جس وقت بھارت کے دورے پر آئے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد کی تاریخی ’مکہ مسجد‘ میں نماز جمعہ ادا کررہے تھے، اسی روز بہار کے سرحدی شہر ساپول کے باسی اور مسجد نبویؐ کے امام شیخ حامد بن اکرم بخاری بھی مسلمانوں کے ایک جمِ غفیر سے خطاب کر رہے تھے۔ دونوں حضرات کے خطبات کا متن تقریباً ایک جیسا تھا۔ جہاں ایرانی صدر نے: ’’کلمۂ توحید کے پرچم تلے عالمِ اسلام سے متحد ہونے کی اپیل کی‘‘ تو دوسری طرف امامِ حرم نے اسلامی دنیا کے انتشار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’اس کا واحد حل اتحاد بین المسلمین ہے‘‘۔ دونوں نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں کی مذمت کی اور بجاطور پر اسلام کو امن کا پیغامبر بتایا۔
ایرانی صدر اور ان کے وفد نے حیدر آباد میں ایک سُنی امام کی اقتدا میں نماز ادا کرکے مسلم دُنیا کو نہایت ہی مثبت پیغام دیا۔ اب اگر ان دونوں رہنمائوں کا بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اتحاد کا ایک جیسا پیغام تھا، تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ دونوں ممالک خود اس کی عملی تصویر پیش کرکے عالمِ اسلام کو ابتلاو آزمایش سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کرتے۔ آج عالمِ اسلام کے بیش تر زخم ایران اور سعود ی عرب کی چپقلش کی دین ہیں۔ دو عشرے پیش تر تک مختلف معاملات، مثلاً افغانستان، فلسطین اور کشمیر کے تئیں مذکورہ دونوں ممالک کا موقف یکساں ہوتاتھا۔ کشمیر کے سلسلے میں ویسے تو سعودی حکومت پس پردہ ہی رول ادا کرتی تھی، مگر ایران کا پاکستان کی ہی طرز پر خاصا فعال کردار ہوتا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ ۱۹۸۲ء میں سری نگر کی جامع مسجد میں ایران کے موجودہ سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ ان کا خطبہ سننے کے لیے عوام کا ازدحام اُمنڈ آیا تھا۔ پھر ۱۹۹۱ء میں جب بھارت کے وزیر خارجہ اندر کمار گجرال تہران کے لیے اڑان بھرنے کی تیاری کر رہے تھے، کہ ایران نے ان کی میزبانی کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ وجہ تھی کہ سری نگر میں سیکورٹی دستوں نے اس دن کشمیر کے کئی افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم، خطے کے بدلتے حالات، بین الاقوامی رسہ کشی ، افغانستان کے منظرنامے ، پابندیوں اور پھر اپنی معیشت نے شاید ایران کو مجبور کیا کہ بھارت کے ساتھ اپنے رشتوں کا ازسر نو جائزہ لے۔
مارچ ۱۹۹۴ء میں کشمیر کے حوالے سے ایران نے اچانک پوزیشن تبدیل کی۔ ہوا یہ کہ جموں وکشمیر میں حقوقِ انسانی کی ابتر صورتِ حال کے حوالے سے ’اسلامی تعاون تنظیم‘ نے اقوامِ متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن میں ایک قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کی زبردست سرزنش اور اس کے خلاف اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔ منظوری کی صورت میں یہ قرارداد براہِ راست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کردی جاتی، جہاں بھارت کے خلاف اقتصادی پابندیاںعائد کرنے کے قواعد تقریباً تیار تھے۔ اسی دوران کوہِ البرزکے دامن میں واقع تہران ایئر پورٹ پر شدید سردی میں بھارتی فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے نے برف سے ڈھکے رن وے پر لینڈنگ کی۔ یہ طیارہ اس وقت کے وزیرخارجہ دنیش سنگھ اور تین دیگر مسافروںکو انتہائی خفیہ مشن پر لے کر آیا تھا۔ دنیش سنگھ ان دنوں دہلی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے اور بڑی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔ وہ اسٹریچر پر ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے نام بھارتی وزیراعظم پی وی نرسیما رائو کا اہم مکتوب لے کر آئے تھے، اور ذاتی طور پر ان کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔ سوء اتفاق کہ وزیرخارجہ ' دنیش سنگھ کا یہ آخری سفارتی دورہ ثابت ہوا کیوںکہ اس کے بعد وہ دنیا سے کوچ کرگئے۔
اس وقت بین الاقوامی برادری میں بھارت کی پوزیشن مستحکم نہیں تھی اور اقتصادی صورتِ حال انتہائی خستہ تھی، حتیٰ کہ سرکاری خزانہ بھرنے کے لیے حکومت نے اپنا سارا سونا بیرونی ملکوں میںگروی رکھ دیا تھا۔ ادھر سوویت یونین کے منتشر ہو جانے سے اس کا یہ دیرینہ دوست بھی اپنے زخم چاٹ رہا تھا۔ وزیر اعظم نرسیما رائو نے بڑی ہوشیاری اور دُوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کو آمادہ کرلیا کہ وہ او آئی سی میں مذکورہ قرارداد کی منظوری کے وقت غیر حاضر رہے۔ نرسیما رائو کا خیال تھا کہ ایران کے غیر حاضر رہنے کی صورت میں یہ قرارداد خود بخود ناکام ہوجائے گی، کیوںکہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ دوسرے کئی بین الاقوامی اداروںکی طرح ووٹنگ کے بجاے اتفاق راے سے فیصلے کرتی ہے۔ جس وقت بھارتی فضائیہ کا خصوصی طیارہ ایرانی ہوائی اڈے پر اُتر رہا تھا، ایرانی حکام کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ اچانک تہران میںکیوں نازل ہورہے ہیں؟ ایرانی حکام اتنے حیرت زدہ تھے کہ وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی پروٹوکول کو بالاے طاق رکھتے ہوئے خود ہوائی اڈے پر پہنچے اور جب راجا دنیش سنگھ کو صبح سویرے سردی سے ٹھٹھرتے وہیل چیئر اور ڈاکٹروں کے ہمراہ ہوائی جہاز سے برآمد ہوتے دیکھا تو ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ: ’’آخر اس وقت اور اتنے ہنگامی طریقے سے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کی کیا ضرورت آن پڑی؟‘‘ دنیش سنگھ نے صدر ہاشمی رفسنجانی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ناطق نوری سے ملاقات کی اور اسی دن شام کو دہلی کے اسپتال میں اپنے بیڈ پر دوبارہ دراز دکھائی دیے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس مہم کو خفیہ رکھنے کے لیے ان کی واپسی تک ان کے بیڈ پر انھی کی قدوقامت کے شخص کو لٹایا گیا تھا۔ بہرحال دنیش سنگھ کا مشن کامیاب رہا۔ اس پورے معاملے میں ایران کوکیا ملا؟ یہ ابھی تک ایک راز ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو اس واقعے کی بھنک پڑ جاتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا۔ ادھر ایرانی دبے لفظوں میںکہتے ہیں کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں ان سے ایک وعدہ کیا تھا، جس پر انھوں نے یقین کرلیا ۔ بھارت نے ایران سے درخواست کی تھی کہ:’’اگر وہ مغربی ممالک کی مداخلت روکنے میں اس کی مدد کرتا ہے تو وہ پاکستان اور کشمیری رہنمائوں کے ساتھ بات چیت شروع کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کا خواہاں ہے‘‘۔ یہ سچ ہے کہ نرسیما راؤ نے اس کے بعد کچھ تگ و دو کی۔
ایک سال بعد برکینا فاسو میں ناوابستہ ممالک کی سربراہ کانفرنس کے دوران نرسیما رائو نے اعلان کیا کہ: ’’کشمیر کے سلسلے میں بھارت آسمان کی وسعتوں جتنی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے‘‘۔ دنیش سنگھ کی واپسی کے بعد ۷۲گھنٹے بھارت کے لیے کافی تذبذب بھرے تھے، تاہم ایران نے اپنا وعدہ ایفا کرتے ہوئے کشمیر سے متعلق او آئی سی کی قرارداد کو بڑی حکمت عملی سے عملاً ’ویٹو‘کردیا۔
چوںکہ سبھی نگاہیں اس وقت جنیوا پر ٹکی ہوئی تھیں، اس لیے کسی کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ یہ جان سکتا کہ تہران میںکیا لاوا پک رہا تھا۔ مجھے یاد ہے، نئی دہلی میں اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر ریاض کھوکھر خاصے تنائو بھرے ماحول میں کشمیری لیڈروں سید علی گیلانی اور عبدالغنی لون کو بتا رہے تھے کہ: ’’ایران اس انتہائی اہم قرارداد کی حمایت سے ہاتھ کھینچ رہا ہے؛ حالاںکہ صرف ایک ہفتہ قبل نئی دہلی میں ایرانی سفیر نے دونوں کشمیر ی رہنمائوںکی اپنی رہایش گاہ پہ پُرتکلف دعوت کی تھی اور انھیں باورکرایا تھا کہ مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی وفد کی قیادت اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے کی تھی اور ان کے ساتھ مرکزی وزیر سلمان خورشید اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ موجود تھے۔ اس وفد کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ۷۲گھنٹے قبل وزیر خارجہ دنیش سنگھ ایک ایسا ’کارنامہ‘ انجام دے چکے ہیں، جس کے دُور رس اثرات مرتب ہونے والے تھے۔ بعدکے حالات و واقعات نے اسے درست ثابت کیا۔ واجپائی اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ اب تک اس کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھتے پھرتے ہیں اور نرسیما رائو نے بھی مرتے دم تک ان سے یہ سہرا واپس لینے کی کوشش نہیں کی۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد سے پاکستان نے کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں زیربحث لانے کی ہمت نہیںکی۔بعد میں ایران اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ افغانستان کے سلسلے میں دونوں نے متضاد موقف اختیار کیا۔ ایران نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان کے’شمالی اتحاد‘ کو تقویت پہنچائی، جو پاکستانی مفادات کے بالکل خلاف تھا۔ پاکستان کو اس رویے سے زبردست صدمہ پہنچا، جسے اس نے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔
شاید تاریخ پھر پلٹ رہی ہے۔ حالات و واقعات نے مسلم دنیا کی کمان ایران اور ترکی کی دہلیز تک پہنچا دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو گھنٹے کی بات چیت میں جہاں دونوں لیڈروں نے عالمی اور علاقائی امور پر بتادلہ خیال کیا، ذرائع کے مطابق ایرانی صدر نے باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ’’قضیۂ کشمیر کو سلجھانے سے خطے کے مسائل کا بڑی حد تک ازالہ ہوسکتا ہے‘‘۔ خاص طور پر ایرانی وفد کے اصرار پر مشترکہ بیان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے نظریات سے نمٹنے سے متعلق پیراگراف میں یہ اضافہ کیا گیا ، کہ: ’’اس (دہشت گردی اور انتہا پسندی) کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے اس کی وجوہ اور ان عوامل کو بھی ختم کرنا ضروری ہے، جو اس کی تقویت اور وجہ کا باعث بنتے ہیں‘‘۔ ایرانی صدر نے پریس بیان میں: ’’علاقائی تنازعات کو سفارتی اور سیاسی کاوشوں سے حل کرنے پر زور دیا‘‘۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان کا اشارہ بھارت- پاکستان مذاکرات کی بحالی اور کشمیر کی طرف تھا۔
بھارت کے لیے اس وقت ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔چند ہفتے قبل بھارتی بجٹ میں اس پر ۱۵۰کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ گو کہ پچھلے سال بھی اتنی ہی رقم مختص کی گئی تھی، مگر معاہدے اور ٹھیکوں کی تقسیم وغیرہ جیسے معاملات کو طے کرنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف ۱۰لاکھ روپے ہی خرچ کیے جاسکے۔ نریندرا مودی نے چاہِ بہار سے زاہدان تک ۶ء۱ارب ڈالر لاگت کی ریلوے لائن بچھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ چاہِ بہار، بھارت کی طرف سے اپنے آپ کو ایک بین الاقوامی قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کا بھی ہدف ہے۔ دوسرے قدم کے طور پر بھارت اس بندر گاہ کو ۷۲۰۰کلومیٹر طویل ’انٹرنیشنل نارتھ، ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور‘ کے ساتھ جوڑ کر آرمینیا، آذربائیجان، روس اور یورپ تک رسائی حاصل کرکے اس کو چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے مقابلے میں کھڑا کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
بھارت دنیا کی تیزرفتار ترقی پذیر معیشت ہی سہی، مگر اس کے سامنے دنیا سے ربط سازی (connectivity) ہمیشہ ہی سردردی کا ایشو رہا ہے۔اس نے پڑوسی ممالک نیپال سے لے کر سری لنکا ، مالدیپ اور پاکستان تک کو ایک خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے، مگر بھوٹان جیسے چھوٹے سے ملک کی پارلیمنٹ نے حا ل ہی میںمودی کے پراجیکٹ بھوٹان، بنگلادیش، بھارت اور نیپال (بی بی آئی این) کوریڈور کو منظور کرنے سے منع کردیاہے۔
اس پس منظر میں ایران کے لیے یہ موقع ہے، کہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو بروے کار لا کر نئی دہلی کو اپنے ۱۹۹۴ء کے وعدوں کی یاد دہانی کرائے۔ اگر یہ وعدہ ایفا ہوتا ہے تو اس خطے میں امن اور خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جس میں بھارت، پاکستان، افغانستان اور ایران اسٹیک ہولڈرز ہوں گے۔
جھوٹ، مکروفریب اور نفرت و عداوت پر مبنی جارحانہ اکثریتی قوم پرستی کی آڑ میں سیاسی اقتدارپر قابض ہونے والے نظریے کو ’فسطائیت‘ (Fascism)کہتے ہیں ۔ تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے ایک خاص قسم کا تاریخی و تہذیبی شعور پیدا کرنا، مفروضہ اور اندرونی و بیرونی خطرات کے تعلق سے خوف و ہراس کی نفسیات پیدا کر کے اکثریت کے جذبات کو برانگیختہ کرنا، اعلیٰ اخلاقی و جمہوری اقدار کے تئیں نفرت و بے گانگی کا اظہار کرنا، اور خصوصی طور پر اقلیتوں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا فسطائی نظریے کی اہم خصوصیات ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فسطائیت کا مقصد صرف سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنا نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی طاقت کا استعمال بڑے اہم اغراض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دراصل فسطائی طاقتیں سیاسی اقتدار کے ذریعے مملکت اور معاشرت پر پوری طرح قابض ہوکر مملکت کی تمام طاقت (پولیس، فوج، خفیہ ایجنسیاں، مقنّنہ، انتظامیہ، عدلیہ وغیرہ) کا استعمال اندرونی اور بیرونی مفروضہ یا حقیقی دشمنی کے خلاف کرتی ہیں۔ لہٰذا قتلِ عام (genocide)، نسل کشی (brutal war) اور جنگ و جدل (ethnic cleansing) فی الحقیقت فسطائیت کی روح اور بنیاد میں شامل ہیں۔
۲۰ویں صدی میں فسطائیت کی خوف ناک شکل جرمنی (۱۹۳۷ء-۱۹۴۵ء) اور اٹلی (۱۹۲۲ء-۱۹۴۳ء) میں دیکھنے کو ملی، جو بالآخر دوسری جنگ ِ عظیم (۱۹۳۹ء-۱۹۴۵ء)کا سبب بنی۔ لیکن یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ فسطائیت مذکورہ دو ممالک ہی میں محدود رہی ہے اور دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد اس نظریے کا خاتمہ ہوگیا۔ ایسا نہیں ہوا بلکہ فسطائیت اپنی مختلف گھنائونی اور بدترین شکلوں میں دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ بھارت میں اس کی دستک روز بروز تیز تر ہوتی جارہی ہے۔
فسطائیت، جمہوریت کی سیڑھی سے، یا استحصال کرکے بیلٹ بکسوں کے راستے، یا پھر مسلح طاقت کے استعمال کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوتی ہے۔ لہٰذا، جمہوریت کو فسطائیت کے سیلاب کے سامنے بند باندھنے کا وسیلہ سمجھ بیٹھنا خام خیالی ہوگی۔ دراصل جمہوریت کا استحصال کر کے اکثریتی قوم پرستی کے نقاب میں چھپ کر آنے والی فسطائیت زیادہ بااثر ، زیادہ طاقت ور اور زیادہ خوف ناک ہوتی ہے،{جیساکہ جرمنی کے تجربے سے ثابت ہوچکا ہے۔
۲۰ویں صدی کے آغاز سے ہی بھارت میں ’اکثریت پسند قوم پرستی‘ کی بنیاد ڈالنے کی کوشش شروع ہوگئی تھی، اور ’بھارتی قوم پرستی‘ کو ’ہندو قوم پرستی‘ کا لبادہ پہنانے کی سعی ہونے لگی تھی۔ ۱۹۱۴ء-۱۹۱۵ء میں ’ہندو مہاسبھا‘ کا قیام اور ۱۹۲۵ء میں آر ایس ایس (راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ) کی بنیاد دراصل اس کوشش کا نتیجہ ہے۔
یوں تو جرمن نسل پرست ہٹلر اور اطالوی نسل پرست مسولینی کی حکمرانی کے زمانے سے ہی بھارت کی اکثریت پسند تنظیموں نے فسطائی نظریات سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوششیں تیز کر دی تھیں اور فسطائیت کے علَم برداروں سے براہِ راست تعلق پیدا کرنے کی سعی بھی کی، جس کی تفصیل اطالوی دانش ور مارزیا کیسولاری (Marzia Casolari) کی عالمانہ تحقیق The Fascist Heritage and Foreign Connections of RSS Archival Evidence میں درج ہے۔ لیکن عالمی سطح پر فسطائیت کی شکست ِ فاش اور قومی سطح پر کانگریس کی قیادت میں جاری تحریک ِآزادی نے ’ہندوتوا‘ پر مبنی جارحانہ قوم پرستی کو ناقابلِ قبول بنا دیا تھا۔ فسطائیت کی بنیاد ہیرو پرستی (Hero Worship) پر بھی ہوتی ہے۔ اتفاق سے آزادی کے وقت بھارت کے قومی سیاسی دھارے میں اعتدال پسند لیڈروں کی مؤثر تعداد موجود تھی۔ ان لیڈروں کے مقابلے میں قومی سیاسی دھارے میں ’ہندوتوا‘ کے علَم برداروں کے پاس کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں تھا جو ہیرو کے طور پر عوام میں مقبولیت حاصل کرپاتا۔ اس لیے ہندو مہاسبھا اور اس کی معاون تنظیمیں انڈین نیشنل کانگریس [تاسیس: ۲۸دسمبر ۱۸۸۵ء]سے سیاسی انتخابات میں پے درپے شکست کھاتی رہیں۔
فسطائیت کی سب سے بڑی طاقت جارحانہ اور اکثریت پسند قوم پرستی ہوتی ہے۔ چوں کہ قوم پرستی کے لبادے میں احیاپرستی کو چھپا کر فسطائیت ایک عرصے تک لوگوں کو مغالطے میں رکھنے میں کامیاب رہتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تاریخ کے گہرے مطالعے کی روشنی میں ہندستان میں فسطائی تحریک اور اس کے معاون کلچر کو سمجھا جائے۔ بعض اوقات فسطائیت ابتدا میں ہی اپنی شدت پسندی کی وجہ سے بے نقاب ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ۳۰جنوری ۱۹۴۸ء کو گاندھی جی کے قتل نے بھارت میں ’ہندوتوا‘ پر مبنی جارحانہ قوم پرستی کے نظریے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ’ہندو فسطائیت‘ یہاں کمزور ہوگئی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی سیاسی قیادت نے اسے ملک کے لیے زیادہ بڑا خطرہ نہیں سمجھا اور اس خطرناک نظریے کو ملک میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
بھارت میں فسطائیت کے خطرے سے متعلق سیاسی مبصرین اور اہلِ نقد و نظر نے حکومت اور عوام کو مسلسل ہوشیار کرنے کی کوشش کی اور اس کے خوف ناک نتائج سے آگاہ بھی کیا۔ چیتنیا کرشنا نے اپنی مرتب کردہ کتاب Fascism in India: Faces, Fangs and Facts میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بھارت کو فسطائیت کا حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ چیتنیا کرشنا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بھارت میں فسطائیت اپنی آمد کا اعلان کرچکی ہے۔{ معروف ادبی تخلیق کار اور سماجی کارکن ارُون دھتی راے [پ: ۲۴ نومبر ۱۹۶۱ء]نے گجرات میں فروری، مارچ ۲۰۰۲ء میں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد ملک میں فسطائیت کے جمتے ہوئے قدموں کو خطرناک قرار دیا ہے۔ بھارت کے مشہور سیاسی تجزیہ کار اور مفکر رجنی کوتھاری [م:۱۹ جنوری ۲۰۱۵ء] نے گجرات نسل کشی ۲۰۰۲ء کے بعد ’ہندوتوا‘ کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔{ اور ’ہندوتوا‘ کو ہندستانی تہذیب کے لیے سب سے بڑا خطرہ بتایا ہے۔ نوبل انعام یافتہ دانش ور اور ماہر معاشیات امرتیاکار سین [پ:۳نومبر ۱۹۳۳ء] نے بھی بارہا ’ہندو توا‘ پر مبنی ثقافتی قوم پرستی کو ملک کے لیے تباہ کن بتایا ہے۔
۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی زبردست کامیابی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر نریندرا مودی کا فائز ہونا دانش وروں کو خدشات میں مبتلا کرچکا ہے۔ اس کی وجہ سے دانش وروں کا ایک بڑا طبقہ ملکی سیاست اور معاشرت کو ایک خاص سمت میں جاتا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ملک میں رُونما ہونے والے واقعات دانش وروں کے خدشات کو صحیح ثابت کر رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد جس طرح ’ہندو توا‘ پر مبنی جارح قوم پرستی ایک سماجی طاقت بن کر اُبھر رہی ہے اور زبردست جذباتی لاوا (lava) پیدا کررہی ہے، وہ آنے والے دنوں میں ایک ہولناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔
’لوّجہاد‘ ، ’گھرواپسی‘،’گئورکھشا آندولن‘، ’بھارت ماتا کی جے‘ ،’سوریہ نمسکار‘ ،’یوگا‘، کیرانہ سے ہندوئوں کی نقل مکانی، کشمیر میں پنڈتوں اور فوجیوں کے لیے علیحدہ کالونی، آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں بنگلہ دیشی دَراندازی کا مسئلہ کھڑا کرنا، تاریخی حقائق کو ایک خاص انداز سے پیش کرنا، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو مشکوک اور متنازع بنانا، وغیرہ تمام واقعات ایک خاص قسم کا سماجی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام واقعات کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے بھارت میں فسطائیت کی تاریخ اور اس کی نظریاتی اساس کو سمجھنا ہوگا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں بھارت میں دو رجحانات اور نظریات پروان چڑھتے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف متحدہ طور پر تحریک ِ آزادی تھی اور دوسری جانب فرقہ وارانہ اور متعصب قوم پرستی کا آغاز ہوا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی شورش کے بعد ہی برطانوی حکومت کی ’تقسیم اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کے نتیجے میں ’ہندو فرقہ واریت‘ کی ابتدا ہوگئی تھی۔ مغلیہ دورِحکومت میں رائج فارسی اور اُردو زبان کےخلاف باضابطہ تحریکیں شروع ہوگئیں۔ انگریزی حکومت کو عرضداشتیں دی جانے لگی تھیں کہ: ’ہندی کو سرکاری کام کاج کی زبان بنایا جائے‘۔
