’فی الواقع گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے، جس کے نیچے احمدی جماعت آگےہی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کردو اور دیکھو کہ کیسےزہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمھارے سروں پر ہوتی ہے۔پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکرگزارنہ ہوں۔ اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی۔جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے،ہمارے لیے تبلیغ کا ایک میدان نکل آتاہے‘۔(الفضل ،قادیانیوں کا ترجمان اخبار،۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
’میرے حلقۂ انتخاب میں واقع احمدی کمیونٹی کی عبادت گاہ یورپ کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے جس میں ۱۰ہزار لوگ بیک وقت عبادت کر سکتے ہیں۔ اس علاقے میں احمدی (قادیانی) کمیونٹی خوب ترقی کر رہی ہے… اس کمیونٹی کے سربراہ برطانیہ میں رہایش پذیرہیں‘۔ (ممبر برطانوی پارلیمنٹ اور قادیانی کمیو نٹی سے متعلق کل جماعتی پارلیمانی گروپAPPG کی سربراہ سائیوبھین میکڈونگ کاپارلیمنٹ میں بیان)
قادیانیوں اور برطانیہ کا آپس میں گہرا تعلق اور تعاون ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اپنی ابتدا ہی سے اس جماعت کے بانی بر صغیر کے باقی طبقوں کے برعکس ،ہندستان میں استعماری برطانوی حکومت کے ہمیشہ حامی رہے ہیں ۔ انگریزی سلطنت کو ’رحمت ، باعث برکت اور ایک سپر‘قرار دیتے ہوئے انھوں نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی ہے کہ ’’تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو‘‘۔ اپنی مختلف کتابوں،تقاریر اور بیانات میں انھوں نے اور ان کے بعد آنے والے قادیانی رہنماؤں نے ہر معاملے میں برطانیہ کا ساتھ دیاہے اور برطانیہ نے بھی کھل کر ان کی سر پرستی کی ہے۔ بقول مولانا مودودی: ’’کفار کی غلامی جو مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے ،[جھوٹے] مدعیان نبوت کے لیے وہی عین رحمت اور فضل ایزدی ہے ،کیونکہ اسی کے زیر سایہ ان لوگوں کو اسلام میں نئی نئی نبوتوں کے فتنے اٹھانے اور مسلم معاشرے کی قطع وبُرید کی آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے بر عکس مسلمانوں کی اپنی آزاد حکومت ،جو مسلمانوں کے لیے ایک رحمت ہے ان لوگوں کے لیے وہی ایک آفت ہے کیوں کہ با اختیارمسلمان بہر حال اپنے ہی دین اور اپنے ہی معاشرے کی قطع و بُرید کو بخوشی برداشت نہیں کر سکتے‘‘۔(قادیانی مسئلہ،۱۹۵۳ء، لاہور)
اسی دیرینہ اور تاریخی تعلق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی جماعت کی بین الاقوامی بشمول برطانیہ سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ قادیانیوں کے موجودہ سربراہ مرزا منصور آج کل امریکا کے دورے پر ہیں۔ برطانیہ میں قیام کے باعث ان کے لیے دوسرے ممالک میں دورے کرنے میں بہت آسانی ہے۔ ان کے ایما پر پارلیمنٹ کے اندر ایک کُل جماعتی پارلیمانی گروپ کا قیام عمل میں آیا ہے جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام پارٹیوں کے ممبر پارلیمنٹ شامل ہیں۔ برطانیہ میں موجودہ برسرِ اقتدارحکومت میں ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم تھریسامے نے اپنی پارٹی کے ایک قادیانی وزیر لارڈ طارق محمود احمد جو فارن آفس کے وزیر اور ہاؤس آف لارڈز (ایوانِ بالا) کے ممبر بھی ہیں کو دنیا بھر میں ’مذہب اور عقیدے کی آزادی کو فروغ دینے کے لیے اپنا خصوصی ایلچی‘ (Prime Minister’s Special Envoy on Freedom of Religion and Belief ) مقرر کیا ہے۔
لارڈ طارق نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنا پہلا دورہ اسرائیل سے شروع کیا۔ دورے سے قبل برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے فلسطینیوں پر واضح کیا کہ: ’’جو لوگ اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے انھیں امن مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا‘‘۔ لارڈ طارق نے اسرائیل میں حیفہ شہر کا خصوصی دورہ کیا اور وہاں اپنی جماعت کے ہیڈکوارٹر بھی گئے۔ انھوں نے وہاں رہایش پذیر پاکستانی قادیانیوں سے ملاقات کی اور تسلیم کیا کہ اسرائیل میں مقیم قادیانی دوسری کمیونٹیز کے ساتھ وہاں خوشی سے رہ رہے ہیں‘‘۔انھوں نے قادیانیوں کی اسرائیل میں موجودگی کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ’’انھیں پاکستان ،الجزائر اور انڈونیشیا میں تنگ کیا جاتاہے‘‘۔ درحقیقت بیرونِ ملک قادیانیوں کی موجودگی کا بہت بڑا سبب معاشی ہے، جسے مذہبی رنگ دے کر زیادہ سے زیادہ قادیانی خاندانوں کو مختلف ممالک میں آباد کر رہے ہیں۔ ’مذہبی جبر‘ کی آڑ میں مَیں پناہ گزینوں کا درجہ حاصل کر کے، میزبان ملکوں سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کیے جارہے ہیں، اور اس پردے میں مفاد حاصل کرنے والوں کو بھی اپنے مذہب میں ترقی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
قادیانیوں نے مغربی ممالک کے بااثر اور مقتدر حلقوں میں اپنے نیٹ ورک کے ذریعے خاصا رُسوخ حاصل کر لیاہے ۔حال ہی میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی قادیانی بیرسٹر کریم اسد احمد خان کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے داعش کے خلاف تحقیقات کے لیے سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس تقرر کی خبر دیتے ہوئے قادیانیوں کے اخبار ربوہ ٹائمز (Rabwah Times)نے بیرسٹر کریم اسد احمد خان کا تعلق قادیانی کمیونٹی سے ظاہر کیا ہے۔ قادیانی بین الاقوامی ہمدردیاں سمیٹنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم اور سوچے سمجھے طریقے سےاپنے آپ کو ایک مظلوم گروپ (Persecuted Community) کے طور پر پیش کر رہے ہیں حالاںکہ بیرسٹر کریم ایک برطانوی شہری ہیں۔ بیرون ملک اپنے حامیوں کے ذریعے قادیانی پاکستان پربین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے وہ اس بات کا مسلسل پروپیگنڈاکررہے ہیں کہ وہاں انھیں ایذا رسانی اور عقوبت (Persecution) کا سامنا ہے۔ ان کے بقول قادیانی پاکستان میں خوف و ہراس کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
دراصل جب سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ءمیں قادیانیوں کوآئینی ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا ہے، یہ پچھلے ۴۰سال سے اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے آئین میں یہ ترمیم ختم کر دی جائے اور انھیں مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ تصورکیا جائے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں ان کی حمایت میں قائم ہونے والے گروپ کی سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ: ’’احمدی اپنے آپ کو ’مسلم‘ گردانتے ہیں لیکن ان کا عقیدہ ہے کہ محمدؐانسانیت کو ہدایت کرنے والے آخری نبی نہیں تھے اور اس وجہ سے ان کو غیر مسلم قرار دے کر انھیں ایذا دی جاتی ہے‘‘۔ قادیانیوں کی علمی اور سیاسی بدیانتی کا عالم یہ ہے کہ اپنے حمایتیوں کو کبھی بھی باور نہیں کراتے کہ ہم اپنے بانی پر ایمان نہ لانے والوں کو خود مسلمان تصور نہیں کرتے اور انھیں کافر قرار دیتے ہیں۔ ان کی حامی کُل جماعتی پارلیمانی گروپ کی لیڈر سائیوبھین میکڈونگ عیسائی کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کی جانب سے قادیانیوں کے لیے پُرجوش حمایت سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ قادیانیوں کے عیسائیوں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں گمراہی پر مبنی عقائد سے بالکل بے خبر ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ شروع سے ہی عقیدہ ہے کہ ’مسلمان‘ ہم ہیں اور ہمارے بانی (مرزا غلام احمد)کو نبی نہ ماننے والے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔مولانا مودودی نے قادیانی مسئلہ میں ان کے عقیدے کا جائزہ لیتے ہوئےخود ان کی تحریروں سے ثابت کیا ہے کہ وہ ان تمام مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر میں علانیہ کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ وہ صرف یہ نہیں کہتے کہ مسلمانوں سے ان کا اختلاف محض مرزا صاحب کی نبوت کے معاملے میں ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا ،ہمارا اسلام، ہمارا قرآن، ہماری نماز، ہمارا روزہ، غرض ہماری ہر چیز مسلمانوں سے الگ ہے۔
اُمت ِ مسلمہ سے قادیانیوں کی علیحدگی کے بارے میں مولانا مودودی کا استدلال یہ ہے کہ: ’’قادیانیوں کا مسلمانوں سے الگ ایک امت ہونا اس پوزیشن کا ایک لازمی منطقی نتیجہ ہے جو انھوں نے خود اختیار کی ہے ۔وہ اسباب ان کے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں جو انھیںا مسلمانوں سے کاٹ کر ایک جداگانہ ملت بنادیتے ہیں۔ [چودہ سوچالیس سال] سے تمام مسلمان بالاتفاق یہ مانتے رہے ہیں اور آج بھی یہی مانتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے۔ ختم نبوت کے متعلق قرآن مجید کی تصریح کا یہی مطلب صحابہ کرامؓ نے سمجھا تھا اور اسی لیے انھوں نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے حضوؐر کے بعد دعویٰ نبوت کیا۔ پھر یہی مطلب بعد کے ہر دور میں تمام مسلمان سمجھتے رہے ہیں جس کی بنا پر مسلمانوں نے اپنے درمیا ن کبھی کسی ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا جس نے نبوت کا دعویٰ کیاہو۔ لیکن قادیانی حضرات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتم النبیینؐ کی یہ نرالی تفسیرکی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبیو ں کی مہر ہیں اور اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ حضوؐر کے بعد اب جو بھی نبی آئے گا اس کی نبوت آپؐ کی مہر تصدیق لگ کر مصدقہ ہوگی۔ان کی نبوت کے دعوے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص بھی اس [جھوٹی] نبوت پر ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیا جائے۔ چنانچہ قادیانیوں نے یہی کیا۔ (قادیانی مسئلہ،۱۹۷۳ء، لاہور)
مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے یاد دلایا ہےکہ ’’پاکستان کے کروڑوں آدمی اس بات کے شاہد ہیں کہ قادیانی عملاً بھی مسلمانوں سے کٹ کر ایک الگ اُمت بن چکے ہیں۔ نہ وہ ان کے ساتھ نماز کے شریک، نہ جنازےکے،نہ شادی بیاہ کے۔ اب اس کے بعد آخر کون سی معقول وجہ رہ جاتی ہے کہ ان کو اور مسلمانوں کو زبردستی ایک امت میں باندھ کر رکھا جائے‘‘۔
قادیانیوں کا معاملہ محض ایک سیدھا سادا مذہبی مسئلہ نہیں ہے، اس مسئلےکی نوعیت سیاسی بھی ہے۔ ان کے بعض ایسے خطرناک سیا سی رجحانات ہیں جن کے باعث ان کی پُرجوش بین الاقوامی سرگرمیاں ہرمحبِ وطن کے دل میں لازمی طور پرتشویش پیدا کرتی ہیں۔ وہ پاکستانی ریاست کے اندر اپنی ایک قادیانی ریاست کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد قادیانیوں کا خیال تھا کہ وہ بلوچستان کو جس کی آبادی بہت کم تھی ، ایک قادیانی صوبہ بنا سکتے ہیں تاکہ یہ خطہ پاکستان کے اندر ایک قادیانی ریاست کی بنیاد (base)بن سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کلیدی عہدوں پر قادیانی عقیدہ رکھنے والے یا ان کے ہمدردوں کی تعیناتی ان کی سوچی سمجھی پالیسی رہی ہے اور وہ ماضی میں اس معاملے میں خاصے کامیاب رہے ہیں۔
وہ پاکستان میں اپنے لیے ہمیشہ سے ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے گمراہ کن عقائد کی تبلیغ کرسکیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قادیانی بناسکیں۔ ریاست کے تمام اداروں میں ان کا اتنا رسوخ ہوکہ وہ ریاست کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوکر اپنے حق میں استعمال کریں۔ انھیں ادراک ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر غیرمسلم ہونے کے باعث عوام الناس کی عظیم اکثریت اب ان کی شکارگاہ نہیں رہی، لیکن وہ بین الاقوامی مہم کے ذریعے پاکستانی حکومتوں کو دبائو میں لا کر اپنے لیے گنجایش پیدا کرنے کے لیے پوری دنیا، خصوصاً مغربی ممالک بشمول برطانیہ میں ہر طرح سے سرگرمِ عمل ہیں۔ برطانیہ سے قادیانیوں کا ایک صدی سے زائد عرصے کا تعلق آئے دن گہرا ہورہا ہے اور ان کے ہم عقیدہ افراد اب وزیر اور مشیر کی حیثیت سے برطانوی حکومت کا حصہ ہیں۔
بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے، جہاں پر مذہب یا اس کا انتخاب کسی شخص کی ذاتی پسندو ناپسند پر منحصر ہے۔ بھارتی آئین کے بنیادی اصولوں کے مطابق حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اسی طرح شہریوں کو مذہب کی تبدیلی کی بھی پوری آزادی کا دعویٰ کیا گیا ہے بشرطیکہ اس میں جبر و لالچ شامل نہ ہو۔ اس کے باوجود تبدیلیِ مذہب کو سخت بنانے اور اس کو کئی پیچیدہ شرائط کے ساتھ تابع کرنے کی غرض سے ملک کی آٹھ صوبائی حکومتوں اڑیسہ، مدھیہ پردیش، اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جھارکھنڈ نے ابھی تک اسمبلیوں سے باضابطہ قوانین منظور کروائے ہیں۔ ان کا ہدف خاص طور پر دلت ہیں، جن کے متعلق اونچی ذات کے ہندوؤں کو ہمیشہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ وہ کہیں ان کے ظلم و ستم سے تنگ آکر مسلمان یا عیسائی نہ بن جائیں۔ اگرچہ تبدیلیِ مذہب کو بھی ذاتی فعل کے زمرے میں بیان کیا جاتا ہے، لیکن اگر اس کا جواز یہ بتایا جائے کہ موجودہ مذہب میں رہتے ہوئے حکومت سے انصاف ملنے کی اُمید نہیں ہے، تو یہ کسی بھی معاشرے کے لیے ایک نہایت ہی تشویش کن صورت حال قرار دی جاتی ہے۔
حال ہی میں بھارتی دارالحکومت دہلی سے متصل اترپردیش صوبہ کے باغپت ضلع کی تحصیل بڑوت کے بدرکھا گاؤں میں ایک ہی مسلم خاندان کے بیس افراد نے مرتدبن کر ہندو مذہب اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ان افراد نے ایک باضابطہ تقریب میں مذہب تبدیل کرنے کے لیے ایس ڈی ایم کے سامنے مذہب تبدیل کرنے کی عرضی دی تھی۔ اپنے نوجوان بیٹے گلشن عرف گلزار کے قتل کے معاملے میں پولیس کے رویے سے تنگ آکر اخترعلی کے اہل خانہ جس میں سات مرد اور تیرہ خواتین شامل تھیں،انھوں نے ایس ڈی ایم بڑوت کو حلفیہ بیان دے کر اپنی مرضی سے اسلام مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنانے کی اجازت طلب کی تھی۔اس کے اگلے دن ہندو رواج کے مطابق ہوان، بھجن و منتروں کے بعد گائوں کے شیو مندر میں جاکر باقاعدہ اپنا نام اور مذہب تبدیل کرلیا۔ اس دوران ہندو یوا واہنی کے ریاستی صدر شوکیندر کھوکھر اور ضلعی صدر یوگیندر تومر سمیت کئی لوگ بھی موجود تھے۔ہون اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیاگیا۔
بتایا جاتا ہے کہ جوگی خاندان کا اختر علی کا بیٹا گلشن علی کپڑے کی تجارت کرتا تھا۔ ماہ جولائی میں گلشن علی کی لاش ان کی ہی دکان میں کھونٹی سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ اہل خانہ کا الزام تھا کہ اس کا قتل کرکے اس کی لاش لٹکا دی گئی تھی، لیکن پولیس کسی تحقیق و تفتیش کے بغیر اس قتل کو خودکشی بتاتی رہی اور خودکشی کا کیس درج کرنے کے بعد جبراً اس کی لاش دفنا دی گئی۔ اس کی شکایت متاثرہ خاندان نے ضلعی اعلیٰ افسران سے کی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ معاملے کی تفتیش پر مامور اے ایس پی راجیش کمار شریواستو نے کہاکہ اہل خانہ نے اپنے ہی ہم مذہبوں سے ناراض ہوکر تبدیلی مذہب کیا ہے،مگر اختر علی اور ان کے اہل خانہ نے راقم کو فون پر بتایا کہ ’’مذہب اسلام میں رہ کر وہ اپنے بیٹے کو انصاف نہیں دلاسکتے کیو ںکہ پولیس شاید ہی کسی مسلمان کی بات سنتی ہے‘‘۔ان کو شکوہ تھا کہ ’’گائوں اور اس کے آس پاس کے مسلمان بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں اور نہ پولیس تعاون کررہی ہے۔ اس لیے ہم لوگوں نے مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حکومت داد رسی کرسکے‘‘۔
۲۰۱۷ء میں اترپریش اسمبلی انتخابات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے احساس ہوا کہ ووٹر بجلی، سٹرک، پانی سے زیادہ انصاف اور دادرسی کوترجیح دے رہا ہے۔ دیوبند کے قریب ایک گائوں میں مجھے بتایا گیا کہ: ’’اگر لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کی حکومت ہے، تو پولیس صرف یادو برادری کی سنتی ہے اور اگر بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی برسراقتدار ہے تو صرف دلت کی شنوائی ہوتی ہے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ موجود دور میں جب بی جے پی حکومت ہے، اونچی ذات کے برہمن اور ٹھاکر پولیس تھانوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے رہتے ہیں اور صرف انھی کی سفارش پر اب پولیس کوئی کارروائی کرتی ہے‘‘۔
اس طرح کے واقعات شاید بھارت کے طول و عرض میں پیش آتے ہوںگے،مگر جس علاقے میں ارتداد کا یہ سانحہ پیش آیا وہ عالمی شہرت یافتہ دارالعلوم دیوبند سے محض ۱۰۰کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس علاقے میں مدرسوں ، عالیشان مساجد اور سنہرے کلسوں سے مزین خانقاہوں اور درگاہوں کا ایک جال بچھا ہواہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علماے ہند کا اچھا خاصا رسوخ ہے۔ جمعیت کے ذمّہ داروںکا کہنا ہے کہ: ’’ہم نے علاقے کے متعدد ذمہ داروں سے گفتگو کرکے اس مسئلے پر توجہ دینے کی کوشش کی تھی مگر مرتد ہونے والے ان ۱۳؍ افراد نے برادری ، رشتہ داروں کی بھی نہیں مانی۔ ان کا ایک لڑکا پھانسی لگاکر مرگیا تھا۔ اس کا الزام یہ لوگ اسی کے پھوپھی زاد پر لگاکر مسلمانوں کو جھوٹے کیس میں پھانسنا چاہتے تھے ، مسلمانوں کے سمجھانے بجھانے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ لیکن ایک بہو نے مرتد ہونے سے انکار کردیا اور وہ اپنے بچوں کو لے کر اپنے میکے چلی گئی‘‘۔
جمعیت کے ذمہ داران کچھ بھی صفائی دیں، مگر ان کی ناک کے نیچے اس علاقے کے دیہات میں مسلم آبادیاں کسمپرسی اور جہالت کا شکار ہیں۔ عالیشان مساجد، مدرسوں اور خانقاہوں کو آراستہ بنانے کے ساتھ ساتھ اگر ان آبادیوں کی تعلیم و تربیت اور ان کو روزگار دلانے کی سمت میں بھی وہ کام کرتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔حالات یہ ہیں کہ اندرون ومضافاتی دیہات میں تو مسلمان دین سے بالکل ناآشنا ہیں،کیوںکہ بڑے حضرات اور داعی اسلام وہاں جانا گوارا ہی نہیں کرتے۔ ان مضافاتی دیہات میں جاکر ان کمزور و بے سہارا اور کھیتی مزدور مسلمانوں کی خیرخبر لینے والے بہت کم ہیں۔ مذہب تبدیل کرنے والوں کا یہ الزام ہے کہ ان کی داد رسی نہیں کی گئی۔گو یہ تبدیلی مذہب کا معقول عذر نہ ہو، لیکن مسلم تنظیموں کو ملزم کے کٹھرے میں ضرور کھڑا کر دیتا ہے- زکوٰۃ کا نظام جو بے سر و سامان مسلمانوں کے لیے بنایا گیا تھا وہ زیادہ تر پیشہ ور فنڈ جمع کرنے والوں کے پیٹ کو بھرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ دھیرہ دون سے مفتی رئیس احمد قاسمی کے مطابق ان کے محلے کے ایک کھاتے پیتے مسلم گھرانے کی لڑکی ایک ہندو بھنگی کے ساتھ بھاگ گئی۔ مفتی صاحب نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا تو ڈیڑھ دن بعد پولیس نے لڑکی کو برآمد کرلیا مگر لڑکی جیسے ہی جج کے سامنے پہنچی، اس نے اس بھنگی کے ساتھ جانے اور اپنے ہندو ہونے کا اعلان کردیا۔ مفتی صاحب کے بقول ان کے علم میں پانچ ایسی مسلم لڑکیاں ہیں جو صرف بھنگی برادری میں گئیں ہیں۔ عام ہندوؤں کے ساتھ جانے والی لڑکیوں کی اکیلے دھیرہ دون میں ہی ایک بڑی تعداد ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکرٹری مولانامحمد عمر محفوظ رحمانی کے مطابق چند برسوں سے باضابطہ پلاننگ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنساکر ہندو بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جب وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر کے مشہورشہر پونا گئے تو معلوم ہوا کہ ان کے ایک جاننے والے کی بھانجی نے ہندو لڑکے کے ساتھ بھاگ کر کورٹ میریج کی ہے۔ معلوم ہوا کہ صرف پونا میں دو برسوں میں ۴۴مسلمان لڑکیوں نے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی ہے۔ اسی سال اگست میں۱۱مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں کورٹ میں دائر ہوئی ہیں اور ستمبر میں۱۲لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔ اسی طرح بمبئی میں۱۲،تھانے میں۷، ناسک میں۲، اور امراوتی میں۲ لڑکیوں نے کورٹ میں دیگر مذاہب کے لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواست دی ہے ۔
