اخبار اُمت


زندگی بہت ناپایدار ہے، اگلے لمحے پر بھی بھروسا نہیں ہوسکتا۔ جنرل عمر حسن البشیر ۱۰؍اپریل ۲۰۱۹ء کو سوڈان کے صدر تھے۔ ۱۱ ؍اپریل کو ان کے دست راست جنرل عوض بن عوف صدر بن گئے اور ۱۲؍اپریل کو ان کے ایک اور ساتھی عبدالفتاح برہان ملک کے سربراہ بن گئے۔ ایک روز قبل انھوں نے ہی اپنے پانچ جرنیل ساتھیوں کے ہمراہ جاکر صدر عمر بشیر سے کہا تھا کہ  ملک میں چار ماہ سے جاری مظاہرے اب خطرناک صورت اختیار کرچکے ہیں، اس لیے ہماری راے ہے کہ آپ اقتدار چھوڑ دیں۔ کئی گھنٹے انتظار کے بعد جب جواب نہ ملا تو جنرل عوض بن عوف قوم سے خطاب میں کہہ رہے تھے: ’’ملک میں ایک عرصے سے بدانتظامی، کرپشن، بے انصافی اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔ ہم حالات کا جائزہ لے رہے تھے، لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ اب ہم نے اس حکومت کو اکھاڑ پھینکا ہے اور اس کے سربراہ کو اپنی حفاظت میں لے کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے‘‘۔ اپنے مختصر خطاب میں ملک میں دو سال کے لیے عبوری حکومت، ۳ ماہ کے لیے ایمر جنسی اور ایک ماہ کے لیے رات ۱۰ بجے سے صبح چار بجے تک کرفیو کا اعلان کردیا۔
انقلاب کا یہ پہلا دن خرطوم کے قلب میں واقع مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع ہزاروں مظاہرین کا کڑا امتحان تھا۔ تازہ فوجی انقلاب اور بالخصوص رات کے کرفیو کا اعلان اعصاب شکن تھا۔ لگتا تھا کہ مظاہرین منتشر ہوجائیں گے اور یوں ملک میں ایک نئے عسکری دور کا آغاز ہوجائے گا۔ لیکن گذشتہ پانچ دن سے مسلسل مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے بیٹھے ان مظاہرین نے اٹھنے سے انکار کردیا۔ حیرت انگیز طور پر انقلابی کونسل کمزور اور مظاہرین مزید مضبوط ثابت ہوئے۔ اگلے روز جمعہ تھا، مزید عوام مظاہرین میں شامل ہوگئے۔ ۳۶ گھنٹے گزرنے سے بھی پہلے جنرل عوض کو بھی اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا۔ وہ ایک بار پھر اسی وردی کے ساتھ اسی کرسی اور اسی سرکاری ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہو کر کہہ رہے تھے: ’’میرے عزیز ہم وطنو! میں مختصر وقت میں دوسری بار آپ سے مخاطب ہونے پر معذرت خواہ ہوں، لیکن آج میں بلند مقاصد کے لیے ملک میں ایک نئی روایت متعارف کروانے جارہاہوں۔ یہ روایت ہے جاذبِ نظر مناصب سے بے رغبتی اور عہدوںکی چمک دمک میں عدم دلچسپی کی روایت۔ میں ملک میں تشکیل دی جانے والی عسکری سپریم کونسل کی سربراہی سے ایک ایسے شخص کے حق میں دست بردار ہورہا ہوں کہ جس کے تجربے، صلاحیت اور اس منصب کے لیے استحقاق پر ہمیں کامل یقین ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ جنرل عبدالفتاح برہان عبدالرحمان حال ہی میں سفر کا آغاز کرنے والے سفینے کو کامیابی سے ساحل نجات تک لے جائیں گے‘‘۔
پانچ منٹ کے اس خطاب کے بعد سوڈان میں اب ایک نئے دور کا آغاز ہورہاہے۔ جنرل عبدالفتاح برہان، جنرل عمر البشیر کے ابتدائی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں بری افواج کے سربراہ رہے اور اب افواج میں انسپکٹر جنرل کے علاوہ یمن میں لڑنے والی سوڈانی فوج کی نگرانی کررہے تھے۔ اس دوران سعودی اور اماراتی قیادت سے بھی قریبی تعلقات استوار ہوگئے۔ کسی نظریاتی شناخت کے بجاے فقط پیشہ ورانہ شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے سربراہ بنتے ہی سعودی عرب اور امارات کی طرف سے اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے فوری طور پر سوڈان کو ۳؍ ارب ڈالر کی امداد کے علاوہ پٹرول اور غذائی مواد کی فراہمی کا بھی اعلان کردیا۔   عوام میں بھی نئے جنرل صاحب کے لیے نسبتاً قبولیت کا تأثر ہے، لیکن حالات اب بھی مکمل پُرسکون نہیں ہوئے۔ مظاہرین فوجی اقتدار کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔
۹ دسمبر ۲۰۱۸ء سے جاری ان مظاہروں میں زیادہ شدت اس وقت آئی تھی، جب الجزائری عوام نے گذشتہ ۲۰ سال سے برسراقتدار ۸۲ سالہ مفلوج و معذور عبدالعزیز بوتفلیقہ کو اپنے بھرپور قومی دھرنوں کے ذریعے اتار پھینکا۔ انتہائی ضعیف، بیمار اور ناکارہ ہوجانے کے باوجود بوتفلیقہ نے ۱۸؍اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں پانچویں بار صدارتی اُمیدوار بننے کا اعلان کیا تھا۔ بس یہی اعلان، ان کی سیاسی وفات کا اعلان ثابت ہوا۔ الجزائری عوام کی یک جہتی اور ایک قومی تحریک کی صورت میں سڑکوں پر نکل آنے سے، بہ امر مجبوری فوج کے سربراہ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے، بوتفلیقہ کے جانے اور دستور کے مطابق سپیکر کو عبوری صدر کی حیثیت سے ملکی انتظام سنبھال لینے کا اعلان کیا۔ الجزائری عوام کی جدوجہد کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا، لیکن تحریک ہنوز جاری ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ صرف بوتفلیقہ نہیں، پورے سابقہ نظام سے نجات چاہیے۔ عوامی نعروں، تقریرروں اور تحریروں میں الجزائر کی حالیہ تاریخ کا خلاصہ دہرایا جارہاہے کہ ۱۹۹۱ءمیں ہونے والے انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ (FIS) نے ۸۰ فی صد نشستیں جیتی تھیں، لیکن فوج نے انقلاب کے ذریعے عوامی راے کا خون کردیا۔ اس کے بعد پورا عشرہ الجزائر میں بدترین خوں ریزی برپا رہی۔ یہ فرانس کے خلاف جنگ آزادی کے بعد ملک کی بدترین خوں ریزی تھی۔ پھر مختلف افراد کو مسند اقتدار پر بٹھانے کے بعد، اپریل ۱۹۹۹ء میں بوتفلیقہ کو صدر بنوادیا گیا۔ اب بوتفلیقہ کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر عبدالقادر بن صالح کو ۹۰ دن کے لیے عبوری صدر بنایا گیا ہے، جس نے ۴ جولائی کو قومی انتخابات کا اعلان کیا ہے۔تاہم، الجزائری عوام کے مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ وہ عبوری صدر کو بھی براے نام صدر قرار دیتے ہوئے، اصل مقتدر اداروں کی حکومت اور پہلے سے طے شدہ نتائج والے کسی انتخاب کو مسترد کررہے ہیں۔
سوڈانی عوام کی تحریک گذشتہ دسمبر سے جاری تھی۔ ان مظاہروں کا آغاز صدر عمر البشیر کے اچانک اور ناقابل فہم دورہء شام سے ہوا تھا۔ چند گھنٹوں کے اس دورے کے دوران وہ شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کرکے آئے۔ بشار الاسد گذشتہ آٹھ برس سے پوری قوم تباہ اور پورا ملک کھنڈر بنا چکا ہے، عالم عرب میں نفرت و وحشت کی علامت بن چکا ہے۔ اس سے یہ ملاقات صدربشیر پر عوامی و تنقید و احتجاج کا نقطہء آغاز بنی۔ سوڈانی حکومت کا کہنا تھا کہ بشار سے یہ ملاقات سوڈان پر عائد پابندیوں سے نکلنے کی ایک کوشش تھی اور یہ ملاقات کسی علاقائی طاقت کے کہنے پر نہیں ہم نے خود اپنی ترجیحات کے مطابق کی۔ اتفاق تھا یاکوئی اور’غیبی‘ انتظام کہ بشار سے ملاقات پر احتجاج کے انھی دنوں میں، ملک میں روٹی اور تیل کا بحران کھڑا ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بشار مخالف مظاہرے، بشیر مخالف مظاہروں میں بدل گئے۔ فوراً ہی ان مظاہروں نے خونی تصادم کی صورت اختیار کرلی، جس دوران ۵۷ افراد کے جاں بحق ہونے کی خبریں عالمی سرخیاں بن گئیں۔ یہ مظاہرے قریب الاختتام تھے کہ بوتفلیقہ کے خلاف الجزائری عوام کی تحریک کامیاب ہوئی اور سوڈان میں بھی اس کے بھرپور اثرات پہنچے۔ سوڈانی عوام نے ۶؍ اپریل کو جی ایچ کیو کے باہر دھرنے کا اعلان کردیا۔ یہی مظاہرے ۱۱؍اپریل کو صدر عمر البشیر کی رخصتی کا ’ذریعہ‘ بنے۔
جنرل عمر حسن البشیر (پیدایش: یکم جنوری ۱۹۴۴ء) ۳۰ جون ۱۹۸۹ء کو وزیراعظم صادق المہدی کا تختہ اُلٹ کر برسرِ اقتدار آئے تھے۔ آغاز میں تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت جیل میں بند کردی گئی۔ تقریباً چھے ماہ بعد سیاسی قیادت کی رہائی ہوئی اور ڈاکٹر حسن الترابی جنرل عمر البشیر کے فکری و سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ ساتھ ہی سوڈان کے خلاف چاروں اطراف سے دباؤ اور سازشوں کا طویل دور شروع ہوگیا۔ امریکا و یورپ نے پابندیاں عائد کردیں۔ بلا استثناء تمام مسلم ممالک نے سوڈان کا علانیہ یا خفیہ بائیکاٹ کردیا۔ یہ بائیکاٹ اور محاصرہ اتنا شدید تھا کہ سوڈان نے سڑکوں کی تعمیر کے لیے تارکول کا تقاضا کیا تو براد رمسلم ممالک نے وہ تک نہ دیا۔ خود پاکستان کا یہ عالم تھا کہ ۹۰ کے عشرے میں صدر فاروق لغاری سوڈان کے پڑوسی ملک یوگنڈا کے دورے پر گئے۔    صدر لغاری کو اس موقعے پر دورۂ سوڈان کی دعوت بھی دی گئی، لیکن پاکستان نے معذرت کرلی۔ سوڈان نے تجویز دی کہ چلیے دورہ نہ کیجیے، یوگنڈا جاتے ہوئے صرف کچھ دیر کے لیے خرطوم ایئرپورٹ پر رُک جائیے۔ سوڈانی عوام پاکستان سے ایک فطری محبت رکھتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہوجائے گی۔ لیکن صدر لغاری نے خود محترم قاضی حسین احمد صاحب کو ایک ملاقات میں بتایا کہ امریکی ناراضی کے خدشے کے پیش نظر مجھے خرطوم رکنے سے منع کردیا گیا تھا۔
صدر بشیر کے اقتدار سنبھالتے ہیں جنوبی سوڈان میں ۱۹۵۵ء سے جاری بغاوت کے لیے عالمی امداد کے دھانے کھول دیے گئے۔ ۹ ممالک کے ساتھ مشترکہ سرحدیں رکھنے والے سوڈان کے خلاف مختلف پڑوسی ممالک کی طرف سے کئی بار باقاعدہ مسلح جنگیں اورحملے کروائے گئے۔  کئی بار اندرونی بغاوتوں کی کوشش کی گئی۔سوڈان میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہونے کی اطلاعات تھیں۔ حکومت نے چین کی مدد سے تیل دریافت بھی کرلیا، ملک کا اقتصادی و معاشرتی نظام قدرے سنبھلنے لگا تو پورے جنوبی سوڈان کو الگ کروادیا گیا۔ سوڈان کو دو لخت کرنے میں کامیابی حاصل ہوگئی تو مغربی سوڈان کے علاقے دارفور میں بغاوت کروادی گئی۔ چاڈ اور لیبیا کی سرحدوں کے راستے باغیوں کو کھلم کھلا اسلحے کے ڈھیر فراہم کیے گئے۔ اس مسلح بغاوت کو کچلنے کے لیے   فوجی آپریشن کیے گئے، تو عالمی عدالت سے صدر عمر البشیر کو جنگی مجرم قرار دے دیا گیا۔ 
نائن الیون سے پہلے القاعدہ کی پشتیبانی کا الزام لگاتے ہوئے سوڈان کے ادویات بنانے کے کارخانے امریکی میزائلوں کے ذریعے تباہ کردیے گئے۔ صدر البشیر ہی نہیں جنرل عوض بن عوف اور جنرل عبد الفتاح برہان کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ سوڈان پر دہشت گردی کی مدد کا الزام لگا کر ذمہ داران حکومت سمیت عام شہریوں پر بھی سفری پابندیاں عائد کردی گئیں۔ اقتصادی جکڑ بندیوں میں کستے ہوئے دنیا کے کسی بنک اور کسی بھی ملک کو سوڈان سے ہرطرح کے مالی معاملات پر پابندیاں لگا دی گئیں۔ کسی بنک نے ہمت کرنے کی کوشش بھی کی تو بھاری جرمانوں کی دھمکی دے کر روک دیا گیا۔ قارئین کے لیے شاید باعث حیرت ہو کہ اس وقت صرف دو خلیجی بنکوں کے علاوہ دنیا کا کوئی بنک سوڈان کے ساتھ کوئی کاروبار یا رقوم کی ترسیل نہیں کرسکتا۔ سوڈان دنیا میں اپنے سفارت خانوں تک کو کسی بنک کے بجاے براہِ راست کیش رقوم ارسال کرنے پر مجبور ہے۔
ان تمام بیرونی چیلنجوں کے علاوہ اندرونی خلفشار بھی عروج پر رہا۔ چین اور ملائیشیا کے تعاون سے تیل اور تجارت کے میدان میں قدرے کامیابیاں ملیں تو ڈاکٹر حسن الترابی نے مشورہ بلکہ منصوبہ پیش کیا کہ ملک میں فوجی حکومت کے بجاے حقیقی جمہوری نظام نافذ کرتے ہوئے، فوج کو اقتدار سے نکال لیا جائے۔ ترابی صاحب خود اس وقت اسمبلی کے سپیکر تھے۔ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا ایک نظام وجود میں آچکا تھا۔ پارلیمنٹ میں دیگر سیاسی پارٹیاں بھی تھیں، لیکن آخری اختیارات و کنٹرول فوج اور استخباراتی ادارے کے ہاتھ میں تھے۔ ترابی صاحب کی ان تجاویز پر صدر بشیر اور دیگر ذمہ داران سخت نالاں ہوگئے۔ اس وقت دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں نے بھی وہاں جمع ہوکر مصالحت کی بھرپور کاوشیں کیں۔ پاکستان سے محترم قاضی حسین احمد صاحب اور پروفیسر خورشید احمد صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ تقریباً دو ہفتے جاری رہنے والی وہ تمام کاوشیں کئی نازک مراحل سے گزریں۔ گاہے ایسا بھی ہوا کہ نماز تراویح کے بعد بیٹھے تو سحری تناول کرکے اُٹھے۔ بالآخر فریقین ایک درمیانی حل پر متفق ہوگئے، لیکن اختلاف پھر غالب آگیا۔ ڈاکٹر حسن الترابی جنھیں صدر عمر البشیر سمیت اکثر ذمہ داران اپنا مرشد و فکری رہنما تسلیم کرتے تھے، کئی وزرا جنھیں باپ کا درجہ دیتے تھے، گرفتار کرکے قدیم ’کوبر جیل‘ بھیج دیے گئے (اب صدر بشیر اور ان کے ساتھی بھی اسی جیل میں رکھے گئے ہیں)۔ طویل قید کے بعد رہائی ہوئی تو ترابی صاحب نے ’المؤتمر الشعبی‘ کے نام سے اپنی نئی جماعت تشکیل دے لی۔ طویل عرصہ ان کا جیل آنا جانا لگا رہا، یہاں تک کہ ترابی صاحب کی وفات سے کچھ عرصہ قبل افہام و تفہیم کی فضا تو قائم ہوگئی، لیکن اصولی اختلافات اپنی جگہ باقی رہے۔ اسی اثنا میں اخوان کی تنظیم سے بھی حکومت کے اختلافات ہوگئے۔ ان کا  ایک دھڑا حکومت کے ساتھ اور دوسرا اپوزیشن کا حصہ بن گیا۔ اس طرح سوڈان میں اسلامی تحریک حکومت، اپوزیشن اور غیر جانب دار تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
نومبر ۲۰۱۸ء میں خرطو م جانا ہوا تو اقتصادی مشکلات اپنے عروج پر تھیں۔ حکمران جماعت کے کئی ذمہ داران بھی صورت احوال سے غیر مطمئن دکھائی دیے۔ مرحوم ڈاکٹر حسن الترابی کے بعد اب صدر عمر البشیر کے کئی دیگر قریبی ساتھی حکومت اور حکمران جماعت میں نظر انداز کردیے جانے کا شکوہ کررہے تھے۔ حکومت اور پارٹی کے اہم ذمہ داران جو کبھی صدر بشیر سے اظہار محبت و ہمدردی کرتے ہوئے ان کے شرمیلے مزاج ہونے کا ذکر کرتے تھے، اب تنہا فیصلے کرنے کی روش پر شکوہ کناں تھے۔ دونوں نائب صدور سمیت کئی اہم ذمہ داریوں پر سیاسی کارکنان کے بجاے حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی سربراہان، تعینات کردیے گئے تھے۔ یہ حقائق سب کے لیے باعث تشویش تھے۔
ان ساری اندرونی و بیرونی مشکلات کے باوجود سوڈان نے صدر بشیر کے عہدِ اقتدار میں کئی اہم کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ سب سے اہم کامیابی تو خود ان مہیب عالمی سازشوں کے باوجود ملک اور اس کے نظام کا باقی اور ثابت قدم رہنا تھا۔ وسیع و عریض زرخیز زمین اور دریاے نیل کے خزانے رکھنے کے باوجود حکومت ملنے پر ملک غذائی بدحالی کا شکار تھا۔ صدر بشیر نے قوم کو نعرہ دیا کہ مَن لَا یَملِکُ قُوتَہُ لَایَملِکُ قَرَارَہُ (جس کی غذا اپنے ہاتھ میں نہیں، اس کے فیصلے بھی اپنے ہاتھ میں نہیں)۔غذائی خود کفالت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ تعلیم کے لیے نئے اعلیٰ ادارے قائم کیے گئے۔ پہلے ملک میں صرف پانچ یونی ورسٹیاں تھیں، اب ملک میں ۱۲۶ یونی ورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا ایک جال ہے۔ پورا نصاب تعلیم عربی زبان میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ حتیٰ کہ میڈیکل، انجینیرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ تعلیم بھی قومی زبان عربی میں دی جاتی ہے۔ علاج کی سہولت جتنی ہے، سب شہریوں کو مفت حاصل ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے نئے اور بڑے ڈیم قائم کیے گئے جو عموماً ملکی ضرورت پوری کررہے ہیں۔۲ء ۹ کلومیٹر طویل اور ۸۲ میٹر چوڑے مروی ڈیم میں ۱۲۵۰ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی دس ٹربائینیں کام کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ڈیم اور آئل ریفائنری مسلسل پیداوار دے رہی ہیں۔ تیل کے کنویں تو جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے ساتھ ہی اس کے حصے میں چلے گئے، لیکن وہ خام تیل کی ترسیل کے لیے سوڈان ہی کا محتاج ہے۔ ملک میں بنیادی انفراسٹرکچر کے دیگر پیمانوں میں بھی بہتری آئی ہے۔لیکن رقبے کے اعتبار سے افریقا اور عالم عرب کے تیسرے بڑے اور غربت کے ساتھ ساتھ تقریباً ۵ کروڑ کی آبادی والے ملک کو، مشکلات سے  نجات پانے کے لیے، بیرونی سازشوں اور جکڑ بندیوں سے نجات کے علاوہ، اندرونی استحکام کا طویل سفر ابھی طے کرنا ہے۔

عالم اسلام اور رحمۃ للعالمین کی اُمت کو قرآن و سنت کے آئینے میں دیکھیں تو ہلاکت و تباہی کے سب اسباب سامنے آجاتے ہیں۔ قرآن کریم بار بار اتحاد و اخوت کی تعلیم دیتے ہوئے خبردار کرتا ہے کہ باہم جھگڑوں اور گروہ بندیوں میں پڑو گے تو ناکام ہوجاؤگے۔ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ مسلم اقوام و افراد ایک کے بعد دوسری جنگ اور عارضی مفاد و منصب کی خاطر برپا اختلافات میں کود پڑنے پر ہر دم آمادہ رہتے ہیں۔ سوڈان اور الجزائر ہی نہیں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لیبیا میں بھی خانہ جنگی کا ایک نیا اور سنگین دور شروع ہوگیا ہے۔
کرنل قذافی کے ۴۰ سالہ دور حکومت کے بعد مصر اور تیونس کی طرح لیبیا میں بھی عوام کی مرضی سے منتخب حکومت اور انتخاب و شورائیت کی بنیاد پر ایک آزادانہ معاشرتی نظام وجود میں آنا شروع ہوگیا تھا۔ لیبیا جاکر دیکھا اور وہاں سے آنے والوں نے بھی بتایا کہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال یہ اہم ملک دنیا کے ساتھ نئے معاشی، سیاسی اور ترقیاتی تعلقات کا متمنی و منتظر ہے۔ اچانک معلوم ہوا کہ مصر میں ملکی تاریخ کی پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون کرنے والے جلادوں کے پشتیبان، اب لیبیا میں بھی خون کی یہی ہولی کھیلنے پر مصر ہیں۔ انھوں نے معمر قذافی کے ایک سابق رفیق کار خلیفہ حفتر کا مہرہ آگے بڑھایا ہے۔
خلیفہ حفتر (پیدایش ۱۹۴۳ء) ۱۹۶۹ء میں لیبیا کے شاہ ادریس السنوسی کے خلاف کرنل قذافی کے انقلاب کا حصہ تھے۔ بعد ازاں قذافی نے انھیں بری افواج کا سربراہ بنادیا۔ ۱۹۷۸ء میں لیبیا اور پڑوسی ملک چاڈ کے درمیان جنگ شروع ہوگئی جو وقفوں وقفوں سے تقریباً دس سال جاری رہی۔ ۱۹۸۷ء کی جنگ میں خلیفہ حفتر خود شریک تھا۔ آغاز میں اسے کچھ کامیابی ملی، لیکن اسے فوری کمک کی ضرورت تھی۔ لیبیا کے تاریخ دان بتاتے ہیں کہ قذافی نے اس خدشے سے کمک نہ بھیجی کہ حفتر اس لڑائی میں ایک کامیاب ہیرو کے طور پر متعارف ہورہا ہے، اگر واقعی جیت کر واپس لوٹا تو کہیں میرا تختہ نہ الٹ دے۔ حفتر اور اس کی فوج شکست کھاگئی۔ ۱۲۶۹ لیبین فوجی مارے گئے اور خلیفہ حفتر سمیت ۴۳۸ گرفتار ہوگئے۔ دوران اسیری حفتر نے قذافی سے بغاوت و علیحدگی کا اعلان کردیا۔ امریکی مداخلت پر اسے رہائی ملی اور وہ وہیں سے امریکا چلا گیا، جہاں ۲۰سال تک مقیم رہا۔ امریکی شہریت حاصل کرلی اور CIA کے ساتھ قریبی تعلق و تعاون رہا۔
سقوط قذافی کے بعد لیبیا میں ایک عبوری حکومت تشکیل پائی۔ قذافی کے خلاف تحریک چلانے والے تقریباً سب گروہ اس میں شریک تھے۔ ملک میں امن و استحکام کا سفر شروع ہوا چاہتا تھا کہ خلیفہ حفتر نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر ’بنغازی‘ میں اعلان بغاوت کردیا۔ مصر کے جنرل سیسی اور اس کے حلیف حفتر کی بھرپور عسکری و مالی مدد کررہے تھے۔ کوئی فریق دوسرے کو شکست تو نہ دے سکا، البتہ ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ ایک دار الحکومت طرابلس (Tripoli) میں اور دوسری بنغازی میں۔ وقت اسی طرح آگے بڑھ رہا تھا کہ الجزائر و سوڈان میں عوامی تحریک کے ساتھ ہی خلیفہ حفتر نے طرابلس پر پھر سے چڑھائی کردی۔ اب تک طرفین کے سیکڑوں افراد اور طرابلس کا سارا گردونواح جنگ کی نذر ہوچکا ہے۔ خلیفہ حفتر کی افواج کو ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، لیکن اسے شہ دینے والے جنگ کے شعلے بھڑکائے رکھنے پر مصر ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کرتے ہوئے مطلع کیا تھا کہ: ’’آپ لوگ اپنے سے پہلے والوں کے ایک ایک قدم اور ایک ایک عمل کی پیروی کرو گے۔ یہاں تک کہ وہ اگر گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی اس میں جاگھسو گے‘‘ ( بخاری)۔ قرآن کریم اس روش سے باز رہنے کا حکم دیتا اور خبردار کرتا ہے کہ: وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا۝۶۲ (احزاب۳۳: ۶۲) رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم اُمتیوں کو دُعا سکھائی تھی: لطیف و خبیر پروردگار اپنے بندوں پر رحم فرما۔ ہمارے گناہوں کے باعث ہم پر ایسے حکمران مسلط نہ فرما جو ہمارے معاملے میں آپ کا خوف نہ رکھتے ہوں اور ہم پر رحم نہ کھاتے ہوں۔

