نظامِ حیات


نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوانوں میں عزم، خوداعتمادی، اللہ پر انحصار، صبر، پُراُمیدی، محنت کشی اور منزل کا شعور پایا جائے تو وہ قوم مشکل ترین حالات سے بآسانی نکل کر ترقی کے کٹھن مراحل کو بہ سہولت طے کرتی چلی جاتی ہے۔ اگر کسی قوم کے نوجوانوں میں بے روزگاری، عدم تحفظ، نفسیاتی دہشت گردی اور مستقبل کے تاریک ہونے کا احساس بٹھا دیا جائے اور ابلاغِ عامہ خصوصاً یہ کوشش کرے کہ ملک میں ہونے والی ہرہر بُرائی کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے کہ گویا ملک میں نہ کوئی نظم ہے، نہ تحفظ، نہ ترقی کی صلاحیت تو وہی نوجوان جو قوم کا اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اس نفسیاتی حربے کا شکار ہوکر عموماً تین راستوں پر چل پڑتے ہیں۔

تبدیلی کی راہیں اور حکمت عملی

  • پہلا راستہ فرار کا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے باہر جہاں کہیں خوابوں کی جنت کی خوشبو سونگھ سکتے ہوں وہاں قرض رقم لے کر ایسے اداروں اور افراد کے ذریعے جو بیرونِ ملک روزگار کا ٹھیکہ لیتے ہیں، ملک سے فرار ہوجائیں یا حکومتی اسکالرشپ پر جاکر ملک کے باہر ہی بیٹھ جائیں اور واپس نہ آئیں۔
  • دوسرا راستہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے زبان سے حالات کا ماتم لیکن زمانے کی ہوا کے ساتھ اپنے آپ کو اُڑانے کی کوشش، چنانچہ وہ سول سروس کے ذریعے ملازمت کا حصول ہو یا کسی سفارش اور جعلی ڈگری کے ذریعے صوبائی یا مرکزی پارلیمنٹ میں ممبرشپ یا کسی زمین کے مافیا کے ساتھ شامل ہوکر عوام کو لوٹنا ، غرض کرپشن اور مادہ پرستی کے چنگل میں پھنس کر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اِس دنیا میں کامیاب ہورہے ہیں۔ چنانچہ دیکھتے دیکھتے وہ جو کل تک ویگنوں میں سفر کرتے تھے، دھوکے سے حاصل کی ہوئی دولت کے سہارے بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرتے نظر آتے ہیں۔
  • تیسرا راستہ جو نوجوان اختیار کرتے ہیں وہ موجودہ نظام کو چاہے وہ مصر میں ہو یا پاکستان میں، شام میں ہو یا تیونس میں، وہ اس فرسودہ، مادہ پرست اور ظلم پر مبنی نظام کو، طاغوت، کفر اور شرک سے تشبیہہ دیتے ہوئے قوت کے استعمال سے اس کے خلاف ’جہاد‘ کا اعلان کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ راتوں رات اداروں پر قبضہ کر کے ملک میں شریعت، اسلامی حکومت، معروف، بھلائی اور عدل کے نظام کو قائم کردیا جائے۔ یہ راستہ دیکھنے میں بہت کم مسافت کا نظر آتا ہے اور پھر اس میں ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قوت کے ذریعے، مناسب منصوبہ بندی کے بعد بھی اگر وہ تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہوں تو چونکہ ’جہاد‘ کرنے والے کے لیے ہردوشکلوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے تو یہ نوجوان اپنی جان کو اس راستے میں قربان کرنے ہی میں اپنی فلاح سمجھتے ہیں۔

اگر تینوں راستوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ تیسرے راستے والے بظاہر ہرلحاظ سے کامیاب نظر آتے ہیں کہ اگر دنیا میں کامیاب ہوئے تو کم عرصے میں کام کرنے کے باوجود تبدیلی لے آئیں گے اور اگر کامیاب نہ ہوئے جب بھی آخرت تو بن گئی۔ ایک مسلمان کے لیے ا س سے  بڑھ کر کامیابی کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے ماضی کے تمام گناہ، غلطیاں، بے راہ روی ہرہر بُرائی معاف ہوجائے اور شہادت کے حصول کے بعد وہ سیدھا جنت میں جائے، جہاں اللہ کی ساری نعمتیں اس کا انتظار کر رہی ہوں گی۔

ایک بات جو ان تینوں راستوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرتے وقت غور کرنے اور خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے آپ کو تمام تصورات سے آزاد کرکے سوچنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن و سنت جن کے نفاذ اور قیام کے لیے یہ ساری جدوجہد کی جاتی ہے وہ خود کس راستے کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ دنیاطلبی، مفاہمت، وقت پرستی یا پھر بس شہادت کے حصول اور طلب کو مقصد حیات قرار دیتے ہیں یا شہادتِ حق کے فریضے کی ادایگی کے لیے انبیاے کرام ؑ کے اسوہ اور خصوصاً خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔

کسی بھی مسلمان کے لیے وہ جوش اور ولولے سے بھرا ہوا نوجوان ہو یا سکون و ٹھیرائو کے ساتھ سوچنے والا معمرشخص، جو بات فیصلہ کن ہے وہ اس کا اپنے ذہن سے ایک تصور قائم کرلینا نہیں ہے بلکہ قرآن اور سنت رسولؐ اللہ کی سند اور دلیل کی بنیاد پر اپنے لیے لائحہ عمل طے کرنا ہے۔    اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات اس تعمیری عمل میں ایک سے زائد لائحہ عمل ایسے ہوسکتے ہیں جو قرآن و سنت سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ایسی شکل میں سنت کا اصول سیدہ عائشہؓ کی روایت کی روشنی میں وہ ہے جو زیادہ ’یسر‘ پر مبنی ہو اور جس کی دلیل سنت ِ رسولؐ میں پائی جاتی ہو۔

گویا راستے کا تعین، حکمت عملی کا انتخاب اور تبدیلی کا طریقہ طے کرتے وقت منزل محض حصولِ شہادت نہیں ہوسکتی بلکہ حق کی شہادت دینے کے لیے وہ تمام ذرائع اختیار کرنے ہوں گے جو سنت ِ نبویؐ سے ثابت ہوں اور جو آخرکار شہادت تک لے جانے والے ہوں۔

انبیاے کرام ؑ کی حکمت عملی

انبیاے کرام ؑ کی بنیادی دعوت حضرت آدم ؑ سے لے کر خاتم النبیینؐ تک صرف یہی رہی ہے کہ تمام انسان اپنے خالق، مالک اور رب کی بندگی میں آجائیں اور اللہ جل جلالہٗ کے سوا تمام بندگیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر کے اس کے عبد یا تابع دار بن جائیں۔

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل ۱۶:۳۶) ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول ؑ بھیج دیا اور اس کے ذریعے سے سب کو خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی اختیار کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔

عبدیت قرآنِ کریم کی ایک جامع اور اہم اصطلاح ہے جس میں نہ صرف نماز اور دیگر عبادات بلکہ زندگی کے تمام ممکنہ معاملات میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو حاکم، مالک، آقا اور فیصلہ کرنے والاتسلیم کیاجانا شامل ہے۔ ایک مسلمان اسلام لانے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی حد تک تو اللہ ہی کی عبادت یا بندگی اختیار کروں گا لیکن میرے سیاسی معاملات لادینی جمہوریت کے اصول طے کریںگے اور معاشی معاملات کو سرمایہ دارانہ معیشت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا اور معاشرتی، ثقافتی معاملات میں فلاں علاقہ یا ملک کے کلچر او رروایات پر عمل کروں گا۔ اسلام میں داخل ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک فرد اسلام میں پورے کا پورا داخل ہو۔ ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ(البقرہ ۲:۲۰۸)’’اے ایمان والو!   تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘۔

آیت مبارکہ بلاکسی ابہام کے یہ بات واضح کرتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرسکتا۔ وہ یہ نہیں کرسکتا کہ جمعہ کے دن وہ اللہ کا بندہ ہو، جب کہ تجارتی معاملات میں سرمایہ دارانہ نظام کا تابع ہو اور سیاسی معاملات میں مفادپرست، لادینی سیاسی نظام پر ایمان لے آئے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک ماننے کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنے تمام ذاتی، گھریلو، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور قانونی معاملات میں ایک فرد اور جماعت صرف اور صرف اللہ کی حاکمیت پر ایمان رکھے اور اس کا عمل اس کی شہادت پیش کرے۔

کلمۂ شہادت کا مطلب ہی یہ ہے ایک شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کواپنے تمام معاملات میں حاکم اور شارع مان کر اسلام میں داخل ہو رہا ہے۔ عقیدہ اور ایمان، اسلام کی نگاہ میں ایک خفیہ اور ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک عوامی شہادت (public testimony)ہے کہ ایک شخص اپنے دل و دماغ اور عمل سے صرف اللہ کی بندگی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر راضی ہوگیا ہے۔

بعض سادہ لوح افراد اسلام میں داخل ہونے اور اسلام کے نفاذ کے عمل کو دو مرحلوں میں تقسیم کردیتے ہیں، جب کہ یہ ایک ہی مرحلے سے تعلق رکھنے والا عمل ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے لاالٰہ کا عمل ہوگا اس کے بعد الااللہ کا۔ ہمارے علم میں نہ قرآن میں اور نہ سنت مطہرہ میں کوئی ایسی شہادت ہے، جو اس تعبیر کی تصدیق کرتی ہو۔ حقیقت ِواقعہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ ہو یا مدینہ منورہ، جہاں کہیں بھی کسی نے دعوتِ اسلام کو قبول کیا تو اسلام میں پورے داخل ہونے کے ساتھ ہی کیا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ پہلے مرحلے میں صرف کفروشرک کا رد کیا جائے اور پھر کسی دوسرے مرحلے میں اللہ کی بندگی اختیار کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کو رب اور مالک ماننے کا مطلب بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ اس کے علاوہ سب کا انکار کیا جائے، ’لاالٰہ‘ اور ’الااللہ‘ ایک ہی عہد اور میثاق کا حصہ ہیں، اس لیے شہادت کو دو مراحل میں تقسیم کرنا ایک غیرضروری بحث ہے۔ اللہ کی بندگی کی مثبت دعوت خود بخود تمام منفی تصورات کو جڑبنیاد سے اُکھاڑ کر انسان کے دل و دماغ اور عمل کو توحید کے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔ مکہ کے دورِ ابتلا میں دعوتِ توحید قبول کرنے والے ہرمتنفس کو اس بات کا مکمل شعور تھا کہ اللہ کو ماننے کا مطلب ہی تمام خودساختہ خدائوں کا رد اور انکار ہے۔ اگر مسئلہ محض مکہ کے اندر مانے جانے والے ۳۶۰ سے زائد خدائوں میں ایک اور کے اضافے کا تھا تو اس پر مشرکینِ مکہ کو نہ کوئی اعتراض تھا، نہ شکایت۔ اگر وہ ۳۶۰بتوں سے تعلقات بنا کر رکھ سکتے تھے تو اس میں ایک کے اضافے سے انھیں کوئی پریشانی نہ ہوتی۔ اصل مسئلہ یہی تھا کہ ایک اللہ کو ماننے کے بعد وہ ۳۶۰سے زائد خدا سب کے سب بے اصل اور بے اثر ہوجاتے۔ شرک کا آسان سا مطلب یہی ہے کہ   اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ دوسروں کو اس کی ذات یا صفات میں شامل کرلیا جائے۔ مشرکین میں سے بھی بعض افراد اللہ کو مانتے تھے۔ قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ جب یہ مشرکین سمندر میں طوفان میں گھِر جاتے ہیں اور انھیں اپنی مضبوط کشتی ڈولتی اور ڈوبتی نظر آتی ہے تو وہ اللہ ہی کو پکارتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب سفر پر جانا ہو، جنگ کرنی ہو، اولاد کی خواہش ہو یا بارش کی ضرورت ہو تو وہ اپنے مقرر کردہ خدائوں ہی سے رجوع کرتے تھے۔

آج کے جدید دور میں ان خدائوں کے نام بدل گئے ہیں۔ کسی کا نام آئی ایم ایف اور ورلڈبنک ہے، جس سے لوگ قرضوں کی التجا کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہماری روزی اور روزگار دینے والا خدا یہی ہے۔ بعض کسی نام نہاد عالمی طاقت کو اپنی فرماں برداری کا یقین دلاتے ہیں کہ وہ انھیں اقتدار پر قابض رہنے میں مدد فراہم کرے گی اور وہ اُس کے سہارے عوام پر حکومت کرسکیں گے۔ بعض اپنے ملکی دفاع کے لیے کسی بڑی عسکری طاقت کے قدموں کو بوسا دیتے ہیں کہ وہ انھیں اسلحے کی بھیک دے کر ان کے دفاع کو مضبوط بنانے کا ضامن بن سکے۔ یہ نئے ادارے اور نام ایجاد کرنے کے ساتھ اگر ایک شخص یہ ایمان رکھتا ہو کہ وہ بندہ تو اللہ کا ہے لیکن خادم کسی بیرونی مالی طاقتوں کا یا کسی نام نہاد عسکری قوت کا یا کسی ثقافتی سامراج کا ہے تو یہ سارے کام اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی تعریف میں آئیں گے۔

توحید اسلام کا نقطۂ آغاز بھی ہے اور نقطۂ کمال بھی۔ یہ ہرہرمعاملے میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا مالک اور آقا ماننے کے عمل کا نام ہے۔ حضرت نوحؑ سے لے کر خاتم النبیینؐ تک اللہ کے ہرنبی ؑ نے صرف ایک دعوت دی کہ اپنے تمام معاملات کو اللہ کے لیے خالص کرو۔ اسلام نے   جن بتوں کو پاش پاش کیا ان میں نہ صرف عصبیت، قبائلیت، نسلیت، لسانیت کے بت تھے بلکہ وہ تمام تصورات بھی شامل تھے جنھیں انسانوں نے اپنے ذہن اور قیاس کی بناپر قائم کرلیا تھا، اسلام   ان سب کا رد کرنے کا نام ہے اور دعوت الی الحق کا واضح مطلب ہی یہ ہے کہ اپنے تمام معاملات میں صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حکم مان لینا اور اس کی شہادت اپنے عمل سے دینا۔ اسلامی معاشرے اور ریاست کے قیام کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی و قانونی تمام معاملات کو طاغوت کے نظاموں کے اثر سے مکمل طور پر آزاد کر کے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کی بنیاد پر اور اس کی رہنمائی کی روشنی میں مرتب اور منظم کیا جائے۔ دورِ جدید کی تمام تحریکاتِ اسلامی کا، وہ جماعت اسلامی پاکستان ہویا اخوان المسلمون یا جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر یا جماعت اسلامی ہند، ان سب کی دعوت کا بنیادی ستون ہی قیامِ حاکمیت الٰہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے قیامِ پاکستان سے قبل اور اس کے بعد اسی بنیادی دعوت کی طرف اللہ کے بندوں کو بلایا ہے اور اسلامی ریاست اور معاشرے کے قیام کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک بتدریج تبدیلی کی حکمت عملی وضع کی ہے۔ اس حکمت عملی میں رہنمااصول انبیاے کرام کا طریق دعوت اور قیام حاکمیت الٰہی کے لیے ان کی حکمت عملی کی روشنی میں لائحہ عمل کو وضع کرنا شامل ہے۔

مغربی لادینی جمہوریت

جدید تحریکاتِ اسلامی کے مفکرین امام حسن البنا شہید ہوں یا مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی یا سیدقطب شہید یا ڈاکٹر محمدناصر، ہرصاحب علم نے مغربی لادینی جمہوریت کی فکری بنیادوں کو رد کرتے ہوئے ہی اسلامی ریاست کو بطور متبادل نظام کے پیش کیا اور جو تحریکات ان مفکرین کو اپنا رہنما کہتی ہیں انھوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اس موقف سے انحراف نہیں کیا۔ اس لیے کسی نظری بحث میں اُلجھے بغیر ہمیں ان ضمنی سوالات پر غور کرنا ہوگا جن پر بہت سے مخلص، دردمند اور اسلام کی سربلندی کے لیے جان کی بازی لگانے والے نوجوان مکمل صورتِ واقعہ کو سامنے نہ رکھنے کے سبب جذبات کی رُو میں بہہ کر عجلت کے ساتھ نتائج اخذ کرلیتے ہیں۔

پہلی بات یہ طے ہوجانی چاہیے کہ کیا مغربی لادینی اور اباحیت پسند جمہوریت اسلامی نظامِ حکومت کی ضد ہے اور اس کی بنیاد یں اسلام کی بنیادوں سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ بات بھی طے ہوجانی چاہیے کہ کیا تحریکاتِ اسلامی نے، بشمول جماعت اسلامی پاکستان، کسی موقع پر بھی مغربی لادینی جمہوریت کی تائید کی ہے یا اس کی جگہ نظامِ اسلامی کے قیام کی دعوت اور اس مقصد کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا ہے۔ کیا مصر میں حالیہ واقعات میں ہزارہا افراد کی جانی قربانی، مصر کی ’طاغوتی جمہوریت‘ کے لیے دی گئی یا خالصتاً اللہ کے دین کے قیام کے لیے یہ قربانیاں دی گئیں۔ کیا اسی اخوان المسلمون نے جو ایک وقت زیرزمین سرگرمی کو حکمت عملی کے طور پر صحیح سمجھتی تھی، گذشتہ ۳۰سال کے عرصے میں جمہوری ذرائع سے جدوجہد کو اختیار نہیں کیا اور حسنی مبارک کے آمرانہ دو ر میں مصرکی پارلیمنٹ میں دعوتی حکمت عملی اور سیاسۃ شرعیہ کی پیروی کرتے ہوئے شرکت نہیں کی۔ رہا یہ سوال کہ وہ تبدیلی جو وہ چاہتے تھے کہاں تک آئی اور کیا فوجی مداخلت کی بناپر یہ کہنا درست ہوگا کہ جمہوری ذرائع ناکام ہوگئے، ایک الگ بحث ہے۔

دوسری بات یہ بھی طے ہوجانی چاہیے کہ اگر مرض پُرانا ہو اور جراحت اس کا تنہا علاج نہ ہو تو ایک ماہر اور مخلص طبیب ہی یہ طے کرسکتا ہے کہ کس ترتیب کے ساتھ کون سی دوائیں دی جائیں تاکہ مرحلہ بہ مرحلہ مریض صحت یاب ہوتا جائے۔ یہ طے کرنا کہ پھیپھڑے دل یا جگر میں جو خرابی تمام جسم کو فاسد مادوں سے بھر رہی ہے اسے یک دم جراحت کرکے ختم کردیا جائے یا بتدریج ادویات، غذا، ورزش، آب و ہوا کی تبدیلی، عادات کی تبدیلی اور دیگر ذرائع کا استعمال کر کے مریض کو ایک صحت مند انسان بننے میں مدد دی جائے، ایک ماہر طبیب ہی کا کام ہے۔ اس میں بھی شبہہ نہیں کیا جاسکتا کہ ایک ہی مریض اور ایک ہی مرض کو اگر دو یا تین ڈاکٹر دیکھیں تو ان کی تشخیص میں فرق ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر تین ڈاکٹروں کا ایک بورڈ تمام ممکنہ امتحانات اور جائزے کروانے کے بعد اس پر متفق ہو کہ مریض کا علاج بغیرجراحت کے ہوسکتا ہے اور ایک ڈاکٹر یہ کہے کہ چونکہ مرض مہلک یا طاغوتی نوعیت کا ہے اس لیے پہلے جراحت کرو بعد میں مریض کی قوتِ برداشت، اور دوائوں کے ذریعے صحت مندی کی طرف لائو تو اس کی راے اس کے اپنے خیال میں تو درست ہوسکتی ہے لیکن مریض کی جان اور دیگر اطبا کے اجتماعی تجربے کے مقابلے میں کیے گئے فیصلے کے سامنے کوئی وزن نہیں رکھتی۔ ہاں اس بات کا امکان بہرصورت رہتا ہے کہ کئی ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد مریض مکمل صحت یاب ہوجائے یا ڈاکٹر اپنی راے تبدیل کرلے۔ اسی طرح بالکل یہ امکان بھی رہتاہے کہ اگر تنہا ایک ڈاکٹر کی راے پر جراحت کردی جائے تو جراحت کے دوران ہی مریض انتقال کرجائے۔ اس لیے محض امکانات پر فیصلے نہیں کیے جاسکتے۔ ماضی کی تاریخ، اجتماعی تجربے اور   طبی حکمت عملی کے پیش نظر ہی دنیا میں صحت کا نظام چل رہا ہے۔

جہاد پر مبنی حکمت عملی

اس روزمرہ کی مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ’تبدیلی صرف جہاد سے آئے گی‘ کے نعرے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ قرآن و سنت نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ جہاد ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے اور اگر کسی خطے میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو اور انھیں مستضعفین فی الارض بنادیا گیا ہو تو ان کی امداد کرنا اہلِ ایمان پر فرض ہے۔ وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَاوَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا o (النساء ۴:۷۵) ’’(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرعظیم    عطا کریں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوںکی خاطر  نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے‘‘۔

 اسی طرح فتنہ اور فساد فی الارض کو دُور کرنے کے لیے بھی اسلامی ریاست کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَo (البقرہ  ۲:۱۹۳) ’’تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی تمام زندگی ہی جہاد ہے۔ ظلم کے خلاف، نفس کے خلاف اور طاغوت کے خلاف۔

آیاتِ جہاد پر غور کیا جائے تو دو اصول بالکل واضح ہوکر سامنے آتے ہیں: اوّلاً کسی بھی ظالم اور طاغوتی نظام میں محض مظلوم بن کر رہنا، اسلامی فکر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ طاغوتی نظام میں دو ہی راستے ہوسکتے ہیں: اوّلاً: اس کے خلاف جدوجہد کہ اس کی جگہ عدل کا نظام آئے اور اگر تمام تر کوششوں کے بعد صبروتحمل کے ساتھ تمام دعوتی مراحل سے گزرنے کے بعد یہ یقین ہوجائے کہ یہاں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی تو پھر وہاں سے ہجرت۔ اس میں اگر عجلت کی گئی تو وہ غلط ہوگا  [حضرت یونس ؑ کی مثال ہمارے سامنے رہنی چاہیے]۔ یہی شکل مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ثابت ہوتی ہے کہ ۱۳برس تک ہرہرآزمایش اور تعذیب سے گزرنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی حکم دیا تو ہجرت کی گئی، ورنہ مکہ میں بذریعہ قوت قریش کی حکمرانی کو ختم کردینا بھی ایک امکانی اقدام (option) تھا۔ حضرت عمرؓ، حضرت حمزہؓ اور دیگر صحابہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود مشرکین کے سرداروں کو ایک رات میں قتل کر کے اسلامی نظام قائم کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

قرآن کریم نے جان اور مال کے ساتھ جہاد کو افضل قرار دیا ہے اور بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں میدانِ جہاد میں آنے والوں کے لیے اعظم درجے کا وعدہ فرمایا ہے۔ سورئہ نساء میں فرمایا گیا: لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاo (النساء ۴:۹۵) ’’ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں ، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہرایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے ، اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔

سو، فساد میں اس بات کو دوٹوک انداز میں واضح کردیا گیا۔ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ اعظم و افضل رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

جہاد قرآن کریم میں ایک جامع اصطلاح ہے جس میں افضل ترین شکل وہ نہیں ہے جو بعض حضرات ایک ضعیف حدیث کی بناپر سمجھتے ہیں بلکہ میدانِ عمل میں طاغوتی قوتوں کے خلاف مناسب حکمت عملی اور تیاری کے ساتھ جہاد کرنا قرآن کریم کا مقصود ہے۔ اس جہاد کے بارے میں یہ بات بھی سمجھادی گئی ہے کہ اگر اہلِ ایمان طاغوتی قوتوں سے عددی لحاظ سے کم بھی ہوں تو وہ اپنے خلوص، اللہ پر اعتماد، صبر اور حکمت عملی کے صحیح ہونے کے سبب کامیاب ہوں گے، چاہے ان کا تناسب ایک اور دس کا ہی کیوں نہ ہو، یعنی اہلِ ایمان ۲۰ ہوں اور طاغوتی قوت ۲۰۰ کے لگ بھگ ہو۔

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَo (انفال ۸:۶۵) ’’اے نبیؐ! مومنوں کو جنگ پر اُبھارو۔ اگر تم میں سے ۲۰آدمی صابر ہوں تو وہ ۲۰۰ پر غالب آئیں گے اور اگر ۱۰۰ آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزارآدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘۔

اسی چیز کو اہلِ ایمان نے بدر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب اُحد اور حنین میں حکمت عملی پر صحیح عمل نہ کیا تو دوسری نوعیت کے نتائج سامنے آکر رہے۔ مکہ مکرمہ میں ۱۳برس کا عرصہ بھی عرصۂ جہاد تھا کہ ہرہرسطح پر مزاحمت کا سامنا تھا۔ تعذیب تھی، امتحان تھا، ظلم تھا لیکن یہاں جہاد کی ایک خاص شکل تھی اور مدنی دور میں حالات کی تبدیلی کے بعد اس کی دوسری شکلیں سامنے آئیں گی، لہٰذا یہی جہاد مدینہ منورہ میں معاشرے کی تعمیر، عدل کے نظام کے قیام اور اہلِ کتاب کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے کرنے میں میثاقِ مدینہ کی شکل اختیار کرگیا اور پھر بدر، اُحد، خندق، حدیبیہ، تبوک،  فتح مکہ، حنین اور خیبر سب ہی جہاد کے مختلف رُخ ہیں۔گویا جہاد اہلِ ایمان کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اس کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن جہاد ہی ہے، جو اُمت مسلمہ کے جسم کو زندہ اور متحرک رکھتا ہے۔

جہاد فرض ہونے کا سوال

جہاد کے میدان کا تعین کہ کہاں پر کیا جائے، اور کیا کیا جائے، نیز جہاد کے وقت کا تعین کہ کس مرحلے میں کون سی شکل اختیار کی جائے، جہاد کے ہدف کا تعین کہ اصل مطلوب کیا ہے ۔ ان تمام معاملات میں فیصلہ کن حیثیت محض انسانی عقل کی نہیں ہے بلکہ انسانی عقل کو اسوئہ نبیؐ کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ کس صورتِ حال میں شارعِ اعظمؐ نے کیا حکمت عملی اختیار فرمائی۔ مکہ سے ہجرت جہاد کی ایک شکل تھی اور پھر مدنی دور کے تمام ہی سال جہاد کے مختلف مراحل کی تیاری اور ان کی انجام دہی کے سال ہیں۔ فتح مکہ جہاد کی ایک ایسی مثال ہے جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی کہ  خون بہائے بغیر اللہ کی حاکمیت کو قائم کیا گیا، لیکن یہ بھی اس کا ایک پہلو ہے کہ جن پر حق کی قوتوں نے غلبہ حاصل کیا ہے، ان سے کیسے معاملہ کیا جائے، یعنی یہ طے کرنا کہ مکہ میں کن مشرکین کو     قتل کرنا ہے اور کن کو ان کی ساری زیادتیوں کے باوجود معافی دے کر ان کے دلوں کو فتح کرلینا ہے۔ یہ سب کچھ اسوۂ حسنہ ہی تو ہے، جس پر غور کیے بغیر جہاد کا مقام، جہاد کا وقت اور جہاد کی حکمت عملی طے نہیں ہوسکتی۔ حدیبیہ کے موقع پر جانوں کی قربانی کرنے کا عہد جہاد ہی تھا لیکن اس کے باوجود بظاہر دشمن کے حق میں ہونے والی شرائط پر معاہدہ کرنا بھی جہاد کی حکمت عملی تھا اور وقت نے ثابت کردیا کہ شارع اعظمؐ کی نگاہ جن نتائج کو دیکھ رہی تھی ان تک فاروق اعظمؓ تک کی نگاہ اس خاص لمحے نہ پہنچ سکی۔ نہ یہ ان کے ایمان کی کمزوری تھی نہ فراست میں کمی۔ اصل چیز منہجِ نبوت کی اس کے تمام پہلوئوں کے ساتھ، تعلیم اور تعیین تھی اور اس منہج میں یہ تمام پہلو قوسِ قزح کی طرح ہمیشہ کے لیے موجود ہیں اور رہیں گے۔

جہاد کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس کا اعلان کون اور کب کرے گا؟ امام ابن تیمیہؒ اور دیگر علماے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ چونکہ یہ ایک اسٹرے ٹیجک معاملہ ہے کہ اس میں اُمت مسلمہ کی جان اور مال دونوں کا دخل ہے اس لیے یہ فیصلہ ذمہ داری اور عواقب پر غور کے بعد کیا جائے گا۔ اور یہ مسلمان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ استثنا کی شکل میں یہ کام ان علما کا ہے جو کسی سیاسی یا معاشی مفاد کے زیراثر یہ کام نہ کریں بلکہ  اُمت مسلمہ کے مفاد اور مصلحت عامہ کے اصول پر غیرجذباتی طور پر غور کرنے کے بعد کریں جیساکہ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی نے سکھوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور حضرت سیّداحمداور شاہ اسماعیل شہید نے تحریکِ مجاہدین کا آغاز کیا۔

لیکن کسی مسلم ریاست کے خلاف خروج اور خود مسلمانوں کے خون کو حلال کر لینا اس سے بہت مختلف معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ محض اس قیاس پر نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ حکومت کے فلاں ذمہ دار نے کسی بیرونی قوت سے ایک understanding یا ایک خفیہ معاہدہ کرلیا ہے، اس لیے اس سے وابستہ کسی بھی فرد کو جہاں کہیں چاہیں ہلاک کردیں۔ اس کی گنجایش دین اسلام میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں مثال خوارج کی ہے۔

خوارج کی فکری غلطی

خوارج نے اپنی فکری غلطی کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ نے بجاے براہِ راست قرآن کو حکم بنانے کے دو نمایندوں کے سپرد یہ کام کردیا کہ وہ قرآن کی روشنی میں طے کریں کہ مسئلے کا حل کیا ہو۔ اس لیے یہ دونوں حضرات خوارج کی نگاہ میں کفراور شرک کے مرتکب ہوگئے۔ چنانچہ ان کا خون ان کے لیے حلال ہوگیا۔ اس بناپر خوارج نے یہ طے کیا کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو جہاں کہیں وہ پائے جائیں قتل کیا جائے اور ان کے ساتھ جو لوگ شامل ہوں وہ بھی قتل ہوں۔ اُمت مسلمہ کی تاریخ گواہ ہے کہ خوارج کی اس فکر کو اجماعی طور پر رد کیا گیا اور انھیں ایک گمراہ فرقہ قرار دیا گیا۔ گو ،ان میں سے بہت سے افراد وہ تھے جو دن میں حضرت علیؓ کے خلاف جنگ کرتے تھے، راتوں کو تہجد اور قرآن سے رشتہ جوڑتے تھے۔ ان کے چہروں پر محرابیں تھیں اور وہ قرآن کے حافظ تھے۔ فکری غلطی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ایک شخص غیرمخلص اور دھوکے باز ہو۔ انتہائی خلوصِ نیت کے ساتھ اور دین کا جامع تصور نہ ہونے کے سبب اللہ کا ایک بندہ فکری غلطی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔

جو چیز دیکھنے اور سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنی جان کے دشمن افراد کے بارے میں کیا پالیسی ا ختیار کی اور کیا آپ کا یہ کرنا اسلام تھا یا اسلام سے انحراف! آپؓ نے حکم دیا کہ اگر وہ حملہ کریں تو جواب دیا جائے گا کہ جان کا تحفظ کرنا دین کا اصول ہے، لیکن ان کا پیچھا نہ کیا جائے، نہ انھیں غلام بنایا جائے نہ ان کی املاک پر قبضہ کیا جائے، جب کہ وہ کھلی بغاوت کے مرتکب تھے۔ دین کسی ایک پہلو کا نام نہیں ہے بلکہ مجموعی طور پر ہرپہلو کو سمجھ کر حکمت عملی وضع کرنے کا نام ہے۔

جس طرح خوارج نے یہ فیصلہ کرلیا کہ حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ  کو فیصلہ کرنے پر مامور کرنا شرک اور کفر تھا، قرآن کے حکم ماننے کا انکار تھا، ایسے ہی بہت سے  سادہ لوح افراد دین کے نام پر خلوصِ نیت کے ساتھ یہ عاجلانہ فیصلہ کربیٹھتے ہیں کہ اگر کسی نے   نام نہاد طاغوت کے کسی نمایندے سے بات کرلی، مصافحہ کرلیا، کسی ایسے اجتماع میں یا کانفرنس میں شرکت کرلی جس میں طاغوتی نمایندے موجود ہوں تو وہ شرک اور کفر کا مرتکب ہوگیا، اس لیے واجب القتل ہوا۔ اس قسم کی منطق اختیار کرنے سے قبل دین اسلام کے مقصد و مدعا، نبی کریمؐ کے اسوہ اور  حکمت عملی کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں ذمہ دارانہ اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلے جذباتی انداز میں نہیں کیے جاسکتے۔

خوارج اور اس طرح کے افراد نے جو شکل اختیار کی، اُمت کی تاریخ نے اس پر کیا فیصلہ دیا، یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اُمت نے جس چیز کو اسوہ نبویؐ کے مطابق سمجھا وہ خوارج کی فکر نہ تھی بلکہ بتدریج، مرحلہ بہ مرحلہ، صبرواستقامت اور قربانی کے ساتھ دعوتی کام کرتے رہنا، وقت کے لحاظ سے موجود ذرائع ابلاغ کا استعمال کرنا اور وقت کی قید سے بے پروا ہوکر اپنی تمام قوت اللہ کے دین کے قیام کے لیے لگادینے ہی کو سواء السبیل قرار دیا۔

یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ دین میں شرعی احکام کا نفاذ صرف اور صرف ظاہر پر ہے باطن پر نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مدینہ منورہ میں منافقین کی کھلی اور چھپی ہوئی سرگرمیوں کے باوجود  نبی کریمؐ نے منافقین کے قتل کا حکم نہیں دیا، جب کہ وہ اہلِ مکہ کے ساتھ خفیہ سازشوں میں    شریک تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اور سنت مطہرہ نے انسانی جان کی حُرمت کو جو مقام دیا ہے ہم اُس سے بہت دُور نکل چکے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ نبی کریمؐ کو بہت عزیز  تھے لیکن جب حضرت اسامہ نے ایک شخص کو دورانِ جنگ یہ کہنے کے باوجود کہ وہ ایمان لاتا ہے قتل کردیا تو نبی رحمتؐ نے اس پر سخت غصے کا اظہار فرمایا اور اسامہ سے پوچھا کہ کیا انھوں نے اس کے دل کو چیر کر دیکھا تھا کہ اس میں ایمان تھا یا نہیں؟ اور یہ کہ وہ دل سے مسلمان ہوا تھا یا دکھانے اور جان بچانے کے لیے! اس لیے کسی کی تکفیر کردینا اور مشرک قرار دے کر اس کے خون کو حلال کرلینا نہ  قرآن سے ثابت ہے اور نہ سنت سے۔ خوارج کا بھی عجیب معاملہ تھا کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو تو وہ قتل کے لائق سمجھتے تھے لیکن ذمیوں پر جو غیرمسلم تھے، اس بنا پر کہ ان کی جان کا ذمہ اللہ اور رسولؐ نے لیا تھا، ہاتھ اُٹھانا حرام سمجھتے تھے۔ فہم کی غلطی انسان کو کہاں تک پہنچادیتی ہے کہ  وہ تصویر کا ایک ہی رُخ دیکھتا ہے اور اس پر نازاں بھی ہوتا ہے کہ اصل اسلام پر وہ عمل کر رہا ہے۔ خوارج خلوصِ نیت سے یقین رکھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور جیساکہ پہلے عرض کیا یہ تہجدگزار اور قرآن کے حافظ تھے  اس کے باوجود فکر کی غلطی نے انھیں گمراہ کردیا۔

اسلامی نظامِ حکومت میں دستور اور قانون کی تدوین کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ قرآن و سنت کو دستور مان لینے کے بعد نہ کسی مزید دستور کی ضرورت ہے نہ کسی قانون کی۔ اسلام کا ہر طالب علم یہ جانتا ہے کہ قرآن و سنت کا دوسرا نام شریعت ہے اور شریعت نے جو حدود متعین کردی ہیں انھیں دنیا کے تمام مسلمان مل کر بھی تبدیل نہیں کرسکتے۔ لیکن جن معاملات کے بارے میں قرآن و سنت میں واضح ہدایت موجود نہ ہو، ان کا کیا کیا جائے۔ ظاہر ہے کوئی نئی وحی تو آنہیں سکتی۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ فلاں معاملے میں اس پر یہ وحی آئی ہے۔ جو ایسا کرے گا وہ اللہ اور رسولؐ اللہ پر جھوٹ باندھے گا۔

اختلاف راے اور اجتہاد

اس کا حل خود قرآن کریم اور سنت رسولؐ نے یہ بتایا کہ ایسے تمام معاملات میں اجتہاد، قیاس اور اجماع پر عمل کیا جائے گا لیکن اس پورے عمل میں اسلامی نظامِ حکومت کی اصل روح مشاوت کا کرنا ہے، حتیٰ کہ دورِ نبویؐ میں بھی بہت سے اہم معاملات مشاورت کے بعد طے کیے گئے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ نبی کریمؐ اپنی فراست اور وحی الٰہی کے جاری رہنے کی بناپر اگر چاہتے تو بغیر کسی سے پوچھے فیصلے فرما سکتے تھے اور آپؐ کا ہرفیصلہ صحابہؓ کے لیے قابلِ قبول ہوتا لیکن آپؐ نے ایسا نہیں کیا تاکہ آپؐ کی اُمت اسلامی نظم مملکت کے اس اصول کو عملاً دیکھ کر اس کی اہمیت سے آگاہ ہوسکے۔ غزوئہ بدر میں میدان کے انتخاب کا معاملہ ہو یا اُحد کے موقع پر مدینہ منورہ میں ٹھیر کر مقابلہ یا باہر نکل کر مقابلہ، غزوئہ احزاب میں دفاعی حکمت عملی ہو یا احزاب کے بعد یہود کے ساتھ طرزِعمل کا سوال، ہر اہم معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شوریٰ کو نہ صرف قائم کیا بلکہ اس کی راے کا پورا احترام فرمایا۔

آپؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کے معاملے میں اور اسامہ بن زیدؓ کے لشکر کی روانگی کے سلسلے میں جو فیصلے کیے، انھیں معلومات نہ ہونے کی بناپر بعض حضرات ان کا veto کرنا کہتے ہیں، جو صحیح نہیں۔ پہلے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس دلیل اپنی راے کی نہیں تھی بلکہ قرآن میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ کی یکساں مرکزیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صحیح احادیث کی تھی جن کے واضح الفاظ کی پیروی میں انھوں نے یہ اقدام کیا۔ چنانچہ آپ نے نبی کریمؐ کا ارشاد سنایا کہ: ’’مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کریں۔ جب وہ اقرار کرلیںگے تو ان کی جانیں اور ان کے مال میری طرف سے محفوظ ہوجائیں گے، مگر  اس کلمہ کے کسی حق کے تحت اور ان کے باطن کا محاسبہ اللہ کے ذمے ہے‘‘۔دوسری حدیث جو آپؐ نے بیان فرمائی اس کے الفاظ بھی بہت اہم ہیں:’’مجھے حکم ملا ہے کہ مَیں تین چیزوں پر لوگوں سے جنگ کروں: کلمہ لاالٰہ الا اللہ کی شہادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ کی ادایگی پر‘‘۔

ان احادیث کے دلیل قطعی ہونے کی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کا فیصلہ کرنا دلیلِ شرعی اور واضح نص پر تھا ۔یہاں معاملہ شوریٰ کے دائرے سے باہر تھا۔ قرآن و سنت کے نصوص کی موجودگی میں خلیفہ کا کام صرف ان احکام کا نفاذ تھا۔ مشاورت کس بات پر کی جاتی؟

اسی طرح جس لشکر کو تیار کروانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے علَم حوالے کیا ہو، کیا اسے روکنا رسول اللہ کی اطاعت تھی یا اسے آپ کی منشا کے مطابق روانہ کرنا ادایگی فرض تھا۔ یہاں بھی معاملہ نہ شوریٰ کا تھا نہ اکثریت یا اقلیت کا۔

یہ خیال کہ خلیفہ صرف اللہ کو جواب دہ ہے قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شوریٰ اور مشاورت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ان کے خلفا اپنے تمام اُمور میں مشاورت کریں اور مسئلے کے تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد جس راے پر اکثریت کا اتفاق ہو اسے نافذ کیا جائے۔ شوریٰ کا مقصد محض نمایشی طور پر تفنن طبع کے لیے لوگوں کی راے معلوم کرنا نہیں ہے کہ تمام بحث و مباحثے کے بعد کرے وہی جو خلیفہ خود چاہتا ہو۔(جاری)

عصرِحاضر میں جہاں انسان نے اپنی قابلیت واستعداد کے جو ہر متعدد شعبہ ہاے زندگی میں دکھلائے ہیں، ان میں ذرائع وسائل یا ذرائع ابلاغ ایک اہم موضوع ہے جو اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کا موضوع بحث ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ یہ وہ اہم شعبہ ہے جس میں انسان اپنی جودتِ طبع اور کمال و استعداد کا ناطق ثبوت پیش کررہاہے۔ ذرائع وسائل کا استعمال خواہ قومی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر، تعمیروتخریب دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ سعادت مند ہے وہ فرد یا قوم جو وسائل کا استعمال ذاتی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کرتی ہے، جب کہ ان وسائل کا منفی مقاصد کے لیے استعمال ملک و قوم کے مفاد کے منافی ہے۔

اصطلاح میں اس لفظ کی تعبیر ذرائع ابلاغ و ترسیل یا وسائل نشرواشاعت سے ہوتی ہے۔ اس وقت بالعموم دو قسم کے ذرائع ابلاغ معروف ہیں۔ ایک کو طباعتی ذرائع ابلاغ (Print Media) سے جانا جاتا ہے، جب کہ دوسرے کو برقیاتی ذرائع ابلاغ (Electronic Media) کہا جاتا ہے۔ دوسرے ذرائع ابلاغ کو قومی سطح سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے قومی ذرائع ابلاغ (National Media) کا نام دیا جاتا ہے۔ تیسری قسم مخصوص خطۂ ارض یا جغرافیائی حدود سے پرے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی ہے جسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ (International Media) کہا جاتا ہے اور انھیں اہم مسائل کی نشرواشاعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی یہ تینوں قسمیں جو علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر استعمال کی جاتی ہیں بلاشک و تردد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مثبت اور منفی دونوں طریقوں سے ان کا استعمال ہوتا ہے۔ میڈیا پر جس طبقے کا غلبہ ہوتا ہے یا جو برسرِاقتدار حکومت ہوتی ہے، وہ بہرحال تعصب و جانب داری کی دلدل سے نہیں نکل پاتی اور پھر اس کے مثبت اثرات و نتائج مجروح ہونے سے بچ نہیں پاتے۔ میڈیا کی اہمیت اور میڈیا پر تسلط و غلبہ پانے والی تنظیموں، جماعتوں اور حکومت کے منفی کردار سے متعلق مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا یہ اقتباس قابلِ ملاحظہ ہے:

دنیا کی سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی تنظیمات، سب کا حال یہی ہے۔ یورپ، امریکا اور روس کی حکومتوں کو دیکھیے، اسی کے ساتھ مشرقی حکومتوں کو بھی دیکھیے کہ وہ فاسق الخیال، فاسدالمقاصد، جن کے مقاصد تخریبی، جن کی زندگی فاسد، جن کے اخلاق خراب، جن کے افکاروخیالات فاسد، ان سبھوں نے ایک اجتماعی نظام بنایا ہے اور وہ اجتماعی نظام قوموں کی قسمتوں کا فیصلہ کر رہا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ اس گروہ کا جادو چل رہا ہے جس کے ہاتھ میں ابلاغ کے ذرائع ہیں۔(مقدمہ: مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، نذرالحفیظ ندوی)

  • میڈیا کا منفی کردار:انسانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنا، عوام و خواص کو بغاوت اور نافرمانی پر اُبھارنا، عوام و خواص میں راہنمایانِ قوم کے متعلق شکوک و شبہات کو فروغ دینا،  مستحکم قیادت سے محروم کرنے کی کوشش کرنا، فرقہ واریت کے جذبات کو شہہ دینا، واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنا اور ان کو خلافِ شان حرکتوں پر مجبور کرنا، دوسروں کے محاسن کو بالاے طاق رکھنا اور ان پر دبیز پردے ڈالنے کی کوشش کرنا، نااہل اور نالائق افراد اور جماعتوں کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دینا، معمولی خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کر کے پیش کرنا، اصل اور مطلوب اُمور و مسائل کے بجاے جزئیات اور غیرضروری اُمور پر توجہ مرکوز کرانا___ یہ سب میڈیا کے منفی کردار کے ثبوت و مظاہر ہیں جو آئے دن عینی مشاہدات میں آتے رہتے ہیں۔ حقائق کا نظروں سے اوجھل ہوجانا، اخلاقی قدروں کی پامالی، فتنہ و فساد کا دور دورہ اور انسانیت دشمنی کے کریہہ اور المناک حوادث و واقعات کی ذمہ داری بھی تعصب و جانب داری پر مبنی میڈیا کے سر آتی ہے۔

طباعتی میڈیا میں چاہے کتابیں ہوں یا جرائد و رسائل یا اشتہارات، اور برقیاتی میڈیا میں خواہ کمپیوٹر ہو، ٹیلی ویژن ہو، ریڈیو ہو، یا ان دونوں کے علاوہ معاشرے میں ایسے بدکردار اور  فساق و فجارلوگوں کی موجودگی ہو جو بُرائیوں کے لیے نرم گوشہ ہی نہیں رکھتے ہوں بلکہ زبانِ حال اور زبانِ قال سے شرانگیزیوں اور بدکاریوں کی سرپرستی کرتے ہوں، میڈیا کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس میں فحاشی و عریانیت کے انفرادی اور اجتماعی کاروبار کا طریقہ اختیار کرنے والے بھی آتے ہیں اور وہ لوگ بھی اس میں شامل ہیں جن کی فطرتِ ثانیہ ہی فتنہ پروری اور بدکاری بن چکی ہو اور وہ عملی طور پر بُرائی کو ایک دوسرے تک اور پھر پورے معاشرے تک عام کرتے ہیں۔

  • میڈیا کا منفی کردار اور معاشرتی انتشار:ذرائع ابلاغ کے یہ تمام طریقے انتہائی مذموم ہیں۔ ایک طرف فحاشی و عریانیت، انسانی قدروں کی پامالی اور اخلاق سوز حرکتیں، انسانی معاشرے میں ان مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری و ساری ہوجاتی ہیں اور دوسری طرف امن و چین سے معاشرہ محروم ہوجاتا ہے۔ عزت و آبرو دائو پر لگ جاتے ہیں اور ان کی سرگرمیِ عمل کے نتیجے میں بہت سے افراد اور جماعتیں بھی ان بُرائیوں کی نقیب بن کر میدانِ عمل میں آجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت کا عطاکردہ ضابطۂ زندگی قرآنِ مجید ایسے عمل کو انتہائی سنگین جرم قرار دیتا ہے اور رسولِ عربیؐ پر نازل شدہ یہ کتاب جو سراپا ہدایت و رحمت ہے دنیا کی عدالتوں کو بھی مکلف بناتی ہے کہ انھیں ان کے جرائم کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور عبرت ناک سزائیں دی جائیں، تاکہ یہ آیندہ ایسے اقدامات کی جرأت سے اجتناب کریں اور معاشرے میں موجود بعض اس قسم کے عناصر کے لیے بھی یہ عبرت کا باعث ہوں۔ اللہ وحدہٗ لاشریک ایسے مجرموں، بدکرداروں اور اخلاق و انسانیت کے دشمنوں کے لیے اس زندگی کے بعد کی زندگی میں ابدی عذاب کی یقین دہانی بھی کراتا ہے۔ قرآنِ مجید میڈیا کے اس منفی کردار کو شنیع جرم قرار دیتا ہے۔ جرم کی شدت و سنگینی کا اندازہ قرآنِ مجید کی اس جامع تعلیم سے کماحقہ ہوتاہے:

اِِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط  وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَo(النور۲۴:۱۹) یقینا جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

اگرچہ یہ آیت کریمہ اُم المومنین حضرت عائشہؓ کی شخصیت پر بہتان تراشی کرنے اور افواہوں کا بازار گرم کرنے والے منافقین اور کمزور ایمان والے حضرات سے متعلق ہے، لیکن قرآنِ مجید  کی عظمت کا راز اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ اس کی تعلیمات مخصوص دور سے تعلق نہیں رکھتیں اور نہ افراد اور جماعتوں کے کردار محض ہدفِ تنقید بنانے اور مخاطبین کے لیے تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے بیان کیے جاتے ہیں، بلکہ ہرہرآیت پوری آب و تاب کے ساتھ آج کے افراد و معاشرے کے لیے بھی روح پرور پیغام ثابت ہوتی ہے۔ افراد و اشخاص یا اقوام و ملل کی بابت حقائق کے بیان میں قیمتی اسباق مطمح نظر ہوتے ہیں، اور اس کا یہی فیض بے کم و کاست تاقیاقت برقراررہے گا۔ اس آیت کریمہ کے ضمن میں مولانا مودودیؒ کی وضاحت جامع اور فکرانگیز ہے:

موقع و محل کے لحاظ سے تو آیت کا براہِ راست مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے الزامات گھڑ کر اور انھیں اشاعت دے کر مسلم معاشرے میں بداخلاقی پھیلانے اور اُمت مسلمہ کے اخلاق پر دھبہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں، لیکن آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بدکاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بداخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اُکسانے والے قصوں، اشعار، گانوں، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں۔ صرف آخرت ہی میں نہیں دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہیے۔ لہٰذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت ِ فحش کے ان تمام ذرائع و وسائل کا سدّباب کرے۔ اس کے قانونِ تعزیرات میں ان تمام افعال کو مستلزمِ سزا ، قابلِ دست اندازی پولیس ہونا چاہیے جن کو قرآن یہاں پبلک کے خلاف جرائم قرار دے رہا ہے اور فیصلہ کر رہا ہے کہ ان کا ارتکاب کرنے والے سزا کے مستحق ہیں۔(تفہیم القرآن، ج۳، ص۳۷۰-۳۷۱)

ظاہر ہے کہ یہ اسلامی قانون ہے اور اسلامی قانون کا نفاذ معیارِ مطلوب کی حد تک اسی وقت ہوسکتا ہے جب اسلامی حکومت قائم ہو۔ لیکن آج دنیا کا ہرباضمیر، حسّاس اور باشعور شخص اپنی عزت و آبرو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو آخر دوسروں کے حق میں اس فکر کو جِلا کیوں کر نہیں ملتی۔ یقینا آج ہتک عزت کا قانون جمہوری حکومتوں میں رائج ہے اور اس کے مطابق کم و بیش فیصلے بھی ہوتے ہیں اور بسااوقات عدلیہ کی طرف سے راحتیں بھی ملتی ہیں۔ لیکن ذرائع ابلاغ جو بسااوقات حقائق و معارف کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، انسانوں کی عزت کو دائو پر لگادیتے ہیں، فتنہ و فساد کو فروغ دیتے ہیں، یہاں تک کہ قتل و خون ریزی تک نوبت آجاتی ہے اور ملک و قوم کی امن و آشتی مخدوش و پُرخطر   بن جاتی ہے، آخر ان کے اس حد تک بے لگام ہونے کے کیا معنی ہیں؟ کیوں نہیں ان کے لیے حدود متعین کی جاتیں اور ایک حدتک انھیں پابند کیوں نہیں کیاجاتا؟ اگر ایسا ہو تو ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے والے افراد و اشخاص بہت حد تک محتاط و ہوشیار رہیں گے۔ انھیں افراد اور جماعتوں کی عزت و آبرو کا بھی خیال ہوگا اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے بھی فکرمند ہوں گے۔ کم از کم   اس قسم کی کارروائی کے ذریعے افواہوں کو ہوا دے کر معاشرے کا ماحول مکدر کرنے سے یقینی طور پر ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران گریزاں ہوں گے اور بالآخر بڑی حد تک میڈیا میں شفافیت آئے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ذرائع اطلاعات و نشریات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ عدلیہ ہی اس سلسلے میں تعزیرات کے نفاذ کے ذریعے مؤثر اور قابلِ ستایش رول ادا کرسکتی ہے، کیوں کہ ذرائع وسائل نشریات بالعموم حکومت وقت کے اشارۂ ابرو پر سرگرمِ عمل رہتے ہیں۔

  • اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب:آج قومی اور بین الاقوامی میڈیا کا مرکز توجہ اسلام اور مسلمان ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا پر اپنا تسلط جمانے والے اصحابِ حل و عقد آج اس مشن میں محو و مستغرق ہیں کہ صحیح اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کردیا جائے، اور ایسے اسلام کو باقی رکھا جائے جو دنیا میں بے حس و حرکت اور معذور و مجبور بن کر رہے۔ جن کے نام لیوا زندہ تو رہیں لیکن انسداد شروفتنہ، قیامِ امن، خدا کے گھر میں خدا کے قانون کے نفاذ اور صرف اور صرف ایک خدا کی خدائی کے علَم بردار بن کر وہ دوسرے مذاہب و اقوام کے علی الرغم اپنی سمت ِسفر متعین نہ کریں۔

انسانیت نوازی اور بشر دوستی کی جو تعلیمات قرآن و سنت سے مترشح ہوتی ہیں، دنیا کا کوئی مذہب ان کے عشرعشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ تمام مخلوقات ارضی و سماوی میں انسان کو اشرف بنائے جانے کا اعلان ہو(التین ۹۵:۴)، یا پوری انسانی برادری کے مکرم اور معزز ہونے کا اعلامیہ (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)،کائنات کی تمام اشیا کا انسان کے لیے پیدا کیے جانے اور اس کے لیے مسخر کرنے کا فرمان ہو(النحل ۱۶:۱۲، لقمان ۳۸:۲۰، الجاثیہ ۴۵:۱۳)،آدم ؑ و حوا ؑ کی تمام اولاد کو یا دنیا کے ہرخطہ، رنگ اور نسل کے انسانوں کو عالم گیر اور آفاقی رشتے میں پرو کر ایک ماں باپ کی اولاد قرار دینے کی تلقین ہو (النساء۴:۱، الحجرات ۴۹:۱۳)،  یا پھر ایک انسان کے قتلِ ناحق کو ساری انسانیت کے قتل کے مترادف اور ایک انسان کی زندگی کو سارے انسانوں کی زندگی بچانے کے برابر قرار دینے کی تعلیم و ہدایت ہو(المائدہ ۵:۳۲)___ہرلحاظ سے اسلام انسانیت کا عظیم ترین نجات دہندہ ہے اور انسانوں کے مابین اخوت و محبت ، رحمت و رافت اور ہمدردی و بشردوستی کی تعلیمات کا سب سے بڑا علَم بردار ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ تمام بندگانِ خدا کے لیے بھیجے گئے ہدایت نامہ قرآنِ مجید کی بنیادی تعلیمات کو اگر ایک شخص تعصب کی عینک ہٹاکر دیکھے تو اس کے سامنے اس دعویٰ کی صداقت آشکار ہوجاتی ہے۔ توحید کی تعلیم دراصل ایک خدا کو ماننے اور اسی کا تابع فرمان ہوکر رہنے کی تعلیم ہے۔ یہ تعلیم ایک انسان کو تمام جھوٹے خدائوں سے متنفر کردیتی ہے اور اس کی گردن سے تمام باطل خدائوں کا قلادہ اُتار کر ایک خدا کی عبودیت کا تاج اس کے سر پر رکھتی ہے۔ خدائوں کے جھرمٹ میں رہتے ہوئے ایک شخص ذہنی اور نفسیاتی لحاظ سے اضطراب و بے چینی کا شکار ہوتا ہے، جب کہ ہزاروں خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا کو خوش کرنا اس کے لیے آسان بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح رسالت کا عقیدہ انسان کو خدا کی مرضی کے حصول کے مستند ترین اور عملی طریقے کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح آخرت کی تعلیمات دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں انسان کو ذمہ دار اور جواب دہ بنادیتی ہیں۔

یہ بنیادی تعلیمات انسانی عظمت کی نمایندہ اور نقیب ہیں۔ ان درخشاں تعلیمات کے باوجود اگر اسلام کو انسانیت کا دشمن قرار دیا جائے اور اس دین و مذہب کو خونخواری سے منسوب کیا جائے تو اس سے بڑی بددیانتی اور بے حیائی کیا ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پر اسلام کی شبیہہ بگاڑنے کی سعیِ نامشکور کی جارہی ہے۔ اسلام کو انتہاپسندی، خونخواری اور دہشت گردی سے منسوب کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو امن و آشتی کا دشمن اور دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ میڈیاکے نزدیک جو جتنا صحیح العقیدہ اور پختہ مسلمان ہے وہ اتنا ہی بڑا دہشت گرد ہے اور جو مصالحت، مفاد پرستی اور ابن الوقتی کا ثبوت دے کر وقتاً فوقتاً اپنے موقف کو بدلتا رہتا ہے وہ پسندیدہ اور محبوب ہے اور اسے سیکولر ہونے کا تمغا دیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس اسلام سے امن و آشتی کے جھوٹے دعوے داروں اور اقتدار کے متوالوں کو خطرہ ہے وہ دراصل انتہاپسندی اور دہشت گردی ہے، اور جس اسلام سے من مانی کرنے والوں، خودساختہ قوانین کو نافذ کرنے والوں اور اقتدار کے پجاریوں کو خطرہ نہیں ہے اور ان کے ذاتی، گروہی اور ملکی مفادات مجروح نہیں ہوتے، وہ اسلام انھیں محبوب ہے اور ایسے ہی مسلمان دراصل ان کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔

میڈیا کا کردار اور قرآنی تعلیمات

  •  تقویٰ اور خدا خوفی:نیکی و صالحیت کے لیے آمادہ کرنے والی مہتم بالشان چیز تقویٰ یا خوفِ خدا ہے۔ یہ خوفِ خدا زبردست ضابطے و حکمراں (controller) کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاشرے کی کوئی روایت، حکومت کا کوئی ضابطہ اور پولیس کا کوئی ڈنڈا آبادی میں، روشنی میں، چوراہوں اور شاہراہوں پر تو کام آتا ہے، لیکن آبادی سے دُور کسی صحرا اور کسی ویرانے میں ، بندکمرے میں، مخصوص چہاردیواری کے اندر یا رات کی مہیب و پُرخطر تاریکی میں صرف اور صرف تقویٰ کا قانون کام کرتا ہے۔ اگر انسان کے قلب و ضمیر پر اس خدائی قانون کی حکمرانی ہوجائے تو انسان راست رو، اعتدال پسند اور ہرمعاملۂ زندگی میں اپنے خالق حقیقی کی مرضی کا تابع بن جاتا ہے، اور افراد اور معاشرہ جو اس قانون کی عظمت کا علَم بردار بن جاتا ہے وہ اللہ کی نظر میں صحیح معنوں میں مکرم و معزز ہوجاتا ہے(الحجرات۴۹:۱۳)۔ اس قانونِ الٰہی سے متعلق ربانی ہدایات جابجا قرآنِ کریم میں موجود ہیں(ملاحظہ کیجیے: البقرہ ۲:۱۹۴، ۱۹۶، ۲۰۳، اٰل عمرٰن ۳:۱۰۲، المائدہ ۵:۲،۴،۷، ۳۵، ۵۷، الانفال۸:۱، التوبہ۹:۱۱۹، الاحزاب ۳۳:۷۰، الحدید۵۷:۲۸)۔ یہ تقویٰ انسان کو اخلاقی قدروں کا پاسباں، محبت و بشر دوستی کا محافظ اور عدل و قسط کا پیامی بناکر گویا اس فانی زندگی میں بھی متاع بے بہا ثابت ہوتا ہے اور آخرت کی لازوال مسرتوں کے حصول میں اس قانونِ الٰہی کے لاثانی توشۂ راہ ہونے میں کوئی شبہہ باقی نہیں رہتا۔

سورئہ حشر میں خوفِ خدا کے اسی قانون کے اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے:

یٰٓـیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط  (الحشر۵۹:۱۸) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہرشخص کو اس بات کے لیے فکرمند ہونا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔

ایک جگہ تقویٰ کی فضیلت بایں طور بیان کی جاتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی نیک عمل اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے ہم کنار نہیں ہوتا جب تک تقویٰ کے قانون پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نہ کیا جائے۔ بڑی سے بڑی قربانی اور عظیم سے عظیم تر عمل قبولیت سے محروم رہتا ہے، دل کی دنیا پر اگر خوفِ خدا کی حکمرانی نہ ہو۔ فرمایا جاتا ہے:

لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَ لَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط (الحج۲۲:۳۷) (جانوروں) کے گوشت اللہ تک ہرگز نہیں پہنچتے ہیں اور نہ ان کا خون ہی، مگر اس کی بارگاہ میں تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

دنیا کا ہر آدمی آخرت کا مسافر ہے (بخاری)۔ مسافر راستے کو منزل نہیں قرار دیتا بلکہ اس کی نگاہ منزل پر رہتی ہے۔ سفر بھی اچھی طرح گزر جائے اور منزل کی یافت بھی آسان تر ہوجائے، اس کے لیے تقویٰ ہی دراصل توشۂ راہ ہے۔ اور صحیح معنوں میں یہ تقویٰ اس فانی زندگی کی سعادتوں سے بھی ایک شخص کو مالامال کرتا ہے اور اس زندگی کے بعد کی ابدی زندگی کے لیے بھی  نوید مسرت ثابت ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید کی اس سلسلے میں جامع تعلیم ہے:

وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ (البقرہ ۲:۱۹۷) اور زادِ راہ ساتھ لے لو اور سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔ پس اے ہوش مندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔

اس خوف و خشیت الٰہی کی بنیاد پر ایک فرد اور معاشرے کی زندگی میں جن اخلاقِ فاضلہ کی نشوونما ہوتی ہے، اس کی بناپر رب العالمین کی جانب سے اس کے معزز ہونے کا اعلان ہوتا ہے:

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط (الحجرات۴۹:۱۳) درحقیقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ     خدا سے ڈرنے والا ہے۔

  •  راست بازی اور عدل و انصاف:صدق اور عدل، تقویٰ کے نمایاں ترین مظاہر میں سے ہیں۔ قرآنِ مجید میں کہیں سچائی کا طریقہ اختیار کرنے والوں کو متقین سے تعبیر کیا جاتا ہے (البقرہ ۲:۱۷۷)، تو کہیں عدل و انصاف کے طریقے کو تقویٰ سے قریب تر بتایا جاتا ہے (المائدہ ۵:۸)۔ صدق و عدل ذرائع ابلاغ کا حسین زیور ہیں۔ میڈیا اگر ان اوصاف سے عاری ہوجائے اور اس کے بجاے پروپیگنڈا، جھوٹ، فریب، ناانصافی، دھوکا اور تعصب کے دلدل میں پھنس جائے تو اپنی وقعت کھو بیٹھتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان عیوب و نقائص کے ساتھ عصرِحاضر میں بے پناہ قوت و اثر کا حامل میڈیا اپنے ہی ہاتھوں اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتاہے اور عوام و خواص کی نگاہوں میں مشکوک و مشتبہ ہی نہیں بلکہ مذموم بن جاتا ہے۔ صحت مند اور کامیاب میڈیا کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت مہمیزکا کام کرتی ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داروں کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے اللہ رب العزت کا ارشاد جس میں صدق و عدل کی دونوں خصوصیات اصلاحِ اعمال اور عفو تقصیرات کی ضمانت کے طور پر جلوہ گر ہیں:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاo یُّصْلِـحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط  وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًاo(الاحزاب۳۳:۷۰-۷۱) اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کیا کرو۔ اللہ تمھارے اعمال سنوار دے گا اور تمھارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔

حضرت شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمے کے مطابق سیدھی سچی اور پختہ بات کے عادی ہونے پر اصلاح اعمال کا جو وعدہ ہے وہ صرف آخرت کی زندگی کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ اس عارضی اور غیرمستقل زندگی کے نقطۂ نظر سے بھی ہے۔ گویا دینی اور دنیوی دونوں قسم کے اعمال کی درستی کا وعدہ اللہ رب العزت کی طرف سے ہے۔ لہٰذا جو شخص قولِ سدید کا عادی ہوجائے، یعنی کبھی جھوٹ     نہ بولے، سوچ سمجھ کر کلام کرے، کسی کو فریب نہ دے، اس کے اعمال آخرت میں بھی درست ہوجائیں گے اور دنیا کے کام بھی بن جائیں گے۔ (مفتی محمد شفیع، معارف القرآن، جلد۷، ص ۲۴۲)

  •  جواب دھی کا احساس اور فکرِ آخرت:کوئی فرد، معاشرہ، تنظیم اور حکومت جب ذمہ دار اور جواب دہ ہو تو اس سے حُسنِ عمل اور اچھی کارکردگی کی توقع ہوتی ہے۔ یوں بھی اس کی تعبیر کی جاتی ہے کہ جو شخص یا معاشرہ جتنا ذمہ دار اور جواب دہ ہوتا ہے اتنا ہی اس کی جانب سے خیر کی توقع ہوتی ہے۔ وہ ہرقدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے اور خدمت انسانیت میں وہ پیش پیش ہوتا ہے۔ موت کے بعد کی زندگی سے متعلق عقیدہ کم و بیش ہرمذہب میں پایا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ جتنا صاف اور شفاف اور واضح و مبرہن ہو، عملی زندگی میں اس کے مظاہر اسی کے لحاظ سے اعلیٰ و ارفع ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات اس سلسلے میں یہ ہیں کہ یہ دنیا و مافیہا فانی ہے(الکہف ۱۸:۸، الرحمٰن ۵۵:۲۶)۔ یہاں کی صعوبتیں وقتی اور راحتیں زوال پذیرہیں۔ انسان پوری کائنات میں اشرف و اکرم ہے اور اس کی تخلیق اس لیے ہوئی ہے کہ وہ اس تغیر آشنا اور زوال پذیر زندگی میں آزمایا جائے(الکہف ۱۸:۷، الملک ۶۷:۲)۔ گویا دنیا کی اس زندگی کو امتحان گاہ کی حیثیت حاصل ہے جس کا نتیجہ اس چند روزہ زندگی کے بعد ملے گا، جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ من پسند عیش میں ہوگا اورجس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا(القارعۃ ۱۰۱:۶-۹)۔ نیکی و بدی ذرہ برابر بھی چھپ نہ سکے گی اور ہر ایک اس کے مطابق اجروثواب یا عتاب و عذاب پائے گا (الزلزال ۹۹:۷-۸)۔ جب میڈیا کے ذمہ داروں میں اس زندگی کے بعد کی زندگی کا یقین تازہ اور عقیدہ مستحکم ہوجائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کے لحاظ سے حساس ہوں گے، بُرائیوں سے مجتنب ہوں گے اور اچھائیوں کے فروغ کی کوشش کے ذریعے خدمت انسانیت کا حق ادا کریں گے، کیوں کہ خداے بزرگ و برتر کے سامنے جواب دہی کا احساس کسی کو بھی اعمالِ صالحہ کی انجام دہی میں  متحرک و فعال بنائے رکھتا ہے۔ اگر وسائل ترسیل اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران اس جہت سے اپنے آپ کو تیار کرلیں اور اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی ابدی اور لازوال مسرتوں کے  طلب گار بن کر لائحہ عمل طے کریں تو یقینی طور پر خوش گوار تبدیلیاں وقوع پذیر ہوں گی۔

موت کے بعد کی زندگی کا احساس اور خوفِ خدا، یہ بنیادی اوصاف ہیں جن کا حامل ایک فرد ذمہ دارانہ زندگی گزارتا ہے۔ اس دنیا کو وہ امتحان گاہ اور آخرت کی کھیتی سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے لیے کوشاں و سرگرمِ عمل رہتا ہے، تاکہ عالم نتیجہ گاہ میں اپنے آپ کو سرخ رُو اور سعادت مند بنائے۔ اسی طرح خوفِ خدا کی بنیاد پر اس کے اندر ان اخلاقِ حسنہ کو جِلاملتی ہے جن کی بناپر وہ بہت محتاط ہوجاتا ہے اور ہرشعبۂ عمل میں خدا کی مرضی کا علَم بردار بن کر اپنی مصروفیات و مشغولیات کا رُخ متعین کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسی بیش قیمت سرمایے کی بناپر خالقِ حقیقی کی طرف سے معزز اور مؤقر ہونے کی بناپر سند اعزاز بھی عطا کی جاتی ہے۔ یقینا یہ دونوں قرآنی تعلیمات میڈیا یا ذرائع ابلاغ کو انسانیت کے لیے بامقصد اور مفید مطلب بنانے میں سرگرم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان خصوصیات کو توشۂ راہ بناکر میڈیا اگر رخت ِ سفر باندھے اور دنیا کی منڈی میں آئے تو ایک طرف بلاشک و شبہہ عوام و خواص اور علما و جہلا سب کی جانب سے راست رو، ایمان دار، بے باک اور شفافیت سے پُر ہونے کی سند حاصل ہوگی، اور دوسری طرف بے لاگ تبصروں اور خبر رسانی کے یہ ذرائع ان کے ذمہ داروں کو خالق حقیقی کی نگاہ میں بھی محترم اور باعزت بنادیتے ہیں۔

  •  قیاس و گمان کے بجاے حقائق:قیاس و گمان اور شک و شبہے پر مبنی بات بھی   بے وزن ہوتی ہے اور بالعموم اس قسم کی باتیں کرنے والے افراد یا وسائل اطلاع و ترسیل کو صحت مند فکر کا حامل قرار نہیں دیا جاتا۔ عوام و خواص بھی ایسے ذرائع و وسائل یا ایسے اشخاص و جماعتوں سے بدظن ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ چیزیں حقائق سے اغماض برتنے کی راہ ہموار کرتی ہیں اور افواہوں کو پروان چڑھاتی ہیں جن کے بسااوقات سنگین نتائج تصادم اور جنگ و جدال کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور امن و آشتی کے ماحول کو مکدر کردیتے ہیں۔ اس شکل میں میڈیا جس سطح کا ہو، اسی سطح کے مفاسد کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیم یہ ہے کہ بعض قیاس و گمان اور ظن و تخمین کا سرا گناہوں سے مل جاتا ہے(الحجرات ۴۹:۶)۔ بایںطور ذرائع ابلاغ میں قیاس و گمان صرف یہی نہیں کہ صداقت کے لحاظ سے کسی چیز یا اطلاع کو مشکوک و مشتبہ بنادیتے ہیں بلکہ یہ ارتکابِ گناہ ہوتا ہے۔ قیاس و گمان اور شک و شبہے سے بالا ہوکر حقائق کو شُستہ اور شگفتہ انداز میں منظرعام پر لانا دراصل امانت کا تقاضا ہے۔ اس کے برخلاف شکوک و شبہات کے سہارے کوئی بات کہنا بڑی خیانت ہے اور تلخ نتیجے کے طور پر بسااوقات ندامت و شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ آیت میڈیا کو شفافیت سے ہم کنار کرنے اور بامقصد بنانے کے لیے نسخۂ شافی کے طور پر ملاحظہ کی جائے:

ییُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاِ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًام بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَo (الحجرات ۴۹:۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔

  •  حقائق کو مسخ کرنے اور لغویات کی نفی:عام طور پر ذرائع ابلاغ کا یہ منفی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ واقعات کو من و عن بیان کرنے کے بجاے حذف و اضافہ اور قطع و بُرید کے ذریعے خبروں کو مسخ کردیا جاتا ہے۔ کبھی کسی کی تعریف اس حد تک کی جاتی ہے کہ آسمان و زمین کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں اور کبھی کسی کی تحقیر و تذلیل پر ذہن آمادہ ہوتا ہے تو اسے ذلت و پستی کے قعرعمیق میں گرا دیا جاتا ہے۔ حقائق اور واقعات کو دل نشیں پیرایۂ بیان میں بیان کرنا قابلِ ستایش ہے لیکن نمک مرچ لگاکر، تصنع اور تکلف کے لبادے میں ملمع کاری کرنا اور تفریح طبع کا سامان اس طور پر پیش کرنا کہ حقائق و واقعات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، محض نیک نامی، شہرت اور بازار میں اپنی قیمت منوانے کا سطحی ذریعہ تو بن سکتا ہے لیکن میڈیا کے نام پر یہ جذبات کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس عمل کو ’لہوالحدیث‘ سے موسوم کیا ہے جس کی تعبیر کلام دل فریب یا کلامِ لغو سے بھی کی جاتی ہے۔ ایسے کلام دلفریب دراصل ضلالت و گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عملِ بد کا انجام بھی اہانت آمیز عذاب کی شکل میں ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ ہدایت میڈیا اور ان کے ذمہ داروں سے متعلق ایک زبردست تنبیہہ ہے جس کے اندر وعظ و نصیحت کا سامان بھی موجود ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ق  وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا ط  اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌo (لقمان ۳۱:۶) اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلامِ دل فریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

مفتی محمد شفیعؒ کے مطابق آیت کریمہ کا شانِ نزول نضر بن حارث کا وہ نامبارک عمل ہے جو تجارت کی غرض سے فارس کا سفر کیا کرتا تھا اور شاہانِ عجم وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لاتا، اور قومِ عاد و ثمود وغیرہ کے قرآنی قصوں کے بالمقابل رستم، اسفندیار اور دوسرے شاہانِ فارس کے قصے محض اس لیے سناتا کہ مشرکین اور کمزور ایمان والے لوگ قرآنِ مجید سے بدک جائیں، اور شاہراہِ ہدایت کے بجاے ضلالت و گمراہی کو اپنا شیوہ بنا لیں۔(معارف القرآن، ج۷، ص ۲۰)

اس سلسلے میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی وضاحت مفید مطلب ہے: ’’لہوولعب اور   تفریح و تمتع کے سازوسامان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق کھیل، مقابلوں اور مظاہروں سے بڑھی ہوئی دل چسپی اور محویت و انہماک سے ہے۔ دوسری قسم لطف و تفریح کی گفتگو ہے جس میں پڑکر لوگ فرائض و واجبات اور ذکراللہ سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس میں کہانی قصے اور فحش روایات آتی ہیں۔ یہاں پر اس آیت میں لہوولعب اور کہانی و قصے دونوں کو یک جا کردیا گیا ہے اور اس کو ’لہوالحدیث‘ سے تعبیر فرمایا ہے‘‘۔(مقدمہ: مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، نذرالحفیظ ندوی)

اگرچہ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر ایک خاص واقعہ ہے، تاہم قرآنِ مجید  کتابِ ہدایت ہے اور قیامت تک پوری انسانیت کے لیے اپنی اصل افادیت کے ساتھ یہ نوشتۂ ہدایت بصیرت و روشنی کا سامان کرتا رہے گا۔ کسی فرد یا گروہ کے سلسلے میں قرآنِ مجید کی تنقید یا تعریف کا   یہ مقصد قطعاً نہیں ہوتا کہ کسی فرد یا گروہ کو ذلت و پستی کے قعر میں گرا دیا جائے یا کسی کو خراجِ تحسین پیش کردیا جائے، بلکہ اس کا مقصد درس و عبرت ہوتا ہے۔ آج کے زمانے میں قرآنِ مجید اسی زورواثر اور اسی شیرینی و سحرانگیزی کے ساتھ انسانی معاشرے سے مخاطب ہے جس طرح آج سے  چودہ سو سال قبل مخاطب تھا۔ زیربحث آیت کریمہ کی معنونیت اس امر میں پنہاں ہے کہ ایک فرد ہو یا معاشرہ یا اطلاعات و نشریات کے ذرائع علم و آگہی کے بغیر اگر باتوں کو نشر کرتے اور سطحی مقاصد کے حصول کے لیے حقائق و شواہد کے بالمقابل خانہ ساز اور خودساختہ افکاروبیانات کی تشہیر کے ذریعے عوام کی تفریح طبع کا سامان کرتے ہیں، تو گویا یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اس لیے کہ اس طریقۂ عمل سے حق و صداقت کا رُخ زیبا داغ دار ہوتا ہے بلکہ حقائق پس پردہ چلے جاتے ہیں اور کذب، بطلان، فریب اور جھوٹ معاشرے میں پھیل کر فتنوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

  •  ضابطۂ اخلاق اور گرفت کی ضرورت: راہنمایانِ ملک اور رٔوساے قوم اگر ایسے افراد کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں اور عدلیہ بھی اگر ان کے ان افعالِ رذیلہ سے بے اعتنائی برتتی ہے، تو ملک و قوم میں امن و آشتی، راست روی، حق گوئی اور حقائق سے آگہی کے لیے فضا ہموار نہیں کی جاسکتی اور ملک و قوم کو معنوی ترقیوں سے ہم کنار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ایسے افراد یا میڈیا بہرحال پُرامن اور خوش حال زندگی کے لیے چیلنج ہیں اور ان سے سخت طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ آیت سے متعلق عبداللہ یوسف علی کی راے ہے: ’’ان افراد کے ذریعے زندگی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے جو ان معاملات و مسائل کا شعور رکھتے ہیں جن سے زندگی متعلق ہے۔ لیکن (معاشرے میں) غیرسنجیدہ اور بے ہودہ ذہنیت کے لوگ بھی ہوتے ہیں جو لغو باتوں اور بے حقیقت قصوں کو صداقت اور حقائق پر ترجیح دیتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو بجاطور پر ملامت زدہ ہیں‘‘۔(Abdullah Yousuf Ali: The Meaning of the Holy Quran, p 1034, )

ذرائع ابلاغ یا وسائل نشریات کی اہمیت عصرِحاضر میں مسلّم حقیقت کے طور پر تسلیم کرلی گئی ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ جن افراد، جماعتوں اور حکومتوں کے زیرسایہ پروان چڑھتے ہیں یا ان پر جن لوگوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے دراصل آج کے دور میں باعزت، طاقت ور اور مؤثر وجود کی حیثیت سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔ یہ ذرائع جن کی دسترس سے باہر ہیں یا جو کسی وجہ سے ان سے قربت کی شکل پیدا نہیں کرپاتے، دراصل وہ گوشۂ گمنامی میں ہوتے ہیں اور کمزور و پس ماندہ افراد و طبقات کی حیثیت سے دنیا کے پردئہ سیمیں پر دیکھے جاتے ہیں۔

میڈیا دو دھاری تلوار کی طرح طاقت رکھتا ہے۔ تلوار کا استعمال شروفساد کا خاتمہ کرنے کے لیے اور امن وآشتی کی پُربہار فضا قائم کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے اور اس کااستعمال قتل و خوں ریزی کے لیے اور فتنہ و فساد کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ یہ تلوار کس کے ہاتھ میں ہے۔ آیا یہ تلوار ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو امن وآشتی کامفہوم نہیں جانتا، جو انسانی قدروں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتا اور جو اخلاقی قدروں کی پامالی کو اپنا شیوہ بناتا ہو،  یا یہ تلوار ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جس کی سرشت میں عدل و انصاف ہو، امن و آشتی کو نعمت غیرمترقبہ سمجھتا ہو، انسانی اقدار کا پاسباں اور نقیب ہو اور اخلاقیات اس کی ترجیحات میں ہوں۔ کامیاب میڈیا دراصل وہی ہے جس کے اہل حل و عقد میں ایک طرف اس کائنات کے حقیقی مالک کا خوف قلب و ضمیر پر حکمرانی کرتا ہو اور دوسری طرف جو موت کے بعد کی زندگی میں اپنے آقا کے سامنے اعمال کی جواب دہی کا احساس رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ راست گوئی، عدل و انصاف اور تحقیق و تمحیص کی بنیاد پر کہی گئی باتیں ہی دراصل علمی دیانت داری کا مظہر ہیں اور یہی چیزیں علاقہ، قوم، ملک بلکہ پوری دنیا میں انسانی قدروںکی افزایش کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہی چیزیں خدمت ِقوم  بلکہ خدمت ِانسانیت کا حق ادا کرنے کے لیے قوتِ محرکہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

موجودہ ذرائع ابلاغ خواہ طباعتی ہوں یا برقیاتی، علاقائی سطح پر ہوں یا ملکی سطح پر یا پھر بین الاقوامی سطح پر، وہ افراد ہوں جن کا شیوہ ہی فسق و فجور اور بے حیائی و بدکرداری ہو یا وہ معاشرہ ہو جو شرانگیز اور فتنہ پروروں کو نہ صرف یہ کہ انگیز کرتا ہو بلکہ محویت و استغراق کے ساتھ ان کے قافلے میں شریک ہوجاتا ہو، ایسے افراد و اشخاص یا ایسی جماعتیں اور تنظیمیں یا ذرائع ابلاغ اور اطلاعات کے وسائل  نہ صرف یہ کہ قابلِ مذمت ہیں بلکہ قابلِ مواخذہ ہیں، اور ملک و قوم کی امن و آشتی کے لیے اور  عوام و خواص کی مرفّہ الحالی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عدلیہ کی سطح پر ان پر سخت کارروائی ہو۔ قرآنِ مجید اس سلسلے میں راہنما نقوش یہ دیتا ہے کہ اس فانی زندگی میں اس قسم کے جرائم کی سنگینی کے پیش نظر انھیں کیفروکردار تک پہنچایا جانا چاہیے، اگرچہ موت کے بعد کی زندگی میں رب السموات والارض کی طرف سے ان کے لیے دردناک عذاب کی نوید بھی ہے۔

میڈیا جہاں ملک و قوم اور افراد و معاشرے کی زندگی کے دوسرے گوشوں میں خیانت کا ارتکاب کرتا ہے، ان میں سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ ایک مخصوص مذہب کے خلاف انھیں استعمال کیا جارہا ہے۔ اسلام جو عالم گیر بھائی چارگی کا تصور دیتا ہے، تمام معبودانِ باطل سے متنفر کرا کے خداے واحد کی عبودیت کا تاج سر پر رکھتا ہے، انسان کو اشرف و اکرم کا اعزاز بخشتا ہے، تسخیرکائنات کا پروانہ سونپتا ہے اور ایک انسان کے قتل ناحق کو ساری انسانیت کے قتل ناحق کے مترادف قرار دیتا ہے۔ ایسے آفاقی اور انسانیت نواز مذہب کے رُخ زیبا کو انتہاپسندی، خوں خواری اور دہشت گردی جیسے الفاظ سے داغ دار کیا جا رہا ہے اور لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِھِمْ (الصف ۶۱:۸) کے اعلان کے مطابق پوری دنیا اللہ رب العزت کی اس بیش قیمت نعمت اور انسانیت نوازی کے سب سے بڑے نقیب مذہب کو حرفِ غلط کی طرح مٹادینے کے لیے سعی میں مصروف ہے۔

تقویٰ یا خوفِ خدا ہی دراصل وہ ضابطۂ حکمراں اور زبردست قوتِ محرکہ ہے جو افراد و معاشرے کو اور میڈیا کے علَم برداروں کو بے لگام ہونے سے بچاسکتا ہے۔ قلب وضمیر اگر خوفِ خدا کے نشیمن بن جائیں تو ہرجگہ اور ہروقت انسان اس خدائی قانون کے تابع ہوکر منکرات و سیّات سے گریزاں ہوتا ہے اور خیر و حسنات کا پیامی بن جاتا ہے۔ صدق اور عدل تقویٰ کے عظیم ترین مظاہر ہیں۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید نے ’قولِ سدید‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دروغ گوئی سے اجتناب کیا جائے۔ سوچ سمجھ کر گفتگو کی جائے، فریب دہی سے باز رہا جائے اور دل خراش کلمات سے گریزاں ہوا جائے۔ اسی طرح قیاس و گمان اور شک و شبہے پر مبنی بات ہلاکت انگیزی کا سبب ہے۔ اس کی بنیاد پر میڈیا ماحول اور معاشرے کو مکدر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اور اپنا اثرورُسوخ کھو دیتا ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ درخشاں تعلیم دعوت فکروعمل دیتی ہے کہ گمان و قیاس کی بنیاد پر کہی ہوئی بات صرف یہی نہیں کہ استناد کی میزان پر پوری نہیں اُترتی، بلکہ یہ گناہ ہے اور بسااوقات انسان کو اس طریقۂ عمل سے شرمندہ و نادم ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح لگائی بجھائی کرنا، نمک مرچ لگاکر باتیں پیش کرنا، تصنع اور تکلف کا لبادہ پہننا اور اُمور ومسائل پر ملمع کاری کرنا، یہ ساری چیزیں صحت مند میڈیا کے خلافِ شان ہیں۔ قرآن اسے ’لہوالحدیث‘  سے موسوم کرتا ہے، جس کی تعبیر کلام دل فریب یا لغو اور مہمل بات سے بھی کی جاسکتی ہے۔ اس قسم کی باتیں ایک صحت مند معاشرے کو جلا نہیں دیتیں بلکہ ہدایت کی شاہراہ سے پھیر کر گمراہی کے بے شمار دروازے اور راہیں کھول دیتی ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید اس قسم کی باتوں کو معاشرے میں فروغ دینے والوں کے لیے اہانت آمیز عذاب کا اعلامیہ جاری کرتا ہے۔

اس امر میں صداقت ہے کہ اگر میڈیا اپنی ذمہ داری کو بحسن خوبی سمجھے، اپنے اعلیٰ و ارفع مقصد کو مستحضر رکھے، خدمت انسانیت کو اپنا شعار بنائے اور ملک و قوم کے ماحول کو پُرامن بنانے کے موقف پر مصر ہو، تو یقینا اس کے اہل حل و عقد قابلِ ستایش اور لائقِ مبارک باد ہیں۔ لیکن میڈیا کے یہ مثبت پہلو اسی وقت بامعنی اور بامقصد ہوسکتے ہیں جب کہ خوفِ خدا کے قانون کو جگہ دی جائے، موت کے بعد کی زندگی اور اس میں محاسبۂ عمل کی یاد کو تازہ رکھا جائے، عدل و صدق کو   شیوئہ حیات بنالیا جائے، قیاس و گمان اور شک و شبہے سے اجتناب کرتے ہوئے استناد کو محبوب   رکھا جائے، اور حقائق و مسائل کو من و عن دل نشیں پیرایۂ بیان میں واشگاف کردیا جائے۔


٭ مقالہ نگار علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ، بھارت سے وابستہ ہیں۔

جسمانی، نفسیاتی اور اجتماعی پہلوئوں سے انسان کا سلامت ہونا، یعنی بیماری اور معذوری کا نہ ہونا صحت ہے ۔تندرستی در اصل، بدن میں ہر چیز کے توازن کا نام ہے ۔ صحت کی حفاظت اور  اس میں ترقی کی تدابیراور بیماری کا علاج خود صحت کے لیے بہت ضروری ہے ۔ابن رشد، عضو کے طبعی عمل کے انجام دینے اور طبعی اثر کو قبول کرنے کو صحت کہتے ہیں۔ ابن نفیس کا کہنا ہے کہ بدن درست اعمال انجام دے، یہ صحت ہے ۔

 اعتدال صحت کی بنیاد ہے ۔ بدن اور جسم میں پائے جانے والے عناصر دراصل خوراک میں جو اجزا نمکیات، لحمیات ، چکنائی اور نشاستہ شامل ہیں، ان کا اعتدال اور توازن صحت مند ہونے کے لیے ضروری ہے۔ سورۂ رحمن میں ہے:اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِo(۵۵:۸) ’’میزان میں خلل نہ ڈالو‘‘۔ گویا توازن کو خراب مت کرو۔ جسم کا ہر ذرہ کائنات کے توازن کے لیے اساس ہے۔ سورئہ انفطار میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَلَکَo(۸۲:۷) ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تجھ کو بنایا، برابر کیا اور اعتدال عطا کیا‘‘۔ سورۃ التین میں ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ o (۹۵:۴) ’’بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر تخلیق کیا‘‘۔ سورئہ شمس میں آتا ہے : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا o (۹۱:۷) ’’جان کی قسم ہے اور اسے تناسب دینے والے کی قسم‘‘۔ سورئہ بقرہ میں قیادت کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ طالوت اس لیے چُنا گیا ہے کہ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ ط (۲:۲۴۷)، یعنی وہ تم پر علمی اور جسمانی فضلیت رکھتا ہے۔ ابن سینا فرماتے ہیں اعتدال انسان کی اس طبعی حالت کا نام ہے جو دوحدوں کے درمیان (افراط و تفریط) کا شکار نہ ہو (کتاب القانون،ص ۴)۔ حضوؐر نے قوی مومن کو ضعیف مومن سے افضل قرار دیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے، حضوؐر نے فرمایاکہ اللہ سے عافیت مانگو کیونکہ ایمان کے بعد صحت اور عافیت سے بہتر کوئی چیز کسی کو نہیں ملی ۔(ابن ماجہ)

نبی کریمؐ  نے بعض بیماریوں کا علاج بھی تجویز کیا ۔سنن ابوداؤد میں اسامہ بن شریکؓ سے روایت ہے،  آپؐ  نے فرمایا کہ علاج کرو ۔ ترمذی میں روایت ہے کہ ہاں، اے اللہ کے بندو علاج کرایا کرو۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اُتاری مگر اس کی شفا ضرور نازل کردی۔ جاننے والا اسے جان لیتا ہے اور جاہل اس سے بے خبر رہتا ہے ۔(مسند احمد)

امام ترمذی نے دوا اور پرہیزکے بارے میں ابو خزامہ ؓسے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: یہ بھی اللہ کی تقدیر کا حصہ ہیں۔ حضرت عمرؓ نے طاعون عمواس میں لشکر کے افراد کو وہیں پر بکھر جانے کے لیے تجویز دی اور فرمایا کہ ہم تقدیر الٰہی سے تقدیر الٰہی کی طرف ہی پلٹتے ہیں۔ جب انھیں بتایا گیا کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ نہ بیمار وبا کی جگہ سے نکلے اور نہ کوئی وہاں داخل ہو۔آپؐ نے مریض کی عیادت کو واجب قرار دیا اور مرض پر صبر کرنے کی تلقین کی ۔مرض کی تکلیف پر گناہوں سے خلاصی کی بشارت دی اور مرض کی شفایابی کے لیے کئی قسم کی دعائیں سکھائیں۔

اہم ترین فکر زندگی کا توازن ہے، نیند میں، غذا میں، رویے میں، روش زندگی میں۔ سورئہ رحمن میں فرمایا گیا:’’آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو‘‘(۵۵:۷-۹)۔ سورئہ فرقان میں فرمایا: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا (۲۵:۶۳)’’اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں‘‘۔ اسی طرح فرمایا: جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا (البقرہ ۲:۱۴۳) ’’اور ہم نے تم کو اُمت وسط بنایا‘‘۔ خرچ کرنے میں بھی حکم ہے: وَالَّذِیْنَ اِِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا (الفرقان ۲۵:۶۷) ’’اور جب (رحمن کے بندے ) خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی، ان کے درمیان رہتے ہیں‘‘۔ توازن اگر بگڑ جائے تو انسان بیمار ہوجاتا ہے۔ اس میں ایک اہم پہلو متوازن غذا کا بھی ہے۔ نفسیاتی طور پر جذبات میں توازن خوف اور غصے کی حالت پر قابو پانا ہے۔ یہ بات قرآن بتاتا ہے کہ ایک فرد کی غیر متوازن زندگی پوری کائنات پر اثر انداز ہوتی ہے جو ایک دوسرے سے مربوط ہے۔ انفرادی، خاندانی اور عائلی زندگی میں اس کے اثرات ہمیں نظر آتے ہیں لیکن بیمار شخص کے معاشرتی اور بین الاقوامی اثرات ہی نہیں بلکہ انسانی اور زمینی اثرات سے آگے بڑھ کر کائناتی اثرات ہیں۔

اسلام کا ایک اہم اصول لاضرر والاضرار ہے۔ انسان کے پاس اس کا اپنا بدن امانت ہے۔ اس کو نقصان پہنچانا اور دوسرے فرد کو یا معاشرے کو نقصان پہنچانا بھی جرم ہے۔ خود کشی اسی لیے حرام ہے۔ اپنا مال ضائع کرنا اور بُرے اعمال کے ذریعے اپنی عزت کو پامال کرنا بھی جائز نہیں۔ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ’’ جس نے مومن کو نقصان پہنچایا، اس کے خلاف سازش کی، اس پر لعنت ہے ‘‘ (ابن ماجہ، ابوداؤد)۔ آپؐ  کا ارشاد ہے جس نے کسی مومن کو نقصان پہنچایا اللہ تعالیٰ اس کو نقصان پہنچائے گا (ترمذی)۔ وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ (النساء۴:۲۹) ’’تم اپنے آپ کو قتل مت کرو‘‘۔ (جان) ذات کا تحفظ فرض ہے۔ خاندان کے تحفظ کی بات بھی کی گئی ہے۔ تم میں بہتر وہ ہے جو اہل و عیال کے لیے بہتر ہے۔ عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے ،تیرے بچوں کا تجھ پر حق ہے۔ اس لیے حق دار کو اس کا حق دو۔ (بخاری)

اگر پرہیز اور امراض سے بچائو کے علاوہ حفظانِ صحت کے جو اصول اسلام اور طب میں مشترک ہیں، ان پر عمل کیا جائے تو عملی طورپر علاج کی نوبت ہی نہ آئے۔ حیرت ناک حد تک اسلامی تعلیمات واقعی زندگی بخش ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں۔ وہ صحت ہے اور فرصت ہے (بخاری) ۔کسی کو ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں ملی۔ (ابن ماجہ)

حفظانِ صحت کے اصول

حفظان صحت کے کچھ اصول ہیں: ۱- عادات ۲-جسمانی ساخت اور پرداخت ۳-ذہنی صحت ۴-معاشرتی صحت ۵-طبعی صحت ۶-لباس اور ماحولیاتی صحت ۔

  •  عادات: دو چیزیں عادتاً بہت اہم ہیں: نیند اور خوراک ۔ نیند کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا (النباء۷۸:۱۰) ’’ہم نے تمھاری نیند کو راحت بنایا‘‘۔ اور خوردونوش کے بارے میں فرمایا:  کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ (البقرہ ۲:۱۷۲) ’’ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تمھیں بخشیں انھیں کھائو‘‘۔ سورئہ مائدہ میں فرمایا: ’’حلال کو حرام نہ کرو‘‘(۵:۸۷)
  •  جسمانی ساخت: جسمانی ساخت اور پرداخت کے لیے متوازن غذا کی ضرورت ہے۔ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا (اعراف ۷:۳۱) ’’کھائو اور پیو مگر اسراف نہ کرو‘‘ (بسیار خوری اسراف ہے )۔ ذیابیطس ،ہائی بلڈ پریشر ،دل کی شریانوں کی بیماری ،درد سینہ ،انجمادِ خون، فالج صرف اور صرف بے ترتیب غذا کے سبب سے ہیں ۔ یوںمعدہ اور ہاضمہ دونوں کا صحت سے گہرا تعلق ہے۔ حضوؐرنے فرمایا: ’’کسی آدم زاد نے پیٹ سے زیادہ برا بر تن نہیں بھرا ۔ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں‘‘۔ اندرونی جسمانی صحت کا گہرا تعلق خوراک سے ہے۔ مقدام بن سعدی کربؓ سے ترمذی میں روایت ہے: ’’ اگر نفس غلبہ پالے تو ۳/۱کھانے کے لیے ۳/۱پینے کے لیے اور ۳/۱سانس لینے کے لیے چھوڑنا چاہیے ‘‘۔
  • ذھنی صحت :انسان کے امراض کا ۴۳فی صد ذہنی امراض ہیں۔ انسان کے پاس خوف اور غم کا علاج نہیں سوائے ایمان کے ۔ خوف اور غم کیا ہیں؟ نعمتوں کے چھن جانے کا خوف رہتا ہے اور جب چھین لی جائیں تو غم شروع ہوجاتا ہے۔ سورئہ بقرہ میں ہے: اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَھُمْ یَحْزَنُوْن (البقرہ ۲:۳۸) ’’ تم سب زمین پر اُترو، تمھارے پاس میری ہد ا یت آئے گی ،جو ان کی پیروی کرے گا اس پر نہ خوف ہوگا نہ غم ‘‘۔

خواہشات انسان کی زندگی کے پورے نظام کو بدل دیتی ہیں۔ مال و جاہ اور سیم و زر ان کے مختلف نام ہیں۔ منصب ،بیوی بچے اور اقتدار ان سب کی خواہش رہتی ہے لیکن یہ نعمت تب ہیں جب یہ ہدایت کے ساتھ ہوں۔ جذبات میں حسدسے پناہ کا سورئہ فلق میں ذکر آتا ہے کہ  مجھے حسد کرنے والے کے شرسے محفوظ فرما۔ غصے کے لیے احکام ہیں: وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۴) ’’اور وہ اپنے غیظ و غضب پر قابو پاتے ہیں ‘‘۔

سکون اور طمانیت قلب کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُo (الرعد ۱۳:۲۸) ’’دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے‘‘۔ نفسیاتی امراض سے نجات کا ایک بڑا ذریعہ معاملات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا ہے کہ مرض ، مالی یا جانی نقصان ،خوف ،بھوک میں انسان صبر کرے اور اللہ کا حکم اور اس کا فیصلہ قرار دے۔ لوگوں کے رویے انسان کو تکلیف دیتے ہیں۔ غلط رویوں کے لیے دین میں کوئی اجازت نہیں، مثلاً منافقت،تکبر، بے اعتنائی، نفرت، حسد، بُغض، تعصب ،تمسخر، مخالفت ،افتراق، ظلم، شک، بداخلاقی___ یہ تمام منفی رویے ہیں۔ سورۂ حجرات میں تمسخر، غیبت ،بدظنی ،تحقیر ،عیب جوئی کی حرمت کا حکم ہے۔ اسلام نظریاتی بھائی چارے کو قائم کرنے حکم دیتاہے اور تعصبات پر مبنی مملکتوںکے قیام کوانسانی حقوق کے خلاف قرار دیتا ہے۔

  • معاشرتی صحت: انسان کی اپنی صحت اور ارد گرد کے ماحول میں خاندان اور اہلِ خانہ کی صحت بہت اہم ہے۔ حضرت عثمانؓ زوجہ کی علالت کے باعث غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔   یہ بجاے خود ایک فقہی اصو ل کی نشان دہی کرتا ہے ۔ قانون عملی اور حقیقی اصولوں پر ہی تشکیل دیا جاتا ہے۔ صحت خود ایک نعمت ہے۔ ہاتھ دھونا ،غسل ،وضو، مسواک، ناخن اور بالوں کا ترشوانا ،کنگھی اور انگلیوں میں خلال، نماز کے دوران قیام ،رکوع اور سجود نماز کے لیے آنا جانا عبادت بھی ہے اور صحت بھی۔
  •  جنسی صحت اور تعلقات: مخصوص اعضا کی صفائی دینی مسئلہ ہے۔ حضرت عائشہ ؓ خواتین سے فرماتی ہیں کہ تم اپنے شوہروں کو ہدایت کرو کہ پانی سے صفائی کریں کیونکہ مجھے ان سے شرم آتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ ایسا ہی کرتے تھے (ترمذی)۔ شادی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ سورئہ روم (آیت ۲۱) میں ہے: ’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیداکردی‘‘۔ سورئہ نساء میں بیوی کا ذکر اس طرح آیا ہے: ’’اے انسانو! تمھارے رب نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی‘‘  (النساء۴:۱)۔ سورئہ رعد (۱۳:۳۸) میں فرمایا کہ آپؐ سے پہلے بھی ہم نے رسولؐ بھیجے ان کے بیوی بچے تھے۔ گویا شادی رسولوں اور انبیا کی سنت ہے۔ شادی صرف انفرادی فرض نہیں بلکہ اجتماعی فریضہ ہے۔ سورئہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح ہوں ان کے نکاح کردو ‘‘(۲۴: ۳۲)۔تفصیلی تعلیمات میں بیویوں کی صفات کا ذکر ہے ۔