بھوپال کی گنجان مسلم آبادی والے ایک علاقے میں اس طرح کے دسیوںواقعات ہوچکے ہیں، اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی نہیں شادی شدہ عورتیں بھی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی گئی ہیں۔ کچی بستیوں میں رہنے والی مسلمان لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی اس منصوبہ بند سازش کا’لقمۂ تر‘بنی ہوئی ہیں۔ مولانا صاحب کے مطابق گجرات میں مسلمان لڑکیوں کو رجھانے ،قریب کرنے اور پھر ان کاجنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دیے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائل ،آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ایکٹیوا بائک وغیرہ۔ان کی باضابطہ ’فنڈنگ‘کی جارہی ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انھیں اس کام پر لگایا گیا ہے۔ یہ محض اتفاقی واقعات نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک سوچا سمجھا منصوبہ کام کر رہاہے۔’لوّ جہاد‘نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے،البتہ یہ ’شوشہ‘ صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں ’انتقامی جذبہ‘ اُبھارا جائے اور خود مسلمانوں کو ’لوّ جہاد‘میں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے۔ان کے مطابق باضابطہ ایسے ہندو جوانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے، جن کاکام ہی محبت کے نام پر مسلمان لڑکیوںکو تباہ و برباد کرنا ہے۔یہ لو گ پہلے ہمدردی کے نام پرکسی مسلمان لڑکی سے قریب ہوتے ہیں،پھر محبت کا فریب دیتے ہیں، اور شادی کا وعدہ کرتے ہیں، اور پھر جنسی استحصال کا مرحلہ شروع ہو جاتاہے اور جب وہ لڑکی عفت و عصمت کا گوہر لٹاچکتی ہے او ر اس لڑکے سے شادی کا اصرار کرتی ہے تو پھرکورٹ میں کورٹ میرج کی درخواست دی جاتی ہے۔
پچھلے ماہ اسی طرح کے ایک واقعے میں ہریانہ کے روہتک ضلع کے ٹٹولی گاؤں میں ایک پنچایت نے فرمان جاری کرکے مقامی مسلمانوں پر ٹوپی پہننے اور لمبی داڑھی رکھنے پر پابندی عائد کی۔ اس کے علاوہ یہ بھی حکم دیا گیا کہ: ’’وہ بچو ں کے ہندو نام ہی رکھیں گے‘‘۔ گاؤں کے بیچ میں وقف بورڈ کی جو زمیں قبرستان کے لیے استعمال ہوتی تھی اس کو پنچایت نے اپنی تحویل میں لے کر زرعی اراضی میں تبدیل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عید الاضحی کے موقعے پر گائوں میں دھوبی خاندان کے یامین کھوکھر پر الزام لگایا گیا کہ اس نے بچھڑے کی قربانی کی تھی۔ بعد میں اس کو پولیس گرفتار کرکے بھی لے گئی، مگر جلد ہی ضمانت پر و ہ رہا ہوگیا۔ روہتک نمبردار نے ۲۰ستمبر کو اجلاس بلا کر الیاس کو گائوں بدر کرنے کا حکم سنایا۔ گاؤں کی ۳ہزار نفوس کی آبادی میں ۶۰۰مسلمان ہیں۔ اس فرمان میں مزید یہ حکم دیا گیا کہ: ’’گائوں میں کہیں بھی کھلی جگہ پر نماز ادا نہیں کی جائے گی‘‘۔ یاد رہے گائوں یا اس کے آس پاس میں کہیں بھی مسجد نہیں ہے۔ مسلم آبادی جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے روہتک شہر جاتی ہے۔
اسی سال مارچ میں آگرہ کی کچی بستی مدھونگر میں تین سو مفلوک الحال مسلمانوں کے مرتد ہونے کی خبر آئی۔ انتہاپسند ہندو تنظیموں نے ان کی ’گھر واپسی‘ یعنی ہندومت اختیار کرنے کی تقریب منعقد کی، جس میں ۷۰ کے قریب افراد نے شرکت کی تھی۔ بھجنوں کے درمیان ہندو دھرم اختیار کیا۔اسی مہینے فیض آباد، یوپی سے بھی ۲۲مسلمانوں کے مرتد ہونے کی خبر آئی تھی۔ میڈیا سے بات چیت میں ان لوگوں نے کہا: ’’ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ راشن کارڈ اور مفت ہائوسنگ پلاٹ دیے جائیں گے‘‘ جو کہ سراسر لالچ اور غربت کا ناجائز فائدہ اُٹھانا ہے۔
چوںکہ تقسیمِ ملک کے وقت یہ علاقہ شدید فسادات کی زد میں آگیا تھا، جولوگ کئی وجوہ کی بناپر ہجرت نہیں کرسکے تھے، انھوں نے اپنی حفاظت کی خاطر اپنے نام تبدیل کردیے ۔ وہ دیوالی، ہولی اور دیگر ہندو تہوار بھی مناتے ہیں ، مگر گھروں میں اسلامی رسوم و رواج کو انھوں نے زندہ رکھا ہوا تھا۔ ان کی نئی پود اب باقاعدہ مسلم شناخت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے ، جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بہار میں دربھنگہ کے ایک گائوں میں ایک مسلم خاندان پر پنچایت نے ۲۵ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ، کیوںکہ اس نے بڑے جانور کا پایہ اپنے گھرمیں پکایا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ۲۰۰۲ء میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے بعد جن لوگوں نے دیہی علاقوں سے ہجرت کرکے کیمپوں میں پناہ لی تھی، جب ان کی واپسی کی کوششیں ہورہی تھیں ، تو کئی علاقوں کی پنچایتیںان کو اسی شرط پر واپس بسانے پر تیار تھیں کہ مسلمان حلفیہ بیان میں یہ یقین دلائیں کہ نہ وہ گائوں میں مسجد بنائیں گے اور نہ بلند آواز میں اذان دیں گے۔یہ باضابطہ تحریری حلفیہ بیانات تھے۔اسی طرح کی چند اور شرائط بھی تھیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر تیسرا مسلمان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔ پچھلے ۵۰برسوں میں ان کی حالت دلتوں اور قہرزدہ قبائل سے بھی بد تر ہوچکی ہے۔ یہ وہی قوم ہے جو ایک صدی قبل تک اس خطے کی حکمران تھی۔ مذبح خانے (سلاٹر ہائوس) بند کیے جانے سے اتر پردیش میں ہزاروں مسلمان بے روز گار ہوچکے ہیں۔ گائے کے نام پر افواہ پھیلا کر جانوروں کا کاروبار کرنے والوں کو جس طرح مارا پیٹا جا رہا ہے، اس سے چھوٹے چھوٹے مسلمان تاجروں کو کاری ضرب پہنچی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بڑے تاجر جو بکرے اور بڑے گوشت کو خلیجی اور دیگر ممالک کو بر آمد کرتے ہیں، ان کے کاروبار شد و مد کے ساتھ جاری ہیں، کیوں کہ ان میں اکثریت جین یا ہندو ہیں۔
شاید یہ واقعات اسلام کے نام پر وجود میں آئے پاکستان میں رہنے والے مذہبی ادارے چلانے والوں اور ارباب حل و عقد کی سمجھ میں نہ آئیں، کیوں کہ وہ فرقہ بندی اور فروعی معاملات میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ انھیں کیا معلوم کہ آزادی کی فضا میں ان کے سانس لینے کی کیا قیمت بھارتی مسلمان ادا کر رہے ہیں۔ بجاے اس کے کہ وہ اپنے اخلاق سے دنیا کواسلام کی صحیح تعریف سے روشناس کرواتے، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کے رجحان نے تو اچھے خاصے مسلمان کو بھی خوار اور مایوس کیا ہے۔ اُمید تھی کہ جو کام ۸۰۰سال تک برصغیر پاک و ہند پر حکومت کرنے والے مسلم حکمران نہیں کر پائے ، قائد اعظم محمد علی جناح کے جانشین اس ملک کو ایک لیبارٹری کی طرز پر استعمال کرکے اسلام کے حقیقی سماجی انصاف کے پیغام کو عام کرکے برصغیر کے دیگر خطوں، خاص طور پر بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ اور مثال کا کام کریں گے۔ ان کی اس کاوش سے بھارت میں دیگر مذاہب ، خصوصاً دلتوں تک اسلام کے آفاقی نظام کو پہنچانے میں مدد ملتی۔
ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر بھارت کے پسماندہ طبقات کے سب سے بڑے لیڈرتھے۔ ان کا رجحان اسلام قبول کرنے کا تھا۔ اسلام کی طرف مگران کے بڑھتے قدم رک گئے جس کی ایک بڑی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ مسلمانوں کے اندر چھوٹی بڑی ذاتوںکا سسٹم موجود ہے۔ اگر انھوں نے اسلام قبول کرلیا تو انھیں مسلم سماج میں بھی برہمنواد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح مسلمانوں کے اندر مسلکی جھگڑا بھی انھیں دکھائی دیا، جو ان کے لیے پاؤںکی زنجیر بن گیا۔ انھوں نے ایک موقعے پر اپنی تقریر میں کہا: ’’میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں، لیکن اگر میں اسلام قبول کرتا ہوں تومجھے وہابی کہہ کر خارج از اسلام کردیا جائے گا‘‘۔قصۂ مختصر، اگر مسلمان اپنا وتیرا تبدیل نہیں کرتے، اسلام کے حقیقی سماجی انصاف کے پیغام کو عملاً نہیں اپناتے، تو دلتوں اور دیگر طبقات کو اپنے ساتھ ملانا تو دُور کی بات، خود مسلمانوں کی نئی پود بھی دور چلی جائے گی۔
زندگی مسلسل واقعات و احداث سے عبارت ہے۔ اقوام و افراد کے لیے ہر لمحہ کسی نہ کسی خیر یا شر کی بنیاد بن سکتا ہے۔ کئی واقعات و لمحات تو انتہائی دُور رس اثرات چھوڑجاتے ہیں۔ کبھی اتنے دُور رس کہ ان سے پہلے اور ان کے بعد کا زمانہ مختلف ہوجاتا ہے۔ مثال دیکھنا ہو تو گذشتہ دوعشروں میں نائن الیون اور عرب بہار کے دواہم واقعات ہی ملاحظہ فرمالیجیے۔۲؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ایک نمایاں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل بھی ایسا ہی ایک تیسرا واقعہ ثابت ہورہا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ قتل تو روزانہ ہوتے ہیں۔ صحافی بھی بہت سے مارے جاچکے ہیں۔ کشمیر، شام، فلسطین اور روہنگیا سمیت کئی خطوں میں خون کی ہولی بھی مسلسل کھیلی جارہی ہے، آخر جمال کا قتل اتنا اہم کیوں ہوگیا؟ آئیے اس کی حقیقت و اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمال خاشقجی مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والا ایک بے باک صحافی تھا۔ راقم سمیت پاکستان کے کئی افراد سے ان کا تعارف برسوں پر محیط ہے۔ حُسن اتفاق سے ان کی شہادت سے ایک ہفتہ قبل استنبول ہی میں ان سے آخری مفصل ملاقات ہوئی۔ معروف عالمی تھنک ٹینک ’الشرق فورم‘ کے زیراہتمام ’سیاسی اسلام‘ (اسلامی تحریکات کے لیے اہل مغرب کی نئی اور طنزیہ اصطلاح) کے موضوع پر دو روزہ سیمی نار میں ہم دونوں مدعو تھے۔ تین روز اکٹھے ہی قیام و تبادلۂ خیال رہا۔ جمال اشتراکی روس کے خلاف جہاد کے زمانے میں افغانستان سے رپورٹنگ کرتا رہا۔ بعد میں یکے بعد دیگرے معروف عرب روزناموں الشرق الاوسط ، عرب نیوز اور الوطن کا ایڈیٹر رہا۔ اس دوران ایک اور معروف روزنامے الحیاۃ میں کالم شائع ہوتے رہے۔ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال نے ’العرب‘ کے نام سے الجزیرہ چینل جیسا ایک نیا نیوز چینل بنانے کا ارادہ کیا تو جمال کو اس کا سربراہ بنایا۔ بحرین کے دارالحکومت المنامہ میں قائم اس شان دار چینل پر ایک خطیر رقم خرچ ہوئی۔ لیکن جونہی چینل کی نشریات شروع ہوئیں، مقامی ذمہ داران اس کی سچائی کی تاب نہ لاسکے۔ ایک دن بعد ہی چینل پر پابندی لگی اور پھر ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیا۔
شاہ فیصل مرحوم کے صاحبزادے اور طویل عرصے تک سعودی خفیہ ادارے کے سربراہ رہنے والے شہزادہ ترکی الفیصل اس حساس ذمہ داری سے فارغ ہوئے تو اہم عرب چینل MBC پر ان کے انٹرویوز کا طویل سلسلہ چلا۔ یہ انٹرویو کرنے والا بھی جمال ہی تھا۔ ترکی الفیصل کو برطانیہ اور پھر واشنگٹن میں سعودی سفیر بنایا گیا تو جمال ان کے ابلاغیاتی مشیر کے طور پر ساتھ رہا۔ اس دوران میں وہ واشنگٹن پوسٹ جیسے عالمی اخبارات میں لکھنے لگا۔ جمال کے قتل کے بعد واشنگٹن پوسٹ کے صحافی ڈیوڈ اگناٹیوس نے شہزادہ ترکی الفیصل سے ۹۰ منٹ کا انٹرویو کیا، جس میں انھوں نے اس قتل پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ جمال سے اپنے تعلق کے بارے میں بھی کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ افغان جہاد کی رپورٹنگ کے لیے ایک صحافی کے طور پر افغانستان گیا تھا۔ اس وقت ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ پھر جب وہ عرب نیوز کا ایڈیٹر بنا تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔ گذشتہ چار برس سے ہمارے مابین اختلاف راے ہوگیا تب سے ہمارا رابطہ تقریباً منقطع تھا۔ ہمارا اختلاف الاخوان المسلمین کے بارے میں ہوا تھا۔ میرا کہنا تھا کہ اخوان جمہوریت کے دعووں کی آڑ میں دہشت گردی کرتی ہے، جمال کو میری اس راے سے اتفاق نہیں تھا‘‘۔
سعودی عرب میں قیادت اور حالات تبدیل ہونے کے بعد جمال نے مستقل طور پر بیرون ملک رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ انھیں کئی اُمور بالخصوص اختلاف راے کی بنیاد پر کی جانے والی گرفتاریوں سے اختلاف تھا۔ وہ اس بارے میں کھلم کھلا اظہار کرتا تھا۔ اس سب کچھ کے باوجود زمینی حقائق کو بھی جانتا تھا۔ استنبول میں ہماری اس آخری ملاقات کے دوران بھی اس نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ بعض اختلافات کے باوجود، سعودی عرب کی اہمیت کے پیش نظر اس سے گفت و شنید اور روابط جاری رہنا چاہییں۔ طویل عرصے سے تنہا بیرون ملک رہتے ہوئے انھوں نے دوسری شادی کا ارادہ کرلیا۔ ۳۶ سالہ ترک صحافی خدیجہ چنگیز جو شان دار عربی بھی جانتی ہے، سے ان کی تحریروں بالخصوص سلطنت آف عمان کے بارے میں لکھے جانے والے مقالے کے حوالے سے تعارف ہوا، جو شادی کے لیے آمادگی پر منتج ہوا۔ منگنی تو خاموشی سے ہوگئی، لیکن اتاترک کے سیکولر دستور کے مطابق دوسرا نکاح کرنے کے لیے پہلی بیوی سے طلاق کی مصدقہ دستاویز پیش کرنا لازمی تھا۔ ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے ۲۸ ستمبر کو اپنے ملک کے قونصل خانے گئے تو چند روز بعد دوبارہ آنے کو کہا گیا۔ ۲؍اکتوبر کو کاغذات تیار ہونے کی اطلاع دی گئی۔ دوپہر ایک بج کر ۳۷منٹ پر اندر گیا تو خصوصی جہاز میں آنے والے ۱۵؍ افراد کے ہاتھوں انتہائی سفاکیت سے قتل کرکے، لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے۔خدیجہ چنگیز قونصل خانے کے باہر منتظر تھی۔ دونوں میں یہ طے پایا تھا کہ اگر واپسی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی تو وہ فوراً اپنے ایک عزیز یاسین اقطائی کو مطلع کردے گی۔ یاسین اقطائی اس وقت حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے نائب صدر اور تنظیمی اُمور کے سربراہ ہیں۔ اس سے پہلے وہ پارٹی کے خارجہ اُمور کے سربراہ تھے۔ وہ لمحہ اور آج کا لمحہ اس واقعے کے اثرات شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔
۲؍اکتوبر کی شام ہی یہ خبر پوری دنیا میں پھیل چکی تھی کہ ایک صحافی اپنے ہی ملک کے قونصل خانے میں لاپتا اور شاید قتل کیا جاچکا ہے۔ جمال کے قتل کے اگلے روز ہی ترکی نے ان ۱۵؍افراد کی ویڈیو اور تصاویر نشر کردیں، جو اسی غرض کے لیے دو خصوصی جہازوں پر استنبول آئے اور واردات کے بعد اسی سہ پہر سعودی عرب واپس چلے گئے تھے۔ آیندہ آنے والے دنوں نے ان سب کی ساری نقل و حرکت کی ویڈیو ریکارڈنگ عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچا دی۔ نہ صرف یہ بلکہ جمال کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے لے کر ۲۲ منٹ کی ریکارڈنگ ایسی ہے، جس میں قاتلوں اور مقتول کے مابین ہونے والی چند لمحوں کی گفتگو سے لے کر، اسے بے ہوش کرنے اور پھر برقی آرے سے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی ساری تفصیل موجود ہے (تادمِ تحریر اس کی ریکارڈنگ نشر نہیں کی گئی)۔ واردات کے بعد سعودی قونصل جنرل اور اعلیٰ ذمہ داران نے کہا کہ جمال یہاں آنے کے کچھ دیر بعد پچھلے دروازے سے واپس چلا گیا۔ لیکن بعد ازاں سرکاری سعودی ذرائع نے اعلان کیا کہ ’’تحقیقات کے بعد معلوم ہوگیا ہے کہ جمال خاشقجی قونصل خانے کی عمارت ہی میں سفاکانہ طریقے سے قتل کردیا گیا تھا۔ اس کا قتل دوران تفتیش اسے چپ کروانے کی کوشش کے دوران دم گھٹنے سے ہوا۔ اس الزام میں سعودی عرب میں ۱۸ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیاگیا ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں‘‘۔ بعد ازاں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے اور ولی عہد نے ریاض میں منعقدہ ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بھی اس بہیمانہ قتل کو انتہائی وحشیانہ کارروائی قرار دیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار انصاف کے شکنجے سے بچ نہ پائے گا۔ سعودی ولی عہد نے یہ خوش آیند بات بھی زور دے کر کہی کہ: ’’جب تک شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر اردوان موجود ہیں کوئی طاقت دونوں برادر ملکوں کے مابین کوئی دراڑ پیدا نہیں کرسکتی‘‘۔
اللہ رب العزت نے کسی بھی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔لیکن بعض جرائم کی شناعت و سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ سفارت کاری کی دنیا عین جنگ کے عروج پر بھی محفوظ رکھی جاتی ہے۔ گھمسان کا رن پڑا ہو اور جانی دشمن بھی سفیر یا پیغام بر کی صورت میں سامنے آجائے تو اسے کوئی گزند نہیں پہنچائی جاسکتی۔ ویانا کمیشن آج کی دنیا میں سفارت خانوں اور سفارت کاروں کے لیے خصوصی مراعات یقینی بناتا ہے۔ سفارت خانے ہی کو اگر مقتل گاہ میں بدل دیا جائے تو سب کے لیے ناقابلِ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح صحافت اور صحافیوں کو بھی خصوصی مقام حاصل ہے۔ صحافی دوران جنگ برستی آگ میں بھی محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔اس قتل کی تیسری سنگینی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے غائب کر دینا ہے۔ ابھی تک نہ لاش ملی، نہ کفن اور نمازِ جنازہ نصیب ہوسکا۔
سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا یہ اعلان اور طیب اردوان کو ان کی یہ یقین دہانی یقینا اہم اور حوصلہ افزا ہے کہ قاتل جو بھی ہو، کسی طور سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ ترک حکومت کی شائع کردہ فہرست میں آنے والے ۱۵ ،اور قونصل خانے کے تین افراد کی گرفتاری کے اعلان کے ساتھ ہی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ترین خصوصی مشیر سعود القحطانی اور انٹیلی جینس کے نائب سربراہ جنرل احمد العسیری کو ذمہ داریوں سے سبکدوش کردینے کی خبریں بھی انتہائی اہم ہیں۔ لیکن ابھی تک کئی اہم سوالات کے جواب باقی ہیں۔ ۲۶ ؍اکتوبر کو صدراردوان نے اپنے ان مطالبات و سوالات کا دو ٹوک اعادہ کیا ہے کہ جب یہ معلوم ہوگیا کہ جمال قونصل خانے میں قتل ہوا تو لاش کہاں ہے؟ قاتل گرفتار ہوگئے ہیں تو بآسانی خود انھی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ انھیں قتل کا حکم کس نے دیا؟ قاتلوں کے مقامی ترک سہولت کار اگر ہیں تو کون ہیں؟
ان سوالات کا تسلی بخش جواب اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس قتل کی آڑ میں کئی عالمی قوتیں سرزمین حرمین شریفین کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس واردات سے پہلے ہی لگاتار اپنے توہین آمیز اور بے سروپا بیانات میں سعودی عرب کو دھمکیاں دیتے اور بلیک میل کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’پیسے دو‘‘۔ تمھاری حفاظت ہم کررہے ہیں۔ ہم نہ ہوں تو تم دو ہفتے بھی باقی نہ رہ سکو۔ پیسے دو‘‘۔ جمال خاشقجی کے قتل کے بعد بھی وہ اپنی یہی دھمکیاں دُہرا رہا ہے۔