۷۰ءکے عشرے میں میرے چچا ڈاکٹر مشتاق گیلانی نے ہمارے آبائی قصبہ سوپور میں ایک تختی اور بستہ میرے کاندھوں پر لاد کر، ہاتھ پکڑتے ہوئے مرکزی درس گاہ، محلہ مسلم پیر میں پہلی جماعت میں داخل کرا دیا۔ یہ درس گاہ، براہِ راست جماعت اسلامی کے شعبۂ تعلیم کے تحت تھی۔ مدت گزرنے کے باعث اکثر یادیں دھندلی ہوچکی ہیں، مگر جن مشفق اساتذہ نے ہاتھ تھام کر تعلیم کا آغاز کرایا، ان محسنوں کی یادیں ابھی تک ذہن میں نقش ہیں۔
 لیکن پھر ہوا یہ کہ بس د و ہی سال بعد اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے درمیان ہونے والے فروری ۱۹۷۵ء میں معاہدے کے نتیجے میں شیخ عبداللہ صاحب وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔اپوزیشن کے دبائو اور اعلیٰ عدالت کے ایک فیصلے سے پریشان وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جون ۱۹۷۵ءکو پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اقتدار کی دیوی کی آغوش میں تازہ تازہ آئے شیخ صاحب نے بھی دیکھا دیکھی کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کی اور جماعت اسلامی اور اس سے ہمدردی رکھنے والے تعلیمی، معالجی اور رفاہی اداروں کو بھی مقفل کردیا۔ اس ایک فیصلے سے جموں و کشمیر میں، ہم ۲۰ ہزار طلبہ و طالبات پر اسکولوں کے دروازے بند ہوگئے، اور انھیں پریشانیوں میں دھکے کھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں پناہ لینا پڑی۔ جماعت اسلامی تو ان دنوں جموں و کشمیر کی انتخابی سیاست میں پیش پیش تھی اور اسمبلی میں اس کی نمایندگی بھی تھی۔ ’اندراعبداللہ ایکارڈ‘ کی مخالف جماعت اسلامی نے گاندر بل حلقے سے شیخ عبداللہ کے مقابل محمداشرف صحرائی کو بطور اُمیدوار میدان میں اتارا تھا۔ یہ ایک طرح سے ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ تھا ، مگر نیشنل کانفرنس معمولی سا اختلاف راے برداشت کرنے کی بھی متحمل نہیں تھی۔ صحرائی صاحب کے الیکشن ایجنٹ ڈوڈہ کے سعداللہ تانترے کو سید پورہ آلسٹینگ کے مقام پر کھیتوں میں نہ صرف زدوکوب کیا گیا، بلکہ ان کی ایک آنکھ بھی نکال دی گئی۔ طرفہ تماشہ دیکھیے کہ چند ہفتے پیش تر یہاں پر جماعت اسلامی پہ جو پابندی عائد کی گئی ہے، اس میں ایک ’جرم‘ یہ بھی ہے کہ یہ انتخابی سیاست میں یقین نہیں رکھتی ہے۔ اب اس سادگی پر مر نہ جائے کوئی!
۱۴فروری کو پلوامہ میں بھارتی فوجی دستوں کے قافلے پر ایک خود کش حملے کے جوا ب میں پاکستان پر ہوائی حملوں کے بعد کھسیانی بلی کھمبا نوچنے کے مصداق بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی حکمت عملی کا رخ دوبارہ کشمیر کی طرف موڑ دیاہے۔ حُریت کے لیڈورں کو نظربند رکھنے اور فوجی آپریشن وغیرہ کی ناکامی کے بعداب بتایا جا رہا تھا کہ حریت کانفرنس پر پابندی عائد کرکے لیڈروں کو پابند سلاسل کیا جائے گا۔ 
سید علی گیلانی پچھلے نو سالوں سے مسلسل گھر پہ نظربند ہیں۔ پچھلے دنوں سرینگر سے دہلی واپس آتے ہوئے ایرپورٹ روڈ پر جب ان کی رہایش گاہ پر پہنچا، تو دیکھا کہ گلی میں تین بکتر بند گاڑیاں ان کے گیٹ کو بلاک کیے ہوئے ہیں۔ سخت سردی میں د و درجن کے قریب سیکورٹی کے اہل کار باہر کھڑے ، اندر جانے کے لیے نام وغیرہ کا اندراج کر رہے تھے۔اندر جانے کی اجازت دینا ان کے موڈپر منحصر ہے۔ گیلانی صاحب خاصے کمزور نظر آرہے تھے ۔ اگرچہ اخبارات و غیرہ کا مطالعہ کر رہے تھے، مگر بتایا کہ کمزوری اور نقاہت کے باعث اب کچھ تحریر نہیں کر پاتا۔ پہلی بار ڈائری سے ساتھ چھوٹ گیا ہے۔ ان کے دفتر کے افراد اور رفقا زیر حراست ہیں۔ گھر کا ملازم چند ماہ قبل گائوں گیا تھا، واپسی پر اس کو اندر جانے کی اجازت ہی نہیں ملی۔ مجھے بٹھا کر خود ہی اندر اطلاع کرنے چلے گئے۔
اسی سلسلے میں جماعت اسلامی جموں وکشمیرپر پانچ سال تک پابندی عائد کرکے اس کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، ترجمان ایڈووکیٹ زاہد علی سمیت ۴۰۰ کے قریب اراکین کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اور یہ سطور لکھنے تک روزانہ کہیں نہ کہیں سے، جماعت کے کسی کارکن کی گرفتاری کی خبر موصول ہوتی ہے۔جماعت کے دفاتر اور تعلیمی ادارے بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔  کئی جگہوں سے اطلاعات ہیں کہ ارکان کے ذاتی رہایشی گھر بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔ شدیدسردی اور برف باری کے موسم اور رات کے اندھیرے میں گھر کی عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو بے دخل کرکے گھر سیل کیے گئے ہیں۔ ان بے قصور افراد سے آشیانہ چھین کر مبتلاے عذاب کرنا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے، جب کہ گھر کے مرد یا تو پہلے سے حراست میں ہیں، یا پھر روپوش۔ 
۱۹۷۷ء میں جب جماعت اسلامی پر پابندی اٹھائی گئی تو تعلیمی اداروں کے انتظام و انصرام کے لیے اس نے ’فلاح عام ٹرسٹ‘ قائم کیا۔ اس وقت اس ٹرسٹ کے تحت براہ راست ۳۵۰؍ اسکولوں میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ پھر بالواسطہ طور پر تقریباً اتنے ہی اسکول ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کی تعلیمی کاوشوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ پابندی کے فوراً بعد جب دنیا کے دور دراز خطوں سے، ان اداروں سے فارغ التحصل طلبہ، یعنی ایلومنائی کے پیغامات آنا شروع ہوئے، تو پہلی بار معلوم ہوا کہ ان اداروں سے اٹھا ہوا ابر تو سارے جہاں پر برس رہا ہے۔ تقریباً ۳۰۰؍ایلومنائی نے ایک مشترکہ یادداشت میں حکومت کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ ادارے غریب اور دُور دراز کے دیہات میں تعلیمی معیار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس لسٹ میں ایسے محقق اور پروفیسر شامل ہیں، جو فی الوقت نام ور اداروں، یعنی ہارورڈ یونی ورسٹی، امپیریل کالج، سوئزرلینڈ ، ویسٹ منسٹر، امریکا کے طبی تحقیق کے اعلیٰ اداروں، بھارت کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، جواہر لال نہرو یونی ورسٹی، علی گڑھ و جامعہ ملیہ اسلامیہ وغیرہ میں کام کر رہے ہیں۔ 
ان ماہرین، اسکالرز اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان اسکولوں اور وہاں کے اساتذہ کی محنت، لگن اور خلوص بھی شامل ہے۔اس یادداشت پر دستخط کرنے والوں میں ایک کشمیری پنڈت خاتون نتاشا کول بھی ہیں ، جو اس وقت یونی ورسٹی آف ویسٹ منسٹر، لندن[تاسیس: ۱۸۳۸ء] میں پڑھاتی ہیں۔ ایک طرف حکومت تو خود معیاری تعلیم دینے سے عاری ہے، دوسری طرف جو ادارے اس طرف عوامی خدمت، محنت اور لگن سے دن رات مگن ہیں، ان کا گلہ گھونٹے سے نہیں کتراتی ہے۔جموں و کشمیر میں اعلیٰ عہدوں پر برا جمان، خو د گورنر کے دفتر میں افسران کی ایک بڑی تعداد انھی اسکولوں سے فارغ التحصیل ہے۔ اس یادداشت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ۱۹۹۰ء میں بھی اس وقت کے گورنر جگ موہن نے ان اداروں پر پابندی عائد کی تھی، مگر بعد میں سپریم کورٹ نے اس غیرمنصفانہ پابندی کو ختم کر دیا تھا۔ ان ایلومنائی کا کہنا ہے کہ: ’’آخر سیاسی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی کا نزلہ ان تعلیمی اداروں پر کیوں اتارا جاتا ہے؟‘‘ ۱۹۹۷ء سے جماعت عسکری جدوجہد سے لاتعلق ہے۔ ایسے حالات میں، جب کہ جماعت اسلامی کشمیر، عسکریت میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک بھی نہیں ہے اور تعلیمی ، تبلیغی او ررفاہی کاموں میں مشغول ہے، اس پر پابندی لگاناسمجھ سے باہر ہے۔ ایسی کارروائی ا ور پکڑ دھکڑ سے کشمیر میں حالات مزید خراب ہونے کااحتمال ہے۔ بھارت نواز نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھی اس پابندی کو غلط اقدام قراردے رہی ہے۔ 
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا ہے: ’’حکومت ِدہلی کو آ خر جماعت اسلامی کشمیر سے اتنی پریشانی کیوں ہے؟ ہندو انتہا پسند  گروپوں کو جھوٹ پھیلانے اور ماحول خراب کرنے کی پوری آزادی ہے، جب کہ ایک ایسی تنظیم پر پابندی لگائی جارہی ہے، جس نے کشمیریوں کی تعلیمی، سماجی اور فلاحی محاذوں پر لوگوں کی اَن تھک مدد کی ہے‘‘۔ کوئی سیاسی نظریہ جب میدان عمل میں پوری طرح ناکام ہوجاتا ہے، تو اس کے حاملین زور زبردستی پر اُتر آتے ہیں۔ بی جے پی جب فکری سطح پر اشترا کی دانش وروں کا مقابلہ نہیں کرسکی تو اس نے ’شہری نکسل واد‘ کی اصطلاح گھڑکر اپنے خلاف اْٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی خاطر حقوق انسانی کا کام کرنے والوں کو’ باغی اور دہشت گردوں کے حامی ‘قرار دے دیا۔ ملک بھر میں ’شہری نکسل واد‘ کے نام پر جو کارروائی کی گئی،اب اسی کا اعادہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا کر   کیا گیا ہے۔ 
نئی دہلی میں وزارتِ داخلہ کے ایک سینیر اہل کار سے جب میں نے جماعت پر پابندی کے پیچھے حقائق جاننے کی کوشش کی، تو انھوں نے فرمایا:’’جماعت اسلامی کشمیر سوسائٹی کو انتہا پسندی کی طرف لے جاکر ان کو ’سلفیت‘ کی طرف مائل کرکے مقامی خانقاہوں اور حنفیت سے متنفر کرواتی ہے‘‘۔ جب میں نے کہا: ’’اگر واقعی یہ بنیاد ہے تو خود اہل حدیث اور سلفی گروپوں پر پابندی کیوں نہیں  لگائی گئی ؟ اگر سلفی واقعی اتنے ہی خطرناک ہیں ،تو جہاں تک مجھے یاد ہے کشمیر میں ۱۹۹۰ء میں صرف دو اہل حدیث مساجد تھیں ، جو اب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ۴۰۰ سے تجاوز کر گئی ہیں۔  کون اس کی پشت پر ہے؟ اکتوبر۲۰۰۳ء میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کشمیر تشریف لائے تھے اور شہر کے وسط میں پولوگراؤنڈ میں، اننت ناگ کے اسٹیڈیم  میں ان کی تقاریر ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ خود گورنر ہائوس میں بھی ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی تھی‘‘۔میں نے ان سے کہا کہ: ’’شیخ نورالدین ولیؒ [۱۳۷۷ء-۱۴۴۰ء] المعروف ’نندہ رشی‘ { FR 648 }کے کشمیری زبان میں کلام کا اردو ترجمہ کرنے کا سہرا جماعت اسلامی کے رہنما قاری سیف الدین کے سر ہے۔ اسی طرح میرسید علی ہمدانی ؒ [۱۳۱۴ء-۱۳۸۴ء]کا کشمیری مسلمانوں کو دیے گئے وظیفہ ’اوراد الفتیحہ‘ کا ترجمہ اور تفسیر بھی جماعت اسلامی کی مرہونِ منت ہے‘‘۔یہ سن کر مذکورہ افسر بغلیں جھانکنے لگا اور کہا کہ: ’’کوئی پرانی فائل جماعت کے متعلق بنی ہوگی ، جو ایسے مواقع پر نکالی جاتی ہوگی‘‘۔ ایک عشرہ قبل حکومت کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ: ’’کشمیر میں حریت اور تحریک آزادی کے خلاف فکری رہنمائی کے لیے سلفی حضرات کو استعمال کیا جائے‘‘۔ اب کچھ عرصے سے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ: ’’صوفی ازم کا دامن تھا م کر اس تحریک کو دبایا جائے‘‘۔ تین سال قبل دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی صدارت میں منعقدہ ایک صوفی کانفرنس میں ایک صاحب کو تو یہ بھی کہتے سنا ، کہ: ’’اب ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے کارکنان اور مشائخ، مشترکہ طور پر وہابیوں اور دیوبندیوں کے خلاف شانہ بہ شانہ لڑیں گے‘‘۔
۱۴فروری کو پلوامہ واقعے میں مبینہ خود کش حملہ آور عادل احمد ڈار کا تعلق ایک بریلوی یا صوفی طرزِفکر رکھنے والے گھرانے سے تھا۔ پلوامہ کے گونڈی باغ گاؤں میں اس کے والد غلام حسن ڈار صاحب کے بقول: ’’عادل ڈار، مقامی درگاہ میں نعت خوانی اور امام صاحب کی عدم موجودگی میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتا تھا۔ قرآن کے چند پار ے حفظ کرنے اور نعت خوانی کی مشق کے لیے اس نے چند ماہ ایک بریلوی دارالعلوم میں گزارے تھے اور حنفی اعتقاد سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے سے چُوکتا نہیں تھا‘‘۔ 
یہ امرواقعہ، حکومتی پالیسی سازی کرنے والوں کے لیے ایک تازیانہ ہے ، جو کشمیری تحریک کو مذہبی انتہاپسندی اور فرقہ پرستی سے جوڑ تے ہیں۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں، کہ مغربی طاقتوں نے اپنے مفاد کے لیے پہلے طالبان، القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کی پرورش کی۔ عراق میں تو داعش کو ہتھیار اور پھر ان کے خلاف لڑنے والی تنظیموں کو فوجی تربیت بھی دی۔پھر یہ نعرے بلند کیے، کہ: ’’مسلمانوں میں شدت پسندی آرہی ہے‘‘ جسے لگام دینے کی ضرورت ہےاور اس کے لیے تصوف کی تشہیر کی جانے لگی۔ یہ لوگ جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں، کہ شدت پسند اور اعتدال پسند ہرفرقہ اور مسلک میں موجود ہوتے ہیں۔ 
بھارت میں توہمیشہ سے ہی حکومتیں مسلمانوں کو مولانا ابولکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کی تقلید کی تاکید کرتی آئی ہیں، کیوںکہ ان دونوں رہنمائوں نے آل انڈیا مسلم لیگ اور نظریۂ پاکستان کے خلاف انڈین نیشنل کانگریس کو ایک متبادل نظریاتی اساس فراہم کی تھی، مگر کیا بھارت میں ان کے ارادت مندوں کو سکون مل سکا؟
یہ سچ ہے کہ دہشت گردی کی اسلام میں کوئی گنجایش نہیں ہے، نہ کوئی فرقہ یامسلک ہی اس کی اجازت دیتا ہے۔ مظلوم علاقوں کے عوام اگر جبری قبضوں اور ظلم کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، تو اس کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی طاقتوں نے تصوف کی حوصلہ افزائی صرف اس وجہ سے کی، کہ اپنی سلگائی ہوئی آگ کے شعلے اس کے قابو میں نہیں آرہے تھے۔ ان کے یہاں ’تصوف کے نظریے‘ کا یہ پیغام ہونا چاہیے کہ مسلمان ہر حالت میں مہر بہ لب رہنے کی عادت بناڈالے۔ حالات سازگار ہوں تو شکر کے ساتھ خاموش رہے، اور اگر ظلم و ستم اور عزت و آبرو کا خون ہوتا ہوا دیکھے، تب بھی خاموشی اور بے حسی کو شعار بناڈالے۔ بس ایسی صوفیانہ پروڈکشن کی مغرب کو ضرورت ہے، نہ کہ سید سالار مسعود غازی کی طرح ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔تصوف کا مقصد انسانیت سے پیار ، محبت ، شفقت سے پیش آنا اور کردار سازی کرنا ہے، تاکہ نہ صرف گفتار، بلکہ اپنے کردار سے بھی ایک مسلمان دیگر مذاہب کے ساتھ مکالمہ کرے، جو صوفی بزرگوں کا خاصا رہا ہے، چاہے، کشمیر میں میر سیّد علی ہمدانی، نورالدین ولی ہوں یا بھارت میں خواجہ معین الدین چشتی یا نظام الدین اولیا ہوں!

یہاں ہم ایک مؤثر، اہلِ علم اور صائب الراے حضرات کے اجتماع میں بیٹھے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ان میں سارے ہی لوگ جموں وکشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کے حامی ہوں۔ اسی طرح یہاں پر جو بینر لگا ہوا ہے کہ: 'Azadi: The Only Way' ، ضروری نہیں کہ آپ حاضرین میں سب لوگ اس سے اتفاق کرتے ہوں۔ تاہم ایک چیز ہم سب میں ضرور مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم سب انسان ہیں۔ اگر ہم اپنی اس پہلی حیثیت، اپنے مقام اور مرتبے کو تسلیم کر لیں کہ ہم سب انسان ہیں تو: ہمیں انسان کا احترام کرنا چاہیے، ہمیں انسان کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے، قطع نظر اس کے کہ وہ ہماری بات سے اتفاق رکھتا ہے یا نہیں رکھتا۔خیالات اور جذبات میں اختلاف ہو سکتا ہے ،   رنگ اور نسل ، زبان اور وطن کا اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اس فطری اختلاف کو برداشت کرنے کی قوت اپنے اندر پیدا کرنا ہی انسان کی بڑی خوبی ہے۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ ( اسرا۱۷:۷۰) یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی۔
میں نے آپ کے سامنے قرآن پاک کی جو آیت تلاوت کی ہے، اس میں آپ دیکھیں گے کہ ہمیں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ انسان کا احترام کیا جائے۔ انسان کو پید ا کرنے والے  خالق و مالک نے اعلان کیا ہے کہ میں نے انسان کو عزت اور احترام بخشا ہے اور قدر ومنزلت عطا کی ہے۔ اور اگر ہم انسان کی عزت نہ کریں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اسے پیدا کرنے والے کا بھی احترام نہیں کرتے۔ حالاں کہ شرفِ انسانی اور احترامِ آدمیت کے لیے یہ بنیادی ضرورت ہے۔
 جموں و کشمیر کے حوالے سے اس اجتماع میں عنوان رکھا گیا ہے: Azadi: the Only Way  ،یعنی ’’ایک ہی راستہ ہے: آزادی‘‘۔ یہاں ہونے والی تقاریر میں میرے لیے دو نکتے اُبھرکر سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ: What do you mean by Azadi?، ’آزادی سے آپ کا کیا مطلب ہے ؟‘ دوسرا Justice یا انصاف۔کیا آپ ایک آزاد ملک ہونے کے بعد انسانی معاشرے کی ایک بڑی بنیادی ضرورت انصاف کو ، maintain [برقرار]رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا آپ لوگوں کو انصاف دے سکتے ہیںـ ـ؟
آج دہلی میں بیٹھ کر یا دلی والوں کی مجلس میں جب ہم یہ بات کریں کہ آزادی کیا ہے؟ تو ان کے لیے اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ ’آزادی کیا ہے؟‘ اس لیے کہ آپ کے آباواجداد بھی ایک سو سال سے زیادہ عرصے تک انگریزوں کے براہِ راست غلام تھے۔ انگریزوں کے اقتدار و بالا دستی کے خلاف انھوں نے تاریخی جدوجہد شروع کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ہمیں آزادی چاہیے‘‘۔ وہ یہاں پر مسلط برطانوی سامراجی حکومت سے آزادی چاہتے تھے۔ 
بالکل اسی طرح گذشتہ [۷۲ ] برسوں سے جموں وکشمیر کے لوگوں کی غالب اکثریت، کشمیر میں بھارت کے فوجی طاقت کے بل پر قبضے سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سیدھی سی بات ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو سمجھ میں نہ آ سکتی ہو۔ 
یہ آزادی کسی خاص کمیونٹی کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ آزادی جموں وکشمیر کے ہر فرد کے لیے ہے۔ چاہے وہ کٹھوعہ میں رہتا ہو ، یا آدم پور میں ، چاہے لیہہ میں رہتا ہو یا کرگل میں، چاہے  وادیِ کشمیر میں رہتا ہو یا کشتوار میں، جہاں کہیں بھی رہ رہا ہے، چاہے وہ مسلمان ہے یا ہندو اور سکھ ہے یا عیسائی ، یا بودھ ___ یہ سب بھارت کے غیرمنصفانہ اور جابرانہ فوجی تسلط سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ 
اس کے لیے میں آپ کو چند مثالیں دوں گا۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء میں جموں میں ڈوگرہ فوجی تسلط کے دوران ڈھائی لاکھ مسلمانوں کا قتل عام تسلیم شدہ تعداد ہے، حالاں کہ وہاں پر موجود افراد کہتے ہیں کہ پانچ لاکھ مسلمانوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔ ان کی لڑکیوں کو  اغوا کیاگیا، مردوں کو ذبح کیا گیا اور ان کے بچوں کو پائوں تلے روند ڈالا گیا تھا۔ یہ سارے ظلم وستم ہم نے سہے ہیں۔ یہ ۶ نومبر ۱۹۴۷ء کی بات ہے، جب جموں میں اس سانحے کا آغاز ہوا تھا۔ ہم اسی وقت سے اس فوجی تسلط میں پس رہے ہیں، ہم پٹ رہے ہیں، ہماری عزتیں لوٹی جا رہی ہیں، ہماری عصمتیں پامال کی جا رہی ہیں، ہمارے نوجوانوں کو گولیوں کا نشا نہ بنایا جا رہا ہے اور ہمارے مکانات بغیر کسی جواز کے جلائے جار ہے ہیں، اور گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے۔ یہ ساری صورت حال ہم کو مجبور کر رہی ہے کہ ہم بھارت کے فوجی تسلط سے جلد از جلد آزادی حاصل کریں۔ 
گذشتہ [۷۲ ] برسوں کے دوران ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں ، وہ آپ سب کو بھی جاننا چاہیے۔ ہم اس مجلس کے ذریعے بھارت کے ایک ارب ۲۰ کروڑ عوام سے مخاطب ہیں۔ ہم ان تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ آپ کا اور ہمارا ایک انسانی رشتہ ہے۔ اس وقت جب کہ آپ کے بھائیوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے تو بحیثیت انسان آپ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ اگر آپ آواز نہیں اٹھاتے ہیں تو آپ اس انسانی رشتے کو کمزور بنا رہے ہیں۔ 
آج جموں وکشمیر کے ایک چھوٹے سے خطے میں آٹھ لاکھ مسلح بھارتی فوج کا مسلط ہونا بجاے خود ایک بہت بڑا جرم اور زیادتی ہے ۔ ان آٹھ لاکھ فوجیوں نے ہمارے خطے کی لاکھوں کنال زمین پر جبری قبضہ جما رکھا ہے۔ آپ اندازہ کیجیے کہ جب ایک چھوٹی سی قوم کی اتنی زمینوں پر زبردستی قبضہ  کیا جا رہا ہو تو اس قوم کے مرد و زن کیسے اپنے مستقبل کو شان دار قرار دے سکتے ہیں؟ وہ کیسے اپنی زندگیوں میں امن اور چین حاصل کر سکتے ہیں؟ 
جب ایک مقامی آدمی کو مغربی بنگال یا مہاراشٹر ،بنگال، پنجاب، آسام یا اترپردیش سے آئے ہوئے سپاہی، جموں وکشمیر کے پشت ہا پشت سے آباد باشندے کو، چاہے وہ ہندو ہے یا سکھ،  مسلمان ہے یا عیسائی یا بودھ___ اس سے وادی کے ہرگلی کوچے میں بلکہ اس کے اپنے ہی گھر میں گھس کر تحکمانہ لہجے میں پوچھ رہا ہے کہ ’مجھے شناختی کارڈ دکھائو‘ ___ یہ ایسی زیادتی ہے جس کو جموں و کشمیر کاکوئی شہری برداشت نہیں کر سکتا۔ 
۲۷ ؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو جب بھارتی فوجیں جموں و کشمیر میں آ گئیں، تو اس وقت بھی بھارتی وزیراعظم آنجہانی پنڈت نہرو نے کہا تھاکہ: ’’ہماری فوجیں یہاں ہمیشہ نہیں رہیں گی۔ ہم انھیں واپس بلا لیں گے اور آپ کو اپنا حق راے دہی دیا جائے گا‘‘۔ ان کا یہ وعدہ تاریخ میں لکھا جاچکا ہے۔ پھر جنوری ۱۹۴۸ء میں خود ہندستان یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور وہاں عالمی برادری کے ساتھ بھارت نے ۲۵دسمبر۱۹۴۸ء کو یہ قرار داد پاس کی کہ:
ریاست جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا مسئلہ آزاد اور غیر جانب دارانہ راے شماری کے جمہوری طریقے سے طے پائے گا۔
اس قرار داد کو ہندستان نے تسلیم کیا ، اس پر دستخط کیے ہیں، اور عالمی برادری اس کی گواہ ہے۔ اس طرح کی منظور ہونے والی ۱۸ قرار دادوں پر بھارت نے دستخط کیے ہیں۔ اس طرح بھارتی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نے بین الاقوامی سطح پر ہم سے جو وعدے کیے ہیں انھیں وہ پورا کرے۔ 
ہم نے جمہوری طریقہ بھی اختیار کیا ۔ ووٹ کے ذریعے اسمبلی میں جا کر ہم نے آواز اٹھانا چاہی، لیکن ہندستان نے طاقت کے نشے میں ایسی کسی بھی آواز پر کان نہیں دھرا، جو پُر امن طریقے سے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اٹھی تھی۔ جب تمام پُرامن راستے مسدود کردیے گئے تو عسکریت نے خود اپنا راستہ بنایا۔ جس کو ’ٹیررازم‘ کا نام دے کر، بھارت اعلیٰ تربیت یافتہ فوجیوں اور جدید ترین اسلحے سے لیس ریاستی ٹیررازم، کو استعمال کر کے اس جدوجہد کو دبا دینے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے۔
آنجہانی گاندھی جی نے اپنی کتاب : تلاش حق میں کہا ہے کہ: ’’جس سسٹم میں انسانی،  اخلاقی اور مذہبی قدروں کا احترام نہ ہو تو وہ سسٹم شیطانی کاروبار ہے‘‘۔ آج شیطان کا یہی کا روبار جموں و کشمیر میں چل رہا ہے ۔ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، جہاں بھی ان اعلیٰ اخلاقی اور انسانی قدروں کا احترام نہیں کیا جاتا، وہاں کے لوگ شیطانی سیاست کا شکار ہوتے ہیں۔ 
میں عرض کر رہا ہوں کہ ہندستان سے آزادی حاصل کرنا ہمارا پیدایشی اور بنیادی حق ہے۔ آپ ۸ لاکھ کے بجاے سار ے ہندستان کی فوج کشمیر میں جمع کر دیں، لیکن آپ کبھی جذبۂ آزادی کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ! 
جموں وکشمیر کی غالب اکثریت کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں، آواز اٹھائیں ۔ بھارت کے ایک ارب ۲۰ کروڑ لوگ جو اپنے آپ کو انسان کہتے ہیں، انسانی سماج کا حصہ سمجھتے ہیں، ان پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، قلم اٹھائیں اور اس ظلم کے خلاف ان کا جو فرض بنتا ہے اس کو انجام دینے کا حق ادا کریں۔
ہمیں گذشتہ [آٹھ] عشروں سے جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء کے جس الحاق کو بھارت بنیاد بناکر قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے، وہ بھی عارضی اور مشروط الحاق تھا۔ باوجود اس کے کہ خود اس الحاق کے بارے میں بھی سوالیہ نشان موجود ہے کہ وہ ہو ابھی تھا یا نہیں ہوا تھا۔ آنجہانی ہری سنگھ نے اس پر دستخط کیے بھی تھے یا نہیں، جیسا کہ الیسٹر لیمب نے کتاب  Birth of a Tragedy: Kashmir 1947  [راکسفرڈ بکس،۱۹۹۴ء]  میں ثابت کیا ہے۔ بہرحال، ان چیزوں سے قطع نظر وہ معاہدہ بھی عارضی اور مشروط تھا کہ لوگوں سے پوچھا جائے گا اور مستقبل کے بارے میں ان کی راے لی جائے گی۔ 
۱۹۵۳ء میں، جب کہ شیخ محمد عبداللہ کو معزول کیا گیا تو بقول پنڈت پریم ناتھ بزاز [م:۶جولائی ۱۹۸۴ء] ۱۰ہزار لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا ۔ ۴۷ء سے ۱۹۵۳ء تک شیخ محمدعبداللہ کے دورِ اقتدار میں جس طرح سے لوگوں کو دبا یا جا رہا تھا، میں خود اس کا عینی شاہد ہوں۔ گذشتہ برس ہا برس سے جاری ہماری جدوجہد کے اس مرحلے میں بھارتی حکمرانوں اور مسلح افواج کی جانب سے جو بدترین مظالم ڈھائے گئے ہیں، ان کی ایک ہلکی سی جھلک بھی انسان کو ہلاکر رکھ دیتی ہے، بشرطیکہ وہ انسان ہو۔
پورے بھارت میں بتایا جاتا ہے کہ کشمیری بچے اور نوجوان، قابض فوجیوں پر کنکر پھینکتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ آج تک اس سنگ باری سے کوئی بھارتی فوجی یا پولیس والا قتل نہیں ہوا۔ دوسری جانب ہمارے ہزاروں لوگ گولیوں سے بھون دیے گئے ہیں۔ ان مقتولین میں معصوم بچے اور گھریلو خواتین اسکول کی طالبات اور نوعمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ 
یہ ہماری جدوجہد کا آخری مرحلہ ہے اور عوامی سطح پر یہ پُر امن ہے۔ اس جدوجہد میں ہم بندوق کا سہارا نہیں لے رہے ہیں۔ ہماری تحریک خالصتاً مقامی اور Indigenous تحریک ہے، اور اسی کے ذریعے پوری عالمی برادری میں یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام اپنا پیدایشی حق حاصل کرنے کے لیے جان ومال کی قربانی دے رہے ہیں۔ تاہم، بدترین ریاستی تشدد، ظلم اور قتل و غارت کے جواب میں اگر کچھ نوجوان کسی درجے میں جوابی کارروائی کرتے ہیں، تو وہ تشدد کا اسی طرح ایک فطری ردعمل ہے، جس طرح تحریک آزادیِ ہند کے دوران ہوا تھا۔ تب کانگریس کی قیادت بہ شمول گاندھی جی نے یہی کہا تھا کہ: ’’مجموعی طور پر سیاسی جدوجہد میں ایسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں، جب کہ ریاست ظلم کا ہرہتھکنڈا برت رہی ہے‘‘۔آج ہم بھی بھارتی نیتائوں سے یہی کہتے ہیں۔
ہم جموں و کشمیر کے ہر باشندے کے لیے حصولِ آزادی کا یہ حق حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں کسی قسم کے دھونس اور دبائو کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ آزادانہ استصواب راے کے ذریعے اکثریت جو بھی فیصلہ کرے گی، وہ ہمیں قبول ہو گا۔ ہم یہ بات بار بار کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اکثریت اپنے مستقبل کا جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ہمیں قبول ہوگا۔ آزادی کا ہمارا مطلب وہی ہے، جو ہندستان کا انگریزوں سے آزادی کے مطالبے کا مطلب تھا۔   ہم بھارتی قبضے سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ End to Forcible Occupation یہ ہمارا نعرہ ہے۔ اسی طرح ہمارا نعرہ ہے کہ’ گوانڈیا گو‘۔ انڈیا کا اس سر زمین پر کوئی آئینی، اخلاقی اور قانونی حق نہیں ہے۔ بندوق کی نوک پر آخر وہ کتنے عرصے تک ہمارے سینے پر مونگ دلتا رہے گا۔
۲۳ مارچ ۱۹۵۲ء سے جموں و کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات کا عمل چل رہا ہے اور ۱۵۰بار مذاکرات کے دور مکمل ہو چکے ہیں، لیکن ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کون نادان ہو گا جو ۱۵۰ بار مذاکرات کی ناکامی کے بعد پھرایسے بے معنی اور وقت گزاری کے عمل کا حصہ بنے؟ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ ہندستان ایک سانس میں کہہ رہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور دوسرے ہی سانس میں کہہ رہا ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اسی غیرمنطقی ہٹ دھرمی کے سبب اب تک کے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔ آیندہ بھی کسی مذاکراتی عمل میں اس وقت تک شرکت بے معنی ہے، جب تک کہ بھارت، جموں وکشمیر کی اس متنازع حیثیت کو تسلیم نہ کر لے کہ جوامرواقعہ بھی ہے اور جسے خود بھارتی قیادت نے پوری دنیا کے سامنے تسلیم بھی کیا تھا۔
ہم نے ۳۱ ؍اگست ۲۰۱۰ء کو ایک پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا تھا، جو مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں، لیکن  مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھنے کا ایک راستہ ہے۔ اس میں پہلا نکتہ یہی ہے کہ کشمیر کی جو بین الاقوامی متنازع حیثیت ہے، اس کو آپ تسلیم کریں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں، افواج کا انخلا شروع کریں ۔ اس کے بعد کالے قوانین کے نفاذ کو ختم کریں۔ تمام گرفتار لوگوں کو رہا کریں اور ہمارے پُرامن لوگوں کے جو قاتل ہیں، ان کے خلاف آپ مقدمات چلائیں اور سزا دیں۔ 
یہ پانچ نکاتی فار مولا دراصل مذاکرات کے لیے ماحول بنانے کے لیے ہے، جس پر بات چیت ہو سکتی ہے ۔ ہم بات چیت کے منکر نہیں ہیں، مگر یہ بات چیت صرف بنیادی اور مرکزی ایشو پر   ہونی چاہیے۔ یہ بات چیت دو فریقوں میں نہیں بلکہ تین فریقوں کے درمیان ہونی چاہیے۔ اس میں ہندستان ،پاکستان اور جموں وکشمیر کے آزادی پسند شریک ہوں۔ پھر اُس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھا جائے۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک جو بے مثال جدوجہد کی گئی ہے اور جو قربانیاں دی گئی ہیں ان کو پیش نظر رکھا جائے اور جموں و کشمیر کی جغرافیائی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے، ان مذاکرات کے بعد استصواب راے میں جو بھی نتیجہ سامنے آئے گا، اسے ہم سب قبول کریں۔ 
بھارت میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ: ’’اگر جموں وکشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہو جائے گا اور چوںکہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تو وہاں اقلیتوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہوگا‘‘۔ یہ پروپیگنڈا  بے جواز بھی ہے اور بے معنی بھی۔ چوںکہ جموں وکشمیر ،مسلم اکثریتی خطہ ہے، وہاں بسنے والی تمام اقلیتوں کے بارے میں ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ان کے جان ومال ، عزت وعصمت، ان کے مذہب و عقیدے اور ان کی عبادت گاہوں، سب کا تحفظ ہو گا۔ اس حوالے سے کسی کو کسی بھی قسم کی فکر مندی یا پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندستان جودنیا بھر کے سامنے جمہوریت کا دعویٰ کر رہا ہے، کیا وہ خود اس اصول کو اپنا رہا ہے؟ کیا اس پر عمل کر رہا ہےـ؟ اگرایسا ہوتا تو جموں وکشمیر گذشتہ [۷۲]برسوں سے بھارتی جبر کا شکار نہ ہوتا۔ لیکن بہر حال ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسا نظام ہے، جس میں انصاف اپنا وجود اور عمل دکھائے گا، ان شا اللہ !
اس عرصے میں ۶ لاکھ قربانیاں لے کر، ہماری عزتیں اور عصمتیں لوٹ کر ، جنگلات کا صفایا کر کے، ہمارے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے بعد بھی آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے کہا ہے کہ ہم نے جو پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا ہے، جب تک اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا ہم کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دہلی کی اس باشعور مجلس کے ذریعے میں اعلان کرتا ہوںکہ آپ کے جو صلاح کار ہمارے مظلوم بھائیوں سے ملنا چاہ رہے ہیں ، اُن کے سامنے ہمارے لوگ یہ مطالبہ دہرائیں گے کہ جب تک آپ اصل حقائق کو تسلیم نہیں کریں گے، آپ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ طلبہ،تاجروں ، دیگر آزادی پسند لوگوں کا مطالبہ ہے کہ  اس زمینی صورتِ حال کو تسلیم کیے بغیر کوئی بات چیت نہیں کریں گے، کہ یہ محض وقت گزارنے کا بہانا ہے، اور مسئلہ حل کرنے کے لیے آپ کی نیت صاف نہیں ہے۔ 
کیا آپ نہیں جانتے کہ ہمارا مطالبہ کیا ہے؟ ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم خون دے کر اور جانیں دے کر باربار بتا رہے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ آزادی اور صرف آزادی چاہتے ہیں۔ عزتیں اور عصمتیں لٹا کر، بچیوں کو اُجڑتے دیکھتے اور جوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سٹرتے ہوئے بھی ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم بھارت کے جبری قبضے کے خلاف ہیں اور ہم اس سے آزادی چاہتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ کہتے ہیں کہ:’’ ہم آپ کے پاس جائیں گے اور پوچھیں گے کہ ’’بتائو کہ تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ بہر حال یہ فریب کاری ہے۔ آپ بات کی تہہ تک پہنچ کر دیکھیں اور اس خودفریبی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
میں آپ کو برملا یہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں کہ نہ ہمارے عوام تھکے ہیں، اور نہ ہماری قیادت مایوس ہوئی ہے۔ ہم جدوجہد آزادی میں بھرپور طریقے سے ہم قدم ہیں ۔ اس وقت تک برسرِکار ہیں، جب تک کہ ہم بھارت کے فوجی قبضے سے آزادی حاصل نہ کرلیں۔ بھارتی قبضے سے ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کے ساتھ ہی بھارت اور پاکستان جیسے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک ایک رستے ہوئے ناسور سے آزاد ہوجائیں گے۔ کیوں کہ مسئلہ کشمیر ایک ایسا لاوا ہے، جس کو حکمرانوں کی اناپرستی، ہٹ دھرمی اور عدم توجہی کی وجہ سے اگر اسی طرح دبانے کی کوشش کی گئی تو اس میں اتنا خطرہ موجود ہے کہ یہ پورے برصغیر ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ انسانی کے خرمن کو جلاکر راکھ کرسکتا ہے۔اس لیے انسانیت کی بقا کے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے امن کی ضمانت کے لیے، اس دیرینہ تنازع کو حل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اور یہ جتنا جلد ہوگا، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
آخر میں، مَیں انتظامیہ اور آپ سب حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 