اسی طرح نشے سے بچنا ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنo (المائدہ ۵:۹۰) ’’شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو،  اُمید ہے کہ تمھیں فلاح نصیب ہوگی‘‘۔ شراب کوحرام قرار دیا گیا۔ چودہ سو سال بعد بھی اُ مت     ان لعنتوں سے محفوظ ہے اور ان بیماریوں سے جو شراب نوشی اور نشوں سے پیدا ہوتی ہیں۔

  • طبعی صحت: حفظان صحت کا طبعی پہلو سراسرذ اتی اور انفرادی ہے کہ انسان اپنے بدن کی صفائی کرے۔ بدن کی صفائی کے ضمن میں قرآن فرماتا ہے: وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ o وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ o (المدثر ۷۴: ۴-۵) ’’اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور گندگی سے دُور رہو‘‘۔ ہر قسم کی گندگی سے بچنے کے لیے  آپؐ  نے فرمایا: ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘۔ اسلام نے یہ ہدایات کیوں دی ہیں؟ یہ ہدایات اس لیے دی گئی ہیں تاکہ صحت اچھی رہے۔ غذا اور خوراک کا جسم کے صحت مند ہونے سے گہرا تعلق ہے۔سورئہ نحل میں ارشاد ربانی ہے: ’’اس نے جانور پیدا کیے جن میں تمھارے لیے پوشاک اور خوراک بھی ہے اور طرح طرح کے ا ور فوائد بھی‘‘( ۱۶: ۵)۔ آیت ۱۴میں فرمایا: وَھُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْکُلُوْا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا’’اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کررکھاہے تاکہ تم اس سے ترو تازہ گوشت لے کر کھائو‘‘۔ اسی طرح آیت ۱۱ میں آتا ہے : یُنْبِتُم      لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ o’’وہ اس پانی کے ذریعے سے تمھاری کھیتیاں اگاتا ہے، اور  زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے‘‘۔ آیت ۶۶میں فرمایا: وَ اِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْم بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَo ’’اور تمھارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے۔ ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمھیں پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ جو پینے والوں کے لیے نہایت خوش گوار ہے‘‘۔ آیت ۶۹ میں شہد کا ذکر کیا ہے:’’ان مکھیوں سے مختلف رنگوں کا مشروب ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے‘‘۔ اُم ایمنؓ سے ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے چھنے ہوئے آٹے کو واپس کرکے بھُس میں ملانے کے لیے فرمایا اور پھر روٹی پکانے کا فرمایا۔ کھانے سے پہلے ہاتھوں کے دھونے کا حکم دیا۔ ابن ماجہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ کر رکھو۔ یہ سارے احکامات صحت سے متعلق ہیں۔
  •  لباس اور ماحولیاتی صحت: حفظان صحت کے اصولوں میں ماحول کی صفائی اور  پانی کی حفاظت کا حکم ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: تم میںسے کوئی ٹھیرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے (ابن ماجہ)۔ لعنت کی تین باتوں سے، پرہیز کی روایت ابوداؤد میں معاذ بن جبلؓ سے ہے کہ پانی کے مقامات، گزر گاہ کے درمیان اور سایے میں رفع حاجت نہ کرو ۔

یہ تمام احکامات علاج نہیں، مرض سے بچنے کی اعلیٰ ترین تدابیر ہیں۔ اس لیے کہ مرض سے بچنے کی تدابیر بھی دین کا حصہ ہیں بلکہ ترجیحاً بہت اہم ہیں۔ درخت اور پودے لگانے کو    صدقہ قرار دیاگیا۔  آپؐ نے فرمایا کہ جو بنجر زمین کو آباد کرے وہ اس کی ہے۔ ترمذی کی ر وایت حضرت جابرؓ سے اور ابوداؤد میں بھی ہے جس نے بیری کاٹی (بلاجواز) اللہ اس کے سر کو    دوزخ میں نیچا کرے گا ۔حضرت زبیرؓسے مسند احمد اور ابوداؤد میں روایت ہے، آپؐ  نے فرمایا: مرج وادی کا شکار اور پودے حرام ہیں۔  آپؐ نے فرمایا کہ جو درخت لگارہا ہے اور دیکھے کہ قیامت آگئی ہے تو درخت لگادے۔ قرآن میں ماحول کو تباہ کرنے والا بڑا دشمن وہ ہے جو کھیتی اور جانوروں کو ہلاک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو فساد پسند نہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ’’جب اُسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے، حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا‘‘۔(البقرہ۲:۲۰۵)

اس طرح گھر کی صفائی، برتنوں کی صفائی اور گھر کے ماحول کی صفائی بھی فرض ہے۔  خوب صورت محل دیکھ کر ہی تو ملکہ سبا نے اسلام قبول کیا ۔ گھر کی تعمیر اور صفائی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس طرح کہ خانہ کعبہ کے لیے اللہ نے ابراہیم سے وعدہ لیا کہ ’’میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف ، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو‘‘۔(البقرہ۲:۱۲۵)

 بدن، لباس، غذا اور ماحول  کی صفائی کیوں ضروری ہے؟یہ واضح ہے کہ انسان کی کسی   اہم ضرورت کی وجہ سے یہ احکامات دیے گئے ہیں۔ اب ثابت ہوگیا ہے کہ یہ سب صحت کے لیے علمِ فقہ میں اس بنیاد پر ہیں اور اولیت رکھتے ہیں کہ انسانی صحت کا دارومدار ان اہم اصولوں پر ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے ،کہ صحت مقدم ہے، اور قیامت تک کے لیے صحت سے متعلق ایجادات، دوائیں، پرہیز یا شہروں کی منصوبہ بندی یا مملکتوں کے انتظامی ڈھانچوں کے جو بھی احکامات ہوں گے، ان کو مقاصد الشریعہ کے زمرے میں شامل رکھا جائے گا۔ اس سے یہ بھی واضح ہواکہ پولیو کے قطرے بھی بیماری سے بچانے کے لیے ہیں۔ اس پر ان احکامات کا اطلاق ہوتا ہے ۔ ان سارے احکامات سے جب پتا چل گیا کہ انسانی زندگی کا تحفظ ہرچیز پر دینی لحاظ سے مقدم ہے، اور پھر زندگی کا انحصار صحت پر ہے، اور اللہ کو بھی قوی مومن پسند ہے تو پھر وہ ساری کاوش جو اس مقصد کے لیے ہو وہ باعث اجر و ثواب ہے۔

پولیو مھم: حقائق اور خدشات

پوری دنیا سے پولیو ختم ہوگیا، سواے نائیجیریا، افغانستان اور پاکستان کے۔ اس کام میں رکاوٹ وہ بہت سے معاشرتی، سیاسی، انتظامی اور مذہبی سوالات ہیں جن کے جوابات کی واقعی ضرورت ہے ۔ایک سوال یہ ہے کہ دنیا میں اتنے بہت امراض ہیں، اس ایک مرض کو ختم کرنے کے لیے امریکا اورپورا عالم کیوں کوشش کررہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اپنے بچوں کو کسی ملک کی دشمنی یا اسلام دشمنی کی وجہ سے مرض کے حوالے کرنا خود ایک گناہ ہے۔ امریکا اور عالم کفر کی اسلام دشمنی میں کوئی شک نہیں۔ اپنے بچوں کو پولیو زدہ کرنے سے ہم بھی ان کی پالیسی کوا ختیار کرنے والے بن جائیں گے، حالانکہ اس کام کا اس سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ پولیو کے یہی قطرے ۵۳اسلامی ممالک میں استعمال کرکے ہی وہاں کے مسلمان ڈاکٹروں، علما اور حکمرانوں نے پولیو کا خاتمہ کیا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ’’کسی قوم کی دشمنی تم کو عدل سے نہ ہٹا دے۔ خبردار عدل کرو اور تقویٰ کے قریب ترین چیز عدل ہے‘‘ (المائدہ ۵:۸)۔ یہ بات بھی عام ہے کہ ان قطروں میں بانچھ پن کی دوا ہے۔ ان قطروں کی شیشی پر اجزا کے نام موجود نہیں۔ ہر دوا کی طرح اس پر زائدالمیعاد ہونے کی تاریخ درج نہیں۔ کراچی کے ایک مائیکرو بیالوجسٹ ڈاکٹر عدیل نے ان اعتراضات کا لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے جائزہ لیا اور علماے کرام کی موجودگی میں ان اعتراضات کو بے بنیاد ثابت کیا۔

اس مضمون میںعلما کے اسلام آباد ڈیکلریشن کا تذکرہ بھی ضروری ہے جس میں راقم شریک تھا۔ اس ڈیکلریشن میں ڈرون حملوں کے سبب سے بے گناہ اورمعصوم بچوں کی شہادت کی مذمت جیسے اُمور پر بھی علما نے راے دی اور تین باتوں کو واضح کیا کہ پولیو کی ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔ تولیدی نظام کو نقصان پہنچانے والا کوئی جز اس میں شامل نہیں اور اس میں کوئی مضرصحت اور حرام چیز نہیں۔


مضمون نگار، نگران طبی فقہی بورڈ، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ہیں

دینی اعتبار سے اپنے مخالفین کے ساتھ معاملات میں جو تصور اور نظریہ مسلمانوں کی رہ نمائی کرتا ہے اس کی اصل اور اس کا منبع وہ افکار اور روشن حقائق ہیں، جو اسلام نے مسلمانوں کے دل و دماغ میں اُتار رکھے ہیں۔ ان میں سے چند اہم افکار و حقائق یہ ہیں:

۱- متعدد گروھوں کے وجود کا اقرار: اسلامی رواداری کی پہلی بنیاد یہ ہے کہ انسانوں کے مختلف اور متعدد گروہوں، جماعتوں اور قوموں کے وجود کا اسلام نے اعتراف کیا ہے۔ تعدداور تنوع تمام مخلوقاتِ خداوندی میں موجود ہے۔ یہ ایک فطری چیز ہے اور کائناتی اصول اور قانون ہے۔ مومن جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح مختلف شعبوں کے اندر انسانی مخلوق کی یکسانیت کے باوجود اُن کے نسلی، قومی، لسانی اور دینی تنوع کو بھی مانتا ہے۔ نسلی اختلافات کو قرآنِ مجید نے یہ کہہ کر واضح کیا ہے: وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا (الحجرات ۴۹:۱۳)، ’’اور تمھاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو‘‘۔ لسانی اختلاف کا ذکر یوں کیا: ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمینوں کی پیدایش، اور تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا اختلاف ہے، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کے لیے‘‘۔(الروم ۳۰: ۲۲)

دینی تنوع اور اختلاف کا اقرار کرتے ہوئے فرمایا: وَ لَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ o اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَ لِذٰلِکَ خَلَقَھُم o (ھود ۱۱: ۱۱۸-۱۱۹)، ’’بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بناسکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی کے لیے تو اس نے انھیں پیدا کیا تھا‘‘۔

مفسرین نے وَ لِذٰلِکَ خَلَقَھُم کا مفہوم یہ بیان کیا ہے: وَلِلْاِخْتِلَافِ خَلَقَھُمْ، یعنی اسی اختلاف اور تنوع کے لیے تو انھیں تخلیق کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ جب ہرایک کو عقل و ارادے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے تو اُن کے نقطہ ہاے نظر اور ادیان و مذاہب لازماً مختلف ہوں گے۔ غرض یہ کہ ان تمام طبیعی دلائل کے ساتھ ہم اس حقیقت کا مشاہدہ تو اپنی نظروں سے کرتے ہیں کہ ایک ہی دین کے اندر فکری اور مسلکی تنوع اور اختلاف موجود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو دین نازل کیا ہے اس کی بنیاد نصوص (متن) پر ہے۔ اور ان نصوص کا فہم ایک سے زیادہ نقطۂ نظر، تعبیرات اور اجتہادات کی اپنے اندر گنجایش رکھتا ہے۔ اللہ قادرمطلق کے لیے تو یہ ہرگز مشکل نہیں تھا کہ وہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی راے اور مسلک پر یک جا اور متفق کردیتا۔ اور اگر چاہتا تو اللہ تعالیٰ سارے کے سارے دین کو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ نصوص پر قائم کردیتا کہ پھر اُس میں اختلاف کی گنجایش ہی باقی نہ رہتی۔

ہماری عمومی دنیاوی اور معاشرتی زندگی میں بھی یہ تنوع اور اختلاف ہرجگہ موجود ہے۔ سیاسی جماعتیں اور گروہ موجود ہیں، اگر ہم فقہی مذاہب (مسالک) کا شروع سے جواز فراہم کرتے آئے ہیں تو سیاسی گروہوں کے وجود کا انکار کیوں کر کرسکتے ہیں۔ یہ بھی فقہ کی طرح سیاست کے مذاہب (مسالک) ہی تو ہیں۔ اور فقہی مذاہب کیا ہیں؟ گروہ اور جماعتیں ہی تو ہیں!!

 مسلمان کا یہ عقیدہ کہ ہرانسان معزز و محترم ہے، اس کا دین، قومیت، اور نسل جو بھی ہو۔ اس عقیدے کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰) ’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی‘‘۔ یہ بیان شدہ عزت ہر انسان کے لیے احترام و مقام کا حق واجب ٹھیراتی ہے۔ اس کی عملی مثالیں بہت سی ہیں۔ ان میں ایک امام بخاری کی روایت کردہ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی یہ حدیث ہے: ’’ایک بار ایک جنازہ نبیؐ کے پاس سے گزرا تو آپؐ اس کے احترام میں اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ آپؐسے کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا! آپؐ نے جواب میں فرمایا: کیا یہ ایک جان نہیں ہے؟‘‘ دیکھیے رسولِؐ کریم نے  کیسی عمدہ توجیہہ بیان کی اپنے اس عمل کی کہ اسلام میں تو ہر جان کی ایک حُرمت اور مقام ہے۔

۲- اختلاف، اللّٰہ کی مشیت: رواداری کی دوسری بنیاد مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ انسانوں کے مختلف ادیان کا ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مرضی سے ہے۔ اس نے اپنی مخلوقات کی اس نوع، یعنی انسان کو کوئی دین و عقیدہ اپنانے اور چھوڑنے کا اختیار اور آزادی عطا کر رکھی ہے۔ وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ  (الکھف ۱۸:۲۹)، ’’صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمھارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے‘‘۔ وَ لَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَo (ھود ۱۱:۱۱۸)، ’’بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے‘‘۔

ایک مسلمان کا یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کو کوئی روک نہیں سکتا، کوئی بدل نہیں سکتا، اور نہ کوئی اللہ تعالیٰ سے اس کی منشا و مرضی کے بارے میں پوچھ سکتا ہے لیکن مسلمان اس حقیقت کا بھی یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں وہی کچھ ہوتا ہے جس میں خیروحکمت ہو۔ انسان اس سے واقف ہوں یا لاعلم رہیں، اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ وہ تمام لوگوں کو مجبور کر کے مسلمان بنالے۔ اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ رسولؐ اللہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے: وَ لَوْشَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعًا اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَo(یونس ۱۰:۹۹)،     ’’اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟‘‘ وَ لَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَo(الانعام ۶:۳۵)، ’’اگر اللہ چاہتا  تو ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو‘‘۔

اور اگر اللہ چاہتا کہ تمام لوگوں کو ہدایت یافتہ فرماں بردار مومن بنادے تو وہ اُن کو کسی دوسری صورت پر تخلیق فرماتا جیسے فرشتوں کو اپنی مکمل اطاعت و عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ (الانبیاء ۲۱:۲۰)،’’شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، دم نہیں لیتے‘‘۔ لّاَیَعْصُونَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَo(التحریم ۶۶:۶) ، ’’وہ کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجالاتے ہیں‘‘۔

اور یہ دینی اختلاف تو واقع ہی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مرضی سے ہے، لہٰذا کون ہے جو اللہ کی منشا و مرضی کے سامنے کھڑا ہوسکے ؟ اور کون ہے جو تمام ادیان کو مٹاکر اپنے ہی دین کو باقی رکھنے کی سوچ سوچے؟ اگر کوئی ایسا تجربہ کرنا چاہے تو کرکے دیکھ لے، اُس کے حصے میں ناکامی و شکست کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ غلبہ اور فتح، اللہ واحد و قہار کی مشیت ہی کو حاصل ہوگی۔

۳-اختلاف کرنے والوں کا حساب روزِ قیامت ھوگا: اسلامی رواداری کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ مسلمان اس بات کا بھی پابند نہیں ہے کہ وہ کافروں کا محاسبہ کرے کہ تم کافر کیوں ہو؟ اور نہ وہ گمراہوں کی گمراہی پر انھیں سزا دے سکتا ہے۔اس لیے کہ یہ اس کا کام نہیں ہے اور نہ سزا اور جزا کا مقام یہ دنیا ہے۔ ایسے لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور اس کا ایک دن مقرر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مسلمان کسی کافر اور گمراہ کو سزا نہیں دے سکتا تو وہ کسی کو جزا اور بدلہ دینے کی ذمہ داری بھی نہیں اُٹھا سکتا۔کیونکہ وہ کسی کو جزا دینے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَ اِنْ جٰدَلُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ o اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَo  (الحج ۲۲:۶۸-۶۹)، ’’اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو ’’جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ کو خوب معلوم ہے، اللہ قیامت کے روز تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو‘‘۔رسولؐ کریم کو مخاطب فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کے بارے میں فرمایا: ’’اے محمدؐ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمھیں حکم دیا گیا ہے اُسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجائو، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور ان سے کہہ دو کہ:’’اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمھارا بھی۔ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے‘‘۔(الشورٰی ۴۲:۱۵)

ان تعلیمات اور ہدایات کی بنا پر مسلمان کا ضمیرپُرسکون رہتا ہے۔ اس کے دل کے اندر اپنے عقیدے اور کافر کے کفر کے درمیان ایسا کوئی تصادم محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کافروں کے ساتھ احسان اور انصاف نہ کرے، اور انھیں اُن کے دین و اعتقاد پر قائم نہ رہنے دے، اور زبردستی انھیں مسلمان بنانے اور ایذا پہنچانے کا ہدف ٹھیرا لے۔

۴- ساری انسانیت کو ایک ھی خاندان سمجہنا:دینی رواداری کی چوتھی بنیاد یہ نکتہ ہے کہ اسلام تمام انسانوں کو ایک خاندان کے طور پر دیکھتا ہے، ان کے طبقات، علاقے، زبانیں اور رنگ و نسل جو بھی ہوں۔ یہ خاندان بحیثیت مخلوق ربِ واحد کی طرف اور بحیثیت نسب ایک باپ کی طرف منسوب ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کا اظہار کرتے ہوئے قرآنِ مجید نے انسانوں کو بلکہ تمام کے تمام انسانوں کو مخاطب کیا ہے: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًاo  (النساء ۴:۱)، ’’لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اُس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے، اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے‘‘۔

یہاں استعمال ہوئے لفظ الارحام جن تمام تر انسانی رشتوں پر مشتمل ہے اس کو واضح کرنا مناسب ہوگا۔ خاندانِ انسانی کی وحدت جیسی اس حقیقت کو رسولِؐ اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عظیم اجتماع کے سامنے علی الاعلان یوں بیان فرمایا تھا: ’’لوگو! یقینا تمھارا رب ایک ہے، تمھارا باپ ایک ہے، تم سب آدم ؑ کی نسل سے ہو، اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ لہٰذا کسی عرب کو غیر عرب اور کسی غیرعرب کو عرب پر کوئی فوقیت اور برتری حاصل نہیں۔ مگر صرف تقویٰ کی بنیاد پر۔ کیونکہ تم میں سے اللہ کے نزدیک معزز ترین وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہے۔

رسول کریمؐ کے یہ الفاظ قرآنِ مجید کی سورئہ حجرات کے اس مضمون کو تاکید مزید کے طور پر بیان کرتے ہیں: ٰٓیاََیُّھَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ o (الحجرات ۴۹:۱۳)، ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے؟‘‘۔

اس آیت میں ذَکَرٍ وَّاُنثٰیسے مراد حضرت آدم ؑ و حواؑ ہیں ، اور وہی انسانیت کے والدین ہیں۔ اس مضمون کی مزید تائید و تصدیق مسنداحمد اور ابوداؤد میں مروی حضرت زیدبن ارقمؓ کی یہ روایت ہے کہ نبی کریمؐ ہر نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ئٍ وَمَلِیْکَہٗ ، أَنَا شَھِیْدٌ أَنَّکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ

اے اللہ! ہمارے اور ہر شے کے پروردگار اور مالک! میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ تو واحد ہے تیرا کوئی شریک نہیں!

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ئٍ وَمَلِیْکَہٗ ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ

اے اللہ! ہمارے اور ہر شے کے پروردگار اور مالک! میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ تیرے بندے اور رسولؐ ہیں!

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ئٍ وَمَلِیْکَہٗ ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ الْعِبَادَ کُلُّھُمْ اِخْوَۃٌ

اے اللہ! ہمارے اور ہر شے کے پروردگار اور مالک! میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ تمام کے تمام انسان بھائی بھائی ہیں!

قرآنِ مجید نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ انسانی اخوت کے ساتھ اہلِ ایمان اور اہلِ دین کے درمیان دینی اخوت بھی ہے۔ جیساکہ فرمایا: اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ (الحجرات ۴۹:۱۰)، ’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘‘۔ دوسری جگہ فرمایا: فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا       (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۰۳)، ’’اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے‘‘۔

اسی طرح قرآنِ مجید قومی اور وطنی اخوت کا اقرار بھی کرتا ہے ، جیساکہ رسولوں اور اُن کی مکذب قوموں کے درمیان اُخوت کا اقرار موجود ہے، مثلاً فرمایا: ’’اور عاد کی طرف ہم نے اُن کے بھائی ہود کو بھیجا‘‘ (اعراف ۷:۶۵)۔ ’’اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا‘‘ (النمل ۲۷:۴۵)۔یہاں اخوت دینی بالکل نہیں ہے بلکہ قومی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہررسول لوگوں کو دین کی دعوت دینے کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کرتا:یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (اعراف ۷:۵۹)،’’اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے‘‘۔ جب یہ چیز موجود ہے تو تمام انسانوں کا انتساب انسانیت کے باپ حضرت آدم ؑ کی طرف ہونے کے اعتبار سے انسانی اخوت لامحالہ موجود ہے۔ اس نسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرآنِ مجید میں پانچ مقامات پر لوگوں کو ’یابنی آدم‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

۵- انسان کی تکریم محض انسانیت کی بنیاد پر: اسلامی رواداری کی پانچویں بنیاد یہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان قابلِ تکریم و احترام ہے۔ اُس کے قابلِ تکریم ہونے میں اُس کی چمڑی کے رنگ، آنکھوں کے رنگ، بالوں کے رنگ، چہرے اور ناک کی بناوٹ، اُس کی زبان کے لہجے، اس کے علاقے کے محلِ وقوع، اس کے خاندانی شجرئہ نسب، یا کسی معاشرتی طبقے سے تعلق، حتیٰ کہ اُس کے دین کو بھی کوئی دخل حاصل نہیں ہے جس پر اُس کا ایمان ہے۔

انسان کی تکریم اور احترام قرآن کی نظر میں صرف اور صرف انسانیت اور آدمیت کی بنیاد پر ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم ؑ کوبزرگی دی اور انھیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی‘‘(بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)۔ مزید فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ(التین ۹۵:۴)، ’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘‘۔ پھر فرمایا: اَلرَّحْمٰنُ o عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ o خَلَقَ الْاِِنْسَانَ o عَلَّمَہُ الْبَیَانَ o (الرحمٰن ۵۵:۱-۴) ’’نہایت مہربان (خدا) نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ اُسی نے انسان کو پیدا کیا اور اُسے بولنا سکھایا‘‘۔نزولِ قرآن کی سب سے پہلی وحی میں فرمایا: اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ o الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o عَلَّمَ الْاِِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْo (العلق ۹۶:۳-۵)، ’’پڑھو، اور تمھارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘۔

تخلیق آدم ؑ کے بعد حضرت آدم ؑ اور فرشتوں کے درمیان ایک مقابلے کا انعقاد کیا گیا جس میں ابوالبشر حضرت آدم ؑ کی فرشتوں پر فضیلت ظاہر ہوگئی۔ اس پہلو سے اسلام نے احترامِ انسان کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا یہ جائز نہیں کہ کسی کی موجودگی میں اُسے کوئی تکلیف پہنچائی جائے۔ یا اُس کی غیرموجودگی میں کسی ایسے لفظ سے اُس کی توہین کی جائے جس کو اگر وہ سُن لے تو اُسے ناگوار ہو، خواہ یہ بات بذاتِ خود حقیقت ہی ہو مگر اُسے تکلیف دینے کا باعث بنے۔ حتیٰ کہ انسان کے مرجانے کے بعد بھی اُس کا ذکر اچھے لفظوں میں کیا جائے۔ انسان زندہ ہو یا مرنے کے بعد نعش کی صورت میں موجود ہو، کسی بھی حالت میں اُس کے جسم کی بے حُرمتی جائز نہیں ہے۔ حدیث رسولؐ میں تو یہاں تک آیا ہے: ’’میت کی ہڈی کو توڑنا زندہ انسان کی ہڈی کے توڑنے جیسا عمل ہے‘‘۔ اس سلسلے میں ایک یہودی میت کے احترام میں رسول کریمؐ کے کھڑے ہونے کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔

۶- بلا تفریقِ مذھب عدل و انصاف کا قیام: دینی رواداری کی چھٹی بنیاد  مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے۔ انصاف اسے پسند ہے، وہ اچھے اور اعلیٰ اخلاق کی طرف بلاتا ہے، خواہ مشرکین کے ساتھ ہی معاملہ کیا جا رہا ہو۔ اللہ تعالیٰ ظلم کو پسند نہیں کرتا بلکہ ظالموں کو سزا دیتا ہے، خواہ یہ ظلم ایک مسلمان کی طرف سے کافر پر ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو، عدل کرو، یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘۔ رسولؐ اللہ کی بھی یہ حدیث ہے کہ ’’مظلوم کی بددعا سے بچو (خواہ وہ کافر ہی ہو)۔اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی‘‘۔(المائدہ ۵:۸)

غیرمسلموں کے ساتھ اسلام کی رواداری ایسی رہی ہے کہ تاریخ نے اس کی کوئی مثال نہیں دیکھی۔ یہ رواداری اس وقت تو خاص اہمیت اختیار کرلیتی ہے جب معاملہ اہلِ کتاب کا ہو۔ اس سے بڑھ کر یہ رواداری اس وقت اور زیادہ نمایاں اور پُربہار ہوجاتی ہے جب یہ غیرمسلم دارالاسلام (اسلامی ریاست) کے شہری ہوں، اور اگر یہ کہا جائے تو حرج نہیں کہ اُس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ غیرمسلم خود کو عرب تمدن میں ڈھال چکے ہوں اور عربی کو اختیار کرچکے ہوں۔

۷- انسانی عداوتیں دائمی امر نھیں:دینی رواداری کی ساتویں بنیاد جس کو اسلام نے قائم کیا، مسلمانوں کو اُس کی تعلیم دی اور اُن کے دلوں دماغوں میں راسخ کیا، وہ یہ ہے کہ بسااوقات کچھ لوگ مختلف دینی اور دنیاوی وجوہات کی بناپر آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ عداوتیں حق ہوں یا باطل، کبھی ابدی اور دائمی نہیں ہوتیں۔ دل بدل جاتے ہیں، حالات تبدیل ہوجاتے ہیں اور کل کے دشمن آج کے گہرے دوست بن جاتے ہیں۔ آج فاصلے پر رہنے والے کل کے قریبی ٹھیرتے ہیں۔ یہ تبدیلی انسانی تعلقات کا انتہائی اہم اصول ہے۔ لہٰذا یہ جائز نہیں کہ انسان اپنی عداوت میں اس حد تک آگے نکل جائیں کہ صلح کا کوئی موقع اور گنجایش باقی نہ رہے۔ سورئہ ممتحنہ میں اس بات سے اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ دوستی قائم کرنے سے منع کرنے کے بعد پوری وضاحت سے متنبہ کردیا گیا۔ اس موقع پر حضرت ابراہیم ؑ اور آپ کے رفقا کی استقامت کی مثال دی گئی ہے۔ جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا: اِِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ (الممتحنہ ۶۰:۴)، ’’ہم تم سے اور تمھارے اُن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے کفر کیا اور ہمارے اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بَیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لائو‘‘۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ مَّوَدَّۃً وَاللّٰہُ قَدِیْرٌ وَّاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo(الممتحنہ ۶۰:۴)، ’’بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمھارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے، جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے‘‘۔ اللہ سبحانہ کی طرف سے دلائی گئی اُمید و رجا کو لفظ عسی کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ یہ لفظ دلوں کو تبدیلی کی اُمید سے بھردیتا ہے کہ بُغض و عداوت کی کیفیات محبت و مودت میں بدل سکتی ہیں اور اللہ دلوں کو تبدیل کر دینے پر قادر ہے۔ وہی تو ہے جو دلوں کو جیسے چاہتا ہے، الٹ پلٹ کرتا ہے۔ کینے اور بُغض کے گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ معاف کردینے والا ہے۔ وہ اپنے اُن بندوں پر بہت مہربان ہے جو اپنے دلوں کو ان آلایشوں سے صاف کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے تو مسلمانوں کے ہاں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’کسی کے خلاف اپنی نفرت کا غصہ کچھ نرم رکھو، ہوسکتا ہے کسی وقت وہ شخص تمھارا گہرا دوست بن جائے‘‘۔

۸- مکالمے کے بھترین انداز کی دعوت:اسلامی رواداری کی آٹھویں بنیاد یہ  نکتہ ہے کہ مخالفین کے ساتھ بہترین اسلوب میں بات چیت کی جائے۔ نہایت شائستہ اور مہذب انداز میں اپنی بات کہی اور مخالف کی سُنی جائے۔ اس بنیاد کی دعوت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا    یہ فرمان ہے: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَo (النحل ۱۶:۱۲۵)، ’’اے نبیؐ! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔ تمھارا رب ہی زیادہ بہترجانتا ہے کہ کون اس کی راہ بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے‘‘۔

حکمت اور موعظۂ حسنہ کی دعوت بیش تر مقامات پر اپنے متفقین کے ساتھ گفتگو کے لیے ہے، اور احسن اسلوب میں جدال کی تعلیم بیش تر جگہوں پر اپنے مخالفین کے معاملے میں دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو اُن کے رب کا یہ حکم ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے ایسے بہترین طریقے سے مباحثہ و مکالمہ کریں جو مخالف کے لیے بات کو قبول کرنے کے اعتبار سے مثالی اور انتہائی مؤثر ہو۔

 احسن طریقے سے جدا ل (مباحثہ و مکالمہ) وہ گفتگو اور بات چیت ہے جس کی دعوت ہم اپنے مخالفین کو بھی دیتے ہیں اور یہ ایسی چیز ہے جس سے دلوں کے اندر تنائواور دُوری پیدا نہیں ہوتی اور کوئی ایسا ہیجان برپا نہیں ہوتا جو فتنے فساد کا باعث بنے اور نتیجے کے طور پر ایک دوسرے کے بارے میں بُغض و عداوت پیدا ہوجائے۔ یہ طریقہ تو دلوں کو جوڑنے اور قریب کرنے کا سبب بنتا ہے۔ جیسا قرآن مجید نے اہلِ کتاب کے ساتھ مجادلے کے معاملے میں فرمایا ہے: وَ لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ وَ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰھُنَا وَ اِلٰھُکُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَo  (العنکبوت ۲۹: ۴۶)، ’’اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے سواے اُن لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں___ اور اُن سے کہو کہ ہم ایمان لاے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمھاری طرف بھیجی گئی تھی۔ ہمارا خدا اور تمھارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں‘‘۔

اس آیت میں اُن جامع مشترکات پر زوردیا گیا ہے جن کے اُوپر فریقین کا ایمان ہے۔ اختلاف اور تفرقے کا باعث بننے والے نکات کو زیربحث ہی نہیں لایا گیا۔ یہی اچھی گفتگو اور شائستہ مکالمے کا اصول ہے۔ اس بنیاد پر اسلام باہم مخالف گروہوں کے درمیان مکالمے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے وہ اُن کے درمیان تصادم کا قائل نہیں ہے، جیسا امریکی اسٹرے ٹیجک دانش ور سیموئیل پی ہنگ ٹنگٹن کا نظریۂ تصادم ہے۔(ماخذ: www.qaradawi.net)

 

تعصب اُن انتہائی خطرناک چیزوں میں سے ہے جو معاشروں کو تباہ کردیتی ہیں، اُن کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیتی ہیں۔ بلکہ یہاں تک ہوتا ہے کہ ان کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکا دیتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک ہی معاشرے اور ایک ہی وطن کے باشندے آپس میں برسرِجنگ ہوجاتے ہیں۔ تعصب سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی آزاد مرضی سے اختیار کیے ہوئے اپنے عقیدے اور  افکار کے اُوپر فخر کرے۔ بلکہ تعصب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی فکر اور عقیدے کی محبت میں اس طرح اندھا ہوجائے کہ دوسروں کو اپنا مخالف اور دشمن قرار دے لے۔ اُن سے نقصان اور شر کا اُسے اندیشہ لاحق رہے۔ اُن کے لیے بُرا سوچے اور بُرا کرے۔ اُن کے خلاف ناپسندیدگی اور تشدد کی فضا پیدا کرے۔ جس کی وجہ سے لوگ امن و سکون کی زندگی نہ گزار سکیں۔ اور یہ امن و سکون انسانیت کے لیے اللہ رب العزت کی عظیم نعمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب قریش کو اس نعمت سے نوازا تو فرمایا: فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ o الَّذِیْٓ اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ o (قریش: ۱۰۶:۳-۴)، ’’لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انھیں بھوک سے بچاکر کھانے کو دیا اور خوف سے بچاکر امن عطا کیا‘‘۔

قرآن مجید نے بھوک اور خوف کو معاشرے کے لیے بدترین مصیبت قرار دیتے ہوئے کہا:  وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَo (النحل ۱۶:۱۱۲) ، ’’اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔ وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہرطرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کُفران شروع کر دیا۔ تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھاگئیں‘‘۔

کچھ لوگ یہ تصور رکھتے ہیں کہ دینی ایمان اور تعصب لازم ملزوم ہیں۔ ایمان کسی حالت میں بھی تعصب سے جدا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ مومن دینی اعتبار سے یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اُس کے علاوہ سب باطل پر ہیں۔ اُس کا ایمان ہی راہِ نجات ہے۔ جو انسان اُس کے اس مضبوط سہارے کو نہیں پکڑے گا وہ نجات کے راستے کی طرف ہدایت نہیں پاسکتا۔ اور جو بھی اس کی کتاب قرآنِ مجید اور اس کے رسول حضرت محمدؐ پر ایمان نہیں لائے گا وہ جہنم رسید ہوگا۔ اُسے اُس کے اچھے اور بھلے کام کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کیونکہ اُن کی بنیاد ایمان پر نہیں تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اُن کاموں کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ م بِقِیعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآئً حَتّٰیٓ  اِِذَا جَآئَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا  (النور ۲۴:۳۹)،’’ جنھوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا‘‘۔ مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْئٍ (ابراھیم ۱۴:۱۸)، ’’جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پاسکیں گے‘‘۔

محض تعصب کی بنیاد پر قائم کیے گئے اس طرح کے تصورات یقینا لوگوں کے درمیان بُغض اور عداوت پیدا کرتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر تو یہ تصورات بعض گروہوں اور قوموں کے درمیان خوں ریز لڑائیوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ تاریخ کے مختلف اَدوار میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ دومختلف ادیان کے لوگوں کے درمیان جنگیں برپا ہوئیں، مثلاً مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان، بلکہ ایک ہی دین کے ماننے والے دینی مسالک اور گروہوں کے درمیان یہ لڑائیاں ہوتی رہیں۔ عیسائی فرقے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ باہم جنگ آزما رہے۔ مسلمانوں کے شیعہ اور سُنّی گروہ باہم متحارب رہے۔

سوال یہ ہے کہ ان فکری اور عملی مشکلات کا حل کیا ہے جو واقعتا معاشروں کو درپیش ہیں۔ جو ایسے چیلنج بن کر سامنے کھڑی ہیں کہ اُن کا مقابلہ کیا جائے۔ ایسے سوالات بن کر سامنے آئی ہیں کہ اُن کا جواب فراہم کیا جائے؟

میں یہاں بلاتردد یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے ان نظری تصورات اور عملی مشکلات کا حل ایسی روشن اور اصلی روایت کے ذریعے پیش کیا ہے جس روایت، رجحان اور کلچر کی بنیاد صرف اور صرف اسلام ہی نے رکھی ہے، اور اسلام ہی نے اپنے ماننے والوں کو اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ وہ کلچر اور رجحان ہے جو رواداری اور برداشت کو جنم دیتا ہے، تعصب کو پنپنے نہیں دیتا۔ تعارف اور مانوسیت کا ماحول پیدا کرتا ہے، اجنبیت اور غیراُنسیت کو ختم کرتا ہے۔ محبت کے پھول کھلاتا ہے، نفرت کے بیج نہیں بوتا۔ مکالمے کی تعلیم دیتا ہے اور تصادم کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ نرمی اور ملاطفت کی فضا قائم کرتا ہے، سختی اور تشدد کے رویوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ رحم دلی کے جذبات بیدار کرتا ہے ، سختی اور  سنگ دلی انسانوں کے لیے روا نہیں سمجھتااور جنگ نہیں بلکہ امن سے انسانیت کو آشنا کرتا ہے۔

رواداری کی تعلیم کے مآخذ

۱- مسلمانوں کو دی گئی رواداری کی تعلیم کے ماخذ کئی ہیں اور یہ سب اصلی اور بنیادی ماخذ ہیں۔ بلاشبہہ ان میں سب سے بڑا ماخذ قرآن کریم ہے جس نے رواداری کے اصولوں کی بنیاد رکھی ہے۔ اپنے معجزبیان اسلوب کے ذریعے مکی اور مدنی سورتوں میں ان اصولوں کو واضح کیا ہے۔ قرآن کریم کا یہ اسلوبِ بیان پورے انسانی وجود کو مخاطب کرتا ہے جس کے نتیجے میں عقل مطمئن ہوجاتی ہے، جذبات وجد میں آجاتے ہیں اور عزم بیدار ہوجاتا ہے۔ پڑھنے والا محسوس کرے گا کہ وہ شرعی اور منطقی دلائل جن کو ہم نے ’رواداری کی تعلیم‘ کے اس مضمون میں بنیاد بنایا ہے، اُن کی اساس اور بنیاد قرآن کریم ہی سے فراہم کی گئی ہے۔

۲- قرآن کے بعد سیرت و سنت ِ نبویؐ ہے جو قرآنِ مجید کی شرح، وضاحت اور تفصیل بیان کرتی ہے۔ سنت قرآن کریم کا نظری بیان اور عملی تطبیق ہے۔ جیسا قرآن کریم نے کہا ہے: وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَo (النحل ۱۶:۴۴)، ’’اور ہم نے یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی شرح و توضیح کرتے جائو جو اُن کے لیے اُتاری گئی ہے، اور تاکہ لوگ (خود بھی) غوروفکر کریں‘‘۔

۳- عملِ صحابہؓ ، خصوصاً خلفاے راشدینؓ کا عمل، ان کا طریقہ نبی کریمؐ کی سنت کا تسلسل ہے۔ یہ مدرسۂ نبوت کے طالبانِ علم ہیں، انھوں نے اسی علمِ نبوت کی پیروی کی اور ہدایت پائی، اپنے قوانین اور فیصلے سنت ِ نبویؐ ہی کی روشنی میں تیار اور نافذ کیے۔ اور صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی پائی۔

۴- اس کے ساتھ ہم اَئمہ اُمت ، فقہا اور راسخ علما کے اقوال کو بھی بنیاد بناتے ہیں کیونکہ یہی لوگ نبوت کے وارث اور اس علم کے حامل ہیں جو اہلِ غلو کی تحریفات سے، باطل پسندوں کے نظریات سے،اور جاہلوں کی تاویلات سے دین کو صاف کرتے ہیں۔

۵- مسلم رواداری کی تعلیم کے ماخذ میں ’تاریخی حالات‘ بھی شامل ہیں کیونکہ اسلام کی اس تاریخ میں مخالفینِ اسلام کے ساتھ برداشت اور رواداری کا سلوک اور برتائو سامنے آیا۔ اس معاملے میں کسی خلیفہ، سلطان، رہنما یا وزیر نے مشرق و مغرب میں مخالفت نہیں کی۔ نہ عہدبنواُمیہ میں اور نہ عہد بنوعباس و بنوعثمان میں ایسا کوئی برتائو سامنے آیا جو اس تعلیم کی نفی کرتا ہو۔ اس بات کی شہادت تو مغرب کے انصاف پسند مؤرخین نے بھی دی ہے۔

رواداری کی خصوصیت

اسلامی رواداری اور برداشت کی متعدد خصوصیات ہیں۔ تاہم ایک خصوصیت بہت اہم ہے۔ وہ یہ کہ اس کا دینی رنگ، ربانی ماخذ اور اصل منبع احکامِ الٰہی اور ہدایاتِ نبویؐ ہیں۔ یہ احکام و ہدایات اسے مسلمانوں کے اُوپر ایسی قوت عطا کرتے ہیں جو اُن کے دلوں اور ضمیروں سے ازخود پیدا ہوتی ہے اور وہ اس کے سامنے سرتسلیم جھکا دیتے ہیں۔ وہ اُس قوت کے احکام کو اپنے ایمانی جذبے اور خوفِ خدا کی بنا پر نافذ کرنے کے بے حد متمنی رہتے ہیں۔

الٰہی قوانین و احکام اور انسان کے وضع کردہ قوانین میں فرق یہ ہے کہ انسانی قوانین سے لوگ جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کوتوڑتے اور ان سے تجاویز کرتے ہیں، جب کہ قوانین الٰہی کے احترام و اتباع پر اہلِ ایمان کو بشارت دی گئی ہے کہ وہ اس سے اللہ کی رضامندی، آخرت کا اجروثواب، دنیا میں دل کا سکون اور ضمیر کا اطمینان پائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَ لَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo (النحل ۱۶:۹۷) ’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو اُن کے اجر، اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے‘‘۔

رواداری کی روح

یہاں ایک چیز اور ہے جو اُن حقوق کے دائرے میں شامل نہیں ہے جو حقوق قوانین کے ذریعے متعین ہوتے ہیں، عدالتوں کے ذریعے قانونی قرار پاتے ہیں، اور حکومتیں اُن حقوق کے نفاذ کی ذمہ داری پوری کرتی ہیں۔ یہ چیز رواداری کی وہ روح ہے جو معاشرت میں احسان، معاملات میں نرمی اور ہمسایگی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں نظر آتی ہے۔ یہ احسان، رحم دلی اور خیروفلاح  کے انسانی جذبات میں کشادہ دلی کے مظاہروں میں سامنے آتی ہے۔ یہ وہ اُمور ہیں جن کی  روزمرہ زندگی میں بہت ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں دستور و قانون اور عدلیہ کچھ نہیں کرسکتی۔ رواداری کی یہ روح ایسی ہے جو غیراسلامی معاشرے میں ملنا مشکل ہے۔

رواداری کے عظیم مظاھر

اسلام نے جن بنیادی اور مسلّمہ اصولوں کی تعلیم دی ہے اُن میں ایک اسلامی معاشرے میں غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات و معاملات میں رواداری اور برداشت کا اصول ہے، یعنی غیرمسلموں کے ساتھ اعلیٰ انسانی اقدار پر مبنی برتائو کیا جائے۔ اسلام کے کسی مخالف کے ساتھ تعصب، بے جا عناد اور کینہ نہ رکھا جائے۔

یہ سلوک یوں تو ہر مخالف ِ اسلام کے ساتھ روا رکھنے کی تعلیم ہے مگر اہلِ کتاب، یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ خصوصی طور پر معاملہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس لیے کہ دراصل وہ بھی سماوی دین کے پیروکار ہیں۔ یہ اپنی نسبت اور تعلق جدالانبیا حضرت ابراہیم ؑ سے جوڑتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے انھیں ’اہل الکتاب‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ ان کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے کھانا حلال قرار دیا ہے۔ ان کی عورتوں سے شادی کی اجازت دی ہے۔ فرمایا:

 اہلِ کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمھارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔(المائدہ ۵:۵)

دینی اعتبار سے اپنے مخالفین کے ساتھ جو رواداری اور برداشت اسلام کے اندر ہے اس سے زیادہ کشادہ اور وسیع رواداری ہمیں کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید نے غیرمسلموں کے ساتھ معاملہ کرنے کے حوالے سے ایک واضح فرق اور امتیاز قائم کیا ہے۔

اسلام کے نزدیک غیرمسلموں کی دو قسمیں ہیں: ۱- مُحارِب (برسرِجنگ) جو دین کے معاملے میں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہوں، یعنی مسلمانوں کو انھوں نے مسلمان ہونے کی بنا پر اُن کے گھروں سے بے دخل کردیا ہو، یا اُن کے بے دخل کیے جانے میں کسی کی مدد کی ہو۔ ۲- مُسالِم (امن پسند) جنھوں نے مذکورہ بالا اُمور میں سے کسی بھی معاملے میں مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ نہ دیا ہو۔ یہ تقسیم اور تفریق قرآنِ مجید کی اُن آیات میں بیان کی گئی ہے جو غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات کو متعین کرنے کے لحاظ سے ایک ٹھوس دستور قرار دی جاتی ہیں:

 اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تمھیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔(الممتحنہ ۶۰:۸-۹)

یاد رہے کہ یہ دونوں آیات مشرکوں اور بت پرستوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ اس سورت کے اسبابِ نزول سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب مشرک اور بت پرست خیر اور انصاف کے حق دار قرار دیے گئے ہیں تو ’اہلِ کتاب‘ ان کی نسبت زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ خیروانصاف کا معاملہ کیا جائے۔

مخالفینِ اسلام کی ایک تقسیم اُوپر ذکر ہوچکی اور دوسری تقسیم میں ’معاہدین‘ آتے ہیں۔ ان معاہدین کی بھی دواقسام ہیں: ۱-وہ معاہدین جن کے ساتھ ایک متعین مدت تک کے لیے معاہدہ ہوا ہو۔ ان کے ساتھ معاہدہ، اس کی مدت تک پورا کرنا فرض ہے۔ ۲- وہ معاہدین جن کے ساتھ دائمی اور غیرمتعینہ مدت کے لیے معاہدہ ہو۔ ان لوگوں کو اسلام نے ’اہل الذمۃ‘ (ذمی) کا نام دیا ہے۔ ’اہلِ ذمہ‘ ان معنوں میں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ اور رسولؐ اللہ اور مسلم جماعت کی طرف سے ضمانت ہے۔ اسلامی فقہ میں ان کے وہی حقوق و فرائض بیان ہوئے ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔ گویا تمام حقوق و فرائض، سواے ان مطالبات اور تقاضوں کے جو دونوں ادیان کے مختلف ہونے کی بنا پرموجود ہیں۔ یہ ذمی ’دارالاسلام‘ یعنی (اسلامی ریاست) کی قومیت کے حامل ہیں۔بالفاظِ دیگر یہ اسلامی ریاست کے شہری ہیں۔

یہ ’اہل الذمہ‘ (ذمی) کے الفاظ کسی تحقیر اور تذلیل کی طرف اشارہ نہیں ہے جیساکہ کئی لوگوں کو غلط فہمی ہوجاتی ہے، بلکہ یہ الفاظ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت کو مانتے ہوئے اللہ اور رسولؐ کی ضمانت کو پورا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن اگر ہمارے مسیحی بھائی اس اصطلاح کے استعمال سے تکلیف محسوس کریں تو اس کو تبدیل یا حذف کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس کے ذریعے اللہ کی عبادت کا کوئی فریضہ ادا نہیں کرتے۔ سیدنا عمرؓ نے تو اس سے بھی اہم اصطلاح ’جزیہ‘ کو حذف کردیا تھا، حالانکہ یہ قرآن میں مذکور ہے۔ حضرت عمرؓ نے بنی تغلب جو مسیحی تھے اُن کے مطالبے پر یہ کام کیا  تھا۔ بنی تغلب نے اس نام سے بے زاری کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اُن سے جزیہ کے نام پر جو کچھ وصول کیا جاتا ہے وہ صدقہ کے نام پر وصول کرلیا جائے خواہ دگنا ہی ہو۔ حضرت عمرؓ نے اُن سے اتفاق کیا اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا، البتہ یہ فرمایا: یہ احمق قوم ہے، نام کا انکار کر رہے ہیں اور معنی کو قبول کرلیا ہے۔ یہ حضرت عمرؓ کا ایک بہت اہم اصول کی طرف اشارہ ہے، یعنی مقاصد اور معانی پر نظر رکھنا ضروری ہے، نہ کہ الفاظ اور عبارتوں پر۔ اور یہ کہ اعتبار ناموں اور عنوانوں کا نہیں ہوتا بلکہ اُن چیزوں اور باتوں کا ہوتا ہے جن کے لیے یہ استعمال ہوتے ہیں۔