دیکھا جائے تو اس سفاکانہ قتل کے شر سے اللہ تعالیٰ ایک خیر برآمد کرنے کا موقع فراہم کررہا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی عالم اسلام کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے بوجوہ دونوں کے تعلقات سردمہری بلکہ تناؤ کا شکار ہوتے جارہے تھے۔ دونوں کے دشمن بھی اس آگ پر تیل چھڑک رہے تھے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ابلاغیاتی جنگیں بھڑکائی جارہی تھیں۔ ترکی میں آنے والے اقتصادی بحران کو بڑھاوا دینے کی بڑہانکی جاری تھی۔ جمال کے قتل کے بعد دونوں برادر ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے مابین کئی بار گفتگو ہوچکی ہے۔ گورنرمکّہ خالدالفیصل انقرہ میں صدر اردوان سے ملاقات کرچکے ہیں۔ سعودی قیادت نے ترکی اور ترک قیادت کے بارے میں بہت حوصلہ افزا بیان دیے ہیں۔ اتوار ۲۸ ؍اکتوبر کو سعودی اٹارنی جنرل، استنبول میں اپنے ترک ہم منصب سے مذاکرات کررہے ہیں۔ اگر دونوں برادر ملک، قتل کی اس سنگین واردات کے تمام مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہوئے، قرآنی حکم پر عمل درآمد کرلیتے ہیں تو نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے بلکہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا بھی سدباب ہوسکے گا۔خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری تہ در تہ سیاسی اور اقتصادی بحرانوں میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے، بلکہ اس کے اہم عالمی اثرات مرتب ہوںگے۔ یورپی پارلیمنٹ اس واقعے کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرچکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ پورے پورے صفحے کے اشتہارات شائع کر رہا ہے کہ Demand the Truth۔
مقدس شہر یروشلم کے مغربی حصے میں ہولوکاسٹ میوزیم کا دورہ کرنے کے بعد کوئی شقی القلب شخص ہی ہوگا کہ جو اپنے آنسو روک پائے۔ چند برس قبل جب میں نے اس میوزیم کا دورہ کیا، تو استقبالیہ کاؤنٹر سے کانوں میں لگانے والی کمنٹری [یعنی آنکھوں دیکھا حال بتانے والی]مشین فراہم ہوگئی تو بھارتی نژاد اسرائیلی گائیڈنے مزید رہنمائی کرنے سے معذوری ظاہر کی اور مشورہ دیا کہ اس میوزیم کو انفرادی طور پر ، آزاد ذہن کے ساتھ بغیر نگرانی یا رہنمائی کے دیکھنا مناسب ہے۔ مدہم روشنیوں کے درمیان ایک پُراسرار اور سوگوار فضا دوسری عالمی جنگ اور یورپ کی شہری زندگی کی نہ صرف عکاسی کرتی ہے، بلکہ لگتا ہے کہ زمان و مکان اسی دور میں پہنچ گئے ہیں۔ آپ ہال میں جس تصویر یا کسی شے کے سامنے کھڑے ہیں اس کا اور ہال کا نمبر کمنٹری مشین میںدبائیں، تومطلوبہ زبان میں آنکھوں دیکھا حال رواں ہوجاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ تصویر زندہ ہوگئی ہو۔کریک ڈائون، سرچ آپریشنز، ہاتھ سروں پر رکھے قطار دَر قطار مارچ کرتے ہوئے خواتین و مرد، ریل کی پٹڑیوں کی گڑگڑاہٹ، آہ و بکا کا ایک شور، پلیٹ فار م پر گوشت سے عاری ناکافی پھٹے لباس میں انسانوں پر جرمن اہلکاروں کے برستے کوڑے ، عورتوں اور بچوں کی کس مپرسی اور پھر ان کو ہانک کر گیس چیمبر کی طرف لے جانا وغیرہ وغیرہ، غرض انسان کے وحشی پن اور انسانیت کی تذلیل کے ان واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے دم بخود ہونا لازمی امر ہے۔ ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔
اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے مغربی ممالک خصوصاً یہودیوں کو انسانی حقوق اور انسانیت کے تئیں زیادہ حساس ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس عذابِ الٰہی کے بعد اپنی روایتی بد عہدی اورریشہ دوانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے یہودی یا بنی اسرائیل نے جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق پر شب خون مار کر ان پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، بلکہ دیگر ممالک میں اپنے ذرائع و و سائل کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر گھیرنے اور مارنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ہیں۔
وہ ظلم تو یورپ کے عیسائیوں نے کیا ، مگر بدلہ آج تک مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔ اسی کی ایک کڑی کے طور پر حال ہی میں ہالینڈکے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈر نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کیا تھا۔وائلڈر نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ اس نے قتل کی دھمکیوں اور مسلمانوں کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر مقابلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ دنیا بھر میں اس معاملے پر افرا تفری پھیلے۔ اس سے قبل ہالینڈکی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کی نمایش روکنے کے لیے تحریری حکم نامہ جاری کردیا تھا۔ واضح رہے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی اور سخت احتجاج کیا جا رہا تھا۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے، کہ جس کو روکنے کی جیت کا سہرا مختلف تنظیمیں اپنے سر باندھنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اور یہ نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے سڑکوں پر اترنے یا دھمکیوں کی وجہ سے یہ مقابلے منسوخ ہوئے ہیں۔
اس سے قبل بھی ۲۰۰۵ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور پھر ۲۰۱۵ء میں فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کیا اور مسلمانوںکی تنظیمیں سڑکوں پر آئیں، تو اس کا اُلٹا اثر سامنے آیا۔ مغرب میں اس کو اظہار راے پر حملے کی صورت دے کر مسلمانوں کے خلاف راے عامہ کو بھڑکایا گیا۔ پاکستانی حکومت کے موجودہ موقف ہی میں اس کا جواب پوشیدہ ہے ۔ تمام مسلم حکومتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر مغربی اور دیگر ممالک کے لیے ایک سرخ لکیر کھینچنا ہوگی۔ جس طرح کی لکیر مغرب نے ہولوکاسٹ کی نفی کرنے والوں کے خلاف کھینچی ہے۔
۱۹۸۸ء میں جب سلمان رشدی کی کتاب دی ستانک ورسز (شیطانی آیات) منظر عام پر آئی تھی ، تو ایران نے اس پر سخت موقف اختیار کیا، مگر دیگر مسلم ممالک نے اس کی تائید نہ کرکے عالمی برادری میں اس کو الگ تھلگ کردیا۔ یاد رہے آیت اللہ خمینی نے مصنف کی موت کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔ کئی برسوں تک اس پر زور دار بحث چھڑی رہی۔ ابلاغیات کی پڑھائی کے دوران ، ہمارے ڈیپارٹمنٹ اور جواہر لال یونی ورسٹی میں ایران کے اس موقف اور آیت اللہ خمینی کے فتوے پر نکتہ چینی میں چند عرب طالب علم پیش پیش ہوتے تھے، جو اپنے آپ کو ’روشن خیال‘ ثابت کرنے کے زعم میں ایران اور شیعوں کو رجعت پسند تسلیم کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ دو عشرے بعد جب افغانستان میں طالبان، عرب میں القاعدہ و داعش مغرب کے نشانے پر آئے، تو شیعوں اور ایران نے اپنے آپ کو ’روشن خیال‘ جتلا کر دہشت گردی کا سارا ملبہ سنیوںپر ڈالنے کا کام کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب اور نہ کوئی فرقہ یا مسلک ہوتا ہے۔
ابھی حا ل ہی میں سعودی عرب نے کینیڈا کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات اس وجہ سے ختم کرلیے کہ کینیڈانے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر احتجاج درج کروایا تھا۔ کاش! خادم الحرمین ایسا ہی موقف ان ممالک کے خلاف بھی اپناتے جو اظہارِ آزادی کی آڑ میں ان خاکوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اگر مسلم ممالک کے حکمران آئے دن بے حسی اور بزدلی کا ثبوت فراہم نہ کرتے اور جسد ملت اپنی روح کے ساتھ موجود ہوتا، تو مغربی دنیا میں کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ پیغمبرؐ اسلام و انسانیت کو نشانہ بناتا۔ پھر اسی طرح حالیہ عرصے میں بھارت میں بھی کئی افراد ’آزادی اظہار راے‘ کی آڑ میں پیغمبر حضرت محمدـــﷺ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف گستاخانہ الفاظ کا استعمال کرکے مسلمانوں کو زبردستی اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔
اسی عرصے میں بھارتی حکمران بی جے پی کی انفارمیشن ٹکنالوجی سیل سے مستعفی چند رضاکاروں نے آن ریکارڈبتایا کہ : ’’ہم کو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کی تربیت دی جاتی تھی‘‘۔ بدقسمتی سے ہندو انتہاپسندوں کی ایما پر قائم ایک اور سیل کے انچارج، پاکستان کے ایک مؤقر چینل کے بھارت میں نمایندے اور پریس کلب آف انڈیا کے سابق سیکرٹری جنرل اور ’سیفما‘ (ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن: SAFMA)کے فعال رکن پشپندر کلوستے ہیں ، جو محمد رضوان کے نام سے آئے دن ویڈیو بنا کر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ چوںکہ موصوف علی گڑھ یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، نیزپاکستانی چینل کے نمایندے ا ور سافما کے رکن کی حیثیت سے پاکستان آنا جانا رہتا ہے، اس لیے اسلام کے بارے میں واجبی سی، مگر مسلمانوں کے بارے میں سیر حاصل معلومات رکھتے ہیں۔
جب ان کی اس شرپسندانہ روش کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے تو ہمدردی حاصل کے لیے اظہارِ آزادیِ راے کو آڑ بناکر مسلمانوں کے رویے کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ناموس رسالت ؐکے حق میں مسلمانوں کے ردعمل کو ’جمہوریت کے لیے خطرناک‘ بتاتے ہیں، مگر یہی نام نہا د دانش وَر، ادیب، مصنفین اور ٹی وی اینکر اپنے ملک کے اندر آزادیِ اظہارِ راے کا گلاگھونٹے جانے کے متعدد واقعات پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ گویا انھیں سانپ سونگھ گیا ہے۔مثال کے طور پر گذشتہ چند ماہ کے دوران پورے بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کو حراست میں لیا گیا تو اس ظلم کو یہ حق بجانب ٹھیراتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے،کیوںکہ یہ افراد دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے‘‘۔
چار سال نتیشا جین، پرینکا بورپوجاری اور ستین باردولائی کو جب چھتیس گڑھ (دانتے واڑہ) میں گرفتار کیا گیا تو حریت فکر کے ان گرووں میں سے کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ یاد رہے کہ یہ صحافی قبائلیوں پر ہونے والے مظالم اور نکسلایٹ{ FR 644 } اور نکسل مخالف کارروائیوں کا جائزہ لینے گئے تھے۔ اظہارِ راے کی آزادی کے یہ علَم بردار اس وقت بھی خاموش رہے، جب ۲۰۱۰ء میں امریکی دانش ور پروفیسر رچرڈ شاپیرو کو بھارتی حکومت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ویزا دینے سے انکار کردیا۔۲۰۱۰ء میں ہی جب مشہور براڈکاسٹر ڈیوڈ براسمیان اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھارت پہنچے تو حکومت نے انھیں نئی دہلی کے ہوائی اڈے سے ہی واپس لوٹا دیا۔بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر جانے کے لیے تو اب بھارتی وزارت خارجہ نے غیر ملکی نامہ نگاروں کے داخلے پر ہی پابندی عائد کر دی ہے۔
حقوقِ انسانی کے مشہور بھارتی کارکن گوتم نولکھا، جن کے گھر پر یلغار کرکے ان کو حراست میں لیا گیا ، اس سے قبل وہ ۲۰۱۱ء میں بھی عتاب کا نشانہ بنے تھے۔ جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ چھٹیاں منانے گلمرگ جانا چاہ رہے تھے تو سری نگر ہوائی اڈے پر انھیں رات بھر حراست میں رکھنے کے بعد دہلی لوٹنے کے لیے مجبور کردیا گیا۔ ۲۰۱۵ء میں بھارت میں تامل زبان کے ناول نگار رپرومل موروگن کے ناول پر پابندی لگادی گئی۔ ان کے ناول کے انگریزی ترجمے پر اس وجہ سے پابندی لگادی گئی ہے کہ اس میں موروگن نے ہندو مذہب کی قدیم رسم ’نیوگ‘ پر نکتہ چینی کی ہے۔’نیوگ رسم‘ کے مطابق کوئی بے اولاد عورت، بچے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کسی غیر مرد یا پنڈت سے جنسی تعلقات قائم کرتی تھی اوراس قبیح رسم کو قدیم بھارتی معاشرے میں قبولیت حاصل تھی۔موروگن نے اس ناول میں ذات پات پر مبنی طبقاتی کش مکش اور ظلم اور معاشرے کی برائیوں پر نکتہ چینی کی ہے، جس سے ایک خاندان بکھر جاتا ہے اور ان کی اَزدواجی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ ناول نگار موروگن پر اتنی نکتہ چینی ہوئی کہ ان سے نہ صرف آیندہ قلم نہ اْٹھانے کی قسم لی، بلکہ ناول کے ناشرین کو اس کی تما م کتابیں جلانے کے لیے کہا گیا۔
اظہار راے کی آزادی کا سب سے بڑا علَم بردار یورپ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے، اور اس کی سب سے واضح مثال ہولوکاسٹ ہے۔ یہودیوں کے خلاف کوئی بات لکھنا یا ان کی مخالفت کرنا یا ہولوکاسٹ کو مفروضہ قرار دیناانتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین نے تو اپنے رکن ملکوں کے لیے باضابطہ ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ: ’ہولوکاسٹ کو غلط قرار دینے والے ادیبوں یا مصنّفین کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ جس میں ایک سے تین سال قید بامشقت کی سزا بھی شامل ہے‘۔ ۲۰۰۳ء میں اس حکم نامے میں ایک اضافی پروٹوکول شامل کیا گیا، جس میں ہولوکاسٹ کے خلاف انٹرنیٹ پربھی کچھ لکھنا قابل گردن زدنی جرم قرار پایا ہے۔ جن ملکوں میں ہولوکاسٹ کے خلاف کچھ بھی لکھنا انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے ان میں آسٹریا، ہنگری، رومانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔
حالاںکہ المیہ یہ ہے کہ یہی ممالک یہودیوں کے خلاف کارروائیوں میں آگے آگے رہے تھے۔۱۹۹۸ء سے لے کر ۲۰۱۵ء یعنی ۱۷ برسوں میں تقریباً ۱۸؍ادیبوں اور مصنّفین کو اظہارِ راے کی آزادی کے علَم برداروں ہی کے عتاب کا شکار ہونا پڑا ہے۔ اس کی ایک فہرست یہاں دی جارہی ہے: lجین میری لی پین، فرانس/ جرمنی، جرمانہ، فروری۱۹۹۸ء lراجر گراوڈی، فرانس، ۲لاکھ ۴۰ہزار فرانک جرمانہ، جولائی ۱۹۹۸ء lیورگن گراف، سوئٹزرلینڈ ،۱۵ ماہ قید، جولائی۱۹۹۸ء lگیرہارڈ فوسٹر، سوئٹزرلینڈ، بارہ ماہ قید ،مئی ۱۹۹۹ء lجین پلانٹین، فرانس، چھے ماہ قید، جرمانہ، اپریل ۲۰۰۰ء lگیسٹن ارمانڈ، سوئٹزر لینڈ، ایک سال قید، فروری ۲۰۰۶ء lڈیوڈ ارونگ، آسٹریا، ایک سال قید، مارچ ۲۰۰۶ء lجرمار روڈولف، جرمنی، ڈھائی سال قید، اکتوبر ۲۰۰۶ء lرابرٹ فائریسن، فرانس، ۷۵۰۰ یورو جرمانہ، تین ماہ نظربند، فروری ۲۰۰۷ء lارنسٹ زیونڈل، جرمنی، پانچ سال قید، جنوری ۲۰۰۸ء lوولف گینگ فرولچ، آسٹریا ،چھے سال قید، جنوری ۲۰۰۸ء lسلویا اسٹالس، جرمنی، ساڑھے تین سال قید، مارچ ۲۰۰۹ء lہوسٹ مہلر، جرمنی، پانچ سال قید، اکتوبر ۲۰۰۹ء lڈیرک زمرمین، جرمنی، نو ماہ قید، اکتوبر ۲۰۰۹ء lرچرڈ ولیمسن، جرمنی، ۱۲ ہزار یورو جرمانہ، جنوری ۲۰۱۳ء lجیورگے ناگے، ہنگری، ۱۸ماہ قید، فروری۲۰۱۵ء lوینسنٹ رینورڈ، فرانس، دو سال قید، نومبر ۲۰۱۵ء lارسولا ہینر بیک جرمنی، دس ماہ قید۔
سب سے اوّل میڈیا کی آزادی کے حدود کا تعین کرنالازمی ا مر ہے۔صحافت کومحض اسلام کی تضحیک سے یامسلم مخالف جنون کو مزید ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر بقاے باہم ، کشادہ ذہنی اور مذہبی رواداری اور ایک دوسرے کے تئیں احترام کے جذبے کو فروغ دیا جائے۔ تاہم، اس کے ساتھ بڑی ذمہ داری خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، جنھوں نے اسلام کے سماجی، معاشی، نیز افکار و نظریات کے انقلاب کو عام کرنے کے بجاے اس کو مسلکوں کے کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ مزید یہ کہ ابلاغ واشاعت کے ذرائع کا بہترین استعمال کرنے کے بجاے اپنے آپ کو ایک خول میں بندکیا ہوا ہے۔
ماؤپسند نکسل کمیونسٹ دانش ور کوبڈ گاندھی،دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی کی سزا پا چکے۔ کشمیری نوجوان افضل گورو کے ساتھ کئی ماہ سیل میں قید رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’افضل کے ساتھ گفتگو کے دورا ن پتا چلا کہ کمیونزم کے سماجی انصاف و برابری کا سبق تو اسلام ۱۴۰۰سال قبل سنا چکا ہے‘‘۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو تفرقوں اور علاقائی تنگ گلیوں سے باہر نکال کر اپنے کردار و اعمال سے ثابت کریں کہ اسلام کے افکار و نظریات ہی واقعی انسانیت کی معراج ہیں۔
بھارتی کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے اپنے دورۂ یورپ میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز، لندن میں بھارتی ہندو انتہاپسند تنظیم ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘ (آرایس ایس) کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’آر ایس ایس ہندستان کا نیچر بدلنا چاہتی ہے۔ _ وہ ملک پر ایک مخصوص نظریہ تھوپنے کی خواہاں ہے۔ _ وہ نظریہ ایسا ہی ہے جیسا عرب دنیا میں اخوان المسلمون کا نظریہ ہے _‘‘۔
۱- عصرِحاضر کے ہندستان میں جن لوگوں نے ہندو مذہب اور ہندو تہذیب کے احیا کی کوششیں کی ہیں، ان میں راجا رام موہن رائے ، سوامی دیانند سرسوتی ، ساورکر ، لالہ لاجپت رائے، سوامی شردھانند اور مدن موہن مالویہ جیسے انتہاپسندانہ اور نسل پرستانہ سوچ کے حاملین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ _ ان افراد نے مختلف تنظیمیں قائم کیں اور ان کے تحت اپنی سرگرمیاں انجام دیں ۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نامی تنظیم بھی ہندو احیا پرستی کی عَلَم بردار ہے۔ _ اس کی تاسیس ۱۹۲۵ء میں ہیڈگِوار نے کی تھی۔ _ اس کے دوسرے سرچالک گول والکر تھے۔ _ انھوں نے۱۹۴۰ء سے ۱۹۷۳ـء تک اس کی سربراہی کی اور اپنی تحریروں کے ذریعے اس کی فکری بنیادیں استوار کیں۔ ان کی کتب: We or our Nationhood Defined اور Bunch of Thoughts میں وہ افکار تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، جن پر بعد میں آر ایس ایس کی نظریاتی بنیادیں استوار کی گئیں _۔
۲- آر ایس ایس کا نظریۂ قومیت یہ ہے کہ: ’’کوئی شخص محض ہندستان میں پیدا ہونے سے ہندستانی قومیت کا حصہ نہیں بن سکتا ، بلکہ قومیت کے عناصر ترکیبی میں نسل ، پیدایش ، کلچر ، زبان اور جغرافیے کے ساتھ ساتھ مذہب بھی شامل ہے‘‘۔ اس کے نزدیک: ’’ملک میں ہندوؤں کے مفاد کے لیے کام کرنا فرقہ پرستی نہیں ، بلکہ قومی کام ہے _‘‘۔
۳-آر ایس ایس کے نزدیک: ’’ہندستان کی اکثریت ہندوؤں کی ہے ، اس لیے اسے ہندو راشٹر ہونا چاہیے۔ _ جو لوگ ہندو قومی ریاست کے تصور سے خود کو الگ رکھتے ہیں، وہ ملک دشمن ہیں‘‘۔
۴- آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ: ’’بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کو اپنی تہذیبی شناخت مکمل طور پر ختم کرلینی چاہیے اور خود کو اکثریتی فرقے کے کلچر میں ضم کردینا چاہیے ‘‘۔
۵-آر ایس ایس، ہندو راشٹر [ہندو قوم]کی تعمیر ’منو سمرتی‘ [منو قوانین]کی بنیاد پر کرنا چاہتی ہے، _ جس کے تحت انسانی معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ تصوّر آج خود ہندوئوں کے بڑے طبقے کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس لیے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس انتہا پسند تنظیم نے اپنی آئیڈیالوجی کی بنیاد مسلم دشمنی پر رکھی ہے ۔ اس کے نزدیک: ’’مسلمان بیرونی حملہ آور ہیں ، جنھوں نے ملک کو لوٹا ہے اور لالچ اور جبر کے ذریعے یہاں کی آبادی کے ایک حصے کو مسلمان بنایا ہے۔ اس لیے ان کی 'شدھی اور 'گھر واپسی کرانی چاہیے‘‘۔ _ وہ کہتی ہے کہ: ’’مسلمانوں کے لیے یہاں دو ہی راستے ہیں کہ یا تو خود کو ہندو تہذیب میں ضم کرلیں ، یا پھر اکثریتی ہندو طبقے کے رحم و کرم پر زندہ رہیں‘‘۔
۶-آر ایس ایس، جرمنی میں ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام کو تحسین کی نظر سے دیکھتی اور کہتی ہے کہ اس جرمن نسل پرستی میں بھارتی ہندوئوں کے لیے بڑی رہ نمائی ہے _۔
۷- اگر کوئی شخص آر ایس ایس کا موازنہ اخوان المسلمون سے کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اخوان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور اخوان کے افکار و نظریات ، اس کی سرگرمیوں اور تاریخ سے اسے ادنیٰ سی بھی واقفیت نہیں ہے _۔
۸- اخوان المسلمون کی تاسیس ۱۹۲۸ء میں مصر میں ہوئی۔ _ اس زمانے میں عرب قومیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ فرعونی تہذیب کے احیا کی باتیں ہو رہی تھیں ، آزادی نسواں کے نام پر اباحیت و عریانیت کو ہوا دی جا رہی تھی۔ اس فضا میں امام حسن البنا نے اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد کی اور مغربی تہذیب کے بجاے اسلامی تہذیب کی بالادستی کی دعوت دی _۔