یوم یک جہتی کشمیر 

۵ فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ اسی نسبت سے میں آپ حضرات کی خدمت میں معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ ۵ فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منانے کے لیے پاکستانی حکومت، فوج اور عوام کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 
جموں وکشمیر کے مظلوم عوام پچھلے ۷۰ سا ل سے اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے برسرِ جدوجہد ہیں۔ اس جدوجہد میں پاکستان روزِ اول سے سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی سطح پر مدد کرتا آ رہا ہے۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان اور جموں وکشمیر کے محسن اور غم خوار مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کو زبر دست خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جنھوں نے ۱۹۹۰ء میں یوم یک جہتی کشمیر کا آغاز کرکے پاکستان کو تحریک آزادی کے حوالے سے زیادہ فعال اور سرگرم رول ادا کرنے کی ترغیب دی۔ 
کشمیر ی قوم اپنی آزادی کے لیے دنیا کی ایک بڑی ملٹری طاقت سے نبرد آزما ہے۔ اس جدوجہد میں پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ہمارے حقِ خود ارادیت کو خود بھی تسلیم کرتا ہے اور عالمی برادری کے سامنے اس کی وکالت بھی کرتا ہے۔ ہم اس مدد او ر سپورٹ کے لیے پاکستان کے ممنون ہیں، البتہ اس ملک کی طر ف سے کشمیر کے حوالے سے زیادہ Avtive اور اہم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں او ر سفارتی چینلوں کو زیادہ متحرک کر ے اور انھیں کشمیر یوں کی جدوجہد اور جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کا ٹاسک سونپ دے۔ 
میں پاکستان کے حکمرانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی کشمیر پالیسی میں تسلسل اور استحکام پیدا کریں اور اس میں کسی بھی مرحلے پر معذرت خواہانہ رویے کو اختیار نہ کیا جائے۔ کشمیریوں کی جدوجہد مبنی بر حق ہے جس کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کر لیا گیا ہے۔ پاکستان مسئلۂ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور اس قبضے کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا اس ملک کو جرأت اور حوصلے کے ساتھ اپنے موقف کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس میں کسی قسم کی کمزوریوں اور لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ 
میں ایک بار پھر موحوم قاضی حسین احمد کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آج یوم یک جہتی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کئی سیاسی اور مذہبی تنظیموں جلسوں اور جلسوں کا اہتمام کرتی ہیں ، البتہ اس دن کے آغاز کا سار کریڈٹ مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کی ذات کو جاتا ہے جنھوں نے پہلی بار کشمیریوں کے تیئس عملی اور ردیدنی وابستگی ظاہر کرنے کا پیغام دیا۔ مرحوم قاضی صاحب خود بھی کشمیریوں کی جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار ہونے کے متمنی تھے۔ مرحوم اپنی ہر تقریر میں کشمیر کا تذکرہ کرتے تھے اور انھوں نے کشمیری مہاجرین کے تئیں جس ہمدردی اور شفقت کا مظاہرہ کیا وہ آب وزر سے لکھنے کے قابل ہے۔ کشمیر ی قوم مسئلہ کشمیر سے ان کی والہانہ وابستگی اور  گراں قدر خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔ پاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ ۵ فروری کو روایتی طور پر منانے سے آگے بڑھ کر اس دن کو زیادہ سے زیادہ جلسے اور جلسوں کا انعقاد کر کے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کریں۔ اور جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو جتنا ممکن ہوسکے اُجاگر کیا جائے۔ 
میں پاکستان کی حکومت ، پاکستان کی سیاسی قیادت اور پاکستان کے عوام کی دل کی عمیق گہرائیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ جموں وکشمیر کے مظلوم ، محکوم اور غلام قوم کی حمایت دل و جان سے کرتے ہیں اور ایک بہت بڑا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ہماری دل کی عمیق گہرائیوں کے ساتھ دعائیں ہیں کہ پاکستان سلامت رہے، محفوظ رہے اور ہر حیثیت سے انسانی قدروں کا احترام کرے اور پاکستان میں جتنے بھی لوگ بس رہے ہیں چاہے مسلمان ہوں، ہندو ہوں ، سکھ ہوں، عیسائی ہوں، احمدی ہوں، جو بھی لوگ پاکستان میں سکونت پذیر ہیں ان کو جان مال، عزت وآبرو، مذہب وعقیدہ اور عبادت گاہوں کی پر حیثیت سے حفاظت ہونی چاہیے۔ یہ ہم دل کی عمیق گہرائیوں سے چاہتے ہیں تا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ایسا ملک سمجھا جائے کہ وہ انسانی قدروں اور اخلاق قدروں کا سب سے زیادہ پاسداری کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ 
اللہ سے عاجزانہ التماس ہے کہ پاکستان جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کی حفاظت اور ان پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کو عالمی سطح پر عوام تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے، اور پاکستان کے عوام اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہم بھی دیکھیں گے کہ ہم بھارت کے جبری فوجی قبضے سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان شا اللہ ، ان شا اللہ ،ان شا اللہ ! اللہ ہماری مدد اور حفاظت کرے۔   

جموں و کشمیر کی تاریخ خون سے نہائی ہوئی ہے۔دُور دُور تک ،خون کی اس بارش کے رُکنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے لیتہ پورہ۔ اونتی پورہ علاقے میں ۱۴فروری۲۰۱۹ء کو عسکریت پسندوں کے خودکش حملے سے ۴۰سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کی خبر نے جنوبی ایشیا میں کہرام کی صورت پیدا کر دی ہے۔ 
اس واقعے کے ایک دن بعد دارلحکومت دہلی کے ویمن پریس کلب میں مَیں اپنے صحافی دوست کی الوداعی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد باہر نکلا، تو دیکھا کہ اسکولوں کے نو خیز بچے ہاتھوں میں پرچم لیے پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے انڈیا گیٹ کی طرف رواں تھے۔میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے، جس میں الیکٹرانک میڈیا پیش پیش ہے، کشمیر کی تاریخ، جغرافیہ ،سیاسی تاریخ اور سیاست کے حوالے سے متواتر زہر افشانی کرکے کچے ذہنوں کو آلودہ کرکے کشمیر دشمنی پر کس قدر آمادہ کر دیا گیا ہے، اس کا اندازہ ایسے جلوسوں سے لگایا جاسکتا ہے۔
انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
آفس پہنچ کر معلوم ہوا کہ پٹنہ، چھتیس گڑھ، دہرا دون اور بھارت کے دیگر علاقوں سے کشمیری تاجروں اور طالب علموں پر حملوں اور ان کو بے عزت کرنے کی خبریں متواتر موصول ہورہی ہیں۔ رات گئے گھر واپس پہنچ کر دیکھا کہ ہماری کالونی کے دیگر حصوں میں رہنے والے چندکشمیری خاندان ہمارے یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ شام ہوتے ہی علاقے میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے مکینوں کو باہر نکالا اور ہاتھوں میں موم بتیاں لیے مارچ کرتے ہوئے کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے خوب ہڑ بونگ مچائی تھی۔اتوار کی رات جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا تھا، کہ باہر سے کالونی میں ہمارے بلاک کا گارڈ دوڑتا ہو ا آیا اور ہمیں گھر کے اندر رہنے ، دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے کی ہدایت دے کر چلا گیا۔
 معلوم ہوا کہ بیرونی گیٹ کے پاس ایک ہجوم جمع ہے اور پر جوش نعرے لگا رہا ہے۔ ان کی آوازیں دل دہلا رہی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے مَیں سمجھا کہ غالباً میری زندگی کی آخری تحریر ہے۔ کیوں کہ ہجوم جنوبی دہلی میں واقع اس عمارت کے گرد جمع ہوچکا تھا، جہاں میں اپنے کم سن بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہجوم نے پہلی بار تو ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔ بلندآواز میں گالیوں کی بوچھاڑ اور دل دہلا دینے والے انتقامی نعروں کی یلغار جاری رکھی۔ ان کی قیادت کرنے والے ہمیں ’بھارت چھوڑ کر واپس کشمیر جائو‘ کا کہہ رہے تھے۔ مجھے یقین ہوچلا تھا کہ اب میرا آخری وقت ہے، لیکن سیکورٹی گارڈاور شریف النفس ہمسایوں نے پولیس کے پہنچنے تک ہجوم کو قدرے فاصلے پر روکے رکھا۔میں نے دہلی پولیس اور وزارت داخلہ میں جہاں جہاں ممکن ہوسکتا تھا، رابطہ کر نے کی کوشش کی۔ ان لمحوں میں میری بیوی، بچّے، خاندان کے دیگر لوگ اور وہ کشمیری جنھوں نے ہمارے گھر پناہ لے رکھی تھی، پوری توجہ سے صرف ایک کام کر رہے تھے: تلاوتِ قرآن! ان لمحوں میں مجھے ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات میں ہلاک ہوئے کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری یاد آرہے تھے، جو کم و بیش اسی طرح کے حالات کا شکار ہوگئے تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد دہلی پولیس کی ایک ٹیم آئی اور انھوں نے ہجوم کو پارک میں جلسہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن قریباً ایک گھنٹے کے بعد ہجوم پھر واپس آیا اور گیٹ کے پاس اشتعال انگیز نعرے بلند کرنے شروع کیے۔ آدھی رات کو میں نے اپنی فیملی کو ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ایک رشتے دار کے ہاں منتقل کیا اور خود تحریر مکمل کرنے کے بعد دفتر میں جاکر پناہ لی۔ 
دہلی میں اپنے صحافتی کیریئر کے دوران میں نے کئی اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔بد نامِ زمانہ تہاڑ جیل میں بھی آٹھ ماہ گزار چکا ہوں۔ جنگ کرگل ،پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد آپریشن پراکرم     یا ۲۰۰۸ء میںممبئی حملوں کی رپورٹنگ بھی کی ہے ، مگر یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اس قدر    جنگی جنون جو پچھلے پانچ سال میں عوام پر طاری کر دیا گیا ہے، اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا، اور نہ حالات اس قدر دگرگوں ہوئے تھے۔ ایک اعلیٰ افسر نے ایس ایم ایس کے ذریعے مجھے بتانے کی کوشش کی آر یا پار کا وقت آچکا ہے ۔
 کانگریس کے ایک سینیرجنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ: یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے اپنے وزیروں اور پارٹی لیڈروں کو پہلے ہی حکم نامہ جاری کر رکھا ہے کہ وہ پلوامہ میں ہلاک شدگان کے دیہات اور محلوں میں جاکر ان کی آخری رسومات میں شرکت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ڈیرا ڈالیں۔ مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد چونکہ معیشت کی بحالی اور دیگر وعدے ہوا میں بکھر چکے ہیں،رام مندر کی تعمیر کے نام پر کوئی تحریک برپا نہیں ہو پا رہی ہے۔ 
پھر دسمبر ۲۰۱۸ء کے حالیہ صوبائی انتخابات میں کسانوں ، دلتوں، دوسرے پس ماندہ طبقوں اور اقلیتوں نے مل کر ان کو شکست دی ہے۔ اس تجربے اور انجام کو سامنے رکھتے ہوئے آیندہ دوماہ میںعام انتخابات کے پیش نظر ہندو قوم پرست آخری ترپ کا پتا، یعنی نیشنلزم کی بحث بھڑکا کر اور ہندوئوںکو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے یہ ایک سنگین صورت حال ہوتی ہے کہ جب معاشرے کے کچھ طبقوں کو ’محب وطن‘ اور کچھ کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا جانے لگے۔ بھارتی برسرِاقتدار پارٹی کے قائدین، مرکزی وزرا اور اعلیٰ سیکورٹی افسران کی جانب سے بار بار کی بیان بازیوں سے اس پروپیگنڈا مہم کو دست و بازو فراہم ہو رہے ہیں۔ چنانچہ بھارت بھر میں اس وقت جو سیاسی صف آرائیاں ہورہی ہیں، اس میں کشمیر اور کشمیریوں کو ایک ایشو بنا کر سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے ہاتھ پائوں مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کشمیر میں حالات کی مسلسل خرابی کے ساتھ کئی حلقوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہو رہے ہیں۔حالیہ عرصے میں، حتیٰ کہ جنوبی صوبوں کرناٹک اور آندھرا میں بھی کشمیریوںکو ہراساں کرنے اور بے عزت کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ مہاراشٹر کے شہر پونا میں بھی کشمیری تاجروں، طلبہ اور محنت کشوں کو پولیس سے رابطہ قائم کرکے دہشت کی اس فضا سے حفاظت کے لیے امداد و اعانت طلب کرنا پڑی۔ ایک طرف حکومت اور مختلف سیکورٹی ایجنسیاں آپریشن سدبھاونا وغیرہ کے نام پر کھیل کود، ادب و ثقافت اور تفریح کی غرض سے کشمیری طلبہ و نوجوانوں کو بھارت کی دیگر ریاستوں میں لے جاکر وہاں کے تمدن اور سوچ سے ہم آہنگ کرنے کے پروگراموں پر روپے خرچ کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف ان کی بھرپور تذلیل کی جاتی ہے۔ 
جو واقعہ پلوامہ میں پیش آیا، میں ایک عرصے سے اپنی تحریروں میں ایسی صورت حال کے برپا ہونے کے بارے میں خبردار کرتا آیا ہوں۔ہر قیمتی انسانی جان کے تلف ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ جو لوگ روز اپنے عزیزوں اور جوانوں کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، اِس دکھ اور درد کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔۲۰۱۴ء میں ایک نجی تقریب کے دوران انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوبال نے کہا تھا کہ ’’یہ پہلا اور آخری موقع ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں کو بتایا جائے کہ ان کی منزل ناقابل حصول ہے‘‘۔ اجیت دوبال کو اندازہ نہیں ہے کہ ان کی اس پالیسی کے تحت نہ صرف حُریت کانفرنس بلکہ بھارت نواز کشمیری سیاسی قیادت کو بھی نئی دہلی نے بے وقعت اور بے وزن کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ شاید آخری قیادت ہے ، جو مکالمے اور افہام و تفہیم کے مفہوم سے واقف ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام کی اُمنگوں اور خواہشات کو سمجھنے کے بجاے ایک سیاسی اور انسانی مسئلے کو صرف فوجی ذرائع اور طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی نے کشمیر میں ایک نہایت خطرناک صورتِ حال کو جنم دیا ہے ۔ اگر موت اور تباہی کے اس رقص کو روکنا ہے ،تو انسانیت اور انصاف کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔مگر اس حملے کے بعد ٹی وی اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں ہونے والے بحث و مباحثے کے گمراہ کن رویے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بھارتی قیادت مسائل کی طرف صحیح طریقے سے نہیں دیکھ رہی۔
     بھارتی فوج کے ایک سابق افسر کرنل (ریٹائرڈ) آلوک استھانا کے بقول : ’’خودکش حملہ آور پاس ہی کے گائوں کا عادل احمد تھا اور وہ پاکستانی علاقے سے نہیں آیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ حملہ جنوبی کشمیر میں ہوا، جو شمالی کشمیر کے برعکس لائن آف کنٹرول سے کوسو ں دُور ہے۔  اس علاقے تک پہنچنے کے لیے سری نگر شہر سمیت کئی سخت سیکورٹی والے علاقوں سے گزر نا پڑتا ہے‘‘۔ کرنل استھانا کے مطابق: ’’عادل کے خودکش دھماکے سے ایک اہم سوال جو سامنے آیا ، وہ یہ کہ آخر مقامی کشمیری، جن میں سے کئی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس طرح سے اپنی جان دینے کے لیے کیوں تیار ہیں؟‘‘
اگر اس سوال کا تھوڑا ہی صحیح، جواب دے دیا جاتا ہے، تو باقی ساری چیزوں کا بھی حل نکل آئے گا، مگر اس جنگی جنوں میں کس کو ہوش ہے کہ اس اصل مسئلے پربات کرے۔ علاوہ ازیںگذشتہ تین عشروں کے دوران میں جو نسل کشمیر میں پروان چڑھی ہے، اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجاے ان کو مزید کچوکے دیے جا رہے ہیں۔ میں نے چند سال قبل خبردار کیا تھا، ’’اگرچہ کشمیر میں عسکریت میں بظاہر وہ قوت نہیں جو ۹۰ کے اوائل میں ہوتی تھی، مگر یہ خیال کرنا کہ اس تبدیلی سے وہاں امن و امان ہوگیا ہے خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا‘‘۔ اس کے لیے رحم دلی اور مفاہمت پر مبنی ایک ماحول تیار کرنا ہوگا۔ علاقے، یعنی رئیل اسٹیٹ کے بجاے  رئیل پبلک کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ کشمیر میں ایک ایک دل زخمی ہے ، اور یہ زخم مندمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ جب تک بنیادی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اقدامات نہیں کریں گے تب تک پلوامہ جیسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہے ۔ لہٰذا، بہتری اسی میں ہے کہ حقائق سے انکار کے بجاے اس مسئلے کے حل کی سبیل کی جائے۔کوئی ایسا حل جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، تاکہ برصغیر میں امن و خوش حالی کے دن لوٹ سکیں۔
وہ لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں، اگر وہ بھارت میں کشمیری طالب علموں، تاجروں اور مزدوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے حالیہ واقعات، اذیت ناک دبائو اور ناقابلِ تصور بے عزتی کو ذہن میں رکھیں تو ان میں ان کے لیے بے شمار سبق موجود ہیں۔ سب سے بڑا سبق یہ کہ آزادی واقعی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے آزادی کی قدر کریں۔ ممکن ہے کہ آپ کا کوئی حکمران کرپٹ ہو، کوئی ظالم ہو اور یا کوئی نااہل۔ لیکن اس سب کے باوجود اپنے وطن میں آپ کی وہ تذلیل اور توہین نہیں ہوگی، اور نہ ہجوم کے ہاتھوں یوں بے گناہ اور بے جواز قتل کیے جائیں گے۔ جموں و کشمیر کے رہنے والوں کے حوالے سے ذرا سوچیے، جو کہتے ہیں کہ آپ کتنے خوش نصیب ہیں اور ہم کتنے قابلِ رحم!