ہندو نسل پرستی کو تقویت بخشنے کے لیے ۱۰؍اپریل ۱۸۷۵ء کو ’آریہ سماج‘ کا قیام بھی عمل میں آیا، جس کے تحت ’شدھی تحریک‘ چلائی گئی اور بہت سارے علاقوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے کی کوشش کی گئی۔ دراصل ’آریہ سماج‘ نے یہ نظریہ پھیلانا شروع کیا کہ: ’’مسلم حکمرانوں کے زیراثر اور عیسائی مشنریوں کے بہکاوے میں آکر بہت سارے ہندو مسلمان یا عیسائی ہوگئے ہیں، اس لیے انھیں دوبارہ ہندو بناکر ’شدھ‘ یا پاک کیا جانا ضروری ہے‘‘۔ یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہی وہ حالات تھے جن کے تحت بانی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سرسیّداحمد خان [م:۱۸۹۸ء] کے افکار و خیالات میں ہندستان کی مشترکہ تہذیب کے حوالے سے زبردست تبدیلی آئی اور انھوں نے اُردو، فارسی کی بقا و تحفظ کی تحریک چلائی۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کی سیاسی نمایندگی کی بھرپور وکالت کی۔ سیاسی مبصرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ۳۰دسمبر۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام بھی انھی مخصوص حالات اور مسلم تشخص کے بقا کی وجہ سے ہوا۔ ازاں بعد مسلم لیگ کی سیاست کو حوالہ بناکر ہندواحیا پرستی کی تحریک نے پیش رفت میں سہولت محسوس کی۔
بھارت میں فسطائیت کی نظریاتی بنیاد رکھنے والوں میں ونایک دامو ورساورکر ڈاکٹر کیشوبلی رام ہیڈگیوار مادھو سدا شیو گولوالکر کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ جیساکہ بتایا گیا ہے ساورکر نے اپنی کتاب Hindutva: Who is Hindu? میں ’ہندوتوا‘ کے نظریے کو سب سے پہلے مربوط طریقے سے پیش کیا تھا۔ ساورکر نے بھارت کو ہندوئوں کا ملک بتایا اور اس بات پر زور دیا کہ: ’’یہ ہندوئوں کی ’پوترا بھومی‘ اور ’پونیا بھومی‘ دونوں ہے ،کیوں کہ ہندوئوں کو ہی اس ملک کی تہذیب وراثت میں ملی ہے۔ وہ ہندستان کی تہذیب کے وارث اور محافظ ہیں ۔ ان کے ہیرو، ان کی تاریخ ، ان کا ادب، آرٹ اوررسم و رواج، سب اس تہذیب کی ترجمانی کرتے ہیں‘‘۔
ساورکر کے نزدیک: ’’مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی اس ملک میں مشترک ’پدریت‘ (fatherhood ) میں حصے داری ملی، لیکن چوں کہ ان کے مقاماتِ مقدسہ، ان کے ہیرو اور ثقافت کا تعلق یہاں سے نہیں ہے، لہٰذا انھیں اس مشترک تہذیب میں حصے داری نہیں مل سکتی، جس پر صرف اور صرف ہندوئوں کا حق ہے‘‘۔ اس طرح سے ساورکر نے بھارتی قوم پرستی کی بنیاد ’ہندوتوا‘ پر ڈالی اور باقی قوموں کو اس قوم پرستی سے اس بنیاد پر علیحدہ کیا کہ ان کے مقاماتِ مقدسہ عربیہ یا فارسی وغیرہ میں ہیں۔ مختصر یہ کہ ساورکر نے ہی دراصل ’’ہندی، ہندو، ہندستان‘‘ جو کہ آج سنگھ پریوار کا خاص نعرہ ہے اور جو سنگھ کی سیاست کی اساس ہے، کی اس ملک میں بنیاد ڈالی۔ بعد میں ہیڈگیوار اور گولوالکر نے ہندستانی قومیت سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو دست بردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ: ’’اُنھیں دوبارہ ہندو بنایا جائے تاکہ اس ملک میں ایک متحدہ قومیت پنپ پائے‘‘۔
درحقیقت بھارتیہ جنتاپارٹی، آر ایس ایس وغیرہ جب یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’مکھ دھارے‘ میں شامل ہونا چاہیے تو ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس ملک کی تہذیب و ثقافت سے جوڑ کر دیکھیں اور طارق، خالد، علی، حسین، محمد، فاطمہ، عائشہ، زینب وغیرہ جیسے نام رکھ کر بیرونی کرداروں سے خود کی شناخت نہ کرائیں۔ عیسائی اپنے آپ کو ڈیوڈ، جوزف، میری وغیرہ کی جگہ رام، سیتا، ہنومان، کرشنا وغیرہ سے جوڑیں، اور اس کا اظہار مسلمانوں اور عیسائیوں کے ناموں اور ان کے اداروں سے ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ مساجد اور چرچوں کی عمارتیں بھی ہندستانی تہذیب کی عکاسی کریں۔ لہٰذا،مینار و گنبد اور چرچوں کی تعمیر کا طریقہ ہندستان کی تہذیب کے خلاف ہے۔
مادھو سارشو گولوالکرسے منسوب کتاب Bunch of Thoughts [گل دستۂ افکار] (۱۹۶۶ء) میں ’ہندوتوا‘پر مبنی بھارت میں فسطائیت کی نظریاتی اساس کی اصل جھلک ملتی ہے۔ چوں کہ گولوالکر نے ۱۹۴۰ء سے لے کر ۱۹۷۳ء تک آر ایس ایس کی قیادت کی، اس لیے گولوالکر کے افکار و خیالات آر ایس ایس کے کام کاج کے طریقوں پر آج تک حاوی ہیں۔ آج جو کچھ بھی سنگھ پریوار کرتا یا کہتا ہے، اس کی جڑیں گولوالکر کے افکار میں ہی ملتی ہیں۔ اس کتاب کے تعارف میں ایم اے وینکٹ رقم طراز ہے کہ: جس طرح مسلمانوں سے پہلے کے حملہ آوروں کو قومی معاشرت میں ضم کرنے میں ہندستانی سماج نے کامیابی حاصل کی تھی، مگر مسلمانوں کے معاملے میں وہ ناکام رہا ہے۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے جسے قومی آزادی کے رہنمائوں نے یکسرنظرانداز کیا۔ انھوں نے یہ سوچ کر بہت بڑی غلطی کی کہ اکثریت کی قیمت پر مسلمانوں کو مراعات دے کر انھیں جیتا جاسکتا ہے۔رعایتیں حاصل کرنے والوں کے اندر جب تک نظریاتی تبدیلی نہیں آتی، اس وقت تک مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔{
گولوالکر کے مطابق: ’’مسلمانوں کا انضمام ممکن بھی ہے اور ضروری بھی، لیکن اس کے لیے صحیح فلسفے، صحیح نفسیات اور صحیح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ لیکن ہندستانی لیڈر ایسی کوئی بھی تکنیک وضع کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنی زبردست غلطیوں پر مسلسل گامزن رہے، حتیٰ کہ مادرِ وطن کو تقسیم کرنا پڑا۔ افسوس وہ آج بھی انھی غلطیوں پر قائم ہیں اور اس طرح وہ ایک اور پاکستان کو بڑھاوا دے رہے ہیں‘‘۔
قابلِ غور ہے کہ گولوالکر نے جہاں حملہ آوروں کا ذکر کیا ہے، وہاں مسلمانوں کے علاوہ شکاس(Shakas)، ستھیانس (Sythians) اور ہُنز (Huns ) کا ذکر کیا ہے لیکن دانستہ طور پر آریائی حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ حالاں کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہےجو مختلف تحقیقات سے ثابت ہوچکی ہے کہ آریائی نسل کے لوگوں کا تعلق ہندستان سے نہیں بلکہ یورپ اور وسطی ایشیا سے ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آریائی نسل کے لوگوں کی آمد سے قبل ہندستان میں ایک شان دار تہذیب موجود تھی، جسے ’وادیِ سندھ کی تہذیب‘ کہتے ہیں اور بہت سارے مؤرخین اور محققین کا تسلیم کرنا ہے کہ یہ تہذیب آریائی حملے میں تباہ ہوئی۔ اس لیے آریائی نسل کے لوگ بھی اس ملک میں اسی طرح باہر سے آئے، جیسے شکاس، ستھیانس اور ہُنز اور مسلمان آئے تھے۔ تمام غیر جانب دار دانش ور اور محقق اس بات کو نہایت ہی شدومد کے ساتھ اُٹھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ ’ہندوتوا‘ کے علَم برداروں کے نزدیک ہندستان کی تہذیب دراصل ’ویدک تہذیب‘ یا ’آریائی تہذیب‘ ہی ہے اور تمام لوگ جو ہندستان کی تہذیب میں اپنی حصہ داری یا نمایندگی چاہتے ہیں انھیں اسی ’ویدک تہذیب‘ سے خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ لہٰذا، تمام مذاہب کے ماننے والوں، مثلاً بدھ مت، جین مت، سکھ مت، مسلمان، عیسائی وغیرہ خود کو اس تہذیب، یعنی ’ہندوتوا‘ میں ضم کرنا ہوگا۔ اپنی علیحدہ شناخت کو ختم کر کے ’ہندوتوا‘ کے رنگ میں رنگنا ہوگا۔
Bunch of Thoughts میں تین اندرونی خطرات‘ کی نشان دہی کی گئی ہے، اور سب سے پہلا خطرہ مسلمانوں کو بتایا گیا ہے، دوسرا عیسائیوں کو اور تیسرا کمیونسٹوں کو۔{مسلمانوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے لیے یہ سوچنا خودکشی کے مترادف ہوگا کہ پاکستان بننے کے بعد (ہندستانی) مسلمان راتوں رات وطن پرست ہوگئے ہیں بلکہ مسلم خطرناکی، پاکستان کے قیام کے بعد سو گنا بڑھ گئی ہے، کیوں کہ پاکستان مستقبل میں ہندستان کے خلاف مسلم جارحیت کا مرکز ہوگا‘‘۔
اسی کتاب میں مشرقی پاکستان، یعنی بنگلہ دیش میں ہندوئوں کی نقل مکانی کا ذکر ہے اور بنگال، بہار، اترپردیش اور دہلی میں ہونے والے ’ہندو مسلم فسادات‘ میں آر ایس ایس کے ممبران کی گرفتاریوں کا تذکرہ ہے۔ گولوالکر کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس وقت کے ملک کے اہم لیڈر ولبھ بھائی پٹیل [م:دسمبر۱۹۵۰ء]سے ملاقات کی اور انھیں ہندستان میں مسلمانوں سے درپیش خطرات کا ذکر کیا، جس پر سردار پٹیل نے کہا کہ: ’’تمھاری بات میں سچائی ہے اور آر ایس ایس کے تمام کارکنان کو چھوڑ دیا گیا‘‘۔(ایضاً، ص۱۸۱)
اس کتاب میں ’ٹائم بم‘ کے نام سے ایک ضمنی عنوان ہے، جس میں مغربی اترپردیش میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دہلی سے لے کر رام پور اور لکھنؤ تک دھماکا خیزحالات پیدا ہورہے ہیں، اور اس موہوم امکانی صورتِ حال کا ۱۹۴۶ء-۱۹۴۷ء کے حالات سے موازنہ کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بے معنی اور خلافِ واقعہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ’’متذکرہ علاقوں میں مسلمان ہتھیار جمع کر رہے ہیں اور اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ جب پاکستان ، ہندستان پر حملے کرےگا تو وہ اندرونی طور پر ملک کے خلاف بغاوت کردیں گے اور مسلح جدوجہد شروع کردیں گے‘‘۔(ایضاً)
گولوالکر اور ساورکر اور اس کے بعد دین دیال اوپادھیائے جیسے لیڈران کو ’سَنگھ پریوار‘ [یعنی: ہندو قوم پرست ’تنظیموں کا خاندان‘]میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ دراصل یہ تمام لیڈر ’سنگھ پریوار‘ کی نظریاتی اساس بچھانے والوں میں شامل ہیں۔ آج ’سنگھ‘ کی سیاسی شاخ ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اور جو کچھ ہوسکتا ہے، وہ ان لیڈروں کی تحریروں اور تقریروں سے پتا چل سکتا ہے۔[جاری]
حال ہی میں مقامی اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی کہ ۲۱نومبر کو دہلی کی تہاڑ جیل نمبر۱ کے وارڈ ’سی‘ اور ’ایف‘ میں جیل کے سیکورٹی پر مامور اہل کاروں نے ۱۸قیدیوں پر بے پناہ تشدد کرکے اُنھیں شدید زخمی کر دیا۔ یہ وحشیانہ عمل کرنے والوں میں جیل کی حفاظت پر مامور تامل ناڈو پولیس کے اسپیشل دستے اور کوئیک رسپانس فورس سے وابستہ اہل کار شامل تھے۔
جن قیدیوں پر حملہ کیا گیا اُن میں اکثریت کشمیری سیاسی قیدیوں پر مشتمل ہے۔ زخمی ہونے والے قیدیوں میں حزب المجاہدین کے سربراہ سیّد صلاح الدین کے فرزندسیّد شاہد یوسف کا نام قابلِ ذکر ہے۔ ۲۳نومبر ۲۰۱۷ء کو سیّد شاہد یوسف کے وکیل نے دہلی ہائی کورٹ میں مفادِ عامہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت کے سامنے واقعے کی تفصیلات بیان کرنے کے علاوہ ثبوت کے طور پر شاہد یوسف کی خون آلود بنیان بھی پیش کی۔ ۲۸نومبر کو دہلی ہائی کورٹ نے اس واقعے کو زیربحث لاکر جیل میں قیدیوں پر حملے کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے اسے تشویش ناک قرار دیا۔ قائم مقام چیف جسٹس گپتامتل اور جسٹس سی ہری شنکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا: ’’ہمیں دیکھنا ہوگا، یہ واقعہ قطعی طور پر بلاجواز ہے، اگر یہ صورتِ حال دہلی میں ہے تو دیگر جگہوں میں کیا قیامت ٹوٹتی ہوگی؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’معاملہ انتہائی سنجیدہ تحقیقات کا حامل ہے‘‘۔ کورٹ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی، جسے واقعے کی تحقیقات کرکے کورٹ کے سامنے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
خود بھارت کے کئی اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ سیکورٹی اہل کاروں نے کشمیری قیدیوں کو زبردستی پیشاب پینے پر مجبور کیا۔ اس واقعے کی تصویروں میں قیدیوں کے لہولہان بدن اور جسم کی چوٹیں ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ حملہ کس قدر درندگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ قیدیوں کے تمام جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں اور وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تحقیقاتی کمیٹی نے جو سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی ہیں، اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وردی پوشوں کے حملے کا ہرگز کوئی جواز نہیں تھا، یعنی قیدیوں کی جانب سے کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوئی تھی۔ اس خبر کے منظرعام پر آنے سے ریاست جموں و کشمیر میں بالعموم اور بیرون وادی نظربندوں کے لواحقین میں بالخصوص تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ریاست کے تمام سیاسی اور سماجی حلقوں نے تہاڑ جیل کے اس واقعے کو وحشیانہ اور مہذب دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ قرار دیا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں پہلے ہی سے اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ کشمیری قیدی، بھارت کی جیلوں میں محفوظ نہیں ہیں۔ اُن پر ہروقت حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسی طرح کا واقعہ کٹھوعہ جیل میں بھی پیش آیا، جہاں کشمیر ی قیدیوں کی بڑے پیمانے پر مارپیٹ کی گئی۔ بیرونی ریاست کشمیری قیدیوں کے ساتھ اس طرح کا وحشیانہ سلوک روز کا معمول بن چکا ہے اور ان جیلوں میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کی رُوداد سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کی مارپیٹ ہوئی ہو۔ اس سے قبل بھی کئی بار نہ صرف تہاڑ جیل کے بارے میں بلکہ بھارت کی دیگر جیلوں کے حوالے سے بھی یہ خبریں منظرعام پر آئی ہیں کہ وہاں نظربند کشمیری قیدیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اُن کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل جموں کے کوٹ بلوال جیل کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر عام ہوئی ہے جس میں ایک کشمیری نوجوان کو جیل حکام بالکل ننگا کر کے اس کی مارپیٹ کر رہے تھے، حتیٰ کہ جموں کے ایک اخبار میں چنداعلیٰ پولیس افسروں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جیل کی سیکورٹی پر مامور کئی اہل کار اپنی بیمار ذہنیت کی تسکین کے لیے قیدیوں کو بالکل ننگا کرتے ہیں، اُنھیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کے ساتھ ناروا ظلم روا رکھتے ہیں۔
۲۰۱۶ء میں جب وادی میں عوامی احتجاج کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا نفاذ عمل میں لاکر اُنھیں جموں کے کورٹ بلوال، امپھالہ، ہیرانگر، ادھم پور، کٹھوعہ اور ریاسی کی جیلوں میں منتقل کیا، تو وہاں سے کچھ ہی عرصے میں یہ خبریں موصول ہونے لگیں کہ ان جیلوں میں نظربند کشمیری قیدی نسلی تعصب کا شکار بنائے جاتے ہیں۔ کورٹ بلوال میں جیل حکام نے غیرقانونی طور پر یہ قواعد و ضوابط مقرر کیے تھے کہ کشمیری قیدیوں کو مجرموں کے ساتھ رکھا جاتا تھا، جو اُنھیں اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے نہیں دیتے تھے۔ کھانے پینے کے اوقات ایسے مقرر کیے گئے تھے کہ لوگوں کو اِن جیلوں کے مقابلے میں ابوغریب اور گوانتاناموبے بہت چھوٹے نام محسوس ہونے لگتے ہیں۔ دن کا کھانا صبح آٹھ بجے دیا جاتا تھا اور شام کا کھانا دن کے چار بجے فراہم کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے اخبارات میں مسلسل خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔
تہاڑ جیل کے بارے میں یہ بات اب عیاں ہے کہ یہاں کشمیری قیدی انتہا درجے کے تعصب کا شکار بنائے جاتے ہیں۔ اُن کے مقابلے میں جیل میں قید جرائم پیشہ افراد کو زیادہ سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔ کشمیری قیدیوں کو یہاں غیرملکی تصور کیا جاتا ہے۔ کشمیری مزاحمتی تحریک کی علامت خاتون رہنما زمرد حبیب نے اس جیل میں پانچ سال گزارے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے جیل کے شب وروز کو ایک کتابی صورت ’قیدی نمبر۱۰۰‘ میں شائع کیا ہے۔ اُس میں درجنوں دل خراش واقعات درج ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کا سلوک کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے۔ اسی طرح کی ایک کتاب دلی میں مقیم معروف کشمیر ی صحافی افتخار گیلانی نے بھی تحریر کی ہے۔ اُنھیں بھی کشمیری ہونے کے جرم میں تہاڑ جیل میں مہینوں گزارنے پڑے ۔ تہاڑجیل سے رہائی پانے والے کسی بھی کشمیری نوجوان سے جب ملاقات کرتے ہیں تو اُن کی رودادِ قفس میں یہ بات ضرور شامل ہوتی ہے کہ جیل حکام کے ساتھ ساتھ دوسرے عام قیدی بھی ہمارے ساتھ وہاں غیرانسانی رویہ اختیار کرتے ہیں۔
یہی حالات بھارت کی دوسری جیلوں کے بھی ہیں۔ راجوری سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان محمد اسلم خان گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے مقید ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے باعزت بَری کیے جانے کے بعد اُنھیں ممبئی منتقل کیا گیا، وہاں اُنھیں کسی اور کیس میں ملوث کرکے عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ اس وقت وہ امراواتی کی جیل میں بند ہیں ۔ دو ماہ پہلے اُن کے والدین کافی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے وہاں ملاقات کے لیے چلے گئے۔ کئی سال کے بعد اُن کے والدین کو بیٹے سے ملاقات کرنے کا موقع مل رہا تھا، لیکن بدقسمتی سے ۲۰فٹ کی دُوری پر مائیکروفون کے ذریعے ان کی چندمنٹ کی ہی ملاقات کروائی گئی۔ وکیل کے ذریعے اسلم کے والدین کو معلوم ہوا کہ اُنھیں وہاں ۴/۴سائز کے سیل میں رکھا گیا ہے۔ اس قید تنہائی میں اُنھیں صبح کے وقت دوبالٹی پانی دیتے ہیں، جو اگلی صبح تک کے لیے ہوتا ہے۔ ان ہی دو بالٹی پانی سے اُنھیں اپنی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں۔ وضو کے لیے وہی پانی ہے اور استنجا کے لیے بھی۔ کپڑے دھونے ہوں یا پھر غسل کرنا ہو، پیاس بجھانی ہو یا پھر کھانے کے برتن صاف کرنے ہوں، یہ ضروریات اُنھیں محض اس ۵۰لیٹر کے پانی سے ہی پوری کرنی ہیں ۔ تصور کیا جائے کہ ۴/۴ کے سیل میں ایک انسان کو برسوں قید میں رکھا جائے، اُسے جھلسادینے والی گرمی میں بھی محض چندلیٹر پانی فراہم کر کے، اسی پانی سے ۲۴گھنٹے تک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کہا جائے تو اُس اللہ کے بندے کی جسمانی و ذہنی حالت کیا ہوتی ہوگی؟ المیہ یہ ہے کہ ایسے اسیران کا کوئی پُرسانِ حال ہی نہیں ہے۔
بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اپنی والدہ اور بیوی کے ساتھ ملاقات کو لے کر بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے میڈیا نے کئی ہفتوں تک خوب پروپیگنڈا کیا کہ پاکستان نے اس ملاقات میں کلبھوشن کی والدہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ بغل گیر ہونے کی اجازت نہیں دی، اُن کے درمیان شیشے کی دیوار کھڑا کردی۔ لیکن اُن کی اپنی جیلوں میں کشمیری اور مسلم قیدیوں کے ساتھ جب اُن کے عزیز واقارب ہزاروں میل کا سفر طے کرکےملاقات کرنے کے لیے آجاتے ہیں تو اکثر و بیشتر اُنھیں نامراد ہی واپس لوٹ آنا پڑتا ہے۔ اگر ملاقات ہوبھی جاتی تو ملاقاتیوں اور قیدی کے درمیان پندرہ بیس فٹ کا فیصلہ رکھا جاتا ہے۔ ایک ساتھ دیوار کے سامنے بیسیوں قیدی ملاقات کے لیے لائے جاتے ہیں۔ پندرہ فٹ کی دوری پر دیوار کی اگلی سمت میں درجنوں عزیز واقارب چِلّا چِلّا کر اپنے پیاروں سے بات کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن شور و غل میں نہ قیدی ہی اپنے ملاقاتیوں کی بات سنتا ہے اور نہ ملاقاتی ہی، قیدی کی بات کو سمجھ پاتا ہے۔ اس طرح ۱۰،۱۵منٹ میں یہ لوگ مایوسی کے عالم میں واپس مڑ جاتے ہیں۔ اس طرح کی سختی کی وجہ سے اب کشمیر میں بیش تر والدین نے بیرون ریاست مقید قیدیوں سے ملاقات کا سلسلہ ہی ترک کردیا ہے۔
بھارت کی جیلوں میں بند اِن ستم رسیدہ کشمیری قیدیوں کے مقدمات بھی طویل عرصے سے لٹکے ہوئے ہیں، جن کے خلاف مختلف غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی چارج شیٹ مختلف ایجنسیوں نے تیار کی ہوتی ہے۔ اُن کے خلاف کارروائی کے لیے ایسی پیچیدگی سے مقدمات درج کیے جاتے ہیں کہ ایک بے گناہ کو بھی چھوٹ جانے میں برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ۲۰۱۷ء ہی میں ریاست کے اسیران طارق احمد ڈار، رفیق احمد شاہ اور اُن کے ایک ساتھی کو تہاڑجیل سے ۱۲سال بعد کورٹ نے باعزت رہا کیا۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُن کی زندگی کے قیمتی ۱۲سال کس کھاتے میں جائیں گے؟بے گناہ افراد کو بے گناہ ثابت ہونے میں کیوں ۱۲سال لگے؟ یہ کچھوے کی چال چلنے والی عدالتی کارروائی بھی اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ کشمیری قیدیوں کے لیے نہ ریاستی حکومت فکرمند ہے اور نہ دلّی میں کوئی ایسا صاحب ِ دل فرد ہے، جو انصاف اور اصولوں کی بات کرتے ہوئے ظلم و جبر کے اس سلسلے پر لب کشائی کرکے اربابِ اقتدار کو اقدامات کرنے کے لیے کہے۔
جیل مینول میں قاعدے اور قوانین ہوتے ہیں، مقید افراد کے حقوق ہوتے ہیں، لیکن بڑا ہی ہولناک المیہ ہے کہ اس ملک میں اس طرح کے تمام اصول، قواعد و ضوابط اور قانون کو بالاے طاق رکھا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا یہ جائز مطالبہ ہے کہ کشمیری قیدیوں کو ریاستی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔ تہاڑ اور دیگر ریاستوں کی جیلوں سے اُنھیں اپنی ریاست کی جیلوں میں منتقل کرکے اُن کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کے سبب جس طرح سے کشمیریوں کے بارے میں ایک انتہاپسندانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے، اُس کے پیش نظر بیرون ریاستوں کی جیلوں میں ہی نہیں بلکہ دیگر عوامی جگہوں پر بھی کشمیریوں کے جان و مال کو خطرات لاحق ہیں۔ گذشتہ دو برسوں سے کئی بھارت کے شہروں میں کشمیری طلبہ، تاجر اور دیگر لوگوں پر جان لیوا حملے بھی ہوئے ہیں۔ ابھی چند ہی ہفتے قبل دہلی جانے والی ایک فلائٹ میں سوار دیگر سواریوں کی شکایت پر تین کشمیری نوجوانوں کو جہاز سے اُتار کر ان سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی۔ وجہ یہ تھی کہ کشمیری ہونے کی وجہ سے جہاز میں سوار دیگر سواریوں نے اُنھیں مشکوک تصور کیا او ر اُن کی موجودگی میں سفر کرنے سے انکار کردیا۔ ریل میں ٹکٹ کے بغیر سفر کرنے کا جرمانہ ۵۰سے ۱۰۰روپے ہے۔ ماہِ جنوری کے پہلے ہفتے میں بھارت کی ریاست اترپردیش میں ایک کشمیری طالب علم جلدی میں ٹکٹ لینا بھول گیا۔ اُنھیں ریلوے پولیس پکڑ کر جرمانہ کرنے کے بجاے دلی پولیس کی خصوصی سیل کے حوالے کردیتی ہے۔ اس لیے کہ وہ کشمیری ہونے کی وجہ سے دلی پولیس یہ دیکھ لے کہ کہیں اُن کا تعلق کسی ’ دہشت گرد‘ گروہ سے تو نہیں ہے۔ دلی پولیس نے بعد میں اُن کے دیگر دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کرکے اُن کی کئی روز تک پوچھ گچھ کی۔ ’اٹوٹ انگ‘ کی بات کرنے والوں کا شہریوں کے ساتھ یہ دوہرا رویہ ہی بتا رہا ہے کہ کشمیری بھارتی شہری نہیں ہیں۔ نفرت پھیلانے کے لیے منظم طریقے سے کشمیریوں کے خلاف راے عامہ کو ہموار کیا جارہا ہے، جس کا براہِ راست اثر یہ ہو رہا ہے کہ ریاست سے باہر ہرجگہ کشمیری مسلمان کی جان و مال، عزت و آبرو کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