۹- اخوان کی تحریک ۱۹۳۹ء تک خاموش اصلاحی جدوجہد تک محدود رہی اور اس کی دعوت کو خوب فروغ ہوا۔ لیکن دوسرے مرحلے میں جب انھوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، تب اس کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے وہ برطانوی سامراج کی کٹھ پتلی مصری حکومت کی نظر میں کھٹکنے لگی۔ _۱۹۴۸ء میں اخوان نے جنگِ فلسطین میں حصہ لیا اور خوب دادِ شجاعت دی تو عالمی سطح پر باطل کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔ _ انگریزوں نے ان کی سرکوبی کے لیے مصری حکومت پر دباؤ ڈالا _۔ تنظیم پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کے ارکان کو داخلِ زنداں کردیا گیا ۔ ۱۲فروری ۱۹۴۹ء کو امام حسن البنا کو قاہرہ میں شہید کردیا گیا۔۱۹۵۲ء میں مصر کے فوجی آمر جمال عبدالناصر نے اپنے اُوپر قاتلانہ حملے کا الزام اخوان پر ڈال کر ان کے خلاف داروگیر کی زبردست مہم چھیڑ دی۔ ۱۹۵۴ء میں ان کے چھے رہ نماؤں کو پھانسی دے دی گئی ، جن میں سے ایک جسٹس عبدالقادر عودہ تھے۔ _ پھر ۱۹۶۶ء میں اس کے چار رہ نماؤں کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا ، جن میں سے ایک مفسرِقرآن اور عربی کے منفرد ادیب سیّد قطب شہید بھی تھے۔ پھر مختلف مواقع پر اخوان کو خوب مشقِ ستم بنایا گیا۔اب بھی چند سال سے وہ سخت آزمایش میں مبتلا ہیں۔
۱۰- اخوان کو آر ایس ایس جیسی تنگ نظر، خونی فرقہ پرست اور دہشت گرد تنظیم سے تشبیہ دینا بڑی نادانی کی بات ہے۔ _ اخوان نے قومیت کے مروّجہ نظریے کے برعکس عالمی اخوت کا تصور پیش کیا _۔ انھوں نے حکومتوں سے اصلاح کا مطالبہ کیا اور اسلامی نظام قائم کرنے کی بات کی، لیکن ملک کے دیگر مذہبی یا اقلیتی گروہوں کے بارے میں ہرگز منافرت نہیں پھیلائی _۔
۱۱- افسوس کہ اخوان کے بارے میں عالمی سطح پر من گھڑت غلط فہمیاں پھیلائی گئیں، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور بے جا طور پر اسے ایک دہشت گرد تنظیم کہا گیا۔ یہ سلسلہ اب بھی برابر جاری ہے۔ _ دشمنوں سے کیا گِلہ ، افسوس کہ بعض مسلم حکومتیں، مسلم جماعتیں اور مسلم شخصیات بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہیں۔
۱۲- اخوان نے کبھی طاقت ، جبر اور تشدد کا راستہ نہیں اختیار کیا اور زیرِ زمین سرگرمیاں نہیں انجام دیں ، بلکہ ہمیشہ پُر امن جدوجہد کی اور کھلے عام اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ اس کے باوجود ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ خارجی اور باغی ہیں ۔
کتنی عجیب بات ہے کہ جو تنظیم خود ریاستی اور گروہی دہشت گردی کا شکار ہوئی ہو ، جس کے لاکھوں ارکان و وابستگان کو جیلوں میں ٹھونس کر بدترین مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہو، اور وقفوں وقفوں سے جس کی لیڈرشپ کو تختۂ دار پر لٹکادیا گیا ہو ، خود اس پر دہشت گرد ہونے کا لیبل چسپاں کردیا جائے _۔
۱۳- اخوان المسلمون مصر کی تنظیم ہے۔ _ لیکن معلوم نہیں کیوں ، کچھ عرصے سے بعض بھارتی حضرات اخوان کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ _اس کے سربراہوں کو دہشت گرد قرار دیتے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
کیا ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف بھارت کے شمال مشرقی صوبہ آسام میں مقامی ہندو آبادی کی نسلی اور لسانی برتری قائم رکھنے کے لیے۴۰ لاکھ افراد کو بنگلہ دیشی بتا کر شہریت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف جموں و کشمیر کی نسلی ، لسانی و مذہبی شناخت کو ختم کرنے کے لیے آئین کی دفعہ ۳۵ (اے) کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔علانیہ دہرے پیمانے صرف اس لیے اختیار کیے جا رہے ہیں کہ آسام کی ۳۵ فی صد اور جموں و کشمیر کی ۶۸فی صد مسلم آبادی ہندو فرقہ پرستوں اور موجودہ بھارتی حکومت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔
منصوبہ یہ ہے کہ آئین کی اس شق کو ختم کرکے بھارت کی دیگر ریاستوں سے ہندو آبادی کو کشمیر میں بساکر مقامی کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کردیاجائے۔ اسی طرح آسام میں برسوں سے مقیم بنگالی مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر ان کو برما کے روہنگیائی مسلمانوں کی طرح دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرکے ہندو آبادی کو سیاسی اور آبادیاتی تحفظ فراہم کرایا جائے۔
نیشنل رجسٹر آف اسٹیزنز، یعنی شہریوں کی فہرست جو ۳۱جولائی کو جاری ہوئی ہے، ان میں جن افراد کے نام شامل نہیں ہیں، ان میں بھارت کے مرحوم صدر فخرالدین علی احمد کا خاندان، آسام کی سابق وزیر اعلیٰ سیدہ انورہ تیمور اور ان کا خاندان، ریاستی اسمبلی کے پہلے ڈپٹی اسپیکر امیرالدین کا خاندان، نیز بھارتی فوج، نیم فوجی تنظیموں اور پولیس کے کئی اعلیٰ عہدے دار اور ان کے اعزاو اقارب شامل ہیں۔
اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ایسے مقتدر افراد کا نام یا ان کے خاندان کو شہریت کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے توعام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ابھی صرف ڈرافٹ لسٹ ہے اور کسی کو بھی فوری طور پربے دخل نہیں کیا جائے گا اور اس لسٹ کو چیلنج کرنے کے بھی بھرپور مواقع دیے جائیں گے،مگر ان تمام یقین دہانیوں کے باوجود پورے صوبے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ مرکزی و ریاستی وزرا، نیز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین اپنے بیانات کے ذریعے اس ایشو کو بھنا کر الیکشن میں ہندو ووٹروں کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چوںکہ خدشہ تھا کہ شہریت کی فہرست سے بنگالی ہندو بھی خارج ہوسکتے ہیں، وزیر اعظم مودی کی حکومت ۱۹۵۵ءکے شہریت کے قانون میں ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کرچکی ہے ، جو اس وقت پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ہے، جس کی رُو سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان سے آئے غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو شہریت مل جائے گی۔ انصاف کے دہرے معیار کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے۔
تقسیم ہند اور ۱۹۷۱ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے وقفے کے دوران مبینہ طور پربہت سے افراد ہجرت کرکے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں بس گئے تھے۔ یاد رہے تب پاکستان کو سفارتی سطح پر زچ کرنے کے لیے سرحدیں کھول دی گئیں تھیں اور اس طرح کی ہجرت کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی تھی۔ جب بنگلہ دیش وجود میں آیا تو اکثر لوگ واپس چلے گئے۔۱۹۷۸ء سے ۱۹۸۵ء کے درمیان آل آسام اسٹوڈنٹس (آسو) سمیت کچھ تنظیموں نے پروپیگنڈا شروع کیا کہ بہت سے پناہ گزین بنگلہ دیش جانے کے بجاے آسام میں بس گئے ہیں۔
۱۹۷۸ء میں انتخابات ہوئے تو آسام اسمبلی کے انتخابات میں ۱۷مسلمان منتخب ہو گئے تھے۔ بس پھرکیا تھا، آسمان سر پر اٹھا لیا گیا کہ:’’ آسام کو’اسلامی ریاست‘ میں تبدیل کرنے کے لیے بنگلہ دیشی مسلمانوں کا ایک ریلا چلا آرہا ہے‘‘۔ اسی طرح ۱۹۷۹ء میں فرقہ پرست تنظیموں اور حکومتوں کی درپردہ حمایت یافتہ آسونے صدیوں سے آباد بنگالی آبادی کے خلاف پْرتشدد اور خونیں مہم چلائی۔اس سے قبل اس صوبے میں غیر آسامیوں، یعنی ہندی بولنے والوں کے خلاف تحریک شروع کی گئی تھی۔ پھر اس کا رُخ غیر ملکیوں اور خاص کر بنگلہ دیشیوں کے خلاف موڑ دیا گیا۔
بعدازاں اسے آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرستوں کی شہ پر مسلم مخالف خوں ریز تحریک میں تبدیل کردیا گیا۔ آسام کی تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی اور خاص کر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جس میں۱۹۸۳ء کے نیلی اور چولکاوا کے قتل عام کے روح فرسا واقعات کبھی فراموش نہیں کیے جاسکتے جن میں تقریباً تین ہزار ( غیر سرکاری ۱۰ہزار) افراد کو محض چھے گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیاتھا مگر متاثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔
۱۹۸۵ء میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی نگرانی میں مرکزی حکومت، آسام حکومت اور احتجاجی طلبہ لیڈروں کے درمیان باہمی رضامندی سے آسام آکارڈ (معاہدہ) وجود میں آیا۔پولیس نے نیلی قتل عام میں ملوث کئی سو افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی مگر ’آسام اکارڈ‘ کی ایک شرط کے تحت مقدمے واپس لیے گئے‘ اور آج تک اس نسل کشی کے لیے کسی کو سزا ملی، نہ کسی کو ذمہ دار ہی ٹھیرایا گیا۔ اس واقعے کو ایسے دبا دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
بنگالی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم چلانے والی آل آسام سٹوڈنٹس یونین کے بطن سے نکلی آسام گن پریشد کو بطور انعام اقتدار سونپ دیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق ۲۵مارچ ۱۹۷۱ءکو بنیاد مان کر اس سے پہلے آسام آکر بس جانے والوں کو شہری تسلیم کیا گیا ۔چنانچہ اس معاہدے کے بعد پارلیمنٹ نے ایک ترمیمی بل کی منظوری دی جس پر اس وقت کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس، بی جے پی ،کمیونسٹ جماعتوں، نیز تمام غیر سیاسی وسماجی تنظیموں نے بھی اسے تسلیم کیا تھا۔
چوںکہ یہ مسئلہ ریاست میں مسلمانوں کو ایک سیاسی قوت بننے سے روکنے کی غرض سے کھڑا کیا گیا ہے، اس لیے ۲۰۰۹ءمیں اور پھر ۲۰۱۲ءمیں آسام سمیلیٹا مہا سنگھ سمیت مختلف فرقہ پرست اور مفاد پرست افراد اور تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اس معاہدے کے خلاف مفاد عامہ کی ایک عرضداشت داخل کرکے ۵مارچ ۱۹۷۱ء کے بجاے ۱۹۵۱ءکی ووٹر لسٹ کو بنیاد بناکر آسام میں شہریت کا فیصلہ کرنے کی استدعا، کی نیز اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کیا، جس کی وجہ سے آسام کے لاکھوں افراد بلکہ ہر تیسر ے فرد پر شہریت کی تلوار لٹک گئی۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے ۱۹۷۱ءکو بنیاد تسلیم کرتے ہوئے شہریوں کی ایک نئی لسٹ تیار کرنے کا فرمان جاری کیا۔جغرافیائی اعتبار سے صوبہ آسام تین حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ لور (نشیبی) آسام جو مغربی علاقہ ہے، اَپر (بالائی) آسام جو مشرقی علاقہ ہے اور بارک ویلی جو جنوب میں واقع ہے۔ ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخابات میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست کے ۱۴ میں سے سات پارلیمانی حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے دو سال بعد بی جے پی نے ریاستی اسمبلی میں بھی اکثریت حاصل کرکے حکومت بنا لی۔
آسام کی آبادی کے تناسب پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک قبائلی ریاست ہے جہاں کی تقریباً۴۰فی صد آبادی مختلف قبائل پر مشتمل ہے، مگر ان کو زبردستی ایک تو ہندو بنا کر رکھا گیا ہے اور دوسرے مسلمانوں اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے نام پر ان کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے بی جے پی زمین اپنے حق میں ہموارکر نے میں کامیاب ہوگئی۔ انتخابات سے قبل تقریباً ۵لاکھ بنگالیوں کو مشتبہ ووٹر قرار دے دیا گیا تھا۔
جولائی ۲۰۱۲ء میں بوڈو قبائلی کونسل کے زیر انتظام کوکرا جھار اور گوپال پاڑا اضلاع میں بوڈو انتہا پسندوں نے پْرتشدد حملے کیے جن کے نتیجے میں تقریباً چار لاکھ افراد کو عارضی کیمپوں میں جان بچا کر پناہ لینی پڑی تھی۔ بی جے پی کی زیر قیادت سابقہ حکومت نے ۲۰۰۳ء میں بوڈو لبریشن ٹائیگرز سے معاہدہ کرکے بوڈو علاقائی کونسل قائم کی۔ یہ معاہدہ جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کے نسلی حکمرانی (اپارتھیڈ رول) کی یاد دلاتا ہے کیونکہ جن اضلاع میں یہ کونسل قائم کی گئی‘ ان میں بوڈو قبائل کی تعداد محض ۲۸فی صد ہے۔
اسی پس منظر میں بنگالی بولنے والی آبادی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ۸۰ء کی دہائی میں یونائیٹڈ مائنارٹیز فرنٹ کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنائی تھی لیکن یہ تجربہ باہمی اختلافات کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہ ہو سکا‘حالاںکہ اسے اسمبلی اور پارلیمنٹ میں قابل ذکر کامیابی ملی تھی۔ فرنٹ سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر ایف ایم غلام عثمانی (مرحوم) اور دیگر لیڈر کانگریس میں چلے گئے۔ ریاست کے حالات اور کانگریسی حکومت کے رویے سے مایوس ہو کر اکتوبر۲۰۰۵ء میں اس تجربے کا احیا کیا گیا۔
چنانچہ صوبے کی ۱۳ملّی تنظیموں نے ایک نیا سیاسی محاذ آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کے نام سے تشکیل دیا۔ اس کی تشکیل میں ایڈووکیٹ عبدالرشید چودھری کا اہم کردار رہا، لیکن انھوں نے اس کی قیادت قبول نہیں کی کیونکہ کوئی سیاسی جماعت چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔قرعہ فال عْود اور عطر کے بڑے تاجر مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کے نام نکلا۔ ان کی قیادت میں فرنٹ ریاست میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بن گیا‘ اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی نمایندگی ایک سے بڑھ کر تین ہو گئی۔ ویسے آسام میں ابتدا سے جمعیۃ العلماے ہند کا خاصا اثر رہا ہے اور ہرچپے پر مدارس نظر آتے ہیں۔
آل انڈیا یونائٹیڈ فرنٹ کے صدر اور رکن پارلیمان مولانا بدرالدین اجمل نے جو جمعیۃ علماے ہند صوبہ آسام کے صدر بھی ہیں ، ان حالات کے لیے آسام کی سابق کانگریس حکومتوں اور اس کی قیادت کو سب سے زیادہ ذمہ دارقرار دیتے ہیں۔ مولانا اجمل نے جو لوک سبھا میں ریاست کی ڈھبری حلقے سے پارلیمنٹ میں نمایندگی کرتے ہیں، سابق کانگریسی وزیر اعلیٰ ترون گگوئی کو خاص طور سے نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے ۱۵سالہ دور حکومت (۲۰۰۱ء-۲۰۱۶ء) میں ریاست کی لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو تین کاری ضربیں لگائیں۔
پہلے انھوں نے ۲۰۰۵ء میں آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کا سپریم کورٹ میں کمزور دفاع کرکے اس کو منسوخ کرایا جس کے تحت کسی شخص کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر تھی۔ بنگلہ دیشی دراندازوں کا پتا لگانے اور شناخت کرنے کی غرض سے آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ ۱۹۸۳ء میں پاس کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت کسی فرد کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر تھی، اب یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کی حکومت نے آسام میں ’بارڈر پولیس ڈیپارٹمنٹ‘ تشکیل دے کر اسے اس بات کا مکمل اختیا دے دیا کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دے کر گرفتار کر سکتا ہے۔
ہزاروں معصوم لوگ اس ڈیپارٹمنٹ کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کا کوئی محکمہ نہیں ہے۔ مزید ستم یہ کیا گیا کہ جن لوگوں کو گرفتار کرکے حراستی مراکز میں ڈالا گیا، ان سے راشن کار ڈ چھین لیے گئے۔آسام کے مسلمانوں کو روہنگیا مسلمانوں کی طرح بے حیثیت کر نے کی سازش چل رہی ہے تا کہ ان کے شہری حقوق چھین لیے جائیں اور ان سے ووٹنگ کا حق بھی سلب کر لیا جائے۔ یہاں اس کا بات تذکرہ برمحل ہوگا کہ اسلام آسام کا دوسرا بڑا مذہب ہے جہاں ۱۳ویں صدی میں سلطان بختیار خلجی کے دور میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
اس وقت تک آہوم سلطنت وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔جب برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۷۵۷ء کی جنگ پلاسی کے بعد بنگال پر قبضہ کیا تو اس کے زیر تسلط آسام کا علاقہ بھی آیا۔ کمپنی نے یہاں بڑے پیمانے پر بنگالیوں کو لاکر بسانا شروع کیا اوران لوگوں نے معاشی وجوہ سے اپنے رشتہ داروں کو یہاں بلانا شروع کیا، کیوںکہ آسام میں زمینیں زرخیز تھیں۔مشرقی بنگال سے بڑی تعداد میں بے زمین کسان یہاں آکر آباد ہوگئے جن میں ۸۵ فی صد مسلمان تھے۔ آج انھی صدیوں سے آباد مسلمانوں کو غیر ملکی یا بنگلہ دیشی قرار دے کر ان کے لیے زمین تنگ کی جارہی ہے۔
’یہود کی قومی ریاست کاقانون‘ پارلیمان میں پیش ہوا، تو ایوان کے ۱۳۰ ؍ارکان میں سے ۶۲نے اس کے حق میں ووٹ دیا ،جب کہ ۵۵ نے اس کی مخالفت کی اور دوارکان نے راے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پارلیمان میں ’عرب مشترکہ فہرست‘ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس قانون کے خلاف سخت نعرے بازی کی تو انھیں زبردستی ایوان سے نکال باہر کیا گیا۔
> واضح رہے کہ اسرائیل میں آباد عربوں کی آبادی ۱۸ لاکھ سے متجاوز ہے۔وہ صہیونی ریاست کی کل ۹۰ لاکھ آبادی کا ۲۰ فی صد ہیں ۔ یہ فلسطینی شہری ۱۹۴۸ء میں صہیونی مسلح جتھوں کے عرب علاقوں پر قبضے کے وقت اور مابعد بچ جانے والوں کی اولاد ہیں۔وہ اسرائیل کے قیام کے وقت صہیونی ملیشیاؤں کے ہاتھوں نسلی تطہیر کے دوران میں بچ جانے میں کامیاب رہے تھے اور اسرائیل کے زیر قبضہ عرب شہروں اور قصبوں میں صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔دریاے اُردن کے مقبوضہ مغربی کنارے اور محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی میں آباد لاکھوں فلسطینیوں کے برعکس انھیں بعض شہری حقوق حاصل ہیں، مثلاً ووٹ اور پارلیمان میں نمایندے بھیجنے کا حق۔ لیکن انھیں صہیونی ریاست میں سالہا سال سے بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم رکھنے کے لیے اسرائیل نے دسیوں قانون منظور کررکھے ہیں۔اس طرح گذشتہ سات عشروں سے ہی نسل پرستانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
اسرائیلی صدر ریووین رولین نے حکومت کے نام ایک کھلے خط میں اس نسل پرستانہ قانو ن میں پنہاں خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔اسرائیلی اٹارنی جنرل نے بھی اس کی نسل پرستی پر مبنی بعض شقوں کی مخالفت کی تھی ۔جس کے بعد بہت ہی مبہم زبان میں تیار کردہ بل منظور کیا گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کے عرب رکن احمد طبی کا کہنا تھا کہ ’’ میں نہایت صدمے کے ساتھ (اسرائیل میں) جمہوریت کی موت کا اعلان کرتا ہوں‘‘۔
عربوں نے اس امتیازی قانون کو بالکل مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہودی اکثریت اس طرح کی قانون سازی کے ذریعے عرب آبادی اور اسرائیل میں آباد تمام مذاہب کے پیرو کار عربوں کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔قانونی ماہرین نے بھی اس قانون کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس قانون سے نسل پرستی کے بارے میں بین الاقوامی ممانعتوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس سے صہیونی ریاست میں آباد فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور نسل پرستانہ سلوک کو مزید تقویت ملے گی، جس میں بہت سے امتیازی نسل پرستانہ خصائص سمو دیے گئے ہیں۔ اس قانون میں ایک جانب یہود کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی سرگرمیوں کی توثیق کی گئی ہے اور دوسری جانب اس کی کوئی جغرافیائی حد بندی بھی نہیں کی گئی ہے۔اسرائیل کی مشرقی القدس سمیت مقبوضہ مغربی کنارے اور شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں کو نوآبادیانے [زبردستی کالونی بنانے]کی پالیسی کو قانونی قرار دیا گیا ہے،جب کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی یہ تمام سرگرمی غیر قانونی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی نے گذشتہ سال اپنی ایک قانونی مطالعاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ اسرائیل میں تمام فلسطینی عوام کے ساتھ نسل پرستانہ سلو ک کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے ۲۰۱۲ء میں اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمایندے نے رپورٹ میں لکھا تھا کہ اسرائیلی حکام ’اراضی کی ترقی کے ایک ایسے ماڈل‘ پر عمل پیرا ہیں جس میں اقلیتوں کو نکال باہر کیا گیا ہے اور یہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ’کمیٹی براے استیصال نسلی امتیاز‘نے لکھا تھا کہ ’’اسرائیلی سرزمین میں کئی ایک امتیازی قوانین کا نفاذ کیا گیا ہے جن سے غیر یہود کمیونٹیاں غیر متناسب انداز میں متاثر ہورہی ہیں‘‘۔مگر افسوس کہ اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف اس کےنسل پرستی پر مبنی اقدامات کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی۔