بنگلہ دیش میں انتخابی عمل، ہوبہو تصویر ہے مقبوضہ کشمیر کے نام نہاد انتخابی ڈراموں کی۔ بنگلہ دیش کا ۱۱واں پارلیمانی الیکشن ایک ایسا کھیل تھا کہ جس میں ہر مدمقابل کھلاڑی کے ہاتھ بندھے تھے، جب کہ محبوب کھلاڑی کے ہاتھ کھلے ہوئے تھے اور پھر منصف بھی کھلے ہاتھ والی ٹیم کا رکن تھا۔ حسینہ واجد کی قیادت میں عوامی لیگ ۲۰۰۹ء میں برسرِاقتدار آئی، جس نے ۲۰۱۴ء میں جعلی مینڈیٹ کی بنیاد پر اگلے پانچ سال حکمرانی کی، اور اب اسے تیسری مرتبہ بھی ووٹ کی ضرورت تھی۔ حقائق اور واقعات چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ اس انتخابی ڈرامے کو عملاً بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے ڈیزائن کیا۔
گذشتہ سات برسوں کے دوران حسینہ واجد حکومت نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسیاں دینے کے لیے افسانوی مقدموں کو نام نہاد ’خصوصی عدالتوں‘ میں چلایا۔ پھر جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر(اسلامی جمعیت طلبہ )کے کارکنوں کو جیلوں میں ڈالنے، بہیمانہ تشدد کرکے سیکڑوں کارکنوں کو معذور اور اپاہج بنانے، ملازمتوں سے برطرف کرنے کے علاوہ، جماعت کے اداروں اور نجی کاروباروں کو تباہ کرنے کے لیے ایڑی چوڑی کا زور لگا دیا۔ پھر جماعت اسلامی کی حلیف ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (بی این پی) کی قیادت کو میدان سے نکال باہر کرنے کے لیے، اس کی سربراہ خالدہ ضیا بیگم کو ۱۷سال کی سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا۔
اس پس منظر میں بنگلہ دیش میں ۳۰دسمبر ۲۰۱۸ء کو ایسا نام نہاد انتخاب ہوا کہ پارلیمنٹ کی ۳۰۰نشستوں میںسے ۲۸۸ سیٹیں جتوا کر، ۹۸ فی صد کامیابی حکمران عوامی لیگ کے نام کی گئی، جسے ہر عاقل انسان اور حسِ انصاف رکھنے والے فرد نے مسترد کیا۔ تاہم، نئی دہلی اور بیجنگ حکومتوں نے سربراہی سطح سے فوری طور پر انتخابی نتائج کو قبو ل کرکے مبارک باد کے پیغامات روانہ کیے، اور چند روز بعد ’اسلامی تعاون تنظیم‘(OIC) کے سیکرٹری جنرل نے بھی یہی کیا۔
حزبِ اختلاف نے اگرچہ الیکشن سے پہلے ہی دنیا بھر کی حکومتوں کے سامنے اور ذرائع ابلاغ پر یہ دہائی دی تھی کہ قبل از انتخاب دھونس دھاندلی کا طوفان اُٹھایا جا رہا ہے۔ ستمبر۲۰۱۸ء میں  ’ڈجیٹل سیکورٹی ایکٹ‘ پاس کر کے اخبارات و ذرائع ابلاغ کی آزادی  سلب کرلی گئی۔ پھر مدمقابل پارٹیوں کے اُمیدواروں اور لیڈروں کو قیدوبند، مقدمات کی بھرمار اور پولیس یا باقاعدہ منظم غنڈوں کے ذریعے ڈرا دھمکا کر انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی مہم چلائی گئی۔ حتیٰ کہ کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اور جب کاغذات داخل ہوگئے تو آدھے سے زیادہ حلقوں میں اُمیدواروں کو ایک روز کے لیے بھی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اور جس روز رسمی انداز سے الیکشن کا انعقاد ہوا، اسی روز : ’’اندرونِ ملک مختلف حلقوں میں عوام کو ڈرا دھمکا کر عوامی لیگ کے انتخابی نشان ’کشتی پر مُہر لگانے پر مجبور کیا گیا‘۔(ڈیلی اسٹار، ڈھاکا، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)
۳۰ دسمبر یومِ انتخاب کو بی بی سی کے نمایندے نے آنکھوں دیکھا حال دنیا بھر میں پہنچایا اور سنایا کہ: ’’ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی بیلٹ بکس بھر کر پولنگ اسٹیشنوں میں لائے جارہے ہیں‘‘۔ اور جب بنگلہ دیش کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ میں متعین بی بی سی کے نامہ نگار نے  لکھن بازار میں ایک بھرا بیلٹ بکس، قبل از الیکشن دیکھ کر پریذائیڈنگ افسر سے سوال کیا: ’جناب یہ کیا ہے؟‘ تو متعلقہ افسر نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ چٹاگانگ کے اس پولنگ اسٹیشن پر صرف سرکاری پارٹی کا نمایندہ موجود تھا، اور یہی حال دوسرے پولنگ اسٹیشنوں کا ہے‘‘(بی بی سی ویب سائٹ، ۳۰دسمبر ۲۰۱۸ء)۔’’خود ڈھاکا شہر کے متعدد مقامات پر عوامی لیگ نے انتخابات شروع ہونے سے پہلے ہی بیلٹ بکس، ووٹوں سے بھر دیے، اور لوگوں کو مصروف رکھنے کے لیے گھنٹوں تک لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا رکھا گیا، تاکہ ہجوم سے تنگ اور تھکن سے مجبور ہوکر لوگ ووٹ ڈالے بغیر خود ہی گھروں کو واپس لوٹ جائیں‘‘۔(ڈیلی ساؤتھ ایشین مانیٹر، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)
انتخابات کے روز بھی لوگ اس ظلم پر بڑے پیمانے پر چیخ پکار کرتے رہے، لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی: ’’یاد رہے، قانون نافذ کرنے والے چھے لاکھ سیکورٹی اہل کاروں کی نگرانی میں انتخابات ہورہے تھے۔ انتخابی عملے اور کئی جگہوں پر سیکورٹی اہل کاروں نے عوامی لیگ کے لیے مُہریں لگاکر ’انتخاب‘ کو ’محفوظ‘ بنایا۔ ڈھاکا یونی ورسٹی میں قانون کے پروفیسر آصف نذرل نے بیان کیا : بہت سے پولنگ اسٹیشنوں پر عوامی لیگ کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کے اُمیدواروں کو  ذاتی طور پر یا ان کے پولنگ ایجنٹوں تک کو نہ بیٹھنے دیا گیا اور نہ انتخابی عمل کے معائنے کی اجازت دی گئی۔ اور جو پولنگ ایجنٹ کسی طرح، کسی مقام پر بیٹھنے میں کامیاب ہوگئے، ان کی اکثریت کو گنتی شروع کرتے وقت بھگا دیا گیا۔ بنگلہ دیش کے لوگ احمق نہیں ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  ان کے ووٹ پر کس انداز سے، اُن کی آنکھوں کے سامنے ڈاکا زنی کی گئی ہے۔اس طرح عملاً  ایک پارٹی کی حکومت مسلط کی جارہی ہے‘‘۔(ڈیلی ساؤتھ ایشین مانیٹر، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)
حزبِ اختلاف نے بدانتظامی، بدنظمی اور بددیانتی تمام مظاہر کو دیکھ کر، اس انتخابی ڈھونگ کو فراڈ، جعل سازی اور دھاندلی زدہ ڈراما قرار دیا، مسترد کیا اور کہا کہ: ’’یہ موت کے سکوت اور خوف کے بھوت کا کھیل تھا‘‘ (ڈیلی واشنگٹن پوسٹ ، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)۔ یاد رہے کہ الیکشن کے روز ۲۲؍افراد قتل کر دیے گئے اور سیکڑوں افراد کو زخمی کرکے دہشت پھیلائی گئی۔ ملک کے سنجیدہ حلقے بنگلہ دیش میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے شدید صدمے اور مایوسی سے دوچار ہیں۔
بنگلہ دیش لیفٹ ڈیموکریٹک الائنس (LDA)نے ۸۲اُمیدواروں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا۔ اس کی قیادت نے ڈھاکا پریس کلب میں بتایا: ’’پورا ملک عینی شاہد ہے کہ حکمران ٹولے نے انتخابی عمل کو برباد کرکے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا ہے‘‘۔ اور کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش (CPB) کا موقف ہے: ’’عوامی لیگ نے الیکشن سے پہلے، الیکشن کے دوران اور الیکشن کے بعد جبر، دھوکے، دھاندلی اور جھوٹ کا طوفان برپا کیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۱۲جنوری۲۰۱۹ء)
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW)نے انتخابات سے قبل، حسینہ حکومت کی بدنیتی کی نشان دہی کر دی تھی، اور الیکشن کے بعد اس کے ڈائرکٹر ایشیا، مسٹربریڈ ایڈمز نے گواہی دی: ’’حزبِ اختلاف کے اہم لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے، بعض کو قتل کر کے اور بعض کو لاپتا کرکے جس خوف اور گھٹن کا ماحول پیدا کیاگیا، اس میں کسی بھی لحاظ سے یہ قابلِ اعتبار انتخابات نہیں ہیں‘‘ (بی بی سی لندن، ۳۱دسمبر ۲۰۱۸ء)۔ بنگلہ دیش میں سابق امریکی سفیر اور ولسن سنٹر کے سینئر اسکالر ولیم بی میلان نے کہا: ’’بنگلہ دیش کے انتخابات پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ یہ انتخابات سراسر بددیانتی کی ایک مجسم مثال ہیں اور حسینہ واجد کی حکومت غیرقانونی ہے‘‘ (ڈیلی نیونیشن، ڈھاکا، ۱۷جنوری ۲۰۱۹ء)۔’’برطانیہ، امریکا اور یورپی یونین نے بھی انتخابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا‘‘(رائٹر، ۲جنوری ۲۰۱۹ء)۔ البتہ اپنا روایتی’ریکارڈ‘ برقرار رکھتے ہوئے یہ ممالک چند ہفتوں بعد اس جعلی انتخاب کو تسلیم کرکے حسب ِ معمول تعاون شروع کردیں گے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی ان انتخابات کی صداقت کو مشکوک اور فساد زدہ قرار دیا ہے کہ: ’’جس میں بدعنوانی کے بے شمار شواہد اپنی کہانی آپ بیان کر رہے ہیں‘‘ (ڈیلی بی ڈی نیوز۲۴، ۱۶جنوری ۲۰۱۹ء)۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جمع کردہ حقائق کی بنیاد پر بیان دیا: ’’بنگلہ دیش کے موجودہ انتخابی نتائج کو مسترد کرنے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے کے لیے منطقی اور اصولی بنیادیں موجود ہیں‘‘۔ (ڈیلی نیو ایج، ڈھاکا، ۱۷ جنوری ۲۰۱۹)
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گڑیس نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات درست نہیں ہوئے۔ ہم بنگلہ دیش میں سیاسی عمل اور شہری زندگی کو پُرسکون بنانے کے لیے بامعنی کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہیں‘‘۔(ڈیلی نیو ایج، ۱۹ جنوری ۲۰۱۹)
امرِواقعہ ہے کہ خاص طور پر۲۰۰۹ء کے بعد، جب سے حسینہ واجد کی عوامی لیگ برسرِاقتدارہے، بنگلہ دیش پہلے سے بھی کہیں زیادہ بھارتی گرفت میں جکڑا گیا ہے۔ وہ بہت سے مفادات جو بھارت ابتدائی ۳۷برسوں میں حاصل نہ کرسکا تھا، گذشتہ ۱۰ برسوں میں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ جس میں خاص طور پر شمال مشرقی ریاستوں (اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ، تری پور اور سکم) تک، بنگلہ دیش کی سرزمین سے گزر کر نئی دہلی انتظامیہ کی براہِ راست رسائی ہے۔ اسی لیے حسینہ واجد نے کہا کہ: ’’ہمارے برسرِاقتدار رہنے سے بھارت سے تعلقات مضبوط اور باثمر ہوں گے اور تجزیہ نگار ہرانمے کارلیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ:’’ ضیاء الرحمان، حسین محمد ارشاد اور خالدہ ضیا کے اَدوارِ حکومت میں بنگلہ دیش، بھارت سے فاصلے پر اور پاکستان سے قربت کی طرف گیا تھا‘‘ (ڈیلی دی پانیئر، نئی دہلی، ۶جنوری ۲۰۱۹ء)۔ اسی اخبار نے بھارتی مقتدر قوتوں کی خواہشات کے آئینہ دار مضمون Why We need Hasina?  میں وضاحت سے بتایا کہ: ’’خالدہ ضیا نے کبھی بھارتی مفادات کے لیے کام نہیں کیا ہے بلکہ یہ جماعت اسلامی کی حمایت سے برسرِاقتدار آتی ہے اور بھارتی مفادات کے برعکس پاکستان سے قربت کی طرف بڑھتی ہے‘‘۔(ڈیلی دی پانیئر، نئی دہلی، ۷جنوری ۲۰۱۹ء)
بھارت اور دوسری طاقتیں بنگلہ دیش کو تجرباتی طور پر اسلامی قوتوں کی بیخ کنی کا میدانِ کارزار بنانا چاہتی ہیں۔ جب اسلامی شناخت کا ذکر آتا ہے تواس علاقے میں خودبخود پاکستان کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ حسینہ واجد کے لیے تیسری بار اقتدارکا راستہ ہموار کرنے میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بنگلہ دیشی نیشنلسٹ قیادت کو بُری طرح دبایا، منتشر اور بے اثر کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ۲۰۲۱ء کو، جب کہ بنگلہ دیش کے قیام کے ۵۰سال مکمل ہوں، تو اس مناسبت سے پاکستان کے خلاف زیادہ منظم طریقے سے، تسلسل کے ساتھ مہم چلاکر اسے بدنام کیا اور دبائو میں لایا جائے۔
حسینہ واجد کے سیاسی مشیر اور ’آبزرور ریسرچ فائونڈیشن‘ کے ایچ ٹی امام نے برملا کہا:  ’’بی این پی نے جماعت اسلامی سے تعاون جاری رکھا ہے۔ اور ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ پارٹی چین اور پاکستان کی حامی ہے، اس لیے بنگلہ دیش کی سیاست میں بھارت کسی بھی صورت، بی این پی پر بھروسا نہیں کرسکتا‘‘(دی اسٹار آن لائن، ۱۶ جنوری ۲۰۱۹ء)۔ یہ سوچ بنگلہ دیش سے زیادہ بھارت کے ان استعماری رویوں کی گواہی پیش کرتی ہے کہ برسرِزمین نئی دہلی کس انداز سے بنگلہ دیش کی سیاست اور ریاست کے معاملات میں دخیل ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے حسینہ واجد سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مبارک دُہرائی اور کہا کہ: ’’حسینہ واجد کی صورت میں، بھارت کے لیے مشرقی محاذ محفوظ اور مامون ہے‘‘ (ڈیلی ایشین ایج، ۱۷جنوری)۔ دیکھیے: ’’حکومت ِ ہند اور بھارتی سیاست دان اور میڈیا کے لوگ بہت مسرور ہیں کہ عوامی لیگ کی کامیابی کی وجہ سے بنگلہ دیش، اسلامی بلاک میں جانے سے بچ گیا ہے‘‘۔ (سہ روزہ دعوت، نئی دہلی، ۱۴جنوری۲۰۱۹ء)
بنگلہ دیش کے اخبارات کے مطابق نئی حکومت کی شروعات کے طور پر بنگلہ دیش کے وزیرقانون انیس الحق نے کہا: ’’عوامی لیگ کی حکومت ایسی قانون سازی کرے گی کہ جس کے تحت جماعت اسلامی کو سزا دینے کا عمل تیزتر ہوگا۔ اس قانونی ترمیم کا مسودہ، وزیراعظم حسینہ واجد کی ہدایات کی روشنی میں ترتیب دیا جارہا ہے اور جلد کابینہ میں پیش کر دیا جائے گا۔ اس ترمیم کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ تاحال بنگلہ دیش جماعت اسلامی کو پوری طرح سزائیں نہیں دی جاسکیں۔ فروری ۲۰۱۳ء کے ترمیمی ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ میں افراد کو سزائیں دینے کا ذکر ہے، مگر پارٹی کو عبرت کا نشان بنانے کا معاملہ مذکور نہیں ہے۔ اب ہمارے پیش نظر یہ ہدف حاصل کرنا ہے‘‘ (ڈیلی اسٹار،۱۰جنوری ۲۰۱۹ء)۔یاد رہے کہ: ’’حسینہ واجد کی حکومت، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے کئی اہم لیڈروں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے باوجود جماعت اسلامی کی کمر نہیں توڑ سکی‘‘ (سہ روزہ دعوت، نئی دہلی، ۱۴ جنوری ۲۰۱۹ء)۔ یہ نامرادی نئی دہلی اور ڈھاکا کی حکومتوں کے لیے غصّے اور شرمندگی کا باعث ہے۔
اس تسلسل میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھی اور عملاً ریٹائرڈ زندگی گزارنے والے بھارت نواز ڈاکٹر کمال حسین نے منصوبے کے مطابق پہلے تو ایک جعلی انتخاب کو قابلِ قبول بنانے کے لیے، بڑی مہارت سے سیاسی پارٹیوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کا کام کیا۔ اور پھر منصوبہ سازی شروع کی ہے کہ: ’’بی این پی کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ جماعت اسلامی سے اپنے ۱۵سالہ اتحاد و اتفاق کو ترک کرکے، جماعت سے الگ ہوجائے‘‘ (ڈیلی سن، ڈھاکا، ۱۲جنوری ۲۰۱۹ء)۔حسینہ واجد نے سیاسی پارٹیوں کو مذاکرات کی دعوت دی، جس پر تمام پارٹیاں شرکت کرنے یا شرکت نہ کرنے پر غور کرر ہی ہیں، لیکن کمال حسین نے فوراً شرکت کا عندیہ دیا۔(ڈیلی اسٹار، ۱۴جنوری۲۰۱۹ء)
یہ تمام حقائق اور حوادث بتاتے ہیں کہ بھارت کسی صورت نہیں چاہتا کہ بنگلہ دیش میں ایسی امن و سکون کی فضا پروان چڑھے کہ وہاں کے لوگ امن اور خوش حالی کی زندگی بسر کرسکیں۔  اس طرح وہ بھارت کا دست ِ نگر رہے۔ دوسرا یہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری نہ آئے اور باہم فاصلے بڑھتے رہیں۔ تیسرا یہ کہ جماعت اسلامی کے تنظیمی ہیکل کو تباہ اور بی این پی کے سیاسی وجود کو ختم کیا جائے۔ ان حالات میں مسلم اُمہ کے فہمیدہ افراد اور اداروں کو بنگلہ دیشی بھائیوں کی اس انداز سے دست گیری کرنی چاہیے کہ وہ بھارتی تسلط سے آزاد اور مسلم اُمت سے قریب تر ہوسکیں۔

یوں تو کشمیر میں ماہ جنوری ہر سال کئی خونچکاں یادوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے، جس میں گاؤکدل، مگھرمل باغ، ہندوارہ اور برسہلا (ڈوڈہ) میں ہوئے قتل عام شامل ہیں، مگر ۶جنوری ۱۹۹۳ء کا دن تجارتی مرکز سوپور کے لیے ایک ایسی قیامت کے ساتھ طلوع ہوا کہ جو بھلائے بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ 
اس سے ٹھیک ایک ماہ قبل دسمبر۱۹۹۲ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کے کئی علاقے بھی فسادات کی زد میں آگئے تھے۔ صحافت کی دنیا میں میرے ابتدائی دن تھے۔ سوچا کہ سوپور میں اپنے والدین کے ساتھ چند روز گذار کر آوٗں ، تاآنکہ حالات کسی حدتک بہتر ہوجائیں۔ دہلی سے جموں تک بذریعہ ٹرین، پھر موسم سرما میں برف باری اور رکاوٹوں سے اَٹے راستے، جموں سرینگر ہائی وے کا تکلیف دہ سفر اور پھر سرینگر سے سوپور تک سیکورٹی چک پوسٹوں پر تلاشیاںوغیرہ عبور کرتے ہوئے گھر پہنچا تو خاصی رات ہوچکی تھی۔اگلے روز شاید صبح نو بجے کا وقت ہوگا، جب کہیں دُور سے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ اس ہولناک دن یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں اور آسمان اَبر آلود تھا۔ معلوم ہوا کہ نیوکالونی کے قریب ایک بارودی سرنگ پھٹ گئی ہے۔ پھر کہیں قریب سے ہی ایک فائر کی آوازبھی سنائی دی۔ ۱۹۹۰ء میں جموں و کشمیر میں عسکریت کے آغاز کے بعد سوپور اور اس کے اطراف خاصے متاثر تھے، اس لیے اس طرح کے واقعات عام تھے ۔ میں نے دیکھا کہ اس دھماکے کے باوجود تاجر حضرات دکانیں کھولنے اور ڈیوٹیاں دینے والے دفتروں یا بس اڈے کی طرف رواں دواں تھے۔ 
اسی دورا ن دریاے جہلم کی دوسری طرف فائرئنگ کی متواتر آوازوں کے ساتھ چیخ پکار بھی سنائی دینے لگی۔ چند ساعتوں کے بعد آگ کے بلند ہوتے شعلے جلد ہی آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ ان کی تپش دریاے جہلم کے دوسری طرف بھی اب محسوس ہو رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ نیم فوجی تنظیم بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف) کی ۹۴ ویں بٹالین، شہر کے مرکز میں آگ و خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ آرم پورہ، مسلم پیر، کرالہ ٹینگ، شالہ پورہ اور شاہ آباد کے علاقے آگ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ کئی گھنٹوں تک قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ رات گئے قصبے کو فوج کے حوالے کردیا گیا۔ 
اگلے روز معلوم ہوا کہ ۷۵ معصوم افراد کو گولیوں سے اُڑا دیا گیا، اور کئی افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا، جب کہ ۴۰۰ سے زائد رہایشی و تجارتی عمارات اور زنانہ کالج کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں ہمارے محلے کے آس پاس کے ایک درجن افراد شامل تھے۔ لاشوں کی شناخت، ان کو گھروں تک لاتے اور نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے بازو شل ہوگئے ۔ شہر کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے نسیم حجازی [م:۲مارچ ۱۹۹۶ء] کے ناول آخری چٹان  میں تاتاریوں کی درندگی کی داستان صفحۂ قرطاس سے نکل کر حقیقت کا رُوپ دھار گئی ہو۔ سنگینوں کے سایے میں لوگ بکھری ہوئی لاشوں کو اکٹھا کررہے تھے۔ بین کرتی ہوئی خواتین اپنے پیاروں کی باقیات، گرم راکھ سے ڈھونڈ رہی تھیں۔ ایک دوست عبدالحمید اپنے ایک ٹیلر دوست کو ڈھونڈ رہا تھا۔ جلی ہوئی دکان کے اندر اس کو بس چند ہڈیاں ہی مل گئیں، جنھیں اس نے اپنے فرن میں باندھ کر لپیٹ لیا۔ ہسپتال میں قیامت کا منظر تھا۔ کلمے کا ورد کرتے ہوئے شدید زخمی افراد زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ 
جھیل وولر کے دھانے پر دریاے جہلم کے دونوں کناروں پر واقع اس شہر کو غالباً۸۸۰ء  میں راجا اونتی ورمن کے ایک وزیر سویہ نے بسایا اور نام سویہ پور دیا، جو بعد میں سوپور ہوگیا۔ کشمیر کے لیے اس قصبے کی وہی اہمیت رہی ہے، جو بھارت کے لیے ممبئی یا پاکستان کے لیے کراچی کی ہے۔ یہ نہ صرف شمالی کشمیر کے لیے راہداری ہے، بلکہ خطے کے اکثر متمول گھرانوں اور معروف کاروباری شخصیات کا تعلق بھی اسی قصبے سے رہا ہے۔ جب آس پاس کی زمینیں زرخیز ہوں اور باشندوں کی گھٹی میں تجارتی فراست اور محنت شامل ہو، تو اس علاقے کا فی کس آمدنی کی شرح میں اوّل آنا فطری امر تھا۔ اسی لیے سوپورکو ’چھوٹے لندن‘ کی عرفیت اور اعلیٰ سیبوں کے مرکز کے نام سے بھی یاد کیا جاتا رہا ہے۔۱۹۸۹ء کے اواخر میں جب بھارتی حکومت نے جگموہن کو گورنر بنا کر بھیجا، تاکہ عسکری تحریک، جو ابھی ابتدا میں ہی تھی کو لگام دی جاسکے۔ اس کی تجویز تھی کہ سب سے پہلے آزادی پسند حلقوں اور تحریک حُریت کو ملنے والی فنڈنگ کی روک تھام ہونی چاہیے۔
 جگموہن جو بعد میں مرکز میں وزیر بھی رہے، ان کا خیال تھا کہ اگر سوپور میں تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا جائے، یا ان کی کڑی نگرانی کی جائے تو یہ قصبہ تحریک کی مالی معاونت کے قابل نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں جگموہن نے بھارتی وزارت داخلہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ دہلی کی آزادپور فروٹ منڈی کے آڑھتیوں کو قائل کیا جائے کہ وہ اس علاقے سے سیبوں کی خرید بند یا کم کر دیں۔ دہلی میں بھی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ اگر سیاسی آگہی کے اس مرکز کو صدیوں پہلے چانکیہ کی تجویزکی ہوئی پالیسی سام (گفتگو) دھام (لالچ)، ڈھنڈ ( سزا) اور بھید (بلیک میل) سے قابو کر لیا جائے، تو بقیہ ریاست سے بھی تحریک کا آسانی سے صفایا ہو سکتا ہے۔ابھی تک آٹھ بار اس شہر کے مختلف علاقوں کو جلا کر اقتصادی لحاظ سے اس کو بے دست و پا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
جب آگ و خون کا کھیل شروع ہوا تو بانڈی پورہ جانے والی ایک مسافر بس اس وقت وہاں سے گزر رہی تھی، مگر افسوس کہ یہ بس مسافروں کے لیے تابوت بن گئی۔ جموں و کشمیر سول سوسائٹی کے ذریعے جمع کی گئی تفصیلات کے مطابق اس واقعے سے کئی روز قبل نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن عبد الاحد کنجوال کے گھر جاکر چند فوجیوں نے ان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس علاقے کو چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہوجائیں۔ جس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ قتل عام کی پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلی گئی تھی اور یہ کوئی وقتی اشتعال کے نتیجے میں قتل و غارت گری نہیں تھی۔ بانڈی پورہ سے آنے والی موٹر کار میں ایک فیملی سفر کر رہی تھی۔ ایک بھارتی اہل کار نے ان کے شیرخوار بچے کو   ہوا میں اُچھال کر آگ میں پھینک دیا۔جب بچے کی ماں بین کرنے لگی، تو انھوں نے بقیہ افراد کو بھی گولیوں سے بھون دیا اور ان مظلوموں کی تڑپتی لاشیں آگ میں ڈال دیں۔
 خون کی اس ہولی کے اگلے روز بی ایس ایف کے اس وقت کے سربراہ پرکاش سنگھ قصبے میں وارد ہوئے اور معززین شہر کو اپنے دربار میں طلب کیا۔ قتل گاہ کا معائنہ کرتے ہوئے اس نے پنجابی میں اہل کاروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ: ’’کس کس پنجابی شیر نے بازو آزمانے میں پوری طاقت لگائی ہے؟‘‘ ایک اوباش اہل کار نے فخریہ انداز میں بتایا کہ: ’’سر، میں نے کئی افراد کو ہلاک کیا ہے‘‘۔ پرکاش سنگھ نے سب کے سامنے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔ قرون وسطیٰ کی وہ تاریخ شاید دہرائی جارہی تھی، جب منگول حکمران چنگیز خان جنگ کے میدا ن کا معائنہ کرتے ہوئے لاشوں کے مینار دیکھ کر جرنیلوں کو شاباش دیتا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پرکاش سنگھ آج کل بھارت میں پولیس میں ’اصلاحات‘ اور فورسز میں ’انسانی حقوق کی بیداری‘ لانے کے بڑے نقیب بن بیٹھے ہیں۔ 
کئی روز بعد دلّی سے مرکزی وزرا مکھن لال فوطیدار،غلام نبی آزاد، کانگریس کی ریاستی شاخ  کے صدر مرحوم غلام رسول کارکی معیت میں وارد ہوئے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کاوعدہ کیا۔ لیکن سوپور کے باشندوں نے حکومتی امداد قبول نہیں کی، بلکہ عوامی سطح جو ریلیف جمع کیا گیا تھا، وہی متاثرین میں تقسیم ہوا۔ انشورنس کمپنیوں نے بھی منہ موڑ لیا، جس کے بعد اس وقت کے مرکزی وزیرخزانہ من موہن سنگھ کی مداخلت کے بعد انشورنس کمپنیوں نے معاوضہ واگزار کرنے کا یقین دلایا، تاہم یہ وعدہ کبھی ایفا نہ ہو سکا۔ مقامی تجارتی انجمن نے عدالت سے رجوع کرکے انشورنس کمپنیوں سے معاوضہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، مگر چند ہی دکان دار معاوضہ حاصل کرسکے۔ عوامی دبائوکے تحت حکومت نے ۹۴ بٹالین بی ایس ایف کے کمانڈنٹ کو پانچ دیگر اہل کاروں سمیت معطل کیا۔ 
۹جنوری کو واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات بھی صادرکیے اور ۳۰جنوری کو  جسٹس امر سنگھ چودھری کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا۔ اس تحقیقاتی عمل کو کبھی آگے بڑھایا نہ جاسکا، بلکہ دوسال گزر جانے کے بعد کمیشن کو تحلیل کر دیاگیا۔ محکمہ قانون، جسٹس چودھری کو مسلسل لکھتا آیا کہ وہ ریاست بالخصوص سرینگر کا گرمیوں میں دورہ کریں تاکہ گواہ، جن میں سینئر افسران شامل ہیں،کے بیانات قلم بند کیے جاسکیں۔ وہ سرینگر آنے سے گریزاں رہا، تاہم جموں آنے پر آمادگی ظاہر کی اور گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے لیے ۱۵سے۱۷دسمبر ۱۹۹۳ء کا وقت دیا۔کمیشن کی میعاد جو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی، ۳۰جنوری ۱۹۹۴ء تک بڑھا دی گئی۔ کمیشن کی میعاد بڑھتے ہی جسٹس چودھری نے مجوزہ دورہ پھر منسوخ کردیا۔ اس کے بعد کمیشن نے مطلع کیا کہ وہ اپنی کارروائی ۲۱سے ۲۵مارچ تک جموں میں چلائے گا اور خواہش ظاہر کی کہ گواہوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے علاوہ کمیشن کے عملے کی سکیورٹی کا معقول بندوبست کیاجائے۔ لیکن یہ دورہ بھی منسوخ کرکے اطلاع دی گئی کہ اب سماعت مارچ ۱۹۹۴ء کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔ وہ اس کے بعد بھی وعدے سے مکر گیا اور یوں اپریل ۱۹۹۴ء میں کمیشن کی میعاد پھر ختم ہوگئی۔ چیف سیکرٹری نے فائل میں اپنے تاثرات کچھ یوں لکھے:’’ہمیں یہ ڈراما ختم کرنا چاہیے کہ گذشتہ ۱۵ماہ سے کوئی سماعت نہیں ہوئی‘‘۔ 
ریاستی چیف سیکرٹری بی کے گوسوامی نے ۱۸؍اپریل ۱۹۹۵ء کومرکزی داخلہ سیکرٹری   پدمنا بھیا کو لکھا: ’’کمیشن کی جانب سے جموں میں سماعت کا انعقاد عوامی مفاد میں پہلے ہی نہیں تھا لیکن اس کے بعد کمیشن کا رویہ سراسر حوصلہ شکن رہا اور تین ماہ میں انکوائری مکمل نہ کرنے سے لوگوں میں حکومت کے اعتبارکو شدید زک پہنچی ہے۔ کمیشن کے قیام کا مقصد فوت ہو چکا ہے اور اب اسے تحلیل کر دینا چاہیے، لیکن کوئی کارروائی کرنے سے قبل ہم سارا ماجرا حکومت ہند کے نوٹس میںلانا چاہتے ہیں‘‘۔ اس مکتوب کے بعد مذکورہ کمیشن کا باب بند کردیا گیااور ہمیشہ کے لیے انصاف کو دفن کردیا گیا۔ 
بتایا جاتا ہے کہ بعد میں ایک سب انسپکٹر اور دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو معطل کیا گیا، جب کہ۹۴ بٹالین کو سوپور سے ہٹاکر پلوامہ تبدیل کیا گیا، جہاں انھوں نے لوگوں کو سوپور سانحے کو دُہرانے کی دھمکیاں دیں۔ اس سانحے سے متعلق دو کیس پولیس اسٹیشن سوپور میں درج کیے گئے تھے اور وہاں سے ۲۳جنوری کو انھیں تحقیقات کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کو سونپا گیا۔ سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق: ’’دوران تحقیقات انھوں نے عینی گواہوں اور مقامی لوگوں کے بیانات لینے کی از حد کوشش کی، تاہم کسی بھی زخمی یا کسی گواہ نے بی ایس ایف اہل کاروں کی شناخت نہیں کی اور نہ مطلوبہ معلومات فراہم کیں،جس کے نتیجے میں اس سانحے میں ملوث لوگوں کی نشان دہی ناممکن بن گئی اور یہ پتا نہ چل سکا کہ کس نے عام لوگوں کی جان لی اور آتش زدگی کے لیے کون ذمہ دار ہے‘‘۔ 
تقریباً چوتھائی صدی بیت چکی ہے مگر دل پر لگے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ آخر کب تک سوپور جیسے قتل عام ہوتے رہیں گے؟ یہ حقیقت بہرحال تسلیم کرنا پڑے گی کہ ان تمام المیوں کا ماخذ کشمیرکا حل طلب مسئلہ ہے۔ لہٰذا، بہتری اسی میں ہے کہ حقائق سے انکار کی بجاے اس مسئلے کے حل کی سبیل پیدا کی جائے۔کوئی ایسا حل نکالا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو، تاکہ برصغیر میں امن و خوش حالی کے دن لوٹ سکیں۔ سوپور کے شہیدوںکے لیے بھی یہ ایک طرح سے خراجِ عقیدت ہوگا۔ اس ہنگامہ خیز بستی کی رونقیں بھی لوٹ آئیں گی اور بعید نہیں کہ یہ شہر تہذیب، ترقی اور تجارت کا ایک قابلِ رشک محور بن جائے۔

