہا تھا‘‘۔ میں نے کتے کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

دیگر فلسطینی قیدیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین نے بھی پولیس کے کتوں کو قیدیوں کے ساتھ ریپ کرنے کے لیے اُکسانے کی رپورٹیں دی ہیں۔ اس مظلوم صحافی نے کہا کہ رہا ہونے پر ایک اسرائیلی افسر نے مجھے خبردار کیا: اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو واپس جا کر میڈیا سے بات نہ کرنا‘‘۔لیکن اس کے باوجود وہ بات کرنے کو کیوں تیار ہوا؟

اس نے بتایا:’’کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جنھیں یاد کرنا برداشت نہیں ہوتا‘‘۔ ’’ابھی آپ سے بات کرتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ میرا دل رک جائے گا، لیکن مجھے یاد ہے کہ اب بھی بہت سے لوگ وہاں اندر ہیں۔ اس لیے میں ان کا خیال کرکے یہ بات کر رہا ہوں‘‘۔

کئی بیانات بتاتے ہیں کہ جنسی تشدد فلسطینی بچوں پر بھی کیا گیا، جو عام طور پر پتھر پھینکنے پر قید کیے جاتے ہیں۔ میں نے تین لڑکوں سے انٹرویو کیے جو گرفتار ہو چکے تھے۔ تینوں نے جنسی زیادتی کا ذکر کیا۔ ان میں ایک شرمیلا لڑکا تھا،جو گرفتاری کے وقت ۱۵ سال کا تھا، اس نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ کیا اس نے اصل ریپ بھی دیکھا؟ لیکن اس نے کہا کہ دھمکیاں روز کا معمول تھیں: ’’وہ کہتے، یہ کام کر، ورنہ ہم یہ ڈنڈا تمھاری مقعد میں ٹھونس دیں گے‘‘۔ دوسرے لڑکوں نے بھی جنسی تشدد کی تقریباً ایسی ہی کہانیاں سنائیں جو مار پیٹ کے ساتھ ہوتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ریپ کی دھمکیاں نہ صرف انھیںبلکہ ان کی ماؤں اور بہن بھائیوں کو بھی دی جاتی تھیں۔

اسرائیلی آباد کاروں کی اسرائیلی فوج حفاظت کرتی ہے، جب وہ فلسطینی دیہاتوں پر حملے کرتے ہیں اور جنسی تشددکر کے فلسطینیوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔

’ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم‘ (بین الاقوامی امدادی گروپس کا اتحاد) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ’’جنسی نوعیت کا تشدد مقامیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے،‘‘ تاکہ وہ اپنی زمین چھوڑ کر چلے جائیں‘‘۔ اس کنسوریشیم نے فلسطینی کسانوں کا سروے کیا تو پتہ چلا کہ ۷۰ فی صد سے زیادہ گھرانوں نے جو نقل مکانی کی، ان میں عورتوں اور بچوں کو جنسی تشدد کی دھمکیاں ہی ان کے جانے کی سب سے بڑی وجہ تھیں۔ اس تنظیم کی رکن الیگرا پاچیکو نے کہا: ’’جنسی تشدد لوگوں کو ان کی زمین سے بھگانے کے طریقوں میں سے ایک مؤثر ہتھیار ہے‘‘۔

اردن کی وادی کے ایک دُور دراز دیہاتی کسانوں کے گاؤں میں مَیں نے ۲۹ سالہ کسان سہیب ابوالکباش سے ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً ۲۰ اسرائیلی آباد کاروں کے ایک گروپ نے ان کے گھر پر حملہ کیا، بڑوں اور بچوں کو مارا، زیورات لوٹے، ۴۰۰بھیڑیں چرا لیں۔ ایک نے شکار والی چھری سے ان کے کپڑے کاٹے، پھر ان کے عضو خاص کو پلاسٹک کی رسّی سے باندھ کر کھینچا۔ اسی طرح ابوالکباش نے بتایا: ’’مجھے ڈر تھا کہ وہ میرے عضو خاص کو کاٹ ڈالیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہ میری زندگی کا آخری لمحہ ہے‘‘۔

کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ فلسطینی، اسرائیل کو بدنام کرنے کے لیے جنسی زیادتی کے جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔ میرے نزدیک ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ جن سے میں نے بات کی، ان میں سے کسی نے بھی آگے بڑھ کر مجھ سے رابطہ نہیں کیا تھا، نہ وہ جانتے تھے کہ ہم کس سے اور کیا بات کرنے یا پوچھنے والے ہیں، اور وہ بات کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔

ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل میں جنسی زیادتی اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب وہاں کے رسم و رواج (norms)بدل رہے ہیں اور فلسطینی متاثرین بات کرنے لگے ہیں۔

محمد مطر (فلسطینی افسر) نے مجھے بتایا: ’’چھ مہینوں تک میں اس بارے میں بات نہیں کرسکا، حتیٰ کہ اپنے گھر والوں سے بھی نہیں‘‘۔ آباد کاروں نے انھیںننگا کیا، مارا اور ڈنڈے سے ان کے نچلے حصے کو چھیڑا، جب کہ وہ ریپ کی باتیں کر رہے تھے۔ حملے کے دوران انھوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر انڈرویئر تک اُتار دیا اور ننگے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ وقت کے ساتھ مطر نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جھجک کو ختم کرنے کے لیے الم انگیز یاد کو تازہ رکھیں گے۔ اب وہ اپنے دفتر کی دیوار پر آبادکاروں کے ہاتھوں ظلم و زیادتی دکھانے والی اس بڑی تصویر کو لٹکائے رکھتے ہیں۔

اس لیے ہم اس نکتے پر واپس آتے ہیں جو میں نے اس کالم کے شروع میں کہا تھا: ’’مشرق وسطیٰ کے تنازے کے بارے میں ہمارے جو بھی خیالات ہوں، ہمیں کم از کم جنسی تشدد (rape) کی مذمت کرنے پر متحد ہو جانا چاہیے‘‘۔

اسرائیلی حکام کو اپنی خلاف ورزیوں پر نظر ڈالنی چاہیے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی گزشتہ سال کی۴۹ صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، فلسطینیوں کے ساتھ ’جنسی نوعیت کا تشدد‘ ’منظم‘ طریقے سے کر رہا ہے، جس میں ’اعلیٰ ترین سول اور فوجی قیادت کی خاموش اجازت‘ شامل ہے۔[ترجمہ: س م خ]

 _______________