* ڈپٹی ایڈیٹر، الیکترانک انتفاضہ ، انگریزی /ترجمہ: امتیاز احمد وریا
حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر بڑی دُوررس تبدیلیاں رُونما ہورہی ہیں، جن سے خطّے میں حالات مزید ابتر اور سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ ۱۹جون ۲۰۱۸ءکو ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یکایک جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں متحرک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے حمایت واپس لے کر مخلوط حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اسی کے ساتھ ریاستی گورنر این این ووہرا نے حکومت کی زمامِ کار سنبھال لی۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب گورنر این این ووہرا نے حکومت سنبھالی ہے، جب کہ آج تک آٹھ مرتبہ کشمیر میں گورنر راج نافذکیاگیا ہے۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ بی جے پی نے معروف صحافی شجاعت بخاری کے قتل کا بہانہ بناکر الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی کی حکومت امن و قانون کے نفاذ میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسی دوران بھارتی میڈیا میں یہ خبریں گشت کرنے لگیں کہ اگلی حکومت سازی کے لیے بی جے پی ایک اور حلیف پارٹی پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کے سر پر تاج رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔پھر بی جے پی کے ذرائع کے حوالے سے یہ خبریںآنے لگیں کہ اتحادیوں، آزاد امیدواروں اور دیگر پارٹیوں خصوصاً پی ڈی پی کے ناراض اراکین کی مدد سے وہ خود ہی اقتدار پر براجمان ہوناچاہتی ہے۔ تقریباً دوعشروں سے زائد عرصے تک دہلی کی حکومتوں اور سیاسی اُمور و واقعات کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلی ہی نظر میں مجھے یہ گماں ہوا کہ مصدقہ خبر کے بجاے عوامی اور سیاسی پارٹیوں کا ردعمل جاننے کے لیے یہ متضاد خبریں ذمہ دار حلقے ’پلانٹ‘ کر رہے ہیں، تاکہ اگر کوئی شدید رد عمل آئے تو اس کی تردید کردی جائے۔ چند روز بعد پھر ایسی ہی خبر گشت کرنے لگی، تو اس کا ذریعہ معلوم کرنے کے بعد پتا چلا کہ واقعی ایسی خبروں کے تار براہِ راست وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے دفتر سے منسلک ہیں۔ منصوبہ یہ سامنے آیا کہ مرکزی وزیر اور ادھم پور کے رکن پارلیمنٹ جیتندر سنگھ رانا کو اگلے ماہ سری نگر میں بطور وزیر اعلیٰ حلف دلایا جائے گا۔ چوں کہ کشمیر میں وفاداریوں کی تبدیلی (defection)کا قانون، بھارت کے مرکزی قانون کے برعکس پیچیدہ اور سخت (stringent)ہے، اس لیے دیگر پارٹیوں اور خصوصاً پی ڈی پی کے ناراض اراکین کی حمایت اس طرح حاصل کروانا کہ وہ نااہل بھی نہ ہوں، جیسے اُلجھائو پر قانونی ماہرین سے مشاورت ہورہی ہے۔پی ڈی پی کے ناراض اراکین اور سجاد غنی لون کا تعلق چوں کہ شمالی کشمیر سے ہے، اس لیے بی جے پی کو حمایت دینے والے اس گروہ کو ’شمالی اتحاد‘ کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔
کشمیر کی بدقسمتی رہی ہے کہ تاریخ کا پہیہ آگے بڑھنے کے بجاے اُلٹا چکر لگا کر پھر وہیں پہنچتا ہے، جہاں سے گردش شروع ہوئی تھی۔ ۲۰۱۰ء کے عوامی غیظ و غضب کو دیکھ کر مبصرین کا خیال تھا کہ کشمیر کو واپس ۱۹۹۰ء کی پوزیشن میں دھکیلا گیا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد عوامی مزاحمت کی شدت دیکھ کر اندازہ تھا کہ گھڑی کی سوئیاں ۱۹۴۷ء پر پہنچ گئی ہیں۔ اگر اب بی جے پی واقعی ایک ہندو ڈوگرے کے سر پر وزارت اعلیٰ کا تاج سجاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا ’ڈوگرہ راج کی واپسی‘ ۔ یوں انتظامی سطح پر تاریخ کا پہیہ گھوم کر ۱۹۳۱ء تک واپس پہنچ جائے گا، جب کشمیریوں نے ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کی وحشیانہ حکومت کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کیا تھا۔
فی الحال گورنر ووہرا، فوج اور خفیہ ایجنسیاں اس نقشے میں رنگ بھرنے سے کترا رہی ہیں۔ خیال ہے کہ ایک ہندو وزیراعلیٰ کشمیری عوام کی نفسیات کو بُری طرح پامال اور مجروح کرے گا اور بھارتی حکومت کی کئی عشروں پر پھیلی کاوشوں پر پانی پھرجائے گا ۔اصل بات یہ ہے کہ جو ں جوں اگلے عام انتخابات قریب آرہے ہیں ، بی جے پی کے لیے اپنے ان انتہا پسند کارکنوں کو مطمئن کرنا مشکل ہو رہا ہے، جو مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ اپنے انتہاپسند طبقوں کو بہلانے کے لیے کشمیری مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے ایک ہندو ڈوگرہ وزیر اعلیٰ کو مقر ر کرنا ہی ایک آسان سا حل دکھائی دیا ہے کہ جس کے ذریعے پورے بھارت میں ہندو ووٹروں کو ایک بار پھر پارٹی کے حق میں لام بند کیا جاسکتا ہے۔
سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق بھارتی حکمرانوں کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ بھارت نواز کشمیری سیاسی پارٹیاں بھی نئی دہلی کی حقیقی وفادار نہیں ہیں، بلکہ ان کی ہمدردیاںبھی آزادی پسندو ں کے ساتھ ہیں اور کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بننے میں یہ بھی ایک رکاوٹ ہیں۔ بھارت کا موجودہ حکومتی ڈھانچا فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور اس قبیل کے دیگر لیڈروں کو بھی اسی لاٹھی سے ہانکتا ہے، جس طرح و ہ حریت لیڈروں کو نشانہ بناتے آرہے ہیں۔ مسرور نے اترپردیش سے آر ایس ایس کے ایک لیڈر کا بیان نقل کیا ہےکہ: ’’بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰جس میں کشمیر کے خصوصی درجے کا ذکر ہے، اسے ہٹانے کی خواہش رکھنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ نریندر مودی اور اجیت دوول اس سے بھی آگے کی سوچ رہے ہیں‘‘۔ حکومتی ذرائع کا حوالہ دے کر اس ہندو قوم پرست لیڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکومت جموں، کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے مرکز کے زیرانتظام خطے بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ تینوں خطوں میں کوئی منتخب حکومت نہیں ہوگی بلکہ تینوں انڈمان نکوبار، لکشدیپ اور پانڈی چری وغیرہ کی طرح براہِ راست نئی دہلی کی حکمرانی میں ہوں گے، اور تینوں خطوں میں ایک لیفٹیننٹ گورنر ہوگا، جو براہِ راست دہلی کے سامنے ہی جواب دہ ہوگا۔ آج ریاست کی’ اسمبلی اور مرکزی دھارے‘ کی نام نہاد سیاست اس قدر بے وقعت ہوکر رہ گئی ہے کہ نئی دہلی کا حکمراں طبقہ اسے بوجھ سمجھتا ہے۔
دسمبر ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے بعد جب کشمیر میں معلق اسمبلی وجود میں آئی اور پی ڈی پی کے لیے کانگریس یا بی جے پی میں سے کسی ایک کی بیساکھی کے سہارے اقتدار میں آنا ا لازمی ہوگیا تو فروری ۲۰۱۵ء میں پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید سے جموں میں ان کی رہایش گاہ پر ایک انٹرویو کے دوران میں نے پوچھا تھا: ’کہیں بی جے پی کو اقتدار میں شریک کروا کے وہ کشمیریوں کے مصائب کی تاریک رات کو مزید گہرا اور خوف ناک بنانے کے مرتکب تو نہیں ہوںگے؟‘ انھوں نے کہا: ’’کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے حوالے سے بھارت کی دونوں قومی جماعتوں کا موقف تقریباً ایک جیسا ہے۔ نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی [یعنی دہلی نواز پارٹیوں]کا فرض ہے کہ وہ مسئلۂ کشمیرکے حل کی کوئی سبیل پیدا ہونے تک بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو بچاکر رکھیں‘‘۔
تاہم، مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر اس دفعہ کو تار تار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ بیک ڈور سے غیر ریاستی ہندو مہاجرین کو رہایشی پرمٹ دینا، علیحدہ پنڈت کالونیاں بسانا ، آخری ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کے یوم ولادت پر تعطیل کے لیے اسمبلی سے قرارداد پاس کروانے کی کوششیں وغیرہ، کشمیریوں کو ان کی سیاسی بے وزنی کا احساس دلانے کی آخری حد تھی۔ مگر پھر بھی ڈو مور کے مطالبوں کو تسلیم کرتے کرتے بھی وہ اپنی کرسی بچا نہیں پائیں۔ اسی طرح مذکورہ مہاراجا کے مظالم کے خلاف شہدا کے مزاروں پر ہر سال ۱۳جولائی کو میلہ لگانا اور ان کے قاتل ہری سنگھ کے جنم دن کو متبرک قرار دینا ایک سنگین مذاق تھا۔کیا بھارت کبھی جلیانوالہ باغ کے قاتل جنرل ڈائر کے جنم دن کی یاد منانے کے لیے چھٹی کا اعلان کرسکتا ہے؟ کشمیر صدیوں سے سازشوںاور بیرونی طاقتوں کی کش مکش کی آماج گاہ بنا رہا ہے۔
اس خطے کی بدقسمتی یہ رہی کہ آمد اسلام کے ۲۵۰سال بعد ہی سے یہ خطہ آزادی سے محروم ہوکر مغلوں، افغانوں، سکھوں اور ڈوگروں کے تابع رہا، جنھوں نے مقامی مسلم شناخت کو زیر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔پچھلے ۵۰۰برسوں کے دوران شاید ہی کبھی یہاں عوام نے حکمرانوں کو اپنا حقیقی نمایندہ تسلیم کیا ہو، کیونکہ چند ایک کو چھوڑ کر اکثر یا تو بیرونی طاقتوں کے گورنر تھے یا ان کی طرف سے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمران۔ اپنی تخت نشینی کے فوراً بعد مغل بادشاہ اکبر نے کشمیر پر اپنی نظریں جمائی ہوئی تھیں، اور اس خطے کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کئی بار فوج کشی کی۔ تقریباً ایک عشرے کی بے نتیجہ جنگ و جدل کے بعد مغل حکومت کے جنرل راجا بھگوان سنگھ نے ۱۵۸۰ء میں گلگت کے درد قبیلے سے تعلق رکھنے والے کشمیر کے سلطان یوسف شاہ چک کے ساتھ ایک معاہدے کے لیے سلسلۂ جنبانی شروع کیا۔ پانچ سال کی محنت کے بعد دونوں فریق اس معاہدے پر رضامند ہوگئے، جس کی رُو سے کشمیر میں لین دین مغل کرنسی میں کیے جانے پر اتفاق ہوا اور جمعے کے خطبے میں مغل فرماںروا کا نام پڑھا جانے لگا۔ باقی تمام امور میں مقامی حکمرانوں کو خود مختاری عطا کی گئی۔ ایک سال بعد اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یوسف شاہ چک کو مغل دارالحکومت آگرہ سے متصل فتح پور سیکری آنے کی دعوت دی گئی، مگر لاہور ہی میں اس کو گرفتار کرکے پابہ زنجیر اکبر کے دربار میں پیش کیا گیا۔ یوسف شاہ نے جو اپنی شاعرہ ملکہ حبہ خاتون کے حوالے سے بھی مشہور ہے، باقی زندگی بہار کے شہر پٹنہ سے متصل ایک قصبے میں جلاوطنی اور عملاً قید میں گزاری، جہا ں آج بھی اس کی شکستہ قبر کشمیر پر قبضے اور طاقت کے بل بوتے پر سمجھوتوں سے انحراف کی داستان بیان کرتی ہے۔
یہ بات اب سری نگر میں زبان زد عام تھی کہ یہ وہ پی ڈی پی نہیں تھی جس نے ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان دہلی کی روایتی کٹھ پتلی حکومت کے بجاے ایک پُراعتماد اور کشمیری عوام کے مفادات اور ترجیحات کے ترجمان کے طور پر نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس لیے محبوبہ مفتی کی برطرفی پر کشمیر میں شایدہی کسی آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ ٹپکا ہو۔ بھارتی فوج کے ذریعے شروع کیے گئے ’آپریشن آل آؤٹ‘ کی وجہ سے عوام خود کو اپنے ہی گھروں میں قید پاتے ہیں۔جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ پلوامہ میں جب فوج، نیم فوجی اہلکاروں اور پولیس کے دستوں نے کریک ڈاؤن کیا تو مقامی نوجوانوں نے زیادتیوں یا گرفتاریوں کے خوف سے پوری رات درختوں پر گزاری۔ والدین یا تو اپنے پیاروں کی ہلاکتوں پر ماتم کناں ہیں یا پھر روپوش ہوئے نونہالوں کی لاشوں کے منتظر!
یوں دکھائی دیتا ہے کہ جنوبی کشمیر کے چاراضلاع کو ایک ’چھوٹا جنگی علاقہ‘ (mini war zone)بنا دیا گیا ہے جہاں وحشیانہ ملٹری آپریشن اور جبر کی داستانوں پر مشتمل کارکردگی ہی سے بھارت کی قومی سیاست کو خوراک مل رہی ہے۔ ’ڈوگرہ راج کی واپسی‘ کے نتیجے میں کشمیر میں شناخت اور انفرادیت برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے۔ اب یہ فیصلہ مخلص سیاسی لیڈروں کو کرنا ہے کہ وہ کس طرح اس بد نصیب قوم کو غیریقینی حالات اور مایوسی کے اندھیروں سے نجات دلا سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں مسئلہ کشمیر کے حل سے زیادہ کشمیر کی شناخت اور تشخص کے بچائو کے لیے قابل عمل اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ایسا نظر آرہا ہے کہ کشمیر کے دونوں اطراف سیاسی جماعتیں نہ صرف اپنی اصل قومی و عوامی ذمہ داریوں سے پہلوتہی برت رہی ہیں، بلکہ ایک نوعیت کی مرعوبیت کی شکار ہوتی جارہی ہیں۔ قوم کے وسیع تر مفاد میں سوچنے کے بجاے اقتدار کی ہوس نے نیشنل کانفرنس کو نہ صرف بزدل بنا دیا ہے، بلکہ اس کی بھاری قیمت سادہ لوح کشمیریوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔ کچھ یہی حال اب پی ڈی پی کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے دونوں کا محور اقتدار کی نیلم پری ہے۔ اٹانومی اور سیلف رول کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا تو کجا، فی الحال جس تیز رفتار ی سے مودی حکومت کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے لیے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے، اس کا توڑ کرنے اور غوروفکر کے لیے کنٹرول لائن کے دونوں اطراف باضمیر افراد، نیز حُریت پسند جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے۔
ریاست جموں و کشمیر کی جدید تاریخ میں تحریک اسلامی مختلف مشکل مراحل سے گزری ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے ہی جموں وکشمیر کی کئی نابغۂ روزگار ہستیاں سید مودودی ؒ کی دعوت سے متاثر تھیں۔ ریاست میں مختلف مقامات پر ان متوسلین نے جماعت اسلامی کے چھوٹے چھوٹے حلقے بھی تشکیل دیے تھے اور ابتدائی طور پر بہت کم لوگ ان میں شریک ہوتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے پیش نظر ۱۹۵۳ء میں تنظیمی طور پر اپنے آپ کو جماعت اسلامی ہندسے الگ کرلیا اور ماہ نومبر۱۹۵۳ء میں اپنا الگ دستور تشکیل دیا۔ اس دستور میں نصب العین کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ،بلکہ طریق کار میں پاک و ہند کے تنظیمی ڈھانچوں سے اختلاف کی بنیاد پر الگ نظم تشکیل دیا۔ اس طرح جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے دعوت دین کے ساتھ ساتھ، سیاسی طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی خود کو سرگرم عمل کیا۔ ریاست کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ریاست کے استحصالی سیاست دانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو للکارا ہے اوراستحصالی ناخداؤں کو عوام الناس کے سامنے بے نقاب کردیا۔
جماعت اسلامی جموں و کشمیرنے پچاس کے عشرے سے لے کر نوّے کے عشرے تک مختلف مشکل مراحل کا سامنا کیا۔ ۱۹۷۵ء میں بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کی مسلط کردہ ایمرجنسی، جماعت اسلامی پر پابندی کا عائد کیا جانا،۱۹۷۹ء میں ذوالفقار بھٹو صاحب کی پھانسی کے وقت جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے خلاف بے جا طور پر، پوری ریاست میں لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کی مہم حکومتی سرپرستی کے تحت چلائی گئی۔ جماعت اسلامی کے تحت کام کرنے والے اسلامی ماڈل اسکولوں کا جوجال پوری ریاست میں بچھا ہوا تھا، اس پر بھی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ شیخ محمد عبداللہ نے پابندی عائد کردی اور جماعت اسلامی کے تعلیمی اداروں کو بند (Ban)کروا دیا۔
ان میں سخت ترین مرحلہ ۹۰ کا عشرہ تھا۔اس پورے عشرے کے دوران جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ سیکڑوں ارکان اور ہزاروں ہمدرد و رفقاے جماعت کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔اسی طرح اسیری کے دوران جماعت کے زعما اور عام کارکنان کو بدترین جسمانی تشدد اور ہولناک اذیتوں سے گزارا گیا،انٹروگیشن سینٹروں میں تکالیف دی گئیں۔ یہ سارا جبراور اذیتیں دراصل جماعت اسلامی کے وجود کو مٹانے کی سازش کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ، جماعت کے سیاسی وجود کو ختم کرنے کے لیے روا رکھی گئیں۔چوں کہ ۱۹۸۷ء میں ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ وابستہ دینی حلقوں نے ’مسلم متحدہ محاذ‘ (MUF)کے جھنڈے تلے یک جان ہوکر ریاستی اسمبلی میں جاکر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی انتہائی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اتحاد کی سب سے مؤثر اور بڑی اکائی جماعت اسلامی جموں و کشمیر ہی تھی۔بھارتی قیادت ریاستی مسلمانوں کے اس اقدام سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی اور ۱۹۸۷ء کے اسمبلی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئیں۔ ان دھاندلیوں کے نتیجے میں ہی ریاست کے نوجوانوں نے تحریک حریت کو مزید مؤثر اور باوزن بنانے کے لیے ۴۰برس سے اختیار کیے گئے جعلی اور نام نہاد ’جمہوری جال‘ کو مسترد کیا اور عسکریت پسندی کا راستہ منتخب کیا۔ اس طرح ہزاروں کی تعداد میں ریاستی نوجوانوں نے بھارتی مظالم اورجبری قبضے کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کیا۔
ریاست جموں و کشمیر کے پُرعزم نوجوانوں نے، جس پامردی اور جرأت سے بھارتی فوجی طاقت کو للکارا اوران کے چھکے چھڑائے، یہ تاریخ کا منفرد باب ہے۔ ایک طرف ٹڈی دَل، وحشی اور لاکھوں افراد پر مشتمل منظم بھارتی فوج اور دوسری طرف چند سو یا چند ہزار، سرفروش کہ جن کے پاس ڈھنگ کا خودکار اسلحہ بھی نہ تھا، معرکہ زن ہوئے۔ غیر متوازن طاقتوں کا ایسا مقابلہ دنیا میں بہت کم دیکھا گیا ہے۔بھارت نے عسکری جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے جو حربے استعمال کیے، ان میں ریاست کی مسلم آبادی میں خانہ جنگی پیدا کرنے کی سازش بھی رچائی گئی۔ سب سے پہلے مختلف عسکری تنظیموں میں پھوٹ ڈالی گئی اور ان کو باہمی جنگ میں اُلجھایا گیا۔اس کے بعد ریاست میں بھارت کے خلاف اور بھارتی فوجی قبضے کے خلاف مضبوط ترین آوازاور جو نظریہ، جماعت اسلامی کی صورت میں موجود تھا،اس کے ساتھ نمٹنے کی سازشیں کی گئیں۔ اس کام کے لیے ریاستی بھارت نواز حکومت نے بندوق برداروں کو استعمال کرنے کا راستہ منتخب کیا۔ بدنام زمانہ ایم ایم اور اخوان نامی سرکاری دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے جماعت اسلامی کے خلاف لوٹ مار اور قتل عام کی ایک مہم چلائی گئی۔ اس مہم کے تحت جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ساتھ وابستہ سیکڑوں ارکان و رفقا کو شہید اور زخمی کیا گیا۔ حکومتی فورسز اور سرکار نواز دہشت گردوں نے کھلم کھلا، جماعت اسلامی سے وابستہ لوگوں سے پیسے بٹورے، ان کے گھروں کو بارودی دھماکوں سے اڑایا گیا، برسوں تک جیلوں میں نظربند رکھا گیا، اور اس کے بعد سب سے بڑا ظلم یہ کہ جماعت کے سیکڑوں ارکان اور ہزاروں رفقا اور وابستگان جو شہید کیے گئے تو وہ سب شہادتیں ماوراے عدالت کی گئیں، جن کی ابھی تک بھی کوئی آزادانہ تحقیق نہیں ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کے ارکان و وابستگان میں بیش تر لوگ عمر رسیدہ تھے۔ ۶۰ اور ۷۰ سال تک کے بزرگوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ان کی پیرانہ سالی کے باوجود ان کو شہید کردیا گیا۔