 اس بنیاد پر ہم کہتے ہیں: لفظ ’جزیہ‘ کے ساتھ چمٹے رہنا کوئی ضروری نہیں ہے کیونکہ اس سے مصر اور دیگر اسلامی و عربی ممالک میں ہمارے مسیحی بھائی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے قومی دھارے میں پوری طرح شامل رہتے ہیں۔ اُن کے لیے کافی ہے کہ وہ ٹیکس کے نام پر کوئی رقم ادا کریں جس طرح مسلمان زکوٰۃ  ادا کرتے ہیں۔ پھر یہ لوگ بھی قوم اور ملک کے دفاع میں بذاتِ خود اسی طرح شریک رہیں    جس طرح اُن کے مسلمان بھائی شریک رہے ہیں۔ لبنان میں عباسی امیر جو خلیفہ کے قریب تھا، امام اوزاعی نے اس کے خلاف اہلِ ذمہ (ذمیوں) کا ساتھ دیا۔ امام ابن تیمیہؒ نے تیمورلنگ کو قیدیوں کی رہائی کے لیے کہا تو اُس نے صرف مسلمان قیدیوں کو رہا کرنے کا عندیہ دیا، مگر امام   ابن تیمیہؒ نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا اور ذمیوں کو بھی رہا کرنے کے لیے اصرار کیا۔

رواداری کے بلند ترین درجات

رواداری کے بلند ترین درجات صرف مسلمانوں ہی کے ہاں پائے جاتے ہیں:

  • ادنٰی درجہ: رواداری کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ آپ اپنے مخالف کو اس کے دین و عقیدے کی آزادی دیں۔ اُسے اپنا دین اور مذہب اختیار کرنے پر مجبور نہ کریں۔
  • درمیانی درجہ: رواداری کا درمیانی درجہ یہ ہے کہ آپ اُسے یہ حق دیں کہ وہ جس دین و مذہب کو چاہے بطور عقیدہ اختیار کرے۔ پھر آپ اُسے کسی ایسے معاملے کو ترک کرنے پر مجبور نہ کریں جس کے فرض ہونے کا وہ عقیدہ رکھتا ہے، یا کوئی ایسا کام کرنے پر آپ مجبور نہ کریں جس کو وہ حرام گردانتا ہے۔اگر ایک یہودی کے نزدیک سبت (ہفتے) کے روز کام کرنا حرام ہے تو یہ جائز نہیں کہ اس کو اس روز کام کرنے پر مجبور کیا جائے، کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو اُسے حرام اور اپنے دین کی مخالفت سمجھتے ہوئے ہی کرے گا۔ اسی طرح ایک عیسائی کے نزدیک اتوار کے روز گرجا جانا فرض ہے تو یہ جائز نہیں کہ اُسے اُس روز وہاں جانے سے روکا جائے۔
  • اعلٰی درجہ: رواداری کا بلند ترین درجہ یہ ہے کہ آپ اپنے دینی مخالفین کو کسی ایسی چیز یا کام کے بارے میں مجبور نہ کریں جس کے حلال ہونے کا وہ عقیدہ رکھتے ہوں، اگرچہ آپ کا     یہ عقیدہ ہو کہ وہ چیز آپ کے دین اور مذہب میں حرام ہے۔

مسلمان جب رواداری کے اپنے بلند ترین درجے تک پہنچتے ہیں تو اپنے ذمی مخالفین کے ساتھ ایسا برتائو کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے تو ہر اُس امر کو احترام دیا ہے جس کا غیرمسلم عقیدہ رکھتے ہوں کہ یہ اُن کے دین میں حلال ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُنھوں نے اُن کے حلال کو حرام یا ممنوع بنانے پر اُن کو مجبور نہیں کیا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ ملکی دستور و قانون کے پیش نظر وہ بھی ان چیزوں کو حرام سمجھ لیں اور کسی تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اس کا اہتمام نہ کریں، کیونکہ اگر کسی چیز کو کسی دین نے حلال ٹھیرایاہے تو اُسے عمل میں لاکے رہنا اس کے ماننے والوں پر فرض نہیں ہے۔ اگر ایک عیسائی کا دین خنزیر کا گوشت کھانا حلال قرار دیتا ہے تو وہ اُسے کھائے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ گائے، بکری اور مرغی وغیرہ کا گوشت اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح شراب کا معاملہ ہے۔ اگرچہ بعض مسیحی کتب میں اس کی اباحت مذکور ہے، یا معدے کی اصلاح کے لیے بہت تھوڑی مقدار کی اباحت موجود ہے۔ تو یہ مسیحیت کا فرض قرار نہیں پاگیا کہ مسیحی لازمی طور پر شراب نوشی کرے، بلکہ بعض مسیحی تو اپنے دین کی رُو سے اس کو حرام سمجھتے ہیں۔

اگر اسلام ذمیوں سے کہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی خاطر شراب نوشی اور خنزیرخوری نہ کرو تو اس بات میں دینی لحاظ سے کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ ان اشیا کو ترک کردیں گے تو اپنے دین میں کسی منکر (حرام اور ممنوع) کے مرتکب نہیں ہوں گے، اور نہ کسی مقدس واجب اور فرض ادا نہ کرنے کے مجرم ٹھیریں گے۔ لیکن اس کے باوجود اسلام نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا، اور نہ اسلام کا منشا یہ ہے کہ وہ حلال چیز کے بارے میں غیرمسلموں کو کسی ایسی تنگی میں مبتلا کرے۔ اسلام نے تو مسلمانوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ انھیں چھوڑ دو، وہ جو چاہیں دینی عقیدہ اختیار کریں۔

اس طرح کی رواداری قرآنِ مجید میں مشرک والدین کے معاملے میں پوری وضاحت سے سامنے آئی ہے۔ جو والدین اپنے بیٹے کو توحید سے شرک کی طرف لانا چاہتے ہوں، ان کے بارے میں قرآن مجید کا یہ حکم ہے کہ: وَ صَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا (لقمان ۳۱:۱۵)   ’’دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتائو کرتا رہ‘‘۔

یہ رواداری قرآنِ مجید کی اس ترغیب میں بھی نمایاں ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے اُن مخالفین سے عدل و احسان اور مہربانی کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو برسرِجنگ نہیں ہیں بلکہ امن پسند ہیں: ’’اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔(الممتحنہ ۶۰:۸)

قرآنِ مجید اللہ کے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا (الدھر ۷۶:۸)، ’’اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں‘‘۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی اس وقت اسیر(قیدی) تو مشرک ہی تھے مسلمان نہیں۔

قرآن مجید بعض مسلمانوں کے اس شبہے کا جواب بھی فراہم کرتا ہے کہ مشرک ہمسایوں اور رشتے داروں پر انفاق نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کا بیان ہے:  ’’اے نبیؐ، لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے، اور راہِ خیر میں جو مال تم لوگ خرچ کرتے ہو وہ تمھارے اپنے لیے بھلا ہے‘‘۔(البقرہ  ۲:۲۷۲)

امام ابوحنیفہؒ کی فقہ کے مدوّن و مرتب اور اُن کے رفیق محمدبن حسن نے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں قحط کے زمانے میں اہلِ مکہ کے لیے کچھ مال بھیجا تاکہ وہ وہاں کے فقرا میں تقسیم کردیا جائے۔ رسولِؐ اکرم کا یہ رحم دلانہ اقدام اہلِ مکہ کے اُس تعذیب و تشدد اور ایذارسانی کے باوجود سامنے آیا جس سے آپؐ خود بھی اور آپؐ کے صحابہ بھی دوچار رہے۔

حضرت اسما بنت ابوبکرؓ کا بیان ہے کہ قریش سے مسلمانوں کے معاہدے کے دوران میری والدہ آئیں اور وہ مشرکہ تھیں تو میں نے رسولؐ اللہ سے پوچھا: اللہ کے رسولؐ میری والدہ آئی ہیں، اور مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ کیا میں اُن سے مل سکتی ہوں؟ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ہاں ہاں، اپنی والدہ سے ملو۔ (بخاری و مسلم)

یہ رواداری اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ کے ساتھ رسولؐ اللہ کے ذاتی معاملات میں مزید کھل کر سامنے آتی ہے۔ آپؐ اُن سے ملا کرتے تھے، ان کی عزت و توقیر کیا کرتے تھے، اُن سے احسان کا معاملہ کرتے تھے، اُن کے بیماروں کی بیمارپُرسی کرتے تھے، اُن سے روپے پیسے کا لین دین بھی کرتے تھے۔ ابن اسحاق نے السیرۃ النبویۃ میں ذکر کیا ہے کہ جب وفدِ نجران(جوعیسائی تھے) رسولؐ اللہ کے پاس مدینہ آیا تو عصر کے بعد آپؐ سے مسجد میں ملاقات کی۔ اُن کی عبادت کا بھی وقت ہوگیا تو انھوں نے وہیں مسجد میں کھڑے ہوکر عبادت شروع کردی۔ لوگوں نے انھیں منع کرنا چاہا تو رسولِؐ اکرم نے فرمایا: انھیں مت روکو۔ پھر وفد کے لوگوں نے مشرق کی طرف قبلہ رُخ ہوکر عبادت کی۔

علامہ ابن قیمؒ نے اس واقعے پر زاد المعاد میں حاشیہ لکھتے ہوئے اس کے فقہی نکات میں یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے: ’’اہلِ کتاب کے لیے اگر وہ مستقل معمول نہ بناسکتے ہوں اور عارضی طور پر مسلمانوں کی مساجد میں اور مسلمانوں کی موجودگی میں عبادت کرنا اور مساجد میں داخل ہونا جائز ہے!!

علامہ ابوعبید نے اپنی کتاب الاموال میں حضرت سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی گھرانے پر صدقہ کیا تو پھر وہ صدقہ مستقل جاری رہا۔

بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کی عیادت کی اور اس کے سامنے اسلام پیش کیا تو وہ اسلام لے آیا۔ آپؐ وہاں سے واپس ہوئے تو آپؐ کی زبانِ مبارک سے یہ کلمات جاری تھے: اُس اللہ کا شکر ہے جس نے میرے ذریعے اس کو جہنم سے بچالیا‘‘۔ بخاری ہی کی دوسری روایت ہے کہ جب رسولؐ اللہ کی رحلت ہوئی تو اُس وقت آپؐ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ آپؐ  نے اس سے اپنے اہلِ خانہ کے خرچ کے لیے قرض لے رکھا تھا‘‘۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ رسولؐ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل نہ تھا کہآپؐ  اپنے رفقا سے قرض لے لیتے اور وہ قطعاً کوئی چیز آپؐ  سے نہ روکتے۔ مگر آپؐ  نے اپنے اس عمل سے اپنی اُمت کو تعلیم دینا تھی اس لیے آپؐ  نے ایسا نہ کیا۔ رسولؐ اللہ نے غیرمسلموں سے تحائف بھی قبول فرمائے۔ حالت ِ امن و جنگ میں غیرمسلموں سے تعاون بھی لیا جب انھوں نے آپؐ کا ساتھ دینے کی ضمانت دی۔ پھر آپؐ  نے اُن کے کسی شر اور سازش کا خوف محسوس نہ کیا۔

غیرمسلموں کے ساتھ رواداری کا یہ اظہار اصحابِ رسولؐ اور تابعین کرامؒ کے معاملات میں بھی اسی طرح نمایاں نظر آتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے ایک یہودی گھرانے کے لیے مسلمانوں کے   بیت المال سے دائمی وظیفے کے اجرا کا حکم دیا۔ پھر کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ (التوبۃ ۹:۶۰)، ’’صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں‘‘۔ اور یہ اہلِ کتاب کے مسکینوں میں سے ایک مسکین گھرانہ ہے۔

سفرشام کے دوران میں حضرت عمرؓ کا گزر ایک مجذوم مسیحی قوم کے پاس سے ہو ا تو آپؓ نے مسلم بیت المال میں سے اُن کی اجتماعی امداد کاحکم دیا۔ حضرت عمرؓ کی شہادت جس حملے کے نتیجے میں ہوئی وہ حملہ اہلِ ذمہ کے ساتھ انھیں حُسنِ سلوک کی تلقین کرنے سے نہ روک سکا اور آپؓ نے بسترمرگ پر بھی فرمایا: میں اس کے معاملے میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے ذمہ (ضمانت) کی تلقین کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کی خاطر دشمن سے جنگ کی جائے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔

عبداللہ بن عمرو اپنے غلام کو وصیت کرتے ہیں۔ میرے یہودی ہمسائے کو قربانی کا گوشت دیا جائے۔ آپ نے یہ وصیت اتنی بار دہرائی کہ غلام خوف زدہ ہوگیا اور یہودی ہمسایے پر     اِس عنایت کا راز پوچھا۔ ابن عمرو نے کہا: رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ جبرئیل ؑ مجھے اس تسلسل سے ہمسایے کے بارے میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے یقین ہو رہا تھا کہ اس ہمسایے کو وراثت میں  حق دار بنا دیا جائے گا۔ حارث بن ابوربیعہ کی والدہ نصرانی تھی، فوت ہوئی تو رسولؐ اللہ کے اصحاب اُس کے جنازے کے ساتھ گئے۔

بعض اجلّ تابعین اپنے صدقۂ فطر کا کچھ حصہ نصرانی راہبوں کو دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ عکرمہ، ابن سیرین اور زہری تو زکوٰۃ میں سے بھی انھیں کچھ دینے کو جائز سمجھتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے جابر بن زید سے روایت کیا ہے کہ اُن سے پوچھا گیا کہ صدقہ کن لوگوں کو دیا جائے؟ تو انھوں نے کہا: اپنی مسلمان ملت اور اہلِ ذمہ کے حق داروں کو!

قاضی عیاض نے ترتیب المدارک میں ذکر کیا ہے کہ دارقطنی نے بیان کیا کہ قاضی اسماعیل بن اسحاق کے پاس عباسی خلیفہ معتضدباللہ کا نصرانی وزیر عبدون بن صاعد آیا تو قاضی اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے اور اسے خوش آمدید کہا۔ قاضی نے اپنے اس عمل پر حاضرین کی ناگواری دیکھی۔ جب وزیروہاں سے چلا گیاتو قاضی اسماعیل نے کہا:مجھے تمھاری ناگواری معلوم ہوگئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے فرما رکھا ہے: لاَیَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْا اِِلَیْھِمْ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o (الممتحنہ ۶۰:۸)، ’’اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔

 اور یہ آدمی یعنی وزیر مسلمانوں کی ضروریات پوری کرتا ہے اور خلیفہ معتضد اور ہمارے درمیان سفیر ہے، لہٰذا میں نے جو کچھ کیا ہے ، یہ بِّر (نیکی) کا حصہ ہے۔ (ماخذ: www.qaradawi.net)

 

ہم ایک ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں فاصلے سمٹ رہے ہیں، رابطے کے ذرائع  تیز تر اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار زیادہ سے زیادہ طاقت ور اور ہلاکت خیز ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے ماحول میں بہتر باہمی مفاہمت، عظیم تر امن، ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ ایک واحد آفاقی گائوں(گلوبل ولیج) کی فضا کو پروان چڑھانا انتہائی ضروری ہے۔ تمام قوموں کی خوش حالی کا انحصار ایسے ہی تعاون پر ہے۔ یہ عالم گیریت کا پہلا مقصد ہے۔ باہمی تعاون پر مبنی ایسی فضا کی عدم موجودگی تہذیبوں کے تصادم کا سبب بن سکتی ہے، جو ہر ایک کے لیے بُرا ہوگا، خصوصاً ترقی پذیر ملکوں کے لیے، جو اپنے خلاف جارحانہ عزائم کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ ان کے پاس وہ وسائل ہیں جو بہت محدود ہیں اور وہ انھیں لڑائی جھگڑوں میں جھونکنے کے بجاے ان کا بہتر استعمال کرتے ہوئے اپنی ترقی پر صرف کرنا چاہیں گے۔ آج کی دنیا میں یہ پوچھا جانا بالکل برمحل ہے کہ ایسی عالم گیریت کے حوالے سے اسلام کا موقف کیا ہے؟

انسانیت کا اتحاد اور عالم گیریت

قرآن کا پیغام

آئیے دیکھیے کہ اس بارے میں قرآن کا حکم کیا ہے؟ اسلام کوئی نیا دین نہیں ہے۔ یہ وحی پر مبنی تمام مذاہب کے عقائد اور اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ اللہ نے پوری دنیا کے اندر مختلف اوقات میں اپنے رسول بھیجے۔ ان سب پر اللہ کی طرف سے سلامتی اور رحمتیں ہوں۔ یہ سارے رسول ایک ہی پیغام لے کر آئے جس کی نشان دہی قرآن میں واضح طور پر یوں کی گئی ہے کہ ’’اے نبیؐ! تم کو جو کچھ کہا جارہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جاچکی ہو‘‘۔ (حم السجدۃ ۴۱: ۴۳)

کوئی نیا نبی اسی وقت آیا کرتا تھا جب پچھلے نبی کی تعلیمات بھلا دی جاتیں یا ان میں تحریف ہوجاتی۔ یہ سارے نبی لوگوں کو متحد کرنے کے لیے آئے، تقسیم کرنے کے لیے نہیں، بالخصوص اسلام کے معاملے میں۔ کیوں؟ وجہ بہت سادہ ہے۔ تمام انسان اللہ کے خلیفہ یا نائب ہیں، اس لیے ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اس بنا پر اس دنیا میں انھیں سب کی فلاح یعنی بھلائی کے لیے بھائیوں کی طرح امن و سلامتی کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اسلام میں ایک اللہ اور انسانیت کے اتحاد کے تصورات کو قرآن میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:’’انسانوں کو ایک قوم کی حیثیت سے پیدا کیا گیا تھا مگر بعد میں اپنے اختلافات کی وجہ سے وہ الگ الگ ہوگئے‘‘۔ (یونس۱۰:۱۹)

سوال یہ ہے کہ اگر انھیں ایک قوم کی حیثیت سے پیدا کیا گیا تھا تو وہ الگ الگ کیوں ہوگئے؟ قرآن اس سوال کا جواب بھی دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:’’لوگوں میں جو تفریق ہوئی وہ اس کے بعد ہوئی کہ علم ان کے پاس آچکا تھا اور اس بنا پر ہوئی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے‘‘۔ (الشوریٰ۴۲:۱۴)

یہ علم جو ان کے پاس آیا وہ جہاں بینی پر مبنی ہے اور دینی معیارات کے مطابق عقائد، اخلاقی اقدار، اداروں اور اداراتی معیشت کی تشکیل کرتا ہے۔ اللہ کی طرف سے اس دنیا میں بھیجے گئے تمام رسولوں کا ایک بڑا مقصد انسانیت کو باہمی برتاؤ کی ضروری اقدار اور اصول فراہم کرنا تھا۔ یہ اصول بتاتے ہیں کہ لوگوں کو اس دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح معاملات کرنے چاہییں کہ یہاں مختلف قوموں، انسانی گروہوں اور خاندان کے تمام ارکان کے درمیان عدل و انصاف، تعاون اور یک جہتی پروان چڑھے۔ تاہم، عدل، تعاون اور یک جہتی کے اصول لازماً غالب نہیں رہتے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ قرآن میں بیان کیا گیا، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور باہم ظلم و زیادتی کرنے کا داعیہ (بغیا بینہم) ہے، اور اس جذبے کی وجہ مخصوص مفادات، بے انصافی، حسد، استحصال، معاہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔ ان عوامل کی بنا پر پُرامن، باہمی روابط اور تعلقات استوار نہیں ہوپاتے۔ اس کیفیت کے علاج کے لیے اللہ کی جانب سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم سمیت، اس دنیا میں بہت سے رسول بھیجے گئے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن کہتا ہے:’’ ہم نے تمھیں پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔ (الانبیاء۲۱:۱۰۷)

رحمت، بے انصافی، استحصال اور تفریق کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ یہ سب کی ضروریات کی تکمیل، خاندانی اتحاد، سماجی یک جہتی، امن اور ہم آہنگی کے ساتھ ہی ہوسکتی ہے۔ یہ ہے وہ چیز جو رحمت سے مراد ہے۔ اسلام لوگوں کو جوڑنے کے لیے آیا ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔ قرآن انسانیت کے اتحاد کا علم بردار ہے۔ یہ خود انسان ہیں جو اس مقصد کے لیے درست ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سنت نبویؐ کا پیغام

قرآن اسلامی تعلیمات کا صرف ایک حصہ ہے، دوسرا حصہ سنت نبویؐ ہے اور سنت نبویؐ کا حکم بھی بہت واضح ہے: ’’انسانیت اللہ کا کنبہ ہے اور ان میں اللہ کا سب سے پسندیدہ بندہ وہ ہے، جو اس کے کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے‘‘۔۱؎ یہ کنبہ صرف مسلمانوں پر مشتمل نہیں ہے۔ اس میں دنیا کے تمام لوگ شامل ہیں بلا لحاظ اس کے کہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم، گورے ہیں یا کالے، امیر ہیں یا غریب اور مرد ہیں یا عورت۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا:’’اے لوگو، سنو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ کسی عرب کو کسی غیر عرب پر کوئی فوقیت ہے نہ کسی غیر عرب کو کسی عرب پر، کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری ہے نہ کسی کالے کو کسی گورے پر، فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے‘‘۔۲؎

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:’’تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا‘‘۔۳؎  اس لیے تمام انسان ایک ہی خدا کے بندے ہیں اور برابر ہیں۔ ان کے ساتھ صرف عزت و احترام کا سلوک ہی کافی نہیں بلکہ ان کی مدد بھی ضروری ہے۔ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ان کے لیے اس کام کو بحسن و خوبی انجام دے۔ یوں اتحاد انسانیت اور عالم گیریت دراصل بنیادی طور پر اسلام کی تعلیم ہے۔ لوگوں کا قتل عام، ان کے گھروں اور جایدادوں کو تباہ کرنا،    بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذریعے پورے کے پورے ملکوں کو برباد کردینا، جیساکہ حال ہی میں امریکا نے عراق و افغانستان میں کیا، اسلام یا وحی پر مبنی کسی بھی مذہب کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔

عدل، باھمی امداد اور تعاون کی ضرورت

یہ گفتگو ہمیں اس بنیادی سوال تک لاتی ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جو افتراق و انتشار کے ماحول کو جنم دیتے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں؟ قرآن کی رُو سے، جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی، یہاں بغیا بینہم (ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے کا داعیہ) ہے۔ اس ظلم و زیادتی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عدل و انصاف اور باہمی امداد و تعاون کو عمارت سازی میں کام آنے والی اینٹوں کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انصاف اور باہمی امداد و تعاون کے بغیر، ایسی عالم گیریت محال ہوگی جو سب کے لیے یکساں طور پر مفید ہو۔ اگر یہ دو باتیں موجود ہوں تو         نہ صرف اقتصادی وسائل کی یک جائی عمل میں آئے گی بلکہ سماجی اور سیاسی ہم آہنگی بھی ہوگی۔

قرآن و سنت کی تعلیمات

قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور کتاب اور میزان کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگ عدل قائم کرسکیں (الحدید۵۷:۲۵)۔ لہٰذا محض    محمدصلی اللہ علیہ وسلم، یا آدم، نوح، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہی نہیں، بلکہ اللہ کے تمام نبیوں کے مقاصد میں سے ایک اولین مقصد، دنیا میں عدل کا قیام تھا۔ یہ اس لیے کہ عدل کے بغیر انسانیت کے اتحاد کو حقیقت بنانا اور امن و ہم آہنگی قائم کرنا مشکل ہے۔ عدل و انصاف، قرآنی ہدایات کی رو سے، اس مقصد کے لیے ناگزیر ہے۔ اس آیت میں جس کا ترجمہ اُوپر درج کیا گیا ہے، ’کتاب‘ سے مراد قرآن ہے، جو جہاں بینی کا علم اور برتاؤ کے اصول فراہم کرتا ہے۔ ’میزان‘ کا مطلب صحیح اور غلط میں امتیاز کے لیے قرآن اور سنت میں دیے گئے معیارات ہیں۔ اس سے زندگی کے تمام شعبوں میں ایسے درست توازن کا قیام بھی مراد ہے جو نظام فطرت میں پایا جاتا ہے۔ اگر انسان ان اصولوں کے مطابق عمل کریں تو ان کے درمیان اتحاد اور عالم گیریت فروغ پائے گی۔ برتاؤ کے ان اصولوں کے نفاذ کے بغیر، دنیا میں عدل و انصاف نہیں ہوگا، چنانچہ امن اور ہم آہنگی بھی نہیں ہوگی۔ قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے:’’جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم اور    بے انصافی سے آلودہ نہیں کیا، امن انھی کے لیے ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں‘‘۔ (الانعام۶:۸۲)

یہ ہے قرآن کا فیصلہ۔ اگر آپ اس دنیا میں امن اور ہم آہنگی چاہتے ہیں تو اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ لوگوں کو انصاف فراہم کیا جائے، حتیٰ کہ بجاے خود عقیدہ بھی کافی نہیں۔ عقیدے کا نفاذ بے انصافی اور ظلم کے خاتمے کے ذریعے کیا جانا ہے، لہٰذا عدل اسلام کا ایک بنیادی مطالبہ ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مزید زور یہ وضاحت کرکے دیا ہے کہ بے انصافی یوم حساب کی تاریکی کی جانب لے جاتی ہے۔ ۴؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ’ظلمات‘ کی جو اصطلاح استعمال کی وہ ’ظلمہ‘ کی جمع ہے۔ جس کا مطلب گہرا اندھیرا ہے جس میں کوئی شخص کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ چنانچہ آخرت میں ان لوگوں کے لیے صرف اندھیرا ہوگا جو ظالم اور بے انصاف ہیں۔ بے انصافی جتنی بڑی ہوگی، اندھیرا بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔

اتحادِ انسانیت اور عالم گیریت کا دوسرا تقاضا، زندگی کے تمام گوشوں میں سماجی یگانگت کے فروغ کے لیے باہمی امداد و تعاون ہے۔ یہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان لوگوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ صرف یہی ضروری نہیں کہ غربت اور مصائب کا ازالہ کیا جائے اور باہمی مفاہمت کو فروغ دیا جائے، بلکہ ایسی ہر چیز سے اجتناب کیا جائے جو یک جہتی کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ ایسی ایک چیز ’تحمل و برداشت‘ کا فقدان ہے۔ ثقافتوں اور مذاہب میں اختلافات کو برداشت کرنا، انتہائی اہم ہے۔ یہ توقع رکھنا فضول اور غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ تمام ممالک بالادست مغربی ثقافت و تہذیب کی اقدار اور طرز زندگی کو اپنالیں گے۔ دوسری تہذیبوں اور مذاہب کی تحقیر کی کوئی کوشش لازماً منفی رد عمل پیدا کرے گی اور عالم گیریت کے مقصد کو نقصان پہنچائے گی۔ جہاں تک باہمی امداد اور تعاون کا تعلق ہے تو اسلام کی ہدایات اس حوالے سے بھی بہت واضح ہیں۔ قرآن کہتا ہے:’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو، مگر گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو‘‘۔  (المائدہ۵:۲)

جہاں تک تحمل و برداشت کی بات ہے تو مسلمانوں نے اس معاملے میں قابلِ قدر مثال قائم کی ہے۔ اسلام کے دورِ عروج میں مسلم دنیا تحمل و برداشت کا بہترین نمونہ تھی۔ سانڈرس کے بقول، اس زمانے میں مسلم دنیا میں ایسی برداشت پائی جاتی تھی، ’’جس سے باقی پورا یورپ ناواقف تھا‘‘۔ ۶؎

اس تحمل و برداشت کے نتیجے میں مسلم دنیا مختلف علوم اور ان کے اطلاق کے ہر شعبے کے  علما و فضلا کے لیے باہمی رابطے کی جگہ بن گئی تھی۔ اس دور میں مسلم دنیا میں مسلمان، عیسائی، یہودی، زرتشتی اور صابی سب مل کر کام کرتے تھے۔۷؎ تمام علمی موضوعات پر پوری آزادی کے ساتھ اور کسی روک ٹوک کے بغیر مباحثہ ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہمہ گیر علمی پیش رفت کی راہیں کھلتی تھیں۔ اس دور میں اسلام کی تیز رفتار ترقی کا یہ بھی ایک سبب تھا۔ تحمل و برداشت کی یہ صلاحیت، اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ تھی۔ بقول جارج سارٹن ’’دینی عقیدہ مسلمانوں کی زندگی پر ناقابل تصور حد تک غالب تھا‘‘۔ ۸؎

چند مسلمان علما کے افکار

یہ دیکھنے کے بعد کہ قرآن اور سنت، عدل و انصاف کے بارے میں کیا کہتے ہیں، آئیے چند بڑے مسلمان مفکرین کے نظریات پر ایک نگاہ ڈالیں۔ ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ ’’عدل ہر ایک کے لیے، ہر ایک چیز کے حوالے سے ناگزیر ہے۔ بے انصافی کسی صورت جائز نہیں۔ معاملہ کسی مسلمان کا ہو یا غیر مسلم کا، حتیٰ کہ کسی ظالم کے ساتھ بھی عدل کے خلاف معاملہ کرنے کی گنجایش نہیں‘‘۔۹؎

ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ جب ابن تیمیہ ’ہر چیز کے لیے انصاف‘ کو ضروری قرار دیتے ہیں تو اس سے محض انسان نہیں بلکہ جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے اور ماحول، سب مراد ہوتے ہیں۔ ہر چیز میں یہ سب شامل ہیں، لہٰذا انصاف کو ہر چیز کے لیے، ہر ایک کے لیے یقینی بنانا چاہیے، حتیٰ کہ اُس کے لیے بھی جو خود انصاف کی راہ پر نہ ہو، یعنی ظالم ہو۔

ابن خلدون بھی، جو ایک عظیم مؤرخ اور سماجی سائنس دان تھے، یہ بات بڑے پُر زور انداز میں یوں کہتے ہیں کہ ’’ظلم و بے انصافی تہذیب کے لیے تباہ کن ہے‘‘۔ ۱۰؎ یہ بات انھوں نے ۶۰۰سال پہلے کہی تھی، جب کہ ترقیاتی معاشیات، ابھی چند عشروں پہلے تک، ترقی میں عدل و انصاف کے کردار پر متفق نہیں تھی۔ بعض ماہرین معاشیات کا اصرار تھا کہ انصاف تعیش ہے اور انصاف کے ساتھ ترقی ممکن نہیں۔ تاہم، تجربے نے ترقیاتی معاشیات کو اب یہ سکھا دیا ہے کہ ترقی، انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے پچھلی صدی کی آٹھویں اور نویں عشرے میں سوچ تبدیل ہوئی اور اب ماہرین معاشیات عام طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ ترقی کے لیے انصاف ناگزیر ہے۔ ابن خلدون اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ۶۰۰ سال پہلے اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا اور اس نے کہہ دیا تھا کہ ترقی انصاف کے بغیر نہیں ہوسکتی۔۱۱؎

ان حقائق کی بنا پر ہم پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کا یہ عمومی تقاضا ہے کہ انصاف کو ہر صورت میں یقینی بنانا چاہیے اور ترقی کے فوائد میں سب کی یکساں شرکت ہونی چاہیے۔ انصاف کے بغیر نہ صرف ترقی کے عمل کو نقصان پہنچے گا، بلکہ باہمی تنازعات سر اٹھائیں گے اور تعاون کی فضا متاثر ہوگی۔ اس صورت میں باہمی قربت و یگانگت اور عالم گیریت کو حقیقت بنانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک جیسوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھا جائے اور جو باہم برابر نہیں، ان کے ساتھ الگ الگ برتاؤ کیا جائے۔ اس نکتے کو معاشی، سماجی اور سیاسی یک جہتی و یگانگت کے موضوع پر ذیل میں کی گئی بحث میں مزید واضح کیا گیا ہے۔

معاشی یگانگت و یک جھتی

معاشی قربت و یگانگت نہایت اہم ہے کیونکہ یہ باہمی انحصار کو بڑھاتی ہے اور باہمی انحصار جتنا زیادہ ہو، تنازع اور جنگ کا امکان اتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔ معاشی انحصار تجارت کو بڑھاتا، ترقیاتی عمل کو نشوونما دیتا اور نتیجتاً باہمی انحصار کے دائرے کو مزید وسیع کرتا ہے۔ ابن خلدون استدلال کرتے ہیں کہ ترقی کا دارومدار ستاروں (قسمت) یا سونے اور چاندی کی کانوں پر نہیں، بلکہ معاشی سرگرمی، تقسیم کار اور تخصص پر ہے اور جواباً یہ چیزیں منڈی کی وسعت پر منحصر ہیں۔۱۲؎

عالم گیریت منڈی کی توسیع میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح یہ اشیا خدمات کی طلب کے اضافے میں مددگار بنتی ہے، روزگار کے مواقع کو بڑھاتی ہے، شرح نمو کو بلند کرتی ہے اور تمام لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ اس سے تجارت میں توسیع کی اہمیت واضح ہے۔ لوگ اس معیارِزندگی کے عادی ہوجاتے ہیں اور تنازعات سمیت ہر اس چیز کی مزاحمت کرتے ہیں جو اس معیار کو نقصان پہنچاتی ہو۔

یورپی ملکوں میں شرح ترقی فی الوقت کم ہے۔ شرح ترقی کو بڑھانے کے متعدد طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک عالم گیریت کے ذریعے منڈی کی توسیع ہے۔ اگر غریب ملک امیر ہوجائیں تو یورپی اور امریکی اشیا و خدمات کے لیے ان کی طلب بڑھ جائے گی۔ منڈی کے حجم میں یہ اضافہ ترقی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے گا، آمدنیوں میں اضافے اور سائنس اور تعلیم کے فروغ کا باعث بنے گا۔ لہٰذا منڈی میں توسیع، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سب کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

موجودہ عالم گیریت کی نوعیت اور مسائل

اسلامی معاشیات میں معاشی یگانگت کو فروغ دینے کے لیے مضبوط منطقی بنیاد موجود ہے۔ یہ اس لیے کہ معاشی یگانگت جتنی زیادہ ہوگی جیسا کہ پہلے حوالہ دیا گیا، تنازع کے امکانات اتنے ہی کم اور انسانی اتحاد اور عالم گیریت کے اسلامی ہدف کے حصول کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ تاہم، جس قسم کی معاشی عالم گیریت کا تجزیہ دنیا میں آج ہورہا ہے، اس کے ذریعے یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں جاری موجودہ عالم گیریت منڈی کی توسیع   عدل و انصاف کے بجاے لبرلائزیشن کے ذریعے کرنے پر زور دیتی ہے اور فی الحقیقت انصاف کو     اکثر فراموش کردیا جاتا ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جب صنعتی ملکوں کی برآمدات بڑھتی ہیں تو  ترقی پذیر ملکوں کی برآمدات میں بھی ترجیحاً بلند نرخوں پر اضافہ ہونا چاہیے، اگر ان ملکوں میں غربت اور بے روزگاری کو کم کرنا مقصود ہے، لہٰذا عالم گیریت کو محض صنعتی ملکوں کی تجارت میں توسیع کا   علَم بردار نہیں ہونا چاہیے بلکہ ترقی پذیر ملکوں کی تجارت کو بڑھانے کے لیے بھی کارگر ثابت ہونا چاہیے۔ ترقی پذیر ملکوں کی برآمدات میں اس وقت تک اضافہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان کی برآمدات کی راہ میں حائل تمام پابندیاں دور نہ کردی جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیت میں بھی بہتری رونما نہ ہو۔

اس لیے ان پابندیوں کا خاتمہ لازمی ہے جو ان کی برآمدات کے فروغ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہ تجارت کی لبرلائزیشن کا ایک جزو ہے۔ تاہم، اس سے اس وقت تک پورا فائدہ نہیں ہوسکتا جب تک ترقی پذیر ملکوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی توسیع نہ ہو، تاکہ وہ مزید برآمدات کے قابل ہوسکیں اور پیداواری صلاحیت انسانی وسائل اور فزیکل انفراسٹرکچر کی ترقی کے بغیر نہیں بڑھ سکتی۔ یہ انتہائی اہم امور ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کو اپنے سماجی اور فزیکل انفراسٹرکچر اور پیداواری سرگرمیوں کو بہتر بنائے بغیر، ان سے اپنے تمام محصولات کے خاتمے کا مطالبہ، ان ملکوں میں درآمدی سازوسامان کا سیلاب، ان کی اپنی صنعت اور زراعت کی تقریباً مکمل تباہی کی راہ ہموار کرے گا، لہٰذا ترقی پذیر ملکوں میں عالم گیریت صرف بتدریج ہی واقع ہوسکتی ہے۔ اگر اسے طاقت کے بل پر مسلط کیا گیا تو اس کے نتیجے میں کئی مسائل جنم لیں گے۔ ان میں سے ایک ان کی متعدد صنعتوں کا بند ہوجانا ہے۔ یہ چیز ان کی زراعت کو بھی نقصان پہنچائے گی، بے روزگاری میں اضافے کرے گی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرے گی، اور ایسے نتائج کا سبب بنے گی جو ان اہداف کے بالکل برعکس ہوں گے جو عالم گیریت سے مقصود ہیں۔

دوسرے الفاظ میں ترقی پذیر ملک اسی صورت میں عالم گیریت کی جانب پیش رفت کرسکتے ہیں جب ان کی پیداواری صلاحیت میں توسیع اور ان کی برآمدات میں اضافہ ہو۔ فی الوقت ایسا نہیں ہورہا ہے۔ انھیں اپنے انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے ترقی یافتہ ملکوں کی مدد درکار ہے۔ ایک ایسے بندوبست کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ان کی تعلیم، ٹکنالوجی، انتظامی معاملات اور پیداوار کے طریقوں کا معیار بہتر ہو۔ یہ ساری بہتریاں بہت ضروری ہیں، کیونکہ ان کے عمل میں آنے سے ترقی یافتہ ملکوں کو بھی کچھ عرصے بعد جواباً اس کے اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔ ان کی اشیا و خدمات کے لیے ترقی پذیر ملکوں میں مانگ بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں ان کے اپنے ملکوں میں پیداوار میں اضافہ کی شرح بلند ہوگی اور بے روزگاری میں کمی آئے گی۔ وہ خود اپنی معاشی کارگزاری کو بہتر بنانے کے لائق ہوسکیں گے۔ اس طرح ہر ایک کو فائدہ پہنچے گا۔

فی الوقت جاری عالم گیریت کا عمل اس نوعیت کا نہیں ہے۔ متعدد اشیا عالم گیریت سے باہر رکھی گئی ہیں۔ تیل، پٹرول اور کیمیکل اشیا اس سے خارج ہیں۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ بھی اس سے باہر تھا اور حال ہی میں شامل کیا گیا ہے۔ زرعی اشیا آج تک اس سے باہر ہیں۔ زرعی اشیا پر جو مالی اعانتیں یورپ، امریکا اور جاپان سمیت صنعتی دنیا میں دی جاتی ہیں وہ ترقی پذیر دنیا میں زراعت کی توسیع میں قابل عمل نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ زراعت میں مقابلتاً فوقیت کے باوجود ان ملکوں کی زرعی پیداوار کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

مختصر یہ کہ ترقی یافتہ دنیا ان اشیا اور خدمات پر عائد محصولات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جن کی پیداوار میں اسے مقابلتاً فوقیت حاصل ہے لیکن جواباً ترقی پذیر دنیا کو ان چیزوں کے حوالے سے یہ سہولت مہیا کرنے کو تیار نہیں جن میں اسے فوقیت حاصل ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں اور خود اسلام کی ابتدائی صدیوں میں جو عالم گیریت واقع ہوئی وہ زراعت ہی میں توسیع کے ذریعے ہوئی تھی۔ جاپان کو دیکھیں یا امریکا کو، یہ زراعت ہی ہے جس میں پہلے توسیع ہوئی۔ اس نے صنعتی ترقی کے لیے وسائل فراہم کیے۔ اگر ترقی پذیر ملکوں میں زراعت کا دائرہ نہ پھیلتا تو ان کی ترقی کا عمل متاثر ہوتا اور آخری نتیجے کے طور پر پوری دنیا میں صنعتی ملکوں کو بھی نقصان پہنچتا، لہٰذا زراعت کی توسیع ملکوں کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کے لیے ترقی یافتہ دنیا میں زراعت پر دی جانے والی مالی اعانتوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ صنعتی ملکوں کو ایک ہی ہلّے میں تمام مالی اعانتوں کا خاتمہ کردینا چاہیے۔ یہ اقدام حکمران سیاسی جماعتوں کے لیے خودکشی کا عمل ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم، وہ اسے تدریج کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں، اس واضح شعور کے ساتھ کہ یہ وہ عمل ہے جو ترقی پذیر ملکوں کو اپنی زراعت کو وسعت دینے اور اپنے وسائل میں اضافہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے درکار ہے اور یہ ان کی صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ معاشی قربت و یگانگت ایک دھیما عمل ہے چنانچہ صنعتی ملکوں سے مالی اعانتوں کے فوری خاتمے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی، تاہم اسے بتدریج رُوبہ عمل لایا جانا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہورہا۔ صنعتی دنیا میں اس بات کی مستقل جدوجہد جاری ہے کہ زرعی اشیا پر دی جانے والی مالی اعانتیں برقرار رہیں اور ان کے خاتمے کے مطالبے کو ٹالا جاتا رہے۔ اس رویے کے ساتھ کوئی گلوبلائزیشن نہیں ہوسکتی۔

دوسری چیز جسے ذہن میں رکھا جانا چاہیے، ترقی کے مختلف مراحل ہیں جن سے ترقی پذیر ممالک فی الوقت گزر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ دوسروں سے بہت آگے ہیں۔ اس لیے ان سب کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ مقابلتاً غریب ترقی پذیر ممالک، اداروں کی تعمیر،  صحت مند اور مستحکم مالیاتی تعاون کے حاجت مند ہیں۔ اچھی حکمرانی کے بغیر ان مقاصد کا حصول مشکل ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ملکوں کی ترقی کے لیے یہ تمام چیزیں ناگزیر ہیں۔ ان اہداف کے حصول میں وقت لگے گا۔ اس لیے یہ توقع رکھنا انتہائی غیر حقیقت پسندانہ ہوگا کہ ترقی پذیر ممالک اپنے تمام محصولات فی الفور ختم کردیں گے۔ ایسا کوئی بھی قدم نہ صرف ان ملکوں بلکہ پوری دنیا کے لیے مزید مصائب کا سبب بنے گا۔ اس لیے ترقی پذیر ملکوں میں عالم گیریت کو ایک دھیما عمل سمجھا جانا چاہیے۔ ان ملکوں میں ترقی کے لیے درکار ضروری عوامل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ محصولات میں بتدریج کمی کے لیے اچھی طرح سوچا سمجھا پروگرام تیار کیا جانا چاہیے۔

جہاں تک تیل کا معاملہ ہے تو یہ بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر ایک تیل کی بلند قیمتوں کی شکایت کر رہا ہے۔ تیل کی بلند قیمت کی وجہ لازمی طور پر تیل پیدا کرنے والے ملک نہیں ہیں۔ تیل کی بلند قیمت دو عوامل کی بنا پر ہے۔ ان میں سے ایک گھٹتے ہوئے ذریعے کے لیے جس کا متبادل موجود نہیں، بین الاقوامی طلب کا بڑھنا ہے، جب کہ دوسرا سبب عملی طور پر تمام صنعتی ملکوں میں تیل پر عائد محصولات کی اونچی شرح ہے۔ بعض ممالک میں محصولات تیل کی پمپ پرائس کے غالب حصے پر مشتمل ہوتے ہیں، جب کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو اس قیمت میں ملنے والا تناسب بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پٹرو کیمیکلز پر بھاری محصولات عائد ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ میں متعدد پیٹرو کیمیائی صنعتیں جدید ترین مشینری سے لیس ہیں چنانچہ ان کی کارکردگی زیادہ     اچھی ہے۔ اگر پیٹرو کیمیکلز کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے تو یورپی ملکوں کو اپنی صنعتوں کو وقت کے مطابق ڈھالنے کے لیے اپنی مشینری تبدیل کرنا پڑے گی۔

اس کے علاوہ بھی بعض مسائل ہیں۔ موجودہ عالم گیریت اصولوں کے مطابق نہیں بلکہ مذاکرات کے مطابق ہے۔ امریکا اور یورپی ملکوں جیسے صنعتی ممالک کی مذاکراتی صلاحیت، ترقی پذیر ملکوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ وہ مذاکرات کی میز پر وکیلوں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین معاشیات اور قانونی مشیروں کے ساتھ جاتے ہیں، جب کہ ترقی پذیر ممالک کے پاس مذاکرات کی میز پر اپنی اعانت کے لیے مشکل سے ایک دو اشخاص ہوتے ہیں۔ صنعتی ملکوں کی جانب سے ذہن کو  تھکادینے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے لے جائے جانے والے ماہرین کی تعداد اوسطاً سات ہوتی ہے، جب کہ ترقی پذیر ممالک اس کا نصف بھی مہیا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ نہ ان کے ماہرین ویسے اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں جیسے صنعتی ملکوں کی طرف سے آتے ہیں۔۱۳؎ اس لیے یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ مذاکرات منصفانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں منعقد ہوں گے؟ اس طرح یہ پورا عمل ابتدا ہی سے غیر منصفانہ معلوم ہوتا ہے۔ اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے صدر ڈاکٹر احمد علی نے بجا طور پر نشان دہی کی ہے کہ ’’ڈبلیو ٹی او میں ترقی پذیر ملکوں کا پہنچنا ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص گھنے جنگل سے گزر رہا ہو جو جھاڑ جھنکاڑ، پر پیچ راستوں اور سدھائے ہوئے دیوہیکل درندوں سے بھرا پڑا ہو‘‘۔۱۴؎ عالم گیریت، عدل و انصاف کے بغیر نہیں آسکتی اور اگر انصاف کو ملحوظ رکھا جائے تو ترقی پذیر ملکوں کو متعدد مراعات دی جانی چاہییں۔ تمام ترقی پذیر ملکوں کو یکساں مراعات کے بجاے ان کی ترقی کے مرحلے کے مطابق مراعات ملنی چاہییں۔

سماجی یگانگت ثقافتی تنوع کے ساتھ

عالم گیریت کے لیے درکار ایک اور چیز سماجی قربت و یگانگت ہے۔ مختلف ملکوں میں بہتر باہمی مفاہمت کے لیے یہ ضروری ہے۔ یہ چیز ایک آفاقی گاؤں کی تعمیر کے لیے راستہ ہموار کرے گی۔ تاہم آفاقی گاؤں کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ اس میں ایک یکساں اور سب کے لیے قابل قبول تہذیب و ثقافت رائج ہوگی۔ اس کے بجاے اسے ایک ایسا گاؤں بنانا ہوگا جس میں ثقافتی تنوع اور رنگا رنگی ہو۔ ایسا اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہم دوسری ثقافتوں کو محض برداشت نہ کریں بلکہ ان کا احترام کریں اور ان کی تحقیر سے گریز کرنا بھی سیکھیں۔ یہ توقع رکھنا کہ دنیا کے تمام ممالک ایک ہی مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنالیں گے، غیر صحت مند اور غیر حقیقت پسندانہ ہی   نہیں بلکہ ایسا ہدف ہے جس کا حصول ناممکن ہے۔ کسی بالادست قوم کی جانب سے باقی دنیا پر    اپنا کلچر مسلط کرنے کی کوشش پر دوسرے ملک ناخوش ہوں گے۔ دنیا میں کلچر کے نام سے کوئی ایسی اعلیٰ و ارفع اور یک رنگ چیز نہیں ہے جس میں صرف خوبیاں ہی ہوں اور جو کمزوریوں سے یکسر    پاک ہو، جب کہ تنوع اور رنگا رنگی سے دنیا کی خوب صورتی میں اضافہ ہوگا۔

دوسرے لفظوں میں ہمیں سماجی عالم گیریت کو تنوع اور ایک دوسرے کی ثقافتوں اور مذاہب کے احترام کے ساتھ مقصود بنانا چاہیے۔ ہمیں دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کی اچھی چیزوں کو اپنانے اور ان چیزوں سے دور رہنے کے لیے جو ہمارے نزدیک اس کے برعکس ہوں، عقل و دانش سے کام لینا چاہیے۔ اختلاف و تنوع کے ساتھ اتحاد سے یہی صورت مراد ہے۔ دوسری قوموں پر  اپنا کلچر مسلط کرنے کی کوشش، سماجی گلوبلائزیشن کو وجود میں لانے کا غلط طریقہ ہے۔ اس عمل میں مسلسل اصلاحات، برداشت اور باہمی احترام سے انکار کی کوئی گنجایش نہیں۔

قرآن مسلمانوں کو دوسرے انسانوں کی مذہبی علامات یا خداؤں کو برا کہنے سے روکتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ قرآن کہتا ہے: وہ لوگ علم نہ رکھنے کی بنا پر اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں مزید بتاتا ہے کہ ایسا اس لیے ہوگا کیونکہ ہم نے تمام لوگوں کے لیے ان کے اعمال کو پرکشش بنادیا ہے اور وہ لوگ اس رویے سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ قرآن اپنے اس بیان سے اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی کے مذہب، اقدار اور ثقافت کی تحقیر و توہین کے نتیجے میں لوگ ہمارے اپنے مذہب اور ثقافت کی تحقیر و توہین کریں گے۔ اس طرح یہ عالم گیریت کا بدترین طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ قرآن یہ بھی کہتا ہے:’’اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے___ سواے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں___ اور ان سے کہو کہ ’’ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمھاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمھارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مُسلم (فرماں بردار) ہیں‘‘۔ (العنکبوت ۲۹:۴۶)

