اسلام چونکہ زندگی کا مکمل ضابطہ ہے، اس لیے حیاتِ انسانی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں اس نےفکری و عملی رہنمائی نہ کی ہو۔ زندگی کا انفرادی پہلو ہو یااجتماعی، سیاسی ہو یا معاشرتی، اخلاقی ہو یا معاشی، اسلام کی اصولی رہنمائی ہرجگہ موجود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو وہ ہے جس میں وہ اپنی بقائے ذات اور اتصال جسم و روح کے لیے ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی کوشش کرتاہے۔ حیاتِ انسانی کی ہماہمی کا ایک بڑا حصہ اس کی انھی کوششوں کے باعث ہے، جو وسائل رزق کے حصول کے لیے وہ سرانجام دیتا ہے۔ اس سلسلے میں انسان کی ابتدائی کوشش شکار، پھلوں کا حصول اور پھر گلہ بانی اور کھیتی باڑی کا تجربہ تھا، جیساکہ آدم علیہ السلام کے دوبیٹوں قابیل اور ہابیل کے قصہ سے واضح ہے۔ ان سرگرمیوں میں بتدریج ترقی ہوئی۔ جیسے جیسے کاروانِ زندگی آگے بڑھا، انسان نے مختلف چیزوں کا باہم تبادلہ کرنا سیکھا اور یہیں سے تجارت کے طریقے وجود میں آئے۔ اور پھر زر کے تعین نے تجارت کو ایک مستقل پیشے کی حیثیت دے دی۔ انسانی معاشرت کے ابتدائی مراحل میں بھی ہمیں تجارت کا سادا سا تصور ملتا ہے۔
انسانی قافلۂ حیات نے بتدریج ترقی کے جن مراحل کو طے کیا، ان میں رزق حاصل کرنے کے ذرائع بھی شامل ہیں۔ تہذیب و تمدن کے عروج و زوال کی داستانوں میں زراعت، پیشہ ورانہ مہارت اور تجارت کو خاص مقام حاصل رہا ہے، بالخصوص تجارت تو وہ واحد ذریعہ تھی جو مختلف اقوام کو باہم روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کا مقالہ نگار کہتا ہے کہ رومی سلطنت کے عروج کے وقت، تجارت بین الاقوامی دائرہ میں داخل ہوچکی تھی (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، ج۴،ص ۸۰۲)۔ ایران اور ہندوستان کے تجارتی قافلے اور منڈیاں خاصی شہرت رکھتی تھیں۔ اقتصادی نظام کی ترقی اور اس کی برتری کا راز کم و بیش تجارت میں مضمر ہے۔ جو قوم جس قدر اس سے دلچسپی لیتی ہے، اسی قدر وہ اجتماعی لحاظ سے ترقی یافتہ ہوتی ہے اور جو قوم تجارت سے دلچسپی نہیں رکھتی، وہ اقتصادی نظام میں ہمیشہ دوسروں کی دست نگر رہتی ہے۔ اور اس راہ سے دوسری اقوام اس کے تمدن، تہذیب، معیشت و سیاست بلکہ مذہب پر بھی قابض ہوجاتی ہیں۔ جس قوم کے ہاں تجارت نہیں، وہ آج نہیں تو کل ضرور غلام بن کر رہے گی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تجارت کسی قوم کے اقتصادی نظام کی جان ہوتی ہے۔ اسی سے اس کی مادی حیثیت مستحکم ہوتی ہے اور اسی استحکام سے کسی ملک کی معاشرتی، سیاسی اور تہذیبی پختگی کا پتہ چلتا ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جس شہر میں پیدا ہوئے وہ تجارت کا مرکز تھا اور آپؐ کے خاندان قریش کا ذریعۂ معاش ’تجارت‘ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعثت سے پہلے تجارت کو ہی معاش کا ذریعہ بنایا۔ آپؐ کے تجارتی سفر تاریخ سے ثابت ہیں اور حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کی تاجرانہ مہارت و صداقت ہی کی بنیاد پر آپؐ کو اپنا مال بغرضِ تجارت دے کر بھیجا تھا۔ قرآن و سنت نے مسلمانوں کو بار بار تجارت کی ترغیب دی اور اس کے فضائل و برکات بیان کیے:
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ (الجمعہ ۶۲:۱۰) جب نماز مکمل ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے فضل (یعنی رزق) کو تلاش کرو۔
لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۰ۣ (النساء ۴:۲۹) اپنے اموال کو آپس میں باطل کی راہ سے نہ کھائو بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو۔
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ (البقرہ ۲:۲۶۷) اے ایمان والو! تم خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔
احادیث ِ نبویؐ میں آیا ہے:
عَنْ اَبِی سَعِیْد قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: التَّاجرُ الصَّدوقُ الامینُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِیْقِیْنَ وَالشُّھْدَاءِ(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، ص ۲۴۳، مطبوعہ کانپور) ابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچا اور امین تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔
عَنْ عبید بن رفاعۃ عن ابیہ عَن النَّبِی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: التُجَّارُ یُحْشَرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فُـجَارًا اِلَّا من اتَّقٰی وَبَــرَّ وَصَدَقَ (رواہ الترمذی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن تاجر، فاسق و فاجر اُٹھیں گے اِلا یہ کہ انھوں نے تقویٰ، بھلائی اور سچائی سے کاروبار کیا ہو۔
عَنِ المِقْدَامِ بنِ مَعْدِیکَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: مَا اَکَلَ اَحَدٌ قَــطُّ خَیْرًا مِن عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اِنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤْدَ کَانَ یَاکُلْ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ (رواہ البخاری ) حضرت مقدام بن معدیکربؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے کبھی اس کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو ہاتھ کی محنت سے حاصل ہو اور اللہ کے نبی داؤدؑ ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔
عَن عَبدُاللہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال کمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا بھی اللہ کے مقرر کردہ فریضہ [رزقِ حلال] کے بعد فرض کا ہی درجہ رکھتا ہے۔
انسانوں نے اپنی غلط روی سے جس طرح زندگی کے دوسرے اُمور میں خرابیاں پیدا کردی تھیں، اسی طرح تجارت میں بھی غلط کاریوں کی آمیزش ہوگئی تھی۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح بداخلاقی، بے حیائی اور کفروشرک کا انسداد کیا۔ اسی طرح تجارت میں بھی غلط طریقوں کو ختم کیا اور صداقت و امانت کے مقدس اصولوں کوروشناس کرایا۔
قرآن و سنت میں اسلوبِ تجارت کے سلسلے میں دوطرح کے اصول و قواعد ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ تجارت کو کن صحیح اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ وہ کون سے مفاسد ہیں، جن سے تجارت کو پاک صاف رکھنا لازمی ہے۔ قرآن و سنت کے ان مثبت و منفی اصولوں کو اپنانے سے تجارت ایک مقدس پیشہ اور مبارک طرزِعمل بن جاتی ہے۔
(۱) تجارت کا وجود چونکہ فریقین کے باہمی تعاون پر قائم ہے ، اس لیے جانبین کا درست تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اس معاملے میں لوٹ کھسوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن پاک میں ہے: وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۰۠ (المائدہ ۵:۲) ’’بھلائی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و ظلم پر ہرگز کسی کے ساتھ تعاون نہ کرو‘‘۔
(۲) تجارت میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جانبین کی حقیقی رضامندی ضروری ہے۔ خریدنے والے اور فروخت کرنے والے کا معاملے پر راضی ہونا نہایت ضروری ہے، لہٰذا اضطراری و جبری رضامندی معتبر نہیں ہوسکتی۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۰ۣ (النساء۴:۲۹)اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر نہ کھائو اِلا یہ کہ [مال کا اکتساب] تجارت کی راہ سے باہمی رضامندی کے ساتھ ہو۔
عَنْ عَلِی رَضِی اللہ عنہ قَالَ: نَھٰی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ بَیَعِ الْمُضْطَرِّ وَعَن بَیْعِ الغَرَرِ وَعَن بَیْعِ الثَّمْر قَبْلَ اَنْ تُدْرِکَ (ابوداؤد، کتاب البیوع باب فی بیع المضطر، ص ۳۴۸، مکتبہ التجاریہ، مصر) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مضطر، بیع غرر اور پھلوں کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔
(۳) تجارت کا تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدوفروخت کرنے والے دونوں فریق معاملہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ قانونی اعتبار سے اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ ان پر عمل کی ذمہ داری ڈالی جاسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم رُفَعِ القَلَمُ عَن ثَلٰـــثَۃٍ ، عَنِ المَجْنُونِ حَتّٰی یَبْرَءِ وَعَن النَائِم حَتّٰی یَستَیْقِظَ وَعَن الصَّبْیِ حَتّٰی یَعْقِلَ (ابوداؤد، ج۴، کتاب الحدود، ص ۱۹۷، مطبوعہ مصر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخصوں پر تکلیف [احکامِ]شرعی عائد نہیں ہے: مجنون پر حتیٰ کہ وہ ٹھیک ہوجائے۔ سونے والے پر تاآنکہ وہ بیدار ہوجائے، اور نابالغ بچّے پر جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے۔