جماعت اسلامی کے یہ سارے وابستگان بلاشبہہ ایسے صالح افراد کار تھے، جو کئی برسوں پر پھیلے جماعت کے نظام تربیت کے نتیجے میں تیار ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شہرت کے بامِ عروج اور دولت کی فراوانی کے باوجود اپنی جانوں ، اپنے مال و دولت کے بدلے رب کی جنتوں کے خریدار بن چکے ہیں۔عیش و عشرت کو تج دینے والے،آسایشوں کو چھوڑ دینے والے، عزیمت کے راستے کا انتخاب کرنے والے، دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی زندگی کو ترجیح دینے والے، حیات جاودانی کے رمز آشنا، جنتوں کے مسافر، شہادتوں کے طالب، اللہ کی راہ میں چلنے کا عزم کرنے والوں کے لیے مشعل راہ، جہالتوں اور تاریکیوں میں اُجالا کرنے والے، سفر حیات کی تاریکیوں میں جگمگ جگمگ تاروں کی مانند روشنیاں بکھیرنے والے روشن ستارے، جو آنے والے قافلوں کے رہنما بن کر نقوش راہ بننے والے لوگ ہیں۔
ان عظیم المرتبت انسانوں کے تذکرے حکایات خونچکاں ہونے کے باوجود لذت ایمان میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں۔ یہ قافلۂ حق کے لیے رہنمائی کی قندیل فراہم کرنے والے لوگ ہیں، جن کے کردار اپنے پیچھے چلنے والوں کے لیے مینارئہ نور ہیں۔یہ لوگ اسلامی تحریکات کا سرمایہ ہیں، بے بدل سرمایہ۔ اس سرمایے کے بل پر ہی تو تحریکات کی اعتباریت (credibility) میں اضافہ ہوتا ہے اور حق کے ثبوت میں زندہ چلنے پھرنے والے دلائل فراہم ہوتے ہیں۔ یہ تعداد میں کم ہیں، لیکن بڑی بڑی اجتماعیتوں کی آبرو ہیں۔ اخلاص کے یہ پیکر ہمہ تن اسلام کے لیے وقف ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر میں انقلاب اسلامی کی شجرکاری میں ان بے لوث انسانوں کی بیش بہا قربانیاں شامل ہیں۔ یہ ریاست کی اسلامی تحریک کا وہ حصہ ہیں، جنھوں نے اپنے گرم گرم لہو سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی ہے۔ ان لوگوں کا تذکرہ ہماری جدوجہد کی کتاب کا وہ خوشبو دار باب ہے کہ جس کے ہرہر ورق پہ حق گوئی، بے باکی ،عزیمت ،اورقربانی کے زندہ الفاظ روشن اور نقش ہیں۔ یہ وہ جلی حروف ہیں کہ جن کے تذکرے میں ہماری زندگی پوشیدہ ہے۔
انھی میں سے ایک شہید عبدالرزاق میر ؒ بچرو ہیں۔ میر صاحب اپنے علاقے کے ہی نہیں، بلکہ جنوبی کشمیر کے متمول ترین انسانوں میں شامل تھے۔ دولت،شہرت،اور عزت کسی بھی چیز کی ان کو کمی نہیں تھی۔ ان کے پاس زندگی گزارنے کے لیے ہر سہولت موجود تھی۔شہید میرصاحب کے ہمسایے اور تحریکی ساتھی محمد احسن لون صاحب کے مطابق: ’’ شہید میر صاحب تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ ہونے سے پہلے پُرتعیش زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے پاس ذاتی استعمال کے لیے گاڑی تھی، جس میں ان کا عزیز از جان پالتو کتا ہم سفر ہوتا تھا، جس کو وہ ٹائیگر کے نام سے پکارتے تھے۔ امارت تھی، سہولیات تھیں، مختلف جگہوں پر وسیع و عریض کاروبار پھیلا ہوا تھا اور ایک لائسنس یافتہ گن بھی ہوتی تھی۔کاروبار ی سرگرمیوں کے لیے کئی ٹرک بھی ان کے پاس تھے۔جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہونے سے پہلے وہ نماز روزوں کے بھی کچھ قائل نہیں تھے‘‘۔
جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہونے کے بعد ان کی زندگی میں ایک مکمل انقلاب آیا اور ان کی کایا ہی پلٹ گئی۔اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے تک بھی ان کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ کچھ لوگ تو ان کو ٹکٹ دینے کے حق میں ہی نہیںتھے، لیکن اُس وقت امیرجماعت اسلامی جموں و کشمیر محترم سعدالدین ؒ صاحب نے کہا کہ: ’’مجھے یقین ہے کہ میر صاحب کی زندگی میں ضرور تبدیلی آئے گی‘‘۔ اس طرح ان کو جماعت نے اپنا اعتماد دیا اور پھر عبدالرزاق میرؒ کی زندگی یکسر تبدیل ہوگئی اوران کی زندگی میں ایک ہمہ جہت انقلاب برپا ہوا۔
محترم شیخ محمد حسن سابق امیر جماعت اسلامی جموں و کشمیر ان کی زندگی میں برپا ہونے والے انقلاب اور ان کی متاثر کن شخصیت کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ شہید عبدالرزاق میر اعلیٰ صفات کی حامل شخصیت تھی ۔ وہ ایک خاص ماحول سے تبدیل ہوکر جماعت اسلامی میں شامل ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کی دعوت کو قبول کرنے کے بعد وہ انتہائی پرہیزگار، خدا ترس، اور خدا پرست شخصیت بن گئے تھے۔ نظریاتی طور پر وہ ہم آہنگ، یکسو اور جماعت کے پختہ کارکن تھے۔ ان کا تقویٰ، ان کی خدا خوفی، سخاوت، ان کا غریبوں کی امداد کرنا، ان کی دریا دلی اور وسیع النظری ایک مسلّمہ حقیقت بن گئی۔ وہ بڑے ہنس مُکھ اور شگفتہ مزاج انسان تھے۔ بڑے بڑے مسائل ہنستے ہنستے حل کرتے تھے اور رنجیدہ مجلس کو بھی اپنی شگفتہ مزاجی سے شادکام کردیتے تھے۔ وہ حاضر جوابی میں یکتا تھے اور سامنے بیٹھے ہوئے انسان کو اپنی حاضرجوابی سے لاجواب کردیتے تھے‘‘۔
۱۹۷۲ء میں پہلی بار جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر کولگام انتخابی حلقے سے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب قرار پائے۔ اس کے بعد ۱۹۷۷ء میں حلقہ انتخاب ہوم شالی بگ سے عبدالسلام دیوا کے خلاف انتخاب لڑا، لیکن اس مرتبہ کامیاب نہیں ہوسکے۔۱۹۸۷ء میں جب جماعت اسلامی نے ’مسلم متحدہ محاذ‘ کے تحت اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تو عبدالرزاق میر صاحب کولگام سے کامیاب قرار پائے۔ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ، بہترین قانون دان تھے،اور اسمبلی میں بھی اپنی زندہ دلی سے خوب کام لیتے تھے‘‘۔
جماعت اسلامی کولگام کے موجودہ امیر محمد یوسف راتھر صاحب ان کے متعلق فرماتے ہیں: ’’بحیثیت ایم ایل اے (MLA) ان کو جو بھی تنخواہ ملتی تھی، وہ اُس پوری تنخواہ کو غریبوں میں بانٹ دیتے تھے۔ اسمبلی میں رہتے ہوئے انھوں نے سرکاری نوکریوں کے حصول میں غریبوں اور باصلاحیت افراد کی بھرپور امداد کی اور اقربا پروری سے کوسوں دور رہے۔وہ حد درجہ شگفتہ مزاج اور انتہائی بہادر انسان تھے۔ ایک اہم کارنامہ جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے انھوں نے انجام دیا وہ ہے ماؤ نہر کے منصوبے کی تکمیل، جس سے کولگام کی زرعی زمین کی آبپاشی ہوتی ہے‘‘۔
محمد احسن لون صاحب نے بتایا کہ:’’ بچرو کولگام کی بستی میں تحریک اسلامی کی داغ بیل انھوں نے ہی ڈالی اور جماعت سے وابستگی اختیار کرتے ہی مقامی مسجد میں تفہیم القرآن سے درس دینا شروع کیا اور انتہائی مشکل وقت میں جماعت اسلامی کی دعوت پیش کرنے کی شروعات اپنے گاؤں سے ہی کی۔ان کی شخصیت میں تبدیلی سے پورے گاؤں کے ماحول پر اثرات پڑے اور باجماعت نماز کا اہتمام سارے گاؤں میں ہونے لگا۔ تحریک کے لیے انھوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ جماعت کی مالی امداد کے علاوہ ان کی گاڑی بھی ہمیشہ جماعت کے کاموں کے لیے وقف رہا کرتی تھی۔ اپریل ۱۹۷۹ء کے منصوبہ بند حادثے میں ان کا کافی زیادہ نقصان کیا گیا۔ لگ بھگ ۲۲چھوٹی بڑی تعمیرات کو جلایا گیا، مکان ، دوکانات، گاؤخانے اور ان میں موجود مویشی زندہ جلائے گئے، اور میوہ باغات کے سارے درخت کاٹ دیے گئے، ایک ٹرک جلادیا گیا۔ بچرو اور کولگام کے کارخانوں میں موجودہزاروں فٹ کی تعمیراتی لکڑی جلائی گئی۔ بچرو، کولگام، کھنہ بل اور کئی جگہوں پر ان کی تعمیرات کو جلایا گیا۔ کئی دن بعد جب موقع واردات کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی سے کئی سیاست دانوںپر مشتمل وفد آیا( اس وفد میںایچ ایم پٹیل، مرار جی ڈیسائی بھی شامل تھے) اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ان سب کی موجودگی میں لوگوں کے ایک بڑے مجمعے سے ڈیڑھ گھنٹے پر پھیلی بڑی جرأت آمیز تقریر کی اور اسی مجمعے میں جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے اس فیصلے کا اعلان کیا کہ: ’’جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے امیر جماعت نے عام معافی کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔
محمد احسن لون صاحب کے مطابق: ’’ وہ خانگی اور دیگر گھریلو ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی انتہائی حساس شخصیت کے مالک تھے۔ اگرچہ وہ لا ولد تھے، یعنی ان کی کوئی اولاد نہیں تھی،لیکن وہ انتہائی مال دار شخص ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے مکمل پابند تھے۔ گھر کی پراپرٹی کی شرعی تقسیم کے لیے ایک وصیت نامہ انھوں نے خود لکھا تھا۔ قرآن پاک کا جو نسخہ ان کے زیر مطالعہ رہتا تھا، اسی نسخے پر ہی ایک جگہ وراثت کی شرعی تقسیم کے حوالے سے انھوں نے وصیت نامہ تحریر کیا، جس کی وجہ سے ان کی جایداد کو تقسیم کرنے میں کافی مدد ملی۔مزیدیہ کہ بچرو میں اسلامی درس گاہ کی بنیاد بھی عبدالرزاق میر صاحب نے ہی ڈالی۔ ۱۹۸۲ء میں ریڈونی میں جب یومیہ درس گاہ کو قائم کیا گیا، تو میرصاحب نے وہاں سے واپس آکر اپنی لگ بھگ تین کنال کی اراضی وقف کی اور بچرو میں بھی یومیہ درس گاہ کی بنیاد ڈالی ۔ انھوں نے اس اسکول کی تعمیر میں بھر پور مالی امداد کی جس کی وجہ سے ہی یہ اسکول قائم ہوسکا۔ اس وقت یہ ہائی اسکول لیول تک پہنچ گیا ہے اور ہزاروں طالب علم اس اسکول کے ذریعے زیورِتعلیم سے آراستہ ہوچکے ہیں اور ابھی بھی ہورہے ہیں۔جماعت اسلامی کے زعما کی خدمت میں بھی میر صاحب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خصوصی طور پر مولانا سعدالدین ؒصاحب کے ساتھ ان کو خاص لگاؤ تھا ۔
بدنام زمانہ اخوانی دور کی شروعات کے چنددنوںبعدعبدالرزاق صاحب جموں سے واپس گھر آئے۔میر صاحب نے مقامی تحریکی رفقا کے ساتھ مشورے کے بعد رات کو گاؤں میں باقی رفقا کے ساتھ گشت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ان کا خیال تھا کہ دن کی روشنی میںان کو نقصان پہنچانے کی کوئی جرأت نہیں کرے گا اور زیادہ احتمال اس بات کا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ہی ان کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ ان کی جان کے حوالے سے خطرات موجود تھے اور دھمکیاں بھی مل چکی تھیں اورحالات کی سنگینی کا بھرپور اندازہ بھی تھا، تاہم انھوں نے گھر سے بھاگ کر روپوش ہوجانا مناسب نہیں سمجھا۔بڑی جرأت اور پامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،سری نگر اور جموں میں اپنے ذاتی مکانات موجود ہونے کے باوجود بچرو میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا‘‘۔
شیخ محمد حسن صاحب نے ان کی شہادت کے بارے میں بتایا کہ:’’اس روز (۲۱نومبر ۱۹۹۵ء) انھوں نے صبح کے وقت میرے ساتھ بچرو میں ہی ملاقات کی اور مجھ سے ملاقات کے بعد کسی کام کے سلسلے میں جب باہر سڑک کی طرف نکلے، تواخوانیوں نے ان کے بھائی علی محمد میر صاحب کو ہی عبدالرزاق میر سمجھ کر گرفتار کرلیا ۔ اس پر عبدالرزاق صاحب خود چل کر قاتلوں کے پاس گئے اور کہا کہ: ’’ میں ہوں عبدالرزاق، لہٰذا،میرے بھائی کو چھوڑ دو ‘‘۔ وہ ان کو ہی گرفتار کرکے کولگام لے گئے ،اورننگے پاؤں قصبہ کولگام کے پورے بازار میں پھرایا۔ وہ برہنہ پائی کی حالت میں، عالم گرفتاری میں بازار سے گزرتے ہوئے بلندآواز میں باربار یہ کہتے جارہے تھے کہ: ’’لوگو ڈرو مت ،اورآگاہ رہو، اورگواہ رہو کہ میں بچرو کولگام کا رہنے والا عبدالرزاق میر ہوں ، اور میرا ایک ہی جرم ہے کہ میں جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوں اور اسی جرم میں ننگے پیر پھرایا جارہا ہوں۔ مجھے اس بات کا کوئی غم ،ملال نہیں ،بلکہ یہ بات میرے لیے باعث فخر ہے کہ میں جماعت اسلامی کے نام پر’ برہنہ پا‘ پھرایا جارہا ہوں‘‘۔ اسی دوران لوگ اُمڈ اُمڈ کر اپنے محسن رہنما سے یک جہتی کے لیے اکٹھے ہونا شروع ہوئے تو اخوانی اغواکاروں نے ان کو سربازار گولیوںکی بوچھاڑ کرکے انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کردیا‘‘۔
اس طرح ایک گلِ سرسبد کو ظلم کے مکروہ سایوں تلے روندا گیا۔ وہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ایک مایہ ناز سیاست کار اور بہترین کارکن تھے۔ وہ اپنے علاقے کے ایک مشہور تاجر بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے اور ان کی قربانیوں کے عوض ان کو بہترین اجر سے نوازے، آمین!
۲۰۱۸ءکئی مسلم ممالک میں انتخابات کا سال ہے۔ ۲۴ جون کو ترکی میں اور گذشتہ مئی میں ملائیشیا میں انتخابات ہوئے۔ اس سے پہلے تیونس کے بلدیاتی انتخابات، تحریک نہضت کی واضح کامیابی کی خوش خبری لائے۔ عراق کے عام انتخابات میں حکمران اتحاد کے بجاے ایک دوسرے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر بڑی قوت بن کر اُبھرے۔ یہی عالم لبنان کے عام انتخابات کا ہے۔ وہاں حسب توقع حزب اللہ اور اس کے حلیفوں نے بھاری اکثریت حاصل کی لیکن شیعہ سُنّی اور مسیحی آبادی میں تقسیم اقتدار کے فارمولے پر عمل اب بھی مشکل تر دکھائی دیتا ہے۔
اب ۲۵ جولائی کو پاکستانی عام انتخابات کے علاوہ اسی سال کے اختتام پر بنگلہ دیش میں بھی انتخابات ہونا ہیں۔ حسینہ واجد اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کرچکی ہے، جب کہ خالدہ ضیاء اور جماعت اسلامی کی پوری قیادت، ہزاروں بے گناہ کارکنوں کے ساتھ جیلوں میں بنیادی انسانی حقوق تک سے محروم ہیں۔ انڈونیشیا میں بھی انتخابی مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ تمام انتخابات اہم ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا کے انتخابات کی خصوصی اہمیت ہے، اس لیے یہاں ان دونوں کا جائزہ لیتے ہیں:
اب ترکی میں پارلیمانی نظام کے بجاے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے صدر کے اختیارات پر مبنی صدارتی نظام نافذ ہوگا۔ ۶۰۰ ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ یقینا ایک مؤثر دستور ساز ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گی، لیکن سربراہِ حکومت، حکومت سازی کے لیے ایوان میں کی جانے والی جو ڑ توڑ کی فکر سے آزاد ہوکر اُمور سلطنت انجام دے سکے گا۔ ضرورت ہوگی تو پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے باصلاحیت افراد کو بھی کابینہ میں شامل کرسکے گا۔ عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہونے والا سربراہِ حکومت کسی فوجی انقلاب کے خطرے سے بھی ان شاء اللہ محفوظ رہے گا اور ملک کے تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرۂ عمل میں رہ کر تعمیر ملک و ملت میں شریک کرسکے گا۔ فوجی عدالتیں کالعدم قرار پائیں گی اور عدلیہ میں ججوں کا تعین مزید بہتر انداز سے ہوسکے گا۔
مخالفین کے لیے جب صدر طیب اردوان اور ان کی جماعت کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگیا تو طیب پر آمر بننے کا الزام لگایا جانے لگا۔ حالیہ انتخابات میں تقریباً ساری مغربی دنیا کے علاوہ ہزاروں بے گناہوں کے خون کا پیاسا مصری جنرل سیسی بھی صدر اردوان پر آمر کا الزام لگاتے دکھائی دیا۔ ۲۴جون سے قبل تقریباً ہر اہم عالمی جریدے کے سرورق پر آمر کی سرخی کے ساتھ صدر اردوان کی تصاویر شائع کروائی گئیں۔ جرمنی کے سب سے معروف رسالے دیر شپیگل نے تو انتہا کردی۔ اس نے پورے صفحے پر اردوان کی تصویر کے پس منظر میں بڑی مسجد کی تصویر لگائی اور اس کے سربفلک میناروں میں سے دو میناروں کو میزائلوں میں ڈھالتے ہوئے، انھیںنامعلوم دشمن کے خلاف چلادیا۔ ترک وزیر خارجہ سمیت کئی ذمہ داران نے یہ واضح بیانات بھی دیے کہ بعض ممالک ترک انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ جھونک رہے ہیں۔ کئی ملکوں کے سوشل میڈیا سے بھی اندازہ ہورہا تھا کہ ان کی حکومتیں کسی بھی ’قیمت‘ پر اردوان کو ہرانا چاہتی ہیں۔
حالیہ ترک انتخابات، اتحادوں کے انتخابات تھے۔ حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود میدان میں تنہا نہیں اُتری۔ اس نے ترک قومیت پر مبنی جماعت (MHP) کے ساتھ ’اتحاد جمہور‘ تشکیل دیا۔ یہ جماعت پہلے تقریباً ۱۰ فی صد ووٹ حاصل کیا کرتی تھی، اب بھی اسے پارلیمانی سیٹوں کے لیے ۱۱فی صد ووٹ ملے۔ خود جسٹس پارٹی کے ووٹ بعض حلقوں میں کم ہوئے، لیکن دونوں جماعتوں کے اتحاد سے صدارتی انتخابات میں کامیابی ۶ء ۵۲ فی صد تک جاپہنچی۔ مقابل حزب مخالف نے بھی اتحاد ہی کی راہ اختیار کی۔ ’اتحاد ملت‘ کے نام سے قائم اس اتحاد میں باہم شدید نظریاتی مخالف جماعتیں یک جا تھیں۔ سب سے بڑی سیکولر جماعت CHP اور سعادت پارٹی کا اتحاد آگ اور پانی کے ملاپ کی صورت میں سامنے آیا۔ اردوان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب کے لیے حکمت عملی یہ بنائی گئی کہ سب اتحادی پارٹیاں اپنے اپنے اُمیدوار میدان میں اُتاریں گی، تاکہ ووٹ زیادہ سے زیادہ تقسیم ہونے کے باعث طیب اردوان کو پہلے مرحلے میں جیت کے لیے مطلوب ۵۰ فی صد ووٹ حاصل نہ ہوسکیں۔البتہ پارلیمنٹ کے انتخاب میں اتحاد کے نام سے حصہ لیا جائے۔ تاہم، کھلی بیرونی مداخلت و ’سرمایہ کاری‘ اورمختلف الخیال جماعتوں کے اتحاد کے باوجود الحمدللہ، رجب طیب اردوان پہلے ہی مرحلے میں صدر منتخب ہوگئے۔ جیت کے بعد اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ہماری جیت کسی ایک فرد یا جماعت کی جیت نہیں ہرترک شہری اور دنیا کے ہر مظلوم کی جیت ہے‘‘۔ یقینا اس جیت کے پیچھے ان لاکھوں مظلوموں اور اسلام کے چاہنے والوں کی دُعائیں بھی تھیں، اردوان حکومت نےجن کے زخموںپر مرہم رکھا۔ انتخابی مہم میں محرّم اینجے کہہ رہے تھے: ’’کامیاب ہوکر ۴۰ لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو نکال باہر کروں گا‘‘، جب کہ اردوان کہہ رہے تھے: ’’یہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے مہمان ہیں۔ ہم شام میں جاری دہشت گردی کے خلاف مزید قوت سے لڑیں گے، تاکہ ہمارے یہ مہمان عزت سے اپنے گھر واپس جاسکیں‘‘۔بالآخر افلا ک سے ان تمام مظلوموں کے نالوں کا جواب آیا۔
طیب اردوان نے اپنے وطن عزیز کومعاشی طورپر مضبوط تر بنانے کے لیے وہ کارکردگی دکھائی ہے جو جدید ترکی کی تاریخ میں کبھی ممکن نہ ہوئی تھی۔ اردوان حکومت سے پہلے ترکی اقتصادی لحاظ سے دُنیا کا ایک سو گیارھواں ملک تھا، اب سولھواں ہے۔پہلے فی کس سالانہ آمدنی ۲ہزار ڈالر کے قریب تھی، اب ۱۱ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ بے روزگاری کا تناسب ۳۸ فی صد سے کم ہوکر ۲فی صد رہ گیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں ۳۰۰ فی صد بڑھاتے ہوئے کم سے کم تنخواہ ۳۴۰ لیرے سے بڑھا کر ۹۵۷ لیرے (تقریباً ۲۴ہزار روپے) کردی گئی ہے۔ اردوان کا ہدف یہ ہے کہ ۲۰۲۳ء تک ترکی کو دنیا کی پہلی دس بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل کرنا ہے۔
حالیہ انتخابات میں ترکی سے ملنے والا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ باہمی اختلافات کو کبھی اس انتہا پر نہیں لے جانا چاہیے کہ دوبارہ ملنا ممکن نہ رہے۔ حکمران جسٹس پارٹی کی غالب اکثریت (بالخصوص فیصلہ ساز افراد) مرحوم اربکان ہی کے ساتھی اور ایک عالمی اسلامی فکر (جسے انھوں نے ’ملی گوروش‘ کا نام دیا ہوا ہے) کا حصہ ہیں۔ آج ترک ایوان صدر میں جائیں تو کئی دفاتر میں سجی ذاتی تصاویر میں صدر طیب اردوان کے ساتھ ساتھ پروفیسر نجم الدین اربکان اور سیّد مودودی کی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف سعادت پارٹی اپنے کٹڑ نظریاتی مخالفین کے ساتھ اتحاد پر تو راضی ہوگئی، مگر حکمران پارٹی کے ہم خیال اپنے سابق ساتھیوں سے نہ مل سکی۔حالیہ انتخابات سے چند روز قبل سعادت پارٹی کے مزید کئی اہم ذمہ داران بھی جسٹس پارٹی میں شامل ہوگئے۔