بھارت میں دسمبر۲۰۱۸ء کے دوران پانچ صوبائی اسمبلی انتخابات میں جس طرح حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت انتخابی نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے، بالخصوص تین بڑی ریاستوں میں کانگریس کی پیش قدمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ بگڑتی معیشت، کسانوں کی بدحالی اور دو سال قبل نوٹ بندی اور نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے بنیا اور تاجر طبقے میں موجود اس کا روایتی ووٹ بنک ٹوٹ رہا ہے۔ اوربی جے پی، جسے ’بنیا پارٹی‘ بھی کہتے ہیں، اس کی ریڑھ کی ہڈی ’بنیاکمیونٹی‘ سخت تذبذب کا شکار ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے انتخابات میں پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اگلے چند مہینوں میںکسانوں اور تاجروں کے لیے وزیر اعظم نریندرا مودی مراعات کی بارش کردیں اور اس کے لیے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بھی جنوری کے آخری ہفتہ میں ہی بلانے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ تاہم، تجزیہ یہی ہے کہ مئی ۲۰۱۹ء میں ہونے والے عام انتخابات تک اب شاید ہی عام ووٹر تک ان مراعات کا فیض پہنچ پائے گا۔ اس لیے پارٹی لیڈروں کا خیال ہے کہ معیشت کے بجاے جذباتی اور قوم پرستانہ ایشوز کی کشتی پر سوار ہوکر عام انتخابات کا پُرشور دریا عبور کیا جائے۔
اس سلسلے میں ذرائع کے مطابق فتح حاصل کرنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور ان کے دست راست بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے تین ایشوز پر مشتمل ایک نقشۂ کار ترتیب دیا ہے۔ اس میں اوّلین ترجیح اترپردیش کے شہر ایودھیامیں مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ پر ایک عالی شان رام مندر کی تعمیر کا ہوّا کھڑا کرنا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دیکھا جارہا ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم سنگھ ( آر ایس ایس) اور اس کی ذیلی تنظیم ویشوا ہندو پریشد    (وی ایچ پی) رام مندر کو اگلے ایک دو ماہ میں ایک عوامی مہم میں تبدیل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جموں و کشمیر میںمزید کشت و خون و غیرمستحکم حالات قائم رکھے جائیں اور اس خون سے تلک لگاکر ملک بھر میں ووٹ حاصل کیے جائیں۔ اگر یہ دو ایشوزعوامی جذبات ابھارنے میں ناکام ہوتے ہیں ، تو انتخابات سے قبل آخری حربے کے طور پر پاکستان کے خلاف کسی طرح کی جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں ہندو ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں موڑنا، تاکہ دفاعی سودوں اور بنکوں میں بد عنوانیوں اور دیگر ایشوز کو لے کر، حزب اختلاف پارٹیاں اورمیڈیا، مودی حکومت کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا نہ کرسکیں۔یاد رہے ۱۶دسمبر کو نریندرا مودی نے راے بریلی میں سونیا گاندھی کے حلقے میں تقریر کے دوران یہ کہا کہ: ’’کانگریس کے جیتنے پر پاکستان میں تالیاں کیوں بجتی ہیں؟‘‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت اپنے ووٹوں کو اکٹھا کرنے کے لیے ’مسلمان کارڈ‘ کے ساتھ ساتھ ’پاکستان کارڈ‘ بھی کھیلے گی۔ 
۱۵دسمبر کو ضلع پلوامہ میں جس طرح کشمیری نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، وہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت نے آخرالذکر روڑ میپ پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے تحت کشمیریوں اور پاکستان کو مشتعل کرکے کشیدگی کو ہوا دی جائے اور ملٹری آپریشنز کی راہ ہموار کرائی جائے۔ 
پلوامہ میں جس طرح نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا او ر ان کے سینوں اور سر وں میں گولیاں داغی گئیں، کسی بھی مہذ ب اور جمہوری معاشرے کا خاصہ نہیں ہوسکتا۔ جان سے گزرنے والوں میں آٹھویں جماعت کا طالب علم، شیر خوار بچے کے لیے دودھ خریدنے کی تگ و دو میں راستے میں کھڑا باپ، ایک دکان دار، پریکٹس سے واپس آرہا ایک کھلاڑی اور کئی راہگیر شامل تھے۔مقامی لوگوں کے مطابق پلوامہ کے ایک گائوں سرنو میں صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم ختم ہوگیا تھا۔ لوگ سڑکوں پر تھے، مگر مظاہرے ہو رہے تھے، تاہم پتھر باری نہیں ہورہی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ جب فورسز کی ٹکڑی آپریشن ختم کرکے واپس جارہی تھی کہ کھار پورہ محلہ میں تنگ راستے کی وجہ سے ان کی بھاری بھرکم فوجی گاڑی کو موڑنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔  عوام کو سڑکوں سے ہٹانے اور راستہ بنانے کے لیے فورسز اہلکاروں نے بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پیدل چلنے والے افراد زمین پر گرتے گئے۔اسی طرح کی صورتِ حال پلوامہ اسٹیڈیم کے پیچھے برپورہ میں بھی پیش آئی اور وہاں بھی ایک بھارتی فوجی گاڑ ی پھنس گئی تھی۔ یہاں بھی فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھول کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ ہلاک شدگان میں انڈونیشیا سے ایم بی اے ڈگری یافتہ عابد حسین لون بھی شامل ہے ، جو حال ہی میں اپنی انڈونیشین اہلیہ اور شیر خوار بچے کے ساتھ کشمیر منتقل ہوا تھا ۔ اسی طرح آٹھویں جماعت کے طالب علم عاقب بشیر کو گولیوں سے بھوننے کا الم ناک واقعہ ہے۔
شمالی آئر لینڈ، عراق، افغانستان ، کوریا اور فلسطین کا دورہ کرنے اور ان تنازعات کا مشاہد ہ کرنے کے بعد میرا خیال ہے کہ دنیا کے دیگر جنگ زدہ خطوں کے برعکس عالمی میڈیا نے بڑی حد تک اور شاید مکمل طور پر کشمیرکو نظر اندازکر رکھا ہے۔ حال ہی میں استنبول میں فلسطین پر منعقدہ بین الاقوامی میڈیا کانفرنس کے متعدد اجلاسوں میں جب شورش زدہ خطوں میں رپورٹنگ کے حوالے سے میں اپنے تجربات بیان کر رہا تھا، تو میری بات پر کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
کئی عشروں سے فلسطین و مغربی ایشیا میں جنگی رپورٹنگ کرنے والے معروف صحافی جونانتھن اسٹیل حیران تھے، کہ وہ کیسے ان واقعات سے بے خبر اور ناواقف ہیں۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ: ’’نئی دہلی میں مقیم بین الاقوامی میڈیا ان واقعات کا نوٹس کیوں نہیں لیتا ہے؟‘‘ جب میں نے ان سے کہا کہ: ’’بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر جانے کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ اس پر متعدد صحافیوں نے بھی کہا، کہ: ’’اس طرح کی کسی پابندی کا سامنا ان کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں کبھی نہیں کرنا پڑا ہے‘‘۔ 
کشمیر پر اگر رپورٹنگ ہوئی ہے تو بھی دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہوسکی ہے۔ حتیٰ کہ سرینگر کا  مقامی میڈیا بھی بیش تر علاقوں میں جانے سے قاصر ہے۔ چند برس قبل بھارت کے ایک معروف کالم نویس اور قانون دان اے جی نورانی کے ہمراہ میں نے شمالی کشمیر میں لنگیٹ تحصیل کے ایک خوب صورت مقام ریشی واری کا دورہ کیا تھا۔ سرسبز جنگلوں اور پہاڑی نالوں سے پُر اس وادی میں داخل ہوتے ہی تقریباً  ۳۰کلومیٹر تک سڑک سے ملحق سبھی گھروں کی دوسری منزل پر ہمیں بھارتی فوجی جوان نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ: ’’گھروں کے مکین تو پہلی منزل پر رہتے ہیں اور دوسر ی منزل فوج کے لیے مخصوص ہے۔ یہاں دیہاتی کشمیریوں نے پہلی بار میڈیا سے وابستہ افراد کو  دیکھا تھا۔ اسی طرح اگر سرینگر کے شیرِکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے آرکائیوزکو کھنگالا جائے، تو وہاں ایسے ہوش ربا زخمیوں کی تفصیلات ملیں گی، جو بقول کئی ڈاکٹروں کے: ’’میڈیکل ہسٹری میں آخری بار صرف جنگ عظیم دوم کے دوران جرمن انٹیلی جنس کے ادارے گسٹاپو کے انٹروگیشن سنٹروں میں رپورٹ ہوئے ہیں‘‘۔کشمیر میں پیلٹ [چھرے] لگنے سے زخمی ہونے والے افراد کی آنکھیں بچانے میں مصروف، باہر سے آئے ڈاکٹر تک ذہنی تنائو کا شکار نظر آتے ہیں، کیوںکہ ان کے بقول: ’’ہم نے اپنی پوری میڈیکل زندگی میں ایسی جنگ زدہ صورتِ حال کبھی نہیں دیکھی تھی‘‘۔  
قوم پرست بھارتی وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے دیگر لیڈروں کے رویے سے ظاہر ہے کہ وہ کشمیری عوام اور پاکستان کو پیغام پہنچانا چاہ رہے ہیں کہ ان کی منزل ناقابلِ حصول ہے اور کسی عالمی اور بیرونی دبائو کی عدم موجودگی میں ریاست کا وسیع دائرہ بالآخر تحریک کشمیر کو تحلیل کردے گا۔ ان کو یقین ہے کہ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں یہ طریقۂ کار ان کو فائدہ پہنچائے گا۔ بھارتی فوجی سربراہ جنرل بیپن راوت نے حالیہ بیان میں کہا کہ: ’’فوج، کشمیر میں ڈرون حملے کرسکتی ہے، لوگ اجتماعی نقصان کے لیے تیار رہیں اور ہم پتھر کا جواب گولی سے دیں گے ‘‘۔وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مقابلہ کسی منظم عسکری گروہ سے نہیں بلکہ ناراض نوجوانوں اور عوام سے ہے۔
 مجھے یاد ہے کہ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں ایسی ہی صورت حال تھی کہ اس دوران بھارت کے سینیر صحافیوں کے ہمراہ مجھے اسرائیل اور فلسطین کے دورے کا موقع ملا۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیر ڈیوڈ رائزنر بریفنگ دے رہے تھے۔ وہ اسرائیلی فوج میں اہم عہدے دار رہ چکے تھے، لبنان کی جنگ میں ایک بریگیڈ کی کمان بھی کی تھی، اس کے علاوہ انتفاضہ کے دوران بھی فوج اور پولیس میں اہم عہدوں پر براجمان رہے تھے۔ اس اسرائیلی افسر نے بھارتی صحافیوں کو ششدر اور رنجیدہ کردیا، جب اس نے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے افسروںکے ’کارنامے‘ سنانے شروع کیے۔ اس نے کہا: ’’بھارتی افسر اس بات پر حیران ہو جاتے ہیںکہ شورش زدہ علاقوں میں مسلح اور غیرمسلح کی تفریق کیوںکی جائے؟‘‘ انھوں نے کہا کہ: ’’حال ہی میں اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے ایک بھارتی جنرل نے مجھے بتایا کہ کشمیر میں ہم پوری آبادی کوگھیرکرگھروں میںگھس کر تلاشیاں لیتے ہیں کیوںکہ ہمارے نزدیک کشمیرکا ہر دروازہ دہشت گردکی پناہ گاہ ہے‘‘۔ اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد کسی بھی طور پر اسرائیلی جرائم کا دفاع کرنا نہیں بلکہ صرف یہ باورکرانا ہے کہ کشمیرکس حد تک عالمی ذرائع ابلاغ میں اور سفارتی سطح پر انڈر رپورٹنگ [صحافتی نظراندازی]کا شکار چلا آرہا ہے اور وہاں ہونے والے مظالم کی تشہیرکس قدر کم ہوئی ہے۔ ڈیوڈ رائزنرنے جنرل کا نام تو نہیں بتایا، مگر یہ ضرور کہا کہ: ’’ہم نے بھارتی فوجی وفد کو مشورہ دیا کہ عسکری اور غیر عسکری میں تفریق نہ کرکے وہ کشمیر میں صورت حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں‘‘۔
کشمیر میں پلوامہ جیسے بہت سے خونیں المیے منظر عام پر لانے کے لیے تفتیشی صحافیوں، تحقیق کاروں اور مصنّفین کے منتظر ہیں۔ ان رُودادوں کی محض ایک جھلک بھارتی فلم ’حیدر‘ میں اور ایڈرین لیوی اورکیتھی اسکاٹ کی کتاب دی میڈوز  میں ملے گی۔ کشمیر پر چار صدیوں سے زائد طاقت اور خوف کے ذریعے حکمرانی کی جا رہی ہے۔خوف کی نفسیات بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے، یہاں کہیں امن و سکون نہیں، مگراس کے باوجود اہل کشمیر آلام و مشکلات کی شدت برداشت کر کے بھی حالات کے سامنے سپر انداز ہونے کو تیار نہیں۔ اسی حقیقت کا اظہار بارھویں صدی کے مشہور مؤرخ کلہن پنڈت نے کیا تھاکہ: ’’اہل کشمیرکو محض زورِ بازو سے زیر نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
 اگلے مالی سال کے دوران تعمیر و ترقی و سرکاری تنخواہوں کے نام پر بھارتی حکومت، جموں و کشمیر میں ۸۸ہزار ۹سو۱۱ کروڑ روپے صرف کررہی ہے۔بھارتی حکومت کے سالانہ۵ء۳ لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی بجٹ کا نصف، یعنی تقریباً ۷ء۱  لاکھ کروڑ روپے بھی کشمیر ہی میں خرچ ہوتا ہے۔  اس حساب کے مطابق بھارتی حکومت کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے روزانہ ۷۳۷ کروڑ، یعنی سات ارب روپے خرچ کرتی ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ بھارتی ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی   یہ کمائی کسی مثبت اور تعمیری کام میں خرچ ہو ،جس سے جنوبی ایشیا میں غربت کا خاتمہ ممکن ہو۔ درحقیقت کشمیر میں ترقی کے نام پر فنڈ فراہم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی جیل کا بجٹ بنانا۔ جیلر بھی قیدیوںکے کھانے پینے کا خیال تو رکھتا ہی ہے ۔ اگرچہ وہ کتنا ہی نرم دل کیوں نہ ہو ، اس کا اور قیدیوں کے درمیان تنائو کا رشتہ ہی رہتا ہے۔ اگر اب بھی حکومتیں اس نکتے کو سمجھنے سے قاصر رہیں گی تو یہ خطہ بدترین عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے سنجیدہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔

۱۰  دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طور پر منایا گیا۔ مختلف انجمنوں نے انسانی حقوق کی اہمیت و افادیت کی وضاحت کے لیے مختلف پروگرامات کیے۔ کچھ نے خوشیاں منائیں اور کچھ    ملول دل سے شکوے ہی کرتے رہ گئے۔ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ براے انسانی حقوق اوراس میں چند انسانی حقوق کا تذکرہ ایک بڑے سنگ میل کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ نے دنیاے انسانیت کو انسانی حقوق دیے؟ کیا اُس سے پہلے بھی کسی نے انسانی حقوق کی بات کی تھی یا نہیں؟
اس بحث کو نظرانداز کرتے ہوئے جب جموں و کشمیر میں حکومتی سطح پر قائم شہری حقوق کے کمیشن کو، انسانی حقوق کا دن منانے کی ضرورت پڑگئی تو انھوں نے اس دن منشیات سے تحفظ کی بات چھیڑی، جب کہ اسی کمیشن کی آنکھوں کے سامنے انسانی حقوق کی کتنی پامالیاں ہو رہی ہیں، مگر انھیں پوری ڈھٹائی کے ساتھ بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا۔ 
جموں و کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے مابین دونوں ملکوں کے یومِ آزادی ہی سے پیدا ہوا، جب جموں و کشمیر کے تاریخی پس منظر، مذہبی رجحان اور جغرافیہ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسے جبری طور پر بھارت کے قبضے میں معلق رکھا گیا۔ بہت سے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے جد و جہد کر تے رہے۔ لیکن ۴۷ ء سے آج تک بھارت، کشمیر میں ایجنٹوں کی خرید کا کھیل کھیلتا رہا ، کبھی جمہوریت کے نام پر اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا، کبھی ترقی کے نام پر  سادہ لوح لوگوں کو فریب دیتا رہا اور پھر مظلوموں کے بنیادی حقوق دینے سے پہلو تہی کرتا رہا۔  ۹۰ء کے عشرے میں جب یہاں کے لوگوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ بھارت دھوکے سے کام چلارہا ہے تو کشمیر کے باسیوں نے عسکریت کی راہ اپناتے ہوئے اقوام عالم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔ 
اکیسویں صدی میں قدم رکھتے ہی کشمیریوں نے حکمت عملی تبدیل کی اور بھارتی رویے سے بغاوت کے طور پر عوامی احتجاج کی راہ اختیار کی۔ لوگ بلالحاظ جنس و عمر گلیو ں کوچوں کا رُخ کرتے ہوئے پُر امن طریقے سے استبداد کے خلاف صداے احتجاج بلند کرتے رہے اور اپنے اخلاقی حق کے مطالبے کو دُہراتے رہے ۔ پُر امن عوامی مظاہرے بھارت کے لیے وبالِ جان ثابت ہوئے، کیوں کہ لوگوں کے پاس نہ کوئی ہتھیار ہے اور نہ کوئی عسکری مواد۔ لیکن ان پُرامن مظاہرین کے ساتھ بھی ایساسلوک کیاجا رہا ہے، جیسے کوئی بندوق بردار فرد، انتظامیہ پر حملہ کرنے آ رہا ہو۔   
اب بھارت ، خاص طور پر نئی دہلی میں برسرِاقتدار حکمران پارٹی کشمیر کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق مختلف شوشے چھوڑ کر عوامی رد ِعمل کو کچلنے کے بہانے تراش رہی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۸ء کے دوران اس سلسلے میں ایک باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں اگر کسی قسم کی گڑبڑ ہوئی تو ذمہ داری احتجاجی اپیل کرنے والوں کے کندھے پر ہوگی۔ اس حکم نامے کا مقصد ہند مخالف احتجاج پر قدغن لگانا ہے۔موجودہ حالات کو، ۲۰۱۶ء کی ہمہ گیر عوامی لہر کے پس منظر میں سمجھنا مناسب رہے گا۔ 
برہان مظفر وانی کے جاںبحق ہونے کے بعد، جموں و کشمیر کے طول و عرض میں عوامی احتجاجی لہر کے اثرات، اِس واقعے کو مزاحمتی تحریک میں ایک بڑے سنگ میل کی حیثیت دیتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے تناظرمیں عوامی احتجاجی لہر کی اس نئی تحریک کو اگر دورِ ما قبل برہان (Pre-Burhan Period) اورما بعدِ برہان (Post-Burhan Period) کے دو اَدوار میں تقسیم کیا جائے تو مناسب ہوگا۔ ان اَدوار کی تقسیم کی کئی وجوہ ہیں۔ جن میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب اگر کہیں حکومتی فورسز کی مڈبھیڑ عسکریت پسندوں سے ہوتی ہے تو وہاں پرعسکریت پسندوںکے حق میں عوامی مظاہرین کا سیلاب اُمڈ آتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کشمیری نوجوان، بھارت کے جنگی جنون کو دیکھتے اور اس کے مقابلے میں یہ جانتے ہوئے کہ عسکریت پسندوں کی تعداد محض چند درجن نوجوانوں پر مشتمل ہے، دیگر نوجوان عسکریت کی طرف پے در پے مائل ہورہے ہیں۔ سری نگر کے ایک ہفت روزہ انگریزی اخبارنے حال ہی میں ریاستی پولیس کے اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’اس سال ۲۵۰ کے قریب عسکریت پسندوں کو مارا گیا لیکن ابھی اتنی ہی تعداد میں سرگرمِ عمل ہیں‘‘۔ جموںو کشمیر کی تحریک میں یہ پیش رفت برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد ہی دیکھنے کو ملی ۔ 
۲۰۱۶ ء کی عوامی لہر، کشمیر کی تاریخِ مزاحمت کی طویل مدتی احتجاجی لہر تھی،جو قریباً چھے مہینوں سے زیادہ وقت تک چلی۔ اس دوران اتحادِ ملت کانفرنسوں، ہڑتالوں ، احتجاجی دھرنوں ، شبینہ مظاہروں اور مختلف کثیرالتعداد پُرامن طریقوں سے بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف ایک منظم آواز اٹھائی گئی۔ اِس پُرامن، جمہوری جدوجہد کو بندو ق کی نوک پردبانے کے لیے بھارتی جمہوریت کی فورسز نے ۱۰۰؍ سے زیادہ نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہزاروں کی تعداد میں مضروب کیے گئے، سیکڑوں پیلٹ (چھروں) سے آنکھوں کی بینائی سے محروم کیے گئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس دوران بھارت کے متعصب میڈیا نے اس عوامی لہر کے خلاف پروپیگنڈے کا نہ تھمنے والا طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ اس عوامی احتجاجی لہر کو دہشت گردی کا نام دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ پھر اس کو پاکستان کی پشت پناہی سے جوڑاگیا۔ اس کے بعد اوڑی کے فوجی بیس کیمپ پر حملے کی خود کارسازی کی گئی کہ کسی طرح سے عوامی اُبھار کو شوشے کی نذر کیا جائے۔پھر  سرجیکل اسٹرائک کا ہنگامہ گھڑکے عوام کو دھوکا دینے کی ناکامیاب کوشش کی گئی ۔ اُس پر بھی عوامی لہر نہ تھم سکی تو پاکستانی بلتستان کو میڈیا پر ایک فتنے کی صورت پیش کیا گیا۔ اُس سے بھی عوامی احتجاج کا سلسلہ نہ رُک سکا تو پھر آل پارٹی ڈیلی گیشن کے ذریعے مزاحمتی قائدین کے گھروں پر لایعنی دستک دی۔ وہ مستردہوئی تو مزاحمتی قائدین کے خلاف میڈیا کی عدالتیں بٹھاکر اُن کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی۔ 
رات کے اندھیروں میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کرکے عوامی و مبنی برحق احتجاجی لہر کو دبانے کی ناکام کوشش ہوئی۔ اس کے بعد متنا ز عہ و اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ چلایاگیا۔ کسی نے کہا کہ: ’’یہ۹۵ فی صد کے خلاف محض ۵  فی صد افراد کی مزاحمتی ہنگامہ آرائی ہے‘‘۔ پھر کٹھ پتلی حکومت کی وزیر اعلیٰ نے ڈھٹائی سے کہا کہ: ’’لوگوں کا حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں مرنا درست ہے کیوں کہ وہ وہاں مٹھائیاں لینے کے لیے نہیں جاتے‘‘۔ اسی طرح پاکستان کے ساتھ جنگ کا مفروضہ پیش کرکے لوگوں کو اتنا بہکایا کہ کنٹرول لائن اور اس کے ملحقہ دیہات میں جان کی حفاظت کے لیے مورچے تک کھود ڈالے گئے۔ اسی ضمن میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کو میدان میں اُتارا اور مزاحمتی لیڈرشپ وتاجران کو ڈرانے، دھمکانے یا پابند سلاسل کرنے کا گُر آزمایا گیا، مگر پھر بھی عوامی بغاوت میںکوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ رفتہ رفتہ کشمیر کی عزت مآب خواتین کے بال تراشنے کے سنسنی خیز عمل کو بھی آزما یا گیا، لیکن کشمیر کے لوگوں نے اس آزمایش سے بھی لڑ کر استبداد کے مذموم مقاصد کو پیوند خاک کیا، اور اپنے مشن کی آبیاری کے لیے ا ٓگے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ 
گذشتہ دوبرسوں کے دوران ان مثالوں سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ بھارت اپنی بے بسی پر سٹپٹا رہا ہے اور اقوام عالم کے ایوانوں میں دھوکا دہی کا معاملہ کر رہا ہے۔۲۰۱۸ ء کا سال اس حوالے سے سخت خون خرابے کی نذر ہو گیا ۔ وردی پوش اہلکاروں نے کشمیریوں کی ایک کثیر تعداد کو جرمِ بے گناہی کی پاداش میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ بھارتی جمہوریت نے جہاں ڈیڑھ سالہ ہبہ نامی بچی کی معصوم آنکھوں پر پیلٹ گن سے وار کرکے بینائی چھین لی، وہیں خواتین سمیت نوجوانوں اور بزرگوں کی ایک کثیر تعداد کو بھارت کی مختلف جیلوں میں ٹھونس دیا اور مختلف کالے قوانین میں جکڑکر ان سے جینے کا حق چھین لیا گیا ۔ 
ایک غیر سرکاری انجمن کی طرف سے ۱۰ دسمبر۲۰۱۸ء کو ایک تقریب میں جاری کردہ رپورٹ بعنوان خون میں لت پت وادی  میں اعداد و شمار کی زبانی کہا گیا کہ: گذشتہ برس میں وادی میں آٹھ خواتین سمیت ۱۰۳ عام شہریوں کو فورسز اور نامعلوم بندوق برداروں نے نشانہ بنایا، اور   کچھ شہری مظاہروں کی جگہ بارودی مواد پھٹنے کے نتیجے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ پھر واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ ’’۲۰۱۰ ء کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سنگین اضافہ ہوا ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق ’’عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان مختلف خونیں معرکہ آرائیوں کے دوران جاے وقوع کے نزدیک ۴۰ ؍نہتے شہری لقمۂ اجل بن گئے، جب کہ ایک طالبہ اور آٹھ خواتین جن میں ایک حاملہ خاتون بھی تھی، جاں بحق ہوئے۔ علاوہ ازیں نامعلوم بندوق برداروں نے بھی ۱۶شہریوں کو ہلاک کیا اور دو بچوں سمیت آٹھ شہری آتشیں مواد کے پھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ مرنے والوں میں مزاحمتی کیمپ کے سات سیاسی کارکنان بھی شامل ہیں، حتیٰ کہ دماغی طور پر معذور  دو افراد کو بھی نہیں بخشا گیا۔اس دوران احتجاجی مظاہروں میں شریک دونوجوانوں کو فورسز نے گاڑیوں کے نیچے کچل کر ہلاک کردیا۔ کشمیر کے ایک معروف صحافی اور مقامی انگریزی روزنامہ Rising Kashmir کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا‘‘۔ 
حکومتی ذرائع اور اخباری اطلاعات کے اعدادوشمار کے مطابق: ’’سال رفتہ میں (۱۷ دسمبر تک) کشمیر میں ۲۵۰ سے زائد عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا، اسی طرح حکومتی فورسز کے ۹۰؍اہلکار بھی ہلاک ہوئے‘‘۔ عسکریت پسندوںمیں صدام پڈر، سمیر ٹائیگر، الطاف کاچرو،   توصیف شیخ، عمر گنائی، نوید جٹ کے علاوہ کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی جاں بحق ہوئے،جن میں پروفیسر رافی، ڈاکٹر منان وانی اور ڈاکٹر سبزار احمد صوفی قابلِ ذکر ہیں ۔
۹؍ دسمبر کو جب انسانی حقوق کا دن منانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں، وہیں کشمیر میں سرینگر کے مضافات میں ۲ نوعمر عسکریت پسندوں سمیت ۳ نوجوان جاں بحق ہوئے۔ ان میں ایک کانام مدثر احمد تھا جو محض ۱۴ سال اور نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دوسرا نوجوان ثاقب بلال ۱۷سال کی عمر اور بارھویں جماعت کا طالب علم تھا۔حیران کن طور پر ثاقب بلال نے کشمیر کے مسئلے پر بنائی گئی بالی وڈ فلم ’حیدر ‘ میں کردار بھی ادا کیا تھا۔ ۱۳ دسمبر کو سوپور کے علاقے میں مزید دو عسکریت پسند   جاں بحق ہوئے، جن میں ایک نے سائنس میں گریجویشن کی تھی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے پیشہ ورانہ کورس سے بھی فارغ التحصیل تھے۔ 
اس دوران ۱۵ دسمبر کو کشمیر میں اُس وقت قیامت صغریٰ برپا کر دی گئی، جب ۳ عسکریت پسندوں کے حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں عام شہریوں پر براہِ راست فائرنگ کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سات نوجوانوںکو بھارتی افواج نے موت کا نوالہ بنا دیا اور ۶۰سے زیادہ افراد کو زخمی کردیا۔ ان میں ۳۲  سالہ عابد حسین ایم بی اے گریجویٹ تھے اور انڈونیشیا میں روزی کما رہے تھے اور وہیں ایک مقامی لڑکی سے شادی کی تھی۔ عابد اپنے پیچھے بیوی سمیت تین ماہ کی بچی زَیناکو چھوڑ گئے۔ دوسرے نوجوان لیاقت احمد نے گھر سے اسکول کے لیے داخلہ فیس لے کر ضلع پلوامہ کا رخ کیا تھا، لیکن حالات کی خرابی کی وجہ سے گھر کی طرف واپسی کی راہ لی، جہاں وہ گولی کا نشانہ بنے۔تیسرے نوجوان سہیل احمد نے نویںجماعت پاس کرکے حال ہی میں دسویں جماعت میں داخلہ لیا تھا۔ چوتھا نوجوان عامر احمد اپنے والد کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ پانچویں نوجوان اویس یوسف بارھویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ چھٹے نوجوان کی شناخت توصیف احمد کے طور پر ہوئی، جو پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ پھر ساتویں نوجوان عاقب بشیر جو کہ محض ۱۴سال کی عمر اور ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عاقب بشیر کے والد مقامی ہسپتال سے گزر رہے تھے کہ اُن کو خیال آیا کہ زخمیوں کی عیادت کروں اور خون کا عطیہ دوں۔ وہاں زخمیوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے اُن پر اُس وقت قیامت ٹوٹ پڑی، جب وہ وہاں پر اپنے بیٹے کی نعش دیکھ کر چلّا اٹھے کہ ’’یہ ہو چھ میون نیچو ! ‘‘(یہ تو میر ا بیٹا ہے!)۔ عسکریت پسندوں کی شناخت ظہور احمد، عدنا ن حمید اور بلال احمد کے طور پر ہوئی ۔ ظہور احمد نے مقامی آرمی کے ایک یونٹ سے ۲۰۱۷ ء میں فرار ہوکر عسکریت کی راہ اختیار کی تھی۔ ان میں۲۴سالہ عدنان، ۱۹ سالہ بلال بھی تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کب تک یہ خون کی ہولی کھیلتا رہے گا؟ کیاایسی دھونس، دبائو اور جبر و تشدد کی پالیسی سے کشمیریوں کو زیر کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ متنازعہ خطے میں مظالم ڈھانے یا مار دھاڑ کی کارروائیاں عمل میں لانے سے کسی بھی انسان کو آزادی اور انصاف کے حصول سے روکا نہیں جا سکتا۔ پھر، جب کشمیر کے لوگ اپنے حق کی خاطر قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیںکرتے، تو دنیا کی کوئی طاقت ان سے اِس حق کو بھلا دینے کا کیسے تصور کرسکتی ہے؟ اس بات کا قدم قدم پر ثبوت ملتا ہے کہ مقامی لوگ، عسکریت پسندوں اور حکومتی فورسز کے مابین تصادم کی جگہوں پر، عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر باہر نکل آتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ انکاؤنٹر یا تصادم کی جگہوںپر، گولیوں کی گھن گھرج میں کیوں عسکریت پسندوں کو بچانے کی خاطر نکلتے ہیں ؟ اس ’کیوں‘ پر اگر تھوڑا سا غورکیا جائے تو بات یہ سمجھ میں آجاتی ہے کہ عسکریت پسندوںکے ساتھ لوگ اپنی وابستگی کافطری اظہار کرتے ہیں اور اُن سے جذبۂ عقیدت کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اُن کی جانوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ چندنوجوان ہیں جنھوںنے عسکریت کی راہ اپنالی ہے لیکن عام لوگ انھیں اپنے سے دور نہیںسمجھتے، بلکہ تصادم کی جگہوں پر نکل کر وہ اقوامِ عالم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ: ’’اگرچہ بظاہر یہ چند نوجوان ہی ہیں، لیکن پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے عسکریت پسندوںکو مارنے کے ساتھ ساتھ پہلے ہمارے سینوں پر گولیاں برسائو‘‘۔
 لوگوںکے اس غیر مبہم رجحان سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ کشمیر کی پوری قوم بھارت نواز سیاست دانوں سے بے زار ہے۔ بھارت اپنی فوجی طاقت کے بل پر بدمست ہو چکا ہے اور کشمیری قوم کے ساتھ بحیثیت مجموعی بر سرِ جنگ ہے۔ کشمیر کے متعلق دہلی کی پالیسی کاحاصل  اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ ریاست میں حالات اور زیادہ مخدوش ہو جائیں۔ زمینی صورتِ حال اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیر کی پوری قوم جابرانہ قبضے کے خلاف اپنا تن، من ،دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ 
کیا یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی کہ عسکریت پسند جب کسی تصادم آرائی میں پھنس جاتے ہیں اور اپنے والدین سے آخری ملاقات کی خاطر فون پر بات کرتے ہیں تو کشمیر کی عظیم مائیں انھیں دلاسہ دیتی ہیں کہ ’’میرے لاڈلے، تم نے نہیں جھکنا، میں نے تمھاری اسی لیے پرورش اور تربیت کی ہے، اسی لیے تو پڑھایالکھایا ہے کہ تیرے سینے پر گولی لگتے دیکھ لوں اور تو اپنے گھر شہادت کا   عظیم مرتبہ پاکر آئے، میں تمھیں دولھے کی طرح سجا کر رب ذُوالجلال کے حوالے کرنے کے لیے تیاربیٹھی انتظار کروں ‘‘۔بیٹا جب ماں سے دنیا میں اس کی کسی حق تلفی کی معافی طلب کرتے ہوئے کہتاہے کہ ’’ماں! اب تو میں بھاگتے بھاگتے تھک گیا ہوں، مجھے تو اللہ پاک کا بلاوا آیا ہے اور ہم وہیں ملیں گے‘‘ تو عزیمت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ماں کہتی ہے کہ ’’ بیٹے! تو مجھے معاف کرنا، مجھے نہیںمعلوم کہ اپنے رب کے راستے میں شہادت دینے کے لیے میں تمھاری تربیت صحیح طور پر کرسکی یا نہیں، میری جان تم پر فدا ہو، جائو! مَیں تم سے وہیں اللہ کی عدالت میںملاقات کروں گی ‘‘۔ 
اپنے مقصد کے لیے نظریاتی و جذباتی وابستگی کی اس انتہا کو دیکھ کر شاید ہی کوئی ذی حِس انسان اس خودفریبی کا شکار ہوسکتا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو دبائے رکھنا ممکن ہے، یا اُن کی آواز کو کچل ڈالنا ، انھیں بدنام کرنا، یا انھیں اُن کے مقصد سے دور کرنے کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ 