کشمیریوں کی جدوجہد کی کمر توڑنے اور تحریکی قیادت کو سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اب کشمیری لیڈروں کو حوالہ کیسز میں ملوث کیا جارہا ہے۔ حریت لیڈران بالخصوص سید علی گیلانی کے قریبی ساتھیوں کو این آئی اے کے ذریعے گرفتار کرکے دلی منتقل کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ۲۰۱۶ء کے عوامی انتفادہ میں اُن کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی پاداش میں اُن کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ حزب کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد جب عوامی تحریک برپا ہوئی تو اُس کے فوراً بعد یہ تمام لیڈران گرفتار کرلیے گئے۔اُنھیں سزا دینے کے لیے این آئی اے کا اسپیشل کورٹ تشکیل دیا جاچکا ہے۔ یہ طے ہے کہ اُنھیں فرضی الزامات کے تحت طویل عرصے کے لیے جیل کی کال کوٹھریوں میں مقید رکھا جائے گا۔ بھارتی حکمران کشمیر کے ہر مسئلے کا حل طاقت کے بل پر نکالنا چاہتے ہیں۔ دھونس، دبائو، زور زبردستی کے ذریعے سے عام کشمیریوں کو یہ باور کرایا جارہاہے کہ اُن کی جدوجہد ایک لاحاصل عمل ہے۔ حال ہی میں بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے یہاں تک کہہ دیا کہ’’ کشمیر میں برسر پیکار عسکریت پسندوں اور سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا سلوک کرنے کا وقت آچکا ہے‘‘۔ مطلب یہ کہ جس طرح عسکریت پسند کو بغیر ہچکچاہٹ کے شہید کردیا جاتا ہے اُسی طرح اب سیاسی طور پر پُر امن جدوجہد کرنے والوں کو بھی گولیوں سے بھون دیا جائے گا۔ حالانکہ یہ کار بدِ پہلے سے جاری ہے۔ عام اور نہتے کشمیری آئے روز شہید کردیے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ بھارتی فوجی سربراہ نے علانیہ کہہ دیا کہ وہ ایسا کرنے والے ہیں۔
بدقسمتی سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دے رہی ہیں۔ دُنیا بھر میں بڑی بڑی عالمی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہرجگہ ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ‘ والا معاملہ بن چکا ہے۔ طاقت ور قومیں کمزور قوموں کے خلاف کتنے ہی گھنائونے ہتھکنڈے کیوں نہ استعمال میں لائیں، اُنھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا ہے۔ اُن پر کہیں سے کوئی انگلی نہیں اُٹھتی۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیمیں بیان بازیوں سے آگے بڑھ کر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ حکومتوں پر دبائو بڑھانے کے لیے عالمی سطح کی مہم نہیں چلاتیں۔ حالاںکہ گذشتہ تین عشروں کی تاریخ میں کس طرح کشمیر کی سرزمین پر انسانیت کی مٹی پلید کی گئی، کس طرح انسانی حقوق کی پامالی کی گئی، اس کی دنیابھر میں کہیں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ اگر یہ کسی اور قوم کے ساتھ ہوا ہوتا، دہلی سرکار کی جگہ پر کوئی مسلمان ملک ہوتا، تو شاید ان سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوجاتا۔ لیکن جب کشمیریوں کی بات آتی ہے تو پوری دنیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔
مئی ۱۹۹۸ء میں پہلے بھارت کے اور پھر جوابی طور پر پاکستان کے جوہری دھماکوں کے بعد بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، اسی سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے نیویارک پہنچے۔ واجپائی کو اپنی ہمت اور طاقت سے زیادہ کام کرنا گوارا نہیں تھا۔ عام طور پر ظہرانے کے بعد سہ پہر چار بجے تک کوئی مصروفیت نہیں رکھتے تھے اور رات آٹھ بجے کے بعد آرام کرنے چلے جاتے تھے۔ اس لیے ان کے غیر ملکی دوروں میں وفد کے ساتھ آئے افسران اور میڈیا کو کھل کر شہر دیکھنے اور شاپنگ کا موقع مل جاتا تھا۔
نیویارک کے اس دورے کے دوران واجپائی کی ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ بھی طے تھی۔ نیتن یاہو بھی پہلی بار۱۹۹۶ء میں اقتدار میں آئے تھے۔ اسی طرح یہ بھی ایک دل چسپ امر ہے کہ تل ابیب اور نئی دہلی میں سخت گیر دائیں بازوکے عناصر ایک ہی وقت اقتدار میں آئے۔ بہرحال، جس وقت واجپائی کی ملاقات نیتن یاہو سے طے تھی، بھارتی مشن نے میڈیا کے لیے شہر کے دورے کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا، مگر ہندی اخبار کے ایک ایڈیٹر اپنے ذاتی پروگرام کے تحت ساتھیوں کے ہمراہ نہیں جارہے تھے۔ جب واجپائی ہوٹل میں داخل ہوئے تو پرانی شناسائی کے سبب انھوں نے ایڈیٹرصاحب سے گرم جوشی دکھائی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ملاقات کے کمرے میں لے گئے اور گفتگو میں مگن ہوگئے۔ بھارتی دفترخارجہ کے افسران ابھی ان ایڈیٹر صاحب کو بھگانے کی ترکیب سوچ ہی رہے تھے، کہ نیتن یاہو اپنے وفد کے ہمراہ اس جگہ آگئے۔ واجپائی سے ہاتھ ملاکر اسرائیلی وزیر اعظم نے چھوٹتے ہی ان کو جوہری دھماکوں پر مبارک باد دی اور معانقہ کرتے ہوئے کہا: Mr. Prime Minister, we are now both nuclear power. Let us crush Pakistan like this. (مسٹر پرائم منسٹر ، ہم دونوں جوہری طاقت ہیں، اس طرح ہم پاکستان کو جکڑ کر کرش کریں)۔
اسرائیل آج تک ایک علانیہ ایٹمی طاقت نہیں ہے۔ ایک صحافی کے سامنے اس طرح کے اعتراف نےبھارتی وزارت خارجہ کے افسران کو خاصا پریشان کر دیا۔ واجپائی نے ایڈیٹرصاحب کو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا رکھا تھا۔ تب ایک جہاندیدہ افسر نے ان کو بتایا کہ: ’آپ کی ایک ضروری کال آئی ہے‘۔ اور اس بہانے ایڈیٹر کو باہر لے جاکر دروازہ بند کرادیا۔ بعد میں وزارت خارجہ اور اسرائیلی افسران نے اصرار کے ساتھ تاکید کی کہ یہ گفتگو کہیں بھی اور کسی بھی صورت میڈیا میں نہ آنے پائے۔
اب یہی نیتن یاہو۱۳۰ رکنی وفد کے ہمراہ جنوری ۲۰۱۸ء میں بھارت کا چھے روزہ دورہ مکمل کرکے واپس گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ۲۵سال قبل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوگئے تھے، مگر حقیقت کی دُنیا میں ان کے رشتوں کی تاریخ اس سے بھی بہت پرانی ہے۔ امریکی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے دسمبر ۱۹۷۱ءکی جنگ میں، اسرائیل نے جنگی ہتھیار فراہم کرکے، ’پاکستان کے خلاف جنگ‘ کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تب مشرقی پاکستان میں پیش قدمی کی کما ن بھارت کی ایسٹرن کمانڈ کے ایک بھارتی یہودی میجر جنرل جے ایف آر جیکب کے سپرد تھی۔ نجی محفلوں میں جنرل جیکب نے کئی بار حسرت سے یہ تذکرہ کیا کہ: ’’جب پاکستانی فوج ہتھیار ڈال رہی تھی تو تقریب اور تصویر کھنچوانے کے لیے کلکتہ سے ایک سکھ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کو بذریعہ طیارہ ڈھاکہ لایا گیا، حالاںکہ جگجیت سنگھ آپریشن کا حصہ نہیں تھا۔ یہ وزیراعظم اندرا گاندھی کا فیصلہ تھا کہ ایک مسلمان اور پاکستانی جنرل کا ایک یہودی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈالنا شرقِ اوسط خاص کر عرب اور مسلم ممالک میں اضطراب پیدا کر سکتا تھا، جس کا بھارت متحمل نہیں ہوسکتا تھا‘‘۔
بہرحال، وزیر اعظم نریندرا مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد وہ ’بھارت اسرائیل تعلقات‘ جو صرف دفاع اور خفیہ معلومات کے تبادلے تک محدود تھے، ان کو سیاسی جہت ملی ہے۔ اسرائیلیوں کو شکایت تھی کہ بھارتی سیاستدان پردے کے پیچھے ہاتھ تو ملاتے ہیں، مگر اسرائیل کی بین الاقوامی فورم میں مدد کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسرائیلی افسروں کے مطابق اس دورے کا مقصد دفاعی خریدوفروخت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجاے دنیا کو یہ بھی پیغام دینا تھا، کہ ہم دنیا میں الگ تھلگ نہیں ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ اور ایک معروف تھنک ٹینک کی طرف سے منعقد ہ ایک جیوپولیٹکل کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ: ’’کسی بھی ملک کی بقا اور اس کو طاقت ور بنانے کے لیے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں: فوجی قوت، اس کو برقرار رکھنے کے لیے اقتصادی ترقی، اور ایسا سیاسی نظام جو آپ کے لیے دنیا میں اتحادی بنانے میں معاون ثابت ہو‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا بھارتی دورہ اور مذکورہ اعتراف یہ بتاتا ہے کہ وہ کس حد تک بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے اور اس کو دُور کرنے کے لیے اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔ اس لیے اس دورے کے دوران اسرائیل نے زراعت، ٹکنالوجی، واٹرمینجمنٹ وغیرہ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے آگرہ، احمد آباد اور ممبئی کے دورے کے دوران، ان کے انٹیلی جنس اداروں: موساد اور شن بٹ (Shin Bit) کے سربراہان نئی دہلی میں ہی موجود رہے اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موساد کے سربراہ یوسی کوہان اور اجیت دوول کے درمیان ملاقاتوں کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا کہ: ۵۰۰ملین ڈالر کے اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل سودے پر دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ بھارت نے یہ سودہ منسوخ کردیا تھا، کیوںکہ اسرائیلی دفاعی کمپنی ٹکنالوجی ٹرانسفر کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔
شن بٹ کے سربراہ نادار ارگامان نے دہلی میں سابق سفارت کاروں، فوجی ماہرین اور ایڈیٹروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ: ’’دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا نظامِ کار (میکانزم) اب خاصا منظم اور وسیع ہے۔ خاص طور پر زیر سمندر ۱۸ہزار کلومیٹر لمبی مواصلاتی کیبل کے ذریعے ہونے والی ترسیل کی نگرانی کے لیے دونوں ممالک تعاون کر رہے ہیں‘‘۔ یاد رہے یہ کیبل سنگاپور، ملایشیا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، سوڈان، مصر، اٹلی، تیونس اور الجزائر کے لیے ہر طرح کے مواصلات کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’انفارمیشن یا خفیہ معلومات کی ترسیل سے زیادہ اس کا تجزیہ کرنا اور اس کا بروقت اور اصل استعمال کنندہ تک پہنچانا سب سے بڑا چیلنج ہے‘‘۔
پاکستان کے بارے میں اسرائیلی افسر سیدھا اور صاف جواب دینے سے کترارہے تھے، مگر ان کا کہنا تھا: ’’بھارت کو سلامتی امور سے نمٹنے کے لیے وہ مدد دینے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ تاہم، بار باریہ بھی کہا : ’’ہمارا ہدف (فوکس) وہ تنظیمیں اور ممالک ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورے کو پس پردہ ترتیب دینے والے دو افراد گجراتی نژاد امریکی یہودی نسیم ریوبن اور امریکا کی سب سے طاقتور لابی تنظیم امریکن جیوش کونسل کے نائب سربراہ جیسن ایف اساکسون کا کہنا تھا کہ: ’’یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دونوں ممالک کے دشمن الگ الگ ہیں۔ جہاں بھارت کی دشمنی پاکستان سے ہے، وہیں اسرائیل اپنی بقا کے لیے ایرا ن کو خطرہ سمجھتا ہے‘‘۔ نسیم ریوبن کا کہنا تھا کہ: ’’شاید اس معاملے میں دونوں ممالک کے مفادات جدا جدا ہیں، اس لیے دیگر اُمور پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ ایک پاےدار رشتہ قائم ہو۔ چوں کہ موجودہ وقت میں ترقی پسندانہ سوچ اور جمہوریت کو ریڈیکل اسلام سے خطرہ ہے، اس لیے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اشتراک کی گنجایش ہے‘‘۔
یہ بات طے ہے کہ اسرائیل اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی قربت کو مودی نے بھارتی داخلی سیاست میں ہندو انتہا پسند طبقے کو رام کرنے کے لیے بخوبی استعمال کیا ہے۔ ہندو قوم پرستوں کی سرپرست تنظیم آرایس ایس کے لیے اسرائیل ہمیشہ سے ایک اہم ملک رہا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی نے۲۰۰۳ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کی مہمان نوازی کی تھی، اور مودی جنوبی ایشیا کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں، جنھوں نے تل ابیب کا دورہ کیا، پھر اسرائیلی وزیراعظم کوبھی اپنے یہاں بلالیا۔ ہندو انتہا پسند طبقے کا خیال ہے کہ: ’’اسرائیل دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے اور انھیں ختم کرکے ہی دم لے گا‘‘۔
اس خیال کے برعکس یہودی مذہبی پیشوا ربی ڈیوڈ روزن کی راے یہ ہے: ’’۱۹۷۳ء کی جنگ سوئز اور بعد میں لبنان جنگ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جدید ہتھیاروں اور امریکی حمایت کے باوجود اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے راقم کو انٹرویو میں بتایا کہ: ’’عام یہودی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اسرائیل ۲۰۰۶ءکی لبنان جنگ ہار گیا تھا۔ عدم تحفظ کا احساس اور سیکورٹی اور انٹیلی جنس پر بے پناہ اخراجات کی وجہ سے اسرائیل میں ضروریاتِ زندگی خاصی مہنگی ہیں۔ اس لیے اپنی بقا اور دیرپا سلامتی، دو ریاستی فارمولے پر عمل میں ہی مضمر ہے۔ ورنہ اگلے ۵۰برسوں میں یہودی ریاست کا نام و نشان مٹ سکتا ہے یا یہودی اپنی ریاست میں اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آخر کیسے؟‘‘ تو انھوں نے کہا: ’’۱۹۶۷ء میں مقبوضہ فلسطین، یعنی اسرائیل میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ۱۴فی صد تھا، جو بڑھ کر ۲۲ فی صد سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ یہ مسلمان ’عرب اسرائیلی‘ کہلاتے ہیں اور اسرائیلی علاقوں میں انتخابات وغیرہ میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان میں افزایش نسل بھی یہودیوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے اسرائیلی حکومت کو اپنی موجودہ روش ترک کرکے فلسطینیوں کے لیے ایک علیحدہ وطن قائم کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے چاہیے ، ورنہ اس ٹائم بم کی وجہ سے یہودی ریاست کا وجود خطرے میں پڑجائے گا اور اگلے دوعشروں میں وہ اقلیت میں ہوں گے‘‘۔
چند سال قبل راقم کو بھارتی صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ اسرائیل (مقبوضہ فلسطین ) جاننے کا موقع ملا ۔ وفد میں بھارت کے میڈیا اداروں ٹائمز آف انڈیا ، دی ٹیلی گراف ، ٹربیون، اے این آئی وغیرہ سے وابستہ ایسے مدیران شامل تھے جنھیں سفارتی اور بین الاقوامی امور پر دسترس حاصل ہے۔ دس دن کے اس سفر میں تل ابیب ، حیفہ، سدرت اور لبنان کی سرحد سے متصل ناحارجہ، فلسطینی علاقوں رملہ، بیت اللحم ، بحیرۂ مُردار، دشت جودی کے علاوہ یروشلم کے دورے کا بھی موقع ملا۔
میں تو مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے بے تاب تھا، مگر یروشلم میں ہمیں آخری تین دن گزارنے تھے۔ دورے کے اگلے دن ہمیں تل ابیب سے غزہ سرحد سے متصل اسرائیلی قصبہ سدرت جانا تھا، جو ایک ثقافتی مرکز کی شہرت رکھتا ہے اور اکثر غزہ کی طرف سے داغے گئے راکٹوں کی زد میں آتا ہے۔ خیر تل ابیب سے ہمیں چارہیلی کاپٹروں میں سوار کیا گیا ۔ میں پائلٹ کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پائلٹ خاصا ہنس مکھ اور باتونی قسم کا شخص تھا۔ وہ راستے میں گائیڈ کا کام بھی کررہا تھا۔
ایک خاص بات دیکھنے میں آئی کہ یہودی بستیوں میں تقریباً سبھی مکان صاف شفاف چمک دار اور ہرے بھرے باغات اور درختوں سے گھرے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی چھتوں کو لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ دوسری طرف عرب بستیوں میں مکانات اگرچہ بڑے مگر بے کیف اور ان کے آس پاس زمین بھی نظر آ رہی تھی۔ اس لال رنگ کا راز جاننے کی میں نے بعد میں بڑی کوشش کی، مگر کہیں سے تشفی بخش جواب نہیں ملا۔ وجہ شاید یہی ہو گی کہ ہوائی حملوں کے وقت یہودی اور عرب علاقوں کا تعین کیا جا سکے۔
آدھے گھنٹے کے بعد پائلٹ نے اعلان کیا کہ: ’’اب ہم یروشلم شہر کے اوپر سے گزر رہے ہیں‘‘ اور ساتھ اس نے روایتی گائیڈوں کی طرح تاریخ کے اوراق سامعین کو دیکھ کر پلٹنے شروع کیے۔ جب میں نے اس کو ایک دو بار ٹوکا تب اس کو معلوم ہوا کہ اس کے پاس ایک مسلمان صحافی براجمان ہے۔ ہیلی کاپٹر سے مسجد اقصیٰ، اس کا صحن اور گنبد صخریٰ یا قبۃ الصخرہ (Dome of Rock)کا سنہری گنبد واضح نظر آ رہا تھا۔ میں اس نظارے میں محو ہو گیا۔ پائلٹ نے میری کیفیت دیکھ کر صحن کے اوپر کئی چکر کاٹے ۔ خیر سفر کے اختتام سے چار روز قبل ہم حیفہ سے تل ابیب اور فلسطین اتھارٹی کے دارالحکومت رملہ سے ہوتے ہوئے بذریعہ بس یروشلم آن پہنچے۔
خوش قسمتی سے یہ جمعے کا دن تھا۔ میں نے میزبانوں کو پہلے ہی تاکید کی تھی کہ میں کسی اور پروگرام میں شرکت نہیں کروںگااور جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کروں گا۔ پروگرام کے مطابق وفد کے باقی اراکین تو ہولو کاسٹ میوزیم دیکھنے چلے گئے اور مجھے ایک فلسطینی گائیڈ کے حوالے کیا گیا، جس نے پرانے فصیل بند شہر کے باب دمشق تک میری رہنمائی کی۔ مسجد فصیل سے ابھی بھی تقریباً آدھا کلو میٹر دُور تھی۔ پیچ در پیچ گلیوں اور سوق، یعنی چھت والے روایتی عربی بازار سے گزرتے ہوئے آخرکار مسجد کا گیٹ نظر آیا۔ مسجد اقصیٰ کا حرم ایک وسیع احاطے پر مشتمل ہے۔ شمال میں چاندی کے گنبد والی مسجد ہے۔ جمعہ کو احاطے میں غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ دیگر دنوں میں غیر مسلم سیاح احاطے میں تو داخل ہو سکتے ہیں، مگر مسجد اور قبۃ الصخرہ کے اندر ان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ احاطے کی مغربی دیوار یہودیوں کے لیے مخصوص ہے، اس کو ’دیوار گریہ‘ کہتے ہیں۔
اگرچہ یروشلم شہر اسرائیلوں کے قبضے میں ہے، مگر حرم کا انتظام وانصرام اردن کے اوقاف اور وہاں کی ہاشمی باد شاہت کے پاس ہے۔ جون ۱۹۶۷ء کی جنگ میں جب اسرائیلی فوجیں شہر میں داخل ہو گئیں ، تو قبۃ الصخرہ پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا، مگر بیس منٹ بعد ہی اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان نے اس پرچم کو اتارنے اور اس کا انتظام دوبارہ اردن کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ ہماری گائیڈ بتا رہی تھی کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے غصے سے خائف تھے۔ گنبد پر اسرائیلی پرچم جوابی کارروائی کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔
خیر، مجھے بتایا گیا تھا کہ مسجد میںداخلے کے لیے مجھے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کروانا پڑے گا۔ گیٹ کے باہر اسرائیلی سیکورٹی کا ہتھیار بند دستہ موجود تھا، بالکل سرینگر کی جامع مسجد کا سین لگ رہا تھا۔ ایک اہلکار نے مجھے کوئی سورۃ سنانے کے لیے کہا۔ اس امتحان کو پاس کرنے کے بعد اہلکار نے قرآن شریف اٹھا کر اس سے آیات پڑھنے کے لیے کہا۔ تسلی وتشفی کرنے کے بعد مجھے گیٹ کی طرف جانے کی اجازت مل گئی، مگر ابھی فلسطینی سیکورٹی کا سامنا کرنا باقی تھا۔ گیٹ کے اندر فلسطینی اہلکاروں نے پاسپورٹ مانگا۔ میں نے دیکھا وہاں بھی قرآن شریف رکھا ہوا تھا اور شناخت کا مرحلہ کچھ زیادہ ہی سخت تھا۔ ملایشیا کے ایک زائر کا ایک طرح سے انٹروگیشن ہو رہا تھا۔ اب شاید میری باری تھی ۔ میں نے پوری عربی صرف کر کے فلسطینی اہلکار کو بتایا کہ میں انڈین پاسپورٹ پر کشمیر سے تعلق رکھتا ہوں۔ پاسپورٹ میں میری جاے پیدایش دیکھ کر پلک جھپکتے ہی اس کا موڈ بدل گیا۔ کرسی سے کھڑا ہو کر گلے لگا کر اس نے اپنے افسر کو آواز دی اور عربی میں شاید میرے کشمیری ہونے کا اعلان کیا۔ مقبوضہ علاقوں کا مکین ہونے کا کنکشن بھی کیا عجیب ہوتا ہے ! بعد میں بھی فلسطینی علاقوں میں گھومنے کے دوران اس کا قدم قدم پر احساس ہوا۔ افسر نے بھی مصافحہ اور معانقہ کرنے کے بعد حکم دیا کہ نماز ادا کرنے کے بعد اس کے کیبن میں حاضر ہو جائوں۔
میں جب صف میں جگہ بنا رہا تھا تو امام صاحب خطبہ دے رہے تھے۔ اس کا ایک ایک لفظ دل ودماغ کو جیسے جھنجھوڑ رہا تھا۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھاکہ میں ملت اسلامیہ کی مظلومیت کی نشانی مسجد اقصیٰ کے اندر اللہ کے رو برو کھڑا ہوں۔ نماز اور دعا کے بعد نعرۂ تکبیر کی صدائیں بھی بلند ہو رہی تھیں۔ صحن میں کئی مقرر زور وشور سے تقریریں کر رہے تھے ۔ بعد میں جمع ہو کر اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے اور دعا مانگنے کا احساس لفظوں میں بیان کرنا نا ممکن ہے۔
میں ایک کونے میں مسجد کی تاریخ کو کرید رہا تھا۔ بچپن میں سلاتے ہوئے دادی کی سنائی ہوئی پیغمبروں اور غازیوں کی کہانیاں دماغ میں گونج رہی تھیں کہ فلسطینی سیکورٹی افسر مجھے تلاش کرتے ہوئے آپہنچا۔ مجھے رقت آمیز دیکھ کر وہ بھی آب دیدہ ہو گیا۔ آخر میرا ہاتھ پکڑ کر مجمعے کے بیچ سے گزار کر وہ مجھے امام وخطیب اورمفتی اعظم محمد احمد حسین کے پاس لے گیا۔ وہ جنوبی ایشیا خاص طور پر کشمیر کے بارے میں استفسار کرتے رہے اور خاصی دعائیں دے کر رخصت کیا۔ بعد میں سیکورٹی افسر نے ایک انگریزی جاننے والے فلسطینی کے حوالے کیا، جو مجھے قبۃ الصخرہ کے اندر لے گیا۔
یہ دراصل ایک بڑی چٹان ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہیں سے معراج کے سفر پر تشریف لے گئے، اور یہیں انھوں نے دیگر پیغمبروں کی امامت کرکے نماز پڑھائی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر پیغمبروں علیہم السلام نے بھی یہاں قیام کیا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ چٹان کو کاٹ کر نیچے ایک خلا میں جانے کا راستہ بنایا گیا ہے جہاں پر زائرین دورکعت نفل نماز پڑھتے ہیں۔ میرا گائیڈ بتا رہا تھا آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج پر جاتے ہوئے یہ چٹان بھی اوپر اٹھ گئی تا آنکہ اس کو ٹھیرنے کا حکم ہوا۔ تب سے یہ چٹان اسی پوزیشن میں ہے اور اس کے نیچے ایک خلا پیدا ہو گیا ۔ گائیڈ واقعات کو دہراتے ہوئے واللہ ھو اعلم بالصواب بھی ساتھ ساتھ کہتا جا رہا تھا۔