ملائیشیا بظاہر ایک الگ تھلگ مسلم ریاست ہے، لیکن اپنی آبادی اور اپنے اقتصادی مقام کے باعث جنوبی ایشیا میں ملائیشیا انڈونیشیا، سنگاپور اور برونائی سمیت ان سب ممالک کو ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ ان ممالک میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کا وجود دنیا کے اس جھوٹے پروپیگنڈے کا عملی جواب ہے کہ دین اسلام بزور تلوار پھیلایا گیا۔ اس پورے علاقے میں اسلام کا تعارف مسلمان علماے کرام، مسلمان طلبہ اور تاجروں کے ذریعے پہنچا اور الحمدللہ مختلف اَدوار اور مختلف آزمایشوں سے گزرنے کے باوجود عوام کے دلوں میں اسلام کی محبت ان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ۲۷ جولائی ۱۹۵۵ء کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے ملائیشیا کی آزادی کا فیصلہ ہوا اور ۳۱؍اگست ۱۹۵۷ء کو گیارہ صوبوں پر مشتمل ریاست کو آزادی ملی۔ تاہم، ۱۹۶۵ میں سنگاپور الگ ہوگیا۔ آج کا ملائیشیا انھی ۱۳ صوبوں پر مشتمل ہے۔ملائیشیا میں مسلمان آبادی کا تناسب ۸۰ فی صد سے زائد تھا۔ برطانوی تسلط کے دوران ایک منصوبے کے تحت چین اور ہندستان سے ایک بڑی آبادی وہاں منتقل کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مالے نسل آبادی کا تناسب ۵۵ فی صد رہ گیا جو اَب ۶۰ فی صد ہے۔ سب کے سب مسلمان اور امام شافعی کے پیروکار ہیں۔ ۳۰فی صد آبادی چینی النسل ہے اور ۱۰ فی صد ہندستانی نسل کے لوگ ہیں۔ اصل باشندوں کی اکثریت کا پیشہ زراعت اور کھیتی باڑی تھا۔ چین سے آنے والے اکثر لوگ تجارت و صنعت میں جت گئے۔ اکثر ہندستانی جنگلات، تجارت اور مختلف کانوں سے معدنیات کے کام میں مصروف ہوگئے۔ اس طرح مقامی آبادی کے مقابلے میں دیگر باشندوں کی معاشی حالت نسبتاً بہتر قرار پائی۔
۱۹۵۷ء ہی میں برطانوی سامراج کی اجازت سے ’مالے‘ نسل کی آبادی کے لیے ’یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن‘ (UMNO) تشکیل دی گئی۔ MCA کے نام سے چینی اور MIC کے نام سے ہندستانی آبادی کے لیے بھی تنظیمیں تشکیل دی گئیں۔
دوسری جانب دوسری عالمی جنگ کے دوران ہی ایک ملائیشین عالم دین ڈاکٹر برہان الدین حلمی کی صدارت میں ایک تنظیم مالاوین قومی پارٹی تشکیل پاچکی تھی۔ ڈاکٹر حلمی نے ہندستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریک سے متاثر تھے۔ اس تحریک نے آزادی کا پرچم بلند کیا اور اپنے پیش نظر ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام رکھا۔ جنگ کے بعد برطانیہ نے اس تحریک سمیت دیگر تمام تنظیموں پر پابندی لگادی تو ان کے ذمہ داران و کارکنان بھی UMNO میں شامل ہوکر اس پلیٹ فارم سے کام کرنے لگے۔اسی زمانے میں اسلامی تحریک کی شروعات علماے کرام کی ایک تنظیم سے ہوئی، جو بعد میں پاس (PAS) کے نام سے جماعت کی بنیاد بنی۔ ۱۹۵۵ء میں ملک کے پہلے انتخابات ہوئے تو ۵۲؍ارکان پر مشتمل اسمبلی میں ’پاس‘ کو ایک سیٹ ملی۔ آزادی کے بعد پہلے ہی انتخابات میں ’پاس‘ نے صوبہ کلنتان کی ۳۰ میں سے ۲۸ اور صوبہ ترنگانو کی ۲۴ میں سے ۱۳ نشستیں جیت کر دوصوبائی حکومتیں بنا لیں۔
۱۹۵۹ء کے بعد سے آج تک یہی چار بنیادی گروہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے کبھی حلیف اور کبھی حریف بنتے چلے آرہے ہیں۔ اس دوران کئی نئی جماعتیں اور اتحاد بھی وجود میں آتے رہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کے لیے ABIM نامی پلیٹ فارم بہت مؤثر ثابت ہوا۔ انورابراہیم جیسے فعال اور ذہین افراد اس کے کارکن اور پھر سربراہ بنے۔ اس میں بنیادی طور پہ ایک قومی اور اسلامی سوچ رکھنے والے باصلاحیت نوجوان جمع ہوتے آئے ہیں۔ انور ابراہیم نے ABIM کے ساتھ ساتھ ’امنو‘ میں بھی اہم مقام حاصل کیا۔ انھیں مہاتیر محمد کا اعتماد حاصل ہوا۔ وزیرخزانہ اور ڈپٹی وزیراعظم بنے۔ سب انھیں مہاتیر کا جانشین قرار دینے لگے۔ لیکن پھر ۱۹۹۸ء میں ایک اچانک ایسا لمحہ آیا کہ دونوں میں بداعتمادی جڑپکڑنے لگی۔ اسی وقت ساری دنیا حیرت زدہ رہ گئی جب وزیراعظم مہاتیر محمد نے ان پر شرم ناک الزام لگاتے ہوئے انھیں جیل بھجوا دیا اور کرپشن کے الزامات پر ۶ سال کی سزا سنادی گئی۔ انورابراہیم نے نہ صرف ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا بلکہ عدالتوں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ۲۰۰۸ میں اپنی نئی سیاسی جماعت (جسٹس پارٹی) بناکے عوامی عدالت میں جانے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے ’پاس‘ (PAS) اور چینی نسل کے گروہوں سے بھی رابطہ کیا۔ اس اتحاد کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قابل ذکر مقام حاصل ہوتا رہا۔ ایک وقت میں اس اتحاد کی چار صوبائی حکومتیں بنیں۔ ’پاس‘ کے سربراہ عبدالہادی اوانگ مرکز میں اپوزیشن لیڈر اور تیل سے مالامال صوبہ ترنگانو کے وزیراعلی بھی بنے۔
۲۰۰۳ء میں مہاتیر محمد نے اپنی ۲۲ سالہ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت عبداللہ بداوی کے سپرد کردی۔ پانچ سال بعد ۲۰۰۹ء میں نجیب عبدالرزاق وزیراعظم بنے۔ ان کے والد عبدالرزاق حسین ۱۹۷۰ء میں ملک کے دوسرے وزیراعظم بنے تھے۔ اب حالات نے ایک نیا پلٹا کھایا۔ ۹۳ سالہ مہاتیر محمد نے نجیب پر کرپشن کے سنگین الزامات لگانا شروع کردیے۔ ادھر ’پاس‘ اور انور ابراہیم کے مابین غلط فہمیاں جنم لینے لگیں۔ خود ’پاس‘ کے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پختہ نظریاتی ارکان اسمبلی کا جھکاؤ بھی انور ابراہیم کی جانب ہونے لگا اور بالآخر انھوں نے الگ ہوکر ایک نئی جماعت ’امانۃ پارٹی‘ بنالی۔ ۲۰۱۸ کے انتخابات سے پہلے ’پاس‘ اور’ امنو‘ دونوں تقسیم ہوچکی تھیں۔
وہی مہاتیر محمد جنھوں نے انور ابراہیم کے ساتھ انتقامی سلوک کیا تھا، ’امنو‘ کے بجاے جسٹس پارٹی کے قریب آنے لگے، جسے جیل میں قید انور ابراہیم کی اہلیہ و ان عزیزہ اور صاحبزادی نورالعزہ چلّا رہی تھیں۔ انھوںنے اعلان کیا کہ وہ انور ابراہیم کے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کا ازالہ کریں گے۔ اب جسٹس پارٹی، مہاتیر کی نئی پارٹی اور ’پاس‘ سے الگ ہونے والی امانۃ پارٹی کا اتحاد بن گیا۔ چینی جماعت بھی ساتھ آن ملی اور اس اتحاد نے ۹ مئی ۲۰۱۸ء کو ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرلی۔اسے ۲۲۲ کے ایوان میں ۱۲۲ سیٹیں ملیں۔ ’امنو‘ کو ۱۹۵۹ء کے بعد پہلی بار شکست ہوئی لیکن اس نے پُرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا۔ کامیاب ہونے والے اتحاد کے مابین معاہدہ طے پایا کہ چارسالہ اقتدار کے پہلے دو سال مہاتیر وزیراعظم رہیں گے۔ ان کے ساتھ وان عزیزہ نائب وزیراعظم ہوں گی اور پھر باقی دو سال کے لیے انور ابراہیم وزیراعظم بنیں گے۔ ۹۳ سالہ مہاتیر نے وزارت عظمی سنبھالتے ہی وسیع پیمانے پر اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نجیب عبدالرزاق پر ملک سے باہر جانے کی پابندی ہے اور ان کے خلاف مقدمات تیار کیے جارہے ہیں۔ ان کے گھر سے ۱۲۰ ملین رنگٹ کی نقد کرنسی اور قیمتی جواہرات ضبط کرلیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ’پاس‘ (PAS) نے تمام تر اندرونی تقسیم اور انتہائی کڑے مقابلے کے باوجود کلنتان اور ترنگانو میں واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی اس کے ۱۸ ؍ارکان پہنچ گئے ہیں اور دو مزید صوبوں میں ان کے ارکان کا کردار اہم ترین ہے۔ مجموعی طور پر ۱۳ صوبائی اسمبلیوں میں اس کے ارکان کی تعداد ۹۰ سے متجاوز ہے، انھیں ۱۷ فی صد ووٹ ملے۔ نئی حکومتیں تشکیل پانے کے بعد پاس کے سربراہ نے صوبہ ترنگانو میں اپنے وزیراعلیٰ کے ہمراہ وزیراعظم مہاتیر سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں مبارک باد دی اور ہر مثبت اقدام میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ملائیشیا کے حالیہ انتخابات اور حکومت سازی کا سب سے اُمید افزا پہلو حکومت میں انورابراہیم کو اہم مقام حاصل ہونا ہے،جو تحریک ِ اسلامی کے حلیف اور جانے پہچانے رہنما ہیں۔ اپوزیشن میں بھی ’پاس‘ جیسی فعال جماعت ہے جو دو صوبوں میں مکمل اور دو میں جزوی اختیار و نفوذ رکھتی ہے۔ انتخابات سے قبل پائے جانے والے اختلافات و تناؤ کی شدت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ترک انتخابات سے دو دن قبل ۲۲ جون کو انور ابراہیم ترکی گئے۔ نمازِ جمعہ صدر طیب اردوان کے ساتھ ادا کی اور دنیا کو دونوں اہم برادر ملکوں کے شانہ بشانہ ہونے کا پیغام دیا۔ پاکستان کے بارے میں بھی دونوں ملکوں کی قیادت کے جذبات یکساں طور پر مثبت ہیں۔ آج کی دنیا میں ایک منصوبہ، فتنہ سازوں کا ہے جو مسلم اُمت کی تقسیم در تقسیم کا ہدف رکھتا ہے۔ مسلم ریاستوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنارہا ہے۔ لیکن ایک فیصلہ اللہ کی توفیق سے مسلم اُمت کا ہے، جو اہم مسلمان ملکوں کو ایک دوسرے کا پشتیبان بنارہا ہے: وَاللہُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِہٖ (یوسف ۱۲:۲۱)’’اور اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے‘‘۔
ایک طویل عرصے بعد اقوام متحدہ کے ایک باوقار ادارے ’انسانی حقوق کونسل‘ نے جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے دکھ درداوران پر ڈھائے جانے والے مظالم پر گہرائی میں جا کر یہ رپورٹ ترتیب دی ہے، جو دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑنے اور کوتاہیوں کی تلافی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ زیرنظررپورٹ کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس میں گذشتہ دو برسوں کے دوران کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بے حرمتی کی روح فرسا تصور پیش کر کے بتایا گیا ہے کہ یہاں پر اس سے پہلے بھی یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ دوسرا یہ کہ بھارت اور پاکستان پر زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارایت کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے انتظام و اہتمام کریں، تا کہ جموں وکشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں ۔ تیسرا یہ کہ اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قرار دادیں جو حل تجویز کرتی ہیں، وہی درست اور منصفانہ راہ عمل ہے، جس سے کسی کے لیے مفر ممکن نہیں ۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ عالمی برادری، بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے علاقوں میں انسانی اور سیاسی حقوق کی صورتِ حال کو جاننے کے لیے وفود بھیجے ، جو غیر جانب دارانہ طور پر دُنیا کے سامنے حقائق کو پیش کریں۔
اس مناسبت سے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو دنیا کے سامنے مثبت طور پر حقائق پیش کرنے کے لیے سفارتی، ابلاغی سطح پر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے لمحے بھر کی بھی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ اور دنیا بھر کے اہل الراے کو دعوت دینی چاہیے کہ وہ پہلے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں آ ئیں اور پھر بھارتی کنٹرول میں جموں و کشمیر جاکر حقائق کودیکھیں اور عالمی اداروں کے سامنے موازنہ پیش کرکے ڈیڑھ کروڑ عوام کے مستقبل کو محفوظ کریں، اور پونے دو ارب انسانوں کے خطّے جنوب مشرقی ایشیا کو جنگ کے خطرات سے بچائیں۔مدیر
o
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے جون ۲۰۱۶ء سے اپریل ۲۰۱۸ء کے دوران ’کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر مبنی رپورٹ‘ ۱۴جون ۲۰۱۸ء کو جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی گرافک دستاویزات شامل ہیں۔ یہ دستاویز بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے خلاف سنگین مظالم پر بین الاقوامی ردعمل اور افسوس ناک حقائق کو تسلیم کرنے اور دُنیا کے سامنے پیش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس رپورٹ میں انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم پر رازداری کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ اب عالمی برادری کشمیر کے عوام کا دُکھ درد محسوس کرےگی۔
اس رپورٹ میں مخصوص واقعات کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے، جن میں بھارتی حکومت، کشمیر کے عوام کے خلاف، انسانیت کے بہت سارے اصولوں اور جمہوری آزادی کے تسلیم شدہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرتی نظر آتی ہے۔ رپورٹ میں درج ہے کہ:’’جولائی۲۰۱۶ء میں شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کے جواب میں، بھارتی مسلح افواج نے انتہائی طاقت کا استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور بہت زیادہ لوگوں کو زخمی کیا گیا۔ اس وحشیانہ پن کی وجہ مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والا سب سے خطرناک ہتھیار وہ شاٹ گن ہے، جس نے ہزاروں افراد اور بچوں کی آنکھیں ، جستی چھروں (pellets) سے ہمیشہ کے لیے ضائع کر ڈالیں۔
رپورٹ میں درج بہت سی مثالیں بتاتی ہیں کہ ظالمانہ قوانین کے استعمال نے بھارتی فوج کی انسانی حس کو ختم کرکے رکھ دیا ہے: ’’بھارتی حکومت نے ۱۹۹۰ء میں جموں و کشمیر کے مضطرب علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے قانون بنایا، جس میں بھارتی فوجی اور نیم فوجی فورسز کو غیرمعمولی قوت اور اختیار فراہم کیا گیا ہے‘‘۔ ان قوانین کا تشکیل پانا اور ان کا نفاذ، قانون کی عمل داری اور احتساب کو روکتا ہے اور انسانی حقوق کی بے پناہ خلاف ورزیوں کو پروان چڑھاتا ہے اور متاثرین کے لیے علاج اور حق انسانیت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
رپورٹ نے متوجہ کیا ہے کہ ’’انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور حصولِ انصاف تک مظلوموں کی رسائی کے راستے میں رکاوٹوں نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کو زبردست چیلنج بنا دیا ہے‘‘۔ اور یہ کہ ’’کشمیر میں ان ضابطوں کے نفاذ کے باوجود تحریک چل رہی ہے۔ وادیِ کشمیر اور جموں میں بڑے پیمانے پر اجتماعی قبروں سے متعلق شکایات کی تحقیقات کی ضرورت ہے‘‘۔
بہت سی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں نے تجویز کیا ہے کہ کشمیر، پوری دنیا میں سب سے بڑے فوجی ارتکاز کی حراست میں جکڑا ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ:’’سول سوسائٹی اور میڈیا اکثر ۵لاکھ سے ۷لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے آئے ہیں، جس نے کشمیرکو دنیا کا سب سے بڑا جنگی زون بنا ڈالا ہے‘‘۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بغاوت کے اس تازہ ترین اُبھار (uprising)کے دوران، عملی طور پر کشمیر کی پوری آبادی سڑکوں اور گلیوں میں سر ہتھیلی پر رکھ کر احتجاج کر رہی ہے، تاکہ علاقے کے عوام کے حق خوداختیاری کے مطالبے کو منوا سکیں۔ رپورٹ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے؛ ہندستانی زیر انتظام کشمیر نے ۱۹۸۰ء کے عشرے کے آخر میں،۲۰۰۸ء اور پھر۲۰۱۰ء کے آغاز میں احتجاج کی زبردست لہروں کا نظارہ کیا ہے۔ ان مظاہروں میں دورِ ماضی سے کہیں زیادہ لوگ شامل رہے ہیں، اور پھر مظاہرین کی صف بندی (پروفائل) بھی بدل گئی ہے۔ ان میں زیادہ نوجوان، درمیانی طبقے کے کشمیری شامل ہیں۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر خواتین بھی احتجاجی تحریک میں شامل ہیں، جو ماضی میں شرکت نہیں کیا کرتی تھیں‘‘۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مذاکرات ناکام رہے ہیں کیوںکہ وہ مذاکرات کشمیرکی عوامی قیادت کو جو تنازعے کا بنیادی کردار ہیں، نظرانداز کرکے ہوتے رہے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرکے کہا گیا ہے کہ: ماضی میں اور پھر موجودہ زمانے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرقابو پانےاور کشمیر میں تمام لوگوں کے لیے انصاف فراہم کرنے کی فوری ضرورت ہے، جو سات عشروں پر پھیلے تنازعے میں کچلے جارہے ہیں۔ کشمیر میں سیاسی حل کو، تشدد کے آرے سے کاٹا اور احتساب کے خاتمے سے انجام دیا گیا ہے۔ گذشتہ طویل عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قتل و غارت گری کا نشانہ بننے والے افراد کو بچانے کے لیے ایک مضبوط عزم کی ضرورت ہے۔ اس طرح کا ایک حل صرف اُس وقت بامعنی بن سکتا ہے کہ جب کشمیر کے لوگوں کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔
بھارتی انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی پی سمیت ’پیپلز یونین آف سول لبرٹیز‘ وغیرہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے افراد کو جموں و کشمیر میں بھیجا۔ بہت سی رپورٹوں میں تشدد اور ظلم کی تفصیلات شائع کیں، جو اکثر بھارتی سرکاری حکام کی زیادتیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ، ان رپورٹوں کے مندرجات کی توثیق اور تائید کرتی ہے۔ جیساکہ سول اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے پر ایک دستخط کنندہ ملک کے طور پر بھارت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی بھی حالت میں آرٹیکل ۷کے تحت بھارت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کسی شخص کو’تشدد‘ پر مبنی ظالمانہ، غیر انسانی یا انتہائی سزا نہ دے، جب کہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کا مستقل ہتھکنڈا ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔
رپورٹ میں کالجوں کے اساتذہ اور مزدوری کرنے والے غریب اور نادار مزدوروں کو مارڈالنے کی متعدد مثالیں پیش کرنے کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ طبی خدمات کے مراکز اور ایمبولینس واضح طور پر نشانہ بنائی جارہی ہیں۔ ایمبولینسوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مظاہرین کو لاتی ہیں،حالاں کہ وہ زخمیوں کی مدد کرتی ہیں، انھیں طبی مدد دینے کی کوشش کرتی ہیں، مگر فوجیوں کی فائرنگ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ واضح طور پر یہ ان نوجوانوں اور شہری آبادیوں کو جسمانی طور پر غیرفعال اور اپاہج بنانے کا ایک مقصد ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ:’’سرینگر میں ڈاکٹروں نے سکیورٹی فورسز پر ہسپتالوں کے قریب آنسو گیس پھینکنے اور فائرنگ کرنے کا الزام لگایا ہے اور بعض صورتوں میں، ہسپتال کے اندر گھس کر بھی وہ یہ زیادتی کرتی ہیں، جس نے ڈاکٹروں میں ذمہ داری ادا کرنے کی صلاحیت کو زبردست متاثر کیا اور مریضوں کی صحت اور زندگی کو مزید خطرات سے دوچار کیا ہے‘‘۔
اس دوران بین الاقوامی کمیونٹی کی توجہ حاصل کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔ عالمی قوتوں نے بھارت سے اس زیادتی کے بارے میں پوچھنے کی زحمت سے ہاتھ کھینچ رکھا ہے۔ دوسری طرف، بھارت، کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنان کو بین الاقوامی فورموں پر انسانی حقوق کے موضوع پر بات کرنے کے لیے نہیں جانے دیتا۔
رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں نے جب بھی جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر بین الاقوامی توجہ دلانے کی کوشش کی تو انھیں سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ کچھ صحافیوں کی رسائی تک روک دی گئی ہے۔
انسانی حقوق کے ایک محافظ خرم پرویز کو ۱۵ ستمبر۲۰۱۶ء کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش ہونے سے روکنے کے لیے پی ایس اے کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ پھر انسانی حقوق کے علَم بردار وکیل کارٹک مرکوٹلا، جو خرم پرویز کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں، انھیں ۲۴ستمبر ۲۰۱۶ء کو نئی دہلی کے ہوائی اڈے سے گرفتار کرلیا کہ وہ جنیوا کیوں گئے تھے؟ اسی طرح فرانسیسی صحافیوں اور دستاویزی فلم ساز پولس کمیٹی کو ۹ دسمبر۲۰۱۷ء کو سرینگر میں گرفتار کیا گیا۔