(۴) چوتھا اہم اصول یہ ہے کہ معاملے میں کسی قسم کا دھوکا، خیانت، ضرر و نقصان اور معصیت کا دخل نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اَفْضَلُ الکَسَبِ بِیْعٌ مَبْرُوْزَ وَعَـمِلُ الرَّجْلِ بِیَدِہٖ (احمد و طبرانی بحوالہ الفقہ علی مذاہب الاربعہ، ج۲،ص ۱۵۲، مطبوعہ مصر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین کسب بیع مبرور [جائز تجارت] اور دست کاری سے معاش پیدا کرنا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: مَبْرُوْزِ لَا ضَرَر وَلَا ضِرَارَ(رواہ مالک فی المؤطاء ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نقصان اُٹھانا اور نہ نقصان پہنچانا۔
فقہا نے کہا ہے کہ بیع مبرور وہ بیع (خریدوفروخت) ہے جس میں جانبین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بھلائی کا طریقہ اختیار کریں اور اس میں دھوکا، خیانت اور خدا کی معصیت نہ ہو۔ تاجر کے اخلاق میں سب سے اچھا خلق ایفائے عہد اور صداقت ہے۔ اس سے تجارت کو فروغ نصیب ہوتا اور معاشرے کی مالی حالت مستحکم ہوتی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی اس اخلاقی کمال کا بہترین نمونہ تھے۔ اسی طرح صداقت اور صاف گوئی کا بہترین نمونہ بھی آپؐ کی سیرت میں موجود تھا۔ قرآن و سنت نے تجارت کے سلسلے میں مثبت اصول بیان کرنے کے بعد یہ بھی بتایا کہ وہ کون سے طریقے ہیں، جو تجارت کو غیراسلامی اور غیر انسانی بنا دیتے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں ایسی تجارت کو بیع فاسد کا نام دیا گیا ہے۔ جھوٹ، ناپ تول کی کمی بیشی، دھوکا اور فریب، سود، بددیانتی، ذخیرہ اندوزی و نفع خوری وغیرہ، حضورؐ کے ارشادات سے ان [فاسد] اُمور پر کچھ روشنی پڑتی ہے، مثلاً:
عَن اَبِی قَتَادَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الحَلفِ فِی الْبَیعِ فَاِنَّہُ یُنَفِّقُ ثُمَّ یَمْحَقُ (رواہ مسلم) ابوقتادہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھیں خریدوفروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا پہلے مال کو نکالتا ہے اور پھر روک دیتا ہے۔
عَن اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَقُوْلُ: الْـحَلفُ مُنْفِقَۃٌ لِلْسِلْعَۃِ مُمْحِقَۃٌ لِلْبَرَکَۃِ (صحیح البخاری، کتاب البیوع) ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قسم مال کو چلانے والی مگر برکت کو زائل کرنے والی ہے۔
عَن اَبِی ذَّرٍ عَنِ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: ثَلٰثَۃَ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظرُ اِلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ قَالَ اَبُوذْرِّ قُلْتُ:قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوْا مَن ھُمْ یَارَسُولَ اللہَ ؟ قَالَ: السبِلٌ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفقُّ سَلعتَہٗ بِالْحلفِ الْکَاذِبْ (رواہ مسلم) ابوذرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن خداوند تعالیٰ بات نہ کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ابوذرؓ نے پوچھا: یارسولؐ اللہ ! وہ بدبخت اور نیکی سے محروم کون سے اشخاص ہیں؟ فرمایا: تہبند کو لٹکا کر چلنے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا۔
جائر و حلال تجارت کا ایک اہم پہلو پیمانوں کا صحیح رکھنا بھی ہے۔ قرآن پاک نے اسے عدل قرار دیا ہے اور اس میں کمی کرنے کو جرم۔ قرآن پاک نے قومِ شعیب ؑ کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ناپ تول میں کمی بیشی کرتی تھی۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنا حقیقت میں دوسرے کے حق کو غصب کرنا ہے۔ جو کوئی لینے میں تول کو بڑھاتا ہے اور دینے میں گھٹاتا ہے، وہ دوسرے کی چیز پر بے ایمانی سے قبضہ کرتا ہے، اور یہ بھی چوری ہی کی قسم بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سے بچنے کی تلقین آئی ہے۔ حضرت شعیبؑ اپنی قوم کو سمجھاتے ہیں:
اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۱۸۱ۚ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۱۸۲ۚ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۱۸۳ۚ (الشعراء ۲۶:۱۸۱-۱۸۳) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو۔
سورئہ بنی اسرائیل میں جو اخلاقی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۳۵ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۵) اور جب کوئی چیز ماپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کر و اور (جب تول کردو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہترین عمل اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔
_______________