حضرت عمر فاروقؓ جب اس شہر میں داخل ہوئے تو اس مقام پر بس چند کھنڈ ر باقی تھے۔ ہیکل سلیمانی کب کا تباہ ہو چکا تھا۔ اس چٹان کے شمال میں جہاں اب چاندی کے گنبد والی مسجد ہے، ایک چبوترا بچا تھا، جو ابھی بھی مسجد کے تہہ خانے میں موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہی قبلۂ اوّل ہے۔ مسجد کے تہہ خانہ کے اندر جا کر پتا چلتا ہے کہ اس کی عمارت پتھر کے بنے لا تعداد دیو ہیکل ستونوں پر ٹکی ہے۔ یہیں محراب مریمؑ ہے،جہاں حضرت جبریل ؑ ان کے رُوبرو حاضر ہوئے۔ اس تہہ خانے میں ۱۰۹۹ء سے ۱۱۸۷ء تک کے مسیحی دور کی یادیں بھی تازہ ہیں، جب صلیبیوں نے ۸۸ برسوں تک اس کو ایک اصطبل بنایا تھا۔ ستونوں میں گھوڑوں کو باندھنے کے لیے گاڑی گئی میخوں کے نشانات ابھی بھی واضح ہیں۔
یروشلم جو مکمل طور پر اسرائیل کے قبضے میں ہے کے آبادیاتی تناسب کو بدلنے کے لیے حکام نے کئی قوانین ترتیب دیے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان عورت شہر سے باہر شادی کرتی ہے تو اس کی پروشلم کی شہریت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ان لوگوں کا قانون ہے جو جنسی برابری اور آزادی کے علَم بردار ہیں۔ خود اسرائیل کی حدود میں مسلمانوں کا تناسب ۲۲ فی صد ہے۔ یروشلم میں ان کا تناسب ۳۶ فی صد ہے۔ یہ وہ فلسطینی ہیں جو اب اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں۔ میرے قیام کے دوران ایک اسرائیلی عرب خاندان اپنے عزیز کی شادی میں شرکت کے لیے شہر سے باہر گیا ہوا تھا ۔ واپس آئے تو پرانے شہر میں واقع گھر کے دروازے کھلے ملے اور اندر ایک یہودی خاندان قیام پذیر تھا۔ ان کا پورا سازوسامان گلی میں پڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ ان کی غیر موجودگی میں حکومت نے ان کا یہ آبائی گھر یہودی خاندان کو الاٹ کر دیا ہے۔ کئی روز سے یہ خاندان خواتین اور بچوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا۔
یروشلم آنے سے قبل مائونٹ کارمل اور بحیرہ روم کے بیچ خوب صورت شہر حیفہ میں یہودی مذہب کے اعلیٰ پیشوا، یعنی چیف ربی ہوتے ہیں جو تاحیات کے بجاے دس سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ شاید اس یہودی عالم کے پاس وفد کے کوائف پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔ چونکہ میں واحد مسلمان صحافی تھا اس لیے اس نے علیک سلیک کے بعد کہا کہ چند لوگ دنیا سے یہودیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر ایسا نا ممکن ہے۔ کیوںکہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد مسلمان روزانہ نماز میں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں اور یہ ان کے ایمان کا جز ہے۔ انھی کی دعائوں کے طفیل آل ابراہیم (یعنی یہودی ) قائم ودائم ہیں۔ چونکہ اس استعاراتی گفتگو کا محور میں ہی تھا، اس لیے میں نے جواباً کہا : ’’یہ حقیقت ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ دونوں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہیں اور اگر مسلمان آل اسماعیل ہیں تو یہودی آل اسحاق ہیں، مگر یہودی صحیفوں کے اصول وراثت کی رو سے بڑے بھائی کو ہی وسائل کا حق دار تسلیم کیا جاتا ہے اور خاندان کی سربراہی بھی اسی کو منتقل ہو جاتی ہے۔ اس اصول سے تو فلسطین اور اسرائیل پر مسلمانوں کا حق تسلیم شدہ ہے‘‘۔ یہودی عالم نے مسکراتے ہوئے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔
چند روز بعد جب ہم ٹورسٹ بس میں اسرائیلی گائیڈ کے ہمراہ یروشلم سے براستہ دشت جودی، بحیرئہ مُردار (Dead Sea )کی طرف رواں تھے تو چند مواقع پر میں نے اس بھارت نژاد اسرائیلی خاتون گائیڈ کو تاریخی حوالے توڑنے مروڑنے پر ٹوکا تو اس نے مائیک میرے حوالے کرکے بقیہ سفر میں مجھے رہنمائی کرنے کے لیے کہا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ شاید وہ میرے ٹوکنے سے ناراض ہو گئی ہے، مگر جب اس نے کہا کہ وہ خود تاریخ کا دوسرا رخ سننے کے لیے بے تاب ہے تو میں نے مائیک لے کر دشت جودی سے گزرتے ہوئے آس پاس کھنڈرات کے وسیع وعریض علاقوں ، حضرت لوط ؑ ، حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعات بیان کرنا شروع کر دیے۔
مجھے خود بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ الفاظ کا یہ سمندر کہاں سے اُمڈ آیا ہے۔ منزل پر پہنچ کر جب میں نے مائیک واپس گائیڈ کے حوالے کیا تو کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اس سر زمین میں پہلی بار وارد ہوا ہوں۔ دی ٹیلی گراف کے سفارتی ایڈیٹر کے پی نیئر نے جب مجھ سے اس بارے میں استفسار کیا تو مجھ سے صرف یہی جواب بن پڑا کہ :’’ارض فلسطین دنیا بھر کے مسلمانوں کی رگوں میں خون کی طرح موجود ہے‘‘۔
حال ہی میں دہلی کی تہاڑ جیل [قیام: ۱۹۵۷ء]میں ۱۸کشمیری قیدیوں کی اذیت رسانی کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے قائم ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ۱۱۱صفحات پر مشتمل رپورٹ میں نہ صرف اس ٹارچر کی تصدیق کی، بلکہ یہ جملہ بھی کہا کہ: ’جیل حکام اور سیکورٹی پر مامور اسپیشل فورس نے بغیر کسی معقول وجہ کے ان قیدیوں کو تختۂ مشق بنایا‘۔ انٹیروگیشن یا تفتیش کے دوران پولیس اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں دُنیا بھر میں ملزم سے اقبال جرم کروانے کے لیے ٹارچر کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتی آرہی ہیں۔ تاہم، بعد از تفتیش جب ملزم عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے جیل حکام کی تحویل میں ہوتا ہے تو وہاں ٹارچر کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ گو کہ بھارت میں دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح جیلیں ابھی تک بلندوبانگ دعوئوں کے باوجود ’اخلاقی تربیتی مراکز‘ کے بجاے تعذیب خانے ہی ہیں، مگر جوں ہی جیل میں کسی کشمیری یا پاکستانی قیدی کا داخلہ ہوتا ہے، تو جیل حکام، چاہے وہ سیکورٹی پر مامور اہل کار ہو یا ڈاکٹر یا سوشل ورک آفیسر میں ان قیدیوں پر ظالمانہ، شرم ناک اور حددرجہ گھٹیا طریقوں سے تشدد کرنے کی خواہش ایک دم جاگ اُٹھتی ہے۔ ’بھارت ماتا‘ کے یہ سپوت ان بدنصیب قیدیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
بھارت میں دہلی کی تہاڑ جیل کو ایک ماڈل جیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اکثر حکام اس کو جیل کے نام سے موسوم کرنے پر بھڑک اُٹھتے ہیں اور اس کو ’تہاڑ آشرم‘ یا ’اصلاح خانہ‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اگر تعذیب کی خبریں اس آشرم سے آرہی ہوں تو ملک کی دیگر جیلوں کا کیا حال ہوگا؟
۲۰۱۱ء میں ڈنمارک کی ہائی کورٹ نے ۱۹۹۵ء میں بنگال کے ضلع پورنیا میں جہاز سے ہتھیار گرانے کے واقعے میں ملزم کم پیٹرڈیوی کو بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ کورٹ نے کم ڈیوی کی اس دلیل کو تسلیم کیا کہ بھارت میں جیلوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ڈیوی بھارت میں ایک انتہائی مطلوب ملزم ہے۔ بھارت کا اصرار تھا کہ ڈنمارک کی حکومت عدالتی کارروائی میں مداخلت کرکے اس کو بھارت کے حوالے کر دے، مگر اس مطالبے کو وہاں کی حکومت نے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ اسی طرح ۹۰؍ارب روپے کے مبینہ فراڈ میں ملوث لندن میں پناہ لینے والے بھارت کے ایک معروف صنعت کار وجے مالیہ نے بھی برطانوی کورٹ میں بھارت کے ایما پر دائر کی گئی حوالگی کی درخواست کے خلاف بھارتی جیلوں کی خراب حالت او ر انسانی حقوق کی زبوں حالی کی دہائی دی ہے۔
دہلی کی تہاڑ جیل کی اس ’مہمان نوازی‘ کا مجھے بھی براہِ راست تجربہ ہے۔ ۱۰ سال قبل جب جون کے جھلسا دینے والے دن مجھے عدالت نے دہلی پولیس کی مسلح بٹالین کے سپردکر کے عدالتی حراست میں بھیج دیا، تو میرے کیس کی تفتیش پر مامور دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ایک افسر نے ازراہِ مروت کھانے کا ایک پیکٹ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ: ’جیل میں داخلے کی خانہ پُری میں بہت وقت لگتا ہے اور کبھی کبھی تو نیا قیدی جیل میں رات کے کھانے سے محروم رہ جاتاہے۔ کھانے کا پیکٹ ہاتھ میں تھماکر مجھے پنجرے جیسی بس میں پھینک دیا گیا۔ قبل اس کے میں اپنے حواس پر قابو پاتا، بس میں موجود قیدی مجھ پر جھپٹ پڑے اور یہ سمجھنے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہ آئی کہ وہ مجھ پر نہیں، بلکہ بندروں کی طرح کھانے پر جھپٹے تھے۔ میں نے خود کو بچانے کے لیے کھانے کا پیکٹ فرش پر پھینک دیا۔ پیکٹ پھٹ گیا۔ اس میں دال اور سبزی فرش پر بکھر گئے۔ میرے یہ ہم سفر گردوغبار سے اَٹے فرش سے اُٹھا اُٹھا کر ایک ایک دانہ چٹ کر گئے۔’’واہ کیا بات ہے۔ ایک سال بعد تڑکے والا کھانا نصیب ہوا ہے‘‘ ایک قیدی نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ یہ منظر واقعی قابلِ رحم اور مضحکہ خیز بھی تھا۔
اگلےآٹھ ماہ میں نے دیکھا کہ عدالت سے جیل یا واپسی کے دوران اس بس میں چاہے کتنی مارپیٹ ہو یا پھر چاہے قتل کی واردات کیوں نہ ہوجائے، پولیس والے اندر آنے کی زحمت نہیں کرتے۔ حالات اگر زیادہ ہی بے قابو ہوں تو اعصاب شل کرنے کے لیے باہر سے گیس چھوڑ کر قیدیوں کو بے ہوش کر دیا جاتا ہے۔
تہاڑ دراصل نو جیلوں کا مجموعہ ہے۔ مجھے جیل نمبر تین کے درواز ے پر اُتار کر پولیس نے دیگر نئے آنے والے قیدیوں کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کر دیا۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک ڈیسک کے چاروں طرف کھڑے جیل ملازمین میں بڑبڑاہٹ سنائی دی۔ مجھے سیدھے جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے متصل ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں ۱۰، ۱۲ ؍افراد موجود تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میرا نام پوچھا گیا۔ ابھی میں نام بتا بھی نہیں پایا تھا، کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے میرے منہ پر زور کا تھپڑ رسید کیا۔ یہ باقی افراد کے لیے اشارہ تھا۔ پھر کیا، وہ سبھی ایک ساتھ مجھ پر پل پڑے۔ خود اس اعلیٰ افسر نے میرے بالوں کو ہاتھ میں جکڑ کر میرا سر میز پر دے مارا۔ میرے منہ، ناک اور کان سے خون رسنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی وقفہ کیے بغیر مسلسل گالیاں دی جارہی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ قیدیوں کو ڈنڈوںسےپیٹ رہے تھے۔
’’تم جیسے لوگوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں ہے، ان سالے غداروں کو سیدھے پھانسی دینی چاہیے‘‘۔ یہ نعرہ ایک زیرسماعت قیدی ونود پنچم کا تھا۔ بعد میں جیل کے اندر اس نے مجھے ’حب الوطنی‘ کا سبق سکھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ یہ ’درس‘ میری بے ہوشی تک جاری رہا۔ ہوش میں آنے کے بعد میں نے خود کو راہداری میں پڑا پایا۔ میرا چہرہ خون سے لت پت تھا۔ حکم ہوا کہ جاکر اپنا چہرہ دھو ڈالو۔ باتھ روم میں جاتے ہوئے بھی گالیاں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔ ابھی میں راستے ہی میں تھا کہ کرخت آواز میں حکم ملا کہ’’ٹائلٹ صاف کرو‘‘۔ یہ ٹائلٹ کسی بس اڈے کے سرکاری پاخانے کی طرح متعفن اور غلیظ تھا۔ میں اِدھر اُدھر کسی کپڑے کو تلاش کرنے کے لیے نظریں دوڑانے لگا، تو حکم ہوا کہ ’’اپنی شرٹ اُتار کر اسی سے صاف کرو‘‘۔ حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور ٹائلٹ صاف کرنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔
اسی دوران نئے قیدیوں کا جیل میں داخل ہونے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ جیل کے افسر اور ایک ڈاکٹر کے علاوہ کچھ منظورِ نظر قیدی اس کام میں معاونت کر رہے تھے۔ معائنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کا جذبہ ’حُب الوطنی‘ بھی جوش میں آیا۔ اس نے اپنے پیشے کا لحاظ کیے بغیر گالیوں کی بارش کرتے ہوئے پیٹنا شروع کر دیا۔ اب اس نے مجھ سے لکھ کر دینے کو کہا کہ: ’یہ زخم پولیس حراست کے دوران آئے ہیں، جیل میں نہیں آئے‘۔ میں نے پہلی بار جرأت کا مظاہرہ کرکے رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
کارروائی مکمل کرتے ہی جیل افسر نے کہا:’’قمیص کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’باتھ روم میں پھینک آیا ہوں‘‘۔ حکم دیا گیا، ’’جائواور جیسی بھی ہے پہن کر آئو‘‘۔ قمیص اتنی گندی تھی کہ مجھے قے آنے لگی۔ پھر بھی اگلے تین روز تک جون کی جھلستی گرمی میں مجھے وہی غلاظت بھری قمیص پہننا پڑی۔ اس دوران قمیص اُتارنے کی اور نہ غسل خانے جانے ہی کی اجازت ملی۔
یہ بھارت کی ماڈرن تہاڑ جیل کے ساتھ میری ابتدائی ملاقات تھی۔ اگلے آٹھ ماہ تذلیل و تضحیک کے اَن گنت واقعات کا مَیں چشم دید گواہ بنا اور ان میں اکثر واقعات خود میرے ساتھ پیش آئے۔ ابتدائی چند ماہ چھوڑ کر عمومی طور پر بھارتی میڈیا، سیاسی پارٹیوں اور خود اس وقت کی حکومت کے اندر بھی چند خیرخواہوں نے میرے لیے آواز بلند کی اور میری رہائی کے لیے ایک طرح سے مہم چلائی۔ اس لیے اگر اس طرح کے واقعات میرے ساتھ پیش آسکتے ہیں، اندازہ کیجیے کہ ایک بے یارومددگارکشمیری یا پاکستانی قیدی کے ساتھ کس طرح کا سلوک جیل میں کیا جاتا ہوگا!
حالاں کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے اپنے بہت سے فیصلوں میں قیدیوں کے حقوق پر زور دیا ہے، لیکن جیلوں کی حالت اُس کے بالکل برعکس ہے جو قانون کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ قیدیوں پر نظررکھنے کے لیے ان کے بیچ مخبروں کی موجودگی، تہاڑ جیل کے پس منظر میں ’شعلے‘ فلم کی جیل میں واحد مماثلت نہیں ہے۔ ’شعلے‘ کا جیلر یہاں حقیقی شکل میں نظر آتاہے۔ جیل کے عملے کا رویہ بھی فلم کے جیلر سے مختلف نہیں ہے، جس کا مشہور مکالمہ تھا: ’’ہم انگریزوں کے زمانے کے جیلر ہیں۔ ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو قیدیوں کو سدھارنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تم کبھی نہیں سدھرو گے‘‘۔ گنجایش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی، اُوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی بدعنوانیاں، غیرتربیت یافتہ جیل اسٹاف اور جیل اسٹاف اور جیل انتظامیہ کا فرسودہ اندازِفکروعمل، استعماری دور کے جیل مینوئل آج بھی نافذالعمل ہیں۔ انھی فرسودہ قوانین کا نتیجہ ہے کہ جیل کے حکام قیدیوں کو ان کے حقوق دینے سے انکار کرتے ہیں۔
ایک دن مجھے جیل کی لائبریری کے نیم خواندہ نگران (جو خود ایک سزا یافتہ سکھ قیدی تھا) نے طلب کرکے کتابوں کی ایک فہرست تیار کرنے کے لیے کہا اور بتایا کہ حکومت نے جیل کی لائبریری کے لیے کتابیں خریدنے کے مقصد سے بجٹ فراہم کیا ہے۔ میں نے قانون، لیڈروں کی جیل ڈائریوں، اوپن یونی ورسٹی سے کورس کرنے والےقیدیوں کی ضرورت کو مدنظر رکھنے کے ساتھ ساتھ جیل مینوئل اور جیل ضابطوں سے متعلق کتابوں کو بھی شامل کر کےلسٹ تیار کرکے اس کے حوالے کی۔ نگران نے اس لسٹ کواسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کو پیش کر کےاپنی دانش وَری کی دھاک جمانے کی کوشش کی۔ شاید یہ دھاک جم بھی جاتی، مگر فہرست میں جیل مینوئل اور قیدیوں کے حقوق سے متعلق کتابیں دیکھ کر جیل حکام کا پارہ چڑھ گیا۔ نگران نے فوراً میرا نام لیا۔ مجھے جیل کنٹرول روم میں طلب کیا گیا۔ میں نے وہاں دیکھا کہ سردارجی کو اُلٹا لٹکایا گیا ہے اور ان پر لاٹھیوں کی بارش ہورہی ہے۔ ان کی دانش وَری کا ڈبہ تو پہلے ہی گول ہوگیا تھا۔ وہ زار وقطار رحم کی بھیک مانگ کر پورا ملبہ میرے اُوپر ڈال رہے تھے۔ ساتھ ہی میرا انیٹروگیشن شروع ہوگیا۔
میں نے موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہہ دیا کہ: ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ جیل کے قوانین سے متعلق کتابیں ممنوع ہیں اور معافی کا خواستگار ہوں‘‘۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے مسکرا کر کہا: ’’میں جانتا تھا کہ یہ فہرست سردار جی تیار نہیں کرسکتے تھے‘‘۔
میرے دورِ زندان تک باقی کتابیں بھی کبھی لائبریری میں نہیں پہنچیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ کتابوں کے لیے مختص اس بجٹ کا کیا ہوا۔ کہتے ہیں: علم آزادی کی چابی ہے۔ لیکن قیدیوں کا جیل کے قوانین کا علم حاصل کرنا جیل انتظامیہ اپنے لیے اچھا شگون نہیںسمجھتی، کیونکہ غلامی اور جہالت لازم و ملزوم ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی بہت سی قراردادیں بھارت اور پاکستان کو اس بات کی پابند بناتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا تعین عوام کی مرضی اور ایک آزادانہ اور غیر جانب دار استصواب راے (ریفرنڈم) کے ذریعے ہوگا، جو اقوامِ متحدہ کے زیرنگرانی منعقدہوگا۔بھارت کا کشمیریوں کے حق راے دہی سے انکار ان متفقہ عالمی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور اپنی افواج کے ذریعے نہتے بے گناہ کشمیری عوام پر بہیمانہ تشدد، قتل وغارت گری، زخمی کر کے لوگوں کو معذور بنا دینے کا جرم تو اپنی جگہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے، لیکن اب اس کے ساتھ کسی ملامت کے خو ف کے بغیر لوگوں کو اندھا کرنے جیسا وحشیانہ عمل، اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی کے حوالے سے بہت سے سنجیدہ سوال اُٹھاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادو ں اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ناکام بنانے کے لیے بھارت نے مختلف حربوں کو اختیار کیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو کم کرنے کے لیے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اس حوالے سے ایک بڑا حربہ ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سیمون پیریز نے جو اس وقت اسرائیل کا وزیرخارجہ تھا، ۲۸مئی ۱۹۹۳ء کو اپنے دورے کے موقعے پر بھارت کو مشورہ دیتے ہوئے کہی تھی: ’’بھارت کو کشمیر میں بھارت بھر سے لوگوں کو لاکر آباد کرنے سے گھبرانا یا جھجھکنا نہیں چاہیے۔ کشمیر میں صرف آبادی کے تناسب میں تبدیلی ہی بھارت کو اس پر دعویٰ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ریاست کا ایک ہندو اکثریتی قوم کے ساتھ پُرامن طریقے سے رہنا ایک احمقانہ تصور ہے اور یہ تصور ایک قابلِ نفرت شے کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘۔
۱۹۴۷ء میں جب برعظیم پاک و ہند دو خودمختار ریاستوں، یعنی پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہوگیا، تب جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ مسلمان اس وقت آبادی کے ۷۲ء۴۰ فی صد پر مشتمل تھے اور ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی ۶۲ء۲۷ فی صد ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی کُل آبادی اس وقت ایک کروڑ ۲۵لاکھ ۴۸ہزار ۹سو ۲۶ ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر ایک جغرافیائی وحدت کے طور پر تین خطوں پر مشتمل ہے: کشمیر، جموں اور لداخ۔ آبادی کے تناسب میں پہلی بار تبدیلی اگست سے نومبر ۱۹۴۷ء میں کی گئی جب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، جو اس وقت جموں و کشمیر کے ڈوگرہ راجا اور بھارتی نیشنل کانگریس کی ملی بھگت سے تیار کیا گیا تھا، جموں کے مسلمانوں کا وسیع پیمانے پر قتل عام کیا گیا اور جموں میں ان پر زندگی تنگ کر دی گئی۔ اس کے مصدقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم برٹش پریس کی شائع شدہ رپورٹیں اور ہورس الیگزینڈر کا ۱۶جنوری ۱۹۴۸ءکو سپیکٹرم میں شائع ہونے والا مضمون ایک معتبر حوالہ ہے۔ ہورس کے مطابق ۲لاکھ افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ دوسری رپورٹ میں آئن اسٹیفن کا دعویٰ ہے کہ ۵لاکھ افراد کو مارا گیا، جب کہ دیگر ۲ لاکھ افراد لاپتا ہوگئے۔ یہ نسل کشی کا اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک واضح مقدمہ تھا، لیکن عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی۔ یوں مسلمانوں کے اس قتلِ عام اور بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی سے جموں میں مسلمانوں کی آبادی ۶۱ فی صد اکثریتی آبادی سے کم ہوکر ۳۰فی صد اقلیت میں تبدیل ہوگئی۔
جموں کی آبادی کا تناسب ایک مرتبہ پھر تبدیل کیا گیا، جب Agrarian Reform Act 1976 کو قانون سازی کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ اس ایکٹ نے کاشت کاروں کو ملکیتی حقو ق دے دیے۔ پھر ہزاروں غیرکشمیریوں کو ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعے کاشت کار ظاہر کیا گیا اور انھیں ملکیتی حقوق دے دیے گئے۔
ایک اور سازش ۲۰۰۱ء-۲۰۱۱ء کے دوران میں دیکھنے میں آئی، جب لداخ کے اضلاع لیہہ اور کارگل میں ہندو آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ لداخ میں مجموعی طور پر ہندو آبادی ۲۰۰۱ء کی ۶ء۲ فی صد تعداد سے بڑھ کر ۲۰۱۱ء میں ۱۲ء۱ فی صد ہوگئی۔ ماہرین کا خیال ہے اس بڑے پیمانے پر لداخ میں ہندو آبادی میں ۱۰۰ فی صد اضافہ صرف دس سال کی مدت میں ناقابلِ تصور ہے۔
جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کی قیادت میں ۲۰۱۴ء میں نئی دہلی میں اقتدار سنبھالا ہے، بھارت کے جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے منصوبوں نے شدت پکڑ لی ہے، تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے۔ اپنے منشور اور سرکاری بیانات میں ، بی جے پی نے کھلے عام اعلان کر رکھا ہے کہ: کشمیر کا بھارتی آئین کے تحت آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اےکے تحت اور اس کے ساتھ ساتھ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے آئین کے آرٹیکل۶ کے تحت خصوصی استحقاق ختم کر دیا جائے گا‘‘۔ بی جے پی کے علی الرغم مختلف دستوری اور قانونی دھوکے بازیوں کے ذریعے، بھارت پہلے ہی کشمیر کے الگ تشخص کو محض دکھاوے کی حیثیت دے چکا ہے۔
’پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی آن ہوم آفیرز‘ بھارت، نے ۲۰۱۴ء میں سفارش کی تھی کہ: ’’مغربی پاکستان کے مہاجرین (غیرمسلم) کو جو جموں کے خطے میں رہ رہے ہیں، مستقل رہایشی سرٹیفکیٹ اور جموں و کشمیر میں ریاستی انتخابات میں انھیں راے دہی کا حق بھی دیا جانا چاہیے‘‘۔
یہ مہاجرین جنھوں نے ۱۹۴۷ء میں تقسیم برعظیم پاک و ہند کے موقعے پر پاکستان سے بھارت نقل مکانی کی تھی اور جموں کے خطے میں آباد ہوگئے تھے، مستقل رہایشی نہیں ہیں جیساکہ جموں و کشمیر کے آئین کے آرٹیکل ۶ میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسی طرح بھارت کے آئین کے آرٹیکل ۳۵-اے کے تحت بھی مقبوضہ کشمیر میں ا ن کی آبادکاری غیر آئینی ہے۔ یہ غیرکشمیری ہندو جو مہاجر کہلاتے ہیں،ان کی تعداد ۶لاکھ بتائی جاتی ہے، جب کہ کچھ دیگر ذرائع کے مطابق ان کی تعداد ۱۰لاکھ سے زائد ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی اتھارٹیز نے ان مہاجرین کو رہایشی سرٹیفکیٹ (ڈومیسائل) دینا شروع کردیے ہیں اور بھارتی ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ کی مقبوضہ کشمیر کی اتھارٹیز کو واضح ہدایت ہے کہ: ’’ریاستی آئین میں ضروری قانونی تبدیلیاں کرلی جائیں تاکہ یہ مہاجرین نہ صرف مستقل ریاستی رہایشی سرٹیفکیٹ (State Subject Certificate) حاصل کرسکیں، بلکہ جموں کے خطے میں آٹھ انتخابی حلقوں کو بھی تشکیل دے سکیں‘‘۔
سوال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں ان مہاجرین کو جموں میں کیوں منتقل کیا گیا، بھارت کے کسی اور علاقے میں کیوں نہیں بھیجا گیا؟نتیجے کے طور پر سامنے آنے والے واقعات نے اس بات کو واضح کردیا کہ اس کا مقصد خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا تھا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ جموں ڈسٹرکٹ میں مسلمانوں کی آبادی آج بمشکل ۵ فی صد ہے، جب کہ ۱۹۴۷ء میں یہاں مسلمانوں کی آبادی ۳۹ فی صد تھی۔ اسی طرح ضلع کٹھوعہ میں مسلمانوں کی آبادی ۳۰ فی صد سے کم ہوکر اب صرف ۸ فی صد رہ گئی ہے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیری مسلمان پاکستان اور آزاد کشمیر ہجرت کر گئے اور اپنے پیچھے اربوں روپے کی جایداد چھوڑ گئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی نے اپریل ۱۹۸۲ء میں ری اسٹیبلشمنٹ بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا کہ ان مہاجرین کو واپس آنے کی اجازت دی جائے، لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسے سپریم کورٹ آف انڈیا لے جایا گیا، جہاں یہ فائل فیصلے کے انتظار میں عشروں سے گرد کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روکنے کے لیے stay کا حکم دے دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (RSS)، بھارت کی ایک نسل پرست ہندو جماعت نے دھوکا اور دغابازی کے ذریعے ہزاروں بہاریوں، پنجابیوں اور بھارت کی دوسری ریاستوں کے ہزاروں شہریوں کے لیے اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کے حصول کا پہلے ہی سے انتظام کرلیا ہے تاکہ انھیں جموں میں آباد کیا جاسکے۔ جون ۱۹۸۴ء میں، پنجاب میں سکھوں کے خلاف آپریشن بلیوسٹار کے نتیجے میں ہندوئوں کو جموں میں آباد ہونے کی اجازت دی گئی۔ انھیں شہریت کے حقوق بھی دیے گئے۔ ان مہاجروں کو شہریت کے حقوق عطا کرنے سے بلاشبہہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل ہوجائے گا۔ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعد میں آنے والی بھارتی حکومتیں طوطے کی طرح رٹنے کے باوجود کہ یہ ہمارا ’اٹوٹ انگ‘ ہے، حالات کے دبائو کے تحت ایک روز استصواب راے کے انعقاد پر مجبور ہوجائیں۔ یقینا ان مہاجروں کا ووٹ نتیجے کو فطری طور پر بھارت کے حق میں موڑ دے گا۔
جموں و کشمیر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے دیگر منصوبوں پر بھی عمل درآمد جاری ہے، بالخصوص وادیِ کشمیر میں جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ۹۷ فی صد ہے۔ اس مقصد کے لیے غیر کشمیری ریٹائرڈ بھارتی آرمی افسروں کے لیے کالونیوں کی تعمیر کی جارہی ہے، جب کہ کشمیری ہندوئوں کے لیے بستیاں بھی بسائی جارہی ہیں۔ اسرائیل کی یہودی بستیوں کی تعمیر کی طرح یہاں بھارت غیرکشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کررہا ہے۔
۲۰۱۶ء- ۲۰۲۶ء صنعتی پالیسی کے تحت ایک غیر ریاستی شخص مقبوضہ کشمیر میں ۴۰سال کے لیے زمین ٹھیکے (lease) پر حاصل کرسکتا ہے۔ پھر اسے زیادہ سے زیادہ ۹۰ سال تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ یہ کاروباری مقتدرہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوبہو نقل ہے، جیساکہ اس سے پہلے اس نے برصغیر ہند پر قبضہ کیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کشمیر کی جایداد پر زبردستی قبضے اور اسے غیر ریاستی شہریوں کو منتقل کرنے کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جن کو قبضہ دیا جائے گا، ان سب کے بارے میں توقع ہے کہ وہ غیرمسلم ہوں گے۔
بھارتی حکومت کا ان دنوں سب سے زیادہ زور جس بات پر ہے، وہ یہ ہے کہ اپنی عدلیہ کے ذریعے بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۵-اے کو کالعدم کرائے۔ اس سلسلے میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں اور افراد کے ذریعے بھارتی سپریم کورٹ میں عرضداشتیں داخل کی گئی ہیں۔ اگر آرٹیکل ۳۵-اے ختم ہوگیا، تو مقبوضہ کشمیر کے آئین کی ان دفعات کا جواز بھی ختم ہوگا جن کی رُو سے کوئی غیر ریاستی باشندہ کشمیر میں جایداد نہیں خرید سکتا ہے۔ نتیجتاً بھارت میں رہنے والے ہندو مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمین اور جایداد خرید کر آباد ہوجائیں گے اور آبادی کا تناسب بگاڑ دیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی ۳۰مارچ ۱۹۵۱ء کی منظورکردہ قرارداد کے مطابق کوئی دستور ساز یا قانون ساز اسمبلی قانون سازی سے ایسی تبدیلیاں نہیں کرسکتے، جو استصواب راے کے نتائج کو متاثر کرسکیں۔ لہٰذا، وہ تمام اقدامات جو بھارتی حکومت نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے اُٹھائے ہیں، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی واضح خلاف ورزی ہے۔
کشمیر کے لوگ بھارت کے تمام غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدامات اور منصوبوں کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں اور اپنا خون دے کر اس کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھے اور بھارت کو جموں و کشمیر کی اُس حیثیت کو تبدیل کرنے سے روک دے، جو ۱۹۴۷ء میں تقسیم برعظیم پاک و ہند کے وقت تھی۔
حال ہی میں ایک مقتدر انگریزی روزنامے میں حکومت ِپاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ جناب ریاض محمد خان نے اپنے ایک مضمون میں یہ دلیل دینے کی کوشش کی ہے کہ ’’تنازعہ جموں و کشمیر دراصل مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر کا مسئلہ ہے‘‘ اور ان کے بقول: ’’دیگر دو خطے جموں و لداخ غیرمسلم اکثریتی علاقے ہیں، اس لیے لاتعلق ہیں‘‘۔تنازعۂ کشمیر کو جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھنے کے بجاے انسانی زاویے سے دیکھنے کے لیے ان کا موقف یقینا ستایش کے قابل ہے، مگر متنازعہ ریاست کی آبادیاتی ساخت اور اس کے مختلف خطوں کی مذہبی شناخت پر ان کی کم علمی اور ناقص معلومات پر افسوس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔
جموں و کشمیر کی آبادیاتی (Demographic) ساخت کے بارے میں عموماً یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس کے تین خطوں: ’’کشمیر وادی، لداخ اور جموں میں سے صرف ایک خطے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے‘‘۔ تاہم، بھارتی وزارتِ داخلہ کے رجسٹرار آف سنسس کی طرف سے ۲۰۱۱ء میں کرائی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار اس غلط فہمی کو دُور کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے تمام خطّے لسانی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، مگر جموں کا خطہ جو انتظامی لحاظ سے ایک ڈویژن ہے، دراصل تین خطوں، یعنی جموں (توی ریجن)، پیر پنچال اور وادیِ چناب میں منقسم ہے۔
اوّل الذکر خطّہ، یعنی جموں توی ریجن میں مختلف ہندو ذاتوں کی اکثریت ہے، جب کہ دیگر دونوں خطّوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔
جموں توی کے پانچ اضلاع ادھم پور، سانبھا، ریاسی، جموں اور کٹھوعہ کی آبادی ۳۳ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس خطّے کےبھی ریاسی ضلع میں ہندو اور مسلمانوں کا تناسب تقریباً برابر ہے:
جموں اور کشمیر کی مردم شماری 2011ء
کُل آبادی: ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302
مسلمان
85,67,485
68.31%
ہندو
35,66,674
28.43%
سکھ
2,34,848
1.87%
بودھ
1,12,584
0.89%
وادی کشمیر (اضلاع)
اضلاع
کُل آبادی
ہندو
فی صد
مسلمان
فی صد
کپواڑہ
8,70354
37218
4.26
8,23286
94.59
بڈگام
7,53745
10110
1.34
7,36054
97.65
بارہ مولا
10,08039
30621
3.03
9,59185
95.15
بانڈی پورہ
3,92232
8439
2.15
3,82006
97.39
سری نگر
12,36829
42540
3.43
11,77342
95.19
گاندربل
2,97446
5592
1.88
2,90581
97.69
پلواما
5,60440
13840
2.46
5,35159
95.48
شوپّیاں
2,66215
3116
1.17
2,62263
98.51
اننت ناگ
1,07869
1318
1.2
10,57005
97.98
کلگام
4,24483
4247
1.05
4,18076
98.49
میزان
68,88475
1,68813
2.45
66,40957
96.40
جموں (اضلاع)
اضلاع
کُل آبادی
ہندو
فی صد
مسلمان
فی صد
کٹھوعہ
6,16435
5,40063
87.61
64234
10.42
اودھم پور
5,54985
4,89044
88.11
59771
10.76
ریاسی
3,14667
1,53896
48.90
1,56275
49.66
جموں
15,29958
12,89240
84.26
1,07489
7.02
سامبا
3,18898
275311
86.33
22950
7.19
میزان
33,34943
27,47554
82.38
4,10719
12.31
پیر پنجال (اضلاع)
اضلاع
کُل آبادی
ہندو
فی صد
مسلمان
فی صد
پونچھ
4,76836
32604
6.83
4,31279
90.44
راجوری
6,42415
2,21880
34.53
4,02879
62.71
میزان
11,19251
2,54484
22.73
8,34158
74.52
وادی چناب (اضلاع)
اضلاع
کُل آبادی
ہندو
فی صد
مسلمان
فی صد
ڈوڈا
4,09936
1,87621
45.76
2,20614
53.81
رمبن
2,83713
81026
28.55
2,00516
70.67
کشتواڑ
2,30696
93931
40.71
1,33225
57.74
میزان
9,24345
3,62578
39.22
5,54355
59.97
لداخ (لیہہ اور کرگل اضلاع)
اضلاع
کُل آبادی
ہندو
فی صد
مسلمان
فی صد
بودھ مت
فی صد
لیہہ
1,33487
22882
17.14
19057
14.27
88635
66.39
کرگل
1,40802
10341
7.34
1,08239
76.87
20126
14.29
میزان
2,74289
33223
12.11
1,27296
46.40
1,08761
39.65
(Census of India 2011, Registerar of Census, Govt of India, Ministry of Home Affairs, New Delhi, 2015)
پیرپنچال اور وادیِ چناب کے خطے اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ پیرپنچال کا خطہ، راجوری اورپونچھ کے دو اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فی صد ہے۔
اسی طرح ایک اور خطّہ ہے وادیِ چناب، جو دریاے چناب کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ اس خطّے کو بھی انتظامی اعتبار سے جموں ڈویژن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے تین اضلاع ہیں: کشتواڑ، رام بن اور ڈوڈہ۔ تینوں اضلاع مسلم اکثریتی ہیں۔ اس خطے میں مسلم آبادی کا تناسب ۶۰ فی صد ہے۔
لداخ خطّے کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ یہ بودھ اکثریتی علاقہ ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اس خطے میں دو اضلاع لیہ اور کرگل ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے بودھ ۳۹ء۶۵ فی صد اور مسلمان ۴۶ فی صد ہیں۔ اس طرح مردم شماری کے یہ اعداد و شمار لداخ کے بودھ اکثریتی علاقہ ہونے کی تردید کرتے ہیں۔
لداخ کے صرف ضلع لیہہ میں بودھ آبادی کا تناسب ۶۶ فی صد ہے، جب کہ مسلمان ۱۴فی صد ہیں۔ اس ضلع کی آبادی لیہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یعنی خطے کی مجموعی آبادی میں ۲لاکھ ۷۴ہزار ۲سو ۸۹ میں سے مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ۲۸ہزار ہے، جب کہ بودھوں کی ایک لاکھ ۸ہزار ہے۔
وادیِ کشمیر کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ یہاں مسلم آبادی کا تناسب ۹۶ فی صد ہے۔
ریاست کی جملہ آبادی ایک کروڑ ۲۵لاکھ ۴۱ ہزار سے کچھ زیادہ ہے، جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۸۶لاکھ ہے، جب کہ ہندوئوں کی ۳۵لاکھ سے زیادہ اور سکھوں کی تقریباً ڈھائی لاکھ اور بودھ مت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ۔
ہندستان ٹائمز کی لیڈر شپ سمٹ میں شرکت کرنے کے لیے جب پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوصاحبہ [م: ۲۰۰۷ء] نئی دہلی آئی تھیں اور موریہ شیریٹن ہوٹل میں مَیں ان کا انٹرویو لے رہا تھا توانھوں نے [آسٹریلیا کے سابق چیف جسٹس اور اقوام متحدہ کے نمایندے] سراون ڈکسن [م: ۷جولائی ۱۹۷۲ء] کے ’کشمیر پلان‘ کے حوالے سے تفصیلات پر مجھ سے تبادلۂ خیال کیا۔
میں نے کہا: ’’اگر پورے جموں و کشمیر میں کسی ایک ایشو پر اتفاق راے ہے تو یہی ہے کہ ریاست کی وحدت برقرار رہنی چاہیے۔ تقسیم کی صورت میں جموں اور کرگل کی ایک بہت بڑی مسلم آبادی کو نقل مکانی کرنی پڑے گی‘‘۔
بے نظیر صاحبہ کا کہنا تھا :’’مجھے تو بریفنگ کچھ اور ہی دی گئی ہے‘‘۔ یہ کہہ کر انھوں نے اگلا سوال یہ کیا کہ: ’’پھر ان علاقوں میں کبھی کوئی تحریک برپا کیوں نہیں ہوتی؟‘‘
میں نے جواب دیا کہ ’’ایک تو یہ بہت ہی دُور دراز علاقے ہیں اور وادیِ چناب کے علاوہ دیگر علاقے لائن آف کنٹرول سے قریب ہونے کی بنا پر ہمہ پہلو فوجی حصار بھی ان علاقوں میں سب سے زیادہ ہے‘‘۔
سابق خارجہ سیکرٹری محترم ریاض محمد خان صاحب کا ایک اور استدلال یہ بھی ہے کہ: ’’پاکستان کے آبی وسائل، یعنی دریاے چناب اور دریاے سندھ ریاست کے غیرمسلم اکثریتی علاقوں سے ہوکر گزرتے ہیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دریا اپنا بیش تر سفر بالترتیب وادیِ چناب اور ضلع کرگل میں طے کرتے ہیں اور یہ دونوں مسلم اکثریتی علاقے ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کا استدلال ان چند ہندو جماعتوں کو تقویت فراہم کرتا ہے، جو جموں کو الگ ریاست اور لداخ کو براہِ راست دہلی کے تحت انتظامی علاقہ بنانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ دراصل یہ مطالبہ سیاسی مایوسی کی پیداوار ہے۔ اگر جموں کو مذہبی اعتبار سے الگ کیا جاتا ہے ، تو اس کے تینوں خطوں کو بھی الگ الگ کرنا پڑے گا، کیوں کہ مذہبی پیمانے پر خطے کی تقسیم کے معنی پیرپنچال اور وادیِ چناب کو مسلم اکثریت ہونے کی بنا پر الگ کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں جموں توی ایک چھوٹے سے علاقے میں سمٹ جائے گا۔
ایک منصوبے کے تحت ان علاقوں کو جان بوجھ کر وادیِ کشمیر سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا، تاکہ مسلم اکثریتی آبادی کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر کے مسلمانوںکو اس خطے سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا جائے۔ وادیِ چناب اور پیرپنچال میں ایک عشرے سے زائد سیکورٹی ایجنسیوں کی شہ پر ویلج ڈیفنس کمیٹیوں (وی ڈی سی) نے مسلم اکثریتی طبقے کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ عسکریت سے نبٹنے کے نام پر ان علاقوں میں سویلین افراد پر مشتمل فورس بنائی گئی تھی،جو نہ سرکار کے تابع ہے اور نہ کسی کے سامنے جواب دہ اور ان میں صرف ہندو اقلیتی افراد کو بھرتی کیا گیا تھا۔ ان خطوں میں اس فورس کے ذریعے اغوا، تاوان، زیادتیوں کی وارداتیں عام ہیں۔ ظاہر ہے کہ خمیازہ مسلم آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید [م: ۲۰۱۶ء] نے پیرپنچال کو دوبارہ وادیِ کشمیر سے جوڑنے کے لیے مغل روڈ کے احیا کا بیڑا اُٹھایا تھا۔ یہ شاہراہ اب مکمل ہوچکی ہے، جو پونچھ کی بفلیاز تحصیل کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں قصبے سے ملاتی ہے۔ اکثر مغل حکمران لاہور سے اسی سڑک کے ذریعے وادیِ کشمیر میں وارد ہوتے تھے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر [م: ۱۶۲۷ء] کا انتقال ہی بفلیاز کے پاس کشمیر واپسی پر راستے میں ہوا تھا۔ بغاوت کے ڈر سے انتقال کی خبر کو راز میں رکھنے کی غرض سے ملکہ نورجہاں [م: ۱۶۴۵ء] نے آلایش و اعضا نکال کر اسی علاقے میں دفن کر دیے تھے اور بقیہ نعش اسی تزک و احتشام کے ساتھ لاہور کی طرف عازم تھی، گویا کہ بادشاہ خود قافلے کی قیادت کر رہے ہوں۔ ۱۹۷۵ء میں شیخ محمدعبداللہ [م: ۱۹۸۲ء] نے اقتدار میں آتے ہی اس سڑک کو کھولنے کی بھرپور سعی کی، مگر کچھ رقوم کی عدم دستیابی اور کچھ بھارت کے وزارتِ دفاع کے اعتراضات نے اس کو التوا میں ڈال دیا۔ یہی حال کچھ کرگل اور وادیِ کشمیر کے گاندربل اضلاع کا ہے۔ زوجیلا پاس کے نیچے سے یہاں بھی ایک سرنگ کئی عشروں سے تعمیر اور تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔
ان علاقوں میں مسلم آبادی کو احساسِ محرومی کا مزید شکار کرنے کے لیے اب تاریخ بھی مسخ کی جارہی ہے، تاکہ یہ باور کرایا جائے کہ ’’جموں کے نجات دہندہ، ڈوگرہ حکمران ہی تھے‘‘۔ اکھنور میں جیاپوتا کے مقام پر تو کئی برسوں سے راجا گلاب سنگھ [م: ۱۸۵۷ء]کا جنم دن منایا جاتا ہے۔ ان کا ایک مجسمہ بھی نصب کیا گیا ہے۔ شعوری طور پر کوشش کی جارہی ہے کہ راجا گلاب سنگھ اور ان کے جانشینوں کو ’تاریخ کے ہیرو‘ بنا کر پیش کیا جائے۔ یہ بھی کوشش رہی ہے کہ راجا گلاب سنگھ اور راجا ہری سنگھ [م: ۱۹۶۱ء]کے یومِ پیدایش پر سرکاری چھٹی منظور کرائی جائے۔ اس سلسلے میں جموں شہر میں حال ہی میں ہتھیاروں سے لیس ہندو انتہا پسندوں نے سڑکوں پر مارچ کیا۔ جاگیردارانہ لوٹ کھسوٹ کرنے والے مہاراجوں، جبروتشدد کرنے والے مطلق العنان راجواڑوں اور عوامی مفادات بیچ کر اقتدار حاصل کرنے والے حاکموں کو تاریخ ساز ہیرو قرار دینا تاریخ کے ساتھ سب سے بڑا اور گھنائونا ظلم ہے۔
ان ظالموں نے اس ریاست میں راج کن وسائل اور ذرائع سے حاصل کیا، وہ تاریخ میں درج ہے۔ راجا گلاب سنگھ نے پہلے جموں کے عوام، پھر لاہور کے سکھ دربار سے بے وفائی کر کے جبروتشدد کے ذریعے جموں و کشمیر کی ریاست میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ پھر ان کے لواحقین اور جانشین بدترین انداز سے جاگیردارانہ لوٹ کھسوٹ کرتے رہے۔ ایسے ڈاکو راج کو بھلا جموں کا ہیرو کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
جب مہاراجا رنجیت سنگھ [م: ۱۸۳۹ء] نے پیش قدمی کرکے جموں کو فتح کرنے کی کوشش کی تو جموں میں اس کی زبردست مزاحمت ہوئی۔ جموں میں لاہور دربار کے خلاف زبردست گوریلا لڑائی لڑی گئی، جس کی قیادت میاں ڈیڈو اور دیگر ڈوگرہ جنگ جُو کر رہے تھے۔ راجا گلاب سنگھ کے والد اور خود گلاب سنگھ نے ڈوگرہ سرفروشوں کو پیٹھ دکھا کر، مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج میں ملازمت اختیار کرکے ڈوگرہ مدافعتی جنگ سے دامن بچایا اور مہاراجا رنجیت سنگھ کا ایجنٹ بن کر میاں ڈیڈو اور دوسرے کئی ڈوگرہ جنگجوئوں کو قتل کیا۔ ڈوگرہ مدافعت کو کچلنے، مہاراجا رنجیت سنگھ کی سلطنت کو جموں میں وسعت دینے اور ڈوگرہ سرفروشوں کو قتل کرنے کے عوض راجا گلاب سنگھ کو جموں کی باج گزار ریاست عطا ہوئی۔ لاہور دربار کو خوش کرنے کے لیے میاں ڈیڈو کے علاوہ جسروٹہ، بلادر، بسوہلی، بھمبر، ٹکری، کرمچی، کشتواڑ، بھدرواہ، سراج، کوٹلی ، راجوری، پونچھ، میرپور اور دوسرے علاقوں کے راجگان کے سر قلم کرکے ان کے پسماندگان کو ملک بدر کیا گیا۔ کھالوں میں بھوسہ بھر کر درختوں کے ساتھ لٹکایا گیا اور وحشت اور سفاکیت کا دور جاری کیا گیا۔
لیکن راجا رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد جب سکھ سلطنت کا زوال شروع ہوا اور انگریزوں نے پنجاب پر چڑھائی کی تو جموں کا یہ راجا، لاہور کے دربار سے غداری کر کے انگریزوں سے مل گیا۔ اس خدمت ِ خاص کے عوض ۷۵ لاکھ روپے نانک شاہی کی رقم جو انگریزوں نے ان پر تاوانِ جنگ ڈالا تھا، اس کی ادایگی کر کے ’بیع نامہ امرتسر‘ کے ذریعے کشمیر کا یہ صوبہ راجا گلاب سنگھ نے حاصل کیا۔ ۱۸۴۶ء سے ۱۹۴۷ء تک جموں کے ان نام نہاد ’ہیروز‘ کے اس خانوادے نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ میں رقم ہے۔ظلم کی اس سیاہ رات میں اصل خونیں بارش یہاں کے مسلمانوں پر برسی۔
سرزمین بنگال کی قسمت میں قربانی، سازش اور ظلم ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل انگریزوں اور ہندوئوں کے ظلم سہتے ہوئے بنگالی مسلمانوں نے گراں قدرقربانیاںپیش کیں اور غیرت و حمیت پر آنچ نہ آنے دی۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد انھی ہندوئوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے لیے مشرقی پاکستان کی بڑی سیاسی قوت نے خودسپردگی کا ایک ایسا رویہ اختیار کیا، جس نے انھیں تاحال سکون اور قومی خوداختیاری کی دولت سے محروم رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی عوامی لیگی حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں، جن پر یہ معروضات پیش ہیں:
o
اگرچہ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کو عوامی لیگی حکومت مسلسل نشانۂ ستم بنائے ہوئے ہے ، لیکن ستمبر کے آخری ہفتے میں جماعت اسلامی پر عتاب کا نیا وار کرتے ہوئے جماعت کے کارکنوں کی اچانک پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ۲۷ستمبر کو ضلع پبنہ کی سانتھیا تحصیل کے امیرمستفیض الرحمٰن فیروز اور جماعت اسلامی کی حلقہ خواتین کی فعال کارکنان کو بلاجواز گرفتار کرلیا۔ اسی طرح ضلع سرسنگدی کی تحصیل پولاش کے امیر مولانا امجد حسین کو بھی زیرحراست لے لیا گیا۔