ایک امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق: ’بھارت میں مئی ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات کے دوران موجودہ وزیر اعظم نریندرا مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، ۵۴۳ رکنی لوک سبھا میں ۱۷۹نشستوں تک سمٹ جائے گی‘۔ گویا اگر موجودہ عوامی رجحان برقرار رہتا ہے ، تو۲۰۱۴ء کے مقابلے اس کی ۱۰۷نشستیں کم ہوجائیں گی۔ اسی لیے بھارتی حکمران پارٹی ۲۰۱۹ء میں اقتدار میں اعتماد کے واضح ووٹ (مینڈیٹ) کے ساتھ واپسی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ پانچ ریاستی انتخابات کے تلخ نتائج کے بعد اس انتہاپسند قیادت کے بیانات میں یہ پیغام واضح انداز میں سامنے آرہا ہے کہ: ’’اب تعمیر و ترقی کے بجاے پاکستان کے نام پر ہندو ووٹروں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے ووٹ بٹورنے ہیں‘‘۔
 فی الحال بی جے پی ، اس کی ذیلی اور مربی تنظیمیں اتر پردیش کے ایودھیا شہر میں مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے حوالے سے ایک عوامی تحریک برپا کرنے کی سوچ بچار میں اُلجھی ہوئی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معیشت کی بے حالی سے توجہ ہٹاکر ہندو ووٹروں کو ایک بار پھر جذباتی نعروں میں الجھا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے جاسکتے ہیں۔ پارلیمان کے موجودہ اجلاس سے قبل بی جے پی کے اراکین خم ٹھونک کر اعلان کر رہے تھے کہ: ’’اس سیشن میں قانون پاس کرواکر رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کروایا جائے گا، کیوںکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے‘‘۔ شواہد واضح طور پر بتاتے ہیں کہ بی جے پی بھی اس قضیے کو سلجھانے کے بجاے عوامی جذبات کی بھٹی تپائے رکھنا چاہتی ہے۔ 
ہندی کے ایک معروف صحافی شتیلا سنگھ نے اپنی کتاب ایودھیا- رام جنم بھومی اور بابری مسجد  تنازعے  کا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ: تین عشرے قبل ان کی موجودگی میں پرم ہنس رام چندر داس کی قیادت میں فریقین نے ایک فارمولے پر اتفاق کیا تھا۔ انتہا پسند تحریک ’ویشوا ہندو پریشد‘(VHP) کے سربراہ اشوک سنگھل جب اس فارمولے پر مہر لگانے کے لیے ہندو انتہا پسندو ں کی مربی اور سرپرست تنظیم آرایس ایس کے سربراہ بالا صاحب دیورس کے پاس پہنچے ، تو دیورس کا کہنا تھا:’’ رام مندر تو ملک میں بہت ہیں، اس لیے اس کی تعمیر کی فکر چھوڑ کر اس کے ذریعے ہندوؤں میں اُبھار پکڑتی بیداری کا فائدہ اٹھانا ہی مفید ہوگا‘‘۔ یعنی اگر معاملہ سلجھ جاتا ہے تو پھر فرقہ وارانہ سیاست کی آگ سلگا کر اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بند ہوجائے گا۔
جہاں دیدہ تجزیہ کاروں کے مطابق بابری مسجدکا سانحہ اس خطے کی جدید تاریخ کے     چھے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ پہلا ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، دوسرا ۱۹۲۰ء میں گاندھی جی کی قیادت میں کانگریس کا نیا آئین اور ’سوراج‘ [آزادی] کا مطالبہ، تیسرا ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند اور آزادی، چوتھا ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کا وجود میں آنا‘ اور پانچواں ۱۹۸۴ء میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پرحملہ، اور چھٹا ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کا انہدام، جو دراصل اعتماد کا انہدام تھا۔
سچی بات ہے کہ بابری مسجدکی شہادت میں بھارتی عدلیہ اور انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کرکے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا پول کھول دیا، مگر اس کے باوجود آج تک بھارت کو ایک سیکولر اور لبرل ملک کے طور پر مغرب میں پذیرائی حاصل ہے۔ اعتبار کی رہی سہی کسر ۳۰ دسمبر ۲۰۱۰ء کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے بنچ نے اس وقت پوری کر دی، جب برسوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس نے قانون اور شواہد کو بالاے طاق رکھ کر، ایک فریق کے عقیدے اور یقین کو بنیاد بنا کر بابری مسجد پر حق ملکیت کا فیصلہ ہندوئوں کے حق میں سنا دیا۔ بنچ کے ایک جج نے زمین کے بٹوارے کی تجویز دی۔ پھر بنچ نے آگے بڑھ کر ان نکات پر بھی فیصلہ دیا جو بحث میں شامل ہی نہ تھے۔ 
یہ ایک سیدھا سادا سا ملکیتی معاملہ تھا۔ ۱۹۴۹ء میں جب چند فتنہ پرور افراد نے مسجد کے منبر پر مورتی رکھ دی اور مقامی انتظامیہ نے تالہ لگا کر مسجد میں مسلمانوںکے عبادت کرنے پر پابندی لگادی، تو مقامی ’وقف بورڈ‘ اور ایک ذمہ دار فرد ہاشم انصاری نے اس کے خلاف عدالت میں فریاد کی کہ: ’’اس جگہ کی ملکیت طے کی جائے‘‘۔ جج صاحبان نے برسوں کی عرق ریزی کے بعد قانون اور آئین کی پروا کیے بغیرکہا کہ:’’ Law of Limitations  [قانونِ تحدید]کا اطلاق ہندو دیوی دیوتائوں پر نہیں ہوتا ہے اور نہ ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں ان کی نشانیاں موجود ہوں‘‘۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا کہ کسی بھی جگہ پر اگر کوئی شخص کوئی مورتی، چاہے وہ پتھرکا ٹکڑا یا کسی درخت کی شاخ یا پتا ہی کیوں نہ ہو، رکھ کر اس پر مالکانہ حقوق جتلا سکتا ہے، چاہے اس جگہ کا مالک وہاں کیوں نہ صدیوں سے مقیم ہو۔ 
اس فیصلے کا اعتبار اس وقت اور بھی زیادہ مضحکہ خیز ہو جاتا ہے، جب جج صاحبان نے یہ تسلیم کرلیا کہ: ’’بھگوان رام کا جنم اسی مقام پر ہوا تھا، جہاں بابری مسجدکا منبر واقع تھا‘‘ اور یہ بھی کہا کہ: ’’ان کے مطابق رام آٹھ لاکھ سال قبل مسیح، اسی جگہ پر موجود تھے‘‘۔ دنیا بھر کے تاریخ دان اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اتنی پرانی آبادی کے کوئی آثار  ابھی تک نہیں ملے ہیں۔ پھر ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے طویل فیصلے میں سیاق و سباق کے برعکس مسلم حکمرانوں کے خلاف ایک لمبا چوڑا تبصرہ بھی تحریر کر ڈالا ہے اور ان کے دور میں ہندو عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بھی اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے۔
 اگر یہ بات درست مان لی جاتی ہے تو پھر ہندو حکمرانوں کے ہاتھوں لاتعداد بدھ خانقاہوں کی بے حرمتی اور ان کی مسماری کس کے کھاتے میں ڈالی جائے گی؟ کشمیر کے ایک ہندو بادشاہ  ہرش دیو نے اپنے خالی خزانوں کو بھرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے مندروں کو لوٹا اور جب پجاریوں نے مزاحمت کی تو ان کو بے دریغ تہہ تیغ کر دیا (جب کہ اس سے قبل ہندوئوں نے بڑے پیمانے پر جین مت اور بدھ مت کے مندروں کو توڑا، برباد کیا تھا)۔ اگر ان تاریخی واقعات کا انتقام موجودہ دور میں لینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، تو اس کا اختتام کہیں نہیں ہو گا، کیوںکہ ہر قوم نے، ماضی میں جب وہ غالب رہی، کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کی ہوگی، جو کسی نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا سبب بنی (ہم یہاں ان کہاوتوں، قصوں اور کہانیوں کی تصدیق کی بات نہیں کر رہے، محض انھیں دُہراتے رہنے کی بات کر رہے ہیں)، مگر اب آباواجداد کے گناہوںکی سزا سیکڑوں برس بعد ان کی اولادوں کو تو نہیں دی جا سکتی۔

  • مسجد شہید گنج: بابری مسجد کے قضیے کا لاہورکی مسجد شہید گنج [قائم شدہ: ۱۶۵۳ء] المیے کے ساتھ موازنہ کرنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ کیس اور اس پر پاکستانی معاشرے کا رویہ، بھارتی سیکولرازم او ر اس کی لبرل اقدار پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ۱۷۶۲ء میں لاہور پر سکھوں نے قبضے کے بعد اس مسجد کو فوجیوں کے ڈیرے میں تبدیل کر ڈالا اور بعد میں اس کوگوردوارہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ۱۸۴۹ء میں جب پنجاب برطانوی سامراج کی عملداری میں شامل ہوا، تو مسلمانوں نے اس مسجد کی بحالی اور واگزار کرنے کا مطالبہ کیا۔ پریوی کونسل نے ’قانونِ محدودیت‘ کو بنیاد بنا کر اس کا فیصلہ سکھوں کے حق میں دے ڈالا۔ ۱۷؍اپریل۱۸۵۰ء کو مسجد کے متولی نوراحمد نے بالاتر عدالت میں دادرسی کے لیے فریاد کی اور پھر ۱۸۸۳ء تک کے مختلف دروازوں پر دستک دیتے رہے، مگر ہر بار ’قانونِ محدودیت‘ کا حوالہ دے کر عدالتیں ان کی اپیلوں کو خارج کرتی رہیں۔ 

۱۹۳۵ء میں انگریز گورنر نے اس عمارت کو محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے کی تجویز دی، جس پر ابھی راے عامہ ہموار ہو ہی رہی تھی کہ ۷جولائی کو سکھوں نے رات کے اندھیرے میں مسجد کی عمارت ڈھا دی۔ جب اس جارحانہ اور حددرجہ اشتعال انگیز اقدام پر تاریخی بادشاہی مسجد لاہور سے مسلمانوں نے ۲۰جولائی احتجاجی جلوس نکالا تو ایک درجن سے زیادہ مسلمان مظاہرین کو پولیس نے گولیوں کی بوچھاڑ سے شہید کردیا۔ پورے لاہور میں کرفیو نافذکرنا پڑا۔ عدالتی فیصلے کو رد کرنے کے لیے مسلم لیگ کے ارکان نے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے یہ جگہ مسلمانوں کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کی۔ معروف قانون دان اے جی نورانی کے بقول: ’قائد اعظم محمد علی جناح نے اس تجویز کو رد کر دیا ‘۔ قائد اعظم کے شدید ناقد ہونے کے باوجود نورانی صاحب کا کہناہے کہ: ’’انھوں نے اس قضیے کو کبھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیںکیا، بلکہ قانون کی عمل داری کا پاس کیا‘‘۔ 
پاکستان بننے کے ۷۲سال بعد آج بھی یہ گوردوارہ لنڈا بازار میں موجود ہے،جب کہ شاید ہی اب کوئی سکھ اسے عبادت کے لیے استعمال کرتا ہو۔ لاہور میں جس طرح اس مسئلے نے جذباتی رخ اختیار کیا تھا، آزادی کے بعداندیشہ تھاکہ اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، مگر کسی پاکستانی سیاست دان یا پاکستان کی کسی مذہبی شخصیت نے عدالت کا فیصلہ رد کرنے کی کوشش نہیں کی [طرفہ تماشا دیکھیے کہ سیکولر، لبرل مخلوق پاکستان ہی کو عدم برداشت کا طعنہ دیتی ہے]۔ اس کے برعکس بھارتی عدلیہ کی جانب داری کا عالم یہ ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے ’ہندوتوا‘ کو مذہبی علامت کے بجاے بھارتی کلچرکی علامت اور ایک نظریہ زندگی قرار دے ڈالا ہے۔ انھوں نے ہندو انتہا پسندوںکے گورو ویر ساورکر اور گولوالکر کی تصانیف کے بجاے ’روشن خیال‘ مولانا وحیدالدین خان کی تحریروںپر تکیہ کر کے ہندو انتہا پسندی کو جواز فراہم کردیا۔ ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وینکٹ چلیا کے طریق کار نے بھی بابری مسجد مسمارکرنے کی راہ ہموارکی۔ وہ مسجد کو بچانے اور آئین و قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کے بجاے کار سیوکوں (مسجد کو مسمار کرنے والے) کی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند نظر آئے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ۱۹۹۸ء میں بی جے پی حکومت نے ان کی فکری خدمات کے اعتراف میں انھیں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا۔
اے جی نورانی صاحب نے اس موضوع پر اپنی کتابDestruction of Babri Masjid:A National Dishonour (بابری مسجد کا انہدام: قومی روسیاہی)میں کئی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’’کانگریس کے اندرا گاندھی دورِ اقتدارمیں ہی  بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے ویشوا ہندو پریشد کے ساتھ سازباز ہوگئی تھی۔اگرچہ پریشد نے اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد اپنی تحریک روک دی، مگر راجیو گاندھی نے اس کو پھر زندہ کیا۔تاہم ، اس سے پہلے وہ مسلمانوں پر کوئی احسان کرنا چاہتے تھے۔اس کے لیے ان کے حواریوں نے ایک مسلم مطلقہ خاتون شاہ بانو کا قضیہ کھڑا کیا اور پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کروایا کہ مسلم پرسنل لا میں عدالت کوئی ترمیم نہیں کر سکتی‘‘۔
مصنف کے بقول: ’’انھوں نے راجیو گاندھی کو مشورہ دیا تھا کہ اس قضیے کو کھینچنے کا کو ئی فائدہ نہیں ہے، اور اس کو اینگلو محمڈن قانون کے بجاے شرعی قانون کے مطابق حل کیا جاسکتا ہے ،مگر وہ مسلمانوںکو سیاسی بے وقوف بنانے پر تلے ہوئے تھے، تاکہ پریشد کے ساتھ معاملہ فہمی کو آگے بڑھایا جاسکے، اور پھر یہی ہوا۔کانگریس کے علاوہ دیگر سیکولر جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، جن کی سانسیں ہی مسلمانوں کے دم سے ٹکی ہیں، ان سبھی کا رویہ افسوس ناک رہا ہے۔  ان دونوں پارٹیوں نے ،جو پچھلے ۲۰برسوں سے اتر پردیش میں حکومت کر رہی ہیں ،بابری مسجد کی مسماری کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں دکھائی۔حتیٰ کہ ایک معمولی نوٹیفکیشن تک کا اجرا نہیں کرسکیں، جس سے خصوصی عدالت میں ان افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا‘‘۔

ایک عرصہ قبل ایک ہندو دوست اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں منانے کشمیر جا رہا تھا۔ جانے سے قبل ہچکچاتے ہوئے اس نے کہا کہ : ’’میرا ۱۴سالہ بیٹا، جو دہلی کے ایک اعلیٰ اسکول میں زیر تعلیم ہے، مسلمانوں کے بارے میں عجب و غریب خیالات رکھتا ہے، اور ان کو ایک طرح سے عفریت سمجھتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میرا بیٹا کچھ وقت کسی مسلم فیملی کے ساتھ گزار کر مسلمانوں کے بارے میں خود مشاہدہ کرسکے‘‘۔ اس خواہش کے احترام کے لیے سرینگر میں ہمارے ایک دوست نے میزبانی کا بیڑا اٹھایا ۔ فیملی اور بچوں کے ساتھ چند روز گزارنے کے جب و ہ واپس دہلی وارد ہوا، تو اس لڑکے میں ایک انقلابی تبدیلی آچکی تھی۔ اس کے ساتھ میرا اکثر مکالمہ اور تعامل ہوتا تھا۔ بعد میں اس کے والد نے مجھے بتایا کہ: ’’نہ صرف میرے صاحبزادے بلکہ خود میری اپنی کئی غلط فہمیاں دُور ہوگئی ہیں جنھوں نے ہمارے ذہنوں کو مکڑی کے جالے کی طرح جکڑ رکھا تھا‘‘۔

حال ہی میں دفتر میں میری ایک شریکِ کار نے بتایا کہ ان کے والد ، جو ممبئی کے ایک نامور بزنس مین ہیں، مسلمانوں کو پاس نہیں آنے دیتے۔ اگرچہ کام کے سلسلے میں اکثر ان کا واسطہ مسلمان کاریگروں ہی سے ہوتا ہے، مگر وہ زیادہ سے زیادہ گھر کے برآمدہ تک ، یا ان کے دفتر میں ان کے کیبن کے باہر اپنے معاملات کو نبٹانے آسکتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ: ’’تم واحد مسلمان ہو  جس سے میرے والد خوش اخلاقی اور گرم جوشی کے ساتھ ملتے ہیں‘‘۔ اب مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کو اپنی تعریف سمجھوں یا اپنے مسلمان بھائیوں کی توہین کے طور پر لوں۔

مشہور بھارتی دانش ور اور صحافی سعید نقوی نے اپنی کتاب Being the Other  میں کچھ اسی طرح کے مشاہدات کا ذکر کیا ہے۔ ان کی اصل کتاب انگریزی میں پچھلے سال منظر عام پر   آئی تھی، تاہم اس کا اُردو ترجمہ وطن میں غیر ہندستانی مسلمان  کا اجرا چند روز قبل دہلی میں سابق نائب صدر حامد انصاری نے کیا۔نقوی صاحب رقم طراز ہیں کہ: ’’ایک بار الٰہ آباد یونی ورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے مَیں نے سامعین سے سوال کیا کہ کتنے ہندو طالب علم یا اساتذہ ، کبھی کسی مسلم ساتھی کے گھر گئے ہیں یا قریب سے مسلمانوں کو جاننے کی کوشش کی ہے؟ تو میرے اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ چند ایک نے کہا کہ ان کے والد یا دادا اُردو اور فارسی جانتے تھے جو ان کے مذہبی تعصب سے آزاد ہونے کی شہادت تھی، مگر مجھ پر قدم قدم پہ یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ہم عشروں سے نسلی تفریق اور غیریت کی حالت میں جی رہے ہیں اور اس کو تسلیم بھی نہیں کرتے ہیں‘‘۔

 سعید نقوی بھار ت کے ان گنے چنے مسلمانوں میں سے ہیں، جنھوں نے ذاتی طور سے بہت کامیاب زندگی گزاری۔ پانچ عشروں پر محیط اپنے صحافتی کیریر کے دوران وہ مقتدر انگریزی اخبارات اسٹیٹسمین اور انڈین ایکسپریس کے مدیر رہے۔ ان کی بیٹی صبا نقوی اور بھائی جاوید نقوی نے بھی صحافت کی دنیا میں خاصا نام کمایا ہے، مگر ان پانچ دہائیوں میں شاید ہی کبھی ان کو اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش آیا ہوگا۔ ایک لبر ل مسلمان، جو بھارت کے سیکولر کلچر میں رچ بس گیا ہو، جن کے گھر پر عید اور محرم کے ساتھ ساتھ دیوالی اور ہولی بھی اتنے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جاتی ہو، جن کی بیٹی، بھائی ، بھانجی اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے ہندو خاندانوں میں شادیاں کی ہوں، اگر وہ اب اپنے آپ کو ’غیر‘ محسوس کرتے ہوں، تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمان کا کیا حال ہوگا۔

بھارت میں مسلمان کس حد تک سیاسی طور پر بے وزن ہوچکے ہیں؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے مقتدر لیڈر اور ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے حال ہی میں شکوہ کیا کہ: ’’میری پارٹی کے ہندو اراکین اب مجھے اپنے حلقوں میں جلسے اور جلوسوں میں مدعوکرنے سے کتراتے ہیں‘‘۔ لکھنؤ میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ لیڈر نے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے کہا: ’’۱۹۷۳ء میں کانگریس میں شمولیت کے بعد سے لے کر آج تک میں نے ہر انتخابی مہم میں شرکت کی ہے اور ہندو لیڈر، مجھ کو اپنے انتخابی حلقوں میں لے جانے کے لیے بے تاب ہوا کرتے تھے۔ پہلے جہاں جلسے جلوسوں میں مجھ کو مدعوکرنے کے لیے ۹۵فی صد درخواستیںہندو لیڈروں کی آتی تھیں، اب پچھلے چار سالوں میں سکڑ کر محض ۲۰فی صد رہ گئی ہیں‘‘۔ غلام نبی آزاد، جموں کشمیر ، ضلع ڈوڈہ میں ایک مقامی کانگریسی لیڈر کے گھر پیدا ہوئے ، مگر اپنی انتخابی زندگی کا آغاز۱۹۸۰ء میں مہاراشٹر کے ہندو اکثریتی   لوک سبھا حلقہ واسن سے کیا۔ وہ ۱۹۸۴ء میں دوبارہ اسی سیٹ سے منتخب ہوئے۔ اکثر فخر سے یہ کہتے تھے کہ: میرا سیاسی کیریئر اقلیتی سیاست کے بجاے بھارت کے سیکولر ہندو اکثریت کا مرہونِ منت ہے۔ ۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۸ء تک جموں و کشمیر کے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے علاوہ آزاد نئی دہلی میں سینیر مرکزی وزیر اور کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز مجلس، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے برسوں ممبر اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ من موہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس حکومت میں مرکزی وزیر صحت کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