لہٰذا اگر ہمارا اللہ اور ان کا اللہ ایک ہی ہے اور ہم سب کو اسی نے تخلیق کیا ہے تو ایک دوسرے کو برا کیوں کہیں؟ مگر اس کے مطابق ہو نہیں رہا۔ مغربی دنیا میں فی الوقت جو کچھ ہورہا ہے وہ اسلام، قرآن اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل لعن طعن ہے۔ یہ غرور و تکبر اور اندھے تعصب کا اظہار ہے، تحمل و برداشت اور مفاہمت کا مظاہرہ نہیں۔ امریکا (گوانتاناموبے) میں قرآن کے بیت الخلا میں پھینکے جانے کے واقعے کو مسلم دنیا کی جانب سے ایک دوستانہ کارروائی کے طور پر  کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟ اور اس ماحول میں عالم گیریت کیسے وقوع پذیر ہوسکتی ہے؟

سماجی اور معاشی عالم گیریت ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط ہیں۔ سماجی یگانگت کے بغیر معاشی یگانگت مشکل ہے اور لوگوں کے درمیان مزید اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیے بغیر سماجی یگانگت پیدا کرنا ممکن نہیں۔ توہین آمیز واقعات، جو امریکا اور اسی طرح خاصی تعداد میں یورپ میں پیش آئے، کوئی تازہ معاملہ نہیں ہیں جو نائن الیون کا نتیجہ ہو۔ یہ واقعات ایک ایسے ذہنی رویے کی عکاسی کرتے ہیں، جو صدیوں پر محیط ہے۔ اس کا مظاہرہ صلیبی جنگوں میں ہوا تھا اور اس کے بعد قرآن، محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر مسلسل حملوں کی شکل میں برابر ہوتا چلا آرہا ہے۔ یہ رویہ  بین الاقوامی ہم آہنگی اور عالم گیریت کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

سیاسی یگانگت

سیاسی قربت و یگانگت کا یہ مطلب نہیں کہ ایک سوپرپاور کی چھتری تلے دنیا کی تمام قوموں کو ایک قوم بنا دیا جائے۔ سیاسی یگانگت ایک ایسی مقتدرہ ہی کے تحت حقیقت بن سکتی ہے جو انصاف کی ضامن ہو، تنازعات کو کم کرے، اور تمام ملکوں میں امن اور خوش حالی کو فروغ دے۔ اقوامِ متحدہ سے اس کام کی انجام دہی کی امید لگائی گئی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔   اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اسرائیل کی سنگ دلی اور امریکا کی مدد اور چشم پوشی کی بنا پر مسلسل پامال ہوتی چلی آرہی ہیں۔ ایک منصفانہ عالمی نظام کو حقیقت بنانے کا خواب بھی، جھوٹے الزامات کی بنیاد پر عراق پر امریکا کے حملے کی وجہ سے بکھر چکا ہے۔ اس حملے کے پیچھے دو مقاصد کار فرما تھے۔ ایک تو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے تسلسل کو یقینی بنائے رکھنا، اور دوسرے اس علاقے کے تیل پر تسلط حاصل کرنا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ خود یورپی ملکوں کے مفاد کے بھی خلاف تھا۔ کوئی اکیلا ملک جو اس علاقے کے تیل پر کنٹرول رکھتا ہو، پوری دنیا پر تسلط قائم کرنے کے بارے میں بھی سوچ سکتا ہے۔ وہ چین، جاپان، حتیٰ کہ بعض یورپی ملکوں کو ایسی پالیسیوں کو ماننے پر مجبور کرنے کے لیے جنھیں وہ پسند نہیں کرتے تیل کے لیے راستہ دینے سے انکار کرسکتا ہے۔ اس صورت حال سے بے پناہ مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ یوں مشرق وسطیٰ کے تیل کا ایک سوپرپاور کے کنٹرول میں لے آیا جانا، ایک انتہائی ناخوش گوار معاملہ ہے۔ امریکا کویت کو عراق سے بچانے کے لیے کویت گیا تھا لیکن پھر وہ خود نو آبادیاتی طاقت بن گیا۔ کویت اب عملاً امریکی کالونی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد امریکا نے عراق پر حملہ کیا تاکہ دونوں ملکوں کے تیل پر اپنا کنٹرول قائم کرلے اور پورے علاقے کے ملکوں کے تیل کو اپنے دائرۂ اثر میں لے آئے۔ ایران نے مزاحمت کا اعلان کیا اور شاید اسی بنا پر اسے ’برائی کے محور‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

عراق پر تسلط قائم کرنے کے لیے امریکا کی کوششوں نے اس ملک کو بری طرح تباہ کردیا ہے۔ ۱۵ لاکھ سے زیادہ مرد، عورتیں اور بچے قتل کردیے گئے، ملک کے بنیادی ڈھانچے، صنعت اور زراعت کو برباد کردیا گیا، اور بحیثیت مجموعی ایک خوش حال ملک کو انتہائی غریب بنا دیا گیا۔ عراق کو اس حالت میں واپس آنے کے لیے جس میں یہ ۱۹۷۰ء میں تھا کم از کم دو عشروں تک جدوجہد کرنا پڑے گی۔ کئی یورپی ملک اس بات پر قابل تعریف ہیں کہ انھوں نے عراق کی اس غیر ضروری اور سنگ دلانہ بربادی میں امریکا کی طرف داری نہیں کی (ایسی ہی جارحیت کا نشانہ افغانستان کو بھی بنایا گیا ہے)۔

ایک مسلم ملک پر اس دلیل کی بنیاد پر حملہ کرنا کہ اس کا مقصد اس ملک میں جمہوریت کا قیام ہے، قطعی احمقانہ ہے۔ جمہوریت طاقت کے بل پر نہیں لائی جاتی۔ اس مقصد کے لیے متعدد اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اقدامات پر گفتگو یہاں ممکن نہیں۔ اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ مسلم ملکوں میں سماجی، معاشی اور سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اسے ہر ایک مانتا ہے   لیکن اس اصلاح کو عمل میں لانا آسان نہیں۔ یہ کام بتدریج ہی ہوسکتا ہے۔ مغربی دنیا تعلیم اور  سماجی و معاشی بہتری میں تعاون کرکے اصلاحات کی رفتار کو تیز کرسکتی ہے۔

سیاسی یگانگت بلاشبہہ دنیا کی ضرورت ہے، تاہم اسے طاقت کے استعمال کے ذریعے قائم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کام صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں، ایک دوسرے کے مذاہب اور تہذیب و ثقافت کا احترام کریں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ان سماجی تنازعات سے گریز کریں جو دوسروں کے مذہب، ثقافت اور عقائد کی توہین و تحقیر کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم اس طور پر آگے بڑھیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوسکتا۔

آخری بات

ہم بات اس پر ختم کرسکتے ہیں کہ عالم گیریت پوری دنیا کی عظیم تر خوش حالی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، معاشی عالم گیریت، سماجی اور سیاسی عالم گیریت سے الگ نہیں۔ یہ عالم گیریت کے پورے عمل کا ایک حصہ ہے۔ یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ہم عدل و انصاف، باہمی مفاہمت اور تعاون کو کھیل کے اصولوں، یعنی ان قوانین کی پابندی کرتے ہوئے یقینی نہ بنائیں جو انبیاے کرام ؑ ہم تک اخلاقی اقدار کے ذریعے لائے۔

حواشی

۱:            تبریزی، مشکوٰۃ المصابیح، نمبر ۴۴۹۸، ج دوم، ص ۶۱۳، بہ سند شعب الایمان از بیہقی۔

۲:            بحوالہ القرطبی، تفسیر قرآن، آیت ۴۹: ۱۳، ج ۱۶ ، ص ۳۴۲۔

۳:            تبریزی، مشکوٰۃ المصابیح، نمبر ۴۹۶۹، ج دوم، ص ۶۰۸، بہ سند ابوداؤد اور ترمذی۔

۴:            مسلم ، مسلم، نمبر ۶، کتاب البر والصلہ والادب، باب تحریم الظلم، از جابر ابن عبد اللہ (ج ۴، ص ۱۹۹۶)

۵:            المنذری، الترغیب والترہیب نمبر ۲ (ج ۳، ص ۳۹۰) بہ سند مسلم، ابوداؤد ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم)

۶:            24۔ Saunders, "The Muslim World on the Eve of Europe's Expansion

۷:            ایضاً۔

۸:            Sarton, "Introduction to the History of Science", vol.1, 503.

۹:            ابن تیمیہ، معجم الفتاویٰ، ج ۱۸، ص ۱۲۲۔

۱۰:         ابن خلدون، مقدمہ، ص ۲۸۸۔ مزید دیکھیے روزنتھال کا ترجمہ، ابن خلدون،  اور عیساوی کی تالیف "Arab Philosophy of History"

۱۱:         ابن خلدون، مقدمہ، ص ۲۸۷۔

۱۲:         ایضاً ۳۶۰ اور ۴۰۳۔ 

۱۳:         ورلڈ بنک، ’ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ‘، ص ۵۵۔

۱۴:         اسلامک ڈویلپمنٹ بنک، Proceedings of Seminar on Accession to WTO"


مقالہ نگار معروف ماہر اقتصادیات ہیں۔ سعودی عرب کے اسٹیٹ بنک اور اسلامی ترقیاتی بنک کے مشیر رہے ہیں

آج پوری دنیا جس معاشی بحران سے عالمی سطح پر دوچار ہے اور جس کی وجہ سے امریکا   اور یورپ سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں، اس کا بنیادی سبب  سرمایہ داری نظام اور سود پر مبنی معیشت ہے۔ خود پاکستان کی معاشی صورت حال دن بدن بگڑتی چلی جارہی ہے۔ قرضوں کا بوجھ بڑھ ہا ہے، ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور مہنگائی میں ہوش ربا اضافے اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی اشیا کی قیمتوں اور بے تحاشا لوڈشیڈنگ سے صنعت اور ترقی کا پہیہ رُکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، معیشت تنگ ہوکر رہ گئی ہے، اور پھر یہ سلسلہ کہیں رُکتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کے علاوہ اس کا بنیادی سبب بھی سود اور قرضوں پر مبنی معیشت ہے۔ یہ سودی معیشت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کے ذمے ۱۲؍ارب روپے کا قرض واجب الادا ہے، یعنی ہر پاکستانی ۶۰ہزارروپے کا مقروض ہے۔

  • قائداعظم کی بصیرت اور اسلام کا اقتصادی نظام: قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے قیامِ پاکستان کے موقع پر ہی اس بات کی نشان دہی کردی تھی کہ موجودہ سرمایہ داری نظام دنیا کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ یہ انسانیت کو درپیش مسائل میں اضافہ تو کرسکتا ہے لیکن ان مسائل سے نجات نہیں دلا سکتا۔ لہٰذا ہمیں اپنے مسائل کے حل اور دنیا کو اس کی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے اسلام کے اقتصادی نظام کو عملاً پیش کرنا ہوگا۔ آج یہ بات دنیا بھرمیں پائے جانے والے اقتصادی بحران اور کساد بازاری سے ایک کھلی حقیقت کی طرح ثابت ہورہی ہے۔

قائداعظم نے محض اس مسئلے کی نشان دہی ہی نہیں کی تھی بلکہ اسلامی اقتصادی نظام کے نفاذ کے لیے عملاً اسٹیٹ بنک کا قیام عمل میں لائے اور اس کے شعبۂ تحقیق کو اسلام کے اقتصادی نظام کے نفاذ کے لیے عملی خاکہ اور ماڈل کی تیاری کی ذمہ داری بھی سونپی تھی۔ انھوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا:

[سٹیٹ بنک] کا تحقیقی شعبہ، بنکاری کے طور طریقوں کو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں جو کام کرے گا مَیں ان کا   دل چسپی کے ساتھ انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی اقتصادی نظام نے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کردیے ہیں اور ہم میں سے اکثر کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہی دنیا کو اس بربادی سے بچاسکے جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ افراد کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی سطح سے ناچاقی کو دُور کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ برعکس اس کے گذشتہ نصف صدی میں دو عالمی جنگوں کی زیادہ تر ذمہ داری بھی اس کے سر ہے۔ مغربی دنیا اس وقت اپنی میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوصف جس بدترین ابتری کی شکار ہے وہ ا س سے پہلے تاریخ میں کبھی نہ ہوئی ہوگی۔ مغربی اقدار، نظریے اور طریقے خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا اور دنیا   کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا جس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استوار ہو۔ اس طرح سے ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے اور بنی نوع انسان تک پیغامِ امن پہنچا سکیں گے کہ صرف یہی اسے بچا سکتا ہے اور انسانیت کو فلاح و بہبود، مسرت و شادمانی سے ہم کنار کرسکتا ہے۔(قائداعظم: تقاریرو بیانات، جلد چہارم، ص ۵۱)

یہ بات غور طلب ہے کہ اسٹیٹ بنک کے افتتاح کے موقع پر قائداعظم نے اسلام کے اقتصادی نظام کوتلاش کر کے نافذ کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی اور یہ ذمہ داری اسٹیٹ بنک کے شعبۂ تحقیق کی لگائی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا شبیراحمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع جیسے علماے کرام کی موجودگی میں قائداعظم نے اسٹیٹ بنک کی ذمہ داری کیوں لگائی کہ اسلام کا اقتصادی نظام تلاش کرے؟

اگر غور کیا جائے تو اس کے دو بنیادی اسباب تھے: ایک سبب تو یہ تھا کہ پاکستان جب بناتھا تو اس کا سٹیٹس ڈومینین (dominion) ( حکومت کے زیراثر )کا سا تھا نہ کہ ایک آزاد ملک کا۔ لہٰذا برطانیہ کے زیراثر ہونے کی وجہ سے وہاں کے قوانین ہم نے اپنا لیے اور آج تک ان پر عمل پیرا ہیں۔

دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ قیامِ پاکستان کے موقع پر اگر انگلستان کے مالیاتی نظام کو جو کہ  سودی نظام تھا،فی الفور ختم کردیا جائے تو پھر ملک کا اقتصادی نظام کیسے چلے گا؟ راتوں رات یہ تبدیلی ممکن نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نظام کی تبدیلی کی ذمہ داری قائداعظم نے اسٹیٹ بنک کی لگائی۔     یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ سود حرام ہے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے۔ سوال یہ ہے کہ  اگر ہم سود نہیں لیتے تو متبادل نظام کیا ہو؟ یہ کام اسٹیٹ بنک ہی کرسکتا تھا۔ درس نظامی کے نصاب میں بنکاری بطور مضمون نہیں پڑھائی جاتی۔ اس لیے اس مسئلے پر علما پوری طرح نظر نہیں رکھتے۔

قیامِ پاکستان کے بعد ایک اور عملی مسئلے کا بھی سامنا تھا۔ تقسیم کے بعد یہاں سے ہندو چلے گئے تو ایک ہزار شاخوں پر مشتمل بنکاری نظام جس میں کوآپریٹو بنک بھی شامل تھے، بیٹھ گیا۔ ان حالات میں قائداعظم نے سنٹرل بنک کے نظام کو اپنی بصیرت کے ذریعے اسلام کے اقتصادی نظام میں داخل کر دیا، اور اسٹیٹ بنک کے قیام کے ذریعے اس راہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی۔

اس طرح یہ تین بنیادی مسائل تھے جن کا ابتدا ہی میں پاکستان کے مالیاتی نظام کو سامنا تھا۔ آئین بنائے بغیر ڈومینین سٹیٹس کو خودمختاری کا اسٹیٹس نہیں مل سکتا تھا۔ اگر آئین بنتا تو کرنسی یا مالیاتی نظام کا متبادل پہلے ہونا چاہیے تھا۔ اس وقت تک یہ مسائل حل نہ ہوئے تھے، لہٰذا قائداعظم نے اسٹیٹ بنک کی بنیاد پہلے رکھی تاکہ مالیاتی نظام وضع کیا جاسکے۔ جب آئین بنا تو اس میں سود کو حرام قرار دیا گیا لیکن اسٹیٹ بنک کا ایکٹ بنایا گیا تو اس کے آرٹیکل ۱۳ تا ۲۱ کے تحت سود کو    تحفظ دے دیا گیا۔ بنکاری آرڈی ننس ۶۲ بنایا گیا تو اس کے سیکشن ۲۵ یا ۲۶ وغیرہ میں سود کو تحفظ دے دیا گیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہم آج تک سود کے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ بات غور طلب ہے کہ قائداعظم کی بصیرت کیا تھی اور ہم نے کیا کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ بنکاری کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی تھی (’بنکاری نظام، ایک تاریخی جائزہ‘ آئی اے فاروق، ترجمان القرآن، اپریل ۲۰۰۵ئ)۔ ۱۹۸۵ء میں ایس ڈی گوے ٹی ئین (S.D. Goitien) نے ایک کتاب Mediterranean Society (بحیرۂ روم کے خطے کا معاشرہ) کے نام سے لکھی۔ اس نے واضح طور پر لکھا ہے کہ بنکاری عربوں کا کھیل ہے (ص۳۲۵)۔ اگر ریاضی وجود میں نہ آتا تو بنکاری ممکن ہی نہ ہوتی۔ اگر صفر نہ ہو تو حساب کتاب ممکن نہیں اور کمپیوٹر کی اکائونٹس کی کمیونی کیشن ممکن نہیں ہے۔ صفر اور ریاضی کے ایجاد کرنے والے مسلمان ہیں۔

ملک کو درپیش معاشی بحران سے نجات دلانے کے لیے آج بھی یہی راستہ ہے کہ سود کی لعنت سے نجات حاصل کرتے ہوئے سود سے پاک اسلام کے اقتصادی نظام کو نافذ کیا جائے۔ بگڑتی ہوئی ملکی معاشی صورت حال کا تقاضا ہے کہ فوری اقدام اُٹھایا جائے۔ خدانخواستہ معیشت کی تباہی کے نتیجے میں کسی فوجی یلغار کے بغیر ہی ملک و قوم غلامی اور انحطاط و زوال سے دوچار ہوسکتے ہیں!

  • سود کے خاتمے کے لیے اھم پیش رفت:اسلامی نظامِ معیشت کے نفاذ کے لیے  علمی و تحقیقی سطح پر ماضی میں کام ہوتا رہا ہے اور بلاسود بنکاری نظام کے نفاذ کے لیے اقدامات بھی اُٹھائے گئے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر پیش رفت نہ ہوسکی، اور رائج الوقت اسلامی بنکاری کے بارے میں بھی مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت پنجاب اسمبلی کا بل  Prohibition of Private Money Lending Act 2007 ہے۔ یہ بل پنجاب اسمبلی کی رکن حمیرااویس شاہد نے پیش کیا تھا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد وہ اسے منظور کروانے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ بل ۱۲جون ۲۰۰۷ء میں باقاعدہ منظور ہوکر قانون بن گیا ہے۔ پہلی بار نہ صرف نجی سطح پر سود کو قانوناً جرم قرار دیا گیا بلکہ اس کی خلاف ورزی پر سزا بھی مقرر کردی گئی۔ اسی قانون کو متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے تحت صوبہ سرحد میں بھی نافذ کردیا گیا۔ اس طرح ملک کے نصف سے زائد حصے سے نجی سطح پر سود کا خاتمہ ہوگیا (اے این پی کی موجودہ صوبائی حکومت نے اس قانون کو پھر غیرمؤثر کردیا ہے)۔ بلاشبہہ یہ ملک سے سود کے خاتمے کے لیے عملاً پیش رفت اور روشنی کی ایک کرن ہے جو ایک نیا عزم اور حوصلہ دیتی ہے۔

یہ بات باعث ِ حیرت ہے کہ جب ۲۰۰۴ء میں نجی سطح پر سود کے خاتمے کے لیے بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو سخت ردعمل سامنے آیا۔ حیرت ہوتی ہے کہ سود جو شرعاً حرام ہے اور قرآن نے اسے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے، ملک کا آئین بھی اس بات کا پابندکرتا ہے، اور معاشی مسائل سے نجات کا ناگزیر تقاضا ہے، لیکن ارکان اسمبلی اس مسئلے پر تعاون کے لیے تیار نہ تھے۔ چار سال تک مختلف حیلوں بہانوں سے بل کو زیرالتوا رکھا گیا۔ اس کے حق میں آواز اُٹھانے والوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ۔ کبھی میٹنگ نہ ہوتی اور کبھی کورم پورا نہ ہوتا تھا۔ اگر کبھی میٹنگ ہوتی تو طرح طرح کے اعتراضات اُٹھائے جاتے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے لوگ دھمکاتے تھے۔ سودخور مافیا کی طرف سے بھی دھمکیاں ملتی تھیں۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد بالآخر یہ بل اسمبلی میں پیش ہوا اور منظور ہوا۔

  • بیع سلم، سود سے پاک نظام:اس تاریخی اقدام کے بعد اسلام کے اقتصادی نظام کو عملاً نافذ کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ایک منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت زراعت سے سود کے خاتمے کا آغاز کرتے ہوئے بتدریج پورے ملک سے سودی نظامِ معیشت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اس منصوبے کو ’بیع سلم ماڈل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ بھی محترمہ حمیرا اویس نے پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحقیقی اور فنی پہلو پر تعاون ماہر اقتصادیات اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے سابق مشیر آئی اے فاروق نے کیا ہے۔ اس ضمن میں علمی و تحقیقی سطح پر اور عملی مسائل کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔ لیکن اپنے نفاذ کے لیے یہ بل وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کا منتظر ہے!

’بیع سلم‘ اسلام کے اقتصادی نظام کے نفاذ کا عملی ماڈل ہے۔ بیع سلم زراعت کو سود سے پاک کرنے کا وہ نظام ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کو حرام کرنے کے بعد متبادل کے  طور پر متعارف کروایا تھا۔ اس نظام میں کسان سے فصل پیشگی خرید لی جاتی ہے اور اسے رقم ادا کردی جاتی ہے۔ ایک معاہدہ یا عقد لکھا جاتا ہے جس میں فصل اُگانے سے قبل فصل کی کوالٹی، مقدار، قیمت اور فصل کی حوالگی کی تاریخ کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جاتا۔ کسان کو فصل کی قیمت ادا کردی جاتی ہے اور وہ بآسانی فصل کاشت کرسکتا ہے۔ یہ ایک آسان اور قابلِ عمل نظام ہے اور اس کے نتیجے میں سود اور اس کی بہت سی قباحتوں سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں کسانوں کا استحصال ختم ہوگا اور مہنگائی پر قابو پایا جاسکے گا، وہاں بتدریج سود سے پاک اسلام کے اقتصادی نظام کے نفاذ کی راہ بھی ہموار ہوسکے گی۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: ’بیع سلم‘ جسٹس ملک غلام علی، عالمی ترجمان القرآن، جنوری ۲۰۱۲ئ، ص ۱۹۶-۱۰۷۔ ’زراعت کی مالی ضروریات اور بیع سلم‘، آئی اے فاروق ، ترجمان القرآن، اپریل ۲۰۰۷ئ، ص ۷۷-۸۰)

  • کسان کے استحصال کا خاتمہ اور بیع سلم:کسان کا استحصال کس طرح سے کیا جا رہا ہے اور بیع سلم سے کس طرح اس کو فوائد پہنچ سکتے ہیں؟ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو  کسان کے ساتھ پہلا ظلم یہ کیا جاتا ہے کہ فصل کی کٹائی کے آٹھ ماہ بعد اسے فصل کی قیمت ملتی ہے۔ کسان آڑھتی کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے اور وہ منہ مانگی قیمت پر فصل خریدتا ہے اور کسان مجبور ہے۔ فصل کی کاشت پر لاگت بڑھتی چلی جارہی ہے۔ حکومت کسان کو قرض اور سبسڈی کی سہولت دیتی ہے اس سے وقتی فائدہ تو ہوتا ہے لیکن اس سے کسان مزید مقروض اور مسائل سے دوچار ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف فصل کی مہنگی کاشت کے نتیجے میں عوام کو گندم، چاول، آٹا اور چینی وغیرہ مہنگے داموں خریدنے پڑتے ہیں۔ ان تمام مسائل کا حل ’بیع سلم‘ کے ذریعے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔

’بیع سلم‘ کے تحت چونکہ کسان کو ایک معاہدے کے تحت فصل کی قیمت پیشگی ادا کی جاتی ہے، اس لیے اسے کٹائی کے بعد کئی کئی ماہ تک فصل کی قیمت کے انتظار سے نجات مل جاتی ہے۔ دوسری طرف یک مشت ادایگی کی بنا پر فصل کی کاشت پر لاگت بھی کم آئے گی اور کھاد اور زرعی ادویات وغیرہ بھی نقد ادایگی پر کسان کو سستی ملیں گی۔ حکومت خود بیع سلم کرے یا مختلف بنکوں یا کمپنیوں کے ذریعے بیع سلم کیا جائے اور پھر حکومت فصل خرید لے تو اس طرح آڑھتی جو کسان کا استحصال کرتا ہے، اس کا کردار بھی ختم ہوجائے گا۔ حکومت خود مارکیٹ میں گندم فراہم کرے گی تو ذخیرہ اندوزی کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے۔ فصل کی کاشت پر لاگت میں کمی، آڑھتی کے کردار کے خاتمے اور حکومت کی طرف سے مارکیٹ میں فصل کی فراہمی کی وجہ سے آٹا، چینی اور چاول وغیرہ کی قیمتیں بھی کم ہوں گی جس سے عوام کو بھی براہِ راست فائدہ ہوگا اور سستی چیزیں ملیں گی۔

’بیع سلم‘ سے چھوٹے کسان جو کم زمین کی وجہ سے نقدآور فصل نہیں اُگا سکتے، ان کو بھی فائدہ ہوگا۔ چند کسانوں کی زمینوں کو یک جا کر کے بھی بیع سلم کیا جاسکتا ہے۔ اس کوآپریٹو فارمنگ کے نتیجے میں چھوٹا کسان بھی گندم اور چاول وغیرہ کاشت کرسکے گا۔ اسلامی بنکاری میں اجارہ سکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور دیگر زرعی ضروریات کی بلاسود فراہمی بھی ممکن ہوسکتی ہے۔

بیع سلم کے نتیجے میں کسان اور بنک یا حکومت چونکہ فصل کے مالک ہوں گے، لہٰذا فصل کی بہتر کاشت، زرعی تحقیق اور جدید زرعی ٹکنالوجی سے استفادے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اس سے میدانِ زراعت میں تحقیق اور نئی ٹکنالوجی اور جدید ذرائع اپنانے کا رجحان بھی آگے بڑھے گا جو زراعت کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کرسکتا ہے۔

  • عملی مسائل:ملک کا مالیاتی نظام براہِ راست مرکز اور اسٹیٹ بنک کے تحت ہے، لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صوبائی سطح پر سود کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کاوشیں مؤثر ہوں گی؟

حقیقت یہ ہے کہ ۱۸ویں ترمیم کے بعدوزارتِ عشر اب صوبائی حکومت کے تحت ہے۔  لہٰذا اگر بیع سلم کے تحت زراعت کی سطح سے سود کے خاتمے کے لیے کوشش ہوگی تو اس میں مرکز یا اسٹیٹ بنک رکاوٹ نہیں بن سکتا۔دوسرا یہ کہ بیع سلم منصوبے کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس میں مختلف اعتراضات اُٹھائے گئے، بیوروکریسی نے ٹیکنیکل اعتراضات اُٹھائے لیکن وضاحت کے بعد اس پر اعتراض نہیں کیا گیا۔ اس کے قابلِ عمل ہونے کی رپورٹ (فزیبلٹی رپورٹ) بن چکی ہے، نفاذ کے لیے عملی ڈھانچا کیا ہوگا اس کی وضاحت بھی پیش کی جاچکی ہے، اور خود وزیراعلیٰ کو دو مرتبہ پریزنٹیشن دی جاچکی ہے۔ کسی بھی مرحلے پر یہ اعتراض نہیں اُٹھایا گیا کہ یہ منصوبہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ اسی منصوبے کے تحت عشر بڑے پیمانے پر جمع ہوسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰؍ارب روپے تک عشر جمع ہوسکتا ہے، جب کہ گذشتہ سال حکومت نے ۱۶۰ ؍ارب روپے عشر جمع کیا تھا۔   علما کی طرف سے بھی اعتراض نہیں اُٹھایا گیا بلکہ انھوں نے فتویٰ دے کر اس کی تائید کی ہے۔

بیع سلم منصوبے کے لیے بیرونِ ملک سے بھی پیش کش ہو رہی ہے۔ مڈل ایسٹ ڈویژن پول کے فنڈز ہیں۔ ان میں او آئی سی، آئی سسکو اور اسلامک ڈویلپمنٹ بنک شامل ہیں۔ یہ سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ اس مَد میں وہ ایک ملین ڈالر فنڈ بلاسود دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زراعت کی سطح پر پہلی بار بیع سلم کے ذریعے بلاسود منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس طرح عالمی سطح پر بھی ایک تبدیلی کا آغاز ہوسکتا ہے اور عالمی بحران سے نجات کے لیے ایک راہ نکل سکتی ہے۔ افسوس   اس بات کا ہے کہ ہماری حکومت اس منصوبے کی تائیداور نفاذ کے بجاے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

معاشی خودانحصاری، آئی ایم ایف سے نجات، اور خاص طور پر بیرونی قرضوں کی ادایگی کی راہ بھی بیع سلم کے نفاذ سے ہموار ہوسکتی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرض دینے کا بڑا سبب عالمِ عرب کا سرمایہ ہے جو  ان تک پہنچتا ہے۔ اگر ملک میں بیع سلم نظام کو نافذ کردیا جائے تو پھر عرب دنیا کے وسائل کا رُخ بھی پاکستان کی طرف ہوسکتا ہے۔ جیساکہ اُوپر ذکر کیا گیا ہے کہ مڈل ایسٹ سے نجی شعبے کے سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ ان سے مضاربہ اور مشارکہ کی بنا پر سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے اور ہم قرض کے بوجھ سے بھی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہم آگے بڑھ کر کوئی اقدام تو اُٹھائیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سی راہیں کھل سکتی ہیں۔

اس بحث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بیع سلم منصوبہ شرعی، تحقیقی اور عملی حوالے سے قابلِ عمل ہے۔ اس کے قابلِ عمل ہونے کی فزیبلٹی رپورٹ بھی پیش کی جاچکی ہے۔لیکن اب یہ  بل بیوروکریسی کے روایتی تاخیری حربوں کی نذر ہورہا ہے۔ بیوروکریسی چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس میں سود کے عنصر کو شامل کیا جائے لیکن علما کے تحریری فتووں کی وجہ سے عملاً ایسا ممکن نہیں ہوپا رہا۔ یہ سود سے پاک نظام ہے۔ اس پر عمل درآمد کے نتیجے میں نہ صرف غریب کسان کے استحصال کا خاتمہ ہوگا بلکہ مہنگائی کے مارے عوام کو بھی سستی اشیا کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں مالیاتی نظام تبدیل ہوگا اور سود کے نظام سے نجات کی راہ ہموار ہوگی۔حکومت پنجاب کو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بیع سلم کے نفاذ کے لیے فوری اقدام کرنا چاہیے۔ دینی و سیاسی جماعتوں کو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں حکومت پر دبائو ڈالنا چاہیے تاکہ اس منصوبے پر عمل درآمد کو ممکن بنایاجاسکے۔ عوامی سطح پر بھی اس حوالے سے آگاہی بڑھ رہی ہے۔ اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے علما، ماہرین اور میڈیا کو  اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مختلف کالم نگاروں نے اس کو موضوع بحث بنایا ہے۔ تاہم میڈیا کو مزید مؤثر انداز میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

آج دنیا میں جو اقتصادی بحران ہے وہ سود کی وجہ سے ہی ہے۔ پوری دنیا سودی نظام میں جکڑی ہوئی ہے اور اس کا سبب قرض ہے۔ آج ہر چیز قرض پر مل رہی ہے۔گاڑی ہو یا ہوم فنانس، سب قسطوں پر مل رہے ہیں اور یوں یہ نظام مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی سرمایہ داری نظام اور سود کی لعنت سے نجات کے لیے آغاز بیع سلم سے ہوسکتا ہے۔ اس طرح قائداعظم نے اسلام کے اقتصادی نظام کو تلاش کرنے کی جو ذمہ داری ڈالی تھی اس سے بھی عہدہ برآ ہوا جاسکے گا، اور ہم دنیا کے سامنے بھی اسلام کے اقتصادی نظام کو عملاً پیش کرسکیں گے۔

اسلام کی مختلف خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین مصلحتوں اور حکمتوں پر مبنی ہے۔ اس کے لیے ’دین میں مصالح‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیے ہیں ان میں انسانوں کے لیے بے پناہ فوائد پوشیدہ ہیں۔ اگر ان احکام پر عمل نہ کیا جائے اور دین کو ترک کردیا جائے تو ان فوائد سے محرومی کے ساتھ طرح طرح کے نقصانات لاحق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَیْْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (الحج ۲۲:۷۸) ’’اور اللہ نے تمھارے لیے دین میں کوئی حرج نہیں بنایا ہے‘‘۔

اسلام میں مصالح اور علما کی آرا

قرآن و حدیث میں ایسی بے شمار نصوص ہیں جن میں احکام میں مصالح اور حکمتوں کی وضاحت کی گئی ہے اور علما نے اس پر مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں اسرار شریعت اور احکام کی علتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ۱؎  علماے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کے احکام میں حکمت و مصلحت پائی جاتی ہے ۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:  تمام اَئمہ و فقہا احکام شرع میں حکمت و مصالح کے اثبات کے مسئلے پر متفق ہیں۔ اس سلسلے میں قیاس کو نہ ماننے والوں اور کچھ دوسرے لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ۲؎

جو لوگ احکام میں مصالح اور حکمتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے امام موصوف لکھتے ہیں:’’اہل سنت اللہ تعالیٰ کے احکام میں تعلیل (علت) کے قائل ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پسند کرتا ہے اور وہ راضی ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ ان کے نزدیک پسند کرنا اور راضی ہونا مطلق طور پر کسی چیز کا ارادہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ خاص ہے (یعنی کسی حکم کی بجاآوری رضاے الٰہی کے لیے ہونا اس کی علت قرار دی جاسکتی ہے)۔ بے شک اللہ تعالیٰ کفر ، فسق اور عصیان کو پسند نہیں کرتا، اگرچہ اللہ کی مشیّت و ارادے کے بغیر   کوئی شخص ان افعال کو انجام نہیں دے سکتا‘‘۔(منھاج السنۃ النبویۃ، ابن تیمیہ،ج۱، ص۱۴۱)

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ احکام میں علّت تسلیم کرنے کی صورت میں تسلسل اور دور لازم آئے گا اور اللہ تعالیٰ حکمت کا تابع قرار پائے گا ، جس سے وہ برتر و بالا ہے۔ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے امام موصوف لکھتے ہیں:’’یہ تسلسل مستقبل میں واقع ہونے والے واقعات کے بارے میں لازم آتاہے نہ کہ گذشتہ واقعات کے بارے میں ۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے کسی کام کو کسی حکمت کے لیے انجام دیا تو حکمت اس فعل کے بعد حاصل ہوگئی۔ اب اگر اس حکمت سے دوسری حکمت چاہی جائے تو یہ تسلسل مستقبل میں پیش آئے گا۔ اور وہ حاصل شدہ حکمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور ایک دوسری حکمت کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایسی حکمتیں پیدا کرتا رہتا ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو دوسری حکمتوں کا سبب بھی بناتا رہتا ہے۔ جمہور مسلمان اور دوسرے فرقوں کے لوگ مستقبل میں تسلسل کے قائل ہیں، ان کے نزدیک جنت اور جہنم میں ثواب و عذاب ایک کے بعد ایک تسلسل کے ساتھ حاصل رہے گا‘‘۔(ایضاً)

امام موصوف دین میں مصالح اور حکمتوں کی موجودگی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’جب فرد کو معلوم ہوگیا کہ فی الجملہ اللہ تعالیٰ کے دین (اوامر و نواہی) میں عظیم حکمتیں ہیں تو اتنی ہی بات اس کے لیے کافی ہے، پھر جوں جوں اس کے ایمان و علم میں اضافہ ہوگا اس پر حکمت اور رحمت الٰہی کے اسرار کھلتے جائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے:  سَنُرِیْھِمْ آیٰـتِنَا فِیْ اْلآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِھِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (حٰم السجدہ۴۱:۵۳) ’’عن قریب ہم ان کو ا پنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ قرآن برحق ہے‘‘۔ یا جیساکہ ایک حدیث میں اس مفہوم کو مزید واضح کیاگیاہے: ’’اللہ بندوں کے حق میں اس سے زیادہ رحیم ہے، جتنا ماں اپنے بچے کے لیے رحم دل ہوتی ہے‘‘۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ، ج۸، ص۹۷)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب حجۃ اللّٰہ البالغۃ میں ان لوگوں کی پُرزور تردید کی ہے جنھوں نے احکام میں مصلحتوں کا انکار کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ احکام شرعیہ قطعاً حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل نہیں ہیں … یہ خیال سراسر فاسد ہے اور سنت اور اجماعِ امت سے اس کی تردید ہوتی ہے‘‘۔ (حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص ۴-۵)

مصالح کے فوائد

شاہ ولی اللہ ؒنے ان مصالح اور حکمتوں کو جاننے کے فوائد بھی تفصیل سے بیان کیے ہیں ۔ ان میں سے بعض اہم فوائد درج ذیل ہیں:

۱- اس سے معجزۂ قرآن کی طرح (جس کے معارضے سے انسان عاجز ہوگئے) شریعت کے معجزے کا اظہار ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت تمام شریعتوں سے کامل تر ہے، اور اس میں ایسی مصلحتیں پیش نظر رکھی گئی ہیں جن کی رعایت کسی اور طریقے پر ممکن نہیں۔ یہ کامل شریعت ایک نبی اُمی کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔

۲- شریعت ِاسلامیہ پر کامل ایمان ویقین کے ساتھ اگر اس کی مصلحتیں بھی معلوم ہوجائیں تو اطمینانِ قلبی حاصل ہوتا ہے اور یہ طمانیت شرعاً مطلوب ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایمان کامل کے باوجود اللہ تعالیٰ سے اس کا مطالبہ کیا تھا ۔ چنانچہ اس کے لیے ان کے سامنے ایک معجزہ دکھا دیا گیا۔ ( البقرہ ۲: ۲۶۰)

۳- فروعی مسائل میں فقہا کے درمیان اختلافات رونما ہوئے ہیں۔ مصالح کے علم سے ان اختلافات میں کسی ایک مسئلے کو ترجیح دینے میں مدد ملتی ہے۔

۴-  شریعت کے بعض مسائل میں بعض فرقوں کو شک ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ    ان میں شریعت کا حکم خلافِ عقل ہے اور جو چیز عقل کے خلاف ہو، اسے رد کردینا چاہیے، جیسے عذابِ قبر کے بارے میں معتزلہ کو شک ہے۔ اسی طرح قیامت میں حساب کتاب اور اعمال کے تولے جانے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے، اسے حساب لینے اور اعمال کو تولنے کی کیا ضرورت؟ غرض کہ اس طرح کے اور دیگرمسائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خلافِ عقل ہیں۔ اس کا سدّباب اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ ان کے بارے میں مصلحتوں اور حکمتوں کو بیان کیا جائے، تاکہ شک کا ازالہ ہو۔(حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص ۸)

امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ: شرعی احکام میں تین طریقوں سے مصالح ثابت ہوتے ہیں:

۱-متعلق فعل میں مصلحت شامل ہو، اگرچہ شریعت میں اس کی وضاحت نہ کی گئی ہو، جیسے عدل و انصاف کی مصلحت دنیامیں امن و امان کا قیام ہے اور ظلم اور ناانصافی فسادِ عالم کا سبب ہے۔ یہ مصلحت عقل اور شرع دونوں سے ثابت ہے۔

۲- شریعت نے جب کوئی حکم دیا تو اس کی بجا آوری ہی میں مصلحت ہے اور کسی چیز سے منع کیا تو اس سے احتراز کرنا ہی تقاضاے مصلحت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع کے حکم سے حسن و قبح کا تعین ہوتا ہے۔

۳- اللہ تعالیٰ کسی حکم کے ذریعے بندے کا محض امتحان لینا چاہتا ہو کہ وہ اس کی اطاعت کرتا ہے یا نہیں؟ حقیقت میں حکم کی تعمیل مقصود نہ ہو، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کا حکم دینا، یا بنی اسرائیل کے تین افراد (گنجا، برص زدہ اور اندھے) کی آزمایش کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خصوصی نعمتوں کا اعتراف کریں اور راہ حق میں خرچ کریں۔ اس صورت میں حکمت نفسِ حکم میں ہے نہ کہ اس کی تعمیل کرنے میں‘‘۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ، ج ۸، ص ۴۳۵- ۴۳۶)

علامہ ابواسحاق الشاطبیؒ فرماتے ہیں:’’احکام شریعت کا اصل مقصد دنیا و آخرت میں بندوں کے مصالح کی حفاظت ہے‘‘۔(الموافقات فی اصول الشریعۃ، ج۲، ص۶)

علامہ ابن قیم الجوزیۃؒ لکھتے ہیں:’’شریعت کی بنا اور اساس بندوں کے دنیوی و اُخروی مصالح اور حکمتیں ہیں اور وہ پوری کی پوری عدل، رحمت، حکمت اور مصلحت ہے‘‘۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج۳، ص ۳)

مصلحت کا مفھوم

صَلُح ، یصلح ، صلاحاً وصلوحاً و صلاحیۃ کے معنٰی درست او رٹھیک ہونے کے ہیں۔ اسی سے مصلحت ہے اور اس کی جمع مصالح ہے۔ اس کی ضد فساد اور مفسدۃ ہے، جس کے معنی بگاڑ اور خرابی کے آتے ہیں۔ اس کے اصطلاحی معنٰی ہیں احکامِ شرع کا مصالح کے مطابق ہونا۔ اس میں جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت دونوں پہلو شامل ہوتے ہیں ۔ علما نے مصالح کی تشریح مختلف زاویوںسے کی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:

’’منفعت کا حصول اور مضرت کا دفع کرنا مخلوق کی بنیادی ضروریات میںسے ہے اور خلق کی اصلاح اس امر پر ہے کہ ان کے مقاصد پورے کیے جائیں۔ یہاں اصلاح سے مراد وہ اصلاح ہے، جوشریعت کا مقصود ہے اور خلق کے حق میں شریعت کا مقصود پانچ امور ہیں: دین کی حفاظت، نفس کی حفاظت، عقل کی حفاظت، نسل کی حفاظت اور مال کی حفاظت۔ لہٰذا ہر وہ حکم یا طریقہ جو ان پانچ اصولوں کا ضامن ہوگا، مصلحت اور اصلاح کہلائے گا اور جس سے یہ اصول فوت ہوتے ہیں وہ طریقۂ مفسدہ کہلائے گا اور مفسدہ کو دفع کرنا واجب و لازم ہے‘‘۔(المستصفٰی فی علم الاصول، ج۱، ص ۲۸۶)

علامہ آمدیؒ مصلحت کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں:’’حکم کی مشروعیت کا مقصود یا تو کسی مصلحت و فائدہ کو حاصل کرنا ہے، یا کسی مضرّت کو دور کرنا، یا دونوں ہی مقصود ہیں‘‘۔(امام شاطبی کے ذکر کردہ مقاصدی قواعد- ایک تجزیاتی مطالعہ، ڈاکٹر عبدالرحمن ابراہیم کیلانی، ص۴۳، بحوالہ الإحکام للآمدی، ج۳، ص ۲۷۹)

مصالح دین کو مقاصدِ شریعت بھی کہا جاتا ہے۔ شیخ طاہر بن عاشورؒ مقاصدِ شریعت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مقاصد شریعت ان معانی اور حکمتوں کو کہتے ہیں جنھیں شارع نے قانون سازی کے تمام یا اکثر حالات میں ملحوظ رکھا ہے، اس طور پر کہ اسے شریعت کے کسی خاص قسم کے حکم کے ساتھ مخصوص نہیں رکھا گیا ہے۔ لہٰذا اس میں شریعت کے وہ عمومی اوصاف اور اہداف بھی آتے ہیں جنھیں ملحوظ رکھنے سے شریعت پہلوتہی نہیں کرتی‘‘۔ (ایضاً، بحوالہ مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ، طاہر بن عاشور، ص۵۱)

استاذ علال الفاسیؒ فرماتے ہیں:’’مقاصد شریعت ، شریعت کے اہداف اور ان اسرار و رموز کو کہتے ہیں جنھیں شارع نے تمام احکام میں ملحوظ رکھا ہے‘‘۔(ایضاً، بحوالہ مقاصد الشریعۃ ومکارمھا، علال الفاسی، ص۳)

ڈاکٹر یوسف حامد العالم نے مصالح کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:’’مقاصد شریعت ان مصالح و فوائد کو کہتے ہیں جو بندوں کو دنیا و آخرت میں حاصل ہوتے ہیں، خواہ یہ فوائد      جلبِ منفعت کے ذریعے حاصل ہوں، یا دفعِ مضرّت کے ذریعے‘‘۔(ایضاً، بحوالہ المقاصد العامۃ للشریعۃ الاسلامیۃ، ڈاکٹر یوسف العالم، ص۷۹)

مصلحت کی قسمیں

مصلحت کی بنیادی طورپر دو قسمیں ہیں: اُخروی اور دنیاوی۔ اخروی مصلحت سے مراد موت کے بعد آخرت میں اللہ کی رضا کا حصول، جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات ہے۔ دنیاوی مصلحت کا تعلق دنیاکی زندگی میں منفعت کے حصول یا دفعِ مضرّت سے ہے۔ جمہور فقہا نے دنیاوی مصالح کی تین قسمیں بیان کی ہیں: ۱- ضروریہ، ۲-حاجیہ، ۳- تحسینیہ۔ (الموافقات فی اصول الشریعۃ، ج ۲، ص ۸)

۱- مصلحتِ ضروریہ

مصلحت ضروریہ کا معنیٰ ہے: وہ مصلحت جس کی رعایت کے بغیر انسان کی صحت مندانہ زندگی کا تصور ممکن نہ ہو۔ عصری اصطلاح میں اسے انسان کے بنیادی حقوق بھی کہہ سکتے ہیں۔ مصلحت ضروریہ کا دائرہ پانچ چیزوں پر محیط ہے: ۱- دین، ۲- جان، ۳- نسل، ۴- مال، ۵- عقل۔ ذیل میں ان کی اہمیت سے متعلق اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا جاتا ہے:

  • دین و عقیدہ کی حفاظت: اسلام کے نزدیک انسان کی زندگی دین و عقیدہ کے بغیر بے معنیٰ ہے۔ وہ اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ آدمی ایمان و عقیدہ سے عاری زندگی گزارے۔ ایسی صورت میں وہ اس بات کو کیسے پسند کرسکتا ہے کہ وہ دوسرے کے دین و عقیدہ میں خلل ڈالنے کا باعث ہو، یا خود ا پنے ایمان سے پھر جائے۔ شریعت کی نگاہ میں یہ قابل سزا جرم ہے۔ دوسرے معنیٰ میں اسلام معاشرے کو مذہبی خلفشار سے بچانا چاہتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آدمی خود گم راہ ہو اور دوسروں کی گم راہی کا بھی سبب بنے۔ اس کے سدِّ باب کے آخری ذریعے کے طور پر سزاے مرتد متعین کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو اپنے دین کو تبدیل کرلے (یعنی اسلام سے پھر جائے) اسے قتل کردو‘‘۔(بخاری، کتاب الجہاد، باب لایعذب بعذاب اللّٰہ) 

دین کی حفاظت کا تعلق صرف مرتد اور بدعتی کے حوالے سے ہی نہیں، بلکہ کفار و مشرکین کے حوالے سے بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ ان میں سے جو لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ ہوں ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ دین کی حفاظت ہے، تاکہ کفر و شرک اور باطل ادیان غالب ہوکر مسلمانوں کے لیے فتنے کا باعث نہ ہوں۔وَاقْتُلُوھُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوھُمْ وَأَخْرِجُوھُمْ مِّنْ حَیْْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرہ ۲: ۱۹۱)، ’’ان سے لڑو جہاں بھی تمھارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انھیں نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ بُرا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ بُرا ہے‘‘۔ حفاظت دین کے مفہوم میں شعائر دین ، مساجد، جماعت، سنت کی حفاظت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے۔

  • جان کی حفاظت:کرۂ ارضی کی ساری آبادی ، یہاں کی بہاریں اور سرگرمیاں انسانوں کے دم سے ہیں اور ان کی زندگی کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ایک دوسرے کی جان کے درپے نہ ہوں، ورنہ یہ دنیا ویران ہوجائے گی اور یہاں کی ساری رونق جاتی رہے گی۔ اسی لیے اسلام میں ایک آدمی کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ اس کا عمل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس کا دل حیاتِ انسانی کے احترام سے خالی ہے۔ لہٰذا وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا ہو۔ انسانی جان کی قدر و قیمت کا تقاضا ہے کہ آدمی خود بھی اپنی جان کو ختم کردینے کے درپے نہ ہو ۔ اس لیے اسلام میں خود کشی حرام ہے۔ ارشاد ربانی ہے: وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا (النساء ۴:۲۹)’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمھارے اوپر مہربان ہے‘‘۔

حفاظتِ جان کے مدِّنظر ہی شریعت میں قصاص کے احکام دیے گئے ہیں، جس میں نہ صرف جان کے بدلے جان کی دفعہ بیان کی گئی ہے، بلکہ معمولی چوٹ اور زخم ، حتیٰ کہ تھپڑ پر بھی قصاص کو مشروع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَکَتَبْنَا عَلَیْْھِمْ فِیْھَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ (المائدہ ۵:۴۵)، ’’اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کردی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت، اور زخموں کا بھی برابر کا بدلہ ہے‘‘۔