۹؍اکتوبر کو نمازِ عشاء سے تھوڑی دیر پہلے، حکومت نے جماعت اسلامی کے امیر مقبول احمد، نائب امیر و سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پروار اور سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، محمد شاہ جہاں (امیرچٹاگانگ)، نذرالاسلام، سیف الاسلام، جعفرصادق اور نذرالاسلام ثانی کو گرفتار کرلیا۔ جماعت اسلامی نے تمام حکومتی مظالم، دھاندلیوں اور خوف ناک زیادتیوں کے باوجود جمہوری، پُرامن اور ایک اصولی پارٹی کے طور پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہے۔ ان قائدین کو گرفتار کرتے وقت الزام یہ لگایا گیا کہ ’’ڈھاکا کے ایک گھر میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا جارہا تھا‘‘، جب کہ جماعت کے ترجمان نے اس شرم ناک الزام کی تردید اور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ: ’’وہ ایک گھر کے احاطے میں سماجی تقریب میں شریک تھے، خفیہ یا تخریب کاری جیسے گھنائونے الزام کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہم ایک جمہوری پارٹی ہیں اور جمہوری طریقوں سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باوجود اس کے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کو جھوٹے الزامات اور غیرمنصفانہ اور یک طرفہ مقدمات میں مطیع الرحمٰن نظامی سمیت جماعت اسلامی کے پانچ مرکزی رہنمائوں (سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل قمرالزمان خان، اسسٹنٹ سیکرٹری عبدالقادر مُلّا، مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن میرقاسم علی) کو پھانسی پر لٹکادیا گیا، مگر جماعت نے کوئی غیرقانونی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اور جو پُرامن احتجاج کیے، ان میں بھی جماعت کے بہت سے کارکنوں کو حکومت کے ایما پر گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ پھر شہید مطیع الرحمٰن نظامی کی پھانسی کے بعد منتخب امیرجماعت اسلامی بنگلہ دیش مقبول احمد صاحب نے بوجوہ بڑے جلسوں میں شرکت سے گذشتہ پورے سال کے دوران میں اجتناب برتا ہے، مگر اس کے باوجود انھی پر شرم ناک الزام لگانا، حکومتی حلقوں کا ذہنی دیوالیہ پن ہے‘‘۔ یاد رہے ۲۰۱۳ء سے جماعت اسلامی پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ: ’’جب تک وہ اپنے دستور اور منشور کو سیکولر نہیں بناتی وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی‘‘۔
جناب مقبول احمد کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی نے سابق ممبر پارلیمنٹ پروفیسر مجیب الرحمٰن کو قائم مقام امیر اور جناب اے ٹی ایم معصوم کو قائم مقام سیکرٹری جنرل مقرر کیا ہے۔
۹؍اکتوبر ہی کو بنگلہ دیش سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کے تین لیڈروں کی نظرثانی کی اپیلوں پر کارروائی ۲۱نومبر تک ملتوی کی گئی۔ یاد رہے کہ ان میں اے ٹی ایم اظہرالاسلام، سیّدمحمد قیصر اور عبدالسبحان کو بنگلہ دیش کی خصوصی [جعلی] عدالتیں سزاے موت کی سزا سنا چکی ہیں۔ (روزنامہ ڈیلی اسٹار، ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)
قائم مقام امیرجماعت اسلامی کی اپیل پر ۱۲؍اکتوبر کو پورے ملک میں پُرامن ہڑتال کی گئی۔ابتدا میں تو نہیں، البتہ ہڑتال کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا (NTV ڈھاکا، ۱۲؍اکتوبر)۔ اسی دوران میں جماعت کے بہت سے احتجاجی کارکنوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں بند کردیا گیا۔ نیڑو تحصیل کے امیر ماسٹر نذرالاسلام ، سراج گنج کے امیر پروفیسر شاہدالاسلام اور رنگ پور سے تین مقامی لیڈروں کو پولیس نے اُٹھا لیا۔ ۱۵؍اکتوبر کو ست خیرا میں جماعت کے امیر پروفیسر عبدالغفار کو گرفتار کرلیا۔ اسی طرح کومیلا کے امیر قاضی دین محمد سمیت گیارہ ارکان، چاندپورسے امیرجماعت محمد حسین اور یہیں سے حلقہ خواتین کی ناظمہ فردوسی سلطانہ اور سیکرٹری فرزانہ اختر کو قید کر دیا گیا۔یاد رہے ریمانڈ کا پروانہ لے کر کارکنوں کو پولیس ٹارچر سیلز میں لے جاتی اور انسانیت سوز مظالم ڈھاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ظلم پر میڈیا خاموش، عدالت تماشائی اور قوم بے بس نظر آتی ہے۔
جماعت اسلامی کے ۸۰ سالہ امیر جماعت مقبول احمد کی جیل میں صحت بُری طرح خراب ہے۔ وہ ذیابیطس ، بلڈپریشر اور امراضِ دل میں مبتلا ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی میں شدید درد کے باعث ان کے لیے سیدھے کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں سخت مشکل پیش آتی ہے، اس لیے روزانہ فزیوتھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادویات میں بے قاعدگی، پرہیزی خوراک کے خاتمے اور جسمانی مشق کی کمی کے باعث ان کی صحت بگڑ گئی ہے، مگر حکومت آج ۲۵؍اکتوبر تک انھیں ہسپتال بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔
حسینہ واجد کی کٹھ پتلی حکومت نے اخلاق اور جمہوری روایات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ۱۸؍اکتوبر کو ڈھاکا سے اسلامی جمعیت طالبات بنگلہ دیش (اسلامی چھاترو شنگھستا) کی ۲۱ کارکنان اور عہدے داران کو درسِ قرآن کی ہفتہ وار کلاس سے گرفتار کرلیا۔ یہ طالبات اعلیٰ درجوں میں میڈیکل، سماجیات اور انجینیرنگ کے شعبہ جات سے وابستہ ہیں۔ اس ’روشن خیال اور لبرل‘ حکومت کے مطالبے پر ڈھاکا ہائی کورٹ نے طالبات کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انھیں پولیس کے ریمانڈ میں دے دیا، اور دو روز کے ریمانڈ کے بعد جیل بھیج دیا۔
راج شاہی یونی ورسٹی سے اسلامی چھاترو شبر کے آٹھ کارکنان کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور دہشت گردی کا الزام لگایا۔ اسلامی چھاتروشبر کے مرکزی صدر یاسین عرفات نے اس پر کہا ہے کہ: ’’ایک غیرقانونی حکومت، اندھی قوت کے نشے میں بدمست ہوکر گھٹیا الزام لگاتے ہوئے اخلاق، قانون اور قومی اداروں کو تباہ کررہی ہے۔ یہ گرفتاریاں، تشدد اور پھانسیاں تحریک ِ اسلامی کا راستہ نہیں روک سکتیں‘‘۔
o
حسینہ واجد حکومت نے پہلے بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدلیہ کو اپنی باج گزار بناکر اس سے خاص طور پر ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ کی کارروائی کی تائید اور انصاف کے قتل کے لیے زرخرید غلاموں کی طرح کام لیا۔ یوں بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے آنکھیں بند کرکے، نام نہاد خصوصی ٹریبونلی فیصلوں پر ایک ایک کر کے عمل کرایا اور جماعت اسلامی کے پانچ رہنمائوں اور صلاح الدین قادر چودھری کو پھانسی پر لٹکا دیا، جب کہ قائدتحریک اسلامی پروفیسر غلام اعظم اور ان کے دو رفقا کو جیل کے اندر ہی موت کی وادی میں اُتار دیا۔ حالیہ عرصے میں اسی بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سریندر کمار سنہا نے سات ججوں سمیت بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کی ۱۶ویں ترمیم کو اس کی اصل شکل میں نامنظور کرتے ہوئے، ۳جولائی ۲۰۱۷ء کو ۷۹۹صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا اور ۳؍اگست ۲۰۱۷ء کو ۳۹نکاتی فارمولا تجویز کرتے ہوئے متفقہ فیصلے کا اعلان کیا۔
عوامی لیگی حکومت کی طرف سے دراصل یہ ترمیم اس مقصد کے لیے کی گئی تھی کہ :’’آیندہ پارلیمنٹ کے ارکان، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا مواخذہ (impeachment) کرسکیں گے‘‘۔ فیصلے کے متن میں چیف جسٹس نے ایک جگہ ۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات میں شیخ مجیب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ یہ جملہ بھی لکھا کہ ’’وہ جدوجہد فردِ واحد کا ثمر نہیں تھی بلکہ اس میں پوری قوم نے حصہ لیا تھا‘‘۔ اس جملے کو عوامی لیگ نے مجیب کی توہین قرار دے کر چیف جسٹس کے خلاف مخالفانہ بلکہ توہین آمیز مہم چلانے اور دبائو بڑھانے کا آغاز کیا ،تاکہ وہ استعفا دیں۔
یہ مسئلہ اُس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گیا، جب جسٹس سنہا نے چند روز قبل ایک عدالتی کارروائی کے دوران یہ کہہ دیا کہ: ’’ہمیں جذبات پر قابو رکھنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے تو وزیراعظم نواز شریف کو برطرف کر دیا ہے، لیکن کیا وہاں پر سپریم کورٹ کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے؟‘‘ اس جملے کا میڈیا پہ آنا تھا کہ حسینہ واجد نے اسی روز شدید غصے اور برہمی میں چیف جسٹس سنہا کا نام لیے بغیر کہا:’’اسے اب سپریم کورٹ چھوڑنا ہی پڑے گا، اس لیے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کا موازنہ کیا ہے۔ کسی معاملے میں پاکستان کی مثال پیش کرنا ہمارے لیے توہین آمیز اور ناقابلِ برداشت فعل ہے‘‘۔ مزید کہا: ’’عوام کی عدالت زیادہ بڑی عدالت ہے۔ کوئی فرد عوام کی عدالت کو نظرانداز نہیں کرسکتا، میں عوام ہی کی عدالت سے انصاف کی طالب ہوں‘‘۔ حسینہ واجد کے مذکورہ بیان کے چند گھنٹوں بعد ۱۹۶۹ء کی عوامی لیگی اسٹوڈنٹ لیڈر موتیا چودھری، جو آج کل وزیرزراعت ہیں، نے بیان داغا: ’’چیف جسٹس کو ملک چھوڑ دینا چاہیے یا پھر دماغی امراض کے ہسپتال سےعلاج کرانا چاہیے‘‘۔ اُدھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی مذمت کی کہ: ’’عوامی لیگی حکومت نے عملاً چیف جسٹس کو قیدی بنا رکھا ہے‘‘۔ (India TV News Desk، ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)
ڈھائی ماہ پر پھیلی اس دھماچوکڑی کے بعد ۱۳؍اکتوبر کو چیف جسٹس سنہا نے ایک ماہ کی رخصت پر آسٹریلیا جاتے ہوئے اخبار نویسوں کو چند سطروں پر مشتمل یہ تحریر دی: ’’میں بیمار نہیں ہوں بلکہ صحت مند ہوں۔ میں بھاگ نہیں رہا بلکہ واپس آئوں گا۔ اگرچہ مجھے حکومتی رویے سے دُکھ پہنچا ہے لیکن عدلیہ کا سرپرست ہونے کی حیثیت سے میں اپنا کردارادا کروں گا‘‘ (ڈیلی نیوایج، ۱۴؍اکتوبر)۔ چیف جسٹس کی پرواز کے صرف تین گھنٹے بعد ان کے خلاف گیارہ الزامات کی فہرست جاری کردی گئی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ میں ان کے متعدد ساتھی ججوں نے ان الزامات کی موجودگی میں چیف جسٹس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ (بی ڈی نیوز، ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)
مزید یہ کہ قائم مقام چیف جسٹس محمد عبدالوہاب میاں نے چیف جسٹس سریندرکمار سنہا کے آسٹریلیا روانہ ہونے کے ۴۸گھنٹے کے اندر اندر سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے ۲۵اعلیٰ افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر تبادلے کر دیے ہیں۔ ان عدالتی افسروںمیں جسٹس سنہا کے قریبی رفقا شامل ہیں۔ اس اقدام سے ایک ہی روز قبل وزیرقانون انیس الحق اور اٹارنی جنرل محبوب عالم نے بیان دیا تھا کہ ’’قائم مقام چیف جسٹس تمام اقدامات اور فیصلے کرسکتا ہے‘‘۔(بی ڈی نیوز۲۴، ۱۶؍اکتوبر)
جماعت اسلامی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل اے ٹی ایم معصوم نے اس صورتِ حال کو: ’’عدالتی معاملات میں حکومت کی سیاسی، حکومتی اور غیراخلاقی مداخلت قرار دیا، اور کہا کہ دراصل حسینہ حکومت عدالتی افسروں، ججوں اور عدالتی عمل پر مکمل گرفت قائم کرنا چاہتی ہے‘‘،جب کہ قائم مقام چیف جسٹس نے یہ بیان داغ دیا ہے کہ: ’’جسٹس سنہا کو جاتے جاتے منصب کے احترام میں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا‘‘ (ڈیلی اسٹار ، ۱۷؍اکتوبر)۔ پیش نظر رہے کہ جسٹس سنہا نے ڈھائی ماہ تک عوامی لیگی طوفانی پروپیگنڈے، گندے کارٹونوں اور گھنائونے الزامات کے جواب میں صرف یہی تین جملے لکھے۔
اس صورتِ حال سے یہ اندازہ ہوتا ہے، بھارت اپنی نوآبادی بنگلہ دیش کا نظام ٹھیک طور سے نہیں چلنے دینا چاہتا۔ اس کی یہی کوشش ہے کہ ۱۶کروڑ آبادی کا یہ ملک ہرآن کسی نہ کسی افراتفری کا شکار رہے ، تاکہ معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں وہ ایک مجبور اور غیرمستحکم ریاست کے طور پر تاجِ دہلی کا دست ِ نگر رہے۔ اس آئینے میں، اس خطّے ہی کے نہیں بلکہ خود عرب دنیا کے نام نہاد علاقائی قوم پرستوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب بڑی طاقت ، نفرت کے بل پر نام نہاد آزادی دلاتی ہے تو بنیادی کنٹرول اپنے ہاتھ ہی میں رکھتی ہے۔ اپنی ملّت سے غداری کرنے والوں کو محض علامتی اختیار دیتی ہے اور لیلاے اقتدار سے نہیں نوازتی۔
o
بنگلہ دیش کے ہمسایہ ملک برما (میانمار) میں ایک عرصے سے مسلمانوں کی نسل کشی کا گھنائونا کھیل جاری ہے۔ اس دوران عوامی لیگی حکومت نے بھی عزت، آبرو اور جان بچاکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کو سمندر میں دھکیل کر موت کی لہروں کے سپرد کیا۔ تاہم، گذشتہ چندماہ میں بنگلہ دیشی حکومت کے رویے میں مثبت تبدیلی آئی، جس کا بڑا سبب عالمی اور ملکی راے عامہ کا دبائو بھی تھا۔
روہنگیا مسلمانوں کی وحشیانہ نسل کشی کے خلاف راے عامہ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حتی المقدور کوششیں شروع کیں۔ جماعت اسلامی کے امیرمقبول احمد نے روہنگیا مسلمانوں کی ناقابلِ بیان صورتِ حال، میانمار حکومت، میانماری فوج اور بدھ بھکشوئوں کی جانب سے بدترین قتل و غارت گری و بے چارگی پر دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے ہم وطن اہلِ درد سے اپیل کی کہ وہ مظلوموں کی مدد کریں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق، دنیابھر کے مؤثر اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں۔ مقبول احمد صاحب نے اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا: ’’روہنگیامسلمانوں کے سفاکانہ قتل عام کو رُکوانے میں وہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔ میں عالمی تنظیموں، مسلمان ملکوں اور رفاہی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مدد کے لیے تڑپتے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے بنگلہ دیش کا ہاتھ بٹائیں۔ اس بحران میں پوری بنگلہ دیشی قوم یک آواز اور ہم قدم ہے‘‘۔(بی ڈی نیوز ۲۴، ۱۲ستمبر ۲۰۱۷ء)
عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) کے مطابق:’’ ۲۰ستمبر تک میانمار میں مسلمانوں کے ۲۴۴ گائوں مکمل طور پر تباہ کردیے گئے تھے‘‘(ڈیلی نیونیشن، ۲۰ستمبر)۔ بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ۵لاکھ ۳۶ہزار روہنگیا مہاجر بنگلہ دیش آچکے ہیں۔ اسی دوران حسینہ واجد کے سیاسی مشیر حسان توفیق امام نے مغالطہ انگیزی پیدا کرتے ہوئے کہا: ’اراکان روہنگیا مجاہدین آزادی‘، بنگلہ دیش اور برما دونوں کے دشمن ہیں، ہم انھیں قدم نہیں جمانے دیں گے‘‘(مِزما نیوز،میانمار، ۲۱ستمبر)۔ اس کاغذی تنظیم کا تذکرہ کرکے بنگلہ دیشی حکومت نے روہنگیا مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کی اور ان کے دُکھ درد میں اضافہ کیا۔ یہ طرزِ بیان بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس اور برمی فوج کا ہے، جسے ڈھاکا حکومت نے اپنی طرف سے نشر کیا۔ حسینہ واجد حکومت کے اسی دوغلے پن کو نظام احمد نے اپنے مضمون: ’ڈھاکا دہلی رومانس اینڈ روہنگیا‘ میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا(ڈیلی آبزرور ، ۲۰ستمبر)۔ پھر ۲۰ روز بعد روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی تین رفاہی تنظیموں: مسلم ایڈ بنگلہ دیش ، اسلامک ریلیف اور علامہ فضل اللہ فائونڈیشن پر پابندی عائد کر دی گئی اور صحافیوں نے اس انتہائی اقدام کا سبب جاننا چاہا، تو ڈائرکٹر رجسٹریشن نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔(بی ڈی نیوز ۲۴، ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)
درحقیقت بنگلہ دیشی حکومت ، جہاں ایک طرف روہنگیا مسلمانوں کی حالت ِ زار کے نام پر دنیا سے مدد حاصل کر رہی ہے، وہیں نہ صرف عالمی سطح کی بلکہ مقامی رفاہی تنظیموں کو بھی ان کی مدد کے لیے ہاتھ بٹانے سے روک رہی ہے۔ روزانہ کوئی نئے سے نیا حکم نامہ آکر، بے لوث خادموں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردیتا ہے۔ بنگلہ دیش کے صحافتی حلقے یہ بات برملا کہتے ہیں کہ: ’’ستمبر سے بنگلہ دیش جماعت اسلامی پر قیدوبند کی حالیہ یلغار کے پیچھے ایک یہ سبب بھی ہے کہ کہیں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی اَن تھک کوششوں سے اس کی نیک نامی میں مزید اضافہ نہ ہوجائے اور حکومتی اداروں کی بدانتظامی کا پول کھل نہ جائے‘‘۔
بنگلہ دیش میں برما سے ہجرت کرکے آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار جاننے، اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ۹سے ۱۱ستمبرکے دوران بنگلہ دیش جانا ہوا۔ ۷۲گھنٹے میں نے ان علاقوں میں گزارے جہاں روہنگین مسلمانوں آکر رُکے ہوئے ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک کافی بڑی تعداد میں ان خانماں برباد مظلوموں کے قافلے سمندری اور دریائی پانیوں اور دلدلوں کو پار کرکے بے سروسامانی اور بڑی ہی قابلِ رحم حالت میں چلے آرہے تھے۔ ان کے چہرے کیچڑ سے اَٹے ہوئے تھے۔ کسی نے اپنے والد کو اٹھایا ہوا تھا تو کسی نے والدہ کو۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے نومولود بچے بھی ان کے ساتھ ہیں۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں بارشیں بہت ہوتی ہیں اور وہ سبھی کھلے آسمان تلے سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔
اس کیفیت کے باوجود دو چیزیں بنگلہ دیش میں ہوئیں۔ بنگلہ دیش حکومت کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ ہم ان کو قبول ہی نہیں کرتے، ان کو واپس دھکیلا جائے۔ ظاہر ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو دھکیلنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن اس نازک موڑ پر جو کردار جمہوریہ ترکی کی طیب اردگان حکومت نے اداکیا ہے، وہ حددرجہ لائقِ تحسین ہے ۔ انھوں نے روہنگیا مہاجرین کی آبادکاری کے لیے بنگلہ دیش حکومت کو ہر طرح کے مالی تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔اسی لیے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے وہاں کا دورہ بھی کیا اور اس حوالے سے کافی حوصلہ افزا بیانات دیے۔ جس سے اب وہاں کچھ بہتری آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ملکی و بین الاقوامی این جی او ز یا رفاہی تنظیمیں وہاں پہنچ رہی ہیں۔ الخدمت پاکستان نے یہ طے کیا کہ ہم مقامی رفاہی تنظیموں کے ساتھ تعاون کریں گے، جو ان کے حالات سے واقف ہیں اور مقامی طور پر ا ن کی بہتر انداز سے مدد کرسکتے ہیں۔
چار میدانِ کار ہماری توجہ کا ہدف ہیں۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ ان کو کھانے اور ادویات کی فراہمی۔ دوسرا سینی ٹیشن (حوائج ضروریہ) کے لیے انتظام ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ایک چھوٹے سے علاقے میں آکر ڈیرہ لگا لیں تو وہاں خواتین، بچوں اور مردوں کی ان ضرورتوں کو پورا کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے مقامی مددگاروں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی ہے۔ تیسرا پہلو ان کے لیے چھت اور سایے کابندوبست کرنا ہے، تاکہ بارش کے دوران ان لوگوں کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ موجود ہو۔اور چوتھا میدان ہے پینے کے صاف پانی کی فراہمی۔ اگر یہ کام نہ ہوئے تو اگلے چند ہفتوں میں وہ وبائیں پھیلیں گی کہ لوگوں کو سنبھالنا بڑا مشکل ہوجائے گا۔ ہم انھی چاروں میدانوں میں مقامی رفاہی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ان تنظیموں میں بنگلہ دیش کے مقامی باشندے شامل ہیں۔
جہاں تک میانمار کا معاملہ ہے ، تو وہاں نہ کسی این جی او کا جانا ممکن ہے اور نہ کسی این جی او کا وہاں سے آنا ممکن ہے۔ وہ ایک مکمل فوجی انتظام میں گھرا علاقہ ہے۔یورپ کی جن دوچار این جی اوز نے میانمار میں کام کرنے کی اجازت لی ہوئی تھی، ان کو بھی نکا ل دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں ترکی ، ملایشیا، انڈونیشیا اور سری لنکا کی رفاہی تنظیمیں ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ تاہم، پاکستان کے بارے میں بنگلہ دیش میں احتیاط پائی جاتی ہے کہ ان کی آمد سے ملک میں پتا نہیں کیا ہوجائے گا۔ اس لیے اسلام آباد سے ویزہ ملنا مشکل ہے۔ برطانیہ ،امریکا اور یورپ میں رہنے والوں کے لیے آسانی ہے کہ ان کو ایئرپورٹ پر بھی ویزہ مل جاتا ہے۔
ہم انڈونیشیا کی ایک تنظیم کے ساتھ مل کر ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کا کام کررہے ہیں۔ پہلے ان کے ساتھ مل کر میانمار کے اندر بھی کام کررہے تھے، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ اسی طرح ملایشیا کی تنظیم بھی ہماری معاون ہے۔ برطانیہ اور ناروے کی تنظیمات رابطے میں ہیں۔ ترکی کی سب سے بڑی رفاہی آرگنائزیشن آئی ایچ ایچ [انسانی یاردم]ہے، جو فلسطین میں فلوٹیلا لے کر گئی تھی اورپیشہ ورانہ بنیادوں پر بہت اچھا کام کر رہی ہے۔اس کے علاوہ ’حیرات‘ اور ’جانسیو‘ کے پاس تو باقاعدہ لائسنس تھا، حتیٰ کہ میانمارکے اندر بھی ان کے دفاتر تھے، لیکن اب ان پر پابندی عائد کرکے انھیں وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ کاکسز بازار (بنگلہ دیش) میں کیمپ لگاکر کام کر رہی ہیں۔ اسی طرح ترکی کی ’ٹیکا‘ بھی ایک بڑی تنظیم ہے، جسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ یہ صدر طیب اردگان کی اہلیہ کے ساتھ گئے تھے۔ ان تمام تنظیموں کے ساتھ ہمارے قریبی رابطے ہیں۔