 ایک روز صبح سویرے ان کا فون آیا کہ کسی وقت ان سے دفتر میں آکر مل لوں۔ کشمیر ٹائمز کے دہلی بیورو میں کام کرنے کی وجہ سے ان کو کور کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری (beat)کا ایک حصہ تھا۔ آفس جاتے ہوئے میں نرمان بھون میں وزارت صحت کے ہیڈ کوارٹر پہنچا اور ان کے پرسنل سیکریٹری راما چندرن کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس نے مجھے انتظار گاہ میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ جنوبی بھارت کا یہ نوجوان خاصا نک چڑھا ملازم تھا۔ میں نے دیکھا کہ وزیر موصوف کے کمرے کے باہرسبز بتی جل رہی تھی، جس کا مطلب تھا کہ وہ کسی میٹنگ میں مصروف نہیں ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ راما چندرن جی انتظار گاہ میں آنے والے افراد کو ایک ایک کرکے یا وفد کی صورت میں وزیر کے کمرے میں لے جارہے تھے۔ میں نے ان کو یاد دلایا کہ وزیر موصوف نے خود مجھے بلایا ہے۔ قریباً ایک گھنٹے تک نظر انداز کرنے کے بعد موصوف نے مجھے اپنے کمرے میں بلا کر پرسوں ملاقات کے لیے آنے کو کہا۔ میرے بار بار کے اصرار پر وجہ یہ بتائی کہ: ’’آج ملاقاتیوں کی لسٹ میں مسلمان نام کچھ زیادہ ہیں۔ ہمیں وزیر سے ملنے والوں میں توازن رکھنا پڑتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہم ایک سیکولر ملک میں رہتے ہیں اوراس کا تقاضا ہے کہ وزیر سے ملنے والوں کی لسٹ بھی سیکولر ہو۔ آج کی لسٹ میں ہندو ملاقاتیوں کی تعداد کچھ کم ہے‘‘۔ راما چندرن کی یہ وضاحت سن کر  مَیں چکرا گیا۔ لیکن جاتے جاتے ان کو بتایا کہ: ’’آزاد صاحب خاص طور پر اس وقت وزارتی کونسل میں صرف مسلمان اور کشمیر ی ہونے کی حیثیت سے وزیر ہیں‘‘۔

 پچھلے سال وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی صوبہ گجرات میں کانگریس نے بی جے پی کو ہروانے کے لیے جہاں پوری قوت جھونک دی تھی، وہیں کارکنوں کو باضابط ہدایت دی گئی تھی کہ اسٹیج پر کوئی مسلم لیڈر براجمان نہ ہو۔ حتیٰ کہ گجرات سے کانگریس کے مقتدر لیڈر اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو پس پردہ رہنا پڑا۔ امیدوارں کو بتایا گیا تھا کہ وہ مسلم محلوں میں ووٹ مانگنے نہ جائیں اور جلسے ، جلوسوں میں لمبی داڑھی اور ٹوپی والوں کو اگلی صفوں میں نہ بٹھائیں۔ کچھ اسی طرح کی حکمت عملی کانگریس اب ۲۰۱۹ء میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا رہی ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کا خیال ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مندروں اور مٹھوں میں جاکر آشیر واد لینے سے وہ خود کو مودی سے زیادہ ہندو ثابت کرکے بی جے پی کے ہندو ووٹ بنک میں نقب لگا سکیں گے۔ پارٹی کے اندر سے یہ خبریں بھی اب چھن چھن کر آرہی ہیں کہ مسلم لیڈروں کو بتایا گیا ہے کہ: ’’انتخابات میں آپ ٹکٹ یا مینڈیٹ کے حصول کے لیے تگ و دو نہ کریں اور حلقے کے لیے کسی مضبوط سیکولر ہندو امیدوار کر ترجیح دے کر اس کو کامیاب بنائیں‘‘۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس طرح اگلی پارلیمان میں مسلمانوں کی سیاسی نمایندگی مزید کم ہوجائے گی۔

نریندر مودی اور ان کے دست راست بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے تقریباً طے کیا ہے کہ: ’’بگڑتی ہوئی معیشت، بے روزگاری اور کرپشن سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پولارائزیشن [مسلمانوں سے نفرت کو پھیلانا ہی] بہترین ہتھیار ہے۔ ہندو کو مسلمانوں کا خوف دلاکر ان کو یک جا کرکے مسلم ووٹ بنک کی ہوا نکالی جائے۔ ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ ایک عالی شان رام مندر کی تعمیر کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کرکے اس کو ایک انتخابی موضوع بنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ انتہاپسند ہندو حلقے اس لیے بھی تلملائے ہوئے ہیں کہ نئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس معاملے کی تیزی سے سماعت کرنے سے انکار کیا ہے۔ان انتہاپسندوں کا منصوبہ تھا کہ جب سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوگی تو کارروائی کے دوران دلائل اور شواہد کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کرکے ایشو کو انتخابات تک خوب گرم رکھا جائے گا، لیکن چیف جسٹس نے کم از کم اس منصوبے پر تو پانی پھیر دیا ہے۔ اسی طرح کشمیر میں    بے یقینی کی آگ جلائے رکھنا، ملک میں ہندوؤںکو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے پولارائزڈ [متحارب اور نفرت بھرا] ماحول برقرار رکھنا بھی بی جے پی کے انتخابی منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تعلیم و ترقی کے بجاے عدم تحفظ کا احساس زیادہ گھر کر گیا ہے، جوایک خطرناک علامت ہے۔

آج کے بھارت میں مسلمانوںکی سیاسی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ اس کی تفصیل بیان کرنا ہرگز مشکل کام نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پتا ہے کہ مسلمان ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا اس لیے اسے ان کی کوئی پروا نہیں۔ اس کے لیڈروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلم ووٹ تقسیم در تقسیم اور ہندو ووٹ یک جا ہو۔ ادھر سیکولر پارٹیوںکو معلوم ہے کہ آر ایس ایس یا  بی جے پی کے مقابلے میں مسلمان کہاں جائے گا، ووٹ تو بہرحال انھی کو ملنا ہے، اس لیے وہ بھی ان کے سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل نہیں کرتے۔

سعید نقوی، غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے مقتدر مسلمان لیڈران کرام، جنھیں بھارت کے سیکولر چہرہ کو وقار بخشنے کے لیے اکثر رول ماڈل کے بطور پیش کیا جاتا تھا ، جن کو عام مسلمان پہلے سے ہی ’سرکار ی مسلمان‘ کے نام سے نوازتا تھا ، اب وہ مسلمان بھی اپنے آپ کو سسٹم سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیرالدین شاہ نے حال ہی میں اپنی شائع کردہ سوانح حیات کا عنوان ’ سرکاری مسلمان ‘رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: بدقسمتی سے ان کا سامنا کئی ایسے کامیاب مسلمانوں سے ہو ا ہے جو اپنے سیکولرہونے کا بھرم رکھنے کے لیے مسلم فرقہ اور معاشرت سے دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مسلم افسر کو اپنی کمیونٹی کے مفاد اور اپنی نوکری کے درمیان خاصی باریک اور تنی ہوئی رسی پر چلنا پڑتا ہے۔ اس طرح اکثر اپنی نوکری کو ترجیح دے کر اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ 

جنرل ضمیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ جب میرے والد کو بحیثیت ایڈمنسٹریٹر اجمیر بھیجا گیا تو وہاں مسلمانوں کا رد عمل تھا کہ ایک اور ’سرکاری مسلمان‘ آگیا ۔ مطلب پوچھنے پر والد نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان کسی بڑے سرکاری عہدے پر پہنچ جاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اب ان کا خیر خواہ نہیں رہا ، اب یہ حکومت کی زبان بولے گا اور عام مسلمانوں سے کٹ کے رہے گا‘‘۔ جنرل ضمیر کا مزید کہنا ہے کہ ۱۹۷۰ء میں بحیثیت فوجی افسر جب مَیں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی ایک اسپورٹس ٹیم کی مسوری میں میزبانی کر رہا تھا، تو مَیں نے مسلمان ٹیم ممبران کو فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ کئی روز کے بعد جب یہ ٹیم واپس جارہی تھی تو مَیں نے ان سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ تعلیم کے بعد اب کیا آپ فوج میں بھرتی ہوں گے؟ تو جواب میں کسی نے بھی ہامی نہیں بھری۔ جب ان سے سوال کیا کہ کیا مَیں آپ کو قائل نہیں کرسکا؟ تو سبھی کا مشترکہ جواب تھا: ــ’’آپ تو سرکاری مسلمان ہیں۔ آپ کی بات پر کیسے بھروسا کرسکتے ہیں‘‘۔

نقوی اور ضمیر الدین شاہ کی کتابوں میں ایک نہایت گہری، سچی، تلخ اور بڑی تکلیف دہ ٹیس بیان کی گئی ہے، جو تقریباً ایک صدی قبل قائد اعظم محمد علی جناح نے محسوس کرکے اور پھر کانگریس کو الوداع کہہ کے متعین کی تھی۔ نقوی صاحب کاماننا  ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ تعصب کوئی نئی بیماری ہے۔ ۱۹۶۰ء میں جب وہ دہلی میں روزنامہ انڈین ایکسپریس میں کام کرنے آئے تو انھیں گھر نہیں مل رہا تھا تو کلدیپ نیر نے مدد کرکے گھر دلادیا۔ مگر نقوی صاحب کا کہنا ہے کہ    اب گھر نہ دینے والوں اور گھر دلانے پر بضد لوگوں کے درمیان تناسب مسلسل کم ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ منظرنامہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں کو دھیرے دھیرے اپنے ہی وطن میں ’غیر ‘ بنا دیا گیا ہے۔  کتاب کے مطابق بھارتی مسلمان ’سہ گانہ‘ (Triangle) میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جس کے تین حصے کچھ اس طرح ہیں: ٭ہندی مسلم، ٭بھارت ٭پاکستان اور کشمیر ___ ان تینوں کو حل کیے بغیر مثلث کا مسئلہ حل نہیں ہوگا،مگر پاکستان سے اگر صلح ہوجائے تو ہندو انتہا پسندوں کے پاس سیاست کرنے کے لیے ایشو ختم ہوجائے گا۔ 

نقوی صاحب کے بقول بڑے شہری مراکز میں ہندو قوم پرست بی جے پی اور سیکولر کانگریس کے مابین فرق مٹ چکا ہے۔ ان کے درمیان جو دھوکے کا پردہ ۱۹۴۷ء سے حائل تھا وہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ آبادی کے اجتماعی رویے میں، ان کے سیاسی نظریات سے قطع نظر یکساں نوعیت کی فرقہ واریت سرایت کرچکی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلمان اپنے خول میں سمٹتا جارہا ہے۔ غیرنسل پرست ہندو بھی بھونچکا رہ گئے ہیں۔ بقول نقوی صاحب: جہاں کہیں ممکن ہوتا ہے مَیں ’سیکولر ‘ کی اصطلاح سے اجتناب کرتا ہوں ، کیوںکہ اس لفظ کی حُرمت کو بہت زیادہ پامال کیا گیا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گئی ہے جس پر ہندو قوم پرستی تعمیر کی جارہی ہے۔ اور اب یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں کہ ہزاروں مسلم نوجوانوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا جاتا ہے اور اکثریتی ہندو فرقے کو ان بے گناہوں سے ذرا بھی ہمدردی نہیں ہے۔ گویا فرض کرلیا گیا ہے کہ خواہ ان کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو تب بھی محض مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ مجرم ہیں۔ پس ماندہ مسلم بستیوں میں رہنے والوں کے اندر سلگتی ہوئی شکایتوں سے ذہنوں کے اندر خلیج تقویت پاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں کرکٹ کا کھیل ہو یا امریکی انتخابات، ہر مسئلے پر خیالات ایک دوسرے کے برعکس ہوتے ہیں۔

نقوی صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ان پر ایک اور حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ جہاں کوئی مسلمان اعلیٰ عہدے تک پہنچتا ہے وہ اپنی مسلم برادری کے افراد کی مدد کرنے سے منہ موڑتا ہے، مبادا اس پر ’فرقہ پرست‘ ہونے کا لیبل نہ لگا دیا جائے۔ شاید اس سے قبل صورت حال اتنی خراب نہیں تھی۔اب کوئی دن نہیں گزرتا جب کوئی بھارتی، مسلمانوں کی شہریت پر سوال نہ اُٹھائے، حتیٰ کہ فلمی دنیا تک میں بھی مذہب کو بخشا نہیں گیا ہے۔ جب ۲۰۱۵ء کے اواخر میں اس دنیا کے دو افراد نے فرقہ وارانہ زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آواز اٹھائی تو دونوں کو ہندو اکثریت کے غضب ناک ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ چند تنظیموں نے تو مطالبہ کیا کہ ان اداکاروں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔نقوی صاحب کے خاندان کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں رشتہ داروں سے ملنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ میں ان کے ایک دوست نے ان کو مشورہ دیا کہ اب اپنے اقارب کو بھول جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر میں ا ن سب کو بھول چکا ہوں، مگر ایک حسرت ہے، سو وہ بھی چند نسلوں میں ختم ہوجائے گی۔

یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ۱۸۵۷ءکے بعد ہی سے مسلمانوں کو انگریز حکمرانوں نے دشمن سمجھ کر’ غیر‘ تصور کرنا شروع کیا تھا، مگر۱۹۴۷ء میں تقسیم کے بعد جہاں مسلمانوں کو پاکستان کی شکل میں ایک ملک ملا، وہیں بھارت میں رہنے والی ایک کثیر آبادی کو پاکستان کی تخلیق کا ’ذمہ دار‘ ٹھیرا کر ایک مستقل ’احساس جرم‘ میں مبتلا رکھتے ہوئے ’غیر ‘بنا دیا گیا۔ اب تو حال یہ ہے کہ پچھلے چار برسوں میں دہلی میں اورنگ زیب روڑ کا نام تبدیل ہوگیا ہے۔ گورکھپور کا اردو بازار، ہندو بازار ہوگیاہے، ہمایوں نگراب پچھلے سال ہنومان نگر ہوگیا، اتر پردیش اور بہار کی سرحد پر تاریخی مغل سرائے شہر دین، دیال اپدھائے نگر ہوگیا اور مغل شہنشاہ اکبر کا بسایا ہوا الٰہ آباد اب پریاگ راج ہوگیا ہے۔ احمد آباد کو اب کرناوتی نگر بنانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ مٹائی نہیں جاسکتی، مگر یہاں تو تاریخ مسخ ہورہی ہے۔ یہ مٹتے ہوئے نام ، مسخ ہوتی تاریخ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں سے خود اعتمادی چھین کر احساس کمتری میں دھکیل دے گی۔کیوںکہ یہ صرف نام نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے شان دار ماضی کی جھلک تھی ، جو ثابت کرتی تھی کہ مسلمان اس ملک میں کرایے دار نہیں بلکہ حصہ دار اور اس کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن شاید غیر محسوس طریقے سے ۱۵ ویں صدی کے اواخر کے اسپین کے واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔ غالباً بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی تاریخ کو قصۂ پارینہ بنایا جائے گا۔ اسلام سے وابستگی اور مسلم شناخت کو زندہ جاوید رکھنے کی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ مسلمان لیڈروں کو بھی اپنے اندر جھانک کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا سیکولر پارٹیوں کا دم چھلہ بن کر وہ قوم کا بھلا کرسکتے ہیں؟کیا ابھی وقت نہیں آیاکہ ایک متبادل حکمت عملی تیار کرنے پر سنجیدہ غور و خوض کیا جائے؟

جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال نہایت سنگین ہے۔ نہ صرف سیاسی بلکہ انتظامی اعتبار سے بھی صورتِ حال نہایت مخدوش نظر آرہی ہے۔ یکے بعد دیگرے کئی خونیں جھکڑوں سے عوام کو دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ اکتوبرکے مہینے سے لے کر اب تک (۲۰ نومبر ) ۴۱ عسکریت پسند وں کے ساتھ ساتھ ۲۰شہریوں کو مارا گیا ، جن میں ایک چھے مہینے کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے ، جو ایک نہیں بلکہ دو جانیں تھیں۔ خونیں مہینوں کے اس نہ تھمنے والے سلسلے نے عوام کو آہوں اور سسکیوں میں  ماتم کناں چھوڑ دیا۔اِدھر حکومتی ذرائع کے مطابق وادی کشمیر میں ’گذشتہ ۱۰ مہینوں میں ۱۶۴ نوجوانوں نے مختلف عسکریت پسندوں کی صفوں میں شرکت کی‘۔ اور انداز ہ لگایا گیا ہے کہ سالِ رواں میں وادی میں سرگرم جنگجوئوں کی تعداد ۳۵۰/۴۰۰  تک پہنچ سکتی ہے۔

۲۱؍ اکتوبر کو کولگام ضلعے کے لارو گائوں میں تین عسکریت پسندوں کے قتل کے بعد مظاہرین اور حکومتی فورسز کے درمیان پُر تشدد کارروائیوں میں ۲۵عام شہری گولیوں اور پیلٹ چھروں سے بُری طرح زخمی ہوئے۔ جس مکان میں عسکریت پسند چھپے ہوئے تھے، اس کو بھی بارودی مواد سے زمین بوس کر دیا گیا۔ جیسے ہی مقامی لوگ مکان کی طرف آگ بجھانے کے لیے بھاگے تو مکان کے ملبے میں موجود ایک طاقت ور بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کی زد میں آگ بجھانے والے ہی آگئے ، اس طرح سات انسا نی جانیں تلف ہو گئیں۔ مواصلاتی نظام کو بھی ضلعے بھر میں بند کر دیا گیا، اور پھر مزید اضلاع میں انٹرنیٹ سہولت پر پابندی لگا دی گئی۔

جس طرح سے کشمیری اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان انتہائی اقدامات کی طرف مائل ہورہے ہیں ممکن ہے کہ یہ بات بھارت اور اِس کے ہم نوائوں کے لیے باعث تشویش نہ ہو، لیکن یہاں کے  درد دل اور صاحب ِبصیرت افراد کو ایک بڑے سوال کی طرف متوجہ ضرور کر رہی ہے۔ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر جما ہوا ہے اور عملی طور پر اسے کوئی فکر نہیں کہ کون مرے یا کون جیے۔ اُس کے حربوں اور منصوبوں سے تو یہ واضح ہو چکا ہے کہ کشمیر کی پوری آبادی اُس کے لیے ’دہشت گرد‘ ہے اور یہاں کے باسیوں کو مختلف نام دے کر ختم کرنا ہی اصلی ہدف ہے۔ نہ صرف محاصروں کے پُر تنائو آپریشنز اور جھڑپوں کے جنگی جنون کے ذریعے سے، بلکہ مختلف حربے استعمال کرکے ڈرایا دھمکایا جانا بھی شامل ہے تاکہ کشمیریوں کی جانی و مالی حیثیت کو بکھیر دیا جائے۔

کشمیر یونی ورسٹی کے شعبہ سماجیات سے ہر دل عزیر استاد ڈاکٹر رفیع بٹ کا مئی کے مہینے میں جاں بحق ہونا، پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ہونہار اسکالر کا ۱۱؍اکتوبر کو ظلم وستم کی نذر ہو جانا، بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۱۸ ؍ اکتوبر کو ہی کشمیر یونی ورسٹی کے شعبۂ ادویہ سازی سے فارغ التحصیل طالب علم شوکت احمد بٹ، پلوامہ میں شوٹ آئوٹ کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ شوکت احمد محض آٹھ دن پہلے عسکریت سے منسلک ہوئے تھے۔ اسی طرح اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک اور نوجوان اسکالرڈاکٹر سبزار احمد کے اپنے ایک اور ساتھی سمیت نوگام سرینگر میں گولی کا نشانہ بننے پر پوری وادی غم و اندوہ کی لہر میں ڈوب گئی ۔ ۲۴ ؍اکتوبر کو بیج بہاڑا کے آرونی علاقے میں ۴ مزید عسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔ ۲۵؍ اکتوبر کو دو مختلف کارروائیوں کے دوران آرونی بیج بہاڑا اور کریری بارہمولہ میں چھے عسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔ اگلے روز جمعے کے دن پازل پورہ رفیع آباد میں مزید دوعسکریت پسند حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں جاں بحق ہوئے۔

نومبر کا مہینہ بھی اس حوالے سے خونیں واقعات دہراتا ہوا آیا۔ نومبر کے مہینے میں ۱۸عسکریت پسندوں کے جاںبحق ہونے کے ساتھ ساتھ حریت رہنما (ضلع اسلام آباد) میر حفیظ اللہ کو مسلح افراد نے ۲ ؍ نومبر کو گھر میں گھس کر گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس حملے میں اُن کی اہلیہ بھی  شدید زخمی ہوئیں۔ میر حفیظ اللہ، جنوبی کشمیر سے مزاحمتی جدوجہد کے سرکردہ لیڈر تھے۔ وہ پہلے ہی سے نصف درجن سے زیادہ مقدمات کے سبب ۱۴  سال قید کاٹ کر آئے تھے۔اُن کے گھر کے اردگرد پچھلے کئی دنوں سے مشکوک حالت میں کچھ افراد گھوم رہے تھے۔ بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کے مطابق ’جس طرح سے حکومت نواز بندوق بردار اخوانیوں نے ماضی میں نے چُن چُن کر جماعت اسلامی کے ارکان کو ختم کرنے کا گھنائونا سلسلہ قائم کیا تھا، اُسی طرز پر آج حریت رہنمائوں کو قتل کیا جارہاہے‘۔ حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کے مطابق:’ حکومتی ایجنسیوں کے سامنے تحریکِ حریت اور جماعت اسلامی کے کارکنان اصلی اہداف ہیں‘۔

اس طرح آئے روزیہاں کے نوجوانوں کا کسی نہ کسی محاصرے میں جاں بحق ہونا معمول بن چکا ہے۔ ہر کوئی اس بات پر مضطرب ہے۔ ایسی صورت حال میں اس بات پر غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان طبقے کے لیے کیا کوئی اور راستہ مہیا نہیں ہو سکتا جس میں  وہ اپنی صلاحیتوں سے قوم کی خدمت ذرا مختلف پہلوئوں سے کر سکیں۔

دنیا میں کس انسان کو امن، ترقی، سُکھ ، شانتی جیسی حسین اصطلاحات پسند نہیں؟ بے روزگاری اور سیاسی انتقام سے کس کو نجات نہیں چاہیے؟ دنیا میں ایسا کون سا تعلیم یافتہ نوجوان جو اپنے کیریئر کے بارے بے فکر ہوگا؟ لیکن جس ماحول میں کشمیر کے لوگ اور یہاں کے نوجوانوں کو دھکیلا جا رہا ہے ، اُس میں انھیں آنکھیں بند کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جب سیاسی اور انتظامی معاملات میں بھی اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں تو وہ اپنے جذبات کے اظہا ر کا حق دنیا کے باقی انسانوںکی طرح رکھتے ہیں، جس پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتا۔

اس کے بالمقابل بھارت کا حکمران طبقہ محض اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ بھارت اور اس کے ہم نوائوں کے لیے یہ ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ آٹھ لاکھ پر مشتمل فوجیوں سے وہ کب تک یہاں کے لوگوں کو خموش کرا سکتے ہیں؟ اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر کی موجودہ نوجوان نسل ایسے ماحول میں پلی بڑھی ہے کہ جب یہاں عسکریت کا دور دورہ تھا۔ پھر انھوں نے اپنی آنکھوں سے اپنوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے، انھوں نے اپنوں کے جنازوں کو کندھے دیے، اپنے ہی بزرگوں کی توہین انھوں نے برداشت کی ہے، اپنی مائوں بہنوں کی عصمت دری اور بے عزتی کے واقعات بھی انھوں نے بچشم سر دیکھے ہیں۔ اسی نوجوان نسل نے اعلیٰ تعلیمی اسناد اپنے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود مختلف محکمہ ہاے شعبہ جات میں دَر دَر کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ یہاں کی انتظامی بدحالی، کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور سیاسی غنڈا گردی کی اصل ستم زدہ یہی نسل ہے۔ ایسے نو جوانوں کو طاقت کے بل پر روک لینا محال ہے۔

مسئلہ کشمیر کو موجودہ کشمیری نسل کے تشخیصی رموزات (identity aspects) میں اگر دیکھا جائے تو انھوں نے اپنی زندگی کی ایک صبح بھی عزت و وقار کے ساتھ جی کر نہیں دیکھی ہے۔ پھر جب ایسی نسل اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہو، دنیا کے حالات و واقعات کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرتی ہو، سائنس و ٹکنالوجی میں بھی نمایاں ہو، انٹرنیٹ کے ذریعے باقی اقوام کے لوگوں کی زندگیوں کا علم رکھتی ہو، تو اسے سوچنے سمجھنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ خطرناک صورت حال جس کی طرف نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بھارت سمیت اقوامِ عالم کے ایوانوں کو خموشی توڑ کر مسئلہ کشمیر کی طرف اوّلین فرصت میں توجہ کرنی ہوگی ، نہیں تو یہاں سے ایسا انسانی بحران اُٹھنے کے خدشات ہیں، جو نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ اقوامِ عالم کے امن کو تباہ کر سکتا ہے۔

انھی حالات میں یہاں پر ایک اور اُبھرتے ہوئے انسانی حقوق کے مسئلے کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔ وادی میں ۹۰ ء کے عشرے کے دوران میں گھروں کی تلاشی جیسی کارروائیاں عمل میں لاتی جاتی تھیں، جن کا مقصد یہ تھا کہ کسی عسکریت پسند کو پناہ تو نہیں دی گئی ہے۔ مسجدوں کے لائوڈ اسپیکروں کو استعمال میں لا کر لوگوں کو بلا لحاظِ جنس، عمر اپنے گھروں سے باہر نکلنے کا حکم دیا اور گائوں کے کسی بڑے میدان میں، جو کہ عمومی طور پر بستی سے الگ ہوتا، جمع کیا جاتا تھا۔ پھر گھر گھر کی تلاشی کا وسیع و عریض جال بچھایا جاتا تھا ۔یہ ایک ایسی ا ذیت ناک صورت حال ہوا کرتی تھی، جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس تلاشی کے دوران گھر کا ساز و سامان بکھیر دینا، گھر کی نایاب چیزوں کا غائب کر دینا، ایک اذیت ناک صورت ہو ا کرتی تھی۔ یہ عمل آج بھی جاری و ساری ہے۔ اگرچہ آج اس عمل کو ’CASO‘ (کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز)کی اصطلاح سے بدلا گیا ہے، لیکن اس کی اذیت ۹۰ ء کے عشرے سے کئی درجے زیادہ ہے۔ تب کشمیریوں کو گھروں سے نکال باہر کرکے توڑ پھوڑ ، اور ماردھاڑ کی کارروائیاں کی جاتی تھیں، اور اَب انھیں گھر میں رکھ کر، ان کے سامنے توڑ پھوڑ اور لُوٹ مار کی کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

اسی طرح کی ایک اور کارروائی کا نام ’جامہ تلاشی‘ ہے۔جس میں کپڑوں کو کھنگالا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کپڑوں کے اندر کسی ’متنازعہ‘ چیز کو چھپا رکھا ہو۔گھر گھر تلاشی اور جامہ تلاشی کے بعد اب ایک اور تلاشی کی کارروائی نے جنم لیا ہے، جس سے ’موبائل تلاشی ‘ کی اصطلاح سے موسوم کرسکتے ہیں۔

اس معاملے میں بات کرنے سے پہلے ’موبائل فون ‘ کوسمجھنا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جس سے آپ دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ نہایت آسانی سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ پہلے پہل  یہ صرف ذاتی دوستوں کے ساتھ ہم کلام ہونے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ ٹکنالوجی کی ترقی سے اس میں لکھ کر پیغام بھیجنے کی سہولیت بھی آگئی۔ اور اب موبائل کے اندر انٹرنیٹ اور باقی سہولیات کی مدد سے، اس چھوٹے سے آلے کے ساتھ آپ کی پوری زندگی منسلک ہے۔ آپ کا کاروبار، آپ کی تعلیم، آپ کا باقی دنیا کے ساتھ رابطے میں رہنا ، آپ کی نجی ضروریات، آپ کی شاپنگ، آپ کا بنک، آپ کے راز، بالفاظِ دیگر آپ کی پوری زندگی اس میں مقید ہے۔ اگر اِس کو آپ کی زندگی سے کاٹ دیا جائے، تو آپ اپنے آپ کو اپاہج محسوس کر سکتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے دنیا کا امیر سے امیر ترین اور غریب سے غریب ترین انسان بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ گھر میں تو آپ کی چیزیں عیاں ہوتی ہیں، لیکن اگر کوئی شخص آپ کے موبائل میں جھانک کر آپ کی نجی تصاویر دیکھ لے تو یہ آپ کے لیے ناگوار صورت حال ثابت ہوسکتی ہے ۔اسی طرح سے کوئی شخص اگر آپ کے موبائل کے اندر آپ کے بنک کھاتے کی معلومات حاصل کرلے، آپ کی نجی فون کالز، آپ کے بھیجے گئے پیغامات، یا اسی طرح کی باقی واقفیت کو کرید کرید کر ٹٹول لے تو اس سے بڑھ کر اذیت ناک صورتِ حال اور کیا ہوسکتی ہے۔