ساتھ ہی قصاص کو انسانوں کے لیے حیات بخش قرار دیا گیا ہے: وَلَکُمْ فِیْ الْقِصَاصِ حَیوٰۃٌ یٰـآولِیْْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَo (البقرہ ۲: ۱۷۹)،’’عقل و خرد رکھنے والو، تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے‘‘۔

  • نسل کی حفاظت: نسل کی حفاظت در حقیقت نوع انسانی کی حفاظت ہے، کیوں کہ دوسری صورت میں انسانی معاشرہ خلفشار کا شکار ہوجائے گا ۔ شریعت کی نگاہ میں ضروری ہے کہ ہربچہ اپنے والدین کی نگرانی میں تربیت پائے اور وہی ان کا وارث بنے۔ یہ مقاصد چونکہ صرف ازدواجی زندگی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام میں نکاح کو مشروع قرار دیا گیا ہے اور دیگر ہر طرح کے جنسی تعلقات کو حرام کیا گیا ہے اور ان پر حد مقرر کی گئی ہے۔ (النور ۲۴:۲)

حفاظتِ نسل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی کے نسب کو متہم کیا جائے نہ بغیر پختہ ثبوت کے اس پر زنا کا الزام لگایا جائے، کیوں کہ اس صورت میں نسب کے تعین میں شبہہ پیدا ہوگا اور پیدا شدہ بچے کے مصالح فوت ہوں گے، نیز متہم شخص کی سماجی زندگی متاثر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُھَدَاء فَاجْلِدُوھُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَھَادَۃً أَبَداً  (النور ۲۴:۴)، ’’اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں اگر وہ چار گواہ نہ لاسکیں تو انھیں ۸۰ کوڑے مارے جائیں اور ان کی گواہی ہمیشہ کے لیے ناقابل اعتبار سمجھی جائے‘‘۔

  • مال کی حفاظت : مال زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ اس کے بغیر انسان کو خوراک ، لباس اور مکان کے سلسلے میں کوئی چارہ نہیں۔ مال نہ ہو تو آدمی غربت و افلاس کا شکار ہوجائے۔ اس لیے شریعت نے مال کمانے، رکھنے اور خرچ کرنے کے ساتھ اس کو چوری ، غصب اور ڈاکا زنی سے محفوظ رکھنے کے احکام دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ اَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ (النساء ۴:۲۹)، ’’اے ایمان والو، ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ کوئی مال باہمی رضامندی سے تجارت کے ذریعے حاصل ہوجائے ‘‘۔

ناجائز طریقے سے دوسرے کا مال کھانے کے مفہو م میں ہر وہ طریقہ شامل ہے جو شریعت اور عرف عام میں ناجائز ہو، چاہے وہ عیاں ہو یا خفیہ ۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جس نے چوری کا مال خریدا، یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا ما ل ہے، وہ اس کے گناہ اور برائی میں شریک ہوا‘‘   (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر للمناوی، ج۶، ص ۶۴)۔ حفاظتِ مال کی غرض سے شریعت اسلامیہ میں چوری اور ڈاکا زنی کی سزا متعین کی گئی ہے۔ (المائدہ: ۳۳، ۳۸)، اور سود، جوا،  ناپ تول میں کمی بیشی، بیع، غرر ، ذخیرہ اندوزی اور وہ تمام طریقے حرام قرار دیے گئے ہیں جن سے کسی فرد کو مالی نقصان لاحق ہوسکتا ہے۔

  •  عقل کی حفاظت:عقل کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایسی چیزوں سے بچایا جائے جو انسان کے فتور کا باعث ہوں، اسے آفتوں میں مبتلا کردینے والی ہوں اور ان کی وجہ سے وہ اذیت میں مبتلا ہو۔ چنانچہ شریعت میں شراب اور دوسری تمام نشہ آور اشیا حرام ہیںاور ان کے استعمال پر سزا نافذ کی جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من شرب الخمر فاجلدوہ ، ’’جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے لگاؤ‘‘۔(مسند احمد ، ج۲، ص ۱۶۶، ابوداؤد، کتاب الحدود، ترمذی، کتاب الحدود)

شریعت کے یہی وہ پانچ مصالح ہیں جنھیں ’مصالحِ ضروریہ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کی حفاظت کو شریعت نے لازم قرار دیا ہے اور ان کو پامال کرنے والے کے خلاف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:’’ان پانچ اصولوں کی حفاظت ضروریاتِ انسانی میں شمار ہوتی ہیںاورمصالح خلق کا یہ اعلیٰ ترین درجہ ہے… ان مصالح کی حفاظت کی تاکید دنیاکے ہرمذہب اور مہذّب سوسائٹی نے کی ہے‘‘۔(المستصفٰی فی علم الاصول، الغزالی، ج۱، ص ۲۸۷- ۲۸۸)

علامہ ابواسحاق الشاطبیؒ ان مصالح کی اہمیت سے متعلق لکھتے ہیں:’’دین و دنیا کے مصالح کے قیام کے لیے یہ ضروری ہیں۔ اگر یہ مفقود ہوں تو سلامتی کے ساتھ مصالح دنیا قائم نہیں رہ سکیں گے، بلکہ انسانی زندگی میں فساد اور خلفشار رونما ہوگا اوراُخروی زندگی میں نجات و کامیابی سے محرومی ہاتھ آئے گی، جو سراسر نقصان اور خسران ہے‘‘۔(الموافقات فی اصول الشریعۃ، ج۲، ص۸)

۲- مصلحتِ حاجیہ

مصلحت کی دوسری قسم، جس کی شریعت نے رعایت کی ہے، مصلحتِ حاجیہ ہے۔ اس سے مراد وہ مصلحت ہے جس کی رعایت سے انسانی زندگی میں سہولت پیدا ہو اور عدمِ رعایت سے تنگی اور مشقت لاحق ہو، مگر اس درجے میں نہ ہو، جیسا کہ مصالح ضروریہ کے فوت ہونے سے لاحق ہوتی ہے۔ امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:’’حاجیات کے معنیٰ یہ ہیں کہ ان کی ضرورت توسّع کے حصول اور تنگی کے ازالے کے مقصد سے ہوتی ہے کہ اگر وہ پوری نہ ہوں تو حرج اور مشقت لاحق ہو اور اگر ان کی رعایت ملحوظ نہ رکھی جائے تو مکلّف افراد فی الجملہ حرج اور مشقت میں مبتلا ہوجائیں، مگر وہ      اس درجے میں نہ پہنچے کہ ان سے فساد روٗنما ہو، جیسا کہ مصالحِ ضروریہ کے نہ پائے جانے سے  فساد رُونما ہوتا ہے‘‘۔(ایضاً، ۲/۱۰-۱۱، المستصفٰی،ج ۱، ص۲۸۹-۲۹۰)

اس تعریف کی روشنی میں علما نے مصلحت ِحاجیہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں: حاجیہ اصلیہ، حاجیہ مکمّلہ۔ یہ دونوں قسمیں تمام احکام، عبادات، معاملات، عادات اور جنایات میں موجود ہیں۔ عبادات میں مصلحت حاجیہ کی رعایت کی مثال احکام کی تعمیل میں رخصتوں کی موجودگی ہے، جیسے مجبور کے لیے کلمۂ کفر کہنے، اضطراری حالت میں مردار کھانے، پانی کی عدم موجودگی یا مرض کی صورت میں تیمم کرنے اور حیض و نفاس کی حالت میں نماز ترک کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔ اسی طرح مریض ، مسافر، حاملہ اور مُرضعہ (بچے کو دودھ پلانے والی عورت)کو روزے دوسرے ایام میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

معاملات میں مصلحت ِحاجیہ کی مثالوں میں کم سن بچی کے نکاح کے انعقاد کے لیے ولی کی شرط، خریدو فروخت ، اجارہ، مساقاۃ اور قرض کے لین دین کے معاملات کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز مصلحتِ ضروریہ میں سے نہیں ہے کہ اس پر عمل نہ کرنے سے انسان کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہوں، مگر زندگی کی بقا کے لیے یہ چیزیں ضروری ہیں۔ عادات میں مصلحتِ حاجیہ کی مثال شکار کا جائز ہونا اور کھانے پینے میں پاکیزہ چیزوں سے لطف اندوزی کا درست ہونا ہے۔

یہ مثالیں مصلحتِ حاجیہ اصلیہ کی ہیں۔ مصلحتِ حاجیہ مکمّلہ کی مثالوں میں مسافر اور مریض کے لیے دو نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرنے اور حالتِ سفر میں قصر کی اجازت ، صغیرہ کے نکاح میں کفو کی رعایت، مہر مثل، قرض و رہن میں گواہی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

۳- مصلحتِ تحسینیہ

مصلحت کی تیسری قسم تحسینیہ ہے۔ اس سے مراد وہ مصلحت ہے جس کی رعایت سے احکام و اعمال میں حسن او رخوبی پیدا ہو اور عقلِ سلیم اس کا تقاضا کرے، لیکن عدمِ رعایت سے حرج اور  تنگی پیدا نہ ہو۔ یہ مصلحت بھی عبادات، معاملات ، عادات اور جنایات میں پائی جاتی ہے۔ اس کی مثالیں یہ ہیں: نجاست کو زائل کرنا، پردہ کرنا، زیب وزینت اختیار کرنا، صدقہ و خیرات کرنا،  کھانے پینے میں آداب ملحوظ رکھنا، غیر پاکیزہ چیزیں کھانے سے پرہیز کرنا، اسراف اور فضول خرچی سے بچنا، گندگی کی خرید و فروخت سے منع کرنا یا زائد پانی یا گھاس سے روکنا، غلام کو گواہی اور  امامت و خلافت کے لیے نااہل قرار دینا۔ اسی طرح عورت کو امامت کے لیے نااہل قرار دینا، یا  اس کے ازخود نکاح کرنے کی ممانعت، یا غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرنے کی ممانعت، یا جہاد میں بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو مارنے کی حرمت وغیرہ۔ (الموافقات، ج ۱، ص ۱۱-۱۲)

اُخروی مصلحت کے حوالے سے ایک بات یہ بھی جاننی چاہیے کہ اس میں رضاے الٰہی کا حصول، جنت میں داخلہ اور جہنم کی آگ سے نجات کے ساتھ تزکیہ و تربیت ِنفس، تہذیبِ اخلاق ، عبادات پر مشقتوں کی برداشت کی تربیت اور قواے شہوانیہ و غضبیہ پر کنٹرول وغیرہ مطلوب و مراد ہیں۔

مصالح کی تینوں قسموں میں مصلحت ِضروریہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور باقی دونوں قسمیں اس کی تابع ہیں۔ اگر مصلحت ِضروریہ مفقود ہوگی تو بہ درجہ اولیٰ مصلحت ِحاجیہ و مصلحت ِتحسینیہ بھی مفقود ہوں گی، لیکن اس کے برعکس کا وقوع لازم نہیں۔ مصالح کے حوالے سے دوسری اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ خواہشاتِ نفسانی کی تابع نہیں ہیں، یعنی خواہشِ نفس کو مصلحت قرار  نہیں دیا جاسکتا، کیوں کہ شریعت اسی لیے آتی ہے کہ لوگوں کو ہواے نفس کی جکڑبندیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف لائے۔ (الموافقات، ج ۲، ص ۳۷-۳۸)

مصالحِ دین انھی اقسام میں محدود نہیں ہیں: دین میں مصالح اور حکمتوں کی تشریح میں علما نے عام طور پر انھی پنج گانہ مصالح کا تذکرہ کیا ہے اور ان میں تین درجات (ضروریہ، حاجیہ اور تحسینیہ) قائم کیے ہیں۔ مگر بعض علما نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصالحِ دین انھی اقسام میں محدود و محصور نہیں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی مصالح کی اقسام میں توسیع کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے امام ابن تیمیہؒ اورابنِ قیمؒ کے اقوال نقل کیے ہیں۔

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ مصالح مرسلہ کو جان، مال، عزت و آبرو، عقل اور دین کے تحفظ میں محصور کردیتے ہیں، مگر ایسا کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ مصالح مرسلہ یہ ہیں کہ منافعے حاصل کیے جائیں اور مضرتیں دور کی جائیں … دنیا میں (جلب منفعت کی مثال) وہ معاملات اور سرگرمیاں ہیں جن میں عامۃالناس کی بھلائی مضمر ہو، خواہ ان سے متعلق کوئی حد شرعی مقرر کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو، اور دین میں (جلب منفعت کی مثال) وہ احوال و معارف، عادات اور زہد کی باتیں ہیں جن میں انسانوں کی بھلائی مضمر ہے جس سے شریعت نے منع نہ کیا ہو۔ جن لوگوں نے مصالح کو  ان سزاؤں سے وابستہ کردیا جو فساد کو دور رکھنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں یا جو اموال یا جسم انسانی کو محفوظ رکھنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان میں انھوں نے کوتاہی برتی ہے‘‘۔(مقاصد شریعت، ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ص۳۰)

ڈاکٹر موصوف نے روایتی فہرست میں اضافے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے: ’’ایک خیال یہ بھی ہے کہ مقاصد کی روایتی فہرست پنج گانہ دین، جان، عقل، نسل اور مال میں خود اتنی وسعت ہے کہ بہت سے نئے مقاصد اسی فہرست میں داخل سمجھے جاسکتے ہیں۔ مثلاً عدل و انصاف دین میں اور ازالۂ غربت اور کفالت ِعامہ حفظ جان میں شامل سمجھے جاسکتے ہیں۔ ہمیں دو وجہوں سے اس فکر و سوچ سے اتفاق نہیں ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ، جیسا کہ ابنِ تیمیہ نے کہا ہے کہ مقاصد شریعت کے بیان میں تحفظ سے آگے بڑھ کر ترقی دینے اور بڑھوتری کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ روایتی فہرست میں سارا زور دفع مضرت پر ہے، جلب منفعت کا پہلو دب گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی اور قومی سطح کے مسائل میں ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول، کائنات کے قدرتی وسائل کا بچاؤ، عمومی اور کُلّی تباہی مچانے والے اسلحوں کے استعمال اور ان کی پیداوار پر پابندی اور موجودہ نیوکلیائی ہتھیاروں، نیز کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحوں کا تلف کیا جانا، اور اقوام عالم کے باہم امن و چین سے رہ سکنے کے دوسرے تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ بہتر ہے کہ ان امور سے مناسبت رکھنے والی اسلامی تعلیمات کو اہمیت کے ساتھ پیش کیا جائے‘‘۔(ایضاً، ص۳۸-۳۹)

موصوف نے روایتی فہرست میں درج ذیل مصالح کے اضافے کی تجویز رکھی ہے اور ان پر قرآن و حدیث سے دلائل دیے ہیں: ۱- انسانی عز وشرف، ۲- بنیادی آزادیاں، ۳- عدل وانصاف، ۴- ازالۂ غربت اور کفالت ِعامّہ، ۵- سماجی مساوات اور دولت وآمدنی کی تقسیم میں  پائی جانے والی ناہمواری کو بڑھنے سے روکنا، ۶- امن و امان اور نظم و نسق، ۷- بین الاقوامی سطح پر باہم تعامل و تعاون۔(ایضاً، ص۳۹)

مصالحِ دین اور عقل

احکامِ دین میں مصالح اور حکمتوں کی دریافت عقل کرتی ہے، لیکن بعض اوقات عقل کی بنیاد پر شریعت کا حکم بھی مستنبط کیا جاتا ہے۔ جیساکہ معلوم ہے کہ شریعت کا چوتھاماخذ قیاس ہے،اس میں مسئلہ زیر بحث سے متعلق نص نہ ہونے کی وجہ سے عقل کی بنیاد پر شریعت کا حکم معلوم کیا جاتا ہے۔ جمہور فقہا نے قیاس کو شریعت کی ایک اصل قرار دیا ہے (الموسوعۃ الفقھیۃ، ج۳۴، ص۹۱)۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر عقل کی بنیاد پر دیے گئے مشوروں کو قبول فرمایا ہے۔۳؎  اسی طرح صحابہ کرامؓ اور تابعین عظام نے قیاس و عقل سے شریعت کے احکام وضع کیے ہیں ۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: شرعی احکام میں متعلق و مطلوب حکم کی تحقیق کے بارے میں مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ شریعت میں حکم بمعنی عام کی تعلیق کی جائے گی (یعنی اس کے مصداق کی تحقیق کی جائے گی) اور افراد پر حکم کے اطلاق یا کسی خاص نوع میں اثبات کے لیے غورو فکر کیا جائے گا‘‘۔(منہاج السنۃ النبویۃ،ج ۶،ص ۴۷۴)

امام موصوف آگے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’مختلف امور، جیسے انصاف کرنا، یا استقبال کعبہ یا جیسے شراب، جوا، مردہ، خون اور خنزیر کے حرام ہونے سے متعلق قرآن و حدیث میں عام حکم ہے، مگر شخص خاص سے متعلق طے کرنا کہ اس نے احکام کی خلاف ورزی کی یا نہیں، یا فلاں چیز حرام کردہ اشیا کی تعریف میں آتی ہے یا نہیں؟ یہ سب باتیں قیاس کے ذریعے ہی طے کی جاتی ہیں‘‘۔ (ایضاً)

احکام پر عمل حکمتوں کے جاننے پر موقوف نھیں

بلاشبہہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دین مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہے، مگر احکام دین پر عمل حکمتوں کے جاننے پر موقوف نہیں ہے، کیوں کہ عقل انسانی محدود ہے اور ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام حکمتوں کو جان لے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں: احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں، جب کہ وہ صحیح روایت سے ثابت ہوجائیں، ان کی مصلحتوں کے جاننے تک توقف کرنا جائز نہیں۔ کیوںکہ بہت سے انسانوں کی عقلیں بہت سی حکمتوں کو بطور خود نہیں سمجھ سکتیں اور نبی کریم ؐ کی ذات ہمارے نزدیک ہماری عقلوں سے کہیں زیادہ قابل اعتمادہے۔(حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ص۶)

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کا عطا کردہ دین بندوں کے دینی و دنیاوی مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر او رکوئی طریقہ انسانوں کے لیے مفید اور انجام کے اعتبار سے قابل اطمینان و موجب فلاح و نجات نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس دین کو ترک کرنا اور اس کو ازکار رفتہ قرار دینا انسان کی نادانی پر مبنی ہے، جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

حواشی

۱-            مثال کے طور پر دیکھیے: محاسن الشریعۃ، امام محمد بن اسماعیل (م:۳۶۵ھ)، محاسن الاسلام، ابوعبداللہ بن عبدالرحمن البخاری (م:۳۴۶ھ)، الاعلام بمناقب الاسلام، ابوالحسن العامری (م:۳۸۱ھ)، حجۃ اللّٰہ البالغہ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م:۱۱۷۶ھ)۔

۲-            منھاج السنۃ النبویۃ، ابن تیمیہ، تحقیق الدکتور محمد رشاد سالم ، ادارۃ الثقافۃ والنشر، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، سعودی عرب ، ج۱، ص ۱۴۱۔ امام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے کہ بعض منکرین قیاس اور ایک دودیگر لوگ احکام میں علّت و حکمت کاانکار کرتے ہیں، ورنہ جمہور امت اس کے قائل ہیں۔

۳-            آپؐ نے بعض جنگوں میں میدان جنگ کے انتخاب میں بعض صحابہؓ کے مشورے کو قبول فرمایا۔ ایک صحابیؓ کے مشورے سے آپؐ نے انگوٹھی میں محمدؐ رسول اللہ کا نام کندہ کرایا اور اس کو مہر کے طورپر استعمال کیا۔ اذان کا طریقہ بھی مشورے کی بنیاد پر طے کیا گیا۔ پیاز اور لہسن کھاکر مسجد میں آنے کی ممانعت ایک ضرر کی وجہ سے کی گئی ۔ جمعہ کے دن غسل پسینے سے پیدا ہونے والی بدبو سے بچنے کے لیے مشروع کیا گیا، وغیرہ۔

 

آج کل ’مذاہب کے درمیان مکالمہ‘ (dialogue) کا خاص چرچا ہے۔ اس کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مذاہب کے درمیان قربت بڑھے، غلط فہمیوں کا ازالہ ہو، ان کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ دُور ہوں اور وہ ایک دوسرے سے قریب آئیں۔ اس سلسلے میں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔ مذاکرے اور سیمی نار ہورہے ہیں اور بھی مختلف سطحوں سے کوشش ہو رہی ہے۔ اس تگ و دو کے پیچھے جو ذہن کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان اختلافات حقیقی نہیں ہیں، سب کی اصل ایک ہے، سب روح کی تسکین اور اپنے خالق و معبود کی رضا چاہتے ہیں۔ انسانوں کی بھلائی اور خیرخواہی ان میں سے ہرایک کے پیش نظر ہے۔  ظلم و زیادتی اور جبروتشدد کو سب ہی غلط باور کرتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف کا رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے درمیان بناے اختلاف کم ہے اور اتحاد کی بنیادیں زیادہ ہیں۔ یہ بات جب بڑھتی ہے تو وحدتِ ادیان کے تصور تک پہنچتی ہے کہ منزل سب کی ایک ہے، البتہ راہیں جدا ہیں۔ اسی کی تبلیغ و اشاعت کے لیے یہ کوششیں ہورہی ہیں۔ یہ ایک مہمل اور بے بنیاد تصور ہے۔ جو لوگ وحدتِ ادیان کی بات کرتے ہیں وہ ان کی بنیادی تعلیمات سے صرفِ نظر کر رہے ہیں۔

مذاھب کے درمیان اختلاف

یہ ایک حقیقت ہے کہ مذاہب کے درمیان اختلافات ہیں اور بنیادی اختلافات ہیں،  اس لیے ان کو ایک زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اس معاملے میں اسلام کا موقف یہ ہے کہ اسلام ہی ہمیشہ سے اللہ کا دین رہا ہے، اسی کی تعلیم ہر دور میں ہر پیغمبر نے دی، لیکن ان کی تعلیم اصل شکل میں باقی نہیں رہی، زمانہ گزرنے کے ساتھ ان میں تحریف ہوتی چلی گئی۔ اللہ کا یہی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری بار نازل ہوا۔    آپ سلسلۂ رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپؐ پر جوکتاب نازل ہوئی وہ قرآن مجید ہے اور وہ  پوری طرح محفوظ ہے۔ آپؐ  کی سیرت اور قول و عمل سے اس کی تشریح ہوتی ہے۔ اب دنیا و آخرت کی فوز وفلاح اسی کتاب سے وابستہ ہے، اس کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یہ باتیں قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ ارشاد ہے:

قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا (الاعراف ۷:۱۵۸) (اے پیغمبرؐ!) کہہ دو کہ اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ o (السبا۳۴: ۲۸) ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے ’بشیر و نذیر‘ بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری رسول اور خاتم النبیینؐ ہونے کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا:

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِـیّٖنَ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا o (احزاب ۳۳:۴۰) محمد (ـصلی اللہ علیہ وسلم) تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور ’خاتم النبیین‘ ہیں اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

دنیا کے تمام انسانوں کو آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی اور کہا گیا کہ اسی میں ’خیر‘ ہے۔ کفر کا راستہ اختیار کر کے انسان اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، خود ہی نقصان میں رہے گا:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْط وَ اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط  وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا o (النساء ۴:۱۷۰) اے لوگو! تمھارے پاس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمھارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے۔ پس تم (اس پر) ایمان لے آئو، اسی میں تمھارے لیے خیر ہے لیکن اگر کفر کرو گے تو (یاد رکھو) کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

مذہب کے اساسی عقائد کا انسان کی پوری زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ اس سے پورا نظامِ عمل اور طریقۂ حیات وجود میں آتا ہے۔ ہر مذہب کی عبادات اس کے عقیدے کی تابع ہوتی ہیں۔ عقیدے کی بنیاد پر تہذیب ومعاشرت وجود میں آتی ہے۔اسی کے تحت شادی بیاہ، پیدایش اور موت تک کے رسوم انجام پاتے ہیں۔ کاروبار اور لین دین کے طریقے اور مختلف افراد اور طبقات کے حقوق و فرائض طے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مذہب عقیدہ کے ساتھ اس سے ہم آہنگ اخلاقیات اور قانون بھی رکھتا ہے۔ اسے اس کا ’نظام شریعت‘ کہا جاسکتا ہے۔ اسی سے اس کی انفرادیت قائم ہوتی ہے اور وہ پہچانا جاتا ہے۔

قرآن مجید کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کواصولِ دین کے ساتھ حسبِ حال اور حسبِ ضرورت شریعت اور قانون بھی دیا تھا۔ اس نے مختلف مواقع پر توریت اور انجیل کے بعض قوانین کا ذکر بھی کیا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے تھے اور جن کی پابندی کا ان سے عہد لیا گیاتھا۔ اس نے بعض دوسرے پیغمبروں کی شریعتوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یہ شریعتیں اپنے وقت اور ماحول کے لیے تھیں۔ آخری رسول اور آخری شریعت کے آنے کے بعد وہ منسوخ ہوگئیں۔ مذاہب کے ماننے والوں کو وہ نجی زندگی میں اپنی شریعت پر عمل کی اجازت دیتا ہے، لیکن اپنے دائرۂ اختیار میں آخری شریعت کو نافذ کرتا ہے:

ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَo (الجاثیہ۴۵:۱۸) (اے نبیؐ!) ہم نے آپ کو دین کے معاملے میں ایک شریعت دے دی۔ اب آپ اس کی اتباع کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں جو جانتے نہیں ہیں۔

احسن انداز میں مباحثہ

مذاکرہ یا مباحثہ دو مقاصد کے تحت ہوتا ہے۔ ایک مقصد ہے حق و صداقت کی تلاش،  بحث و تمحیص کے ذریعے ’حق‘ کو جاننے کی کوشش۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ نظریات اور عقائد کی  صحت و عدم صحت سے بحث نہ کی جائے، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سی مشترک اقدار ہیں جن پر سب کو اتفاق ہوسکتا ہے۔ اسلام اس مجادلہ کا قائل نہیں ہے۔ وہ ایک دعوت ہے اور بحث و مباحثے کے ذریعے اس کی حقانیت واضح کرنا چاہتا ہے۔

قرآن مجید کا براہِ راست خطاب مشرکینِ عرب اور اہلِ کتاب سے تھا۔ سورئہ نحل میں مشرکین عرب کے سیاق میں حکم دیا گیا:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَo (النحل۱۶:۱۲۵) اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ تمھارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے۔

اس آیت میں صاف الفاظ میں اللہ کے راستے کی طرف بلانے، یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کی دعوت کا حکم ہے۔ اس کے لیے حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ ’ جدال احسن‘ کا طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔ ’ حکمت‘ یہ ہے کہ عقلی دلائل کے ذریعے اللہ کے دین کی دعوت دی جائے۔ موعظۂ حسنہ میں تذکیر اور وعظ و نصیحت کا پہلو ہے۔ ’ جدال بہ طریق احسن‘ یہ ہے کہ بہتر طریقے سے گفتگو ہو، شکوک و شبہات رفع کیے جائیں اور اس کے موقف کو بہتر طریقے سے سمجھا جائے۔

مشرکینِ عرب سے اسلام کا اختلاف بنیادی عقائد میں تھا۔ اسلام توحید کا علم بردار ہے۔ کائنات او رانسان کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر اسی عقیدۂ توحید سے نکلتا ہے۔ مشرکین عرب کے ہاں خدا کا تصور تھا، لیکن وہ آلودۂ شرک تھا۔ وہ اسلام کے تصور توحید کو قبول کرنے کے لیے تیار    نہ تھے۔ اسلام وحی و رسالت کا قائل ہے، مشرکین کے لیے یہ تصور اجنبی سا ہو کر رہ گیاتھا، وہ  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ماننے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ آخرت اور جزاے عمل کا ہے، لیکن وہ حیات بعد الموت کو کسی طرح قبول نہیں کررہے تھے اور    خدا کے قانونِ عدل کے مقابلے میں انھیں اپنے معبودان باطل کی سفارش پر تکیہ تھا۔

اس ماحول میں اسلام نے شرک کی ہر پہلو سے تردید کی اور ثابت کیا کہ اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ یہ انسان کی عقل اور اس کی نفسیات کے خلاف ہے۔ اس کے نتائج دنیا میں بھی    تباہ کن ہیں اور آخرت میں بھی ہلاکت کا باعث ہوں گے۔ مشرکین عرب سے اس نے جس طرح گفتگو کی اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہاں پیش کی جارہی ہے:

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْہِ شُرَکَآئُ مُتَشٰکِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ط ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَــلًا ط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ o (الزمر ۳۹:۲۹) اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خُلق آقا شریک ہیں جو اُسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کاغلام ہے ۔ کیا اِن دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟ ___ الحمدللہ ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔

قرآن مجید نے اپنے موقف پر تاریخ سے استدلال کیا۔ اس نے کہا: دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جتنے رسول آئے سب نے توحید کی تعلیم دی اور شرک کی تردید کی، رسالت اور آخرت پر ایمان کی دعوت دی، اس کے انکار کے نتائج سے آگاہ کیا۔ مشرک قوموں نے ان کی سخت مخالفت کی اور ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا، لیکن انھوں نے صبر و ثبات کے ساتھ اسے برداشت کیا۔ اللہ کے ان رسولوں کی اس سلسلے میں اپنی قوموں اور ان کے سرداروں سے جو گفتگوئیں ہوئیں اور جو مباحثے اور مکالمے ہوئے وہ بھی اس نے تفصیل سے پیش کیے۔ یہ مباحثے ’جدال احسن‘ کا بہترین نمونہ ہیں۔ یہ تلاش حقیقت کے لیے نہیں، بلکہ اثبات حق کے لیے تھے۔

مشرکین عرب کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسلی تعلق تھا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد اور خانۂ کعبہ کے محافظ ہونے کی وجہ سے سارے عرب میں ان کو عزت اوروقار حاصل تھا۔ قرآن مجید نے بتایا کہ حضرت ابراہیم ؑ توحید کے علم بردار تھے، اسی کی دعوت لے کر وہ اُٹھے تھے۔ان کی مشرک قوم نے ان کی بدترین مخالفت کی اور دہکتی آگ میں انھیں ڈال دیا، لیکن اللہ نے انھیں صحیح سالم نکال لیا۔ انھوں نے اپنے وطن سے ہجرت کی اور مکہ میںخانۂ کعبہ کی تعمیر کی، اسے اللہ واحد کی عبادت کا مرکز قراردیا، جسے تم نے بت خانہ بنا رکھا ہے۔ تم ان کی اولاد ہو، پھر بھی دعوتِ توحید کی مخالفت کررہے ہو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے وقت کے بادشاہ، اپنے باپ اور اپنی قوم سے جو گفتگو یا مباحثے کیے ، قرآن مجید نے اسے بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس طرح اس ’جدال احسن‘ کی راہ دکھائی ہے جس کی اس نے اجازت دی ہے۔

قرآن مجید نے اہل کتاب سے بھی ’ مجادلہ‘ (بحث و مباحثہ)کی اجازت دی ہے۔ اس کے لیے بھی وہی شرط رکھی ہے جو مشرکین سے’مجادلہ‘ کے لیے ہے کہ یہ مجادلہ ’ بہ طریق احسن‘ ہونا چاہیے:

وَ لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ وَ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰھُنَا وَ اِلٰھُکُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ o (العنکبوت ۲۹: ۴۶) تم اہل کتاب سے مجادلہ نہ کرو، مگر مہذب طریقے سے، لیکن ان میں سے جو ظلم کی راہ اختیار کریں ان سے بحث سے اجتناب کرو اور کہو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں ان (تعلیمات) پر جو ہم پر نازل ہوئی ہیں اور ان پر بھی جو تم پر نازل ہوئیں۔ ہمارا اور تمھارا معبود ایک ہے، ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔

اہل کتاب اصولی طور پر توحید، وحی و رسالت، آخرت اور وہاں کی جزا و سزا کے قائل تھے۔ اس سلسلے میں ان کے اور مسلمانوں کے عقائد میں اشتراک تھا، لیکن ایک دوسرے پہلو سے ان کے درمیان فرق پایا جاتا تھا۔ وہ توحید کے قائل ہونے کے باوجود گرفتارِ شرک ہوگئے تھے۔ وحی و رسالت پر ایمان کے دعویٰ کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہیں کررہے تھے۔

اس آیت میں اہل کتاب سے مجادلے کی اجازت کے ساتھ اس کی بنیادیں بھی فراہم کردی گئی ہیں۔ وہ بنیادیں ہیں اللہ کے تمام رسولوں اور ان کی تعلیمات پر ایمان۔ اس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپؐ کی تعلیمات بھی شامل ہیں۔ مسلمانوں کا یہی موقف ہے کہ وہ تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں،ان کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اسی طرح تمھارا اور ہمارا خدا ایک ہی ہے،   اس لیے اس کے احکام کی اطاعت ہم سب کے لیے لازم ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم اس کے مطیعِ فرمان ہیں۔اس کے ہر حکم کو دل و جان سے قبول کرتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس میں اس بات کی ہدایت بھی ہے کہ اگر وہ اس کے لیے آمادہ نہیں ہیں تو تم اپنے ایمان و اسلام کااعلان کرکے الگ ہوجاؤ۔

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر میثاق بنی اسرائیل کا ذکر ہے اور بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ اللہ و احد کی عبادت کریں گے، ان کی زندگیوں میں نماز اورزکوٰۃ کا اہتمام ہوگا، اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کریں گے، والدین، رشتہ داروں اور معاشرے کے کم زور افراد ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کریں گے( اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیں گے)۔ گفتگو میں بدزبانی اور تلخ کلامی کا مظاہرہ نہ کریں گے( کسی کی دل آزاری نہ کریں گے)۔ ناحق کسی کا خون نہیں بہائیں گے، کسی کو اس کے گھر سے بے گھر نہیں کریں گے ، اللہ کے رسولوں پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت و حمایت کریںگے۔ (البقرہ ۲: ۸۳-۸۴، المائدہ ۵:۱۲)

قرآن مجید نے بتایاکہ بنی اسرائیل نے اس عہد و پیمان کی پابندی نہیں کی۔ قدم قدم پر اس کی مخالفت کرتے رہے۔ اس عہد کا لازمی تقاضا تھا کہ وہ اللہ کے رسولوں پر ایمان لاتے، مگر انھوں نے ان میں سے چند ایک کو مانا اور دوسروں کوماننے سے انکار کردیا۔ ان کے ہاتھ بعض رسولوں کے قتل تک سے رنگین رہے ہیں۔ (اٰل عمران۳: ۱۸۱-۱۸۲۔ النسائ۴: ۱۵۷)

ان سے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی نصرت و حمایت کا بھی عہد لیا گیا تھا، لیکن انھوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم اپنے پیغمبروں کے علاوہ کسی دوسرے پیغمبر کو نہیں مانیں گے۔ یہی نہیں، آپؐ سے عداوت ان کے سینوں میں پرورش پاتی رہی اور انھوں نے آپؐ کی مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ (البقرہ ۲: ۹۱، اٰل عمران ۳ :۸۱)

یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا پیشوا اور مقتدیٰ مانتے اور ان سے اپنا دینی رشتہ جوڑتے تھے۔ قرآن مجید نے بہت تفصیل سے حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم پیش کی اور بتایا کہ وہ ’مسلم حنیف ‘تھے اور ہر طرف سے کٹ کر اللہ واحد کی عبادت کرتے تھے۔ان کی زندگی ہر شائبۂ شرک سے پاک تھی۔ وہ خدا ے واحد کی عبادت و اطاعت کا پیغام لے کر اٹھے تھے اور زندگی بھر اسی کے لیے جدوجہد کی اور بے مثال قربانیاں دیں۔ آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعوت کو لے کر اٹھے ہیں ، اس لیے وہ ان کے قریب ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ سے تمھارا تعلق روایتی او ران کا تعلق حقیقی ہے:

مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَ ھٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ o (اٰل عمرٰن۳: ۶۷-۶۸)

ابراہیم ؑنہ یہودی تھا نہ عیسائی، بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔ ابراہیم ؑسے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنھوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبیؐ اور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ صرف اُنھی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں۔

مذھبی رواداری کا غلط تصور

اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جو لوگ آسمانی مذاہب کے ماننے والے ہیں انھیں ان کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایاجائے اور ان کے تقاضوں کی طرف انھیںتوجہ دلائی جائے اور دین حق ان پر واضح کیا ہے۔ یہ قرآنی طریقہ ہے۔ اس سے دعوت کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی پس منظر میں حسب ذیل آیت کو بھی دیکھنا چاہیے:

قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط  فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ o (اٰل عمرٰن۳: ۶۴) اے نبیؐ! کہو   اے اہلِ کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنالے۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں۔

اس آیت کو اس بات کی دلیل سمجھا جاتا ہے کہ مذاہب کے درمیان جو اقدار مشترک ہیں ان کی دعوت دی جائے۔ بناے اختلاف سے تعرض نہ کیا جائے، ہر ایک کو اس کے طریقہ پر عمل کی اجازت ہو، اس کے درست یا نا درست ہونے سے بحث نہ کی جائے۔ اسے مذاہب کے سلسلے میں ’رواداری‘ یا عدم تعصب جو بھی کہا جائے، اسلامی نقطۂ نظر نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اس سلسلے کی اسلامی تعلیمات او راس کے دعوتی مشن کے خلاف ہے۔ اس سے قطع نظر خود آیت سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اس میں اہل کتاب کے غلط طرز عمل پر تنقید کی گئی ہے اور انھیں اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔

اس میں اہل کتاب کو ’ کلمہ سوائ‘ کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ ’ کلمہ سوائ‘ توحید ہے، جو اہلِ کتاب اور مسلمانوں کے درمیان مشترک ہے اور جو تمام مذہبی کتابوں کی بنیاد ہے۔ لیکن توحید کے قائل ہوتے ہوئے بھی یہود نے حضرت عزیر کو ابن اللہ قرار دیا ۔ ہوسکتا ہے ان میں سے ایک طبقے کا    یہ عقیدہ ہو، لیکن یہود نے اس سے اپنی برأ ت ظاہر نہیں کی۔ اسی طرح نصاریٰ نے تثلیث کی راہ اختیار کی، جو توحید کے سراسر خلاف ہے۔

توحید کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ خداے واحد کی عبادت ہو اور کسی دوسرے کو خدائی کا مقام نہ دیا جائے ، جب تمھیں اس سے انکار نہیں ہے تو تمھاری عبادت شرک سے پاک ہونی چاہیے۔

اللہ واحد پر ایمان کے بعد اس کا کوئی جواز نہیں ہے کہ کسی دوسرے کو اپنا رب اور فرماں روا تسلیم کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ قانون دینے والا ہے اور اسی کے قانون کو بالادستی حاصل ہے، لیکن تم نے اپنے احبار و رہبان کو قانون سازی کا حق دے رکھا ہے۔ وہ جس چیز کو حلال کہیں وہ تمھارے نزدیک حلال ہے اور جسے حرام قرار دیں وہ تمھارے لیے حرام ہے۔ اس طرح تم نے احبار و رہبان کو ارباب کا مقام دے رکھا ہے (التوبۃ ۹:۳۱)اپنے اس غلط رویّے کو ترک کرکے تمھیں   خداے واحدکے احکام کی اتباع کرنی چاہیے۔ اگر تم اس کے لیے تیار نہیں ہو تو گواہ رہو کہ ہم    اللہ کے فرماں بردار اور اس کے احکام کے تابع ہیں۔یہ در حقیقت اسلام کی دعوت ہے۔ ہرقل  (شاہ روم) کو آپ نے جو مکتوب اسلام کی دعوت قبول کرنے کے لیے لکھا تھا اس میں اسی آیت کا حوالہ تھا۔ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن:ج۲، جزء ۴،ص۶۸)

باھمی تعاون کا دائرہ

حقیقت یہ ہے کہ مذاہب کے اختلافات فروعی نہیں اصولی ہیں، انھیں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی، لیکن اس کے باوجود بعض سماجی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے اہل مذاہب ہی نہیں، بلکہ تمام سماجی اور سیاسی گروہ مل جل کر کوشش کرسکتے ہیں۔

آج دنیا کے بیش تر ممالک میں مخلوط آبادیاں ہیں۔ ان کے درمیان مذہبی عقائد، مادی افکار و نظریات، تہذیب و معاشرت کا اختلاف ہے اور کہیں مادری زبان کا فرق بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ایک تکثیری سماج کا حصہ ہیں۔ اس پہلو سے ان کے مشترک مسائل بھی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی ضرورت ہے کہ ملک میں امن وامان ہو، فکر و عمل کی آزادی ہو،ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کام کے مواقع حاصل ہوں، انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو، عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے، غربت اور جہالت ختم ہو، طبی سہولتیں حاصل ہوں، صفائی ستھرائی کا اہتمام ہو اور فضائی آلودگی پر قابو پایا جائے۔ اس نوعیت کے اور بھی مسائل ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل پر قابو پانے کے لیے معاشرے میں بیداری لانے، ان کے حق میں فضا بنانے اور بسا اوقات قانونی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ان مسائل کا تعلق حکومت سے بھی ہے، اس کے لیے اسے متوجہ کرنا اور اس پر اثر انداز ہونا پڑتا ہے، اس کے لیے تکثیری معاشرے مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسی سے بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔

موجودہ مادہ پرست تہذیب نے اباحیت کو اس قدر فروغ دیا ہے کہ انسان اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے کوئی بھی بندش گوارا نہیں کرنا چاہتا۔ ہر طرف بے حیائی اور عریانی کی فضا ہے، بدکاری عام ہورہی ہے اور نشہ آور چیزوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں خاندان انتشار اور تباہی کا شکار ہورہے ہیں اور طرح طرح کے امراض پھیل رہے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب بے حیائی، زنا اور منشیات کے استعمال کو صحیح نہیں سمجھتا۔ اس کے خاتمے کے لیے مشترک کوشش ہونی چاہیے۔

مذاہب کے درمیان ایک قدر مشترک اخلاقیات ہے۔ صداقت اور راست گوئی، عفت و عصمت، دیانت و امانت، باہم اُلفت و محبت ، رشتوں کا احترام، غریبوں، ناداروں، مریضوں اور معذروں کے ساتھ ہم دردی اور ان کی خبر گیری، تعصب او ر نفرت سے اجتناب، کسی کے حق پر  دست درازی اورظلم و زیادتی کا خاتمہ، اس طرح کی اخلاقیات کی اہمیت تمام مذاہب تسلیم کرتے ہیں اور ان کے مخالف رویّے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ اس کے لیے کہیں کہیں کوشش بھی ہوتی ہے۔ اسلام معاشرے میں اخلاق کو فروغ دینا چاہتا ہے، اس کے لیے اس کا اپنا ایک طریقہ اور لائحۂ عمل بھی ہے، لیکن اس کے ساتھ اخلاق کو عام کرنے کی جو کوشش ہو اس میں وہ اپنے اصول کے تحت شریک ہوسکتا ہے اور اس کے لیے مشترکہ جدوجہد بھی کرسکتاہے۔

اقامت ِ دین تمام فقہاے اسلام کے نزدیک متفقہ اور مسلّمہ فریضہ ہے۔ اس میں اختلاف اور تفرقہ حرام ہے۔ جس طرح دین کی تبلیغ، ہماری ذمہ داری ہے، دین کے احکامات پر انفرادی اور اجتماعی طور پر عمل درآمد بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داریاں ہم نے ازخود نہیں لیں بلکہ    ربِ کائنات جس نے ہم کو عدم سے وجود بخشا، وہ ہمارا مالک اور حقیقی ولی ہے، وہی اس کا حق رکھتا ہے کہ وہ انسانی پیدایش کا مقصد بتائے اور اس کے لیے ضابطہ اور قانون بنائے۔ اس نے ہمیں انبیا ؑکا وارث قرار دیا ہے۔ اس نے انبیا ؑکی بعثت کا مقصد اقامت ِ دین کو قرار دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا، لہٰذا یہ فریضہ اُمت مسلمہ کے سپرد کیا گیا۔ اس طرح ازخود  اقامت دین ہماری زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ مقصدِ زندگی قرار دینے کے بعد یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے مقصد زندگی کا صحیح شعور حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنے اندر مطلوبہ اخلاق، اوصاف اور استعداد پیدا کریں۔

اقامت دین کی فرضیت سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے قرآن حکیم اور نبی صلی اللہ  علیہ وسلم کا اسوہ جو درحقیقت ایک ہی چیز کے دو عنوان ہیں، کا جائزہ لینا ہوگا۔ فرق صرف علم اور عمل کا ہے۔ قرآن اللہ کے دین کو علمی صورت میں پیش کرتا ہے اور اسوئہ و سیرت اس کو عملی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ فقہ میں دونوں کو کتاب و سنت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے بعد صحابہ کرام اور تابعین اور تاریخِ اسلام کے بزرگوں کی سیرت و خدمات اور قربانیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

دین کسے کھتے ھیں؟

قرآن حکیم کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ۴۰ سورتوں میں دین کا ذکر آیا ہے۔ تفصیل یہ ہے: ان آیات میں دین کو دین اللّٰہ دو جگہوں پر کہا گیا: الدین الحق پانچ جگہوں پر، یوم الدین ۱۳جگہوں پر، الدین القیم تین مرتبہ آیا۔ دین القیمہدو جگہوں پر، مخلصین لہ الدینچھے مقامات پر، مخلصا لہ الدینتین جگہوں پر، اخلصوا دینھم، النساء میں اتخذوا دینکم ھذوا ولعبا، المائدہ میں اتخذو دینھم لھوا، الانعام میں اتخذوا دینھم لھوا، الاعراف میں ایک ایک مرتبہ آیا ہے۔ مجموعی طور پر ۹۴ مرتبہ لفظ دین کا ذکر کیاگیا ہے۔ اہم رکن اسلام صلوٰۃ (نماز) کا بھی قرآن شریف میں ۹۴ مرتبہ ذکر آیا ہے۔

اقامتِ دین کی فرضیت

وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط(البقرہ ۲:۳۰) ’’پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘۔ فرشتوں سے کلام اور جنت میں قیام کے بعد یہ مرحلہ آتا ہے کہ حضرت آدم ؑکو حکم ہوتا ہے: قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَھُمْ یَحْزَنُوْنَo (البقرہ ۲:۳۸) ’’ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اُتر جائو پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔ اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیںگے وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ ان آیات سے سب سے اہم حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ آسمان اور زمین اور ساری کائنات میں اقتدار اعلیٰ اللہ رب العالمین کا ہے۔ وہی خالق اور وہی حاکم ہے۔ دوسرے یہ کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ کے ذمہ دار اس کے نائب انبیا علیہم السلام ہیں۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک سارے انبیاؑ خلافتِ الٰہیہ کے منصب پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں منتخب فرمایا تھا اور ضمنی طور پر یہ بھی واضح ہوا کہ نبوت کا سلسلہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا تو اب خلافت رسولؐ کا سلسلہ اس کے قائم مقام ہوا ،اور اس کے خلیفہ کا تقرر ملت کے انتخاب سے قرار پایا۔ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جو فریضہ انبیا ؑاور رسولؐ کے سپرد ہوا تھا وہ اُمت محمدیہؐ کے سپرد کر دیا گیا۔ یہی اس اُمت کی وجۂ امتیاز ہے۔ کارِ نبوت کی ذمہ داری پوری اُمت پر عائد کی گئی۔

فرشتوں کے مکالمے سے حضرت آدم ؑ کے فائق اور برتر ہونے کا اظہار ہوتا ہے اور یہ بھی کہ حضرت آدم ؑ کو معلم کا درجہ دیا گیا اور فرشتوں کوطالب علم کا۔ عبودیت مخلوق کی صفت ہے، خالق کی نہیں۔ علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ علم کی وجہ سے آدم ؑ خلافت کے مستحق ہوئے، جب کہ فرشتے اہل نہ تھے۔ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع)

ان آیات سے مقصدِ تخلیقِ آدم اور نسلِ انسانی کی کائنات میں حیثیت اور اس کے صحیح مقام کا علم حاصل ہوا، انسان محکوم ہے حاکم اور خودمختار نہیں۔ حدود اللہ کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے محدود اختیارات حاصل ہیں۔ خلافت الٰہیہ کے تقاضوں کی تکمیل اس کا مقصد زندگی ہے۔

فریضہ اقامت دین کی بحث میں ہمیں سب سے زیادہ رہنمائی سورئہ شوریٰ میں ملتی ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط(الشوریٰ ۴۲:۱۳) ’’اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوحؑ کودیا تھا اور جسے اے محمدؐ    اب تمھاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسٰی ؑاور عیسٰی ؑکو دے چکے ہیں اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجائو‘‘۔ اس آیت کریمہ سے فریضہ اقامت دین کا قرآنی حکم عبارۃ النص (آیت کا مقصود) سے براہِ راست ثابت ہے، یعنی یہ آیت اسی مقصد کے بیان کے لیے نازل ہوئی ہے۔ قرآن کی یہ آیات مکی دور میں نازل ہوئی تھیں۔

معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تشریح اس طرح فرماتے ہیں کہ اقامت دین فرض ہے اور اس میں تفریق حرام ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ : ’’اس آیت میں دو حکم مذکور ہیں۔ ایک، اقامت دین۔ دوسرے، اس کا منفی پہلو، یعنی اس میں تفرق کی ممانعت، جب کہ  جمہور مفسرین کے نزدیک اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ میں حرف اَنْ تفسیر کے لیے ہے تو دین کے معنی  متعین ہوگئے کہ مراد وہی دین ہے جوسب انبیا ؑ میں مشترک چلا آرہا ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دین مشترک بین الانبیا اصول عقائد، یعنی توحید، رسالت، آخرت پر ایمان، اور عبادات، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی پابندی ہے، نیز چوری، ڈاکا، زنا، جھوٹ، فریب، دوسروں کو بلاوجہ شرعی ایذا دینے وغیرہ اور عہدشکنی کی حرمت ہے جو سب ادیانِ سماویہ میں مشترک اور متفق علیہ چلے آئے ہیں‘‘۔ (معارف القرآن، ج ۷، ص ۶۷۸)

مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر عثمانی میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس جگہ حق تعالیٰ نے صاف طور پر بتلا دیا کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے۔ عقائد اور اصول دین میں تمام متفق رہے ہیں۔ سب انبیا اور ان کی اُمتوں کو حکم ہوا ہے کہ دین الٰہی کواپنے قول و فعل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح تفریق یا اختلاف کو روا نہ رکھیں۔

مولانا مودودی نے سورئہ شوریٰ کی اس آیت کی تفہیم انتہائی بلیغ اور مدلل انداز میں پیش کی ہے اور دیگر حوالے بھی دیے ہیں۔ انھوں نے آیت کے پہلے لفظ شَرَعَ لَکُمْ سے اصطلاحی طور پر ضابطہ اور قاعدہ مقرر کرنا بتایا۔ شرع اور شریعت سے قانون اور شارع کو واضعِ قانون کے ہم معنی قرار دیا۔ پھر اپنے اس اہم ترین استدلال کی طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ تشریع خداوندی فطری اور منطقی نتیجہ ہے اس بڑی حقیقت کا کہ اللہ ہی کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے اور وہی انسان کا حقیقی  ولی ہے۔ اس طرح وہی اس کا حق رکھتا ہے کہ انسان کے لیے قانون اور ضابطے وضع کرے  (تفہیم القرآن، ج۴، ص ۴۸۷)۔ اس آسان استدلال سے مغرب کے تمام باطل اور مادی فلسفوںکی خوب صورت طریقے سے تردید ہوجاتی ہے۔ مغرب کا کلمہ لاالٰہ الا انسان ہے، جب کہ اسلام کا کلمہ لاالٰہ الا اللہ ہے۔ مغرب کے مطابق قانون سازی کا اختیار انسان اور جمہور کو ہے، جب کہ قرآن کے مطابق یہ حق صرف اور صرف اللہ کو حاصل ہے۔

اقامت ِ دین کی اصطلاح

فقہاے اسلام نے سورئہ شوریٰ کی آیت اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ سے اخذ کرتے ہوئے اقامت دین کا اصطلاح کے طور پر استعمال شروع کیا ہے۔ جب توریت نازل ہوئی تھی تو توریت کی اقامت کا نام اقامت دین تھا، اور جب انجیل نازل ہوئی تو اُس کی اقامت بھی اقامت ِ دین تھا، اور اب قیامت تک قرآن کی اقامت کا نام بھی اقامت ِدین ہے۔ خود قرآن نے اہلِ کتاب کے بارے میں کہا ہے: وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ ط (المائدہ ۵:۶۶) ’’اور اگر وہ توریت اور انجیل اور جو کچھ اُن پر اُن کے رب کے طرف سے نازل ہوااُسے قائم رکھتے تو رزق اُن کے اُوپر سے برستا اور نیچے سے اُبلتا‘‘۔

پھر اسی سورہ میں آگے آیت ۶۸ میں اہلِ کتاب کو مخاطب کرکے جو بات کہی گئی ہے اس پر غور کیجیے کہ یہ خطاب اُنھی کے لیے نہیں بلکہ ہمارے لیے بھی کتنا اہم ہے: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط (المائدہ ۵:۶۸) ’’کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توریت اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو، تمھاری طرف جو تمھارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں‘‘۔

ہمارے مفسرین نے لکھا ہے: وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ سے مراد قرآن شریف ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک تم توریت انجیل اور قرآن کی اقامت نہ کرو گے اُس وقت تک تم دینی و مذہبی لحاظ سے کچھ نہیں ہو۔ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی کتاب پر ایمان کا مدعی ہے اس پر اس کتاب کی اقامت فرض ہے، اور اب قیامت تک اقامت ِقرآن ہی کا نام ’اقامتِ دین‘ ہے۔

مولانا سیدابوالحسن علی ندوی، تاریخ دعوت عزیمت میں حضرت شاہ ولی اللہ کے  نظریۂ خلافت پربحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کلیۃ الکلیات (اصل الاصول) وہ حقیقت ہے جس کا عنوان ’اقامت ِ دین‘ ہے۔ غرض یہ ہے کہ اقامت دین ایک جامع اصطلاح ہے اور ان تمام احکامِ قرآنی پر حاوی ہے جو مَا اَنْزِلَ اللّٰہَ سے متعلق ہے۔

حضرت شاہ ولیؒ اللہ نے اپنے ترجمۂ قرآن فتح الرحمٰن میں من الدین کا ترجمہ    ’از آئین‘ فرمایا ہے۔ مولانا مودودیؒ اس ترجمے سے استفادہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو تشریح فرمائی ہے اس کی نوعیت آئین کی ہے۔ اس توجیہ سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ آیت میں دین کے معنی ہی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مان کر اس کے احکامات کی اطاعت کرنے کے ہیں، اور یہ کہ وہ خالق و مالک ہونے کی بنا پر واجب الاتباع ہے۔ اس کے حکم اور قانون کی پیروی نہ کرنا بغاوت اور بندگی سے انکار کے مترادف ہے۔

مولانا مودودیؒ نے دین کے مفہوم اور اقامت ِ دین کو بڑی شرح و بسط سے بیان فرمایا ہے۔ معاشرے میں سہل پسندی اور بے عملی کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: اقامت دین کا مقصد صرف تبلیغ دین سے پورا نہیں ہوتا، بلکہ دین کے احکامات پر کماحقہٗ عمل درآمد کرنا، اسے رواج دینا اور عملاً نافذ کرنا اقامت دین ہے۔ مزید وضاحت کے لیے لکھتے ہیں: دین مشترک بین الانبیا سے صرف ایمانیات عقائد اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے تمام ہی شرعی احکام مراد ہیں۔ دلیل کے طور پر مولانا نے قرآن حکیم کی وہ آیات پیش کی ہیں جن میں ان احکام کو واضح اور صریح طور پر دین سے تعبیر کیاگیاہے۔ ذیل میں وہ آیات درج ہیں:

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ o (البینہ ۹۸:۵)، اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے، بالکل یک سو ہوکر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ قف وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ط ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ط اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ ط اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ  وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط (المائدہ ۵:۳)، تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گھُٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکرکھا کر مرا ہو۔ یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔ سواے اُس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا۔ اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمھارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوںکے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمھارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے، لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔

معلوم ہوا کہ یہ سب احکام شریعت دین ہی کا حصہ ہیں۔

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ (النور ۲۴:۲)، زانیہ عورت اور زانی مرد ،دونوں میں سے ہرایک کو ۱۰۰،۱۰۰ کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں دامن گیر نہ ہو۔

اس آیت میں قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ یہاں فوجداری قانون کو دین اللہ فرمایا گیا ہے۔ معلوم ہوا صرف عبادت ہی دین نہیں ہے، مملکت کا قانون بھی دین ہے۔ (تفہیم القرآن)

ان تفصیلات کے بعد ان آیاتِ ربانی پر غور کرتے ہیں جن سے اصولِ فقہ کی روشنی میں اقامت ِ دین کا فرض ہونا اور منشاے الٰہی کا مقصود ہونا دلالۃ النص اور اقتضاء النص سے ثابت ہوتا ہے۔ مولانا محمد اسحاق ندوی اپنی کتاب اسلام کے سیاسی نظام میں دینی حکومت کے قیام کے لیے سورئہ نساء کی آیت : اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب ِ امر ہوں۔ النساء۴:۵۹) سے اقامت ِ دین کا فرض ہونا اقتضاء النص سے ثابت کیا ہے۔ اس آیت میں صاحب ِ امر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے جس پر عمل اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب صاحب ِ امر موجود ہو۔ اب اسے وجود میں لانا بالفاظِ دیگر اقامت دین کے نظم کوقائم کرنا نص کا منشا اور مقتضا ہے۔

اسی طرح سورئہ انفال کی آیت: وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ(اور تم لوگ جہاں تک تمھارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کر دو جنھیں تم نہیں جانتے۔ الانفال۸:۶۰) میں ہمیں حکم دیا جاتا ہے کہ ہم اپنی قدرت کی حد تک دشمنانِ دین کے مقابلے کے لیے قوت فراہم کریں۔ تنظیم، افراد اور نظم حکومت کا قیام بالفاظ دیگر نصب امامت خود قوت کا ایک حصہ ہے، بلکہ اس نوعیت کی کل قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس آیت سے امام کے تقرر کی فرضیت اسی طرح ثابت ہوتی ہے جس طرح جنگ کے لیے اسلحہ مہیا کرنے کی فرضیت۔

سورئہ توبہ کی آیت: قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَo (جنگ کرواہلِ کتاب کے ان لوگوں سے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیاہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنادین نہیں بناتے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ التوبہ۹:۲۹) سے اقامت ِ دین اور دینی نظام کے قیام کی فرضیت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔ آیت کریمہ اہلِ اسلام کو قتال کا حکم دیتی ہے اور اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم دیتی ہے تاآنکہ اہلِ باطل کو مغلوب کر کے ان سے جزیہ وصول کیا جائے اور انھیں چھوٹا بناکر رکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ ان احکامات کو پورا کرنا دینی حکومت اور اقامت ِ نظم دین کے بعد ہی ممکن ہے۔

سورئہ مائدہ کے ساتویں رکوع میں فرمایا:

وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَo(مائدہ۵:۴۵)، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔

وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنََo(مائدہ۵:۴۷)، اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔

معلوم ہوا کہ تمام معاملات میں ما انزل اللّٰہ کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے کافر، ظالم اور فاسق ہیں، اور اقامت ِ دین حکومت و عدالت کی کرسیوں پر اسی طرح ضروری اور لازم ہے جس طرح اقامت ِ صلوٰۃ کے لیے اوقات کے لحاظ سے ادایگی نماز اور مسجد کی تعمیر اور اُس کا انتظام۔ اور یہ کہ یہ سب فرائض اقامت ِدین کا حصہ ہیں۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی فرضیت

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo(اٰل عمرن۳:۱۰۴) ، اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ (دوسروں کو بھی) خیر کی طرف بلایا کریں، بھلائی کا حکم دیںاور برائیوں سے روکتے رہیں۔

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (اٰل عمرن۳:۱۱۰) ، اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

ان دونوں آیتوں میں یامرون اور تامرون کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی حکم دیتے ہو۔ یبلغون اور وتبلغون نہیں فرمایا گیا۔ گویا صرف پہنچا دینا اورتبلیغ کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ربِ کائنات کائنات احکم الحاکمین کے دینی نظام کوقوت سے نافذ کرنا مقصود ہے۔

مولانا ابوالحسن ندوی اسلامیت اور مغربیت کی کش مکش میں اس آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’اس کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا کہ اس اُمت کی جگہ قافلے کے پیچھے اور  حاشیہ برداروں کی صف میں ہو اور وہ دوسری اقوام کے سہارے زندہ رہے، اور قیادت و رہنمائی، امرونہی اور دینی وفکری آزادی کے بجاے تقلید اور نقل، اطاعت و سپراندازی پر راضی اور مطمئن ہو‘‘۔ اس مضمون کی دوسری آیات آل عمران (۳:۱۱۴)، الاعراف (۷:۱۶۷)، التوبہ (۹:۷۱)، الحج (۲۲:۱۴۱)، لقمان (۳۱:۱۷) ہیں۔

سورئہ توبہ کی آیت ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدیت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے جنس دین پر غالب کردے۔ ۹:۳۳) سے اقامت ِ دین کی فرضیت اور غلبۂ دین دلالت النص سے ثابت ہوتا ہے۔ یہ آیت قرآن شریف میں تین جگہوں پر آئی ہے: سورئہ توبہ کی ۳۳ اور سورئہ صف کی آیت کا آخری ٹکڑا وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ہے، اور سورئہ فتح میں آیت کا آخری حصہ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا ہے۔ پہلی دونوں آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دین حق کا غلبہ مخالفین کو خواہ کتنا ہی بُرا لگے ہم نے اپنے رسول کو اسی مقصد کے لیے بھیجا ہے، اور سورئہ فتح کا آخری حصہ بتاتا ہے کہ بعثت محمدیؐ کی اس غرض و غایت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اب اگر تمام دنیا مل کر بھی یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ نہیں تھا، اُس کی بات قابلِ سماعت نہ ہوگی۔

مولانا مودودیؒ تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں بعثت رسولؐ کی غرض یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ خدا کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے طریقوں اور قاعدوں پر غالب کردے۔ دوسرے الفاظ میں رسولؐ کی بعثت کبھی اس غرض کے لیے نہیں ہوئی کہ جو نظامِ زندگی لے کر وہ آیا ہے وہ کسی دوسرے نظامِ زندگی کا تابع اور اس سے مغلوب بن کر اور اس کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجایشوں میں سمٹ کر رہے، بلکہ وہ بادشاہِ ارض و سما کا نمایندہ بن کر آتا ہے اور اپنے بادشاہ کے نظامِ حق کو غالب دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نظامِ زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجایشوں میں سمٹ کر رہنا چاہیے جیساکہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوں کا نظامِ زندگی رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۲ص ۱۹۰)

حضوؐر کے اس مقصد بعثت کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللّٰہ البالغہ اور  ازلۃ الخفا میں متعدد مقامات پر پیش کیا ہے۔ اسی آیت پر بحث کرتے ہوئے شاہ صاحب نے یہ تحریر فرمایا ہے: ’’جان لینا چاہیے کہ اس آیت کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ہرغلبہ جودین حق کو حاصل ہوا وہ سب کا سب لیظھرہ علی الدین کلّہ میں داخل ہے، اور وہ عظیم الشان غلبہ، جو کسریٰ وقیصر کی حکومتوں کو درہم برہم کردینے کی شکل میں حاصل ہوا بدرجہ اولیٰ اس کلمے میں داخل ہے، اور اس بڑے درجہ ومرتبہ کے علَم بردار خلفاے راشدین تھے۔ ان بزرگوں کی کوششیں آنحضرتؐ کی بعثت کے مقتضا میں داخل تھیں۔ (اقامتِ دین، سید احمد عروج قادری)

شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب حجۃ اللّٰہ البالغہ میں مختلف عنوانات کے تحت بار بار یہ حقیقت دہرائی ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاے کرام کواقامت دین ہی کے لیے مبعوث فرماتا رہا ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی لیے مبعوث فرمایا تھا کہ وہ دین کو قائم کریں اور اُسے دوسرے ادیان باطل پر غالب کریں۔ گویا غلبۂ دین کے لیے اجتماعی جدوجہد اور قیامِ جماعت لازمی ہے۔

غلبۂ دین اور اُمت محمدیہؐ کی ذمہ داری

شاہ ولی اللہ ’الجہاد‘ کے تحت لکھتے ہیں: جان لو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خلافتِ عامہ کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے اور آپ نے دین کو تمام ادیان پر غلبہ دینا تھا اور یہ کام جہاد اور آلاتِ جہاد تیار کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔ اگر جہاد کو لوگ چھوڑ دیںاور بیل کی دموں کے پیچھے لگ جائیں (یعنی حصولِ معاش میں لگ کر جہادسے غافل ہوجائیں) تو ذلت ان کو گھیر لے گی اور دوسرے ادیان والے ان پر غالب آجائیں گے۔

شاہ صاحب جہاد کی فضیلت کے بارے میں بہت سی حدیثوں کو پیش کرتے ہیں:

قال رسولؐ مثل المجاھد فی سبیل اللّٰہ کمثل القانت الصائم (اطراف المسند المعتلی)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کہ شب بیدار اور روزہ دار کی مثال ہے۔

وقال رسولؐ من احتبس فرساً فی سبیل اللّٰہ ایماناً باللّٰہ وتصدیقاً بوعدہ فان شبعہ وریہ و روثہ وبولہ فی میزانہ یوم القیامۃ (السنن الکبریٰ للبیہقی)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں اور اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے ایک گھوڑا باندھا اور اُس کو پیٹ بھر کھانا کھلایا اس کو پانی پلایا اور  قیامت کے دن اس کا چارا، لید اور پیشاب اس کی نیکیوں میں یہ سب تولے جائیں گے۔

قال رسولؐ ان اللّٰہ یدخل بسھم الواحد ثلاثۃ نفر فی الجنۃ صانعہ یحتسب فی صنعہ والرامی بہ ومنبلہ (سنن نسائی)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا۔ ایک بنانے والے کو جو اس کی صنعت میں ثواب چاہتا ہے اور چلانے والے اور تیر دینے والے کو۔

وقال رسولؐ من رمٰی بسھم فی سبیل اللّٰہ فھو لہ عدل محرر (سنن نسائی)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو اللہ کی راہ میں ایک تیر چلائے گا اُس کو غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔

جب اقامت ِ دین اور اعلاے کلمۃ اللہ کے سلسلے میں ایسے چھوٹے کام کا ثواب جنت ہے تو بڑی خدمات کے ثواب کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔

اقامت قرآن کے لیے اسلامی حکومت کا قیام

اقامت ِ قرآن کے لیے اسلامی حکومت (حکومت ِ الٰہیہ) کا قیام لازمی ہے۔ قرآنی آیات احکام پر عمل صرف اسلامی حکومت کے ذریعے سے ہی کیا جاسکتا ہے:

وَالسَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا جَزَآئًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ط (المائدہ ۵:۳۸)، چور خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo (المائدہ ۵:۹۰)، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو۔ اُمید ہے کہ تمھیں فلاح نصیب ہوگی۔

عہدصحابہؓ سے شراب پینے کی سزا ۸۰ کوڑے تھی۔ یہی مسلک امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک شراب نوشی کی حد ۴۰کوڑے ہے۔ ان حدود کا اجرا صرف حکومت کا کام ہے۔

وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآئَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلاَ تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَھَادَۃً اَبَدًا (النور۲۴:۴)، اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئین ان کو ۸۰ کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔

اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ط (البقرہ ۲:۲۷۵)، اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔

قرآن حکیم میں قتال فی سبیل اللہ کے لیے گیارہ آیات اور جہاد کے لیے ۲۶ آیات آئی ہیں۔ اسی طرح حدود اللہ کے اجرا کے لیے متعدد قرآنی آیات ہیں۔ اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان قرآنی آیات پر اسلامی حکومت ہی کے ذریعے سے عمل ہوسکتا ہے اور اسلامی حکومت کی عدم موجودگی کی صورت میں انفرادی طور پران پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے تمام نصوصِ قرآنی سے بطور اقتضا اسلامی حکومت کے قیام کی فرضیت ثابت ہوتی ہے اور مسلم معاشرے کے تمام افراد پر اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنا حدِاستطاعت تک فرض ہے اور استطاعت کے باوجود اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوششیں نہ کرنا ویسے ہی گناہ اور معصیت ہے، جیسے صاحب ِ استطاعت مسلمان پر روزہ، نماز، زکوٰۃ، حج فرض ہے اور ان فرائض کا ترک کرنا عاقبت کو برباد کرنا ہے۔

شھادتِ حق اور اس کے تقاضے

قرآن حکیم میں مسلمانوں کی ایک بہت اہم اور بڑی ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں اور شہادتِ حق کی حجت پوری کریں۔ فرمایا گیا: وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ط (البقرہ ۲:۱۴۳)، ’’اور اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک اُمت وسط بنایا تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘۔ اس فقرے سے مراد یہ ہے کہ حشر کے دن جب حساب لیا جائے گا اُس وقت رسول ہمارے نمایندے ہوکر تم پر گواہی دیں گے کہ صحیح فکروعمل نظامِ عدل اور دین حق کی جو تعلیم انھیں اللہ سے ملتی تھی رسولؐ نے اس کو پوری طرح قولاً و فعلاً پہنچا دیا، اور اس کے بعد رسولؐ کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے اُمت محمدیہؐ نے اسے عام لوگوں تک پہنچانے میں اپنی صلاحیت اور قوت کی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔

اُمت محمدیہؐ کا منجانب اللہ گواہی کے منصب پر مامور ہونا درحقیقت اُس کو امامت اور پیشوائی کا مقا م عطا کیا جانا ہے۔ پھر آگے جو بیان تحویل قبلہ اور اتمامِ نعمت کا آیا ہے، اس سے    یہ حقیقت واضح ہورہی ہے کہ بنی اسرائیل کو جو منصب امامت حاصل تھا وہ ختم ہوا اور اب    امامتِ اُمم (اُمتوں کی امامت) کا منصب اُمت محمدیہؐ کو تفویض ہو رہا ہے۔ سورئہ بقرہ کی اس آیت کے بعد سورئہ حج میں یہ بات ایک نئے انداز سے دہرائی گئی ہے:

ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ(الحج ۲۲: ۷۸)، اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تمھارا یہی نام ہے تاکہ رسولؐ تم پر گواہ ہو۔

اس تفصیل کے بعد منصب امامت و ہدایت اور اقامت دین کی اصل غرض سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں تین آیات بڑی اہمیت کی حامل ہیں:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا o (النساء۴:۱۳۵)، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو، اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

اسی مضمون کو سورئہ مائدہ میں ایک دوسرے تقاضے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے:

کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ o (المائدہ۵:۸)، اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو۔ اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

پہلی آیت میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے گواہی دینے والے بنو، اگرچہ تمھارے اپنے نفس کے یا اعزہ و اقربا کے خلاف گواہی ہورہی ہو۔ دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ کسی سے دشمنی تمھیں حق کی گواہی سے منحرف کرنے کاسبب نہ ہو۔ غرض محبت و عداوت دونوں ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو عدل و راستی کی راہ سے ہٹاکر ظلم میں مبتلا کردیتی ہیں۔ کونوا قوامین بالقسط اور قوامین للّٰہ کوتاکید سے پیش کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ عدل وانصاف اور او امراللّٰہ پر ہر وقت اور ہرحال میں قائم رہنا ضروری ہے۔ دوستی دشمنی تمھیں راہِ حق سے منحرف نہ کرے۔

اس ضمن میں تیسری آیت درج ذیل ہے:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ (الحدید ۵۷:۲۵)، ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب، اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اُتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع میں۔

پہلی دو آیات میں خطاب مومنین سے تھا۔ سورئہ حدید کی آیت سے خطاب کا دائرہ وسیع ہوگیا اور لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ کہہ کر پورے انسانی معاشرے اور اس کے پورے نظام کو عدل پر قائم رکھنے کی بات کی گئی۔ اور یہ اعلان سامنے آیا کہ حضرت آدم ؑ سے لے کر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک سب کی بعثت اور آسمانی کتابوں کا سارا نظام انصاف اور عدل ہی پر قائم کرنے کے لیے وجود میں لایا گیا۔ حضوؐر کے بعد اس نظام کے قیام کی ذمہ داری اُمت محمدیہؐ کے اُوپر ڈالی گئی۔ اسی ذمہ داری کو قرآن نے شہادتِ حق سے تعبیر کیا ہے۔ اور یہ کہ لوہے کو نازل کیا جس میں بڑی طاقت اور منافع ہیں۔ یہ بات خود بخود اس عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس سے مراد سیاسی اور جنگی طاقت ہے۔ رسولوں کو قیامِ عدل اور اقامت ِ دین کی محض اسکیم پیش کرنے کے لیے مبعوث نہیں فرمایا بلکہ یہ بات بھی ان کے مشن میں داخل تھی کہ اس عدل کامل کو عملاً قوت سے نافذ کیا جائے اور ظالمین کو سزا دی جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عدلِ حقیقی اور اقامت ِ دین کو اپنے قول اور فعل سے قائم کیا، اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیں۔ یہ تمام قرآنی آیات دلالۃ النص (قرآن کی آیت کا دلالت کرنا) سے اقامت دین کے فریضے کو ثابت کرتی ہیں۔

گذشتہ تفصیلات سے یہ مدعا اور مقصد وضاحت سے ثابت ہوتا ہے کہ اقامت ِ دین اولین اور اہم ترین فریضہ ہے اور اس کا مقام تمام فرائض میں جنس اعلیٰ اور کلیۃ الکلیات ہے جو دوسرے تمام فرائض پر حاوی ہے۔ یہ فریضہ نبوت کے ساتھ ہی شروع ہوا اور اقامت ِ دین کی جدوجہد  حیاتِ طیبہ کے آخری لمحات تک جاری رہی۔ نماز جو دین اسلام کا رکن اعظم ہے معراج میں، یعنی نبوت کے گیارھویں سال فرض ہوا۔ روزہ دو ہجری اور زکوٰۃتو مکی زندگی سے فرض تھی مگر نصاب کے ساتھ زکوٰۃ کی فرضیت آٹھ ہجری میں ہوئی اور حج نو ہجری میں فرض ہوا مگر فریضہ اقامت ِ دین آنحضرتؐ کی پوری زندگی پر محیط ہے۔

مسلمانوں کی دنیوی و اُخروی سعادت اور اسلام کی دعوت، غلبہ و اقتدار کا انحصار اقامت ِ دین پر ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد ِ رسالت، یعنی اظہارِ دین کا حصول بھی اقامت ِ دین کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں پر اقامت ِ دین کو فرض قرار دیا ہے تاکہ ہر دور میں اس کے ذریعے مقصد ِ رسالت ’اظہارِ دین‘ حاصل کیا جاتا رہے۔

دیگر فرائض کا تعلق افراد کے ذاتی اعمال سے ہے اور قیامت کے دن میدانِ حشر میں ان فرائض نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کا حساب انفرادی ہوگا، جب کہ اقامت ِ دین کُل وقتی طریقۂ حیات ہے جو انسانی اجتماعیت پر منطبق ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا کوئی گوشہ اور لمحہ اس سے خالی نہیں۔

اس ہمہ گیر احساس فرض ہی نے مسلم ہند کے لیے پاکستان بنانا ممکن ہوا۔ ۱۹۴۹ء میں آئین ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حاکمیت کے اصول کو قانونی اور سیاسی طور پر تسلیم کیا۔ اس عظیم خدمت میں بڑا حصہ علامہ شبیراحمد عثمانی، مشرقی پاکستان [موجودہ بنگلہ دیش] کے مولانا اکرم خان اور لیاقت علی خان کا رہا ہے۔ بعد میں ۱۹۵۱ء میں تمام اسلامی مکاتب ِ فکر کے علما نے متحدہ و متفقہ طور پر ۲۲رہنما اسلامی دستوری اصول مرتب فرمائے جس میں مولانا مودودی، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا ظفراحمد انصاری، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا احترام الحق جیسے ۳۱ علما شریک تھے۔ اب یہ ہم سب کی اور بالخصوص علماے کرام اور دینی جماعتوں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ اللہ کے دین کو پاکستان میں عملی طور پر نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور عنداللہ خوشنودی کے مستحق قرار پائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اسوئہ رسولؐ اور اسوئہ صحابہؓ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


مقالہ نگار شعبہ تقابل ادیان و ثقافت اسلامیہ، جامعہ سندھ جامشورو کے سابق صدر ہیں

بنیادی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے، اب آیئے دیکھیں کہ اسلام کس طرح مرد اور عورت کے درمیان مساوات قائم کرتا ہے۔ معاشرے میں عورت و مرد کی مساوات کا اعلان قرآن مجید ان واضح الفاظ میں پیش کرتا ہے:

خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا (النسآء ۴:۱) اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا۔

اس آیت نے عورت کی کم تری اور حقارت سے متعلق ان تمام تصورات کا خاتمہ کر دیا جو قدیم مذاہب اور تہذیبوں میں پائے جاتے تھے۔ اسلام کا اعلان ہے کہ عورت کوئی حقیر و بے کس وجود نہیں ہے۔ وہ کوئی بے مقصد ہستی نہیں ہے بلکہ جس نفسِ واحدہ سے مرد وجود میں آیا ہے اسی سے عورت بھی وجود میں آئی ہے، اور جس طرح انسانی معاشرے کا ایک اہم رکن مرد ہے اسی طرح معاشرے کی دوسری اہم رکن عورت ہے۔ اس معاشرے کا وجود، اس کی بقا اور اس کا تسلسل     ان دونوں میں سے کسی ایک پر منحصر نہیں اور نہ یہ کہ ایک پر زیادہ اور دوسرے پر کم منحصر ہے بلکہ اس پہلو سے دونوں مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔

اللہ کے ہاں فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے، مرد یا عورت ہونا نہیں:

یاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط (الحجرات ۴۹:۱۳) لوگو! ہم نے   تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

آخرت میں درجات کی بلندی اور فلاح و کامیابی کا تعلق کسی جنس سے خاص نہیں ہے بلکہ مکمل مساوات کے اصول کے مطابق مرد اور عورت دونوں اعمال میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بجالاکر ایک دوسرے سے بڑھ کر خدا کی قربت حاصل کرسکتے ہیں:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ھُوَ مُؤْمِن  فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ط وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo (النحل ۱۶:۹۷) جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔

اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ (اٰل عمرٰن ۳:۱۹۵) میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔

یعنی نوعِ انسانی کے دونوں اصناف میں سے جو صنف بھی اپنے نامۂ اعمال کو پاکیزگیِ کردار سے مزین کرلے سرخروئی اور کامیابی اس کے لیے مقدر ہوچکی ہے۔

اسلام میں عورت و مرد دونوں کو مساوی حیثیت دے کر بعض آیات میں دونوں کو انسان کی حیثیت سے خطاب کیا گیا ہے اور بعض آیات میں اصناف کے نام لے کر۔ یایُّھَا النَّاسُ اور یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہہ کر قرآن میں اَن گنت مقامات پر دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جس طرح مردوں پر احکام نازل کیے گئے ہیں، اسی طرح عورتوں پر بھی احکام نازل ہوئے ہیں۔ عورت کو محض عورت ہونے کی بنا پر مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ ذمہ داری اور جواب دہی میں عورت کو مرد کا ضمیمہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے امتیازی حیثیت دی گئی ہے:

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْاط وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ (النسآء ۴:۳۲) جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ۔

منفی تقسیم اور مساوات

الگ الگ دائرۂ کار کے باوجود مرد کو خصوصیات کے لحاظ سے عورت پر فضیلت حاصل نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح فرمایا گیا ہے:

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا o (النسآء ۴:۳۲) اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے، اس کی تمنا نہ کرو، جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے، اس کے مطابق اُن کا حصہ۔ ہاں، اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو، یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔

اس آیت سے ایک طرف تو یہ بات واضح ہوگئی کہ قدرت کی طرف سے جو خصوصیات  مرد و عورت کو عطا ہوئی ہیں، ان میں فضیلت کا پہلو کسی ایک ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس فضیلت میں دونوں برابر کے حصہ دار ہیں۔ دوسری طرف یہ بات واضح ہوگئی کہ عورت اور مرد دونوں کی کامیابی اور سعادت اس بات میں ہے کہ ایک دوسرے کی خصوصیات پر رشک کرنے اور ان کی نقل کرنے کے بجاے ہر ایک اپنے اپنے حصے کی نعمتوں کے لیے شکرگزار رہے اور ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے۔

قدرت نے اپنے اپنے دائرۂ کار کے لحاظ سے اپنی عطائوں میں مرد یا عورت کسی کے ساتھ بھی بخل نہیں کیا ہے۔ مرد کے اندر اگر تخلیق و ایجاد کا جوہر عطا کیا ہے تو عورت کو اس تخلیق و ایجاد کے ثمرات و نتائج سنبھالنے کا سلیقہ و ہنر عطا فرمایا ہے۔ مرد کو اگر حکمرانی و جہاں بانی کا حوصلہ عنایت کیا ہے تو عورت کو گھر بنانے اور بسانے کی قابلیت بخشی ہے۔ مرد کو اگر خاص علوم و فنون سے طبعی لگائو ہے تو عورت کے لیے بھی کچھ خاص علوم و فنون ہیں، جن سے اس کو فطری مناسبت ہے۔ مرد اگر اپنے اندر سختی، قوت اور عزیمت کے اوصاف رکھتا ہے تو عورت بھی اپنے اندر دل کشی، شیرینی اور  دل ربائی کا جمال رکھتی ہے۔ قدرت کے اس نگارخانے کی زیب و زینت ان میں کسی ایک ہی صنف کے اوصاف سے نہیں ہے بلکہ مرد، عورت دونوں کے اوصاف سے ہے۔

معاشرتی مساوات

اسلام نے معاشرے میں عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے نہ صرف مساوی بلکہ تقدس و مرتبے میں مرد سے بہت بڑھ کر حقوق دیے ہیں:

ماں کی حیثیت سے: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے (چوتھی مرتبہ) عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: تیرا باپ۔ غور فرمایئے کہ ماں، یعنی عورت کا رُتبہ باپ، یعنی مرد سے کس قدر بالاتر ہے۔

بیٹی کی حیثیت سے: ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاںتک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز مَیں اور وہ اس طرح آئیں گے جیسے میرے ہاتھ کی انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں‘‘۔ (مسلم)

بہن کی حیثیت سے: اسی طرح تحفظ و تقدس کے لحاظ سے بہن کو بھی مساوی سے  بڑھ کر درجہ دیاگیا ہے۔

بیوی کی حیثیت سے: بیوی کی حیثیت بہت زیادہ ہے۔ بیوی کے بارے میں شوہر کو یہاں تک کہہ دیا گیا: ’’دنیا کی نعمتوں میں بہترین نعمت نیک بیوی ہے‘‘۔

ملاحظہ کیجیے کہ عورت کو ہر حیثیت میں معاشرے میں کس قدر عزت و احترام کے قابل ٹھیرایا گیا ہے۔

تمدنی مساوات

تمدنی لحاظ سے اسلام نے عورت کو مرد سے بڑھ کر حقوق عطا کیے ہیں:

انتخابِ زوج کا حق: اگر مرد کو بیوی کے انتخاب کا حق حاصل ہے تو عورت کو بھی شوہر کے انتخاب کا پورا حق دیا گیا ہے۔ اس کی مرضی کے خلاف یا اس کی رضامندی کے بغیر کوئی شخص اس کا نکاح نہیں کرسکتا۔ اگر وہ خود اپنی مرضی سے کسی مسلم کے ساتھ نکاح کرلے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا، البتہ تحفظِ عزت کی خاطر یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ لڑکیاں اپنا نکاح خود نہ کرتی پھریں، کیوں کہ   ان کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ اچھی طرح مرداور اس کے لواحقین کو پرکھ یا دیکھ سکیں۔ اس میں باپ اور خاندان کے معاشرتی مقام اور تعلقات کا خیال رکھنا بہتر ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے شرعی  طور پر ولی اور لڑکی دونوں کی رضامندی ضروری قرار دی گئی۔ البتہ اگر اس کی نظرِ انتخاب کسی ایسے شخص پر پڑے جو اس کے خاندان کے مرتبے سے گرا ہوا ہو تو صرف اس صورت میں اس کے اولیا کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔

کمسنی کے نکاح میں اختیار: خیار بلوغ، یعنیاگر کسی لڑکی کا نکاح کمسنی میں کردیاگیا ہو تو وہ شعور کو پہنچ کر اسے برقرار رکھنے یا فسخ کردینے کا اختیار رکھتی ہے۔

خلع کا حق: عورت کو طلاق دینے کا اختیار مرد کو حاصل ہے،تاہم اس کے ساتھ ساتھ ناپسندیدہ اور ناکارہ یا ظالم شوہر سے علیحدگی کے لیے عورت کو خلع اور تنسیخ و تفریق کے وسیع حقوق دیے گئے ہیں۔

نکاح ثانی کا حق: بیوی اور مطلقہ عورتوں اور ایسی عام عورتوں کو جن کے نکاح ازروے قانون فسخ کیے گئے ہوں یا جن کو حکم تفریق کے ذریعے سے شوہر سے جدا کر دیا گیا ہو، نکاح ثانی کا غیرمشروط حق دیا گیا ہے۔ اس امر کی تصریح بھی کر دی گئی ہے کہ ان پر سابق شوہر یا اس کے کسی رشتہ دار کا کوئی حق باقی نہیں۔ یہ وہ حق ہے جو آج یورپ و امریکا کے بیش تر ممالک میں بھی عورت کو نہیں ملا ہے۔

دیوانی اور فوج داری قوانین میں: دیوانی اور فوج داری کے قوانین میں عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات قائم کی گئی ہے۔ جان و مال اور عزت کے تحفظ میں اسلامی قانون عورت اور مرد کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں رکھتا۔

معاشی مساوات

سب سے اہم اور ضروری چیز جس کی بدولت تمدن میں انسان کی منزلت قائم ہوتی ہے اور جو آج مساوات مردو زن کے نعرے کا سب سے بڑا اور اہم پہلو ہے۔ وہ معاشی حیثیت کی مضبوطی ہے۔ ذرا غور فرمایئے کہ اسلام نے عورت کو کمانے کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے بھی معاشی لحاظ سے اسے نہ صرف مرد کے مساوی بلکہ زیادہ بہتر مقام عطا کیا ہے۔

حقِ ملکیت: عورت کی ملکیت کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ عورت اپنے مال کی خود مالک و مختار ہے۔ اس کے باپ، اس کے شوہر اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کو اس میں مداخلت کا اختیار نہیں۔ اس ضمن میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اپنے شوہر کے مال پر تصرف کا حق تو اسے دیا گیا لیکن اس کے ذاتی مال پر اس کی اجازت و مرضی اور خوشی کے بغیر کسی کو تصرف کا حق حاصل نہیں۔      وہ تجارت کرسکتی ہے یا کوئی منافع بخش کام۔ اس کے اپنے تصرف میں کوئی دخیل نہیں ہوسکتا۔

نفقہ کی ذمہ داری: عورت بحیثیت بیوی خواہ کتنی ہی مال دار ہو، اُس کا نفقہ بہرحال اس کے شوہر کے ذمے ہے، جو اس کے شوہر کی مالی حیثیت کے اعتبار سے، یعنی بقدر استطاعت طے کیا جائے گا۔ اس بارے میں مرد کی کوتاہی کی صورت میں شرعی عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کا شوہر نادار اور تنگ دست ہے اور اس کی معاونت کے طور پر وہ اپنا مال اس کے حوالے کرتی ہے تو یہ بہترین صدقہ بن جائے گا۔ اس پر اسے عنداللہ ثواب ملے گا۔ شوہر نہ ہونے کی صورت میں بھی قریب ترین مرد، باپ، بھائی وغیرہ کفالت کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں۔ اس کو خود اپنے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

حق مہر: بیوی حقِ زوجیت کے طور پر مہر کی مستحق ہے اور مہر کا ادا کرنا فرض ہے۔

وراثت کا حق: اپنے باپ، شوہر، اولاد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے اسے وراثت ملتی ہے۔ وراثت میں عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں نصف اس لیے رکھا گیا ہے کہ عورت کو نفقہ اور مہر کے حقوق حاصل ہیں جن سے مرد محروم ہے اور مرد پر ہر حالت میں اس کی کفالت واجب ہے۔ جب عورت پر وہ ذمہ داریاں نہیں جو مرد پر ہیں تو وراثت میں بھی اس کا وہ حصہ نہ ہونا چاہیے جو مرد کا ہے۔ بیوی خواہ کتنی ہی مال دار ہو، اس کا شوہر نہ تو اس کے مال پر تصرف کا حق رکھتا ہے، نہ اس کے نفقہ سے بری الذمہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح اسلام میں عورت کی معاشی حیثیت اتنی مستحکم ہوگئی ہے کہ بسااوقات وہ مرد سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتی ہے۔ گویا اس میدان  میں بھی عورت مرد سے مساوی سے بھی بہتر درجہ رکھتی ہے۔

اب ذرا مقابلہ کیجیے کہ یورپ عورت کو کمانے والا فرد بنا کر بھی اس کو وہ معاشی برابری اور استحکام عطا نہ کرسکا جو اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنا کر معاشی مسئلے سے بے فکر رکھ کے کردیا ہے۔

حصولِ علم اور تعلیم و تربیت

عورتوں کو نہ صرف دینی اور دنیوی تعلیم سیکھنے کی اجازت دی گئی بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کو اس قدر ضروری قرار دیا گیا ہے جس قدر مرد کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین و اخلاق کی تعلیم جس طرح مرد حاصل کرتے تھے اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں۔ اشراف تو درکنار نبیؐ نے لونڈیوں تک کو علم و ادب سکھانے کا حکم دیا تھا۔ آپؐ کی ازواجِ مطہراتؓ اور خصوصاً حضرت عائشہؓ نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کی بھی معلّمہ تھیں اور بڑے بڑے صحابہ و تابعین ان سے حدیث و تفسیر اورفقہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ پس جہاں تک نفس تعلیم و تربیت کا تعلق ہے، اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا ہے، البتہ نوعیت میں فرق ضروری ہے کیوں کہ دائرۂ عمل الگ الگ ہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر سے عورت کے لیے صحیح تعلیم وتربیت وہ ہے جو اس کو بہترین بیوی اور بہترین ماں بنائے اور اس کا دائرۂ عمل گھر ہے۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کو ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرے میں اسے زیادہ مفید بنا سکتے ہیں۔ مزیدبرآں وہ علوم بھی اس کے لیے ضروری ہیں جو انسان کو انسان بنانے والے اوراس کے اخلاق کو سنوارنے والے اور اس کی  نظر کو وسیع کرنے والے ہیں۔ ایسے علوم اور ایسی تربیت سے آراستہ ہونے کا حق اسلام نے ہرمسلمان عورت کو دیا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی عورت غیرمعمولی عقلی و ذہنی استعداد رکھتی ہو اور ان علوم کے علاوہ دیگر علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنی چاہے، تو اسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لیے مقرر کی ہیں۔

دینی خدمت اور تنظیم و اجتماع

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جس طرح مردوں پر عائد کیا گیا ہے، اسی طرح اسلام نے عورتوں پر بھی شہادتِ حق کی عظیم ذمہ داری ڈالی ہے اور ان کو اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا، البتہ عورت کے مخصوص دائرۂ عمل کو اس میدان میں بھی ملحوظ رکھا ہے۔ اس کے اُوپر بھی مرد کی طرح اپنوںاور گھروالوں کو حق پر ثابت قدم رکھنے کے ساتھ دیگر افرادِ معاشرہ خصوصاً خواتین کی خیرو صلاح کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اسلامی نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد میں وہ اپنے بھائیوں، باپوں، شوہروں اور بیٹوں کو اس ذمہ داری کے لیے آمادہ کریں، اور اس کے بعد معاشرے میں اقامتِ دین کا فریضہ انجام دیں۔ ثمرہ بنت نہیک کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بازاروں میں گھوم پھر کر بھلائی کا حکم دیتیں اور برائی سے روکتی تھیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں کوڑا ہوتا تھا جس سے وہ لوگوں کو منکر کے ارتکاب پر مارتی تھیں۔ اس معاملے میں خواتین اُمت نے نہ تو رعایا کی پروا کی اور نہ فرماں روائوں اور حاکموں کی۔ ان کے ایمانی جذبات نے جس طرح دین کے کھلے دشمنوں کا مقابلہ کیا، اسی طرح دین کے نام لیوائوں کے تضادِ فکروعمل کو بھی برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ کلمۂ حق کے اظہار میں نہ تو باطل کی بڑی سے بڑی قوت ان کے لیے مانع نہیں اور نہ جابر وسخت گیر حکام کی زیادتی و سختی۔ یہ حق عورت کو اسلام نے ہی دیا ہے۔ گویا شریعت کی بتائی ہوئی اخلاقی حدود کے اندر رہ کر جس طرح مرد تنظیم و احتجاج کی آزادی کا حق رکھتا ہے، اسی طرح عورت بھی برابر یہ حق رکھتی ہے، بشرطیکہ تنظیم سازی اور اجتماع بھلائی کے فروغ اور برائی کے انسداد کے لیے ہو۔

سیاسی زندگی میں شرکت

اسلام نے عورت کو خانگی زندگی سے متعلق ضرور کیا ہے مگر اس کی فکروعمل کی دنیا کو محدود نہیں کیا۔ دائرۂ عمل کی تقسیم کے اعتبار سے سیاست، ملکی انتظام، فوجی خدمات اور اسی طرح کے دوسرے دفاعی، معاشرتی، معاشی اور صنعتی امور مردوں کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام عورت کو معاشرت و تمدن کی دوسری اہم اور ضروری خدمات کے لیے ان جھمیلوں سے الگ رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کے باوجود عورت اگر خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد اپنے حالات، ذوق اور رجحان کے لحاظ سے زندگی کے ُمختلف میدانوں میں حصہ لینا چاہے تو اسلام اسے نہیں روکتا۔ تاہم، اس کے لیے کچھ اخلاقی حدود قائم کرتا ہے جو عین فطرت کے مطابق اور مقصود انسانیت تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ ایک یہ کہ عورت ہر حال میں اپنی حقیقی پوزیشن پر نظر رکھے۔ باہر کی ذمہ داریاں اتنی نہ بڑھائے کہ اس کے اصل خانگی فرائض ادھورے رہ جائیں۔ دوسرے یہ کہ    وہ اپنے شوہر کی اطاعت کرے۔ تیسرے یہ کہ اگر مسلمان عورت اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے ساتھ گھر سے باہر مختلف تعلیمی و دینی اور سماجی خدمات انجام دے تو یہ حقیقت نظرانداز نہ کرے کہ شریعت نے، اس کے اور اجنبی مردوں کے درمیان اخلاق و قانون کی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔ چنانچہ وہ باہر نکلے تو مکمل اسلامی قدروں اور پابندیوں کو ملحوظ رکھ کر۔ اس طرح ایک باصلاحیت خاتون ایک طرف وہ سارے کام کرسکتی ہے جو خاص طور پر عورتوں کے کرنے کے ہیں، اور دوسری طرف وہ پردے میں رہتے ہوئے مختلف سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہے۔ یہ دائرے چونکہ عورت کے لیے کلیتاً ممنوع نہیں ہیں اور خود اسلامی ریاست کو بھی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ عورتوں کے مسائل، ضروریات اور تعلیم و ترقی کے بارے میں مناسب اقدامات کرے، اس لیے شرعی حدود کا احترام کرتے ہوئے اگر خواتین کے ادارے ہرسطح اور ہر پہلو سے جداگانہ ہوں، مثلاً ان کی اپنی تعلیم گاہیں، ہسپتال، یونی ورسٹیاں اور کونسلیں قائم ہوں تو وہ وہاں بھی مرد کے شانہ بشانہ قومی ترقی میں اپنا حصہ مؤثر طریقے سے ادا کرسکتی ہے۔

حصولِ انصاف میں مساوات

اسلام نے نہ صرف بنیادی حقوق میں عورت کو فضیلت و برتری عطا کی بلکہ ان حقوق کے غصب ہوجانے کی صورت میں اسے عدل حاصل کرنے کا مکمل حق عطا فرمایا۔ ان حقوق کی حفاظت کے مواقع عطا کرتے ہوئے اسے قانونی چارہ جوئی کا حق مردوں کے برابر عطا کیا کیونکہ اسلامی معاشرہ عورت پر ظلم و زیادتی کو بہرے کانوں سے نہیں سنتا، اور اندھی آنکھوں سے نہیں دیکھتا، بلکہ  وہ اس کے حقوق کا پاسبان و محافظ ہوتا ہے اور عدل و انصاف کے لیے اس کی ہر فریاد کا جواب دینا  اپنا فرض سمجھتا ہے۔

ایک صحابیؓ نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک مال دار شخص سے کر دیا۔ لیکن لڑکی اس شخص کو پسند نہیں کرر ہی تھی۔ اس نے حضوؐر سے عرض کی: میرے والد نے میری شادی اپنے ایک دولت مند بھتیجے سے کر دی ہے تاکہ اپنی کشایش کا سامان کرے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تجھ کو یہ عقد پسند نہیں ہے تو تو آزاد ہے۔ اس نے کہا : میرے والد نے جو اقدام کیا ہے میں اس کو بحال کرتی ہوں، بلکہ میں چاہتی ہوں کہ عورتوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی مرضی کے خلاف باپوں کو ان کے نکاح کا حق نہیں ہے۔

مساوات سے بڑہـ کر حُسنِ سلوک

اسلام نے مردوں کو عورتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور فیاضانہ برتائو کی خصوصی ہدایت کی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ(النسآء۴:۱۹) ’’عورتوں کے ساتھ نیکی کا برتائو کرو‘‘۔ پھر فرمایا: ’’آپس کے تعلقات میں فیاضی کو نہ بھول جائو‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں‘‘۔ گویا مرد کے کردار کو جانچنے کے لیے معیار بھی عورت کو بنایا گیا۔

مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ہم نے دیکھا کہ جو حقوق ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، ان میں اسلام عورت کو نہ صرف مرد کے مساوی قرار دیتا ہے، بلکہ وہ صرف نسل انسانی کی امین و پرورش کنندہ بن کر مرد سے زیادہ محترم، اس سے تین گنا زائد خدمت کی مستحق، اور اپنے پائوں تلے جنت رکھنے والی ہستی بن جاتی ہے۔

مساوات مرد و زن اور معاشرتی تقسیم

جیساکہ واضح ہوچکا ہے کہ اسلام ایک طرف معاشرتی و اجتماعی دائرے کے اندر مرد و زن کی کامل مساوات کا مدعی ہے، اور کسی پہلو سے بھی مرد کے لیے کسی قسم کی ترجیح تسلیم کرنے کا روادار نہیں ہے، کیونکہ فطرت نہ تو کسی کو زیادہ چاہتی ہے اور نہ کسی سے دشمنی رکھتی ہے۔ لہٰذا اس نے عورت کو عورت کی جگہ رکھ کر اور مرد کو مرد کے مقام پر مساوی درجہ دیا ہے لیکن دوسری طرف معاشرتی نظام میں وہ مرد کو عورت پر ایک درجہ ترجیح دیتا ہے اور اس ترجیح کو نظامِ معاشرت میں توازن قائم رکھنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ (النسآء ۴:۳۴) مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس کی بنا پر کہ   اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔

قوام کا مفھوم و اھمیت

ترجیح کے اس مسئلے کو سمجھنے سے پہلے آیئے دیکھیں کہ قوام کس کو کہتے ہیں؟

قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا اجتماعی نظام کے معاملات کو چلانے، اس کی حفاظت و نگرانی کرنے اور اس کے لیے مطلوبہ ضروریات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہو۔ مرد اِن تینوں معنوں میں قوام یا قیم ہے۔

ایک خاندان سے لے کر ریاست تک پھیلے ہوئے سیکڑوں اداروں میں سے کسی ایک کی نشان دہی کردیجیے جہاں سربراہ اور منتظم اعلیٰ نہ ہو یا ایک سے زائد ہوں اور وہ بالکل یکساں اور مساوی اختیارات رکھنے والے ہوں۔’وحدت‘ اس کائنات ہی کے نظم و انصرام تک محدود نہیں۔ یہ ہرچھوٹے سے چھوٹے انتظامی یونٹ کے لیے بھی ضروری ہے جہاں مساوی اختیارات اور حیثیت کی ثنویت ہوگی وہاں سرے سے کوئی نظام چل ہی نہیں سکتا۔ ہسپتال، کالج، کارخانے سے لے کر ملک و ریاست تک ہر اجتماعی ادارے میں سربراہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دوسرے اداروں کی طرح خاندان اور گھر میں جو کہ اجتماعیت کا بنیادی یونٹ ہے، سربراہی کی ضرورت نہ ہو؟

خانگی زندگی کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے بہرحال زوجین میں سے ایک کا قوام اور صاحب ِامر ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں بالکل مساوی درجے اور مساوی اختیارات رکھنے والے ہوں تو بدنظمی کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ جیساکہ فی الواقع ان قوموں میں رونما ہورہی ہے، جنھوں نے عملاً زوجین کے درمیان اس قسم کی مساوات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے، اس لیے اس نے انسانی فطرت کا لحاظ کرکے زوجین میں سے ایک کو خاندان کا سربراہ اور سرپرست مقرر کیا ہے اور یہ حیثیت مرد کو دی ہے۔ مرد کے قوام اور ایک درجے اُوپر ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہ اپنے خاندان کا منتظم اور کفیل ہے اور حضوؐر کی ایک حدیث کے مطابق اُس سے اس ذمہ داری کے سلسلے میں خدا کے ہاں بازپُرس ہوگی۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے مرد حاکم اور عورت محکوم بن گئی؟ کیا مرد آقا اور عورت لونڈی بن گئی اور اس کے عزت و احترام میں فرق آگیا؟

اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ کیا وہ اجتماعی ادارے جہاں مرد مردوں کے سربراہ اور قوام ہیں، کیا وہاں مرد مردوں کے غلام ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ معاملہ صرف عورت ہی کے ساتھ کیوں اُلٹ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک عزت و احترام کا تعلق ہے، اس کا ’مساواتِ فرائض‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ پرائمری سکول کا ایک مشفق اور ایمان دار استاد ڈپٹی کمشنر سے زیادہ لائق احترام ہے، حالانکہ وسائل، اختیارات اور عہدے کی شان و شوکت کے لحاظ سے ان دونوں کے درمیان کوئی مساوات نہیں۔ کسی کے زیرکفالت ہونا بھی کوئی تحقیر و تذلیل کی بات نہیں۔ اگر بچوں اور نوجوان اولاد کی عزتِ نفس یہ کہنے سے مجروح نہیں ہوتی کہ ان کا باپ ان کا کفیل ہے یا ضعیف والدین اپنے بچوں کے زیرکفالت آکر ذلیل و خوار نہیں ہوتے، تو عورت کے لیے محض یہ بات کہ مرد اس کا کفیل ہے کیونکر وجۂ ندامت و شرمندگی ہے۔ وہ کیوں اس فکر میں مبتلا ہوگئی ہے کہ شوہر کی طرح جب تک معاشی سرگرمیوں کا بار نہ اُٹھائے اسے مساوی حیثیت اور عزت حاصل نہیں ہوسکتی۔

مرد ھی قوام کیوں ؟

مرد کو قوام بنانے کی وجوہات خود شریعت ہی واضح کرتی ہے، جو یہ ہیں:

  •  فطری دائرہ عمل: تمدن کی جو اعلیٰ خدمات عورت سے لینا مطلوب ہیں اور جس مقصد کے لیے تخلیق کا بار اس پر ڈالا گیا، ان تمام مقاصد کے لیے ضروری تھا کہ اس کو معاشرے میں تحفظ و تکریم نصیب ہو۔ اس لیے بیرونی ماحول اور اس کی کثافتوں سے محفوظ کرنے کا انتظام کیا گیا۔ معاشرت، خاندانی زندگی، پردے اور غضِ بصر کے احکامات اس کو یہ تحفظ، تکریم اور وقار بخشتے ہیں۔ عورت کی نسائیت اور فطرت کو برقرار رکھنے کے لیے مرد کو ہی قوام بنانا ناگزیر تھا۔ عورت کے   دائرۂ عمل کو واضح کرتے ہوئے آنحضورؐ نے فرمایا: اَلْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِھَا وَھُوَ مَسْئُوْلہ (بخاری)، یعنی عورت اپنے شوہر کے گھر کی حکمران ہے اور وہ اپنی حکومت کے دائرے میں اپنے عمل کے لیے جواب دہ ہے۔

یہ دائرۂ عمل عین اس کی فطرت کے مطابق ہے۔ چنانچہ خدا نے مرد کو قوام بناکر عورت کا معاشی کفیل بنا دیا اور اس کی عزت و ناموس کے تحفظ اور جملہ ضروریات کی فراہمی کا ذمہ دار بناکر عورت کو خود دوسرے عظیم تر مقصد کی تکمیل کے لیے فارغ کر دیا۔ اس کا اصل کام نسلِ انسانی کی امانت کو سنبھالنا، خونِ جگر سے اسے پروان چڑھانا، تعلیم و تربیت دینا اور یوں انسانی معاشرے کو اس کا سب سے قیمتی سرمایہ مہیا کرنا ہے۔ اسی خدمت نے اسے عظمت کے اس مقام پر پہنچایا کہ جنت اس کے قدموں تلے اور باپ کے مقابلے میں تین گنا زائد خدمت کا حق دار ٹھیرایا۔ یہ مقام اس ’مساوات‘ سے بہت بلندوبالا ہے، جس کے لیے آج اس عظیم ہستی کو دوڑایا جا رہا ہے۔

  •   مالی کفالت: مرد کو قوام بنانے کی دوسری بڑی وجہ اُسی آیت میں انھی الفاظ سے متصل ہمیں مل جاتی ہے جس میں مرد کو قوام بنانے کا حکم دیا گیا:

وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ (النسآء ۴:۳۴) اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔

یعنی مرد پر خاندان کے لیے روزی کمانے اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے اور سواے کسی استثنائی صورت کے خاندان کی کفالت کا بوجھ مرد اُٹھاتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہی اس بوجھ کے اُٹھانے کے لائق ہے۔ بیوی بچوں کے نفقے کا قانونی ذمہ دار مرد ہی ہے، عورت نہیں۔ اس لیے مرد ہی اس بات کا سزاوار ہے کہ اس ذمہ داری کی نسبت اس کو سربراہ یا قوام کا حق بھی دیا جائے۔

  •  فطری و جسمانی ساخت: یہ ایک حقیقت ہے کہ ہرشخص میں ہرقسم کے کام کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ کوئی کسی کام کے لیے موزوں ہے تو کوئی کسی دوسرے کام کے لیے ناموزوں ہوگا۔ کسی کی جسمانی ساخت محنت اور مشقت برداشت کرے گی تو کوئی بالکل اس کے قابل نہ ہوگا۔ کوئی سائنسی تحقیقات کا اہل ہے تو کوئی آرٹسٹ بننے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ صلاحیتوں کا یہ اختلاف یوں تو ہر دو افراد کے درمیان پایا جاتا ہے لیکن جہاں انسانوں کی ایک صنف کا دوسری صنف سے مقابلہ کیا جائے تو یہ اختلاف بہت ہی واضح اور نمایاں نظر آنے لگتا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان یہ اختلاف شریعت کی نگاہ میں فکری و عملی دونوں پہلوئوں سے ہے۔ چنانچہ عورتوں کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: نَاقِصَاتُ عَقْلٍ وَّ دِیْنٍ (بخاری) یہاں عقل سے اس کے قواے ذہنی کی طرف اشارہ ہے اور دین سے اس کی جسمانی طاقتیں مراد ہیں، یعنی ان دونوں پہلوئوں سے وہ مرد سے کمزور اور ناقص واقع ہوئی ہے۔ (سید جلال الدین انصرعمری، عورت اسلامی معاشرہ میں، ص ۲۰۰)

جدید تحقیقات نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ عورت کا دماغ مرد کے دماغ سے چھوٹا ہے (مولانا محمد ظفیرالدین، اسلام کا نظامِ عفت و عظمت، ص ۲۴۷)۔ پھر عورت ہر حال میں یکساں توانا اور تندرست نہیں رہتی۔ اس پر زندگی میں کچھ زمانہ ایسا گزرتا ہے جس میں وہ بڑی حد تک بیکار ہوجاتی ہے اور دوسرے کی امداد و اعانت کی محتاج رہتی ہے۔ میری مراد حمل، رضاعت، بچوں کی تربیت اور حیض و نفاس کے زمانے سے ہے۔ جذبات کی فراوانی، حیا و حیات کی نزاکت، انتہاپسندی کی جانب میل اور التفات عورت کی فطرت ہے اور یہ نسائیت کے لیے عیب نہیں، اس کا حُسن ہے۔ اس سے جو کچھ بھی فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے، فطرت پر قائم رکھ کر ہی اُٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کو مردوں کی طرح سیدھا اور سخت بنانا اس کو توڑنے کے مترادف ہے۔

چنانچہ شریعت اسلامی نے اس کی ان کمزوریوں کو صرف تسلیم ہی نہیں کیا ہے بلکہ زندگی کے ہرپہلو میں ان کی رعایت کی ہے۔ چونکہ دنیا میں کام ایک طرح کے نہیں ہوتے۔ چھوٹے بڑے، اہم اور غیراہم ہرطرح کے ہوتے ہیں۔ ان کے انجام دینے کے لیے اسی نوعیت کی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں اور مرد ذہنی و جسمانی توانائیوں میں عورت سے مضبوط ہوتا ہے۔ وہ زیادہ قوی و توانا ہوتا ہے۔ غیرجذباتی اور مستقل مزاج ہوتا ہے، اور عورت کے برعکس عام طور پر یکساں ایک جیسی حالت میں رہتا ہے۔ اس لیے اس کو قوام بنا کر اس کو وہی کام دے دیے جو اس کی فطرت اور صلاحیتوں کے مطابق تھے، مثلاً بیرونی ذمہ داریاں، معاشی بوجھ، دفاع اور حکومت کے فرائض وغیرہ۔

غور کیجیے یہ تمام وجوہات عین فطرت کے مطابق ہیں، عورت کی بھی اور مرد کی بھی۔ یہ فطرت خالق کی عطاکردہ ہے۔ کسی صنف نے خود اسے حاصل نہیں کیا۔ اسی طرح فضیلت کے حصول میں مرد کی اپنی کسی کوشش یا خواہش کا کوئی دخل نہیں۔ یہ خالق کائنات کی اپنی اسکیم ہے، جس کے تحت اس نے مرد اور عورت کے درمیان یہ درجہ بندی کی ہے۔ اس پر اعتراض کرنے اور اس کے خلاف چیخنے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہم قدرت کی اس تقسیم سے راضی نہیں ہیں۔    لہٰذا اب اگر کسی ناقص العقل کو اس ترجیح اور تقسیم پر اعتراض ہو تو اسے کم عقلی ہی کہا جاسکتا ہے۔

فطری معاشرتی تقسیم کو نہ ماننے کے نتائج

یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ قدرت کی اس تقسیم کے خلاف جب بھی انسان نے کوئی کام کیا وہ تباہ و برباد ہی ہوا۔ عورت نے خالق کی تقسیم کے مطابق ایک مرد کی خدمت کو محکومی سمجھا تو وہ ایئرہوسٹس، ٹیلی فون آپریٹر، پرائیویٹ سیکرٹری، اور مزدور کی حیثیت سے ہر جگہ سیکڑوں مردوں کی محکوم بن گئی۔ پارلیمنٹ ہو یا بنک، سیاسی جماعتیں ہوں یا ٹریڈ یونینیں، تنظیمیں، دفاتر ہوں یا کارخانے، وزارتِ دفاع ہو یا وزارتِ داخلہ، عام کاروباری ادارے ہوں یا ڈیپارٹمنٹل سٹور جیسی وسیع دکانیں، ہے کوئی ایسی جگہ جہاں عورت کی بالادستی توکجا، اس کی مساوی حیثیت بھی تسلیم کی گئی ہو؟ جو عورت صرف اپنے شوہر کا بستر بچھایا کرتی تھی وہ اب بڑے بڑے ہوٹلوں، کلبوں اور تفریحی مقامات پر سیکڑوں اجنبی مردوں کے بستر آراستہ کرتی ہے۔ جو اپنے ایک شوہر اور بچوں کو انس و محبت کی فضا میں کھانا کھلاتی تھی وہ اب ہوٹلوں اور کلبوں کی میزوں پر ہزاروں مردوں کو کھانا کھلاتی، شراب پلاتی اور ان کی جھڑکیاں سنتی ہے۔ ان کے فحش بے ہودہ کلمات کا نشانہ بنتی ہے۔ ان کے ہاتھوں اپنی آبرو لٹاتی ہے اور عزت و احترام کے بجاے ذلت و خواری اس کا مقدر بنتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یورپ نے اور اس کی اندھی تقلید کرنے والوں نے عورت کو دیا تو کچھ نہیں، البتہ اس سے سب کچھ چھین لیا۔ اس کا گھر، اس کا سکون، اس کی عزت و آبرو، اس کا حُسن، اس کا جسم اور اس کی توانائیاں___ اس کا زبردست استحصال کیا اور اسے ظلم کی چکی میں پیس ڈالا۔ اسے ’حقوق‘ کے نام پر بیوقوف بنایا گیا۔ وہ فریب خوردگی کا شکار بن کر اپنی آبرومندانہ زندگی اور مقدس و محترم حیثیت کھو بیٹھی ہے۔ عورت کو ذلت و پستی میںدھکیلنے اور کفالت کے تمام سہاروں سے محروم کر کے اپنی روزی آپ کمانے کی مصیبت میں مبتلا کرنے کی ابلیسی تدابیر نے جس پُرفریب نعرے کے جلو میں اسے آگے بڑھایا ہے وہ ’مساوات مردو زن‘ ہی کا نعرہ ہے۔

عورت کے لیے حقیقی مساوات

بلاشبہہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جو آج سے چودہ سو سال قبل خالق کائنات نے محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک مساواتِ مرد وزن کا قاعدے اور کلیے کی طرح اٹل قانون پہنچادیا کہ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ، ’’جس طرح کے حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں، اس کے مثل خود عورتوں کے مرد پر ہیں‘‘، وہی قانون درحقیقت مساوات کی بنیاد اور اعلان ہے۔ اب   بھی اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ مرد کی قوامیت سے عورت کے حقوق غصب ہوگئے ہیں تو مندرجہ بالا بنیادی حقوق میں سے ہر ایک کو باری باری لے لیجیے، اور اُوپر کے مباحث کی روشنی میں مردوں کے ساتھ تقابل کرلیجیے۔ اگر آپ تعصب اور خود فریبی میں مبتلا نہیں ہیں تو آپ لازماً پکار اُٹھیں گے کہ بلاشبہہ صرف اسلام ہی ایسا دین اور ضابطہ ہے جس نے عورتوں کو مردوں سے کہیں زیادہ حقوق عطاکیے ہیں۔ ہاں، مرد قوام ہونے کی حیثیت سے بلاشبہہ عورت سے بلند تر ہے لیکن فرائض کے معاملے میں۔

عورت مظلوم کیوں؟

حقوق مرد و زن کے بارے میں اپنے دین سے جامع اور مکمل قانون پالینے کے بعد اور حقوق مرد وزن میں ایسی متوازن مساوات جان لینے کے بعد بھی ایک سوال چبھن کی طرح ذہن کی وادی میں کھٹکتا رہتا ہے کہ قرون اولیٰ کی چند صدیوں کے علاوہ عورت مظلوم کیوں رہی؟ دُور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہندستان میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں عورت کو کون سا ’عالی مرتبہ‘ بخشا گیا، اور آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورت کو کون سے مساوی حقوق دیے جارہے ہیں۔

اس سوال کا جواب بے حد آسان ہے۔ اگر چشم بینا استعمال کی جائے سب سے اہم اور بنیادی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی حکومت اور اسلامی حکومت بدقسمتی سے یہ دو الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جو مسلمانوں کی حکومت ہو، وہ عین اسلامی بھی ہو۔ مسلمانوں کے عہدِحکومت میں کہیں مغربیت غالب رہی اور کہیں مشرقیت۔ اور ایسی رسوم ورواج معاشرے میں پروان چڑھیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ عورتوں کے حقوق کا مسئلہ بھی شومئی قسمت سے اسی سلوک سے دوچار ہوا اور اس بُری طرح مسخ ہوا کہ اس میں اور اصل اسلامی قانونِ ازدواج میں ایک بہت ہی دُور کی مشابہت باقی رہ گئی۔ اب شرعِ اسلامی کے نام سے مسلمانوں کے ازدواجی معاملات میں جو قانون نافذ ہے وہ نہ صالح ہے نہ جامع اور نہ مکمل۔ اس کے نقائض نے مسلمانوں کی تمدنی زندگی پر اتنا بُرا اثر ڈالا ہے کہ شاید کسی دوسرے قانون نے نہیں ڈالا۔

اگر ایک اسلامی حکومت بھی یوتھ فیسٹیول اور کھیلوں کی نمایش اور ڈراموں اور رقص و سُرود اور مقابلۂ حسن میں مسلمان عورتوں کو لائے، یا ایئرہوسٹس بناکر مسلمانوں کے دل موہنے کی’ خدمت‘ دیتی ہے، توہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کہاں کی اسلامی حکومت ہے، اور پھر کفر اور کفار کی حکومت اور اسلامی حکومت میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ لہٰذا عورت اگر مظلوم رہی ہے یا ہے تو اس کی قطعی اور واحد وجہ یہ ہے کہ اس ٹوٹی پھوٹی اور خستہ حالت میں بھی اسلام جہاں اور جب بھی رہا ہے وہاں کی عورت کی حالت غیرمسلم معاشرے کی عورت سے بدرجہا بہتر رہی ہے۔ آج پاکستان میں عورت کی کتنی ہی گئی گزری حالت سہی، لیکن وہ یورپی عورت سے کئی درجے بہتر مقام پر ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سمجھ لیجیے کہ جہاں اسلام نافذ نہیں ہے، اسلامی نظام و قانون رائج نہیں ہے وہاں صرف عورت ہی نہیں مرد بھی مظلوم ہے۔ آپ جہاں کہیں بھی رہتے ہوں اردگرد کے گھرانوں پر نظر ڈال کر دیکھیے کہ مظلوم عورتوں اور مظلوم مردوں کی تعداد کا تناسب کیا ہے، اور کولہو کے بیل پر خود اپنے گھر میں کیا بیت رہی ہے؟

بازیابیِ حقوق کی مثبت جدوجھد

عورت کی مظلومیت کا اصل دائرہ وہ ہے جہاں اسے اسلام کے عطا کردہ حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور جہاں مرد خدا اوررسولؐ کے مقرر کردہ حقوق ادا نہیں کرتے۔ معاشی کفالت، مہر، نفقہ اور وراثت جیسے حقوق ادا نہیں کرتے۔ انھیں تعلیم و تربیت کے ایسے مواقع اور ایسے جداگانہ ادارے فراہم نہیں کرتے جہاں وہ اپنی فطرت، صلاحیت اور دائرہ عمل کے مطابق آزادی سے   علم حاصل کرسکیں، ان پر تشدد کرتے ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر تین طلاقیں دے مارتے ہیں۔ علیحدگی کی صورت میں ان کا مال غصب کرلیتے ہیں اور اس حق تلفی پر اسے انصاف بھی نہیں دیتے۔

یہ ساری صورتیں ظلم کی ہیں اور جو عورت یا مرد اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں، تحریک چلاتے ہیں، تنظیم قائم کرتے ہیں، وہ سب کارِثواب انجام دیتے ہیں۔ ہر صاحب ِ ایمان کے لیے ان سے تعاون کرنا واجب ہے۔ اسلام کے عطا کردہ ’حقوق‘ کی بازیابی کے لیے ایسی ہر تنظیم کی جدوجہد میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن حقوق کے نام پر ایک ’عیار گروہ‘ اگر عورت کی مظلومیت کے پردے میں ہماری خواتین کو مغرب کی عطاکردہ ’آزادی‘ کے رنگ میں رنگنا اور خاندان کی وحدت کو توڑ کر، تمدن کو برباد کر کے اس کو اپنی مخلوط محفلوں کی رونق بنانا چاہتاہے___ اس سے ہماری کھلی لڑائی ہے۔ اس لیے کہ اگر کوئی شخص یا گروہِ قرآنی ضابطے کے خلاف قدم اُٹھاتا ہے تو وہ خدا کی عطاکردہ عزت و احترام کو چیلنج کرتا ہے، اور ایک ایسے قانون پر حرف گیری کا مرتکب ہوتا ہے جس کا ایک ایک شوشہ تنقید سے بالاتر ہے اور جس کے ہر ہر حرف پر حق و صداقت کی مہر ثبت ہوچکی ہے۔

آیئے قرآن پر فیصلہ کرلیں!

مندرجہ بالا عقلی دلائل کی روشنی میں یہ ثابت ہوگیا کہ اسلام کے عطا کردہ حقوق مرد وزن کے مابین عین عدل و مساوات پر مبنی ہیں اور تجربے سے بھی یہ نتائج ظاہر ہوچکے ہیں کہ جب اور جہاںان اصول و قوانین سے رُوگردانی کی گئی، قوم کے اخلاق و تمدن پر روح فرسا اثرات مرتب ہوئے اور قوم تباہی کے گڑھے میں جاگری۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی قوانین علم، عقل، تجربے، مشاہدے، غرض ہرمعیار پر عین پورے اُترتے ہیں۔

اے اسلام کی دعوے دار میری بہنو! کیا آپ تجربے کی بنیاد پر اسلام کی حقانیت کو مانتی ہیں؟ کیا آپ کی نظر میں تجربات و مشاہدات اور دلائل کا وزن خدا اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے مقابلے میں زیادہ ہے؟ اگر آپ اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان کے دعوے میں سچی ہیں تو پھر آیئے ___ قرآن پر فیصلہ کرلیں، اور آج یہ اعلان کردیں کہ ہمیں شریعت کا ہر حکم قبول ہے!


مقالہ نگار تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں اور نائب ناظمہ حلقہ خواتین پنجاب ہیں

حقوق مرد و زن کا مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس قدر اہم ہے کہ اس کو تمام معاشرتی مسائل کی بنیاد قرار دیا جاسکتا ہے۔ خانگی زندگی کی ساری مسرتیں اور خوشیاں اس پر مبنی قرار دی جاسکتی ہیں۔ صرف افراد کا بننا اور بگڑنا ہی نہیں، بلکہ حکومتوں کے ضعف و استحکام کا بھی انحصار اسی پر ہے۔ اجتماعی زندگی میں مرد اور عورت کا تعلق دراصل تمدن کا سنگِ بنیاد ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ اگر اس میں ذرا سی بھی کجی آجائے تو  ع

تا ثریّا می زود دیوار کج

ایک طرف اس مسئلے کی یہ اہمیت ہے اور دوسری طرف اس کی پیچیدگی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ جب تک فطرت کے تمام حقائق پر کسی کی نظر پوری طرح حاوی نہ ہو۔ وہ اس کو حل نہیں کرسکتا۔ سچ کہا تھا جس نے کہا تھا کہ انسان عالمِ اصغر ہے۔ اس کے جسم کی ساخت، اس کے نفس کی ترکیب، اس کی قوتیں اور قابلیتیں، اس کی خواہشات، ضروریات اور جذبات و احساسات اور اپنے وجود سے باہر کی بے شمار اشیا کے ساتھ اس کے فعلی و انفعالی تعلقات، یہ سب چیزیں ایک دنیا کی دنیا اپنے اندر رکھتی ہیں۔ انسان کو پوری طرح نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ اس دنیا کا ایک ایک گوشہ  نگاہ کے سامنے روشن نہ ہوجائے، اور انسانی زندگی کا یہ بنیادی مسئلہ بھی حل نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ خود انسان کو پوری طرح نہ سمجھ لیا جائے۔

انسانی علوم میں سے کوئی علم بھی ایسا نہیں ہے جو کمال کے آخری مرتبہ پر پہنچ چکا ہو، یعنی جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہو کہ جتنی حقیقتیں اس شعبۂ علم سے تعلق رکھتی ہوں ان سب کا اس نے احاطہ کرلیا ہے۔ اب تک جو حقائق سامنے آچکے ہیں ان کی وسعتوں اور باریکیوں کا بھی یہ عالم ہے کہ انسان کی نظر ان سب پر بیک وقت حاوی نہیں ہوسکتی۔ ایک پہلو سامنے آتا ہے تو دوسرا پہلو نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ کہیں نظر کوتاہی کرتی ہے اور کہیں شخصی رجحانات نظر میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس دوہری کمزوری کی وجہ سے انسان خود اپنی زندگی کے ان مسائل کو حل کرنے کی جتنی بھی تدبیریں کرتا ہے وہ ناکام ہوتی ہیں اور تجربہ آخرکار ان کے نقص کو نمایاں کردیتا ہے۔ صحیح حل صرف اسی وقت ممکن ہے، جب کہ نقطۂ عدل کو پا لیا جائے ،اور نقطۂ عدل پایا نہیںجاسکتا جب تک کہ تمام حقائق اور اس کے تمام پہلوئوں پر یکساں نظر ہو اور یہ نظر کسی انسان کی نہیں بلکہ خالقِ انسان کی ہوسکتی ہے، جس نے واقعی مرد و زن کے حقوق میں کمال درجہ توازن اور نہایت عادلانہ نظام قائم کرکے انسان کو دیا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جو حقوقِ انسانی کا علَم بردار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو افراط وتفریط سے بچاتے ہوئے نقطۂ عدل کا راستہ دکھاتا ہے۔

انسانی زندگی کی تقسیم

کسی نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام کے مختلف پُرزوں کو صحیح جگہ پر رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام چلانے کے لیے خود اس کے لیے یہاں کے کارپردازوں کا مقام متعین کردیا ہے تاکہ اس میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ نظامِ کائنات کو خالقِ کائنات نے بنایا ہی اس اصول پرہے کہ اس کے تمام افراد و عناصر اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کے لیے مجبور ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کسی پہلو سے ناقص اور کسی پہلو سے مستغنٰی ہے۔ ہر ایک کسی پہلو سے مطلوب اور کسی اعتبار سے طالب بھی ہے، اور باہمی تعاون سے یہ اپنے اپنے خلا کو بھرتے ہوئے مقصودِ حیات کو پانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ زمین و آسمان، شب و روز، گرمی و سردی، بحروبّر، ان سب میں اسی نوعیت کا رابطہ ہے۔ ان میں سے بجاے خود نہ کوئی دوسرے سے مستغنٰی ہے اور نہ ان میں سے کسی کو یہ دعویٰ کرنے کا حق ہے کہ اس نظامِ کائنات میں جو مقام اس کا ہے کسی دوسرے کا نہیں، یا جو مقصد اس کے ذریعے سے پورا ہو رہا ہے وہ کسی درجے میںاور کسی نوعیت سے اُس مقصد سے ارفع ہے جو دوسرے کے ذریعے سے پورا ہو رہا ہے۔

غور کیجیے کہ اس اعتبار سے ان تمام اجزاے مختلفہ میں جو حیرت انگیز مساوات ہے کیا کوئی شخص اس مساوات کا انکار کرنے کی جرأت کرسکتا ہے؟ لیکن اس مساوات کے باوجود کبھی آپ نے دیکھا کہ محض اس زعم کی بنا پر کہ ہم آپس میں بالکل مساوی ہیں زمین آسمان سے جاٹکرائی ہو، چاند نے سورج کے مدار میں گردش شروع کر دی ہو، رات نے دن کی حدود میں مداخلت کر دی ہو، سردی نے گرمی کا روپ دھار لیا ہو، اور سمندر نے خشکی پر یلغار کردی ہو۔ اگر خدانخواستہ یہ ہوجائے اور دن دو دن کے لیے نہیں صرف چند لمحوں کے لیے ہی ہوجائے تو یہ سارا نظامِ کائنات درہم برہم ہوکے رہ جائے۔ ٹھیک اسی اصول پر عورت اور مرد دونوں مساوی ہیں۔ زندگی کی گہما گہمی اور نشیب و فراز میں ہمیشہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے مددگار اور معاون رہے ہیں۔ زندگی کے بارِگراں کو دونوں نے سنبھالا ہے۔ تمدن کا ارتقا دونوں کے اتحاد سے عمل میں آیا ہے۔ دونوںتہذیب کے معمار ہیں۔ انسانی مقصودِ حیات کی ذمہ داری دونوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ زندگی مرد اور عورت دونوں ہی کی محتاج ہے۔ جس طرح مرد اپنا مقصدِ وجود رکھتا ہے اسی طرح عورت کی تخلیق کی بھی ایک غایت ہے اور قدرت ان دونوں اصناف کے ذریعے مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کر رہی ہے۔

مرد اور عورت کے اپنے اپنے دائرۂ عمل

مرد اور عورت گو، زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں لیکن دونوں کا دائرۂ عمل الگ الگ ہے۔ اس فرق کا اظہار دونوں کو ایک ہی نوع کے دو افراد بنانے کے باوجود مختلف انداز کا وجود عطا کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ایک کے وجود کو نوعِ انسانی کی پیدایش میں اضافہ کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے، اور دوسرے کے وجود کو جسمانی محنت و مشقت اور بیرونی معاشرتی تگ و دو کے لیے خصوصی بناوٹ دی گئی ہے۔ قدرت کے اس خصوصی انداز کو نہ ہم نظرانداز کرسکتے ہیں، نہ ہم بدل سکتے ہیں اور نہ عبث قرار دے کر کارخانۂ حیات میں تقسیمِ کار کے اصول کو نظرانداز کرسکتے ہیں۔ مرد و عورت کے لیے الگ نوعیت کے جسم کی بناوٹ اور ان کی فطرت میں الگ نوعیت کے رجحانات قدرت کی تخلیق کے مقصد کو بیان کرنے کے لیے بہت کافی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قدرت نے دونوں کے لیے الگ دائرۂ کار تجویز کیا ہے۔ اس جداگانہ دائرۂ کار کی تقسیم کو نظرانداز کر کے ہم قدرت کے انتظام کے خلاف دوسرے راستے اختیار کریں گے تو لازماً کسی پر کام کا بوجھ بڑھ جائے گااورکسی پر کم ہوجائے گا۔ لہٰذا نوعِ انسانی کی سلامتی اور بقا کا انحصار اس میں پوشیدہ ہے کہ دونوں بغیر کسی منازعت و منافست[تکرار اور مسابقت]کے اپنی اپنی قابلیت پر قانع رہیں اور جو کرسکتے ہیں اس کو چھوڑ کر نہیں کرسکتے، اس کے خبط میں مبتلا نہ ہوں ورنہ یہ منازعت [تکرار] دنیا کو تباہ کرکے رکھ دے گی اور اس غیرفطری تقسیمِ کار سے بہت سی تمدنی اور معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

اسلام عورت اور مرد کو مساوی قرار دینے کے باوجود ان کی حقیقی اور فطری صلاحیتوں کے لحاظ سے نظامِ اجتماعی میں ان کو الگ الگ مقام دیتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو اس مقام پر رکھتا ہے جس مقام پر وہ بہتر طریق پر معاشرے کو اپنی قابلیتوں سے فائدہ پہنچا سکیں۔ عورت و مرد کی تخلیق کے ساتھ قدرت نے جو فرائض وابستہ کیے ہیں ان میں سے ہر فرض بجاے خود اتنا ہی    اہم اور اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ دوسرا فرض۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گھر کا کام سنبھالنا کم اہم ہے اور دفتر کا اہم ہے، یا بچوں کی پرورش کرنا ایک حقیر کام ہے اور سپہ گری یا تجارت ایک معزز کام ہے۔ نظامِ معاشرت و اجتماع کے حفظ و بقا کے جتنے بھی کام ہیں سب یکساں اور ضروری ہیں۔  معاشرے کا جو پُرزہ ان کاموں میں سے جس کام کی انجام دہی کے لیے بھی بنا ہے، اگر وہ ٹھیک ٹھیک اسے انجام دے رہا ہے تو مجموعی مشین کے اندر اس کی قدروقیمت کسی بڑے سے بڑے پُرزے کے برابر ہے اور اس کو حقیر سمجھنے اور نظرانداز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

حقوقِ مرد وزن میں مساوات کا مفھوم

آیئے دیکھیں کہ حق کسے کہتے ہیں؟ اور حقوق میں برابری کا مفہوم کیا ہے؟ ایک مغربی مفکر گالسس ایزیجیو فاز، حق کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے: ’’انسانی یا بنیادی حقوق جدید نام ہے ان حقوق کا جنھیں روایتی طور پر فطری حقوق کہا جاتا ہے۔ ان کی تعریف یوں ہوسکتی ہے کہ وہ اخلاقی حقوق جو ہر انسان کو ہر جگہ اور ہمہ وقت اس بنیاد پر حاصل رہتے ہیں کہ وہ دوسری تمام مخلوقات کے مقابلے میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ ذی شعور اور ذی اخلاق ہے۔ انصاف کو بُری طرح پامال کیے بغیر کوئی شخص ان حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

گویا حق وہ چیز ہے جسے کوئی دعوے دار وصول کرنے کا قانونی استحقاق رکھتا ہو، یعنی جو کچھ وصول ہو وہ حق ہے، اور جو کچھ اداکرنا پڑے وہ فرض ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ کوئی مرد ہے یا عورت، ہر انسان کو تحفظِ جان، تحفظِ ملکیت، تحفظِ آبرو، نجی زندگی کا تحفظ، شخصی آزادی کا تحفظ، آزادیِ اظہار راے، ظلم کے خلاف احتجاج کا حق، حصولِ انصاف کاحق، معاشی تحفظ کا حق، معصیت سے اجتناب کا حق، آزادیِ تنظیم و اجتماع اور سیاسی زندگی میں شرکت کا حق جیسے بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہییں۔ حقوق میںبرابری یہ ہے کہ یہ سارے حقوق مرداور عورت کو ملتے رہیں۔ ان کے غصب ہونے کی صورت میں آواز بلند کی جاسکے اور اسے عدل کے ساتھ سنا جائے۔

حقوق مرد و زن میں اسلام کی عطاکردہ مساوات کو دیکھنے سے پہلے اس بنیادی سوال پر غور کیجیے کہ مندرجہ بالا حقوق کس کے مقرر کردہ ہیں؟ ان کی قانونی و اخلاقی حیثیت اور ان کا جواز کیا ہے؟ کیا انسان اپنے کسی ذاتی استحقاق کی بناپر ان حقوق کا مستحق بنا ہے یا اپنے کسی دعوے، کسی جدوجہد، یا اپنے منظور شدہ مطالبات کی وجہ سے اسے یہ استحقاق حاصل ہوا ہے؟ انسانی حقوق کسی معاہدۂ عمرانی سے، حکومت اور عوام کے درمیان بالاتفاق ہونے والے کسی معاہدے سے، انسان کے وضع کردہ کسی دستور سے یا انسان اور انسان کے درمیان ہونے والے کسی سمجھوتے (agreement) سے متعین ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی بنیاد صرف مقتدرِاعلیٰ کا حکم ہے۔ اس نے ہر انسان کے حقوق کا تعین کیا ہے اور ان کے درمیان ترجیحات طے کی ہیں۔ قرآنی احکام اور    حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی حقوق کا منشور ہادیِ برحق کا وہ یادگار خطبہ اپنے ذہن میں مستحضر کیجیے تو آپ اس نتیجے پر لازماً پہنچیں گے کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو حقوقِ انسانی کا علَم بردار ہے۔ فی الحقیقت عورت کی عزت اور اس کے حق کا تخیل ہی انسان کے دماغ میں اسلام کا پیدا کردہ ہے۔ آج حقوقِ نسواں اور مساوات کے جو نعرے آپ سن رہے ہیں یہ سب اسی انقلاب انگیز صدا کی بازگشت ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بلند ہوئی تھی اور جس نے افکارِ انسانی کا رُخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

یوں یہ بات واضح ہوگئی کہ جس نے حق کا تخیل دیا اُسی نے سب سے بڑھ کر اور بہترین حقوق بھی دیے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حقوق عطا ہی اسی نے کیے۔

مساوات کا غلط مفھوم - فرائض میں برابری

مساوات کا ایک مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں مساوی پیدا ہوئے ہیں۔   اس لیے انتظامِ ملک میں دونوں کو مساوی حصہ ملنا چاہیے، یا یہ کہ قدرت نے جن قوتوں اور قابلیتوں سے مرد کو مسلح کیا ہے اور مردجو کچھ کرسکتا ہے عورت بھی وہ سب کچھ کرسکتی ہے، لہٰذا مرد اور عورت کا دائرۂ عمل ایک ہونا چاہیے۔ آج آزادیِ نسواں اور مساواتِ مرد و زن کے نعرے اسی مفہوم کے ساتھ لگائے جارہے ہیں کہ جب تک عورت ٹینک، توپ، ریلوے کا انجن، بحری جہاز، طیارہ، سڑک کوٹنے کا انجن اور سامان سے لدا ہوا ٹرک نہیں چلائے گی، ویلڈنگ سیٹ ہاتھ میں نہیں لے گی، پُل، بند اور بلندعمارتیں تعمیر نہیں کرے گی اسے مرد کے مساوی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہوگا۔ گویا جب تک عورت وہی کارنامہ انجام نہ دے جو مرد انجام دے رہا ہے، اس وقت تک مساوات کی شرط پوری نہیں ہوتی، حالانکہ یہ مساوات درحقیقت حقوق میں نہیں بلکہ فرائض میں مساوات ہے اور مساوات کا یہ ایسا تصور ہے جو خود مردوں میں بھی موجود نہیں۔ ذمہ داریوں اور فرائض میں اضافے پر اصرار کرنے والی خواتین اس مغالطے میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنا حق طلب کر رہی ہیں۔

اس مفہوم نے عورت سے اس کی نسوانیت چھن لی اور اس پر مرد بن جانے کا جنون طاری کر دیا۔ یہ جنون اس کے بالوں کی وضع قطع، اس کے لباس، اس کی چال ڈھال، اس کے کھیل کود اور جملہ سرگرمیوں میں ہرجگہ اُبھر آیا ہے۔ عورت مرد کے پیچھے دوڑتے دوڑتے خود مرد کا روپ دھار بیٹھی ہے۔ اگر عورت کو اس کا صحیح مقام نہ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں اس کے مضر اثرات خود   اس پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور اس کے لازمی نتیجے کے طور پر معاشرہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر مرد کو اس کے صحیح محل کے سوا جہاں کے لیے اس کی قابلیتیں تقاضا کر رہی ہوتی ہیں، کسی دوسرے محل میں استعمال کیا جائے تو لازماً اس کااثر بھی یہی ہوتا ہے۔ ایک طرف مرد کی صلاحیتیں اس سے نقصان اُٹھاتی ہیں اور دوسری طرف معاشرہ اس کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے فوائد کے ایک بڑے حصے سے محروم ہوجاتا ہے۔

یہ نظریۂ مساوات اپنی سادہ اور ابتدائی حالت میں بہت معصوم نظر آتا ہے اور جذبات کی رَو میں بہنے والے مردوں اور عورتوں کو اپیل بھی کرتا ہے۔ لیکن جب اس کو بنیاد بناکر اس پر حیاتِ اجتماعی کی تعمیر شروع کی جاتی ہے تب اس کے عیوب کھلنا شروع ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اجتماعیات میں ایک معمولی ادراک رکھنے والا شخص بھی یہ محسوس کرلیتا ہے کہ جس نظامِ اجتماعی کی بنیاد اس نظریے پر ہے اس کی بنیاد درحقیقت ریت پر ہے، جس کا گر جانا ہروقت متوقع ہے۔ اس کے بُرے اثرات جو معاشرے اور حیاتِ اجتماعی پر مرتب ہوئے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مساوات مرد و زن کا پُرفریب نعرہ دے کر ایک طرف عورت کے سر پر اضافی ذمہ داریوں اور فرائض کا بوجھ لاد دیا گیا اور دوسری طرف چالاک مرد نے اسے ہر جگہ دل بہلانے کا کھلونا بناڈالا۔ گھر سے لے کر دفتر، کارخانہ اور ہر شعبۂ زندگی میں ایک یا ایک سے زائد عورتوں کو ساتھ لگائے رکھنے کے شوقین مردوں نے   اس کے قرب اور خدمت سے خود بھی فائدہ اُٹھایا اور اسے ماڈل گرل اور سیلزگرل وغیرہ کا روپ دے کر اپنے کاروبار کو بھی چمکایا۔

آج کیفیت یہ ہے کہ سگریٹ، بلیڈ، شراب، ٹوتھ پیسٹ، صابن اور دنیا کی ہر شے کی فروخت کے لیے عورت کے حسن اور اس کی ایک ایک اَدا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ عورت تشہیر وترغیب کا سب سے بڑا ذریعہ اور مرد تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے نئے نئے گاہک پھانسنے کا آلۂ کار بن گئی ہے۔ یورپ کی پوری تجارت جنس زدگی کے مرض میں مبتلا ہے۔ اب عورتیں وہاں دھکے کھاتی پھرتی ہیں، اور کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں۔ اِلا یہ کہ پوچھنے کی کوئی خاص وجہ ہو۔ اس وقت تک بھی مغربی ممالک میں مرد اور عورت ایک ہی قسم کے جو کام کرتے ہیں اس کا معاوضہ دونوں کو برابر نہیں دیا جا رہا ہے اور اس پر عورتیں شور مچا رہی ہیں۔ پھر جن میدانوں میں عورتوں اور مردوں کو برابر لاکھڑا کر دیا گیا ہے ان میں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے فطرتاً عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں کیا ہے،    اس وجہ سے عورت کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ مرد کی برابری نہیں کرسکی ہے۔ اس وقت بھی آپ دیکھیے مغربی ممالک ہوں یا اشتراکی ممالک، کہیں بھی ذمہ داری کے اُونچے مناصب عورتوں کو نہیں دیے جا رہے ہیں، بلکہ وہ مردوں کو ہی دیے جاتے ہیں۔ اس پُرفریب جال کے اثرات ہمارے ہاں بھی در آئے ہیں، اور کبھی حقوقِ نسواں کے نام پر اور کبھی قصاص و دیت کے مسئلے کی آڑ لے کر ایک گروہ ایسا اُٹھا ہے جس نے دلیل و بینہ کی راہ چھوڑکر مظاہرے کرنے اور جلوس نکالنے کی راہ اپنائی ہے۔ یہ گروہ جس کو قرآن میں حکمِ ستروحجاب نہ ملا اور حدیث میں اخفاے زینت کی تاکید نہ ملی، جس نے آج تک کبھی کوئی کارنامہ اسلام کے حق میں اور مغربیت کے خلاف انجام نہ دیا، جس نے رقص و سُرود کی مخلوط محفلوں کو زینت بخشی، جس نے قطاروں میں کھڑے ہوکر باہر سے آنے والے اغیار کا پوری نمایش حُسن کے ساتھ استقبال کیا، جس کے لیے سر پر دوپٹہ ٹکانا مشکل ہورہا ہے،   جن کے گھروں میں موجودہ دور کی ساری فضولیات کا دور دورہ ہے، جن میں سے بعض کو نماز کی توفیق نہ ہوئی ہوگی___ انھیں اسلام کے قانون دیت و قصاص کی تصحیح کے لیے سخت بے تابی لاحق ہوگئی ہے۔ جیسے اسلام میں یہی ایک حکم نازل ہوا تھا اور یہ درست ہوجائے تو پھر ٹھیک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تصور کے ساتھ مساوات نہ کبھی قائم ہوئی ہے، نہ ہوسکتی ہے، بلکہ عورت ان پُرفریب اصطلاحوں کے جال میں پھنس کر اس دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے۔

مساوات کا صحیح مفھوم ___ حق میں برابری

مساوات کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ عورت اور مرد انسان ہونے کی حیثیت سے برابر ہیں۔ جس طرح مرد قدر و احترام کا مستحق ہے، اسی طرح عورت بھی قدرواحترام کی حق دار ہے۔ جس طرح مرد کچھ خاص قابلیتیں اور قوتیں لے کر آیا ہے، اسی طرح عورت بھی کچھ مخصوص قوتیں اور قابلیتیں لے کر پیدا ہوئی ہے۔ جس طرح مرد اپنے کچھ خاص جذبات و عواطف اور کچھ فطری مقتضیات و مطالبات رکھتا ہے، اسی طرح عورت بھی اپنے کچھ خاص رجحانات و میلانات اور کچھ فطری مطالبات و مقتضیات رکھتی ہے۔ اس لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنے اپنے فطری رجحانات و میلانات کے مطابق سورج اور چاند کی طرح اپنے اپنے دائروں میں قدرت کی منشا کی تکمیل میں سرگرم رہنا چاہیے۔ معاشرتی امور میں دونوں پر ان کے فطری صلاحیتوں کے لحاظ سے ذمہ داریاں ہونی چاہییں اور ان کی ذمہ داریوں کے اعتبار سے ان کو حقوق ملنے چاہییں۔ ہر ایک کی تخلیق سے فطرت کا جو منشا ہ اس کو وہ فطرت کے ضابطوں کے تحت اپنے اپنے دائرے کے اندر یکساں آزاد اور یکساں پابند رہ کر پورا کرے۔

اسلامی تصور میں تین باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے:

ایک یہ کہ عورت پر مرد اپنے حقوق سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر ظلم نہ کرسکے، اور ایسا نہ ہو کہ مرد اور عورت کا تعلق آقا و لونڈی کا تعلق بن جائے۔

دوسرے یہ کہ عورت کو ایسے تمام مواقع بہم پہنچائے جائیں جن سے فائدہ اُٹھا کر وہ نظامِ معاشرت کے حدود میں اپنی فطری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ ترقی دے سکے اور تعمیرتمدن میں اپنا کردر بہتر سے بہتر انداز میں انجام دے سکے۔

تیسرے یہ کہ عورت کے لیے ترقی اور کامیابی کے بلند سے بلند درجوں تک پہنچنا ممکن ہو، مگر اس کی ترقی اور کامیابی جو کچھ بھی ہو، عورت ہونے کی حیثیت سے ہو۔ مرد بننا نہ تو اس کا حق ہے اور نہ مردانہ زندگی کے لیے اس کو تیار کرنا تہذیب و تمدن کے لیے مفید ہے۔

اس تصور کے نتیجے میں قرونِ اولیٰ میں عورت نے جو مقام و مرتبہ حاصل کیا اور تہذیب و تمدن کی جو ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں وہ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم سب اپنے شان دار ماضی سے بخوبی واقف ہیں۔

دونوں نظریات میں فرق

آپ نے غور کیا کہ مساوات کے یہ دونوں نظریے اپنی اساس و بنیاد اور اپنے نتائج و اثرات میں اتنے مختلف ہیں کہ جس طرح مشرق و مغرب کو یک جا نہیں کیا جاسکتا اسی طرح دونوں نظریات کو جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان دونوں نظریات کی اساس پر حیاتِ اجتماعی کی جو عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں، وہ اپنی بنیاد، اپنے ڈھانچے، اپنے طرزِ تعمیر، اپنی ہیئت مجموعی اور اپنے معاشرتی فوائد و مقاصد کے لحاظ سے اس درجہ مختلف النوع ہوتی ہیں کہ ممکن نہیں ہے کہ ایک کا پیوند دوسرے کے ساتھ لگایا جاسکے۔ اگر اس قسم کی کوئی کوشش کی گئی تو اس سے ہماری حیاتِ اجتماعی کے کسی ایک گوشے میں خرابی پیدا نہ ہوگی بلکہ یہ ایک غلطی ہمارے پورے نظامِ اجتماعی کو بے ہنگم بناکر رکھ دے گی۔

اس لیے اگر آپ مغربی نظریۂ مساوات کے معتقد ہیں اور اسی نظریے کو رہنما مان کر چلیں گے تو ہرقدم پر اسلام سے آپ کی لڑائی ہوگی، اور یہ لڑائی صرف اس اسلام سے نہیں ہوگی جسے آپ فقہا اور ملّائوں کا اسلام کہتے ہیں بلکہ براہِ راست اللہ کی کتاب اور رسولؐ کے احکام سے لڑائی ہوگی۔ اس لیے آپ کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں ہے کہ یا تو آپ اس غلط نظریے کو ترک کرکے سیدھے سیدھے اسلام قبول کرلیجیے، یا اسلام کا نام لینا چھوڑ دیجیے۔ صاف صاف اپنے ارتداد کا اعلان کر دیجیے اور قرآن و رسولؐ کی اطاعت سے الگ ہوکر جس وادی میں آپ کا جی چاہے بھٹکتے پھرئیے۔(جاری)


مقالہ نگار تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں اور نائب ناظمہ حلقہ خواتین پنجاب ہیں-