مقامی لوگوں سے بھی ہماری بات ہوئی، جنھوں نے بتایا کہ ہم نے بنگلہ دیش کے اندر مہم چلائی ہے اور اس وقت تک اس مد میں کثیر رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے بنگلہ دیش کے اندر ہمدردی کی ایک لہر ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر اُٹھنے والے ردعمل نے حکومت پر دباؤڈالا ہے تو دوسری طرف مقامی آبادیوں میں بھی اس پر اچھا ردعمل موجود ہے۔ واپسی پر جہاز میں کچھ کاروباری حضرات سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ اپنے اپنے کام چھوڑ کر اس علاقے میں شیلٹرز بنوانے اور باقی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے گئے ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش کی مقامی مسلم آبادی اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتی کہ ان کی سرزمین پر ان کے بھائی آئے ہوں اور وہ ان کی مدد کو نہ نکلیں۔
آج کی دنیا میں سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس پر کسی کا کنٹرول نہیں۔ چند تصویریں جو پرانی تھیں یا غلط طور پر روہنگیا مسلمانوں سے منسوب کی گئی تھیں، ان کے حوالے سے مخالفانہ پروپیگنڈا کیا گیا۔ لیکن ان چند غلطیوں سے بنیادی حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ یہ جو تین چار لاکھ لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں، کون کہہ سکتا ہے کہ یہ من گھڑت کہانی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی تکلیف کی وجہ سے گھربار چھوڑ کر آئے ہیں، اور جو آپ بیتیاں سناتے ہیں وہ رونگٹے کھڑے کرنے والی ہیں۔
میں نے رات کے وقت ایک ایسا کیمپ بھی دیکھا، جس کو کاغذ کے ہلکے سے ٹکڑے کو استعمال میں لاکر صرف سر چھپانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس میں کم از کم ستر اسّی ایسے بچے تھے، جن کی عمریں لگ بھگ ایک سے تین سال کے درمیان تھیں۔ وہ بے یارومددگار پڑے بلبلا رہے تھے۔ہوسکتا ہے ان کے والدین ان کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرنے گئے ہوں۔ لیکن اس وقت کوئی بڑا ان بچوں کے پاس موجود نہیں تھا۔ جب کوئی انسان ایسی صورتِ حال کو آنکھوں سے دیکھے گا تو کوئی اسے من گھڑت کیسے کہہ سکتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جو لوگ وہاں پہنچ پائے ہیں، یہ اس مظلوم آبادی کا صرف ایک حصہ ہے ۔ ایک بڑی تعداد وہ ہے جواَب تک پہنچ نہیں پائی اور جنگلوں میں اس انتظار میں ہے کہ کوئی انھیں یہاں سے نکالے، ورنہ وہ ذبح کردیے جائیں گے۔ یہ ایسے حقائق ہیں جن کی نفی کسی صورت میں ممکن نہیں ہے۔
جن علاقوں میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں، ان میں کچھ علاقے تو وہ ہیں کہ جہاں پانی اتنا گہرا نہیں ہے اور چھوٹی لانچوں سے نکالا جاسکتا ہے ۔ لیکن بعض علاقے ایسے ہیں جہاں گہرے پانیوں سے ان کو گزر کر خشکی پر آنا ہوتا ہے، جو کہ صرف بڑی لانچوں کا کام ہے۔ انسانی اسمگلنگ کا کام کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک کاروبار بن چکا ہے کہ وہ رقم لے کر ان لوگوں کو سمندروں اور دلدلوں سے نکال کر خشکی پر لائیں ورنہ وہ سمندر ہی میں موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ جن کا تذکرہ میں کر رہا ہوں وہ بہت قابل رحم ہیں۔ جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں وہ انسانی جانوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کا اہتمام کرسکتے ہیں۔یہ بھی ایک اہم میدانِ کار ہے۔ اس کے لیے چاہیے کہ لوگ آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
روہنگیا بھائیوں کی مدد کرنے والے بہنوں اور بھائیوں سے ہماری درخواست ہے کہ وہ چیزیں بھیجنے کے بجاے زیادہ سے زیادہ نقد عطیات دیں۔ لوگ ہمیں بار بار یہ کہتے ہیں کہ: ’’ہم چاول اور اس طرح کی دوسری اشیا بھیجنا چاہتے ہیں‘‘۔ چوںکہ چاول وہاں کی مقامی پیداوار ہے، لہٰذا اگر ہم یہاں سے لے کر وہاں بھیجیں گے تو دگنی قیمت میں پڑیں گے۔ انھی دنوں ملایشیا نے ایک بڑی کھیپ غذائی اشیا کی بھیجی ہے۔ ملایشیا بالکل قریب بھی ہے اور ان کے پاس سرکاری وسائل بھی ہیں۔ لیکن ان کے برعکس پاکستان سے افراد نقدی ہی کو ترجیح دیں۔ اگر سامان آ بھی جائے تو اسے ہم براہِ راست نہیں بھیج سکیں گے۔ اسے انڈونیشیا یا ملایشیا کی تنظیموں کو دینا ہوگا اور یوں یہ ایک لمبے روٹ سے ہوکر ادھر پہنچے گا۔
بنگلہ دیش کی جن تنظیموں کے ساتھ ہم نے کام کیا ہے، وہ وہاں کی رجسٹرڈ تنظیمیں ہیں۔ یادرہے پاکستان سے مالی امداد کا پہنچانا، وہاں کی حکومت شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس لیے ہم مظلوموں کی مدد کے لیے رقم کی فراہمی کو کسی شک و شبہے کا شکار بنانے کے بجاے، انھی کے حوالے کر رہے ہیں، جن کے بارے میں بنگلہ دیشی حکومت اطمینان رکھتی ہے۔
پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی ۲۵تنظیموں نے روہنگیا ٹاسک فورس بنائی ہے اور یہ طے کیا کہ پاکستان سے یہ امداد وہاں پہنچائی جاسکے۔ ہمیں اور ہماری لیڈر شپ کو بنگلہ دیشی ہائی کمشنر سے ملنا چاہیے اور انھیں کہنا چاہیے کہ باقی اختلافات اپنی جگہ، لیکن انسانی ہمدردی میں آپ نے جو اقدامات کیے ہیں ہم اس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔آپ اپنے حفاظتی اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، مسلم ملکوں سے امداد کے راستے کھولیں جو خود آپ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ اسی طرح کراچی میں ۳سے ۴ لاکھ روہنگین مسلمان پچھلے ۵۰ سال سے آباد ہیں، جنھیں ابھی تک شہری حقوق نہیں ملے ہیں۔ وہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں بنوا سکتے اور ملازمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔ حکومت پاکستان ان کو شہریت دے تاکہ ان کی مشکلات دُور ہوں اور وہ زیادہ ذمہ دار شہری کے طور پر خدمات انجام دےسکیں۔
جموں و کشمیر میں جبری بھارتی قبضے سے آزادی حاصل کرنے کے لیے رواں عوامی تحریک نے بھارت اور اس کے مقامی گماشتوں کو لرزہ براندام کر کے رکھ دیا ہے۔ اس تحریک کو کچلنے کے لیے بھارتی فورسز اور پولیس فورس ریکارڈ توڑ مظالم ڈھا رہی ہیں۔ بھارتی سفاک فورسز نہتے لوگوں کو گلی کوچوں ، سڑکوں ، بازاروں اور گھروں میں گھس کر بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے میں مصروف ہیں۔ بلالحاظ عمر لوگوں کو بے رحم اور انسان کُش قوانین کے تحت گرفتار کر کے پابندِ سلاسل بنانے کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔
جموں وکشمیر میں جاری قتل وغارت اور درپردہ خفیہ منصوبہ سازی،بھارتی بوکھلاہٹ کی عکاس ہے۔بھارت اس حقیقت سے بہ خوبی واقف ہے کہ وہ یہاں تعینات کی گئی سات لاکھ سے زیادہ فوج کے بل بوتے پر قابض ہے اور یہی ٹڈی دَل فوج ہماری آزادی کی راہ میں سد راہ ہے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد ہم اس مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنی منزل صاف دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ اس اَن تھک اور دلیرانہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس میں جموں وکشمیر کے لوگوں نے بے باک مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے فوجی قبضے میں وحشت ناک مظالم کا مقابلہ کر کے، اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ لوگوں کے عزم واستقامت کے سامنے نہ کوئی قابض فوج مزاحم ہوسکتی ہے اور نہ طاقت کے بل پر دبایا جاسکتا ہے۔
رواں عوامی تحریک کوئی حادثاتی واقعہ نہیں ہے کہ جس کا تعلق محض ایک صدمہ انگیز واقعے سے ہو، بلکہ یہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی، بھارت کے جبری قبضے سے آزادی حاصل کرنے کی طویل جدوجہد کا تسلسل ہے۔ کمانڈر برہان مظفر وانی شہید اور ان کے دو ساتھیوں کی شہادت پر لوگوں نے گھروں سے نکل کر والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ پابندیوں اور قدغنوں کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں اپنے ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ترال کی جانب مارچ کیا اور ان کے مشن کے ساتھ وفاداری کا ثبوت پیش کیا۔
اس وقت سے لے کر آج تک تحریک آزادی کے ساتھ وادی کے ہر بستی ، ہر قصبے ، ہرشہر ، ہر سڑک اور ہر بازار میں جس جذبے اور وابستگی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ ا س حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے اور بھارت کے درمیا ن اگر کوئی تعلق ہے، تو وہ صرف مظلوم وظالم ، مقہور و قابض اور مجبور وجابر کا ہے۔ بھارت نے متعدد شکلوں میں اپنے جو گماشتے تیار کر رکھے تھے، وہ اس عوامی تحریک کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ ہم نے بار بار یہ کہا کہ یہ مفادات و مراعات یافتہ اور ہندنواز طبقہ کلہاڑی کے دستے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قابض بھارت کی کٹھ پتلیاں ہیں، جو جموں وکشمیر میں بھارتی قبضے کو مضبوط بنانے کے علاوہ بھارتی فورسز کی وحشت ناک قتل وغارت گری اور شرم ناک ظلم وجبر اور لوگوں کو اپاہج اور اندھا بنانے جیسے مظالم کا جواز پیش کرنے اور ان کا دفاع کرنے کا کام انجام دے رہی ہیں۔
رواں عوامی تحریک نے ہماری جدوجہد آزادی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جس سے بھارت حواس باختہ ہو چکا ہے۔ اس کے حکومتی ایوانوں ، پارلیمنٹ اور متعصب میڈیا چینلوں میں ہلچل بپا ہے۔ اس عوامی تحریک نے بھارتی مکروفریب پر مبنی فوجی منصوبوں کو ہلاکے رکھ دیا ہے۔ حصولِ آزادی کے لیے ہمارے عزم راست کے سامنے ان کے شیطانی منصوبے اور فریب کاری مات کھا رہے ہیں۔
موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک اور بالخصوص ۱۹۸۹ء کے بعد سے اپنے ان جانباز شہیدوں ،مجاہدوں اور محسنوں کی بیش بہا قربانیاں یاد رکھیں، جو انھوں نے تحریک آزادی کشمیر کو پروان چڑھانے کے لیے پیش کی ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں پوری دنیا ورطۂ حیرت میں پڑگئی کہ اب جموں و کشمیر کے لوگ بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
یہ پُرزور تحریک آزادی کشمیر عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کامیابی کے جواب میں بھارت نے طویل ظلم وتشدد اور جبرو سفاکیت کا مسلسل بازار گرم کیے رکھا ہے۔ قتل وغارت گری ، لوٹ مار، گھیرائو جلائو، عصمت دری اور کُشت وخون سے پوری ریاست کو لالہ زار بنا دیا گیا ہے۔ بھارتی سفاکوں کا خیال تھا کہ اس کے نتیجے میں اہل کشمیر، تحریک آزادی سے دست بردار ہو جائیں گے اور بھارت کی غلامی پر رضامند ہو جائیں گے ۔ لیکن ہمارے مجاہدین اور بہادر عوام نے عظیم قربانیاں دے کر بھارتی منصوبوں کو ناکام بنا کر، تحریک آزادی کی شمع فروزاں رکھی ہے۔ عام شہریوں اور ہتھیار بند مجاہدین میں کوئی تمیز کیے بغیر بھارتی فورسز گھپ اندھیروں میں اور دن دہاڑے بے تحاشا قتل عام انجام دیتی رہیں۔ بھارت کے اس ظلم وجبر کے باوصف ہر موقعے پر جذبۂ مزاحمت کے پیکر ہمارے بزرگوں اور نئی نسل نے بھارتی فوجی قبضے کے خلاف ہر ممکن طریقے سے مزاحمت جاری وساری رکھی ہے۔
گذشتہ دو عشروں کے دوران بھارت نے بچوں اور خواتین سمیت ہمارے لاکھوں لوگوں کو شہید کر ڈالا ہے۔ ۱۰ ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کر کے لاپتا کر دیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے بچوں کو یتیم کر دیا گیا ہے۔ ہماری ہزاروں بہنوں اور بیٹیوں کو بیوائوں اور نیم بیوائوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے جوانوں اور بزرگوں کو ٹارچر سیلوں میں اپاہج اور معذور بنا دیا گیا ہے۔ ہزاروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید یا لاپتا کر دیا ہے۔ بھارت کی اس سفاکیت نے بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمارا جذبۂ آزادی کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ہم ان الم ناک واقعات و حوادث کے باوجود آج بھی اپنی آزادی کے مطالبے کو لے کر پوری جاںفشانی کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ ہمارے دل جذبۂ آزادی سے سرشار ہیں۔ ۲۰۰۸ء، ۲۰۰۹ء، ۲۰۱۰ء اور اب۲۰۱۶ء سے اُبھار پانے والی عوامی تحریک نے ہماری جدوجہد آزادی کو نئی زندگی اور نئی قوت بخشی ہے۔ قابض بھارت کے پاس دنیا کی تیسری بڑی فوج ہے، جس میں سے سات لاکھ سے زیادہ فوجی صرف جموں وکشمیر میں تعینات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ اس کے مقابلے میں نہ ہمارے پاس کوئی فوجی طاقت ہی ہے، نہ وسائل وذرائع ہیں اور نہ ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی طاقت ہے۔ اگر ہمارے پاس کوئی طاقت ہے تو وہ اللہ کی رحمت اور ہماراجذبۂ مزاحمت ہے۔ ہماری سب سے بڑی قوت اللہ پر توکل اور تحریک کی صداقت ہے۔ ہماری طاقت ہمارا باہم اتحاد اور اعتماد او ر غلامی کی ذلّت سے آزادی حاصل کرنے کا عزمِ صمیم ہے۔ ہماری فتح ونصرت کا ثبوت اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ بھارتی قابض فوج کو کشمیر میں آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے عمر رسیدہ خواتین اور بزرگوں، چار چار سالہ معصوم بچوں پر فائرنگ اور جواں سال کالج اساتذہ کو لاٹھیوں اور بندوق کے بٹوں سے تشدد کرکے اَبدی نیند سلانا پڑتا ہے۔ اگر ۷۰سال کے فوجی قبضے کے بعد بھی بھارتی فوجی اہلکاروں کو ایک نہتی عورت اور ہاتھ میں چھوٹا سا پتھر اٹھانے والے کمسن بچے کو کشمیر کو بھارت کے جبری قبضے میں رکھنے کے لیے گولیوں سے بھون ڈالنا پڑتا ہے، تو آپ خود ہی بتائیے کہ اس سے بڑھ کر ان کی بدترین شکست کی اور کیا مثال پیش کی جا سکتی ہے۔
کوئی بھی تحریک قربانیوں کے بغیر منزل کی طرف رواں نہیں رہ سکتی۔ہماری تحریک قربانیوں سے مزین ہے۔ ہم نے اپنی جانوں کی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ ہمارے بچے قابض بھارتی ٹارچر سنٹروں میں تختہ مشق بنائے جا رہے ہیں۔ بزدل بھارت ہمارے بچوں کو منصوبہ بند انداز میں اندھا بنا رہا ہے۔ ہم نے اپنی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو معطل کرکے، ظلم کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے۔ ہمارا مزدور ، کاشتکار ، ٹرانسپورٹر ، بڑھئی، غرض معاشرے کا ہر طبقہ ہر لحاظ سے قربانیاں پیش کر کے ہماری تحریک کا ہر اول دستہ ہے ۔ یہ تحریک، یہاں کے ایک ایک فرد کے دل کی آواز ، آرزو اور تمنا کا مظہر ہے۔ چاہے کوئی فرد درس وتدریس ، تجارت ، ڈاکٹری ، نوکری یا کسی پیشے سے تعلق رکھتا ہو، اس کے دل کی اُمنگ آزادی ہے۔ ہماری یہ قربانیاں آزادی کی اس عمارت کے پیوست اور راست ستون ہیں۔
رواں عوامی تحریک کے دوران لوگوں نے جس باہمی اخوت وہمدردی اور اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم نے ایک آزاد قوم کی حیثیت سے جینے کا آغاز کیا ہے ۔ ہمارے گلی کوچوں سے لے کر ہمارے قائدین تک، ہم تحریک آزادی کے لیے یک جا اور یک سو ہیں۔ حالاں کہ ہمیں باربار سخت کرفیو میں جکڑا جارہا ہے۔ ہمیں جیلوں میں قید اور گھروں میں نظر بند کیا جارہا ہے۔ ہمیں تعذیب وتشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ کبھی بھی ہم سے ہمارا جذبۂ آزادی چھین نہیں سکتے اور ہمیں غلامی پر رضا مند نہیں کرسکتے۔ ہم ایک ہیں ، ہم متحد ہیں، اور ہمیں متحد ہو کر رہنا ہے۔ ہمارا اتحاد واتفاق ہی ہمارے دشمن کی شیطنت کی موت ہے۔
ہماری تحریک میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان نے ہمارے محسن ، وکیل اور دوست ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے ہمارا درد محسوس کیا ، ہمارے حق میں آواز بلند کی اور ہر سطح پر ہماری سفارتی اور اخلاقی مدد کا یقین دلایا۔ یہ بات بڑی خوش آیند ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے آزادی کے لیے آج جو زور دار آواز اٹھائی ہے، وہیں پاکستانی حکومت اور عوام بھی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت کرنے کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہم عوامی جمہوریہ چین ، ناروے، سعودی عرب ، نیوزی لینڈ، ایران اور اسلامی تعاون تنظیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ہمارے حق میں آواز اٹھائی اور جموں وکشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کی مذمت کی۔ ترکی کی جانب سے بھارت کے خلاف اور ہماری تحریکِ آزادی کی غیر مبہم اور برملا سپورٹ کرنے پر ہم دل کی گہرایوں سے ان کے شکر گزار ہیں۔
ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہمیں خطوط لکھنے اور انھیں دنیا کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے بھی دوسروں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ ہماری آزادی کی اُمنگ اور درد وکرب اور مظالم کی داستانیں، برہمنی قوم پرست صحافیوں اور قلم کاروں کے استحصال کا شکار ہوتی تھیں۔ ہم پر ٹوٹنے والی افتاد کی اصلی صورت حال، بگاڑ کر دنیا کے سامنے پیش کی جاتی تھی۔ سواے چند حقیقت پسند اور انسانیت دوست افراد کے، بھارت کی تمام میڈیا مشینری جھوٹ کا سہارا لے کر ہماری مبنی برحق وصداقت تحریکِ آزادی کو دہشت گردی سے موسوم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی تھی۔ ہندستانی میڈیا دراصل بھارتی حکومت کی پالیسیوں کا ترجمان ہے اور بھارت کا جموں وکشمیر پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے یہ ادارے حکومتی ڈکٹیشن پر من وعن عمل پیرا ہیں۔
ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ہمارے قلم کار اور مصنّفین، بڑی دلیری اور غیرمبہم طریقے سے بھارتی مظالم اور تحریک آزادی کے ساتھ یہاں کے لوگوں کی وابستگی کی حقیقی صورت حال دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا ہماری سڑکوں ، گلی کوچوں اور ہسپتالوں سے حقیقی صورت حال کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ ہم بین الاقوامی پریس کی طرف سے دیانت دارانہ انداز میں حقیقی صورتِ حال کو دُنیا کے سامنے پیش کرنے پر ان کے شکرگزار ہیں۔
آج، جب کہ ہم بہ حیثیت قوم، اجتماعی طور پر حصول آزادی کی تحریک میں یکسو ہو کر برسرِپیکار ہیں، وہیں ہم غاصب بھارت کے طرف دار گنتی کے ان مقامی مفاد پرست عناصر سے تحریکِ آزادی میں شامل ہونے کی ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں ۔ کیوںکہ اپنی قوم کے ساتھ دغابازی کا مرتکب یہ طبقہ اس بات سے بہ خوبی واقف ہے کہ وہ تاریخ اور تحریک کی سچائی اور حقیقت کے مدمقابل کھڑا ہوکر محض ذاتی مفادات ومراعات کے لیے قابض بھارت کا آلۂ کار ہے۔ اس حیثیت سے وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف بر سرِ جنگ ہو کر اپنی عاقبت کو برباد کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ یہ فریب خوردہ مقامی لوگ، فاشسٹ برہمن قوتوں سے اقتدار حاصل کرنے کے بہکاوے میں آئے ہیں،جنھوں نے ریاست جموں وکشمیر کا مسلم اکثریتی کردار ختم کرنے کی ٹھان رکھی ہے ۔ یہ ہمارے ملّی اور دینی تشخص کو مٹانے کے در پے ہیں، اور ہم سے ہماری تہذیب اور ثقافت چھیننے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ ان مقامی فریب خوردہ عناصر کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ اس طرزِعمل سے باز آ جائیں اور اپنی قوم کے ساتھ شانہ بشانہ چل کر غداری اور دغا بازی سے کنارہ کش ہوجائیں، اور اس طرح اپنے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے تحریکِ آزادی کشمیر میں شمولیت اختیار کریں۔
ہم خصوصاً ان لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں،جو محض رزق کے چند ٹکڑوں کے لیے قابض بھارتی مشینری کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں، اور اپنے ہی لوگوں پر مظام ڈھانے اور تحریکِ آزادی کو کچلنے کے عمل کو فرض شناسی تصور کرتے ہیں ۔ میں ان بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ظالم اور ظلم سے اجتناب کریں اور حق وصداقت کا ساتھ دیں تو اللہ آپ کے دلوں کو طمانیت اور سکون سے نوازے گا۔ اللہ آپ کے لیے رزق کی فراہمی کے ذرائع واسباب کشادہ کرے گا۔ ظالم وجابر کا مددگار بننے پر اللہ تعالیٰ نے خوف ناک انجام کی وعید سنائی ہے۔ اس لیے آپ قابض بھارتی قوتوں کا مدد گار بننے سے تائب ہوں، اور مظلوم قوم کی اجتماعیت میں شامل ہو کر جاری جدوجہد میں شریک ہوجائیں۔
وقت کا یہ اہم تقاضا ہے کہ ہم مزاحمتی تحریک کے اس دور کو راسخ اور پیوست کریںاور سودے بازی کے بجاے مزاحمت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں ۔ ترجیحات اور ذمہ داریوں کا ادراک کر کے تحریک آزادی کو مستحکم اور منظم کریں۔ ہماری اس مزاحمت اور قربانیوں نے تحریکِ آزادی کو کسی بھی ابہام اور شک وشبہے سے محفوظ کر دیا ہے ۔ تحریک تسلسل کا نام ہے ۔ ہم واضح اور شفاف تحریک، اور اس کی منزلِ مقصود کو ابہام اور دھندلاہٹ کا شکار نہ ہونے دیں۔ اس مقدس مشن کو گم کرنے کی کوئی دانستہ یا نادانستہ کوشش نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہمیں اس مرحلے کو اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے ایک مشعل کی حیثیت دینا ہو گی۔ ہمیں فوراً اپنے گردونواح میں رواں تحریک میں متاثرہ افراد، اہل خانہ اور دیگر متاثرین تک پہنچنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر بستی میں بیت المال قائم کر کے حاجت مندوں کی حاجت روائی کی جانی چاہیے۔ شہدا ، زخمیوں ، جیلوں میں بند ہم وطنوں اور ان کے لواحقین اور دیگر متاثرین کی جانب خصوصی توجہ کے ساتھ دل جوئی اور معاونت کا خیال رکھا جائے، تا کہ ہند نواز اور تحریک مخالف عناصر کے استحصال سے انھیں محفوظ رکھا جا سکے ۔
ہمارے ایمان، ہماری قوت، اتحاد اور عزمِ صمیم سے حواس باختہ ہو کر بھارت نام نہاد اور لایعنی بات چیت، ٹریک ٹو گفت وشنید اور ڈپلو میسی کا جھانسہ دے کر ہمارے ارادوں کو کمزور اور راے کو منقسم کرنے کی چال بازی کر رہاہے۔ یہ محض دکھاوے کی باتیں اور وقت گزاری کے حربے ہیں، جو اس کا آزمودہ نسخہ رہا ہے۔ یہ انفرادی واجتماعی طور پر ڈراما رچانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟ حالاںکہ وہ اس حقیقت سے بہ خوبی واقف ہیں کہ ہم صرف اور صرف بھارت کے ناجائز قبضے سے آزادی چاہتے ہیں اور ہم دیر سویر اسے حاصل کر کے ہی دم لیں گے۔ ان شا اللہ!