اسلامی شریعت نے دوسروں کے رازوں کی ٹوہ لگانے یا کسی کے نجی معاملات میں بے جا مداخلت کو سخت ممنوع قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو، سورۃ الحجرات۴۹:۱۲، اور تفہیم القرآن  ، سورۃ الحجرات، حاشیہ ۲۵ )۔’موبائل تلاشی‘ اصل میں انسان کے رازداری کے حقوق(Right to Privacy) پر براہِ راست شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ رازداری کے حق کو اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے بالفعل نافذکیا ہے۔ البتہ عام طور پر رازداری کے حقوق کو مغرب کی ’روشن خیالی‘ سے اخذ کردہ سمجھا جاتا ہے، جو کہ حقیقت سے انحراف کے مصداق ہے ۔ مغرب کو اس حق کا خیال ۱۹۴۸ء میں اُس وقت آیا، جب اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی اعلامیہ براے انسانی حقوق کی دفعہ۸ میں  یہ تذکرہ کیا گیا کہ کسی بھی انسان کی رازداری کے اندر بے جا مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ اس کے   پس منظر میں انسانی حقوق کی انجمنوں کی اپیل پر بھارتی عدالت عالیہ نے اگست میں رازداری کے حقوق کو آئین ہند میں بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، اس کے تحفظ کا حکم جاری کیا۔ مگر بھارتی انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے لیے ایسے پروٹوکولز اور احکامات کی جو حیثیت ہے، اس کا مظاہرہ جموں و کشمیر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

بدنصیب وادیِ کشمیر میں ’موبائل تلاشی‘ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے اپنے موبائل کے اندر کوئی ایسی تصویر، ویڈیو یا کوئی ایسی فائل تو نہیں رکھی ہے، جو یہاں کے ’امن و قانون‘ کی صورت حال کے لیے خطرہ ہو۔ نوجوانوں کے موبائل کے اندر ایسے مواد کو ایک بڑے ثبوت کے طور پر دیکھا اور موبائل کے مالک کو دھر لیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں موبائل فون پر کسی ویڈیو ، آڈیو، یا کسی بھی خبر کا موصول ہونا یا اس کی آمد کو روکنا آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ کسی نے آپ کو آپ کی اجازت کے بغیر، کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل کرکے اُس گروپ میں کوئی مواد ڈال دیا ہے تو یہ آپ کے موبائل کے جمع خانے (storage ) میں داخل ہوگیا۔ جس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ۔پھر     اسی طرح سے آج ٹکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ یہ خودبخود’اَپ ڈیٹ‘ یا تازہ ہوتی رہتی ہے۔جس پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، خاص کر ایک عام صارف کوا یسی باتوں کا علم تک نہیں ہوتا ۔

رازداری کے حقوق، انسانی زندگی کے عزتِ نفس کے ساتھ منسلک ہیں۔ ایسے حق کا  سلب ہونا انسان کو ذہنی اذیت سے دوچار کرتا ہے، جس سے بہت ساری نفسیانی اُلجھنیں جنم لیتی ہیں۔ موبائل تلاشی جیسی کارروائیاں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے ۔ انسانی حقوق کےعلَم برداروں کو انسانی حقوق کے اس اُبھرتے ہوئے مسئلے کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔

اب رہی بات اربابِ اقتدار کے جملہ رویوں کی، تو اس کی شدت کا اندازہ ۲۱ ؍ اکتوبر کے  اُس سرکاری حکم نامے سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں گیتا اور رامائن کو کشمیر کے اسکولوں کے نظام میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ سرکاری کتب خانوں میں بھی اس کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے جائیں۔ اگرچہ بعدازاں اس حکم نامے کو عوامی دبائو کے پیش نظر واپس لے لیا گیا، لیکن یہاں کی انتظامی مشینری کے ذہنی سانچے کو سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ اِن متعصب حکم ناموں کے پس پردہ کون کون سے مقاصد کار فرما ہیں۔ یہاں پر یہ نکتہ بحث طلب نہیں ہے کہ کسی مخصوص مذہب کی کتابوں کو اسکولوں میں متعارف کرنا صحیح ہے یا غلط، حالاںکہ امرواقعہ بالکل واضح ہے کہ وادی کی ۹۶ فی صد سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہاں کے اسکولی نظام کو چلانے کی خاطر جموں خطے کے مقابلے میں الگ سے ایک ڈائریکٹوریٹ کام کررہا ہے۔ مگر اس کے باوجود اربابِ اقتدار اپنے مقاصد کی آبیاری کے لیے تمام تر پیشہ ورانہ اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور یہاں کی سیاسی کشیدگی کوانتظامی احکامات میں ڈھالا جا رہا ہے۔ آئے روز کی خوں ریزی سے لوگ ابھی سوگوار ہی ہوتے ہیں کہ اگلی صبح انھیں ایک اور سوگ کے اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔

عوامی مفاد اور وقت کی ضرورت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے دنیابھر میں ایسے خاطر خواہ انتظامات کیے جاتے ہیں کہ جس سے لوگوں کا فائدہ ہو۔ لیکن یہاں جو بھی پالیسی بنائی جاتی ہے،  اُس کا کسی پیشہ ورانہ اخلاقیات سے دُور تک کا کوئی واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اسی لیے یہاں جن  فلاحی اسکیموں کا بہ ظاہر سرکاری تقریبات میں بڑے مبالغانہ آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے، وہ بھی    اپنا حقیقی مقصد حاصل کرنے سے پرے ہوتی ہیں۔ اسی طرح کا ایک حکم نامہ ضلع بارہمولہ کے پٹواری حضرات کے نام نکالا اور اُن سے کہا گیا تھا کہ استادوں کی جگہ اب انھیں بورڈ امتحانات میں ڈیوٹیاں انجام دینی ہوں گی۔ متعلقہ حکم نامے کو بھی اگرچہ واپس لے لیا گیا ہے، لیکن یہاں کی انتظامی مشینری کی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ایک مثال ہے ۔

مشرق وسطیٰ دنیا کا ایسا خطہ ہے، جس کو سیال ڈالر کا خطّہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی پہچان ہے جس نے اسے مسلسل ہیجان خیز اور ہنگامہ پرور حالات سے دوچار کر رکھاہے۔ تاہم، یہ پہچان ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ اسلام اور عالم اسلام کا قلب ہے اور دولت و ثروت یہاں کی باندی ہے۔ اسلام کا مرکز حرمینِ مقدس ہونے کی و جہ سے اسلامیان عالم کے لیے یہ ایمان و عقیدت کا محور ہے۔ مسلمان خواہ کسی بھی خطۂ ارضی میں ہو، کوئی زبان بولتا ہو، اس کے لیے اہم یہ ہے کہ یہاں قبلۂ اول، یعنی مسجد اقصیٰ و بیت المقدس بھی ہیں اور خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ بھی یہیں ہیں۔

سو سال قبل ۱۹۱۸ء میں یہاں تنازعے کی مستقل بنیاد برطانیہ اور فرانس نے ’سائیکس پیکوٹ‘ کے رسواے زمانہ خفیہ معاہدے [۱۶مئی ۱۹۱۶ء] کے تحت رکھ دی۔ بہت کم مسلمان آج یہ حقیقت جانتے ہیں کہ یہ معاہدہ اپنے مقاصد کے حصول میں جغرافیائی اعتبار سے ۸۰ فی صد ناکام رہا تھا۔ اسے برطانیہ سے ’اعلان بالفور‘ [۲نومبر۱۹۱۷ء] اور امریکا سے صدر آئزن ہاور کا ساتھ نہ ملتا تو فلسطین کا تنازع بھی پیدا نہ ہوتا۔ آج پھر شام ویمن اور لیبیا و عراق کے حالات دیکھ کر مسلمان خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطے مسلمانوں کی شکستِ حاضرہ کو تو پیش کر رہے ہیں، لیکن یہ ممالک، امریکا و روس اور یورپ کی ناکامی سے پیدا شدہ بے چینی کے مظہر زیادہ ہیں، جو دام اور بے دام مقاصد کی سراسر ناکامی ہے۔

اسی صورت حال میں جس ۲۰ فی صد ناکامی کا ہمیں سامنا ہے، وہ ’اعلان بالفور‘ کی پیدا کردہ ہے۔ اس اعلان نے اسرائیل کے قیام کو یقینی بنایا تھا۔ فلسطین چھین لیا گیا اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک ناجائز یہودی ریاست بنا دی گئی۔ اب یہی ریاست مستقل فساد کا مرکز ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کو الگ تھلگ کر کے ختم کرنے کی جس حکمت عملی کا آغاز ۱۹۴۸ء سے کیا گیا تھا، وہ آج پورے عروج پر ہے۔ کوئی فلسطینی اس یقین کے ساتھ رات کو سو نہیں پاتا کہ صبح ہوگی۔  اسی سے تکلیف کی اُس شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس میں آج کا فلسطینی مبتلا رکھا گیا ہے۔

اسی درجے کی تکلیف اور غم میں ہر مسلمان گرفتار ہے۔ یہ مسلمان عرب و عجم کی تمیز سے بالاتر ہوکر مبتلا ہے۔ اس کرب سے نکلنے کا آسان ترین راستہ یہ ہے کہ وہ فلسطین کو بھول جائے،    یہ سوچ کر کہ اس کے جسم کا ایک حصہ اس کے لیے تکلیف کا سبب بنا ہوا ہے، اسے کاٹ کر پھینک دیا سو پھینک دیا۔ اب کوئی درد، کوئی تکلیف، کوئی دکھ باقی نہیں رہا۔ لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے۔ جسم کا کوئی حصہ کاٹ کر پھینکا جاسکتا ہے اور نہ کسی کا اس پر قبضہ ہی برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل نے فلسطین کو عالم اسلام سے جدا کرنے کے لیے اس گھنائونے کھیل کا آغاز ۱۹۴۸ء سے شروع کیا ہوا ہے۔ فلسطینی اسے نکبہ کا نام دیتے ہیں، یعنی بڑی قیامت ۔۱۹۴۸ء، ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء میں اسرائیل نے، تن تنہا نہیں، امریکا و برطانیہ اور یورپ، کی مدد سے عربوں سے جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ تین نشان ہیں ورنہ یہ جنگ تو ہمہ وقت جاری ہے۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے حملہ کر کے دریاے اُردن کے مغربی کنارے اور غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ دریاے اُردن کا مغربی کنارہ ہے اور غزہ جو کوسوں دُور مصری سرحدی علاقے پر مشتمل ہے، جسے ایک طرف سے سمندر نے گھیررکھا ہے اور دیگر اطراف سے مصر کی مدد سے اسرائیل نے گھیرا ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی غزہ میں ناکہ بندی کی وجہ یہ ہے کہ یہاں آزاد انتخابی عمل سے حماس کو کامیابی ملی تھی۔

مصر اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کیمپ ڈیوڈ [۱۷ستمبر ۱۹۷۸ء]، جب کہ ’تنظیم آزادیِ فلسطین‘ اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدہ [۱۹۹۳ء]کے نتیجے میں وجود میں آنے والی نام نہاد فلسطینی ریاست اسی غزہ اور مغربی کنارے پر مشتمل ایک بلدیہ نما انتظام ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس دو حصوں پر مشتمل ہے۔ فلسطینیوں کا حصہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کہلاتا ہے اور اسے اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں۔ لیکن یہ یروشلم نہیں، مقبوضہ مشرقی بیت المقد س ہے۔ اس فلسطینی ریاست پر ۱۲ سال سے یاسر عرفات کے جانشین محمود عباس کی حکومت ہے۔ اسے برقرار رکھنے میں امریکا، برطانیہ، اسرائیل، یعنی سبھی شرانگیزوں کا مفاد ہے۔

اس تنازعے میں جوہری طور پر فلسطین (اصلی فلسطین جو سارے اسرائیل پر محیط ہے) اور عالمِ اسلام کو شکست ہوئی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے:

  • پہلے عالم اسلام کا متفقہ مطالبہ یہ تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔ اب یہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ فلسطینی ریاست تسلیم کی جائے۔ یہ مطالبہ اسرائیل سے ہے۔ جس کا صاف مطلب خود اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔یہ پہلی شکست ہے۔
  •  پہلے عالم اسلام کا متفقہ موقف تھا کہ اسرائیل قبول نہیں۔ اس سے ہر طرح کے تعلقات ناقابلِ قبول ہیں، ناقابل عمل ہیں۔ اب اس میں کمی، کمزوری اور پسپائی کے آثار نمایاں ہیں۔
  • پہلے عالمِ اسلام کا متفقہ موقف تھا کہ مقبوضات کی حیثیت مقبوضات کی ہی ہے، خواہ وہ  غزہ ہو، مغربی کنارہ ہو یا مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی حصہ ہو۔ اب یہ اس طرح سے کمزور پڑرہا ہے کہ یہاں اسرائیل یہودی بستیاں تعمیر کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔ پہلے ان تعمیرات پر شدید احتجاج کیا جاتا رہا ہے، اب یہ احتجاج دم توڑ رہا ہے۔ مسلم دنیا پر کارفرما حاکم اشرافیہ کی طرف سے غالباً اسرائیل کے لیے گنجایش پیدا کی جا رہی ہے۔
  • اسرائیل سے تعلقات کی ہر نوعیت ناجائز اور ناقابل قبول تھی۔ اب اس میں کمی آرہی ہے، نرمی پیدا کی جا رہی ہے۔

اس کے پس پردہ کیا ہو رہا ہے؟ اسے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

شرق اوسط کے تنازعے میں یہاں کی حکومتیں، امریکا ، برطانیہ ، فرانس ، اسرائیل ، امریکی اور برطانوی تھنک ٹینک [مرکز دانش] اور ذرائع ابلاغ فریق ہیں۔ ذرائع ابلاغ اس لیے فریق یا فریق نما ہیں، کیوں کہ یہ اسرائیل زدہ ہیں، امریکی و برطانوی ہیں یا ان کے زیر اثر ہیں، حتیٰ کہ  ان میں سکنڈے نیوین ممالک بھی شامل ہیں۔

ان فریقوں کے ذریعے امن کے نام پر کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ نائن الیون کے بعد   ان میں تیزی اور نوعیت میں تبدیلی آگئی ہے۔ نائن الیون کے بعد عراق، لیبیا، شام اور یمن میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ ایک کوشش ہے جس سے عرب اسرائیل تنازعے کے نام سے، شرق اوسط کے تنازعے سے بقیہ عالم اسلام کو الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی جا رہی ہے۔ عالم اسلام کی یہ نفسیاتی شکست ہے کہ وہ ذہنی طور پر اس تنازعے کو نسلی و قومی مسئلہ تسلیم کر چکا ہے اور اب اسے  عرب اسرائیل تنازع کہتا ہے، حالاںکہ یہ اسلام کا تنازع ہے، خود انسانیت کا تنازع ہے۔ عملی طور پر  اس کو ’عرب اسرائیل‘ کہنے والوں کا (امریکا و برطانیہ اور اسرائیل) کہنا ہے کہ پہلے بائیس (۲۲) مسلم ممالک سے یہ معاملہ حل کرا لیا جائے، یعنی خطے کی عرب حکومتیں راضی ہو جائیں تو ۵۷ مسلم ممالک میں سے ۳۵ممالک خود بخود مان لیں گے۔ رفتہ رفتہ یہ حکمت عملی کامیابی کی سمت بڑھ رہی ہے۔ اگر عرب مان لیں گے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کو جائز ریاست مان لیں گے تو ایک بلدیاتی ریاست فلسطینیوں کے لیے بن بھی جائے، جو کسی نہ کسی صورت میں اب بھی ہے تو اس طرح تنازع حل ہو جائے گا۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں امریکی مراکز دانش کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ صرف جیمز اے بیکر انسٹی ٹیوٹ کو دیکھیے: اس لیے کہ اس ادارے کا محور شرق اوسط ہی ہے۔ دوسرے، جیمز اے بیکر  امریکا کے وہ سابق وزیر خارجہ ہیں، جو نائن الیون سے پہلے اور بعد میں امریکی حکمت عملی کے معمار رہے ہیں۔ انھی کے ادارے کی سفارشات میں عرب اسرائیل تنازعے کا حل تجویز کیا گیا ہے۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ عرب ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کس طرح استوار ہوں، جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ذ ریعہ بن سکیں۔ ادارےنے سات نکات بطور حکمت عملی پیش کیے ہیں:

  • تعاون کے امکانات کو عملی طور پر طے کیا جائے۔ یہ امکانات خصوصی طور پر تکنیکی ہوں۔ کسی بڑے تعاون سے احتراز کیا جائے تاکہ عالمِ اسلام کے ہوشیار (alert) ہونے کا خطرہ باقی نہ رہے۔ یہ امکانات پہلے پہل خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان دیکھے جائیں۔ اس طرح اعتماد کی فضا پیدا ہوگی۔ سیاسی رابطے قائم ہوں گے۔ ورکنگ گروپس بن سکیں گے۔ جن میں بین الاقوامی ادارے اور فورم شامل ہو سکیں گے۔
  • اعلیٰ سطحی رابطوں کو بتدریج فروغ دیا جائے۔ پہلے پہل وزارتی روابط بنائے جائیں، جن میں فیصلہ ساز حکام کو شامل کیا جائے۔
  • سرمایہ دارانہ رابطوں کو آگے بڑھایا جائے۔ ہر خلیجی ریاست طے کرے کہ اس کے کون سے وسائل استعمال میں لا کر ان رابطوں کو گہرا کیا جاسکتا ہے۔
  • خلیجی ریاستوں کو عرب اسرائیل تنازع میں ’ثالثی‘ کا کردار دیا جائے، تاکہ وہ خطّے میں پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ ان علاقائی تنازعات پر کام کریں جن کا اسرائیل سے تعلق ہو۔ اس طرح سے ’نیا شرق اوسط‘ سامنے لایا جاسکتا ہے۔
  • براہِ راست مذاکرات سے الگ کام کرنے والے ورکنگ گروپس اورنیٹ ورکس بنائے جائیں، جو خلیجی سفارت کاری کو ترجیح دیں ، روایتی ثالثی طریقوں کو آزمایا جائے۔ تیسرے فریق (غالباً امریکا، برطانیہ اور دیگر) کو اسی سطح پر شریک کیا جائے، تاکہ براہِ راست مذاکرات سے باہر گروہوں کو شامل کیا جاتا رہے۔
  • ایک تبدیل شدہ ’عرب امن اقدام‘ کو متعین اور مضبوط کیا جائے۔ علاقائی سطح کے حل سے آگے بڑھا جائے۔ عالمی حل سے اجتناب کیا جائے کیوں کہ اس سے بہت احتجاج پیدا ہونے کا احتمال رد نہیں کیا جاسکتا۔
  • سعودی عرب، امارات اور قطر، فلسطینی گروہوں پر اپنے اثرورسوخ کو بروے کار لاتے رہیں۔ اس طرح ان کی حمایت حاصل کی جائے، ان کی مزاحمت توڑی جائے، انھیں  امن اقدام میں شریک کیا جائے۔

ان نکات کی وضاحت میں کہا گیا کہ تصادم زدہ علاقوں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارہ، وغیرہ میں امداد اور ترقی کے پروگرام متعارف کرائے جائیں۔ جہاں جنگ سے تباہی ہو، ان خطّوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے۔ اس کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت اور قطر اپنے مالی وسائل سے بھرپور کردار ادا کریں۔

اس پیپر میں بہت سے دیگر نکات بھی ہیں، تاہم اوپر بیان کردہ نکات سے بات سمجھی جاسکتی ہے۔ اگر ہم صرف ’عرب امن اقدام‘ (Arab Peace Initiative) کی طرف ہی توجہ دیں تو نائن الیون کے بعد ایک سرگرمی ہمیں ۲۰۰۲ء سے اب تک نظر آتی ہے۔

  • ’عرب امن اقدام‘ کا سب سے بنیادی نکتہ ایران کو محدود کرنا ہے۔ یوں عرب اسرائیل تنازع تو ثانوی رہ جاتا ہے لیکن ایران سے کش مکش بڑھ جاتی ہے۔
  • ۲۰۰۲ء میں ایک امن اقدام کا آغاز کیا گیا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ امریکی صدر جارج بش کی ہدایت پر اس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا۔ وہ اقوام متحدہ کے ایلچی کے طور پر برسوں اسرائیل مقیم رہے۔ ان کے پیش نظر یہ تھا:
  • فلسطینی ریاست جوں کی توں رہے۔ یہودی بستیوں پر قدغن نظر انداز کر دی جائے۔
  • امریکی مفاد یہ ہے کہ عربوں کے تعلقات اسرائیل سے معمول پر آئیں۔ اسرائیل کا مفاد یہ ہے کہ اس طرح اسے عربوں سے اور عرب ممالک کے راستوں سے، تجارت کے ذریعے سالانہ ۶۰؍ارب ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
  • عرب ممالک کا ایک نیا اتحاد وجود میں لایا جائے، جو سابقہ اتحادوں کی نفی کرتا ہو۔
  • عربوں کے اسرائیل سے معمول کے تعلقات اس کا اوّلین مقصد ہو، یہ تعلقات خصوصی فوجی اور معاشی ہوں۔ اس میں ۲۲عرب ممالک کو شامل کیا جائے۔ ایران کو محدود کرنے کے لیے، خلیج فارس میں ایران کے خطرے کو استعمال کرکے، اس اتحاد سے یہ مقاصد حاصل کیے جاسکیں گے۔

۲۰۰۶ء میں بھی ایسی ہی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام ہوگئی۔ ٹونی بلیئر بھی مکمل کامیاب رہے اور نہ ناکام ہی رہے۔ پھر ۲۰۰۹ء میں ایک اور کوشش کی گئی۔ ۲۸ستمبر ۲۰۰۹ء کو جنرل اسمبلی سے خطاب اور سائیڈ لائن پر رابطوں میں امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اومان، سعودی عرب، کویت، بحرین ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہوں کو پیغام دیا کہ یہ ممالک اپنی فضائی حدود اسرائیلی تجارتی طیاروں کے لیے کھول دیں، تاکہ رات کے وقت یہ طیارے اسرائیلی سامان لے کر جا سکیں۔ ۲۰۱۱ءمیں بھی ایسی ہی کوشش کی گئی۔ ۱۶جنوری ۲۰۰۹ء کو دوحہ قطر میں خصوصی عرب کانفرنس ہوئی، جس میں ۲۲ عرب ممالک نے شرکت کی۔ ایران کے صدر احمدی نژاد بھی اس میں شریک ہوئے۔ تاہم، اس کانفرنس میں مصر اور سعودی عرب شریک نہ ہوئے۔ غالباً وجہ احمدی نژاد کی موجودگی تھی۔ شریک ممالک میں ترکی، شام، فلسطین اور قطر بھی تھے۔ قطری وزیراعظم نے اعلامیہ پڑھا جس میں کہا گیا کہ ’عرب امن اقدام‘ کو منجمد کر دیا جائے تاکہ غزہ پر اسرائیلی تازہ جارحیت پر احتجاج کو مؤثر بنایا جاسکے۔ شام نے اسرائیل سے امن مذاکرات معطل کر دیے۔ قطر اور موریطانیہ نے سفارت کاری منجمد کرنے کا اعلان کر دیا۔

 اب ہم آتے ہیںکہ اہم ممالک کے کردار اور عمل کی جانب۔ اس سلسلے سے پہلے     متحدہ عرب امارات کا تذکرہ۔ امارات کی جملہ سلامتی کی ذمہ داری، تیل و گیس کے کنوئوں اور تنصیبات کی نگرانی اور حفاظت ، شہروں میں جرائم کی روک تھام، ہنگامی صورت حال میں فوری اقدام جیسے نازک اور اہم ترین امور کی انجام دہی، اسرائیل کی ایجنسی ’ایشیا گلوبل ٹیکنالوجیز‘ (AGS) کرتی ہے۔ اس کا سربراہ متی کوشوی ہے جس نےایرک کے ساتھ بلیک واٹر کی بنیاد رکھی تھی۔ امارات کی دو کمپنیاں اس اے جی ایس سے مل کر یہ کام کرتی ہیں۔ ان میں ایک کمپنی’ایڈوانس انٹگریٹڈ سسٹم، (AIS) کہلاتی ہے۔ اس کا سربراہ خلفان الشمسی ہے۔ دوسری کمپنی’ایڈوانس ٹیکنیکل سولوشنز‘ (ATS) ہے۔ اس کا سربراہ محمد زیدالنابلسی ہے۔ یہ تینوں کمپنیاں مل کر ایک منصوبہ چلاتی ہیں جسے Falcon Eye (شاہین کی آنکھ)کا نام دیا گیا ہے۔ ان تینوں کمپنیوں نے مل کر ان کاموں کے لیے پرائیویٹ آرمی تشکیل دی ہے، جسے اسرائیلی فوج کی تکنیکی مدد حاصل ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ کمپنیاں ۶۰کروڑ ڈالر کے معاہدے کے تحت کام کر رہی ہیں۔ اس پراجیکٹ کی مجموعی مالیت ۸۱کروڑ ۶۰لاکھ ڈالر ہے۔ جیمز اے بیکر انسٹی ٹیوٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کی یہ ایک مؤثر مثال ہے۔ امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید کے بارے میں وکی لیکس نے بتایا تھا کہ وہ اسرائیل کی وزیر خارجہ زیپی لیونی کے ذاتی دوستوں میں سے ہیں۔ ایک اور کردار   ڈیوڈویکس بھی ہے، جو ’فالکن آئی پراجیکٹ‘ کا ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۳ء تک نائب صدر آپریشنز رہا ہے اوریہ بھی اسرائیلی ہے۔

آئیے اب قطر کی بات کرلیں۔ قطر نے اسرائیل کو وہ چھوٹ نہیں دی، جو امارات نے دے رکھی ہے۔ قطر کے بارے میں اہم عرب ممالک کا رویہ سخت خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ عرب اسرائیل تنازعے میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہا۔ تاہم، الجزیرہ ٹی وی میں بہت سے لوگ اسرائیل سے ہیں۔

اومان حالیہ واقعات کے ساتھ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہو نے اکتوبر کے اواخر میں اومان کا دورہ کیا اور سلطان قابوس سعید سے ملاقات کی۔ یہ سرکاری دورہ تھا۔ اس کے بعد فالو اپ میں اسرائیل کی سپورٹس اور کلچر کی وزیر میری ریگیف بھی آئیں ۔ ان کے ساتھ کھلاڑی بھی آئے۔ جوڈو مقابلے ہوئے، اسرائیلی ترانہ پڑھا گیا۔ میری ریگیف نے عبرانی زبان میں جذباتی خطاب کیا اور موصوفہ کی آنکھیں آنسوئوں سے نم تھیں۔  یہ ۲۸اور ۲۹؍اکتوبر کے واقعات تھے۔ نیتن یاہو ۲۰سال میں پہلے حکمران تھے جس نے اسرائیل کی طرف سے اومان کا دورہ کیا۔

اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ مسقط میں بھی ہوا۔ وہاں اسرائیل کے وزیر ٹرانسپورٹ کاٹز نے کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کوTracks for Regional Peaceکا نام دیا گیا۔ اس کانفرنس میں سعودی عرب بھی شریک ہوا۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل سے حیفہ شہر (فلسطین کا شہر) سے ترکی تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی، جو متعدد عرب ممالک سے گزرے گی۔ یہ کانفرنس اومان اور اسرائیل نے مل کر کی۔

مصر اور اردن سے اسرائیل کے تعلقات بہت واضح ہیں، کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، یہاں پر ایک اور بات ضروری ہے۔ پاکستان میں بہت شوربلند ہوا کہ اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا ہے۔ پورے زور و شور سے تردید کی گئی۔ بین الاقوامی سطح پر سوالات بھی اُٹھے۔    اس سے قطع نظر قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن نے بالکل بے جوڑ، مگر اسرائیل کے موجودہ سیاق و سباق کے مطابق اور حقیقت میں اسلام کی توہین پر مبنی خطاب کیا۔ موصوفہ کو نہ تاریخ کا علم ہے اور نہ تفسیر و سیرت جانتی ہیں۔ حیرت ہے کہ کسی نے پوائنٹ آف آرڈر پر نہیں ٹوکا کہ محترمہ  آپ غلط بات کر رہی ہیں۔

بہرحال رفتہ رفتہ مسلم دنیا میں بھی اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