اس چیز کے اچھے خاصے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ بھارت کے خونیں قبضے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دوران، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بات سخت تکلیف دہ ، شرم ناک اور ناقابلِ قبول ہے کہ خواتین کی عزّت و حُرمت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ:۲۰۱۳ء میں بھارت کے مشن پر خصوصی رپورٹر نے، خواتین کے خلاف تشدد اور اس کی وجوہ اور نتائج کے بارے میں کہا تھا:’’جموں و کشمیر اور شمال مشرقی ریاستیں سخت محاصرے اور مسلسل نگرانی کی حالت میں رہتی ہیں، چاہے یہ لوگ گھروں میں ہوں یا باہر۔ تحریری اور زبانی ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق ریاستی سیکورٹی فورسز نے افراد کو لاپتا کرنے والی کارروائیوں، قتل اور تشدد اور اجتماعی عصمت دری جیسے عمل کو مقامی باشندوں کو دھمکانے اور محکوم بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے سفارش کی ہے:’’کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی جامع بین الاقوامی تحقیقات کرنے کے لیے انکوائری کمیشن کا قیام اور اس رپورٹ کے نتائج پر غور کیا جائے‘‘۔
رپورٹ میں بھارتی حکومت کو۱۷ سفارشات دی ہیں، تاکہ ان مظالم کو ختم کیا جاسکے۔ جس کے مطابق: l فوری طور پر مسلح افواج (جموں و کشمیر) کے خصوصی اختیارات کے ایکٹ، ۱۹۹۰ کو منسوخ کیا جائے۔ lجولائی۲۰۱۶ء سے لے کر تمام شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے آزاد، غیر جانب دار اور قابل اعتماد تحقیقات کی جائیں۔lبین الاقوامی قانون کے تحت کشمیر کے لوگوں کو حق خود اختیاریت دیا جائے۔
رپورٹ میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ: ’اقوام متحدہ کی رپورٹ‘ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ارکان اور پالیسی سازوں کو متحرک کرے گی، جو کشمیر میں بہیمانہ قتل و غارت گری کو روکنے کے لیے اپنی قانونی طاقت سے بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ رکن ممالک کے پالیسی سازوں کو مسئلے کی بنیادی وجہ کو سمجھنے کے لیے حقائق کو دیکھنا چاہیے۔ حق خود اختیاری کے ناقابلِ تنسیخ وعدے کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ضمانت فراہم کرتی ہیں‘۔
ہمیں یقین ہے کہ ہم کشمیری، کشمیر میں اس کی تقدیر کے تحفظ کے لیے، جو کہ ایک شان دار تاریخ رکھتی ہے، اسے صدمات کے منجدھار سے نکالنے کے لیے اپنی تمام توانائی، حکمت اور عزم و ہمت سے کام لیں گے۔[انگریزی سے ترجمہ: س م خ] ٭
٭ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر (۲۰۰۲ء-۲۰۰۸ء) اور سلامتی کونسل کے سابق صدر منیراکرم صاحب نے، اس رپورٹ کی مناسبت سے لکھتے ہوئے متوجہ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک مشترکہ کمیشن مقرر کر کے کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ لیں، اور اگر بھارت اس سے انکار کرے تو پھر حسب ذیل اقدامات کیے جائیں:lبھارت کی سیکورٹی فورسزکے انفرادی ارکان کی شناخت کرتے ہوئے، انھیں انسانیت کے خلاف متعدد جرائم میں نامزد کیا جا سکتا ہے کہ جنھوں نے غیر مسلح مظاہرین کو روکنے کے لیے وحشیانہ فائرنگ کی اور بے بس خواتین کو جنسی تشدد اور بے حرمتی کا نشانہ بنایا ۔ انھیں جنیوا کنونشن اور [قتل عام ] سے متعلق معاہدات کے تحت مقدمات میں ماخوذ کیا جانا چاہیے۔ lبھارتی مقبوضہ کشمیر میں بہت سے بھارتی ہنگامی قوانین کے نفاذ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا جانا چاہیے۔ lاقوام متحدہ کے معاہدات میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پُر امن مظاہرین کو فائرنگ اور پیلٹ گنوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس لیے ایسے ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ l بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی (ICRC) اور دیگر فلاحی تنظیمیں کشمیری قیدیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد اور ان سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ lبھارتی سماجی کارکنوں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جا کر برسرِ زمین حالات دیکھنے، اور کشمیری شہریوں کو بھارت سے باہر دنیا میں اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے کی اجازت دی جائے۔ lبھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ، جنسی تشدد اور بے حرمتی کی شکار بے بس کشمیری خواتین کے لیے انصاف کے حصول اور ایسے گھنائونے جرائم کی روک تھام کے لیے پوری قوت سے آواز اُٹھانی چاہیے، خاص طور پر کنن پوش پور کے شرمناک واقعے (جس میں بھارتی فوجیوں نے ۲۳ عورتوں اور بچیوں کی اجتماعی بے حُرمتی کی تھی)کو عبرت ناک مثال بنانا چاہیے۔ lحکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی عدالت انصاف (ICJ) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرے کہ وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی مناسبت سے بھارت کو انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے۔
اگر پاکستان: انسانی حقوق کی علم بردار قوتوں کو متحرک کر کے بھارت کو اس کا اصل چہرہ دکھا سکے اور دنیا کے سامنے بے نقاب کرسکے تو اس سے کشمیری عوام پر مظالم کی یلغار کم اور تشدد کے واقعات میں کمی آ سکے گی۔ اس طرح مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے طے شدہ اصول کے تحت حق خود ارادیت کے انعقاد کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ (روزنامہ Dawn، کراچی، ۲۴جون ۲۰۱۸ء)
جولائی ۲۰۱۶ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جب کشمیر میں حالات کسی بھی صورت میں قابو میں نہیں آرہے تھے،نیز بھارتی میڈیا آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کررہا تھا، تب غالباً بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ایما اور جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی استدعا پر میڈیا کے چنیدہ ایڈیٹروں کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے کے لیے بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ۱۷ طاقت ور مدیر اور چوٹی کے صحافی وزارت اطلاعات کے صدر دفتر میں پہنچے تو وہ بھارتی کابینہ کے نہایت مؤثر وزرا کی ایک ٹیم کے رُوبرو تھے۔ مودی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں وزرا کسی مسئلے پر میڈیا کو حکومتی موقف اور اس کے مضمرات پر بریفنگ دے رہے تھے۔
موجودہ بھارتی نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو کے پاس اُن دنوں وزارت اطلاعات و نشریات کا قلم دان تھا۔ انھوں نے نظامت سنبھالتے ہی فرمایا: ’’یہ ایک پس منظر بتانے والی بریفنگ ہے، اس لیے ہم سوالات کے علاوہ کھلی بحث اور پریس سے مشوروں کے بھی طالب ہیں‘‘۔ ایک سینئر وزیر نے گفتگو کے آغاز میں گزارش کی کہ:’ کشمیر میں اس شورش کی رپورٹنگ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیا جائے، اور کشمیری عوام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنانے سے گریز کیا جائے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اس بات سے پریشان ہیں کہ میڈیا جس طرح کشمیر کی صورتِ حال کو رپورٹ کر رہا ہے‘ اس سے کئی پیچیدگیا ں پیدا ہو رہی ہیں۔ کشمیری عوام اپنے آپ کو مزید الگ تھلگ محسوس کررہے ہیں۔ ان کے اور بھارتی عوام کے درمیان خلیج وسیع اور گہری ہو تی جارہی ہے‘‘۔
اس گفتگو سے جو میڈیا کو مفاہمت اور احتیاط پسندی کی تلقین پر مبنی تھی، اس پر فوراً ہی دوسرے ایک اہم تر وزیر نے پانی انڈیل دیا۔ یہ وزیر صاحب حکومتی حلقوں میں کشمیر پر حرفِ آخر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے کشمیر میں برپا پچھلی عوامی شورشوں کا موجودہ عوامی اُبھار کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا: ’’۱۹۸۹ء کا عوامی احتجاج اور عسکریت کا آغاز ۱۹۸۷ء کے انتخابات میں بے حساب دھاند لیوں اور جمہوری عمل کی ناکامی سے منسلک تھا۔ ۲۰۰۸ء کی عوامی شورش اصل میں جموں کے ہندو اکثریتی علاقے اور وادی کشمیر کے درمیان چلی آرہی مخاصمت کا شاخسانہ تھی۔ ۲۰۱۰ء میں مقامی حکومت کی نااہلی اور سلسلہ وار ہلاکتوں کی وجہ سے عوام سڑکوں پر تھے۔ موجودہ شورش کا تعلق جمہوری عمل کی ناکامی یا آزادی کی تحریک سے نہیں ہے، بلکہ اس کے تار عالمی دہشت گردی سے جڑے ہیں‘‘۔پھر انھوں نے کہا کہ: ــ’’القاعدہ ،آئی ایس آئی ایس اور طالبان جیسی تنظیمیں اپنے نظریات کے ساتھ حاوی ہو رہی ہیں، اس لیے ان کو کچلنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے‘‘۔ غرض یہ کہ ان سینئر وزیر صاحب نے مبالغہ آمیزی سے کام لے کر کشمیر کی تحریک کو عالمی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑ کر خطے پر اس کے مضمرات کا ایسا نقشہ کھینچا کہ کانفرنس روم میں سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔ اس تحریک کو خود ساختہ عالمی اسلامی جہادی تنظیموں سے منسلک کرنے کا ثبوت ان کے پاس یہ تھا کہ: ’’کشمیر میں قومیت کے بجاے اسلامی تشخص نئی نسل میں سرایت کرتا جارہا ہے ، نیز مسجد و منبر اور جمعہ کی نماز کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘‘۔
سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے محترم وزیر صاحب کو یاد دلایا کہ: ’’درگاہ و منبر، کشمیر میں ہر دور میں سیاسی تحریکوں کے مراکز رہے ہیں، کیوں کہ اس خطے میں جمہوری اور پُر امن طریقوں سے آواز بلند کرنے اور اپنی بات بیان کرنے کے بقیہ سبھی دروازے اور کھڑکیا ں بند تھیں۔ خود شیخ محمد عبداللہ جیسے سیکولر لیڈر کو بھی عوام تک پہنچنے کے لیے درگاہ حضرت بل کا سہارا لینا پڑا۔ کسی سیاسی پلیٹ فارم کی عدم موجودگی میں، یہ مسجدیں اور خانقاہیں ہی اظہار کا ذریعہ رہی ہیں‘‘، مگر وزیر صاحب نے یہ گزارش سنی اَن سنی کرتے ہوئے اپنی ہوش ربا تحقیق پر مبنی بریفنگ جاری رکھی۔ ان کا واحد مقصد یہی تھا کہ ہر محاذ پر ناکامی کے بعد بھارتی حکومت کشمیر میں ’وہابیت‘ کا ہوّا کھڑا کرکے عالمی برادری کے سامنے موجودہ تحریک کو عالمی دہشت گردی کا حصہ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیاکہ:’’اگر’ وہابیت‘ اتنی ہی خطرناک ہے تو اکتوبر ۲۰۰۳ء میں آخر کس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سرینگر آنے کی ترغیب دی، آخر وہ کیسے گورنر اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے چہیتے ایس کے سنہا کے راج بھون میں مہمان بنے تھے؟ عرصۂ دراز سے تحریک آزادی کے خلاف نظریاتی مورچہ بندی کے لیے بھارتی ایجنسیاں دارالعلوم دیوبند اور دیگر اداروں سے وابستہ علماکی کشمیر میں مہمان نوازی کرتی آئی ہیں۔ ان میں اب ایک نیا نام آسٹریلیا میں مقیم ایک خود ساختہ شیعہ عالم کا ہے، جنھوں نے حال ہی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے ایک نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کی حمایت کی۔دہلی میں تو ایک اُردو اخبار کے مدیر نے بھی اس کا بیڑا اٹھارکھا ہے۔ چوں کہ تصور یہ ہے کہ جماعت اسلامی، کشمیر میں جاری تحریک کوکیڈر اور لیڈر شپ فراہم کرتی ہے، لہٰذا اس کا توڑ کرنے کے لیے اس کے مخالف علما کو استعمال کیا جائے‘‘۔
مزید عرض گزار ہوا: ’’ تھوڑی سی تحقیق ہی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ۱۹۹۰ء کے اوائل میں نیشنل کانفرنس کے لیڈروںکی نقل مکانی اور دیگر لیڈروں کی اجتماعی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی واحد ریاست گیر سیاسی جماعت میدان میں موجود تھی، جس نے خاصی چھان پھٹک کے بعد عسکری تحریک کو کنٹرول کرنے کے لیے پیش رفت کی تھی، جس کا خمیازہ بعد میں ان کو ۶۰۰سے زیادہ ارکانِ جماعت کے قتل کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ کشمیرکی سبھی دینی و سیاسی جماعتوں نے اس تحریک میں بھر پور شرکت کی، جن میں جمعیت اہلحدیث، بریلوی مکتب کی کاروان اسلام، امت اسلامی، شیعہ تنظیمیں، مقامی فکرکی نمایندگی کرنے والی انجمن تبلیغ الاسلام، سیکولر تنظیموں، جیسے لبریشن فرنٹ اور پیپلزکانفرنس سمیت سب نے بھر پور حصہ لیا۔ حتیٰ کہ جو لوگ انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس، نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کو ووٹ دینے کے لیے قطاروں میں کھڑ ے نظر آتے ہیں، وہ بھی ایجی ٹیشن میں پیش پیش رہتے ہیں‘‘۔میں نے سلسلۂ کلام جوڑتے ہوئے وزیر موصوف کو یاد دلایا کہ: ’’شوپیاں میں پولیس نے سنگ باری کے الزام میں جن نوجوانوں کو گرفتارکیا ہے ،وہ پچھلے اسمبلی انتخابات کے دورران بی جے پی کے مقامی امیدوارکے لیے مہم چلا رہے تھے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ حریت کوئی باضابطہ تنظیم یاکیڈر پر مبنی نیٹ ورک نہیں بلکہ اس کے لیڈرکشمیریوں کے جذبۂ آزادی کے نگران اور ترجمان ہیں۔یہ جذبۂ آزادی پارٹی وفاداریوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہے‘‘۔ کسی سیاسی پلیٹ فارم کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے مزید عرض کیا کہ: ’’ہندو اکثریتی علاقہ کی جموں یونی ورسٹی میں ہندو قوم پرست آر ایس ایس کے سربراہ آکر سیاسی تقریر کرتے ہیں، جب کہ ۳۰۰کلومیٹر دُور کشمیر یونی ورسٹی میں کسی بھی سیاسی مکالمے پر پابندی عائد ہے۔ ایک دہائی قبل کشمیر یونی ورسٹی نے انسانی حقوق کا ڈپلوما کورس شروع کیا تھا، چند سال بعد ہی اس کی بساط لپیٹ دی گئی، کیوں کہ طالب علم سیاسی اور جمہوری حقوق کے متعلق سوال پوچھنے لگے تھے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے فیلڈ میں کیریئر یا روزگار کی کمی ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ: ’’محترم منسٹرصاحب! متبادل جمہوری ذرائع کی عدم موجودگی کی وجہ سے مساجد کو سیاسی طور پر استعمال کرنا تو ایک مجبوری بن گئی ہے اور یہ کشمیر کی پچھلے پانچ سو برسوں کی تاریخ ہے‘‘۔
وزیر صاحب نے جواب میں بتایا کہ: ’’حریت کانفرنس کے رہنما اپنی شناخت اور عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں‘‘۔ دوسری طرف ان کو یہ غصّہ بھی تھا کہ: ’’حُریت کانفرنس نے کُل جماعتی وفد کے ارکان سے ملنے سے انکار کرکے پوری بھارتی پارلیمنٹ کو بے وقار کردیا ہے، جس کا انھیں حساب دینا پڑے گا‘‘۔ میں نے سوال کیا کہ: ’’اگر یہ رہنما واقعتاً بے وقعت ہوچکے ہیں تو ان کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘ وزیر موصوف کے بقول: ’’کشمیر کا روایتی اسلام خطرے میں ہے، وہاں ’وہابیت‘ وغیرہ نے جڑیں گاڑ لی ہیں جس کا تدارک ضروری ہے کیوں کہ موجودہ تحریک کی قیادت یہی نظریہ کر رہا ہے‘‘۔
کئی گھنٹوں پر پھیلی یہ بریفنگ جب ختم ہوئی تو دوبارہ بتایا گیا کہ: ’’یہ ایک بیک گراونڈ بریفنگ تھی اور یہ کسی بھی طورپر میڈیا میں رپورٹ نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ مگر اگلے دن صبح اُٹھے تو دیکھا کہ بھارت کے دوکثیر الاشاعت اخباروں ٹائمز آف انڈیا اور ہندستان ٹائمز میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے اس نشست کی معلومات شہ سرخی کے طور پر شائع ہوگئی تھیں اور پھر کئی ماہ تک ٹی وی چینلوں کے لیے کشمیر پر یہ رپورٹ بحث کی خوراک بنی رہی۔ معلوم ہوا کہ ان اخباروں کے مدیران کو رات دیرسے ہدایت دی گئی تھی کہ: ’’ان وزیر صاحب کی بریفنگ کی رپورٹنگ چھپنی چاہیے‘‘۔ جس سے ایک طرف تو اس بریفنگ کا بنیادی مقصد فوت ہوگیا، مگر دوسرا مقصد یہ سمجھ میں آیا ،چوںکہ پاکستان دنیا بھر میں سفارتی مشن بھیج رہا ہے، تو اس کے بیانیے کو اس رپورٹ کے ذریعے سے سبوتاژ کیا جائے۔ اور یہ دیکھنے میں آیا کہ جہاں بھی پاکستانی مشن گئے وہاں ان کو کشمیر اور مبینہ طور پر اس کے عالمی دہشت گردی سے منسلک ہونے کی مناسبت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس نشست میں میری بے جا مداخلت اور سوال اُٹھانے کی گستاخی سے وزیر موصوف اتنے ناراض ہوئے کہ مجھے صحافت سے ہی چلتا کرنے کی انھوں نے کوشش کی۔
خیر، ا ب دو سال بعد جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے نئی دہلی حکومت کو بھیجی گئی رپورٹوں اور ایک برطانوی تھنک ٹینک کی تحقیقی رپورٹ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ: ’’تحریک کشمیر کا عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اور نہ یہ جدوجہد سلفی، وہابی یا کسی ایسے نظریے سے وابستہ ہے‘‘۔ پچھلے سال ایک ملاقات میں جموں و کشمیر کے ایک سینئر پولیس افسر ، جو اس وقت جنوبی کشمیر میں تعینات تھے اور بھارتی فوج کے ایک کمانڈر نے بھی کچھ اسی طرح کا تجزیہ پیش کیا تھا۔ وہ بھارتی میڈیا کی اس روش سے خاصے نالا ں تھے، جس میں وہ بار بار کشمیر میں آئی ایس آئی ایس کے عنصر کو زبردستی اُچھال کر حالات کو شام، عراق و افغانستان سے ملانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ جان بوجھ کر مزید ظلم و ستم کے لیے راہ ہموار کرنے اور عالمی برادری کو خوف زدہ کرنے کا حربہ قرار دیتے تھے۔ انھی پولیس افسر صاحب کے بقول: ’’ایک انگریزی میڈیا چینل کے ایک رپورٹر نے درزی سے آئی ایس آئی ایس کا جھنڈا سلوا کر سرینگر کے پرانے شہر کے ایک کمرے میں چند نقاب پوش نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھمایا ، اور اس کی عکس بندی کی تھی۔اس ویڈیو کی بنیادپر اس چینل نے کئی روز تک پروگرام چلائے۔پولیس نے اس درزی کی نشان دہی پر جب مذکورہ رپورٹر کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی، تو نئی دہلی سے پیام آیا کہ معاملے کو دبا دیا جائے۔
اُوپر جن تحقیقی رپورٹوں کا ذکر ہوا ہے، ان کے مطابق برہان وانی کی شہادت کے بعد جن ۲۶۵نوجوانوں نے اس عرصے میں عسکریت سے وابستگی اختیار کی، ان میں محض ۲ فی صد کسی نہ کسی صورت میں مدرسوں یا کسی نظریے سے وابستہ تھے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عام طور پر کھاتے پیتے مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتی تھی اور سیاسی طور پر خاصے باشعور تھے۔ ۶۴فی صد کا کسی بھی شدت پسند نظریے سے تو دُور کاواسطہ نہیں تھا بلکہ سیاسی طور پر خاصے لبر ل خیالات کے قائل تھے۔ ان میں سے ۴۷فی صدعسکریت پسندوں کا تعلق ایسے علاقوں سے تھا، جہاں ان کی رہایش گاہ کے ۱۰ کلومیٹر کے دائرے میں یا تو کوئی تصادم (انکاونٹر) ہوا تھا یا سکیورٹی فورسز نے سول آبادی پر شدید زیادتیاں کی تھیں۔
امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں: گریگوری واٹرز اور رابرٹ پوسٹنگز کی اس زیربحث تحقیق The Spiders of the Caliphate (مئی ۲۰۱۸ء)کے مطابق: ’’عالمی دہشت گر د تنظیموں کے مطالعے سے پتا چلتاہے کسی فرد کی اس طرح کی تنظیم میں وابستگی سے قبل نفسیاتی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ دنیا اور اہل خانہ سے الگ تھلگ رہنا پسند کرتا ہے، مگر اس طرح کا کوئی نفسیاتی رجحان کشمیر میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ عسکریت میں شامل ہونے کے بعد بھی یہ نوجوان اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے معمول کے روابط میں متحرک نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ان میں سوسائٹی سے ایسی بے زاری دیکھنے کو نہیں ملی، جو القاعدہ وغیرہ کے ارکان میں عام رجحان ہے‘‘۔
مذکورہ بالا رپورٹ اور جموں و کشمیر پولیس کی تحقیق کا ماحاصل یہی ہے کہ نئی دہلی کو اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ کشمیر سیاسی مسئلے کے ساتھ ساتھ غصب شدہ انسانی حقوق کی بازیابی کا معاملہ بھی ہے۔ امن اور قانون کے نام پر اور تحریک کو عالمی دہشت گردی سے منسلک کرکے وقتی فائدہ تواٹھایا جاسکتا ہے، لیکن اس سے مسئلہ ختم نہیںہوسکتا۔ یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ تمام تر ہلاکت خیز اسلحے کے انباروں ، سات لاکھ افواج کی تعیناتی، مظالم ومصائب کی گھٹائوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود مسئلۂ کشمیر ایک زندہ وجاوید حقیقت ہے اور اس کے منصفانہ حل سے ہی برعظیم پاک و ہند کی ہمہ گیر تعمیر و ترقی ، امن و سکون اور خوش گوار ہمسائیگی مشروط ہے۔