کشمیر کی مخصوص شناخت نے یہاں کی سیاست اور اجتماعی جدوجہد کو متاثر کیا ہے۔ کشمیر کے سیاسی عمل کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے اس کی شناخت ایک اہم حوالہ ہے۔ آزادی، خودمختاری اور خود اختیاری جیسے نعرے عام طور پر ایک چیز، یعنی کشمیری شناخت سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب بھی کوئی حکومت اس شناخت کو بگاڑنے کی کوشش کرتی ہے تو لوگوں کو شدید نوعیت کی بیگانگی محسوس ہوتی ہے۔ اپنی نام نہاد حکومتوں کے خلاف کشمیریوں کی بے زاری کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ مدتوں سے ہے۔ مہاراجا ہری سنگھ کی حکمرانی کے دوران تلخی دو وجوہ سے بڑھی تھی:
۱- مسلمانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ جس کا ایک بڑا سبب ان کی تعلیمی پس ماندگی تھی، اور المیہ یہ کہ خود ڈوگرہ حکومت انھیں تعلیم میں پس ماندہ رکھنا چاہتی تھی۔
۲- ڈوگروں اور پنڈتوں کا اس پر اتفاق تھا کہ حکومتی خدمات کے لیے باہر سے تو لوگ لیے جاسکتے ہیں، مگر مسلمان ہرگز نہیں۔
سیاست میں دو پہلوئوں سے پیش رفت یہ ہوئی کہ اسی عرصے میں مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا، جو جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک کے لیے بنیاد فراہم کرنے کا ذریعہ بنی۔ دوسرے یہ کہ پنڈتوں اور ڈوگروں نے الگ سے تحریک چلائی کہ ’’کشمیر، کشمیریوں کے لیے ہے‘‘۔ دراصل یہ تحریک پنڈتوں کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے تھی۔ اس تحریک نے فوجی خدمات میں مسلمانوں کی شمولیت کا بھی راستہ کھول دیا۔ لیکن اس تحریک نے مہاراجا ہری سنگھ کو یہ قانون بنانے پر مجبور کیا کہ غیر ریاستی لوگوں اور غیرریاستی ملازموں کو زمین خریدنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
اس طرح ریاست نے غیر ریاستی باشندوں کے مقابلے میں ، ریاستی عوام کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا، اور اس استدلال کو تسلیم کرتے ہوئے ۱۹۲۷ء میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے '’ریاستی موضوع‘ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ زمین کی ملکیت کے لیے قانون سازی کی گئی اور کہا گیا کہ زمین خریدنے والے ہرفرد کی حیثیت پر سوال اُٹھایا جاسکتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ۱۹۵۲ء میں شیخ عبداللہ اور بھارت کی حکومت نے دہلی میں اتفاق کیا کہ ریاست کو قانون سازی کے ذریعے ریاست کے مستقل رہایشیوں کے حقوق کے تحفظ اور ملکیت کے استحکام کی قوت حاصل ہوگی، خاص طور پر غیرمنقولہ ملکیت کے حصول سے متعلق معاملات کے بارے میں۔
’ریاستی موضوع‘ کے لحاظ سے یہ خاص حیثیت ہی درحقیقت بھارت کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کے مکمل انضمام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی چلی آرہی ہے۔ بھارتی دستور کا آرٹیکل ۳۷۰ کشمیر کی خودمختاری کو ختم کرنے کے لیے بھارتی قوم پرست قوتوں کے لیے بے چینی کا سبب ہے، اور وہ ابتدا ہی سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، آرٹیکل کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی حکومت ہمت نہیں کرسکی۔ البتہ اس کی خصوصی اہمیت کو بے اثر اور بے وقعت بنانے کے لیے نئی دہلی حکومت طرح طرح کی پالیسیاں بناتی اور نافذ کرتی رہی ہے۔ حالیہ زمانے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایسی قاتلانہ قانون سازی کی کھلی کھلی کوششیں ہورہی ہیں، مثال کے طور پر:
۲۴؍ اگست ۲۰۰۹ء کو ریاستی قانون ساز اسمبلی میں دیے گئے اعداد و شمار سے یہ پتا چلتا ہے کہ فوج نے ۱۰ لاکھ ۵۴ہزار ۷سو ۲۱ کنال زمین پر بزور قبضہ جمایا ہے، جن میں ۸ لاکھ اور ۵۵ہزار کنال پر تو ۱۰۰ فی صد غیرقانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر مزید ایک لاکھ ۹۹ہزار ۳سو۱۴ کنال زمین سیکورٹی ایجنسیوں نے قبضے میں لے رکھی ہے۔ ’لینڈ ریکوزیشن ایکٹ‘ کے تحت وادیِ کشمیر کی مزید ۵ لاکھ ۹۹ہزار ۴سو۵۵ کنال اور جموں کی ۳لاکھ ۲۱ہزار ۹سو۵۱ کنال زمین بھارتی فوجیوں نے ہتھیا لی ہے۔
ممبراسمبلی مظفر حسین بیگ نے کہا کہ ان پناہ گزینوں کا مسئلہ باوقار طریقے سے حل کرنا چاہیے، اور انھیں نئی اُمید دینی چاہیے۔کشمیر اور جموں کی زمینوں پر بھارتی کالونیوں کی تعمیر کے مسئلے پر، بھارت سے وابستہ رہنے اور بھارت سے الگ ہونے والے لوگ مشترکہ موقف رکھتے اور کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات نہ صرف ریاست کی متنازعہ نوعیت کو تبدیل کر ڈالیں گے، بلکہ ریاست میں آبادی کے تناسب کو بھی تبدیل کر ڈالیں گے۔ حُریت (ع) کے چیئرمین عمر فاروق نے کہا کہ: ’’مظفربیگ کا بیان کوئی سیاسی، قانونی یا اخلاقی موقف نہیں ہے۔ وہ اگر پناہ گزینوں کی بحالی کے بارے میں فکرمند ہیں، تو انھیں بھارت لے جائیں‘‘۔
یہ بات مدنظر رہنی چاہیے کہ کشمیری مسلمان، اپنے ہم وطن پنڈتوں کی واپسی کے خلاف نہیں ہیں، کیوںکہ وہ کشمیر کا ایک حصہ ہیں، لیکن جس طریقے سے ان کی آبادکاری کا منصوبہ مسلط کیا جارہا ہے، اس طریقے کی مخالفت کی جارہی ہے۔
اس تنازعے میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ: ’’کشمیری، تارکین وطن کی اپنی وادی میں آبادکاری کے لیے اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے بلیوں کے آگے کبوتر ڈالنے کا معاملہ ہو‘‘۔ محبوبہ مفتی کے اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ یہ باتیں مسلمانوں کے لیے واضح طور پر توہین آمیز اور نفرت انگیز الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ مسلمانوں نے کبھی کشمیری پنڈتوں کو ’کبوتروں‘ کی طرح نشانہ نہیں بنایا، اور جنھوں نے انفرادی طور پر کبھی کسی کو نشانہ بنایا تو کشمیری قیادت نے نہایت سختی سے اس کی مذمت کی ہے۔
اس حوالے سے آسیہ اندرابی صاحبہ نے کہا ہے کہ: ’’بھارتی صنعتی پالیسی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بھارت کے بڑے بڑے سرمایہ داراورصنعت کار، دولت کے بل بوتے پر کشمیر میں پنجے گاڑ کر، یہاں کی آبادی کا تناسب بدل ڈالیں۔ مزید یہ کہ بھارتی سرمایہ دار اور سرمایہ پرست، افرادی قوت بھی بھارتی ریاستوں سے لائیں گے، جس کے نتیجے میں یہاں کی تہذیب و تمدن، روزگار اور آزادی، سبھی کچھ بھارتی کنٹرول میں چلا جائے گا اور یہاں غربت و ذلّت کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
جی ایس ٹی نے ریاست سے ہر طرح کی معاشی خودمختاری چھین لی ہے۔ آرٹیکل۳۷۰ ریاست کو محصول اور ٹیکس کی وصولی کا اختیار دیتا ہے، لیکن اب یہ اختیار ریاست کو حاصل نہیں ہے۔ عبدالرحیم راتھر، سابق وزیرخزانہ نے ریاست اور مرکزی حکومت کے اعلان کو رَدکرتے ہوئے کہا کہ: ’’نئے ٹیکس نظام کے تحت، نئی دہلی کو جی ایس ٹی کے ذریعے سیلزٹیکس جمع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جو کہ دوسری صورت میں جموں و کشمیر حکومت کے دائرئہ اختیار میں ہوتا ہے‘‘۔
جی ایس ٹی میں توسیع کا سادہ مطلب جموں و کشمیر کے خصوصی اختیارات نئی دہلی کے حوالے کرنا ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے فیصلے کی میکاولین وضاحتیں کی ہیں۔ ڈاکٹر حسیب درابو ریاستی وزیرخزانہ نے بل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ہم آرٹیکل ۳۷۰ کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں‘‘، اور یہ انھی خطوط پر گفتگو تھی جیساکہ بی جے پی کے نظریے کے حامی بات کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر کا آئین اپنے تیسرے حصے میں مستقل رہایشی اور اس کے اختیارات اور مستقل رہایشی کے حقوقِ ملکیت وغیرہ کی تعریف کرتا ہے۔ مستقل رہایشی کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ آئین آرٹیکل۹ کے تحت ریاستی اسمبلی کو تمام اختیارات دیتا ہے، جس کے تحت اسمبلی ریاستی شہری کی تعریف میں کوئی بھی تبدیلی لاسکتی ہے۔ آرٹیکل ۹: درج ذیل اُمور کی وضاحت کرتا ہے، جیسے:
۱- ریاست کے مستقل شہری کی وضاحت کرنا یا تعریف میں تبدیلی کرنا، افراد کی نوعیت (کلاسز) جو بھی ہیں یا ہوں گی،
۲- مستقل شہریوں کو خصوصی حقوق یا اختیار عطاکرنا،
۳- مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق یا اختیارات کو مقررہ ضابطے کے تحت چلانا یا ان میں تبدیلی کرنا۔ یہ اسمبلی سے تب منظور کیے جائیں گے، جب اسے اسمبلی کی دوتہائی اکثریت کی تائید حاصل ہوگی۔
جموں و کشمیر کے شہریوں کے حقوق نہ صرف بھارتی حکومت نے تسلیم کیے ہیں،بلکہ ان کے تحفظ کے لیے آرٹیکل ۳۵-اے آئین کا حصہ بھی ہے۔ یہ آرٹیکل ایک آئینی شق ہے، جو جموں و کشمیر کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق بہ سلسلہ ملازمت، ناقابلِ انتقال جایداد کا حصول، آبادکاری اور اسکالرشپ کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ آرٹیکل جموں و کشمیر میں صدر راجندرا پرشاد کے حکم سے ۱۴مئی ۱۹۵۴ء میں نافذ کیا گیا۔ قانونی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر آرٹیکل کو حذف کیا گیا تو جموں و کشمیر تمام خصوصی مراعات بشمول اسٹیٹ سبجیکٹ لا، جایداد کا حق، ملازمت کا حق اور آبادکاری کا حق کھو دے گا۔ بھارتی انتہاپسند قوم پرستوں کے مطابق بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ کشمیریوں کے خصوصی استحقاق کو مسخ کرنے کے لیے ایک بڑی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ بی جے پی کے مشن۴۴ کا ہدف کشمیریوں کے خصوصی استحقاق کے اس دستاویزی ثبوت سے نجات حاصل کرنا ہے۔
جموں و کشمیر کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طورپر اس تحریک کے خلاف اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر آرٹیکل ۳۵-اے کو منسوخ کیا گیا تو جموںو کشمیر میں بغاوت ہوسکتی ہے (روزنامہ گریٹر کشمیر، یکم اگست ۲۰۱۷ء)۔ اسی طرح وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ اگر آرٹیکل ۳۵-اے کو حذف کیا گیا تو وادی میں ترنگے کو بلند کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ اپوزیشن، حکمران جماعت پی ڈی پی ، علیحدگی پسند اور عوام آرٹیکل ۳۵-اے کی تنسیخ پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے ہیں۔
آرٹیکل ۳۵-اے کی منسوخی نے مرکز اور ریاست میں شدید بحث کھڑی کر دی ہے۔ زیریں سطح پر بہت سے حقائق نے کشمیر کے تشخص پر سخت یورش کو ثابت کر دیا ہے۔ مثلاً ’پرماننٹ ریذیڈنٹ سرٹیفکیٹ‘ (PRC) سے متعلق افواہوں نے ریاست کے عوام میں یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ حکومتی سطح پر کچھ گڑبڑ ہے۔ ’اسٹیٹ سبجیکٹ انکوائری کمیشن رپورٹ‘ کے مطابق تقریباً ۱۳۰۰ پی آر سی سرٹیفکیٹ زیرغور ہیں جو کہ حیران کن ہے۔ اے کیو پرے نے کہا ہے کہ ان مقدمات میں انھوں نے پی آر سی سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے اور جایداد ضبط کرلینے کی منظوری دی ہے۔ اے کیو پرے نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ غیر ریاستی IAS کے غیرمتعلقہ افسر پی آر سی سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں جو کہ قوانین و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جس روز سے رسمی معاہدے کے تحت بھارت نے ریاست کا انتظام سنبھالا ہے، مرکزی بھارتی قیادت کی خواہش ہے کہ جیسے دوسری ریاستیں بھارت میں ضم ہوگئی ہیں اسی طرح کشمیر بھی بھارت میں مکمل طور پر ضم ہوجائے۔ خودمختاری میں فرسودگی کا عمل اس طریق کار کی زندہ مثال ہے۔ عوام محض اس شبہے کے اظہار کے سوا کیا کرسکتے ہیں کہ یہ ان کے علیحدگی کے تشخص کو منسوخ کرنے کا ایک ٹھوس منصوبہ ہے۔ دستورِ ہند سے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے لیے بھارت میں واویلا زوروں پر ہے اور اس کو حذف کرنا بی جے پی حکومت کے کارڈوں میں سے ہے۔
اگرچہ اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کی طرف سے انتقامی پالیسیوں کی نشان دہی کی گئی ہے لیکن اہم ترین پہلو یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں کشمیر کے تشخص کے خلاف اس بھرپور یورش کو روکنے کے لیے متحد ہوتی ہیں یا کشمیرامرناتھ پارٹ ٹو کی طرف بڑھ رہا ہے؟
دسمبر۲۰۱۴ء کے انتخابات کے بعد جب جموں و کشمیر میں ایک معلّق اسمبلی وجود میں آئی اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بیساکھی کے سہارے اقتدار میں آئی، تب دونوں کے درمیان طے ہوا تھاکہ: ’’ہندو قوم پرست بی جے پی بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت کشمیر کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو موضوع بحث نہیں بنا ئے گی‘‘۔ بظاہر یہ وعدہ ایفاتو ہوا، مگر چور دروازے سے بی جے پی کی سرپرست تنظیم ’راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ‘ (آر ایس ایس) سے وابستہ ایک تھنک ٹینک نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی۔ جس میں دفعہ ۳۷۰ کے بدلے دفعہ ۳۵-اے کو نشانہ بنایا گیا، اور عدالت نے یہ پٹیشن [استدعا] سماعت کے لیے منظور بھی کرلی۔ اب حال ہی میں ایک اسپیشل بنچ قائم کر کے اس کی سماعت اگلے چند ہفتوں میں شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
دفعہ ۳۵-اے کے تحت جموں و کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے نوکری حاصل کرنے، ووٹ دینے اور غیرمنقولہ جایداد خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ اگر یہ دفعہ ختم کر دی گئی تو اس کے نتائج دفعہ۳۷۰ کے خاتمے سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔ اگرچہ اسی طرح کی شقیں دیگر علاقوں یعنی: ناگالینڈ، میزورام، سکم، اروناچل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش اور گوا کو خاص اور منفردحیثیت عطا کرتی ہیں۔ وہاں بھی دیگربھارتی شہریوں کو غیرمنقولہ جایدادیں خریدنے پر پابندی عائد ہے یا اس کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر مسلم دشمنی اور متعصب ذہنیت کے حامل افراد کو بھارتی آئین کی یہ شقیں نظر نہیں آتیں۔ اس پر ظلم یہ کہ بھارت کی مرکزی حکومت جو آئین کی محافظ اور نگران ہے، اس نے سپریم کورٹ میں آئین کی اس شق کا دفاع کرنے کے بجاے ’غیر جانب دار‘ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر عدلیہ اس شق کو منسوخ کرتی ہے، تو بھارتی حکومت دنیا کو یہ باور کروائے گی کہ: ’’یہ تو آزاد عدلیہ کا معاملہ ہے اور حکومت کا اس کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے‘‘۔ تاہم، سبھی رمزشناس یہ جانتے ہیں کہ دوسال تک اس پٹیشن کو التوا میں رکھ کر بھارتی حکومت، جسٹس دیپک مشرا کے چیف جسٹس بننے کا انتظار کر رہی تھی۔ خدشہ تھا کہ اگر اس پٹیشن کی سماعت اس سے قبل ہوتی تو حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس، جسٹس ایم کے کیہر اور ان کے پیش رو جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اس کومسترد کرسکتے تھے۔چند برس قبل دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک مذاکرے کے دوران موجودہ وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ: ’’کشمیر کا واحد مسئلہ اس کا مسلم اکثریتی کردار ہے اور بھارتی آئین میں اس کی خصوصی پوزیشن نے اس کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے‘‘۔ان کے مطابق: ’’کشمیر کی ترقی میں بھی یہ شق سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ بھارت کے دیگر علاقوں کے لوگ وہاں بس نہیں سکتے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی‘‘۔
یاد رہے کہ عشروں تک کشمیر میں خدمات انجام دینے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS) اور انڈین پولیس سروس (IPS) سے وابستہ غیر ریاستی افراد بھی ریٹائرمنٹ کے بعد، کشمیر سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بیوروکریٹک سروس اور فوج ہی دو ایسے ادارے ہیں، جن کے بارے تصور کیا جاتا ہے کہ یہ بھارت کو متحدہ رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی صوبہ کیرالا کے کسی نوجوان کو سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب پنجاب کا کیڈر دیا جاتا ہے، تو باقی زندگی وہ عملاً پنجابی ہی کہلائے گا۔ اکثر اعلیٰ بیوروکریسی میں تعینات یہ نوجوان اپنے پیدایشی صوبے کو پس پشت ڈال کر، شادیاں اور رشتہ داریاں کیڈر والے صوبے میں ہی کرتے ہیں اور پھر ۳۰سال سے زائد عرصہ سروس میں رہنے کے بعد اسی صوبے میں ریٹائرڈ زندگی گزارتے ہیں۔
اگرچہ جیٹلی ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے ’لبرل چہرے‘ کی سی شہرت رکھتے ہیں، مگر انھوں نے سوال اُٹھایا کہ: ’’آخر مسلمان جہاں بھی تھوڑی اکثریت میں ہوتے ہیں ، وہ اپنی شناخت کیوں الگ رکھنا چاہتے ہیں؟ حالاں کہ ان کی اوّلین شناخت بھارتیہ ہونا اور اس کے کلچر کو ترجیح دینا ہونا چاہیے‘‘۔ ایک رپورٹر کی حیثیت سے مَیں اس مذاکرے میں سامع تھا، مگر میں نے جیٹلی صاحب کو یاد دلایا: ’’جناب، بھارتی آئین کی جن شقوں سے پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے، وہ ایک ہندو ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ کی دین ہیں، جن کو بحال رکھنے کی گارنٹی دے کر ۱۹۴۷ء میں شیخ محمدعبداللہ کو شیشے میں اُتارا گیا۔ وادیِ کشمیر میں پنڈت لیڈر شنکر لال کول اور جموں میں ڈوگرہ سبھا کی ایما پر ۱۹۲۷ء میں مہاراجا نے یہ قانون نافذ کیا تھا، جس کی رُو سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی غیرریاستی شخص، ریاستی حکومت میں نہ ملازمت کا حق دار ہوگا اور نہ غیرمنقولہ جایداد رکھنے کا مجاز ہوگا‘‘۔
تاریخ کے اَوراق پلٹتے ہی مَیں نے انھیں یہ بھی یاد دلانے کی کوشش کی کہ: ’’جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یا دیگر آزادی پسند تنظیموں کے منظرعام پر آنے سے بہت پہلے مئی ۱۹۴۷ء میں آر ایس ایس کی ایما پر ہندو مہاسبھا کی ورکنگ کمیٹی نے، جموں میں بلائے گئے ورکنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں پاس کی گئی قرارداد کے مطابق ایک ’ہندو اسٹیٹ‘ کو سیکولر بھارت کے ساتھ اپنی شناخت ضم نہیں کرنی چاہیے۔ وہ مہاراجا کو ہندو مفادات کا نگران تصور کرتے تھے۔ اُس وقت یہ پینترے بازیاں شاید اس وجہ سے ہورہی تھیں کہ ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں ہندو آبادی کے حقوق محفوظ کیے جائیں۔ تاریخ کے موڑ نے جب کشمیر کو بھارت کی جھولی میں گرا دیا تو شناخت اور حقوق کے تحفظ کا مسئلہ مسلمانوں کی طرف پلٹ گیا‘‘۔
جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت نہ صرف فرقہ پرستوں بلکہ خود کو سیکولر کہلوانے والی سیاسی جماعتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے۔ فروری ۲۰۱۵ء کو جموں میں اپنی رہایش گاہ پر پی ڈی پی کے سرپرست اور سابق وزیراعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید سے ایک انٹرویو کے دوران میں نے بنیادی سوال پوچھا کہ: ’’کہیں بی جے پی کو اقتدار میں شریک کرواکے آپ کشمیریوں کے مصائب کی رات کو مزید تاریک کروانے کے مرتکب تو نہیں ہوں گے؟‘‘ جواب میں انھوں نے کہا کہ: ’’کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے حوالے سے بھارت کی دونوں قومی جماعتوں کا موقف تقریباً ایک جیسا ہے‘‘۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک واقعہ سنایا: ’’مارچ ۱۹۸۶ء میں جب مَیں ریاستی کانگریس کا سربراہ تھا اور مَیں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ غلام محمد شاہ کی حکومت سے حمایت واپس لی تھی، تو وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی کی خواہش تھی کہ اگلے دو سال تک سری نگر میں کانگریس کو حکومت کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت سازی پر بات چیت کے لیے مجھے دہلی بلایا گیا۔ وزیراعظم ہائوس میں کیے گئے اجلاس میں کانگریس کے قومی کارگزار صدر ارجن سنگھ بھی شامل تھے۔ راجیوگاندھی نے ارجن سنگھ کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کانگریسی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد کیا ترجیحات ہونی چاہییں؟ ارجن سنگھ نے جواب دیا کہ پورا بھارت، جموں و کشمیر کے انڈین یونین میں مکمل انضمام کا خواہش مند ہے اور یہ عمل ۱۹۷۵ء کے بعد شیخ عبداللہ کے برسرِاقتدار آنے کے بعد رُک گیا تھا۔ اس عمل کو دوبارہ شروع کروانے اور منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور یہ ہماری حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہوگا‘‘۔
اسی دوران راجیو گاندھی نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہا کہ ’’گورنر ہائوس اور مفتی سعید سے رابطہ رکھ کر ان کی بطور کانگریسی وزیراعلیٰ، حلف برداری کی تقریب کا اس طرح تعین کریں کہ مَیں بھی جموں جاکر تقریب میں شامل ہوسکوں‘‘۔ مفتی سعید صاحب نے مزید کہا: ’’میں اس بات چیت سے انتہائی دل برداشتہ ہوگیا، اور واپس جموں پہنچ کر ایسی صورتِ حال پیدا کر دی کہ کانگریس کی حکومت سازی کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ پھر ایک سال بعد ’راجیو- فاروق ایکارڈ‘ کے نتیجے میں فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی‘‘۔
مفتی سعید نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ: ’’۱۹۵۳ء سے ۱۹۷۵ء تک کشمیر کی انفرادیت اور شناخت کو بُری طرح مسخ کیا گیا ہے اور ایک طرح سے کشمیریوں کی عزت و آبرو کو تارتار کر کے برہنہ کیا گیا ہے۔ بھارت کے آئین کی دفعہ ۳۷۰ کی موجودہ شکل تو اب صرف زیرجامہ بچا ہوا ہے۔ مین اسٹریم، یعنی بھارت نواز کشمیری پارٹیاں چاہے نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی، ان کا فرض ہے کہ اس زیرجامہ کو بچاکر رکھیں، جب تک کہ مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کی کوئی سبیل پیدا ہو‘‘۔
تاہم، یہ بات اب سری نگر میں زبان زد عام و خاص ہے کہ یہ وہ پی ڈی پی نہیں، جس نے ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان دہلی کی روایتی کٹھ پُتلی حکومت کے بجاے ایک پُراعتماد اور کشمیری عوام کے مفادات اور ترجیحات کے ترجمان کے طور پر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس سے قبل اقتدار کی شدید ہوس نے کشمیر کی سب سے بڑی قوم پرست پارٹی نیشنل کانفرنس کو بزدل بناکر رکھ دیا تھا۔ یہی حال اب کچھ پی ڈی پی کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے اس جماعت کا یہ محور بنا ہوا ہے کہ اقتدار کی نیلم پری پر دسترس کو کس طرح برقرار رکھا جائے؟
دفعہ ۳۵-اے دراصل بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ کی ہی ایک توسیع اور توضیح ہے۔ معروف قانون دان اے جی نُورانی کے بقول: ’’آرٹیکل ۳۷۰ ، اگرچہ ایک عبوری انتظام تھا اور بھارتی حکومت کی ۶۰ کے عشرے تک یہ پالیسی تھی کہ جموں و کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ استصواب راے سے کیا جائے گا۔ ۱۹۴۸ءمیں جموں و کشمیر پر بھارتی حکومت کے ایک وائٹ پیپر میں سردار پٹیل کا یہ بیان موجود ہے: ’’الحاق کو تسلیم کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اسے بالکل عارضی مانتی ہے، جب تک کہ اس بارے میں ریاست کے لوگوں سے ان کی راے نہیں معلوم کی جائے گی‘‘۔ نُورانی کے بقول: ’’جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی، جن کا نام آرٹیکل ۳۷۰ کی مخالفت کرتے وقت بی جے پی اُچھالتی ہے، انھوں نے اس کی مکمل حمایت کی تھی۔ بی جے پی اس وقت کے وزیرداخلہ سردار پٹیل کا نام بھی اس پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتی ہے کہ انھوں نے اس مسئلے پر پنڈت جواہر لعل نہرو کی مخالفت کی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پٹیل نے بھی آئین کی اس دفعہ کی مکمل تائید کی تھی‘‘۔
اے جی نُورانی کا کہنا ہے کہ: ’’کشمیر واحد ریاست تھی جس نے الحاق کے لیے اپنی شرائط پر حکومت سے مذاکرات کیے تھے۔ وہ بھارت میں ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس نے الحاق کیا تھا، اس لیے آرٹیکل ۳۷۰ دونوں کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے، جس کی کسی شق میں کوئی بھی فریق یک طرفہ ترمیم نہیں کرسکتا‘‘۔ نورانی اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ: ’’این گوپال سوامی نے ۱۶؍اکتوبر ۱۹۴۹ء کو اس سلسلے میں پہلی خلاف ورزی اس وقت کی، جب انھوں نے یک طرفہ طور پر مسودے میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کی لابی میں حتمی شکل دی تھی۔ جیسے ہی شیخ عبداللہ اور مرزا افضل بیگ کو اس تبدیلی کا علم ہوا وہ دونوں ایوان کی طرف دوڑے، لیکن تب تک یہ ترمیمی بل پاس ہوچکا تھا۔ اس طرح یہ ایک افسوس ناک اعتماد شکنی کا معاملہ تھا۔ اگر اصل مسودہ پاس کیا جاتا تو ۱۹۵۳ء میں شیخ عبداللہ کو اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہ تھا۔ ۱۹۵۱ء میں کشمیر اسمبلی کے لیے جو انتخابات منعقد کیے گئے، ان سے بھارت کے جمہوری دعوئوں کی کشمیر میں قلعی تو اسی وقت کھل گئی تھی۔ انتخابی دھاندلیوں کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے گئے۔ تمام اُمیدوار ’بلامقابلہ‘ منتخب قرار پائے۔ یہ وہی اسمبلی تھی، جس نے ریاست کا دستور وضع کیا اور الحاق کے دستاویز کی توثیق کی تھی‘‘۔
خود اس اسمبلی کے جواز پر سوال کھڑا کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ۵ فی صد سے بھی کم لوگوں نے اس کی تشکیل میں اپنے حق راے دہی کا استعمال کیا تھا۔ یہ اسمبلی ریاست کا مستقبل اور اس کی حیثیت طے کرنے کے سلسلے میں دستورساز اسمبلی کا درجہ رکھتی تھی۔ کشمیر کی اس آئین ساز اسمبلی کی حقیقت اور حیثیت کی قلعی خود اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ بی این ملک نے یہ کہہ کر کھول دی: ’’ان اُمیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا، جو حزبِ مخالف کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے‘‘۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ الحاق کی دستاویز کی توثیق اور کشمیر کے آئین کی منظوری کو کوئی عوامی تائید حاصل نہیں تھی۔ بہرحال پچھلے ۶۹برسوں میں بھارتی حکومتوں نے آرٹیکل ۳۷۰ کو اس بُری طرح سے مسخ کر دیا ہے کہ اس کااصلی چہرہ اب نظر ہی نہیں آتا۔ کئی مواقع پر خود کشمیری لیڈروں نے اپنی عزتِ نفس کا خیال نہ کرتے ہوئے ان آئینی خلاف ورزیوں کے لیے راہ ہموار کی۔ اگر ایک طرح سے یہ کہا جائے کہ آئین کی اس شق نے کشمیریوں کو سیاسی گرداب سے بچنے کے لیے جو کپڑے فراہم کیے تھے، وہ سب اُتر چکے ہیں اور اب صرف دفعہ۳۵-اے کی صورت میں ایک نیکر بچی رہ گئی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ فرقہ پرست عناصر اب اسی نیکر کو اُتارنے، کشمیریوں کی عزت نیلام کرنے اور ان کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کروانے کے لیے ایک گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں، جس کے لیے عدالتی نظام کا سہارا لیا جارہا ہے۔
عدالت میں یہ معاملہ لے جاکر آر ایس ایس نے جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کی تبدیلی کے حوالے سے اپنے مکروہ عزائم واضح کردیے ہیں۔ کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کا کہنا ہے: ’’سپریم کورٹ کی طرف سے اس پٹیشن کو شنوائی کے لیے منظور کرنا ہی باعث ِ حیرت ہے‘‘۔ اٹانومی اور سیلف رول کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا دُور کی بات ہے، فی الحال جس تیزرفتاری سے مودی سرکار اور اس کی ہم نوا ریاستی حکومت، کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے حوالے سے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے، اس کا توڑ کرنے میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی کے باضمیر افراد اور حُریت پسند جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے۔